asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Ibne Majah Shareef

Ibne Majah Shareef

Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah

From 93 to 166

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آگاہ رہو ! میں ہر خلیل (جگری دوست) کی دلی دوستی سے بری ہوں، اور اگر میں کسی کو خلیل (جگری دوست) بناتا تو ابوبکر کو بناتا، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل (مخلص دوست ہے)۔ وکیع کہتے ہیں : آپ ﷺ نے ساتھی سے اپنے آپ کو مراد لیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٠،حديث نمبر ٩٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ" قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي نَفْسَهُ.

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 93

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: کسی کے مال نے مجھے اتنا نفع نہیں دیا جتنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مال نے مجھے نفع دیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رو پڑے انہوں نے عرض کی: میں اور میرا مال آپ ﷺ کا ہے۔ (یا رسول اللہ ﷺ ) (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٠،حديث نمبر ٩٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ، مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ"، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: هَلْ أَنَا، وَمَالِي إِلَّا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟.

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 94

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا تھا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما انبیا اور مسلمین کے علاوہ اہل جنت کے پہلے والے اور بعد والے تمام عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہیں ۔ اے علی ! جب تک یہ دونوں زندہ ہیں، تم ان دونوں کو یہ بات نہ بتانا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧١،حديث نمبر ٩٥)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، وَالْآخِرِينَ، إِلَّا النَّبِيِّينَ، وَالْمُرْسَلِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ مَا دَامَا حَيَّيْنِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 95

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلند درجات کے مالک لوگوں کو ( جنت میں) نچلے درجے والے لوگ اس طرح دیکھیں گئے، جس طرح تم آسمان کے افق میں طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو ابوبکر اور عمر بھی ان ( بلند درجات والوں میں شامل ہوں گے ) اور یہ دونوں کتنے اچھے ہیں۔ اس حدیث سے شیخین (حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہا) کے درجات کی بلندی کا علم ہوتا ہے. (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٢،حديث نمبر ٩٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى يَرَاهُمْ مَنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ الطَّالِعُ فِي الْأُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ مِنْهُمْ، وَأَنْعَمَا".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 96

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم میں تم لوگوں کے درمیان اور کتنا عرصہ رہوں گا ؟ میرے بعد ان دو لوگوں کی پیروی کرنا نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی طرف اشارہ کر کے یہ بات فرمائی۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٣،حديث نمبر ٩٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي، وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 97

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ (کی میت ) کو تخت پر رکھا گیا لوگوں نے انہیں گھیر لیا وہ ان کا جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے ان کے لئے دعا کر رہے تھے۔ میں بھی ان میں موجود تھا میرا ذہن اس وقت متوجہ ہوا جب کسی شخص نے میرے کندھے کو پکڑا۔ وہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لئے دعائے رحمت کی اور بولے: آپ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جس کے بارے میں مجھے یہ پسند ہو کہ میں اس کے عمل کی طرح کا عمل لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں ۔ اللہ تعالی کی قسم مجھے یہ امید ہے اللہ تعالی آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ہمراہ رکھے گا کیونکہ مجھے یاد ہے میں نے بکثرت نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں ابو بکر اور عمر گئے، میں ابوبکر اور عمر اندر آئے میں ابوبکر اور عمر باہر گئے۔تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ہمراہ رکھے گا. (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٤،حديث نمبر ٩٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: لَمَّا وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ، اكْتَنَفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ، وَيُصَلُّونَ، أَوْ قَالَ: يُثْنُونَ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ قَدْ زَحَمَنِي، وَأَخَذَ بِمَنْكِبِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، ثُمَّ قَالَ: مَا خَلَّفْتُ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ، إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ أَكْثَرُ أَنْ أَسْمَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ذَهَبْتُ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَكُنْتُ أَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 98

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو آپ کے ایک جانب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دوسری جانب حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: ہمیں ( قیامت کے دن ) اسی طرح مبعوث کیا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٥،حديث نمبر ٩٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَقَالَ:" هَكَذَا نُبْعَثُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 99

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ جنت کے (دنیا میں) پہلے آنے والے یا بعد میں آنے والے تمام عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں البتہ انبیاء اور مرسلین کا حکم مختلف ہے. (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٥،حديث نمبر ١٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ صَالِحُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، وَالْآخِرِينَ، إِلَّا النَّبِيِّينَ، وَالْمُرْسَلِينَ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 100

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عرض کی گئی یارسول اللہﷺ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے نبی کریم نے فرمایا عائشہ عرض کی گئی مردوں میں سے کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس کا والد۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٥،حديث نمبر ١٠١)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ:" عَائِشَةُ"، قِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ:" أَبُوهَا". ڈ

