
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے فتنوں کا بیان باب ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اس فتنے سے ڈرتے رہو جو ہر گز تم میں خاص ظالموں ہی کو پہنچے گا۔(الأنفال ٢٥)اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتنوں سے ڈرتے رہتے تھے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(قیامت کے دن) میں حوض کوثر پر ہوں گا اور اپنے پاس آنے والوں کا انتظار کرتا رہوں گا پھر (حوض کوثر) پر کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ جواب ملے گا کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ یہ لوگ الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔“ ابن ابی ملیکہ اس حدیث کو روایت کرتے وقت دعا کرتے ”اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھر جائیں یا فتنہ میں پڑ جائیں۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْفِتَنِ؛فتنوں کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاتَّقُوا فِتْنَةً لاَ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً}؛جلد٩ص٤٦،حدیث نمبر٧٠٤٨)
ابووائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میری طرف آئیں گے جب میں انہیں (حوض کا پانی) دینے کے لیے جھکوں گا تو انہیں میرے سامنے سے کھینچ لیا جائے گا۔ میں کہوں گا اے میرے رب! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نیا کیا۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْفِتَنِ؛فتنوں کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاتَّقُوا فِتْنَةً لاَ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً}؛جلد٩ص٤٦،حدیث نمبر٧٠٤٩)
ابوحازم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا جو وہاں پہنچے گا تو اس کا پانی پئے گا اور جو اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے پھر میرے اور ان کے درمیان پردہ ڈال دیا جائے گا۔ ابوحازم نے بیان کیا کہ نعمان بن ابی عیاش نے بھی سنا کہ میں ان سے یہ حدیث بیان کر رہا ہوں تو انہوں نے کہا کہ کیا تو نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے اسی طرح یہ حدیث سنی تھی؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی طرح سنی تھی۔ ابوسعید اس میں اتنا بڑھاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھ میں سے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا؟ میں کہوں گا کہ دوری ہو دوری ہو ان کے لیے جنہوں نے میرے بعدتبدیلیاں کر دی تھیں۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْفِتَنِ؛فتنوں کے بیان میں؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاتَّقُوا فِتْنَةً لاَ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً}؛جلد٩ص٤٦،حدیث نمبر٧٠٥٠،٧٠٥١)
عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:صبر کرو حتیٰ کہ حوض پر مجھ سے ملاقات کرو۔ زید بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ”تم میرے بعد ناپسندیدہ امور دیکھو گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس سلسلے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انہیں ان کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔“ (بخاری شریف،؛كِتَاب الْفِتَنِ؛فتنوں کے بیان میں؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُمُورًا تُنْكِرُونَهَا»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”میرے بعد تم بعض کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے“؛جلد٩ص٤٧،حدیث نمبر٧٠٥٢)
ابورجاء عطاردی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے کیونکہ جو مسلمان کی جماعت سے بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔“ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُمُورًا تُنْكِرُونَهَا»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”میرے بعد تم بعض کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے“؛جلد٩ص٤٧،حدیث نمبر٧٠٥٣)
ابورجاء عطاردی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے کیونکہ جو مسلمان کی جماعت سے بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔“ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُمُورًا تُنْكِرُونَهَا»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”میرے بعد تم بعض کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے“؛جلد٩ص٤٧،حدیث نمبر٧٠٥٤)
جنادہ بن ابو امیہ نے بیان کیا کہ ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے وہ مریض تھے اور ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطا فرمائے۔ کوئی حدیث بیان کیجئے جس کا نفع آپ کو اللہ تعالیٰ نے پہنچایا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃالعقبہ میں سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپ سے بیعت کی۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُمُورًا تُنْكِرُونَهَا»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”میرے بعد تم بعض کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے“؛جلد٩ص٤٧،حدیث نمبر٧٠٥٥)
انہوں(حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ جن باتوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد لیا تھا ان میں یہ بھی تھا کہ خوشی و ناگواری، تنگی اور کشادگی اور اپنی حق تلفی میں بھی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور خواہ ہمارے اوپر کسی کو ترجیح بھی دی جائے اور یہ بھی کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک ان کو اعلانیہ کفر کرتے نہ دیکھ لیں۔ اگر وہ اعلانیہ کفر کریں تو تم کو اللہ کے پاس سے دلیل مل جائے گی۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُمُورًا تُنْكِرُونَهَا»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”میرے بعد تم بعض کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے“؛جلد٩ص٤٧،حدیث نمبر٧٠٥٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ،ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں کو حاکم بنا دیا اور مجھے نہیں بنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے بعد ترجیح بلا مرجح دیکھو گے تو قیامت تک صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آملو۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«سَتَرَوْنَ بَعْدِي أُمُورًا تُنْكِرُونَهَا»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”میرے بعد تم بعض کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے“؛جلد٩ص٤٧،حدیث نمبر٧٠٥٧)
سعید نے بیان کیا،انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دادا سعید نے خبر دی، کہا کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے صادق و مصدوق سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھ سے ہو گی۔ مروان نے اس پر کہا ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں ان کے خاندان کے نام لے کر بتلانا چاہوں تو بتلا سکتا ہوں۔ پھر جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہو گئے تو میں اپنے دادا کے ساتھ ان کی طرف جاتا تھا۔ جب وہاں انہوں نے نوجوان لڑکوں کو دیکھا تو کہا کہ شاید یہ انہی میں سے ہوں۔ ہم نے کہا کہ آپ کو زیادہ علم ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلاَكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةٍ سُفَهَاءَ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمایا ”میری امت کی تباہی چند بیوقوف لڑکوں کے ہاتھوں ہو گی“؛جلد٩ص٤٨،حدیث نمبر٧٠٥٨)
