asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Ibne Majah Shareef

Ibne Majah Shareef

Abwabus Sunnati

From 167 to 266

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے خوارج کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بات بیان کی ان میں ایک ایسا شخص ہو گا جس کا ایک ہاتھ (یعنی ایک بازو ) چھوٹا ہوگا ۔۔ یہاں راوی کو شک ہے کہ لفظ ''مخرج'' مودون، مثدون ''(ان میں سے کوئی ایک لفط استعمال ہوا‌ ہے ' تاہم ان سب کامفہوم ایک ہی ہے) پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر تم خودپسندی کا شکار نہ ہوجاؤ تو میں تمہیں یہ بات بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے ساتھ کیا وعدہ کیا ہے راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا : کیاآپ خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ تو انہوں نے تین مرتبہ یہ فرمایا جی ہاں ! رب کعبہ کی قسم ! (سنن ابن ماجہ،بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ،خوارج کا بیان،جلد١،ص١١٥،حديث نمبر ١٦٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّة ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: وَذَكَرَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ:" فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدَنُ الْيَدِ، وَلَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِي، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 167

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جن کی عمریں کم ہوگی اور عقل نہیں ہو گی وہ سب سے بہترین(یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے) اقوال بیان کریں گے ' لیکن وہ اسلام سے یوں باہر نکل جائیں گے جیسے تیر شکار (کے پار) ہوجاتاہے تو جس شخص کاان سے سامنا ہو وہ ان سے جنگ کرے گا'اسے اللہ پاک کی بارگاہ میں ان کے ساتھ لڑنے کا ثواب ملےگا۔ (سنن ابن ماجہ،بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ،خوارج کا بیان،جلد١،ص١١٦،حديث نمبر ١٦٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ النَّاسِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَمَنْ لَقِيَهُمْ فَلْيَقْتُلْهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ عِنْدَ اللَّهِ لِمَنْ قَتَلَهُمْ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 168

ابو سلمہ نامی راوی بیان کرتےہیں : میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا :کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خارجیوں کے بارے میں کچھ ارشاد فرماتے ہوے سنا ہے ؟ تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کا تذکرہ کیا تھا جو اتنے عبادت گزار ہوں گے کہ تم لوگ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں اور ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کوہیچ سمجھو گے وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے آدمی اس تیر کو پکڑتا ہے کے پھل کو دیکھتا ہے تو اسے وہاں کچھ نظر نہیں آتا اس کےپر لپٹے ہوئے پٹھے دیکھتا ہے تو وہاں بھی کوئی چیز نظر نہیں آتی بغیر پر والے تیر کو دیکھتا ہے تو وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا ۔۔پھر وہ اس کے پروں کو دیکھتا ہے تو اسے شک گزرتا ہے کہ کیا اس نے کچھ دیکھا ہے یا نہیں۔ (سنن ابن ماجہ،بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ،خوارج کا بیان،جلد١،ص١١٧،حديث نمبر ١٦٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا؟، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ" قَوْمًا يَتَعَبَّدُونَ، يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصَوْمَهُ مَعَ صَوْمِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي رِصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي قِدْحِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى، هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَا؟".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 169

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےیہ بات ارشاد فرمائی ہے : میرے بعد میری امت میں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) عنقریب میرے بعد میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے اور پھر دوبارہ دین میں واپس نہیں آئیں گے وہ ساری مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے ۔۔عبداللہ بن صامت نامی راوی بیان کرتےہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ حضرت رفع بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا جو حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی ہیں' تو انہوں نے بتایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ،خوارج کا بیان،جلد١،ص١١٨،حديث نمبر ١٧٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي، أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ، هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو ، أَخِي الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، فَقَالَ: وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 170

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میری امت کے کچھ لوگ قرآن ضرور پڑھیں گے لیکن وہ اسلام سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے ۔۔ (سنن ابن ماجہ،بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ،خوارج کا بیان،جلد١،ص١١٨،حديث نمبر ١٧١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 171

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ کے مقام پر موجود تھے اور آپ سونے کے ٹکڑے اور مال غنیمت تقسیم کر رہے تھےجو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جھولی میں موجود تھے ایک شخص بولا:اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم عدل سے کام لیجیے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عدل سے کام نہیں لے رہے 'نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تمہارا ستیاناس ہو میں عدل سے کام نہیں لوں گا تو میرے بعد کون عدل سے کام لے گا؟حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کا گردن اڑادوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے کچھ ایسے ساتھی بھی ہوں گے جو قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ،خوارج کا بیان،جلد١،ص١١٩،حديث نمبر ١٧٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ التِّبْرَ وَالْغَنَائِمَ، وَهُوَ فِي حِجْرِ بِلَالٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ، فَقَالَ:" وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ بَعْدِي إِذَا لَمْ أَعْدِلْ"، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا فِي أَصْحَابٍ، أَوْ أُصَيْحَابٍ لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 172

حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں 'نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ``خوارج جہنم کے کتے ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ،بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ،خوارج کا بیان،جلد١،ص١١٩،حديث نمبر ١٧٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَوَارِجُ كِلَابُ النَّارِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 173

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا جب بھی ان کا کوئی ایک گروہ ظاہر ہوگا 'تو اسے ختم کر دیا جائے گا ۔۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب بھی ان کا گروہ ظاہر ہوگا ' اسے ختم کر دیا جائے گا ۔۔ میں نے بیس مرتبہ سے زیادہ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی یہاں تک کہ انہی آخری حصہ میں دجال ظاہر ہوگا ۔۔ (سنن ابن ماجہ،بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ،خوارج کا بیان،جلد١،ص١٢٠،حديث نمبر ١٧٤)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَنْشَأُ نَشْءٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ"، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ" أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً،" حَتَّى يَخْرُجَ فِي عِرَاضِهِمُ الدَّجَّالُ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 174

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے "آخری زمانے میں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)اس امت میں ایک قوم آئے گی جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا (یہاں ایک لفط کے بارے میں راوی کو شک ہے)ان کا مخصوص علامتی نشان سر منڈا ہوگا جب تم انہیں دیکھو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)جب تمہارا ان سے سامنا ہو تو تم انہیں قتل کردو ۔۔ (سنن ابن ماجہ،بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ،خوارج کا بیان،جلد١،ص١٢١،حديث نمبر ١٧٥)

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، أَوْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ أَوْ حُلْقُومَهُمْ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ، أَوْ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 175

ابو غالب بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ خوارج آسمان کے نیچے سب سے بدترین مقتول ہیں اور سب سے بہترین مقتول وہ ہیں جو ان کے ہاتھوں شہید ہوئے یہ پہلے مسلمان تھے پھر کافر ہو گئے۔ابوغالب بیان کرتےہیں : میں نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا : آپ خود یہ بات کہتے ہیں؟تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ،بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ،خوارج کا بیان،جلد١،ص١٢١،حديث نمبر ١٧٦)

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، يَقُولُ:" شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، وَخَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ، قَدْ كَانَ هَؤُلَاءِ مُسْلِمِينَ فَصَارُوا كُفَّارًا"، قُلْتُ يَا أَبَا أُمَامَةَ: هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ، قَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 176

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات میں چاند کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا:بے شک تم لوگ عنقریب اپنے پروردگار کی اس طرح زیارت کروگے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو تمہیں اسے دیکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی اگر تم سے ہو سکے تو تم سورج طلوع ہونے سے پہلے والی نماز اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز کے حوالے سے مغلوب نہ ہو جانا ۔۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی، (ترجمہ)سورج کے نکلنے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے تم اپنے پروردگار کی حمد اور پاکی بیان کرو۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٢،حديث نمبر ١٧٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، وَوَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا" ثُمَّ قَرَأَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 177

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتےہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ''تم لوگ چودھویں رات میں چاند کو دیکھنے میں کسی مشکل کا شکار ہو تے ہو ؟لوگوں نے عرض کی : جی نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسی طرح تم لوگ قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھنے میں کسی مشکل کا شکار نہیں ہوگے۔۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٣،حديث نمبر ١٧٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَكَذَلِكَ لَا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 178

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے ؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :عین دوپہر کے وقت جب بادل نہ ہوں'توکیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں مشکل محسوس ہوتی ہے ؟ہم نے عرض کی: جی نہیں ' تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب بادل نہ ہوں ' تو چودھویں رات میں چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل ہوتی ہے ؟انہوں نے عرض کی : جی نہیں ' تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے پروردگار کو دیکھنے میں اسی طرح کوئی مشکل محسوس نہیں کروگے جس طرح تمہیں ان دونوں کو دیکھنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٤،حديث نمبر ١٧٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ:" تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ"، قُلْنَا: لَا، قَالَ:" فَتَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" إِنَّكُمْ لَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 179

حضرت ابورزین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہر ایک اللہ پاک کا دیدار کرے گا ؟ اللہ کی مخصوص نشانی کیا ہوگی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابورزین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا تم سےہر ایک شخص خالی چاند کو نہیں دیکھا (یعنی اس وقت جب بادل نہ ہوں) راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی : جی ہاں ' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ پاک تو بڑا ہے اور یہ اس کی مخلوق میں اس کی صرف ایک نشانی ہے ۔۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٤،حديث نمبر ١٨٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُلُّنَا يَرَى للَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ:" يَا أَبَا رَزِينٍ أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مُخْلِيًا بِهِ"؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَاللَّهُ أَعْظَمُ وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 180