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 101

عبد اللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں آپﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں نے دریافت کیا: پھر اس کے بعد کون تھا؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہے میں نے دریافت کیا پھر اس کے بعد کون تھا؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٦،حديث نمبر ١٠٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ :" أَيُّ أَصْحَابِهِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ؟، قَالَتْ: أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّهُمْ قَالَتْ: عُمَرُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّهُمْ، قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 102

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے عرض کی اے حضرت محمدﷺ آسمان کے رہنے والے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے پر بہت خوش ہیں‌۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٦،حديث نمبر ١٠٣)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ الْحَوْشَبِيُّ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ، نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَقَالَ:" يَا مُحَمَّدُ لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 103

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے حق (یعنی اللہ تعالی) سب سے پہلے عمر رضی اللہ عنہ سے مصافحہ کرے گا اور سب سے پہلے عمر کو سلام کہے گا اور سب سے پہلے عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کرے گا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٧،حديث نمبر ١٠٤)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُهُ الْحَقُّ عُمَرُ، وَأَوَّلُ مَنْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَأْخُذُ بِيَدِهِ، فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 104

سیده عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! بطور خاص عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت عطا کر۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٧،حديث نمبر ١٠٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 105

عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٨،حديث نمبر ١٠٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُول:" خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبُو بَكْرٍ، وَخَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، عُمَرُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 106

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نبی کریمﷺ کے پاس موجود تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا میں نے خود کو جنت میں دیکھا۔ وہاں ایک عورت محل کے ایک کنارے میں وضو کر رہی تھی۔ میں نے دریافت کیا یہ کسکا محل ہے ؟ فرشتوں نے بتایا یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہے تو مجھے تمہارا غصہ یاد آگیا۔ میں وہیں سے واپس آگیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے، وہ بھی حاضرین میں موجود تھے۔ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہﷺ کیا میں آپ پر غصہ کروں گا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٨،حديث نمبر ١٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟، فَقَالَتْ: لِعُمَرَ، فَذَكَرْتَ غَيْرَتَهُ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" فَبَكَى عُمَرُ، فَقَالَ: أَعَلَيْكَ بِأَبِي، وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 107

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالی نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے وہ اس کے مطابق بات کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٩،حديث نمبر ١٠٨)

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 108

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہوگا اور وہاں میرا رفیق عثمان بن عفان ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٧٩،حديث نمبر ١٠٩)

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 109

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریمﷺ مسجد کے دروازے کے قریب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے آپﷺ نے ارشاد فرمایا اے عثمان جبرائیل علیہ السلام مجھے یہ بتا رہے ہیں اللہ تعالٰی نے تمہاری شادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ساتھ طے کر دی ہے اور اس کا مہر وہی ہوگا جو رقیہ کا مہر تھا اس شرط پر(کہ تم نے ام کلثوم کے ساتھ بھی وہی سلوک کرنا ہے جو رقیہ ) کے ساتھ کیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٠،حديث نمبر ١١٠)

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِى الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقِيَ عُثْمَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا عُثْمَانُ" هَذَا جِبْرِيلُ، أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَكَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِمِثْلِ صَدَاقِ رُقَيَّةَ، عَلَى مِثْلِ صُحْبَتِهَا".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 110

حضرت کعب بن عجره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نے فتنے کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ یہ عنقرب رونما ہوگا اسی دوران ایک صاحب وہاں سے گزرے انہوں نے اپنے سر پر کچھ لیا ہوا تھا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:یہ اس دن حق پر ہوگا۔، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رخ کر کے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں یہی ہیں (جو ہدایت پر ہوں گے)“۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨١،حديث نمبر ١١١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى"، فَوَثَبْتُ، فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْ عُثْمَانَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 111

حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے اے عثمان ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی تمہیں قمیص پہنائے اور لوگ اسے اتارنے کی کوشش کریں تو تم اسے نہ اتارنا نبی کریمﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی نعمان نامی راوی کہتے ہیں۔ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا آپ نے لوگوں کو اس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا ؟ انہوں نے جواب دیا میں یہ بھول گئی تھی۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨١،حديث نمبر ١١٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُثْمَانُ إِنْ وَلَّاكَ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ يَوْمًا، فَأَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصَكَ الَّذِي قَمَّصَكَ اللَّهُ، فَلَا تَخْلَعْهُ"، يَقُولُ: ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ النُّعْمَانُ: فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا مَنَعَكِ أَنْ تُعْلِمِي النَّاسَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: أُنْسِيتُهُ وَاللَّهِ.

