
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہوتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر «الله أكبر» کہتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ:نماز شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص٥،حديث نمبر ٨٠٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز شروع کرتے تو یہ پڑھتے: «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! تو پاک ہے اور سب تعریف تیرے لیے ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ:نماز شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص٦،حديث نمبر ٨٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے تو تکبیر اور قرآت کے درمیان تھوڑی دیر خاموش رہتے، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بتائیے آپ تکبیر و قرآت کے درمیان جو خاموش رہتے ہیں تو اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ پڑھتا ہوں: «اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كالثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد» ” اے اللہ میرے اور میری کوتاہیوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے اے اللہ مجھے میری کوتاہیوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے کپڑے کو صاف کیا جاتا ہے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک کر دیا جاتا ہے اے اللہ میری کوتاہیوں کو پانی برف اور اولو کے ذریعے دھو دے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ:نماز شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص٦،حديث نمبر ٨٠٥)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! تو پاک ہے اور ساری تعریفیں تیرے لیے ہیں، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ:نماز شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص٧،حديث نمبر ٨٠٦)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو آپ نے «الله أكبر كبيرا» تین مرتبہ، «الحمد لله كثيرا» تین مرتبہ، «سبحان الله بكرة وأصيلا» تین مرتبہ کہا، اور پھر «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» پڑھا ”اے اللہ! میں مردود شیطان کے جنون، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ شیطان کا «ہمز» اس کا جنون، «نفث» اس کا شعر ہے، اور «نفخ» اس کا کبر ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے (یعنی شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے) کا بیان:جلد٢، ص٧،حديث نمبر ٨٠٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم وهمزه ونفخه ونفثه» ”اے اللہ! میں مردود شیطان کے جنون، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ راوی کہتے ہیں: «ہمز» سے مراد اس کا جنون ہے، «نفث» سے مراد شعر ہے اور «نفخ» سے مراد کبر و غرور ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے (یعنی شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے) کا بیان:جلد٢، ص٨،حديث نمبر ٨٠٨)
قبیصہ بن ہلب اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو اپ نے اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں کے ذریعے پکڑا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان:جلد٢، ص٩،حديث نمبر ٨٠٩)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں دست مبارک کے ساتھ بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان:جلد٢، ص١٠،حديث نمبر ٨١٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایسے گزرے میں نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرا دائیں ہاتھ پکڑا اور اسے میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان:جلد٢، ص١٠،حديث نمبر ٨١١)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کا آغاز "الحمدللہ رب العالمین" سے کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ:نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص١١،حديث نمبر ٨١٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ قرآت کا آغاز "الحمدللہ رب العالمین" سے کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ:نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص١١،حديث نمبر ٨١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کا آغاز "الحمدللہ رب العالمین" سے کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ:نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص١٢،حديث نمبر ٨١٤)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں میں نے کم ہی کوئی ایسا شخص دیکھا ہوگا جو اسلام میں کوئی نئی چیز پیدا کرنے کی حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے زیادہ شدید مخالف کرتا ہوں ۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے سنا میں نے (قرآت کرتے ہوئے) بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھ لی تو انہوں نے فرمایا اے میرے بیٹے نئے طریقہ ایجاد کرنے سے بچو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی قرآت کے آغاز میں (بلند اواز میں بسم اللہ پڑھتے ہوئے نہیں سنا)تو تم جب قرآت کرو تو الحمدللہ رب العالمین سے شروع کرو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ:نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان:جلد٢، ص١٢،حديث نمبر ٨١٥)
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں آیت کریمہ: «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھتے ہوئے سنا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٣،حديث نمبر ٨١٦)
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ فجر میں: «فلا أقسم بالخنس الجوار الكنس» کی قراءت فرما رہے تھے، گویا کہ میں یہ قراءت اب بھی سن رہا ہوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٣،حديث نمبر ٨١٧)
حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں 60 سے لے کر100 آیات تک تلاوت کی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٤،حديث نمبر ٨١٨)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح فجر کی نماز میں بھی کرتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٤،حديث نمبر ٨١٩)
حضرت عبداللہ بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں سورہ مومنون کی تلاوت کی جب اس آیت پہ پہنچے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے، تو آپ کو کھانسی آ گئی، اور آپ رکوع میں چلے گئے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٥،حديث نمبر ٨٢٠)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم تنزيل السجدة» (سورۃ سجدۃ)، اور «هل أتى على الإنسان» (سورۃ الدہر) پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٥،حديث نمبر ٨٢١)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٦،حديث نمبر ٨٢٢)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٦،حديث نمبر ٨٢٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے۔ اسحاق بن سلیمان کہتے ہیں کہ عمرو بن ابی قیس نے ہم سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی روایت کی ہے مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص١٧،حديث نمبر ٨٢٤)
قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تمہارے لیے اس میں کوئی خیر نہیں ، میں نے اصرار کیا کہ آپ بیان تو کیجئیے، اللہ آپ پہ رحم کرے،حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز ظہر کی اقامت کہی جاتی اس وقت ہم میں سے کوئی بقیع جاتا، اور قضائے حاجت (پیشاب پاخانہ) سے فارغ ہو کر واپس آتا، پھر وضو کرتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی پہلی رکعت میں پاتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ:ظہر اور عصر کی قرات کا بیان:جلد٢، ص١٨،حديث نمبر ٨٢٥)
ابومعمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ لوگ ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کو کیسے پہچانتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک (کے بال) کے ہلنے سے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ:ظہر اور عصر کی قرات کا بیان:جلد٢، ص١٩،حديث نمبر ٨٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے فلاں یعنی عمرو بن سلمہ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کی نماز نہیں دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے، اور آخری دونوں ہلکی کرتے، اور عصر کی نماز بھی ہلکی کرتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ:ظہر اور عصر کی قرات کا بیان:جلد٢، ص١٩،حديث نمبر ٨٢٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تیس بدری صحابہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آؤ ہم سری نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ کریں، تو ان لوگوں نے ظہر کی پہلی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ تیس آیت کے بہ قدر کیا، اور دوسری رکعت میں اس کے آدھا، اور عصر کی نماز میں ظہر کی پچھلی دونوں رکعتوں کے نصف کے بہ قدر، اس اندازے میں ان میں سے دو شخصوں کا بھی اختلاف نہیں ہوا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ:ظہر اور عصر کی قرات کا بیان:جلد٢، ص٢٠،حديث نمبر ٨٢٨)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں ابتدائی دو رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھا کرتے تھے اور کبھی کبھار آپ کی آواز اتنی بلند ہو جاتی تھی کہ ہمیں کوئی ایک آیات سنائی دے جاتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَهْرِ بِالآيَةِ أَحْيَانًا فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ:ظہر و عصر میں کبھی کوئی آیت آواز سے پڑھ دینے کا بیان:جلد٢، ص٢٠،حديث نمبر ٨٢٩)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے تو ہم سورۃ «لقمان» اور سورۃ «ذاريات» کی کئی آیتوں کے بعد کوئی آیت سن لیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَهْرِ بِالآيَةِ أَحْيَانًا فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ:ظہر و عصر میں کبھی کوئی آیت آواز سے پڑھ دینے کا بیان:جلد٢، ص٢٠،حديث نمبر ٨٣٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں (ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ ان کی والدہ کا نام ”لبابہ“ ہے): انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں «والمرسلات عرفا» پڑھتے سنا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْمَغْرِبِ:مغرب میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص٢١،حديث نمبر ٨٣١)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں «والطور» پڑھتے سنا۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری حدیث میں کہا کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الطور میں سے یہ آیت کریمہ «أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون» سے «فليأت مستمعهم بسلطان مبين»، یعنی: ”کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خودبخود پیدا ہو گئے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغہ ہیں، یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے“، (سورۃ الطور: ۳۵ -۳۸) تک پڑھتے ہوئے سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے گا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْمَغْرِبِ:مغرب میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص٢٢،حديث نمبر ٨٣٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْمَغْرِبِ:مغرب میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص٢٢،حديث نمبر ٨٣٣)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو «والتين والزيتون» پڑھتے ہوئے سنا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْعِشَاءِ:عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص٢٣،حديث نمبر ٨٣٤)
اسی سند سے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں ہے کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کسی بھی انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی آواز یا قراءت والا نہیں سنا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْعِشَاءِ:عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص٢٤،حديث نمبر ٨٣٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ سورتیں پڑھا کرو: «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ بسم ربك» “ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْعِشَاءِ:عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢، ص٢٤،حديث نمبر ٨٣٦)
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز مکمل نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ:امام کے پیچھے قرات کا حکم:جلد٢، ص٢٤،حديث نمبر ٨٣٧)
ابو سائب بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز ادا کرتے ہوئے سورہ فاتحہ تلاوت نہ کرے تو اس کی نماز نا مکمل ہوتی ہے پوری نہیں ہوتی۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا بعض اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میری بازو کو دباتے ہوئے فرمایا اے فارسی تم اپنے دل میں اسے پڑھ لیا کرو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ:امام کے پیچھے قرات کا حکم:جلد٢، ص٢٥،حديث نمبر ٨٣٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت نہ پڑھے خواہ فرض نماز ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور ہو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ:امام کے پیچھے قرات کا حکم:جلد٢، ص٢٦،حديث نمبر ٨٣٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ:امام کے پیچھے قرات کا حکم:جلد٢، ص٢٦،حديث نمبر ٨٤٠)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمر وہ بن العاص رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی گئی وہ نامکمل ہوتی ہے وہ نامکمل ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ:امام کے پیچھے قرات کا حکم:جلد٢، ص٢٧،حديث نمبر ٨٤١)
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا جب امام قرات کر رہا ہو تو کیا میں بھی قرات کروں تو انہوں نے جواب دیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوال کیا تھا کہ کیا ہر نماز میں قرات کی جائے گی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی ہاں تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے یہ لازم ہوگئی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ:امام کے پیچھے قرات کا حکم:جلد٢، ص٢٧،حديث نمبر ٨٤٢)
