
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہار ٹوٹ کر گر گیا تو وہ اس کی تلاش میں پیچھے رہ گئی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آئے اور لوگوں کے ان کی وجہ سے رک جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا تو اللہ تعالی نے تیمم کی رخصت کا حکم نازل کیا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت مونڈھوں تک مسح کیا، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اتنی بابرکت ہو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٧،حديث نمبر ٥٦٥)
حضرت محمر بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی کریمﷺ کے ساتھ کندھوں تک مسح کیا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٨،حديث نمبر ٥٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے میرے لیے تمام روئے زمین کو نماز ادا کرنے کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٨،حديث نمبر ٥٦٧)
سید عائشه صدیقه رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار ادھار لیا وہ گم ہو گیا، نبی کریمﷺ نے اپنے ساتھیوں میں سے کچھ کو اسے ڈھونڈنے کے لیے بھیجا۔ ان حضرات کی نماز کا وقت ہوگیا ان حضرات نے وضو کے بغیر نماز پڑھ لی جب یہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بات کی شکایت کی تو تیمم سے متعلق آیت نازل ہو گئی : حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا ام المومنین رضی اللہ عنہا اللہ تعالی آپ کو بہترین جزا عطا کرے۔ اللہ کی قسم آپ کو جب بھی کوئی مشکل پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے نکلنے کا راستہ دیا اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت رکھ دی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٩،حديث نمبر ٥٦٨)
سعد بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ میں جنابت کا شکار ہو گیا اور مجھے پانی دستیاب نہیں ہو سکا تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ (جو اس وقت وہاں موجود تھے) نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا: اے امیر المومنین اپ کو یاد ہے ایک مرتبہ سفر کے دوران ہمیں بھی یہی صورت لاحق ہوئی تھی آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی اور میں نے زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی تھی اور جب میں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا اور پھر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر مار کر پہلے ان پر پھونک ماری پھر ان کے ذریعے اپنے چہرے اور بازو کا مسح کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار:جلد١، ص٣٦٠،حديث نمبر ٥٦٩)
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں حکم اور سلمہ بن کہیل نے حضرت عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ تعالی عنہ سے تیمم کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا پھر جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک ماری اور پھر انہیں اپنے چہرے پر پھیر لیا۔ حکم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے انہوں نے دونوں بازو پر پھیرا جب کہ سلمہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے دونوں کہنیوں پر پھیرا (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار:جلد١، ص٣٦١،حديث نمبر ٥٧٠)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں جب ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ہمراہ تیمم کیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی ہتھیلیاں مٹی پر مارے لیکن مٹی مٹھی میں نہ لے پھر ان ہاتھوں کو ایک مرتبہ اپنے چہرے پر پھیر لے پھر دوبارہ زمین پر مارے اور اس کے ذریعے اپنے بازو پر مسح کر لے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في التَّيَمُّمِ ضَرْبَتَيْنِ:تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) دو بار:جلد١، ص٣٦١،حديث نمبر ٥٧١)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو سر میں زخم لگ گیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کی بات ہے پھر اسے احتلام لاحق ہوا تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا اس شخص نے غسل کیا تو سردی کی وجہ سے بیمار ہو کر انتقال کر گیا جب اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو نے اس کو قتل کر دیا ہے اللہ تعالی ان لوگوں کو برباد کرے کیا جاہل کے لیے پوچھ لینا شفا نہیں ہے۔ عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے ہم تک یہ روایت پہنچی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اگر وہ شخص اپنے جسم کو دھو لیتا اور سر کو چھوڑ دیتا یعنی اس جگہ کو (جہاں اس کو زخم لگا تھا تو یہ مناسب تھا) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْمَجْرُوحِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَيَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ إِنِ اغْتَسَلَ:غسل جنابت سے زخمی کو موت کا ڈر ہو تو کیا کرے؟:جلد١، ص٣٦٢،حديث نمبر ٥٧٢)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے پانی رکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کرتے ہوئے اپنے مائیں ہاتھ کے ذریعے برتن سے پانی اپنے دائیں ہاتھ پر اٹھےلا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو زمین پر ملا پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی ناک میں پانی ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا پھر دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پورے جس میں پرپانی بہایا اور پھر ذرا ہٹ کے اپنے دونوں پاؤں دھو لیے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت کا طریقہ:جلد١، ص٣٦٣،حديث نمبر ٥٧٣)
جمیع بن عمیر تیمی بیان کرتے ہیں میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ گیا ہم لوگ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے ان سے سوال کیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم غسل جنابت کیسے کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے دونوں ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی انڈھیلتے تھے (یعنی انہیں دھوتے تھے) پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برتن میں داخل کرتے تھے پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو تین مرتبہ دھوتے پھر پورے جسم پر پانی بہا لیتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت کا طریقہ:جلد١، ص٣٦٤،حديث نمبر ٥٧٤)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل جنابت کے بارے میں بحث کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تو اپنے سر پر تین لپ پانی بہا لیتا ہوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٥،حديث نمبر ٥٧٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تین مرتبہ جسم کو دھویا جائے گا اس شخص نے کہا میرے تو بال بہت زیادہ ہیں تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے اور وہ تم سے زیادہ پاکیزہ تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٦،حديث نمبر ٥٧٦)
جعفر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ٹھنڈے علاقے میں رہتا ہوں تو میں غسل جنابت کس طرح کروں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہا لیتا ہوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٦،حديث نمبر ٥٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص نے ان سے دریافت کیا میں اپنے سر پر کتنی مرتبہ پانی بہاؤں جب میں جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں تو انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے تھے وہ شخص بولا میرے بال تو لمبے ہیں تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد تم سے زیادہ تھے اور وہ زیادہ پاکیزہ تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٧،حديث نمبر ٥٧٨)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی نبی کریمﷺ غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْوُضُوءِ بَعْدَ الْغُسْلِ:کیا غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟:جلد١، ص٣٦٨،حديث نمبر ٥٧٩)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں بعض اوقات نبی کریمﷺ غسل کرنے کے بعد تشریف لاتے اور میرے جسم سے گرمی حاصل کرنا چاہتے تھے تو میں آپ کو اپنے ساتھ چمٹا لیتی تھی حالانکہ میں نے غسل نہیں کیا ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْجُنُبِ يَسْتَدْفِئُ بِامْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ:غسل جنابت کے بعد شوہر اپنی جنبی بیوی کے بدن کی گرمی حاصل کر سکتا ہے:جلد١، ص٣٦٨،حديث نمبر ٥٨٠)
Ibne Majah Shareef : Abawabut Tayammumi
|
Ibne Majah Shareef : تیمم کے احکام و مسائل
|
•