
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا:اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنانے والے کی فضیلت:جلد١، ص٤٧٣،حديث نمبر ٧٣٥)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لیے مسجد بنوائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا:اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنانے والے کی فضیلت:جلد١، ص٤٧٤،حديث نمبر ٧٣٦)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لیے خالص اپنے مال سے مسجد بنوائی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا:اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنانے والے کی فضیلت:جلد١، ص٤٧٤،حديث نمبر ٧٣٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لیے بنوائی، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا:اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنانے والے کی فضیلت:جلد١، ص٤٧٥،حديث نمبر ٧٣٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت قائم ہو گی، جب لوگ مسجدوں کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں گے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: تَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ:مساجد کے سجانے اور اونچی بنانے کا بیان:جلد١، ص٤٧٦،حديث نمبر ٧٣٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم لوگ میرے بعد اپنی مساجد کو بلند تعمیر کرنا شروع کرو گے جس طرح یہودیوں نے اپنی عبادت گاہیں نمایاں کی تھیں اور جس طرح عیسائیوں نے اپنی عبادت گاہ نمایاں کی تھیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: تَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ:مساجد کے سجانے اور اونچی بنانے کا بیان:جلد١، ص٤٧٦،حديث نمبر ٧٣٤٠)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی بھی قوم کا اجتماعی عمل اسی وقت خراب ہوتا ہے جب وہ اپنی مساجد کو آراستہ کرنے لگیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: تَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ:مساجد کے سجانے اور اونچی بنانے کا بیان:جلد١، ص٤٧٦،حديث نمبر ٧٣٤١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی جگہ بنو نجار کی ملکیت میں تھی وہاں ان کے کچھ کھجوروں کے باغات تھے اور کچھ مشرکین کی قبریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اس کی قیمت مجھ سے وصول کر لو انہوں نے عرض کی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی قیمت ہرگز وصول نہیں کریں گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد کی تعمیر کرنا شروع کی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اینٹیں وغیرہ پکڑانا شروع کیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھ رہے تھے۔ یاد رکھنا زندگی صرف اخرت کی زندگی ہے اے اللہ تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت کر دے راوی بیان کرتے ہیں مسجد کی تعمیر کرنے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز ادا کر لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: أَيْنَ يَجُوزُ بِنَاءُ الْمَسَاجِدِ: مسجد کس جگہ بنانی جائز ہے؟:جلد١، ص٤٧٧،حديث نمبر ٧٤٢)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ طائف میں مسجد وہیں پہ تعمیر کریں جہاں پہ طائف والوں کا بت تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: أَيْنَ يَجُوزُ بِنَاءُ الْمَسَاجِدِ: مسجد کس جگہ بنانی جائز ہے؟:جلد١، ص٤٧٧،حديث نمبر ٧٤٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ان باغات میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا جن میں پاخانہ ڈالا جاتا ہے، انہوں نے کہا: جب ان باغات کو کئی بار پانی سے سینچا گیا ہو تو ان میں نماز پڑھ لو۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: أَيْنَ يَجُوزُ بِنَاءُ الْمَسَاجِدِ: مسجد کس جگہ بنانی جائز ہے؟:جلد١، ص٤٧٧،حديث نمبر ٧٤٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے سوا ساری زمین مسجد ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَوَاضِعِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاَةُ:جن جگہوں پر نماز مکروہ ہے ان کا بیان:جلد١، ص٤٧٩،حديث نمبر ٧٤٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: ”کوڑا خانہ، مذبح (ذبیحہ گھر)، قبرستان، عام راستہ، غسل خانہ، اونٹ کے باڑے اور خانہ کعبہ کی چھت پر“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَوَاضِعِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاَةُ:جن جگہوں پر نماز مکروہ ہے ان کا بیان:جلد١، ص٤٧٩،حديث نمبر ٧٤٦)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات مقامات پر نماز جائز نہیں ہے: خانہ کعبہ کی چھت پر، قبرستان، کوڑا خانہ، مذبح، اونٹوں کے باندھے جانے کی جگہوں اور عام راستوں پر“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَوَاضِعِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاَةُ:جن جگہوں پر نماز مکروہ ہے ان کا بیان:جلد١، ص٤٨٠،حديث نمبر ٧٤٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چند اعمال ایسے ہیں جو مسجد میں نامناسب