
اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے احکام کا بیان ہے ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں۔(نساء،٥٩) ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے اپنے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اپنے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛احکام کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ}؛جلد٩ص٦١،حدیث نمبر٧١٣٧)
عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آگاہ ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس امام لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہو گا اور کسی شخص کا غلام اپنے سردار کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پرسش ہوگی۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛احکام کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ}؛جلد٩ص٦٢،حدیث نمبر٧١٣٨)
محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے تھے کہ میں قریش کے ایک وفد کے ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ انہیں معلوم ہوا کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عنقریب قبیلہ قحطان کا ایک بادشاہ ہو گا۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس پر غصہ ہوئے اور کھڑے ہو کر اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق کی پھر فرمایا، امابعد! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی حدیث بیان کرتے ہیں جو نہ کتاب اللہ میں ہے اور اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے،یہ تم میں سے جاہل لوگ ہیں۔ پس تم ایسے خیالات سے بچتے رہو جو تمہیں گمراہ کر دیں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ یہ امر (خلافت) قریش میں رہے گا۔ کوئی بھی ان سے اگر دشمنی کرے گا تو اللہ اسے رسوا کر دے گا لیکن اس وقت تک جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے۔ اس روایت کی متابعت نعیم نے ابن مبارک سے کی ہے، ان سے معمر نے، ان سے زہری نے اور ان سے محمد بن جبیر سے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ؛امرا قریش میں سے ہوں گے؛جلد٩ص٦٢،حدیث نمبر٧١٣٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حکمرانی ہمیشہ قریش میں رہے گی جب تک ان میں دو شخص بھی باقی رہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ؛امرا قریش میں سے ہوں گے؛جلد٩ص٦٢،حدیث نمبر٧١٤٠)
اور ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں۔(مائدہ ٤٧) قیس بن ابو حازم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حسد نہیں مگر دو باتوں میں۔ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور پھر اس نے وہ حق کے راستے میں بےدریغ خرچ کیا اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت کا علم دیا ہے وہ اس کے موافق فیصلے کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ أَجْرِ مَنْ قَضَى بِالْحِكْمَةِ؛جو شخص اللہ کی عطا کردہ حکمت کے ساتھ فیصلہ کرے؛جلد٩ص٦٢،حدیث نمبر٧١٤١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:امیر کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اگرچہ تمہارے اوپر حبشی غلام کو عامل بنا دیا جائے خواہ اس کا سر منفی جیسا ہو۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ مَعْصِيَةً؛امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے؛جلد٩ص٦٢،حدیث نمبر٧١٤٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو اپنے امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جو اس کو ناپسند ہو تو صبر کرنا چاہیے۔کیوں کہ تم میں سے جو بھی جماعت سے ایک بالشت بھر الگ ہو پھر مر جائے تو جاہلیت کی موت مرا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ مَعْصِيَةً؛امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے؛جلد٩ص٦٢،حدیث نمبر٧١٤٣)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پسندیدہ اور ناپسندیدہ تمام امور میں مسلمان امیر کی بات سننا اور اس کا حکم ماننا ضروری ہے جب تک وہ گناہ کا حکم نہ کرے اور جب وہ گناہ کا حکم کرے تو نہ اس کی سنی جائے اور نہ اس کا حکم مانا جائے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ مَعْصِيَةً؛امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے؛جلد٩ص٦٣،حدیث نمبر٧١٤٤)
ابو عبد الرحمن نے بیان کیا اور ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا اور اس پر انصار کے ایک شخص کو امیر بنایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ان کی اطاعت کریں۔ پھر امیر فوج لوگوں پر غصہ ہوئے اور کہا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ضرور دیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑی جمع کرو اور اس سے آگ جلاؤ اور اس میں کود پڑو۔ لوگوں نے لکڑی جمع کی اور آگ جلائی، جب کودنا چاہا تو ایک دوسرے کو لوگ دیکھنے لگے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری آگ سے بچنے کے لیے کی تھی، کیا پھر ہم اس میں خود ہی داخل ہو جائیں۔ اسی دوران آگ ٹھنڈی ہو گئی اور امیر کا غصہ بھی جاتا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود پڑتے تو پھر اس میں سے نہ نکل سکتے۔ اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ مَعْصِيَةً؛امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے؛جلد٩ص٦٣،حدیث نمبر٧١٤٥)
امام حسن بصری نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن! حکومت کے طالب نہ بننا کیونکہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد حکومت ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے اور وہ تمہیں بلا مانگے ملی تو اس میں تمہاری (اللہ کی طرف سے) مدد کی جائے گی اور اگر تم نے قسم کھا لی ہو پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو اور وہ کام کرو جس میں بھلائی ہو۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ لَمْ يَسْأَلِ الإِمَارَةَ أَعَانَهُ اللَّهُ؛جسے بن مانگے سرداری ملے تو اللہ اس کی مدد کرے گا؛جلد٩ص٦٣،حدیث نمبر٧١٤٦)
امام حسن بصری نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن! حکومت کے طالب نہ بننا کیونکہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد حکومت ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے اور وہ تمہیں بلا مانگے ملی تو اس میں تمہاری (اللہ کی طرف سے) مدد کی جائے گی اور اگر تم نے قسم کھا لی ہو پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو اور وہ کام کرو جس میں بھلائی ہو۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ سَأَلَ الإِمَارَةَ وُكِلَ إِلَيْهَا؛جو شخص مانگ کر حکومت لے اس کو اسی کے سپرد کر دیا گیا؛جلد٩ص٦٣،حدیث نمبر٧١٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بہت جلد تم حکومت کا لالچ کرو گے اور بہت جلد قیامت کے دن تمہارے لیے باعث ندامت ہو گی۔ پس کیا ہی بہتر ہے دودھ پلانے والی اور کیا ہی بری ہے دودھ چھڑانے والی۔“ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن حمران نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سعید المقبری نے، ان سے عمر بن حکم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا قول (موقوفاً) نقل کیا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الإِمَارَةِ؛حکومت اور سرداری کی حرص کرنا مکروہ ہے؛جلد٩ص٦٣،حدیث نمبر٧١٤٨)
ابوبردہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کے دو آدمیوں کو لے کر حاضر ہوا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہمیں کہیں کا حاکم بنا دیجئیے اور دوسرے نے بھی یہی خواہش ظاہر کی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم ایسے شخص کو یہ ذمہ داری نہیں سونپتے جو اسے طلب کرے اور نہ اسے دیتے ہیں جو اس کا حریص ہو۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الإِمَارَةِ؛حکومت اور سرداری کی حرص کرنا مکروہ ہے؛جلد٩ص٦٤،حدیث نمبر٧١٤٩)
عبیداللہ بن زیاد،حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے اس مرض میں آئے جس میں ان کا انتقال ہوا تو معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو کسی رعیت کا حاکم بناتا ہے اور وہ خیر خواہی کے ساتھ اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنِ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً فَلَمْ يَنْصَحْ؛جو شخص رعیت کا حاکم بنے اور ان کی خیر خواہی نہ کرے اس کا عذاب؛جلد٩ص٦٤،حدیث نمبر٧١٥٠)
امام حسن بصری نے بیان کیا کہ ہم معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس گئے پھر عبیداللہ بھی آئے تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کا حاکم بنایا گیا اور اس نے ان کے معاملہ میں خیانت کی اور اسی حالت میں مر گیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنِ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً فَلَمْ يَنْصَحْ؛جو شخص رعیت کا حاکم بنے اور ان کی خیر خواہی نہ کرے اس کا عذاب؛جلد٩ص٦٤،حدیث نمبر٧١٥١)
ابوتمیمہ نے بیان کیا کہ میں حضرت صفوان اور حضرت جندب رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کے پاس موجود تھا۔حضرت صفوان اپنے ساتھیوں (شاگردوں) کو وصیت کر رہے تھے، پھر (صفوان اور ان کے ساتھیوں نے جندب رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :جو سنانے کے لیے کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ بروز قیامت اسے سنوا دے گا اور فرمایا کہ جو لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تکلیف میں مبتلا کرے گا، پھر ان لوگوں نے کہا کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے انسان کے جسم میں اس کا پیٹ سڑتا ہے پس جو کوئی طاقت رکھتا ہو کہ پاک و طیب کے سوا اور کچھ نہ کھائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہئے اور جو چاہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک چلو خون بھی حائل نہ ہو تو چاہیئے کہ ایسا ہی کرے۔ جریری کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ سے پوچھا، کون صاحب اس حدیث میں یہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ کیا جندب کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں وہی کہتے ہیں۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ؛جو لوگوں پر سختی کرے اللہ اس پر سختی فرمائے گا؛جلد٩ص٦٤،حدیث نمبر٧١٥٢)
