
عروہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء سونے کی حالت میں سچے خواب کے ذریعہ ہوئی۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح سامنے آجاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں چلے جاتے اور اس میں تنہا اللہ کی عبادت کرتے اور وہاں کئی دن رہتے اور ان دنوں کا توشہ بھی ساتھ لاتے۔پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لے جاتے اور وہ پھر اتنا ہی توشہ آپ کے ساتھ کر دیتیں یہاں تک کہ حق آپ کے پاس آ گیا اور آپ غار حرا ہی میں تھے۔چنانچہ اس میں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ پڑھیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ آخر اس نے مجھے پکڑ لیا اور زور سے دابا اور خوب دابا جس کی وجہ سے مجھ کو بہت تکلیف ہوئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اس نے مجھے ایسا دابا کہ میں بے قابو ہو گیا یا انہوں نے اپنا زور ختم کر دیا اور پھر چھوڑ کر اس نے مجھ سے کہا کہ پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ہے۔ الفاظ «ما لم يعلم» تک۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو آپ کے مونڈھوں کے گوشت (ڈر کے مارے) پھڑک رہے تھے۔ جب گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو فرمایا کہ مجھے چادر اڑھا دو ‘ مجھے چادر اڑھا دو، چنانچہ آپ کو چادر اڑھا دی گئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف دور ہو گیا تو فرمایا کہ خدیجہ میرا حال کیا ہو گیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سارا حال بیان کیا اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ لیکن خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کی قسم ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، آپ خوش رہئیے اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، بات سچی بولتے ہیں، ناداروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی وجہ سے پیش آنے والی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر آپ کو خدیجہ رضی اللہ عنہا ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس لائیں جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد خویلد کے بھائی کے بیٹے تھے۔ جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی لکھ لیتے تھے اور وہ جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا عربی میں انجیل کا ترجمہ لکھا کرتے تھے، وہ اس وقت بہت بوڑھے ہو گئے تھے اور بینائی بھی جاتی رہی تھی۔ ان سے خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھائی! اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ورقہ نے پوچھا: بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا تھا وہ سنایا تو ورقہ نے کہا کہ یہ تو وہی فرشتہ (جبرائیل علیہ السلام) ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر آیا تھا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا جب تمہیں تمہاری قوم نکال دے گی اور زندہ رہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ مجھے نکالیں گے؟ ورقہ نے کہا کہ ہاں۔ جب بھی کوئی نبی و رسول وہ پیغام لے کر آیا جسے لے کر آپ آئے ہیں تو اس کے ساتھ دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تمہارے وہ دن پا لیے تو میں تمہاری بھرپور مدد کروں گا لیکن کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا اور وحی کا نزول بھی بند ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وجہ سے اتنا غم تھا کہ آپ نے کئی مرتبہ پہاڑ کی بلند چوٹی سے اپنے آپ کو گرا دینا چاہا لیکن جب بھی آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تاکہ اس پر سے اپنے آپ کو گرا دیں تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آ گئے اور کہا کہ یا محمد! آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکون ہوتا اور آپ واپس آ جاتے لیکن جب وحی زیادہ دنوں تک رکی رہی تو آپ نے ایک مرتبہ اور ایسا ارادہ کیا لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تو جبرائیل علیہ السلام سامنے آئے اور اسی طرح کی بات پھر کہی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا (سورۃ الانعام) میں لفظ «فالق الإصباح» سے مراد دن میں سورج کی روشنی اور رات میں چاند کی روشنی ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛خوابوں کی تعبیر کے بیان میں؛بَابُ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ؛اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء سچے خواب کے ذریعہ ہوئی؛جلد٩ص٢٩،حدیث نمبر ٦٩٨٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:بے شک اللہ نے سچ کردیا اپنے رسول کا سچا خواب بے شک تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے اگر اللہ چاہے امن و امان سے اپنے سروں کے بال منڈاتے یا ترشواتے بے خوف تو اس نے جانا جو تمہیں معلوم نہیں تو اس سے پہلے ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی۔(الفتح ٢٧) اسحاق بن عبد اللہ بن ابو طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اچھا خواب جو نیک شخص دیکھتا ہے وہ نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ رُؤْيَا الصَّالِحِينَ؛صالحین کے خوابوں کا بیان؛جلد٩ص٣٠،حدیث نمبر ٦٩٨٣)
ابوسلمہ نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اچھے خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛. بَابُ الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ؛اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے؛جلد٩ص٣٠،حدیث نمبر ٦٩٨٤)
عبداللہ بن خباب کا بیان ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس پر اللہ کی حمد کرے اور اسے بتا دینا چاہئیے لیکن اگر کوئی اس کے سوا کوئی ایسا خواب دیکھتا ہے جو اسے ناپسند ہے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے پس اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے ایسے خواب کا ذکر نہ کرے تو یہ خواب اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛. بَابُ الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ؛اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے؛جلد٩ص٣٠،حدیث نمبر ٦٩٨٥)
ابوسلمہ نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے پس اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اسے اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئیے اور بائیں طرف تھوکنا چاہئیے یہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا“ اور عبداللہ بن یحییٰ سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ؛اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے؛جلد٩ص٣٠،حدیث نمبر ٦٩٨٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ؛اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے؛جلد٩ص٣٠،حدیث نمبر ٦٩٨٧)
سعید بن مسیب نے بیان کیا، اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔“ اس کی روایت ثابت، حمید، اسحاق بن عبداللہ اور شعیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ؛اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے؛جلد٩ص٣٠،حدیث نمبر ٦٩٨٨)
عبداللہ بن خباب کا بیان ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نیک خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ؛اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے؛جلد٩ص٣١،حدیث نمبر ٦٩٨٩)