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے،حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کی تباہی اس بلا سے ہو گی جو قریب ہی آ لگی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا سوراخ ہو گیا اور سفیان نے نوے یا سو کے عدد کے لیے انگلی باندھی پوچھا گیا کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں صالحین بھی ہوں گے؟ فرمایا ہاں! جب برائی بڑھ جائے گی (تو ایسا ہی ہو گا)۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ»فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ جس شر کے اندر عرب کی تباہی ہے وہ قریب آگیا ہے؛جلد٩ص٤٨،حدیث نمبر٧٠٥٩)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے پر چڑھے پھر فرمایا کہ میں جو کچھ دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ تمہارے گھروں پر بارش کی طرح برس رہے ہیں۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ»فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ جس شر کے اندر عرب کی تباہی ہے وہ قریب آگیا ہے؛جلد٩ص٤٨،حدیث نمبر٧٠٦٠)
سعید بن مسیب نے بیان کیا، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زمانہ قریب ہوتا جائے گا اور عمل کم ہوتا جائے گا اور لالچ دلوں میں ڈال دیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہونے لگیں گے اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی۔“ لوگوں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! یہ «هرج» کیا چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قتل! قتل!۔ اور یونس اور لیث اور زہری کے بھتیجے نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے حمید نے، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛ بَابُ ظُهُورِ الْفِتَنِ؛فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔؛جلد٩ص٤٨،حدیث نمبر٧٠٦١)
شقیق نے بیان کیا کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، ان دونوں حضرات نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت سے کچھ پہلے کا زمانہ ایسا ہوگا جن میں جہالت غالب آجائے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا اور «هرج» بڑھ جائے گا اور «هرج» قتل ہے۔" (بخاری شریف،کتاب الفتن؛ بَابُ ظُهُورِ الْفِتَنِ؛فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔؛جلد٩ص٤٨،حدیث نمبر٧٠٦٢۔٧٠٦٣)
شقیق نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما بیٹھے باتیں کر رہے تھےتو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”قیامت سے کچھ پہلے کا زمانہ ایسا ہوگا جن میں جہالت غالب آجائے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا اور «هرج» بڑھ جائے گا اور «هرج» قتل ہے۔" (بخاری شریف،کتاب الفتن؛ بَابُ ظُهُورِ الْفِتَنِ؛فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔؛جلد٩ص٤٨،حدیث نمبر٧٠٦٤)
ابووائل نے بیان کیا کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اسی طرح۔ «هرج» حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛ بَابُ ظُهُورِ الْفِتَنِ؛فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔؛جلد٩ص٤٨،حدیث نمبر٧٠٦٥)
ابووائل کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور میرا خیال ہے کہ اس حدیث کو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا، کہا کہ قیامت سے پہلے «هرج» کے دن ہوں گے، ان میں علم ختم ہو جائے گا اور جہالت غالب ہوگی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشی زبان میں «هرج» بمعنی قتل ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛ بَابُ ظُهُورِ الْفِتَنِ؛فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔؛جلد٩ص٤٨،حدیث نمبر٧٠٦٦)
اور ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کیا آپ کو ان دونوں کے متعلق معلوم ہے جن کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا کہ وہ قتل کے ایام ہوں گے۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ وہ بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛ بَابُ ظُهُورِ الْفِتَنِ؛فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔؛جلد٩ص٤٨،حدیث نمبر٧٠٦٧)
زبیر بن عدی نے بیان کیا کہ، ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج بن یوسف کے طرز عمل کی شکایت کی، انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ لاَ يَأْتِي زَمَانٌ إِلاَّ الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ؛ہر زمانہ کے بعد دوسرے آنے والے زمانہ کا اس سے بدتر آنا۔؛جلد٩ص٤٩،حدیث نمبر٧٠٦٨)
ہند بنت حارث فراسیہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایاسبحان اللہ(اللہ کی ذات پاک ہے)۔ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا خزانے نازل کئے ہیں اور کتنے فتنے اتارے ہیں کوئی ہے جو ان حجرے والیوں کو جگاے آپ کی مراد ازواج مطہرات تھی تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ بہت سے دنیا میں لباس پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ لاَ يَأْتِي زَمَانٌ إِلاَّ الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ؛ہر زمانہ کے بعد دوسرے آنے والے زمانہ کا اس سے بدتر آنا۔؛جلد٩ص٤٩،حدیث نمبر٧٠٦٩)
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے"۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا» ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں؛جلد٩ص٤٩،حدیث نمبر٧٠٧٠)
ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا» ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں؛جلد٩ص٤٩،حدیث نمبر٧٠٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی تم میں سے اپنے بھائی کی جانب ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ شاید شیطان کب اسے چلوادے اور یہ اس طرح جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا» ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں؛جلد٩ص٤٩،حدیث نمبر٧٠٧٢)
سفیان کا بیان ہے کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا:اے ابو محمد!کیا آپ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک شخص تیروں کو لئے ہوے مسجد سے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا۔ان کے پھلوں کو سنبھال لو۔کہا:ہاں۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا» ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں؛جلد٩ص٤٩،حدیث نمبر٧٠٧٣)
عمرو بن دینار نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص تیروں کو لئے ہوے مسجد سے گزرا جن کے پھل باہر نکلے ہوے تھے پس اسے حکم دیا گیا کہ ان کے پھلوں کو پکڑ لو تاکہ کسی مسلمان کو لگنے کا اندیشہ نہ رہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا» ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں؛جلد٩ص٤٩،حدیث نمبر٧٠٧٤)
ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد سے گزرے یا ہمارے بازار سے اور اس کے پاس تیر ہو تو اس کے پھل کو سنبھال لے یا یہ فرمایا کہ اسے اپنی ہتھیلی سے پکڑے رہے تاکہ کسی بھی مسلمان کو اس سے کوئی اذیت نہ پہنچے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا» ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں؛جلد٩ص٤٩،حدیث نمبر٧٠٧٥)
شفیق نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کے ساتھ قتال کرنا کفر ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگے؛جلد٩ص٥٠،حدیث نمبر٧٠٧٦)
محمد بن زید نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے بعد کفر کی طرف واپس نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگے؛جلد٩ص٥٠،حدیث نمبر٧٠٧٧)
ابن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا اور ایک دوسرے شخص (حمید بن عبدالرحمٰن) سے بھی سنا جو میری نظر میں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے اچھے ہیں اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یوم النحر کو خطبہ دیا اور فرمایا ”تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ بیان کیا کہ (اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے) ہم یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا یہ قربانی کا دن (یوم النحر) نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ نے پھر پوچھا ”یہ کون سا شہر ہے؟ کیا یہ البلدہ (مکہ مکرمہ) نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر تمہارا خون، تمہارے مال، تمہاری عزت اور تمہاری کھال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی،تمہارے اس مہینے میں،تمہارے اس شہر میں حرمت ہے۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟“ ہم نے کہا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! گواہ رہنا۔پس چاہیے کہ جو حاضر ہے یہ ان لوگوں تک یہ پیغام پہنچاے جو حاضر نہیں ہیں کیونکہ بسا اوقات جس تک کوئی بات پہنچائی جاتی ہے وہ پہنچانے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے۔چناچہ یہی ہوا۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگو۔“ پھر جب وہ دن آیا جب عبداللہ عمرو بن حضرمی کو جاریہ بن قدامہ نے ایک مکان میں گھیر کر جلا دیا تو جاریہ نے اپنے لشکر والوں سے کہا زرا ابوبکرہ کو تو جھانکو وہ کس خیال میں ہے۔ انہوں نے کہا یہ ابوبکرہ موجود ہیں تم کو دیکھ رہے ہیں۔عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں مجھ سے میری والدہ ہالہ بنت غلیظ نے کہا کہ ابوبکرہ نے کہا اگر یہ لوگ میرے گھر میں بھی گھس آئیں اور مجھ کو مارنے لگیں تو میں ان پر ایک بانس کی چھڑی بھی نہیں چلاؤں گا۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگے؛جلد٩ص٥٠،حدیث نمبر٧٠٧٨)
عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے بعد کفر کی طرف واپس نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگے؛جلد٩ص٥٠،حدیث نمبر٧٠٧٩)
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر نے اپنے والد جد امجد حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا کہ لوگوں سے خاموش ہونے کے لیے کہو۔پھر فرمایا کہ میرے بعد کفر کی طرف واپس نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگے؛جلد٩ص٥٠،حدیث نمبر٧٠٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عنقریب ایسے فتنے برپا ہوں گے جن میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا ان میں چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا ان میں دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، جو دور سے ان کی طرف جھانک کر بھی دیکھے گا تو وہ ان کو بھی سمیٹ لے گا۔ اس وقت جس کسی کو کوئی پناہ کی جگہ مل جائے یا بچاؤ کا مقام مل سکے وہ اس میں چلا جائے۔“ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ؛ایسا فتنہ بھی آے گا کہ اس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا؛جلد٩ص٥١،حدیث نمبر٧٠٨١)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایسے فتنے برپا ہوں گے کہ ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ اگر کوئی ان کی طرف دور سے بھی جھانک کر دیکھے گا تو وہ اسے بھی سمیٹ لیں گے ایسے وقت جو کوئی اس سے کوئی پناہ کی جگہ پا لے اسے اس کی پناہ لے لینی چاہئیے۔“ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ؛ایسا فتنہ بھی آے گا کہ اس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا؛جلد٩ص٥١،حدیث نمبر٧٠٨٢)
امام حسن بصری نے بیان کیا کہ میں ایک مرتبہ باہمی فسادات کے دنوں میں اپنے ہتھیار لگا کر نکلا تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے راستے میں ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے پوچھا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے کی (جنگ جمل و صفین میں) مدد کرنی چاہتا ہوں، انہوں نے کہا لوٹ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کو لے کر آمنے سامنے مقابلہ پر آ جائیں تو دونوں دوزخی ہیں۔ پوچھا گیا یہ تو قاتل تھا، مقتول نے کیا کیا (کہ وہ بھی ناری ہو گیا)؟ فرمایا کہ وہ بھی اپنے مقابل کو قتل کرنے کا ارادہ کئے ہوئے تھا۔ حماد بن زید نے کہا کہ پھر میں نے یہ حدیث ایوب اور یونس بن عبید سے ذکر کی، میرا مقصد تھا کہ یہ دونوں بھی مجھ سے یہ حدیث بیان کریں، ان دونوں نے کہا کہ اس حدیث کی روایت حسن بصری نے احنف بن قیس سے اور انہوں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کی۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے یہی حدیث بیان کی اور مؤمل بن ہشام نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب، یونس، ہشام اور معلی بن زیاد نے امام حسن بصری سے بیان کیا، ان سے احنف بن قیس اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی روایت معمر نے بھی ایوب سے کی ہے اور اس کی روایت بکار بن عبدالعزیز نے اپنے باپ سے کی اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اور غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور سفیان ثوری نے بھی اس حدیث کو منصور بن معتمر سے روایت کیا، پھر یہ روایت مرفوعہ نہیں ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا؛جب دو مسلمان تلوار لے کر ایک دوسرے کے مقابل ہوں؛جلد٩ص٥١،حدیث نمبر٧٠٨٣)