یحییٰ بن یعمر نے راستے میں فیصلہ کیا اور شعبی نے اپنے دروازے پر فیصلہ کیا۔ سالم بن ابو الجعد نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے کہ ایک شخص مسجد کی چوکھٹ پر آ کر ہم سے ملا اور دریافت کیا: یا رسول اللہ! قیامت کب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ اس پر وہ شخص خاموش سا ہو گیا، پھر اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے بہت زیادہ روزے، نماز اور صدقہ قیامت کے لیے نہیں تیار کئے ہیں لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الْقَضَاءِ وَالْفُتْيَا فِي الطَّرِيقِچلتے چلتے راستہ میں کوئی فیصلہ کرنا اور فتویٰ دینا؛جلد٩ص٦٤،حدیث نمبر٧١٥٣)
ثابت بنانی نے بیان کیا،کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کی ایک عورت سے کہہ رہے تھے کیا تم فلاں عورت کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ اس عورت نے جواب دیا۔ آپ میرے پاس سے چلے جاؤ، میری مصیبت آپ پر نہیں پڑی ہے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے اور چلے گئے۔ پھر ایک صاحب ادھر سے گزرے اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس عورت نے کہا کہ میں نے انہیں پہچانا نہیں۔ ان صاحب نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ پھر وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ انہوں نے آپ کے یہاں کوئی دربان نہیں پایا پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں (تھا)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو صدمہ کے شروع میں ہی ہوتا ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَا ذُكِرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ بَوَّابٌ؛یہ بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دربان نہیں تھا؛جلد٩ص٦٥،حدیث نمبر٧١٥٤)
ثمامہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قیس بن سعد بن عبادہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور یوں رہا کرتے تھے جیسا بادشاہ کی عدالت میں کوتوال تھا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الْحَاكِمِ يَحْكُمُ بِالْقَتْلِ عَلَى مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ دُونَ الإِمَامِ الَّذِي فَوْقَهُ؛حاکم کا اپنے امام کے سامنے کسی کے قتل کا حکم دینا؛جلد٩ص٦٥،حدیث نمبر٧١٥٥)
حضرت ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں(گورنر بنا کر)روانہ فرمایا اور ان کے پیچھے حضرت معاذ بن جبل کو بھیجا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الْحَاكِمِ يَحْكُمُ بِالْقَتْلِ عَلَى مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ دُونَ الإِمَامِ الَّذِي فَوْقَهُ؛حاکم کا اپنے امام کے سامنے کسی کے قتل کا حکم دینا؛جلد٩ص٦٥،حدیث نمبر٧١٥٦)
ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا پھر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آئے اور وہ شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ انہوں نے پوچھا اس کا کیا معاملہ ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا، پھر انہوں نے کہا کہ جب تک میں اسے قتل نہ کر لو نہیں بیٹھوں گا، یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الْحَاكِمِ يَحْكُمُ بِالْقَتْلِ عَلَى مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ دُونَ الإِمَامِ الَّذِي فَوْقَهُ؛حاکم کا اپنے امام کے سامنے کسی کے قتل کا حکم دینا؛جلد٩ص٦٥،حدیث نمبر٧١٥٧)
عبدالرحمٰن ابن ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے(عبیداللہ)کو لکھا اور وہ اس وقت سجستان میں تھے کہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرنا جب تم غصہ میں ہو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرے جب وہ غصہ میں ہو۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ هَلْ يَقْضِي الْحَاكِمُ أَوْ يُفْتِي وَهْوَ غَضْبَانُ؛قاضی کو فیصلہ یا فتویٰ غصہ کی حالت میں دینا درست ہے یا نہیں؛جلد٩ص٦٥،حدیث نمبر٧١٥٨)
قیس ابن ابو حازم کا بیان ہے کہ حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں واللہ صبح کی جماعت میں فلاں کی وجہ سے شرکت نہیں کر پاتا کیونکہ وہ ہمارے ساتھ اس نماز کو بہت لمبی کر دیتے ہیں۔حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ و نصیحت کے وقت اس سے زیادہ غضب ناک ہوتا کبھی نہیں دیکھا جیسا کہ آپ اس دن تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے لوگو! تم میں سے بعض متنفر کرنے والے ہیں، پس تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے اختصار کرنا چاہئے کیونکہ جماعت میں بوڑھے، بچے اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ هَلْ يَقْضِي الْحَاكِمُ أَوْ يُفْتِي وَهْوَ غَضْبَانُ؛قاضی کو فیصلہ یا فتویٰ غصہ کی حالت میں دینا درست ہے یا نہیں؛جلد٩ص٦٥،حدیث نمبر٧١٥٩)
سالم کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ وہ اپنی بیوی کو جب کہ وہ حالت حیض میں تھیں (آمنہ بنت غفار) طلاق دے دی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ ناراض ہوئے پھر فرمایا ”انہیں چاہئے کہ وہ رجوع کر لیں اور انہیں اپنے پاس رکھیں، یہاں تک کہ جب وہ پاک ہو جائیں پھر حائضہ ہوں اور پھر پاک ہوں تب اگر چاہے تو اسے طلاق دیدے۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ هَلْ يَقْضِي الْحَاكِمُ أَوْ يُفْتِي وَهْوَ غَضْبَانُ؛قاضی کو فیصلہ یا فتویٰ غصہ کی حالت میں دینا درست ہے یا نہیں؛جلد٩ص٦٦،حدیث نمبر٧١٦٠)
جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ہند سے فرمایا کہ دستور کے مطابق اتنا لے لو جو تمہارے لیے ہے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو یہ اسی وقت ہے جبکہ وہ کام کا عام ہے۔ عروہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آئیں اور کہا: یا رسول اللہ!خدا کی قسم زمین کے اوپر بسنے والے کسی گھر والے کی ذلت مجھے آپ کے گھر والوں کی ذلت سے زیادہ پسند نہیں تھی۔لیکن آج مجھے زمین پر بسنے والے کسی گھر والوں کا معزز ہونا اتنا محبوب نہیں جتنا آپ کے گھر والوں کا۔ پھر انہوں نے کہا کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں، تو کیا میرے لیے کوئی حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے (ان کی اجازت کے بغیر لے کر) اپنے اہل و عیال کو کھلاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ہے، اگر تم انہیں دستور کے مطابق کھلاؤ۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ رَأَى لِلْقَاضِي أَنْ يَحْكُمَ بِعِلْمِهِ فِي أَمْرِ النَّاسِ إِذَا لَمْ يَخَفِ الظُّنُونَ وَالتُّهَمَةَ؛قاضی اپنے علم کے مطابق فیصلہ کرسکتا ہے جبکہ اسے لوگوں کی بدگمانی اور تہمت کا خوف نہ ہو؛جلد٩ص٦٦،حدیث نمبر٧١٦١)
مہر لگے ہوئے خط پر گواہی اور یہ کہ کس طرح گواہی جائز ہے اور کس طرح جائز نہیں اور حاکم کا عامل اور قاضی کے لیے خط لکھنا اور ایک قاضی کے لیے خط لکھنا اور ایک قاضی کا دوسرے قاضی کے لیے۔ اور بعض لوگوں نے کہا کہ حاکم کا خط لکھنا جائز ہے مگر حدود شرعیہ میں نہیں ہو سکتا پھر خود ہی کہتے ہیں کہ قتل خطا میں عمل ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اس کی رائے پر مثل مالی دعوؤں کے ہے حالانکہ قتل خطا مالی دعوؤں کی طرح نہیں ہے بلکہ ثبوت کے بعد اس کی سزا مالی ہوتی ہے تو قتل خطا اور عمد دونوں کا حکم ایک رہنا چاہئے۔ (دونوں میں پروانے کا اعتبار نہ ہونا چاہئے) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عاملوں کو حدود میں خط لکھے ہیں اور عمر بن عبدالعزیز نے دانت توڑنے کے مقدمہ میں خط لکھا اور ابراہیم نخعی نے کہا ایک قاضی دوسرے قاضی کے خط پر عمل کر لے جب اس کی مہر اور خط کو پہچانتا ہو تو یہ جائز ہے اور شعبی مہری خط کو جو ایک قاضی کی طرف سے آئے جائز رکھتے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی ایسا ہی منقول ہے اور معاویہ بن عبدالکریم ثقفی نے کہا میں عبدالملک بن یعلیٰ (بصرہ کے قاضی) اور ایاس بن معاویہ (بصریٰ کے قاضی) اور حسن بصری اور ثمامہ بن عبداللہ بن انس اور بلال بن ابو بردہ (بصریٰ کے قاضی) اور عبداللہ بن بریدہ (مرو کے قاضی) اور عامر بن عبیدہ (کوفہ کے قاضی) اور عباد بن منصور (بصریٰ کے قاضی) ان سب سے ملا ہوں۔ یہ سب ایک قاضی کا خط دوسرے قاضی کے نام بغیر گواہوں کے منظور کرتے۔ اگر فریق ثانی جس کو اس خط سے ضرر ہوتا ہے یوں کہے کہ یہ خط جعلی ہے تو اس کو حکم دیں گے کہ اچھا اس کا ثبوت دے اور قاضی کے خط پر سب سے پہلے ابن ابی لیلیٰ (کوفہ کے قاضی) اور سوار بن عبداللہ (بصریٰ کے قاضی) نے گواہی چاہی اور ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے کہا، ہم سے عبیداللہ بن محرز نے بیان کیا کہ میں نے موسیٰ بن انس بصریٰ کے پاس اس مدعی پر گواہ پیش کئے کہ فلاں شخص پر میرا اتنا حق آتا ہے اور وہ کوفہ میں ہے پھر میں ان کا خط لے کر قاسم بن عبدالرحمٰن کوفہ کے قاضی کے پاس آیا۔ انہوں نے اس کو منظور کیا اور امام حسن بصری اور ابوقلابہ نے کہا وصیت نامہ پر اس وقت تک گواہی کرنا مکروہ ہے جب تک اس کا مضمون نہ سمجھ لے ایسا نہ ہو وہ ظلم اور خلاف شرع ہو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خط بھیجا کہ یا تو اس شخص (یعنی عبداللہ بن سہل) مقتول کی دیت دو جو تمہاری بستی میں مارا گیا ہے ورنہ جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ اور زہری نے کہا اگر عورت پردے کی آڑ میں ہو اور آواز وغیرہ سے تو اسے پہچانتا ہو تو اس پر گواہی دے سکتا ہے ورنہ نہیں۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ہند سے فرمایا کہ دستور کے مطابق اتنا لے لو جو تمہارے لیے ہے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو یہ اسی وقت ہے جبکہ وہ کام کا عام ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛؛جلد٩ص٦٦) قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل روم کو خط لکھنا چاہا تو صحابہ نے کہا کہ رومی صرف مہر لگا ہوا خط ہی قبول کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک مہر بنوائی گویا میں اس کی چمک کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور اس پر کلمہ «محمد رسول الله.» نقش تھا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الْخَطِّ الْمَخْتُومِ؛مہر لگے ہوئے خط پر گواہی؛جلد٩ص٦٦، حدیث نمبر ٧١٦٢)