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ ظہر اور عصر کی نماز میں امام کی اقتدا میں پہلی دو رکعت میں قرات کرتے تھے ہم سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ ایک اور سورۃ پڑھتے تھےاور آخری دو رکعت میں صرف فاتحہ پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ:امام کے پیچھے قرات کا حکم:جلد٢، ص٢٨،حديث نمبر ٨٤٣)
حضرت سمرہ بن جندب (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، عمران بن حصین (رضی اللہ عنہ) نے اس کا انکار کیا، اس پر ہم نے مدینہ میں ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ ) کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ (رضی اللہ عنہ ) نے ٹھیک یاد رکھا ہے۔ سعید نے کہا : ہم نے قتادہ سے پوچھا : وہ دو سکتے کون کون سے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ایک تو وہ جب آپ ﷺ نماز شروع کرتے اور دوسرا جب قرآت فاتحہ سے فارغ ہوتے۔ پھر بعد میں قتادہ نے کہا : دوسرا سکتہ اس وقت ہوتا جب غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہہ لیتے، قتادہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ پسند تھا کہ جب امام قرات سے فارغ ہوجائے تو تھوڑی دیر خاموش رہے، تاکہ اس کا سانس ٹھکانے آجائے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابٌ في سَكْتَتَيِ الإِمَامِ:(قرات میں) امام کے دونوں سکتوں کا بیان:جلد٢، ص٢٩،حديث نمبر ٨٤٤)
حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو سکتے یاد ہیں۔ ایک سکتہ قراءت سے پہلے اور ایک سکتہ رکوع سے پہلے۔“ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ان سے اتفاق نہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف مدینہ منورہ خط لکھا، تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی تائید فرمائی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابٌ في سَكْتَتَيِ الإِمَامِ:(قرات میں) امام کے دونوں سکتوں کا بیان:جلد٢، ص٢٩،حديث نمبر ٨٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «ألله أكبر» کہے تو تم بھی «ألله أكبر» کہو، اور جب قراءت کرے تو خاموشی سے اس کو سنو، اور «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو آمین کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَأَنْصِتُوا: نماز میں امام قرات کرے تو اس پر خاموش رہنے کا بیان:جلد٢، ص٣٠،حديث نمبر ٨٤٦)
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب امام کی قرات کرے تو تم لوگ خاموش رہو اور قاعدہ میں تم لوگ سب سے پہلے تشہد پڑھو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَأَنْصِتُوا: نماز میں امام قرات کرے تو اس پر خاموش رہنے کا بیان:جلد٢، ص٣١،حديث نمبر ٨٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کوئی نماز پڑھائی، (ہمارا خیال ہے کہ وہ صبح کی نماز تھی) نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے قراءت کی ہے؟“، ایک آدمی نے کہا: جی ہاں، میں نے کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں بھی سوچ رہا تھا کیا وجہ ہے کہ تلاوت میں میرا مقابلہ کیا جا رہا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَأَنْصِتُوا: نماز میں امام قرات کرے تو اس پر خاموش رہنے کا بیان:جلد٢، ص٣٢،حديث نمبر ٨٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اس کے بعد جن نمازوں میں امام بلند آواز میں قرات کرتا ہے لوگ ان میں خاموش رہا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَأَنْصِتُوا: نماز میں امام قرات کرے تو اس پر خاموش رہنے کا بیان:جلد٢، ص٣٣،حديث نمبر ٨٤٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص کا امام موجود ہو تو امام کی قرات ہی اس کی قرات ہوتی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَأَنْصِتُوا: نماز میں امام قرات کرے تو اس پر خاموش رہنے کا بیان:جلد٢، ص٣٣،حديث نمبر ٨٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب امام آمین کہتے ہیں اور جو شخص فرشتوں کے آمین کہنے کے ساتھ آمین کہے گا اس کے گزشتہ تمام گناہیں بخش دیے جائیں گے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَهْرِ بِآمِينَ:آمین زور سے کہنے کا بیان:جلد٢، ص٣٥،حديث نمبر ٨٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب قرات کرنے والا آمین کہے تو تم بھی آمین کہو جس شخص کا آمین کہنا فرشتو کے آمین کہنے کے ساتھ ہوگا اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَهْرِ بِآمِينَ:آمین زور سے کہنے کا بیان:جلد٢، ص٣٦،حديث نمبر ٨٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں لوگوں نے آمین کہنا ترک کر دیا ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم* غیر المغضوب علیہم ولاالضالین "پڑھتے تھے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہتے تھے یہاں تک کہ پہلی صف کے لوگ اس کو سن لیتے تھے اور اس آمین کہنے کے ذریعے مسجد گونج اٹھتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَهْرِ بِآمِينَ:آمین زور سے کہنے کا بیان:جلد٢، ص٣٦،حديث نمبر ٨٥٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «ولا الضالين» کہتے تو «آمین» کہتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَهْرِ بِآمِينَ:آمین زور سے کہنے کا بیان:جلد٢، ص٣٧،حديث نمبر ٨٥٤)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے «ولا الضالين» کہا، تو اس کے بعد آمین کہا، یہاں تک کہ ہم نے اسے سنا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَهْرِ بِآمِينَ:آمین زور سے کہنے کا بیان:جلد٢، ص٣٧،حديث نمبر ٨٥٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا سلام کرنے، اور آمین کہنے پر حسد کیا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَهْرِ بِآمِينَ:آمین زور سے کہنے کا بیان:جلد٢، ص٣٩،حديث نمبر ٨٥٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا «آمین» کہنے پر کیا، لہٰذا تم آمین کثرت سے کہا کرو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَهْرِ بِآمِينَ:آمین زور سے کہنے کا بیان:جلد٢، ص٣٩،حديث نمبر ٨٥٧)
حدیث نمبر 858 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہوئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے آغاز میں رفع یدین کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت بھی رفع یدین کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان:جلد٢، ص٤٠،حديث نمبر ٨٥٨)
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کے قریب کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان:جلد٢، ص٤٠،حديث نمبر ٨٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دونوں ہاتھ نماز میں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے جس وقت نماز شروع کرتے، جس وقت رکوع کرتے (یعنی رفع یدین کرتے)، اور جس وقت سجدہ کرتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان:جلد٢، ص٤١،حديث نمبر ٨٦٠)
حضرت عمیر بن حبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ ہر تکبیر کے ساتھ فرض نماز میں اٹھاتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان:جلد٢، ص٤١،حديث نمبر ٨٦١)
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو حمید ساعدی کو کہتے سنا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کے بیچ میں تھے جن میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے، ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو سب سے زیادہ جانتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر «ألله أكبر» کہتے، اور جب رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور جب دو رکعت کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان:جلد٢، ص٤٣،حديث نمبر ٨٦٢)
