
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہار ٹوٹ کر گر گیا تو وہ اس کی تلاش میں پیچھے رہ گئی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آئے اور لوگوں کے ان کی وجہ سے رک جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا تو اللہ تعالی نے تیمم کی رخصت کا حکم نازل کیا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت مونڈھوں تک مسح کیا، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اتنی بابرکت ہو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٧،حديث نمبر ٥٦٥)
حضرت محمر بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی کریمﷺ کے ساتھ کندھوں تک مسح کیا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٨،حديث نمبر ٥٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے میرے لیے تمام روئے زمین کو نماز ادا کرنے کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٨،حديث نمبر ٥٦٧)
سید عائشه صدیقه رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار ادھار لیا وہ گم ہو گیا، نبی کریمﷺ نے اپنے ساتھیوں میں سے کچھ کو اسے ڈھونڈنے کے لیے بھیجا۔ ان حضرات کی نماز کا وقت ہوگیا ان حضرات نے وضو کے بغیر نماز پڑھ لی جب یہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بات کی شکایت کی تو تیمم سے متعلق آیت نازل ہو گئی : حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا ام المومنین رضی اللہ عنہا اللہ تعالی آپ کو بہترین جزا عطا کرے۔ اللہ کی قسم آپ کو جب بھی کوئی مشکل پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے نکلنے کا راستہ دیا اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت رکھ دی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب:جلد١، ص٣٥٩،حديث نمبر ٥٦٨)
سعد بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ میں جنابت کا شکار ہو گیا اور مجھے پانی دستیاب نہیں ہو سکا تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ (جو اس وقت وہاں موجود تھے) نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا: اے امیر المومنین اپ کو یاد ہے ایک مرتبہ سفر کے دوران ہمیں بھی یہی صورت لاحق ہوئی تھی آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی اور میں نے زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی تھی اور جب میں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا اور پھر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر مار کر پہلے ان پر پھونک ماری پھر ان کے ذریعے اپنے چہرے اور بازو کا مسح کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار:جلد١، ص٣٦٠،حديث نمبر ٥٦٩)
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں حکم اور سلمہ بن کہیل نے حضرت عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ تعالی عنہ سے تیمم کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا پھر جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک ماری اور پھر انہیں اپنے چہرے پر پھیر لیا۔ حکم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے انہوں نے دونوں بازو پر پھیرا جب کہ سلمہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے دونوں کہنیوں پر پھیرا (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار:جلد١، ص٣٦١،حديث نمبر ٥٧٠)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں جب ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ہمراہ تیمم کیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی ہتھیلیاں مٹی پر مارے لیکن مٹی مٹھی میں نہ لے پھر ان ہاتھوں کو ایک مرتبہ اپنے چہرے پر پھیر لے پھر دوبارہ زمین پر مارے اور اس کے ذریعے اپنے بازو پر مسح کر لے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في التَّيَمُّمِ ضَرْبَتَيْنِ:تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) دو بار:جلد١، ص٣٦١،حديث نمبر ٥٧١)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو سر میں زخم لگ گیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس کی بات ہے پھر اسے احتلام لاحق ہوا تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا اس شخص نے غسل کیا تو سردی کی وجہ سے بیمار ہو کر انتقال کر گیا جب اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو نے اس کو قتل کر دیا ہے اللہ تعالی ان لوگوں کو برباد کرے کیا جاہل کے لیے پوچھ لینا شفا نہیں ہے۔ عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے ہم تک یہ روایت پہنچی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اگر وہ شخص اپنے جسم کو دھو لیتا اور سر کو چھوڑ دیتا یعنی اس جگہ کو (جہاں اس کو زخم لگا تھا تو یہ مناسب تھا) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْمَجْرُوحِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَيَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ إِنِ اغْتَسَلَ:غسل جنابت سے زخمی کو موت کا ڈر ہو تو کیا کرے؟:جلد١، ص٣٦٢،حديث نمبر ٥٧٢)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے پانی رکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کرتے ہوئے اپنے مائیں ہاتھ کے ذریعے برتن سے پانی اپنے دائیں ہاتھ پر اٹھےلا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو زمین پر ملا پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی ناک میں پانی ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا پھر دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پورے جس میں پرپانی بہایا اور پھر ذرا ہٹ کے اپنے دونوں پاؤں دھو لیے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت کا طریقہ:جلد١، ص٣٦٣،حديث نمبر ٥٧٣)
جمیع بن عمیر تیمی بیان کرتے ہیں میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ گیا ہم لوگ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے ان سے سوال کیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم غسل جنابت کیسے کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے دونوں ہتھیلیوں پر تین مرتبہ پانی انڈھیلتے تھے (یعنی انہیں دھوتے تھے) پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برتن میں داخل کرتے تھے پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو تین مرتبہ دھوتے پھر پورے جسم پر پانی بہا لیتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت کا طریقہ:جلد١، ص٣٦٤،حديث نمبر ٥٧٤)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل جنابت کے بارے میں بحث کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تو اپنے سر پر تین لپ پانی بہا لیتا ہوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٥،حديث نمبر ٥٧٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تین مرتبہ جسم کو دھویا جائے گا اس شخص نے کہا میرے تو بال بہت زیادہ ہیں تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے اور وہ تم سے زیادہ پاکیزہ تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٦،حديث نمبر ٥٧٦)