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 112

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتی ہے اپنی بیماری کے دوران نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری یہ خواہش ہے میرے پاس میرا کوئی ساتھی ہو، ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپﷺ کے پاس بلوالیں تو نبی کریم ﷺ خاموش رہے ہم نے عرض کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آپﷺ کے پاس نہ بلوالیں، تو نبی کریمﷺ خاموش رہے ہم نے عرض کی کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو آپﷺ کے لئے نہ بلوالیں ، نبی کریمﷺ نے فرمایا جی ہاں پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا۔ قیس نامی راوی یہ بیان کرتے ہیں ابو سہلہ نامی راوی نے یہ بات مجھے بتائی ہے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام نے یہ بتایا تھا جس دن حضرت عثمان غنی کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تھا اس دن انہوں نے یہ فرمایا تھا۔ بے شک اللہ کے رسول ﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا جو میں اسے پورا کروں گا۔ علی نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں میں اس پر صبر کروں گا قیس نامی راوی یہ الفاظ نقل کیے ہیں لوگ یہ سمجھتے ہیں وہ احد اسی دن کے بارے میں تھا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،باب:عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٢،حديث نمبر ١١٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ:" وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، فَجَاءَ عُثْمَانُ فَخَلَا بِهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُهُ، وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّر"، قَالَ قَيْسٌ: فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَائِرٌ إِلَيْهِ، وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ:" وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ، قَالَ قَيْسٌ: فَكَانُوا يُرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ.

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 113

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ صرف مومن ہی مجھ سے محبت رکھے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا _ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٣،حديث نمبر ١١٤)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَن عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ لَا يُحِبُّنِي، إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 114

مصعب بن سعد اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی_ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٣،حديث نمبر ١١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَال لِعَلِيٍّ:" أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 115

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے جو حج کیا تھا ہم اس میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ آئے نبی کریم ﷺ نے راستے میں ایک جگہ پر پڑاؤ کیا پھر نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو اکٹھا کرنے کا حکم دیا پھر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا: کیا میں تمام اہل ایمان کے نزدیک ان کی جان سے زیادہ قریب نہیں ہوں لوگوں نے عرض کی ” جی ہاں “ نبی کریم ﷺ نے دریافت کیا _ کیا میں ہر مومن کے نزدیک اس کی اپنی جان سے زیادہ قریب نہیں ہوں “ _ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں ، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” جس شخص کا میں محبوب ہوں یہ بھی اس کا محبوب ہے اے اللہ جو اس سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھتا تو اس سے دشمنی رکھ“ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٤،حديث نمبر ١١٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ، أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ، فَنَزَلَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَمَرَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" فَهَذَا وَلِيُّ مَنْ أَنَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 116

عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں۔ (میرے والد ) حضرت ابو لیلیٰ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کے وقت دیر تک گفتگو کرتے رہتے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ سردی کے موسم میں گرمیوں والے کپڑے پہنتے تھے اور گرمی کے موسم میں سردیوں والے کپڑے پہنتے تھے ہم نے اپنے والد سے کہا: اگر آپ ان سے اس بارے میں دریافت کریں تو مناسب ہوگا ان کے دریافت کرنے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا غزوہ خیبر کے دن نبی کریمﷺ نے مجھے بلوایا مجھے اس وقت آشوب چشم کی شکایت تھی میں نے عرض کی یارسول اللہﷺ مجھے آشوب چشم کی شکایت ہے تو نبی کریمﷺ نے اپنا لعاب دہن میری آنکھوں میں ڈالا پھر آپﷺ نے دعا کی "اے اللہ اس سے گرمی اور سردی کو پرے کر دے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اس کے بعد مجھے بھی گری یا سردی محسوس نہیں ہوئی(اس دن ) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: میں ایسے شخص کو بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسولﷺ اس سے محبت رکھتے ہیں وہ فرار اختیار نہیں کرے گا ۔ لوگ مکمل طور پر نبی کریمﷺ کی طرف متوجہ ہوئے تو نبی کریمﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوابا اور انہیں (لڑنے کا جھنڈا) عطا کیا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٥،حديث نمبر ١١٧)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: كَانَ أَبُو لَيْلَى يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ ، فَكَانَ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ، وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ، فَقُلْنَا: لَوْ سَأَلْتَهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ الْعَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرْمَدُ الْعَيْنِ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ"، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدَ يَوْمِئِذٍ، وَقَالَ:" لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ فَتَشَوَّفَ لَهَا النَّاسُ"، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ.