عباس بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ ابو حمید ساعدی، ابو اسید ساعدی، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ سب اکٹھے ہوئے، اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، ابو حمید نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے ، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے)، اور سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان:جلد٢، ص٤٣،حديث نمبر ٨٦٣)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیریں کہتے اور رفع یدین کرتے تھے یہاں تک کہ اپ کے دونوں ہاتھوں کندھوں کے برابر آجاتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تو ایسا ہی کرتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے تو ایسا ہی کرتے تھے جب سجدوں کے بعد اٹھتے تھے تو تب بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان:جلد٢، ص٤٣،حديث نمبر ٨٦٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر تکبیر کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان:جلد٢، ص٤٤،حديث نمبر ٨٦٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے، اور جب رکوع کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے (یعنی رفع یدین کرتے) (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان:جلد٢، ص٤٤،حديث نمبر ٨٦٦)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں ضرور دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں، (چنانچہ ایک روز میں نے دیکھا) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، قبلے کی طرف رخ کیا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا، پھر جب رکوع کیا تو (بھی) اسی طرح اٹھایا (یعنی رفع یدین کیا)، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو (بھی) اسی طرح اٹھایا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان:جلد٢، ص٤٥،حديث نمبر ٨٦٧)
ابوالزبیر سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے جاتے، یا رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور کہتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم بن طہمان (راوی حدیث) نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں تک اٹھا کر بتایا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان:جلد٢، ص٤٥،حديث نمبر ٨٦٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے، اور نہ نیچا رکھتے بلکہ ان دونوں کے بیچ سیدھا رکھتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الرُّكُوعِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں رکوع کا بیان:جلد٢، ص٤٦،حديث نمبر ٨٦٩)
حضرت ابومسعود (عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ انصاری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نماز مکمل نہیں ہوتی ہے جس کے رکوع و سجود میں آدمی اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الرُّكُوعِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں رکوع کا بیان:جلد٢، ص٤٦،حديث نمبر ٨٧٠)
حضرت علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی قوم کے نمائندہ بن کر آئے تھے، وہ کہتے ہیں: ہم نکلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے کنکھیوں سے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کر رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے مسلمانوں کی جماعت! اس شخص کی نماز مکمل نہیں ہو گی جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الرُّكُوعِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں رکوع کا بیان:جلد٢، ص٤٧،حديث نمبر ٨٧١)
حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی کمر برابر رکھتے یہاں تک کہ اگر آپ کی کمر پر پانی ڈال دیا جاتا تو وہ تھم جاتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الرُّكُوعِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں رکوع کا بیان:جلد٢، ص٤٨،حديث نمبر ٨٧٢)
معصب بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے قریب (نماز پڑھتے ہوئے) رکوع کیا تو تطبیق کی۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ہم پہلے اس طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں حکم دیا کہ (ہاتھ) گھٹنوں کے اوپر رکھیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ:رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان:جلد٢، ص٤٨،حديث نمبر ٨٧٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تھے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے تھے اور بازوؤں کو (پہلوؤں سے) دور رکھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ:رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان:جلد٢، ص٤٩،حديث نمبر ٨٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہہ لیتے تو «ربنا ولك الحمد» کہتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ:رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان:جلد٢، ص٤٩،حديث نمبر ٨٧٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ:رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان:جلد٢، ص٥٠،حديث نمبر ٨٧٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ:رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان:جلد٢، ص٥٠،حديث نمبر ٨٧٧)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد»، ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے آسمانوں اور زمین بھر کر حمد ہے، اور اس کے بعد اس چیز بھر کر جو تو چاہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ:رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان:جلد٢، ص٥١،حديث نمبر ٨٧٨)
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال و دولت کا ذکر چھیڑا، آپ نماز میں تھے، ایک شخص نے کہا: فلاں کے پاس گھوڑوں کی دولت ہے، دوسرے نے کہا: فلاں کے پاس اونٹوں کی دولت ہے، تیسرے نے کہا: فلاں کے پاس بکریوں کی دولت ہے، چوتھے نے کہا: فلاں کے پاس غلاموں کی دولت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے اور آخری رکعت کے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم ربنا ولك الحمد ملئ السموات وملئ الأرض وملئ ما شئت من شيئ بعد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد اس چیز بھر جو تو چاہے، اے اللہ! نہیں روکنے والا کوئی اس چیز کو جو تو دے، اور نہیں دینے والا ہے کوئی اس چیز کو جسے تو روک لے، اور مالداروں کو ان کی مالداری تیرے مقابلہ میں نفع نہیں دے گی“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جَدّ» کہنے میں اپنی آواز کو کھینچا تاکہ لوگ جان لیں کہ بات ایسی نہیں جیسی وہ کہہ رہے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ:رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان:جلد٢، ص٥٢،حديث نمبر ٨٧٩)
ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلو سے الگ رکھتے کہ اگر ہاتھ کے بیچ سے کوئی بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: السُّجُودِ:نماز میں سجدے کا بیان:جلد٢، ص٥٢،حديث نمبر ٨٨٠)