جعفر بن محمد اپنے والد کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ٹھنڈے علاقے میں رہتا ہوں تو میں غسل جنابت کس طرح کروں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہا لیتا ہوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٦،حديث نمبر ٥٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص نے ان سے دریافت کیا میں اپنے سر پر کتنی مرتبہ پانی بہاؤں جب میں جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں تو انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے تھے وہ شخص بولا میرے بال تو لمبے ہیں تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد تم سے زیادہ تھے اور وہ زیادہ پاکیزہ تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟:جلد١، ص٣٦٧،حديث نمبر ٥٧٨)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی نبی کریمﷺ غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْوُضُوءِ بَعْدَ الْغُسْلِ:کیا غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟:جلد١، ص٣٦٨،حديث نمبر ٥٧٩)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں بعض اوقات نبی کریمﷺ غسل کرنے کے بعد تشریف لاتے اور میرے جسم سے گرمی حاصل کرنا چاہتے تھے تو میں آپ کو اپنے ساتھ چمٹا لیتی تھی حالانکہ میں نے غسل نہیں کیا ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْجُنُبِ يَسْتَدْفِئُ بِامْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ:غسل جنابت کے بعد شوہر اپنی جنبی بیوی کے بدن کی گرمی حاصل کر سکتا ہے:جلد١، ص٣٦٨،حديث نمبر ٥٨٠)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں سوجایا کرتے تھے اپ پانی استعمال نہیں کرتے یعنی غسل نہیں کرتے تھے پھر اپ بیدار ہونے کے بعد غسل کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْجُنُبِ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لاَ يَمَسُّ مَاءً:غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم:جلد١، ص٣٦٩،حديث نمبر ٥٨١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اہلیہ کے ساتھ جو حاجت ہوتی تھی اسے پورا کرتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں سو جایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی استعمال نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْجُنُبِ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لاَ يَمَسُّ مَاءً:غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم:جلد١، ص٣٦٩،حديث نمبر ٥٨٢)
سیدہ عائشہ صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت لاحق ہو جاتی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں سو جایا کرتے تھے اور پانی استعمال نہیں کرتے تھے (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْجُنُبِ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لاَ يَمَسُّ مَاءً:غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم:جلد١، ص٣٦٩،حديث نمبر ٥٨٣)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جنابت کی حالت میں سونا ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیتے ہیں (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ قَالَ لاَ يَنَامُ الْجُنُبُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ: جنبی کے نماز جیسا وضو کئے بغیر نہ سونے کا بیان:جلد١، ص٣٧٠،حديث نمبر ٥٨٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کیا ہم میں سے کوئی ایک شخص جنات کی حالت میں سو سکتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی ہاں جب وہ وضو کر لے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ قَالَ لاَ يَنَامُ الْجُنُبُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ: جنبی کے نماز جیسا وضو کئے بغیر نہ سونے کا بیان:جلد١، ص٣٧١،حديث نمبر ٥٨٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ انہیں رات کے وقت جنابت لاحق ہو گئی انہوں نے سونے کا ارادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی وہ وضو کر کے سوئے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ قَالَ لاَ يَنَامُ الْجُنُبُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ: جنبی کے نماز جیسا وضو کئے بغیر نہ سونے کا بیان:جلد١، ص٣٧١،حديث نمبر ٥٨٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب کوئی اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے اور دوبارہ کرنا چاہے تو اس سے پہلے وضو کر لینا چاہیے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:. بَابٌ في الْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ الْعَوْدَ تَوَضَّأَ:جنبی اگر دوبارہ ہمبستری کرنا چاہے تو وضو کرے:جلد١، ص٣٧٢،حديث نمبر ٥٨٧)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنی تمام اجواز کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد ایک ہی مرتبہ غسل کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ يَغْتَسِلُ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ غُسْلاً وَاحِدًا:ساری بیویوں سے ہمبستری کے بعد ایک ہی غسل کرے تو کیسا ہے؟:جلد١، ص٣٧٢،حديث نمبر ٥٨٨)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا گیا تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک رات میں اپنی تمام ازواج کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد غسل کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ يَغْتَسِلُ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ غُسْلاً وَاحِدًا:ساری بیویوں سے ہمبستری کے بعد ایک ہی غسل کرے تو کیسا ہے؟:جلد١، ص٣٧٣،حديث نمبر ٥٨٩)
حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک رات نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج کے ساتھ صحبت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ہر ایک کے ہاں غسل کرتے رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی مرتبہ اخر میں (غسل کیوں نہیں کیا) اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ زیادہ پاکیزہ زیادہ صاف اور زیادہ پاک ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: فِيمَنْ يَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدَةٍ غُسْلاً: ہر بیوی سے ہمبستری کے بعد الگ الگ غسل کا بیان:جلد١، ص٣٧٣،حديث نمبر ٥٩٠)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں کچھ کھانے کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ:بَابٌ في الْجُنُبِ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ:جنابت کی حالت میں کھانے پینے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٧٤،حديث نمبر ٥٩١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حنبی شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا کیا وہ سو سکتا ہے یا کچھ کھا سکتا ہے یا کچھ پی سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں جب وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ:بَابٌ في الْجُنُبِ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ:جنابت کی حالت میں کھانے پینے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٧٤،حديث نمبر ٥٩٢)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کچھ کھانا ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جنابت کی حالت میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ دھو لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ قَالَ يُجْزِئُهُ غَسْلُ يَدَيْهِ: کھانے پینے کے لیے جنبی کا صرف ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے:جلد١، ص٣٧٥،حديث نمبر ٥٩٣)
عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے جاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت پوری کرتے تھے پھر واپس تشریف لا کر ہمارے ساتھ روٹی اور گوشت کھا لیتے تھے اور قرآن کی تلاوت بھی کر لیتے تھے قرآن کی تلاوت سے کوئی چیز اپ کے لیے رکاوٹ نہیں ہوتی تھی (یہاں راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے) البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے۔ (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں قران کی تلاوت نہیں کرتے تھے) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ:بےوضو قرآن پڑھنے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٧٥،حديث نمبر ٥٩٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جنبی شخص اور حیض والی عورت قرآن نہیں پڑھ سکتے ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ:بےوضو قرآن پڑھنے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٧٦،حديث نمبر ٥٩٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنبی شخص اور حیض والی عورت قران کی تلاوت بالکل نہ کرے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ:بےوضو قرآن پڑھنے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٧٦،حديث نمبر ٥٩٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے تو تم بالوں کو دھویا کرو اور جلد صاف کیا کرو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةٌ: ہر بال کے نیچے جنابت ہے:جلد١، ص٣٧٦،حديث نمبر ٥٩٧)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں پانچ نمازیں ایک جمعے سے لے کر دوسرے جمعے تک امانت کو ادا کرنا یہ سب درمیان میں ہونے والے گناہ کا کفارہ ہوتے ہیں راوی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا امانت کو ادا کرنے سے کیا مراد ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غسل جنابت کرنا کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةٌ: ہر بال کے نیچے جنابت ہے:جلد١، ص٣٧٧،حديث نمبر ٥٩٨)
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص جنابت کی حالت میں اپنے جسم کی ایک بال کے برابر جگہ چھوڑ دیتا ہے اور اسے نہیں دھوتا ہے تو اس کے ساتھ جہنم میں یہ اور یہ کیا جائے گا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اسی وجہ سے میں اپنے بالوں کا دشمن بن گیا ہو راوی کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اسی وجہ سے اپنے سر کے بال منڈوا کررکھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةٌ: ہر بال کے نیچے جنابت ہے:جلد١، ص٣٧٨،حديث نمبر ٥٩٩)
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتی ہے ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتے ہیں (یعنی جس عورت کو احتلام ہو جاتا ہے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں جب وہ پانی (منی یعنی احتلام کا نشان دیکھے ) تو اسے غسل کر لینا چاہیے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے کہا تم نے خواتین کو شرمندہ کر دیا ہے کیا کسی عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ اپ نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک الود ہوں (اگر عورت کو احتلام نہ ہوتا تو) تو پھر بچہ کس وجہ سے اس کے ساتھ مشابہت رکھتا ہوگا؟ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ:مرد کی طرح عورت کو خواب میں احتلام ہو تو کیا حکم ہے؟:جلد١، ص٣٧٩،حديث نمبر ٦٠٠)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں سیدہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے نبی کریمﷺ سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب عورت یہ چیز دیکھے اور اسے انزال ہو جائے تو عورت پر غسل لازم ہوگا۔ سیدہ ام سلمہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں مرد کا مادہ سفید اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا مادہ پتلا اور زرد ہوتا ہے ان میں سے جو اگے نکل جائے یا جو غالب ائے بچہ اس کے ہاتھ مشابہت رکھتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ:مرد کی طرح عورت کو خواب میں احتلام ہو تو کیا حکم ہے؟:جلد١، ص٣٧٩،حديث نمبر ٦٠١)
سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر اس وقت تک غسل لازم نہیں ہوگا جب تک اس سے انزال نہیں ہو جاتا بالکل اسی طرح جس طرح مرد پر اس وقت تک غسل لازم نہیں ہوتا جب تک اسے انزال نہیں ہو جاتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ:مرد کی طرح عورت کو خواب میں احتلام ہو تو کیا حکم ہے؟:جلد١، ص٣٨٠،حديث نمبر ٦٠٢)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عورت ہو جس نے بالو کی مینڈیاں بنائی ہوتی ہیں تو کیا میں غسل جنابت کے لیے انہیں کھول لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ان پر پانی کے تین لب بہا دیا کرو پھر تم اپنے جسم پر پانی بہا لو تو تم پاک ہو جاؤ گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) اس صورت میں تم پاک ہو جاؤ گے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النِّسَاءِ مِنَ الْجَنَابَةِ:عورتوں کے غسل جنابت کا طریقہ:جلد١، ص٣٨٠،حديث نمبر ٦٠٣)
