Decorative background pattern
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Ibne Majah Shareef

Ibne Majah Shareef

Abawabut Tayammumi

From 565 to 666

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookInstagramWhatsAppYouTube

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہار ٹوٹ کر گر گیا تو وہ اس کی تلاش میں پیچھے رہ گئی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آئے اور لوگوں کے ان کی وجہ سے رک جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا تو اللہ تعالی نے تیمم کی رخصت کا حکم نازل کیا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت مونڈھوں تک مسح کیا، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اتنی بابرکت ہو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٧،حديث نمبر ٥٦٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" سَقَطَ عِقْدُ عَائِشَةَ فَتَخَلَّفَتْ لِالْتِمَاسِهِ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا فِي حَبْسِهَا النَّاسَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الرُّخْصَةَ فِي التَّيَمُّمِ، قَالَ:" فَمَسَحْنَا يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَنَاكِبِ"، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ: مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 565

حضرت محمر بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی کریمﷺ کے ساتھ کندھوں تک مسح کیا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٨،حديث نمبر ٥٦٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ:" تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 566

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے میرے لیے تمام روئے زمین کو نماز ادا کرنے کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٨،حديث نمبر ٥٦٧)

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ جَمِيعًا، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 567

سید عائشه صدیقه رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار ادھار لیا وہ گم ہو گیا، نبی کریمﷺ نے اپنے ساتھیوں میں سے کچھ کو اسے ڈھونڈنے کے لیے بھیجا۔ ان حضرات کی نماز کا وقت ہوگیا ان حضرات نے وضو کے بغیر نماز پڑھ لی جب یہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بات کی شکایت کی تو تیمم سے متعلق آیت نازل ہو گئی : حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا ام المومنین رضی اللہ عنہا اللہ تعالی آپ کو بہترین جزا عطا کرے۔ اللہ کی قسم آپ کو جب بھی کوئی مشکل پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے نکلنے کا راستہ دیا اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت رکھ دی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٩،حديث نمبر ٥٦٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ،" فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسًا فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ"، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 568

سعد بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ میں جنابت کا شکار ہو گیا اور مجھے پانی دستیاب نہیں ہو سکا تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ (جو اس وقت وہاں موجود تھے) نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا: اے امیر المومنین اپ کو یاد ہے ایک مرتبہ سفر کے دوران ہمیں بھی یہی صورت لاحق ہوئی تھی آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی اور میں نے زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی تھی اور جب میں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا اور پھر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر مار کر پہلے ان پر پھونک ماری پھر ان کے ذریعے اپنے چہرے اور بازو کا مسح کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار:جلد١، ص٣٦٠،حديث نمبر ٥٦٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ" إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 569

ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں حکم اور سلمہ بن کہیل نے حضرت عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ تعالی عنہ سے تیمم کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا پھر جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک ماری اور پھر انہیں اپنے چہرے پر پھیر لیا۔ حکم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے انہوں نے دونوں بازو پر پھیرا جب کہ سلمہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے دونوں کہنیوں پر پھیرا (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار:جلد١، ص٣٦١،حديث نمبر ٥٧٠)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَنَّهُمَا سَأَلا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ التَّيَمُّمِ؟ فَقَالَ:" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّارًا أَنْ يَفْعَلَ هَكَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ"، قَالَ الْحَكَمُ: وَيَدَيْهِ، وَقَالَ سَلَمَةُ: وَمِرْفَقَيْهِ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 570

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں جب ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ہمراہ تیمم کیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی ہتھیلیاں مٹی پر مارے لیکن مٹی مٹھی میں نہ لے پھر ان ہاتھوں کو ایک مرتبہ اپنے چہرے پر پھیر لے پھر دوبارہ زمین پر مارے اور اس کے ذریعے اپنے بازو پر مسح کر لے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في التَّيَمُّمِ ضَرْبَتَيْنِ:تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) دو بار:جلد١، ص٣٦١،حديث نمبر ٥٧١)

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ " حِينَ تَيَمَّمُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ الْمُسْلِمِينَ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ التُّرَابَ، وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَمَسَحُوا بِوُجُوهِهِمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى، فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 571

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو سر میں زخم لگ گیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کی بات ہے پھر اسے احتلام لاحق ہوا تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا اس شخص نے غسل کیا تو سردی کی وجہ سے بیمار ہو کر انتقال کر گیا جب اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو نے اس کو قتل کر دیا ہے اللہ تعالی ان لوگوں کو برباد کرے کیا جاہل کے لیے پوچھ لینا شفا نہیں ہے۔ عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے ہم تک یہ روایت پہنچی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اگر وہ شخص اپنے جسم کو دھو لیتا اور سر کو چھوڑ دیتا یعنی اس جگہ کو (جہاں اس کو زخم لگا تھا تو یہ مناسب تھا) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْمَجْرُوحِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَيَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ إِنِ اغْتَسَلَ:غسل جنابت سے زخمی کو موت کا ڈر ہو تو کیا کرے؟:جلد١، ص٣٦٢،حديث نمبر ٥٧٢)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ،" أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي رَأْسِهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَكُزَّ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَفَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ"، قَالَ عَطَاءٌ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ غَسَلَ جَسَدَهُ وَتَرَكَ رَأْسَهُ حَيْثُ أَصَابَهُ الْجِرَاحُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 572

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے پانی رکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کرتے ہوئے اپنے مائیں ہاتھ کے ذریعے برتن سے پانی اپنے دائیں ہاتھ پر اٹھےلا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو زمین پر ملا پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی ناک میں پانی ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا پھر دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پورے جس میں پرپانی بہایا اور پھر ذرا ہٹ کے اپنے دونوں پاؤں دھو لیے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت کا طریقہ:جلد١، ص٣٦٣،حديث نمبر ٥٧٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ:" وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ فِي الأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 573

جمیع بن عمیر تیمی بیان کرتے ہیں میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ گیا ہم لوگ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے ان سے سوال کیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم غسل جنابت کیسے کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے دونوں ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی انڈھیلتے تھے (یعنی انہیں دھوتے تھے) پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برتن میں داخل کرتے تھے پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو تین مرتبہ دھوتے پھر پورے جسم پر پانی بہا لیتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت کا طریقہ:جلد١، ص٣٦٤،حديث نمبر ٥٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي، فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْنَاهَا كَيْفَ" كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ غُسْلِهِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ قَالَتْ: كَانَ يُفِيضُ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُدْخِلُهَا فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ رَأْسَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ"، وَأَمَّا نَحْنُ فَإِنَّا نَغْسِلُ رُؤْسَنَا خَمْسَ مِرَارٍ مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 574

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل جنابت کے بارے میں بحث کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تو اپنے سر پر تین لپ پانی بہا لیتا ہوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٥،حديث نمبر ٥٧٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 575

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تین مرتبہ جسم کو دھویا جائے گا اس شخص نے کہا میرے تو بال بہت زیادہ ہیں تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے اور وہ تم سے زیادہ پاکیزہ تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٦،حديث نمبر ٥٧٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ،" أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: ثَلَاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنْ شَعْرِي كَثِيرٌ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 576

