
ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے بیان کیا، ان سے ابومعبد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا؛جلد٩ص١١٤،حدیث نمبر ٧٣٧١)
عبد اللہ بن محمد بن صیفی فرمایا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔ اس لیے سب سے پہلے انہیں اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں جب وہ اسے سمجھ لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ نے ایک دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان کے امیروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں کو لوٹا دی جائے گی۔ جب وہ اس کا بھی اقرار کر لیں تو ان سے زکوٰۃ لینا اور لوگوں کے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا؛جلد٩ص١١٤،حدیث نمبر ٧٣٧٢)
اسود بن ہلال نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں۔ کیا تمہیں معلوم ہے پھر بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، فرمایا یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا؛جلد٩ص١١٤،حدیث نمبر ٧٣٧٣)
ابو صعصعہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص کو کسی نے باربار قل ھو اللہ احد پڑھتے سنا۔ صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس طرح واقعہ بیان کیا جیسے وہ اسے کم سمجھتے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔ اسماعیل بن جعفر نے امام مالک سے یہ بڑھایا کہ ان سے عبدالرحمٰن نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے میرے بھائی قتادہ بن نعمان نے خبر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا؛جلد٩ص١١٤،حدیث نمبر ٧٣٧٤)
محمد بن عبدالرحمٰن نے اپنی والدہ عمرہ بن عبدالرحمٰن سے روایت کی ہےوہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تھیں۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ وہ صاحب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں ختم قل ھو اللہ احد پر کرتے تھے۔ جب لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ وہ یہ طرز عمل کیوں اختیار کئے ہوئے تھے۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ یہ اللہ کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا عزیز رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بتا دو کہ اللہ بھی انہیں عزیز رکھتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛ بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا؛جلد٩ص١١٥،حدیث نمبر ٧٣٧٥)
زید بن وہب نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:تم فرماؤ اللہ کہ کر پکارو یا رحمان کہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں؛جلد٩ص١١٥،حدیث نمبر ٧٣٧٦)
ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارگاہ میں تھے کہ آپ کی ایک صاحبزادی زینب کے بھیجے ہوئے ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ان کے لڑکے جاں کنی میں مبتلا ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم جا کر انہیں بتا دو کہ اللہ ہی کا سب ہے جو چاہے لے لے اور جو چاہے دیدے اور اس کی بارگاہ میں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے پس ان سے کہو کہ صبر کریں اور اس پر صبر ثواب کی نیت سے کریں۔ صاحبزادی نے دوبارہ آپ کو قسم دے کر کہلا بھیجا کہ آپ ضرور تشریف لائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ سعد بن معاذ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بھی کھڑے ہوئے (پھر جب آپ صاحبزادی کے گھر پہنچے تو) بچہ آپ کو دیا گیا اور اس کی سانس اکھڑ رہی تھی جیسے پرانی مشک کا حال ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:تم فرماؤ اللہ کہ کر پکارو یا رحمان کہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں؛جلد٩ص١١٥،حدیث نمبر ٧٣٧٧)
ابوعبدالرحمٰن سلمی نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی ایسا نہیں جو اذیت ناک بات سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرے۔لوگ اس پر بیٹے کا الزام لگاتے ہیں،پھر بھی وہ انہیں عافیت اور روزی دیتا ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ}؛ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:بیشک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا قوت والا قدرت والا ہے(ذاریات٥٨؛جلد٩ص١١٥،حدیث نمبر ٧٣٧٨)
یحییٰ کا قول ہے کہ وہ ہر چیز کا جاننے والا اپنے علم کے سبب ہر باطن کا جاننے والا ہے اپنے علم کے سبب۔ عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غیب کی پانچ کنجیاں ہیں، جنہیں اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ رحم مادر میں کیا ہے، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ کس جگہ کوئی مرے گا اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہو گی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {عَالِمُ الْغَيْبِ فَلاَ يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا}ترجمہ کنز الایمان :"غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا۔(جن٢٦)اور فرمایا؛اور کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا اور نہ وہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔(فاطر ١١)اور فرمایا: بے شک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم۔(لقمان ٣٤؛جلد٩ص١١٦،حدیث نمبر ٧٣٧٩)
مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اگر تم سے کوئی یہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ غلط کہتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ترجمہ کنز الایمان:آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں۔(انعام ١٠٣) اور جو کوئی کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {عَالِمُ الْغَيْبِ فَلاَ يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا}ترجمہ کنز الایمان :"غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا۔(جن٢٦)اور فرمایا؛اور کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا اور نہ وہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔(فاطر ١١)اور فرمایا: بے شک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم۔(لقمان ٣٤؛جلد٩ص١١٦،حدیث نمبر ٧٣٨٠)
شقیق بن سلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم (ابتداء اسلام میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور کہتے تھے «السلام على الله.» تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اللہ تو خود ہی «السلام.» ہے، البتہ اس طرح کہا کرو «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {السَّلاَمُ الْمُؤْمِنُ}ترجمہ کنز الایمان:سلامتی دینے والا امان بخشنے والا(حشر ٢٣)؛جلد٩ص١١٦،حدیث نمبر ٧٣٨١)
اس کے متعلق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ قیامت کے دن زمین کو اپنے قبضے میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا میں حقیقی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ۔“ شعیب اور زبیدی بن مسافر اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے بیان کیا اور ان سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {مَلِكِ النَّاسِ}(سب لوگوں کا بادشاہ(ناس ٢)؛جلد٩ص١١٦،حدیث نمبر ٧٣٨٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور وہی عزت و حکمت والا ہے۔اور جو اللہ کی عزت اور اس کی صفات کی قسم کھائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کہے گی «قط قط» کہ بس بس، تیری عزت کی قسم! اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان باقی رہ جائے گا جو سب سے آخری دوزخی ہو گا جسے جنت میں داخل ہونا ہے اور کہے گا: اے رب! میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے، تیری عزت کی قسم اس کے سوا اور میں کچھ نہیں مانگوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ عزوجل کہے گا کہ تمہارے لیے یہ ہے اور اس سے دس گنا“ اور ایوب علیہ السلام نے عرض کی میں تیری برکت سے بے نیاز نہیں ہوں۔“ یحییٰ بن یعمر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے ”تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی معبود تیرے سوا نہیں، تیری ایسی ذات ہے جسے موت نہیں اور جن و انس فنا ہو جائیں گے۔“ اس کے متعلق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَهُوَ العَزِيزُ الحَكِيمُ} [إبراهيم: ٤]، {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ العِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ} [الصافات: ١٨٠]، {وَلِلَّهِ العِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ} [المنافقون: ٨]، وَمَنْ حَلَفَ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ؛جلد٩ص١١٧،حدیث نمبر ٧٣٨٣)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے۔ (تیسری سند) اور خلیفہ بن خیاط نے اس حدیث کو معتمر بن سلیمان سے روایت کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دوزخیوں کو مسلسل دوزخ میں ڈالا جاتا رہے گا اور وہ کہے جائے گی کہ کیا ابھی اور ہے۔ یہاں تک کہ رب العالمین اس پر اپنا قدم رکھ دے گا اور پھر اس کا بعض بعض سے سمٹ جائے گا اور اس وقت وہ کہے گی کہ بس بس ‘ تیری عزت اور کرم کی قسم! اور جنت میں جگہ باقی رہ جائے گی۔ یہاں تک کہ اللہ اس کے لیے ایک اور مخلوق پیدا کر دے گا اور وہ لوگ جنت کے باقی حصے میں رہیں گے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَهُوَ العَزِيزُ الحَكِيمُ} [إبراهيم: ٤]، {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ العِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ} [الصافات: ١٨٠]، {وَلِلَّهِ العِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ} [المنافقون: ٨]، وَمَنْ حَلَفَ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ؛جلد٩ص١١٧،حدیث نمبر ٧٣٨٤)
طاؤس کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت یوں دعا کرتے تھے۔ (ترجمہ)”اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے تو آسمان و زمین کا مالک ہے، حمد تیرے لیے ہی ہے تو آسمان و زمین کا قائم کرنے والا ہے اور ان سب کا جو اس میں ہیں۔ تیری ہی لیے حمد ہے تو آسمان و زمین کا نور ہے۔ تیرا قول حق ہے اور تیرا وعدہ سچ ہے اور تیری ملاقات سچ اور جنت سچ اور دوزخ سچ ہے اور قیامت سچ ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکا دیا، میں تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا اور میں تجھی سے انصاف کا طلب گار ہوں۔ پس تو میری مغفرت کر، ان تمام گناہوں میں جو میں پہلے کیا یا بعد میں کروں چھپا کر کیا یا اعلانیہ کروں، تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔“ اور ہم سے ثابت بن محمد نے بیان کیا اور کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے پھر یہی حدیث بیان کی اور اس میں یوں ہے «أنت الحق وقولك الحق.» کہ ”تو حق ہے اور تیرا کلام حق ہے۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بِالْحَقِّ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور وہی ہے جس نے آسمان و زمین ٹھیک بناے؛جلد٩ص١١٧،حدیث نمبر ٧٣٨٥)
اعمش،تمیم،عروہ،حضرت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: شکر خدا کا جو تمام اوازوں کا سننے والا ہے پس اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی: ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملے میں بحث کرتی ہے۔(مجادلہ ١) ابو عثمان کا بیان ہے کہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک سفر میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے پس جب ہم بلندی چڑھتے تو تکبیر کہتے چنانچہ اپ نے فرمایا کہ اپنی جانوں پر اسانی کرو کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے بلکہ اس کو پکارتے ہو جو سنتا دیکھتا اور قریب ہے۔ پھر آپ میرے پاس تشریف لائے اور اس وقت میں دل میں لاحول ولا قوۃ کہہ رہا تھا تو اپ نے مجھ سے فرمایا کہ اسے عبداللہ بن قیس لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے یا یہ فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اللہ سنتا جانتا ہے۔(نساء ١٤٨)؛جلد٩ص١١٧،حدیث نمبر ٧٣٨٦)
ابو الخیر نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ یا رسول اللہ!مجھے ایسی دعا سکھائیے جسے میں نماز میں پڑھا کروں فرمایا یوں کہا کرو "اے اللہ!میں اپنی جان پر بڑا ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا پس مجھے بخش دے کیونکہ مغفرت تیری طرف سے ہے بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اللہ سنتا جانتا ہے۔(نساء ١٤٨)؛جلد٩ص١١٧،حدیث نمبر ٧٣٨٧۔٧٣٨٨)
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت جبرائیل نے مجھے اواز دے کر کہا کہ اللہ تعالی نے سن لیا جو آپ نے اپنی قوم سے فرمایا اور جو انہوں نے آپ کو جواب دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اللہ سنتا جانتا ہے۔(نساء ١٤٨)؛جلد٩ص١١٧،حدیث نمبر ٧٣٨٩)
عبداللہ بن حسن کا بیان ہے فرماتے ہیں مجھے حضرت جابر بن عبداللہ سلمیٰ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو ہر مباح کام میں استخارہ کرنا سکھاتے تھے جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ فرض کے سوا دو رکعت نفل نماز پڑھے، پھر سلام کے بعد یہ دعا کرے ”اے اللہ! میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں خیریت طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے طفیل طاقت مانگتا ہوں اور تیرا فضل۔ کیونکہ تجھے قدرت ہے اور مجھے نہیں ‘، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیوب کا بہت جاننے والا ہے۔ اے اللہ! پس اگر تو یہ بات جانتا ہے (اس وقت استخارہ کرنے والے کو اس کام کا نام لینا چاہئیے) کہ اس کام میں میرے لیے دنیا و آخرت میں بھلائی ہے یا اس طرح فرمایا کہ ”فی الحال اور انجام میرے لیے بھلائی ہے تو اسے میرے لیے مقدر فرما دے اور میرے لیے اسے آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما۔ اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے۔ میرے دین اور فی الحال کے اعتبار سے اور میرے انجام کے اعتبار سے، یا فرمایا کہ میری دنیا و دین کے اعتبار سے تو مجھے اس کام سے دور کر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس پر راضی اور خوش رکھ۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ}:ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:تم فرماؤ وہ قادر ہے۔(انعام ٦٥)؛جلد٩ص١١٨،حدیث نمبر ٧٣٩٠)
ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان: "اور ہم پھیر دیتے ہیں ان کے دلوں اور انکھوں کو"(انعام ١١٠) سالم بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یوں قسم کھایا کرتے تھے کہ قسم ہے دلوں کے پھیرنے والے کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ}”اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے“؛جلد٩ص١١٨،حدیث نمبر ٧٣٩١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ" ذوالجلال" عظمت والا" البر" لطف فرمانے والا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی 99 نام ہے یعنی 100 سے ایک کم جس نے انہیں یاد کیا وہ جنت میں داخل ہوا احصینا سے مراد ہے کہ انہیں یاد کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛توحید کا بیان؛بَابُ إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ اسْمٍ إِلاَّ وَاحِدًا؛اس بیان میں کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں؛جلد٩ص١١٨،حدیث نمبر ٧٣٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے بستر پر جائے تو اسے چاہئے کہ اسے اپنے کسی کپڑے کے کنارے سے تین مرتبہ جھاڑ لے اور یہ دعا پڑھے «باسمك رب وضعت جنبي وبك أرفعه، إن أمسكت نفسي فاغفر لها، وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”اے میرے رب! تیرا نام لے کر میں اپنی کروٹ رکھتا ہوں اور تیرے نام ہی کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو باقی رکھا تو اسے معاف کرنا اور اگر اسے (اپنی طرف سوتے ہی میں) اٹھا لیا تو اس کی حفاظت اس طرح کرنا جس طرح تو اپنے نیکوکار بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔“ اس روایت کی متابعت یحییٰ اور بشر بن الفضل نے عبیداللہ سے کی ہے، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اور زہیر، ابوضمرہ اور اسماعیل بن زکریا نے عبیداللہ سے یہ اضافہ کیا کہ ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس کی روایت ابن عجلان نے کی، ان سے سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اس کی متابعت محمد بن عبدالرحمٰن الداوردی اور اسامہ بن حفص نے کی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ" ذوالجلال" عظمت والا" البر" لطف فرمانے والا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا؛اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا؛جلد٩ص١١٩،حدیث نمبر ٧٣٩٣)
ربعی کا بیان ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جانے لگتے تو کہتے: اے اللہ!میں تیرے نام کے ساتھ مرتا اور جیتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو کہتے سب تعریفیں اللہ کے لیے جس نے ہمیں مر جانے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اکٹھا ہونا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا؛اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا؛جلد٩ص١١٩،حدیث نمبر ٧٣٩٤)
خرشہ بن حر کا بیان ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب اپنی خوابگاہ میں جانے لگتے تو کہتے۔ تیرے نام کے ساتھ ہم مرتے اور جیتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو کہتے سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مرنے کے بعد ہمیں زندہ کر دیا اور اسی کی طرف اکٹھا ہونا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا؛اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا؛جلد٩ص١١٩،حدیث نمبر ٧٣٩٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی جب اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے تو کہے اے اللہ!ہمیں شیطان سے دور رکھنا اور اس کو بھی شیطان سے دور رکھنا جو تو ہمیں عطا فرمائے پس اگر اس صحبت سے ان کی قسمت میں اولاد ہے تو شیطان اسے کبھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا؛اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا؛جلد٩ص١١٩،حدیث نمبر ٧٣٩٦)
ہمام کا بیان ہے کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور عرض کی کہ میں نے اپنا سکھایا ہوا کتا شکار کے پیچھے بھیجا۔ فرمایا کہ جب تم نے اپنا سکھایا ہوا کتا شکار کے پیچھے بھیجا اور اس پر اللہ کا نام لیا پھر اس نے ٹھہرا لیا تو اسے کھا لو اور جب تم نے معراض مارا اور اس کا جسم پھٹ گیا تو کھا لو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا؛اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا؛جلد٩ص١١٩،حدیث نمبر ٧٣٩٧)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ!یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں اور ان کا زمانہ شرک نزدیک گزرا ہے۔ وہ ہمارے پاس گوشت لے کر اتے ہیں ہمیں نہیں معلوم کہ اس پر انہوں نے اللہ کا نام لیا یا نہ لیا فرمایا کہ تم اللہ کے نام لے کر کھایا کرو۔ اسی طرح محمد بن عبدالرحمن اور دراوردی اور سامہ بن حفص نے روایت کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا؛اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا؛جلد٩ص١١٩،حدیث نمبر ٧٣٩٨)
قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھو کی قربانی پیش کی اور ان پر بسم اللہ اللہ اکبر کہا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا؛اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا؛جلد٩ص١٢٠،حدیث نمبر ٧٣٩٩)
اسود بن قیس نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ عید الاضحی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اپ نے نماز پڑھائی۔ پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے اسے چاہیے کہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے قربانی ذبح نہیں کی تو اسے چاہیے کہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا؛اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا؛جلد٩ص١٢٠،حدیث نمبر ٧٤٠٠)
عبداللہ بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ اپنے باپوں کی قسم نہ کھایا کرو اور اگر کسی نے قسم کھانی ہے تو اسے چاہیے کہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا؛اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا؛جلد٩ص١٢٠،حدیث نمبر ٧٤٠١)
خبیب کا بیان ہے کہ یہ معبود کی ذات ہے انہوں نے ذات کا اللہ کے نام کے ساتھ ذکر کیا۔ عمرو بن ابو سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی جو بنی زہرہ کے حلیف تھے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس اکابر صحابہ کو جن میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے،روانہ فرمایا۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی کہ حارث کی صاحبزادی زینب نے انہیں بتایا کہ جب لوگ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے آمادہ ہوئے (اور قید میں تھے) تو اسی زمانے میں انہوں نے ان سے پاکی حاصل کرنے کے لیے استرہ لیا تھا، جب وہ لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو حرم سے باہر قتل کرنے لے گئے تو انہوں نے یہ اشعار کہے۔ (ترجمہ)”اور جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی پروا نہیں کہ مجھے کس پہلو پر قتل کیا جائے گا اور میرا یہ مرنا اللہ کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے گا تو میرے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے اعضاء پر برکت نازل کرے گا۔“ پھر ابن الحارث نے انہیں قتل کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس حادثہ کی اطلاع اسی دن دی جس دن یہ حضرات شہید کئے گئے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الذَّاتِ وَالنُّعُوتِ وَأَسَامِي اللَّهِ؛اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور اسماء کا ذکر؛جلد٩ص١٢٠،حدیث نمبر ٧٤٠٢)
