
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کام کا میں تمہیں حکم دوں اس کو بجا لاؤ اور جس سے روکوں اس سے رک جاؤ(باز آجاو)۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس معاملے میں میں تمہیں چھوڑ دوں تم بمجھے بھی رہنے دو؛کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے نبیوں سے سوالات کرنے اور اختلافات کرنے کی وجہ ہلاکت کا شکار ہوئے اور جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو بجا لاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس سے رک جاؤ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے میرا حکم مانا اس نے اللہ عزوجل کا حکم مانا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ عزوجل کی نافرمانی کی؛؛؛؛ ؛ (سنن ابن ماجہ شریف:بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللهُ علیہ وَسَلَّمَ:جلد ١ ص ٤:حدیث نمبر ٣:(
حضرت ابو جعفر الباقر کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سماعت فرماتے تو اس میں نہ کچھ زیادہ کرتے نہ کچھ کم کرتے؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف؛ باب اتباع سنت سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:جلد ١ ص ٤:حدیث نمبر ٤:(
حضرت ابو دردآء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ باہم فقر(غریبی)کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے اور اس سے خوف زدہ تھے؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم فقر سے خوف زدہ ہو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تم پر دنیا اس طرح بہادی جائے گی کہ دنیا کی جانب کسی کا ذرا بھی دل متوجہ نہ ہوگا اللہ کی قسم میں تمہیں ایسی حالت میں چھوڑ کر جاؤں گا جس کے شب و روز سفیدی میں برابر ہوں گے؛ حضرت ابو دردآء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا اللہ تعالیٰ کی قسم آپ ہمیں اسی حالت میں چھوڑ کر تشریف لے گئے جس کی سفیدی(مالداری)میں شب و روز برابر تھے؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف:بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ رَسُولِ اللہ صَلَّی اللہ علیہ وسلم؛ جلد ١ ص ٤؛حدیث نمبر ٥؛(
حضرت معاویہ بن قرۃ اپنے والد سے روایت کرتے ہیکہ ان کے والد قرۃ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے ایک جماعت قیامت تک غالب رہے گی اسے کوئی ذلیل کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا؛؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف؛ باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؛جلد ١ ص ٤؛حدیث نمبر ٦؛(
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ اللہ عزوجل کے حکم کی تعمیل کرتی رہے گی انہیں انکا کوئی مخالف نقصان نہیں پہنچا سکے گا (سنن ابن ماجہ شریف باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر ٧؛
ابوعبد اللہ، ہشام بن عمار، جراح بن ملیح، ہم سے بیان کیا بکر بن زرعہ نے کہ میں نے ابوعنبہ الخولانی سے سنا ہے کہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف (منہ کر کے) نماز پڑھی ہے وہ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہمیشہ اللہ تعالیٰ-اس- دین-اسلام- میں ایک پودا لگاتا رہے گا اور اسے اپنی اطاعت-یعنی اپنی فرمانبرداری- میں استعمال فرماتا رہے گا (سنن ابن ماجہ شریف باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر ٨
یعقوب بن حمید بن کاسب، قاسم بن نافع، حجاج بن ارطاة، عمرو بن شعیب، شعیب حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ کھڑے ہوئے حضرت معاویہ-رضی اللہ عنہ-خطبہ دینے کے لئے اور فرمایا: تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے قائم ہونے تک ایک جماعت میری امت سے غالب رہے گی لوگوں پر وہ نہ کسی مخالف کو خطرے میں لائیں گے اور نہ کسی مددگار کی انہیں احتیاج ہوگی؛؛؛؛ ؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر ٩
ہشام بن عمار، محمد بن شعیب، سعید بن بشیر، قتادہ، ابوقلابہ، ابواسماء الرحبی، ثوبان فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور کوئی مخالفت کرنے والا اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت لے آئے گا (یعنی اس جماعت کی اللہ عزوجل کی طرف سے مدد کی جائے گی اور اس جماعت کو کوئی مخالفت کرنے والا نقصان ضرر نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ عزوجل کے حکم سے (قیامت) آجائے گی ۔؛؛؛ ؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ١ ص ٥؛حدیث نمبر ١٠
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکیر کھینچی دو لکیریں اس لکیر کی دائیں جانب اور کھینچی اور دو لکیریں اس لکیر کی بائیں جانب اور کھینچی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنا ہاتھ درمیان والی لکیر پر رکھا اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی،(ترجمہ)یہی میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو اور جدا جدا راستوں پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہیں سیدھی راہ سے الگ کر دیں گے؛؛؛؛ ؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب اتباع سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد ١ ص ٦؛حدیث نمبر ١١؛
حضرت مقدام بن معدیکرب الکندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بہت جلد ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنے تخت پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھا ہوگا؛ اور اس کے سامنے میری حدیث بیان کی جائے گی تو جواب میں وہ کہے گا، ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والی اللہ کی کتاب ہے جو کچھ ہم پائیں گے اس میں حلال حلال اسی کو مانیں گے اور جو کچھ ہم اس میں پائیں گے حرام حرام اسی کو مانیں گے؛ ہوشیار؛ خبردار کہ جو کچھ حرام کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح حرام ہے جیسے حرام کیا اللہ نے۔(یعنی اس حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج کے نام نہاد اہل قرآن کہلانے والے کا رد فردیا کیونکہ یہ آج کے نام نہاد اہل قرآن کہتے ہیں کہ ہم بس قرآن مانتے باقی کچھ نہیں؛ ساتھ ہی میرے بھائیوں اس حدیث شریف یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل نے غیب کا علم عطا کیا تھا تبھی تو آپ علیہ السلام نے آنے والے زمانے کے باطل فرقہ یعنی اہل قرآن کے فاسد نظریات کے بارے میں بھی اپنی امت کو آگاہ فردیا؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ تَعْظِيمِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ عَارَضَهُ؛جلد ١ ص ٦؛حدیث نمبر ١٢؛
ابورافع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اس حالت میں نہ پاؤں کہ تم میں سے کوئی اپنے بستر پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرا کوئی حکم یا کوئی ممانعت پہنچے تو وہ اس کے جواب میں یہ کہے ہمیں یہ بات اللہ کی کتاب میں نظر نہیں آتی کہ ہم اس کی پیروی کریں؛؛؛؛؛ (فائدہ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ؛ میں تمہیں اس حالت میں نہ پاؤں؛ یا تو یہ کلمہ دعائیہ ہے کہ میں وہ زمانہ دیکھنا نہیں چاہتا کیونکہ وہ بدترین دور ہوگا؛ یا مقصد یہ ہیکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو اس حالت میں دیکھنا نہیں چاہتا یعنی تم سے یہ توقع نہیں رکھتا؛ یا یہ مقصد ہے کہ تم میں سے کوئی یعنی عامۃ المومنین میں سے کوئی ایسا نہ کرے؛ کیونکہ پھر اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا؛ کاش اس حدیث میں آج کے نام نہاد اہل قرآن کہلانے والے منکرین حدیث پر غور کریں تو شاید انکو بھی ہدایت مل جائے؛؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛ جلد ١ ص ٦؛حدیث نمبر ١٣؛
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی ہمارے دین میں ایسی کوئی نئی بات پیدا کرے جو دین میں موجود نہ ہو تو وہ مردود ہے؛؛؛؛؛؛؛ (یعنی ہر وہ کام جو قرآن و سنت کے خلاف ہو مردود ہے؛؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛ جلد ١ ص ٧؛حدیث نمبر ١٤؛