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 117

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور ان کے ماں باپ ان دونوں سے بہتر ہیں۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٦،حديث نمبر ١١٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 118

حضرت حبشی بن جناده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور میری طرف سے صرف علی ( میرے ذمے والے کام ) ادا کرے گا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٦،حديث نمبر ١١٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا عَلِيٌّ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 119

عباد بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کے رسول ﷺ کا بھائی ہوں اور میں صدیق اکبر ہوں یہ بات میرے بعد صرف وہی شخص کہے گا جو جھوٹا ہوگا میں نے دیگر لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھنا شروع کی تھی۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٧،حديث نمبر ١٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، قَالَ عَلِيٌّ: " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ لا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلا كَذَّابٌ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 120

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حج کرنے کے لیے آئے حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان سے ملنے کے لیے گئے لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کردیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان پر یک تنقید کی اس پر حضرت سعد کو غصہ آگیا اور وہ بولے تم ان صاحب کے بارے میں یہ باتیں کہ رہے ہو جبکہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کا محبوب ہے ۔ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے بھی سنا ہے آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا تم میرے لیے وہی حیثیت رکھتے ہو جو حضرت ہارون کو موسی علیہ السلام کے ساتھ نسبت تھی۔ البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اور میں نے نبی کریمﷺ کہ یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے آج میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٨،حديث نمبر ١٢١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَنَالَ مِنْهُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ، وَقَالَ: تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ"، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي"، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 121

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ جنگ قریظہ کے موقع کی بات ہے، دشمن کی خبر کون مجھ تک لائے گا ؟ حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی میں، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: دشمن کی خبر کون مجھ تک پہنچائے گا؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی میں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کا حواری ہوتا ہے اور میر احواری زبیر ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ الزبیر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٩،حديث نمبر ١٢٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ:" مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ"، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، فَقَالَ:" مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ"، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا ثَلَاثًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 122

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوۂ احد کے دن نبی کریم ﷺ نے میرے لئے اپنے ماں باپ کو اکٹھا کیا تھا (یعنی یہ فرمایا تھا میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں) (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ الزبیر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٨٩،حديث نمبر ١٢٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ الزُّبَيْرِ ، قَالَ:" لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 123

ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: اے عروہ تمہارے دادا اور نانا ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ ارشاد باری تعالی ہے۔(ترجمہ) یہ وہ لوگ ہیں جنہیں زخم لاحق ہوئے اور اس کے بعد بھی انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بلانے پر لبیک کہا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ تھے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ الزبیر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٠،حديث نمبر ١٢٤)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَهَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: " يَا عُرْوَةُ كَانَ أَبَوَاكَ مِنْ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ سورة آل عمران آية 172: أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 124

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ ایک شہید ہے جوز مین پر چل رہا ہے( یعنی یہ آگے جا کر شہید ہوگا) (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ طلحۃ بن عبیداللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٠،حديث نمبر ١٢٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ طَلْحَةَ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" شَهِيدٌ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 125

حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور یہ ارشارفرمایا یہ ان لوگوں میں سے ایک ہے جنہوں نے اپنے کئے ہو عہد کو پورا کیا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ طلحۃ بن عبیداللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩١،حديث نمبر ١٢٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَلْحَةَ، فَقَالَ:" هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 126

موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ارشاد فرمایا: میں گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ ان لوگوں میں سے ایک ہے جنہوں نے اپنی نذر کو پورا کیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ طلحۃ بن عبیداللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٢،حديث نمبر ١٢٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْحَاق ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 127

قیس بیان کرتے ہیں۔ میں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے شل ہاتھ کو دیکھا ہے جس کے ذریعے انہوں نے غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریم ﷺ کا بچاو کیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ طلحۃ بن عبیداللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٢،حديث نمبر ١٢٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 128

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے ماں باپ کو جمع کیا ہو (یعنی کسی اور کے بارے میں یہ فرمایا ہو ( میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں) نبی کریم ﷺ نے غزوۂ احد کے دن حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ فرمایا تھا اے سعد رضی اللہ عنہ تیراندازی کرو میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ سعد بن ابی وقاص رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٢،حديث نمبر ١٢٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ:" ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 129

سعید بن مسیب کہتے ہیں میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، غزوۂ احد کے دن نبی کریم ﷺ نے میرے لئے اپنے ماں باپ کو اکٹھا کیا تھا (یعنی یہ فرمایا تھا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں) آپ ﷺ نے فرمایا تھا: اے سعد رضی اللہ عنہ تم تیراندازی کر میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ سعد بن ابی وقاص رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٣،حديث نمبر ١٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ:" ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 130

قیس بیان کرتے ہیں میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ میں پہلا عرب شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیراندازی کی تھی۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ سعد بن ابی وقاص رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٣،حديث نمبر ١٣١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَخَالِي يَعْلَى ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ:" إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 131