سعید بن مسیب نے بیان کیا، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبوت میں سے صرف اب مبشرات(خوشخبری)باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ نے پوچھا کہ مبشرات کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے خواب۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الْمُبَشِّرَاتِ؛مبشرات کا بیان؛جلد٩ص٣١،حدیث نمبر ٦٩٩٠)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:یاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا۔کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا کہ وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔(یوسف ٤۔٦) ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان: اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے بے شک اسے میرے رب نے سچا کیا اور بے شک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی بے شک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بے شک وہی علم و حکمت والا ہے۔اے میرے رب بے شک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے ملا جو تیرے قربِ خاص کے لائق ہیں۔(یوسف ١٠٠،١٠١) ابو عبداللہ نے کہا؛ «فاطر» «بديع»، «مبتدع»، «بارئ»، «خالق» ہم معنی ہیں۔ «بدء.»، «بادئة.» سے ہے یعنی جنگل اور دیہات۔ سعید بن مسیب نے بیان کیا، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبوت میں سے صرف اب مبشرات(خوشخبری)باقی رہ گئی ہیں۔ صحابہ نے پوچھا کہ مبشرات کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے خواب۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ رُؤْيَا يُوسُفَ؛یوسف علیہ السلام کے خواب کا بیان؛جلد٩ص٣١) پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے کہا اے میرے باپ کیجئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ۔اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم۔ بیشک تو نے خواب سچ کردکھائی ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔(صافات ١٠٢۔١٠٥) مجاہد کا ہے کہ اسلما سے یہ مراد ہے کہ دونوں نے تسلیم کر لیا جو انہیں حکم دیا گیا تھا۔وتلہ اور چہرے کو زمین کی جانب کردیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ رُؤْيَا إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ؛ابراہیم علیہ السلام کے خواب کا بیان۔؛جلد٩ص٣١) سالم بن عبداللہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ کچھ لوگوں کو خواب میں شب قدر (رمضان کی) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی اور کچھ لوگوں کو دکھائی گئی کہ وہ آخری دس تاریخوں میں ہو گی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آخری سات تاریخوں میں تلاش کرو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ التَّوَاطُؤُ عَلَى الرُّؤْيَا؛خواب کا توارد یعنی ایک ہی خواب کئی آدمی دیکھیں؛جلد٩ص٣١،حدیث نمبر٦٩٩١)
اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے ان میں ایک بولا میں نے خواب دیکھا کہ شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں ہمیں اس کی تعبیر بتائیے بیشک ہم آپ کو نیکو کار دیکھتے ہیں۔ یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں۔اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحق اور یعقوب کا دین اختیار کیا ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں یہ اللہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو کیا جدا جدا رب اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب۔تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نرے نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو یہ سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ)کو شراب پلائے گا رہا دوسرا وہ سُولی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے۔اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ)کے پاس میرا ذکر کرنا تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ)کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا۔اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھیں سات گائیں فربہ کہ انہیں سات دُبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری اور دوسری سات سوکھی اے درباریو میری خواب کا جواب دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر آتی ہو۔ بولے پریشان خوابیں ہیں اور ہم خواب کی تعبیر نہیں جانتے۔ اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے بچا تھا اور ایک مدت بعد اسے یاد آیا میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو۔اے یوسف اے صدیق ہمیں تعبیر دیجئے سات فربہ گایوں کی جنہیں سات دُبلی کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور دوسری سات سوکھی شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں۔کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگاتار تو جو کاٹو اسے اس کی بال میں رہنے دو مگر تھوڑا جتنا کھالو۔پھر اس کے بعد سات کرّے برس آئیں گے کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے جمع کر رکھاتھا مگر تھوڑا جو بچالو ۔پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے۔اور بادشاہ بولا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا۔(یوسف٣٩۔٥٠) وادكر»، «ذكر» سے افتعال کے وزن پر ہے۔ «أمة» (یسکون میم) بمعنی «قرن» یعنی زمانہ ہے اور بعض نے «أمة» (میم کے نصب کے ساتھ) پڑھا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «يعصرون» کا معنی انگور نچوڑیں گے اور تیل نکالیں گے۔ «تهنون» ای «تحرسون.» یعنی حفاظت کرو گے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ رُؤْيَا أَهْلِ السُّجُونِ وَالْفَسَادِ وَالشِّرْكِ؛قیدیوں اور اہل شرک و فساد کے خواب کا بیان۔؛جلد٩ص٣٢) سعید بن مسیب اور ابو عبیدہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر میں قید خانے میں اتنا عرصہ رہتا جتنے دنوں حضرت یوسف رہے اور پھر مجھے بلانے والا آتا تو میں ضرور اس کی بات مان لیتا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ رُؤْيَا أَهْلِ السُّجُونِ وَالْفَسَادِ وَالشِّرْكِ؛جلد٩ص٣١،حدیث نمبر٦٩٩٢)
ابوسلمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو کسی دن مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا اور شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن سیرین نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی شخص آپ کی صورت میں دیکھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ؛جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔؛جلد٩ص٣٣،حدیث نمبر٦٩٩٣)
ثابت بنانی نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے واقعی مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک جزو ہوتا ہے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ؛جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔؛جلد٩ص٣٣،حدیث نمبر٦٩٩٤)
ابوسلمہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے پس جو شخص کوئی برا خواب دیکھے تو اپنے بائیں طرف کروٹ لے کر تین مرتبہ تھو تھو کرے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے وہ اس کو نقصان نہیں دے گا اور شیطان کبھی میری شکل میں نہیں آ سکتا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ؛جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔؛جلد٩ص٣٣،حدیث نمبر٦٩٩٥)
ابوسلمہ نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا۔“ اس روایت کی متابعت یونس نے اور زہری کے بھتیجے نے کی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ؛جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔؛جلد٩ص٣٣،حدیث نمبر٦٩٩٦)
عبداللہ بن خباب نے بیان کیا، ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ؛جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔؛جلد٩ص٣٣،حدیث نمبر٦٩٩٧)