اور ارشاد باری تعالی ہے:تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے۔(مائدہ ١١٦) شفیق نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی سے زیادہ غیرت مند اور کوئی نہیں اس لیے اس نے بے حیائی کے کاموں کو حرام فرمایا ہے اور ایسا کوئی نہیں جسے اللہ سے زیادہ اپنی مدح محبوب ہو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔(آل عمران ٢٨؛جلد٩ص١٢٠،حدیث نمبر ٧٤٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا وہ اپنی ذات کے بارے میں لکھتا ہے جو عرش پر رکھی ہوئی ہے کہ میرے غضب پر میری رحمت حاوی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔(آل عمران ٢٨؛جلد٩ص١٢٠،حدیث نمبر ٧٤٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ رہتا ہوں اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ رہتا ہوں۔ پس اگر وہ مجھے اپنے جی میں یاد کرے تو میں اسے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر مجمعے میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ بالشت بھر میرے نزدیک ہوتا ہے تو میں گز بھر اس سے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ گز بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کی قدر اس سے نزدیک ہو جاتا ہوں اور اگر وہ چل کر میری جانب اتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی جانب جاتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔(آل عمران ٢٨؛جلد٩ص١٢١،حدیث نمبر ٧٤٠٥)
عمرو بن دینار کا بیان ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ترجمہ کنز الایمان:"تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے۔(انعام ٦٥)تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ میں تیرے وجہ کریم کی پناہ پکڑتا ہوں۔ پھر جب فرمایا" یا تمہارے پاؤں کے تلے سے"(انعام ٦٥)تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ میں تیرے وجہ کریم کی پناہ پکڑتا ہوں۔جب فرمایا:"یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کر کے"۔(انعام ٦٥)تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی کہ یہ سب سے سہل ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلاَّ وَجْهَهُ؛ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے؛جلد٩ص١٢١،حدیث نمبر ٧٤٠٦)
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور دجال کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی تم پر مخفی نہیں ہے،اللہ تعالی کانا نہیں ہے اور اپنے دست مبارک سے اپنی چشم مبارک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا دجال داہنی انکھ سے کانا ہے گویا اس کی آنکھ پکے ہوئے انگور کی طرح ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي} تُغَذَّىوقوله جل ذكره: {تجري باعيننا}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو۔ارشاد باری تعالیٰ:کہ ہماری نگاہ کے روبرو بہتی؛جلد٩ص١٢١،حدیث نمبر ٧٤٠٧)
قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا مگر اس نے اپنی قوم کو کانے عذاب سے ڈرایا کہ وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اس کی دونوں انکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي} تُغَذَّىوقوله جل ذكره: {تجري باعيننا}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو۔ارشاد باری تعالیٰ:کہ ہماری نگاہ کے روبرو بہتی؛جلد٩ص١٢١،حدیث نمبر ٧٤٠٨)
ابن محیریز نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب غزوہ بنی مصطلق سے ہمیں لونڈیاں حاصل ہوئی تو ارادہ کیا کہ ان کے ساتھ صحبت کرے لیکن حمل نہ ٹھہریں۔چنانچہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی نے لکھ دیا ہے کہ اس نے قیامت تک کس کو پیدا کرنا ہے۔ مجاہد،قزعہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا کوئی آدمی نہیں مگر اس کا خالق اللہ ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ: {هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ}؛ ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛وہی ہے اللہ بنانے والا پیدا کرنے والا ہر ایک کو صورت دینے والا۔(الحشر ٢٤)؛جلد٩ص١٢١،حدیث نمبر ٧٤٠٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جمع فرماے گا پس وہ کہیں گے کیوں نہ ہم ایسی ہستی کو تلاش کریں جو ہمارے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کر کے ہمیں اس جگہ سے نجات دلاے ۔پس وہ حضرت آدم کی خدمت میں حاضر کر عرض کریں گےکہ کیا آپ ملاحظہ نہیں نہیں فرماتے حالانکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا اور فرشتوں کو حکم فرمایا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔لہذا اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے۔چناچہ وہ اپنی لغزش کا ذکر کر کے فرمائیں گے کہ تمہارا کام مجھ سے نہیں ہو پائے گا تم نوح کے پاس جاؤ، وہ سب سے پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے لیکن وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ تمہارا کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا ۔ وہ اپنی لغزش کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ تم ابراہیم کے پاس جاؤ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا تھا۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے لیکن یہ بھی یہی کہیں گے کہ تمہارا کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا ، اپنی لغزش کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ موسیٰ کے پاس جاؤ جن کو اللہ تعالیٰ نے توریت عطاء فرمائی اور ان سے کلام کیا تھا۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے لیکن وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ تمہارا کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا، اپنی لغزش کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔وہ اللہ کے بندے اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی جانب کی روح ہیں تو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، لیکن یہ بھی کہیں گے کہ تمہارا کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ کیونکہ ان کے لے ان کے تمام اگلے پچھلے لغزشیں معاف کر دئیے گئے ہیں ۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے۔ اس وقت میں اپنے رب سے (شفاعت کی) اجازت چاہوں گا اور سجدہ میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ جتنی دیر تک چاہے گا مجھے سجدہ میں رہنے دے گا۔ پھر کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھا لو، مانگو دیا جائے گا، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو، شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنے رب کی اس وقت ایسی حمد بیان کروں گا کہ جو اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا۔ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی اور میں لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا اور اسی طرح سجدہ میں گر جاؤں گا، تیسری یا چوتھی مرتبہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روکا ہے (یعنی جن کے جہنم میں ہمیشہ رہنے کا ذکر قرآن میں صراحت کے ساتھ ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے وہ بھی نکل آئے گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہوگا اور جس کے دل میں جو کے برابر بھی بھلائی ہوگی پھر جہنم سے وہ نکلیں گے جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا ہوگا اور ان کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی بھلائی ہوگی پھر جہنم سے وہ نکلے گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو گا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی بھلائی ہوگی۔ (بخاری شریف؛کتاب التوحید؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا(ص٧٥)؛٨ص١٢١؛حدیث نمبر ٧٤١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ اللہ تعالی کا دست قدرت بھرا ہوا ہے اور شب و روز کا خرچ کرنا بھی اسے کم نہیں کرتا۔ فرمایا کہ کیا تم نے دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کو جب پیدا فرمایا تو اس وقت سے کتنا خرچ کیا ہے لیکن جو کچھ اس کے دست قدرت میں ہے اس کے اندر کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر تھا اور دوسرے ہاتھ میں میزان جسے نیچے اور اوپر کرتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ؛ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا(ص٧٥)؛جلد٩ص١٢٢،حدیث نمبر ٧٤١١)
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ بروز قیامت اللہ تعالی زمین کو اپنے قبضے میں لے لے گا اور اسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں پھر فرمائے گا بادشاہ میں ہوں۔ عمر بن حمزہ، سالم، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ؛ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا(ص٧٥)؛جلد٩ص١٢٢،حدیث نمبر ٧٤١٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ اللہ زمین کو قبضے میں لے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ؛ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا(ص٧٥)؛جلد٩ص١٢٢،حدیث نمبر ٧٤١٣)
عبیدہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر کہنے لگا اے محمد!بے شک اللہ تعالی اسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر، پہاڑوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر اور ساری مخلوق کو ایک انگلی پر سنبھال کر کہے گا کہ بادشاہ میں ہوں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتی کہ دندان مبارک نظر آنے لگے پھر اپ نے یہ آیت پڑھی ترجمہ کنز الایمان:اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کا حق تھا۔(زمر ٦٧) یحیی بن سعید کا بیان ہے کہ اضافے کے ساتھ فضل بن عیاض،منصور، ابراہیم، عبیدہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماحیرانی سے ہنس پڑے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ؛ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا(ص٧٥)؛جلد٩ص١٢٢،حدیث نمبر ٧٤١٤)
علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا اے ابو القاسم!اللہ تعالی آسمانوں کو ایک انگلی پر سنبھال کر کہے گا بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔ بس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہنس پڑے حتی کہ دندان مبارک ظاہر ہو گئے پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ایت پڑھی۔ترجمہ کنز الایمان اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کا حق تھا۔(انعام ٩١)۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ؛ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا(ص٧٥)؛جلد٩ص١٢٣،حدیث نمبر ٧٤١٥)
وراد کاتب مغیرہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں کسی کو اپنی زوجہ کے پاس دیکھ لوں تو تلوار کی دھار سے اس کا کام تمام کر دوں-جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی تو فرمایا!تم سعد کی غیرت پر حیران ہوتے ہو حالانکہ میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالی مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے۔ اسی غیرت کے سبب اللہ تعالی نے بے حیائی کے کاموں کو حرام فرمایا ہے خواہ بے حیائی ظاہر ہو یا مخفی اور اللہ تعالی کو عذر سے زیادہ اور کوئی چیز محبوب نہیں اسی لیے اس نے بشارت دینے اور ڈرانے کے لیے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا اور اللہ تعالی کو اپنی مدح سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں اس لیے اس نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ»؛وقال عبيد الله بن عمرو عن عبد الملك لا شخص اغير من الله؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”اللہ سے زیادہ غیرت مند اور کوئی نہیں“؛اور عبیداللہ بن عمرو نے عبدالملک سے روایت کی کہ ”اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں۔“؛جلد٩ص١٢٤،حدیث نمبر ٧٤١٦)
ابوحاز نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا؛ کیا تمہیں قران کریم سے کچھ یاد ہے اس نے عرض کی کہ ہاں فلاں فلاں سورتیں اور ان کے نام عرض کئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٤،حدیث نمبر ٧٤١٧)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور اس کا عرش پانی پر تھا۔(ھود ٧)اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے"(توبہ ١٢٩) ابوالعالیہ نے بیان کیا کہ «استوى إلى السماء» کا مفہوم یہ ہے کہ وہ آسمان کی طرف بلند ہوا۔ «فسواهن» یعنی پھر انہیں پیدا کیا۔ مجاہد نے کہا کہ «استوى» بمعنی «على العرش.» ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ «مجيد» بمعنی «كريم» ۔ «الودود» بمعنی «الحبيب.» بولتے ہیں۔ «حميد»، «مجيد» ۔ گویا یہ فعیل کے وزن پر ماجد سے ہے اور «محمود»، «حميد.» سے مشتق ہے۔ صفوان بن محرز کا بیان ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ بنی تمیم کے کچھ افراد اپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ اے بنی تمیم!بشارت قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ اپ نے بشارت تو دی مال بھی دیجیے۔ پھر کچھ یمن کے لوگ ائے تو آپ نے فرمایا کہ اے اہل یمن! بشارت قبول کرو جبکہ بنی تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے قبول کی اب اپ کی بارگاہ میں دین کی سمجھ حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں اور یہ کہ اس دنیا سے پہلے کیا تھا۔ فرمایا کہ اللہ تعالی ہی تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھ دیا۔ پھر میرے پاس ایک شخص آکر کہنے لگا کہ اے عمران! اپنی اونٹنی کی خبر لو کہ وہ بھاگ گئی ہے پس میں اس کی تلاش میں چلا گیا تو وہ سراب سے دور جا پہنچی تھی۔ خدا کی قسم میں تو یہی چاہتا تھا کہ خواہ وہ چلی گئی ہے لیکن اپ کے پاس سے کھڑا نہ ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٤،حدیث نمبر ٧٤١٨)
ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کا دایاں دست قدرت بھرا ہوا ہے، رات دن کی عطائیں اسے کم نہیں کرتی۔ کیا تم نے دیکھا کہ جب سے آسمان اور زمین پیدا ہوئے کتنا خرچ کیا جا چکا لیکن جو کچھ اس کے قبضے میں ہے اس میں سے ذرا بھی کم نہیں ہوا اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے دست قدرت میں فیض ہے جس سے بلند اور پست کرنا رہتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٤،حدیث نمبر ٧٤١٩)
ثابت بنانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (اپنی بیوی کی) شکایت کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے۔ بیان کیا چنانچہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواج مطہرات پر فخر سے کہتی تھی کہ تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے نکاح کی۔ اور میری اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے نکاح کی اور ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت۔ترجمہ کنز الایمان؛اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنے کا اندیشہ تھا۔(احزاب ٣٧)حضرت زینب اور حضرت زینب بنت حارثہ رضی اللہ عنہما کے حق میں نازل ہوئی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٤،حدیث نمبر ٧٤٢٠)
عیسی بن طہمان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ پردے کی آیت حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے حق میں نازل ہوئی اور ان کے ولیمہ میں آپ نے روٹی اور گوشت کھلایا اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ میرا نکاح آسمان پر ہوا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٥،حدیث نمبر ٧٤٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا بے شک میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٥،حدیث نمبر ٧٤٢٢)
عطا بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ جو ایمان لایا اللہ اور اس کے رسول پر اور نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالی پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کر دے اور جس نے ہجرت کی یا اپنی جگہ میں بیٹھا رہا جہاں پیدا ہوا۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ کیا یہ بات ہم لوگوں کو بتا دے آپ نے فرمایا کہ جنت میں 100 درجے ہیں جو اللہ تعالی نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین اور اسمان کے درمیان جب تم اللہ تعالی سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ یہ جنت کا درمیانی اور سب سے اونچا حصہ ہے اور اس سے اوپر اللہ کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٥،حدیث نمبر ٧٤٢٣)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے جب سورج ڈوب گیا تو فرمایا۔ اے ابوذر! کیا تمہیں علم ہے کہ یہ کہاں جاتا ہے میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں فرمایا کہ یہ جا کر سجدے کی اجازت طلب کرتا ہے۔ تو اسے اجازت مل جاتی ہے ۔گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ جہاں سے آیا ہے وہاں چلا جا تو وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔ پھر اپ نے یہ ایت پڑھی ترجمہ کنز الایمان"ایک ٹھہراؤ کے لیے"(یس٣٨)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٥،حدیث نمبر ٧٤٢٤)
موسیٰ ،ابراهيم، ابن شہاب، عبید بن سیاق نے حضرت زید بن ثابت سے روایت کی ہے، عبد اللہ بن خالد،ابن شہاب ابن سباق نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا بھیجا۔پس میں نے قرآن کریم کو تلاش کیا،یہاں تک کہ مجھے سورۃ التوبہ کی آخری آیت صرف حضرت خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی اور اس کے سوا کسی دوسرے کے پاس میں نے اسے نہ پایا یعنی لقد جاء کم رسول من انفسکم سے آخر سور التوبہ تک۔(توبہ ١٢٨) یحیی بن بکیر، لیث نے یونس سے اسی طرح روایت کرتے ہوئے کہا کہ صرف حضرت ابو خزیمہ رضی اللہ عنہ انصاری کے پاس ملی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٥،حدیث نمبر ٧٤٢٥)
ابو العالیہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرب کی حالت میں یوں کہا کرتے تھے۔نہیں کوئی معبود مگر اللہ جو علم و حکمت والا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ جو آسمان، زمین اور عزت والے عرش کا رب ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٦،حدیث نمبر ٧٤٢٦)
یحیی بن عمارہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بروز قیامت سب بے ہوش ہو جائیں گے۔ جب میں ہوش میں آؤں گا تو دیکھوں گا کہ حضرت موسی عرش کے پایوں میں سے ایک پایا پکڑے کھڑے ہوں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٦،حدیث نمبر ٧٤٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ سب سے پہلے مجھے ہوش میں لا کر اٹھایا جائے گا تو میں دیکھوں گا کہ حضرت موسی عرش کو پکڑے کھڑے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛{قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللَّهُ}خدا کی گواہی سب سے بڑی ہے۔(انعام ١٩) اسی لیے اللہ تعالی نے نام لے کر فرمایا کہ تم فرما دو کہ اللہ کی گواہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو شیئا کہا ہے اور یہ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ نیز فرمان الہی ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے(قصص ٨٨)؛جلد٩ص١٢٦،حدیث نمبر ٧٤٢٨)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛ملائکہ اور جبرائیل اس کی بارگاہ کی طرف عروج کرتے ہیں۔(المعارج ٤)اور ارشاد باری تعالی ہے؛ اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام۔(فاطر ١٠) اور ابوحمزہ نے بیان کیا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثت کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ مجھے اس شخص کی خبر لا کر دو جو کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔ اور مجاہد نے کہا نیک عمل پاکیزہ کلمے کو اٹھا لیتا ہے۔ (اللہ تک پہنچا دیتا ہے) «ذي المعارج» سے مراد فرشتے ہیں جو آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات اور دن کے فرشتے تمہارے پاس باری باری آتے ہیں اور نماز عصر اور فجر کے وقت ان کا اجتماع ہوتا ہے۔ پھر جن فرشتوں نے تمہارے ساتھ رات گزاری ہوتی ہے وہ آسمان کی جانب چڑھتے ہیں تو وہ سب کچھ جانتے ہوئے ان سے پوچھتا ہے اور فرماتا ہے کہ میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟وہ عرض کرتے ہیں کہ جب ہم نے انہیں چھوڑا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {تَعْرُجُ الْمَلاَئِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ}:وقوله جل ذكره: {إليه يصعد الكلم الطيب} وقال ابو جمرة عن ابن عباس بلغ ابا ذر مبعث النبي صلى الله عليه وسلم فقال لاخيه اعلم لي علم هذا الرجل الذي يزعم انه ياتيه الخبر من السماء. وقال مجاهد العمل الصالح يرفع الكلم الطيب، يقال ذي المعارج الملائكة تعرج إلى الله؛جلد٩ص١٢٦،حدیث نمبر ٧٤٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جس نے ایک کھجور کے برابر بھی پاک روزی خیرات کی اور اللہ تعالی کی بارگاہ تک نہ پہنچی مگر پاکیزہ روزی تو اللہ تعالی اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے اور پھر اس نیکی کرنے والے کے لیے اس کی پرورش کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرے حتی کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔ورقاء عبد اللہ بن دینار،سعید بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک نہیں پہنچی مگر پاکیزہ روزی۔۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {تَعْرُجُ الْمَلاَئِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ}:وقوله جل ذكره: {إليه يصعد الكلم الطيب} وقال ابو جمرة عن ابن عباس بلغ ابا ذر مبعث النبي صلى الله عليه وسلم فقال لاخيه اعلم لي علم هذا الرجل الذي يزعم انه ياتيه الخبر من السماء. وقال مجاهد العمل الصالح يرفع الكلم الطيب، يقال ذي المعارج الملائكة تعرج إلى الله؛جلد٩ص١٢٦،حدیث نمبر ٧٤٣٠)