حضرت ابورزین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ہمارا پروردگار اپنے بندوں کے (اپنی ذات سے مایوس ہونے اور اپنے علاوہ دوسرے کے قریب ہونے پر ہنس دیتاہے) راوی بیان کرتےہیں میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا پروردگار بھی ہنستا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جی ہاں ' تومیں نے عرض کی : ہم ایسے پروردگار سے بھلائی حاصل کرنے میں محروم نہیں رہیں گے جو ہنس بھی دیتا ہے (یعنی وہ صرف غصے والا ہی نہیں ہے)۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٥،حديث نمبر ١٨١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ضَحِكَ رَبُّنَا مِنْ قُنُوطِ عِبَادِهِ وَقُرْبِ غِيَرِهِ"، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ يَضْحَكُ الرَّبُّ؟، قَالَ:" نَعَمْ" قُلْتُ: لَنْ نَعْدِمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 181

حضرت ابو زرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے دریافت کیا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ہمارا پروردگار کہاں تھا ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک بادل میں تھا جس کے نیچے بھی خلاء تھی ، اس کے اوپر بھی خلاء تھی اور اس نے اپنے عرش کو پانی پر پیدا کیا۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٦،حديث نمبر ١٨٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ:" كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ، وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ، ثَمَّ خَلْقٌ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 182

صفوان بیان کرتے ہیں، ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ ایک شخص سامنے آیا اور بولا : آپ نے سرگوشی کے بارے میں نبی کریم ﷺ کو کیا ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالی مومن کو اپنے قریب کرے گا اسے اپنی خاص رحمت میں ڈھانپ کر چھپالے گا اور دریافت کرے گا، کیا تم فلاں گناہ کو پہچانتے ہو؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں ! اے میرے پروردگار ! جب وہ اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کرے گا اور ذہن میں یہ سوچے گا کہ اب وہ ہلاکت کا شکار ہو گیا ہے)۔ اللہ تعالی فرمائے گا: میں نے دنیا میں ان پر پردہ رکھا تھا اور آج میں ان سب کو بخش دیتا ہوں تو اس شخص کو اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی۔ جہاں تک کافر اور منافق کا معاملہ ہے تو ان سے ساری مخلوق کے سامنے حساب لے گا۔ خالد نامی راوی بیان کرتے ہیں لفظ " اشہاد میں کچھ انقطاع پایا جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی خبردار ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٧،حديث نمبر ١٨٣)

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي النَّجْوَى؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ ثُمَّ يُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ، فَيَقُولُ:" هَلْ تَعْرِفُ"، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَعْرِفُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ، قَالَ:" إِنِّي سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ"، قَالَ:" ثُمَّ يُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ، أَوْ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ"، قَالَ:" وَأَمَّا الْكَافِرُ، أَوِ الْمُنَافِقُ فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ"، قَالَ خَالِدٌ: فِي الْأَشْهَادِ شَيْءٌ مِنَ انْقِطَاعٍ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ سورة هود آية 18.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 183

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے اسی طرح ان کے سامنے ایک نور ظاہر ہوگا وہ لوگ اپنے سر اٹھائیں گے تو ان کا پروردگار ان کے اوپر سے ان کی طرف تجلی ظاہر کر رہا ہوگا وہ فرمائے گا اے اہل جنت تم پر سلام ہو ۔( نبی کریم ﷺ یا راوی کہتے ہیں ) اللہ تعالٰی کے اس فرمان سے یہ مراد ہے جو قرآن میں مذکور ہے سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ مہربان رب کی طرف سے فرمایا ہوا سلام ہوگا۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: اللہ تعالی انہیں دیکھے گا اور وہ لوگ اس کی طرف دیکھیں گے اس وقت وہ اپنی جنت میں سے کسی چیز کی طرف بھی توجہ نہیں کریں گے جب تک وہ اس کی طرف دیکھتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ وہ ان سے پردہ کرلے گا البتہ اس کا نور اور اس کی برکت ان لوگوں پر ان کے گھروں میں باقی رہے گی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٧،حديث نمبر ١٨٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ سَلامٌ قَوْلا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ سورة يس آية 58 قَالَ: فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَلَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ عَنْهُمْ وَيَبْقَى نُورُهُ وَبَرَكَتُهُ عَلَيْهِمْ فِي دِيَارِهِمْ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 184

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: قیامت کے دن اللہ تعالی تم میں سے ہر ایک شخص کے ساتھ براہ راست کلام کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اور اس بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا ۔ پھر وہ بندہ دیکھے گا اسے اپنے آگے، دائیں بائیں کوئی چیز نظر نہیں آئے گی پھر وہ اپنے سامنے آگ کو پائے گا اور تم میں سے جو شخص اس سے بچ سکتا ہو وہ اس سے بچے خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے بچے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٨،حديث نمبر ١٨٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ عَنْ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ أَيْسَرَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَمَامَهُ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 185

ابوبکر بن عبداللہ اپنے والد (حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: دو جنتیں ایسی ہیں جن کے برتن چاندی کے ہیں اور ان میں موجود ہر چیز چاندی کی ہے اور دو جنتیں ایسی ہیں جن کے برتن سونے کے ہیں اور ان میں موجود ہر چیز سونے کی ہے۔ لوگوں اور ان کے پروردگار کی زیارت کرنے کے درمیان صرف کبریائی کی چادر ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر جنت عدن میں ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٩،حديث نمبر ١٨٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 186

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی ۔(ترجمہ) جن لوگوں نے اچھائی کی ان کے لیے اچھائی ہے اور مزید ( انعام بھی ہے ) ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب اہل جنت جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گئے تو ایک اعلان کرنے والا یہ اعلان کرے گا اے اہل جنت اللہ تعالٰی کا تمہارے ساتھ ایک وعدہ ہے تو وہ یہ چاہتا ہے کہ اب اسے بھی پورا کر دے تو وہ لوگ عرض کریں گے وہ کیا ہے؟ کیا اللہ تعالی نے ہماری نیکیوں کے پلڑے کو بھاری نہیں کیا ؟ کیا اس نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا ؟ کیا اس نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کر دیا ؟ اور ہمیں جہنم سے نجات عطا نہیں کی؟ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: اس وقت اللہ تعالی حجاب اٹھائے گا اور اہل جنت اس کا دیدار کریں گے نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اہل جنت کو اللہ تعالی نے کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی ہوگی جو ان کے نزدیک اس کا دیدار کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہو اور ان کی آنکھوں کی زیادہ ٹھنڈک کا باعث ہو ۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٩،حديث نمبر ١٨٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26، وَقَالَ:" إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، نَادَى مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ، فَيَقُولُونَ: وَمَا هُوَ أَلَمْ يُثَقِّلِ اللَّهُ مَوَازِينَنَا، وَيُبَيِّضْ وُجُوهَنَا، وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَيُنْجِنَا مِنَ النَّارِ، قَالَ:" فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا أَعَطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 187

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ ہر طرح کی حمد اس اللہ تعالی کے لیے ہے جس کی سماعت تمام آوازوں کو گھیرے ہوئے ہے ۔ ایک جھگڑا کرنے والی عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں اس وقت گھر کے ایک کنارے میں موجود تھی وہ عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی میں یہ نہیں سن سکی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی ۔ (ترجمہ) اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات کو سن لیا ہے جو اپنے شوہر کے بارے میں تمہارے ساتھ بحث کر رہی ہے۔“ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٩،حديث نمبر ١٨٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ، لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادِلَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ تَشْكُو زَوْجَهَا"، وَمَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا سورة المجادلة آية 1.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 188

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے اپنے دست قدرت کے ذریعے اپنے لیے یہ بات تحریر کر دی ہے ۔ " میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٣٠،حديث نمبر ١٨٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ بِيَدِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 189

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کی ملاقات مجھ سے ہوئی۔ آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : اے جابر کیا وجہ ہے؟ میں تمہیں شکستہ حال دیکھ رہا ہوں ۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور وہ مال، بچے اور قرض چھوڑ گئے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی خوشخبری نہ دوں جس کے ہمراہ تمہارے والد کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ملاقات کی تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ جی ہاں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی نے ہر شخص کے ساتھ حجاب کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تمہارے والد کو زندہ کرنے کے بعد ان کے ساتھ حجاب کے بغیر گفتگو کی اور اس نے یہ فرمایا: اے میرے بندے! میرے سامنے آرزو کر! میں تمہیں عطا کروں گا تو انہوں نے عرض کی: اے میرے پروردگار ! تو مجھے زندہ کر دے تا کہ مجھے دوبارہ تیری راہ میں قتل کیا جائے تو پروردگار نے ارشاد فرمایا:اس بارے میں ہمارا فیصلہ پہلے ہو چکا ہے کہ لوگ ( دنیا میں ) واپس نہیں جائیں گے۔ تو تمہارے والد نے ) عرض کی :اے اللہ ! میرے پیچھے والوں تک یہ بات پہنچا دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: (اس بارے میں ) یہ آیت نازل ہوئی : (ترجمہ) جن لوگو کو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا ہے تم انہیں مردہ ہرگز گمان نہ کرو بلکہ وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔“ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٣٠،حديث نمبر ١٩٠)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ الْحَرَامِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ ، قَال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ، لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا جَابِرُ أَلَا أُخْبِرُكَ مَا قَالَ اللَّهُ لِأَبِيكَ؟" وَقَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ:" يَا جَابِرُ مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا؟" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتُشْهِدَ أَبِي وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا، قَالَ:" أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ"؟ قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَكَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا" عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ"، قَالَ: يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً، فَقَالَ الرَّبُّ سُبْحَانَهُ:" إِنَّهُ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ"، قَالَ: يَا رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 190