جعفر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ٹھنڈے علاقے میں رہتا ہوں تو میں غسل جنابت کس طرح کروں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہا لیتا ہوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٦،حديث نمبر ٥٧٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَنَا فِي أَرْضٍ بَارِدَةٍ فَكَيْفَ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنَا فَأَحْثُو عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 577

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص نے ان سے دریافت کیا میں اپنے سر پر کتنی مرتبہ پانی بہاؤں جب میں جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں تو انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے تھے وہ شخص بولا میرے بال تو لمبے ہیں تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد تم سے زیادہ تھے اور وہ زیادہ پاکیزہ تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٧،حديث نمبر ٥٧٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بِنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، سَأَلَهُ رَجُلٌ كَمْ أُفِيضُ عَلَى رَأْسِي وَأَنَا جُنُبٌ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ"، قَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ شَعْرِي طَوِيلٌ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 578

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی نبی کریمﷺ غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْوُضُوءِ بَعْدَ الْغُسْلِ:کیا غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟:جلد١، ص٣٦٨،حديث نمبر ٥٧٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 579

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں بعض اوقات نبی کریمﷺ غسل کرنے کے بعد تشریف لاتے اور میرے جسم سے گرمی حاصل کرنا چاہتے تھے تو میں آپ کو اپنے ساتھ چمٹا لیتی تھی حالانکہ میں نے غسل نہیں کیا ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْجُنُبِ يَسْتَدْفِئُ بِامْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ:غسل جنابت کے بعد شوہر اپنی جنبی بیوی کے بدن کی گرمی حاصل کر سکتا ہے:جلد١، ص٣٦٨،حديث نمبر ٥٨٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُرَيْثٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ يَسْتَدْفِئُ بِي قَبْلَ أَنْ أَغْتَسِلَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 580

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں سوجایا کرتے تھے اپ پانی استعمال نہیں کرتے یعنی غسل نہیں کرتے تھے پھر اپ بیدار ہونے کے بعد غسل کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْجُنُبِ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لاَ يَمَسُّ مَاءً:غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم:جلد١، ص٣٦٩،حديث نمبر ٥٨١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَغْتَسِلَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 581

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اہلیہ کے ساتھ جو حاجت ہوتی تھی اسے پورا کرتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں سو جایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی استعمال نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْجُنُبِ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لاَ يَمَسُّ مَاءً:غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم:جلد١، ص٣٦٩،حديث نمبر ٥٨٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى أَهْلِهِ حَاجَةٌ قَضَاهَا، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لَا يَمَسُّ مَاءً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 582

سیدہ عائشہ صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت لاحق ہو جاتی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں سو جایا کرتے تھے اور پانی استعمال نہیں کرتے تھے (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْجُنُبِ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لاَ يَمَسُّ مَاءً:غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم:جلد١، ص٣٦٩،حديث نمبر ٥٨٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لَا يَمَسُّ مَاءً"، قَالَ سُفْيَانُ: فَذَكَرْتُ الْحَدِيثَ يَوْمًا، فَقَالَ لِي إِسْمَاعِيل: يَا فَتَى يُشَدُّ هَذَا الْحَدِيثُ بِشَيْءٍ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 583

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جنابت کی حالت میں سونا ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیتے ہیں (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ قَالَ لاَ يَنَامُ الْجُنُبُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ: جنبی کے نماز جیسا وضو کئے بغیر نہ سونے کا بیان:جلد١، ص٣٧٠،حديث نمبر ٥٨٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، نَبَّأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 584

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کیا ہم میں سے کوئی ایک شخص جنات کی حالت میں سو سکتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی ہاں جب وہ وضو کر لے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ قَالَ لاَ يَنَامُ الْجُنُبُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ: جنبی کے نماز جیسا وضو کئے بغیر نہ سونے کا بیان:جلد١، ص٣٧١،حديث نمبر ٥٨٥)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَر ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 585

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ انہیں رات کے وقت جنابت لاحق ہو گئی انہوں نے سونے کا ارادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی وہ وضو کر کے سوئے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ قَالَ لاَ يَنَامُ الْجُنُبُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ: جنبی کے نماز جیسا وضو کئے بغیر نہ سونے کا بیان:جلد١، ص٣٧١،حديث نمبر ٥٨٦)

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ بِاللَّيْلِ فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ،" فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَنَامَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 586

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب کوئی اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے اور دوبارہ کرنا چاہے تو اس سے پہلے وضو کر لینا چاہیے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:. بَابٌ في الْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ الْعَوْدَ تَوَضَّأَ:جنبی اگر دوبارہ ہمبستری کرنا چاہے تو وضو کرے:جلد١، ص٣٧٢،حديث نمبر ٥٨٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 587

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنی تمام اجواز کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد ایک ہی مرتبہ غسل کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ يَغْتَسِلُ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ غُسْلاً وَاحِدًا:ساری بیویوں سے ہمبستری کے بعد ایک ہی غسل کرے تو کیسا ہے؟:جلد١، ص٣٧٢،حديث نمبر ٥٨٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 588

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا گیا تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک رات میں اپنی تمام ازواج کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد غسل کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ يَغْتَسِلُ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ غُسْلاً وَاحِدًا:ساری بیویوں سے ہمبستری کے بعد ایک ہی غسل کرے تو کیسا ہے؟:جلد١، ص٣٧٣،حديث نمبر ٥٨٩)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا،" فَاغْتَسَلَ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 589

حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک رات نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج کے ساتھ صحبت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ہر ایک کے ہاں غسل کرتے رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی مرتبہ اخر میں (غسل کیوں نہیں کیا) اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ زیادہ پاکیزہ زیادہ صاف اور زیادہ پاک ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: فِيمَنْ يَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدَةٍ غُسْلاً: ہر بیوی سے ہمبستری کے بعد الگ الگ غسل کا بیان:جلد١، ص٣٧٣،حديث نمبر ٥٩٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا؟ فَقَالَ:" هُوَ أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 590

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں کچھ کھانے کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ:بَابٌ في الْجُنُبِ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ:جنابت کی حالت میں کھانے پینے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٧٤،حديث نمبر ٥٩١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَغُنْدَرٌ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 591

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حنبی شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا کیا وہ سو سکتا ہے یا کچھ کھا سکتا ہے یا کچھ پی سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں جب وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ:بَابٌ في الْجُنُبِ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ:جنابت کی حالت میں کھانے پینے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٧٤،حديث نمبر ٥٩٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ صُبَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُنُبِ هَلْ يَنَامُ، أَوْ يَأْكُلُ، أَوْ يَشْرَبُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 592

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کچھ کھانا ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جنابت کی حالت میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ دھو لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ قَالَ يُجْزِئُهُ غَسْلُ يَدَيْهِ: کھانے پینے کے لیے جنبی کا صرف ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے:جلد١، ص٣٧٥،حديث نمبر ٥٩٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ غَسَلَ يَدَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 593

عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت پوری کرتے تھے پھر واپس تشریف لا کر ہمارے ساتھ روٹی اور گوشت کھا لیتے تھے اور قرآن کی تلاوت بھی کر لیتے تھے قرآن کی تلاوت سے کوئی چیز اپ کے لیے رکاوٹ نہیں ہوتی تھی (یہاں راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے) البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے۔ (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں قران کی تلاوت نہیں کرتے تھے) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ:بےوضو قرآن پڑھنے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٧٥،حديث نمبر ٥٩٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْتِي الْخَلَاءَ فَيَقْضِي الْحَاجَةَ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَأْكُلُ مَعَنَا الْخُبْزَ، وَاللَّحْمَ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَلَا يَحْجُبُهُ، وَرُبَّمَا قَالَ: لَا يَحْجُزُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ إِلَّا الْجَنَابَةُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 594

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جنبی شخص اور حیض والی عورت قرآن نہیں پڑھ سکتے ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ:بےوضو قرآن پڑھنے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٧٦،حديث نمبر ٥٩٥)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ الْجُنُبُ، وَلَا الْحَائِضُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 595

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنبی شخص اور حیض والی عورت قران کی تلاوت بالکل نہ کرے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ:بےوضو قرآن پڑھنے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٧٦،حديث نمبر ٥٩٦)

قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْرَأُ الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 596

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے تو تم بالوں کو دھویا کرو اور جلد صاف کیا کرو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةٌ: ہر بال کے نیچے جنابت ہے:جلد١، ص٣٧٦،حديث نمبر ٥٩٧)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً، فَاغْسِلُوا الشَّعَرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 597

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں پانچ نمازیں ایک جمعے سے لے کر دوسرے جمعے تک امانت کو ادا کرنا یہ سب درمیان میں ہونے والے گناہ کا کفارہ ہوتے ہیں راوی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا امانت کو ادا کرنے سے کیا مراد ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غسل جنابت کرنا کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةٌ: ہر بال کے نیچے جنابت ہے:جلد١، ص٣٧٧،حديث نمبر ٥٩٨)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا"، قُلْتُ: وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ؟ قَالَ:" غُسْلُ الْجَنَابَةِ فَإِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 598

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص جنابت کی حالت میں اپنے جسم کی ایک بال کے برابر جگہ چھوڑ دیتا ہے اور اسے نہیں دھوتا ہے تو اس کے ساتھ جہنم میں یہ اور یہ کیا جائے گا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اسی وجہ سے میں اپنے بالوں کا دشمن بن گیا ہو راوی کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اسی وجہ سے اپنے سر کے بال منڈوا کررکھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةٌ: ہر بال کے نیچے جنابت ہے:جلد١، ص٣٧٨،حديث نمبر ٥٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ"، قَالَ عَلِيٌّ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعَرِي وَكَانَ يَجُزُّهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 599

سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہے ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتے ہیں (یعنی جس عورت کو احتلام ہو جاتا ہے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں جب وہ پانی (منی یعنی احتلام کا نشان دیکھے ) تو اسے غسل کر لینا چاہیے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے کہا تم نے خواتین کو شرمندہ کر دیا ہے کیا کسی عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ اپ نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک الود ہوں (اگر عورت کو احتلام نہ ہوتا تو) تو پھر بچہ کس وجہ سے اس کے ساتھ مشابہت رکھتا ہوگا؟ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ:مرد کی طرح عورت کو خواب میں احتلام ہو تو کیا حکم ہے؟:جلد١، ص٣٧٩،حديث نمبر ٦٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أَمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ قَالَ:" نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ"، فَقُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ، وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 600

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں سیدہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے نبی کریمﷺ سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب عورت یہ چیز دیکھے اور اسے انزال ہو جائے تو عورت پر غسل لازم ہوگا۔ سیدہ ام سلمہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں مرد کا مادہ سفید اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا مادہ پتلا اور زرد ہوتا ہے ان میں سے جو اگے نکل جائے یا جو غالب ائے بچہ اس کے ہاتھ مشابہت رکھتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ:مرد کی طرح عورت کو خواب میں احتلام ہو تو کیا حکم ہے؟:جلد١، ص٣٧٩،حديث نمبر ٦٠١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ" سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَتْ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ"، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَكُونُ هَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَهَهُ الْوَلَدُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 601

سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر اس وقت تک غسل لازم نہیں ہوگا جب تک اس سے انزال نہیں ہو جاتا بالکل اسی طرح جس طرح مرد پر اس وقت تک غسل لازم نہیں ہوتا جب تک اسے انزال نہیں ہو جاتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ:مرد کی طرح عورت کو خواب میں احتلام ہو تو کیا حکم ہے؟:جلد١، ص٣٨٠،حديث نمبر ٦٠٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ ، أَنَّهَا" سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ:" لَيْسَ عَلَيْهَا غُسْلٌ حَتَّى تُنْزِلَ، كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ غُسْلٌ حَتَّى يُنْزِلَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 602

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عورت ہو جس نے بالو کی مینڈیاں بنائی ہوتی ہیں تو کیا میں غسل جنابت کے لیے انہیں کھول لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ان پر پانی کے تین لب بہا دیا کرو پھر تم اپنے جسم پر پانی بہا لو تو تم پاک ہو جاؤ گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) اس صورت میں تم پاک ہو جاؤ گے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النِّسَاءِ مِنَ الْجَنَابَةِ:عورتوں کے غسل جنابت کا طریقہ:جلد١، ص٣٨٠،حديث نمبر ٦٠٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ مِنَ الْمَاءِ فَتَطْهُرِينَ" أَوْ قَالَ:" فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 603

عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اس بات کا پتہ چلا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ خواتین کو یہ ہدایت کرتے ہیں وہ غسل کرتے وقت اپنے بالوں کو کھول لیا کرے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ابن عمر پر حیرت ہے وہ ان خواتین کو یہ ہدایت کیوں نہیں کرتے کہ وہ اپنے سر منڈ والے میں خود اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم ایک ہی برتن کے ذریعے غسل کرتے تھے تو میں صرف تین مرتبہ اپنے سر پر پانی بہاتی تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النِّسَاءِ مِنَ الْجَنَابَةِ:عورتوں کے غسل جنابت کا طریقہ:جلد١، ص٣٨١،حديث نمبر ٦٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَأْمُرُ نِسَاءَهُ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ، فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا، أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ، لَقَدْ" كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 604

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بھی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے۔ (راوی نے دریافت کیا) اے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ پھر وہ شخص کیا کرے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا وہ پانی حاصل کرے (اور پھر اس کے ذریعے غسل کرے) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ:بَابُ: الْجُنُبِ يَنْغَمِسُ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ أَيُجْزِئُهُ:کیا جنبی کا ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہٰ لگا لینا کافی ہے؟:جلد١، ص٣٨٢،حديث نمبر ٦٠٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيَّانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ"، فَقَالَ: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلًا.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 605

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے گھر کے پاس سے گزرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا وہ شخص باہر آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں جلدی مبتلا کردیا ہے ۔ اس نے عرض کی جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمہیں جلدی ہو یا تمہیں انزال سے روک دیا گیا ہو تو تم پر غسل لازم نہیں ہوگا تم پر وضو لازم ہوا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْمَاءِ مِنَ الْمَاءِ: انزال (منی نکلنے) سے غسل واجب ہو جاتا ہے:جلد١، ص٣٨٢،حديث نمبر ٦٠٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ:" لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ"، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِذَا أُعْجِلْتَ، أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 606