اس کو حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے «مفاتيح الكلم»(کلام کی کنجیاں)دئیے گئے ہیں اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور گذشتہ رات میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائیں گئیں اور میرے سامنے انہیں رکھ دیا گیا۔“حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس دنیا سے تشریف لے گئے اور تم ان خزانوں کی کنجیوں کو منتقل کر رہے ہو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ رُؤْيَا اللَّيْلِ؛رات کے خواب کا بیان؛جلد٩ص٣٣،حدیث نمبر٦٩٩٨)
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رات مجھے کعبہ کے پاس (خواب میں) دکھایا گیا۔ میں نے ایک گندمی رنگ کے آدمی کو دیکھا، ان کے لمبے خوبصورت بال تھے ان سب سے خوبصورت بالوں کی طرح جو تم دیکھ سکے ہو گے۔ ان میں انہوں نے کنگھا کیا ہوا تھا اور پانی ان سے ٹپک رہا تھا اور وہ دو آدمیوں کے سہارے یا (یہ فرمایا کہ) دو آدمیوں کے شانوں کے سہارے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح ابن مریم علیہما السلام ہیں۔ پھر اچانک میں نے ایک گھنگھریالے بال والے آدمی کو دیکھا جس کی ایک آنکھ کانی تھی اور انگور کے دانے کی طرح اٹھی ہوئی تھی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ رُؤْيَا اللَّيْلِ؛رات کے خواب کا بیان؛جلد٩ص٣٣،حدیث نمبر٦٩٩٩)
عبیداللہ بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں نے رات کو خواب دیکھا ہے اور انہوں نے واقعہ بیان کیا اور اس روایت کی متابعت سلیمان بن کثیر، زہری کے بھتیجے اور سفیان بن حسین نے زہری سے کی، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، اور زبیدی نے زہری سے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور شعیب اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، اور معمر نے اسے متصلاً نہیں بیان کیا لیکن بعد میں متصلاً بیان کرنے لگے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْحِيَلِ؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ رُؤْيَا اللَّيْلِ؛رات کے خواب کا بیان؛جلد٩ص٣٤،حدیث نمبر٧٠٠٠)
اور ابن عون نے ابن سیرین سے نقل کیا کہ دن کے خواب بھی رات کے خواب کی طرح ہیں۔ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ ان کے یہاں گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے کھانا پیش کیا کھانے کے بعد وہ آپ کے سر مبارک کو سہلانے لگیں۔ اس عرصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛ بَابُ الرُّؤْيَا بِالنَّهَارِ؛دن کے خواب کا بیان؛جلد٩ص٣٤،حدیث نمبر٧٠٠١)
انہوں نے کہا کہ میں نے اس پر پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے پیش کئے گئے، اس دریا کی پشت پر، وہ اس طرح سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں۔ اسحاق کو شک تھا (حدیث کے الفاظ «ملوكا على الأسرة» تھے یا «مثل الملوك على الأسرة» انہوں نے کہا کہ میں نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی پھر آپ نے سر مبارک رکھا (اور سو گئے) پھر بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں جہاد کرتے پیش کئے گئے۔ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ فرمایا تھا۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لوگوں میں ہوگی۔ چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا،حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سمندری سفر پر گئیں اور جب سمندر سے باہر آئیں تو سواری سے گر کر شہید ہو گئیں۔ اور ابن عون نے ابن سیرین سے نقل کیا کہ دن کے خواب بھی رات کے خواب کی طرح ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛ بَابُ الرُّؤْيَا بِالنَّهَارِ؛دن کے خواب کا بیان؛جلد٩ص٣٤،حدیث نمبر٧٠٠٢)
ابن شہاب نے خارجہ بن ثابت سے روایت کی ہے‘ انہیں ام علاء رضی اللہ عنہا نے جو ایک انصاری عورت تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی خبر دی کہ انہوں نے مہاجرین کے ساتھ سلسلہ اخوت قائم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارا قرعہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے نام نکلا۔ پھر ہم نے انہیں اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ اس کے بعد انہیں ایک بیماری ہو گئی جس میں ان کی وفات ہو گئی۔جب ان کی وفات ہو گئی تو انہیں غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں کا کفن دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوالسائب (عثمان رضی اللہ عنہ) تم پر اللہ کی رحمت ہو، تمہارے متعلق میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ نے عزت بخشی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے انہیں عزت بخشی ہے۔ میں نے عرض کیا، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! پھر اللہ کسے عزت بخشے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی چیز (موت) ان پر آ چکی ہے اور اللہ کی قسم میں بھی ان کے لیے بھلائی کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم اپنی عقل سے تو میں بھی نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔پس انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم،اس کے بعد میں کسی کی تعریف نہیں کروں گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ رُؤْيَا النِّسَاءِ؛عورتوں کے خواب کا بیان۔؛جلد٩ص٣٤،حدیث نمبر٧٠٠٣)
ابو ایمان،شعیب نے زہری سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے کہا کہ میں از خود اپنی عقل سے نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔وہ فرماتی ہیں کہ مجھے اس بات کا صدمہ ہوا تو میں سو گئی۔پس میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ کے لیے ایک چشمہ جاری ہے۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا۔"یہ ان کا عمل ہے"۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ رُؤْيَا النِّسَاءِ؛عورتوں کے خواب کا بیان۔؛جلد٩ص٣٥،حدیث نمبر٧٠٠٤)
ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور آپ کے شہسواروں میں سے تھے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے شیطان کی طرف سے پس تم میں جو کوئی برا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اسے چاہئے کہ اپنی بائیں طرف تھوکے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ؛فإذا حلم فليبصق عن يساره وليستعذ بالله عز وجل؛ پس اگر کوئی برا خواب دیکھے تو بائیں طرف تھوک دے اور اللہ عزوجل کی پناہ طلب کرے، یعنی «اعوذ بالله من الشيطان الرجيم» پڑھے؛برا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے؛جلد٩ص٣٥،حدیث نمبر٧٠٠٥)
حمزہ بن عبداللہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس کا دودھ پیا۔ یہاں تک کہ اس کی سیرابی کا اثر میں نے اپنے ناخنوں میں ظاہر ہوتا دیکھا، اس کے بعد میں نے اس کا بچا ہوا عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا صحابہ نے پوچھا: آپ اس سے کیا مراد لیتے ہیں یا رسول اللہ؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ اللَّبَنِ؛دودھ کو خواب میں دیکھنا؛جلد٩ص٣٥،حدیث نمبر٧٠٠٦)
حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس میں سے پیا، یہاں تک کہ میں نے سیرابی کا اثر اپنے اطراف میں نمایاں دیکھا۔ پھر میں نے اس کا بچا ہوا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا جو صحابہ وہاں موجود تھے، انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ نے اس سے کیا مراد لیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم مراد ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ إِذَا جَرَى اللَّبَنُ فِي أطرافه أَوْ أَظَافِيرِهِ؛جب دودھ پینے سے اپنے اطراف یا ناخنوں میں بھی سیرابی دیکھے؛جلد٩ص٣٥،حدیث نمبر٧٠٠٧)