ہیں، اس کو عام گزرگاہ نہ بنایا جائے، اس میں ہتھیار ننگا نہ کیا جائے، تیر اندازی کے لیے کمان نہ پکڑی جائے، اس میں تیروں کو نہ پھیلایا جائے، کچا گوشت لے کر نہ گزرا جائے، اس میں حد نہ قائم کی جائے، کسی سے قصاص نہ لیا جائے، اور اس کو بازار نہ بنایا جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: مَا يُكْرَهُ فِي الْمَسَاجِدِ:جو کام مساجد میں مکروہ ہیں ان کا بیان:جلد١، ص٤٨٠،حديث نمبر ٧٤٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت اور (غیر دینی) اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: مَا يُكْرَهُ فِي الْمَسَاجِدِ:جو کام مساجد میں مکروہ ہیں ان کا بیان:جلد١، ص٤٨١،حديث نمبر ٧٤٩)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی مسجدوں کو بچوں، دیوانوں (پاگلوں)، خرید و فروخت کرنے والوں، اور اپنے جھگڑوں (اختلافی مسائل)، زور زور بولنے، حدود قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے محفوظ رکھو، اور مسجدوں کے دروازوں پر طہارت خانے بناؤ، اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو جلایا کرو“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: مَا يُكْرَهُ فِي الْمَسَاجِدِ:جو کام مساجد میں مکروہ ہیں ان کا بیان:جلد١، ص٤٨١،حديث نمبر ٧٥٠)
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم لوگ مسجد میں سو جایا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ:مسجد میں سونے کا بیان:جلد١، ص٤٨١،حديث نمبر ٧٥١)
حضرت قیس بن طخفة (جو اصحاب صفہ میں سے تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم سب چلو“، چنانچہ ہم سب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، وہاں ہم نے کھایا پیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”اگر تم لوگ چاہو تو یہیں سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ“، ہم نے کہا کہ ہم مسجد ہی جائیں گے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ:مسجد میں سونے کا بیان:جلد١، ص٤٨٣،حديث نمبر ٧٥٢)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد الحرام“، میں نے پوچھا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مسجد الاقصیٰ“، میں نے پوچھا: ان دونوں کی مدت تعمیر میں کتنا فاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس سال کا، پھر ساری زمین تمہارے لیے نماز کی جگہ ہے، جہاں پر نماز کا وقت ہو جائے وہیں ادا کر لو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: النَّوْمِ فِي الْمَسْجِدِ:مسجد میں سونے کا بیان:جلد١، ص٤٨٤،حديث نمبر ٧٥٣)
حضرت محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور ان کو وہ کلی یاد تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول سے لے کر ان کے کنویں میں کر دی تھی، انہوں نے عتبان بن مالک سالمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی (جو اپنی قوم بنی سالم کے امام تھے اور غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے) وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہو گئی ہے، جب سیلاب آتا ہے تو وہ میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، اسے پار کرنا میرے لیے دشوار ہوتا ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے گھر تشریف لائیں اور گھر کے کسی حصے میں نماز پڑھ دیں، تاکہ میں اس کو اپنے لیے مصلیٰ (نماز کی جگہ) بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، میں ایسا کروں گا“، اگلے روز جب دن خوب چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے بھی نہ تھے کہ فرمایا: ”تم اپنے گھر کے کس حصہ کو پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے لیے وہاں نماز پڑھ دوں؟“، میں جہاں نماز پڑھنا چاہتا تھا ادھر میں نے اشارہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر میں نے آپ کو خزیرہ (حلیم) تناول کرنے کے لیے روک لیا جو ان لوگوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ:گھروں میں مساجد بنانے کا بیان:جلد١، ص٤٨٥،حديث نمبر ٧٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خبر بھیجی کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں مسجد کے لیے حد بندی کر دیں تاکہ میں اس میں نماز پڑھا کروں، اور یہ اس لیے کہ وہ صحابی نابینا ہو گئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ان کی مراد پوری کر دی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ:گھروں میں مساجد بنانے کا بیان:جلد١، ص٤٨٦،حديث نمبر ٧٥٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ آج میرے گھر کھانا کھائیں، اور اس میں نماز بھی پڑھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے گھر میں ایک پرانی کالی چٹائی پڑی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے ایک گوشہ کو صاف کرنے کا حکم دیا، وہ صاف کیا گیا، اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ «فحل» اس چٹائی کو کہتے ہیں جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہو گئی ہو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ:گھروں میں مساجد بنانے کا بیان:جلد١، ص٤٨٦،حديث نمبر ٧٥٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مسجد سے کوڑا کرکٹ نکال دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: تَطْهِيرِ الْمَسَاجِدِ وَتَطْيِيبِهَا:مساجد کو صاف اور معطر رکھنے کا بیان:جلد١، ص٤٨٧،حديث نمبر ٧٥٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ”گھر میں مسجدیں بنائی جائیں، اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے، اور ان میں خوشبو لگائی جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: تَطْهِيرِ الْمَسَاجِدِ وَتَطْيِيبِهَا:مساجد کو صاف اور معطر رکھنے کا بیان:جلد١، ص٤٨٧،حديث نمبر ٧٥٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: ”محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے، اور ان میں خوشبو لگائی جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: تَطْهِيرِ الْمَسَاجِدِ وَتَطْيِيبِهَا:مساجد کو صاف اور معطر رکھنے کا بیان:جلد١، ص٤٨٨،حديث نمبر ٧٥٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مسجدوں میں چراغ جلایا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: تَطْهِيرِ الْمَسَاجِدِ وَتَطْيِيبِهَا:مساجد کو صاف اور معطر رکھنے کا بیان:جلد١، ص٤٨٨،حديث نمبر ٧٦٠)
حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر رینٹ دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لے کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: ”جب کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنے سامنے اور اپنے دائیں ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: كَرَاهِيَةِ النُّخَامَةِ فِي الْمَسْجِدِ:مسجد میں تھوکنے اور ناک جھاڑنے کی کراہت کا بیان:جلد١، ص٤٨٨،حديث نمبر ٧٦١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی سمت قبلہ والی دیوار پر بلغم دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، اتنے میں قبیلہ انصار کی ایک عورت آئی اور اس نے اسے کھرچ دیا، اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کتنا اچھا کام ہے“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: كَرَاهِيَةِ النُّخَامَةِ فِي الْمَسْجِدِ:مسجد میں تھوکنے اور ناک جھاڑنے کی کراہت کا بیان:جلد١، ص٤٨٩،حديث نمبر ٧٦٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی سمت قبلہ والی دیوار پر بلغم دیکھا، اس وقت آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بلغم کھرچ دیا، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: كَرَاهِيَةِ النُّخَامَةِ فِي الْمَسْجِدِ:مسجد میں تھوکنے اور ناک جھاڑنے کی کراہت کا بیان:جلد١، ص٤٨٩،حديث نمبر ٧٦٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر لگا ہوا تھوک رگڑ کر صاف کر دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: كَرَاهِيَةِ النُّخَامَةِ فِي الْمَسْجِدِ:مسجد میں تھوکنے اور ناک جھاڑنے کی کراہت کا بیان:جلد١، ص٤٩٠،حديث نمبر ٧٦٤)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، تو ایک شخص نے کہا: میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کرے تمہیں نہ ملے، مسجدیں خاص مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ إِنْشَادِ الضَّوَالِّ فِي الْمَسْجِدِ:مساجد میں گمشدہ چیزوں کو پکار کر ڈھونڈنا منع ہے:جلد١، ص٤٩٠،حديث نمبر ٧٦٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں گمشدہ چیزوں کے اعلان سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ إِنْشَادِ الضَّوَالِّ فِي الْمَسْجِدِ:مساجد میں گمشدہ چیزوں کو پکار کر ڈھونڈنا منع ہے:جلد١، ص٤٩١،حديث نمبر ٧٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص کسی کو مسجد میں کسی گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو کہے: اللہ کرے تمہاری چیز نہ ملے، اس لیے کہ مسجدیں اس کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: النَّهْيِ عَنْ إِنْشَادِ الضَّوَالِّ فِي الْمَسْجِدِ:مساجد میں گمشدہ چیزوں کو پکار کر ڈھونڈنا منع ہے:جلد١، ص٤٩١،حديث نمبر ٧٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ وَمُرَاحِ الْغَنَمِ:اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد١، ص٤٩١،حديث نمبر ٧٦٨)
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو، اور اونٹوں کے باڑ میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ ان کی تخلیق شیاطین سے ہوئی ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ وَمُرَاحِ الْغَنَمِ:اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد١، ص٤٩٢،حديث نمبر ٧٦٩)