ابو العالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرب کی حالت میں یوں دعا کیا کرتے؛نہیں کوئی معبود مگر اللہ جو عظمت اور حلم والا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر اللہ جو آسمان اور عزت والے عرش کا رب ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {تَعْرُجُ الْمَلاَئِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ}:وقوله جل ذكره: {إليه يصعد الكلم الطيب} وقال ابو جمرة عن ابن عباس بلغ ابا ذر مبعث النبي صلى الله عليه وسلم فقال لاخيه اعلم لي علم هذا الرجل الذي يزعم انه ياتيه الخبر من السماء. وقال مجاهد العمل الصالح يرفع الكلم الطيب، يقال ذي المعارج الملائكة تعرج إلى الله؛جلد٩ص١٢٦،حدیث نمبر ٧٤٣١)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سونا بھیجا گیا تو آپ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔ اور مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، ان سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے، انہیں ابن ابی نعم نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچھ سونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدری فزاری، علقمہ بن علاثہ العامری اور زید الخیل الطائی میں تقسیم کر دیا۔ اس پر قریش اور انصار ناراض ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نجد کے رئیسوں کو تو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک مصلحت کے لیے ان کا دل بہلاتا ہوں۔ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، پیشانی ابھری ہوئی تھی، داڑھی گھنی تھی، دونوں کلے پھولے ہوئے تھے اور سر گٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا: اے محمد! اللہ سے ڈر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں بھی اس (اللہ) کی نافرمانی کروں گا تو پھر کون اس کی اطاعت کرے گا؟ اس نے مجھے زمین پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے۔ پھر حاضرین میں سے ایک صحابی خالد رضی اللہ عنہ (یا عمر رضی اللہ عنہ) نے اس کے قتل کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ پھر جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کے صرف لفظ پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکال جائیں گے جس طرح تیر شکاری جانور میں سے پار نکل جاتا ہے، وہ مسلمانوں کوقتل کریں اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے اگر میں نے ان کا دور پایا تو انہیں قوم عاد کی طرح نیست و نابود کر دوں گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {تَعْرُجُ الْمَلاَئِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ}:وقوله جل ذكره: {إليه يصعد الكلم الطيب} وقال ابو جمرة عن ابن عباس بلغ ابا ذر مبعث النبي صلى الله عليه وسلم فقال لاخيه اعلم لي علم هذا الرجل الذي يزعم انه ياتيه الخبر من السماء. وقال مجاهد العمل الصالح يرفع الكلم الطيب، يقال ذي المعارج الملائكة تعرج إلى الله؛جلد٩ص١٢٧،حدیث نمبر ٧٤٣٢)
ابراہیم تیمیہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمان الٰہی :ترجمہ کنز الایمان: اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے۔(یس ٣٨)کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کا ٹھہراؤ عرش کے نیچے ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {تَعْرُجُ الْمَلاَئِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ}:وقوله جل ذكره: {إليه يصعد الكلم الطيب} وقال ابو جمرة عن ابن عباس بلغ ابا ذر مبعث النبي صلى الله عليه وسلم فقال لاخيه اعلم لي علم هذا الرجل الذي يزعم انه ياتيه الخبر من السماء. وقال مجاهد العمل الصالح يرفع الكلم الطيب، يقال ذي المعارج الملائكة تعرج إلى الله؛جلد٩ص١٢٧،حدیث نمبر ٧٤٣٣)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:کچھ منھ اس دن ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے۔ قیس بن ابو حازم کا بیان ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے تو آپ نے چودھویں کے چاند کی جانب دیکھ کر فرمایا: بہت جلد تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھنے سے مجبور نہ کر دیے جاؤ تو پڑھ لیا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٢٧،حدیث نمبر ٧٤٣٤)
ابو حازم نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛بہت جلد تم اپنے رب کو واضح طور پر دیکھو گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٢٧،حدیث نمبر ٧٤٣٥)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک چودھویں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا؛بہت جلد تم قیامت میں اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اسے دیکھتے ہو اور تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٢٧،حدیث نمبر ٧٤٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے پوچھا کیا جب بادل نہ ہوں تو تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ تم میں جو کوئی جس کی عبادت کیا کرتا تھا وہ اس کے پیچھے لگ جائے۔چنانچہ جو سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے ہو جائے گا، جو چاند کی پوجا کرتا تھا وہ چاند کے پیچھے ہو جائے گا اور جو بتوں کی پوجا کرتا تھا وہ بتوں کے پیچھے لگ جائے گا۔پھر یہ امت باقی رہ جائے گی جس میں اس کی شفاعت کرنے والے یا اس کے کے منافق بھی ہوں گے۔ابراہیم کو ان لفظوں میں شک تھا۔ پھر اللہ ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ جواب دیں گے کہ ہم یہیں رہیں گے۔ یہاں تک کہ ہمارا رب آ جائے، جب ہمارا رب آ جائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ اقرار کریں گے کہ تو ہمارا رب ہے۔ چنانچہ وہ اس کے پیچھے ہو جائیں گے اور دوزخ کی پیٹھ پر پل صراط نصب کر دیا جائے گا اور میں اور میری امت سب سے پہلے اس کو پار کرنے والے ہوں گے اور اس دن صرف انبیاء بات کر سکیں گے اور انبیاء کی زبان پر یہ ہو گا۔ اے اللہ! مجھ کو محفوظ رکھ،مجھ کو محفوظ رکھ۔ اور دوزخ میں درخت سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ کیا تم نے سعدان دیکھا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سعدان کے کانٹوں ہی کی طرح ہوں گے البتہ وہ اتنے بڑے ہوں گے کہ اس کا طول و عرض اللہ کے سوا اور کسی کو معلوم نہ ہو گا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے بدلے میں اچک لیں گے تو ان میں سے کچھ وہ ہوں گے جو تباہ ہونے والے ہوں گے اور اپنے عمل بد کی وجہ سے وہ دوزخ میں گر جائیں گے یا اپنے عمل کے ساتھ بندھے ہوں گے اور ان میں بعض ٹکڑے کر دئیے جائیں گے یا بدلہ دئیے جائیں گے یا اسی جیسے الفاظ بیان کئے۔ پھر اللہ تعالیٰ تجلی فرمائے گا اور جب بندوں کے فیصلے فرما چکے گا اور دوزخیوں میں سے جسے اپنی رحمت سے باہر نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے انہیں دوزخ سے باہر نکالیں، یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ رحم کرنا چاہے گا۔ ان میں سے جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کیا تھا۔ چنانچہ فرشتے انہیں سجدوں کے نشان سے دوزخ میں پہچانیں گے۔ دوزخ ابن آدم کا ہر عضو جلا کر بھسم کر دے گی سوا سجدہ کے نشان کے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو جلائے (یا اللہ! ہم گنہگاروں کو دوزخ سے محفوظ رکھ ہم کو تیری رحمت سے یہی امید ہے) چنانچہ یہ لوگ دوزخ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ یہ جل بھن چکے ہوں گے۔ پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا اور یہ اس کے نیچے سے اس طرح نکلیں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ اگ آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ فرما چکا ہوگا۔ ایک شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہو گا، وہ ان دوزخیوں میں سب سے آخری انسان ہو گا جسے جنت میں داخل ہونا ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! میرا منہ دوزخ سے پھیر دے کیونکہ مجھے اس کی گرم ہوا نے پریشان کر رکھا ہے اور اس کی تیزی نے جھلسا ڈالا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے وہ اس وقت تک دعا کرتا رہے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں گا تو تو مجھ سے کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگوں گا اور وہ شخص اللہ رب العزت سے بڑے عہد و پیمان کرے گا۔ چنانچہ اللہ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا۔ پھر جب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھے گا تو اتنی دیر خاموش رہے گا جتنی دیر اللہ تعالیٰ اسے خاموش رہنے دینا چاہے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! مجھے صرف جنت کے دروازے تک پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے دیا ہے اس کے سوا اور کچھ کبھی تو نہیں مانگے گا؟ افسوس ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! اور اللہ سے دعا کرے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کر دیا تو اس کے سوا کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا اور جتنے اللہ چاہے گا وہ شخص وعدہ کرے گا۔ چنانچہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا۔ پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو جائے گا تو جنت اسے سامنے نظر آئے گی اور دیکھے گا کہ اس کے اندر کس قدر خیریت اور مسرت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جتنی دیر چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا۔ پھر کہے گا: اے رب! مجھے جنت میں پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ اس پر کہے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے تجھے دے دیا ہے اس کے سوا تو اور کچھ نہیں مانگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا افسوس! ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بڑھ کر بدبخت نہ بنا۔ چنانچہ وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں پر(اپنی شان کے مطابق)ہنس دے گا، جب ہنس دے گا تو اس کے متعلق کہے گا کہ اسے جنت میں داخل کر دو۔ جنت میں اسے داخل کر دے گا تو اس سے فرمائے گا کہ اپنی آرزوئیں بیان کر، وہ اپنی تمام آرزوئیں بیان کر دے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا۔ وہ کہے گا کہ فلاں چیز، فلاں چیز، یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ آرزوئیں اور انہی جیسی تمہیں ملیں گی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٢٨،حدیث نمبر ٧٤٣٧)
عطا بن یزید نے بیان کیا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے۔ ان کی حدیث کا کوئی حصہ رد نہیں کرتے تھے۔ البتہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کہے گا کہ ”یہ اور انہیں جیسی تمہیں اور ملیں گی“ تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کے دس گنا ملیں گی اے ابوہریرہ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد یاد ہے کہ ”یہ اور انہیں جیسی اور“ اس پر ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے آپ کا یہ ارشاد یاد کیا ہے کہ ”تمہیں یہ سب چیزیں ملیں گی اور اس سے دس گنا“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ شخص جنت میں سب سے آخری داخل ہونے والا ہو گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٢٨،حدیث نمبر ٧٤٣٨)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم کو سورج اور چاند دیکھنے میں کچھ تکلیف ہوتی ہے جب کہ آسمان بھی صاف ہو؟ ہم نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر اپنے رب کے دیدار میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پیش آئے گی جس طرح سورج اور چاند کو دیکھنے میں نہیں پیش آتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ ہر قوم اس کے ساتھ جائے جس کی وہ عبادت کیا کرتی تھی۔ چنانچہ صلیب کے پجاری اپنی صلیب کے ساتھ، بتوں کے پجاری اپنے بتوں کے ساتھ، تمام جھوٹے معبودوں کے پجاری اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے اور صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرنے والے تھے۔ ان میں نیک و بد دونوں قسم کے مسلمانوں ہوں گے اور اہل کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگ بھی ہوں گے۔ پھر دوزخ ان کے سامنے پیش کی جائے گی وہ ایسی چمکدار ہو گی جیسے میدان کا ریت ہوتا ہے۔ (جو دور سے پانی معلوم ہوتا ہے) پھر یہود سے پوچھا جائے گا کہ تم کس کے پوجا کرتے تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہم عزیر ابن اللہ کی پوجا کیا کرتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ تم جھوٹے ہو اللہ کے نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی لڑکا۔ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم پانی پینا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے سیراب کیا جائے۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیو وہ اس چمکتی ریت کی طرف پانی جان کر چلیں گے اور پھر وہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے۔ پھر نصاریٰ سے کہا جائے گا کہ تم کس کی پوجا کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم مسیح ابن اللہ کی پوجا کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹے ہو۔ اللہ کے نہ بیوی تھی اور نہ کوئی بچہ، اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پانی سے سیراب کئے جائیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیو (ان کو بھی اس چمکتی ریت کی طرف چلایا جائے گا) اور انہیں بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہی باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے، نیک و بد دونوں قسم کے مسلمان، ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو جب کہ سب لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے کہ ہم تو ان سے اس وقت علیحدہ ہوگئے تھے جبکہ ہمیں اس بات کی آج سے زیادہ حاجت تھی اور ہم نے ایک ندا کرنے والے کی ندا سنی ہے کہ ہر قوم اس سے جا ملے جس کی وہ عبادت کرتے تھے تو ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔ بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے اور اس دن انبیاء کے سوا اور کوئی بات نہیں کرے گا۔ پھر پوچھے گا: کیا تمہیں اس کی کوئی نشانی معلوم ہے؟ وہ کہیں گے کہ «ساق.» پنڈلی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر مومن اس کے لیے سجدہ میں گر جائے گا۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھاوے اور شہرت کے لیے اسے سجدہ کرتے تھے، وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تختہ کی طرح ہو کر رہ جائے گی۔ پھر انہیں پل پر لایا جائے گا۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! پل کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا , وہ ایک پھسلنے اور گرنے کا مقام ہے اس پر کانٹے ہیں، آنکڑے ہیں، چوڑے چوڑے بل ہیں جو نجد کے ٹیڑھے کانٹوں کو طرح ہیں جنہیں سعدان کہا جاتا ہے۔ مومن اس پر پلک مارنے کی طرح، بجلی کی طرح، ہوا کی طرح، تیز رفتار گھوڑے اور سواری کی طرح گزر جائیں گے۔ ان میں بعض تو صحیح سلامت نجات پانے والے ہوں گے اور بعض جہنم کی آگ سے جھلس کر بچ نکلنے والے ہوں گے یہاں تک کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گزرے گا۔تم اپنا حق معلوم ہونے کے بعد اتنی شدت کے ساتھ مجھ سے مطالبہ نہیں کرتے جتنی شدت کے ساتھ تمہارے لیے مومن اس دن اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کریں گے اور جب وہ دیکھیں گے کہ اپنے بھائیوں میں سے انہیں نجات ملی ہے تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے (نیک) اعمال کرتے تھے (ان کو بھی دوزخ سے نجات فرما) چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے دوزخ سے نکال لو اور اللہ ان کے چہروں کو دوزخ پر حرام کر دے گا۔ چنانچہ وہ آئیں گے اور دیکھیں گے کہ بعض کا تو جہنم میں قدم اور آدھی پنڈلی جلی ہوئی ہے۔ چنانچہ جنہیں وہ پہچانیں گے انہیں دوزخ سے نکالیں گے، پھر واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں آدھی دینار کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کو نکالیں گے۔ پھر وہ واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ پہچانے جانے والوں کو نکالیں گے۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم مجھے سچا نہیں جانتے تو یہ آیت پڑھ لو۔ترجمہ کنز الایمان:اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا۔(نساء٤٠)پھر انبیاء اور مومنین اور فرشتے شفاعت کریں گے اور پروردگار کا ارشاد فرماے گا کہ اب جبار کی شفاعت باقی رہ گئی چنانچہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھر لے گا اور ایسے لوگوں کو نکالے گا جو کوئلہ ہو گئے ہوں گے۔ پھر وہ جنت کے سرے پر ایک نہر میں ڈال دئیے جائیں گے جسے نہر آب حیات کہا جاتا ہے اور یہ لوگ اس کے کنارے سے اس طرح ابھریں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ ابھر آتا ہے۔ تم نے یہ منظر کسی چٹان کے یا کسی درخت کے کنارے دیکھا ہو گا تو جس پر دھوپ پڑتی رہتی ہے وہ سبزا بھرتا ہے اور جس پر سایہ ہوتا ہے وہ سفید ابھرتا ہے۔ پھر وہ اس طرح نکلیں گے جیسے موتی چمکتا ہے۔ پھر ان کی گردنوں میں مہریں لگا دی جائے گی تو وہ سب جنت میں داخل ہو جائیں گے پس اہل جنت کہیں گے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالی نے ازاد کیا ہے بغیر ان کے عمل کیے اور بغیر کوئی نیکی آگے بھیجے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو تم دیکھتے ہو اور اتنا ہی اور بھی ملے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٢٩،حدیث نمبر ٧٤٣٩)
حضرت قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن مومنوں کو روک دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی وجہ سے وہ غمگین ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش کوئی ہمارے رب سے ہماری شفاعت کرتا کہ ہمیں اس حالت سے نجات ملتی۔ چنانچہ وہ مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور آپ کو جنت میں مقام عطا کیا، آپ کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہماری شفاعت اپنے رب کے حضور میں کریں تاکہ ہمیں اس حالت سے نجات دے۔وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے کام کے لیے نہیں،پھر اپنی ایک بھول کا ذکر کریں گے جو ان سے سرزد ہوئی ہوگی کہ اس درخت سے چکھ لیا جس سے انہیں منع فرمایا گیا تھا۔اور کہیں گے کہ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کے لئے مبعوث فرمایا۔ چنانچہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے کام کے نہیں اور اپنی ایک بھول کا ذکر کریں گے جو ان سے ہوئی ہوگی کہ اپنے رب سے بغیر علم کے سوال کر بیٹھے کہیں گے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں۔ بیان کیا کہ ہم سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے کام کے لیے نہیں اور اپنے تین ایسے کلمات کا ذکر کریں گے جو بظاہر خلاف واقعہ تھے۔فرمائیں گے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے توریت دی اور ان سے بات کی اور ان کو خاص قرب عطاء فرمایا۔ بیان کیا کہ پھر لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ میں تمہارے کام کے لیے نہیں اور اپنی ایک بھول کا ذکر کریں گے جو ان سے سرزد ہوئی ہوگی کہ ایک شخص کو قتل کر دیا تھا البتہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اللہ کی طرف کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے کام کے لیے نہیں تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں کہ اللہ نے ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے تھے۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں اپنے رب سے اس کے در دولت یعنی عرش معلی پر آنے کے لیے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اس کی اجازت دی جائے گی پھر میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے جب تک چاہے گا اسی حالت میں رہنے دے گا۔ پھر فرمائے گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، جو مانگو گے دیا جائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں شفاعت کروں گا۔ چنانچہ میرے لیے حد مقرر کی جائے گی اور میں اس کے مطابق لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پھر میں نکالوں گا اور جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ پھر تیسری مرتبہ اپنے رب سے اس کے در دولت کے لیے اجازت چاہوں گا اور مجھے اس کی اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اللہ رب العزت کو دیکھتے ہی اس کے لیے سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے یوں ہی چھوڑے رکھے گا۔ پھر فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا شفاعت کرو قبول کی جائے گی، مانگو دیا جائے گا۔ آپ نے بیان کیا کہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ایسی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا بیان کیا کہ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی اور میں اس کے مطابق جہنم سے لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ پھر میں لوگوں کو نکالوں گا اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، یہاں تک کہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روک رکھا ہو گا یعنی انہیں ہمیشہ ہی اس میں رہنا ہو گا (یعنی کفار و مشرکین) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ترجمہ کنز الایمان"قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔(بنی اسرائیل ٧٩) فرمایا کہ یہی وہ مقام محمود ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٣١،حدیث نمبر ٧٤٤٠)
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور انہیں خیمے میں اکٹھا کر کے فرمایا کہ صبر کرو حتی کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول سے جا ملو کیونکہ میں تمہیں حوض پر ملوں گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٣٢،حدیث نمبر ٧٤٤١)
طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد پڑھتے تو یوں عرض گزار ہوتے اے اللہ!ہمارے رب سب تعریفیں تیرے لیے ہے تو اسمان اور زمین کا قائم رکھنے والا ہے۔ اور سب تعریفیں تیرے لیے ہے تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا رب ہے۔تو سچا ہے، تیری بات سچی ہے، اور تیرا وعدہ سچا ہے، تیرا دیدار حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، اور قیامت حق ہے، اے اللہ میں نے تیرے حضور گردن جھکا دی اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسہ کیا اور تیری مدد کے ساتھ جھگڑا اور تیرے حکم سے میں نے فیصلہ کیا پس جو میں نے پہلے کیا بعد میں کروں چھپا کر کیا یہ اعلانیہ کیا اسے معاف فرما دے جو کہ تو مجھ سے بہتر جانتا ہے نہیں ہے کوئی معبود مگر تو۔ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قیس بن سعد اور ابو الزبیر نے طاؤس کے حوالہ سے «قيام» بیان کیا اور مجاہد نے «قيوم» کہا یعنی ہر چیز کو قائم رکھنے والا اور عمر رضی اللہ عنہ نے «قيام» پڑھا اور دونوں ہی مدح کے لیے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٣٢،حدیث نمبر ٧٤٤٢)
خیثمہ نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ تم میں سے کوئی ایک بھی نہیں مگر جلد وہ اپنے رب سے کلام کرے گا جبکہ اس کے اور خدا کے درمیان کوئی ترجمان یا پردہ حائل نہیں ہوگا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٣٢،حدیث نمبر ٧٤٤٣)
ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے اپنے والد ماجد حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ دو جنتیں چاندی کی ہے اور ان کے برتن اور ان کی ہر ایک چیز بھی جب کہ دو جنتیں سونے کی ہے۔ان کے برتر ان کی ہر ایک چیز بھی۔ ان لوگوں کے اور ان کے رب کے درمیان جنت عدن میں کبریائی کی چادر کے سوا اور کچھ نہ ہوگا جو اس کے چہرے پر ہوگی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٣٢،حدیث نمبر ٧٤٤٤)
ابو وائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ جس نے کسی مسلمان کا مال جھوٹی قسم کے ذریعے ہڑپ کیا تو اللہ تعالی سے وہ اس حالت میں ملے گا کہ اس پر وہ غضبناک ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان کی تائید میں قران مجید سے یہ آیت پڑھی: ترجمہ کنز الایمان:وہ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے۔(آل عمران ٧٧) (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٣٢،حدیث نمبر ٧٤٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ تین شخص ایسے ہیں کہ بروز قیامت اللہ تعالی ان سے کلام نہیں فرمائے گا اور نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا۔ایک وہ شخص جو اپنے سامان کے متعلق قسم کھائے کہ مجھے اس سے زیادہ قیمت مل رہی تھی۔ جو تم نے دی ہے اور ہو وہ جھوٹا۔ دوسرا وہ جو عصر کے بعد جھوٹی قسم کھائے تاکہ کسی مسلمان کا مال ہضم کر سکے اور تیسرا وہ شخص جو اضافی پانی کو روک رکھے۔ پس اللہ بروز قیامت اس سے فرمائے گا کہ آج میں تجھ سے اپنے فضل کو روکتا ہوں جیسے تو نے اضافی ضروری چیز کو روکا جو تیرے ہاتھوں کی بنائی ہوئی نہ تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٣٣،حدیث نمبر ٧٤٤٦)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب سے اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اسی وقت سے زمانہ اسی حالت پر گھوم رہا ہے کہ سال کا 12 مہینے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چار حرمت والے یعنی تین لگاتار ہے یعنی ذوالقعدہ،ذوالحجہ اور محرم جبکہ چوتھا رجب ہے جو جماد الاخری اور شعبان کے درمیان ہے بتاؤ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ خاموش ہو گئے اور ہم یہ سمجھے کہ اپ اس کا کوئی اور نام ارشاد فرمائیں گے۔ فرمایا کہ یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ہم نے عرض کی کہ کیوں نہیں۔ فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے؟ عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔پھر آپ خاموش ہو گئے حتیٰ کہ ہم سمجھنے لگے اب آپ اس کا کوئی اور نام ارشاد فرمائیں گے۔ فرمایا کہ کیا یہ مکہ مکرمہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کی کہ کیوں نہیں۔ فرمایا کہ یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی کہ یہ اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں۔ پس اپ خاموش ہو گئے۔ حتی کہ ہم نے گمان کیا کہ اب اس کا کوئی اور نام ارشاد فرمائیں گے۔ فرمایا کہ یہ عید الاضحی کا دن نہیں؟ ہم نے عرض کی کہ کیوں نہیں۔ فرمایا کہ تمہارے خون اور تمہارے مال محمد بن سیرین کا بیان ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس دن کی اس شہر میں مہینے کے اندر حرمت ہے۔ اور جلد تم اپنے رب سے ملو گے تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق دریافت کرے گا۔ خبردار! میرے بعد گمراہی کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ چاہیے کہ حاضرین اس پیغام کو ان لوگوں تک پہنچا دے جو یہاں حاضر نہیں۔ ممکن ہے جس تک بات پہنچائی جائے وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو۔ محمد بن سیرین جب اسے بیان کرتے تو کہتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ پھر فرمایا کیا میں نے یہ پیغام تمہارے تک پہنچا دیا؟کیا میں نے پہنچا دیا؟ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}(القیامہ ٢٣)؛جلد٩ص١٣٣،حدیث نمبر ٧٤٤٧)
ابوعثمان کا بیان ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی (زینب رضی اللہ عنہا) کا لڑکا جاں کنی کے عالم میں تھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلایا کہ اللہ ہی کا وہ ہے جو وہ لیتا ہے اور وہ بھی جسے وہ دیتا ہے اور سب کے لیے ایک مدت مقرر ہے، پس صبر کرو اور اسے ثواب کا کام سمجھو۔ لیکن انہوں نے پھر دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دلائی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا۔ حضرت معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی ساتھ تھے۔ جب ہم صاحبزادی کے گھر میں داخل ہوئے تو لوگوں نے بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں دے دیا۔ اس وقت بچہ کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسا پرانی مشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر رو دئیے تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، آپ روتے ہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اپنے رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ}ترجمہ کنز الایمان:بےشک اللہ کی رحمت نیکوں کے قریب ہے؛جلد٩ص١٣٣،حدیث نمبر ٧٤٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت و دوزخ نے اپنے رب کے حضور میں جھگڑا کیا۔ جنت نے کہا: اے رب! کیا حال ہے کہ مجھ میں کمزور اور گرے پڑے لوگ ہی داخل ہوں گے اور دوزخ نے کہا کہ مجھ میں تو داخلہ کے لیے متکبروں کو خاص کر دیا گیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت سے کہا کہ تو میری رحمت ہے اور جہنم سے کہا کہ تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعہ میں جسے چاہتا ہوں اس میں مبتلا کرتا ہوں اور تم میں سے ہر ایک کی بھرتی ہونے والی ہے۔ کہا کہ جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ اپنی مخلوق میں کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور دوزخ کی اس طرح سے کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے گا دوزخ کے لیے پیدا کرے گا وہ اس میں ڈالی جائے گی اس کے بعد بھی دوزخ کہے گی اور کچھ مخلوق ہے (میں ابھی خالی ہوں) تین بار ایسا ہی ہو گا، آخر پروردگار اپنا پاؤں اس میں رکھ دے گا، اس وقت وہ بھر جائے گی، ایک پر ایک الٹ کر سمٹ جائے گی، کہنے لگے گی بس بس بس میں بھر گئی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ}ترجمہ کنز الایمان:بےشک اللہ کی رحمت نیکوں کے قریب ہے؛جلد٩ص١٣٤،حدیث نمبر ٧٤٤٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا؛کچھ لوگ اپنے کیے ہوئے گناہوں کے سبب جہنم میں عذاب پاتے ہوئے جھلس جائیں گے۔ پھر اللہ تعالی اپنی رحمت کے فضل سے انہیں جنت میں داخل کر دے گا۔تو جنتی انہیں اہل جہنم کہیں گے۔ ہمام،قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ}ترجمہ کنز الایمان:بےشک اللہ کی رحمت نیکوں کے قریب ہے؛جلد٩ص١٣٤،حدیث نمبر ٧٤٥٠)
علقمہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک یہودی عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر کہنے لگا اے محمد!اللہ تعالی آسمانوں کو ایک انگلی پر،زمین کو ایک انگلی پر،پہاڑوں کو ایک انگلی پر،درختوں اور دریاؤں کو ایک انگلی پر اور باقی ساری مخلوق کو ایک انگلی پر رکھے گا۔ پھر اپنے ہاتھ سے فرمائے گا کہ۔ بادشاہ میں ہوں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا۔ترجمہ کنز الایمان:انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کا حق تھا۔(زمر ٦٧) (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ أَنْ تَزُولاَ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛بیشک اللہ تعالیٰ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کرے؛جلد٩ص١٣٤،حدیث نمبر ٧٤٥١)
اور یہ اس کا فعل و امر ہے پس وہ رب اپنی صفات،فعل اور امر کے ساتھ بنانے والا اور غیر مخلوق ہے۔ اور جو اس کے فعل،امر،پیدا کرنے اور بنانے سے وجود میں آئے وہ مفعول،مخلوق اور بنایا ہوا ہے۔ کریب کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے پاس رات گزاری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے۔ میں نے سوچا کہ دیکھوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر اپنی زوجہ مطہرہ سے گفتگو فرمائی، پھر سو گئے۔جب رات کا تہائی یا کچھ حصہ باقی رہا تو آپ نے اسمان کی جانب نظر اٹھا کر یہ آیت پڑھی۔ ترجمہ کنز الایمان؛ بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے۔(زمر ٢٧)پھر کھڑے ہوئے وضو کیا،مسواک کی، اور 11 رکعت نماز پڑھی پھر حضرت بلال نے نماز کے لیے اذان دی تو اپ نے دو رکعت نماز پڑھی پھر باہر نکلے اور لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ مَا جَاءَ فِي تَخْلِيقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَغَيْرِهَا مِنَ الْخَلاَئِقِ؛آسمانوں اور زمین اور دوسری مخلوق کے پیدا کرنے کا بیان؛جلد٩ص١٣٥،حدیث نمبر ٧٤٥٢)
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ جب اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرما لیا تو اپنے پاس عرش کے اوپر لکھا کہ بے شک میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اور بےشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے؛جلد٩ص١٣٥،حدیث نمبر ٧٤٥٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جو صادق و مصدق ہیں کہ انسان کا نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن اور راتوں تک جمع رہتا ہے پھر وہ خون کی پھٹکی بن جاتا ہے، پھر وہ گوشت کا لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر اس کے بعد فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اس کی روزی، اس کی موت، اس کا عمل اور یہ کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت لکھ لیتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے اور تم میں سے ایک شخص جنت والوں کے سے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فرق رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص دوزخ والوں کے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر غالب آتی ہے اور جنت والوں کے کام کرنے لگتا ہے، پھر جنت میں داخل ہوتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اور بےشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے؛جلد٩ص١٣٥،حدیث نمبر ٧٤٥٤)
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ اے جبرائیل؛جتنی مرتبہ تم ہمارے پاس آتے ہو اس سے زیادہ آنے سے تمہیں کون روکتا ہے۔ پس یہ ایت نازل ہوئی۔ ترجمہ کنز الایمان؛(اور جبرائیل نے محبوب سے عرض کی)ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے اور حضور کا رب بھولنے والا نہی۔(مریم ٦٣) راوی کا بیان ہے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دیا گیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اور بےشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے؛جلد٩ص١٣٥،حدیث نمبر ٧٤٥٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چھڑی پر ٹیکا لیتے جاتے تھے۔پھر آپ یہودیوں کی ایک جماعت سے گزرے تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ ان سے روح کے متعلق پوچھو اور بعض نے کہا کہ اس کے متعلق مت پوچھو۔ آخر انہوں نے پوچھا تو آپ چھڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور میں آپ کے پیچھے تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ چنانچہ آپ نے یہ آیت پڑھی۔ترجمہ کنز الایمان: اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا۔(بنی اسرائیل ٨٥)اس پر بعض یہودیوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم نے کہا نہ تھا کہ مت پوچھو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اور بےشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے؛جلد٩ص١٣٥،حدیث نمبر ٧٤٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور نہیں نکالا ہو اس کو مگر اللہ کی راہ میں جہاد نے اور اس کے کلمات کی تصدیق نے تو اللہ تعالی ضامن ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے یا اسے اس کے اسی گھر واپس پہنچا دے جس سے وہ راہ خدا میں نکلا تھا اور اجر اور مال غنیمت ساتھ لیے ہوئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اور بےشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے؛جلد٩ص١٣٦،حدیث نمبر ٧٤٥٧)
ابو وائل کا بیان ہے کہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا؛کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ایک شخص اسلام کی حمایت میں لڑتا ہے دوسرا اپنی بہادری دکھانے کے لیے اور تیسرا محض دکھاوے کے لیے لڑتا ہے پس ان میں سے اللہ کی راہ میں لڑنے والا کون ہے؟فرمایا کہ جو اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے وہ اللہ کی راہ میں لڑنے والا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان؛اور بےشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے؛جلد٩ص١٣٦،حدیث نمبر ٧٤٥٨)
قیس بن ابو حازم کا بیان ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر ہمیشہ غالب رہے گا حتی کہ اللہ کا حکم آجائے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ}؛ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا(نحل ٤٠)؛جلد٩ص١٣٦،حدیث نمبر ٧٤٥٩)
حضرت معاویہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا۔جھٹلانے والا انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکے گا اور نہ ان کا مخالف،حتی کہ قیامت آجائے اور وہ اسی حالت میں رہیں گے۔ مالک بن یخامر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ شام میں ہوں گے۔پس حضرت معاویہ نے فرمایا کہ یہ مالک کا گمان ہے کہ اس نے حضرت معاذ بن جبل کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شام میں ہوں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ}؛ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا(نحل ٤٠)؛جلد٩ص١٣٦،حدیث نمبر ٧٤٦٠)
نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے جب کہ وہ اپنے صحابہ میں تھے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ اگر تو مجھ سے یہ ٹکڑا مانگے تو نہیں دوں گا اور تو زیادتی نہیں کرے گا مگر اللہ تیرے بارے میں حکم جاری کرے گا اور اگر تو نے اسلام سے پیٹھ پھیری تو اللہ تعالی تجھے ہلاک کر دے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ}؛ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا(نحل ٤٠)؛جلد٩ص١٣٦،حدیث نمبر ٧٤٦١)
علقمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا اور آپ ایک لکڑی کا سہارا لے رہے تھے جو آپ کے پاس تھی۔ ہم یہودیوں کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان سے روح کے متعلق پوچھو۔ بعض کہنے لگے کہ نہ پوچھو کہ کہیں ایسا جواب دیں جو تمہیں ناپسند ہو۔بعض نے کہا کہ ہم تو ان سے ضرور پوچھیں گے پس ان میں سے ایک شخص آپ کے سامنے آکھڑا ہوا اور کہا۔ اے ابو القاسم!روح کیا چیز ہے؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو میں جان گیا کہ آپ پر وحی ہو رہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ترجمہ کنز الایمان:اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا۔(بنی اسرائیل ٨٥)اعمش کا بیان ہے کہ ہماری قرأت میں اسی طرح ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ}؛ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا(نحل ٤٠)؛جلد٩ص١٣٦،حدیث نمبر ٧٤٦٢)
ارشاد باری تعالی ہے:ترجمہ کنز الایمان؛ تم فرما دو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہو جائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوگی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں۔(نحل ٤٠) اور:اور اگر زمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں ہو جائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہو اس کے پیچھے سات سمندر اور تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوگی۔(لقمان ٢٧) اور بے شک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانکتا ہے کہ جلد اس کے پیچھے لگا آتا ہے اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا سب اس کے حکم کے دبے ہوئے سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا۔(اعراف ٥٤) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور نہیں نکالتی اسے کوئی چیز مگر راہ خدا کا جہاد اور اس کے کلمے کی تصدیق تو اللہ تعالی ضامن ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے یا اجر اور مال غنیمت دیکھ کر اسے اس کے گھر کی طرف لوٹائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا}؛جلد٩ص١٣٧،حدیث نمبر ٧٤٦٣)
ارشاد باری تعالی ہے:ترجمہ کنز الایمان؛تو جسے چاہے سلطنت دے۔(آل عمران ٢٦) اور:ہرگز کسی بات کو نہ کہنا کہ میں کل یہ کر دوں گا مگر یہ کہ اللہ چاہے۔(کھف ٢٤)اور بے شک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کر دو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے۔(کھف ٥٦)سعید بن مسیب نے اپنے والد ماجد سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے متعلق نازل ہوئی۔ نیز ترجمہ کنز الایمان: اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔(کھف ١٨٥) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ تعالی سے دعا کرو تو عزم کے ساتھ کرو اور تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو عطا فرما دے کیونکہ اللہ تعالی پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٧،حدیث نمبر ٧٤٦٤)
حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہیں حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک شب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ نماز کیوں نہیں پڑھتے ہو؟حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں جب وہ چاہے ہمیں اٹھا دیتا ہے۔ تو ہم اٹھ بیٹھتے۔ جب میں نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹ گئے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر میں نے سنا جب کہ آپ پیٹھ پھیر کر جا رہے تھے کہ اپنی ران پر ہاتھ مار کر فرماتے ہیں کہ ترجمہ کنز الایمان: اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑا لو ہے۔(اعراف ٥٤) (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٧،حدیث نمبر ٧٤٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛مومن کی مثال کھیتی کے نرم پودوں کی مانند ہے کہ جب ہوا لگتی ہے تو اس کے پتوں کو ایک طرف جھکا دیتی ہے اور بند ہو جاتی ہے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح مومن بلاؤں کے باوجود محفوظ رکھا جاتا ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے سخت اور سیدھے درخت کی مانند ہے جسے جب اللہ تعالی چاہتا ہے تو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٧،حدیث نمبر ٧٤٦٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جبکہ آپ ممبر پر کھڑے تھے کہ پہلی امتوں کے مقابلے میں تمہاری زندگی ایسی ہے جیسی نماز عصر سے غروب افتاب تک کا وقت۔ توریت والوں کو توریت عطا فرمائی گئی تو انہوں نے دوپہر تک اس پر عمل کیا اور تھک گئے، پس انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔پھر انجیل والوں کو انجیل دی گئی تو انہوں نے نماز عصر تک اس پر عمل کیا اور تھک گئے، پس انہیں بھی ایک قیرات دیا گیا۔پھر تمہیں قرآن مجید عطا فرمایا گیا اور تم نے غروب آفتاب تک اس کے مطابق عمل کیا پھر تمہیں دو دو قیراط دی گئے۔چنانچہ اہل توریت نے کہا کہ اے ہمارے رب!انہوں نے کام تو بہت تھوڑا کیا اور مزدوری بہت زیادہ پائی۔ فرمایا کیا میں نے تمہاری مزدوری دینے میں کوئی کمی کی ہے عرض کی کہ نہیں فرمایا تو یہ میرا فضل ہے کہ جس کو چاہوں دیتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٨،حدیث نمبر ٧٤٦٧)
ابو ادریس کا بیان ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت کی تو اپ نے فرمایا:کہ اس بات پر تمہاری بیعت لیتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے،چوری نہیں کرو گے،زنا نہیں کرو گے،اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے،اپنے دل سے گھڑ کر کسی پر بہتان نہیں لگاؤ گے،اور نیک کاموں میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔جو تم میں یہ عہد پورا کرے گا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جو ان میں سے کوئی برائی کر بیٹھے پھر اس پر دنیا میں پکڑا جائے تو وہ اس کے لیے کفارہ اور پاکی ہے۔ اور جس کی اللہ تعالی پردہ پوشی فرمائے تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے کہ چاہے اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے معاف فرما دے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٨،حدیث نمبر ٧٤٦٨)
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اللہ کے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کی 60 ازواج تھی انہوں نے فرمایا کہ اج رات میں اپنی تمام ازواج کے پاس جاؤں گا تو ان میں سے ہر ایک حاملہ ہو کر ایک ایک شہسوار جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے۔پس وہ اپنی بیویوں کے پاس گئے اور ان میں سے کسی نے بھی بچہ نہ جنا سوائے ایک کے جس نے نامکمل بچہ جنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر سلیمان انشاءاللہ تعالی کہہ لیتے تو ان کی ہر زوجہ ضرور حاملہ ہوتی اور لڑکا جنتی تاکہ وہ سارے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٨،حدیث نمبر ٧٤٦٩)
عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے پاس اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا۔گھبراؤ نہیں تمہارے گناہوں سے پاکی ہو رہی ہے انشاءاللہ۔راوی کا بیان ہے کہ اعرابی نے کہا گناہوں سے پاکی؟بلکہ یہ تو بوڑھے شخص پر اتنا زور دکھا رہا ہے کہ اسے قبر میں پہنچا کر چھوڑے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تو ایسا ہی ہو جائےگا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٨،حدیث نمبر ٧٤٧٠)
عبد اللہ بن قتادہ نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جبکہ سب کی نماز فجر قضا ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک جب چاہتا ہے اللہ تعالی تمہاری روحوں کو قبض فرما لیتا ہے اور جب چاہتا ہے انہیں لوٹا دیتا ہے۔ پھر جب لوگ اپنی ضروری کاموں سے فارغ ہو گئے تو وضو کیا حتی کہ سورج طلوع ہو کر سفید ہو گیا تو آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھائی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٩،حدیث نمبر ٧٤٧١)
سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ایک مسلمان اور یہودی کے درمیان بحث و تکرار ہو گئی۔پس مسلمان نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں سے ممتاز کیا اور قسم ہے اس کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے۔یہودی نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت موسی علیہ السلام کو تمام جہانوں سے چن لیا۔ اس پر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کو تھپڑ رسید کر دیا۔ چنانچہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور اپ کو بتایا کہ اس مسلمان نے اس کے ساتھ کیا کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے حضرت موسی پر فوقیت نہ دو کیونکہ لوگ جب قیامت میں بے ہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰ عرش کا ایک کونہ پکڑے ہوئے ہوں گے میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ بے ہوش ہو کر مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا ایسے تھے جن کو اللہ نے مستثنی فرما دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٩،حدیث نمبر ٧٤٧٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال میرے مدینہ منورہ کی طرف آئے گا تو فرشتوں کو اس کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گا۔ پس انشاءاللہ تعالی دجال اور طاعون اس کے قریب نہیں آنے پائیں گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٩،حدیث نمبر ٧٤٧٣)
ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے۔ پس میں نے چاہا کہ اپنی دعا کو محفوظ رکھ چھوڑوں تاکہ قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کروں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٩،حدیث نمبر ٧٤٧٤)
سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میں سویا ہوا تھا کہ اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا۔ پس جتنا اللہ تعالی نے چاہا اتنا میں نے اس سے پانی کھینچا۔ پھر وہ مجھ سے ابن ابی قحافہ نے لے لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے اور ان کے پانی نکالنے میں کمزوری، تھی اللہ تعالی انہیں معاف فرمائے۔ پھر اسے عمر نے لے لیا تو ان کے ہاتھ میں ایک بڑا ڈول بن گیا۔ چنانچہ میں نے لوگوں میں سے کوئی چست نہیں دیکھا جو اس طرح نکالتا ہو،حتی کہ لوگ اپنے مویشیوں کو پانی پلا کر باندھنے کی جگہ لے گئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٩،حدیث نمبر ٧٤٧٥)
ابوبردہ کا بیان ہے کہ ان کے والد ماجد حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جب کوئی سائل آتا اور کبھی فرماتے کہ جب کوئی سائل آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا یا کوئی حاجت مند آتا تو فرماتے کہ سفارش کرو کیونکہ تمہیں اجر ملے گا اور اللہ تعالی اپنے رسول کی زبان پر جو چاہے جاری کرے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٣٩،حدیث نمبر ٧٤٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ!اگر تو چاہے تو مغفرت فرما،اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما،اگر تو چاہے تو مجھے روزی عطا فرما،بلکہ اس سے عزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس پر جبر کرنے والا کوئی نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٤٠،حدیث نمبر ٧٤٧٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اور حر بن قیس بن حصن فزاری اس بات میں اختلاف کر رہے تھے کہ کیا حضرت موسی کے صاحب حضرت خضر تھے۔پس ان کے پاس سے حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ گزرے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا کر کہا کہ میرا اور ان کا حضرت موسی کے ساتھی کے متعلق اختلاف ہے جس کے پاس جانے کا انہوں نے راستہ پوچھا تھا تو کیا اپ نے ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے۔فرمایا کہ ہاں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس ایک شخص نے آکر کہا کہ کیا آپ کے علم میں کوئی ایسا بھی شخص ہے جو آپ سے زیادہ علم والا ہو؟انہوں نے کہا کہ نہیں پس حضرت موسی کی جانب وحی کی گئی کہ کیوں نہیں،ہمارا بندہ خضر ایسا ہے۔ چنانچہ حضرت موسی نے ان سے ملنے کے لیے راستہ پوچھا تو اللہ تعالی نے ان کے لیے مچھلی کو نشانی بنا دیا اور ان سے فرمایا کہ جب تم مچھلی کو گم کر دو تو وہاپس ہو جاناکیونکہ وہی تم اس سے مل سکو گے۔ پس حضرت موسیٰ سمندر میں مچھلی کے نشان کو دیکھتے ہوئے لوٹے پس حضرت موسی کے ساتھی نے ان سے کہا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جب ہم پتھر کے پاس آئے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور اسے یاد رکھنا مجھے شیطان ہی نے بھلادیا۔حضرت موسی نے فرمایا کہ اسی جگہ کی تو ہمیں تلاش ہے۔ پس وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس لوٹے اور انہوں نے حضرت خضر کو پا لیا پھر ان دونوں کا وہی قصہ بیان کیا جو اللہ تعالی نے(سورۃ الکہف)میں بیان فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٤٠،حدیث نمبر ٧٤٧٨)
ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل انشاءاللہ تعالی ہم بنی کنانہ کے اس ٹیلے پر اتریں گے جہاں قریش مکہ نے کفر پر قائم رہنے کی قسم کھائی تھی۔ اس جگہ سے مراد ٹیلہ ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٤٠،حدیث نمبر ٧٤٧٩)
ابو العباس کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا لیکن ان پر فتح حاصل نہ ہوئی۔پس آپ نے فرمایا کہ انشاءاللہ کل ہم چلے جائیں گے۔بعض مسلمانوں نے کہا کہ کیا ہم بغیر فتح کیے چلے جائیں۔ فرمایا:تو کل جنگ کر لو۔ چنانچہ اگلے دن یہ بہت زخمی ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل انشاءاللہ ہم چلے جائیں گے اس پر مسلمانوں میں بہت خوشی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابٌ في الْمَشِيئَةِ وَالإِرَادَةِ؛مشیت اور ارادہ کا بیان؛جلد٩ص١٤٠،حدیث نمبر ٧٤٨٠)
ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان: اور اس کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر جس کے لیے وہ اذن فرمائے یہاں تک کہ جب اذن دے کر ان کے دلوں کی گھبراہٹ دور فرما دی جاتی ہے ایک دوسرے سے کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا ہی بات فرمائی وہ کہتے ہیں جو فرمایا حق فرمایا اور وہی ہے بلند بڑائی والا۔(اعراف ٥٤)اور یہ نہیں کہتے کہ تمہارے رب نے کیا پیدا فرمایا۔ اور ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان؛وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے۔(بقرہ ٢٥٥) مسروق نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جب اللہ تعالی وحی کے ذریعے کلام فرماتا ہے اور آسمان والے اس میں سے سنتے ہیں تو ان کے دلوں کا ڈر دور ہو جاتا ہے اور آواز رک جاتی ہے یہ جان کر کہ وہ حق ہے اور ندا کرتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟تو دوسرے کہتے ہیں کہ حق فرمایا۔حضرت جابر بن عبداللہ بن انیس سے منقول ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالی بندوں کو جمع فرمائے گا،پھر انہیں ایسی آواز سے پکارے گا کہ دور والے بھی اسی طرح سنیں گے جیسے نزدیک والے کہ میں بادشاہ ہوں میں جزا و سزا دینے والا ہوں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے آگے عاجزی کا اظہار کرنے کے لیے اپنے بازو مارتے ہیں (اور ان سے ایسی آواز نکلتی ہے) جیسے پتھر پر زنجیر ماری گئی ہو۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا سفیان کے سوا دوسرے راویوں نے اس حدیث میں بجائے «صفوان» کے بہ فتحہ «فاصفوان» روایت کیا ہے اور ابوسفیان نے «صفوان» پر سکون فاء روایت کیا ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی چکنا صاف پتھر۔ اور ابن عامر نے «فزع» بہ صیغہ معروف پڑھا ہے۔ بعضوں نے «فزع» رائے مہملہ سے پڑھا ہے یعنی جب ان کے دلوں کو فراغت حاصل ہو جاتی ہے۔ مطلب وہی ہے کہ ڈر جاتا رہا ہے پھر وہ حکم فرشتوں میں آتا ہے اور جب ان کے دلوں سے خوف دور ہو جاتا ہے تو وہ پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اوراللہ وہ بلند و عظیم ہے۔ اور علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ان سے عمرو نے بیان کیا، انہوں نے عکرمہ سے سنا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا کہ انہوں نے کہا کہ میں نے عکرمہ سے سنا، انہوں نے کہا میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا تو سفیان بن عیینہ نے اس کی تصدیق کی۔ علی نے کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا کہ ایک شخص نے عمر سے روایت کی، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ نے «فزع» پڑھا۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح پڑھا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے اسی طرح ان سے سنا تھا یا نہیں، سفیان نے کہا کہ یہی ہماری قرآت ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ}:ترجمہ اوپر مذکور ہے؛جلد٩ص١٤٠،حدیث نمبر ٧٤٨١)
ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالی اتنی کوئی چیز نہیں سنتا جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قران کریم پڑھنے کو سنتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ایک ساتھی نے کہا کہ اس سے مراد آواز سے قران کریم پڑھنا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ}؛جلد٩ص١٤١،حدیث نمبر ٧٤٨٢)
ابو صالح نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرمائے گا کہ اے آدم!وہ عرض کریں گے کہ میں حاضر ہوں مستعد ہوں۔ پھر انہیں ایک آواز آئے گی کہ اللہ تعالی آپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد سے جہنم میں بھیجنے کے لیے نکال دیجئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ}؛جلد٩ص١٤١،حدیث نمبر ٧٤٨٣)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اتنا رشک مجھے کسی عورت پر نہیں آیا جتنا حضرت خدیجہ پر آیا کیونکہ ان کے رب نے حضور کو حکم فرمایا کہ انہیں جنت والے ایک گھر کی خوشخبری دی جائے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ}؛جلد٩ص١٤١،حدیث نمبر ٧٤٨٤)
معمر کا قول ہے کہ وانک لتلقی القرآن سے یہ مراد ہے کہ قرآن کریم تم پر ڈالا جاتا ہے اور تلقاہ انت سے یہ مراد ہے کہ تم ان سے لیتے ہو اور یہ بھی اسی کی طرح ہے۔ ترجمہ کنز الایمان: پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے۔(بقرہ ٣٧) ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بے شک جب اللہ تبارک و تعالی کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبرائیل کو آواز دیتا ہے کہ اللہ تعالی فلاں شخص سے محبت کرتا ہے لہذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ حضرت جبرائیل بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر حضرت جبرائیل آسمانوں میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی فلاں بندے سے محبت کرتا ہے پس تم بھی اس سے محبت کرو۔چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اور زمین والوں کے دلوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ مَعَ جِبْرِيلَ وَنِدَاءِ اللَّهِ الْمَلاَئِكَةَ؛اللہ کا حضرت جبریل کے ساتھ کلام اور فرشتوں کو ندا فرمانا؛جلد٩ص١٤٢،حدیث نمبر ٧٤٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے تمہارے پاس باری باری آتے ہیں اور نماز عصر و نماز فجر کے وقت ان کا اجتماع ہوتا ہے۔ پھر وہ اوپر چڑھ جاتے ہیں جنہوں نے تمہارے ساتھ راز گزاری تھی پس وہ علم رکھتے ہوئے ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ عرض کریں گے کہ ہم نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس گئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ مَعَ جِبْرِيلَ وَنِدَاءِ اللَّهِ الْمَلاَئِكَةَ؛اللہ کا حضرت جبریل کے ساتھ کلام اور فرشتوں کو ندا فرمانا؛جلد٩ص١٤٢،حدیث نمبر ٧٤٨٦)
معرور بن سوید کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوذر سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو اس حال میں فوت ہوا اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوا۔میں نے کہا خواہ اس نے چوری یا زنا کیا؟ کہا کہ خواہ اس نے چوری کی یا زنا کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ مَعَ جِبْرِيلَ وَنِدَاءِ اللَّهِ الْمَلاَئِكَةَ؛اللہ کا حضرت جبریل کے ساتھ کلام اور فرشتوں کو ندا فرمانا؛جلد٩ص١٤٢،حدیث نمبر ٧٤٨٧)
مجاہد کا قول ہے کہ"یتنزل الأمر بینھن"(الطلاق ١٢) سے مراد ساتوں اسمانوں اور ساتوں زمینوں میں نازل کرتا ہے۔ ابو اسحاق ہمدانی نے حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں!جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو یوں دعا کرو۔ اے اللہ!میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی ہے اور میں نے اپنا رخ تیری طرف کر لیا اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کیا اور اپنی پیٹھ تیرے فضل و کرم کے ساتھ لگا دی،تیرے شوق اور تیرے خوف سے، کوئی ٹھکانہ اور جائے نجات نہیں مگر تیری جانب۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل فرمائی اور تیرے اس نبی پر جو تو نے بھیجا۔" پس اگر تم اس رات مر جاؤ تو فطرت اسلام پر مرو گے اور اگر تم صبح کو اٹھے تو ثواب کے ساتھ اٹھو گے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلاَئِكَةُ يَشْهَدُونَ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:اس نے اپنے علم سے اتار ہے اور فرشتے گواہ ہیں(النساء ١٦٦)؛جلد٩ص١٤٢،حدیث نمبر ٧٤٨٨)
اسماعیل بن ابو خالد نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت کی ہے کہ جنگ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی۔ اے اللہ!کتاب کے اتارنے والے،جلد حساب لینے والے لشکروں کو شکست دے اور ان کے قدم اکھاڑ دے۔ اضافے کے ساتھ حمیدی،سفیان،ابو خالد حضرت عبداللہ بن ابی اوفی نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلاَئِكَةُ يَشْهَدُونَ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:اس نے اپنے علم سے اتار ہے اور فرشتے گواہ ہیں(النساء ١٦٦)؛جلد٩ص١٤٢،حدیث نمبر ٧٤٨٩)
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آیت ترجمہ کنز الایمان: "اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ"(بنی اسرائیل ٨٥)کے متعلق فرمایا کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں پوشیدہ رہتے تھے تو جب آپ اواز بلند کرتے اور مشرکین سنتے تو قرآن کریم کو برا بھلا کہتے اور اس کے نازل کرنے والے اور لانے والے کو بھی۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ۔(بنی اسرائیل ٨٥)یعنی نماز اتنی بلند اواز سے نہ پڑھو کہ مشرکین سنیں اور نہ اتنی آہستہ کہ تمہارے ساتھی بھی نہ سن سکے اور اس کا درمیانی راستہ اختیار کر لو ان کو سناؤ لیکن بلند آواز سے نہیں حتی کہ یہ تم سے قران مجید سیکھ لے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلاَئِكَةُ يَشْهَدُونَ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:اس نے اپنے علم سے اتار ہے اور فرشتے گواہ ہیں(النساء ١٦٦)؛جلد٩ص١٤٣،حدیث نمبر ٧٤٩٠)
انہ لقول فصل سے مراد ہے:حق۔وما ھو بالھزل یعنی کھیل کود کی چیز نہیں۔سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم مجھے اذیت پہنچاتا ہے کہ وہ زمانے کو گالی دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں، معاملہ میرے ہاتھ میں ہے، رات اور دن کو میں بدلتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٣،حدیث نمبر ٧٤٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور اس کا بدلہ خود میں دوں گا۔ وہ شہوت اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑتا ہے اور روزہ ڈھال ہے اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ۔ایک خوشی افطار کے وقت اور ایک جب اپنے رب سے ملے گا اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٣،حدیث نمبر ٧٤٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک مرتبہ حضرت ایوب برہنہ غسل فرما رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں۔وہ انہیں اپنے کپڑے میں جمع کرنے لگے تو ان کے رب نے آواز دی اے ایوب!جو چیز تم دیکھ رہے ہو کیا میں نے تجھے اس سے بے نیاز نہیں کر دیاہے؟عرض کی اے رب!کیوں نہیں لیکن میں تیری برکت سے بے نیاز نہیں ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٣،حدیث نمبر ٧٤٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارا رب تبارک و تعالی ہر رات میں پہلے آسمان کی جانب نزول فرماتا ہے جبکہ اخری تہائی رات باقی رہ جائے پھر فرماتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں اور ہے کوئی مجھ سے بخشش کا طلبگار کہ میں اسے بخش دوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٣،حدیث نمبر ٧٤٩٤)
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم سب سے آخری ہیں اور قیامت کے دن سب سے بڑھ جانے والے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٣،حدیث نمبر ٧٤٩٥)
اور اسی سند کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ تم خرچ کرو میں تم پر خرچ کروں گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٤،حدیث نمبر ٧٤٩٦)
ابو زرعہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ حضرت خدیجہ جو آپ کی طرف برتن میں کھانے کی چیز یا پینے کی چیز لے کر آرہی ہے انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہہ دیجیے اور انہیں موتی کے ایک محل کی خوشخبری دیجئے جس میں نہ شور ہو گا اور نہ کسی قسم کی کوئی تکلیف۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٤،حدیث نمبر ٧٤٩٧)
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال آیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٤،حدیث نمبر ٧٤٩٨)
طاؤس کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد پڑھتے تو یوں عرض کرتے۔ اے اللہ!تعریفیں تیرے لیے ہے تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور اس کا کہ جو ان کے اندر ہے۔ تو سچا ہے، تیرا وعدہ سچا ہے، اور تیری بات سچی ہے۔تیرا دیدار حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے،انبیاء حق ہے، اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ!میں نے تیرے حضور گردن جھکا دی اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوا اور تیری مدد کے سہارے پہلے کیے یا بعد میں کروں یا جو چھپا کر کیے یا اعلانیہ کیے۔ تو میرا معبود ہے ۔نہیں کوئی معبود مگر تو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٤،حدیث نمبر ٧٤٩٩)
زہری کا بیان ہے کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب،علقمہ بن وقاص اور عبید اللہ بن عبداللہ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہ اس واقعے سے سنا جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور ان کے الزام سے اللہ تعالی نے انہیں بری فرمایا تو ان چاروں نے مجھ سے اس حدیث کا ایک ایک حصہ بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔لیکن خدا کی قسم میں یہ گمان بھی نہیں کر سکتی تھی کہ اللہ تعالی میری برات میں وحی نازل فرمائے گا جس کی تلاوت کی جائے گی کیونکہ اپنے دل میں خود کو اس سے بہت کم تر سمجھتی تھی کہ میرے معاملے میں اللہ تعالی کلام فرمائے جس کی تلاوت کی جائے۔ ہاں یہ مجھے امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند میں خواب دکھا کر اللہ تعالی میری برات ظاہر فرما دے گا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے وحی نازل فرمائی ترجمہ کنز الایمان:تو تمہارا پردہ کھول دیتا بے شک وہ کہ یہ بڑا بہتان لائے ہیں(نور ١١)دس آیات۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٤،حدیث نمبر ٧٥٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ برے کام کا ارادہ کرے تو اس کی برائی نہ لکھو جب تک کہ اسے کر نہ لے اور جب اسے کر لے تو اتنا ہی لکھو اور اگر میری وجہ سے اسے چھوڑ دے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو اور جب وہ نیکی کرنے کا ارادہ کرے اور ابھی وہ کی نہ ہو تو تب بھی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو اور اگر وہ اسے کر لے تو اس کے لیے دس گنا سے سات سو گنا تک لکھو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٤،حدیث نمبر ٧٥٠١)
سعید بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالی مخلوق کو پیدا کر چکا تو صلہ رحمی سامنے آکھڑی ہوئی۔ فرمان ہوا کہ ٹھہر۔ اس نے عرض کی کہ یہ قطع رحمی سے تیری پناہ پکڑنے کا مقام ہے۔ فرمایا کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میں اس سے ملوں جو تجھے ملائے اور میں اس سے تعلق توڑ لوں جو تجھے توڑے۔عرض کی کہ اے رب!کیوں نہیں۔ فرمایا تو تیرے لیے یہی ہے۔پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی ترجمہ کنز الایمان:تو کیا تمہارے یہ لچھن نظر اتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔(محمد ٢٢) (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٥،حدیث نمبر ٧٥٠٢)
عبید اللہ کا بیان ہے کہ حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بارش ہوئی تو آپ نے بتایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا۔میرے کتنے ہی بندے منکر اور کتنے ہی ماننے والے ہو گئے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٥،حدیث نمبر ٧٥٠٣)
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میرا بندہ مجھ سے ملنا پسند کرتا ہے تو میں اس سے ملنا پسند کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے نا ملنا پسند کرتا ہے تو میں اس سے ملنا ناپسند کرتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٥،حدیث نمبر ٧٥٠٤)