حضرت عبداللہ بن اقرم خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بار اپنے والد کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا کہ ہمارے پاس سے کچھ سوار گزرے، انہوں نے راستے کی ایک جانب اپنی سواریوں کو بٹھایا، مجھ سے میرے والد نے کہا: تم اپنے جانوروں میں رہو تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے پوچھوں (کہ کون لوگ ہیں)، وہ کہتے ہیں: میرے والد گئے، اور میں بھی قریب پہنچا تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، میں نماز میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے میں آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی کو دیکھتا تھا۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: لوگ «عبیداللہ بن عبداللہ» کہتے ہیں، اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ لوگ «عبداللہ بن عبیداللہ» کہتے ہیں۔ ایک اور سند سے بھی اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: السُّجُودِ:نماز میں سجدے کا بیان:جلد٢، ص٥٣،حديث نمبر ٨٨١)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: السُّجُودِ:نماز میں سجدے کا بیان:جلد٢، ص٥٤،حديث نمبر ٨٨٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: السُّجُودِ:نماز میں سجدے کا بیان:جلد٢، ص٥٥،حديث نمبر ٨٨٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات (اعضاء) پر سجدہ کروں، اور بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں“۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ (وہ سات اعضاء یہ ہیں): دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں قدم، اور وہ پیشانی و ناک کو ایک شمار کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: السُّجُودِ:نماز میں سجدے کا بیان:جلد٢، ص٥٥،حديث نمبر ٨٨٤)
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، اس کی دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: السُّجُودِ:نماز میں سجدے کا بیان:جلد٢، ص٥٦،حديث نمبر ٨٨٤)
حضرت احمر رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بڑی نرمی محسوس ہوتی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے ہوئے ( مشقت کے ساتھ) اپنی دونوں بازو پہلوؤں سے الگ رکھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: السُّجُودِ:نماز میں سجدے کا بیان:جلد٢، ص٥٧،حديث نمبر ٨٨٦)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «فسبح باسم ربك العظيم» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”اسے اپنے رکوع میں کہا کرو“، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى» نازل ہوئی تو ہم سے فرمایا: ”اسے اپنے سجدے میں کہا کرو“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: التَّسْبِيحِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:رکوع اور سجدہ میں پڑھی جانے والی تسبیح کا بیان:جلد٢، ص٥٧،حديث نمبر ٨٨٧)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکوع میں «سبحان ربي العظيم» تین بار، اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» تین بار کہتے سنا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: التَّسْبِيحِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:رکوع اور سجدہ میں پڑھی جانے والی تسبیح کا بیان:جلد٢، ص٥٨،حديث نمبر ٨٨٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر کرتے ہوئے اکثر اپنے رکوع میں «سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفر لي» ”اے اللہ! تو پاک ہے، اور سب تعریف تیرے لیے ہے، اے اللہ! تو میری مغفرت کردے“ پڑھتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: التَّسْبِيحِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:رکوع اور سجدہ میں پڑھی جانے والی تسبیح کا بیان:جلد٢، ص٥٩،حديث نمبر ٨٨٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص رکوع کرے تو اپنے رکوع میں تین بار «سبحان ربي العظيم» کہے، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کا رکوع مکمل ہو گیا، اور جب کوئی شخص سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میں تین بار «سبحان ربي الأعلى» کہے، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کا سجدہ مکمل ہو گیا، اور یہ کم سے کم تعداد ہے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: التَّسْبِيحِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:رکوع اور سجدہ میں پڑھی جانے والی تسبیح کا بیان:جلد٢، ص٦٠،حديث نمبر ٨٩٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کا کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال سے کرے ، اور اپنے دونوں بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ:سجدے میں اعتدال اور میانہ روی:جلد٢، ص٦١،حديث نمبر ٨٩١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سجدوں میں اعتدال کرو، اور تم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کی طرح بچھا کر سجدہ نہ کرے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ:سجدے میں اعتدال اور میانہ روی:جلد٢، ص٦١،حديث نمبر ٨٩٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ:دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان:جلد٢، ص٦٢،حديث نمبر ٨٩٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرو“ (”اقعاء“: دونوں پنڈلیاں کھڑی کر کے سرین اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر بیٹھنے کو اقعاء کہتے ہیں، اور دونوں قدم کھڑا کر کے اس پر بیٹھنے کو بھی اقعاء کہا جاتا ہے، ممانعت پہلی صورت کی ہے۔) (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ:دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان:جلد٢، ص٦٢،حديث نمبر ٨٩٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے علی! تم اس طرح نہ بیٹھنا جس طرح کتا بیٹھتا ہے (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ:دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان:جلد٢، ص٦٣،حديث نمبر ٨٩٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ تو کتے کی طرح نہ بیٹھو، بلکہ اپنی سرین اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھو، اور اپنے قدموں کے اوپری حصہ کو زمین سے ملا دو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ:دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان:جلد٢، ص٦٢،حديث نمبر ٨٩٦)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان (جلسہ میں) «رب اغفر لي رب اغفر لي» ”اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! مجھے بخش دے“ پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ:دونوں سجدوں کے درمیان کیا پڑھے؟:جلد٢، ص٦٤،حديث نمبر ٨٩٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي وارحمني واجبرني وارزقني وارفعني»". اے میرے پروردگار تو میری مغفرت کر دے تو مجھ پر رحم کر تو مجھے طاقت دے تو مجھے رزق دے اور مجھے بلند مرتبہ نصیب کر۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ:دونوں سجدوں کے درمیان کیا پڑھے؟