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی بندیوں(عورتوں) کو مسجد میں نماز پڑھنے سے منع نہ کرو ابن عمر کے بیٹے نے جواب دیا اللہ کی قسم ہم ضرور روکیں گے سالم کہتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا میں تم سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم اس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے یہ جواب دیتے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے؛ اور ایک روایت میں ایا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ان سے بات نہ کرنے کی قسم قسم کھائی؛؛؛؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ ؛جلد ١ ص ٧؛حدیث نمبر ١٥) ==لیکن یاد رہے عورتوں کا اپنے گھر پر نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے بھی افضل ہے اور یہ روایت بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے؛حدیث کے الفاظ یہ ہیں(عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ، وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ»ترجمہ=اپنی عورتوں کو مساجد سے مت روکو ، مگر ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں - اس حدیث سے صاف ظاہر ہیکہ عورتوں کے لیے مساجد سے بہتر گھر ہی پر نماز پڑھنا ہے؛ یہ حدیث پاک ابو داؤد شریف جلد ١ ص ١٥٥؛میں موجود ہے حدیث نمبر ٥٦٥ اور اس حدیث وہابیوں کے شیخ البانی نے بھی صحیح کہا ہے اور المستدرک حدیث ٧٥٥ و مسند احمد حدیث نمبر ٥٤٦٨ میں بھی موجود ہے ۔از شبیر؛
حضرت عبد اللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک انصاری نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حرا کی کھال یعنی چھوٹی نہر کے بارے میں حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کچھ نزاع(جھگڑا)کیا جس سے وہ حضرات کھجور کے باغات سیراب کیا کرتے تھے؛انصاری نے یوں کہا تھا کہ پانی کو کھلا چھوڑ دو تاکہ وہ چلتا رہے انہوں نے انکار کیا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زبیر تم اپنے باغ کو سیراب کرنے کے بعد بقیہ پانی اپنے پڑوسی کے لئے چھوڑ دو اس بات پر وہ انصاری غصہ میں آگئے اور کہنے لگے کہ اس لئے کہ یہ آپ کا پھوپھی زاد بھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ (غصہ کی وجہ سے) متغیر ہو گیا پھر فرمایا: زبیر! اپنے باغ وغیرہ کو سیراب کرو اور اس وقت پانی روکے رکھو جب تک کہ وہ منڈیروں تک بلند نہ ہو جائے، حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی (فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَ رَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ) النساء : 65)=ترجمہ=قسم ہے تمہارے پروردگار کی یہ اس وقت تک مومن نہ ہوں گے جب تک آپس کے اختلافات میں آپ کو منصف نہ مانیں گے پھر تمہارے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کوئی رنجش بھی نہ پائیں اور اس کے آگے سر تسلیم خم کردیں (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ١١؛حدیث نمبر ١٦)
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مغفل کے پہلو(بازوں)میں ان کا ایک بھتیجا بیٹھا تھا؛ اس نے کنکریاں پھیکنی شروع کیں؛ عبد اللہ نے اسے روکا اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ کنکری پھینکنے سے نہ تو شکار کھیلا جا سکتا ہے؛ اور نہ دشمن کو زخمی کیا جاسکتا ہے؛ ہاں یہ فعل کسی کا(راہ چلتے)دانت توڑ سکتا اور آنکھ پھوڑ سکتا ہے؛ سعید بن زبیر کہتے ہیں کہ اس نے یعنی عبد اللہ بن مغفل کے بھیجتے نے دوبارہ یہی حرکت کی عبد اللہ نے فرمایا میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیان کر رہا ہوں اور تو پھر بھی یہی حرکت کر رہے ہو میں تم سے کبھی کلام نہ کروں گا (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ١٧؛)
اسحاق بن قبیصہ روایت کرتے ہیں اپنے والد سے کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی حضرت عبادہ بن صامت انصاری سر زمین روم میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑائی میں شریک تھے انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونے کے ٹکڑوں کو دیناروں اور چاندی کے ٹکروں کی درہموں کے بدلے میں خرید و فروخت کر رہے ہیں ، انہوں نے فرمایا کہ اے لوگوں تم سود کھا رہے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا سونا سونے کے بدلہ میں صرف برابر برابر بیچو جس میں نہ تو کمی ہو نہ زیادتی ہو اور نہ ادھار۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا اے ابوالولید! میرے نزدیک یہ سود نہیں ہے الاّ یہ کہ ادھار ہو، حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتاتا ہوں اور آپ اپنی رائے بیان کرتے ہو۔ اگر اللہ نے مجھے یہاں سے نکلنے کا موقع دیا تو میں آپ کے ساتھ ایسی سر زمین میں نہیں ٹھہروں گا جس کے والی آپ ہوں ، پھر جب وہ لوٹے تو مدینہ منورہ آئے،حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا اے ابوالولید کس چیز نے آپ کو واپس کیا؟ انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا اور اپنے ٹھہرنے کے متعلق اپنے قول کا تذکرہ کیا، حضرت عمر نے فرمایا اے ابوالولید اسی سر زمین کی طرف لوٹ جاؤ کیونکہ جس زمین تم اور تمہارے مانند آدمی نہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اس میں مصیبت نازل فرما دے گا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ حضرت عبادۃ رضی اللہ عنہ کو تم کوئی حکم نہ دوگے؛ اور جو کچھ حضرت عبادۃ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے لوگوں سے اسی کی پیروی کراؤ کیونکہ یہی حکم ہے(یہی دین کا حکم ہے) (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ٨؛حدیث نمبر ١٨؛حکم حدیث؛ اس حدیث کو سنن ابن ماجہ کے محقق الارنووط نے ضعیف کہا اور وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ إسناده ضعيف لانقطاعه، قبيصة بن ذؤيب لم يسمع من عبادة بن الصامت)
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ جب میں تمہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے کوئی بات بتاؤں تو تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسا گمان کیا کرو جو ان کے شایان شان، صحیح اور پاکیزہ ہو (اس متن کو صرف امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے) (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ٩؛حدیث نمبر ١٩؛حکم حدیث؛ إسناده ضعيف لانقطاعه بين عون -وهو ابن عبد الله بن عتبة بن مسعود- وبين عم أبيه عبد الله بن مسعود.-از الارنووط_
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات بتاؤں تو تم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسا گمان کیا کرو جو ان کے لائق شان درست اور پاکیزہ ہو۔(کیونکہ یہ اس کا ارشاد ہے جو سب سے زیادہ ہدایت یافتہ اور سب سے بڑھ کر متقی ہے؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ٩؛حدیث نمبر ٢٠؛
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں تم کو ایسے لوگوں کے بارے میں خبر دیتا ہوں جو اپنے مسند پر بیٹھے ہوں گے اور جب میری حدیث ان کے سامنے بیان کی جائے گی تو وہ کہیں گے صرف قرآن پڑھو؛(پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) یاد رکھو جو عمدہ بات تمہارے سامنے پیش کی جائے تو جان لو کہ اس کا کہنے والا میں ہوں؛؛؛؛ ؛ (سنن ابن ماجہ شریف؛ بَابُ تَعْظِيمِ حَدِيثِ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ، وَالتَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ عَارَضَهُ؛جلد ١ ص ٩؛حدیث نمبر ٢١؛حکم حدیث إسناده ضعيف جدًا، المقبري -وهو عبد الله بن سعيد بن أبي سعيد- متروك ذاهب الحديث.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا اے میرے بھتیجے جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کروں تو اس کے مقابلے میں مثالیں بیان نہ کیا کرو...... حدیث نمبر ٢١ میں جو روایت اسی کے مثل روایت حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ تَعْظِيمِ حَدِيثِ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ، وَالتَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ عَارَضَهُ؛جلد ١ ص ١٠؛حدیث نمبر ٢٢)
حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جمعرات کی شام کو جاتا تھا لیکن میں نے انہیں کسی بات پر کبھی یہ کہتے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایک شام کو انہوں نے فرمایا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد انہوں نے سر جھکا لیا؛ عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ جب ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا گیا تو وہ اس حالت میں کھڑے تھے کہ قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے آنکھیں پھٹی ہوئی تھی اور رگیں پھولی ہوئی تھی؛ اس کے بعد انہوں نے فرمایا آپ"یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا تھا یا کم و بیش یا اس کے قریب یا اس کے مانند "یعنی مجھے یاد نہیں" (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٠؛حدیث نمبر ٢٣) (اس حدیث پر ذرا غور کریں جب تک پوری تحقیق نہ ہو کہ یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کہ نہیں تب تک اس فرمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے۔
حضرت محمد بن سیرین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرماتے تو اس طرح گھبرا جاتے اور فرماتے یا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١١؛حدیث نمبر ٢٤) (اس حدیث سے سبق حاصل کریں وہ لوگ جو اچھے طریقے سے عالم بھی نہیں ہوتے اور درس حدیث دینا شروع کردیتے غور کریں جب اللہ کے رسول کی حدیث بیان کرتے وقت صحابہ کرام اتنا گھبراتے تھے تو جو درست طریقے سے عالم بھی نہیں انکو کتنا گھبرانا چاہیے مگر نہیں آج تو ہر سڑک چھاپ آدمی حدیث میں یہ لکھا وہ لکھا ہے کرنا شروع کردیتا ہے جبکہ فن حدیث سے ذرا بھی واقف نہیں ہے ہم تو بس دعا کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل اس امت پر رحم کرے آمین۔
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے عرض کیا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کیجیے=تو=انہوں نے فرمایا ہم ضعیف(بوڑھے) ہو گئے ہیں اور بھولنے لگے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کرنا ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١١؛حدیث نمبر ٢٥۔) (اس حدیث پر ذرا غور کریں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حدیث بیان کرنے کے لئے عالم وغیرہ ہونا ضروری نہیں ہر کوئی حدیث بیان کرنے کا اہل ہیں جب ایک صحابی صرف ضعف عمر کی بنا پر حدیث بیان کرنے ڈرتے ہیں تو جس شخص ضعف علم ہو اسکو حدیث بیان کرتے وقت کتنا ڈرنا چاہئے؟
حضرت عبداللہ بن ابی السفر فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک سال حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا مگر کبھی انہیں حضور کی جانب سے کوئی بات(منسوب)کرکے حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ (سنن ابن ماجہ بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١١؛حدیث نمبر ٢٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث یاد کرتے تھے اور حدیث یاد ہی کی جاتی ہے؛ لیکن اب تم نے ہر مشکل اور آرام دہ جگہ پر چڑھنا شروع کردیا(یعنی بلا تحقیق) تو تم پر افسوس صد افسوس (سنن ابن ماجہ بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٢؛حدیث نمبر ٢٧) (میرے بھائیوں معلوم ہوا کہ حدیث بڑی تحقیق کے بعد بیان کی جاتی اور یہ تحقیق کا کام ہر عام آدمی کے بس کی بات نہیں اہل فہم کا کام ہے یہ)
حضرت قرطۃ بن کعب فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی طرف بھیجا اور خود بھی ہمیں رخصت کرنے کے لئے مقام صرار تک آئے اور فرمایا تم جانتے ہو میں تمہارے ساتھ کیوں چلتا رہا ہم نے عرض کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی اور حق انصار کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا ساتھ چلنے کا مقصد تم سے ایک خاص بات بیان کرنا ہے تم لوگوں کا فرض ہے کہ میری اس مشایعت کا خیال رکھتے ہوئے ( تم اپنے ساتھ میرے چلنے کا لحاظ رکھتے ہوئے)تم اس بات کو یاد رکھو تم ایسے لوگوں سے ملوگے کہ قرآن کی آواز ان کے سینوں میں ایسی ہی ہوگی جیسے ہانڈی کی آواز(یعنی تم ایسی قوم کے پاس جاؤ گے جن کے سینے قرآن کے شوق سے ایسے ابلیں گے جیسے ہنڈیا) وہ تمہیں دیکھ کر تمہاری جانب اپنی گردنیں بڑھائیں گے اور کہیں گے محمد کے اصحاب آگئے تم ان سے رسول اللہ صلی اللہ کی حدیث کم بیان کرنا تو میں تمہارا شریک رہوں گا (سنن ابن ماجہ بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٢؛حدیث نمبر ٢٨)
حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ میں مدینہ سے مکہ تک سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں رہا لیکن انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بھی بیان کرتے نہیں سنا (سنن ابن ماجہ بَابُ التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٢؛حدیث نمبر ٢٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے مجھ پر(جان بوجھ کر) جھوٹ گھڑا وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔. (سنن ابن ماجہ بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ٣٠) (اس حدیث سے سبق حاصل کریں وہ لوگ جو بغیر تحقیق کہ حدیث ہیکہ پھر بھہ لکھتے ہیں اور فارورڈ کرتے ہیں کہ اتنے لوگوں کو یہ پوسٹ بھیجیں اتنا ثواب یہ فضیلت وہ فضیلت)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر جھوٹ نہ بولو کیونکہ مجھ پر جھوٹ بولنے سے دوزخ میں ڈالے جاؤ گے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ٣١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ بولا اسے اپنی جگہ دوزخ میں بنا لینی چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ٣٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کوئی جھوٹی بات میری طرف منسوب کرے اسے اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لینا چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے اپنا(اسے اپنا) ٹھکانہ دوزخ میں بنا لینا چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ٣٤)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ مجھ سے زیادہ احادیث بیان کرنے سے اجتناب کرو؛(کیونکہ) جو مجھ پر کوئی بات کہے اسے سچی بات کہنی چاہیے اور جو شخص وہ بات کہے جو میں نے نہیں کہی(تو اس جھوٹ کی بنا پر) اسے اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لینا چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٤؛حدیث نمبر ٣٥)
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد زبیر سے عرض کیا کہ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے نہیں سنتا؛ جیسے حضرت ابن مسعود اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو(حدیث بیان کرتے) سنتا ہوں؛ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب سے میں مسلمان ہوا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی الگ نہیں ہوا لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مجھ پر دانستہ جھوٹ بولے اسے اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لینا چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٤؛حدیث نمبر ٣٦) (اس حدیث سے سمجھ میں آیا کہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کثرت روایت کیوں نہیں ہے)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مجھ پر دانستہ(جان بوجھ کر) جھوٹ بولے اسے اپنا مقام دوزخ میں بنا لینا چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ؛جلد ١ ص ١٤؛حدیث نمبر ٣٧)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مجھ سے کوئی حدیث بیان کرے اور اس کو یہ سمجھتا ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ؛جلد ١ ص ١٤؛حدیث نمبر ٣٨)