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے پانی (یعنی منی) کی وجہ سے پانی (یعنی غسل) لازم ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْمَاءِ مِنَ الْمَاءِ: انزال (منی نکلنے) سے غسل واجب ہو جاتا ہے:جلد١، ص٣٨٣،حديث نمبر ٦٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُعَادَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 607

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں جب ختنے ختنوں سے مل جائیں (یعنی شرمگاہ شرمگاہ سے مل جائے) تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔میں نے اور نبی کریم ﷺ نے ایسا کیا تو ہم دونوں نے غسل کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ مِنَ الْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ: مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب:جلد١، ص٣٨٣،حديث نمبر ٦٠٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 608

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی پھر بعد میں ہمیں (ایسی صورت حال میں) غسل کرنے کا حکم دیا گیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ مِنَ الْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ: مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب:جلد١، ص٣٨٤،حديث نمبر ٦٠٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ، قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، أَنْبَأَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَال:" إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِالْغُسْلِ بَعْدُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 609

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھے اور اسے مشقت میں مبتلا کرے (یعنی صحبت کرے) تو اس پر غسل واجب ہو جائے گا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ مِنَ الْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ: مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب:جلد١، ص٣٨٥،حديث نمبر ٦١٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 610

عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب شرمگاہیں مل جائیں اور حشفہ چھپ جائے تو غسل لازم ہو جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ مِنَ الْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ: مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب:جلد١، ص٣٨٥،حديث نمبر ٦١١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَتَوَارَتِ الْحَشَفَةُ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 611

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو اور وہ تری دیکھے اور اس کا یہ خیال نہ ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے تو وہ غسل کرے لیکن جب اس کا یہ خیال ہوا ہے کہ اسے احتلام ہوا ہے اور اسے تری نظر نہ آئے تو اس پر اس لازم نہیں ہوگا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنِ احْتَلَمَ وَلَمْ يَرَ بَلَلاً: جسے احتلام ہو اور تری نہ دیکھے اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٨٦،حديث نمبر ٦١٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَرَأَى بَلَلًا، وَلَمْ يَرَ أَنَّهُ احْتَلَمَ اغْتَسَلَ، وَإِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ، وَلَمْ يَرَ بَلَلًا فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 612

حضرت ابو سمح بیان کرتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہدایت کرتے تو میں اپنی پشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر لیتا اور کپڑے کو پھیلا دیتا میں اس کے ذریعے اپ کا پردہ کر لیتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الْغُسْلِ:غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان:جلد١، ص٣٨٧،حديث نمبر ٦١٣)

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ ، قَالَ:" كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ، قَالَ: وَلِّنِي، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ، وَأَنْشُرُ الثَّوْبَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 613

عبد اللہ بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں میں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران نوافل (یعنی سنتیں) ادا کیا کرتے تھے تو مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا جو مجھے اس بارے میں بتاتا صرف سید ام ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ تعالی عنہا نے مجھے یہ بات بتائی کہ فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت پردہ کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ نوافل (یعنی نماز چاشت) ادا کی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الْغُسْلِ:غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان:جلد١، ص٣٨٧،حديث نمبر ٦١٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ فِي سَفَرٍ، حَتَّى أَخْبَرَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَامَ الْفَتْحِ،" فَأَمَرَ بِسِتْرٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ سَبَّحَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 614

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کوئی بھی شخص کھلی جگہ پر ہرگز غسل نہ کرے اور کسی بلندی جگہ پر اس طرح غسل نہ کرے کہ اس کو چھپانے کے لیے کوئی آڑ نہ ہو اگر وہ نہیں دیکھتا تو اسے تو دیکھا جا رہا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الْغُسْلِ:غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان:جلد١، ص٣٨٨،حديث نمبر ٦١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَغْتَسِلَنَّ أَحَدُكُمْ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، وَلَا فَوْقَ سَطْحٍ لَا يُوَارِيهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ يَرَى فَإِنَّهُ يُرَى".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 615

حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جانا چاہتا ہو اور اس وقت نماز بھی کھڑی ہو چکی ہو تو اسے پہلے (قضائے حاجت کر لینی چاہیے) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ لِلْحَاقِنِ أَنْ يُصَلِّيَ:پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھنے کی ممانعت:جلد١، ص٣٨٨،حديث نمبر ٦١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلْيَبْدَأْ بِهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 616

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ جب آدمی کو قضائے حاجت کی ضرورت ہو اس وقت نماز پڑھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ لِلْحَاقِنِ أَنْ يُصَلِّيَ:پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھنے کی ممانعت:جلد١، ص٣٨٩،حديث نمبر ٦١٧)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ السَّفْرِ بْنِ نُسَيْر ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 617

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کوئی بھی شخص نماز کے لیے ایسی حالت میں نہ کھڑا ہو کہ اسے تکلیف دہ چیز لاحق ہو (یعنی اسے قضائے حاجت کی ضرورت ہو)۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ لِلْحَاقِنِ أَنْ يُصَلِّيَ:پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھنے کی ممانعت:جلد١، ص٣٨٩،حديث نمبر ٦١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَبِهِ أَذًى".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 618

حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مسلمانوں سے کوئی بھی شخص نماز کے لیے اس وقت کھڑا نہ ہو جبکہ اس کو قضائے حاجت کی طلب ہو یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہو جائے تو (پھر نماز ادا کرے) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ لِلْحَاقِنِ أَنْ يُصَلِّيَ:پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھنے کی ممانعت:جلد١، ص٣٩٠،حديث نمبر ٦١٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَقُومُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ حَاقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 619

ارواح بن زبیر بیان کرتے ہیں سیدہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ تعالی عنہا نے انہیں یہ بات بتائی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خون کی آمد کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کسی اور رگ کا خون ہے تم اس کا جائزہ لو جب تمہارے حیض کے مخصوص دن گزر جائے تو تم پاک ہو جاؤ اور پھر ایک حیض سے دوسرے حیض کے (درمیانی دنوں) میں نماز ادا کرتی رہو- (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩١،حديث نمبر ٦٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ ، حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَى قَرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا مَرَّ الْقَرْءُ فَتَطَهَّرِي، ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقَرْءِ إِلَى الْقَرْءِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 620

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ‌ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی شکایت ہے میں پاک نہیں ہوتی ہوں کیا میں نماز پڑھنا چھوڑ دوں ؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا نہیں یہ کسی دوسری رگ کا خون ہے ،ہی حیض نہیں ہے جب حیض آجائے تو تم نماز پڑھنا ترک کردو جب وہ چلا جائے تو تم خون کو دھو کر نماز پڑھنا شروع کردو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩١،حديث نمبر ٦٢١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي"، هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 621

سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے مجھے بہت زیادہ استحاضہ کی شکایت ہو گئی وہ بیان کرتی ہے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ دریافت کروں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤں وہ بیان کرتی ہیں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بہن سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا کہ ہاں ملے وہ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا کام ہے اے بی بی میں نے عرض کی مجھے طویل عرصے سے استحاضہ کی شکایت ہے جو بہت زیادہ ہے اس کی وجہ سے میں نماز بھی ادا نہیں کر پاتی اور روزہ بھی نہیں رکھ پاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہیں روئی استعمال کرنے کی تجوید دوں گا کیونکہ یہ خون کو روک دیتی ہے میں نے عرض کی وہ اس سے زیادہ ہے، اس کے بعد راوی نے شریک کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩٢،حديث نمبر ٦٢٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ إِمْلَاءً عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ وَكَانَ السَّائِلُ غَيْرِي، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً طَوِيلَةً، قَالَتْ: فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ، قَالَتْ: فَوَجَدْتُهُ عِنْدَ أُخْتِي زَيْنَبَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، قَالَ:" وَمَا هِيَ أَيْ هَنْتَاهُ"، قُلْتُ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً طَوِيلَةً كَبِيرَةً وَقَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ، فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا؟ قَالَ:" أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ"، قُلْتُ: هُوَ أَكْثَرُ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيث شَرِيكٍ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 622

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اس نے عرض کی مجھے استحاضہ کی شکایت ہے میں پاک نہیں ہوتی تو کیا نماز چھوڑ دوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں بلکہ پہلے تمہیں جن دنوں میں حیض اتا تھا ان دنوں کی مقدار میں نماز ترک کر دو یہاں ابوبکر نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں مہینے میں جتنے دن ایسا ہوتا تھا پھر تو غسل کرو اور کپڑا باندھ لو اور نماز ادا کرنا شروع کر دو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩٣،حديث نمبر ٦٢٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ:" وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَصَلِّي".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 623

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے فاطمہ بنت ابو حبیش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی شکایت ہے میں پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز ترک کر دوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں یہ کسی دوسری جگہ کا خون ہے یہ حیض نہیں ہے تو اپنے حیض کے مخصوص دنوں میں نماز سے استناب کرو پھر غسل کر کے ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرو اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩٤،حديث نمبر ٦٢٤)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ اجْتَنِبِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 624

عدی بن ثابت اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں استحاضہ والی عورت اپنے حیض کے مخصوص دنوں میں نماز ترک کر دے اور پھر وہ غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی اور وہ عورت روزہ بھی رکھے گی اور نماز بھی پڑھے گی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩٥،حديث نمبر ٦٢٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ، وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَتَصُومُ، وَتُصَلِّي".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 625

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی وہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کی اہلیہ تھی انہیں سات سال تک یہ شکایت رہی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ حیض نہیں یہ کسی دوسرے رگ کا خون ہے جب تمہیں حیض ا جائے تو تم نماز ترک کر دو اور جب وہ رخصت ہو جائے تو تم غسل کر کے نماز ادا کرنا شروع کر دو۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں وہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھی اور پھر نماز ادا کرتی تھی وہ اپنی بہن سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ٹپ میں بیٹھ جاتی تھی یہاں تک کہ اس کے خون کی سرخی پانی پر غالب آجاتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا اخْتَلَطَ عَلَيْهَا الدَّمُ فَلَمْ تَقِفْ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا:حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق نہ کر سکنے والی اور اپنے حیض کے دن کا علم نہ رکھنے والی مستحاضہ کا بیان:جلد١، ص٣٩٥،حديث نمبر ٦٢٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، ثُمَّ تُصَلِّي، وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 626

سیدہ ام حمنہ بنت حجش رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں انہیں استحاضہ کی شکایت ہو گئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے عرض کی مجھے انتہائی شدید استحاضہ کی شکایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روئی استعمال کرو انہوں نے عرض کی وہ اس سے زیادہ ہے یہ تو بہت زیادہ بہتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم کپڑے کو مضبوطی سے باندھ لو اللہ تعالی کے حکم کے مطابق ہر مہینے میں چھ یا سات دن حیض کے گنتی کرو پھر اس کے بعد غسل کر لو اور 23 سے 24 دن تک نماز ادا کرتی رہو اور روزہ رکھتی رہو تم ظہر کی نماز کو موخر کر کے اور عصر کی نماز کو جلدی ادا کر لیا کرو ہر دو نمازوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کیا کرو پھر مغرب کی نماز کو موخر کر کے عشاء کی نماز کو جلدی ادا کر لیا کرو ان دونوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کیا کرو میرے نزدیک یہ زیادہ پسندیدہ بات ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبِكْرِ إِذَا ابْتُدِئَتْ مُسْتَحَاضَةً أَوْ كَانَ لَهَا أَيَّامُ حَيْضٍ فَنَسِيَتْهَا:باکرہ شروع ہی سے مستحاضہ ہو جائے یا حیض کے دنوں کو بھول جائی تو کیا کرے؟:جلد١، ص٣٩٧،حديث نمبر ٦٢٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي اسْتُحِضْتُ حَيْضَةً مُنْكَرَةً شَدِيدَةً، قَالَ لَهَا:" احْتَشِي كُرْسُفًا"، قَالَتْ لَهُ: إِنَّهُ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ إِنِّي أَثُجُّ ثَجًّا، قَالَ:" تَلَجَّمِي وَتَحَيَّضِي فِي كُلِّ شَهْرٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ سِتَّةَ أَيَّامٍ، أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ اغْتَسِلِي غُسْلًا فَصَلِّي وَصُومِي ثَلَاثَةً وَعِشْرِينَ، أَوْ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ، وَأَخِّرِي الظُّهْرَ وَقَدِّمِي الْعَصْرَ، وَاغْتَسِلِي لَهُمَا غُسْلًا، وَأَخِّرِي الْمَغْرِبَ وَعَجِّلِي الْعِشَاءَ، وَاغْتَسِلِي لَهُمَا غُسْلًا، وَهَذَا أَحَبُّ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 627

سیدہ ام قیش بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا جو کپڑے پر لگ جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے اسے دھو لو اور اسے خھرچ بھی دو اگرچہ ہڈی کے ذریعے ایسا نہ کرو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في مَا جَاءَ فِي دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ:حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٣٩٨،حديث نمبر ٦٢٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ هُرْمُزَ أَبِي الْمِقْدَامِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ؟ قَالَ:" اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ، وَالسِّدْرِ، وَحُكِّيهِ وَلَوْ بِضِلَعٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 628

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ ایک خاتون بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی وسلم میں حاضر ہوئی اور عرض کی اگر کسی عورت کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اسے اچھی طرح مل کر پانی سے دھو لے پھر اس پر پانی چھڑکے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز ادا کریں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في مَا جَاءَ فِي دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ:حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٣٩٨،حديث نمبر ٦٢٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ؟ قَالَ:" اقْرُصِيهِ وَاغْسِلِيهِ وَصَلِّي فِيهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 629

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں جب ہم سے کوئی خاتون حائضہ ہوتی تو طہارت کے وقت وہ اس خون کھرچ کر اس حصے کو دھوتی اور کپڑے پر پانی چھڑک کر اسی میں نماز پڑھ لیتی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في مَا جَاءَ فِي دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ:حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٣٩٩،حديث نمبر ٦٣٠)