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: بے شک اللہ تعالی ایسے دو آدمیوں پر مسکرا دیتا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے لیکن وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے ان میں سے ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کر رہا ہوتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالی اسے قتل کرنے والے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے وہ اسلام قبول کر لیتا ہے اور وہ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتے ہوئے وہ بھی شہید ہو جاتا ہے ( تو وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے )۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١١٣١،حديث نمبر ١٩١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يَضْحَكُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى قَاتِلِهِ، فَيُسْلِمُ فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 191

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: قیامت کے دن اللہ تعالٰی زمین کو اپنے قبضے میں لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں دست مبارک میں لپیٹ لے گا اور پھر ارشاد فرمائے گا۔ میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟“ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١١٣٢،حديث نمبر ١٩٢)

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 192

حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں کچھ لوگوں کے ساتھ بطحا میں موجود تھا ان لوگوں میں نبی کریم ﷺ بھی تھے وہاں سے بادل کا ایک ٹکڑا گزرا نبی کریم ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے کیا کہتے ہو ؟ لوگوں نے بتایا : سحاب"نبی کریم ﷺ نے فرمایا " مزن بھی کہتے ہو؟ لوگوں نے عرض کی : مزن بھی کہتے ہیں:۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عنان بھی کہتے ہو؟ تو یہاں ابو بکر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں لوگوں نے عرض کی : عنان بھی کہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت کیا : تم لوگ کیا سمجھتے ہو کہ تمہارے اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ لوگوں نے عرض کی ہمیں نہیں معلوم تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے اور اس کے درمیان ۔ راوی کو شک ہے ) ایک یا دو یا تین اور ستر ( یعنی اکہتر ، بہتر یا تہتر) سال کی مسافت کا فاصلہ ہے پھر اس کے اوپر جو آسمان ہے اس کا بھی اتنا فاصلہ ہے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے سات آسمان گنوائے۔ پھر ساتویں آسمان کے اوپر ایک سمندر ہے، جس کے اوپر والے حصے اور نیچے والے حصے کے درمیان اتناہی فاصلہ ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان ہے۔ پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے ہیں: جن کے گھٹنوں اور پاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کا ہے پھر ان کی پشت کے اوپر عرش ہے جس کے اوپر والے حصے اور نیچے والے حصے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کا ہے پھر اللہ تعالی کی ذات ان سب سے بھی اوپر ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٣٣،حديث نمبر ١٩٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: كُنْتُ بِالْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ وَفِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ بِهِ سَحَابَةٌ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ:" مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟"، قَالُوا: السَّحَابُ، قَالَ:" وَالْمُزْنُ"، قَالُوا: وَالْمُزْنُ، قَالَ:" وَالْعَنَانُ"، قَال أَبُو بَكْرٍ: قَالُوا: وَالْعَنَانُ، قَالَ:" كَمْ تَرَوْنَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ؟"، قَالُوا: لَا نَدْرِي، قَالَ:" فَإِنَّ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا إِمَّا وَاحِدًا، أَوِ اثْنَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ سَنَةً، وَالسَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، ثُمَّ فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ أَظْلَافِهِنَّ وَرُكَبِهِنَّ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِنَّ الْعَرْشُ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ اللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 193

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب اللہ تعالی آسمان میں کسی فیصلے کو ظاہر کرتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے سامنے خود کو جھکاتے ہوئے اپنے پر یوں مارتے ہیں: جیسے کسی پتھر پر کوئی زنجیر ماری جاتی ہے۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ کم ہوتی ہے تو وہ دریافت کرتے ہیں، تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہیں: حق فرمایا ہے اور وہ بلند و برتر اور سب سے بڑا ہے ( نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:) تو چوری چھپے سننے والے لوگ ( یعنی شیاطین ) جو ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں: وہ اسے سنتے ہیں، وہ ان میں سے کوئی ایک کلمہ سن لیتے ہیں، اور اس میں سے اپنے نیچے والے تک وہ نقل کر دیتے ہیں، تو بعض اوقات ان میں سے کسی ایک تک شہاب ثاقب پہنچ جاتا ہے۔ اس سے پہلے وہ اپنے سے نیچے والے تک اس بات کو پہنچاتا ہے کہ وہ کا ہن یا جادو گر تک اسے منتقل کر دے۔ تو بعض اوقات اسے شہاب ثاقب نہیں لگتا ہے تو وہ اس جادو گر یا کا ہن تک وہ بات پہنچا دیتا ہے اور اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں بھی ملا دیتا ہے۔ تو اس میں سے سچی بات وہ ہوتی ہے جو اس نے آسمان میں سے سنی ہوئی ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٢٤،حديث نمبر ١٩٤)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا فِي السَّمَاءِ، ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ سورة سبأ آية 23 قَالَ: فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ، فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا إِلَى الَّذِي تَحْتَهُ، فَيُلْقِيهَا عَلَى لِسَانِ الْكَاهِنِ أَوِ السَّاحِرِ، فَرُبَّمَا لَمْ يُدْرَكْ حَتَّى يُلْقِيَهَا، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ، فَتَصْدُقُ تِلْكَ الْكَلِمَةُ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 194

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ باتیں بیان کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالی سوتا نہیں ہے اور اس کی شان کے یہ لائق بھی نہیں ہے کہ وہ سو جائے وہ ترازو کے پلڑے کو نیچے اور اوپر کرتا رہتا ہے رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے ہی اس کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے ہی پہنچ جاتا ہے اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کی ذات کے انوار ہر اس چیز کو وہاں تک جلا دیں جہاں تک نظر کام کرتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٣٥،حديث نمبر ١٩٥)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 195

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالی سوتا نہیں ہے اور اس کی شان کے یہ لائق بھی نہیں ہے کہ وہ سو جائے وہ ترازو کے پلڑے کو نیچے اور اوپر کرتا رہتا ہے رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے ہی اس کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے ہی پہنچ جاتا ہے اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کی ذات کے انوار ہر اس چیز کو وہاں تک جلا دیں جہاں تک نظر کام کرتی ہے پھر ابو عبیدہ نامی راوی نے یہ آیت تلاوت کی:(ترجمہ) "برکت والی ہے وہ ذات جو آگ میں اور اس کے آس پاس میں (اپنی تجلی کو ظاہر) کر رہی ہے، اور اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، وہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔" (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٣٥،حديث نمبر ١٩٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ"، ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ: أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة النمل آية 8.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 196

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے رحمان کا دایاں ہاتھ خزانے سے بھرا ہوا ہے وہ ہمیشہ اسے خرچ کرتا رہتا ہے۔ دن اور رات کے یعنی مسلسل خرچ کرنے سے کسی بھی وقت اس میں کوئی کمی نہیں آتی اور اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہیں جسے وہ جھکاتا اور بلند کرتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اس بات پہ غور کیا ہے؟ اس نے جب سے زمین آسمان کو پیدا کیا۔ اس وقت سے خرچ کر رہا ہے، اور پھر بھی اس کے دست عنایت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٣٦،حديث نمبر ١٩٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُ"، قَالَ: أَرَأَيْتَ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا فِي يَدَيْهِ شَيْئًا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 197

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو ممبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جبار یعنی اللہ تعالی آسمانوں اور زمینوں کو اپنے دست قدرت میں رکھے گا پھر وہ اپنے ہاتھ کو بلند کرے گا پھر وہ اسے بند کرے گا اور کھولے گا پھر فرمائے گا میں زبردست ہوں دنیا میں خود کو زبردست سمجھنے والے لوگ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دائیں طرف اور بائیں طرف جھک رہے تھے یہاں تک کہ میں نے ممبر کو دیکھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے حرکت کر رہا تھا میں یہ سوچنے لگا کہ کہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گر نہ جائے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٣٦،حديث نمبر ١٩٨)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضَهُ بِيَدِهِ، وَقَبَضَ بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا، ثُمَّ يَقُولُ:" أَنَا الْجَبَّارُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟"، قَالَ: وَيَتَمَيَّلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي أَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 198

حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ہر ایک دل رحمان کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں اگر وہ چاہے تو اسے برقرار رکھے چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ اے دلوں کو ثابت رکھنے والے تو ہمارے دلوں کو دین پر ثابت رکھنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی ارشاد فرمایا ہے پلڑا رحمن کے دست قدرت میں ہے وہ کچھ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کچھ دوسروں کو قیامت کے لیے پست کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٣٧،حديث نمبر ١٩٩)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي النَّوَّاسُ بْنُ سَمْعَانَ الْكِلَابِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ إِنْ شَاءَ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ"، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَا مُثَبِّتَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ"، قَالَ:" وَالْمِيزَانُ بِيَدِ الرَّحْمَنِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا، وَيَخْفِضُ آخَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 199