ابوادریس خولانی حضرت نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا۔ اس خوف سے کہ کہیں میری زندگی میں ہی شر نہ پیدا ہو جائے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے دور میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر سے نوازا تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر کا زمانہ آئے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن اس خیر میں کمزوری ہو گی۔ میں نے پوچھا کہ کمزوری کیا ہوگی؟ فرمایا کہ کچھ لوگ ہوں گے جو میرے طریقے کے خلاف چلیں گے، ان کی بعض باتیں اچھی ہوں گی لیکن بعض میں تم برائی دیکھو گے۔ میں نے پوچھا کیا پھر دور خیر کے بعد دور شر آئے گا؟ فرمایا کہ ہاں جہنم کی طرف سے بلانے والے دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس میں انہیں جھٹک دیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ان کی کچھ صفت بیان کیجئے۔ فرمایا کہ وہ ہمارے ہی جیسے ہوں گے اور ہماری ہی زبان (عربی) بولیں گے۔ میں نے پوچھا: پھر اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو آپ مجھے ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔ میں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو؟ فرمایا کہ پھر ان تمام لوگوں سے الگ ہو کر خواہ تمہیں جنگل میں جا کر درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت آ جائے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ كَيْفَ الأَمْرُ إِذَا لَمْ تَكُنْ جَمَاعَةٌ؛جب جماعت نہ رہے تو کیا کرے؛جلد٩ص٥١،حدیث نمبر٧٠٨٤)
لیث کا بیان ہے کہ ابوالاسود نے فرمایا کہ اہل مدینہ کا ایک لشکر تیار کیا گیا (یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں شام والوں سے مقابلہ کرنے کے لیے) اور میرا نام اس میں لکھ دیا گیا۔ پھر میں عکرمہ سے ملا اور میں نے انہیں خبر دی تو انہوں نے مجھے شرکت سے سختی کے ساتھ منع کیا۔ پھر کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی ہے کہ کچھ مسلمان قلبی طور پر مشرکین کے ساتھ تھے اور مشرکوں کی جماعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے پر ابھارتے۔لیکن جو تیر آتا تو انہیں لگتا اور ان میں سے ہی کوئی مرتا یا تلوار کی ضرب لگائی جاتی تو انہیں ہی قتل کرتی پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ترجمہ کنز الایمان:وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔(نساء ٩٧) (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ مَنْ كَرِهَ أَنْ يُكَثِّرَ سَوَادَ الْفِتَنِ وَالظُّلْمِ؛جو فتنہ اور ظلم کرنے والوں کی کثرت کو برا جانے؛جلد٩ص٥١،حدیث نمبر٧٠٨٥)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باتیں ارشاد فرمائی تھیں جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی دوسری کا انتظار ہے۔ ہم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں میں رکھ دیا گیا پھر لوگوں نے اسے قرآن سے سیکھا، پھر سنت سے سیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق فرمایا تھا کہ ایک شخص سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال دی جائے گی اور اس کا نشان ایک دھبے جتنا باقی رہ جائے گا، پھر وہ ایک نیند سوئے گا اور پھر امانت نکالی جائے گی تو اس کے دل میں آبلے کی طرح اس کا نشان باقی رہ جائے گا، جیسے تم نے کوئی چنگاری اپنے پاؤں پر گرا لی ہو اور اس کی وجہ سے آبلہ پڑ جائے، لیکن اندر کچھ نہیں ہو گا اور لوگ خرید و فروخت کریں گے لیکن کوئی امانت ادا کرنے والا نہیں ہو گا۔ پھر کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے اور کسی کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ کس قدر عقلمند، کتنا خوش طبع، کتنا عقلمندآدمی ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا اور مجھ پر بھی ایسا ہی زمانہ گزرا ہے کہ مجھے کوئی فکر نہیں ہوتی تھی کہ کس کے ساتھ تجارت کروں کیونکہ اگر وہ مسلمان ہوا تو اسلام اسے زور دے میرا حق دلا دے گا اور اگر وہ نصرانی ہوا تو لوگ اسے میرا حق دینے پر مجبور کر دیں گے لیکن آج تو میں صرف فلاں فلاں چند لوگوں سے تجارت کرتا ہوں۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ إِذَا بَقِيَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ؛جب کوئی برے لوگوں میں رہ جائے تو کیا کرے؟؛جلد٩ص٥٢،حدیث نمبر٧٠٨٦)
یزید بن ابو عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ حجاج کے یہاں گئے تو اس نے کہا کہ اے ابن الاکوع! تم گاؤں میں رہنے لگے ہو کیا الٹے پاؤں پھر گئے؟کہا کہ نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگل میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ اور یزید بن ابو عبید سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے تو سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ربذہ چلے گئے اور وہاں ایک عورت سے شادی کر لی اور وہاں ان کے بچے بھی پیدا ہوئے۔ وہ برابر وہیں پر رہے، یہاں تک کہ وفات سے چند دن پہلے مدینہ آ گئے تھے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ التَّعَرُّبِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ فساد کے وقت جنگل میں جا رہنا؛جلد٩ص٥٢،حدیث نمبر٧٠٨٧)
عبداللہ بن ابو صعصعہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑی کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلا جائے گا۔ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے وہاں بھاگ کرجائے گا۔“ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ التَّعَرُّبِ فِي الْفِتْنَةِ؛فتنہ فساد کے وقت جنگل میں جا رہنا؛جلد٩ص٥٣،حدیث نمبر٧٠٨٨)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کرتے۔یہاں تک کہ جب سوالات کی کثرت ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ایک دن چڑھے اور فرمایا کہ آج تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں تمہیں اس کا جواب دوں گا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو ہر شخص کا سر اس کے کپڑے میں چھپا ہوا تھا اور وہ رو رہا تھا۔ آخر ایک شخص نے خاموشی توڑی۔ اس کا جب کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا دوسرے باپ کی طرف پکارا جاتا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے والد کون ہیں؟ فرمایا تمہارے والد حذافہ ہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سامنے آئے اور عرض کیا ہم اللہ کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں۔اور فتنوں کے شر سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خیر و شر آج جیسا دیکھا، کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میرے سامنے جنت و دوزخ کی صورت پیش کی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے قریب دیکھا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ یہ حدیث اس آیت۔ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔(مائدہ ١٠١)کے ساتھ بیان کی جاتی ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْفِتَنِ؛فتنوں سے پناہ مانگنا۔؛جلد٩ص٥٣،حدیث نمبر٧٠٨٩)
اور عباس نرسی نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا ہر شخص کپڑے میں اپنا سر لپیٹے ہوئے رو رہا تھا اور فتنے سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا یا یوں کہہ رہا تھا کہ میں اللہ سے فتننے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْفِتَنِ؛فتنوں سے پناہ مانگنا۔؛جلد٩ص٥٣،حدیث نمبر٧٠٩٠)
اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید و معتمر کے والد نے قتادہ سے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا پھر یہی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی،اور کہا میں فتنوں کے شر سے اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْفِتَنِ؛فتنوں سے پناہ مانگنا۔؛جلد٩ص٥٣،حدیث نمبر٧٠٩١)
