
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں تھا، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر تنہائی میں گئے، میں ان کے قریب بیٹھا تھا، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے کرا دوں جو آپ کو ماضی کے حسین لمحات کی یاد دلا دے؟ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ان سے اس کے علاوہ کوئی راز کی بات نہیں کہنا چاہتے، تو انہوں نے مجھ کو قریب آنے کا اشارہ کیا، میں قریب آ گیا، اس وقت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شخص نان و نفقہ کی طاقت رکھے تو وہ شادی کر لے، اس لیے کہ اس سے نگاہیں زیادہ نیچی رہتی ہیں، اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے، اور جو نان و نفقہ کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ یہ شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النِّكَاحِ:نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان:جلد٣ص٥٣،حديث نمبر١٨٤٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے، تو جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، تم لوگ شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر (قیامت کے دن) فخر کروں گا، اور جو صاحب استطاعت ہوں شادی کریں، اور جس کو شادی کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ روزہ اس کی شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے“ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النِّكَاحِ:نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان:جلد٣ص٥٤،حديث نمبر١٨٤٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو شخص کے درمیان محبت کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النِّكَاحِ:نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان:جلد٣ص٥٤،حديث نمبر١٨٤٧)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی شادی کے بغیر زندگی گزارنے کی درخواست رد کر دی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ہوتی تو ہم خصی ہو جاتے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ التَّبَتُّلِ: کنوارا رہنا منع ہے:جلد٣ص٥٥،حديث نمبر١٨٤٨)
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجرد والی زندگی (بے شادی شدہ رہنے) سے منع فرمایا۔ زید بن اخزم نے یہ اضافہ کیا ہے: اور قتادہ نے یہ آیت پڑھی، «ولقد أرسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم أزواجا وذرية» (سورة الرعد: 38) ”ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور اولاد بنائیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ التَّبَتُّلِ: کنوارا رہنا منع ہے:جلد٣ص٥٦،حديث نمبر١٨٤٩)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کھائے تو اس کو کھلائے، جب خود پہنے تو اس کو بھی پہنائے، اس کے چہرے پر نہ مارے، اس کو برا بھلا نہ کہے، اور اگر اس سے لاتعلقی اختیار کرے تو بھی اسے گھر ہی میں رکھے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: حَقِّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ:شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان:جلد٣ص٥٦،حديث نمبر١٨٥٠)
حضرت عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی، پھر فرمایا: ”عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو، اس لیے کہ عورتیں تمہاری ماتحت ہیں، لہٰذا تم ان سے اس (جماع) کے علاوہ کسی اور چیز کے مالک نہیں ہو، الا یہ کہ وہ کھلی بدکاری کریں، اگر وہ ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ سے جدا کر دو، ان کو مارو لیکن سخت مار نہ مارو، اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر زیادتی کے لیے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو، تمہارا عورتوں پر حق ہے، اور ان کا حق تم پر ہے، عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارا بستر ایسے شخص کو روندنے نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اور وہ کسی ایسے شخص کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں، جسے تم ناپسند کرتے ہو، سنو! اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم اچھی طرح ان کو کھانا اور کپڑا دو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: حَقِّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ:شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان:جلد٣ص٥٧،حديث نمبر١٨٥١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اور اگر شوہر عورت کو جبل احمر سے جبل اسود تک، اور جبل اسود سے جبل احمر تک پتھر ڈھونے کا حکم دے تو عورت پر حق ہے کہ اس کو بجا لائے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ:بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان:جلد٣ص٥٨،حديث نمبر١٨٥٢)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب معاذ رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ (سجدہ تعظیمی ) کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے معاذ! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں شام گیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میری دلی تمنا ہوئی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ایسا نہ کرنا، اس لیے کہ اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کر لے، اور اگر شوہر عورت سے جماع کی خواہش کرے، اور وہ کجاوے پر سوار ہو تو بھی وہ شوہر کو منع نہ کرے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ:بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان:جلد٣ص٥٩،حديث نمبر١٨٥٣)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ:بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان:جلد٣ص٥٩،حديث نمبر١٨٥٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا متاع (سامان) ہے، اور دنیا کے سامانوں میں سے کوئی بھی چیز نیک اور صالح عورت سے بہتر نہیں ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: فَضْلِ النِّسَاءِ:بہترین عورت کا بیان:جلد٣ص٦٠،حديث نمبر١٨٥٥)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سونے اور چاندی کے بارے میں آیت اتری تو لوگ کہنے لگے کہ اب کون سا مال ہم اپنے لیے رکھیں؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسے تمہارے لیے معلوم کر کے کر آتا ہوں، اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر اسے تیز دوڑایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، میں بھی آپ کے پیچھے تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کون سا مال رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ہر کوئی شکر کرنے والا دل، ذکر کرنے والی زبان، اور ایمان والی بیوی رکھے جو اس کی آخرت کے کاموں میں مدد کرے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: فَضْلِ النِّسَاءِ:بہترین عورت کا بیان:جلد٣ص٦١،حديث نمبر١٨٥٦)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”تقویٰ کے بعد مومن نے جو سب سے اچھی چیز حاصل کی وہ ایسی نیک بیوی ہے کہ اگر شوہر اسے حکم دے تو اسے مانے، اور اگر اس کی جانب دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، اور اگر وہ اس (کے بھروسے) پر قسم کھا لے تو اسے سچا کر دکھائے، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو عورت اپنی ذات اور اس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: فَضْلِ النِّسَاءِ:بہترین عورت کا بیان:جلد٣ص٦٢،حديث نمبر١٨٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے چار چیزوں کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ان کے مال و دولت کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کے حسن و جمال اور خوبصورتی کی وجہ سے، اور ان کی دین داری کی وجہ سے، لہٰذا تم دیندار عورت کا انتخاب کر کے کامیاب بنو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: تَزْوِيجِ ذَوَاتِ الدِّينِ:نیک اور دیندار عورت سے شادی کرنے کا بیان:جلد٣ص٦٢،حديث نمبر١٨٥٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے صرف ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر شادی نہ کرو، ہو سکتا ہے حسن و جمال ہی ان کو تباہ و برباد کر دے، اور عورتوں سے ان کے مال و دولت کو دیکھ کر شادی نہ کرو، ہو سکتا ہے ان کے مال ان کو سرکش بنا دیں، بلکہ ان کی دین داری کی وجہ سے ان سے شادی کرو، ایک کان کٹی کالی لونڈی جو دیندار ہو زیادہ بہتر ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: تَزْوِيجِ ذَوَاتِ الدِّينِ:نیک اور دیندار عورت سے شادی کرنے کا بیان:جلد٣ص٦٣،حديث نمبر١٨٥٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم نے شادی کر لی“؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کنواری سے یا غیر کنواری سے“؟ میں نے کہا: غیر کنواری سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شادی کنواری سے کیوں نہیں کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے“؟ میں نے کہا: میری کچھ بہنیں ہیں، تو میں ڈرا کہ کہیں کنواری لڑکی آ کر ان میں اور مجھ میں دوری کا سبب نہ بن جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: تَزْوِيجِ الأَبْكَارِ:کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان:جلد٣ص٦٣،حديث نمبر١٨٦٠)
حضرت عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری لڑکیوں سے شادی کیا کرو، کیونکہ وہ شیریں دہن ہوتی ہیں اور زیادہ بچے جننے والی ہوتی ہیں، اور تھوڑے پہ راضی رہتی ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: تَزْوِيجِ الأَبْكَارِ:کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان:جلد٣ص٦٤،حديث نمبر١٨٦١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس کو اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنے کا ارادہ ہے تو چاہئیے کہ وہ آزاد عورتوں سے شادی کرے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: تَزْوِيجِ الْحَرَائِرِ وَالْوَلُودِ:آزاد اور جننے والی عورتوں سے شادی کرنے کا بیان:جلد٣ص٦٥،حديث نمبر١٨٦٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: تَزْوِيجِ الْحَرَائِرِ وَالْوَلُودِ:آزاد اور جننے والی عورتوں سے شادی کرنے کا بیان:جلد٣ص٦٦،حديث نمبر١٨٦٣)