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ۔ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جس دن میں نے اسلام قبول کیا اس دن کسی نے نہیں قبول کیا تھا میں سات دن اسی حالت میں رہا اور میں اسلام قبول کرنے والا تیسرا شخص تھا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ سعد بن ابی وقاص رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٤،حديث نمبر ١٣٢)

حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولَ، قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ :" مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَإِنِّي لَثُلُثُ الْإِسْلَامِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 132

حضرت زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ دس آدمیوں میں سے دسوے تھے پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ابوبکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، عبدالرحمٰن جنت میں ہیں“، حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے دریافت کیا گیا نواں آدمی کون ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا ؛میں۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ فَضَائِلِ الْعَشَرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب،جلد١،ص٩٤،حديث نمبر ١٣٣)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْل ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ، فَقَالَ:" أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ"، فَقِيلَ لَهُ: مَنِ التَّاسِعُ؟ قَالَ:" أَنَا".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 133

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سناہے ؛حرا؛ اپنی جگہ پر رہو تم پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔ پھر نبی کریمﷺ نے ان کی گنتی کروائی۔ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر ، سعد، عبدالرحمن بن عوف اور سعید بن زید ( جنتی ہیں ) (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ فَضَائِلِ الْعَشَرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب،جلد١،ص٩٥،حديث نمبر ١٣٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" اثْبُتْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، وَعَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَابْنُ عَوْفٍ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 134

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اہل نجران نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: آپ ﷺ ہمارے ساتھ ایک امین شخص کو بھیج دیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایک ایسے امین شخص کو بھیجوں گا جو واقعی امین ہوگا لوگوں نے سراٹھا کر دیکھنا شروع کیا تو نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٥،حديث نمبر ١٣٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ:" سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ"، قَالَ: فَتَشَوَّفَ لَهَا النَّاسُ،" فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 135

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا تھا۔ یہ اس امت کا امین ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٦،حديث نمبر ١٣٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ:" هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 136

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے اگر میں نے مشورہ لیے بغیر کسی کو خلیفہ (امیر) مقرر کرنا ہوتا تو ابن ام عبد (یعنی حضرت عبداللہ بن مسود رضی اللہ عنہ ) کو خلیفہ (امیر) مقرر کردیتا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٧،حديث نمبر ١٣٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 137

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ خوشخبری دی تھی کہ نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، جو شخص یہ بات پسند کرتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی طریقے سے پڑھے جس طرح وہ نازل ہوا ہے تو اسے ابن ام عبد (یعنی حضرت عبداللہ بن مسعودی کی قرأت کے مطابق ) تلاوت کرنا چاہیے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔،جلد١،ص٩٧،حديث نمبر ١٣٨)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 138

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے یہ فرمایا تمہارے لیے میری طرف سے یہ اجازت ہے کہ تم پردہ اٹھا کر) اندر آسکتے ہو) اور میری راز کی بات سن سکتے ہو لیکن یہ اجازت اس وقت تک ہے جب تک میں تمہیں منع نہیں کردیتا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،باب فی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٤،حديث نمبر ١٣٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ، وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 139

حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے پاس آئے وہ پہلے بات چیت کر رہے تھے( ہمیں دیکھ کر ) انہوں نے اپنی بات چیت منقطع کر دی ہم نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے وہ آپس میں بات چیت کر رہے ہوتے ہیں پھر جب وہ میرے اہل بیت میں سے کسی شخص کو دیکھتے ہیں توبات چیت کو منقطع کر دیتے ہیں اللہ کی قسم کسی بھی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک داخل نہیں ہوگا جب تک وہ اہل بیت کے ساتھ اللہ تعالی کی رضا کے لیے اور ان کے ساتھ میری رشتے داری کی وجہ سے ان سے محبت نہیں کرے گا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٩،حديث نمبر ١٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: كُنَّا نَلْقَى النَّفَرَ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فَيَقْطَعُونَ حَدِيثَهُمْ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَحَدَّثُونَ، فَإِذَا رَأَوْا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ، وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّهُمْ لِلَّهِ، وَلِقَرَابَتِهِمْ مِنِّي".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 140

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے بے شک اللہ تعالٰی نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے جس طرح اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا تھا تو قیامت کے دن جنت میں میرے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ٹھہرنے کی جگہ آمنے سامنے ہوگی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان میں ہوں گے جس طرح دو دوستوں کے درمیان ایک مومن ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص٩٩،حديث نمبر ١٤١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، فَمَنْزِلِي وَمَنْزِلُ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُجَاهَيْنِ، وَالْعَبَّاسُ بَيْنَنَا مُؤْمِنٌ بَيْنَ خَلِيلَيْنِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 141