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو اس بات کا پتہ چلا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ خواتین کو یہ ہدایت کرتے ہیں وہ غسل کرتے وقت اپنے بالوں کو کھول لیا کرے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ابن عمر پر حیرت ہے وہ ان خواتین کو یہ ہدایت کیوں نہیں کرتے کہ وہ اپنے سر منڈ والے میں خود اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم ایک ہی برتن کے ذریعے غسل کرتے تھے تو میں صرف تین مرتبہ اپنے سر پر پانی بہاتی تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتے تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النِّسَاءِ مِنَ الْجَنَابَةِ:عورتوں کے غسل جنابت کا طریقہ:جلد١، ص٣٨١،حديث نمبر ٦٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بھی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے۔ (راوی نے دریافت کیا) اے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ پھر وہ شخص کیا کرے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا وہ پانی حاصل کرے (اور پھر اس کے ذریعے غسل کرے) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ:بَابُ: الْجُنُبِ يَنْغَمِسُ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ أَيُجْزِئُهُ:کیا جنبی کا ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہٰ لگا لینا کافی ہے؟:جلد١، ص٣٨٢،حديث نمبر ٦٠٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے گھر کے پاس سے گزرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا وہ شخص باہر آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں جلدی مبتلا کردیا ہے ۔ اس نے عرض کی جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمہیں جلدی ہو یا تمہیں انزال سے روک دیا گیا ہو تو تم پر غسل لازم نہیں ہوگا تم پر وضو لازم ہوا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْمَاءِ مِنَ الْمَاءِ: انزال (منی نکلنے) سے غسل واجب ہو جاتا ہے:جلد١، ص٣٨٢،حديث نمبر ٦٠٦)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے پانی (یعنی منی) کی وجہ سے پانی (یعنی غسل) لازم ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْمَاءِ مِنَ الْمَاءِ: انزال (منی نکلنے) سے غسل واجب ہو جاتا ہے:جلد١، ص٣٨٣،حديث نمبر ٦٠٧)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں جب ختنے ختنوں سے مل جائیں (یعنی شرمگاہ شرمگاہ سے مل جائے) تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔میں نے اور نبی کریم ﷺ نے ایسا کیا تو ہم دونوں نے غسل کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ مِنَ الْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ: مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب:جلد١، ص٣٨٣،حديث نمبر ٦٠٨)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی پھر بعد میں ہمیں (ایسی صورت حال میں) غسل کرنے کا حکم دیا گیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ مِنَ الْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ: مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب:جلد١، ص٣٨٤،حديث نمبر ٦٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھے اور اسے مشقت میں مبتلا کرے (یعنی صحبت کرے) تو اس پر غسل واجب ہو جائے گا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ مِنَ الْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ: مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب:جلد١، ص٣٨٥،حديث نمبر ٦١٠)
عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب شرمگاہیں مل جائیں اور حشفہ چھپ جائے تو غسل لازم ہو جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ مِنَ الْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ: مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب:جلد١، ص٣٨٥،حديث نمبر ٦١١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو اور وہ تری دیکھے اور اس کا یہ خیال نہ ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے تو وہ غسل کرے لیکن جب اس کا یہ خیال ہوا ہے کہ اسے احتلام ہوا ہے اور اسے تری نظر نہ آئے تو اس پر اس لازم نہیں ہوگا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنِ احْتَلَمَ وَلَمْ يَرَ بَلَلاً: جسے احتلام ہو اور تری نہ دیکھے اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٨٦،حديث نمبر ٦١٢)
حضرت ابو سمح بیان کرتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہدایت کرتے تو میں اپنی پشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر لیتا اور کپڑے کو پھیلا دیتا میں اس کے ذریعے اپ کا پردہ کر لیتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الْغُسْلِ:غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان:جلد١، ص٣٨٧،حديث نمبر ٦١٣)
عبد اللہ بن عبیداللہ بیان کرتے ہیں میں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران نوافل (یعنی سنتیں) ادا کیا کرتے تھے تو مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا جو مجھے اس بارے میں بتاتا صرف سید ام ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ تعالی عنہا نے مجھے یہ بات بتائی کہ فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت پردہ کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا پھر اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ نوافل (یعنی نماز چاشت) ادا کی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الْغُسْلِ:غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان:جلد١، ص٣٨٧،حديث نمبر ٦١٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کوئی بھی شخص کھلی جگہ پر ہرگز غسل نہ کرے اور کسی بلندی جگہ پر اس طرح غسل نہ کرے کہ اس کو چھپانے کے لیے کوئی آڑ نہ ہو اگر وہ نہیں دیکھتا تو اسے تو دیکھا جا رہا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الْغُسْلِ:غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان:جلد١، ص٣٨٨،حديث نمبر ٦١٥)
حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جانا چاہتا ہو اور اس وقت نماز بھی کھڑی ہو چکی ہو تو اسے پہلے (قضائے حاجت کر لینی چاہیے) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ لِلْحَاقِنِ أَنْ يُصَلِّيَ:پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھنے کی ممانعت:جلد١، ص٣٨٨،حديث نمبر ٦١٦)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ جب آدمی کو قضائے حاجت کی ضرورت ہو اس وقت نماز پڑھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ لِلْحَاقِنِ أَنْ يُصَلِّيَ:پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھنے کی ممانعت:جلد١، ص٣٨٩،حديث نمبر ٦١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کوئی بھی شخص نماز کے لیے ایسی حالت میں نہ کھڑا ہو کہ اسے تکلیف دہ چیز لاحق ہو (یعنی اسے قضائے حاجت کی ضرورت ہو)۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ لِلْحَاقِنِ أَنْ يُصَلِّيَ:پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھنے کی ممانعت:جلد١، ص٣٨٩،حديث نمبر ٦١٨)
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مسلمانوں سے کوئی بھی شخص نماز کے لیے اس وقت کھڑا نہ ہو جبکہ اس کو قضائے حاجت کی طلب ہو یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہو جائے تو (پھر نماز ادا کرے) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ لِلْحَاقِنِ أَنْ يُصَلِّيَ:پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھنے کی ممانعت:جلد١، ص٣٩٠،حديث نمبر ٦١٩)