حضرت معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھی جائے، اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لی جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ وَمُرَاحِ الْغَنَمِ:اونٹوں اور بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد١، ص٤٩٢،حديث نمبر ٧٧٠)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك» ”میں اللہ کا نام لے کر داخل ہوتا ہوں، اور رسول اللہ پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“، اور جب نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك» ”میں اللہ کا نام لے کر جاتا ہوں، اور رسول اللہ پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور اپنے فضل کے دروازے مجھ پر کھول دے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ:مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان:جلد١، ص٤٩٣،حديث نمبر ٧٧١)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ اور جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ:مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان:جلد١، ص٤٩٤،حديث نمبر ٧٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے اور کہے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» ”اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے، اور کہے: «اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم» ”اے اللہ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ:مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان:جلد١، ص٤٩٤،حديث نمبر ٧٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد آئے، اور نماز ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو، اور وہ نماز کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہ رکھتا ہو، تو ہر قدم پہ اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے، پھر مسجد میں داخل ہو گیا تو جب تک نماز اسے روکے رکھے نماز ہی میں رہتا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ:نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان:جلد١، ص٤٩٥،حديث نمبر ٧٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان سے چل کر آؤ، امام کے ساتھ جتنی نماز ملے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ:نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان:جلد١، ص٤٩٦،حديث نمبر ٧٧٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو معاف کرتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشواری و ناپسندیدگی کے باوجود پورا وضو کرنا، مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ:نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان:جلد١، ص٤٩٦،حديث نمبر ٧٧٦)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص یہ بات پسند کرتا ہو کہ قیامت کے دن اللہ تعالی کے بارگاہ میں حاضری مسلمان ہونے کی حالت میں ہو تو جیسے ہی اذان ہو اسے نماز کی حفاظت کرنی چاہیے یعنی باجماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اس کی وجہ سے یہ نماز سنن ہدی میں سے ہے اور اللہ تعالی نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سنن ہدی کو مشروع کیا ہے میری زندگی کی قسم اگر تم سب لوگ اپنے گھر میں نماز ادا کرنا شروع کر دو تو تم لوگ اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دو گے اور اگر تم اپنے نبی کی سنت ترک کر دو گے تو تم لوگ گمراہ ہو جاؤ گے۔ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ہم میں سے وہی شخص باجماعت نماز میں شریک نہیں ہوتا تھا جو پکا منافق ہو اور مجھے یاد ہے ایک شخص کو دو ادمیوں کے درمیان سہارا دے کر لایا گیا اور اسے صف میں شامل کر دیا گیا جو شخص بھی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح سے وضو کرتا ہے اور پھر مسجد جا کر وہاں نماز ادا کرتا ہے تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے اس کے گناہ کو مٹا دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ:نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان:جلد١، ص٤٩٧،حديث نمبر ٧٧٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلے اور یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك وأسألك بحق ممشاي هذا فإني لم أخرج أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة وخرجت اتقاء سخطك وابتغاء مرضاتك فأسألك أن تعيذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ”اے اللہ!یں تجھ سے اس واسطے سے سوال کرتا ہوں جو سوال کرنے والوں کا تجھ پر حق ہے اور میں تجھ سے اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے سوال کرتا ہوں میں فقر کرتے ہوئے تکبر کرتے ہوئے ریاکاری کرتے ہوئے یا شہرت کے حصول کے لیے اپنے گھر سے نہیں نکلا ہوں میں تیری ناراضگی سے بچنے کے لیے تیری رضا کے لیے گھر سے نکلا ہوں میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے آگ سے اور آگ کے عذاب سے بچا لینا اور میرے گناہوں کی مغفرت کر دینا کیونکہ تیرے علاوہ اور کوئی گناہوں کی مغفرت کرنے والا نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالی اس شخص کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور 70 ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ:نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان:جلد١، ص٤٩٨،حديث نمبر ٧٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تاریکیوں میں مسجد کی طرف جانے والے لوگ اللہ کی رحمت میں داخل ہونے والے ہوتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ:نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان:جلد١، ص٤٩٨،حديث نمبر ٧٧٩)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تاریکیوں