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حاکموں سے یہ عہد لیا ہے کہ خواہشات نفس کی پیروی نہ کریں اور لوگوں سے نہ ڈریں (آیت قرآنی) «ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا» ”اور میری آیات کو معمولی قیمت کے بدلے میں نہ بیچیں“ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی ترجمہ کنز الایمان:«اے داؤد بے شک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی بے شک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس پر کہ وہ حساب کے دن کو بھول بیٹھے۔“(ص٢٦) اور امام حسن بصری نے یہ آیت تلاوت کی ترجمہ کنز الایمان:«بیشک ہم نے توریت اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے، اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرمانبردار نبی اور عالم اور فقیہ کہ ان سے کتابُ اللہ کی حفاظت چاہی گئی تھی اور وہ اس پر گواہ تھے تو لوگوں سے خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے ذلیل قیمت نہ لو اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں۔“(مائدہ ٤٤)اس سے مراد حفاظت کرنا اور کتاب اللہ کی طرف بلانا ہے اور امام حسن بصری نے سورۃ انبیاء کی یہ آیت بھی تلاوت کی ترجمہ کنز الایمان:اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے۔ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا(انبیاء ٧٨۔٧٩) پس سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی حمد کی اور داؤد علیہ السلام کو ملامت نہیں کی۔ اگر ان دو انبیاء کا حال جو اللہ نے ذکر کیا ہے نہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ قاضی تباہ ہو رہے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی تعریف ان کے علم کی وجہ سے کی ہے اور داؤد علیہ السلام کو ان کے اجتہاد میں معذور قرار دیا اور مزاحم بن زفر نے کہا کہ ہم سے عمر بن عبدالعزیز نے بیان کیا کہ پانچ خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر قاضی میں ان میں سے کوئی ایک خصلت بھی نہ ہو تو اس کے لیے باعث عیب ہے۔ اول یہ کہ وہ دین کی سمجھ والا ہو، دوسرے یہ کہ وہ بردبار ہو، تیسرے وہ پاک دامن ہو، چوتھے وہ قوی ہو، پانچویں یہ کہ عالم ہو، علم دین کی دوسروں سے بھی خوب معلومات حاصل کرنے والا ہو۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَتَى يَسْتَوْجِبُ الرَّجُلُ الْقَضَاءَ؛آدمی فیصلہ کرنے کے قابل کب ہوتا ہے؛جلد٩ص٦٦) قاضی شریح قضا کی اجرت لیا کرتے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ وصی اپنی محنت کے لحاظ سے کھاے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے کھایا۔ حویطب بن عبدالعزیز کا بیان ہے کہ انہیں عبداللہ بن سعیدی نے خبر دی کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں آئے تو ان سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا مجھ سے یہ جو کہا گیا ہے وہ صحیح ہے کہ تمہیں لوگوں کے کام سپرد کئے جاتے ہیں اور جب اس کی تنخواہ دی جاتی ہے تو تم اسے لینا پسند نہیں کرتے؟ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہارا اس سے مقصد کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں خوشحال ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ میں نے بھی اس کا ارادہ کیا تھا جس کا تم نے ارادہ کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطا کرتے تھے تو میں عرض کر دیتا تھا کہ اسے مجھ سے زیادہ اس کے ضرورت مند کو عطا فرما دیجئیے۔ آخر آپ نے ایک مرتبہ مجھے مال عطا کیا اور میں نے وہی بات دہرائی کہ اسے ایسے شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کرو۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے نہ خواہشمند ہو اور نہ اسے مانگا تو اسے لے لیا کرو اور اگر اس طرح نہ ملے تو اس کے پیچھے نہ پڑا کرو۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ رِزْقِ الْحُكَّامِ وَالْعَامِلِينِ عَلَيْهَا؛حکام اور حکومت کے عاملوں کا تنخواہ لینا؛جلد٩ص٦٧، حدیث نمبر ٧١٦٣)
اور زہری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطا کرتے تھے تو میں کہتا کہ آپ اسے دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک مرتبہ مال دیا اور میں نے کہا کہ آپ اسے ایسے شخص کو دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کر دو۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے خواہشمند نہ ہو اور نہ اسے تم نے مانگا ہو تو اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے نہ پڑا کرو۔ قاضی شریح قضا کی اجرت لیا کرتے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ وصی اپنی محنت کے لحاظ سے کھاے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے کھایا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ رِزْقِ الْحُكَّامِ وَالْعَامِلِينِ عَلَيْهَا؛حکام اور حکومت کے عاملوں کا تنخواہ لینا؛جلد٩ص٦٧، حدیث نمبر ٧١٦٤)
اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کے منبر کے پاس لعان کیا اور شریح قاضی اور شعبی اور یحییٰ بن یعمر نے مسجد میں فیصلہ کیا اور مروان نے زید بن ثابت کو مسجد میں منبرنبوی کے پاس قسم کھانے کا حکم دیا اور امام حسن بصری اور زرارہ بن اوفی دونوں مسجد کے باہر ایک دالان میں بیٹھ کر قضاء کا کام کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ قَضَى وَلاَعَنَ فِي الْمَسْجِدِ؛جو مسجد میں فیصلہ کرے یا لعان کرائے؛جلد٩ص٦٨،) زہری کا بیان ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں دونوں لعان کرنے والوں کے پاس موجود تھا اور میری عمر اس وقت پندرہ برس تھی۔ان کے درمیان تفریق کروادی۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ قَضَى وَلاَعَنَ فِي الْمَسْجِدِ؛جو مسجد میں فیصلہ کرے یا لعان کرائے؛جلد٩ص٦٨،حدیث نمبر٧١٦٥)
ابن شہاب نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ قبیلہ انصار کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے مرد کو دیکھے، کیا اسے قتل کر سکتا ہے؟ پھر دونوں (میاں بیوی) میں میری موجودگی میں لعان کرایا گیا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ قَضَى وَلاَعَنَ فِي الْمَسْجِدِ؛جو مسجد میں فیصلہ کرے یا لعان کرائے؛جلد٩ص٦٨،حدیث نمبر٧١٦٦)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے مسجد سے باہر لے جاؤ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن جب اس نے اپنے ہی خلاف چار مرتبہ گواہی دی تو آپ نے اس سے پوچھا کیا تم پاگل ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا تھا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس شخص کو عیدگاہ پر رجم کیا تھا۔ اس کی روایت یونس، معمر اور ابن جریج نے زہری سے کی، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجم کے سلسلے میں یہی حدیث ذکر کی۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ حَكَمَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى إِذَا أَتَى عَلَى حَدٍّ أَمَرَ أَنْ يُخْرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَيُقَامَ؛حد کا مقدمہ مسجد میں سننا پھر جب حد لگانے کا وقت آئے تو مجرم کو مسجد کے باہر لے جانا؛جلد٩ص٦٨،حدیث نمبر٧١٦٧)
زینب بنت ابی سلمہ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلاشبہ میں ایک بشر ہوں، تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو ممکن ہے تم میں سے بعض اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں فریق ثانی کے مقابلہ میں زیادہ چرب زبان ہو۔پس میں اس کی بات کو سننے کے مطابق فیصلہ کردوں۔پس میں جس کو اس کے بھائی کا حق فیصلہ کر کے دے دوں تو وہ اسے نہ لے کیوں کہ وہ جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛. بَابُ مَوْعِظَةِ الإِمَامِ لِلْخُصُومِ؛فریقین کو امام کا نصیحت کرنا؛جلد٩ص٦٨،حدیث نمبر٧١٦٨)
قاضی شریح کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے کہا تم اس مقدمہ میں گواہی دو۔ انہوں نے کہا تو بادشاہ کے پاس جا کر کہنا تو میں وہاں دوں گا۔ اور عکرمہ کہتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اگر تو خود اپنی آنکھ سے کسی کو زنا یا چوری کا جرم کرتے دیکھے اور تو امیر ہو تو کیا اس کو حد لگا دے گا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ نہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آخر تیری گواہی ایک مسلمان کی گواہی کی طرح ہو گی یا نہیں۔ عبدالرحمٰن نے کہا بیشک سچ کہتے ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر لوگ یوں نہ کہیں کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اپنی طرف سے بڑھا دیا تو میں رجم کی آیت اپنے ہاتھ سے مصحف میں لکھ دیتا۔ اور ماعز اسلمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چار بار زنا کا اقرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا اور یہ منقول نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اقرار پر حاضرین کو گواہ کیا ہو۔ اور حماد بن ابی سلیمان (استاد امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ) نے کہا اگر زنا کرنے والا حاکم کے سامنے ایک بار بھی اقرار کر لے تو وہ سنگسار کیا جائے گا اور حکم بن عتیبہ نے کہا، جب تک چار بار اقرار نہ کر لے سنگسار نہیں ہو سکتا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الشَّهَادَةِ تَكُونُ عِنْدَ الْحَاكِمِ فِي وِلاَيَتِهِ الْقَضَاءِ أَوْ قَبْلَ ذَلِكَ لِلْخَصْمِ؛عہدہ قضاء ملنے کے بعد یا قبل قاضی حاکم کے سامنے شہادت کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے؛جلد٩ص٦٩،) حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی جنگ کے دن فرمایا ”جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں جسے اس نے قتل کیا ہو گواہی ہو تو اس کا سامان اسے ملے گا۔ چنانچہ میں مقتول کے لیے گواہ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو میرے لیے گواہی دے سکے، اس لیے میں بیٹھ گیا۔ پھر میرے سامنے ایک صورت آئی اور میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو وہاں بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ اس مقتول کا سامان جس کا ابوقتادہ ذکر کر رہے ہیں، میرے پاس ہے۔ انہیں اس کے لیے راضی کر دیجئیے (کہ وہ یہ ہتھیار وغیرہ مجھے دے دیں) اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظر انداز کر کے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کرتا ہے وہ قریش کے معمولی آدمی کو ہتھیار نہیں دیں گے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے ہتھیار مجھے دے دئیے اور میں نے اس سے ایک باغ خریدا۔ یہ پہلا مال تھا جو میں نے (اسلام کے بعد) حاصل کیا تھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے عبداللہ بن صالح نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مجھے وہ سامان دلا دیا، اور اہل حجاز، امام مالک وغیرہ نے کہا کہ حاکم کو صرف اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا درست نہیں۔ خواہ وہ معاملہ پر عہدہ قضاء حاصل ہونے کے بعد گواہ ہوا ہو یا اس سے پہلے اور اگر کسی فریق نے اس کے سامنے دوسرے کے لیے مجلس قضاء میں کسی حق کا اقرار کیا تو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس بنیاد پر وہ فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ دو گواہوں کو بلا کر ان کے سامنے اقرار کرائے گا۔ اور بعض اہل عراق نے کہا ہے کہ جو کچھ قاضی نے عدالت میں دیکھا یا سنا اس کے مطابق فیصلہ کرے گا لیکن جو کچھ عدالت کے باہر ہو گا اس کی بنیاد پر دو گواہوں کے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتا اور انہیں میں سے دوسرے لوگوں نے کہا کہ اس کی بنیاد پر بھی فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ امانت دار ہے۔ شہادت کا مقصد تو صرف حق کا جاننا ہے پس قاضی کا ذاتی علم گواہی سے بڑھ کر ہے۔ اور بعض ان میں سے کہتے ہیں کہ اموال کے بارے میں تو اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا اور اس کے سوا میں نہیں کرے گا اور قاسم نے کہا کہ حاکم کے لیے درست نہیں کہ وہ کوئی فیصلہ صرف اپنے علم کی بنیاد پر کرے اور دوسرے کے علم کو نظر انداز کر دے گو قاضی کا علم دوسرے کی گواہی سے بڑھ کر ہے لیکن چونکہ عام مسلمانوں کی نظر میں اس صورت میں قاضی کے مہتمم ہونے کا خطرہ ہے اور مسلمانوں کو اس طرح بدگمانی میں مبتلا کرنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدگمانی کو ناپسند کیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ صفیہ ہیں۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الشَّهَادَةِ تَكُونُ عِنْدَ الْحَاكِمِ فِي وِلاَيَتِهِ الْقَضَاءِ أَوْ قَبْلَ ذَلِكَ لِلْخَصْمِ؛جلد٩ص٦٩،حدیث نمبر ٧١٦٩ و حدیث نمبر ٧١٧٠)
ابن شہاب نے حضرت علی بن حسین سے روایت کی ہے کہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا (رات کے وقت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں (اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے) جب وہ واپس آنے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ آئے۔ اس وقت دو انصاری صحابی ادھر سے گزرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ یہ صفیہ ہیں۔ ان دونوں انصاریوں نے کہا، سبحان اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے۔ اس کی روایت شعیب، ابن مسافر، ابن ابی عتیق اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے کی ہے، ان سے علی بن حسین نے اور ان سے صفیہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی واقعہ نقل کیا ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الشَّهَادَةِ تَكُونُ عِنْدَ الْحَاكِمِ فِي وِلاَيَتِهِ الْقَضَاءِ أَوْ قَبْلَ ذَلِكَ لِلْخَصْمِ؛عہدہ قضاء ملنے کے بعد یا قبل قاضی حاکم کے سامنے شہادت کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے؛جلد٩ص٧٠،حدیث نمبر ٧١٧١)
ابو بردہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور ان سے فرمایا کہ آسانی پیدا کرنا اور تنگی نہ کرنا اور خوشخبری دینا اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ہمارے ملک میں شہد کا نبیذ (تبع) بنایا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ نضر بن شمیل، ابوداؤد طیالسی، یزید بن ہارو اور وکیع نے شعبہ سے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے دادا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ أَمْرِ الْوَالِي إِذَا وَجَّهَ أَمِيرَيْنِ إِلَى مَوْضِعٍ أَنْ يَتَطَاوَعَا وَلاَ يَتَعَاصَيَا؛والی ایک جگہ کے دو امیر بناے تو انہیں ایک دوسرے کی اطاعت اور جھگڑا نہ کرنے کا حکم؛جلد٩ص٧٠،حدیث نمبر ٧١٧٢)
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام کی دعوت قبول کی تھی۔ ابو وائل نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیدی کو چھڑاؤ اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ إِجَابَةِ الْحَاكِمِ الدَّعْوَةَ؛حاکم کا دعوت قبول کرنا؛جلد٩ص٧٠،حدیث نمبر ٧١٧٣)
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی اسد کے ایک شخص کو صدقہ کی وصولی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامل بنایا، ان کا نام ابن الاتبیتہ تھا۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ میں دیا گیا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، سفیان ہی نے یہ روایت بھی کی کہ ”پھر آپ منبر پر چڑھے“ پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ اس عامل کا کیا حال ہے جسے ہم تحصیل کے لیے بھیجتے ہیں پھر وہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مال تمہارا ہے اور یہ میرا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھا رہا اور دیکھا ہوتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عامل جو چیز بھی (ہدیہ کے طور پر) لے گا اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اگر اونٹ ہو گا تو وہ اپنی آواز نکالتا آئے گا، اگر گائے ہو گی تو وہ اپنی آواز نکالتی آئے گی، بکری ہو گی تو وہ بولتی آئے گی، پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے۔ یہاں تک کہ ہم نے آپ کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے پہنچا دیا! تین مرتبہ یہی فرمایا۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ یہ حدیث ہم سے زہری نے بیان کی اور ہشام نے اپنے والد سے روایت کی، ان سے ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے دونوں کانوں نے سنا اور دونوں آنکھوں نے دیکھا اور زید بن ثابت صحابی رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھو کیونکہ انہوں نے بھی یہ حدیث میرے ساتھ سنی ہے۔ سفیان نے کہا زہری نے یہ لفظ نہیں کہا کہ میرے کانوں نے سنا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا حدیث میں «خوار» کا لفظ ہے یعنی گائے کی آواز یا «جؤار» کا لفظ جو لفظ «تجأرون» سے نکلا ہے جو سورۃ مومنون میں ہے یعنی گائے کی آواز نکالتے ہوں گے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَام؛بَابُ هَدَايَا الْعُمَّالِ؛عمال کے تحفے؛جلد٩ص٧٠،حدیث نمبر ٧١٧٤)
نافع کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔اور مقتدیوں میں حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت ابوسلمہ، حضرت زید اور حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام کی دعوت قبول کی تھی۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ اسْتِقْضَاءِ الْمَوَالِي وَاسْتِعْمَالِهِمْ؛آزاد شدہ غلام کو قاضی یا حاکم بنانا؛جلد٩ص٧١،حدیث نمبر ٧١٧٥)
عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جب مسلمانوں سے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کرنے کے لئے کہا تو فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم کہ تم میں سے کس نے آزاد کرواے اور کس نے نہیں۔ پس واپس جاؤ اور ہمارے پاس اپنےمعروف لوگوں کو بھیجو جو تمہیں خوب جانتے ہو۔پس لوگ واپس لوٹ گئے اور اپنے سرکردہ حضرات سے بات کی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر اطلاع دی کہ لوگوں نے دلی خوشی سے اجازت دے دی ہے۔ نافع کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے (آزاد کردہ غلام) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔اور مقتدیوں میں حضرت ابوبکر،حضرت عمر،حضرت ابوسلمہ، حضرت زید اور حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام کی دعوت قبول کی تھی۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الْعُرَفَاءِ لِلنَّاسِ؛لوگوں میں معروف شخص؛جلد٩ص٧١،حدیث نمبر ٧١٧٦۔٧١٧٧)
عاصم بن محمد نے محمد بن زید سے روایت کی ہے کہ لوگوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب ہم اپنے سلطان کے پاس جاتے ہیں تو کچھ کہتے ہیں اور جب ان کے پاس سےآجاتے ہیں تو اس کے برخلاف کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ہم تو اسے نفاق شمار کرتے ہیں۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ ثَنَاءِ السُّلْطَانِ، وَإِذَا خَرَجَ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ؛سلطان کے سامنے اس کی تعریف کرنا اور جانے پر برائی کرنا ناپسندیدہ ہے؛جلد٩ص٧١،حدیث نمبر ٧١٧٨)
عراک کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمام لوگوں سے برا دوغلہ شخص وہ ہے جو ان کے سامنے کچھ کہے اور ان کے پیچھے کچھ۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ ثَنَاءِ السُّلْطَانِ، وَإِذَا خَرَجَ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ؛سلطان کے سامنے اس کی تعریف کرنا اور جانے پر برائی کرنا ناپسندیدہ ہے؛جلد٩ص٧١،حدیث نمبر ٧١٧٩)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضرت ہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ابوسفیان ایک کنجوس شخص ہیں تو مجھے ان کے مال میں سے لینے کی حاجت پڑتی ہے۔فرمایا کہ دستور کے مطابق اتنا مال لے لیا کرو جو تمہارے لیے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الْقَضَاءِ عَلَى الْغَائِبِ؛غائب کا فیصلہ؛جلد٩ص٧١،حدیث نمبر ٧١٨٠)
