
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کی مسلمان پر حسن سلوک کے چھ حقوق ہیں: ۱۔ جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے، ۲۔ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، ۳۔ جب وہ چھینکے اور «الحمد لله» کہے تو جواب میں «يرحمك الله» کہے، ۴۔ جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت (بیمار پرسی) کرے، ۵۔ جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے، ۶۔ اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ:مریض کی عیادت کا بیان:جلد٢ص٤٣١،حديث نمبر١٤٣٣)
حضرت ابومسعود (عقبہ بن عمرو) انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حقوق ہیں: جب اسے چھینک آئے اور وہ «الحمدلله» کہے تو اس کے جواب میں «يرحمك الله» کہے، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے، جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ میں حاضر ہو، اور جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ:مریض کی عیادت کا بیان:جلد٢ص٤٣٢،حديث نمبر١٤٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازہ میں حاضر ہونا، مریض کی عیادت کرنا، اور جب چھینکنے والا «الحمد لله» کہے، تو اس کے جواب میں «يرحمك الله» کہنا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ:مریض کی عیادت کا بیان:جلد٢ص٤٣٢،حديث نمبر١٤٣٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے آئے، اور میں (مدینہ سے دور) قبیلہ بنو سلمہ میں تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ:مریض کی عیادت کا بیان:جلد٢ص٤٣٣،حديث نمبر١٤٣٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت اس کی بیماری کے تین دن گزر جانے کے بعد فرماتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ:مریض کی عیادت کا بیان:جلد٢ص٤٣٣،حديث نمبر١٤٣٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مریض کے پاس جاؤ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ:مریض کی عیادت کا بیان:جلد٢ص٤٣٤،حديث نمبر١٤٣٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیمار کی عیادت کی، تو اس سے پوچھا: ”کیا کھانے کو جی چاہتا ہے؟“ اس نے کہا: گیہوں کی روٹی کھانے کی خواہش ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اسے اپنے بیمار بھائی کے پاس بھیج دے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا مریض کچھ کھانے کی خواہش کرے تو وہ اسے وہی کھلائے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ:مریض کی عیادت کا بیان:جلد٢ص٤٣٤،حديث نمبر١٤٣٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے، تو پوچھا: ”کیا کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے؟ کیا کعک کھانا چاہتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں، تو لوگوں نے اس کے لیے کعک منگوایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ:مریض کی عیادت کا بیان:جلد٢ص٤٣٥،حديث نمبر١٤٤٠)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ، تو اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرو، اس لیے کہ اس کی دعا فرشتوں کی دعا کی طرح ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ:مریض کی عیادت کا بیان:جلد٢ص٤٣٥،حديث نمبر١٤٤١)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے آئے وہ جنت کے کھجور کے باغ میں چل رہا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے، جب بیٹھ جائے، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، اگر صبح کے وقت عیادت کے لیے گیا ہو تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں، اور اگر شام کا وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ عَادَ مَرِيضًا:مریض کی عیادت کا ثواب:جلد٢ص٤٣٦،حديث نمبر١٤٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مریض کی عیادت کی تو آسمان سے منادی (آواز لگانے والا) آواز لگاتا ہے: تم اچھے ہو اور تمہارا جانا اچھا رہا، تم نے جنت میں ایک ٹھکانا بنا لیا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ عَادَ مَرِيضًا:مریض کی عیادت کا ثواب:جلد٢ص٤٣٧،حديث نمبر١٤٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مردوں کو «لا إله إلا الله» کی تلقین کرو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَلْقِينِ الْمَيِّتِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ:جان نکلنے کے وقت میت کو «لا الہ الا اللہ» کی تلقین کا بیان:جلد٢ص٤٣٧،حديث نمبر١٤٤٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مردوں کو (جو مرنے کے قریب ہوں) «لا إله إلا الله» کی تلقین کرو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَلْقِينِ الْمَيِّتِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ:جان نکلنے کے وقت میت کو «لا الہ الا اللہ» کی تلقین کا بیان:جلد٢ص٤٣٧،حديث نمبر١٤٤٥)
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مردوں (جو لوگ مرنے کے قریب ہوں) کو یہ کہنے کی تلقین کرو: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين» کی تلقین کرو“ (ترجمہ) ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، جو حلیم و کریم والا ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو عرش عظیم کا رب ہے، تمام حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کو لائق و زیبا ہے جو سارے جہاں کا رب ہے“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دعا زندوں کے لیے کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت بہتر ہے، بہت بہتر ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَلْقِينِ الْمَيِّتِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ:جان نکلنے کے وقت میت کو «لا الہ الا اللہ» کی تلقین کا بیان:جلد٢ص٤٣٨،حديث نمبر١٤٤٦)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ، تو اچھی بات کہو، اس لیے کہ فرشتے تمہاری باتوں پہ آمین کہتے ہیں“، چنانچہ جب (میرے شوہر) ابوسلمہ کا انتقال ہوا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور میں نے کہا: اللہ کے رسول! ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کلمات کہو : «اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبى حسنة» ”اے اللہ مجھ کو اور ان کو بخش دے، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما“۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نعم البدل کے طور پر عطا کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ عِنْدَ الْمَرِيضِ إِذَا حُضِرَ:جانکنی کے وقت مریض کے پاس کیا دعا پڑھی جائے؟:جلد٢ص٤٣٩،حديث نمبر١٤٤٧)
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مردوں کے پاس سورۃ يس پڑھو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ عِنْدَ الْمَرِيضِ إِذَا حُضِرَ:جانکنی کے وقت مریض کے پاس کیا دعا پڑھی جائے؟:جلد٢ص٤٣٩،حديث نمبر١٤٤٨)
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب ان کے والد حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا، تو ان کے پاس ام بشر بنت براء بن معرور (رضی اللہ عنہما) آئیں، اور کہنے لگیں: اے ابوعبدالرحمٰن! اگر فلاں سے آپ کی ملاقات ہو تو ان کو میرا سلام کہیں، کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام بشر! اللہ تمہیں بخشے، ہمیں اتنی فرصت کہاں ہو گی کہ ہم لوگوں کا سلام پہنچاتے پھریں، انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا: ”مومنوں کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں ہوں گی، اور جنت کے درختوں سے کھاتی چرتی ہوں گی“، کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، ضرور سنی ہے، تو انہوں نے کہا: بس یہی مطلب ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ عِنْدَ الْمَرِيضِ إِذَا حُضِرَ:جانکنی کے وقت مریض کے پاس کیا دعا پڑھی جائے؟:جلد٢ص٤٤٠،حديث نمبر١٤٤٩)
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی وفات کے وقت ان کے پاس گیا، تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہئے گا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ عِنْدَ الْمَرِيضِ إِذَا حُضِرَ:جانکنی کے وقت مریض کے پاس کیا دعا پڑھی جائے؟:جلد٢ص٤٤١،حديث نمبر١٤٥٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے، وہاں پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک رشتہ دار کا موت کی سختی کا احساس ہو رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا رنج دیکھا تو ان سے فرمایا: ”تم اپنے رشتہ دار پر غم زدہ نہ ہو، کیونکہ یہ اس کی نیکیوں میں سے ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُؤْمِنِ يُؤْجَرُ فِي النَّزْعِ:مومن کو موت کی سختی پر اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے:جلد٢ص٤٤١،حديث نمبر١٤٥١)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود ہوتی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُؤْمِنِ يُؤْجَرُ فِي النَّزْعِ:مومن کو موت کی سختی پر اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے:جلد٢ص٤٤٢،حديث نمبر١٤٥٢)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: بندے سے لوگوں کی پہچان کب ختم ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ (موت کے فرشتوں کو) دیکھ لیتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُؤْمِنِ يُؤْجَرُ فِي النَّزْعِ:مومن کو موت کی سختی پر اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے:جلد٢ص٤٤٢،حديث نمبر١٤٥٣)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بند کر دیا، پھر فرمایا: ”جب روح قبض کی جاتی ہے، تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَغْمِيضِ الْمَيِّتِ:(روح قبض ہو جانے کے بعد) میت کی آنکھیں بند کر دینے کا بیان:جلد٢ص٤٤٣،حديث نمبر١٤٥٤)
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو، اس لیے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے، اور (میت کے پاس) اچھی بات کہو، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَغْمِيضِ الْمَيِّتِ:(روح قبض ہو جانے کے بعد) میت کی آنکھیں بند کر دینے کا بیان:جلد٢ص٤٤٤،حديث نمبر١٤٥٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیا، اور ان کی وفات ہو چکی تھی ، گویا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسوؤں کو دیکھ رہی ہوں جو آپ کے رخسار مبارک پہ بہہ رہے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَقْبِيلِ الْمَيِّتِ:میت کے بوسہ لینے کا بیان:جلد٢ص٤٤٤،حديث نمبر١٤٥٦)
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا، اور آپ کی وفات ہو چکی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَقْبِيلِ الْمَيِّتِ:میت کے بوسہ لینے کا بیان:جلد٢ص٤٤٥،حديث نمبر١٤٥٧)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم آپ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو غسل دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں تین بار، یا پانچ بار، یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو تو پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو، اور اخیر بار کے غسل میں کافور یا کہا: تھوڑا سا کافور ملا لو، جب تم غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو“، لہٰذا جب ہم غسل سے فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی، آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: ”اسے جسم سے متصل کفن میں سب سے نیچے رکھو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ:میت کو غسل دینے کا بیان:جلد٢ص٤٤٥،حديث نمبر١٤٥٨)