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو میں اسے دیکھنے کے لیے چھپنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اسے اسی کے باغ میں دیکھ لیا، لوگوں نے ان سے کہا: آپ ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ صحابی رسول ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب اللہ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا:جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان:جلد٣ص٦٦،حديث نمبر١٨٦٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کرنا چاہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جاؤ اور اس کو دیکھ لو ایسا کرنے سے زیادہ امید ہے کہ تم دونوں کے درمیان الفت و محبت ہو“، مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، اور پھر شادی کی، پھر انہوں نے اس سے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا ذکر کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا:جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان:جلد٣ص٦٧،حديث نمبر١٨٦٥)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو پیغام دے رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے دیکھ لو، اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے“، چنانچہ میں ایک انصاری عورت کے پاس آیا، اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ ان کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس عورت نے پردہ سے یہ بات سنی تو کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنے کا حکم دیا ہے، تو تم دیکھ لو، ورنہ میں تم کو اللہ کا واسطہ دلاتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس عورت کو دیکھا، اور اس سے شادی کر لی، پھر انہوں نے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا حال بتایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا:جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان:جلد٣ص٦٨،حديث نمبر١٨٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: لاَ يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ:مسلمان بھائی کے شادی کے پیغام پر پیغام نہ دے:جلد٣ص٦٩،حديث نمبر١٨٦٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: لاَ يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ:مسلمان بھائی کے شادی کے پیغام پر پیغام نہ دے:جلد٣ص٦٩،حديث نمبر١٨٦٨)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے خبر دینا“، آخر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، تو انہیں معاویہ، ابولجہم بن صخیر اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے شادی کا پیغام دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہے معاویہ تو وہ مفلس آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے، اور رہے ابوجہم تو وہ عورتوں کو بہت مارتے پیٹتے ہیں، لیکن اسامہ بہتر ہیں“ یہ سن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ہاتھ سے اشارہ کیا: اور کہا: اسامہ اسامہ (یعنی اپنی بے رغبتی ظاہر کی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننا تمہارے لیے بہتر ہے“، فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آخر میں نے اسامہ سے شادی کر لی، تو دوسری عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: لاَ يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ:مسلمان بھائی کے شادی کے پیغام پر پیغام نہ دے:جلد٣ص٧٠،حديث نمبر١٨٦٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیر کنواری عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری عورت سے نکاح کے سلسلے میں اجازت طلب کی جائے گی“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کنواری بولنے سے شرم کرے گی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: اسْتِئْمَارِ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ: کنواری اور غیر کنواری دونوں سے شادی کی اجازت لینے کا بیان:جلد٣ص٧٠،حديث نمبر١٨٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیر کنواری عورت کا نکاح اس کی واضح اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس سے اجازت لے کر کیا جائے، اور کنواری کی اجازت اس کی خاموشی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: اسْتِئْمَارِ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ: کنواری اور غیر کنواری دونوں سے شادی کی اجازت لینے کا بیان:جلد٣ص٧١،حديث نمبر١٨٧١)
حضرت عدی کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیر کنواری عورت اپنی رضا مندی صراحۃً ظاہر کرے، اور کنواری کی رضا مندی اس کی خاموشی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: اسْتِئْمَارِ الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ: کنواری اور غیر کنواری دونوں سے شادی کی اجازت لینے کا بیان:جلد٣ص٧٢،حديث نمبر١٨٧٢)