حضرت سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے بھی اس قسم کی روایت مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو میری طرف سے کوئی حدیث بیان کرے اور اس کا یہ خیال ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ؛جلد ١ ص ١٥؛حدیث نمبر ٣٩)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اس قسم کی روایت مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مجھ سے کوئی حدیث بیان کرے اور اس کا یہ خیال ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ محمد بن عبد؛ حسن بن موسیٰ الاشیب؛ شعبہ اس سند سے بھی یہ روایت(جو ماقبل میں حدیث نمبر ٤١تحت گزری) سمرۃ بن جندب سے مروی ہے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ؛جلد ١ ص ١٥؛حدیث نمبر ٤٠)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس قسم کی روایت مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مجھ سے کوئی حدیث بیان کرے اور اس کا یہ خیال ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ؛جلد ١ ص ١٥؛حدیث نمبر ٤١)
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور ہمیں بہت عمدہ نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کے دل لرز اٹھے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تو ہمیں ایسی نصیحت فرمائی ہے جیسے کوئی کسی کو رخصت کررہا ہو آپ ہم لوگوں سے کوئی عہدہ و پیمان لیجیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اللہ عزوجل کا خوف اور امیر کا حکم سننے اور اطاعت کرنے کو اپنے اوپر لازم سمجھ لو چاہے تمہارا امیر حبشی غلام کیوں نہ ہو؛(پھر فرمایا) تم میرے بعد بہت اختلاف دیکھو گے(تو) تم میری سنت اور خلفائے راشدین المہدین کی سنت کو لازم پکڑ لینا اور ان کے طریقے کو مظبوطی کے ساتھ دانتوں سے پکڑ لینا اور بدعات سے گریز کرنا کیونکہ ہر بدعت گمرہی ہے (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ؛جلد ١ ص ١٥؛حدیث نمبر ٤٢)
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں اور دل دہل گئے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تو ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جیسے آپ ہمیں رخصت فرما رہے ہوں ہم سے کوئی عہد بھی لے لیجیے آپ نے فرمایا میں تمہیں ایسے منور دین پر چھوڑے جا رہا ہوں جس کے شب و روز برابر ہیں اس دین سے وہی رو گردانی کرے گا جس کی قسمت میں بربادی ہے تم میں سے جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے وہ ایک زبردست اختلاف دیکھیں گے تو تم میری سنت کو جانتے ہوئے خلفائے راشدین المہدین کی سنت کو دانتوں سے مظبوط پکڑ لینا اور اطاعت کو اپنے اوپر لازم کر لینا اگر چہ امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو کیونکہ مومن کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے جس کے ہاتھ اس کی نکیل ہو اس کا مطیع اور فرمانبردار ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ؛جلد ١ ص ١٦؛حدیث نمبر ٤٣)
حضرت عرباض ابن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز صبح پڑھائی اور اسکے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر ایک موثر و عمدہ نصیحت فرمائی اور پھر باقی واقعہ مذکورہ حدیث نمبر ٤٥ کی طرح بیان فرمایا۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ؛جلد ١ ص ١٧؛حدیث نمبر ٤٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک(آنکھ مبارک )سرخ ہو جاتیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہو جاتی اور غصہ تیر ہو جاتا گویا کہ آپ لوگوں کو کسی لشکر سے خوف دلا رہے ہیں (پھر) فرماتے تمہاری صبح ایسی ہے تمہاری شام ایسی ہے (ایسی ہو گی) اور فرماتے کہ میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں اور انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملاتے ، پھر فرماتے اما بعد!سب سے بہتر حکم اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، سب سے بدترین کام دین میں نئی باتوں کا پیدا کرنا ہے اور ہر نئی بات گمراہی ہے اور فرماتے تھے جس شخص نے بعد وفات مال چھوڑا وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جس نے قرض یا عیال چھوڑے وہ میرے ذمہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٧؛حدیث نمبر ٤٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دو چیزیں ہیں ایک کلام اور دوسرا طریقہ، پس سب سے بہتر کلام اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، خبردار بدعتوں سے بچنا کیونکہ بدترین کام دین میں نئی چیز پیدا کرنا ہے جبکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے دھیان رکھنا کہ طویل طویل امیدیں باندھنے نہ لگ جانا مبادا کہ تمہارے دل سخت ہوجائیں خبردار وہ آنے والی (موت) قریب ہے دور تو وہ چیز ہے جو پیش آنے والی نہیں ہے ، آگاہ رہو بدبخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت ہوگیا اور خوش بخت وہ ہے جو اپنے غیر سے نصیحت حاصل کرے، خبردار مومن مسلمان کے ساتھ قتال کفر ہے اور اس کو گالی دینا فسق ہے کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے آگاہ رہو اپنے آپ کو جھوٹ سے بچاؤ کیونکہ جھوٹ نہ سنجیدگی کی حالت میں جائز ہے نہ ہنسی مذاق میں کوئی شخص اپنے بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے کہ پھر اسے پورا نہ کرے کیونکہ جھوٹ نافرمانی تک لے جاتا ہے اور نافرمانی جہنم تک لے جاتی ہے اور سچ نیکی تک لے جاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور سچے شخص کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ کہا بھلائی کی جبکہ جھوٹے کے لئے کہا جاتا ہے کہ اسے جھوٹ بولا اور نافرمانی کی ، خبردار بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٨؛حدیث نمبر ٤٦؛حکم حدیث؛صحح موقوفًا أكثره عن ابن مسعود، وهذا إسناد قابل للتحسين، عبيد بن ميمون روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "ثقاته"، وباقي رجاله ثقات. والصواب أن أكثر هذه الكلمات موقوفة على ابن مسعود من قوله غير آخره في الكذب والصدق فمرفوع)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی (ھُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَا ءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَا ءَ تَاْوِيْلِه څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَه اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِه كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّا اُولُوا الْاَلْبَابِ( ال عمران :٧) ترجمہ= وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے وہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے اور پختہ علم والے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے(کنزن الایمان) اور(پھر) ارشاد فرمایا اے عائشہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو آیات متشابہات میں جھگڑ رہے ہیں تو سمجھ لو یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ نے مراد لئے ہیں ان سے بچنا۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٨؛حدیث نمبر ٤٧) (حضرت اہل سنت وجماعت یاد رکھیں کہ(محکم اور متشابہ آیات کی تفسیر میں سلف سے مختلف تعبیرات مننقول ہیں اور سب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہیکہ محکمات وہ آیتیں ہیں کہ جس کے معنی ظاہر ہوں اور ان کی مراد معلوم اور متعین ہو خواہ نفس لغت کے اعتبار سے ان کے معنی ظاہر ہوں یا شریعت کے بیان کردینے سے ان کی مراد متعین ہو یعنی ان کی مراد یا تو اس لئے متعین ہیکہ لغت اور ترکیب اور سیاق و سباق کے اعتبار سے نظم قرآنی میں کوئی ابہام اور اجمال نہیں یا شریعت کے اعتبار سے اس کی مراد متعین ہے؛ مثلا لفظ صلٰوۃ اور لفظ زکوٰۃ اگرچہ لغت کے اعتبار سے دعا اور پاکیزگی کے معنی ہیں جس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں لیکن شریعت کے بیان اور نصوص قطعیہ اور اسلام کے مسلمہ اجماع امت یہ قطعاً معتین ہو چکا ہے کہ صلٰوۃ اور زکوٰۃ سے متکلم کی مراد مخصوص طریقہ پر بدنی اور مالی عبادت بجا لانا ہے؛ ایسی آیات کو محکمات کہتے ہیں؛ متشابہات ان آیات کو کہتے ہیں جنکی مراد اور معنی کے معلوم اور متعین کرنے میں کسی قسم کا اشتباہ اور التباس واقع ہو جائے جیسے مقطعات قرآنیہ جیسے؛ الم؛ المر؛ طسم؛ وغیرہ؛ متشابہات کے بارے میں دو قول ہے ایک تو یہ کہ متشابہات کی تاویل سوائے اللہ عزوجل کے کسی کو نہیں معلوم؛ دوسرا قول یہ ہیکہ متشابہات کی تاویل و معنی اللہ عزوجل نے راسخین فی العلم کو بھی علی قدر مراتب بتائے ہیں۔