سالم نے اپنے والد ماجد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا۔فتنہ ادھر ہے،فتنہ ادھر ہے،جہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا،یا یہ فرمایا کہ سورج کا سینگ نکلے گا۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْفِتْنَةُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”فتنہ مشرق کی طرف سے اٹھے گا“؛جلد٩ص٥٣،حدیث نمبر٧٠٩٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب کہ آپ مشرق کی طرف رخ کر کے فرما رہے تھے۔آگاہ ہوجاؤ کہ فتنہ ادھر ہے جہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْفِتْنَةُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”فتنہ مشرق کی طرف سے اٹھے گا“؛جلد٩ص٥٣،حدیث نمبر٧٠٩٣)
نافع نے بیان کیا،ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ!ہمیں ہمارے ملک شام میں برکت دے، ہمارے یمن میں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے، ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کی اور ہمارے نجد میں؟ میرا گمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا ”وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہاں شیطان کا سینگ طلوع ہو گا۔“ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْفِتْنَةُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”فتنہ مشرق کی طرف سے اٹھے گا“؛جلد٩ص٥٤،حدیث نمبر٧٠٩٤)
سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی اچھی بات کریں گے۔ اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہم سے زمانہ فتنہ میں قتال کے متعلق حدیث بیان کیجئے۔جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ترجمہ کنز الایمان:اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے"(بقرہ ١٩٣)۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ فتنہ کیا ہے؟ تمہاری ماں تمہیں غم کرے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے جنگ کرتے تھے، اور کافروں کے دین میں داخل ہونا یہ فتنہ ہے۔ان کی لڑائی تمہاری طرح ملک کے لئے نہ تھی۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْفِتْنَةُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ”فتنہ مشرق کی طرف سے اٹھے گا“؛جلد٩ص٥٤،حدیث نمبر٧٠٩٥)
ابن عیینہ نے خلف بن حوشب سے بیان کیا کہ سلف فتنہ کے وقت ان اشعار سے مثال دینا پسند کرتے تھے۔جن میں امراء القیس نے کہا ہے۔(ترجمہ)ابتداء میں اک جواں عورت کی صورت ہے یہ جنگ۔۔۔ دیکھ کر ناداں اسے ہوتے ہیں عاشق اور دنگ۔۔۔ جبکہ بھڑکے شعلے اس کے پھیل جائیں ہر طرف۔۔۔ تب وہ ہو جاتی ہے بوڑھی اور بدل جاتی ہے رنگ۔۔۔ ایسی بدصورت کو رکھے کون چونڈا ہے سفید۔۔۔ سونگھنے اور چومنے سے اس کے سب ہوتے ہیں تنگ۔ شقیق نے بیان کیا، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے پوچھا: تم میں سے کسے فتنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد ہے؟حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انسان کا فتنہ (آزمائش) اس کی بیوی، اس کے مال، اس کے بچے اور پڑوسی کے معاملات میں ہوتا ہے جس کا کفارہ نماز، صدقہ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کر دیتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا بلکہ اس فتنہ کے بارے میں پوچھتا ہوں جو دریا کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ امیرالمؤمنین آپ پر اس کا کوئی خطرہ نہیں اس کے اور آپ کے درمیان ایک بند دروازہ رکاوٹ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ بیان کیا توڑ دیا جائے گا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر تو وہ کبھی بند نہ ہو سکے گا۔ میں نے کہا جی ہاں۔ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ کے متعلق جانتے تھے؟ فرمایا کہ ہاں، جس طرح میں جانتا ہوں کہ کل سے پہلے رات آئے گی کیونکہ میں نے ایسی بات بیان کی تھی جو بےبنیاد نہیں تھی۔ ہمیں ان سے یہ پوچھتے ہوئے ڈر لگا کہ وہ دروازہ کون تھے۔ چنانچہ ہم نے مسروق سے کہا (کہ وہ پوچھیں) جب انہوں نے پوچھا کہ وہ دروازہ کون تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ دروازہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛فتنے سمندر کی موجوں کی طرح امڈیں گے؛جلد٩ص٥٤،حدیث نمبر٧٠٩٦)
سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے باغات میں کسی باغ کی طرف اپنی قضائے حاجت کے لیے گئے، میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے تو میں اس کے دروازے پر بیٹھ گیا اور اپنے دل میں کہا کہ آج میں آپ کا دربان بنوں گا حالانکہ آپ نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا تھا۔ آپ اندر چلے گئے اور اپنی حاجت پوری کی۔ پھر آپ کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں پنڈلیوں کو کھول کر انہیں کنوئیں میں لٹکا لیا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اندر جانے کی اجازت چاہی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ یہیں رہیں، میں آپ کے لیے اجازت لے کر آتا ہوں۔ چنانچہ وہ کھڑے رہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا نبی اللہ! ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو۔ چنانچہ وہ اندر آ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب آ کر انہوں نے بھی اپنی پنڈلیوں کو کھول کر کنوئیں میں لٹکا لیا۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ آئے۔ میں نے کہا ٹھہرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں (اور میں اندر جا کر آپ سے عرض کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو بھی اجازت دے اور بہشت کی خوشخبری بھی۔ خیر وہ بھی آئے اور اسی کنوئیں کی منڈیر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب بیٹھے اور اپنی پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں لٹکا دیں۔ اور کنوئیں کی منڈیر بھر گئی اور وہاں جگہ نہ رہی۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور میں نے ان سے بھی کہا کہ یہیں رہئیے یہاں تک کہ آپ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگ لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دو اور جنت کی بشارت دے دو اور اس کے ساتھ ایک آزمائش ہے جو انہیں پہنچے گی۔ پھر وہ بھی داخل ہوئے، ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ چنانچہ وہ گھوم کر ان کے سامنے کنوئیں کے کنارے پر آ گئے پھر انہوں نے اپنی پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں پاؤں لٹکا لیے، پھر میرے دل میں بھائی (غالباً ابوبردہ یا ابورہم) کی تمنا پیدا ہوئی اور میں دعا کرنے لگا کہ وہ بھی آ جاتے،سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ میں نے اس سے یہ اندازہ لگایا کہ ان تینوں حضرات کی قبریں اکھٹی اور حضرت عثمان کی ان سے علیحدہ ہوگی۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛اس فتنے کا بیان جو فتنہ سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار کر اٹھے گا؛جلد٩ص٥٥،حدیث نمبر٧٠٩٧)