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے اللہ تعالی تین لوگوں پر مسکرا دیتا ہے۔ وہ شخص جو نماز کے صف میں ہو،وہ شخص جو نصف رات کے وقت نفل نماز ادا کرے اور وہ شخص جو جنگ میں حصہ لے، راوی بیان کرتے ہیں میرا خیال ہے حدیث میں یہ الفاظ لشکر کے پیچھے جنگ میں حصہ لے،،۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٣٨،حديث نمبر ٢٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَيَضْحَكُ إِلَى ثَلَاثَةٍ لِلصَّفِّ فِي الصَّلَاةِ، وَلِلرَّجُلِ يُصَلِّي فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَلِلرَّجُلِ يُقَاتِلُ" أُرَاهُ قَالَ: خَلْفَ الْكَتِيبَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 200

حضرت جابر بن عبد اللہ رضي الله عنهما بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ حج کے موقع پر لوگوں کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے کیا کوئی شخص مجھے اپنی قوم کے پاس لے کے جائے گا کیونکہ قریش نے تو مجھے اس بات سے روک دیا ہے کہ میں اپنے پروردگار کے کلام کی تبلیغ کروں۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١١٣٨،حديث نمبر ٢٠١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيَّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْسِمِ، فَيَقُولُ:" أَلَا رَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 201

سیده ام درداء رضی اللہ تعالی عنہا حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے اللہ تعالٰی کے اس فرمان کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کرتی ہیں ارشاد باری تعالی ہے : ” اس کی ہر دن نئی شان ہے ۔ (الرحمن ) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اس کی شان یہ ہے وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تنگی کو کشادہ کر دیتا ہے کسی ایک قوم کو بلندی عطا کرتا ہے دوسروں کو پستی نصیب کرتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ : جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ،جلد١،ص١٣٩،حديث نمبر ٢٠٢)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صَبِيحٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ سورة الرحمن آية 29 قَالَ:" مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا، وَيُفَرِّجَ كَرْبًا، وَيَرْفَعَ قَوْمًا، وَيَخْفِضَ آخَرِينَ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 202

حضرت جریر بن عبدالله بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص کسی اچھے طریقے کا آغاز کرے اور اس پر عمل کیا جائے تو اس شخص کو بھی اس کا اجر ملے گا اور جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان کی مانند بھی اسے اجر ملے گا ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ جو شخص کسی برے طریقے کا آغاز کرے اور اس پر عمل کرے اس شخص پر اس کا وبال ہوگا اور اس کے بعد جو لوگ اس پر عمل کریں گے اس کا وبال بھی اس کے ذمے ہوگا اور ان لوگوں کے بوجھ (گناہ) میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام:،جلد١،ص١٤٠،حديث نمبر ٢٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 203

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ( جو ضرورت مند نظر آرہا تھا) نبی کریم ﷺ نے اسے صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو ایک صاحب بولے: میرے پاس اتنا ، اتنا مال ہے( انہوں نے اتنا مال صدقہ کر دیا) راوی کہتے ہیں: اس محفل میں جتنے بھی لوگ موجود تھے ان میں سے ہر ایک نے اس کو صدقہ دیا خواہ وہ کم ہو یا زیادہ اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہو جو شخص اچھائی کا طریقہ شروع کرتا ہے اور اس طریقے کی پیروی کی جاتی ہے تو اس شخص کو اس کا مکمل اجر ملتا ہے اور ان لوگوں جتنا بھی اجر ملتا ہے جنہوں نے ان کی پیروی کی ہو اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ اور جو شخص کسی برے طریقے کا آغاز کرتا ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے تو اس کا مکمل وبال اس شخص پر ہوتا ہے اور ان لوگوں کا بوجھ بھی اس شخص پر ہوگا جو اس طریقے کی پیروی کرتے ہیں: اور ان لوگوں کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام:،جلد١،ص١٤٠،حديث نمبر ٢٠٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: رَجُلٌ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَمَا بَقِيَ فِي الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اسْتَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ كَامِلًا، وَمِنْ أُجُورِ مَنِ اسْتَنَّ بِهِ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنِ اسْتَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَاسْتُنَّ بِهِ فَعَلَيْهِ وِزْرُهُ كَامِلًا، وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ اسْتَنَّ بِهِ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 204

حضرت انس بن مالک رضی اللہ نبی کریم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو بھی دعوت دینے والا گمراہی کی طرف دعوت دیتا ہے اور پھر اس کی پیروی کی جاتی ہے تو اس شخص کو اس کی پیروی کرنے والوں کے گناہوں کی مانند گناہ ہوگا اور ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جو بھی ہدایت دینے والا ہدایت کی طرف دعوت دیتا ہے جس کی پیروی کی جائے تو جو لوگ بھی اس کی پیروی کریں گے ان کی مانند اس شخص کو بھی اجر ملے گا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام:،جلد١،ص١٤١،حديث نمبر ٢٠٥)

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" أَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ فَاتُّبِعَ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أَوْزَارِ مَنِ اتَّبَعَهُ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا، وَأَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى هُدًى فَاتُّبِعَ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 205

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص ہدایت کی طرف دعوت دے تو اسے اتناہی اجر ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کا اجر ہوگا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جو شخص گمراہی کی طرف دعوت دے تو اسے اتناہی گناہ ہوگا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام:،جلد١،ص١٤٢،حديث نمبر ٢٠٦)

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ فَعَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنَ آثَامِهِمْ شَيْئًا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 206

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص کسی اچھے طریقے کا آغاز کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو اس شخص کو اس کا اجر ملے گا اور ان لوگوں کی مانند بھی اجر ملے گاحالانکہ ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اور جو شخص کسی برے طریقے کا آغاز کرے جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے تو اس شخص کو اس کا گناہ ہوگا اور دوسرے لوگوں کی مانند بھی اس پر گناہ ہوگا اور ان دوسرے لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام:،جلد١،ص١٤٢،حديث نمبر ٢٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا، وَمِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ، وَمِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 207

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو بھی دعوت دینے والا جس چیز کی طرف بھی دعوت دے گا قیامت کے دن اسے اس دعوت کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا، جس کی طرف اس نے دعوت دی تھی اگر چہ ایک آدمی نے صرف ایک آدمی کو دعوت دی تھی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام:،جلد١،ص١٤٣،حديث نمبر ٢٠٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ، إِلَّا وُقِفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَازِمًا لِدَعْوَتِهِ مَا دَعَا إِلَيْهِ، وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 208

کثیر بن عبد اللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص میری سنت کو اس وقت زندہ کرے جب وہ ختم ہو چکی ہو تو اس شخص کو اس سنت پر عمل کرنے والوں کے اجر جتنا اجر ملے گا حالانکہ ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جو شخص کسی بدعت کا آغاز کرے تو اس شخص کو ان تمام لوگوں جتنا گناہ ہوگا، جو اس پر عمل کریں گے اور ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ أَحْيَا سُنَّةً قَدْ أُمِيتَتْ:مردہ سنت کو زندہ کرنے والے کا ثواب:،جلد١،ص١٤٣،حديث نمبر ٢٠٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي فَعَمِلَ بِهَا النَّاسُ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً فَعُمِلَ بِهَا، كَانَ عَلَيْهِ أَوْزَارُ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِ مَنْ عَمِلَ بِهَا شَيْئًا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 209

کثیر بن عبد اللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص میری کسی ایسی سنت کو زندہ کرے جو میرے بعد نا پید ہو چکی ہو تو اسے اتنا اجر ملے گا جو ان لوگوں کے اجر کی مانند ہوگا جنہوں نے اس سنت پر عمل کیا ہوگا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی ۔ اور جو شخص کسی ایسی بدعت کا آغاز کرے جس سے اللہ اور اس کا رسول ﷺ راضی نہ ہوں تو جو لوگ بھی اس بدعت پر عمل کریں گے ان کے گناہ کی ماننداس شخص کو گناہ ہوگا اور ان دوسرے لوگوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی ۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ أَحْيَا سُنَّةً قَدْ أُمِيتَتْ:مردہ سنت کو زندہ کرنے والے کا ثواب:،جلد١،ص١٤٥،حديث نمبر ٢١٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي، فَإِنَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ، لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِ النَّاسِ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً لَا يَرْضَاهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَإِنَّ عَلَيْهِ مِثْلَ إِثْمِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ، لَا يَنْقُصُ مِنْ آثَامِ النَّاسِ شَيْئًا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 210

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: یہاں شعبہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: تم میں سب سے بہتر جبکہ سفیان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: تم میں سب سے افضل وہ شخص ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور اس کی تعلیم دے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ:بَابُ: فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب:،جلد١،ص١٤٤،حديث نمبر ٢١١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ شُعْبَة:" خَيْرُكُمْ"، وَقَالَ سُفْيَانُ:" أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 211

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے تم میں افضل وہ شخص ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور اس کی تعلیم دے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ:بَابُ: فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب:،جلد١،ص١٤٤،حديث نمبر ٢١٢)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 212

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن کا علم حاصل کریں اور اس کی تعلیم دیں۔ ( راوی کہتے ہیں: میرے استاد نے یا اس حدیث نے) میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اس جگہ بٹھا دیا جہاں میں ( قرآن ) پڑھاتا ہوں ۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ:بَابُ: فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب:،جلد١،ص١٤٥،حديث نمبر ٢١٣)

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ"، قَالَ: وَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا أُقْرِئُ.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 213