ارواح بن زبیر بیان کرتے ہیں سیدہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ تعالی عنہا نے انہیں یہ بات بتائی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خون کی آمد کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کسی اور رگ کا خون ہے تم اس کا جائزہ لو جب تمہارے حیض کے مخصوص دن گزر جائے تو تم پاک ہو جاؤ اور پھر ایک حیض سے دوسرے حیض کے (درمیانی دنوں) میں نماز ادا کرتی رہو- (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩١،حديث نمبر ٦٢٠)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی شکایت ہے میں پاک نہیں ہوتی ہوں کیا میں نماز پڑھنا چھوڑ دوں ؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا نہیں یہ کسی دوسری رگ کا خون ہے ،ہی حیض نہیں ہے جب حیض آجائے تو تم نماز پڑھنا ترک کردو جب وہ چلا جائے تو تم خون کو دھو کر نماز پڑھنا شروع کردو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩١،حديث نمبر ٦٢١)
سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے مجھے بہت زیادہ استحاضہ کی شکایت ہو گئی وہ بیان کرتی ہے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ دریافت کروں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤں وہ بیان کرتی ہیں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بہن سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا کہ ہاں ملے وہ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا کام ہے اے بی بی میں نے عرض کی مجھے طویل عرصے سے استحاضہ کی شکایت ہے جو بہت زیادہ ہے اس کی وجہ سے میں نماز بھی ادا نہیں کر پاتی اور روزہ بھی نہیں رکھ پاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہیں روئی استعمال کرنے کی تجوید دوں گا کیونکہ یہ خون کو روک دیتی ہے میں نے عرض کی وہ اس سے زیادہ ہے، اس کے بعد راوی نے شریک کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩٢،حديث نمبر ٦٢٢)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اس نے عرض کی مجھے استحاضہ کی شکایت ہے میں پاک نہیں ہوتی تو کیا نماز چھوڑ دوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں بلکہ پہلے تمہیں جن دنوں میں حیض اتا تھا ان دنوں کی مقدار میں نماز ترک کر دو یہاں ابوبکر نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں مہینے میں جتنے دن ایسا ہوتا تھا پھر تو غسل کرو اور کپڑا باندھ لو اور نماز ادا کرنا شروع کر دو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩٣،حديث نمبر ٦٢٣)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے فاطمہ بنت ابو حبیش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی شکایت ہے میں پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز ترک کر دوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں یہ کسی دوسری جگہ کا خون ہے یہ حیض نہیں ہے تو اپنے حیض کے مخصوص دنوں میں نماز سے استناب کرو پھر غسل کر کے ہر نماز کے لیے وضو کر لیا کرو اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩٤،حديث نمبر ٦٢٤)
عدی بن ثابت اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں استحاضہ والی عورت اپنے حیض کے مخصوص دنوں میں نماز ترک کر دے اور پھر وہ غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی اور وہ عورت روزہ بھی رکھے گی اور نماز بھی پڑھے گی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا كَانَتْ قَدْ عَرَفَتْ أَقْرَاءَهَا:مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٣٩٥،حديث نمبر ٦٢٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا کو استحاضہ کی شکایت ہو گئی وہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کی اہلیہ تھی انہیں سات سال تک یہ شکایت رہی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ حیض نہیں یہ کسی دوسرے رگ کا خون ہے جب تمہیں حیض ا جائے تو تم نماز ترک کر دو اور جب وہ رخصت ہو جائے تو تم غسل کر کے نماز ادا کرنا شروع کر دو۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں وہ خاتون ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھی اور پھر نماز ادا کرتی تھی وہ اپنی بہن سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ٹپ میں بیٹھ جاتی تھی یہاں تک کہ اس کے خون کی سرخی پانی پر غالب آجاتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا اخْتَلَطَ عَلَيْهَا الدَّمُ فَلَمْ تَقِفْ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا:حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق نہ کر سکنے والی اور اپنے حیض کے دن کا علم نہ رکھنے والی مستحاضہ کا بیان:جلد١، ص٣٩٥،حديث نمبر ٦٢٦)
سیدہ ام حمنہ بنت حجش رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں انہیں استحاضہ کی شکایت ہو گئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے عرض کی مجھے انتہائی شدید استحاضہ کی شکایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روئی استعمال کرو انہوں نے عرض کی وہ اس سے زیادہ ہے یہ تو بہت زیادہ بہتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم کپڑے کو مضبوطی سے باندھ لو اللہ تعالی کے حکم کے مطابق ہر مہینے میں چھ یا سات دن حیض کے گنتی کرو پھر اس کے بعد غسل کر لو اور 23 سے 24 دن تک نماز ادا کرتی رہو اور روزہ رکھتی رہو تم ظہر کی نماز کو موخر کر کے اور عصر کی نماز کو جلدی ادا کر لیا کرو ہر دو نمازوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کیا کرو پھر مغرب کی نماز کو موخر کر کے عشاء کی نماز کو جلدی ادا کر لیا کرو ان دونوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کیا کرو میرے نزدیک یہ زیادہ پسندیدہ بات ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبِكْرِ إِذَا ابْتُدِئَتْ مُسْتَحَاضَةً أَوْ كَانَ لَهَا أَيَّامُ حَيْضٍ فَنَسِيَتْهَا:باکرہ شروع ہی سے مستحاضہ ہو جائے یا حیض کے دنوں کو بھول جائی تو کیا کرے؟:جلد١، ص٣٩٧،حديث نمبر ٦٢٧)