ابووائل کا بیان ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ اس کے متعلق کچھ فرماتے کیوں نہیں؟ارشاد فرمایا کہ میں کہتا تو ضرور ہوں لیکن اتنا بھی نہیں کہ سب سے پہلے میں ہی فتنے کا دروازہ کھول دوں اور نہ میں اس شخص کہ اگر کوئی دو آدمیوں کے اوپر امیر ہو تو کہ دوں کہ اس سے تم بہتر ہو جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو (قیامت کے دن) لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر وہ اس میں اس طرح چکی پیسے گا جیسے گدھا پیستا ہے۔ پھر دوزخ کے لوگ اس کے چاروں طرف جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں! کیا تم نیکیوں کا حکم کرتے اور برائیوں سے روکا نہیں کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا کہ میں اچھی بات کے لیے کہتا تو ضرور تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور بری بات سے روکتا بھی تھا لیکن خود کرتا تھا۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛اس فتنے کا بیان جو فتنہ سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار کر اٹھے گا؛جلد٩ص٥٥،حدیث نمبر٧٠٩٨)
امام حسن بصری نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جنگ جمل کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک کلمہ کے ذریعے فائدہ پہنچایا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ فارس کی سلطنت والوں نے بوران نامی کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس کی حکومت ایک عورت کے ہاتھ میں ہو۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛اس فتنے کا بیان جو فتنہ سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار کر اٹھے گا؛جلد٩ص٥٥،حدیث نمبر٧٠٩٩)
ابوحصین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومریم عبداللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زوجہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمایا ہے کہ یہ ظاہر کر دیا جاے کہ آپ مرد کی اطاعت کرتے ہیں یا عورت کی۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ؛اس فتنے کا بیان جو فتنہ سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار کر اٹھے گا؛جلد٩ص٥٦،حدیث نمبر٧١٠٠)
ابووائل نے بیان کیا کہ کوفہ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں لیکن ان کے ذریعے آپ کو آزمایا گیا ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ.....؛جلد٩ص٥٦،حدیث نمبر٧١٠١)
ابووائل نے بیان کیا کہ حضرت ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لشکر اکھٹا کرے۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمان ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیاجب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ.....؛جلد٩ص٥٦،حدیث نمبر٧١٠٢،٧١٠٣،٧١٠٤)
شقیق بن سلمہ کا بیان ہے کہ میں ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی ایسا نہیں کہ اگر میں چاہوں تو آپ کے کے سوا اس سے کہ دوں کہ جب سے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی تو میں نے اس کام میں جلدی کرنے سے بڑھ کر آپ کا کوئی نقص نہیں دیکھا۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا ابومسعود رضی اللہ عنہ تم سے اور تمہارے ساتھی ابوموسیٰ اشعری سے جب سے تم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کوئی عیب کا کام اس سے زیادہ نہیں دیکھا جو تم دونوں اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ اس پر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ مالدار آدمی تھے کہ غلام! دو حلے لاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایک حلہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا عمار رضی اللہ عنہ کو اور کہا کہ آپ دونوں بھائی کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے چلیں۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ.....؛جلد٩ص٥٦،حدیث نمبر٧١٠٥۔٧١٠٦۔٧١٠٧)
حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو عذاب ان سب لوگوں پر آتا ہے جو اس قوم میں ہوتے ہیں پھر انہیں ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا؛جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا؛جلد٩ص٥٦،حدیث نمبر٧١٠٨)
اسرائیل کا بیان ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور میری ان سے ملاقات کوفہ میں ہوئی تھی۔وہ ابن شبرمہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے عیسیٰ (منصور کے بھائی اور کوفہ کے والی) کے پاس لے چلو تاکہ میں اسے نصیحت کروں۔ غالباً ابن شبرمہ نے خوف محسوس کیا اور نہیں لے گئے۔ انہوں نے اس پر بیان کیا کہ ہم سے حسن بصری نے بیان کیا کہ جب حسن بن علی، امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے خلاف لشکر لے کر پیش قدمی کی تو حضرت عمرو بن العاص نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں ایسا لشکر دیکھتا ہوں جو اس وقت تک واپس نہیں جا سکتا جب تک اپنے مقابل کو بھگا نہ لے۔ پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال کا کون کفیل ہو گا؟جواب دیا کہ میں، پھر عبداللہ بن عامر اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا کہ ہم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے ملتے ہیں (اور ان سے صلح کے لیے کہتے ہیں)، حسن بصری نے کہا کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا لَسَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمانا ”میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یقیناً اللہ پاک اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا“؛جلد٩ص٥٦،حدیث نمبر٧١٠٩)
محمد بن علی نے بیان کیا کہ انہیں اسامہ رضی اللہ عنہ کے غلام حرملہ نے خبر دی، عمرو نے بیان کیا کہ میں نے حرملہ کو دیکھا تھا۔ حرملہ نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور مجھ سے کہا، اس وقت تم سے حضرت علی رضی اللہ عنہ پوچھیں گے کہ تمہارے ساتھی (اسامہ رضی اللہ عنہ) جنگ جمل و صفین سے کیوں پیچھے رہ گئے تھے تو ان سے کہنا کہ انہوں نے آپ سے کہا ہے کہ اگر آپ شیر کے منہ میں ہوں تب بھی میں اس میں بھی آپ کے ساتھ رہوں لیکن یہ معاملہ ہی ایسا ہے یعنی مسلمانوں کی آپس کی جنگ تو (اس میں شرکت صحیح) نہیں معلوم ہوئی (حرملہ کہتے ہیں کہ) چنانچہ انہوں نے کوئی چیز نہیں دی۔ پھر میں حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کے پاس گیا تو انہوں نے میری سواری پر اتنا مال لدوا دیا جتنا کہ اونٹ اٹھا نہ سکتا تھا۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا لَسَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمانا ”میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یقیناً اللہ پاک اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا“؛جلد٩ص٥٧،حدیث نمبر٧١١٠)
ایوب کا بیان ہے کہ نافع نے فرمایا کہ جب اہل مدینہ یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر دغاباز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص (یزید) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی دغاباز اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا، میں اس سے الگ ہوں۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ؛کوئی شخص لوگوں کے سامنے ایک بات کہے پھر اس کے پاس سے نکل کر دوسری بات کہے؛جلد٩ص٥٧،حدیث نمبر٧١١١)