ابوامامہ بن سہل نے بیان کیا، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں۔ ان میں بعض کی قمیص تو صرف سینے تک کی ہے اور بعض کی اس سے بڑی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کی قمیص زمین سے گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس سے کیا مراد لیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الْقَمِيصِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں قمیص دیکھنا؛جلد٩ص٣٥،حدیث نمبر٧٠٠٨)
ابوامامہ بن سہل کا بیان ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کو اپنے سامنے پیش ہوتے دیکھا۔ وہ قمیص پہنے ہوئے تھے، ان میں بعض کی قمیص تو سینے تک کی تھی اور بعض کی اس سے بڑی تھی اور میرے سامنے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پیش کئے گئے تو ان کی قمیص (زمین سے) گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس سے کیا مراد لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ جَرِّ الْقَمِيصِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں کرتے کا گھیسٹنا۔؛جلد٩ص٣٦،حدیث نمبر٧٠٠٩)
محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا کہ میں ایک حلقہ میں بیٹھا تھا جس میں سعد بن مالک اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ گزرے تو لوگوں نے کہا کہ یہ اہل جنت میں سے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ اس طرح کی بات کہہ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا، سبحان اللہ ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جس کا انہیں علم نہیں ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک ستون ایک ہرے بھرے باغ میں نصب کیا ہوا ہے اس ستون کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ( «عروة») لگا ہوا تھا اور نیچے «منصف» تھا۔ «منصف» سے مراد خادم ہے پھر کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا، پھر میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ کا جب انتقال ہو گیا تو وہ «العروة الوثقى»(دین کے کنڈے کومضبوطی)سے پکڑے ہوئے ہوں گے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الْخُضَرِ فِي الْمَنَامِ وَالرَّوْضَةِ الْخَضْرَاءِ؛خواب میں سبزی یا ہرا بھرا باغ دیکھنا۔؛جلد٩ص٣٦،حدیث نمبر٧٠١٠)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں۔ایک شخص تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں، ان کے (چہرے سے) پردہ ہٹاؤ۔ میں نے پردہ اٹھایا کہ وہ تمہیں تھیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ خود ہی انجام تک پہنچائے گا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ كَشْفِ الْمَرْأَةِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں عورت کا چہرہ کھولنا؛جلد٩ص٣٦،حدیث نمبر٧٠١١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم سے نکاح کرنے سے پہلے مجھے تم دو مرتبہ دیکھائی گئیں،میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ کھولو اس نے کھولا تو وہ تم تھیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کے پاس سے ہے تو وہ خود ہی اسے انجام تک پہنچائے گا۔ پھر میں نے تمہیں دیکھا کہ فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے کہا کہ کھولو! اس نے کھولا تو اس میں تم تھیں، پھر میں نے کہا کہ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے جو ضرور پورا ہو گا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ ثِيَابِ الْحَرِيرِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں ریشم کے کپڑے کا دیکھنا؛جلد٩ص٣٦،حدیث نمبر٧٠١٢)
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں «جوامع الكلم» کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں اور میری مدد رعب کے ذریعہ کی گئی ہے اور میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں انہیں رکھ دیا گیا اور محمد نے بیان کیا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ «جوامع الكلم» سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے امور یعنی لمبے مضامین جو پہلے کتابوں میں تھے اور ایک دو امور کے متعلق ہوتے تھے،وہ آپ کے لیے جمع فرما دئے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الْمَفَاتِيحِ فِي الْيَدِ؛ہاتھ میں کنجیاں دیکھنا؛جلد٩ص٣٦،حدیث نمبر٧٠١٣)
عبداللہ بن محمد،ازہر ابن عون۔خلیفہ،معاذ،ابن عون،محمد،قیس بن عباد، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے (خواب) دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں اور باغ کے بیچ میں ایک ستون ہے جس کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ہے۔ کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ۔ میں نے کہا کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر میرے پاس خادم آیا اور اس نے میرے کپڑے سنبھالے پھر میں اوپر چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا، ابھی میں اسے پکڑے ہی ہوئے تھا کہ آنکھ کھل گئی۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ باغ اسلام کا باغ تھا اور وہ ستون اسلام کا ستون تھا اور وہ حلقہ «عروة الوثقى» تھا، تم ہمیشہ اسلام پر مضبوطی سے جمے رہو گے یہاں تک کہ تمہاری وفات ہو جائے گی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ التَّعْلِيقِ بِالْعُرْوَةِ وَالْحَلْقَةِ؛کنڈے یا حلقے کو (خواب میں) پکڑ کر اس سے لٹک جانا؛جلد٩ص٣٧،حدیث نمبر٧٠١٤)
نافع کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا میرے ہاتھ میں ہے۔میں جنت کے جس مکان میں جانا چاہتا ہوں وہ اسی کے اندر مجھے اڑا کر لے جاتا ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ عَمُودِ الْفُسْطَاطِ تَحْتَ وِسَادَتِهِ؛خواب میں ڈیرے کا ستون تکیہ کے نیچے دیکھنا؛بَابُ الإِسْتَبْرَقِ وَدُخُولِ الْجَنَّةِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں ریشمی کپڑا دیکھنا اور بہشت میں داخل ہونا۔؛جلد٩ص٣٧،حدیث نمبر٧٠١٥)
پس میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے یہ واقعہ بیان کیا۔حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ تمہارا بھائی نیک شخص ہے یا یہ فرمایا کہ عبد اللہ نیک شخص ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ عَمُودِ الْفُسْطَاطِ تَحْتَ وِسَادَتِهِ؛خواب میں ڈیرے کا ستون تکیہ کے نیچے دیکھنا؛بَابُ الإِسْتَبْرَقِ وَدُخُولِ الْجَنَّةِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں ریشمی کپڑا دیکھنا اور بہشت میں داخل ہونا۔؛جلد٩ص٣٧،حدیث نمبر٧٠١٦)
محمد بن سیرین نے بیان کیا،انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قیامت قریب ہو گی تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہو گا اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ محمد بن سیرین رحمہ اللہ (جو کہ علم تعبیر کے بہت بڑے عالم تھے) نے کہا کہ نبوت کا حصہ جھوٹ نہیں ہو سکتا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ خواب تین طرح کے ہیں۔ دل کے خیالات، شیطان کا ڈرانا اور اللہ کی طرف سے خوشخبری۔ پس اگر کوئی شخص خواب میں بری چیز دیکھتا ہے تو اسے چاہئیے کہ اس کا ذکر کسی سے نہ کرے اور کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ محمد بن سیرین نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خواب میں طوق کو ناپسند کرتے تھے اور قید دیکھنے کو اچھا سمجھتے تھے اور کہا گیا ہے کہ قید سے مراد دین میں ثابت قدمی ہے۔ اور قتادہ، یونس، ہشام اور ابوہلال نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور بعض نے یہ ساری روایت حدیث میں شمار کی ہے لیکن عوف کی روایت زیادہ واضح ہے اور یونس نے کہا کہ قید کے بارے میں روایت کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی سمجھتا ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ طوق ہمیشہ گردنوں ہی میں ہوتے ہیں۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الْقَيْدِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں قید (یعنی قیدی بننا) دیکھنا؛جلد٩ص٣٧،حدیث نمبر٧٠١٧)