:جلد٢، ص٦٤،حديث نمبر ٨٩٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے: «السلام على الله قبل عباده السلام على جبرائيل وميكائيل وعلى فلان وفلان» ”سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، اور سلام ہو جبرائیل و میکائیل اور فلاں فلاں پر“، اور وہ مراد لیتے تھے (فلاں اور فلاں سے) فرشتوں کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کہتے سنا تو فرمایا: ”تم «السلام على الله» نہ کہو، کیونکہ اللہ ہی سلام ہے، لہٰذا جب تم تشہد کے لیے بیٹھو تو کہو «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ،السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» ” ہر طرح کی جسمانی اور مالی عبادتیں اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہیں اے نبی اپ پر سلام ہو اس کی رحمتیں ہو اور برکتیں ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو “ جب بندہ یہ کہتا ہے تو یہ دعا ہر اس نیک بندے کو پہنچ جاتی ہے جو آسمان و زمین میں ہے، «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں“۔ ایک اور سند سے بھی اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ ایک اور سند سے بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تشہد سکھاتے تھے، پھر آگے پہلی حدیث کے مانند بیان کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ:تشہد کا بیان:جلد٢، ص٦٤،حديث نمبر ٨٩٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے، آپ کہتے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” برکت والی تمام جسمانی زبانی اور مالی عبادات اللہ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی!( صلی اللہ علیہ وسلم) آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالی کی برکتیں اور اس کی رحمتیں نازل ہو ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندے پر سلام ہوں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں “۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ:تشہد کا بیان:جلد٢، ص٦٧،حديث نمبر ٩٠٠)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اس میں آپ نے ہمارے لیے طریقے بیان فرمائے، اور ہمیں ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز ادا کرو اور تشہد میں بیٹھو تو بیٹھتے ہی سب سے پہلے یہ پڑھو: «التحيات الطيبات الصلوات لله، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”ہر طرح کی پاکیزہ جسمانی زبانی اور مالی عبادات اللہ کے لیے مخصوص ہیں۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ پر سلام ہو اور اللہ تعالی کی برکتیں اور اس کی رحمتیں نازل ہو ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندے پر سلام ہوں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں “، یہ سات کلمے نماز کا سلام ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ:تشہد کا بیان:جلد٢، ص٦٨،حديث نمبر ٩٠١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد ایسے سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے تھے: «التحيات لله والصلوات والطيبات لله، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل الله الجنة وأعوذ بالله من النار» ”ہر طرح کی جسمانی اور مالی عبادتیں اللہ تعالی کے لیے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اس کی رحمتیں ہو اور برکتیں ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے، اور رسول ہیں، میں اللہ سے جنت کا طلبگار ہوں، اور جہنم سے پناہ چاہتا ہوں“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ:تشہد کا بیان:جلد٢، ص٦٩،حديث نمبر ٩٠٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: «اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم» ”اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل فرمائی ہے، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ برکت اتار جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اتاری ہے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان:جلد٢، ص٧٠،حديث نمبر ٩٠٣)
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کے اہل و عیال پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان:جلد٢، ص٧١،حديث نمبر ٩٠٤)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل فرمائی ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر سارے جہاں میں برکت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان:جلد٢، ص٧١،حديث نمبر ٩٠٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود (صلاۃ) بھیجو تو اچھی طرح بھیجو، تمہیں معلوم نہیں شاید وہ درود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان سے عرض کیا: پھر تو آپ ہمیں درود سکھا دیجئیے، انہوں نے کہا: کہو: «اللهم اجعل صلاتك ورحمتك وبركاتك على سيد المرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيين محمد عبدك ورسولك إمام الخير وقائد الخير ورسول الرحمة اللهم ابعثه مقاما محمودا يغبطه به الأولون والآخرون اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! اپنی عنایتیں، رحمتیں اور برکتیں رسولوں کے سردار، متقیوں کے امام خاتم النبیین محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل فرما، جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں، خیر کے امام و قائد اور رسول رحمت ہیں، اے اللہ! ان کو مقام محمود پر فائز فرما، جس پہ اولین و آخرین رشک کریں گے، اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پہ اپنی رحمت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پہ نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان:جلد٢، ص٧٢،حديث نمبر ٩٠٦)
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان:جلد٢، ص٧٣،حديث نمبر ٩٠٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا، وہ جنت کا راستہ بھول گیا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان:جلد٢، ص٧٤،حديث نمبر ٩٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص آخری تشہد (تحیات اور درود) سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت و حیات کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے فتنے سے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُقَالُ فِي التَّشَهُّدِ وَالصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:تشہد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) کے بعد کیا دعا پڑھے؟:جلد٢، ص٧٥،حديث نمبر ٩٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے یہ دریافت کیا تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ اس نے عرض کی میں تشہد کے کلمات پڑھتا ہوں پھر میں اللہ تعالی سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں اللہ کی قسم میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح یا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرح اچھے طریقے سے دعا نہیں کر سکتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہم بھی اسی کے آس پاس دعا مانگتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُقَالُ فِي التَّشَهُّدِ وَالصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:تشہد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) کے بعد کیا دعا پڑھے؟:جلد٢، ص٧٦،حديث نمبر ٩١٠)