ایک اور سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے محمد بن سیرین کی سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں یہ ہے کہ: ”ان کو طاق بار غسل دو“، اور اس میں یہ بھی ہے کہ: ”انہیں تین بار یا پانچ بار غسل دو، اور دائیں طرف کے اعضاء وضو سے غسل شروع کرو“۔ اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہم نے ان کے بالوں میں کنگھی کر کے تین چوٹیاں کر دیں“ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ:میت کو غسل دینے کا بیان:جلد٢ص٤٤٦،حديث نمبر١٤٥٩)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ:میت کو غسل دینے کا بیان:جلد٢ص٤٤٦،حديث نمبر١٤٦٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے مردوں کو امانت دار لوگ غسل دیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ:میت کو غسل دینے کا بیان:جلد٢ص٤٤٧،حديث نمبر١٤٦١)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مردے کو غسل دیا، اسے کفن پہنایا، اسے خوشبو لگائی، اور اسے کندھا دے کر قبرستان لے گیا، اس پہ نماز جنازہ پڑھی، اور اگر کوئی عیب دیکھا تو اسے پھیلایا نہیں، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ:میت کو غسل دینے کا بیان:جلد٢ص٤٤٧،حديث نمبر١٤٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی مردے کو غسل دے وہ خود بھی غسل کرے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ:میت کو غسل دینے کا بیان:جلد٢ص٤٤٧،حديث نمبر١٤٦٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہو گیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَغُسْلِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا:شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو غسل دے اس کا بیان:جلد٢ص٤٤٨،حديث نمبر١٤٦٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے لوٹے تو مجھے اس حال میں پایا کہ میرے سر میں درد ہو رہا تھا، اور میں کہہ رہی تھی: ”ہائے سر!“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ اے عائشہ! میں ہائے سر کہتا ہوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا نقصان ہو گا اگر تم مجھ سے پہلے مرو گی تو تمہارے سارے کام میں انجام دوں گا، تمہیں غسل دلاؤں گا، تمہاری تکفین کروں گا، تمہاری نماز جنازہ پڑھاؤں گا، اور تمہیں دفن کروں گا۔“ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَغُسْلِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا:شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو غسل دے اس کا بیان:جلد٢ص٤٤٩،حديث نمبر١٤٦٥)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینا شروع کیا تو کسی آواز لگانے والے نے اندر سے آواز لگائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ نہ اتارو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان:جلد٢ص٤٥٠،حديث نمبر١٤٦٦)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا، تو آپ کے جسم مبارک سے وہ ڈھونڈنے لگے جو میت کے جسم میں ڈھونڈتے ہیں لیکن کچھ نہ پایا، تو کہا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں، آپ پاک صاف ہیں، آپ زندگی میں بھی پاک تھے، وفات کے بعد بھی پاک ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان:جلد٢ص٤٥٠،حديث نمبر١٤٦٧)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں (بئر غرس) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان:جلد٢ص٤٥١،حديث نمبر١٤٦٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا، جس میں کرتہ اور عمامہ نہ تھا، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگ دھاری دار چادر لائے تھے مگر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں نہیں کفنایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَفَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن کا بیان:جلد٢ص٤٥١،حديث نمبر١٤٦٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سحول کے بنے ہوئے تین باریک سفید کپڑوں میں کفنائے گئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَفَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن کا بیان:جلد٢ص٤٥٢،حديث نمبر١٤٧٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین کپڑوں میں کفنائے گئے، ایک اپنی قمیص میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی، اور دوسرے نجرانی جوڑے میں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَفَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن کا بیان:جلد٢ص٤٥٢،حديث نمبر١٤٧١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑا ہے، لہٰذا تم اپنے مردوں کو اسی میں کفناؤ، اور اسی کو پہنو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْكَفَنِ:کفن کے لیے کون سا کپڑا اچھا اور مستحب ہے؟:جلد٢ص٤٥٣،حديث نمبر١٤٧٢)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین کفن جوڑا ہے“۔ (یعنی تہبند اور چادر۔) (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْكَفَنِ:کفن کے لیے کون سا کپڑا اچھا اور مستحب ہے؟:جلد٢ص٤٥٣،حديث نمبر١٤٧٣)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی تجہیز و تکفین کا ذمہ دار ہو، تو اسے اچھا کفن دے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْكَفَنِ:کفن کے لیے کون سا کپڑا اچھا اور مستحب ہے؟:جلد٢ص٤٥٣،حديث نمبر١٤٧٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”انہیں کفن میں داخل نہ کرنا جب تک کہ میں دیکھ نہ لوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ان کے اوپر جھک کر روئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّظَرِ إِلَى الْمَيِّتِ إِذَا أُدْرِجَ فِي أَكْفَانِهِ:میت کو کفن میں لپیٹتے وقت دیکھنے کا بیان:جلد٢ص٤٥٤،حديث نمبر١٤٧٥)
بلال بن یحییٰ کہتے ہیں کہ جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا کوئی رشتہ دار انتقال کر جاتا تو کہتے: کسی کو اس کے انتقال کی خبر مت دو، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ «نعی» نہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان کانوں سے «نعی» سے منع فرماتے سنا ہے۔ («نعی» : کسی کے مرنے کی خبر دینے کو «نعی» کہتے ہیں، «نعی» جائز ہے، خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر دی ہے اسی طرح حضرت زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی وفات کی خبریں بھی آپ نے لوگوں کو دی ہیں، جس «نعی» کی ممانعت حدیثوں میں وارد ہے، یہ وہ «نعی» ہے جسے اہل جاہلیت کرتے تھے، جب کوئی مر جاتا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا۔) (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ النَّعْيِ:موت کی خبر دینے کی ممانعت:جلد٢ص٤٥٥،حديث نمبر١٤٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازہ کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو نیکی کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر بد ہے تو بدی کو اپنی گردن سے اتار پھینکو گے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي شُهُودِ الْجَنَائِزِ:جنازہ میں شرکت کا بیان:جلد٢ص٤٥٥،حديث نمبر١٤٧٧)
ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو کوئی جنازہ کے ساتھ جائے تو (باری باری) چارپائی کے چاروں پایوں کو اٹھائے، اس لیے کہ یہ سنت ہے، پھر اگر چاہے تو نفلی طور پر اٹھائے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ مَا جَاءَ فِي شُهُودِ الْجَنَائِزِ:جنازہ میں شرکت کا بیان:جلد٢ص٤٥٦،حديث نمبر١٤٧٨)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ دیکھا جسے لوگ دوڑتے ہوئے لے جا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اطمینان سے چلو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ مَا جَاءَ فِي شُهُودِ الْجَنَائِزِ:جنازہ میں شرکت کا بیان:جلد٢ص٤٥٦،حديث نمبر١٤٧٩)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ میں کچھ لوگوں کو جانوروں پر سوار دیکھا، تو فرمایا: ”تمہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم سوار ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ مَا جَاءَ فِي شُهُودِ الْجَنَائِزِ:جنازہ میں شرکت کا بیان:جلد٢ص٤٥٧،حديث نمبر١٤٨٠)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”سوار شخص جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل شخص (آگے پیچھے، دائیں، بائیں) جہاں چاہے چلے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ مَا جَاءَ فِي شُهُودِ الْجَنَائِزِ:جنازہ میں شرکت کا بیان:جلد٢ص٤٥٧،حديث نمبر١٤٨١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جنازہ کے آگے چلتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَشْيِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ:جنازہ کے آگے چلنے کا بیان:جلد٢ص٤٥٨،حديث نمبر١٤٨٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جنازہ کے آگے چلتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَشْيِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ:جنازہ کے آگے چلنے کا بیان:جلد٢ص٤٥٨،حديث نمبر١٤٨٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیئے، جو کوئی جنازہ کے آگے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:باب مَا جَاءَ فی المشی امام الجنازۃ:جلد٢ص٤٥٩،حديث نمبر١٤٨٤)
حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو“ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں، اور دوبارہ ایسا نہ کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّسَلُّبِ مَعَ الْجِنَازَةِ:جنازہ کے ساتھ ماتمی لباس پہننے کی ممانعت:جلد٢ص٤٥٩،حديث نمبر١٤٨٥)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنازہ تیار ہو تو اس (کے دفنانے) میں دیر نہ کرو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْجِنَازَةِ لاَ تُؤَخَّرُ إِذَا حَضَرَتْ وَلاَ تُتْبَعُ بِنَارٍ:جنازہ تیار ہو تو (اس کے دفنانے میں) دیر نہ کرنے اور جنازہ کے ساتھ آگ نہ لے جانے کا بیان:جلد٢ص٤٦٠،حديث نمبر١٤٨٦)
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت ہوا، تو انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جانا، لوگوں نے پوچھا: کیا اس سلسلے میں آپ نے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْجِنَازَةِ لاَ تُؤَخَّرُ إِذَا حَضَرَتْ وَلاَ تُتْبَعُ بِنَارٍ:جنازہ تیار ہو تو (اس کے دفنانے میں) دیر نہ کرنے اور جنازہ کے ساتھ آگ نہ لے جانے کا بیان:جلد٢ص٤٦٠،حديث نمبر١٤٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی نماز جنازہ سو مسلمانوں نے پڑھی اسے بخش دیا جائے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ:جس شخص پر مسلمانوں کی ایک جماعت نے نماز جنازہ پڑھی اس کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص٤٦١،حديث نمبر١٤٨٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے کریب! جاؤ، دیکھو میرے بیٹے کے جنازے کے لیے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے، ان کی تعداد کتنی سمجھتے ہو؟ کیا وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اس سے زیادہ ہیں، تو انہوں نے کہا: تو پھر میرے بیٹے کو نکالو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اگر چالیس مومن کسی مومن کے لیے شفاعت کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول کرے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ:جس شخص پر مسلمانوں کی ایک جماعت نے نماز جنازہ پڑھی اس کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص٤٦١،حديث نمبر١٤٨٩)