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد ہدایت یافتہ لوگ اس وقت گمراہ ہو جائیں گے جب ان میں جنگ و جدال شروع ہو جائے گا(پھر آپ نے یہ آیت مبارک تلاوت فرمائی ( بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ) 43۔ الزخرف : 58)۔ (ابن ماجہ شریف، ج ١ ،ص ١٩،حدیث نمبر ٤٨،بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بدعتی کا نہ روزہ قبول کرتا ہے نہ صدقہ نہ حج نہ عمرہ نہ جہاد نہ تو توبہ نہ نفل اور وہ(بدعتی) دین سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے بال آٹے سے نکال لیا جاتا ہے"" (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٩؛حدیث نمبر ٤٩)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بدعتی کے عمل کو اس وقت تک قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے جب تک کہ وہ(بدعتی انسان) بدعت نہ چھوڑ دے؛؛؛؛ ؛ سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٩ حدیث نمبر ٥٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جھوٹ کو باطل سمجھ کر ترک کریگا اس کے لیے جنت کے اطراف میں محل تیار کیا جائے گا اور جو شخص جھگڑے کو حق سمجھتے ہوئے چھوڑے گا اس کے لیے جنت کے درمیان میں محل تیار کیا جائے گا اور جو شخص خوش خلقی اختیار کریگا اس کے لیے جنت کے بلند ترین حصہ میں محل تیار کیا جائے گا؛؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ؛جلد ١ ص ١٩ حدیث نمبر ٥١؛حکم حدیث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سلمة بن وردان. =محقق الارنووط
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علم کو ایسے نہیں اٹھائے گا کہ لوگوں کے دلوں سے چھین لے؛(ہاں) لیکن علم کو علماء کی موت کے ذریعہ چھینا جائے گا(پھر جب دنیا میں) کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو لوگ جہلا کو اپنا رئیس(سردار) بنا لیں گے؛ اور (اپنے)ان (جہلہ سردار) سے(دینی معاملات میں) سوالات کریں گے(تب وہ جاہل سردار بے علم عالم)علم کے بغیر فتوی دیں گے اور(اور بے علمی میں فتوی دیکر) خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ؛جلد ١ ص ٢٠ حدیث نمبر ٥٢؛؛؛؛(میرے بھائیوں معلوم ہوا کہ بے علم کو جو عالم نہیں ہے اسکو اپنا سردار بنا لینا اور اس سے دینی مسئلہ دریافت کرنا گمراہی کا راستہ ہے اس دینی مسئلہ عالم اہل سنت وجماعت ہی دریافت کرو ورنہ گمراہ ہونے کا خطرہ ہے! شبیر)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے بغیر ثبوت کے فتوی دیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا؛؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ؛جلد ١ ص ٢٠ حدیث نمبر ٥٣؛؛ (میرے بھائیوں یاد رکھو دین اسلام کے مخصوص خدام یعنی حضراتِ علماء کرام کے دو طبقے خاص طور پر دین اسلام کی نمایا خدمت انجام دینے میں پیش پیش رہے ہیں ایک علماء محدثین کا طبقہ جن کا مشغلہ احادیث نبوی کی حفاظت اور نشر و اشاعت رہا یعنی اس طبقہ کو احادیث نبوی کی روایت اور ان کے بیان اور اہتمام سے کام رہا اور انہوں نے اسناد اور الفاظ حدیث پر گہری نظر رکھی؛ اور دوسرا طبقہ فقہاء امت کا ہے جنہوں نے قرآنی آیات اور احادیث نبوی سے مسائل اور احکام کا استنباط و استخراج کیا اور الفاظ حدیث سے زیادہ معانی حدیث اور اس کے اصول اور قواعد پر نظر رکھی؛؛ اسی وجہ سے محدثین کو بمنزلہ عطار کے اور فقہاء کو بمنزلہ اطباء کے گہا گیا ہے چنانچہ حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جس مفتی سے کوئی ایسا مسئلہ دریافت کیا جائے جس کا جواب وہ جانتا نہیں ہے تو اس مفتی پر فرض ہے کہ فتوی دینے میں جلدی نہ کرے اور نہ اپنے سے بڑے مفتی سے(اس مسئلہ کا حل) پوچھنے میں شرمائے جبکہ مفتی کے سوا دوسرے کو سکوت اختیار کرنا چاہیے(یعنی جو مفتی نہیں اگر اس سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے تو وہ خاموش رہے کیونکہ فتوی دینا اسکا کام نہیں) جبکہ میرے بھائیوں آج حال یہ ہو گیا ہیکہ مفتی تو دور کی بات عالم تو دور کی بات جس نے باضابطہ کسی استاذ کے پاس پڑھا تک نہیں وہ بھی سوالات و جواب کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اللہ اکبر؛ اللہ عزوجل اس امت کو اس فتنہ سے بچائے؛ آمین(از علامہ عبد الحکیم خان اختر شاہجہان پوری تحت مذکورہ حدیث سنن ابن ماجہ مترجم جلد ١ ص ٤٧؛ناشر رضا اکیڈمی ممبئی؛ ؛؛
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اصل علم تین ہیں ان(تین علم کے) علاوہ سب غیر ضروری(علم) ہیں(1)آیات محکمات کا علم(2)سنت قائمہ کا علم(3)اور اجتہادی احکام(کا علم) (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ؛جلد ١ ص ٢٠ حدیث نمبر ٥٤؛؛؛
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا(سردار بنا کر) تو ارشاد فرمایا جس کا تمہیں علم ہو اس کا فیصلہ کرنا اور جس شئی کا تمہیں علم نہ ہو اس میں سکوت(خاموشی) اختیار کرنا جب تک کہ وہ تمہارے سامنے بیان نہ کردی جائے یا اس کے بارے میں کچھ تمہارے لیے تحریر کیا نہ جائے؛؛ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ؛جلد ١ ص ٢١؛حدیث نمبر ٥٥؛
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل اس وقت تک ٹھیک رہے جب تک ان میں صحیح اولاد ہوتی رہی اور جب ان میں دوسرے لوگ اور قیدیوں کی اولاد شریک ہو گئی تو انہوں نے اپنی رائے سے فتوی دینے شروع کئے خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسرے کو بھی گمراہ کیا۔ (سنن ابن ماجہ شریف بَابُ اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ؛جلد ١ ص ٢١ حدیث نمبر ٥٦؛؛؛(میرے بھائیوں ذرا غور کرو بنی اسرائیل کی گمراہی کا ایک یہ سبب بھی ہے جو مذکور ہوا؛آج بھی اس امت میں جو گمراہی پھیل رہی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہیکہ جو اہل نہیں ہے وہ صاحب اہل بنے ہوئے ہیں یعنی جو فتوی دینے کے قابل نہیں ہیں وہ بھی فتوی دے رہے ہیں اور مفتی بنے ہوئے ہیں خود بھی گمراہ ہو رہے ہیں دوسرے کو بھی گمراہ کر رہے ہیں؛؛؛
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ایمان کے ساٹھ سے زیادہ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ستر سے زیادہ دروازے ہیں، جن میں سب سے کمتر راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور اس میں سب سے بلند یہ اعتراف کرنا کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٣٩،حديث نمبر ٥٧)
سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو سنا جو اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤٠،حديث نمبر ٥٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جنت میں ایسا شخص داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے دانہ برابر تکبر ہو اور ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤٠،حديث نمبر ٥٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: (قیامت کے دن) جب اللہ تعالی اہل ایمان کو جہنم سے نجات دیدے گا اور وہ امن میں اجائیں گے ، تو دنیا میں آدمی کا جو حق ہوتا ہے اس کے بارے میں اپنے مخالف حریف سے اتنا شدید جھگڑا کوئی نہیں کرتا جس طرح جھگڑا وہ اہل ایمان پر پروردگار سے اپنے ان بھائیوں کے بارے میں کریں گے جنہیں جہنم میں داخل کیا گیا تھا، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: وہ لوگ کہیں گے، اے ہمارے پروردگار! یہ ہمارے بھائی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھا کرتے تھے ہمارے ساتھ حج کرتے تھے، تو نے انہیں جہنم میں داخل کر دیا ہے، تو اللہ تعالی فرمائے گا: "تم جاؤ اور ان میں سے جسے تم پہچان سکتے ہو اسے وہاں سے نکال لو، تو وہ لوگ وہاں آئیں گے ان کی صورتوں کی وجہ سے انہیں پہچان لیں گے چونکہ جہنم کی آگ ان کی صورتوں کو نہیں دکھائے گی، ان میں سے کچھ وہ لوگ ہوں گے کہ اگ ان کے ٹخنوں تک ہوگی، وہ لوگ انہیں وہاں سے نکال لیں گے اور کہیں گے، اے ہمارے پروردگار، جن کے بارے میں تو نے ہمیں حکم دیا تھا، ہم نے انہیں نکال دیا ہے، پھر اللہ تعالی فرمائے گا، اس شخص کو بھی نکال دو، جس کے دل میں دینار کے وزن کے برابر ایمان ہو، پھر اس کو بھی نکال دو، جس کے دل میں نصف دینار کے وزن اتنا ایمان ہو، پھر اس شخص کو بھی نکال دو، جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہو"۔ پھر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جو شخص اس بات کی تصدیق نہیں کرتا وہ یہ پڑھ لے، بے شک اللہ تعالی ذرے کے وزن جتنا بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی نیکی ہو، تو اسے کئی گنا بڑھا دیتا ہے، اور اپنی بارگاہ سے عظیم اجر عطا کرے گا" (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤١،حديث نمبر ٦٠)
حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ہم نوجوان ہم عمر لوگ تھے تو ہم نے قران کا علم حاصل کرنے سے پہلے ایمان کو سیکھا پھر ہم نے قران کا علم حاصل کیا اس کے نتیجے میں ہمارے ایمان میں اضافہ ہو گیا۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤٢،حديث نمبر ٦١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت کے دو گرو ہوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ایک مرجۂ اور دوسرا سراقدریہ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤١،حديث نمبر ٦٢)
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص وہاں آیا جس کے کپڑے انتہائی سفید تھے اور جس کے بال انتہائی سفید تھے اس پر سفر کا کوئی نشان نظر نہیں آرہا تھا ہم میں سے کوئی ایک بھی اس سے واقف بھی نہیں تھا وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر بیٹھ گیا اس نے اپنے گھٹنے نبی اکرم ﷺ کے مبارک گھٹنوں کے ساتھ ملا دیے اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے زانوں پر رکھے وہ بولا اے محمد ﷺ اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔ وہ شخص بولا آپ ﷺ نے ٹھیک کہا ہے۔ ہمیں اس پر حیرانگی ہوئی کہ یہ خود ہی نبی اکرم ﷺ سے سوال کر رہا ہے اور خود ہی اس کی تصدیق بھی کر رہا ہے پھر وہ بولا اے حضرت محمد ﷺ ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالی اس کے فرشتے، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں آخرت کے دن اچھی یا بری تقدیر پر ایمان رکھو۔ وہ بولا آپ ﷺ نے سچ کہا ہے، تو ہمیں اس پر حیرانگی ہوئی کہ یہ خود ہی نبی اکرم ﷺ سے سوال کر رہا ہے اور خود ہی آپ ﷺ کی تصدیق کر رہا ہے۔ پھر وہ بولا اے محمد ﷺ احسان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالی کی عبادت اس طرح کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس نے دریافت کیا قیامت کب ائے گی؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس بارے میں جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا اس نے دریافت کیا اس کی نشانیاں کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ کہ کنیز اپنے آقا کو جنم دے گی وکیع نامی راوی کہتے ہیں یعنی عجمی لوگ عربوں کو جنم دیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا بھی تم برہانہ پاؤں ،برہنہ جسم، بکریوں کے غریب چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں بلند عمارات تعمیر کریں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر تین دن کے بعد میری ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی تو آپ ﷺ نے دریافت کیا کیا تم جانتے نہیں کہ وہ شخص کون تھا؟ میں نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے وہ تمہارے پاس اس لیے آئے تھے تاکہ تمہیں تمہارے دین کی بنیادی معلومات سکھا دے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤٤،حديث نمبر ٦٤)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ایک دن نبی کریم ﷺ لوگوں کے ہمراہ تشریف فرما تھے اس دوران ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے ( نبی کریم ﷺسے) دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں اس کی بارگاہ میں حاضری اور دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لاؤ اس شخص نے دریافت کیا: یا رسول اللہﷺ ! اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز قائم کرو فرض زکوة ادا کرو رمضان کے روزے رکھو اس شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! احسان کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالٰی کی اس طرح عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو لیکن اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ا قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس بارے میں مسئول ( جس سے سوال کیا گیا ہے یعنی نبی اکرم ﷺ ) سائل ( یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام ) سے زیادہ علم نہیں رکھتا البتہ میں تمہیں اس کی نشانیاں بتا دیتا ہوں جب باندیاں اپنے آقاؤں کو جنم دیں اور چرواہے بلند و بالا عمارتیں قائم کرنے لگیں۔ یہ بات قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہوگی۔ نبی اکرم ﷺ نےمزید ارشاد فرمایا پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا علم صرف اللہ تعالی کے پاس ہے آپﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلات کی ،(ترجمہ) بے شک قیامت کا علم اللہ تعالی ہی کے پاس ہے وہی بارش نازل کرتا ہے رحموں میں جو کچھ ہے وہی جانتا ہے کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی جگہ مرے گا بے شک اللہ تعالی علم رکھنے والا خبر رکھنے والا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤٥،حديث نمبر ٦٥)
امام علی رضا رضی اللہ عنہ اپنے والدہ (امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ان کے والد (امام باقر رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے حوالے ان کے والد (امام حسین رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے امام علی بن ابوطالب کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ایمان دل کی معرفت؛ زبان کے ذریعے اعتراف اور اعضائے جسم کے ذریعے عمل کا نام ہے ۔ شیخ ابوصلت کہتے ہیں : ” اگر اس سند کوکسی پاگل پر پڑھا جائے تو وہ ٹھیک ہو جائے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٦٧،حديث نمبر ٦٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: ” کوئی بھی شخص اس وقت تک ( کامل ) مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے ( راوی کو شک ہے شاید یہ لفظ ہے ) اپنے پڑوسی کے لئے وہی (چیز ،کام، صورت حال ) پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔“ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤٧،حديث نمبر ٦٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کوئی شخص اس وقت تک ( کامل ) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد ( یہاں تک کہ سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤٧،حديث نمبر ٦٧)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گے جب تک تم مومن نہیں ہوتے۔ تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو گے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہیں رکھتے کیا میں تمہاری رہنمائی ایسی چیز کی طرف نہ کروں جب تم اسے کرو گے تو تمہارے درمیان محبت پیدا ہو جائے گی تم لوگ سلام کو عام کرو۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤٧،حديث نمبر ٦٨)