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ ﷺ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا۔ اے اللہ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت رکھتا ہو اس سے بھی محبت رکھ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنے سینے کے ساتھ لپٹا لیا تھا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٠،حديث نمبر ١٤٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، نَبَّأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْحَسَنِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ"، قَالَ:" وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 142

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص حسن (رضی اللہ عنہ) اور حسین(رضی اللہ عنہ) سے محبت رکھتا ہے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو شخص انہیں ناپسند کرتا ہے وہ مجھے ناپسند کرتا ہے، (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠١،حديث نمبر ١٤٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ أَبِي الْحَجَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 143

حضرت یعلی بن مره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک کھانے میں شریک ہوئے جس کی دعوت نبی کریم ﷺ کودی گئی تھی وہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ گلی میں کھیل رہے تھے راوی کہتے ہیں نبی کریم ﷺ لوگوں سے آگے بڑھے اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیئے (تا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو پکڑیں) تو وہ ادھر سے ادھر بھاگنے لگے۔ نبی کریم ﷺ انہیں ہنسا رہے تھے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں پکڑ لیا پھر نبی کریم ﷺ نے اپنا ایک دست مبارک ان کی ٹھوڑی کے بیچ رکھا اور دوسر دست مبارک ان کے سر کے او پر رکھا اوران کا بوسہ لیا اور ارشاد فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں اللہ تعالی اس شخص سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھتا ہے حسین واقعی ہی نواسہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠١،حديث نمبر ١٤٤)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي السِّكَّةِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ وَبَسَطَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَفِرُّ هَهُنَا وَهَهُنَا وَيُضَاحِكُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَخَذَهُ فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ، وَالْأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ:" حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 144

صبیح جو حضرت سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں حضرت زید بن ارقم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے یہ ارشاد فرمایا: میں اس کے ساتھ صلح کروں گا جن کے ساتھ تم صلح کروگے اور میں اس شخص کے ساتھ جنگ کروں گا جس کے ساتھ تم جنگ کرو گے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٢،حديث نمبر ١٤٥)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ أَنَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 145

حضرت علی‌ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹا ہوا تھا۔ عمار بن یاسر نے نبی کریم ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے اندر آنے کے لئے کہو پاک شخصیت اور پاک خصلت والے شخص کو خوش آمدید۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عمار بن یاسر، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٣،حديث نمبر ١٤٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 146

حضرت ہانی بن ہانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمار رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس شخص کو خوش آمدید جو پاک اور پاکیزہ ہیں(حضرت علی نے بتایا) میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: عمار کی ہڈیوں میں ایمان بھرا ہوا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عمار بن یاسر، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٣،حديث نمبر ١٤٧)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَمَّارٌ عَلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 147

سیده عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا عمار کو جب بھی دو معاملات کے بارے میں اختیار دیا گیا تو اس نے اس کو اختیار کیا جو زیادہ بہتر ہو۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ عمار بن یاسر، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٤،حديث نمبر ١٤٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ حَبيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَمَّارٌ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 148

ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے چارلوگوں کے ساتھ محبت کرنے کی حکم دیا ہے اور اس نے مجھے یہ بتایا ہے وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے۔ عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ ان کے نام ہمیں بتائیے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا علی رضی اللہ عنہ ان میں سے ایک ہے۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی (اور پھر یہ نام لیے ) ابوذر مقداد اور سلمان ۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ سَلْمَانَ وَأَبِي ذَرٍّ وَالْمِقْدَادِ، سلمان، ابوذر اور مقداد رضی اللہ عنہم کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٤،حديث نمبر ١٤٩)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ"، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ؟ قَالَ:" عَلِيٌّ مِنْهُمْ"، يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا:" وَأَبُو ذَرٍّ، وَسَلْمَانُ، وَالْمِقْدَادُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 149