زینب بنت ابو سلمہ نے خبر دی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی۔ آپ نے اپنے حجرہ کے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی تو باہر ان کی طرف نکلے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بشر ہوں اور میرے پاس لوگ مقدمے لے کر آتے ہیں۔ ممکن ہے ان میں سے ایک فریق دوسرے فریق سے بولنے میں زیادہ عمدہ ہو اور میں یقین کر لوں کی وہی سچا ہے اور اس طرح اس کے موافق فیصلہ کر دوں۔تو جس کو اس طرح میں کسی مسلمان کا حق دلادوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے۔اب جو چاہے اسے لے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ قُضِيَ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ فَلاَ يَأْخُذْهُ، فَإِنَّ قَضَاءَ الْحَاكِمِ لاَ يُحِلُّ حَرَامًا وَلاَ يُحَرِّمُ حَلاَلاً؛جب قاضی اس کے بھائی کا حق اسے دے تو وہ نہ لے کیونکہ حاکم حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کر سکتا؛جلد٩ص٧٢،حدیث نمبر ٧١٨١)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی (کا لڑکا) میرا ہے۔ تم اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ چنانچہ فتح مکہ کے دن سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور مجھے اس کے بارے میں انہوں نے وصیت کی تھی، پھر عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ چنانچہ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے بھائی کا لڑکا ہے، انہوں نے مجھے اس کی وصیت کی تھی اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبد بن زمعہ! یہ تمہارا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔ پھر آپ نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کرو کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی عتبہ سے مشابہت دیکھ لی تھی۔چنانچہ اس نے سودہ رضی اللہ عنہا کو موت تک نہیں دیکھا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ قُضِيَ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ فَلاَ يَأْخُذْهُ، فَإِنَّ قَضَاءَ الْحَاكِمِ لاَ يُحِلُّ حَرَامًا وَلاَ يُحَرِّمُ حَلاَلاً؛جب قاضی اس کے بھائی کا حق اسے دے تو وہ نہ لے کیونکہ حاکم حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کر سکتا؛جلد٩ص٧٢،حدیث نمبر ٧١٨٢)
ابووائل نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص ایسی قسم کھائے جو جھوٹی ہو جس کے ذریعہ وہ کسی دوسرے کا مال مار لے تو اللہ سے وہ اس حال میں ملے کا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ترجمہ کنز الایمان:وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں۔(آل عمران ٧٧) (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛ بَابُ الْحُكْمِ فِي الْبِئْرِ وَنَحْوِهَا؛کنویں وغیرہ کا حکم؛جلد٩ص٧٢،حدیث نمبر ٧١٨٣)
اتنے میں حضرت اشعث رضی اللہ عنہ بھی آ گئے۔ ابھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سے حدیث بیان کر ہی رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی اور ایک شخص کے بارے میں میرا ان سے کنویں کے بارے میں جھگڑا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) کہا کہ تمہارے پاس کوئی گواہی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فریق مقابل کی قسم پر فیصلہ ہوگا۔ میں نے کہا کہ پھر تو یہ (جھوٹی) قسم کھا لے گا۔پس یہ آیت نازل ہوئی۔ترجمہ کنز الایمان:وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں۔(آل عمران ٧٧)۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛ بَابُ الْحُكْمِ فِي الْبِئْرِ وَنَحْوِهَا؛کنویں وغیرہ کا حکم؛جلد٩ص٧٢،حدیث نمبر ٧١٨٤)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نعیم بن نحام کی طرف سے مال فروخت فرمایا۔ عطاء بن ابی رباح نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع پہنچی کہ آپ کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے اپنے غلام کو مدبر کردیا اور اس کے سوا اس کے پاس اور مال نہیں ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو آٹھ سو درہم میں بیچ دیا اور اس کی قیمت اس صحابی کے لیے بھیج دی۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ بَيْعِ الإِمَامِ عَلَى النَّاسِ أَمْوَالَهُمْ وَضِيَاعَهُمْ؛امام کا لوگوں کے مال اور جائداد کو بیچنا؛جلد٩ص٧٣،حدیث نمبر ٧١٨٥،٧١٨٦)
عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنایا لیکن ان کی سرداری پر طعن کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر آج تم ان کی امارت کو مطعون قرار دیتے ہو تو تم نے اس سے پہلے اس کے والد (زید رضی اللہ عنہ) کی امارت کو بھی مطعون قرار دیا تھا اور اللہ کی قسم! وہ امارت کے لیے سزاوار تھے اور وہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز تھے اور یہ (اسامہ رضی اللہ عنہ) ان کے بعد سب سے زیادہ مجھے عزیز ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ لَمْ يَكْتَرِثْ بِطَعْنِ مَنْ لاَ يَعْلَمُ فِي الأُمَرَاءِ حَدِيثًا؛جو لا علمی کے تحت امراء کے متعلق بات کرنے کو طعن نہیں کہتا؛جلد٩ص٧٣،حدیث نمبر ٧١٨٧)
لدا سے مراد ہے جھگڑالو،الٹی کھوپڑی والا۔ ابن ابی ملیکہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو جھگڑالو ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الأَلَدِّ الْخَصِمِ،وهو الدائم في الخصومة. {لدا} عوجا؛بہت زیادہ جھگڑالو؛جلد٩ص٧٣،حدیث نمبر ٧١٨٨)
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے نعیم بن حماد نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے، انہیں ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا (جب انہیں اسلام کی دعوت دی) تو وہ «أسلمنا.» (ہم اسلام لائے) کہہ کر اچھی طرح اظہار اسلام نہ کر سکے بلکہ کہنے لگے کہ «صبأنا صبأنا» (ہم اپنے دین سے پھر گئے، ہم اپنے دین سے پھر گئے) اس پر خالد رضی اللہ عنہ انہیں قتل اور قید کرنے لگے اور ہم میں سے ہر شخص کو اس کے حصہ کا قیدی دیا اور ہمیں حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ اس پر میں نے کہا کہ واللہ! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ پھر ہم نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! میں اس سے برات ظاہر کرتا ہوں جو خالد بن ولید نے کیا، دو مرتبہ۔ لدا سے مراد ہے جھگڑالو،الٹی کھوپڑی والا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ إِذَا قَضَى الْحَاكِمُ بِجَوْرٍ أَوْ خِلاَفِ أَهْلِ الْعِلْمِ فَهْوَ رَدّ؛جب حاکم جبر کرتے ہوئے یا اہل علم کے خلاف فیصلہ دے تو وہ مسترد کیا جاے؛جلد٩ص٧٣،حدیث نمبر ٧١٨٩)
ابوحازم مدینی نے بیان کیا اور ان سے حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں باہم لڑائی ہو گئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھی اور ان کے یہاں صلح کرانے کے لیے تشریف لائے۔ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا (مدینہ میں) تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی۔اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تو یہ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے۔ چنانچہ وہ آگے بڑھے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز ہی میں تھے ‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی صف کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور اس صف میں آ گئے جو ان سے قریب تھی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو بتانے کے لیے ہاتھ مارے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو ختم کرنے سے پہلے کسی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہاتھ پر ہاتھ مارنا رکتا ہی نہیں تو آپ متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ نماز پوری کریں اور آپ نے اس طرح ہاتھ سے اپنی جگہ ٹھہرے رہنے کا اشارہ کیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اللہ کی حمد کرنے کے لیے ٹھہرے رہے، پھر آپ الٹے پاؤں پیچھے آ گئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ آگے بڑھے اور لوگوں کو آپ نے نماز پڑھائی۔ نماز پوری کرنے کے بعد آپ نے فرمایا، ابوبکر! جب میں نے ارشاد کر دیا تھا تو آپ کو نماز پوری پڑھانے میں کیا چیز مانع تھی؟ انہوں نے عرض کیا، ابن ابی قحافہ کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (نماز میں) جب کوئی معاملہ پیش آئے تو چاہیئے کہ سبحان اللہ کہیں کیوں کہ تالیاں بجانا عورتوں کے لیے ہے۔ لدا سے مراد ہے جھگڑالو،الٹی کھوپڑی والا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الإِمَامِ يَأْتِي قَوْمًا فَيُصْلِحُ بَيْنَهُمْ؛امام کا کسی قوم کے پاس آکر ان میں صلح کروانا؛جلد٩ص٧٤،حدیث نمبر ٧١٩٠)