حضرت عبدالرحمٰن بن یزید انصاری اور مجمع بن یزید انصاری رضی اللہ عنہما خبر دیتے ہیں کہ خذام نامی ایک شخص نے اپنی بیٹی (خنساء) کا نکاح کر دیا، اس نے اپنے باپ کا کیا ہوا نکاح ناپسند کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے اس کے والد کا کیا ہوا نکاح فسخ کر دیا، پھر اس نے ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ سے شادی کی۔ یحییٰ بن سعید نے ذکر کیا کہ وہ ثیبہ (غیر کنواری) تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: مَنْ زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ: باپ بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کر دے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٣ص٧٢،حديث نمبر١٨٧٣)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نوجوان عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی عرض کیا: میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کر دیا ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی ذلت ختم ہو جائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو اختیار دے دیا، تو اس نے کہا: میرے والد نے جو کیا میں نے اسے مان لیا، لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے باپوں کو ان پر (جبراً نکاح کر دینے کا) اختیار نہیں پہنچتا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: مَنْ زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ: باپ بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کر دے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٣ص٧٣،حديث نمبر١٨٧٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا: اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا حالانکہ وہ راضی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا۔ ایک اور سند سے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: مَنْ زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ: باپ بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کر دے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٣ص٧٤،حديث نمبر١٨٧٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو اس وقت میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ آئے تو بنو حارث بن خزرج کے محلہ میں اترے، مجھے بخار آ گیا اور میرے بال جھڑ گئے، پھر بال بڑھ کر مونڈھوں تک پہنچ گئے، تو میری ماں ام رومان میرے پاس آئیں، میں ایک جھولے میں تھی، میرے ساتھ میری کئی سہیلیاں تھیں، ماں نے مجھے آواز دی، میں ان کے پاس گئی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں؟ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ پر لا کھڑا کیا، اس وقت میرا سانس پھول رہا تھا، یہاں تک کہ میں کچھ پرسکون ہو گئی، پھر میری ماں نے تھوڑا سا پانی لے کر اس سے میرا منہ دھویا اور سر پونچھا، پھر مجھے گھر میں لے گئیں، وہاں ایک کمرہ میں انصار کی کچھ عورتیں تھیں، انہوں نے دعا دیتے ہوئے کہا: ”تم خیر و برکت اور بہتر نصیب کے ساتھ جیو“، میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا، انہوں نے مجھے آراستہ کیا، میں کسی بات سے خوف زدہ نہیں ہوئی مگر اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت اچانک تشریف لائے، اور ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا، اس وقت میری عمر نو سال تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: نِكَاحِ الصِّغَارِ يُزَوِّجُهُنَّ الآبَاءُ:باپ نابالغ بچیوں کا نکاح کر سکتا ہے:جلد٣ص٧٥،حديث نمبر١٨٧٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، اس وقت ان کی عمر سات برس تھی، اور ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: نِكَاحِ الصِّغَارِ يُزَوِّجُهُنَّ الآبَاءُ:باپ نابالغ بچیوں کا نکاح کر سکتا ہے:جلد٣ص٧٦،حديث نمبر١٨٧٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو انہوں نے ایک بیٹی چھوڑی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری شادی اس لڑکی سے میرے ماموں قدامہ رضی اللہ عنہ نے کرا دی جو اس لڑکی کے چچا تھے، اور اس سے مشورہ نہیں لیا، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا، اس لڑکی نے یہ نکاح ناپسند کیا، اور اس نے چاہا کہ اس کا نکاح مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا جائے، آخر قدامہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نکاح مغیرہ ہی سے کر دیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: نِكَاحِ الصِّغَارِ يُزَوِّجُهُنَّ غَيْرُ الآبَاءِ: نابالغ لڑکی کا نکاح باپ کے علاوہ کوئی اور کرائے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٣ص٧٧،حديث نمبر١٨٧٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر ہوا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے، اور اگر ولی اختلاف کریں تو حاکم اس کا ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ: بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان:جلد٣ص٧٧،حديث نمبر١٨٧٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔ اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: ”جس کا کوئی ولی نہ ہو، اس کا ولی حاکم ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ: بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان:جلد٣ص٧٨،حديث نمبر١٨٨٠)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ: بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان:جلد٣ص٧٩،حديث نمبر١٨٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، پس بدکار وہی عورت ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ: بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان:جلد٣ص٨٠،حديث نمبر١٨٨٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ اور شغار یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی سے کہے: آپ اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے اس شرط پر کر دیں کہ میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تجھ سے کر دوں گا، اور ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الشِّغَارِ: نکاح شغار کی ممانعت:جلد٣ص٨١،حديث نمبر١٨٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الشِّغَارِ: نکاح شغار کی ممانعت:جلد٣ص٨٢،حديث نمبر١٨٨٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں شغار نہیں ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الشِّغَارِ: نکاح شغار کی ممانعت:جلد٣ص٨٢،حديث نمبر١٨٨٥)