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" إِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتَحِيضُ، ثُمَّ تَقْتَنِصُ الدَّمَ مِنْ ثَوْبِهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فَتَغْسِلُهُ، وَتَنْضَحُ عَلَى سَائِرِهِ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 630

حضرت معاذہ بیان کرتی ہے ایک عورت نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا کیا پاک ہونے کے بعد ہمیں نمازوں کی قضا ادا کرنا ہوگی تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا کیا تم حروریہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں بھی حیض ایا کرتا تھا پھر ہم پاک ہو جاتی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْحَائِضِ لاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ: حائضہ عورت نماز کی قضاء نہ پڑھے:جلد١، ص٤٠٠،حديث نمبر ٦٣١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهَا أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟" قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَطْهُرُ وَلَمْ يَأْمُرْنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 631

سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مسجد میں سے مجھے چٹائی پکڑا دو میں نے عرض کی میں تو حیض کی حالت میں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْحَائِضِ تَتَنَاوَلُ الشَّيْءَ مِنَ الْمَسْجِدِ:حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤٠٠،حديث نمبر ٦٣٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ"، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ:" لَيْسَتْ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 632

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری طرف بڑھا دیتے اور میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اعتکاف کیا ہوتا تھا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کو دھو دیتی تھی اور اس میں کنگھی کر دیا کرتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْحَائِضِ تَتَنَاوَلُ الشَّيْءَ مِنَ الْمَسْجِدِ:حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤٠٠،حديث نمبر ٦٣٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُدْنِي رَأْسَهُ إِلَيَّ وَأَنَا حَائِضٌ، وَهُوَ مُجَاوِرٌ تَعْنِي: مُعْتَكِفًا، فَأَغْسِلُهُ، وَأُرَجِّلُهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 633

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ لیتے تھے میں اس وقت حالت حیض میں ہوتی تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت کر لیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْحَائِضِ تَتَنَاوَلُ الشَّيْءَ مِنَ الْمَسْجِدِ:حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤٠١،حديث نمبر ٦٣٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 634

سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں جب جب ہم (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات) میں سے کوئی حائضہ ہوتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مباشرت کا ارادہ کرتے تو اس سے ازار باندھنے کا حکم دیتے پھر اس سے مباشرت کر لیتے پھر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا راوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تم میں سے کون اپنی خواہش پر اس طرح قابو رکھ سکتا ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر قابو رکھتے تھے؟ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا: حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟:جلد١، ص٤٠٢،حديث نمبر ٦٣٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا، أَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَأْتَزِرَ فِي فَوْرِ حَيْضَتِهَا، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 635

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں جب ہم (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج) میں سے کوئی ایک حائضہ ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ازار باندھنے کا حکم دیتے پھر اس سے مباشرت کر لیتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا: حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟:جلد١، ص٤٠٣،حديث نمبر ٦٣٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ أَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَأْتَزِرَ بِإِزَارٍ، ثُمَّ يُبَاشِرُهَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 636

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں لیٹی ہوئی تھی مجھے وہی چیزیں محسوس ہوئی جو خواتین کو حیض کے حوالے سے محسوس ہوتی ہے میں لحاف میں کھسک کر نکل گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا تمہیں حیض آگیا میں نے عرض کی مجھے وہی چیز محسوس ہوئی ہے جو خواتین کو حیض کے حوالے سے محسوس ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ وہ چیز ہے جو اللہ تعالی نے آدم کو بیٹیوں پر لازم کر دی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں وہاں سے اٹھ کر گئی میں نے اپنے معاملہ ٹھیک کیا پھر میں واپس آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آجاؤ اور میرے ساتھ لحاف میں داخل ہو جاؤ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں داخل ہو گئی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا: حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟:جلد١، ص٤٠٣،حديث نمبر ٦٣٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ، فَوَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ، فَانْسَلَلْتُ مِنَ اللِّحَافِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَفِسْتِ"؟ قُلْتُ: وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ، قَالَ:" ذَلِكِ مَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ"، قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَالَيْ فَادْخُلِي مَعِي فِي اللِّحَافِ"، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ مَعَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 637

حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے ان سے دریافت کیا حیض کے دوران اپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کرتی تھی تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا ہم میں سے کوئی ایک حیض کی ابتدائی دنوں میں جب شدید خون آرہا ہوتا تو وہ خون نصف رانوں تک تہبند باندھ لیتی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹ جایا کرتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا: حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟:جلد١، ص٤٠٤،حديث نمبر ٦٣٨)

حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَأَلْتُهَا كَيْفَ كُنْتِ تَصْنَعِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَيْضَةِ؟ قَالَتْ:" كَانَتْ إِحْدَانَا فِي فَوْرِهَا أَوَّلَ مَا تَحِيضُ تَشُدُّ عَلَيْهَا إِزَارًا إِلَى أَنْصَافِ فَخِذَيْهَا، ثُمَّ تَضْطَجِعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 638

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی حیض والی عورت کے ساتھ یا کسی عورت کے ساتھ اس کے پچھلی شرمگاہ سے صحبت کرے یا کسی کاہن کے پاس جائے اورکہی ہوئی بات کی تصدیق کرے تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت سے جماع منع ہے:جلد١، ص٤٠٤،حديث نمبر ٦٣٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَكِيمٍ الْأَثْرَمِ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَتَى حَائِضًا، أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا، أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 639

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نقل کرتے ہیں جو شخص اپنی حیض والی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى حَائِضًا:جو حائضہ عورت سے جماع کرے اس کے کفارے کا بیان:جلد١، ص٤٠٥،حديث نمبر ٦٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ:" يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ، أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 640

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا وہ اس وقت حیض کی حالت میں تھی تم اپنے سر کے بال کھول دو اور غسل کر لو علی نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں تم اپنے سر کو کھول دو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْحَائِضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ:حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟:جلد١، ص٤٠٨،حديث نمبر ٦٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا وَكَانَتْ حَائِضًا:" انْقُضِي شَعْرَكِ، وَاغْتَسِلِي"، قَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ:" انْقُضِي رَأْسَكِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 641