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو مومن قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ناشپاتی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور جو مومن قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ تو اچھا ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی اور جو منافق شخص قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال ریحانہ کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور جو شخص منافق ہو اور قرآن بھی نہ پڑھتا ہو اس کی مثال حنظلہ ( نامی بوٹی) کی طرح ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ:بَابُ: فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب:،جلد١،ص١٤٥،حديث نمبر ٢١٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 214

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ یہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : " لوگوں میں سے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ وہ کون لوگ ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ قرآن کے عالم ہیں جو اللہ والے ہیں اور اس کے خاص بندے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ:بَابُ: فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب:،جلد١،ص١٤٦،حديث نمبر ٢١٦)

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ؟ قَالَ:" هُمْ أَهْلُ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 215

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص قرآن پاک پڑھے اسے یاد کرے، تو اللہ تعالی اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا اور اسے اس کے گھر والوں میں سے دس ایسے افراد کے بارے میں شفاعت کا منصب دے گا کہ جن کے لئے جہنم واجب ہو چکی ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ:بَابُ: فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب:،جلد١،ص١٤٦،حديث نمبر ٢١٦)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، وَحَفِظَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدِ اسْتَوْجَبُوا النَّارَ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 216

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : تم قرآن پاک کو سیکھو اور اس کو پڑھا کرو کیونکہ جو شخص قرآن پاک کا علم حاصل کرنے کے بعد اس کی قرآت بھی کرے اور قیام کی حالت میں اسے پڑھے بھی اس کی مثال اس تھیلی کی طرح ہے جو مشک سے بھری ہوئی ہو اور اس کی خوشبو ہر جگہ پھیلتی ہو اور جو شخص قرآن پاک کا علم حاصل کر کے سو جائے اور قرآن پاک اس کے ذہن میں ہو تو اس کی مثال اس مشک کی تھیلی کی طرح ہے، جس کے منہ کو باندھ دیا گیا ہو۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ:بَابُ: فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب:،جلد١،ص١٤٧،حديث نمبر ٢١٧)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ، وَاقْرَءُوهُ، وَارْقُدُوا، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَامَ بِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِيَ عَلَى مِسْكٍ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 217

نافع بن عبد الحارث بیان کرتے ہیں: ان کی ملاقات "عسفان" کے مقام پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نافع کو مکہ کا گورنر مقرر کیا ہوا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ نے دریافت کیا: تم نے اہل مکہ کے لیے کسے اپنا نائب بنایا ہے تو نافع نے جواب دیا: میں نے ابن ابزی کو ان لوگوں پر اپنا نائب بنایا ہے۔ حضرت عمر نے دریافت کیا: ابن ابزی کون ہے؟ تو نافع نے بتایا: وہ ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک شخص ہے۔ حضرت عمر بولے تم نے ان لوگوں پر ایک غلام کو اپنا نائب بنا دیا ہے؟ نافع نے بتایا: وہ اللہ کی کتاب کا قاری ہے۔ علم وارثت کا عالم ہے اور فیصلہ دے سکتا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: بے شک اللہ تعالی اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو بلند درجہ نصیب کرے گا اور کچھ دوسرے لوگوں کو پست کر دے گا۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ:بَابُ: فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب:،جلد١،ص١٤٨،حديث نمبر ٢١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ ، لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ، وَكَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ قَالَ: اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ مَوَالِينَا، قَالَ عُمَرُ: فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى، قَالَ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ، قَاضٍ، قَالَ عُمَرُ : أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال:" إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 218

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر تمہارا صبح کے وقت جا کر اللہ کی کتاب کی کسی آیت کو سیکھ لینا تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے تم ایک سو رکعات نماز ادا کرو اور تمہارا صبح کے وقت جا کر علم کے ایک باب کو سیکھ لینا، خواہ تم اس پر عمل کرو یا اس پر عمل نہ کرو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم ایک ہزار رکعات ادا کرو۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ:بَابُ: فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب:،جلد١،ص١٤٨،حديث نمبر ٢١٩)

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْبَحْرَانِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ لَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَةٍ، وَلَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ أَلْفَ رَكْعَةٍ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 219

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارےمیں بھلائی کا ارادہ کر لے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ:علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب:،جلد١،ص١٤٩،حديث نمبر ٢٢٠)

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 220

حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بھلائی عادت ہے اور شر لجاجت ہے اور اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ:علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب:،جلد١،ص١٤٩،حديث نمبر ٢٢١)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْخَيْرُ عَادَةٌ، وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ، وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 221

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما روایت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ایک فقیہ شیطان کے لیے ایک ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ:علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب:،جلد١،ص١٥٠،حديث نمبر ٢٢٢)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 222

کثیر بن قیس بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا اے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ میں مدینہ منورہ سے نبی کریم ﷺ کے شہر سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ آپ وہ حدیث نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا تم یہاں کوئی تجارت کرنے کے لیے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آئے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں تو حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص علم کے حصول کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے۔ اللہ تعالی اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے اور فرشتے طالب علم سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لیے بچھا دیتے ہیں آسمان اور زمین میں موجود ہر چیز یہاں تک کہ پانی میں موجود مچھلیاں بھی اس کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہیں اور عالم شخص کو عبادت گزار شخص پر وہی فضیلت حاصل ہے جو چاند کو تمام ستاروں پر حاصل ہے بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں بے شک انبیاء وراثت میں درہم یا دینا نہیں چھوڑتے ہیں: وہ لوگ علم چھوڑتے ہیں:۔ تو جو شخص اسے حاصل کر لیتا ہے وہ بڑے حصے کو حاصل کر لیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ:علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب:،جلد١،ص١٥٠،حديث نمبر ٢٢٣)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَيْتُكَ مِنَ الْمَدِينَةِ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكَ تِجَارَةٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: وَلَا جَاءَ بِكَ غَيْرُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانِ فِي الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 223

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور نا اہل کے سامنے علم پیش کرنے والا شخص اس طرح ہے جیسے کوئی خنزیر کے گلے میں جواہرات، موتیوں اور سونے کا ہار پہنا دے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ:علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب:،جلد١،ص١٥١،حديث نمبر ٢٢٤)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ، وَاللُّؤْلُؤَ، وَالذَّهَبَ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 224

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص کسی مسلمان سے کسی دنیاوی تکلیف کو دور کرے گا اللہ تعالی اس شخص سے قیامت کے دن کی کسی تکلیف کو دور کر دے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالی دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ جو شخص کسی تنگدست کو آسانی فراہم کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اسے آسانی فراہم کرے گا۔ اللہ تعالی اس وقت تک بندے کی مدد کرتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے اور جو شخص کسی راستے پر علم کے حصول کے لیے چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اس شخص کے لیے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے۔ اور جب بھی کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں اکٹھے ہو کر اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں: آپس میں ایک دوسرے کو اس کا درس دیتے ہیں: تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں: اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے۔رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالی اپنے پاس موجود لوگوں کے سامنے ان کا تذکرہ کرتا ہے اور جس شخص کا عمل اسے پیچھے کر دے اس کا نسب اسے آگے نہیں کر سکتا۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ:علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب:،جلد١،ص١٥٢،حديث نمبر ٢٢٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 225

زربن جیش بیان کرتے ہیں: میں حضرت صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے دریافت کیا : تم کیوں آئے ہو میں نے عرض کی: میں علم کے حصول کے لیے آیا ہوں تو حضرت صفوان رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی شخص علم کے حصول کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اپنے پر اس کے لیے بچھا دیتے ہیں اس کے اس طرز عمل سے راضی ہوتے ہوئے ( وہ ایسا کرتے ہیں) (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ:علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب:،جلد١،ص١٥٣،حديث نمبر ٢٢٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: أُنْبِطُ الْعِلْمَ، قَال: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ خَارِجٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 226

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو شخص میری اس مسجد میں آتا ہے اور وہ صرف بھلائی کا علم حاصل کرنے کے لیے یا اس کی تعلیم دینے کے لیے یہاں آتا ہے تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے اور جو شخص اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے یہاں آتا ہے تو اس کی مثال اس طرح ہے جیسے کوئی شخص کسی دوسرے کے سامان پر نظر رکھ کر بیٹھا ہو۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ:علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب:،جلد١،ص١٥٤،حديث نمبر ٢٢٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا، لَمْ يَأْتِهِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ، أَوْ يُعَلِّمُهُ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 227

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے علم کے قبض ہو جانے سے پہلے تم پر علم حاصل کرنا لازم ہے اور اس کے قبض ہو جانے سے مراد یہ ہے کہ اسے اٹھا لیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی دو انگلیوں یعنی درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو اس طرح ملا یا اور ارشادفرمایا: عالم اور متکلم اجر میں شریک ہوتے ہیں ان کے علاوہ باقی سب لوگوں میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ:علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب:،جلد١،ص١٥٥،حديث نمبر ٢٢٨)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي عَاتِكَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ، وَقَبْضُهُ أَنْ يُرْفَعَ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ هَكَذَا"، ثُمَّ قَالَ:" الْعَالِمُ، وَالْمُتَعَلِّمُ شَرِيكَانِ فِي الْأَجْرِ، وَلَا خَيْرَ فِي سَائِرِ النَّاسِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 228