خارجہ بن زید بن ثابت نے حضرت ام علاء رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جو انہیں کی ایک خاتون ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب انصار نے مہاجرین کے قیام کے لیے قرعہ اندازی کی تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے یہاں ٹھہرنے کے لیے نکلا۔ پھر وہ بیمار پڑ گئے، ہم نے ان کی تیمارداری کی لیکن ان کی وفات ہو گئی۔ پھر ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو میں نے کہا: ابوالسائب! تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں، میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی بات (موت) ان تک پہنچ چکی ہے اور میں اللہ سے ان کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں لیکن خدا کی قسم میں از خود اپنی عقل سے نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ حضرت ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ واللہ! اس کے بعد میں کسی کی تعریف نہیں کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے خواب میں ایک جاری چشمہ دیکھا تھا۔ چنانچہ میں نے حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے جس کا ثواب ان کے لیے جاری ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الْعَيْنِ الْجَارِيَةِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں پانی کا بہتا چشمہ دیکھنا؛جلد٩ص٣٨،حدیث نمبر٧٠١٨)
اس کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ نافع نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(خواب میں)میں ایک کنویں سے پانی کھینچ رہا تھا کہ ابوبکر اور عمر بھی آ گئے۔ اب ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول پانی کھینچا۔ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے۔ اس کے بعد عمر بن خطاب نے اسے ابوبکر کے ہاتھ سے لے لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں بڑا ڈول بن گیا۔پس میں نے لوگوں میں سے کسی طاقتور کو اس طرح پانی نکالتے ہوئے نہیں دیکھا کہ لوگ اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے بٹھانے کی جگہ لے گئے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ نَزْعِ الْمَاءِ مِنَ الْبِئْرِ حَتَّى يَرْوَى النَّاسُ؛خواب میں کنویں سے پانی کھینچنا یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو جائیں؛جلد٩ص٣٨،حدیث نمبر٧٠١٩)
سالم نے اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کی روایت کی جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(خواب میں)میں ایک کنویں سے پانی کھینچ رہا تھا کہ ابوبکر اور عمر بھی آ گئے۔ اب ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول پانی کھینچا۔ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے۔ اس کے بعد عمر بن خطاب نے اسے ابوبکر کے ہاتھ سے لے لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں بڑا ڈول بن گیا۔پس میں نے لوگوں میں سے کسی طاقتور کو اس طرح پانی نکالتے ہوئے نہیں دیکھا کہ لوگ اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے بٹھانے کی جگہ لے گئے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ نَزْعِ الذَّنُوبِ وَالذَّنُوبَيْنِ مِنَ الْبِئْرِ بِضَعْفٍ؛کنویں سے ایک یا دو ڈول پانی کمزوری کے ساتھ کھینچا۔؛جلد٩ص٣٨،حدیث نمبر٧٠٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا۔ اس پر ایک ڈول تھا۔ جتنا اللہ نے چاہا میں نے اس میں سے پانی کھینچا، پھر اس ڈول کو ابن ابی قحافہ نے لے لیا اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کو معاف فرمائےپھر وہ بڑا ڈول بن گیا اور اسےعمر بن خطاب نے اٹھا لیا۔ میں نے کسی ماہر کو عمر بن خطاب کی طرح کھینچتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ لوگ اونٹوں کو پانی پلاکر بٹھانے کی جگہ لے گئے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ نَزْعِ الذَّنُوبِ وَالذَّنُوبَيْنِ مِنَ الْبِئْرِ بِضَعْفٍ؛کنویں سے ایک یا دو ڈول پانی کمزوری کے ساتھ کھینچا۔؛جلد٩ص٣٨،حدیث نمبر٧٠٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں حوض پر ہوں اور لوگوں کو سیراب کر رہا ہوں پھر میرے پاس ابوبکر آئے اور مجھے آرام دینے کے لیے ڈول میرے ہاتھ سے لے لیا پھر انہوں نے دو ڈول کھینچے ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کو معاف فرمائے۔ پھر عمر بن خطاب آئے اور ان سے ڈول لے لیا اور برابر کھینچتے رہے یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو کر چل دئیے اور حوض اسی طرح جاری تھا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛ بَابُ الاِسْتِرَاحَةِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں آرام کرنا؛جلد٩ص٣٩،حدیث نمبر٧٠٢٢)
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ جنت کے محل کے ایک کنارے ایک عورت وضو کر رہی ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ: یہ محل کس کا ہے؟ بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ پھر میں نے ان کی غیرت یاد کی اور وہاں سے لوٹ گیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس پر رو پڑے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛ بَابُ الْقَصْرِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں محل دیکھنا؛جلد٩ص٣٩،حدیث نمبر٧٠٢٣)
محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک سونے کا محل مجھے نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کس کا ہے؟ کہا کہ قریش کے ایک شخص کا۔ اے ابن الخطاب! مجھے اس کے اندر جانے سے تمہاری غیرت نے روک دیا ہے جسے میں خوب جانتا ہوں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛ بَابُ الْقَصْرِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں محل دیکھنا؛جلد٩ص٣٩،حدیث نمبر٧٠٢٤)
سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا وہاں ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ کہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا۔پس مجھے ان کی غیرت یاد آگئی تو میں واپس لوٹ آیا۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ رو دئیے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛ بَابُ الْوُضُوءِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں کسی کو وضو کرتے دیکھنا؛جلد٩ص٣٩،حدیث نمبر٧٠٢٥)
سالم بن عبداللہ بن عمر نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ اچانک ایک صاحب نظر آئے، گندم گوں بال لٹکے ہوئے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان (سہارا لیے ہوئے تھے) ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، پھر میں مڑا تو ایک دوسرا شخص سرخ، بھاری جسم والا، گھنگریالے بال والا اور ایک آنکھ سے کانا جیسے اس کی آنکھ پر خشک انگور ہو نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی۔“ یہ عبدالعزیٰ بن قطن بنی مصطلق کا تھا جو قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ ہے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الطَّوَافِ بِالْكَعْبَةِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں کعبہ کا طواف کرنا؛جلد٩ص٤٠،حدیث نمبر٧٠٢٦)