میں (نماز کے لیے) چل کر جانے والے خوش ہو جائیں کہ ان کے لیے قیامت کے دن کامل نور ہو گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ:نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان:جلد١، ص٤٩٩،حديث نمبر ٧٨٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت سنا دو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: الْمَشْيِ إِلَى الصَّلاَةِ:نماز کے لیے چل کر مسجد جانے کا بیان:جلد١، ص٥٠٠،حديث نمبر ٧٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں جو جتنا ہی دور سے آتا ہے، اس کو اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات: بَابُ: الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا:مسجد سے جو جنتا زیادہ دور ہو گا اس کو مسجد میں آنے کا ثواب اسی اعتبار سے زیادہ ہو گا:جلد١، ص٥٠٠،حديث نمبر ٧٨٢)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک انصاری شخص کا مکان انتہائی دوری پر تھا، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی، مجھے اس کی یہ مشقت دیکھ کر اس پر رحم آیا، اور میں نے اس سے کہا: اے ابوفلاں! اگر تم ایک گدھا خرید لیتے جو تمہیں گرم ریت پہ چلنے، پتھروں کی ٹھوکر اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتا (تو اچھا ہوتا)! اس انصاری نے کہا: اللہ کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے کسی گوشے سے ملا ہو، اس کی یہ بات مجھے بہت ہی گراں گزری میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا، تو اس نے آپ کے سامنے بھی وہی بات کہی، اور کہا کہ مجھے نشانات قدم پر ثواب ملنے کی امید ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس ثواب کی تم امید رکھتے ہو وہ تمہیں ملے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات: بَابُ: الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا:مسجد سے جو جنتا زیادہ دور ہو گا اس کو مسجد میں آنے کا ثواب اسی اعتبار سے زیادہ ہو گا:جلد١، ص٥٠١،حديث نمبر ٧٨٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے پرانے گھروں کو جو مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آ رہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ویرانی کو مناسب نہ سمجھا، اور فرمایا: ”بنو سلمہ! کیا تم اپنے نشانات قدم میں ثواب کی نیت نہیں رکھتے؟“، یہ سنا تو وہ وہیں رہے جہاں تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات: بَابُ: الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا:مسجد سے جو جنتا زیادہ دور ہو گا اس کو مسجد میں آنے کا ثواب اسی اعتبار سے زیادہ ہو گا:جلد١، ص٥٠٢،حديث نمبر ٧٨٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کچھ انصاریو کے گھر مسجد سے بہت دور تھے انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہا تو یہ آیت نازل ہوئی۔(ترجمہ) جو انہوں نے آگے بھیجا ہے وہ ہم نے نوٹ کر لیا ہے اور ان کے قدموں کی نشان بھی ہم نوٹ کر رہے ہیں تو وہ لوگ اپنی جگہ پر رہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات: بَابُ: الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا:مسجد سے جو جنتا زیادہ دور ہو گا اس کو مسجد میں آنے کا ثواب اسی اعتبار سے زیادہ ہو گا:جلد١، ص٥٠٢،حديث نمبر ٧٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں یا بازار میں تنہا نماز پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجہ افضل ہے“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: فَضْلِ الصَّلاَةِ فِي جَمَاعَةٍ:جماعت سے نماز پڑھنے کی فضیلت:جلد١، ص٥٠٣،حديث نمبر ٧٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کی فضیلت تم میں سے کسی کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: فَضْلِ الصَّلاَةِ فِي جَمَاعَةٍ:جماعت سے نماز پڑھنے کی فضیلت:جلد١، ص٥٠٤،حديث نمبر ٧٨٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں تنہا نماز پڑھنے سے پچیس درجہ افضل ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: فَضْلِ الصَّلاَةِ فِي جَمَاعَةٍ:جماعت سے نماز پڑھنے کی فضیلت:جلد١، ص٥٠٤،حديث نمبر ٧٨٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی گئی نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: فَضْلِ الصَّلاَةِ فِي جَمَاعَةٍ:جماعت سے نماز پڑھنے کی فضیلت:جلد١، ص٥٠٤،حديث نمبر ٧٨٩)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی ہوئی نماز پر چوبیس یا پچیس درجہ فضیلت رکھتی ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: فَضْلِ الصَّلاَةِ فِي جَمَاعَةٍ:جماعت سے نماز پڑھنے کی فضیلت:جلد١، ص٥٠٥،حديث نمبر ٧٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا پختہ ارادہ ہوا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور اس کے لیے اقامت کہی جائے، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جن کے ساتھ لکڑیوں کا گٹھر ہو، لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ہیں، اور ان کے ساتھ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ:جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان:جلد١، ص٥٠٥،حديث نمبر ٧٩١)
حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی میں عمر رسیدہ اور نابینا ہوں میرا گھر بھی دور ہے مجھے کوئی راستہ دکھانے والا بھی نہیں ہے جو میرے ساتھ دے سکے تو کیا آپ میرے لیے کوئی رخصت پاتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اذان کی اواز سنتے ہو میں نے عرض کی جی ہاں تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں ملتی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ:جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان:جلد١، ص٥٠٦،حديث نمبر ٧٩٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اذان سنی لیکن مسجد میں نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں ہو گی، الا یہ کہ کوئی عذر ہو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ:جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان:جلد١، ص٥٠٧،حديث نمبر ٧٩٣)
حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم خبر دیتے ہیں کہ ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ”لوگ نماز باجماعت چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر ان کا شمار غافلوں میں ہونے لگے گا“ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ:جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان:جلد١، ص٥٠٧،حديث نمبر ٧٩٤)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ جماعتوں کے چھوڑنے سے ضرور باز رہیں، ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ:جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان:جلد١، ص٥٠٨،حديث نمبر ٧٩٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو عشاء اور فجر کی نماز کا ثواب معلوم ہو جائے، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آئیں، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ فِي جَمَاعَةٍ:عشاء اور فجر باجماعت پڑھنے کی فضیلت:جلد١، ص٥٠٩،حديث نمبر ٧٩٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر وہ ان دونوں نمازوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ فِي جَمَاعَةٍ:عشاء اور فجر باجماعت پڑھنے کی فضیلت:جلد١، ص٥٠٩،حديث نمبر ٧٩٧)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس شخص نے مسجد میں چالیس دن تک جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، اور نماز عشاء کی پہلی رکعت فوت نہ ہوئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ فِي جَمَاعَةٍ:عشاء اور فجر باجماعت پڑھنے کی فضیلت:جلد١، ص٥١٠،حديث نمبر ٧٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز کے لیے رکے رہتا ہے تو وہ نماز ہی میں رہتا ہے، اور فرشتے اس شخص کے لیے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جس جگہ اس نے نماز ادا کی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، یہ دعا یوں ہی جاری رہتی ہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے، اور جب تک وہ ایذا نہ دے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: لُزُومِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ:مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت:جلد١، ص٥١١،حديث نمبر ٧٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان مسجد کو نماز اور ذکر الٰہی کے لیے اپنا گھر بنا لے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت دن غائب رہنے کے بعد گھر واپس لوٹے، تو گھر والے خوش ہوتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: لُزُومِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ:مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت:جلد١، ص٥١٢،حديث نمبر ٨٠٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، کچھ لوگ واپس چلے گئے، اور کچھ لوگ پیچھے مسجد میں رہ گئے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ آئے، آپ کا سانس پھول رہا تھا، اور آپ کے دونوں گھٹنے کھلے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ! تمہارے رب نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا، اور تمہارا ذکر فرشتوں سے فخریہ فرما رہا ہے اور کہہ رہا ہے: فرشتو! میرے بندوں کو دیکھو، ان لوگوں نے ایک فریضے کی ادائیگی کر لی ہے، اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: لُزُومِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ:مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت:جلد١، ص٥١٢،حديث نمبر ٨٠١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی شخص کو مسجد میں (نماز کے لیے) پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو“، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله» ”اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتے ہیں“ (سورة التوبة: ۱۸)۔ (سنن ابن ماجه:ابواب المساجد والجماعات:بَابُ: لُزُومِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارِ الصَّلاَةِ:مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت:جلد١، ص٥١٣،حديث نمبر ٨٠٢)
Ibne Majah Shareef : Masaajid Aur Jama'at Ke Ahkaam o Masayil
|
Ibne Majah Shareef : مساجد اور جماعت کے احکام و مسائل
|
•