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی کریم ﷺ اپنے کسی حجرہ مبارک سے باہر تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہوئے وہاں دو حلقے موجود تھے ان میں سے ایک حلقے کے افراد قرآن کی تلاوت کر رہے تھے اور اللہ تعالٰی سے دعا مانگ رہے تھے جبکہ دوسرے حلقے کے لوگ علم حاصل کر رہے تھے اور تعلیم دے رہے تھے تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ان میں سے ہر ایک بھلائی پر گامزن ہے یہ لوگ قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں اور اللہ تعالی سے دعا مانگ رہے ہیں اگر اللہ تعالی انہیں چاہے تو وہ چیز انہیں عطا کر دے اور اگر چاہے تو عطا نہ کرے اور یہ لوگ علم حاصل کر رہے ہیں اور تعلیم دے رہے ہیں تو مجھے بھی تعلیم دینے والا بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ ( راوی کہتے ہیں) پھر نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ تشریف فرما ہو گئے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ:علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب:،جلد١،ص١١٥٥،حديث نمبر ٢٢٩)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِحَلْقَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، وَالْأُخْرَى يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلٌّ عَلَى خَيْرٍ هَؤُلَاءِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَهَؤُلَاءِ يَتَعَلَّمُونَ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا فَجَلَسَ مَعَهُمْ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 229

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالی اس شخص کو خوش رکھے جو ہماری کوئی بات سن کر اس کی تبلیغ کر دے تو فقہ کا علم حاصل کرنے والے کچھ لوگ فقیہہ نہیں بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات فقہ کا علم رکھنے والا کوئی شخص اس تک وہ چیز منتقل کرتا ہے جو اس سے بڑا فقیہ ہوتا ہے علی بن محمد نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں: تین چیزیں ایسی ہیں جس کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت کا مرتکب نہیں ہوتا، عمل کا خالص اللہ تعالی کے لیے ہونا، مسلمان حکمرانوں کے لیے خیر خواہی اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ بَلَّغَ عِلْمًا:علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل:،جلد١،ص١٥٦،حديث نمبر ٢٣٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ"، زَادَ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ:" ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالنُّصْحُ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 230

محمد بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم ﷺ منی(Meena) میں ؛خفیف؛ کے مقام پر کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے ارشادفرمایا: اللہ تعالی اس شخص کو خوش رکھے جو ہماری بات سن کر اس کی تبلیغ کر دیتا ہے بعض اوقات فقہ (دینی احکام) کو حاصل کرنے والا شخص خود فقیہ نہیں ہوتا اور بعض اوقات فقہ کا علم حاصل کرنے والا اس شخص تکچیز منتقل کر دیتا ہے جو اس سے بڑا فقیہ ہوتا ہے"۔ اس سند سے بھی حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ بَلَّغَ عِلْمًا:علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل:،جلد١،ص١٥٧،حديث نمبر ٢٣١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَقَالَ:" نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ". حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 231

عبد الرحمن بن عبد اللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ تعالی اس شخص کو خوش رکھے جو ہم سے کوئی بات سن کر اس کی تبلیغ کر دے کیونکہ جس شخص تک وہ چیز منتقل کی گئی ہوتی ہے وہ براہ راست سننے والے کے مقابلے میں بعض اوقات زیادہ اچھے طریقے سے اسے یاد رکھتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ بَلَّغَ عِلْمًا:علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل:،جلد١،ص١٥٧،حديث نمبر ٢٣٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَبَلَّغَهُ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَحْفَظُ مِنْ سَامِعٍ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 232

محمد بن سیرین نے عبد الرحمن ابوبکرہ کے حوالے سے ان کے والد سے ایک اور شخص کے حوالے سے جو میرے نزدیک عبد الرحمن سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں کے حوالے سے حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ قربانی کے دن نبی کریم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: " موجود لوگ غیر موجود افراد تک تبلیغ کر دیں کیونکہ بعض اوقات جس اگلے شخص تک وہ چیز پہنچائی گئی ہوتی ہے وہ براہ راست سننے والے کے مقابلے میں اس کو زیادہ بہتر طور پر یاد رکھتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ بَلَّغَ عِلْمًا:علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل:،جلد١،ص١٥٨،حديث نمبر ٢٣٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ:" لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلَّغٍ يَبْلُغُهُ أَوْعَى لَهُ مِنْ سَامِعٍ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 233

حضرت معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "خبردار: موجود شخص غیر موجود افراد تک تبلیغ کر دے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ بَلَّغَ عِلْمًا:علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل:،جلد١،ص١٥٨،حديث نمبر ٢٣٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ؟".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 234

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں تم میں سے موجود لوگ غیر موجود لوگوں تک تبلیغ کردیں۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ بَلَّغَ عِلْمًا:علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل:،جلد١،ص١٥٩،حديث نمبر ٢٣٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، حَدَّثَنِي قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُصَيْنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 235

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالی اس شخص کو خوش رکھے جو ہماری بات سن کر اسے محفوظ کر لے پھر اسے ہمارے حوالے سے آگے بیان کر دے کیونکہ بعض اوقات براہ راست سیکھنے والا در حقیقت سیکھنے والا نہیں ہوتا اور بعض اوقات سیکھنے والا شخص اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے جو اس سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ بَلَّغَ عِلْمًا:علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل:،جلد١،ص١٥٩،حديث نمبر ٢٣٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْحَلَبِيُّ ، عَنْ مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا، ثُمَّ بَلَّغَهَا عَنِّي، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 236

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”لوگوں میں سے کچھ لوگ بھلائی کے لیے چابی ہوتے ہیں اور برائی کے لیے تالہ ہوتے ہیں اور لوگوں میں سے کچھ لوگ برائی کے لیےچابی ہوتے ہیں اور بھلائی کے لیے تالہ ہوتے ہیں تو اس شخص کے لیے مبارکباد ہے جس کے ہاتھوں میں اللہ تعالٰی بھلائی کی چابیاں رکھ دیتا ہے اور اس شخص کے لیے بربادی ہے جس کے ہاتھوں میں اللہ تعالی برائی کی چابیاں رکھ دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: بَابُ: مَنْ كَانَ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ:خیر کی کنجی والی شخصیت کا بیان۔:،جلد١،ص١٦٠،حديث نمبر ٢٣٧)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلْخَيْرِ مَغَالِيقَ لِلشَّرِّ، وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلشَّرِّ مَغَالِيقَ لِلْخَيْرِ، فَطُوبَى لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الْخَيْرِ عَلَى يَدَيْهِ، وَوَيْلٌ لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الشَّرِّ عَلَى يَدَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 237

حضرت سہل بن سعد نبی کریم ﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں یہ بھلائی خزانوں کی طرح ہوتی ہے اور ان خزانوں کی کچھ چابیاں ہوتی ہیں تو اس بندے کے لیے مبارکباد ہے جسے اللہ تعالیٰ بھلائی کے لیے چابی بنادے اور برائی کے لیے رکاوٹ بنا دے اور اس شخص کے لیے بربادی ہے جسے اللہ تعالی برائی کے لیے چابی بنادے اور بھلائی کے لیے رکاوٹ بنادے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: بَابُ: مَنْ كَانَ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ:خیر کی کنجی والی شخصیت کا بیان۔:،جلد١،ص١٦٠،حديث نمبر ٢٣٨)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ، وَلِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ، وَوَيْلٌ لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لَلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 238

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” عالم شخص کے لیے آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز دعائے مغفرت کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر میں موجود مچھلیاں بھی (اس کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: ثَوْابِ مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ:لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب ۔:،جلد١،ص١٦١،حديث نمبر ٢٣٩)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى الْحِيتَانِ فِي الْبَحْرِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 239

سہل بن معاذ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص علم کی تعلیم دیتا ہے تو اسے اس شخص کی مانند بھی اجر ملے گا جو اس علم پر عمل کرے گا اور عمل کرنے والے کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: ثَوْابِ مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ:لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب ۔:،جلد١،ص١٦٢،حديث نمبر ٢٤٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا فَلَهُ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْعَامِلِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 240

عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " آدمی اپنے بعد جو چیز چھوڑ کر جاتا ہے ان میں تین چیزیں بہتر ہیں، ایک وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے دوسرا وہ صدقہ جو جاریہ ہو جس کا اجر اس شخص تک پہنچتا رہے اور ایک وہ علم جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: ثَوْابِ مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ:لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب ۔:،جلد١،ص١٦٣،حديث نمبر ٢٤١)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنيْسَةَ ، عَنْ زيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ مَا يُخَلِّفُ الرَّجُلُ مِنْ بَعْدِهِ ثَلَاثٌ، وَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ، وَصَدَقَةٌ تَجْرِي يَبْلُغُهُ أَجْرُهَا، وَعِلْمٌ يُعْمَلُ بِهِ مِنْ بَعْدِهِ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ يَعْنِي أَبَاهُ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 241