حمزہ بن عبداللہ بن عمر کا بیان ہےکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں سویا ہوا تھا کہ دودھ کا ایک پیالہ میرے پاس لایا گیا اور اس میں سے پیا حتیٰ کہ اس کی سیرابی کا اثر پایا۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر کو دے دیا۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس سے کیا مراد لیا؟ فرمایا کہ علم۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ إِذَا أَعْطَى فَضْلَهُ غَيْرَهُ فِي النَّوْمِ؛خواب میں اپنی بچی ہوئی چیز دوسرے کو دینا؛جلد٩ص٤٠،حدیث نمبر٧٠٢٧)
نافع نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں خواب دیکھتے تھے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر دیتے جیسا کہ اللہ چاہتا۔ میں اس وقت نوعمر تھا اور میرا گھر مسجد تھی یہ میری شادی سے پہلے کی بات ہے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر تجھ میں کوئی خیر ہوتی تو تو بھی ان لوگوں کی طرح خواب دیکھتا۔ چنانچہ جب میں ایک رات لیٹا تو میں نے کہا: اے اللہ! اگر تو میرے اندر کوئی خیر و بھلائی جانتا ہے تو مجھے کوئی خواب دکھا۔ میں اسی حال میں (سو گیا اور میں نے دیکھا کہ) میرے پاس دو فرشتے آئے، ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں لوہے کا ہتھوڑا تھا اور وہ مجھے جہنم کی طرف لے چلے۔ میں ان دونوں فرشتوں کے درمیان میں تھا اور اللہ سے دعا کرتا جا رہا تھا کہ اے اللہ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر مجھے دکھایا گیا (خواب ہی میں) کہ مجھ سے ایک اور فرشتہ ملا جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور اس نے کہا ڈرو نہیں تم کتنے اچھے آدمی ہو اگر تم نماز زیادہ پڑھتے رہے۔ چنانچہ وہ مجھے لے کر چلے اور جہنم کے کنارے پر لے جا کر مجھے کھڑا کر دیا تو جہنم ایک گول کنویں کی طرح تھی اور کنویں کے مٹکوں کی طرح اس کے بھی مٹکے تھے اور ہر دو مٹکوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا۔ جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور میں نے اس میں کچھ لوگ دیکھے جنہیں زنجیروں میں لٹکا دیا گیا تھا اور ان کے سر نیچے تھے۔ (اور پاؤں اوپر) ان میں سے بعض قریش کے لوگوں کو میں نے پہچانا بھی، پھر وہ مجھے دائیں طرف لے کر چلے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الأَمْنِ وَذَهَابِ الرَّوْعِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں امن دیکھنا اور خوف دور ہونا؛جلد٩ص٤٠،حدیث نمبر٧٠٢٨)
بعد میں، میں نے اس کا ذکر اپنی بہن حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (سن کر) فرمایا، عبداللہ نیک مرد ہے، (اگر رات کو تہجد پڑھتا ہوتا) نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب سے یہ خواب دیکھا وہ نفل نماز بہت پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الأَمْنِ وَذَهَابِ الرَّوْعِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں امن دیکھنا اور خوف دور ہونا؛جلد٩ص٤٠،حدیث نمبر٧٠٢٩)
سالم کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان غیر شادی شدہ تھا تو مسجد ہی میں رہا کرتا تھا اور جو شخص بھی خواب دیکھتا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کرتا۔ میں نے سوچا: اے اللہ! اگر تیرے نزدیک مجھ میں کوئی خیر ہے تو مجھے بھی کوئی خواب دکھا جس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تعبیر دیں۔پھر میں سویا اور میں نے دو فرشتے دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے لے چلے۔پھر ان دونوں سے تیسرا فرشتہ بھی آملا اور اس نے مجھ سے کہا کہ ڈرو نہیں تم نیک آدمی ہو۔پھر وہ دونوں فرشتے مجھے جہنم کی طرف لے گئے تو وہ کنویں کی طرح تہ بتہ تھی اور اس میں کچھ لوگ تھے جن میں سے بعض کو میں نے پہچانا بھی، پھر وہ دونوں فرشتے مجھے دائیں طرف لے چلے، جب صبح ہوئی تو میں نے اس کا تذکرہ اپنی بہن حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الأَخْذِ عَلَى الْيَمِينِ فِي النَّوْمِ؛خواب میں دائیں طرف لے جاتے دیکھنا؛جلد٩ص٤٠،حدیث نمبر٧٠٣٠)
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ نیک مرد ہے۔ کاش وہ رات میں نماز زیادہ پڑھا کرتا۔ زہری نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد وہ رات میں نماز زیادہ پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الأَخْذِ عَلَى الْيَمِينِ فِي النَّوْمِ؛خواب میں دائیں طرف لے جاتے دیکھنا؛جلد٩ص٤٠،حدیث نمبر٧٠٣١)
حمزہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا۔ میں نے اس میں سے پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر بن خطاب کو دے دیا۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!اس کی تعبیر کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الْقَدَحِ فِي النَّوْمِ؛خواب میں پیالہ دیکھنا؛جلد٩ص٤١،حدیث نمبر٧٠٣٢)
عبد اللہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق پوچھا جس کا آپ نے ذکر فرمایا تھا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ إِذَا طَارَ الشَّيْءُ فِي الْمَنَامِ؛جب خواب میں کوئی چیز اڑتی ہوئی نظر آئے؛جلد٩ص٤١،حدیث نمبر٧٠٣٣)
تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو سونے کے کنگن میرے ہاتھ میں رکھے گئے ہیں تو مجھے اس سے تکلیف پہنچی اور ناگوار ہوئی پھر مجھے اجازت دی گئی اور میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ دو جھوٹے پیدا ہوں گے۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک تو العنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ إِذَا طَارَ الشَّيْءُ فِي الْمَنَامِ؛جب خواب میں کوئی چیز اڑتی ہوئی نظر آئے؛جلد٩ص٤١،حدیث نمبر٧٠٣٤)
ابوبردہ نے اپنے والد ماجد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اور ان کے خیال میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں۔ میرا ذہن اس طرف گیا کہ یہ جگہ یمامہ ہے یا ہجر۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ مدینہ یعنی یثرب ہے چناچہ میں نے وہاں گاے دیکھی اور اللہ کی بھلائی۔گاے تو وہ مسلمان ہیں جو غزوہ احد میں شہید ہوئے اور بھلائی وہ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھلائی عطاء فرمائی اور سچائی کا بدلہ وہ جو اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کے بعد ہمیں عطاء فرمایا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ إِذَا رَأَى بَقَرًا تُنْحَرُ؛جب گائے کو خواب میں ذبح ہوتے دیکھے؛جلد٩ص٤١،حدیث نمبر٧٠٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم سب سے بعد میں آنے والے اور سب پر سبقت لے جانے والے ہیں۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ النَّفْخِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں پھونک مارتے دیکھنا؛جلد٩ص٤١،حدیث نمبر٧٠٣٦)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے اور میرے ہاتھ میں دو سونے کے کنگن رکھ دئیے گئے جو مجھے بہت شاق گزرے۔پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک ماروں میں نے پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ میں نے ان کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جن کے درمیان میں ہوں ایک صنعاء کا اور دوسرا یمامہ کا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ النَّفْخِ فِي الْمَنَامِ؛خواب میں پھونک مارتے دیکھنا؛جلد٩ص٤٢،حدیث نمبر٧٠٣٧)
سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے دیکھا جیسے ایک سیاہ عورت پراگندہ بال، مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر کھڑی ہو گئی۔ مہیعہ جحفہ کو کہتے ہیں۔ میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ مدینہ کی وبا جحفہ نامی بستی میں چلی گئی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ إِذَا رَأَى أَنَّهُ أَخْرَجَ الشَّيْءَ مِنْ كُورَةٍ فَأَسْكَنَهُ مَوْضِعًا آخَرَ؛جب کسی نے دیکھا کہ اس نے کوئی چیز کسی طاق سے نکالی اور اسے دوسری جگہ رکھ دیا۔؛جلد٩ص٤٢،حدیث نمبر٧٠٣٨)
سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں خواب کے سلسلے میں کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”میں نے ایک پراگندہ بال، سیاہ عورت دیکھی کہ وہ مدینہ سے نکل کر مہیعہ چلی گئی۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ مدینہ کی وبا مهيعۃ منتقل ہو گئی ہے۔“ مہیعہ یعنی الجحفۃ کو کہتے ہیں"۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الْمَرْأَةِ السَّوْدَاءِ؛سیاہ عورت کو خواب میں دیکھنا؛جلد٩ص٤٢،حدیث نمبر٧٠٣٩)
سالم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے ایک پراگندہ بال، کالی عورت دیکھی جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر ٹھہر گئی۔میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وبا مہیعہ یعنی منتقل ہو گئی ہے جو جحفہ ہے۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ الْمَرْأَةِ السَّوْدَاءِ؛سیاہ عورت کو خواب میں دیکھنا؛جلد٩ص٤٢،حدیث نمبر٧٠٤٠)
ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اور ان کے خیال میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی تو وہ بیچ سے ٹوٹ گئی۔یہ تو وہ حادثہ و نقصان ہے جو مسلمانوں کو غزوہ احد میں پہنچا پھر دوبارہ میں نے اسے ہلایا تو وہ پہلے سے بھی اچھی شکل میں ہو گئی۔ اس کی تعبیر فتح اور مسلمانوں کے اتفاق و اجتماع کی صورت میں سامنے آئی۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ إِذَا هَزَّ سَيْفًا فِي الْمَنَامِ؛جب خواب میں تلوار ہلائے؛جلد٩ص٤٢،حدیث نمبر٧٠٤١)
عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ایسا خواب بیان کیا جو اس نے دیکھا نہ ہو تو اسے دو جَو کے دو دانوں کو قیامت کے دن جوڑنے کے لیے کہا جائے گا اور وہ اسے ہرگز نہیں کر سکے گااور جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے جو اسے پسند نہیں کرتے یا اس سے بھاگتے ہیں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا اور جو کوئی تصویر بنائے گا اسے عذاب دیا جائے گا اور اس پر زور دیا جائے گا کہ اس میں روح بھی ڈالے جو وہ نہیں کر سکے گا۔ اور سفیان نے کہا کہ ہم سے ایوب نے یہ حدیث موصولاً بیان کی اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جو اپنے خواب کے سلسلے میں جھوٹ بولے۔ اور شعبہ نے کہا، ان سے ابوہاشم الرمانی نے، انہوں نے عکرمہ سے سنا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (کا قول موقوفاً) جو شخص تصویر بناے، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، جو شخص کان لگا کر دوسروں کی باتیں سنے۔ ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جو کسی کی بات کان لگا کر سننے کے پیچھے لگا اور جس نے غلط خواب بیان کیا اور جس نے تصویر بنائی (ایسی ہی حدیث نقل کی موقوفاً ابن عباس سے) خالد حذاء کے ساتھ اس حدیث کو ہشام بن حسان فردوسی نے بھی عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ مَنْ كَذَبَ فِي حُلُمِهِ؛جھوٹا خواب بیان کرنے کی سزا؛جلد٩ص٤٢،حدیث نمبر٧٠٤٢)
عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان خواب میں ایسی چیز کو دیکھنے کا دعویٰ کرے جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ مَنْ كَذَبَ فِي حُلُمِهِ؛جھوٹا خواب بیان کرنے کی سزا؛جلد٩ص٤٢،حدیث نمبر٧٠٤٣)
عبدربہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں (برے) خواب دیکھتا تھا اور اس کی وجہ سے بیمار پڑ جاتا تھا۔ آخر میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی خواب دیکھتا اور میں بھی بیمار پڑ جاتا۔ آخر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں پس جب کوئی اچھے خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اسے عزیز ہو اور جب برا خواب دیکھے تو اللہ کی اس کے شر سے پناہ مانگے اور شیطان کے شر سے اور تین مرتبہ تھوتھو کر دے اور اس کا کسی سے ذکر نہ کرے پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ إِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلاَ يُخْبِرْ بِهَا وَلاَ يَذْكُرْهَا؛جب کوئی برا خواب دیکھے تو اس کی کسی کو خبر نہ دے اور نہ اس کا کسی سے ذکر کرے؛جلد٩ص٤٣،حدیث نمبر٧٠٤٤)
عبداللہ بن خباب کا بیان ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اس پر اسے اللہ کی تعریف کرنا چاہئیے اور اسے بیان بھی کرنا چاہئیے اور جب کوئی خواب ایسا دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے اور اسے چاہئیے کہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور اس کا ذکر کسی سے نہ کرے، کیونکہ وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ إِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلاَ يُخْبِرْ بِهَا وَلاَ يَذْكُرْهَا؛جب کوئی برا خواب دیکھے تو اس کی کسی کو خبر نہ دے اور نہ اس کا کسی سے ذکر کرے؛جلد٩ص٤٣،حدیث نمبر٧٠٤٥)
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے میں دیکھتا ہوں کہ لوگ انہیں اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔ کوئی زیادہ اور کوئی کم اور ایک رسی ہے جو زمین سے آسمان تک لٹکی ہوئی ہے۔ میں نے دیکھا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر اسے پکڑا اور اوپر چڑھ گئے پھر ایک دوسرے صاحب نے بھی اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چڑھ گئے پھر ایک تیسرے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی چڑھ گئے پھر چوتھے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی اس کے ذریعہ چڑھ گئے۔ پھر وہ رسی ٹوٹ گئی، پھر جڑ گئی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی تعبیر بیان کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیان کرو۔ انہوں نے کہا سایہ سے مراد دین اسلام ہے اور شہد اور گھی ٹپک رہا تھا وہ قرآن مجید کی شیرینی ہے اور بعض قرآن کو زیادہ حاصل کرنے والے ہیں، بعض کم اور آسمان سے زمین تک کی رسی سے مراد وہ سچا راستہ ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قائم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اس کے ذریعہ اللہ آپ کو اوپر اٹھا لے گا پھر آپ کے بعد ایک دوسرے صاحب آپ کے خلیفہ اول اسے پکڑیں گے وہ بھی مرتے دم تک اس پر قائم رہیں گے۔ پھر تیسرے صاحب پکڑیں گے ان کا بھی یہی حال ہو گا۔ پھر چوتھے صاحب پکڑیں گے تو ان کا معاملہ خلافت کا کٹ جائے گا وہ بھی اوپر چڑھ جائیں گے۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے بتائیے کیا میں نے جو تعبیر دی ہے وہ غلط ہے یا صحیح۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض حصہ کی صحیح تعبیر دی ہے اور بعض کی غلط۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پس واللہ! آپ میری غلطی کو ظاہر فرما دیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم نہ دو۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الرُّؤْيَا لأَوَّلِ عَابِرٍ إِذَا لَمْ يُصِبْ؛اگر پہلی تعبیر دینے والا غلط تعبیر دے تو اس کی تعبیر سے کچھ نہ ہو گا؛جلد٩ص٤٣،حدیث نمبر٧٠٤٦)