عبید بن سباق کا بیان ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جنگ یمامہ میں بکثرت(قاری صحابہ کی) شہادت کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ ان کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ عمر میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے قاری شہید ہوگئے اور مجھے خوف ہے کہ دیگر تمام مقامات پر قرآن کریم کے قاری اس طرح شہید ہوتے رہے تو قرآن کریم کا اکثر حصہ ضائع ہوجائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن مجید کو (کتابی صورت میں) جمع کرنے کا حکم دیں۔ اس پر میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں کوئی ایسا کام کیسے کر سکتا ہوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ! یہ تو کار خیر ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں برابر مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح اس معاملے میں میرا بھی سینہ کھول دیا جس طرح عمر رضی اللہ عنہ کا تھا اور میں بھی وہی مناسب سمجھنے لگا جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مناسب سمجھتے تھے۔حضرت زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جوان ہو، عقلمند ہو اور ہم تمہیں کسی بارے میں متہم بھی نہیں سمجھتے تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی بھی لکھتے تھے، پس تم اس قرآن مجید (کی آیات) کو تلاش کرو اور ایک جگہ جمع کر دو۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ واللہ! اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے کسی پہاڑ کو اٹھا کر دوسری جگہ رکھنے کا مکلف کرتے تو اس کا بوجھ بھی میں اتنا نہ محسوس کرتا جتنا کہ مجھے قرآن مجید کو جمع کرنے کے حکم سے محسوس ہوا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کس طرح ایسا کام کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ ابوبکر نے کہا کہ واللہ! یہ خیر ہے۔ چنانچہ مجھے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا جس کے لیے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا اور میں بھی وہی مناسب خیال کرنے لگا جسے وہ لوگ مناسب خیال کر رہے تھے۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید کی تلاش شروع کی۔ اسے میں کھجور کی چھال، چمڑے وغیرہ کے ٹکڑوں، پتلے پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۔ میں نے سورۃ التوبہ کی آخری آیت «لقد جاءكم رسول من أنفسكم» آخر تک خزیمہ یا ابوخزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پائی اور اس کو سورت میں شامل کر لیا۔ (قرآن مجید کے یہ مرتب) صحیفے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے جب تک وہ زندہ ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دی پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور آخر وقت تک ان کے پاس رہے۔ جب آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے وفات دی تو وہ حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔ محمد بن عبیداللہ نے کہا کہ «اللخاف» کے لفظ سے ٹھیکری مراد ہے جسے «خزف.» کہتے ہیں۔ لدا سے مراد ہے جھگڑالو،الٹی کھوپڑی والا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛37. بَابُ يُسْتَحَبُّ لِلْكَاتِبِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا عَاقِلاً؛حاکم کا اپنے عاملوں،قاضیوں امینوں کے لیے خط لکھنا؛جلد٩ص٧٤،حدیث نمبر ٧١٩١)
عبید اللہ بن یوسف،مالک، ابو لیلیٰ۔اسماعیل،مالک ابویعلی بن عبید اللہ بن عبد الرحمن بن سہل نے سہل ابن ابو حثمہ سے روایت کیا کہ انہوں نے اور ان کی قوم کے بعض دوسرے ذمہ داروں نے خبر دی کہ عبداللہ، سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہم خیبر کی طرف (کھجور لینے کے لیے) گئے۔ کیونکہ تنگ دستی میں مبتلا تھے۔ پھر محیصہ کو بتایا گیا کہ عبداللہ کو کسی نے قتل کر کے گڑھے یا کنویں میں ڈال دیا ہے۔ پھر وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا کہ واللہ! تم نے ہی قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: واللہ! ہم نے انہیں نہیں قتل کیا۔ پھر وہ واپس آئے اور اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے ذکر کیا۔ اس کے بعد وہ اور ان کے بھائی حویصہ جو ان سے بڑے تھے اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہ آئے، پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کرنی چاہی کیونکہ آپ ہی خیبر میں موجود تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ بڑے کو آگے کرو، بڑے کو آپ کی مراد عمر کی بڑائی تھی۔ چنانچہ حویصہ نے بات کی، پھر محیصہ نے بھی بات کی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں ورنہ لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس مقدمہ میں لکھا۔ انہوں نے جواب میں یہ لکھا کہ ہم نے انہیں نہیں قتل کیا ہے۔ پھر آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ لوگ قسم کھا کر اپنے شہید ساتھی کے خون کے مستحق ہو سکتے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا کہ نہیں (کیونکہ جرم کرتے دیکھا نہیں تھا) پھر آپ نے فرمایا، کیا آپ لوگوں کے بجائے یہودی قسم کھائیں (کہ انہوں نے قتل نہیں کیا ہے)؟ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور وہ جھوٹی قسم کھا سکتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے سو اونٹوں کی دیت ادا کی اور وہ اونٹ گھر میں لائے گئے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ كِتَابِ الْحَاكِمِ إِلَى عُمَّالِهِ، وَالْقَاضِي إِلَى أُمَنَائِهِ؛حاکم کا اپنے عاملوں،قاضیوں،امینوں کے لیے خط لکھنا؛جلد٩ص٧٥،حدیث نمبر ٧١٩٢)
عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک اعرابی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے۔ پھر دوسرے فریق کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی کہا کہ یہ صحیح کہتے ہیں، ہمارا فیصلہ کتاب اللہ سے کر دیجئیے۔ پھر دیہاتی نے کہا میرا لڑکا اس شخص کے یہاں مزدور تھا، پھر اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارے لڑکے کا حکم اسے رجم کرنا ہے لیکن میں نے اپنے لڑکے کی طرف سے سو بکریوں اور ایک باندی کا فدیہ دے دیا۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے لڑکے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ باندی اور بکریاں تو تمہیں واپس ملیں گی اور تیرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلا وطن ہونا ہے اور انیس (جو ایک صحابی تھے) سے فرمایا کہ تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ اور اسے رجم کرو۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے اور اسے رجم کیا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛ بَابُ هَلْ يَجُوزُ لِلْحَاكِمِ أَنْ يَبْعَثَ رَجُلاً وَحْدَهُ لِلنَّظَرِ فِي الأُمُورِ؛کیا حاکم کیلئے جائز ہے کہ وہ کسی ایک شخص کو معاملات کی دیکھ بھال کیلئے بھیجے؛جلد٩ص٧٥،حدیث نمبر ٧١٩٣)
خارجہ بن زید بن ثابت نے اپنے والد ماجد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہودیوں کی تحریر سیکھیں، یہاں تک کہ میں یہودیوں کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط لکھتا تھا اور جب یہودی آپ کو لکھتے تو ان کے خطوط آپ کو پڑھ کر سناتا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن حاطب سے پوچھا، اس وقت ان کے پاس علی، عبدالرحمٰن اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے کہ یہ عورت کیا کہتی ہے؟ عبدالرحمٰن بن حاطب نے کہا کہ امیرالمؤمنین یہ آپ کو اس کے متعلق بتاتی ہے جس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے۔ (جو یرغوس نام کا غلام تھا) اور ابوجمرہ نے کہا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کرتا تھا اور بعض لوگوں نے کہا کہ حاکم کے لیے دو ترجموں کا ہونا ضروری ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛ بَابُ تَرْجَمَةِ الْحُكَّامِ، وَهَلْ يَجُوزُ تُرْجُمَانٌ وَاحِدٌ؛حکام کے مترجم اور کیا ایک ترجمان رکھنا جائز ہے؛جلد٩ص٧٦،حدیث نمبر ٧١٩٤،٧١٩٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ابوسفیان بن حرب نے انہیں خبر دی کہ ہرقل نے انہیں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بلا بھیجا، پھر اپنے ترجمان سے کہا، ان سے کہو کہ میں ان کے بارے میں پوچھوں گا۔ اگر یہ مجھ سے جھوٹ بات کہے تو اسے جھٹلا دیں۔ پھر پوری حدیث بیان کی اس سے کہو کہ اگر تمہاری باتیں صحیح ہیں تو وہ شخص اس ملک کا بھی ہو جائے گا جو اس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛ بَابُ تَرْجَمَةِ الْحُكَّامِ، وَهَلْ يَجُوزُ تُرْجُمَانٌ وَاحِدٌ؛حکام کے مترجم اور کیا ایک ترجمان رکھنا جائز ہے؛جلد٩ص٧٦،حدیث نمبر ٧١٩٦)
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کا بیان ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اتبیہ کو بنی سلیم کے صدقہ کی وصول یابی کے لیے عامل بنایا۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (وصول یابی کر کے) آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حساب طلب فرمایا تو انہوں نے کہا یہ تو آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھے رہے، اگر تم سچے ہو تو وہاں بھی تمہارے پاس ہدیہ آتا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا۔ آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا، امابعد! میں کچھ لوگوں کو بعض ان کاموں کے لیے عامل بناتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سونپے ہیں، پھر تم میں سے کوئی ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مال تمہارا ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ اگر وہ سچا ہے تو پھر کیوں نہ وہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں بیٹھا رہا تاکہ وہیں اس کا ہدیہ پہنچ جاتا۔ پس اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی اگر اس مال میں سے کوئی چیز لے گا۔ ہشام نے آگے کا مضمون اس طرح بیان کیا کہ بلا حق کے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس طرح لائے گا کہ وہ اس کو اٹھائے ہوئے ہو گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ میں اسے پہچان لوں گا جو اللہ کے پاس وہ شخص لے کر آئے گا، اونٹ جو آواز نکال رہا ہو گا یا گائے جو اپنی آواز نکال رہی ہو گی یا بکری جو اپنی آواز نکال رہی ہو گی۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی اور فرمایا کیا میں نے پہنچا دیا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مُحَاسَبَةِ الإِمَامِ عُمَّالَهُ؛امام کا اپنے عاملوں سے حساب طلب کرنا؛جلد٩ص٧٦،حدیث نمبر ٧١٩٧)