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا، تم جانتے ہو نش کیا ہے؟ یہ آدھا اوقیہ ہے، یہ کل پانچ سو درہم ہوئے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: صَدَاقِ النِّسَاءِ:عورتوں کے مہر کا بیان:جلد٣ص٨٣،حديث نمبر١٨٨٦)
ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: عورتوں کے مہر مہنگے نہ کرو، اس لیے کہ اگر یہ دنیا میں عزت کی بات ہوتی یا اللہ تعالیٰ کے یہاں تقویٰ کی چیز ہوتی تو اس کے زیادہ حقدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں میں سے کسی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا، اور مرد اپنی بیوی کے بھاری مہر سے بوجھل رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مہر اس کے دل میں بیوی سے دشمنی کا سبب بن جاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے تیرے لیے تکلیف اٹھائی یہاں تک کہ مشک کی رسی بھی اٹھائی، یا مجھے مشک کے پانی کی طرح پسینہ آیا۔ ابوعجفاء کہتے ہیں: میں پیدائش کے اعتبار سے عربی تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے جو لفظ «علق القربۃ» یا «عرق القربۃ» کہا: میں اسے نہیں سمجھ سکا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: صَدَاقِ النِّسَاءِ:عورتوں کے مہر کا بیان:جلد٣ص٨٣،حديث نمبر١٨٨٧)
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک شخص نے (مہر میں) دو جوتیوں کے بدلے شادی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح جائز رکھا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: صَدَاقِ النِّسَاءِ:عورتوں کے مہر کا بیان:جلد٣ص٨٤،حديث نمبر١٨٨٨)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے کون نکاح کرے گا“؟ ایک شخص نے کہا: میں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اسے کچھ دو چاہے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“، وہ بولا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ اس قرآن کے بدلے کر دیا جو تمہیں یاد ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: صَدَاقِ النِّسَاءِ:عورتوں کے مہر کا بیان:جلد٣ص٨٥،حديث نمبر١٨٨٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے گھر میں موجود سامان پر نکاح کیا جس کی قیمت پچاس درہم تھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: صَدَاقِ النِّسَاءِ:عورتوں کے مہر کا بیان:جلد٣ص٨٥،حديث نمبر١٨٩٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی، اور مہر کی تعین اور دخول سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے کہا: اس عورت کو مہر ملے گا، اور میراث سے حصہ ملے گا، اور اس پہ عدت بھی لازم ہو گی، تو معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے سلسلہ میں ایسے ہی فیصلہ کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ وَلاَ يَفْرِضُ لَهَا فَيَمُوتُ عَلَى ذَلِكَ: ایک شخص نے شادی کی لیکن عورت کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی مر گیا تو اس عورت کا حکم کیا ہو گا؟ :جلد٣ص٨٦،حديث نمبر١٨٩١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیر کے جامع کلمات دیئے گئے تھے خواہ وہ اخیر کے ہوں، یا کہا: شروع کے، آپ نے ہمیں صلاۃ کا خطبہ سکھایا اور حاجت کا خطبہ بھی، صلاۃ کا خطبہ یہ ہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”آداب بندگیاں، صلاتیں اور پاکیزہ خیراتیں، اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بند ے اور رسول ہیں“ اور حاجت کا خطبہ یہ ہے: «إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں“ اس کے بعد اپنے خطبہ کے ساتھ قرآن کی تین آیتیں پڑھو: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته» ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور مسلمان ہی رہ کر مرو“ اخیر آیت تک «واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے“ اخیر آیت تک «اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوارے دے گا، اور تمہارے گناہ معاف کرے گا، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی“ اخیر آیت تک۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: خُطْبَةِ النِّكَاحِ:خطبہ نکاح کا بیان:جلد٣ص٨٧،حديث نمبر١٨٩٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ میں) فرمایا: «الحمد لله نحمده ونستعينه ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله. أما بعد» ”بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: خُطْبَةِ النِّكَاحِ:خطبہ نکاح کا بیان:جلد٣ص٨٩،حديث نمبر١٨٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اہم کام اللہ کی حمد و ثنا سے نہ شروع کیا جائے، وہ برکت سے خالی ہوتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: خُطْبَةِ النِّكَاحِ:خطبہ نکاح کا بیان:جلد٣ص٨٩،حديث نمبر١٨٩٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نکاح کا اعلان کرو اور اس پر دف بجاؤ“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: إِعْلاَنِ النِّكَاحِ:نکاح کے اعلان کرنے کا بیان:جلد٣ص٩٠،حديث نمبر١٨٩٥)