حضرت مالک بن ہبیرہ شامی رضی اللہ عنہ (انہیں صحبت رسول کا شرف حاصل تھا) کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، اور وہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم محسوس کرتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیتے، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کسی میت پہ مسلمانوں کی تین صفوں نے صف بندی کی، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ:جس شخص پر مسلمانوں کی ایک جماعت نے نماز جنازہ پڑھی اس کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص٤٦٢،حديث نمبر١٤٩٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر (جنت) واجب ہو گئی“ پھر آپ کے سامنے سے ایک اور جنازہ لے جایا گیا، تو لوگوں نے اس کی برائی کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر (جہنم) واجب ہو گئی“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے لیے بھی فرمایا: ”واجب ہو گئی“، اور اس کے لیے بھی فرمایا: ”واجب ہو گئی“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی گواہی واجب ہو گئی، اور مومن زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الثَّنَاءِ عَلَى الْجِنَازَةِ: میت کی مدح و ثنا کا بیان:جلد٢ص٤٦٣،حديث نمبر١٤٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی خصلتوں کی تعریف کی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر (جنت) واجب ہو گئی“ پھر آپ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا، اس کی بری خصلتوں کا تذکرہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر (جہنم) واجب ہو گئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الثَّنَاءِ عَلَى الْجِنَازَةِ: میت کی مدح و ثنا کا بیان:جلد٢ص٤٦٣،حديث نمبر١٤٩٢)
حضرت سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھائی جو زچگی میں مر گئی تھی ، تو آپ اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ: نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو؟:جلد٢ص٤٦٤،حديث نمبر١٤٩٣)
ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا، تو لوگوں نے کہا: اے ابوحمزہ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا، جس طرح آپ کھڑے ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: سب لوگ یاد کر لو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ: نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو؟:جلد٢ص٤٦٥،حديث نمبر١٤٩٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ:نماز جنازہ میں قرآت قرآن کا بیان:جلد٢ص٤٦٥،حديث نمبر١٤٩٥)
حضرت ام شریک انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ:نماز جنازہ میں قرآت قرآن کا بیان:جلد٢ص٤٦٦،حديث نمبر١٤٩٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو، تو اس کے لیے خلوص دل سے دعا کرو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ: نماز جنازہ کی دعا:جلد٢ص٤٦٦،حديث نمبر١٤٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کا نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» ”اے اللہ! ہمارے زندوں کو، ہمارے مردوں کو، ہمارے حاضر لوگوں کو، ہمارے غائب لوگوں کو، ہمارے چھوٹوں کو، ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو بخش دے، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ، اور جس کو وفات دے، تو ایمان پر وفات دے، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر، اور ہمیں ایمان پر ثابت قدم رکھ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ: نماز جنازہ کی دعا:جلد٢ص٤٦٧،حديث نمبر١٤٩٨)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کے نماز جنازہ پڑھائی، تو میں آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سن رہا تھا: «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحق فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» ”اے اللہ! فلاں بن فلاں، تیرے ذمہ میں ہے، اور تیری پناہ کی حد میں ہے، تو اسے قبر کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو عہد اور حق پورا کرنے والا ہے، تو اسے بخش دے، اور اس پر رحم کر، بیشک تو غفور (بہت بخشنے والا) اور رحیم (رحم کرنے والا) ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ: نماز جنازہ کی دعا:جلد٢ص٤٦٨،حديث نمبر١٤٩٩)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کی نماز جنازہ پڑھائی، میں حاضر تھا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: «اللهم صل عليه واغفر له وارحمه وعافه واعف عنه واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وأبدله بداره دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وقه فتنة القبر وعذاب النار» ”اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما، اسے بخش دے، اس پر رحم کر، اسے اپنی عافیت میں رکھ، اسے معاف کر دے، اور اس کے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے، اور اسے غلطیوں اور گناہوں سے ایسے ہی پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے، اور اس کے اس گھر کو بہتر گھر سے، اور اہل خانہ کو بہتر اہل خانہ سے بدل دے، اور اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے“۔ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں نے تمنا کی کاش اس میت کی جگہ میں ہوتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ: نماز جنازہ کی دعا:جلد٢ص٤٦٨،حديث نمبر١٥٠٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے جس قدر نماز جنازہ میں چھوٹ دی اتنی کسی چیز میں نہ دی یعنی اس کا وقت مقرر نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ: نماز جنازہ کی دعا:جلد٢ص٤٦٩،حديث نمبر١٥٠١)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ أَرْبَعًا:نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان:جلد٢ص٤٦٩،حديث نمبر١٥٠٢)
ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول حضرت عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے ایک بیٹے کی نماز جنازہ پڑھی، تو انہوں نے اس میں چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد کچھ دیر ٹھہرے، (اور سلام پھیرنے میں توقف کیا) تو میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ صف کے مختلف جانب سے «سبحان الله» کہہ رہے ہیں، انہوں نے سلام پھیرا، اور کہا: کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں پانچ تکبیریں کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: ہمیں اسی کا ڈر تھا، عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں تھا، لیکن چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے تھے، اور جو اللہ توفیق دیتا وہ پڑھتے تھے، پھر سلام پھیرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ أَرْبَعًا:نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان:جلد٢ص٤٧٠،حديث نمبر١٥٠٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بار تکبیریں «الله أكبر» کہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ أَرْبَعًا:نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان:جلد٢ص٤٧١،حديث نمبر١٥٠٤)
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں میں چار بار اللہ اکبر کہا کرتے تھے، ایک بار انہوں نے ایک جنازہ میں پانچ تکبیرات کہیں، میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ تکبیرات (بھی) کہتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ كَبَّرَ خَمْسًا:نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہنے کا بیان:جلد٢ص٤٧١،حديث نمبر١٥٠٥)
حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ تکبیرات کہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ كَبَّرَ خَمْسًا:نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہنے کا بیان:جلد٢ص٤٧٢،حديث نمبر١٥٠٦)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بچہ کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الطِّفْلِ:بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٧٢،حديث نمبر١٥٠٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بچہ (پیدائش کے وقت) روئے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الطِّفْلِ:بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٧٣،حديث نمبر١٥٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بچوں کی نماز جنازہ پڑھو، کیونکہ وہ تمہارے پیش رو ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الطِّفْلِ:بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٧٤،حديث نمبر١٥٠٩)
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ابراہیم بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذِكْرِ وَفَاتِهِ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کی وفات کا ذکر اور ان کی نماز جنازہ کا بیان:جلد٢ص٤٧٤،حديث نمبر١٥١٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور فرمایا: ”جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہو جاتے، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذِكْرِ وَفَاتِهِ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کی وفات کا ذکر اور ان کی نماز جنازہ کا بیان:جلد٢ص٤٧٥،حديث نمبر١٥١١)