البطانۃ یعنی رازدار۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ نے کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا اور نہ کسی کو خلافت دی گئی مگر اس کے ساتھ دو مشیر تھے ایک تو انہیں نیکی کے لیے کہتا اور اس پر ابھارتا اور دوسرا انہیں شر کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا۔ پس معصوم وہ ہے جسے اللہ بچائے رکھے۔“ اور سلیمان بن بلال نے اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت کیا، کہا مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی (اس کو اسماعیلی نے وصل کیا) اور ابن ابی عتیق اور موسیٰ بن عقبہ سے بھی، ان دونوں نے ابن شہاب سے یہی حدیث (اس کو بیہقی نے وصل کیا) اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے یوں روایت کی، مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ان کا قول (یعنی حدیث کو موقوفاً نقل کیا) اور امام اوزاعی اور معاویہ بن سلام نے کہا، مجھ سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین اور سعید بن زیاد نے اس کو ابوسلمہ سے روایت کیا ‘، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے موقوفاً (یعنی ابوسعید کا قول) اور عبداللہ بن ابی جعفر نے کہا، مجھ سے صفوان بن سلیم نے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوایوب سے، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ بِطَانَةِ الْإِمَامِ وَأَهْلِ مَشُورَتِهِ الْبِطَانَةُ الدُّخَلَاءُ؛امام کے مشیروں کی دخل اندازی؛جلد٩ص٧٧،حدیث نمبر ٧١٩٨)
ولید بن عباد کا بیان ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ہر بات سنیں گے اور مانیں گے خواہ اچھی ہو یا ناپسندیدہ۔اور حاکم سے حکومت کے لیے نہیں لڑیں گے اور حق پر قائم رہیں گے یا حق بات کہیں گے خواہ کسی بھی جگہ پر ہوں اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ كَيْفَ يُبَايِعُ الإِمَامُ النَّاسَ؛امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟؛جلد٩ص٧٧،حدیث نمبر ٧١٩٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی میں صبح کے وقت باہر نکلے اور مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! خیر تو آخرت ہی کی خیر ہے۔ پس انصار و مہاجرین کی مغفرت کر دے۔“ اس کا جواب لوگوں نے دیا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے جب تک وہ زندہ ہیں۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ كَيْفَ يُبَايِعُ الإِمَامُ النَّاسَ؛امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟؛جلد٩ص٧٧،حدیث نمبر ٧٢٠١۔٧٢٠٠)
عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم آپ کی بات سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تو آپ فرماتے۔جہاں تک تمہاری استطاعت ہو۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ كَيْفَ يُبَايِعُ الإِمَامُ النَّاسَ؛امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟؛جلد٩ص٧٧،حدیث نمبر ٧٢٠٢)
عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہا کہ میں اس وقت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا جب سب لوگ عبدالملک بن مروان سے بیعت کے لیے جمع ہو گئے۔ بیان کیا کہ انہوں نے عبدالملک کو لکھا کہ ”میں سننے اور اطاعت کرنے کا اقرار کرتا ہوں عبداللہ عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق جتنی بھی مجھ میں قوت ہو گی اور یہ کہ میرے لڑکے بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ كَيْفَ يُبَايِعُ الإِمَامُ النَّاسَ؛امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟؛جلد٩ص٧٧،حدیث نمبر ٧٢٠٣)
شعبی کا بیان ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی تو آپ نے مجھے اس کی تلقین کی کہ جتنی مجھ میں طاقت ہو ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی ہی کرتا رہوں۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ كَيْفَ يُبَايِعُ الإِمَامُ النَّاسَ؛امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟؛جلد٩ص٧٨،حدیث نمبر ٧٢٠٤)
عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہا کہ جب لوگوں نے عبدالملک کی بیعت کی تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے لکھا ”اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے نام، میں اقرار کرتا ہوں سننے اور اطاعت کرنے کی۔ اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق، جتنی مجھ میں طاقت ہو گی اور میرے بیٹوں نے بھی اس کا اقرار کیا۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ كَيْفَ يُبَايِعُ الإِمَامُ النَّاسَ؛امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟؛جلد٩ص٧٨،حدیث نمبر ٧٢٠٥)
یزید بن ابو عبید کا بیان ہے کہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟فرمایا کہ موت پر۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ كَيْفَ يُبَايِعُ الإِمَامُ النَّاسَ؛امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟؛جلد٩ص٧٨،حدیث نمبر ٧٢٠٦)
حمید بن عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ حضرت مسور بن مخرمہ نے خبر دی کہ وہ چھ آدمی جن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلافت کے لیے نامزد کر گئے تھے (یعنی علی ‘ عثمان ‘ زبیر ‘ طلحہ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم کہ ان میں سے کسی ایک کو اتفاق سے خلیفہ بنا لیا جائے) یہ سب جمع ہوئے اور مشورہ کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا خلیفہ ہونے کے لیے میں آپ لوگوں سے کوئی مقابلہ نہیں کروں گا۔ البتہ اگر آپ لوگ چاہیں تو آپ لوگوں کے لیے کوئی خلیفہ آپ ہی میں سے میں چن دوں۔ چنانچہ سب نے مل کر اس کا اختیار عبدالرحمٰن بن عوف کو دے دیا۔ جب ان لوگوں نے انتخاب کی ذمہ داری عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی تو تمام لوگوں کی توجہ حضرت عبد الرحمن کی جانب ہو گئی۔حتیٰ کہ باقی حضرات میں سے کسی کے پاس ایک شخص بھی نظر نہیں آتا تھا۔لوگ ان دنوں حضرت عبد الرحمن سے مشورہ کرتے رہے حتیٰ کہ جب وہ رات آئی جس کی صبح کو ہم نے عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔ مسور رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ رات گئے میرے یہاں آئے اور دروازہ کھٹکٹھایا یہاں تک کہ میں بیدار ہو گیا۔ انہوں نے کہا میرا خیال ہے آپ سو رہے تھے، اللہ کی قسم میں ان راتوں میں مجھے آنکھ جھپکنے کی بھی فرصت نہیں ملی۔ جائیے! زبیر اور سعد کو بلائیے۔ میں ان دونوں بزرگوں کو بلا لایا اور انہوں نے ان سے مشورہ کیا، پھر مجھے بلایا اور کہا کہ میرے لیے علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلا دیجئیے۔ میں نے انہیں بھی بلایا اور انہوں نے ان سے بھی سر گوشی کی۔ یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔پھر حضرت علی ان کے پاس سے چلے گئے اور وہ خلافت کی آرزو رکھتے تھے لیکن حضرت عبد الرحمن کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ نامزد کرنے میں خدشہ نظر آتا تھا ، پھر انہوں نے کہا کہ میرے لیے عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لائیے۔ میں نے انہیں بھی بلا لایا اور انہوں نے ان سے بھی سرگوشی کی۔ آخر صبح کے مؤذن نے ان کے درمیان جدائی کی۔ جب لوگوں نے صبح کی نماز پڑھ لی اور یہ سب لوگ منبر کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے موجود مہاجرین، انصار اور لشکروں کے قائدین کو بلایا۔ ان لوگوں نے اس سال حج عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا پھر کہا امابعد! اے علی! میں نے لوگوں کے خیالات معلوم کئے اور میں نے دیکھا کہ وہ عثمان کو مقدم سمجھتے ہیں اور ان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، اس لیے آپ اپنے دل میں کوئی میل پیدا نہ کریں۔ پھر کہا میں آپ (عثمان رضی اللہ عنہ) سے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت اور آپ کے دو خلفاء کے طریق کے مطابق بیعت کرتا ہوں۔ چنانچہ پہلے ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیعت کی، پھر سب لوگوں نے اور مہاجرین، انصار اور فوجیوں کے سرداروں اور تمام مسلمانوں نے بیعت کی۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ كَيْفَ يُبَايِعُ الإِمَامُ النَّاسَ؛امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟؛جلد٩ص٧٨،حدیث نمبر ٧٢٠٧)
یزید بن ابو عبید کا بیان ہے کہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”سلمہ! کیا تم بیعت نہیں کرو گے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے پہلی ہی مرتبہ میں بیعت کر لی ہے، فرمایا کہ اور دوسری مرتبہ میں بھی کر لو۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛ بَابُ مَنْ بَايَعَ مَرَّتَيْنِ؛جس نے دو مرتبہ بیعت کی؛جلد٩ص٧٨،حدیث نمبر ٧٢٠٨)
محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی پھر اسے بخار ہو گیا تو اس نے کہا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔پھر باہر نکلے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو گندگی کو دور کرتا ہے اور پاکیزگی کو رہنے دیتا ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ بَيْعَةِ الأَعْرَابِ؛لڑکوں کی بیعت؛جلد٩ص٧٩،حدیث نمبر ٧٢٠٩)
ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا تھا اور ان کی والدہ زینب بنت حمید ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئی تھیں اور عرض کیا تھا یا رسول اللہ! اس سے بیعت لے لیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ابھی کمسن ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا فرمائی اور یہ اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی کیا کرتے تھے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ بَيْعَةِ الصَّغِيرِ؛نابالغ لڑکے کا بیعت کرنا؛جلد٩ص٧٩،حدیث نمبر ٧٢١٠)
محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی پھر اسے بخار ہو گیا تو اس نے کہا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔پھراعرابی باہر نکل گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو گندگی کو دور کرتا ہے اور پاکیزگی کو رہنے دیتا ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ بَايَعَ ثُمَّ اسْتَقَالَ الْبَيْعَةَ؛بیعت کرنے کے بعد اس کا فسخ کرانا؛جلد٩ص٧٩،حدیث نمبر ٧٢١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں فرماےگا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے بہت سخت دکھ دینے والا عذاب ہو گا۔ ایک وہ شخص جس کے پاس راستے میں زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو اس میں سے نہ پلائے دوسرا وہ شخص جو امام سے بیعت کرے اور بیعت کی غرض صرف دنیا کمانا ہو اگر وہ امام اسے کچھ دنیا دیدے تو بیعت پوری کرے ورنہ توڑ دے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی دوسرے سے کچھ مال متاع عصر کے بعد بیچ رہا ہو اور قسم کھائے کہ اسے اس سامان کی اتنی اتنی قیمت مل رہی تھی اور پھر خریدنے والا اسے سچا سمجھ کر اس مال کو لے لے حالانکہ اسے اس کی اتنی قیمت نہیں مل رہی تھی۔“ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ بَايَعَ رَجُلاً لاَ يُبَايِعُهُ إِلاَّ لِلدُّنْيَا؛جس نے کسی سے بیعت کی اور مقصد خالص دنیا کمانا ہو اس کی برائی کا بیان؛جلد٩ص٧٩،حدیث نمبر ٧٢١٢)