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا میں اپنے بندے کے گمان کے قریب رہتا ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٥،حدیث نمبر ٧٥٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایک آدمی نے جس نے کوئی نیکی نہیں کی تھی کہا کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا دیا جائے پھر اس کی آدھی راکھ خشکی میں آدھی سمندر میں بہا دی جائے۔کیونکہ خدا کی قسم اگر اللہ تعالی نے اس پر قابو پایا تو ضرور اسے اتنا عذاب دے گا جتنا ساری دنیا میں کسی کو عذاب دیا ہوگا۔پس اللہ تعالی نے سمندر کو حکم دیا تو اس نے اس کے ذرے اکٹھے کر دیے اور خشکی کو حکم دیا تو جو اس کے اندر ذرے تھے اس نے جمع کر دیے پھر فرمایا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟کہا کہ تو اچھی طرح جانتا ہے تجھ سے خوف رکھتے ہوئے۔پس اسے بخش دیا گیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٥،حدیث نمبر ٧٥٠٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے گناہ کیا پس عرض کی اےرب!میں گناہ کر بیٹھا پس مجھے بخش دے۔ چنانچہ اس کے رب نے فرمایا کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا اور ان کے سبب مواخذہ کرتا ہے،لہذا میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ اس کے بعد جب تک اللہ تعالی نے چاہا وہ رکا رہا،پھر اس نے گناہ کیا تو کہا اے رب!میں گناہ کر بیٹھا دوبارہ بھی پس مجھے بخش دے۔ فرمایا کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف کرتا اور ان کے سبب مواخذہ کرتا ہے،پس میں نے چاہا۔ پھر اس نے گناہ کیا راوی کا بیان ہے کہ اس نے عرض کی اے رب!مجھ سے گناہ ہو گیا یا میں پھر گناہ کر بیٹھا پس مجھے بخش دے۔چنانچہ فرمایا کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف کرتا اور ان کے باعث پکڑتا ہے۔ لہذا میں نے اپنے بندے کو تیسری مرتبہ بھی بخش دیا پس جو چاہے کرے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٥،حدیث نمبر ٧٥٠٧)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امتوں میں سے ایک شخص کا ذکر کیا۔ اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ فرمایا یعنی اللہ نے اسے مال و اولاد سب کچھ دیا تھا۔ جب اس کے مرنے کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے لڑکوں سے پوچھا کہ میں تمہارے لیے کیسا باپ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بہترین باپ، اس پر اس نے کہا کہ لیکن تمہارے باپ نے اللہ کے ہاں کوئی نیکی نہیں بھیجی ہے اور اگر کہیں اللہ نے مجھے پکڑ پایا تو سخت عذاب کرے گا تو دیکھو جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، یہاں تک کہ جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو اسے خوب پیس لینا اور جس دن تیز آندھی آئے اس میں میری یہ راکھ اڑا دینا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر اس نے اپنے بیٹوں سے پختہ وعدہ لیا اور اللہ کی قسم کہ ان کے لڑکوں نے ایسا ہی کیا، جلا کر راکھ کر ڈالا، پھر انہوں نے اس کی راکھ کو تیز ہوا کے دن اڑا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے «كن» کا لفظ فرمایا کہ ہو جا تو وہ فوراً ایک مرد بن گیا جو کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے میرے بندے! تجھے کس بات نے اس پر آمادہ کیا کہ تو نے یہ کام کرایا۔ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کوئی سزا نہیں دی بلکہ اس پر رحم کیا۔ پھر میں نے یہ بات ابوعثمان نہدی سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسے سلیمان فارسی سے سنا، البتہ انہوں نے یہ لفظ زیادہ کئے کہ «أذروني في البحر.» یعنی میری راکھ کو دریا میں ڈال دینا یا کچھ ایسا ہی بیان کیا۔ ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا اور اس نے «لم يبتئر.» کے الفاظ کہے اور خلیفہ بن خیاط (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا پھر یہی حدیث نقل کی۔ اس میں «لم يبتئر.» ہے۔ قتادہ نے اس کے معنی یہ کئے ہیں یعنی کوئی نیکی آخرت کے لیے ذخیرہ نہیں کی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلاَمَ اللَّهِ}ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں(الفتح ١٥)؛جلد٩ص١٤٥،حدیث نمبر ٧٥٠٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بروز قیامت میری شفاعت قبول فرماے جائے گی۔میں عرض کروں کہ اے رب!جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہواسے بھی جنت میں داخل فرماے۔پس وہ داخل ہوجائیں گے۔پھر میں عرض کروں گا کہ اسے بھی جنت میں داخل کر جس کے دل میں ذرا بھی ایمان ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب دیکھ رہا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الأَنْبِيَاءِ وَغَيْرِهِمْ؛بروز قیامت اللہ تعالیٰ کا انبیاء کرام اور دیگر سے کلام فرمانا؛جلد٩ص١٤٦،حدیث نمبر ٧٥٠٩)
حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ہلال العنزی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ بصرہ کے کچھ لوگ ہمارے پاس جمع ہو گئے۔پھر ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اپنے ساتھ ثابت رضی اللہ عنہ کو بھی لے گئے تاکہ وہ ہمارے لیے شفاعت کی حدیث پوچھیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنے مکان میں تھے اور جب ہم پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ہم نے ملاقات کی اجازت چاہی اور ہمیں اجازت مل گئی۔ اس وقت وہ اپنے بستر پر بیٹھے تھے۔ ہم نے ثابت سے کہا تھا کہ حدیث شفاعت سے پہلے ان سے اور کچھ نہ پوچھنا۔ چنانچہ انہوں نے کہا: اے ابوحمزہ! یہ آپ کے بھائی بصرہ سے آئے ہیں اور آپ سے شفاعت کی حدیث پوچھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کا دن جب آئے گا تو لوگ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ظاہر ہوں گے۔ پھر وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ ہماری اپنے رب کے پاس شفاعت کیجئے۔ وہ کہیں گے کہ اس کام کے لائق نہیں ہوں،تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں، ہاں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ سے شرف ہم کلامی پانے والے ہیں۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور وہ بھی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں، البتہ تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں کہوں گا کہ میں شفاعت کے لیے ہوں اور پھر میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ تعریفوں کے الفاظ مجھے الہام کرے گا جن کے ذریعہ میں اللہ کی حمد بیان کروں گا جو اس وقت مجھے یاد نہیں ہیں۔ چنانچہ جب میں یہ تعریفیں بیان کروں گا اللہ کے حضور میں سجدہ کرنے والا ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ،جو کہو وہ سنا جائے گا،جو مانگو گے وہ دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی۔ پھر میں کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت، کہا جائے گا کہ جاؤ اور ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لو جن کے دل میں ذرہ یا رائی برابر بھی ایمان ہو۔ چنانچہ میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔ پھر میں لوٹوں گا اور یہی تعریفیں پھر کروں گا اور اللہ کے لیے سجدہ میں چلا جاؤں گا مجھ سے کہا جائے گا۔ اپنا سر اٹھاؤ کہو، آپ کی سنی جائے گی، میں کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے کم سے کم تر حصہ کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی جہنم سے نکال لو۔ پھر میں جاؤں گا اور نکالوں گا۔ پھر جب ہم انس رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلے تو میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں امام حسن بصری کے پاس بھی چلنا چاہئیے، وہ اس وقت ابوخلیفہ کے مکان میں تھے اور ان سے وہ حدیث بیان کرنا چاہئیے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کی ہے۔ چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا۔ پھر انہوں نے ہمیں اجازت دی اور ہم نے ان سے کہا: اے ابوسعید! ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے یہاں سے آئے ہیں اور انہوں نے ہم سے جو شفاعت کے متعلق حدیث بیان کی، اس جیسی حدیث ہم نے نہیں سنی، انہوں نے کہا کہ بیان کرو۔ہم نے ان سے حدیث بیان کی جب اس مقام تک پہنچے تو انہوں نے کہا کہ اور بیان کرو، ہم نے کہا کہ اس سے زیادہ انہوں نے نہیں بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ جب صحت مند تھے، بیس سال اب سے پہلے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تھی۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ باقی بھول گئے یا اس لیے بیان کرنا ناپسند کیا کہ کہیں لوگ بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ ہم نے کہا ابوسعید! پھر ہم سے وہ حدیث بیان کیجئے۔ آپ اس پر ہنسے اور فرمایا: انسان بڑا جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے اس کا ذکر ہی اس لیے کیا ہے کہ تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح تم سے بیان کی (اور اس میں یہ لفظ اور بڑھائے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں چوتھی مرتبہ لوٹوں گا اور وہی تعریفیں کروں گا اور اللہ کے لیے سجدہ میں چلا جاؤں گا۔ اللہ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو گے سنا جائے گا، جو مانگو دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا: اے رب! مجھے ان کے بارے میں بھی اجازت دیجئیے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میری عزت، میرے جلال، میری کبریائی، میری بڑائی کی قسم! اس میں سے (میں) انہیں بھی نکالوں گا جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کہا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الأَنْبِيَاءِ وَغَيْرِهِمْ؛بروز قیامت اللہ تعالیٰ کا انبیاء کرام اور دیگر سے کلام فرمانا؛جلد٩ص١٤٦،حدیث نمبر ٧٥١٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنتیوں میں سب سے آخری وہ ہوگا جو آخر میں جنت میں داخل ہوگا اور جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخری ہوگا جو گھسٹتا ہوا نکلے گا سے فرماے گا کہ جنت میں داخل ہوجا۔وہ عرض کرے گا کہ اے رب!جنت تو بھری ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ تین مرتبہ اس سے یہ فرماے گا اور ہر مرتبہ یہی جواب دے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے پھر اس سے فرماے جاے کہ تیرے لیے دنیا سے دس گنا جگہ ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الأَنْبِيَاءِ وَغَيْرِهِمْ؛بروز قیامت اللہ تعالیٰ کا انبیاء کرام اور دیگر سے کلام فرمانا؛جلد٩ص١٤٧،حدیث نمبر ٧٥١١)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے ایسا کوئی نہیں مگر جلد وہ اپنے رب سے کلام کرے گا۔جبکہ رب کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا جب وہ داہنی طرف دیکھے گا تو نہیں کچھ نظر آے گا مگر وہی عمل جو آگے بھیجے اور جب سامنے نظر کرے گا تو نہیں دیکھے گا مگر جہنم،جو اس کے سامنے ہوگی۔پس جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی خیرات ہو سکے۔اعمش،عمرو بن مرہ نے خیثمہ سے اسی طرح روایت کی ہے لیکن اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ اگرچہ ایک اچھا لفظ کہ کر۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الأَنْبِيَاءِ وَغَيْرِهِمْ؛بروز قیامت اللہ تعالیٰ کا انبیاء کرام اور دیگر سے کلام فرمانا؛جلد٩ص١٤٨،حدیث نمبر ٧٥١٢)
عبیدہ کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:یہودیوں کے ایک عالم نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی:جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر اور باقی ساری مخلوق کو انگلی پر لے گا اور انہیں ہلا کر فرماے گا۔بادشاہ میں ہوں،بادشاہ میں ہوں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے ہوئے دیکھا،اس کی بات سے تعجب کرتے اور تصدیق کرتے ہوئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی۔ترجمہ کنز الایمان:اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کا حق تھا۔۔۔۔۔تا۔۔۔۔پاک اور برتر ہے تک۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الأَنْبِيَاءِ وَغَيْرِهِمْ؛بروز قیامت اللہ تعالیٰ کا انبیاء کرام اور دیگر سے کلام فرمانا؛جلد٩ص١٤٨،حدیث نمبر ٧٥١٣)
صفوان بن محرز کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرگوشی کے متعلق کس طرح فرماتے ہوئے سنا؟فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی اپنے رب کے قریب ہوگا۔ تو اللہ تعالی اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور فرمائے گا کہ کیا تو نے فلاں فلاں کام کیے؟وہ عرض کرے گا کہ ہاں۔پھر فرمائے گا کہ فلاں فلاں کام بھی تو نے کئے؟وہ عرض کرے گا کہ ہاں۔ اسی طرح اس سے اقرار کروانے کے بعد فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے اوپر پردہ ڈالا اور آج میں تجھے بخش دیتا ہوں۔آدم،شیبان،قتادہ،صفوان،حضرت ابن عمر نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ الأَنْبِيَاءِ وَغَيْرِهِمْ؛بروز قیامت اللہ تعالیٰ کا انبیاء کرام اور دیگر سے کلام فرمانا؛جلد٩ص١٤٨،حدیث نمبر ٧٥١٤)
حمید بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم اور حضرت موسیٰ کے درمیان بحث ہوئی پس حضرت موسیٰ نے کہا کہ آپ آدم ہیں جنہوں نے اپنی نسل کو جنت سے نکالا حضرت ادم نے کہا کہ اپ وہی حضرت موسی ہیں جن کو اللہ تعالی نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لیے چنا۔پھر آپ مجھے ایسے کام پر ملامت کرتے ہیں جو میری پیدائش سے پہلے میرے لیے مقدر فرما دیا گیا تھا۔ حضرت آدم ہی حضرت موسی پر غالب رہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِهِ: {وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا}(١٦٤)اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا؛جلد٩ص١٤٨،حدیث نمبر ٧٥١٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دروازہ لگا کے اپ اہل ایمان قیامت کے دن اکٹھا ہو کر کہیں گے کہ کاش ہم اپنے رب کی بارگاہ میں شفاعت کرواتے تاکہ اس مقام سے ہمیں نجات ملتی۔ پس وہ حضرت آدم کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ آپ تمام انسانوں کے باپ حضرت آدم ہیں اللہ تعالی نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا اور فرشتوں سے آپ کے لیے سجدہ کروایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے۔ پس اپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری شفاعت فرما دیں تاکہ ہمیں نجات ملے وہ فرمائیں گے کہ میں تمہارے کام کے لیے نہیں۔ پھر ان سے اپنی ایک لغزش کا ذکر کریں گے جو ان سے سرزد ہوئی ہوگی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِهِ: {وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا}(١٦٤)اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا؛جلد٩ص١٤٨،حدیث نمبر ٧٥١٦)
شریک بن عبد نے بیان کیا فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا انہوں نے وہ واقعہ بیان کیا جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ سے معراج کے لیے لے جایا گیا کہ وحی آنے سے پہلے آپ کے پاس فرشتے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام میں سوئے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ ان میں سب سے بہتر ہیں تیسرے نے کہا کہ ان میں جو سب سے بہتر ہیں انہیں لے لو۔ اس رات کو بس اتنا ہی واقعہ پیش آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد انہیں نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ وہ دوسری رات آئے جب کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا اور آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں۔ لیکن دل نہیں سو رہا تھا۔ انبیاء کا یہی حال ہوتا ہے۔ ان کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں سوتے۔ چنانچہ انہوں نے آپ سے بات نہیں کی۔ بلکہ آپ کو اٹھا کر زمزم کے کنویں کے پاس لائے۔ یہاں جبرائیل علیہ السلام نے آپ کا کام سنبھالا اور آپ کے گلے سے دل کے نیچے تک سینہ چاک کیا اور سینے اور پیٹ کو پاک کر کے زمزم کے پانی سے اسے اپنے ہاتھ سے دھویا یہاں تک کہ آپ کا پیٹ صاف ہو گیا۔ پھر آپ کے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں سونے کا ایک برتن ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا۔ اس سے آپ کے سینے اور حلق کی رگوں کو سیا اور اسے برابر کر دیا۔ پھر آپ کو لے کر آسمان دنیا پر چڑھے اور اس کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر دستک دی۔ آسمان والوں نے ان سے پوچھا آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جبرائیل انہوں نے پوچھا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ جواب دیا کہ میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ آسمان والوں نے کہا کہ خوب آے خوش آمدید۔ آسمان والوں نے اس کی خوشی منائی۔ ان میں سے کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ زمین میں کیا کرنا چاہتا ہے جب تک وہ انہیں بتا نہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان دنیا پر آدم علیہ السلام کو پایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ یہ آپ کے باپ ہیں آپ انہیں سلام کیجئے۔ آدم علیہ السلام نے سلام کا جواب دیا اور کہا کہ آپ کا آنا مبارک ہو میرے بیٹے۔ آپ نے آسمان دنیا میں دو نہریں دیکھیں جو بہہ رہی تھیں۔ پوچھا اے جبرائیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ نیل اور فرات کا منبع ہے۔ پھر آپ آسمان پر اور چلے تو دیکھا کہ ایک دوسری نہر ہے جس کے اوپر موتی اور زبرجد کا محل ہے۔ اس پر اپنا ہاتھ مارا تو وہ مشک ہے۔ پوچھا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ جواب دیا کہ یہ کوثر ہے جسے اللہ نے آپ کے لیے محفوظ رکھا ہے۔ پھر آپ دوسرے آسمان پر چڑھے۔ فرشتوں نے یہاں بھی وہی سوال کیا جو پہلے آسمان پر کیا تھا۔ کون ہیں؟ کہا: جبرائیل۔ پوچھا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ فرشتے بولے انہیں مرحبا اور بشارت ہو۔ پھر آپ کو لے کر تیسرے آسمان پر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا جو پہلے اور دوسرے آسمان پر کیا تھا۔ پھر چوتھے آسمان پر لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ پھر پانچویں آسمان پر آپ کو لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا پھر چھٹے آسمان پر آپ کو لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ پھر آپ کو لے کر ساتویں آسمان پر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ ہر آسمان پر انبیاء ہیں جن کے نام آپ نے لیے۔ مجھے یہ یاد ہے کہ ادریس علیہ السلام دوسرے آسمان پر، ہارون علیہ السلام چوتھے آسمان پر، اور دوسرے نبی پانچویں آسمان پر۔ جن کے نام مجھے یاد نہیں اور ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر اور موسیٰ علیہ السلام ساتویں آسمان پر۔ یہ انہیں اللہ تعالیٰ نے شرف ہم کلامی کی وجہ سے فضیلت ملی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:اے میرے رب! میرا خیال نہیں تھا کہ مجھ سے اوپر کسی کو چڑھایا جاے گا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام انہیں لے کر اس سے بھی اوپر گئے جس کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں یہاں تک کہ آپ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے کر آئے اور رب العزت اللہ تبارک وتعالیٰ سے قریب ہوئے اور اتنے قریب جیسے کمان کے دونوں کنارے یا اس سے بھی قریب۔ پھر اللہ تعالی نے آپ پر جو چاہی وحی فرمائی اور اس میں آپ کی امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کی وحی کی۔ پھر آپ اترے اور جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور پوچھا: اے محمد! آپ کے رب نے آپ سے کیا عہد لیا ہے؟ فرمایا کہ میرے رب نے مجھ سے دن اور رات میں پچاس نمازوں کا عہد لیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں۔ واپس جائیے اور اپنی اور اپنی امت کی طرف سے کمی کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے بھی اشارہ کیا کہ ہاں اگر چاہیں تو بہتر ہے۔ چنانچہ آپ پھر انہیں لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہو کر عرض کیا: اے رب! ہم سے کمی کر دے کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دس نمازوں کی کمی کر دی۔ پھر آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو روکا۔ موسیٰ علیہ السلام آپ کو اسی طرح برابر اللہ رب العزت کے پاس واپس کرتے رہے۔ یہاں تک کہ پانچ نمازیں ہو گئیں۔ پانچ نمازوں پر بھی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکا اور کہا: اے محمد! میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کا تجربہ اس سے کم پر کیا ہے وہ ناتواں ثابت ہوئے اور انہوں نے چھوڑ دیا۔ آپ کی امت تو جسم، دل، بدن، نظر اور کان ہر اعتبار سے کمزور ہے، آپ واپس جائیے اور اللہ رب العزت اس میں بھی کمی کر دے گا۔ ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوتے تھے تاکہ ان سے مشورہ لیں اور جبرائیل علیہ السلام اسے ناپسند نہیں کرتے تھے۔ جب وہ آپ کو پانچویں مرتبہ بھی لے گئے تو عرض کیا: اے میرے رب! میری امت جسم، دل، نگاہ اور بند ہر حیثیت سے کمزور ہے، پس ہم سے اور کمی کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرمایا کہ میرے نزدیک بات تبدیل نہیں ہوتی جیسا کہ میں نے تم پر ام الکتاب میں فرض فرمایا پس یہ ثواب کے لحاظ سے لوح محفوظ میں 50 ہے اور پڑھنے کے لیے تم پر پانچ فرض ہے۔ پس آپ حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹے۔ کہا کہ آپ نے کیا کیا؟کہا کہ ہمارے لیے یہ کمی فرمائی گئی کہ ہمیں ہر نیکی کا ثواب دس گنا عطاء فرمایا گیا۔ حضرت موسی نے کہا کہ خدا کی قسم میں اس سے کم نمازوں پر بنی اسرائیل کو ازما چکا ہوں پھر بھی وہ چھوڑ بیٹھے تھے لہذا اپنے رب کی طرف جائیے اور مزید کم کروائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے موسی!خدا کی قسم مجھے اپنے رب کے حضور بار بار جانے کے سبب شرم آتی ہے۔کہا تو اللہ کا نام لے کر اتر جائیے راوی کا بیان ہے کہ جب آپ بیدار ہوئے تو مسجد حرام میں تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِهِ: {وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا}(١٦٤)اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا؛جلد٩ص١٤٩،تا١٥١،حدیث نمبر ٧٥١٧)
عطا بن یسار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے اہل جنت!وہ عرض کریں گے کہ ہم اپنے رب کے لیے حاضر و مستعد ہیں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ وہ فرمائے گا کہ کیا تم راضی ہو؟وہ عرض کریں گے کہ اے رب ہمیں کیا ہوا ہے جو ہم راضی نہ ہوں حالانکہ ہمیں اتنا کچھ عطا فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے زیادہ نہ دوں؟عرض کریں گے کہ اے رب!وہ کیا چیز ہے جو اس سے افضل ہے فرمائے گا کہ میں نے اپنی رضامندی تمہارے لیے حلال کی،لہذا اس کے بعد اب کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ مَعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛اللہ تعالیٰ کا جنت والوں سے کلام فرمانا؛جلد٩ص١٥١،حدیث نمبر ٧٥١٨)
عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گفتگو فرما رہے تھے، اس وقت آپ کے پاس ایک اعرابی بھی تھا (فرمایا) کہ اہل جنت میں سے ایک شخص نے اللہ تعالیٰ سے کھیتی کی اجازت چاہی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا وہ سب کچھ تمہارے پاس نہیں ہے جو تم چاہتے ہو؟ وہ کہے گا کہ ضرور لیکن میں چاہتا ہوں کہ کھیتی کروں۔ چنانچہ بہت جلدی وہ بیج ڈالے گا اور پلک جھپکنے تک اس کا اگنا، برابر کٹنا اور پہاڑوں کی طرح غلے کے انبار لگ جانا ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: ابن آدم! اسے لے لے، تیرے پیٹ کو کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! اس کا مزہ تو قریشی یا انصاری ہی اٹھایں گے کیونکہ وہی کھیتی باڑی والے ہیں، ہم تو کسان ہیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سن کر ہنسی آ گئی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ كَلاَمِ الرَّبِّ مَعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛اللہ تعالیٰ کا جنت والوں سے کلام فرمانا؛جلد٩ص١٥١،حدیث نمبر ٧٥١٩)