ابورجاء کا بیان ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو باتیں صحابہ سے اکثر کیا کرتے تھے ان میں یہ بھی تھی کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟۔بیان کیا کہ پھر جو چاہتا اپنا خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح کو فرمایا کہ رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو میں ان کے ساتھ چل دیا۔ پھر ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس آئے جس کے پاس ایک دوسرا شخص پتھر لیے کھڑا تھا اور اس کے سر پر پتھر پھینک کر مارتا تو اس کا سر اس سے پھٹ جاتا، پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا، لیکن وہ شخص پتھر کے پیچھے جاتا اور اسے اٹھا لاتا اور اس لیٹے ہوئے شخص تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر ٹھیک ہو جاتا جیسا کہ پہلے تھا۔ کھڑا شخص پھر اسی طرح پتھر اس پر مارتا اور وہی صورتیں پیش آتیں جو پہلے پیش آئیں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے پوچھا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں؟ فرمایا کہ مجھ سے انہوں نے کہا کہ آگے بڑھو، آگے بڑھو۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور ایک دوسرا شخص اس کے پاس لوہے کا آنکڑا لیے کھڑا تھا اور یہ اس کے چہرہ کے ایک طرف آتا اور اس کے ایک جبڑے کو گدی تک چیرتا اور اس کی ناک کو گدی تک چیرتا اور اس کی آنکھ کو گدی تک چیرتا۔ (عوف نے) بیان کیا کہ بعض دفعہ ابورجاء (راوی حدیث) نے «فيشق» کہا، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) بیان کیا کہ پھر وہ دوسری جانب جاتا ادھر بھی اسی طرح چیرتا جس طرح اس نے پہلی جانب کیا تھا۔ وہ ابھی دوسری جانب سے فارغ بھی نہ ہوتا تھا کہ پہلی جانب اپنی پہلی صحیح حالت میں لوٹ آتی۔ پھر دوبارہ وہ اسی طرح کرتا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ (اس طرح برابر ہو رہا ہے) فرمایا کہ میں نے کہا سبحان اللہ! یہ دونوں کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ آگے چلو، چنانچہ ہم آگے چلے پھر ہم ایک تنور جیسی چیز پر آئے۔ راوی نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کہا کرتے تھے کہ اس میں شور و آواز تھی۔ کہا کہ پھر ہم نے اس میں جھانکا تو اس کے اندر کچھ ننگے مرد اور عورتیں تھیں اور ان کے نیچے سے آگ کی لپٹ آتی تھی جب آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لیتی تو وہ چلانے لگتے۔(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ ہم آگے بڑھے اور ایک نہر پر آئے۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے کہا کہ وہ خون کی طرح سرخ تھی اور اس نہر میں ایک شخص تیر رہا تھا اور نہر کے کنارے ایک دوسرا شخص تھا جس نے اپنے پاس بہت سے پتھر جمع کر رکھے تھے اور یہ تیرنے والا تیرتا ہوا جب اس شخص کے پاس پہنچتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے تو یہ اپنا منہ کھول دیتا اور کنارے کا شخص اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا وہ پھر تیرنے لگتا اور پھر اس کے پاس لوٹ کر آتا اور جب بھی اس کے پاس آتا تو اپنا منہ پھیلا دیتا اور یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا۔ فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک نہایت بدصورت آدمی کے پاس پہنچے جتنے بدصورت تم نے دیکھے ہوں گے ان میں سب سے زیادہ بدصورت۔ اس کے پاس آگ جل رہی تھی اور وہ اسے جلا رہا تھا اور اس کے چاروں طرف دوڑتا تھا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا چلو آگے چلو۔ ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے باغ میں پہنچے جو ہرا بھرا تھا اور اس میں موسم بہار کے سب پھول تھے۔ اس باغ کے درمیان میں بہت لمبا ایک شخص تھا، اتنا لمبا تھا کہ میرے لیے اس کا سر دیکھنا دشوار تھا کہ وہ آسمان سے باتیں کرتا تھا اور اس شخص کے چاروں طرف سے بہت سے بچے تھے کہ اتنے کبھی نہیں دیکھے تھے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہے یہ بچے کون ہیں؟ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ چلو آگے چلو فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک عظیم الشان باغ تک پہنچے، میں نے اتنا بڑا اور خوبصورت باغ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں نے کہا کہ اس پر چڑھئیے ہم اس پر چڑھے تو ایک ایسا شہر دکھائی دیا جو اس طرح بنا تھا کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی تھی اور ایک اینٹ چاندی کی۔ ہم شہر کے دروازے پر آئے تو ہم نے اسے کھلوایا۔ وہ ہمارے لیے کھولا گیا اور ہم اس میں داخل ہوئے۔ ہم نے اس میں ایسے لوگوں سے ملاقات کی جن کے جسم کا نصف حصہ تو نہایت خوبصورت تھا اور دوسرا نصف نہایت بدصورت۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس نہر میں کود جاؤ۔ ایک نہر سامنے بہہ رہی تھی اس کا پانی انتہائی سفید تھا وہ لوگ گئے اور اس میں کود گئے اور پھر ہمارے پاس لوٹ کر آئے تو ان کا پہلا عیب جا چکا تھا اور اب وہ نہایت خوبصورت ہو گئے تھے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ ان دونوں نے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ کی منزل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ میری نظر اوپر کی طرف اٹھی تو سفید بادل کی طرح ایک محل اوپر نظر آیا فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی منزل ہے۔ فرمایا کہ میں نے ان سے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے۔ مجھے اس میں داخل ہونے دو۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تو آپ نہیں جا سکتے لیکن ہاں آپ اس میں ضرور جائیں گے۔ فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ آج رات میں نے عجیب و غریب چیزیں دیکھی ہیں۔ یہ چیزیں کیا تھیں جو میں نے دیکھی ہیں۔ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا ہم آپ کو بتائیں گے۔ پہلا شخص جس کے پاس آپ گئے تھے اور جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جو قرآن پاک کو پڑھ کر بھلانے اور فرض نماز کو چھوڑ کر سو جاتا اور وہ شخص جس کے پاس آپ گئے اور جس کا جبڑا گدی تک اور ناک گدی تک اور آنکھ گدی تک چیری جا رہی تھی۔ یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹی خبر تراشتا، جو دنیا میں پھیل جاتی اور وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تنور میں آپ نے دیکھے وہ زنا کار مرد اور عورتیں تھیں وہ شخص جس کے پاس آپ اس حال میں گئے کہ وہ نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر دیا جاتا تھا وہ سود کھانے والا ہے اور وہ شخص جو بدصورت ہے اور جہنم کی آگ بھڑکا رہا ہے اور اس کے چاروں طرف چل پھر رہا ہے وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی ہے اور وہ لمبا شخص جو باغ میں نظر آیا وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور جو بچے ان کے چاروں طرف ہیں تو وہ بچے ہیں جو (بچپن ہی میں) فطرت پر مر گئے ہیں۔ بیان کیا کہ اس پر بعض مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مشرکین کے بچے بھی ان میں داخل ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مشرکین کے بچے بھی (ان میں داخل ہیں) اب رہے وہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا بدصورت تھا تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے عمل کے ساتھ برے عمل بھی کئے اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا۔ (بخاری شریف،؛كِتَاب التَّعْبِيرِ؛بَابُ إِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلاَ يُخْبِرْ بِهَا وَلاَ يَذْكُرْهَا؛جب کوئی برا خواب دیکھے تو اس کی کسی کو خبر نہ دے اور نہ اس کا کسی سے ذکر کرے؛جلد٩ص٤٤۔٤٦،حدیث نمبر٧٠٤٧)
Bukhari Shareef : Kitabut Tabir
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ التَّعْبِيرِ
|
•