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سب سے پہلے سات افراد نے اپنے اسلام کو ظاہر کیا نبی کریم ﷺ ،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ ،ان کی والدہ سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ جہاں تک نبی کریم ﷺ کا تعلق ہے تو اللہ تعالی نے ان کے چچا جناب ابو طالب کی وجہ سے انہیں محفوظ رکھا جہاں تک حضرت ابوکر رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی وجہ سے انہیں محفوظ رکھا جہاں تک باقی افراد کا تعلق ہے تو انہیں مشرکین نے پکڑ لیاوہ انہیں لوہے کی زرہیں پہنا دیتے تھے اور انہیں تپتی دھوپ میں چھوڑ دیتے تھے۔ان میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی حوالے سے وہ کام کیا جو وہ لوگ چاہتے تھے سوائے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنے آپ کو بے حیثیت کردیا تھا اور اپنی قوم کے افراد کے لیے بھی بے حیثیت ہو گئے تھے وہ مشرکین انہیں پکڑ کر انہیں اپنے بچوں کے سپرد کر دیتے تھے اور وہ بچے انہیں مکہ کی گھاٹیوں میں گھماتے تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ احد ,احد کہتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ:بَابُ: فَضَائِلِ بِلاَلٍ،حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٥،حديث نمبر ١٥٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمْ الْمُشْرِكُونَ، وَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ، وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا، إِلَّا بِلَالًا فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ فَأَخَذُوهُ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِ فِي شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ: أَحَدٌ أَحَدٌ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 150

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ پاک کی راہ میں مجھے جتنی اذیت دی گئی ہے اتنی کسی کو اذیت نہیں دی گئی ۔اللہ پاک کی راہ میں مجھے جتنا خوفزدہ کیا گیاہے اتنا اور کسی کو کیا گیااور مجھ پر تیس دن ایسے بھی گزرے ہیں کہ جب میرے اور بلال کے لیے اتنا بھی کھانا نہیں تھا کہ اسے کوئی روح کھا سکے ماسوائے اس چیز کے جو بلال کی بغل میں آجاتی۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ:بَابُ: فَضَائِلِ بِلاَلٍ،حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٦،حديث نمبر ١٥١)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ، وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ، وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَالِثَةٌ، وَمَا لِي وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا مَا وَارَى إِبِطُ بِلَالٍ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 151

سالم بیان کرتے ہیں ایک شاعر نے بلال بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے یہ شعر کہا " بلال بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلال نامی سب لوگوں میں سے بہتر ہیں تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : تم نے جھوٹ کہا ہے ایسا نہیں ہے بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلال نامی لوگوں میں سے سب بہتر تھے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ:بَابُ: فَضَائِلِ بِلاَلٍ،حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٥،حديث نمبر ١٥٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمٍ : أَنَّ شَاعِرًا مَدَحَ بِلَالَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " كَذَبْتَ لَا، بَلْ بِلَالُ رَسُولِ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 152

ابو لیلی کندی بیان کرتے ہیں حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوے تو انہوں نے فرمایا آپ قریب ہو جائیں کیونکہ اس محفل میں میرے قریب ہونے کے) آپ سے زیاده حقدار صرف عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں پھر حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی پشت پر موجود وہ نشان دکھائےجو مشرکین انہیں تکلیف دیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم:بَابُ فَضَائِلِ خَبَّاب. حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔،جلد١،ص١٠٦،حديث نمبر ١٥٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: جَاءَ خَبَّابٌ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ:" ادْنُ فَمَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْمَجْلِسِ مِنْكَ إِلَّا عَمَّارٌ، فَجَعَلَ خَبَّابٌ يُرِيهِ آثَارًا بِظَهْرِهِ مِمَّا عَذَّبَهُ الْمُشْرِكُونَ ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 153

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے میری امت میں میری امت کے لیے سب سے زیاده رحم کرنے والا ابوبکر ہے اور میری امت میں سب سے سخت عمر، بے حیاء کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے اور سب بہترین فیصلہ کرنے والا على ہے ۔۔ اللہ کی کتاب کی سب سے اچھی قراءت کرنے والا ابي بن كعب ہے۔۔ حلال اور حرام کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا معاذ بن جبل ہے ۔۔ وراثت سے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنے والا زير بن ثابت ہے اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اس امت کا امین ابو عبيده بن جراح ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم:بَابُ فَضَائِلِ خَبَّاب. حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔،جلد١،ص١٠٧،حديث نمبر ١٥٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ"،

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 154

ایک اور سند سے حدیث نمبر ١٥٤ کے مثل مروی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم:بَابُ فَضَائِلِ خَبَّاب. حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔،جلد١،ص١٠٨،حديث نمبر ١٥٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، مِثْلَهُ عِنْدَ ابْنِ قُدَامَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ فِي حَقِّ زَيْدٍ:" وَأَعْلَمُهُمْ بِالْفَرَائِضِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 155

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی کریمﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ابوذر سے زیادہ سچے کسی شخص پر آسان نے سایہ نہیں کیا اور زمین نے اسے اٹھایا نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ فضل ابی ذر،حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٨،حديث نمبر ١٥٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ، وَلَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْ أَبِي ذَرٍّ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 156