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے قاسم کا انتقال ہو گیا، تو ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! قاسم جس پستان سے دودھ پیتے تھے اس میں دودھ جمع ہو گیا ہے، کاش کہ اللہ ان کو باحیات رکھتا یہاں تک کہ دودھ کی مدت پوری ہو جاتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی مدت رضاعت جنت میں پوری ہو رہی ہے“ تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اگر یہ بات مجھے معلوم رہی ہوتی تو مجھ پر ان کا غم ہلکا ہو گیا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ قاسم کی آواز تمہیں سنا دے“،حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بولیں: (نہیں) بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرتی ہوں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذِكْرِ وَفَاتِهِ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کی وفات کا ذکر اور ان کی نماز جنازہ کا بیان:جلد٢ص٤٧٦،حديث نمبر١٥١٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن شہداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے، تو آپ دس دس آدمیوں پر نماز جنازہ پڑھنے لگے، اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش اسی طرح رکھی رہی اور باقی لاشیں نماز جنازہ کے بعد لوگ اٹھا کر لے جاتے رہے، لیکن حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش جیسی تھی ویسی ہی رکھی رہی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ وَدَفْنِهِمْ:شہداء کی نماز جنازہ اور ان کی تدفین:جلد٢ص٤٧٦،حديث نمبر١٥١٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے، پھر پوچھتے: ”ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے“؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا، تو اسے قبر (قبلہ کی طرف) میں آگے کرتے، اور فرماتے: ”میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں،، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اور نہ غسل دلایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ وَدَفْنِهِمْ:شہداء کی نماز جنازہ اور ان کی تدفین:جلد٢ص٤٧٧،حديث نمبر١٥١٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے ہتھیار اور پوستین اتار لی جائے، اور ان کو انہیں کپڑوں میں خون سمیت دفنایا جائے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ وَدَفْنِهِمْ:شہداء کی نماز جنازہ اور ان کی تدفین:جلد٢ص٤٧٨،حديث نمبر١٥١٥)
حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اپنی شہادت گاہوں کی جانب لوٹا دئیے جائیں، لوگ انہیں مدینہ لے آئے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ وَدَفْنِهِمْ:شہداء کی نماز جنازہ اور ان کی تدفین:جلد٢ص٤٧٨،حديث نمبر١٥١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے تو اس کے لیے کچھ نہیں ہے"۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ فِي الْمَسْجِدِ:نماز جنازہ مسجد میں پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٧٨،حديث نمبر١٥١٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث زیادہ قوی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ فِي الْمَسْجِدِ:نماز جنازہ مسجد میں پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٧٩،حديث نمبر١٥١٨)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تین اوقات میں نماز پڑھنے، اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے: ”ایک تو جب سورج نکل رہا ہو، اور دوسرے جب کہ ٹھیک دوپہر ہو، یہاں تک کہ زوال ہو جائے یعنی سورج ڈھل جائے، تیسرے جب کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الأَوْقَاتِ الَّتِي لاَ يُصَلَّى فِيهَا عَلَى الْمَيِّتِ وَلاَ يُدْفَنُ:نماز جنازہ اور میت کی تدفین کے ممنوع اوقات کا بیان:جلد٢ص٤٨٠،حديث نمبر١٥١٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو رات میں دفن کیا، اور اس کی قبر کے پاس (روشنی کے لیے) چراغ جلایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الأَوْقَاتِ الَّتِي لاَ يُصَلَّى فِيهَا عَلَى الْمَيِّتِ وَلاَ يُدْفَنُ:نماز جنازہ اور میت کی تدفین کے ممنوع اوقات کا بیان:جلد٢ص٤٨٠،حديث نمبر١٥٢٠)
حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مردوں کو رات میں دفن نہ کرو، مگر یہ کہ جب کوئی عذر ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الأَوْقَاتِ الَّتِي لاَ يُصَلَّى فِيهَا عَلَى الْمَيِّتِ وَلاَ يُدْفَنُ:نماز جنازہ اور میت کی تدفین کے ممنوع اوقات کا بیان:جلد٢ص٤٨١،حديث نمبر١٥٢١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مردوں کی نماز جنازہ رات اور دن میں جس وقت چاہو پڑھو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الأَوْقَاتِ الَّتِي لاَ يُصَلَّى فِيهَا عَلَى الْمَيِّتِ وَلاَ يُدْفَنُ:نماز جنازہ اور میت کی تدفین کے ممنوع اوقات کا بیان:جلد٢ص٤٨٣،حديث نمبر١٥٢٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب (منافقین کے سردار) عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا تو اس کے (مسلمان) بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اپنا کرتہ دے دیجئیے، میں اس میں اپنے والد کو کفناؤں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس کا جنازہ تیار کر کے) مجھے اطلاع دینا“، جب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہی تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: یہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے، بہرحال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”مجھے دو باتوں میں اختیار دیا گیا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» (سورة التوبة: 80) ”تم ان کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» (سورة التوبة: 84) ”منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابٌ في الصَّلاَةِ عَلَى أَهْلِ الْقِبْلَةِ:اہل قبلہ کی نماز جنازہ ادا کرنا:جلد٢ص٤٨٣،حديث نمبر١٥٢٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ منافقین کا سردار (عبداللہ بن ابی) مدینہ میں مر گیا، اس نے وصیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں، اور اس کو اپنی قمیص میں کفنائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اسے اپنے کرتے میں کفنایا، اور اس کی قبر پہ کھڑے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ”منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں، اور اس کی قبر پہ مت کھڑے ہوں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابٌ في الصَّلاَةِ عَلَى أَهْلِ الْقِبْلَةِ:اہل قبلہ کی نماز جنازہ ادا کرنا:جلد٢ص٤٨٣،حديث نمبر١٥٢٤)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر میت کی نماز پڑھو، اور ہر امیر (حاکم) کے ساتھ (مل کر) جہاد کرو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابٌ في الصَّلاَةِ عَلَى أَهْلِ الْقِبْلَةِ:اہل قبلہ کی نماز جنازہ ادا کرنا:جلد٢ص٤٨٥،حديث نمبر١٥٢٥)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص زخمی ہوا، اور زخم نے اسے کافی تکلیف پہنچائی، تو وہ آہستہ آہستہ تیر کی انی کے پاس گیا، اور اس سے اپنے کو ذبح کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابٌ في الصَّلاَةِ عَلَى أَهْلِ الْقِبْلَةِ:اہل قبلہ کی نماز جنازہ ادا کرنا:جلد٢ص٤٨٥،حديث نمبر١٥٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں دیکھا، کچھ روز کے بعد اس کے متعلق پوچھا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ اس کا انتقال ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مجھے خبر کیوں نہ دی، اس کے بعد آپ اس کی قبر پہ آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٨٦،حديث نمبر١٥٢٧)
حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ (وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: فلاں عورت کی ہے، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: ”تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی؟“، لوگوں نے کہا: آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے، اور روزے سے تھے، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب ایسا نہ کرنا، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص مر جائے تو جب تک میں تم میں باحیات ہوں مجھے خبر کرتے رہو، اس لیے کہ اس پر میری نماز اس کے لیے رحمت ہے، پھر آپ اس کی قبر کے پاس آئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٨٦،حديث نمبر١٥٢٨)
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت کا انتقال ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی“؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا: اس پہ صف باندھو، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٨٧،حديث نمبر١٥٢٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کا انتقال ہو گیا، جس کی عیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے، لوگوں نے اسے رات میں دفنا دیا، جب صبح ہوئی اور لوگوں نے (اس کی موت کے بارے میں) آپ کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی“؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور تاریکی تھی، ہم نے آپ کو تکلیف دینا اچھا نہیں سمجھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے پاس آئے، اور اس کی نماز جنازہ پڑھی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٨٧،حديث نمبر١٥٣٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر دفن کیے جانے کے بعد اس میت کی نماز جنازہ پڑھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٨٨،حديث نمبر١٥٣١)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کی اس کے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٨٨،حديث نمبر١٥٣٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، ایک رات اس کا انتقال ہو گیا، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مرنے کی اطلاع دی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھے خبر کیوں نہ دی“؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے اور اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تکبیر کہی، اور لوگ آپ کے پیچھے تھے، آپ نے اس کے لیے دعا کی پھر آپ لوٹ آئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٨٩،حديث نمبر١٥٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مقبرہ بقیع کی طرف گئے، ہم نے صف باندھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، پھر آپ نے چار تکبیریں کہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى النَّجَاشِيِّ:نجاشی کی نماز جنازہ کا بیان:جلد٢ص٤٨٩،حديث نمبر١٥٣٤)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے (دینی) بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، ان کی نماز جنازہ پڑھو“ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، میں دوسری صف میں تھا، تو دو صفوں نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى النَّجَاشِيِّ:نجاشی کی نماز جنازہ کا بیان:جلد٢ص٤٩٠،حديث نمبر١٥٣٥)
حضرت مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے (دینی) بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے، تم لوگ کھڑے ہو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں لگائیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى النَّجَاشِيِّ:نجاشی کی نماز جنازہ کا بیان:جلد٢ص٤٩٠،حديث نمبر١٥٣٦)
حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر نکلے تو فرمایا: ”اپنے (دینی) بھائی پر نماز جنازہ پڑھو جن کی موت تمہارے علاقہ سے باہر ہو گئی ہے“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نجاشی ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى النَّجَاشِيِّ:نجاشی کی نماز جنازہ کا بیان:جلد٢ص٤٩١،حديث نمبر١٥٣٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی، تو چار تکبیرات کہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى النَّجَاشِيِّ:نجاشی کی نماز جنازہ کا بیان:جلد٢ص٤٩١،حديث نمبر١٥٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو دفن سے فراغت تک انتظار کرتا رہا، اسے دو قیراط ثواب ہے“ لوگوں نے عرض کیا: دو قیراط کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو پہاڑ کے برابر“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ وَمَنِ انْتَظَرَ دَفْنَهَا: نماز جنازہ پڑھنے اور دفن تک انتظار کرنے کا ثواب:جلد٢ص٤٩٢،حديث نمبر١٥٣٩)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اس کو ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن میں بھی شریک رہا، تو اس کو دو قیراط برابر ثواب ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ وَمَنِ انْتَظَرَ دَفْنَهَا: نماز جنازہ پڑھنے اور دفن تک انتظار کرنے کا ثواب:جلد٢ص٤٩٣،حديث نمبر١٥٤٠)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے، اور جو اس کے دفن تک جنازہ میں حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، قیراط اس احد پہاڑ سے بڑا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ وَمَنِ انْتَظَرَ دَفْنَهَا: نماز جنازہ پڑھنے اور دفن تک انتظار کرنے کا ثواب:جلد٢ص٤٩٣،حديث نمبر١٥٤١)
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ:جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا بیان:جلد٢ص٤٩٣،حديث نمبر١٥٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ! اس لیے کہ موت کی ایک گھبراہٹ اور دہشت ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ:جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا بیان:جلد٢ص٤٩٤،حديث نمبر١٥٤٣)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوئے، پھر آپ بیٹھ گئے، تو ہم بھی بیٹھ گئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ:جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا بیان:جلد٢ص٤٩٥،حديث نمبر١٥٤٤)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا، اور کہا: اے محمد! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنا شروع کر دیا، اور فرمایا: ”ان کی مخالفت کرو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ:جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا بیان:جلد٢ص٤٩٥،حديث نمبر١٥٤٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے انہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ایک رات) غائب پایا، پھر دیکھا کہ آپ مقبرہ بقیع میں ہیں، اور آپ نے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين أنتم لنا فرط وإنا بكم لاحقون اللهم لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم» ”اے مومن گھر والو! تم پر سلام ہو، تم لوگ ہم سے پہلے جانے والے ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے ثواب سے محروم نہ کرنا، اور ان کے بعد ہمیں آزمائش میں نہ ڈالنا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ إِذَا دَخَلَ الْمَقَابِرَ: قبرستان میں پہنچ کر کیا دعا پڑھے؟:جلد٢ص٤٩٦،حديث نمبر١٥٤٦)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہیں: «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون نسأل الله لنا ولكم العافية» ”اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلام ہو، ہم تم سے ان شاءاللہ ملنے والے ہیں، اور ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ إِذَا دَخَلَ الْمَقَابِرَ: قبرستان میں پہنچ کر کیا دعا پڑھے؟:جلد٢ص٤٩٧،حديث نمبر١٥٤٧)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ فِي الْمَقَابِرِ: قبرستان میں بیٹھنے کا بیان:جلد٢ص٤٩٧،حديث نمبر١٥٤٨)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے، اور ہم بھی بیٹھ گئے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ فِي الْمَقَابِرِ: قبرستان میں بیٹھنے کا بیان:جلد٢ص٤٩٨،حديث نمبر١٥٤٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب مردے کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «بسم الله وعلى ملة رسول الله» اور ابوخالد نے اپنی روایت میں ایک بار یوں کہا: جب میت کو اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا تو آپ «بسم الله وعلى سنة رسول الله» کہتے، اور ہشام نے اپنی روایت میں «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» کہا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ: میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٩٨،حديث نمبر١٥٥٠)
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو ان کی قبر کے پائتانے سے سر کی طرف سے قبر میں اتارا، اور ان کی قبر پہ پانی چھڑکا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ: میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٩٩،حديث نمبر١٥٥١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف سے (قبر میں) اتارا گیا، اور کھینچ لیا گیا، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ: میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان:جلد٢ص٥٠٠،حديث نمبر١٥٥٢)
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک جنازے میں آیا، جب انہوں نے اسے قبر میں رکھا تو کہا: «بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله» اور جب قبر پر اینٹیں برابر کرنے لگے تو کہا: «اللهم أجرها من الشيطان ومن عذاب القبر اللهم جاف الأرض عن جنبيها وصعد روحها ولقها منك رضوانا» ”اے اللہ! تو اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے بچا، اے اللہ! زمین کو اس کی پسلیوں سے کشادہ رکھ، اور اس کی روح کو اوپر چڑھا لے، اور اپنی رضا مندی اس کو نصیب فرما“ میں نے کہا: اے ابن عمر! یہ دعا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، یا اپنی طرف سے پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر ایسا ہو تو مجھے اختیار ہو گا، جو چاہوں کہوں (حالانکہ ایسا نہیں ہے) بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ: میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان:جلد٢ص٥٠٠،حديث نمبر١٥٥٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ اللَّحْدِ: بغلی قبر (لحد) کے مستحب ہونے کا بیان:جلد٢ص٥٠٠،حديث نمبر١٥٥٤)
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر (لحد) ہمارے لیے ہے، اور صندوقی اوروں کے لیے ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ اللَّحْدِ: بغلی قبر (لحد) کے مستحب ہونے کا بیان:جلد٢ص٥٠١،حديث نمبر١٥٥٥)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے انتقال کے وقت) کہا: میرے لیے بغلی قبر (لحد) بنانا، اور کچی اینٹوں سے اس کو بند کر دینا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کیا گیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ اللَّحْدِ: بغلی قبر (لحد) کے مستحب ہونے کا بیان:جلد٢ص٥٠٢،حديث نمبر١٥٥٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے ظاہر پردہ فرما گئے، تو مدینہ میں قبر بنانے والے دو شخص تھے، ایک بغلی قبر بناتا تھا، اور دوسرا صندوقی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں، اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں (پھر جو کوئی پہلے آئے گا، ہم اسے کام میں لگائیں گے) اور جو بعد میں آئے اسے چھوڑ دیں گے، ان دونوں کو بلوایا گیا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الشَّقِّ:صندوقی قبر کا بیان:جلد٢ص٥٠٣،حديث نمبر١٥٥٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، تو لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر کے سلسلے میں اختلاف کیا، یہاں تک کہ اس سلسلے میں باتیں بڑھیں، اور لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زندگی میں یا وفات کے بعد شور نہ کرو، یا ایسا ہی کچھ کہا، بالآخر لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر بنانے والے دونوں کو بلا بھیجا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، اس نے بغلی قبر بنائی، پھر اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الشَّقِّ: صندوقی قبر کا بیان:جلد٢ص٥٠٣،حديث نمبر١٥٥٨)
حضرت ادرع سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات آیا، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہ داری کیا کرتا تھا، ایک شخص بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو ریاکار معلوم ہوتا ہے، پھر اس کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، جب لوگ اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے، تو لوگوں نے اس کی لاش اٹھائی تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ نرمی کرو“، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی کرے، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا، ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کی قبر کھودی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی قبر کشادہ کرو، اللہ اس پر کشادگی کرے“، یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کی وفات پر آپ کو غم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي حَفْرِ الْقَبْرِ: قبر کھودنے کا بیان:جلد٢ص٥٠٤،حديث نمبر١٥٥٩)
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبر کو خوب کھودو، اسے کشادہ اور اچھی بناؤ“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي حَفْرِ الْقَبْرِ: قبر کھودنے کا بیان:جلد٢ص٥٠٤،حديث نمبر١٥٦٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کو ایک پتھر سے نشان زد کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْعَلاَمَةِ فِي الْقَبْرِ:قبر پر نشان رکھنے کا بیان:جلد٢ص٥٠٤،حديث نمبر١٥٦١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو(اندر سے)پختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقُبُورِ وَتَجْصِيصِهَا وَالْكِتَابَةِ عَلَيْهَا: قبروں پر عمارت بنانے، ان کو پختہ کرنے اور ان پر کتبہ لگانے کی ممانعت:جلد٢ص٥٠٦،حديث نمبر١٥٦٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر کچھ لکھنے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقُبُورِ وَتَجْصِيصِهَا وَالْكِتَابَةِ عَلَيْهَا: قبروں پر عمارت بنانے، ان کو پختہ کرنے اور ان پر کتبہ لگانے کی ممانعت:جلد٢ص٥٠٦،حديث نمبر١٥٦٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر عمارت بنانے سے منع کیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقُبُورِ وَتَجْصِيصِهَا وَالْكِتَابَةِ عَلَيْهَا: قبروں پر عمارت بنانے، ان کو پختہ کرنے اور ان پر کتبہ لگانے کی ممانعت:جلد٢ص٥٠٧،حديث نمبر١٥٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھی، پھر میت کی قبر کے پاس تشریف لا کر اس پر سرہانے سے تین مٹھی مٹی ڈالی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي حَثْوِ التُّرَابِ فِي الْقَبْرِ:قبر پر مٹی ڈالنے کا بیان:جلد٢ص٥٠٧،حديث نمبر١٥٦٥)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا آگ کے شعلہ پر جو اسے جلا دے بیٹھنا اس کے لیے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْمَشْيِ عَلَى الْقُبُورِ وَالْجُلُوسِ عَلَيْهَا:قبروں پر چلنے اور ان پر بیٹھنے کی ممانعت:جلد٢ص٥٠٨،حديث نمبر١٥٦٦)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں انگارے یا تلوار پہ چلوں، یا اپنا جوتا پاؤں میں سی لوں، یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں، اور میں کوئی فرق نہیں سمجھتا کہ میں قضائے حاجت کروں قبروں کے بیچ میں یا بازار کے بیچ میں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْمَشْيِ عَلَى الْقُبُورِ وَالْجُلُوسِ عَلَيْهَا:قبروں پر چلنے اور ان پر بیٹھنے کی ممانعت:جلد٢ص٥٠٨،حديث نمبر١٥٦٧)