ترجمہ کنز الایمان: تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا۔(بقرہ ١٥٢)اور،اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اگر تم پر شاق گزرا ہے میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی نشانی یاد دلانا تو میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا تو مل کر کام کرو اور اپنے جھوٹے معبودوں سمیت اپنا کام پکا کر لو تمہارے کام میں تم پر کچھ گنجلک نہ رہے گا پھر جو ہو سکے میرا کر لو اور مجھے مہلت نہ دو پھر اگر تم منہ پھیرے تو میں تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو نہیں مگر اللہ پر اور مجھے حکم ہے کہ میں مسلمانوں سے ہوں۔(نساء ٧١،٧٢) غمۃ سے تکلیف اور تنگی مراد ہے۔مجاہد کا قول ہے۔اقضوا الی جو تمہارے دلوں میں ہو۔جیسے کہا جاتا ہے کہ جو چاہے کرے۔مجاہد کا قول ہے کہ ترجمہ کنز الایمان: اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔(توبہ ٦)اگر کوئی آدمی اسے سنے جو تم فرماتے ہو اور جو تم پر اتارا گیا پس وہ امن میں ہے حتی کہ اللہ کا کلام سنے اور اپنی رہائش گاہ پر پہنچ جائے جہاں سے آیا تھا۔النبا العظيم سے قرآن مجید مراد ہے۔صوابا دنیا میں حق پر رہنا اور اس کے مطابق عمل کرنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ ذِكْرِ اللَّهِ بِالأَمْرِ وَذِكْرِ الْعِبَادِ بِالدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالرِّسَالَةِ وَالإِبْلاَغِ؛ اللہ تعالی بندوں کو حکم کے ذریعے اور بندے اسے دعا عاجزی اور اس کے احکام کی تبلیغ کر کے یاد کرتے ہیں؛جلد٩ص١٥١) اور ارشاد باری تعالی ہے: اور اس کے ہمسر ٹھہراتے ہو۔(حم السجدہ ٩)اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے۔(الفرقان ٦٨)اور، اور بے شک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا بلکہ اللہ ہی کی بندگی کر اور شکر والوں سے ہو۔(زمر ٦٦)عکرمہ کا قول ہے۔: اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے۔(یوسف ١٠٦)اگر ان میں سے پوچھیے کہ انہیں کس نے پیدا کیا اور آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔یہ ان کا عقیدہ ہے لیکن دوسروں کی پوجا کرتے ہیں۔ بندوں کے افعال اور کسب کا مخلوق ہونا جو مذکور ہے، وہ اس ارشاد الہی کے باعث ہے۔ ترجمہ کنز الایمان: اس نے ہر چیز پیدا کر کے ٹھیک اندازہ پر رکھی۔۔(فرقان ٢) اور مجاہد نے کہا کہ (سورۃ الحج میں) جو ہے «ما تنزل الملائكة إلا بالحق» کا معنی یہ ہے کہ ”فرشتے اللہ کا پیغام اور اس کا عذاب لے کر اترتے ہیں۔“ اور (سورۃ الاحزاب) میں جو فرمایا ”سچوں سے ان کی سچائی کا حال پوچھے یعنی پیغمبروں سے جو اللہ کا حکم پہنچاتے ہیں۔“ اور (سورۃ حجر) میں فرمایا ”ہم قرآن کے نگہبان ہیں۔“ مجاہد نے کہا یعنی ہمارے پاس اور (سورۃ الزمر میں) فرمایا ”اور سچی بات لے کر آیا یعنی قرآن اور اس نے اس کو سچا جانا یعنی مومن جو قیامت کے دن پروردگار سے عرض کرے گا تو نے مجھ کو قرآن دیا تھا، میں نے اس پر عمل کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَلاَ تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اللہ کے لیے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھراؤ؛جلد٩ص١٥٢) عمرو بن شرجیل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا گناہ اللہ کے یہاں سب سے بڑا ہے؟فرمایا یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے کہا یہ تو بہت بڑا گناہ ہے۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے بچے کو اس خطرہ کی وجہ سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کون؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَلاَ تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا}ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اللہ کے لیے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھراؤ؛جلد٩ص١٥٢حدیث٧٥٢٠)
ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان: اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری انکھیں اور تمہاری کھالے لیکن تم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا۔(حم سجدہ ٢٢) ابو معمر کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دو ثقفی اور ایک قریشی یا دو قریشی اور ایک سقفی بیت اللہ کے پاس جمع ہوئے جن میں سے ہر ایک کے پیٹ پر چربی چڑھی ہوئی تھی اور دل میں سمجھ کی کمی تھی ان میں سے ایک نے کہا کہ تمہارے خیال میں کیا اللہ تعالی ہماری باتوں کو سنتا ہے؟دوسرے نے کہا کہ اگر ہم بلند اواز سے باتیں کرے تو سنتا ہے اور آہستہ بولیں تو نہیں سنتا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان: اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری انکھیں اور تمہاری کھالے لیکن تم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا۔(حم سجدہ ٢٢) (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ وَلاَ جُلُودُكُمْ وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ لاَ يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ}:؛جلد٩ص١٥٢حدیث٧٥٢١)
ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان: اسے ہر دن ایک کام ہے۔(رحمان ٢٩)اور جب ان کے رب کے پاس سے انہیں کوئی نئی نصیحت اتی۔(انبیاء ٢)اور ارشاد باری تعالی ہے: شاید اللہ اس کے بعد کوئی نیا حکم بھیجے۔(طلاق ١)اور اس کی نئی بات مخلوق کی نئی بات کے مشابہ نہیں جیسا کہ فرمایا گیا ارشاد باری تعالی ہے: اس جیسا کوئی نئی اور وہی سنتا دیکھتا ہے۔(شوریٰ ١١)ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالی جو چاہے نیا حکم دیتا ہے اور اس کے نئے حکموں میں سے ایک یہ ہے کہ تم نماز میں کلام نہ کیا کرو۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم اہل کتاب سے ان کی کتابوں کے متعلق کیسے پوچھتے ہو جبکہ تمہارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے جو اللہ کی تمام کتابوں سے زمانے کے لحاظ سے نئی ہے جس کو تم پڑھتے ہو یہ خالص اور ملاوٹ سے پاک ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ}؛جلد٩ص١٥٣حدیث٧٥٢٢)
عبید اللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اے مسلمانو!تم اہل کتاب سے ان کی کتاب کی کوئی بات کیسے پوچھتے ہو،حالانکہ تمہاری کتاب جو اللہ تعالی نے تمہارے نبی پر نازل فرمائی وہ اللہ کی خبروں میں سب سے نئی ہے۔ خالص اور ملاوٹ سے پاک ہے اور اللہ تعالی نے تمہیں بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں میں تبدیلی کر دی ان میں تغیر و تبدل کر کے پھر اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے تاکہ اس کے ذریعے ذلیل قیمت کمائے۔ کیا تمہیں اس سے منع نہیں فرمایا ان باتوں کو ان سے پوچھنے سے جن کا تمہارے پاس علم اگیا۔حالانکہ خدا کی قسم ہم نے ان میں سے نہیں دیکھا کہ تم سے اس کے متعلق کسی نے پوچھا ہو جو تم پر نازل ہوئی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ}؛جلد٩ص١٥٣حدیث٧٥٢٣)
ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان: اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔(قیامت ١٦)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول وحی کے وقت ایسا کرنا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ اللہ تعالی نے فرمایا میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب تک وہ مجھے یاد کرے اور اس کے ہونٹ میری یاد میں حرکت کرے۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمان الہی ترجمہ کنز الایمان: اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔(قیامت ١٦)کے متعلق روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نزول وحی سے سخت بوجھ محسوس ہوتا اور آپ اپنے لب ہائے مبارک کو حرکت دیا کرتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا کہ میں تمہیں اسی طرح حرکت دے کر دکھاؤں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرکت دیا کرتے تھے سعید بن جبیر نے فرمایا میں تمہیں اس طرح حرکت کر کے دکھاتا ہوں جیسے ابن عباس نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی تھی۔ پھر اللہ تعالی نے یہ ایت نازل فرمائی ترجمہ کنز الایمان:جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو بے شک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔(قیامت ١٦)فرمایا کہ تمہارے سینے میں جمع کرنا پھر قرآت ت کی ترجمہ کنز الایمان:تو جب ہم اسے پڑھ چکے اس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو۔(قیامت ١٨)فرمایا کہ تم غور سے سنو اور خاموش رہو۔ پھر تمہارا پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب حضرت جبرائیل آتے تو آپ غور سے سنتے اور جب حضرت جبرائیل جاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے جیسا کہ اپ کو پڑھایا ہوتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ}؛جلد٩ص١٥٣حدیث٧٥٢٤)
ارشاد باری تعالی ہے:ترجمہ کنز الایمان: اور تم اپنی بات آہستہ کرو یا اواز سے وہ تو دلوں کی جانتا ہے کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار۔(الملک ١٣،١٤)یتخافتون آہستہ باتیں کرنا۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمان الٰہی ترجمہ کنز الایمان؛اور اپنی نماز نہ بہت اواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ. (بنی اسرائیل ١١٠) کے متعلق فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں پوشیدہ رہتے تھے تو جب آپ اپنے صحابہ کے ساتھ بلند آواز سے قرآن کریم پڑھتے اور مشرکین اسے سنتے تو قرآن مجید کے لیے برا بھلا کہتے اور جس نے اسے نازل کیا اور جو لے کر آیا تو اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اپنی نماز زیادہ آواز سے نہ پڑھو یعنی اپنی قرأت کہ مشرکین سنے اور قران مجید کو برا بھلا کہے اور اتنا آہستہ بھی نہ پڑھو کہ تمہارے صحابہ بھی نہ سن سکے بلکہ اس کے درمیان میں راستہ تلاش کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ أَلاَ يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ}(؛الملک١٤)؛جلد٩ص١٥٣حدیث٧٥٢٥)
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ آیت ترجمہ کنز الامان:اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل اہستہ۔(بنی اسرائیل ١١٠)یہ دعا کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ أَلاَ يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ}(؛الملک١٤)؛جلد٩ص١٥٤حدیث٧٥٢٦)
ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن مجید کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا۔ دوسرے نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ جو آواز سے نہیں پڑھتا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ أَلاَ يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ}(؛الملک١٤)؛جلد٩ص١٥٤حدیث٧٥٢٧)
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک شخص کو قرآن مجید دیا گیا تو وہ رات دن اس کے ساتھ قیام کرتا ہے دوسرا آدمی اسے دیکھ کر کہتا ہے کہ اگر مجھے یہ چیز دی جاتی تو میں بھی ایسا کرتا جیسا وہ کرتا ہے تو اللہ تعالی نے بیان فرما دیا کہ اس کا کتاب کے ساتھ قیام کرنا اس کا فعل ہے اور فرمایا ترجمہ کنز الایمان؛ اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف۔(روم ٢٢)اور ارشاد باری تعالی ہے: اور بھلے کام کرو اس امید پر کہ تمہیں چھٹکارا ہو۔(حج ٧٧) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ حسد نہیں مگر دو شخصوں پر۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالی نے قران کریم دیا اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا ہے۔دوسرا کہتا ہے کہ اگر مجھے بھی یہ سعادت ملتی جو اسے ملی تو میں بھی اسی طرح کرتا ہے جیسے یہ کرتا ہے۔ دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالی نے مال دیا اور وہ ان مقامات پر خرچ کرتا ہے جہاں خرچ کرنے کا حق ہے تو دوسرا شخص دیکھ کر کہتا ہے اگر مجھے بھی اسی طرح مال دیا جاتا جیسے اسے دیا گیا ہے تو میں بھی اسے اسی طرح خرچ کرتا جیسے یہ کرتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهْوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَرَجُلٌ يَقُولُ لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا فَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ»؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ ایک شخص جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور رات اور دن اس میں مشغول رہتا ہے، اور ایک شخص ہے جو کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اسی جیسا قرآن کا علم ہوتا تو میں بھی ایسا ہی کرتا جیسا کہ یہ کرتا ہے؛جلد٩ص١٥٤حدیث٧٥٢٨)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:حسد نہیں مگر دو آدمیوں میں۔ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید دیا پس وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا ہے۔دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ دن رات اسے راہ خدا میں خرچ کرے۔میں نے سفیان سے کئی مرتبہ سنا لیکن انہوں نے الخبر کے لفظ کا ذکر نہیں کیا حالانکہ یہ ان کی صحیح حدیثوں سے ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهْوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَرَجُلٌ يَقُولُ لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا فَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ»؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ ایک شخص جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور رات اور دن اس میں مشغول رہتا ہے، اور ایک شخص ہے جو کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اسی جیسا قرآن کا علم ہوتا تو میں بھی ایسا ہی کرتا جیسا کہ یہ کرتا ہے؛جلد٩ص١٥٤حدیث٧٥٢٩)
ارشاد باری تعالی ہے:ترجمہ کنز الایمان: اے رسول پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا۔(المائدہ٦٧) زہری کا قول ہے: اللہ تعالی پر پیغام کا بھیجنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہنچانا اور ہم پر ماننا ہے۔ نیز فرمایا۔ ترجمہ کنز الایمان: تاکہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیام پہنچا دیے۔(جن ٢٨)اور فرمایا: تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا۔(اعراف ٦٢) کعب بن مالک نے کہا جب کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ اللہ تعالی نے فرمایا۔"اور اللہ و رسول تمہارے عمل کو دیکھتے ہیں"۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تمہیں کسی کا عمل اچھا لگے تو کہو کہ عمل کیے جاؤ اللہ اور اس کا رسول اور مسلمان تمہارے عمل کو دیکھتے ہیں اور کوئی تمہیں دھوکہ نہ دے جائے۔ معمر کا قول ہے کہ ذالک الکتاب سے یہ قرآن مجید مراد ہے۔ھدی للمتقین بیان اور دلالت کے لحاظ سے جیسے اللہ تعالی نے فرمایا:ولکم حکم اللہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ لاریب کوئی شک نہیں تلک ایات قرآن مجید کی یہ نشانیاں۔ اور اسی طرح حتیٰ اذا کنتم فی الفلاک وجرین یہاں بکم کے معنی میں ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے ماموں حرام بن ملحان کو ان کی قوم کی جانب بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ کیا مجھے امن دیتے ہو کہ میں رسول اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دوں۔پس یہ ان سے گفتگو کرنے لگے۔ عبیداللہ ثقفی نے بیان کیا، ان سے بکر بن عبداللہ مزنی اور زیاد بن جبیر بن حیہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے (ایران کی فوج کے سامنے) کہا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے رب کے پیغامات میں سے یہ پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو (فی سبیل اللہ) قتل کیا جائے گا وہ جنت میں جائے گا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالاَتِهِ}اللہ تعالیٰ کا (سورۃ المائدہ میں) فرمان ”اے رسول! تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا اس کو لوگوں تک پہنچا دے“؛جلد٩ص١٥٤حدیث٧٥٣٠)
مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو تم سے یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کو چھپایا۔ مسروق کا بیان ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو تمہیں بتائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں سے کچھ چھپایا تو اس کی تصدیق نہ کرو کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ کنز الایمان: اے رسول پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا۔ ارشاد باری تعالی ہے:ترجمہ کنز الایمان: اے رسول پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالاَتِهِ}اللہ تعالیٰ کا (سورۃ المائدہ میں) فرمان ”اے رسول! تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا اس کو لوگوں تک پہنچا دے“؛جلد٩ص١٥٥حدیث٧٥٣١)
عمرو بن شرحبیل کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ!کونسا گناہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟فرمایا کہ تو اللہ کو کسی کو شریک ٹھہراے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔عرض کی کہ پھر کونسا ہے؟فرمایا کہ پھر یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھاے گی۔عرض کی کہ پھر کونسا ہے؟فرمایا کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق یہ وحی نازل فرمائی۔ترجمہ کنز الایمان:اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ تعالیٰ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پاے گا۔(المائدہ ٦٧) (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالاَتِهِ}اللہ تعالیٰ کا (سورۃ المائدہ میں) فرمان ”اے رسول! تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا اس کو لوگوں تک پہنچا دے“؛جلد٩ص١٥٥حدیث٧٥٣٢)
ترجمہ کنز الایمان:توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو۔(آل عمران ٩٣) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل توریت کو توریت عطاء فرمائی گئی تو انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا۔اہل انجیل کو انجیل عطاء فرمائی گئی تو انہوں نے اس پر عمل کیا اور تمہیں قران کریم دیا گیا ہے تو تم اس ہے مطابق عمل کرو۔ابوزرین کا قول ہے کہ یتلونہ سے یہ مراد ہے کہ اس کی اتباع کرو اور اس کے مطابق عمل کرو جیسے عمل کرنے کا حق ہے۔کہا گیا ہے کہ تیلی سے اچھی طرح پڑھنا مراد ہے یعنی قرآن کریم کو حسن قرأت کے ساتھ لا یمسد سے مراد ہے کہ اس کا ذائقہ اور نفع وہی پائیں گے جو اس پر ایمان لائے اور اسے حق کے ساتھ نہیں اٹھاے گا مگر اس پر یقین رکھنے والا،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ل۔ترجمہ کنز الایمان:ان کی مثال جن پر توریت رکھی گئی تھی پھر انہوں نے اس کی حکم برداری نہ کی گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا۔(الجمعہ ٥) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام اور ایمان کو عمل کا نام دیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال سے فرمایا کہ مجھے وہ امید بخش عمل بتاؤ جو تم نے حالت اسلام میں کیا ہو؟عرض کی کہ میرے نزدیک تو میں نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جو امید بخش ہو،ہاں میں نے بغیر طہارت نماز نہیں پڑھی پوچھا گیا وہ کون سا عمل افضل ہے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا پھر جہاد کرنا اور حج مبرور۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى؛{قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا}؛جلد٩ص١٥٥) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گذشتہ امتوں کے مقابلہ میں تمہارا وجود ایسا ہے جیسے عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت، اہل توریت کو توریت دی گئی تو انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دن آدھا ہو گیا اور وہ عاجز ہوگئے۔ پھر انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا، انہیں بھی ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہو گیا، تمہیں دو دو قیراط دئیے گئے، اس پر اہل کتاب نے کہا کہ یہ ہم سے عمل میں کم ہیں اور اجر میں زیادہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے تمہارا حق دینے میں کوئی ظلم کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں دوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى؛{قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا}؛جلد٩ص١٥٦حدیث٧٥٣٣)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کو کونسا عمل افضل ہے؟فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ وَسَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاَةَ عَمَلاً؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو عمل فرمایا،؛وقال:لا صلاة لمن لم يقرا بفاتحة الكتاب. اور(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں؛جلد٩ص١٥٦حدیث٧٥٣٤)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:بےشک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بےصبرا حریص جب اسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والا اور جب بھلائی پہنچے تو روک رکھنے والا۔(المعارج١٩تا ٢١)ھلوعا بےصبرا حریص۔ امام حسن بصری کا بیان ہے کہ حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مال آیا تو بعض لوگوں کو آپ نے عطاء فرمایا اور بعض لوگوں کو نہ دیا۔چنانچہ آپ کو یہ خبر پہنچی کہ انہیں یہ بات ناگوار گزری ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک شخص کو دیا اور دوسرے کو نہ دیا تو جس کو مال نہ دیا وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے جس کو مال دیا ہے۔میں نے ان لوگوں کو مال دیا جن کے دلوں میں بےسکونی اور اضطراب ہے اور جب بعض لوگوں کو نظر انداز کرتا ہوں تو اس غنا اور بھلائی کے سبب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ڈالدی ہے اور ان میں سے عمرو بن تغلب بھی ہیں۔حضرت عمرو فرماتے ہیں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلمے کے مقابلے میں مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس سرخ اونٹ ہوتے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کو کونسا عمل افضل ہے؟فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنا والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ الإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا}؛جلد٩ص١٥٦حدیث٧٥٣٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روایت کی کہ ان کے رب نے فرمایا جب بندہ بالشت بھر میرے نزدیک اتا ہے تو میں ایک گز اس کی طرف بڑھ جاتا ہوں اور جب وہ گز بھر میرے قریب اتا ہے تو میں دونوں ہاتھ کے پھیلاؤ کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں اور جب وہ میرے جانب چل کر اتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ ذِكْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِوَايَتِهِ عَنْ رَبِّهِ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے ذکر اور روایت کرنا؛جلد٩ص١٥٦حدیث٧٥٣٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے: جب بندہ بالشت بھر مجھ سے نزدیک ہوتا ہے تو میں گز بھر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں اور جب وہ گز بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں دونوں ہاتھ کے پھیلاؤ کے برابر قریب ہو جاتا ہوں۔ معتمر کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد ماجد سے سنا انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے رب تعالی سے روایت کرتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ ذِكْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِوَايَتِهِ عَنْ رَبِّهِ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے ذکر اور روایت کرنا؛جلد٩ص١٥٧حدیث٧٥٣٧)