حضرت ابو ہریره رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: مومن کے مرنے کے بعد اس کے اعمال اور اس کی نیکیوں میں سے جو چیز اس تک پہنچتی ہے ان میں ایک وہ علم ہے جس کی اس نے تعلیم دی ہو جسے اس نے پھیلایا ہو ایک وہ نیک صالح اولاد ہے جسے وہ چھوڑ کر گیا ہو اور ایک وہ قرآن مجید ہے جو اس کی وراثت میں منتقل ہوا ہو یا وہ مسجد ہے جسے اس نے بنایا ہویاوہ مسافروں کے لیے سرائے ہو جسے اس نے بنایا ہو یاوہ نہر ہے جسے اس نے جاری کیا ہو یا وہ صدقہ ہے جسے اس نے اپنی صحت اور زندگی کے دوران اپنے مال میں سے نکالا تھا، اس کا اجر و ثواب اس کے مرنے کے بعد بھی اس شخص تک پہنچتا رہتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: ثَوْابِ مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ:لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب ۔:،جلد١،ص١٦٣،حديث نمبر ٢٤٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقُ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ، وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ، عِلْمًا عَلَّمَهُ وَنَشَرَهُ، وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ، وَمُصْحَفًا وَرَّثَهُ، أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ، أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ، أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ، أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيَاتِهِ يَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 242

حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” سب سے افضل صدقہ یہ ہے مسلمان شخص علم کی تعلیم حاصل کرے اور پھر اپنے کسی مسلمان بھائی کو اس کی تعلیم دے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: ثَوْابِ مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ:لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب ۔:،جلد١،ص١٦٤،حديث نمبر ٢٤٣)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ يَتَعَلَّمَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ عِلْمًا، ثُمَّ يُعَلِّمَهُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 243

شعیب بن عبد اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ کو کبھی بھی تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کرکھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی ایسی حال میں دیکھا گیا کہ آپ ﷺ کے پیچھے دو آدمی چل رہے ہوں۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ كَرِهَ أَنْ يُوطَأَ عَقِبَاهُ: اس کا ذکر جس کو یہ ناپسند ہو کہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلے :،جلد١،ص١٦٤،حديث نمبر ٢٤٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" مَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَيْهِ رَجُلَانِ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ صَاحِبُ الْقَفِيزِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ صَاحِبُ الْقَفِيزِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 244

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ شدید گرمی کے وقت نبی کریم ﷺ بقیع غرقد کے پاس سے گزرے تو کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگے جب نبی کریم ﷺ نے ان کے جوتوں کی آواز سنی اور آپ ﷺ کو یہ اچھا محسوس ہوا تو نبی کریم ﷺ تشریف فرما ہو گئے یہاں تک کہ وہ لوگ آپ ﷺ سے آگے گزر گئے نبی کریم ﷺ نے ایسا اس لیے کیا تھا تا کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ذہن میں تکبر سے متعلق کوئی خیال نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ كَرِهَ أَنْ يُوطَأَ عَقِبَاهُ: اس کا ذکر جس کو یہ ناپسند ہو کہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلے :،جلد١،ص١٦٥،حديث نمبر ٢٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ:" مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، وَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 245

حضرت جابر بن عبد الله رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب چلتے تھے تو آپ ﷺ کے اصحاب آپ ﷺ کے آگے چلتے تھے اور وہ نبی کریم ﷺ کے پیچھے والے حصے کو فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ كَرِهَ أَنْ يُوطَأَ عَقِبَاهُ: اس کا ذکر جس کو یہ ناپسند ہو کہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلے :،جلد١،ص١٦٥،حديث نمبر ٢٤٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم إِذَا مَشَى مَشَى أَصْحَابُهُ أَمَامَهُ وَتَرَكُوا ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 246

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مشرق کی سمت سے لوگ تمہارے پاس آئیں گے وہ علم حاصل کرنا چاہتے ہوں گے جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے بارے میں بھلائ کی تلقین کو قبول کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہمیں دیکھتے تھے تو فرمایا کرتے تھے ان لوگوں کو خوش آمدید! جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ہدایت کی تھی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الْوَصَاةِ بِطَلَبَةِ الْعِلْمِ: طالبان علم کی وصیت۔،جلد١،ص١٦٦،حديث نمبر ٢٤٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ رَاشِدٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدَةَ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَيَأْتِيكُمْ أَقْوَامٌ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ، فَقُولُوا لَهُمْ: مَرْحَبًا مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاقْنُوهُمْ"، قُلْتُ لِلْحَكَمِ:" مَا اقْنُوهُمْ"؟ قَالَ:" عَلِّمُوهُمْ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 247

اسماعیل رحمتہ اللہ تعالی علیہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : ہم حسن نامی راوی کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہم نے گھر بھر دیا وہ اس وقت لیٹے ہوئے تھے انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لئے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی ایک مرتبہ ہم حضرت ابو ہریرہ‌ رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے ان کے ہاں گئے تھے تو ہم نے گھر بھر دیا تھا وہ اس وقت لیٹے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر انہوں نے بتایا ایک مرتبہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے گھر کو بھر دیا نبی کریم ﷺ اس وقت پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے جب آپ ﷺ ہمیں ملاحظہ فرمایا تو آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: عنقریب میرے بعد تمہارے پاس کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو علم طلب کرنے والے ہوں گے تو تم انہیں خوش آمدید کہنا انہیں سلام کہنا اور انہں تعلیم دینا ۔ راوی کہتے ہیں اللہ کی قسم ہم نے ایسے لوگوں کو پایا جنہوں نے نہ کبھی ہمیں مرحبا کہا اور نہ کبھی سلام کیا اور نہ ہی ہمیں تعلیم دی بلکہ الٹا جب ہم ان کے پاس جاتے تو وہ ہمارے ساتھ زیادتی کیا کرتے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الْوَصَاةِ بِطَلَبَةِ الْعِلْمِ: طالبان علم کی وصیت۔،جلد١،ص١٦٧،حديث نمبر ٢٤٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى الْحَسَنِ نَعُودُهُ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ، فَقَبَضَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ نَعُودُهُ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ، فَقَبَضَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ لِجَنْبِهِ، فَلَمَّا رَآنَا قَبَضَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ أَقْوَامٌ مِنْ بَعْدِي يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ، فَرَحِّبُوا بِهِمْ، وَحَيُّوهُمْ، وَعَلِّمُوهُمْ"، قَالَ: فَأَدْرَكْنَا وَاللَّهِ أَقْوَامًا مَا رَحَّبُوا بِنَا، وَلَا حَيَّوْنَا، وَلَا عَلَّمُونَا إِلَّا بَعْدَ أَنْ كُنَّا نَذْهَبُ إِلَيْهِمْ فَيَجْفُونَا.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 248

ہارون عبدی بیان کرتے ہیں: جب ہم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو وہ یہ فرماتے تھے۔ ان لوگوں کو خوش آمدید جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وصیت کی تھی نبی کریم ﷺ نے ہمیں فرمایا تھا لوگ تمہارے پیرو کار ہوں گے، عنقریب وہ دین علم کے حصول کے لیے دنیا کے دور دراز علاقوں سے تمہارے پاس آئیں گے جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے بارے میں بھلائی کی وصیت کو قبول کرو۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الْوَصَاةِ بِطَلَبَةِ الْعِلْمِ: طالبان علم کی وصیت۔،جلد١،ص١٦٧،حديث نمبر ٢٤٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا:" إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ، وَإِنَّهُمْ سَيَأْتُونَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ، فَإِذَا جَاءُوكُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 249

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ "اے اللہ میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے اور ایسے دل سے جو ڈرے نہیں اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو ان سب سے تیری پناہ مانگتا ہوں )۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔،جلد١،ص١٦٩،حديث نمبر ٢٥٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 250

حضرت ابوہریرہ‌ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی کریم ﷺ یہ دعامانگا کرتے تھے: اے اللہ تو نے مجھے جو علم دیا ہے اُس کے ذریعہ مجھے نفع عطاء کر اور مجھے اُس چیز کا علم عطاء کر جو مجھے نفع دے اور میرے علم میں اضافہ کر ہر حال میں ہر طرح کی حمد اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔،جلد١،ص١٦٩،حديث نمبر ٢٥١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 251

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جو کوئی شخص ایسا علم حاصل کرے جس کے ذریعے اللہ تعالی کی رضا حاصل کی جاتی ہے اور وہ شخص صرف دنیاوی فائدے کے حصول کے لیے اسے حاصل کرے تو ایسا شخص قیامت کے دن اس کی بو بھی نہیں پائے گا۔ ( راوی کہتے ہیں : اس سے مراد جنت کی بو ہے ) ابو الحسن کہتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔،جلد١،ص١٧٠،حديث نمبر ٢٥٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ٍأَبِي طُوَالَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ، لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" يَعْنِي: رِيحَهَا. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: أَنْبَأَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 252

حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص علم اس لیے حاصل کرتا ہے تا کہ اس کے ذریعے بے وقوفوں کے ساتھ بحث کرے یا علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرے یا لوگوں کو اپنی طرف مائل کرے تو وہ شخص جہنم میں جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔،جلد١،ص١٧٠،حديث نمبر ٢٥٣)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَرِبٍ الْأَزْدِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيَصْرِفَ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، فَهُوَ فِي النَّارِ»

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 253

حضرت جابر بن عبداللہ نبی کریم ﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: علم اس لیے حاصل نہ کروتا کہ تم اس کے ذریعے علماء کے سامنے فخر و مباہات کا اظہار کرو یا اس کے ذریعے تم بے وقوفوں کے ساتھ بحث و مباحثہ کرو یا اس کے ذریعے محافل میں اپنے آپ کو نمایاں کرو جو شخص ایسا کرے گا تو پھر (اس کا ٹھکانہ) آگ ہوگی، آگ ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔،جلد١،ص١٧٠،حديث نمبر ٢٥٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَلَا لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ، وَلَا تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَالنَّارُ النَّارُ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 254