حضرت بشیر ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا: ”اے ابن خصاصیہ! تجھے اللہ سے کیا شکوہ ہے (حالانکہ تجھے یہ مقام حاصل ہو گیا ہے کہ) تو رسول اللہ کے ساتھ چل رہا ہے“؟ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں۔ مجھے اللہ نے ہر بھلائی عنایت فرمائی ہے۔ (اسی اثناء میں) آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”انہیں بہت بھلائی مل گئی“۔ پھر مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ بہت سی بھلائی سے محروم رہ گئے“۔ اچانک آپ کی نگاہ ایسے آدمی پر پڑی جو قبروں کے درمیان جوتوں سمیت چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جوتوں والے! انہیں اتار دے“۔ امام ابن ماجہ نے اپنے استاذ محمد بن بشار سے بیان کیا کہ ابن مہدی کہتے ہیں، عبداللہ بن عثمان کہا کرتے تھے یہ حدیث عمدہ ہے اور اس کا راوی خالد بن سمیر ثقہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:مَا جَاءَ فِي خَلْعِ النَّعْلَيْنِ فِي الْمَقَابِرِ باب: قبرستان میں جوتا اتار کر چلنا:جلد٢ص٥٠٩،حديث نمبر١٥٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں کی زیارت کیا کرو، اس لیے کہ یہ تم کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ: قبروں کی زیارت کا بیان:جلد٢ص٥١٠،حديث نمبر١٥٦٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ: قبروں کی زیارت کا بیان:جلد٢ص٥١١،حديث نمبر١٥٧٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روک دیا تھا، تو اب ان کی زیارت کرو، اس لیے کہ یہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے، اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ: قبروں کی زیارت کا بیان:جلد٢ص٥١١،حديث نمبر١٥٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ روئے، اور آپ کے گرد جو لوگ تھے انہیں بھی رلایا، اور فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کروں، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اور میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، لہٰذا تم قبروں کی زیارت کیا کرو اس لیے کہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ: کفار و مشرکین کی قبروں کی زیارت کا بیان:جلد٢ص٥١٢،حديث نمبر١٥٧٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے، تو اب وہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جہنم میں ہیں“ اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو“ اس کے بعد وہ اعرابی (دیہاتی) مسلمان ہو گیا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ: کفار و مشرکین کی قبروں کی زیارت کا بیان:جلد٢ص٥١٣،حديث نمبر١٥٧٣)
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ زِيَارَةِ النِّسَاءِ الْقُبُورَ:عورتوں کے لیے زیارت قبور منع ہے:جلد٢ص٥١٤،حديث نمبر١٥٧٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ زِيَارَةِ النِّسَاءِ الْقُبُورَ:عورتوں کے لیے زیارت قبور منع ہے:جلد٢ص٥١٥،حديث نمبر١٥٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ زِيَارَةِ النِّسَاءِ الْقُبُورَ:عورتوں کے لیے زیارت قبور منع ہے:جلد٢ص٥١٥،حديث نمبر١٥٧٦)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ:عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کا بیان:جلد٢ص٥١٥،حديث نمبر١٥٧٧)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا: ”تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو“؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا: ”کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اسے اٹھاؤ گی“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے“؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ (اپنے گھروں کو) واپس جاؤ“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ:عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کا بیان:جلد٢ص٥١٦،حديث نمبر١٥٧٨)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «ولا يعصينك في معروف» (سورة الممتنحة: 12) ”نیک باتوں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں“ کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: ”اس سے مراد نوحہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ:عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کا بیان:جلد٢ص٥١٧،حديث نمبر١٥٧٩)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام حریز کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حمص میں خطبہ دیا تو اپنے خطبہ میں یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ (چلّا کر رونے) سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ:عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کا بیان:جلد٢ص٥١٧،حديث نمبر١٥٨٠)
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نوحہ (ماتم) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ (ماتم) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تارکول (ڈامر) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ:عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کا بیان:جلد٢ص٥١٨،حديث نمبر١٥٨١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مر جائے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہو گی، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ:عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کا بیان:جلد٢ص٥١٨،حديث نمبر١٥٨٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا ”جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی عورت ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ:عورتوں کے جنازے کے ساتھ جانے کا بیان:جلد٢ص٥١٩،حديث نمبر١٥٨٣)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (نوحہ میں) گریبان پھاڑے، منہ پیٹے، اور جاہلیت کی پکار پکارے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ:(مصیبت کے وقت) منہ پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے:جلد٢ص٥٢٠،حديث نمبر١٥٨٤)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا (نوحہ میں) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ:(مصیبت کے وقت) منہ پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے:جلد٢ص٥٢١،حديث نمبر١٥٨٥)
حضرت عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا: کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ:(مصیبت کے وقت) منہ پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے:جلد٢ص٥٢١،حديث نمبر١٥٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو (روتے) دیکھا تو اس پر چلائے، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے، جان مصیبت میں ہے، اور (صدمہ کا) زمانہ قریب ہے“۔ ایک اور سند کے ہمراہ بھی اسی طرح منقول ہے ۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ:میت پر رونے کا بیان:جلد٢ص٥٢٢،حديث نمبر١٥٨٧)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا: ”جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے، اور جو دے دیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے، انہیں چاہیئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں“ لڑکی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ بلا بھیجا، اور قسم دلائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور تشریف لائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی تھے، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی، (راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا:) گویا وہ پرانی مشک ہے (اور اس میں پانی ہل رہا ہے): یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ:میت پر رونے کا بیان:جلد٢ص٥٢٣،حديث نمبر١٥٨٨)
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، آپ سے تعزیت کرنے والے نے (وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما) کہا: آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا، تو اے ابراہیم! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ:میت پر رونے کا بیان:جلد٢ص٥٢٤،حديث نمبر١٥٨٩)
حضرت حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا: آپ کا بھائی قتل کر دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، «إنا لله وإنا إليه راجعون» ”ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں“ لوگوں نے بتایا: آپ کے شوہر قتل کر دئیے گئے، یہ سنتے ہی انہوں نے کہا: ہائے غم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوی کو شوہر سے ایک ایسا قلبی لگاؤ ہوتا ہے جو دوسرے کسی سے نہیں ہوتا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ:میت پر رونے کا بیان:جلد٢ص٥٢٤،حديث نمبر١٥٩٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قبیلہ) عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ غزوہ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں“، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں، اور حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، تو فرمایا: ”ان عورتوں کا برا ہو، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ:میت پر رونے کا بیان:جلد٢ص٥٢٥،حديث نمبر١٥٩١)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ:میت پر رونے کا بیان:جلد٢ص٥٢٦،حديث نمبر١٥٩٢)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت پر نوحہ کرنے کی وجہ سے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ: میت پر نوحہ خوانی سے اس کو عذاب ہوتا ہے:جلد٢ص٥٢٦،حديث نمبر١٥٩٣)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردے کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، جب لوگ کہتے ہیں: «واعضداه واكاسياه. واناصراه واجبلاه» ”ہائے میرے بازو، ہائے میرے کپڑے پہنانے والے، ہائے میری مدد کرنے والے، ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور“ اور اس طرح کے دوسرے کلمات، تو اسے ڈانٹ کر کہا جاتا ہے: کیا تو ایسا ہی تھا؟ کیا تو ایسا ہی تھا؟“ اسید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے: «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا“ تو انہوں (موسیٰ) نے کہا: تمہارے اوپر افسوس ہے، میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان فرمائی، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے؟ یا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا ہے؟۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ: میت پر نوحہ خوانی سے اس کو عذاب ہوتا ہے:جلد٢ص٥٢٧،حديث نمبر١٥٩٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت کا انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا، تو فرمایا: ”اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ: میت پر نوحہ خوانی سے اس کو عذاب ہوتا ہے:جلد٢ص٥٢٨،حديث نمبر١٥٩٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر تو وہ ہے جو مصیبت کے اول وقت میں ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ:مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب:جلد٢ص٥٢٩،حديث نمبر١٥٩٦)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدمی! اگر تم پر مصیبت پڑتے ہی صبر کرلیا ، اور ثواب کی نیت رکھا ، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لیے راضی نہیں ہوں گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ:مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب:جلد٢ص٥٢٩،حديث نمبر١٥٩٧)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آئے، تو وہ گھبرا کر اللہ کے فرمان کے مطابق یہ دعا پڑھے: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» ”ہم اللہ ہی کی ملک ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں نے تجھی سے اپنی مصیبت کا ثواب طلب کیا، تو مجھے اس میں اجر دے، اور مجھے اس کا بدلہ دے“ جب یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر دے گا، اور اس سے بہتر اس کا بدلہ عنایت کرے گا“۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب (میرے شوہر) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو مجھے وہ حدیث یاد آئی، جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی، چنانچہ میں نے کہا: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» اور جب «وعضني خيرا منها» ”مجھے اس سے بہتر بدلا دے“ کہنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا: کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر بدلہ دیا جا سکتا ہے؟ پھر میں نے یہ جملہ کہا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بدلہ میں دے دیا اور میری مصیبت کا بہترین اجر مجھے عنایت فرمایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ:مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب:جلد٢ص٥٣٠،حديث نمبر١٥٩٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا، اور امید کی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے ظاہر پردہ فرمانے کے بعد بھی باقی رکھے گا، اور فرمایا: ”اے لوگو! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے صبر کرے، اس لیے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے بعد ایسی مصیبت نہ ہو گی جو میری وفات کی مصیبت سے اس پر زیادہ سخت ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ:مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب:جلد٢ص٥٣١،حديث نمبر١٥٩٩)
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی مصیبت پیش آئی ہو، پھر وہ اسے یاد کر کے نئے سرے سے: «إنا لله وإنا إليه راجعون» کہے، اگرچہ مصیبت کا زمانہ پرانا ہو گیا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس دن لکھا تھا جس دن اس کو یہ مصیبت پیش آئی تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ:مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب:جلد٢ص٥٣٢،حديث نمبر١٦٠٠)
حضرت محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ عَزَّى مُصَابًا:غم زدہ کی تعزیت کرنے والے کا ثواب:جلد٢ص٥٣٢،حديث نمبر١٦٠١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی مصیبت زدہ کو تسلی دے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا (جتنا مصیبت زدہ کو ملے گا)“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ عَزَّى مُصَابًا:غم زدہ کی تعزیت کرنے والے کا ثواب:جلد٢ص٥٣٣،حديث نمبر١٦٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا مگر قسم پوری کرنے کے لیے۔ (یعنی اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے جو اللہ تعالی نے اس آیت میں کیا ہے، «وَإِن مِّنكُمْ إِلا وَارِدُهَا» (سورة مريم: 71) یعنی کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے جس کا گزر جہنم سے نہ ہو، اور یہ وعدہ تب ہے کہ وہ ان بچوں کی موت پر صبر کرے۔) (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ أُصِيبَ بِوَلَدِهِ:جس کا بچہ مر جائے اس کے ثواب کا بیان:جلد٢ص٥٣٣،حديث نمبر١٦٠٣)
حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس مسلمان کے تین بچے (بلوغت سے پہلے) مر جائیں، تو وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے استقبال کریں گے، جس میں سے چاہے وہ داخل ہو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ أُصِيبَ بِوَلَدِهِ:جس کا بچہ مر جائے اس کے ثواب کا بیان:جلد٢ص٥٣٣،حديث نمبر١٦٠٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان مرد و عورت کے تین بچے (بلوغت سے پہلے) مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ ایسے والدین اور بچوں کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ أُصِيبَ بِوَلَدِهِ:جس کا بچہ مر جائے اس کے ثواب کا بیان:جلد٢ص٥٣٤،حديث نمبر١٦٠٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے تین نابالغ بچے آگے بھیجے، تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہوں گے“حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دو بچے آگے بھیجے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اور دو بھی“، پھر قاریوں کے سردار حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو ایک ہی آگے بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ایک بھی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ أُصِيبَ بِوَلَدِهِ:جس کا بچہ مر جائے اس کے ثواب کا بیان:جلد٢ص٥٣٥،حديث نمبر١٦٠٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناتمام بچہ جسے میں آگے بھیجوں، میرے نزدیک اس سوار سے زیادہ محبوب ہے جسے میں پیچھے چھوڑ جاؤں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أُصِيبَ بِسِقْطٍ:حمل ساقط ہو جانے والی عورت کا ثواب:جلد٢ص٥٣٥،حديث نمبر١٦٠٧)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساقط بچہ اپنے رب سے سفارش کرے گا، جب وہ اس کے والدین کو جہنم میں ڈالے گا، تو کہا جائے گا: رب سے سفارش کرنے والے ساقط بچے! اپنے والدین کو جنت میں داخل کر، وہ ان دونوں کو اپنی ناف سے کھینچے گا یہاں تک کہ جنت میں لے جائے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أُصِيبَ بِسِقْطٍ:حمل ساقط ہو جانے والی عورت کا ثواب:جلد٢ص٥٣٦،حديث نمبر١٦٠٨)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ساقط بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف سے جنت میں کھینچے گا جب کہ وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أُصِيبَ بِسِقْطٍ:حمل ساقط ہو جانے والی عورت کا ثواب:جلد٢ص٥٣٦،حديث نمبر١٦٠٩)
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جعفر کی موت کی جب خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، اس لیے کہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے جس نے ان کو مشغول کر دیا ہے، یا ان کے پاس ایسا معاملہ آ پڑا ہے جو ان کو مشغول کئے ہوئے ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ يُبْعَثُ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ:میت کے گھر والوں کے یہاں کھانا بھیجنے کا بیان:جلد٢ص٥٣٧،حديث نمبر١٦١٠)
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب جعفر رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے پاس آئے، اور فرمایا: ”جعفر کے گھر والے اپنی میت کے مسئلہ میں مشغول ہیں، لہٰذا تم لوگ ان کے لیے کھانا بناؤ“۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ طریقہ برابر چلا آ رہا تھا یہاں تک کہ اس میں نئی ناجائز چیزیں داخل ہوئی، تو اسے چھوڑ دیا گیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ يُبْعَثُ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ:میت کے گھر والوں کے یہاں کھانا بھیجنے کا بیان:جلد٢ص٥٣٧،حديث نمبر١٦١١)
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے لیے ان کے گھر کھانا تیار کرنے کو نوحہ سمجھتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ الاِجْتِمَاعِ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنْعَةِ الطَّعَامِ:میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونا اور کھانا تیار کرنا منع ہے:جلد٢ص٥٣٨،حديث نمبر١٦١٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پردیسی کی موت شہادت ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ غَرِيبًا:پردیس میں موت کا بیان:جلد٢ص٥٣٩،حديث نمبر١٦١٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: ”کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا“ ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ غَرِيبًا:پردیس میں موت کا بیان:جلد٢ص٥٣٩،حديث نمبر١٦١٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ مَرِيضًا:بیماری کی حالت میں مرنے والے کے ثواب کا بیان:جلد٢ص٥٤٠،حديث نمبر١٦١٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردے کی ہڈی کو توڑنا زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابٌ في النَّهْيِ عَنْ كَسْرِ عِظَامِ الْمَيِّتِ:میت کی ہڈی توڑنے کی ممانعت کا بیان:جلد٢ص٥٤١،حديث نمبر١٦١٦)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردہ کی ہڈی کے توڑنے کا گناہ زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابٌ في النَّهْيِ عَنْ كَسْرِ عِظَامِ الْمَيِّتِ:میت کی ہڈی توڑنے کی ممانعت کا بیان:جلد٢ص٥٤١،حديث نمبر١٦١٧)
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اماں جان! مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا حال بیان کیجئے تو انہوں نے بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو (اپنے بدن پر) پھونکنا شروع کیا، ہم نے آپ کے پھونکنے کو انگور کھانے والے کے پھونکنے سے تشبیہ دی، (یعنی انگور کھانے والا منہ سے بیج نکالنے کے لیے جس طرح پھونکتا ہے اس طرح آپ پھونک رہے تھے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کا باری باری چکر لگایا کرتے تھے، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو بیویوں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہنے کی اجازت مانگی، اور یہ کہ بقیہ بیویاں آپ کے پاس آتی جاتی رہیں گی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس دو آدمیوں کے سہارے سے آئے، اس حال میں کہ آپ کے پیر زمین پہ گھسٹ رہے تھے، ان دو میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے۔ عبیداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا، جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان:جلد٢ص٥٤٢،حديث نمبر١٦١٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ حفاظت و عافیت کی دعا کرتے تھے «أذهب الباس رب الناس. واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ”اے لوگوں کے رب! بیماری دور کر دے، اور شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء تو بس تیری ہی شفاء ہے، تو ایسی شفاء عنایت فرما کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سخت ہو گئی جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی تھی، اور یہ کلمات کہتی جاتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکال لیا، اور فرمایا: «اللهم اغفر لي وألحقني بالرفيق الأعلى» ”اے اللہ! مجھے بخش دے، اور رفیق اعلیٰ سے ملا دے) یہی آخری کلمہ تھا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان:جلد٢ص٥٤٣،حديث نمبر١٦١٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو نبی بھی بیمار ہوا اسے دنیا یا آخرت میں رہنے کا اختیار دیا گیا“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو آپ کو ہچکی آنے لگی، میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے: «مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين» ”ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے احسان کیا، انبیاء، صدیقین شہداء، اور صالحین میں سے“ تو اس وقت میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان:جلد٢ص٥٤٤،حديث نمبر١٦٢٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہی، اتنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کی طرح تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری بیٹی! خوش آمدید“ پھر انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا، اور چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر چپکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیوں روئیں؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتی، میں نے کہا: آج جیسی خوشی جو غم سے قریب تر ہو میں نے کبھی نہیں دیکھی، جب فاطمہ روئیں تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خاص بات تم سے فرمائی ہے، جو ہم سے نہیں کہی کہ تم رو رہی ہو، اور میں نے پوچھا: آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر پردہ فرمانے کے بعد میں نے ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ جبرائیل مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن کا دور کراتے تھے اب کی سال دو بار دور کرایا، تو میں سمجھتا ہوں کہ میری وفات کا وقت قریب آ گیا ہے، اور تم میرے رشتہ داروں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی، اور میں تمہارے لیے کیا ہی اچھا پیش رو ہوں“ یہ سن کر میں روئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی، یہ سن کر میں ہنسی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان:جلد٢ص٥٤٥،حديث نمبر١٦٢١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر مرض الموت کی تکلیف اتنی سخت نہیں دیکھی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیکھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان:جلد٢ص٥٤٥،حديث نمبر١٦٢٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کے وقت دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالہ میں داخل کرتے، اور پانی اپنے منہ پر ملتے، پھر فرماتے: ”اے اللہ! موت کی سختیوں میں میری مدد فرما“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان:جلد٢ص٥٤٦،حديث نمبر١٦٢٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار مجھے دوشنبہ کے دن ہوا، آپ نے (اپنے حجرہ کا) پردہ اٹھایا، میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا، تو گویا مصحف کا ایک ورق تھا، لوگ اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا، پھر اسی دن کی شام کو آپ کا انتقال ہو گیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان:جلد٢ص٥٤٦،حديث نمبر١٦٢٤)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس مرض میں کہ جس میں آپ کا انتقال ہو گیا، فرما رہے تھے: «الصلاة وما ملكت أيمانكم» ”نماز کا، اور لونڈیوں اور غلاموں کا خیال رکھنا۔“ آپ برابر یہی جملہ کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی زبان مبارک رکنے لگی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان:جلد٢ص٥٤٧،حديث نمبر١٦٢٥)
اسود کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی تھے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے ان کو کب وصیت کی؟ میں تو آپ کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی، یا گود میں لیے ہوئے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طشت منگوایا، پھر آپ میری گود میں وفات پا گئے، مجھے محسوس تک نہ ہوا، پھر آپ نے وصیت کب کی؟۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان:جلد٢ص٥٤٨،حديث نمبر١٦٢٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ساتھ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھیں عوالی مدینہ میں تھے، لوگ کہنے لگے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وحی کے وقت جو حال آپ کا ہوا کرتا تھا ویسے ہی ہو گیا ہے، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور کہا: آپ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز و محترم ہیں کہ آپ کو دو بار موت دے، قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک گوشہ میں یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات نہیں پائے ہیں ، اور نہ آپ وفات پائیں گے، یہاں تک کہ بہت سے منافقوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، منبر پر چڑھے اور کہا: جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، مرا نہیں، اور جو کوئی محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد وفات پا گئے، (پھر یہ آیت پڑھی): «وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاكرين» (سورة آل عمران: 144) ”محمد صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول آئے، اگر آپ کا انتقال ہو جائے یا قتل کر دئیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو پھر جائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا“۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس دن سے پہلے کبھی اس آیت کو میں نے پڑھا ہی نہیں تھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان:جلد٢ص٥٤٩،حديث نمبر١٦٢٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا، تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے، اور دعا کی کہ اے اللہ! تو اپنے رسول کے لیے بہتر اختیار فرما، بالآخر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ملے، اور ان کو لایا گیا، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نہیں ملے، لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر کھودی گئی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا، لوگ نماز جنازہ پڑھتے جاتے تھے، جب سب مرد فارغ ہو گئے، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہو گئیں، تو بچے جانے لگے، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے آپ کے لیے قبر کھودی، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب، فضل بن عباس، ان کے بھائی قثم بن عباس، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام شقران رضی اللہ عنہم اترے۔ ابولیلیٰ اوس بن خولہ رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل ہے، (مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اتر جاؤ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا اور کہا: قسم اللہ کی! اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے، چنانچہ اسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان:جلد٢ص٥٥٠،حديث نمبر١٦٢٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی سختی محسوس کی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ہائے میرے والد کی سخت تکلیف ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے بعد تیرے والد پر کبھی سختی نہ ہو گی، اور تیرے والد پر وہ وقت آیا ہے جو سب پر آنے والا ہے، اب قیامت کے دن ملاقات ہو گی“ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان:جلد٢ص٥٥٢،حديث نمبر١٦٢٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! تمہارے دل کو کیسے گوارا ہوا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے میرے والد، میں جبرائیل کو ان کے مرنے کی خبر دیتی ہوں، ہائے میرے والد، اپنے رب کے کتنے نزدیک ہو گئے، ہائے میرے والد، جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے، ہائے میرے والد، اپنے رب کا بلانا قبول کیا۔ حماد نے کہا: میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان:جلد٢ص٥٥٣،حديث نمبر١٦٣٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، اور جس وقت آپ کا انتقال ہوا ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا، اور ہم لوگوں نے ابھی آپ کے کفن دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑا تھا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بدلہ ہوا پایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان:جلد٢ص٥٥٤،حديث نمبر١٦٣١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بےتکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان:جلد٢ص٥٥٤،حديث نمبر١٦٣٢)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ہم سب ایک رخ تھے، لیکن جب آپ کا انتقال ہو گیا تو پھر ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان:جلد٢ص٥٥٤،حديث نمبر١٦٣٣)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب مصلی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ اس کے قدموں کی جگہ سے آگے نہ بڑھتی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جب کوئی ان میں سے نماز پڑھتا تو اس کی نگاہ پیشانی رکھنے کے مقام سے آگے نہ بڑھتی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ان میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلہ کے سوا کسی اور طرف نہ جاتی تھی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور مسلمانوں میں فتنہ برپا ہوا تو لوگوں نے دائیں بائیں مڑنا شروع کر دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان:جلد٢ص٥٥٥،حديث نمبر١٦٣٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: چلئے، ہم ام ایمن (برکہ) رضی اللہ عنہا سے ملنے چلیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے جایا کرتے تھے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، تو وہ رونے لگیں، ان دونوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، انہوں نے کہا: میں جانتی ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ بند ہو گیا، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو بھی رلا دیا، وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان:جلد٢ص٥٥٥،حديث نمبر١٦٣٥)
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا ہوئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن لوگ بیہوش ہوں گے، لہٰذا اس دن کثرت سے میرے اوپر درود (صلاۃ و سلام) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ جب کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان:جلد٢ص٥٥٦،حديث نمبر١٦٣٦)
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا“ میں نے عرض کیا: کیا وفات کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وفات کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب الجنائز:بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان:جلد٢ص٥٥٦،حديث نمبر١٦٣٧)
Ibne Majah Shareef : Janaza Ke Ahkaam o Masayil
|
Ibne Majah Shareef : ابواب الجنائز
|
•