اس کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ابوادریس خولانی نے خبر دی، انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم مجلس میں موجود تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیک کام میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ پس جو کوئی تم میں سے اس وعدے کو پورا کرے اس کا ثواب اللہ کے یہاں اسے ملے گا اور جو کوئی ان کاموں میں سے کسی برے کام کو کرے گا اس کی سزا اسے دنیا میں ہی مل جائے گی تو یہ اس کے لیے کفارہ ہو گا اور جو کوئی ان میں سے کسی برائی کا کام کرے گا اور اللہ اسے چھپا لے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔ چاہے تو اس کی سزا دے اور چاہے اسے معاف کر دے۔“ چنانچہ ہم نے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ بَيْعَةِ النِّسَاءِ؛عورتوں سے بیعت لینا؛جلد٩ص٧٩،حدیث نمبر ٧٢١٣)
عروہ کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے یہ آیت پڑھ کر بیعت لیا کرتے۔ترجمہ کنز الایمان:اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی۔(ممتحنہ ١٢)وہ فرماتی ہیں کہ اپنی لونڈیوں کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ بَيْعَةِ النِّسَاءِ؛عورتوں سے بیعت لینا؛جلد٩ص٨٠،حدیث نمبر ٧٢١٤)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے میرے سامنے سورۃ الممتحنہ کی یہ آیت پڑھی «أن لا يشركن بالله شيئا» یہ کہ ”وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گی“ آخر تک۔ اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ سے منع کیا پھر ہم میں سے ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا کہ فلاں عورت نے کسی نوحہ میں میری مدد کی تھی (میرے ساتھ مل کر نوحہ کیا تھا) اور میں اسے اس کا بدلہ دینا چاہتی ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا، پھر وہ گئیں اور واپس آئیں۔یہ بات ام سلیم،ام العلاء،ابو سبرہ کی صاحبزادی اور معاذ کی زوجہ کے سوا دیگر عورتیں بخوبی ادا نہ کرسکیں۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ بَيْعَةِ النِّسَاءِ؛عورتوں سے بیعت لینا؛جلد٩ص٨٠،حدیث نمبر ٧٢١٥)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:"وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اُسے بڑا ثواب دے گا"۔ محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،عرض کیا: یا رسول اللہ! اسلام پر مجھ سے بیعت لیجئے۔ آپ نے اس سے بیعت لے لی، پھر دوسرے دن بخار کی حالت میں آیا کہنے لگا میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا (بیعت فسخ نہیں کی) جب وہ چلا گیا،تو آپ نے فرمایا مدینہ کیا ہے (لوہار کی بھٹی ہے) پلید اور ناپاک (میل کچیل) کو چھانٹ ڈالتا ہے اور پاکیزگی کو رہنے دیتی ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ مَنْ نَكَثَ بَيْعَةً؛جو بیعت توڑ دے؛جلد٩ص٨٠،حدیث نمبر ٧٢١٦)
قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا(اپنے سر درد پر) ہائے سر پھٹا جاتا ہے۔چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر ایسا ہوا میں زندہ رہا تو تمہاری مغفرت کی دعا کروں گا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر کہا افسوس میرا خیال ہے کہ آپ میری موت چاہتے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو آپ دن کے آخری وقت ضرور کسی دوسری بیوی سے نشاط لے رہے ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلکہ میں آپ سر پھٹا کہوں گا۔ میرا ارادہ ہوا تھا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور انہیں (ابوبکر کو) خلیفہ بنا دوں تاکہ اس پر کسی دعویٰ کرنے والے یا اس کی خواہش رکھنے والے کے لیے کوئی گنجائش نہ رہے لیکن پھر میں نے سوچا کہ اللہ خود (کسی دوسرے کو خلیفہ) نہیں ہونے دے گا اور مسلمان بھی اسے دفع کریں گے۔ یا (آپ نے اس طرح فرمایا کہ) اللہ دفع کرے گا اور مسلمان کسی اور کو خلیفہ نہ ہونے دیں گے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الاِسْتِخْلاَفِ؛خلیفہ مقرر کرنا؛جلد٩ص٨٠،حدیث نمبر ٧٢١٧)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب زخمی ہوئے تو ان سے کہا گیا کہ آپ اپنا خلیفہ کسی کو کیوں نہیں منتخب کر دیتے، آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کو خلیفہ منتخب کرتا ہوں (تو اس کی بھی مثال ہے کہ) اس شخص نے اپنا خلیفہ منتخب کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ اور اگر میں اسے مسلمانوں کی رائے پر چھوڑتا ہوں تو (اس کی بھی مثال موجود ہے کہ) اس بزرگ نے (خلیفہ کا انتخاب مسلمانوں کے لیے) چھوڑ دیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پھر لوگوں نے آپ کی تعریف کی،تو فرمایا کہ یہ رغبت اور ڈر ہے ۔ اب میں تو یہی غنیمت سمجھتا ہوں کہ خلافت کی ذمہ داریوں میں اللہ کے ہاں برابر برابر ہی چھوٹ جاؤں،نہ مجھے کچھ ثواب ملے اور نہ کوئی عذاب لہذا زندگی میں یا موت کے بعد کیوں اس کا بوجھ اٹھاؤں۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الاِسْتِخْلاَفِ؛خلیفہ مقرر کرنا؛جلد٩ص٨١،حدیث نمبر ٧٢١٨)
زہری کا بیان ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دوسرا خطبہ سنا جب آپ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے دوسرے دن کا ہے۔ انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش تھے اور کچھ نہیں بول رہے تھے، پھر کہا مجھے امید تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرصہ دراز ظاہری حیات سے وابستہ رہیں گے اور ہماری بعد وصال فرمائیں گے تو اب جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وصال پا گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے نور (قرآن) کو باقی رکھا ہے جس کے ذریعہ تم ہدایت حاصل کرتے ہو یعنی وہ راستہ جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے چلایا۔اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی (جو غار ثور میں) دو میں کے دوسرے ہیں، بلا شک وہ تمہارے امور خلافت کے لیے تمام مسلمانوں میں سب سے بہتر ہیں، پس اٹھو اور ان سے بیعت کرو۔ ایک جماعت ان سے پہلے ہی سقیفہ بنی ساعدہ میں بیعت کر چکی تھی، پھر عام لوگوں نے منبر پر بیعت کی۔ زہری نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے، اس دن کہہ رہے تھے، منبر پر چڑھ آئیے۔ چنانچہ وہ اس کا برابر اصرار کرتے رہے، یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھ گئے اور سب لوگوں نے آپ سے بیعت کی۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الاِسْتِخْلاَفِ؛خلیفہ مقرر کرنا؛جلد٩ص٨١،حدیث نمبر ٧٢١٩)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خاتون آئیں اور کسی معاملہ میں آپ سے گفتگو کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ وہ دوبارہ آپ کے پاس آئیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو پھر آپ کیا فرماتے ہیں؟ جیسے ان کا اشارہ وفات کی طرف ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس آجانا۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الاِسْتِخْلاَفِ؛خلیفہ مقرر کرنا؛جلد٩ص٨١،حدیث نمبر ٧٢٢٠)
طارق بن شہاب نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بزاخہ کے وفد سے فرمایا۔تم اونٹوں کی دم پکڑے رہو۔حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور مہاجرین کو ایسی بات سوجھا کہ وہ تمہیں معذور شمار کریں۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ الاِسْتِخْلاَفِ؛خلیفہ مقرر کرنا؛جلد٩ص٨١،حدیث نمبر ٧٢٢١)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:امیر بارہ ہوں گے۔اس کے بعد آپ نے ایک لفظ فرمایا جو میں سن نہ سکا۔میرے والد ماجد نے بتایا کہ آپ نے فرمایا۔سب قریش سے ہوں گے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛باب....؛جلد٩ص٨١،حدیث نمبر ٧٢٢٢۔٧٢٢٣)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بہن کو نوحہ کرنے پر نکال دیا تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ارادہ ہوا کہ میں لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان دینے کا، پھر کسی سے کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں اس کے بجائے ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم سے کسی کو اگر یہ امید ہو کہ وہاں موٹی ہڈی یا دو «مرماة حسنتين» بکری کے کھر کے درمیان کا گوشت ملے گا تو وہ ضرور (نماز) عشاء میں شریک ہو جائے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛بَابُ إِخْرَاجِ الْخُصُومِ وَأَهْلِ الرِّيَبِ مِنَ الْبُيُوتِ بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ؛جھگڑا کرنے والوں اور مشکوک لوگوں کو پہچاننے پر انہیں گھروں سے نکال دینا؛جلد٩ص٨١،حدیث نمبر ٧٢٢٤)
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا کہ عبداللہ بن کعب بن مالک، کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے زمانے میں ان کے سب لڑکوں میں یہی راستے میں ان کے ساتھ چلتے تھے، (انہوں) نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں جا سکتے تھے، پھر انہوں نے اپنا پورا واقعہ بیان کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے گفتگو کرنے سے روک دیا تھا تو ہم پچاس دن اسی حالت میں رہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ نے ہماری توبہ قبول کر لی ہے۔ (بخاری شریف،كِتَاب الْأَحْكَامِ؛ بَابُ هَلْ لِلإِمَامِ أَنْ يَمْنَعَ الْمُجْرِمِينَ وَأَهْلَ الْمَعْصِيَةِ مِنَ الْكَلاَمِ مَعَهُ وَالزِّيَارَةِ وَنَحْوِهِ؛کیا امام مجرموں اور خطا کاروں کو بات کرنے اور اپنے پاس آنے سے منع کرسکتا ہے؛جلد٩ص٨٢،حدیث نمبر ٧٢٢٥)
Bukhari Shareef : Kitabul Ahkaam
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ الأَحْكَامِ
|
•