حضرت نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر نماز میں رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الإِشَارَةِ فِي التَّشَهُّدِ: تشہد کے دوران انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان:جلد٢ص٧٦،حديث نمبر ٩١١)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے اور درمیان والی انگلی کو اٹھایا تشہد کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الإِشَارَةِ فِي التَّشَهُّدِ: تشہد کے دوران انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان:جلد٢ص٧٧،حديث نمبر ٩١٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں جب بیٹھتے تھے تو آپ اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے تھے اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو بلند کر کے اس کے ساتھ دعا مانگتے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بایاں ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھٹنوں پر ہوتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیدھا رکھا ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الإِشَارَةِ فِي التَّشَهُّدِ: تشہد کے دوران انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان:جلد٢ص٧٧،حديث نمبر ٩١٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگتی، اور آپ کہتے: «السلام عليكم ورحمة الله» ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ التَّسْلِيمِ:سلام پھیرنے کا بیان:جلد٢ص٧٨،حديث نمبر ٩١٤)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: التَّسْلِيمِ:سلام پھیرنے کا بیان:جلد٢ص٧٩،حديث نمبر ٩١٥)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی، اور کہتے: «السلام عليكم ورحمة الله. السلام عليكم ورحمة الله» ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: التَّسْلِيمِ:سلام پھیرنے کا بیان:جلد٢ص٨٠،حديث نمبر ٩١٦)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں جنگ جمل کے دن ایسی نماز پڑھائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی یاد تازہ ہو گئی، جسے یا تو ہم بھول چکے تھے یا چھوڑ چکے تھے، تو انہوں نے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: التَّسْلِيمِ:سلام پھیرنے کا بیان:جلد٢ص٨٠،حديث نمبر ٩١٧)
حضرت سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً:ایک سلام پھیرنے کا بیان:جلد٢ص٨١،حديث نمبر ٩١٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً:ایک سلام پھیرنے کا بیان:جلد٢ص٨١،حديث نمبر ٩١٩)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز پڑھی تو ایک مرتبہ سلام پھیرا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً:ایک سلام پھیرنے کا بیان:جلد٢ص٨٢،حديث نمبر ٩٢٠)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام سلام پھیرے تو تم اس کے سلام کا جواب دو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: رَدِّ السَّلاَمِ عَلَى الإِمَامِ:امام کے سلام کا جواب دینے کا بیان:جلد٢ص٨٢،حديث نمبر ٩٢١)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کو اور باہم ایک دوسرے کو سلام کریں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: رَدِّ السَّلاَمِ عَلَى الإِمَامِ:امام کے سلام کا جواب دینے کا بیان:جلد٢ص٨٣،حديث نمبر ٩٢٢)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص امامت کرے وہ مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کو خاص نہ کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: وَلاَ يَخُصُّ الإِمَامُ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ:امام صرف اپنے لیے دعا نہ کرے:جلد٢ص٨٤،حديث نمبر ٩٢٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو (اپنے مصلے پر قبلہ رو) اس قدر بیٹھتے جتنے میں یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور تیری جانب سے سلامتی ہے، اے بزرگی و برتری والے! تو بابرکت ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ:سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟:جلد٢ص٨٥،حديث نمبر ٩٢٤)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا» ”اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ:سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟:جلد٢ص٨٥،حديث نمبر ٩٢٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو خصلتوں پر اگر مسلمان بندہ مداومت کرے تو جنت میں داخل ہو گا، وہ دونوں سہل آداب ہیں، لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں، (ایک یہ کہ) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله»، دس بار «الله أكبر» اور دس بار «الحمد لله» کہے“، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی انگلیوں پر شمار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پڑھنے میں ایک سو پچاس ہیں اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو“۔ (دوسرے یہ کہ) جب وہ اپنی خواب گاہ پر جائے تو سو مرتبہ «سبحان الله، الحمد لله، الله أكبر» کہے، یہ پڑھنے میں سو ہیں اور میزان میں ایک ہزار ہیں، تم میں سے کون ایسا ہے جو ایک دن میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہو“، لوگوں نے عرض کیا: ایک مسلمان کیسے ان اعمال کی محافظت نہیں کرتا؟ (جبکہ وہ بہت ہی آسان ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: فلاں فلاں بات یاد کرو یہاں تک کہ وہ نہیں سمجھ پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں، اور جب وہ اپنی خواب گاہ پہ ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے، اور اسے برابر تھپکیاں دیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ سو جاتا ہے“ (اور تسبیحات نہیں پڑھ پاتا)۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ:سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟:جلد٢ص٨٦،حديث نمبر ٩٢٦)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یا میں نے کہا: اللہ کے رسول! مال و دولت والے اجر و ثواب میں آگے بڑھ گئے، وہ بھی ذکرو اذکار کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں، اور وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں اور ہم نہیں کر پاتے ہیں، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو تو ان لوگوں (کے مقام) کو پا لو گے جو تم سے آگے نکل گئے، بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ جاؤ گے، تم ہر نماز کے بعد «الحمد لله» «سبحان الله» اور «الله أكبر» کہو (۳۳) بار، (۳۳) بار اور (۳۴) بار“۔ سفیان نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ ان تینوں کلموں میں سے کس کو (۳۴) بار کہا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ:سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟:جلد٢ص٨٧،حديث نمبر ٩٢٧)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار «استغفر الله» کہتے، پھر «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» کہتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ:سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟:جلد٢ص٨٨،حديث نمبر ٩٢٨)