عوف اعرابی نے بیان کیا، ان سے ابومنہال نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن زیاد اور مروان شام میں تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اور خوارج نے بصرہ میں قبضہ کر لیا تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ جب ہم ان کے گھر میں ایک کمرہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے جو بانس کا بنا ہوا تھا، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے اور میرے والد ان سے بات کرنے لگے اور کہا: اے ابوبرزہ! آپ نہیں دیکھتے لوگ کن باتوں میں آفت اور اختلاف میں الجھ گئے ہیں۔ میں نے ان کی زبان سے سب سے پہلی بات یہ سنی کہ میں جو ان قریش کے لوگوں سے ناراض ہوں تو محض اللہ کی رضا مندی کے لیے، اللہ میرا اجر دینے والا ہے۔ عرب کے لوگو! تم جانتے ہو پہلے تمہارا کیا حال تھا تم گمراہی میں گرفتار تھے، اللہ نے اسلام کے ذریعہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تم کو اس بری حالت سے نجات دی۔ یہاں تک کہ تم اس رتبہ کو پہنچے۔ (دنیا کے حاکم اور سردار بن گئے) پھر اسی دنیا نے تم کو خراب کر دیا۔ دیکھو! یہ شخص جو شام میں حاکم بن بیٹھا ہے یعنی مروان دنیا کے لیے لڑ رہا ہے۔ یہ لوگ جو تمہارے سامنے ہیں۔ (خوارج) واللہ! یہ لوگ صرف دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں اور وہ جو مکہ میں ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، واللہ! وہ بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ؛کوئی شخص لوگوں کے سامنے ایک بات کہے پھر اس کے پاس سے نکل کر دوسری بات کہے؛جلد٩ص٥٧،حدیث نمبر٧١١٢)
ابووائل کا بیان ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا:بیشک آج کے منافقین ان سے زیادہ سر انگیز ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں تھے کہ ان دنوں وہ نفاق کو پوشیدہ رکھتے تھے لیکن آج تو ظاہر کرتے ہیں۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ؛کوئی شخص لوگوں کے سامنے ایک بات کہے پھر اس کے پاس سے نکل کر دوسری بات کہے؛جلد٩ص٥٨،حدیث نمبر٧١١٣)
ابو شعشاء کا بیان ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نفاق تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بھی تھا لیکن آج کا نفاق تو ایمان لانے کے بعد کافر ہونا ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ؛کوئی شخص لوگوں کے سامنے ایک بات کہے پھر اس کے پاس سے نکل کر دوسری بات کہے؛جلد٩ص٥٨،حدیث نمبر٧١١٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ ایک شخص دوسرے شخص کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا کہ کاش! میں اس کی جگہ پر ہوتا۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُغْبَطَ أَهْلُ الْقُبُورِ؛قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ لوگ قبر والوں پر رشک نہ کریں؛جلد٩ص٥٨،حدیث نمبر٧١١٥)
سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کے سرین ذی الخلصہ پر ہلیں گے ذو الخلصہ اس بت کا نام ہے جس کی دور جاہلیت میں قبیلہ دوس کے لوگ عبادت کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ تَغْيِيرِ الزَّمَانِ حَتَّى يَعْبُدُوا الأَوْثَانَ؛قیامت قائم نہ ہوگی جب تک قبر والوں پر رشک نہ کیا جائے؛جلد٩ص٥٨،حدیث نمبر٧١١٦)
ابو الغیث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ قحطان سے ایک ایسا شخص نکلے گا جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ تَغْيِيرِ الزَّمَانِ حَتَّى يَعْبُدُوا الأَوْثَانَ؛زمانہ بدلے گا حتیٰ کہ بتوں کی پوجا ہوگی؛جلد٩ص٥٨،حدیث نمبر٧١١٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کی پہلی علامتوں میں سے ایک آگ ہے جو مشرق کے لوگوں کو اکٹھا کر کے مغرب میں لے جائے گی۔“ سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ سرزمین حجاز سے ایک آگ نکلے گی جس سے بصرہ کے اونٹوں کی گردنیں نظر آنے لگیں گی۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ خُرُوجِ النَّارِ؛قرب قیامت آگ کا نکلنا؛جلد٩ص٥٨،حدیث نمبر٧١١٨)
حفص بن عاصم نے بیان کیا ‘ ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک خزانہ نکلے گا پس جو کوئی وہاں موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔“ عقبہ عبید اللہ،ابو الزناد،اعرج،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے مگر سوائے اس کے کہ آپ نے فرمایا:سونے کا پہاڑ اگل دے گا۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ خُرُوجِ النَّارِ؛قرب قیامت آگ کا نکلنا؛جلد٩ص٥٨،حدیث نمبر٧١١٩)
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”صدقہ کرو کیونکہ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب ایک شخص اپنا صدقہ لے کر پھرے گا اور کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔“ مسدد نے بیان کیا کہ حارثہ عبیداللہ بن عمر کے ماں شریک بھائی تھے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛باب.......؛جلد٩ص٥٩،حدیث نمبر٧١٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مسلمانوں کی دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہو گی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ تقریباً تیس دجال۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہو گی اور زمانہ قریب ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہو جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا اور ہرج سے مراد قتل ہے اور یہاں تک کہ تمہارے پاس مال کی کثرت ہو جائے گی بلکہ بہہ پڑے گا اور یہاں تک کہ صاحب مال کو اس کا فکر دامن گیر ہو گا کہ اس کا صدقہ قبول کون کرے اور یہاں تک کہ وہ پیش کرے گا لیکن جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اور یہاں تک کہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے۔ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عمارات بنائیں گے اور یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش میں بھی اسی جگہ ہوتا اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے نکلے گا۔ پس جب وہ اس طرح طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے لیکن یہ وہ وقت ہو گا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان کے ساتھ اچھے کام نہ کئے ہوں اور قیامت اچانک اس طرح قائم ہو جائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہو گا اور اسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے نہ لپیٹ پائے ہوں گے اور قیامت اس طرح برپا ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہو گا کہ اسے کھا بھی نہ پایا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ کوئی جانوروں کو حوض پر لے جائے گا لیکن پانی نہ پلا پائے گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ اس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہو گا اور ابھی اسے کھایا بھی نہ ہو گا۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛باب.......؛جلد٩ص٥٩،حدیث نمبر٧١٢١)