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے، اور اس کا اعلان کیا جائے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: إِعْلاَنِ النِّكَاحِ:نکاح کے اعلان کرنے کا بیان:جلد٣ص٩١،حديث نمبر١٨٩٦)
ابوالحسین خالد مدنی کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کے دن مدینہ میں تھے، لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں، پھر ہم ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی کے دن صبح میں آئے، اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں، اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کر رہی تھیں، گانے میں جو باتیں وہ کہہ رہی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی: «وفينا نبي يعلم ما في غد» ”ہم میں کل کی خبر رکھنے والے نبی ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کہو، اس لیے کہ کل کی بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الْغِنَاءِ وَالدُّفِّ:(شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان:جلد٣ص٩١،حديث نمبر١٨٩٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں ایسے اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث کے دن کہے تھے، اور وہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کا باجا ہو رہا ہے، اور یہ عید الفطر کا دن تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الْغِنَاءِ وَالدُّفِّ:(شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان:جلد٣ص٩٢،حديث نمبر١٨٩٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک راستہ سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لڑکیاں دف بجاتے ہوئے گا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں: «نحن جوار من بني النجار يا حبذا محمد من جار» ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں کیا ہی عمدہ پڑوسی ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الْغِنَاءِ وَالدُّفِّ:(شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان:جلد٣ص٩٢،حديث نمبر١٨٩٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار میں سے اپنی ایک قرابت دار خاتون کی شادی کرائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے، اور فرمایا: ”تم لوگوں نے دلہن کو رخصت کر دیا“؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ کوئی گانے والی بھی بھیجی“؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار کے لوگ غزل پسند کرتے ہیں، کاش تم لوگ دلہن کے ساتھ کسی کو بھیجتے جو یہ گاتا: «أتيناكم أتيناكم فحيانا وحياكم» ”ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، اللہ تمہیں اور ہمیں سلامت رکھے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الْغِنَاءِ وَالدُّفِّ:(شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان:جلد٣ص٩٣،حديث نمبر١٩٠٠)
مجاہد کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا انہوں نے طبلہ کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں، اور وہاں سے ہٹ گئے یہاں تک کہ ایسا تین مرتبہ کیا، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الْغِنَاءِ وَالدُّفِّ:(شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان:جلد٣ص٩٤،حديث نمبر١٩٠١)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، وہاں ایک ہیجڑے کو سنا جو عبداللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا: اگر اللہ کل طائف کو فتح کر دے گا تو میں تم کو ایک عورت بتاؤں گا جو سامنے آتی ہے چار سلوٹوں کے ساتھ اور پیچھے مڑتی ہے آٹھ سلوٹوں کے ساتھ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے گھروں سے باہر نکال دو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابٌ في الْمُخَنَّثِينَ:ہیجڑوں کا بیان:جلد٣ص٩٤،حديث نمبر١٩٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، اور اس مرد پر لعنت کی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابٌ في الْمُخَنَّثِينَ:ہیجڑوں کا بیان:جلد٣ص٩٥،حديث نمبر١٩٠٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت کی، اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابٌ في الْمُخَنَّثِينَ:ہیجڑوں کا بیان:جلد٣ص٩٦،حديث نمبر١٩٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: «بارك الله لكم وبارك عليكم وجمع بينكما في خير» ”اللہ تم کو برکت دے، اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں میں خیر پر اتفاق رکھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: تَهْنِئَةِ النِّكَاحِ: نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان:جلد٣ص٩٦،حديث نمبر١٩٠٥)
حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے (جاہلیت کے دستور کے مطابق) یوں کہا: «بالرفاء والبنين» ”میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں“ تو آپ نے کہا: اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم وبارك عليهم» ”اے اللہ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: تَهْنِئَةِ النِّكَاحِ: نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان:جلد٣ص٩٧،حديث نمبر١٩٠٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (کے جسم) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے، تو پوچھا: ”یہ کیا ہے“؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بارك الله لك أولم ولو بشاة» ”اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الْوَلِيمَةِ: ولیمہ کا بیان:جلد٣ص٩٨،حديث نمبر١٩٠٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کا اتنا بڑا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا بڑا آپ نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الْوَلِيمَةِ: ولیمہ کا بیان:جلد٣ص٩٨،حديث نمبر١٩٠٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الْوَلِيمَةِ: ولیمہ کا بیان:جلد٣ص٩٩،حديث نمبر١٩٠٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الْوَلِيمَةِ: ولیمہ کا بیان:جلد٣ص٩٩،حديث نمبر١٩١٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ اور ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیار کریں اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں، چنانچہ ہم گھر میں گئے، اور میدان بطحاء کے کناروں سے نرم مٹی لے کر اس گھر میں بطور فرش ہم نے بچھا دی، پھر دو تکیوں میں کھجور کی چھال بھری، اور ہم نے اسے اپنے ہاتھوں سے دھنا، پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلایا، اور میٹھا پانی پلایا، اور ہم نے ایک لکڑی گھر کے ایک گوشہ میں لگا دی تاکہ اس پر کپڑا ڈالا جا سکے، اور مشکیزے لٹکائے جا سکیں چنانچہ ہم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے بہتر کوئی شادی نہیں دیکھی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الْوَلِيمَةِ: ولیمہ کا بیان:جلد٣ص١٠٠،حديث نمبر١٩١١)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی میں بلایا، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی، وہ دلہن کہتی ہیں: جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا شربت پلایا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الْوَلِيمَةِ: ولیمہ کا بیان:جلد٣ص١٠١،حديث نمبر١٩١٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: إِجَابَةِ الدَّاعِي:(ولیمہ کی) دعوت قبول کرنے کا بیان:جلد٣ص١٠١،حديث نمبر١٩١٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: إِجَابَةِ الدَّاعِي:(ولیمہ کی) دعوت قبول کرنے کا بیان:جلد٣ص١٠٢،حديث نمبر١٩١٤)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ پہلے دن حق ہے، دوسرے دن عرف اور دستور کے موافق، اور تیسرے دن ریاکاری اور شہرت ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: إِجَابَةِ الدَّاعِي:(ولیمہ کی) دعوت قبول کرنے کا بیان:جلد٣ص١٠٣،حديث نمبر١٩١٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیر کنواری (شوہر دیدہ) کے لیے تین دن، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں، (پھر باری تقسیم کر دیں)“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الإِقَامَةِ عَلَى الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ:کنواری اور غیر کنواری کے پاس رہنے کی مدت۔ :جلد٣ص١٠٣،حديث نمبر١٩١٦)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے، اور فرمایا: ”تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: الإِقَامَةِ عَلَى الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ:کنواری اور غیر کنواری کے پاس رہنے کی مدت۔ :جلد٣ص١٠٤،حديث نمبر١٩١٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کوئی بیوی، خادم یا جانور حاصل کرے، تو اس کی پیشانی پکڑ کر یہ دعا پڑھے“ «اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما جبلت عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلت عليه» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی خلقت اور طبیعت کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے شر اور اس کی خلقت اور طبیعت کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ أَهْلُهُ: بیوی سے پہلی ملاقات پر کون سی دعا پڑھے؟:جلد٣ص١٠٥،حديث نمبر١٩١٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے «اللهم جنبني الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتني» ”اے اللہ! تو مجھے شیطان سے بچا، اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھ“ پھر اس ملاپ سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا، یا شیطان اسے نقصان نہ پہنچ اس کے گا۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح:بَابُ: مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ أَهْلُهُ: بیوی سے پہلی ملاقات پر کون سی دعا پڑھے؟:جلد٣ص١٠٥،حديث نمبر١٩١٩)
Ibne Majah Shareef : Nikaah Ke Ahkaam O Masayil
|
Ibne Majah Shareef : نکاح کے احکام و مسائل
|
•