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " عنقریب میری امت کے کچھ افراد دین کا علم حاصل کریں گے وہ قرآن کی تعلیم حاصل کریں گے اور یہ کہیں گے ہم امراء کے پاس جائیں گے اور ان سے دنیاوی فوائد حاصل کریں گے البتہ ہم اپنے دین کی وجہ سے ان سے الگ تھلگ رہیں گے (یعنی ان کے گناہوں میں ان کا ساتھ نہیں دیں گے حالانکہ ایسا نہیں ہوسکتا، جس طرح کانٹے دار درخت سے صرف کانٹے ہی چنے جا سکتے ہیں اس طرح ان (امیر لوگوں) کے قرب سے صرف ( گناہ ہی ہوگا " محمد بن صباح نامی راوی بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے ان لوگوں کو گناہ ہی حاصل ہو گا۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔،جلد١،ص١٧١،حديث نمبر ٢٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سَيَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَقُولُونَ: نَأْتِي الْأُمَرَاءَ فَنُصِيبُ مِنْ دُنْيَاهُمْ وَنَعْتَزِلُهُمْ بِدِينِنَا، وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْكُ، كَذَلِكَ لَا يُجْتَنَى مِنْ قُرْبِهِمْ إِلَّا"، قَال مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: كَأَنَّهُ يَعْنِي: الْخَطَايَا.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 255

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ” جبّ حزن" سے اللہ تعالی کی پناہ مانگو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! جب حزن" کیا چیز ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی روزانہ چار سومرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ عرض کی گئی: اے اللہ تعالی کے رسول ! اس میں داخل کون ہوگا ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ دکھاوے کے طور پر قرآن مجید پڑھنے والے لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اللہ تعالی کے نزدیک سب سے نا پسندیدہ عالم وہ ہیں جو امراء کے ہاں آتے جاتے ہوں۔ محاربی کہتے ہیں: اس سے مراد ظالم حکمران ہیں ۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔،جلد١،ص١٧٢،حديث نمبر ٢٥٦)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ الْبَصْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَيْفٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ الْبَصْرِيّ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحُزْنِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحُزْنِ؟ قَالَ:" وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ أَرْبَعَ مِائَةِ مَرَّةٍ"، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يَدْخُلُهُ؟ قَالَ:" أُعِدَّ لِلْقُرَّاءِ الْمُرَائِينَ بِأَعْمَالِهِمْ، وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّاءِ إِلَى اللَّهِ الَّذِينَ يَزُورُونَ الْأُمَرَاءَ"، قَالَ الْمُحَارِبِيُّ: الْجَوَرَةَ. قال أبو الحسن: حدثنا حازم بن يحيى حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ومحمد بن نمير قالا: حدثنا ابن نمير عن معاوية النصري -وكان ثقة- ثم ذكر الحديث نحوه بإسناده. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 256

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر اہل علم علم کی حفاظت کریں اور اسے اس کے اہل لوگوں تک منتقل کریں تو اس کے ذریعے وہ اپنے زمانے کے لوگوں کے سردار بن جائیں گے لیکن انہوں نے اس علم کو اہل دنیا کے لیے خرچ کیا تا کہ اس کے ذریعے ان لوگوں سے دنیا حاصل کریں تو یہ اہل علم ان امیر لوگوں کے ہاں ذلیل و رسواء ہو گئے میں نے تمہارے نبی ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص کی تمام تر توجہ کا مرکز اس کی آخرت ہو تو اللہ تعالی اس کی دنیاوی پریشانیوں کے حوالے سے اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور جو شخص دنیا کے مختلف امور کے بارے میں پریشان رہتا ہے تو اللہ تعالی کو اسکی کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ وہ کون سی وادی میں ہلاکت کا شکار ہوتا ہے؟ ابوالحسن کہتے ہیں یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔،جلد١،ص١٧٣،حديث نمبر ٢٥٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ ، عَنْ نَهْشَلٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ صَانُوا الْعِلْمَ وَوَضَعُوهُ عِنْدَ أَهْلِهِ لَسَادُوا بِهِ أَهْلَ زَمَانِهِمْ، وَلَكِنَّهُمْ بَذَلُوهُ لِأَهْلِ الدُّنْيَا لِيَنَالُوا بِهِ مِنْ دُنْيَاهُمْ فَهَانُوا عَلَيْهِمْ، سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ آخِرَتِهِ كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ، وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا، لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهَا هَلَكَ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: حَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ، وَكَانَ ثِقَةً، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 257

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص اللہ تعالی کی بجائے کسی اور کے لیے علم حاصل کرے یا اس کے ذریعے اللہ تعالی کی بجائے کسی اور کی رضا مندی) کا ارادہ کرے تو وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔،جلد١،ص١٧٤،حديث نمبر ٢٥٨)

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، وَأَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْهُنَائِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الْهُنَائِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِغَيْرِ اللَّهِ، أَوْ أَرَادَ بِهِ غَيْرَ اللَّهِ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 258

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: علم اس لیے حاصل نہ کرو تا کہ تم اس کے ذریعے علماء کے سامنے فخر ومباہات کا اظہار کرو یا اس کے ذریعے بے وقوفوں سے بحث و مباحثہ کرو یا اس کے ذریعے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لو تو جو شخص ایسا کرے گا وہ جہنم میں جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔،جلد١،ص١٧٤،حديث نمبر ٢٥٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَشْعَثَ بْنَ سَوَّارٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ لِتَصْرِفُوا وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْكُمْ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ فِي النَّارِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 259

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص علم اس لیے حاصل کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے علماء کے سامنے فخر و مباہات کا اظہار کرے یا بے وقوفوں کے ساتھ بحث و مباحثہ کرے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرے تو اللہ تعالی اسے جہنم میں داخل کرے گا۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔،جلد١،ص١٧٥،حديث نمبر ٢٦٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَيُجَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، وَيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 260

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص کسی علمی چیز کو یاد کرنے کے بعد پھر اسے چھپائے تو جب اسے قیامت کے دن لایا جائے گا تو اسے آگ کی لگام ڈالی گئی ہوگی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ: علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص١٧٥،حديث نمبر ٢٦١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ يَحْفَظُ عِلْمًا فَيَكْتُمُهُ، إِلَّا أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنَ النَّارِ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ أَيِ الْقَطَّانُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قال أبو الحسن أيضا وحدثنا إبراهيم بن نصر قال: حدثنا أبو نعيم قال: حدثنا عمارة بن زاذان فذكر نحوه.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 261

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم اگر اللہ کی کتاب میں دو آیات موجود نہ ہوتیں تو میں کبھی بھی ان کے یعنی نبی کریم ﷺ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان نہ کرتا ۔ اگر اللہ تعالی کا یہ فرمان نہ ہوتا ۔ بے شک وہ لوگ جو اس چیز کو چھپاتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے کتاب میں سے نازل کی ہے ۔ یہ اگلی دو آیات تک ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ: علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص١٧٦،حديث نمبر ٢٦٢)

حدثنا أبو مروان العثماني محمد بن عثمان حدثنا إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج أنه سمع أبا هريرة يقول والله لولا آيتان في كتاب الله تعالى ما حدثت عنه- يعني عن النبي صلى الله عليه وسلم- شيئا أبدا لولا قول الله: {إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب} إلى آخر الآيتين.

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 262

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب اس امت کے آخری زمانے کے لوگ پہلے والوں پر لعنت کرنا شروع کریں گے اس وقت جوشخص کوئی ایک بات چھپائے گا تو اس چیز کو چھپائے گا جسے اللہ تعالی نے نازل کیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ: علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص١٧٦،حديث نمبر ٢٦٣)

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا لَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا فَمَنْ كَتَمَ حَدِيثًا فَقَدْ كَتَمَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 263

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جس شخص سے کسی علمی بات کے بارے میں دریافت کیا جائے اور وہ اسے چھپا دے تو قیامت کے دن اسے آگ سے بنی ہوئی لگام ڈالی جائے گی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ: علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص١٧٧،حديث نمبر ٢٦٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرَ بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 264

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص کوئی ایسی علمی بات چھپائے جس کے ذریعے اللہ تعالی لوگوں کے معاملے میں انہیں دینی اعتبار سے کوئی نفع دے سکتا ہو تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس شخص کو آگ سے بنی ہوئی لگام ڈالے گا۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ: علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص١٧٧،حديث نمبر ٢٦٥)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ حِبَّانَ بْنِ وَاقِدٍ الثَّقَفِيُّ أَبُو إِسْحَاق الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَابٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَتَمَ عِلْمًا مِمَّا يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ فِي أَمْرِ النَّاسِ فِي الدِّينِ، أَلْجَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنَ النَّارِ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 265

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ، جس شخص سے کسی علمی چیز کے بارے میں دریافت کیا جائے جسے وہ جانتا ہو پھر اسے چھپالے تو قیامت کے دن اسے آگ سے بنی ہوئی لگام ڈالی جائے گی۔ (سنن ابن ماجہ،ابواب السنۃ:بَابُ: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ: علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان:،جلد١،ص١٧٨،حديث نمبر ٢٦٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرَابِيسِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ".

Ibne Majah Shareef, Abwabus Sunnati , Hadees No. 266

Ibne Majah Shareef : Abwabus Sunnati

|

Ibne Majah Shareef : ابواب السنۃ

|

•