ابو وائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے (یعنی کسی بھی مسلمان کو )قتل کرنا کفر ہے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤٨،حديث نمبر ٦٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص اس عقیدے پردنیا سے الگ ہو کہ وہ خالص طور پر صرف اللہ تعالیٰ کو معبود سمجھتا ہو اس کی عبادت کرتا ہوکسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو نماز قائم کرتا ہو، زکوۃ ادا کرتا ہو تو وہ ایسی حالت میں مرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو گا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں یہ اللہ تعالی کا وہ دین ہے جسے اس کے رسول ﷺ لے کر آئے تھے اور انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف سے اس کی تبلیغ کی تھی اس سے پہلے کہ باتوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور نفسانی خواہشات میں اختلاف سامنے آنے لگے۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب سے بھی ہوتی ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئی تھی۔ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ اگر وہ تو بہ کر لیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس سے مراد یہ ہےکہ وہ بتوں اور ان کی عبادت سے لاتعلق ہو جائیں۔ (ارشاد باری تعالی ہے) اور وہ نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں ۔ ایک اور آیت میں ارشاد باری تعالی ہے۔ اگروہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٤٩،حديث نمبر ٧٠)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا ر ہوں جب تک وہ یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسولﷺ ہوں اور وہ نماز قائم نہیں کرتے اور زکوۃ ادا نہیں کرتے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٥٠،حديث نمبر ٧١)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: مجھے اس بات کا حکم دیا گیاہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں جب تک وہ یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں اور وہ نماز قائم نہیں کرتے اور زکوۃ ادا نہیں کرتے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٥٢،حديث نمبر ٧٢)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میری امت کے دوگروہ ان لوگوں کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے ایک ارجاء کا عقیدہ رکھنے والے اور ایک قدریہ کا عقیدہ رکھنے والے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٥٣،حديث نمبر ٧٣)
حضرت مجاہد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ایمان کم اور زیادہ ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٥٣،حديث نمبر ٧٤)
حضرت مجاہد حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ایمان میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور کمی بھی ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الإِيمَانِ،جلد١،ص٥٤،حديث نمبر ٧٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ہمیں بتایا آپ سچے ہیں اور آپ کی تصدیق کی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک تم میں سے کسی اک شخص کا مادہ تخلیق چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں ( نطفے کی شکل میں) رہتا ہے اور پھر وہ اتنے عرصے تک خون کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے اور پھر وہ اتنے عرصے تک گوشت کے ٹکڑے کی شکل میں رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے اسے کہا جاتا ہے: اس کا عمل، اس کا رزق، اس کی زندگی کی مدت اور اس کا بد بخت یا نیک بخت ہونا لکھ (نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں ) اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کوئی شخص عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن تقدیر کا لکھا ہوا اس پر غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جہنم کا سا عمل کرتا ہے اور جہنم میں چلا جاتا ہے۔ اس طرح کوئی شخص اہل جہنم کا سا عمل کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جنت کا سا عمل کرتا ہے اور جنت میں چلا جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٥٥،حديث نمبر ٧٦)
ابن دیلمی بیان کرتے ہیں: تقدیر کے معاملے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن پیدا ہوئی تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے دین اور میرے معاملے کو خراب نہ کر دے تو میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : اے ابوالمنذر میرے دل میں تقدیر کے حوالے سے کچھ الجھن ہے مجھے اپنے دین اور اپنے معاملے کے بارے میں اندیشہ ہوا تو اپ مجھے اس بارے میں کوئی ایسی چیز بتائیے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مجھے نفع عطا کرے تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر اللہ تعالی اسمان میں رہنے والے سب لوگوں اور اگر وہ زمین میں رہنے والے سب لوگوں کو عذاب دے تو وہ ایسی حالت میں انہیں عذاب دے گا کہ وہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں ہوگا اور اگر وہ ان پر رحم کر دے تو اس کی رحمت ان لوگوں کے حق میں ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے اگر تمہارے پاس احد پہاڑ جتنا یا احد پہاڑ کی مانند سونا ہو جسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو یہ تمہاری طرف سے اس وقت تک قبول نہیں ہوگا جب تک تم تقدیر پرایمان نہیں رکھتے تم یہ بات جان لو کہ جو م چیز تمہیں لاحق ہونی ہے وہ تم سے رہ نہیں سکتی اور جو تمہیں لاحق نہیں ہونی ہے وہ تم تک پہنچ نہیں سکتی اگر تم اس کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مرتے ہو تو تم جہنم میں جاؤ گے اور اگر تم میرے بھائی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان سے بات کر لو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا۔ (ابن دیلمی کہتے ہیں) میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے یہ سوال کیا تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ نے جواب دیا تھا، پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا: اگر تم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ تو تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا تو میں حضرت حذیفہ رضی اللہ کے پاس آیا میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا: جو ان دونوں حضرات نے جواب دیا تھا، پھر انہوں نے فرمایا: تم حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے یہ پوچھو۔ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے: اگر اللہ تعالی آسمان میں رہنے والے اور زمین میں رہنے والے سب لوگوں کو عذاب دے تو وہ ایسی حالت میں انہیں عذاب دے گا کہ وہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں ہوگا اور اگر وہ ان پر رحم کر دے تو اس کی رحمت ان لوگوں کے لیے ان کے اپنے اعمال سے زیادہ بہتر ہے اگر تمہارے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) احد پہاڑ کے مانند سونا ہو اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو اللہ تعالی تمہاری طرف سے اسے اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک تم تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے اور یہ بات جان نہیں لیتے کہ جو چیز تمہیں لاحق ہونی ہے وہ تمہیں لاحق ہوئے بغیرنہیں رہ سکتی اور جو چیز تمہیں لاحق نہیں ہونی ہے وہ تم تک پہنچ نہیں سکتی اگر تم اس کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مرتے ہو تو تم جہنم میں داخل ہو گے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٥٦،حديث نمبر ٧٧)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ کے دست مبارک میں ایک چھڑی تھی جس کے ذریعے آپﷺ زمین کو کرید رہے تھے پھر آپﷺ نےاپنا سر مبارک اٹھایا اور ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک شخص کا جنت یا جہنم میں مخصوص ٹھکا نہ لکھا جا چکا ہے ۔ عرض کی گئی: یارسول اللہ ﷺ تو کیا ہم اس پر اکتفا نہ کریں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں تم عمل کرو اس پر اکتفا نہ کرو کیونکہ جس شخص کو جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کے لیے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی ۔(ترجمہ) پس وہ شخص جو (مال) دیتا ہے اور پرہیز گاری اختیار کرتا ہے اور اچھی بات کی تصدیق کرتا ہے ہم اس کے لیے آسانی کو آسان کر دیں گے اور جو شخص بجل اختیار کرتا ہے اور بے نیازی اختیار کرتا ہے اور اچھی بات کی تکذیب کرتا ہے تو ہم اس کے لیے تنگی کو آسان کر دیں گے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٥٧،حديث نمبر ٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: کمزور مومن کے مقابلے میں طاقتور مومن زیادہ بہتر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ ویسے ان دونوں میں ہی بھلائی موجود ہے، جو چیز تمہیں نفع دیتی ہے تم اس کا لالچ کر اور اللہ تعالی سے مدد طلب کرو اور عاجز نہ ہو جاؤ۔ اگر تمہیں کوئی نا پسندیدہ صورتحال لاحق ہوتی ہے تو تم یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسے ایسے کر لیتا ( تو ایسا نہ ہوتا) بلکہ تم یہ کہو کہ یہ اللہ تعالی نے تقدیر مقررکی تھی وہ جو چاہتا ہے ویسا ہی کرتا ہے اس کی وجہ یہ ہے ۔ 'اگر' کہنا شیطان کے کام کا دروازہ کھولتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٥٨،حديث نمبر ٧٩)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان بحث چھڑ گئی حضرت موسی علیہ السلام نے کہا: اے آدم ! آپ ہمارے جد امجد ہیں آپ نے ہمیں رسوا کیا اور جنت میں سے نکلوادیا حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی اللہ تعالی نے آپ کو اپنے کلام کے لئے منتخب کیا اور آپ کے لیے اپنے دست قدرت کے ذریعے ( تو رات کی الواح ) تحریر کیں۔ کیا آپ ایک ایسے معاملے کے بارے میں مجھے ملامت کر رہے ہیں؟ جو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا( نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں) تو حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیم سے جیت گئے ۔ حضرت ادم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام سے جیت گئے ( یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ) (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٥٨،حديث نمبر ٨٠)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک وہ چار چیزوں پر ایمان نہ لائے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ بے شک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ( ﷺ ) ہوں ۔ اللہ تعالی نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اور وہ موت پر اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان لائے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٥٩،حديث نمبر ٨١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی کریم ﷺ کو ایک انصاری لڑکے کی نماز جنازہ کے لیے بلایا گیا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ اس کے لیے مبارکباد ہے کیونکہ یہ جنت کی ایک چڑیا ہے اس نے کوئی برائی نہیں کی اور اسے برائی کرنے کا زمانہ ہی نصیب نہیں ہوا تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! کیا اس کے علا وہ بھی ہے؟ بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے اس کے اہل پیدا کیے ہیں اللہ تعالی نے انہیں اس کے لیے اس وقت پیدا کیا جب وہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کی پشت میں تھے۔اور اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے اس کے اہل پیدا کئے ہیں۔ اللہ تعالی نے ان لوگوں کو اس جہنم کے لیے اس وقت پیدا کیا جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٨٢،حديث نمبر ٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ بیان کرتے ہیں:۔ قریش کے مشرکین تقدیر کے بارے میں بحث کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔(ترجمہ)وہ دن کہ جب انہیں ان کے چہروں کے بل جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ کہا جائے گا جہنم کا ذائقہ چکھ لو۔ بے شک ہم نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے ۔" (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٦٢،حديث نمبر ٨٣)
یحی بن عبد اللہ اپنے والدکا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے سامنے تقدیر سے متعلق کوئی بات ذکر کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص تقدیر کے بارے میں کوئی بات کہے گا اس سے اس بارے میں قیامت کے دن حساب لیا جائے گا اور جو اس کے بارے میں کوئی کلام نہیں کرے گا اس سے اس بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٦٢،حديث نمبر ٨٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک دن نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے وہ لوگ اس وقت تقدیر کے موضوع پر بحث کر رہے تھے تو غضب کی شدت کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کے چہرہ مبارک کی یہ کیفیت ہوئی کہ گویا اس پر انار نچوڑ دیا گیا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "کیا تمہیں اس بات کا ۔ حکم دیا گیا ہے ؟ یا تمہیں اس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے؟ تم لوگ قرآن کے ایک حصے کو دوسرے کے مقابلے میں رکھتے ہو تم سے پہلے کی امتیں اسی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی یہ آرزو نہیں کی کہ میں کسی ایسی محفل سے غیر حاضر ہوں، جس میں نبی کریم ﷺ موجود ہوں، لیکن اس محفل کے بارے میں میں نے یہ آرزو کی تھی کہ کاش میں اس میں موجود نہ ہوتا. (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٦٣،حديث نمبر ٨٥)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " عدوی، طیرہ اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ایک دیہاتی آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا اس نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ اونٹ کے بارے میں آپ ﷺ کی کیا رائے ہے جسے کوئی خارش لاحق ہو تو کیا وہ باقی سب اونٹوں کو خارش کا شکار نہیں کر دیتا ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تقدیر کا فیصلہ ہے ورنہ پہلے کو کس نے خارش کا شکار کیا تھا؟ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٦٤،حديث نمبر ٨٦)
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ عدی بن حاتم (رضی اللہ عنہ ) جب کوفہ آئے تو ہم اہل کوفہ کے چند فقہاء کے ساتھ ان کے پاس گئے، اور ہم نے ان سے کہا : آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، تو وہ کہنے لگے : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا : اے عدی بن حاتم ! اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے ، میں نے پوچھا : اسلام کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور ساری تقدیر پر ایمان لاؤ، چاہے اچھی ہو، بری ہو، میٹھی ہو، کڑوی ہو ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٦٥،حديث نمبر ٨٧)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دل کی مثال اس پر کی طرح ہے جسے ہوائیں میدان میں الٹ پلٹ کرتی رہتی ہیں۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٦٧،حديث نمبر ٨٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : انصار کا ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا : جو اس کے مقدر میں ہوگا وہ اس کے پاس آ کر رہے گا ، کچھ دنوں کے بعد وہ آدمی حاضر ہوا اور کہا : لونڈی حاملہ ہوگئی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٦٧،حديث نمبر ٨٩)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز نہیں بڑھاتی، اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں بدلتی ہے ، اور آدمی گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم کردیا جاتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٦٧،حديث نمبر ٩٠)
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں آیا اس تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو لکھ کر قلم خشک ہوچکا ہے، اور جو جاری ہوچکی ہے ؟ یا ایسے امر کے مطابق ہوتے ہیں جو آگے ہونے والا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، بلکہ اسی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو قلم لکھ کر خشک ہوچکا ہے، اور جو جاری ہوچکی ہے، اور پھر ایک شخص کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق وہی کام آسان کردیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٦٩،حديث نمبر ٩١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں، اگر وہ بیمار پڑجائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو، اگر مرجائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ،بَابٌ في الْقَدَرِ،قضا و قدر (تقدیر) کا بیان،جلد١،ص٦٩،حديث نمبر ٩٢)
Ibne Majah Shareef : Sunnat Ke Bare Me Rewayaat
|
Ibne Majah Shareef : سنت کے بارے میں روایات
|
•