قیس نے بیان کیا، کہ مجھ سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دجال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنا میں نے دریافت کیا اتنا کسی نے نہیں دریافت کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اس سے تمہیں نقصان نہیں پہنچے گا۔ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی، فرمایا کہ وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ؛دجال کا بیان؛جلد٩ص٥٩،حدیث نمبر٧١٢٢)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال داہنی آنکھ سے کانا ہو گا اس کی آنکھ کیا ہے گویا پھولا ہوا انگور۔“ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ؛دجال کا بیان؛جلد٩ص٥٩،حدیث نمبر٧١٢٣)
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال آئے گا اور مدینہ کے ایک کنارے قیام کرے گا، پھر مدینہ منورہ میں تین جھٹکے آئیں گے اور اس کے نتیجے میں ہر کافر اور منافق نکل کر اس کی طرف چلا جائے گا۔“ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ؛دجال کا بیان؛جلد٩ص٥٩،حدیث نمبر٧١٢٤)
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کے دادا نے بیان کیا، انہوں نے حضرت ابوبکرہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ والوں پر دجال کا رعب نہیں پڑے گا اس دن مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے پر دو فرشتے (پہرہ دیتے) ہوں گے۔“ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ؛دجال کا بیان؛جلد٩ص٥٩،حدیث نمبر٧١٢٥)
سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ پر مسیح دجال کا رعب نہیں پڑے گا۔ اس وقت اس کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر پہرہ دار دو فرشتے ہوں گے۔“ علی بن عبداللہ نے کہا کہ محمد بن اسحاق نے صالح بن ابراہیم سے روایت کیا، ان سے ان کے والد ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا کہ میں بصرہ گیا تو مجھ سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ؛دجال کا بیان؛جلد٩ص٥٩،حدیث نمبر٧١٢٦)
سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق بیان کی۔ پھر دجال کا ذکر فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو، البتہ میں تمہیں اس کے بارے میں ایک بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تھی اور وہ یہ کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کانا ہونے سے پاک ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ؛دجال کا بیان؛جلد٩ص٦٠،حدیث نمبر٧١٢٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا (خواب میں) کعبہ کا طواف کر رہا تھا کہ ایک صاحب جو گندمی رنگ شخص کو دیکھا اور ان کے سر کے بال سیدھے تھے اور سر سے پانی ٹپک رہا تھا (ان پر میری نظر پڑی) میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ میرے ساتھ کے لوگوں نے بتایا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ہیں پھر میں نے مڑ کر دیکھا تو موٹے شخص پر نظر پڑی جو سرخ تھا اس کے بال گھونگھریالے تھے، ایک آنکھ کا کانا تھا، اس کی ایک آنکھ انگور کی طرح اٹھی ہوئی تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ؛دجال کا بیان؛جلد٩ص٦٠،حدیث نمبر٧١٢٨)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ؛دجال کا بیان؛جلد٩ص٦٠،حدیث نمبر٧١٢٩)
ربعی بن حراش حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ اس کے ساتھ پانی اور آگ ہو گی پس آگ پانی اور پانی آگ ہوگی۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ؛دجال کا بیان؛جلد٩ص٦٠،حدیث نمبر٧١٣٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو نبی بھی مبعوث کیا گیا تو انہوں نے اپنی قوم کو کانے جھوٹے سے ڈرایا، آگاہ رہو کہ وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ”کافر“ لکھا ہوا ہے۔“ اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ؛دجال کا بیان؛جلد٩ص٦٠،حدیث نمبر٧١٣١)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دجال کے متعلق ایک طویل ذکر کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال آئے گا اور اس کے لیے ناممکن ہو گا کہ مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہو۔ چنانچہ وہ مدینہ منورہ کے قریب کسی بنجر زمین پر قیام کرے گا۔ پھر اس دن اس کے پاس ایک مرد مومن جائے گا اور وہ افضل ترین لوگوں میں سے ہوگا۔ اور اس سے کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا۔ اس پر دجال کہے گا کیا تم دیکھتے ہو اگر میں اسے قتل کر دوں اور پھر زندہ کروں تو کیا تمہیں میرے معاملہ میں شک و شبہ باقی رہے گا؟ اس کے پاس والے لوگ کہیں گے کہ نہیں، چنانچہ وہ اس صاحب کو قتل کر دے گا اور پھر اسے زندہ کر دے گا۔ اب وہ صاحب کہیں گے کہ واللہ! آج سے زیادہ مجھے تیرے معاملے میں پہلے اتنی بصیرت حاصل نہ تھی۔اس پر دجال پھر انہیں قتل کرنا چاہے گا لیکن اس مرتبہ اسے مار نہ سکے گا۔“ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ لاَ يَدْخُلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ؛دجال مدینہ کے اندر نہیں داخل ہو سکے گا؛جلد٩ص٦٠،حدیث نمبر٧١٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مدینہ منورہ کے راستوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے،نہ ان سے طاعون اندر داخل ہوسکتا ہے اور نہ دجال۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ لاَ يَدْخُلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ؛دجال مدینہ کے اندر نہیں داخل ہو سکے گا؛جلد٩ص٦١،حدیث نمبر٧١٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مدینہ منورہ کی جانب دجال آے گا تو وہاں فرشتوں کو پاے گا جو اس کا پہرہ دے رہے ہوں گے لہٰذا دجال اس کے نزدیک نہیں آ سکے گا اور نہ طاعون اگر اللہ نے چاہا۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ لاَ يَدْخُلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ؛دجال مدینہ کے اندر نہیں داخل ہو سکے گا؛جلد٩ص٦١،حدیث نمبر٧١٣٤)
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گھبرائے ہوئے داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تباہی ہے عربوں کے لیے اس برائی سے جو قریب آ چکی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار سے اتنا کھل گیا ہے اور آپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کی قریب والی انگلی کو ملا کر ایک حلقہ بنایا۔ اتنا سن کر زینب بن جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں نیک صالح لوگ بھی زندہ ہوں گے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب برائی بہت بڑھ جائے گی۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛یاجوج و ماجوج کا بیان؛جلد٩ص٦١،حدیث نمبر٧١٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھول دی گئی ہے وہیب راوی نے نوے کی عدد حلقہ بنا کر بتایا کہ اتنا حلقہ۔ (بخاری شریف،کتاب الفتن؛بَابُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ؛یاجوج و ماجوج کا بیان؛جلد٩ص٦١،حدیث نمبر٧١٣٦)
Bukhari Shareef : Kitabul Fitan
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الفِتَنِ
|
•