سیدہ ام قیش بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا جو کپڑے پر لگ جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے اسے دھو لو اور اسے خھرچ بھی دو اگرچہ ہڈی کے ذریعے ایسا نہ کرو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في مَا جَاءَ فِي دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ:حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٣٩٨،حديث نمبر ٦٢٨)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ ایک خاتون بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی وسلم میں حاضر ہوئی اور عرض کی اگر کسی عورت کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اسے اچھی طرح مل کر پانی سے دھو لے پھر اس پر پانی چھڑکے اور پھر انہی کپڑوں میں نماز ادا کریں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في مَا جَاءَ فِي دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ:حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٣٩٨،حديث نمبر ٦٢٩)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں جب ہم سے کوئی خاتون حائضہ ہوتی تو طہارت کے وقت وہ اس خون کھرچ کر اس حصے کو دھوتی اور کپڑے پر پانی چھڑک کر اسی میں نماز پڑھ لیتی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في مَا جَاءَ فِي دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ:حیض کا خون کپڑے میں لگ جائے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٣٩٩،حديث نمبر ٦٣٠)
حضرت معاذہ بیان کرتی ہے ایک عورت نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا کیا پاک ہونے کے بعد ہمیں نمازوں کی قضا ادا کرنا ہوگی تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا کیا تم حروریہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں بھی حیض ایا کرتا تھا پھر ہم پاک ہو جاتی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْحَائِضِ لاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ: حائضہ عورت نماز کی قضاء نہ پڑھے:جلد١، ص٤٠٠،حديث نمبر ٦٣١)
سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مسجد میں سے مجھے چٹائی پکڑا دو میں نے عرض کی میں تو حیض کی حالت میں ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْحَائِضِ تَتَنَاوَلُ الشَّيْءَ مِنَ الْمَسْجِدِ:حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤٠٠،حديث نمبر ٦٣٢)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک میری طرف بڑھا دیتے اور میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اعتکاف کیا ہوتا تھا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کو دھو دیتی تھی اور اس میں کنگھی کر دیا کرتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْحَائِضِ تَتَنَاوَلُ الشَّيْءَ مِنَ الْمَسْجِدِ:حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤٠٠،حديث نمبر ٦٣٣)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ لیتے تھے میں اس وقت حالت حیض میں ہوتی تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت کر لیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْحَائِضِ تَتَنَاوَلُ الشَّيْءَ مِنَ الْمَسْجِدِ:حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤٠١،حديث نمبر ٦٣٤)
سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں جب جب ہم (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات) میں سے کوئی حائضہ ہوتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مباشرت کا ارادہ کرتے تو اس سے ازار باندھنے کا حکم دیتے پھر اس سے مباشرت کر لیتے پھر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا راوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تم میں سے کون اپنی خواہش پر اس طرح قابو رکھ سکتا ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر قابو رکھتے تھے؟ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا: حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟:جلد١، ص٤٠٢،حديث نمبر ٦٣٥)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں جب ہم (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج) میں سے کوئی ایک حائضہ ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ازار باندھنے کا حکم دیتے پھر اس سے مباشرت کر لیتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا: حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟:جلد١، ص٤٠٣،حديث نمبر ٦٣٦)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں لیٹی ہوئی تھی مجھے وہی چیزیں محسوس ہوئی جو خواتین کو حیض کے حوالے سے محسوس ہوتی ہے میں لحاف میں کھسک کر نکل گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا تمہیں حیض آگیا میں نے عرض کی مجھے وہی چیز محسوس ہوئی ہے جو خواتین کو حیض کے حوالے سے محسوس ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ وہ چیز ہے جو اللہ تعالی نے آدم کو بیٹیوں پر لازم کر دی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں میں وہاں سے اٹھ کر گئی میں نے اپنے معاملہ ٹھیک کیا پھر میں واپس آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آجاؤ اور میرے ساتھ لحاف میں داخل ہو جاؤ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں داخل ہو گئی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا: حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟:جلد١، ص٤٠٣،حديث نمبر ٦٣٧)
حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے ان سے دریافت کیا حیض کے دوران اپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کرتی تھی تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا ہم میں سے کوئی ایک حیض کی ابتدائی دنوں میں جب شدید خون آرہا ہوتا تو وہ خون نصف رانوں تک تہبند باندھ لیتی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹ جایا کرتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا: حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟:جلد١، ص٤٠٤،حديث نمبر ٦٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی حیض والی عورت کے ساتھ یا کسی عورت کے ساتھ اس کے پچھلی شرمگاہ سے صحبت کرے یا کسی کاہن کے پاس جائے اورکہی ہوئی بات کی تصدیق کرے تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت سے جماع منع ہے:جلد١، ص٤٠٤،حديث نمبر ٦٣٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نقل کرتے ہیں جو شخص اپنی حیض والی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى حَائِضًا:جو حائضہ عورت سے جماع کرے اس کے کفارے کا بیان:جلد١، ص٤٠٥،حديث نمبر ٦٤٠)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا وہ اس وقت حیض کی حالت میں تھی تم اپنے سر کے بال کھول دو اور غسل کر لو علی نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں تم اپنے سر کو کھول دو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْحَائِضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ:حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟:جلد١، ص٤٠٨،حديث نمبر ٦٤١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں سیدہ اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے بعد غسل کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت پانی اور بیری کے پتے لے کر ان کے ذریعے غسل کرے اور اچھی طرح طہارت حاصل کرے پھر اپنے سر پر پانی بہا کر اچھی طرح ملے یہاں تک کہ وہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر وہ اپنے جسم پر پانی بہا لے پھر مشک لگی روئی کو لے کر اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے دریافت کیا میں اس کے ذریعے کیسے پاکی حاصل کروں؟ ( یہاں سنن ابن ماجہ کے ایک نسخے میں یہ الفاظ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سبحان اللہ تم اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرو) (صوفیا نامی راوی خاتون بیان کرتی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا ان کے کہنے کا انداز یہ تھا جیسے وہ یہ مخفی طور پر بیان کر رہی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی وہ خون کے نشانات کو اس کے ذریعے صاف کرلے) وہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت پانی لے پھر اس کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرے اور اچھی طرح سے پاکیزگی حاصل کرے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) وہ اس کے ذریعے طہارت کے حصول میں مبالغہ کرے پھر وہ اپنے جسم پر پانی بہائے اور اس سے ملے یہاں تک کہ پانی سر کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر وہ اپنے جسم پر پانی بہا لے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں انصار کی خواتین اس حوالے سے اچھی ہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں حیا ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الْحَائِضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ:حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟:جلد١، ص٤٠٩،حديث نمبر ٦٤٢)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں بعض اوقات میں حیض کی حالت میں کوئی ہڈی چوستی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ مبارک اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ مبارک رکھا تھا۔ اسی طرح میں کسی برتن میں پیتی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر اپنا منہ مبارک اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا حالانکہ میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي سُؤْرِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے جھوٹے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤١٠،حديث نمبر ٦٤٣)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ وہ ایک ہی گھر میں حیض والی خواتین کے ساتھ نہیں بیٹھتے تھے ان کے ساتھ کھاتے نہیں تھے پیتے نہیں تھے راوی بیان کرتے ہیں اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی۔(ترجمہ) لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم یہ فرما دو وہ گندگی ہے تو تم حیض کے دوران خواتین سے الگ رہو. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد نے فرمایا نہیں تم صحبت کرنے کے علاوہ وہ سب کچھ کر سکتے ہو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي سُؤْرِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے جھوٹے کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤١٠،حديث نمبر ٦٤٤)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کے صحن میں داخل ہوئے اور بلند آواز میں اعلان کیا بے شک مسجد جنبی شخص اور حیض والی عورت کے لیے حلال نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في مَا جَاءَ فِي اجْتِنَابِ الْحَائِضِ الْمَسْجِدَ:حائضہ عورت مسجد سے دور رہے:جلد١، ص٤١٠،حديث نمبر ٦٤٥)
سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی خواتین کے بارے میں جو طہر کے بعد وہ چیز دیکھتی ہے جو اسے شک میں مبتلا کر دے اس کے بارے میں یہ فرمایا یہ کسی دوسری رگ کا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے دوسری رگوں کا مواد) محمد بن یحیی بیان کرتے ہیں ان کی مراد یہ تھی کہ پاکی کے بعد سے مراد غسل کے بعد ہے۔ (اس کا یہ حکم ہے) (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحَائِضِ تَرَى بَعْدَ الطُّهْرِ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ:حیض سے پاک ہونے کے بعد حائضہ زرد اور خاکی رطوبت دیکھے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤١١،حديث نمبر ٦٤٦)
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حیض سے (پاکی کے بعد) زرد یا گدلے مادہ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے۔ ایک اور سند سے بھی حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (پاکی کے بعد) ہم پیلی اور مٹیالی رطوبت کا کوئی اعتبار نہیں کرتے تھے ۱؎۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: وہیب اس سلسلے میں ہمارے نزدیک ان دونوں میں اولیٰ ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحَائِضِ تَرَى بَعْدَ الطُّهْرِ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ:حیض سے پاک ہونے کے بعد حائضہ زرد اور خاکی رطوبت دیکھے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤١٠،حديث نمبر ٦٤٦)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نفاس والی عورت 40 دن تک بیٹھی رہتی تھی (خواتین اس دوران) چھائیوں کی وجہ سے اپنے چہروں پر کسم کا لیپ کیا کرتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: النُّفَسَاءِ كَمْ تَجْلِسُ: نفاس والی عورت زچگی کے بعد کتنے دن بیٹھے؟:جلد١، ص٤١٣،حديث نمبر ٦٤٨)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی خواتین کے لیے 40 دن کی مدت متعین کی تھی البتہ اگر وہ اس سے پہلے طہر دیکھ لے تو حکم مختلف ہوگا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: النُّفَسَاءِ كَمْ تَجْلِسُ: نفاس والی عورت زچگی کے بعد کتنے دن بیٹھے؟:جلد١، ص٤١٣،حديث نمبر ٦٤٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے اور اس وقت وہ حیض کی حالت میں ہو تو ایسے شخص کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم یہ دیا ہے وہ نصف دینار صدقہ کرے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ:حائضہ عورت سے جماع کا حکم:جلد١، ص٤١٤،حديث نمبر ٦٥٠)
حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض والی عورت کے ساتھ کھانے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس کے ساتھ کھا لو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت کے ساتھ کھانے کا بیان:جلد١، ص٤١٥،حديث نمبر ٦٥١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے تھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی میرے اوپر چادر ہوتی تھی جس کا کچھ حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الصَّلاَةِ فِي ثَوْبِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت کے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد١، ص٤١٥،حديث نمبر ٦٥٢)
سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کے اوپر ایک چادر موجود تھی جس کا کچھ حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا اور کچھ حصہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا پر تھا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا اس وقت حیض کی حالت میں تھیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابٌ في الصَّلاَةِ فِي ثَوْبِ الْحَائِضِ:حائضہ عورت کے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد١، ص٤١٦،حديث نمبر ٦٥٣)
سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کنیز چھپ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا اسے حیض آچکا ہے سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے عرض کی جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمامہ کو چیر دیا اور ارشاد فرمایا تم اس کے ذریعے سر کو ڈھانپ لو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: إِذَا حَاضَتِ الْجَارِيَةُ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ بِخِمَارٍ: بالغ لڑکی دوپٹہ کے بغیر نماز نہ پڑھے:جلد١، ص٤١٦،حديث نمبر ٦٥٤)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں اللہ تعالی حیض والی (یعنی بالغ) عورت کی نماز چادر کے بغیر قبول نہیں کرتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: إِذَا حَاضَتِ الْجَارِيَةُ لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ بِخِمَارٍ: بالغ لڑکی دوپٹہ کے بغیر نماز نہ پڑھے:جلد١، ص٤١٧،حديث نمبر ٦٥٥)
سیدہ معاذہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں ایک خاتون نے سید عائشہ صدیق رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا کیا حیض والی عورت خضاب لگا سکتی ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتی تھی تو ہم خضاب لگا لیا کرتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْحَائِضِ تَخْتَضِبُ:حائضہ عورت کے خضاب (مہندی) لگانے کا بیان:جلد١، ص٤١٧،حديث نمبر ٦٥٦)
حضرت زید اپنے والد (حضرت زین العابدین) کے حوالے سے اپنے دادا (امام حسین رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں میری ایک ہڈی ٹوٹ گئی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں پٹی پر مسح کر لوں- یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْمَسْحِ عَلَى الْجَبَائِرِ:پٹیوں پر مسح کرنے کا بیان:جلد١، ص٤١٨،حديث نمبر ٦٥٧)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اٹھایا ہوا تھا اور ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہہ رہا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: اللُّعَابِ يُصِيبُ الثَّوْبَ: کپڑے پر تھوک (لعاب) لگ جائے تو اس کے حکم کا بیان:جلد١، ص٤١٩،حديث نمبر ٦٥٨)
عبدالجبار بن وائل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ڈول لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کلی کی اور اسی ڈول میں کلی والا پانی ڈال دیا تو وہ مشک کی مانند تھا یا مشک سے بھی زیادہ پاکیزہ تھا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول میں سے پانی لے کر باہر ناک صاف کی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْمَجِّ فِي الإِنَاءِ:رتن میں کلی کرنے کا بیان:جلد١، ص٤١٩،حديث نمبر ٦٥٩)
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں مجھے یہ بات یاد تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کنویں میں سے ڈول کے ذریعے پانی لے کر اس میں کلی ڈال دی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: الْمَجِّ فِي الإِنَاءِ:رتن میں کلی کرنے کا بیان:جلد١، ص٤٢٠،حديث نمبر ٦٦٠)
عبدالرحمن بن ابو سعید خدری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کوئی عورت کسی دوسری عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ کوئی مرد کسی دوسری کی شرم گاہ کی طرف دیکھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يَرَى عَوْرَةَ أَخِيهِ:اپنے مسلمان بھائی کی شرمگاہ (ستر) دیکھنے کی ممانعت:جلد١، ص٤٢١،حديث نمبر ٦٦١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہے میں نے کبھی نظر نہیں کی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ کو کبھی نہیں دیکھا۔ ابوبکر نامی راوی بیان کرتے ہیں ابو نعیم نے یہ بات بیان کی ہے یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی کنیز سے منقول ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يَرَى عَوْرَةَ أَخِيهِ:اپنے مسلمان بھائی کی شرمگاہ (ستر) دیکھنے کی ممانعت:جلد١، ص٤٢١،حديث نمبر ٦٦١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم کی ایک حصے کو دیکھا کہ وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں کو پکڑا اور ان کی تری اس پر ڈال دی۔ اسحاق نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں کو اس پر نچوڑ دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنِ اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَبَقِيَ مِنْ جَسَدِهِ لُمْعَةً لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ كَيْفَ يَصْنَعُ: غسل جنابت میں بدن کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤٢٢،حديث نمبر ٦٦٣)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی میں نے غسل جنابت کر کے فجر کی نماز پڑھ لی پھر صبح میں نے دیکھا کہ ایک ناخن کے برابر جگہ ایسی تھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم اپنے ہاتھ کے ذریعے اس پر مسح کر لیتے تو یہ تمہارے لیے جائز تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنِ اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَبَقِيَ مِنْ جَسَدِهِ لُمْعَةً لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ كَيْفَ يَصْنَعُ: غسل جنابت میں بدن کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤٢٣،حديث نمبر ٦٦٤)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے وضو کیا تھا اور ایک ناخن کے برابر جگہ کو چھوڑ دیا تھا اور وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعًا لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ:وضو میں کوئی جگہ سوکھی چھوڑ دی تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤٢٣،حديث نمبر ٦٦٥)
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس نے وضو کرتے ہوئے اپنے پاؤں میں ایک ناخن کے برابر جگہ کو چھوڑ دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یہ ہدایت کی کہ وہ دوبارہ وضو کر کے دوبارہ نماز ادا کرے۔ راوی کہتے ہیں اس شخص نے دوبارہ ایسا کیا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب التیمم:بَابُ: مَنْ تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعًا لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ:وضو میں کوئی جگہ سوکھی چھوڑ دی تو کیا کرے؟:جلد١، ص٤٢٤،حديث نمبر ٦٦٦)
Ibne Majah Shareef : Abawabut Tayammumi
|
Ibne Majah Shareef : تیمم کے احکام و مسائل
|
•