حضرت براء بن عازب رضی تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک کپڑا بیش کیا گیالوگ اسے ہاتھوں میں لے کر اس کی خوبصورتی اور نرمی پر حیرا نگی کا اظہار کرنے لگے ۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس پر حیرا نگی کا اظہار کررہے ہو ؟ تو لوگوں نے غرض کی یارسول اللہ جی ہاں ۔ نبی كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جنت میں سعد کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ،حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٨،حديث نمبر ١٥٧)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَةٌ مِنْ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَدَاوَلُونَهَا بَيْنَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا؟ فَقَالُوا لَهُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 157

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سعد بن معاذ کے مر نے پر عرش جھوم اٹھا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ،حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١٠٩،حديث نمبر ١٥٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اهْتَزَّ عَرْشُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 158

حضرت جرير بیان کرتے ہیں جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حجاب نہیں کیا اور آپ ہمیشہ مجھے دیکھ کر مسکرا دیتے تھے میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی عرض کی میں گھڑے پر سیدھی طرح نہیں بیٹھ سکتا تھا ۔۔ آپ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور دعا کی اے اللہ اسے ثابت رکھ اور اسے ہادی اور مہدی بنا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ:فَضْلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ::جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١١٠،حديث نمبر ١٥٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي، وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 159

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام یا کوئی اور فرشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی آپ لوگ اپنے درمیان ان لوگوں کو کیا سمجھتے ہیں جو غزه بدر میں شریک ہوچکے ہوں ؟ لوگوں نے جواب دیا ہم انہیں اپنے میں سے سب سے بہتر سمجھتے تو اس فرشتے نے کہاکہ ہمارے نزدیک وہ ایسے ہی ہیں ہم انہیں فرشتوں سے بہتر سمجھتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ:فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ،اہل بدر کے مناقب و فضائل،جلد١،ص١١٠،حديث نمبر ١٦٠)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ أَوْ مَلَكٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا تَعُدُّونَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فِيكُمْ"، قَالُوا: خِيَارَنَا، قَالَ:" كَذَلِكَ هُمْ عِنْدَنَا خِيَارُ الْمَلَائِكَةِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 160

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے میرے اصحاب کو برانہ کہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم میں سے اگر کوئی ایک شخص احد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے تو یہ ان میں سے کسی ایک کے ایک مدبلکہ نصف مد کے برابر نہیں ہو سکتا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،فضائل الصحابۃ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ،جلد١،ص١١١،حديث نمبر ١٦١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 161

حضرت عبدا اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : حضرت محمد صلى اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو برا نہ کہوکہ ان کا ایک گھڑی کے لیے کھڑے ہونا تم میں سے کسی ایک کی زندگی بھر کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے ۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،فضائل الصحابۃ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ،جلد١،ص١١٢،حديث نمبر ١٦٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ:" لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمُقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 162

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص انصار سے محبت رکھے اللہ پاک اس سے محبت رکھے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :بَابُ: فَضَائِلِ الأَنْصَارِ، انصار رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب،جلد١،ص١١٢،حديث نمبر ١٦٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ"، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِعَدِيٍّ: أَسَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَ.

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 163

عبد المهيمن بن عباس اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا حضرت سهل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے انصار لباس کا اندرونی حصّہ ہیں اور دوسرے بیرونی حصہ ہیں اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں جائیں اور انصار دوسری وادی میں جائیں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :بَابُ: فَضَائِلِ الأَنْصَارِ، انصار رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب،جلد١،ص١١٣،حديث نمبر ١٦٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْأَنْصَارُ شِعَارٌ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ اسْتَقْبَلُوا وَادِيًا، أَوْ شِعْبًا، وَاسْتَقْبَلَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَءًا مِنَ الْأَنْصَارِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 164

كثير بن عبد اللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ پاک انصار پر، انصار کے بچوں پر، انصار کے بچوں کے بچوں پر رحم کرے۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :بَابُ: فَضَائِلِ الأَنْصَارِ، انصار رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب،جلد١،ص١١٤،حديث نمبر ١٦٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ الْأَنْصَارَ، وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 165

عکرمہ حضرت ابن عباس کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینےسے لگایا اور دعا کی:اے اللہ اسے حکمت اور قرآن کی تفسیر کا علم عطا کر۔ (سنن ابن ماجہ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم،بَابُ: فَضْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ،حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل۔،جلد١،ص١١٤،حديث نمبر ١٦٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ضَمَّنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ وَتَأْوِيلَ الْكِتَابِ".

Ibne Majah Shareef, Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah , Hadees No. 166

Ibne Majah Shareef : Baabu Fi Fazayil e As'habi Rasoolillah

|

Ibne Majah Shareef : باب فی فضائل اصحاب رسول اللہ

|

•