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں سیدہ اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے بعد غسل کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت پانی اور بیری کے پتے لے کر ان کے ذریعے غسل کرے اور اچھی طرح طہارت حاصل کرے پھر اپنے سر پر پانی بہا کر اچھی طرح ملے یہاں تک کہ وہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر وہ اپنے جسم پر پانی بہا لے پھر مشک لگی روئی کو لے کر اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے دریافت کیا میں اس کے ذریعے کیسے پاکی حاصل کروں؟ ( یہاں سنن ابن ماجہ کے ایک نسخے میں یہ الفاظ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سبحان اللہ تم اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرو) (صوفیا نامی راوی خاتون بیان کرتی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا ان کے کہنے کا انداز یہ تھا جیسے وہ یہ مخفی طور پر بیان کر رہی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی وہ خون کے نشانات کو اس کے ذریعے صاف کرلے) وہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت پانی لے پھر اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرے اور اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کرے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) وہ اس کے ذریعے طہارت کے حصول میں مبالغہ کرے پھر وہ اپنے جسم پر پانی بہائے اور اس سے ملے یہاں تک کہ پانی سر کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر وہ اپنے جسم پر پانی بہا لے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں انصار کی خواتین اس حوالے سے اچھی ہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں حیا ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْحَائِضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ:حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟:جلد١، ص٤٠٩،حديث نمبر ٦٤٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ:" تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَهَا فَتَطْهُرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تَبْلُغُ فِي الطُّهُورِ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطْهُرُ بِهَا"، قَالَتْ أَسْمَاءُ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا"، قَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ، تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ، قَالَتْ: وَسَأَلَتْهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:" تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا فَتَطْهُرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تَبْلُغُ فِي الطُّهُورِ حَتَّى تَصُبَّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهَا"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَمْنَعْهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 642

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں بعض اوقات میں حیض کی حالت میں کوئی ہڈی چوستی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ مبارک اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ مبارک رکھا تھا۔ اسی طرح میں کسی برتن میں پیتی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر اپنا منہ مبارک اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا حالانکہ میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي سُؤْرِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے جھوٹے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤١٠،حديث نمبر ٦٤٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي، وَأَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي وَأَنَا حَائِضٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 643

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ وہ ایک ہی گھر میں حیض والی خواتین کے ساتھ نہیں بیٹھتے تھے ان کے ساتھ کھاتے نہیں تھے پیتے نہیں تھے راوی بیان کرتے ہیں اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی۔(ترجمہ) لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم یہ فرما دو وہ گندگی ہے تو تم حیض کے دوران خواتین سے الگ رہو. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد نے فرمایا نہیں تم صحبت کرنے کے علاوہ وہ سب کچھ کر سکتے ہو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي سُؤْرِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے جھوٹے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤١٠،حديث نمبر ٦٤٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا لَا يَجْلِسُونَ مَعَ الْحَائِضِ فِي بَيْتٍ، وَلَا يَأْكُلُونَ، وَلَا يَشْرَبُونَ، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الْجِمَاعَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 644

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بلند آواز میں اعلان کیا بے شک مسجد جنبی شخص اور حیض والی عورت کے لیے حلال نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في مَا جَاءَ فِي اجْتِنَابِ الْحَائِضِ الْمَسْجِدَ:حائضہ عورت مسجد سے دور رہے:جلد١، ص٤١٠،حديث نمبر ٦٤٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ مَحْدُوجٍ الذُّهْلِيِّ ، عَنْ جَسْرَةَ ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْحَةَ هَذَا الْمَسْجِدِ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ:" إِنَّ الْمَسْجِدَ لَا يَحِلُّ لِجُنُبٍ، وَلَا لِحَائِضٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 645

سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی خواتین کے بارے میں جو طہر کے بعد وہ چیز دیکھتی ہے جو اسے شک میں مبتلا کر دے اس کے بارے میں یہ فرمایا یہ کسی دوسری رگ کا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے دوسری رگوں کا مواد) محمد بن یحیی بیان کرتے ہیں ان کی مراد یہ تھی کہ پاکی کے بعد سے مراد غسل کے بعد ہے۔ (اس کا یہ حکم ہے) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحَائِضِ تَرَى بَعْدَ الطُّهْرِ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ:حیض سے پاک ہونے کے بعد حائضہ زرد اور خاکی رطوبت دیکھے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤١١،حديث نمبر ٦٤٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ ، أَنَّهَا أُخْبِرَتْ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يَرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ، قَالَ:" إِنَّمَا هِيَ عِرْقٌ أَوْ عُرُوقٌ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: يُرِيدُ بَعْدَ الطُّهْرِ بَعْدَ الْغُسْلِ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 646

ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حیض سے (پاکی کے بعد) زرد یا گدلے مادہ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے۔ ایک اور سند سے بھی حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (پاکی کے بعد) ہم پیلی اور مٹیالی رطوبت کا کوئی اعتبار نہیں کرتے تھے ۱؎۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: وہیب اس سلسلے میں ہمارے نزدیک ان دونوں میں اولیٰ ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحَائِضِ تَرَى بَعْدَ الطُّهْرِ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ:حیض سے پاک ہونے کے بعد حائضہ زرد اور خاکی رطوبت دیکھے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤١٠،حديث نمبر ٦٤٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ:" لَمْ نَكُنْ نَرَى الصُّفْرَةَ، وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ:" كُنَّا لَا نَعُدُّ الصُّفْرَةَ، وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وُهَيْبٌ أَوْلَاهُمَا عِنْدَنَا بِهَذَا.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 647

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نفاس والی عورت 40 دن تک بیٹھی رہتی تھی (خواتین اس دوران) چھائیوں کی وجہ سے اپنے چہروں پر کسم کا لیپ کیا کرتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: النُّفَسَاءِ كَمْ تَجْلِسُ: نفاس والی عورت زچگی کے بعد کتنے دن بیٹھے؟:جلد١، ص٤١٣،حديث نمبر ٦٤٨)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ ، عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ:" كَانَتِ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجْلِسُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ مِنَ الْكَلَفِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 648

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی خواتین کے لیے 40 دن کی مدت متعین کی تھی البتہ اگر وہ اس سے پہلے طہر دیکھ لے تو حکم مختلف ہوگا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: النُّفَسَاءِ كَمْ تَجْلِسُ: نفاس والی عورت زچگی کے بعد کتنے دن بیٹھے؟:جلد١، ص٤١٣،حديث نمبر ٦٤٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَوْ سَلْمٍ شَكَّ أَبُو الْحَسَنِ وَأَظُنُّهُ هُوَ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَّتَ لِلنُّفَسَاءِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِلَّا أَنْ تَرَى الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 649

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے اور اس وقت وہ حیض کی حالت میں ہو تو ایسے شخص کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم یہ دیا ہے وہ نصف دینار صدقہ کرے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ:حائضہ عورت سے جماع کا حکم:جلد١، ص٤١٤،حديث نمبر ٦٥٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ إِذَا وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِنِصْفِ دِينَارٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 650

حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض والی عورت کے ساتھ کھانے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس کے ساتھ کھا لو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت کے ساتھ کھانے کا بیان:جلد١، ص٤١٥،حديث نمبر ٦٥١)

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ؟ فَقَالَ:" وَاكِلْهَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 651

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے تھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی میرے اوپر چادر ہوتی تھی جس کا کچھ حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الصَّلاَةِ فِي ثَوْبِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت کے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد١، ص٤١٥،حديث نمبر ٦٥٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَأَنَا حَائِضٌ، وَعَلَيَّ مِرْطٌ لِي، وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 652

سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کے اوپر ایک چادر موجود تھی جس کا کچھ حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور کچھ حصہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا پر تھا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا اس وقت حیض کی حالت میں تھیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الصَّلاَةِ فِي ثَوْبِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت کے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد١، ص٤١٦،حديث نمبر ٦٥٣)

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ وَهِيَ حَائِضٌ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 653

سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کنیز چھپ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا اسے حیض آچکا ہے سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے عرض کی جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمامہ کو چیر دیا اور ارشاد فرمایا تم اس کے ذریعے سر کو ڈھانپ لو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: إِذَا حَاضَتِ الْجَارِيَةُ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ بِخِمَارٍ: بالغ لڑکی دوپٹہ کے بغیر نماز نہ پڑھے:جلد١، ص٤١٦،حديث نمبر ٦٥٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَاخْتَبَأَتْ مَوْلَاةٌ لَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَاضَتْ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ،" فَشَقَّ لَهَا مِنْ عِمَامَتِهِ، فَقَالَ: اخْتَمِرِي بِهَذَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 654

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں اللہ تعالی حیض والی (یعنی بالغ) عورت کی نماز چادر کے بغیر قبول نہیں کرتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: إِذَا حَاضَتِ الْجَارِيَةُ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ بِخِمَارٍ: بالغ لڑکی دوپٹہ کے بغیر نماز نہ پڑھے:جلد١، ص٤١٧،حديث نمبر ٦٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَأَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 655

سیدہ معاذہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں ایک خاتون نے سید عائشہ صدیق رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا کیا حیض والی عورت خضاب لگا سکتی ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتی تھی تو ہم خضاب لگا لیا کرتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْحَائِضِ تَخْتَضِبُ:حائضہ عورت کے خضاب (مہندی) لگانے کا بیان:جلد١، ص٤١٧،حديث نمبر ٦٥٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: تَخْتَضِبُ الْحَائِضُ؟ فَقَالَتْ:" قَدْ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَخْتَضِبُ فَلَمْ يَكُنْ يَنْهَانَا عَنْهُ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 656

حضرت زید اپنے والد (حضرت زین العابدین) کے حوالے سے اپنے دادا (امام حسین رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں میری ایک ہڈی ٹوٹ گئی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں پٹی پر مسح کر لوں- یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْمَسْحِ عَلَى الْجَبَائِرِ:پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان:جلد١، ص٤١٨،حديث نمبر ٦٥٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: انْكَسَرَتْ إِحْدَى زَنْدَيَّ، فَسَأَلْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسَحَ عَلَى الْجَبَائِرِ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: أَنْبَأَنَا الدَّبَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، نَحْوَهُ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 657

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اٹھایا ہوا تھا اور ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہہ رہا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: اللُّعَابِ يُصِيبُ الثَّوْبَ: کپڑے پر تھوک (لعاب) لگ جائے تو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤١٩،حديث نمبر ٦٥٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: انْكَسَرَتْ إِحْدَى زَنْدَيَّ، فَسَأَلْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسَحَ عَلَى الْجَبَائِرِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 658

عبدالجبار بن وائل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ڈول لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کلی کی اور اسی ڈول میں کلی والا پانی ڈال دیا تو وہ مشک کی مانند تھا یا مشک سے بھی زیادہ پاکیزہ تھا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول میں سے پانی لے کر باہر ناک صاف کی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْمَجِّ فِي الإِنَاءِ:رتن میں کلی کرنے کا بیان:جلد١، ص٤١٩،حديث نمبر ٦٥٩)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِدَلْوٍ فَمَضْمَضَ مِنْهُ، فَمَجَّ فِيهِ مِسْكًا، أَوْ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ، وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنَ الدَّلْوِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 659

حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں مجھے یہ بات یاد تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کنویں میں سے ڈول کے ذریعے پانی لے کر اس میں کلی ڈال دی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْمَجِّ فِي الإِنَاءِ:رتن میں کلی کرنے کا بیان:جلد١، ص٤٢٠،حديث نمبر ٦٦٠)

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ،" وَكَانَ قَدْ عَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَلْوٍ مِنْ بِئْرٍ لَهُمْ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 660

عبدالرحمن بن ابو سعید خدری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کوئی عورت کسی دوسری عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ کوئی مرد کسی دوسری کی شرم گاہ کی طرف دیکھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يَرَى عَوْرَةَ أَخِيهِ:اپنے مسلمان بھائی کی شرمگاہ (ستر) دیکھنے کی ممانعت:جلد١، ص٤٢١،حديث نمبر ٦٦١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَنْظُرِ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يَنْظُرِ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 661

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے میں نے کبھی نظر ‌نہیں کی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ کو کبھی نہیں دیکھا۔ ابوبکر نامی راوی بیان کرتے ہیں ابو نعیم نے یہ بات بیان کی ہے یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی کنیز سے منقول ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يَرَى عَوْرَةَ أَخِيهِ:اپنے مسلمان بھائی کی شرمگاہ (ستر) دیکھنے کی ممانعت:جلد١، ص٤٢١،حديث نمبر ٦٦١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مَوْلًى لِعَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا نَظَرْتُ أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ يَقُولُ: عَنْ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 662

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم کی ایک حصے کو دیکھا کہ وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں کو پکڑا اور ان کی تری اس پر ڈال دی۔ اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں کو اس پر نچوڑ دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنِ اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَبَقِيَ مِنْ جَسَدِهِ لُمْعَةً لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ كَيْفَ يَصْنَعُ: غسل جنابت میں بدن کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤٢٢،حديث نمبر ٦٦٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ، فَرَأَى لُمْعَةً لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَقَالَ: بِجُمَّتِهِ فَبَلَّهَا عَلَيْهَا"، قَالَ إِسْحَاق فِي حَدِيثِهِ:" فَعَصَرَ شَعْرَهُ عَلَيْهَا".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 663

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی میں نے غسل جنابت کر کے فجر کی نماز پڑھ لی پھر صبح میں نے دیکھا کہ ایک ناخن کے برابر جگہ ایسی تھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم اپنے ہاتھ کے ذریعے اس پر مسح کر لیتے تو یہ تمہارے لیے جائز تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنِ اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَبَقِيَ مِنْ جَسَدِهِ لُمْعَةً لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ كَيْفَ يَصْنَعُ: غسل جنابت میں بدن کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤٢٣،حديث نمبر ٦٦٤)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 664

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے وضو کیا تھا اور ایک ناخن کے برابر جگہ کو چھوڑ دیا تھا اور وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعًا لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ:وضو میں کوئی جگہ سوکھی چھوڑ دی تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤٢٣،حديث نمبر ٦٦٥)

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ مَوْضِعَ الظُّفْرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ".

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 665

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس نے وضو کرتے ہوئے اپنے پاؤں میں ایک ناخن کے برابر جگہ کو چھوڑ دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہ ہدایت کی کہ وہ دوبارہ وضو کر کے دوبارہ نماز ادا کرے۔ راوی کہتے ہیں اس شخص نے دوبارہ ایسا کیا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعًا لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ:وضو میں کوئی جگہ سوکھی چھوڑ دی تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤٢٤،حديث نمبر ٦٦٦)

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ الظُّفْرِ عَلَى قَدَمِهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ"، قَالَ: فَرَجَعَ.

Ibne Majah Shareef, Abawabut Tayammumi , Hadees No. 666

Ibne Majah Shareef : Abawabut Tayammumi

|

Ibne Majah Shareef : تیمم کے احکام و مسائل

|

•