محمد بن زیاد کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے روایت کرتے کہ اس نے فرمایا: ہر عمل کے لیے کفارہ ہوتا ہے لیکن روزہ میرے لیے ہے اور اس کا بدلہ میں خود دوں گا اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ ذِكْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِوَايَتِهِ عَنْ رَبِّهِ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے ذکر اور روایت کرنا؛جلد٩ص١٥٧حدیث٧٥٣٨)
ابو العالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کسی ادمی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس بن متی سے بہتر ہوں اور انہیں ان کے والد ماجد کی طرف منسوب کیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ ذِكْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِوَايَتِهِ عَنْ رَبِّهِ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے ذکر اور روایت کرنا؛جلد٩ص١٥٧حدیث٧٥٣٩)
معاویہ بن قرہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن دیکھا کہ آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر سورۃ الفتح کی تلاوت کر رہے تھے یا سورۃ الفتح سے پڑھ رہے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ آپ بار بار الفاظ کی تکرار کرتے تھے۔ شعبہ کا بیان ہے کہ پھر معاویہ نے حضرت ابن مغفل کی قرات میں تلاوت کر کے سنائی۔ پھر فرمایا کہ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تمہارے پاس لوگ اکٹھا ہوں گے تو میں اسی طرح پڑھ کر سناتا جیسے حضرت ابن مغفل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑھنا سنایا تھا۔ میں نے معاویہ سے کہا کہ وہ کس طرح تکرار کرتے تھے؟فرمایا کہ تین دفعہ پڑھتے تھے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ ذِكْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِوَايَتِهِ عَنْ رَبِّهِ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے ذکر اور روایت کرنا؛جلد٩ص١٥٧حدیث٧٥٤٠)
ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ کنز الایمان:توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو۔(آل عمران ٩٣) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے حضرت ابوسفیان بن حرب نے بتایا کہ ہرقل نے اپنے ترجمان کو بلایا،پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب مبارک منگواکر پڑھا۔" اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد کی طرف سے ہرقل کے لیے اور اے اہل کتاب ایک بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ تَفْسِيرِ التَّوْرَاةِ وَغَيْرِهَا مِنْ كُتُبِ اللَّهِ بِالْعَرَبِيَّةِ وَغَيْرِهَا؛تورات اور اس کے علاوہ دوسری آسمانی کتابوں کی تفسیر اور ترجمہ عربی وغیرہ میں کرنے کا جائز ہونا؛جلد٩ص١٥٧حدیث٧٥٤١)
ابو سلمہ کا بیان ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اہل کتاب توریت کو عبرانی زبان میں پڑھا کرتے تھے اور مسلمانوں کے لیے اس کی عربی میں تفسیر بیان کیا کرتے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ تکذیب بلکہ یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا۔(بقرہ ١٣٦) (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ تَفْسِيرِ التَّوْرَاةِ وَغَيْرِهَا مِنْ كُتُبِ اللَّهِ بِالْعَرَبِيَّةِ وَغَيْرِهَا؛تورات اور اس کے علاوہ دوسری آسمانی کتابوں کی تفسیر اور ترجمہ عربی وغیرہ میں کرنے کا جائز ہونا؛جلد٩ص١٥٧حدیث٧٥٤٢)
نافے کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یہودیوں کے ایک مرد اور ایک عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ نے یہودیوں سے فرمایا کہ تم ان کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ایسے لوگوں کا منہ کالا کرتے اور انہیں ذلیل کیا کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا ترجمہ کنز الایمان: تورات لا کر پڑھو اگر سچے ہو۔(آل عمران ٩٣)وہ لے آئے اور ایک شخص سے جسے وہ پسند کرتے تھے کہ کہا اے عور!تم پڑھو،وہ پڑھنے لگا اور اصل مقام پر آکر رک گیا،بلکہ اس پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔ آپ نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے آیت رجم تھی،بالکل صاف۔پس کہا،اے محمد!ان دونوں کے لیے رجم کا حکم ہے جبکہ ہم اس حکم کو آپس میں چھپاتے تھے۔ پس آپ نے حکم فرمایا تو ان دونوں کو رجم کر دیا گیا میں نے دیکھا کہ وہ مرد اس عورت پر جھک جاتا تھا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛ بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ تَفْسِيرِ التَّوْرَاةِ وَغَيْرِهَا مِنْ كُتُبِ اللَّهِ بِالْعَرَبِيَّةِ وَغَيْرِهَا؛تورات اور اس کے علاوہ دوسری آسمانی کتابوں کی تفسیر اور ترجمہ عربی وغیرہ میں کرنے کا جائز ہونا؛جلد٩ص١٥٨حدیث٧٥٤٣)
اور قران مجید کو اپنی آواز سے زینت دو۔ ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالی اس قدر کسی اور چیز کو نہیں سنتا ہے جس قدر اپنے نبی کے خوش الحانی اور بلند آواز سے قران مجید پڑھنے کو سنتا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ قرآن کا ماہر مکرم صالحین کے ساتھ ہوگا؛جلد٩ص١٥٨حدیث٧٥٤٤)
ابن شہاب کا بیان ہے کہ مجھے عروہ بن زبیر،سعید بن مسیب،علقمہ بن وقاص اور عبید اللہ بن عبداللہ نے حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ایک حصہ بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے بستر پر لیٹ گئی اور میں اچھی طرح جانتی تھی کہ میں اس الزام سے بری ہوں اور اللہ تعالی مجھے بری فرما دے گا۔ لیکن خدا کی قسم یہ تو میں گمان بھی نہیں کر سکتی تھی کہ میرے بارے میں وحی نازل ہوگی جو میری شان میں تلاوت کی جائے گی۔ کیونکہ میں اپنے اپ کو اس سے بہت کمتر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالی میرے معاملے میں ایسا کلام فرمائے جس کی تلاوت کی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے وحی نازل فرمائی ترجمہ کنز الایمان: تو تمہارا پردہ کھول دیتا۔(نور ١١تا ٢٠) (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ قرآن کا ماہر مکرم صالحین کے ساتھ ہوگا؛جلد٩ص١٥٨حدیث٧٥٤٥)
حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں سورۃ التین والزيتون پڑھ رہے تھے۔ پس میں نے قرآن کریم پڑھنے میں کوئی آواز آپ سے بہتر نہیں سنی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ قرآن کا ماہر مکرم صالحین کے ساتھ ہوگا؛جلد٩ص١٥٨حدیث٧٥٤٦)
سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں پوشیدہ رہا کرتے تھے اور جب آپ بلند آواز سے قرأت کرتے اور مشرکین سنتے تو وہ قرآن مجید کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ قرآن کا ماہر مکرم صالحین کے ساتھ ہوگا؛جلد٩ص١٥٨حدیث٧٥٤٧)
عبید الرحمن بن ابو صعصعہ کو ان کے والد ماجد نے بتایا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا۔ میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں بکریاں اور جنگل بہت پسند ہیں۔پس جب تم اپنی بکریوں کے ساتھ یا کسی جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان کہو تو خوب بلند اواز سے کہو کیونکہ موذن کے آواز کو کوئی جن یا انسان نہیں سنے گا مگر قیامت کے دن اس کی گواہی دے گا۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ قرآن کا ماہر مکرم صالحین کے ساتھ ہوگا؛جلد٩ص١٥٩حدیث٧٥٤٨)
منصور نے اپنی والدہ ماجدہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید پڑھا کرتے تو آپ کا سر مبارک میری گود میں ہوتا اور میں حائضہ ہوتی تھی۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ»فرمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ قرآن کا ماہر مکرم صالحین کے ساتھ ہوگا؛جلد٩ص١٥٩حدیث٧٥٤٩)
عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے، ان دونوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں نے دیکھا کہ وہ قرآن مجید بہت سے ایسے طریقوں سے پڑھ رہے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں پڑھائے تھے۔ قریب تھا کہ نماز ہی میں ان پر میں حملہ کر دوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی گردن میں اپنی چادر کا پھندا لگا دیا اور ان سے کہا تمہیں یہ سورت اس طرح کس نے پڑھائی جسے میں نے ابھی تم سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا تم جھوٹے ہو، مجھے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مختلف قرآت سکھائی ہے جو تم پڑھ رہے تھے۔ چنانچہ میں انہیں کھینچتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور عرض کیا کہ میں نے اس شخص کو سورۃ الفرقان اس طرح پڑھتے سنا جو آپ نے مجھے نہیں سکھائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو۔ ہشام! تم پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے وہی قرآت پڑھی جو میں ان سے سن چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ اے عمر! اب تم پڑھو! میں نے اس قرآت کے مطابق پڑھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔فرماتے بےشک یہ قرآن مجید سات طریقوں پر نازل ہوا ہے،پس تمہیں جس قرآت میں سہولت ہو پڑھو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ}ترجمہ کنز الایمان:اب قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو۔(مزمل ٢٠)؛جلد٩ص١٥٩حدیث٧٥٥٠)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر ایک کے لیے وہ کام اسان کر دیا جاتا ہے۔جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔میسر آسانی مہیا کرنا۔"یسرنا القرآن"تمہاری زبان میں اس کا پڑھنا تم پر آسان کر دیا۔مطر الوراق کا قول ہے کہ ترجمہ کنز الایمان:اور بے شک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرما دیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا۔(القمر ١٧)کیا کوئی علم کا طلب کرنے والا ہے کہ اس کی مدد فرمائی جائے؟ مطرف بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ!پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کریں؟ فرمایا کہ ہر ایک کے لیے وہ کام اسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے اسے پیدا فرمایا گیا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ}؛جلد٩ص١٥٩حدیث٧٥٥١)
ابو عبدالرحمن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے تو اپ نے ایک لکڑی لی اور اس کے ساتھ زمین کریدنے لگے۔ پھر فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایک بھی نہیں مگر اس کا ٹھکانہ دوزخ یا جنت میں لکھا جا چکا ہے۔ لوگوں نے عرض کی کہ ہم اسی پر بھروسہ نہ کر بیٹھے؟فرمایا کہ عمل کرو کیونکہ ہر ایک کے لیے وہ کام اسان کر دیا گیا ہے جس کے لیے اسے پیدا فرمایا گیا۔ ترجمہ کنز الایمان: تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی۔(ولیل٥) (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ}؛جلد٩ص١٦٠حدیث٧٥٥٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:طور کی قسم اور اس نوشتہ کی۔“(الطور ١،٢)قتادہ نے کہا «مسطور» کے معنی لکھی گئی ہوئی«يسطرون» یعنی لکھتے ہیں۔ «في أم الكتاب» یعنی مجموعی اصل کتاب میں، یہ جو سورۃ ق میں فرمایا «ما يلفظ من قول» اس کا معنی یہ ہے کہ جو بات وہ منہ سے نکالتا ہے اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نیکی اور بدی یہ فرشتہ لکھتا ہے۔ «يحرفون» لفظوں کو اپنے ٹھکانوں سے ہٹا دیتے ہیں کیونکہ اللہ کی کتاب میں سے کوئی لفظ بالکل نکال ڈالنا یہ کسی سے نہیں ہو سکتا مگر اس میں تاویلیں کرتے ہیں یعنی ایسے معنی بیان کرتے ہیں جو اس کے اصلی معنی نہیں ہیں۔ «وان كنا عن دراستهم» میں «دراست» سے تلاوت مراد ہے۔ «واعية» جو سورۃ الحاقہ میں ہے یاد رکھنے والا۔ «وتعيها» یعنی یاد رکھے اور یہ جو (سورۃ یونس میں ہے) «وأوحي إلي هذا القرآن لأنذركم به» میں «كم» سے خطاب مکہ والوں کو ہے «ومن بلغ» سے دوسرے تمام جہاں کے لوگ ان سب کو یہ قرآن ڈرانے والا ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ}؛جلد٩ص١٦٠) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرما لیا تو اپنے پاس ایک تحریر لکھ لی کہ غالب ہوئی یا فرمایا کہ سبقت لے گئی میری رحمت میری غضب پر۔ پس وہ عرش کے اوپر اس کے پاس ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ}؛جلد٩ص١٦٠؛حدیث نمبر٧٥٥٣)
ابو رافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مخلوق کو پیدا فرمانے سے پہلے اللہ تعالی نے ایک تحریر لکھی کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔پس وہ لکھی ہوئی تحریر عرش کے اوپر ہے۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَجِيدٌ فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ}؛جلد٩ص١٦٠؛حدیث نمبر٧٥٥٤)
اور تصویر بنانے والوں سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنائیں ان میں ڈالو۔بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانکتا ہے کہ جلد اس کے پیچھے لگا آتا ہے اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا سب اس کے حکم کے دبے ہوئے سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا۔(اعراف ٥٤) ابن عیینہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلق اور امر کو الگ الگ بیان فرمایا کہ ارشاد ہے۔ترجمہ کنز الایمان:سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا۔(طور ١،٢)اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کو عمل کا نام دیا ہے۔ حضرت ابوذر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «جزاء بما كانوا يعملون» ”یہ بدلہ ہے اس کا جو وہ کرتے تھے۔“ قبیلہ عبدالقیس کے وفد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں آپ چند ایسے جامع اعمال بتا دیں جن پر اگر ہم عمل کر لیں تو جنت میں داخل ہو جائیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایمان، شہادت، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا۔ اسی طرح آپ نے ان سب چیزوں کو عمل قرار دیا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ}؛جلد٩ص١٦٠) ابوقلابہ اور قاسم تمیمی نے زہدم سے روایت کیا کہ اس قبیلہ جرم اور اشعریوں میں محبت اور بھائی چارہ کا معاملہ تھا۔ ایک مرتبہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا۔ ان کے ہاں ایک بنی تیم اللہ کا بھی شخص تھا۔ غالباً وہ عرب کے غلام لوگوں میں سے تھا۔حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے پاس بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا ہے اور اسی وقت سے قسم کھا لی کہ اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا، سنو! میں تم سے اس کے متعلق ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتا ہوں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعریوں کے کچھ افراد کو لے کر حاضر ہوا اور ہم نے آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ! میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا، نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے میں تمہیں سواری کے لیے دوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت میں سے کچھ اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ چنانچہ آپ نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دینے کا حکم دیا۔ ہم انہیں لے کر چلے تو ہم نے اپنے عمل کے متعلق سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہیں دیں گے اور نہ آپ کے پاس کوئی ایسا جانور ہے جو ہمیں سواری کے لیے دیں۔ ہم نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہیں، واللہ! ہم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ ہم واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ سے صورت حال کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں یہ سواری نہیں دے رہا ہوں بلکہ اللہ دے رہا ہے۔ واللہ! میں اگر کوئی قسم کھا لیتا ہوں اور پھر اس کے خلاف میں دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جس میں بھلائی ہوتی ہے اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى؛{وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ}؛جلد٩ص١٦٠؛حدیث نمبر٧٥٥٥)
ابوجمرہ ضبعی نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تو آپ نے فرمایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے مشرکین حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں ہی آ سکتے ہیں۔ اس لیے آپ کچھ ایسے جامع احکام ہمیں بتا دیجئیے کہ اگر ہم ان پر عمل کریں تو جنت میں جائیں اور ان کی طرف ان لوگوں کو دعوت دیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار کاموں سے روکتا ہوں۔ میں تمہیں ایمان باللہ کا حکم دیتا ہوں۔ تمہیں معلوم ہے کہ ایمان باللہ کیا ہے؟ اس کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ دینے کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں چار کاموں سے روکتا ہوں، یہ کہ کدو کی تونبی اور لکڑی کے کریدے ہوئے برتن اور روغنی برتنوں اور سبز لاکھی برتنوں میں مت پیا کرو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ}؛جلد٩ص١٦١؛حدیث نمبر٧٥٥٦)
قاسم بن محمد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تصویر بنانے والوں کو بروز قیامت عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنائیں ان میں جان ڈالو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ}؛جلد٩ص١٦١؛حدیث نمبر٧٥٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ان تصویر بنانے والوں کو بروز قیامت عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنائی ہیں ان کے اندر جان ڈالو۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ}؛جلد٩ص١٦١؛حدیث نمبر٧٥٥٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو میرے پیدا کرنے کی طرح پیدا کرنے چل پڑے۔بھلا وہ ایک ذرہ تو بنائیں۔وہ کوئی ایک دانہ یا جو کا دانہ ہی بنا کر دکھا دیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:{وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ}؛جلد٩ص١٦١؛حدیث نمبر٧٥٥٩)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس مومن کی مثال جو قرآن کریم پڑھے نارنگی کی طرح ہے،جس کا ذائقہ اچھا اور خوشبو بھی اچھی ہے اور جو قرآن مجید نہ پڑھے اس کی مثال کھجور کی طرح ہے کہ اس کا ذائقہ تو اچھا لیکن خوشبو نہیں ہوتی۔فاجر کی مثال جو قرآن کریم پڑھے ریحان کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو اچھی لیکن ذائقہ کڑوا ہے اور اس فاجر کی مثال جو قرآن مجید نہ پڑھے اندرائن کی طرح کہ ذائقہ کڑوا اور خوشبو بھی نہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قِرَاءَةِ الْفَاجِرِ وَالْمُنَافِقِ، وَأَصْوَاتُهُمْ وَتِلاَوَتُهُمْ لاَ تُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ؛بدکار اور منافق کی قرآت اور ان کی آواز اور ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی؛جلد٩ص١٦١؛حدیث نمبر٧٥٦٠)
یحییٰ بن عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق سوال کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ لوگ بعض ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صحیح بات وہ ہے جسے شیطان فرشتوں سے سن کر یاد رکھ لیتا ہے اور پھر اسے مرغی کے کٹ کٹ کرنے کی طرح (کاہنوں) کے کانوں میں ڈال دیتا ہے اور یہ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملاتے ہیں۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قِرَاءَةِ الْفَاجِرِ وَالْمُنَافِقِ، وَأَصْوَاتُهُمْ وَتِلاَوَتُهُمْ لاَ تُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ؛بدکار اور منافق کی قرآت اور ان کی آواز اور ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی؛جلد٩ص١٦١؛حدیث نمبر٧٥٦١)
معبد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کچھ لوگ مشرق کی طرف سے نکلیں گے اور قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے۔ پھر یہ لوگ کبھی دین میں نہیں واپس آ سکتے، یہاں تک کہ تیر اپنی جگہ (خود) واپس آ جائے، پوچھا گیا کہ ان کی علامت کیا ہوگی؟ تو فرمایا کہ ان کی علامت سر منڈوانا ہو گی یا فرمایا کہ سر منڈاے رکھنا۔“ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قِرَاءَةِ الْفَاجِرِ وَالْمُنَافِقِ، وَأَصْوَاتُهُمْ وَتِلاَوَتُهُمْ لاَ تُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ؛بدکار اور منافق کی قرآت اور ان کی آواز اور ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی؛جلد٩ص١٦٢؛حدیث نمبر٧٥٦٢)
ارشاد باری تعالیٰ ترجمہ کنز الایمان:اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھے گے۔(انبیاء ٥٧)جس میں انسانوں کے اعمال واقوال تولے جائیں گے۔ مجاہد کا قول ہے:القسطاس رومی زبان میں عدل کو کہتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ القسط المقسط کا مصدر ہے یعنی عادل اور القاسط ظالم کو کہتے ہیں۔ ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دو کلمے اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں،زبان پر ہلکے اور میزان میں بہت بھاری ہیں۔وہ یہ ہیں۔اللہ پاک ہے اور اپنی حمد کے ساتھ۔اللہ پاک ہے عظمت والا۔ (بخاری شریف؛كِتَاب التَّوْحِيدِ؛بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ}؛جلد٩ص١٦٢؛حدیث نمبر٧٥٦٣)
Bukhari Shareef : Kitabut Tauhid
|
Bukhari Shareef : كِتَابُ التَّوْحِيدِ
|
•