حضرت ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے اٹھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ: نماز کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف سے اٹھنے کا بیان:جلد٢ص٨٩،حديث نمبر ٩٢٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کوئی بھی شخص اپنی نماز میں شیطان کے لیے کوئی حصہ نہ رکھے یعنی وہ یہ نہ سمجھے کہ نماز کے بعد صرف دائیں طرف سے اٹھا جا سکتا ہے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر مرتبہ بائیں طرف سے اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ: نماز کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف سے اٹھنے کا بیان:جلد٢ص٨٩،حديث نمبر ٩٣٠)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے فارغ ہونے کے بعد دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے ( یعنی دونوں طرف سے) اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ: نماز کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف سے اٹھنے کا بیان:جلد٢ص٩٠،حديث نمبر ٩٣١)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیر دیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کے ساتھ ہی خواتین اٹھ جاتی تھی اور آپ ذرا سے وقفے کے بعد اٹھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ: نماز کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف سے اٹھنے کا بیان:جلد٢ص٩٠،حديث نمبر ٩٣٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کھانا رکھا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہی جائے تو تم پہلے کھانا کھا لو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَوُضِعَ الْعَشَاء:جب نماز کی اقامت ہو جائے اور کھانا سامنے ہو تو کیا کرے؟ :جلد٢ص٩٠،حديث نمبر ٩٣٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کا وقت ہو چکا تو پہلے کھانا کھا لو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کے بارے میں منقول ہے بعض اوقات وہ رات کا کھانا کھا رہے ہوتے تھے حالانکہ انہیں اقامت کی آواز آرہی ہوتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَوُضِعَ الْعَشَاء:جب نماز کی اقامت ہو جائے اور کھانا سامنے ہو تو کیا کرے؟ :جلد٢ص٩١،حديث نمبر ٩٣٤)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کھانا کا وقت ہو جائے اور نماز بھی کھڑی ہو چکی ہو تو تم پہلے کھانا کھا لو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَوُضِعَ الْعَشَاء:جب نماز کی اقامت ہو جائے اور کھانا سامنے ہو تو کیا کرے؟ :جلد٢ص٩١،حديث نمبر ٩٣٥)
ابوملیح کہتے ہیں کہ میں بارش والی رات میں (گھر سے) نکلا، جب واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوایا، میرے والد (اسامہ بن عمیر ھذلی رضی اللہ عنہ) نے اندر سے پوچھا: کون؟ میں نے جواب دیا: ابوالملیح، انہوں نے کہا: ہم نے دیکھا کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اور بارش ہونے لگی اور ہمارے جوتوں کے تلے بھی نہ بھیگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: «صلوا في رحالكم» ”اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَمَاعَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ:بارش کی رات میں باجماعت نماز کے حکم کا بیان:جلد٢ص٩٢،حديث نمبر ٩٣٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بارش والی رات ہوتی یا ہوا والی ٹھنڈی رات ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی اعلان کرتا: «صلوا في رحالكم» ”اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَمَاعَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ:بارش کی رات میں باجماعت نماز کے حکم کا بیان:جلد٢ص٩٣،حديث نمبر ٩٣٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب کہ بارش ہو رہی تھی فرمایا: ”اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَمَاعَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ:بارش کی رات میں باجماعت نماز کے حکم کا بیان:جلد٢ص٩٣،حديث نمبر ٩٣٨)
عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مؤذن کو جمعہ کے دن اذان دینے کا حکم دیا، اور یہ بارش کا دن تھا، تو مؤذن نے کہا: «الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله»، پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: «حي على الصلاة، حي على الفلاح» کی جگہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کر لیں، لوگوں نے یہ سنا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے آپ نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے کہا: یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے، جو مجھ سے افضل تھی، اور تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالوں کہ وہ میرے پاس جمعہ کے لیے اپنے گھٹنوں تک کیچڑ سے لت پت آئیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَمَاعَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ:بارش کی رات میں باجماعت نماز کے حکم کا بیان:جلد٢ص٩٤،حديث نمبر ٩٣٩)
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمہارے آگے ہو تو جو کوئی آگے سے گزرے نمازی کو کچھ بھی نقصان نہ ہو گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّي: نمازی کے سترہ کا بیان:جلد٢ص٩٥،حديث نمبر ٩٤٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سفر میں نیزہ لے جایا جاتا اور اسے آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا، آپ اس کی جانب نماز پڑھتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّي: نمازی کے سترہ کا بیان:جلد٢ص٩٥،حديث نمبر ٩٤١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن میں بچھایا جاتا تھا، اور رات میں آپ اس کو لپیٹ کر اس کی جانب نماز پڑھتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّي: نمازی کے سترہ کا بیان:جلد٢ص٩٦،حديث نمبر ٩٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے کچھ رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو کوئی لاٹھی کھڑی کر لے، اگر وہ بھی نہ پائے تو لکیر کھینچ لے، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے نقصان نہیں پہنچائے گی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّي: نمازی کے سترہ کا بیان:جلد٢ص٩٦،حديث نمبر ٩٤٣)
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے (نمازی) کے آگے سے گزرنے کے متعلق سوال کروں، انہوں نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”چالیس ... تک ٹھہرے رہنا نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے“۔ سفیان بن عیینہ (راوی حدیث) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس دن یا چالیس گھنٹہ کہا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي:نمازی کے آگے سے گزرنے کا بیان:جلد٢ص٩٧،حديث نمبر ٩٤٤)
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوجہیم انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کیا سنا ہے، جو نمازی کے آگے سے گزرے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت میں گزرنے میں کیا گناہ ہے، تو اس کے لیے چالیس ... تک ٹھہرے رہنا آگے سے گزرنے سے بہتر ہے“۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال، چالیس مہینے یا چالیس دن فرمایا ۱؎۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي:نمازی کے آگے سے گزرنے کا بیان:جلد٢ص٩٨،حديث نمبر ٩٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی اس گناہ کو جان لے جو اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت میں گزرنے سے ہے تو وہ ایک قدم اٹھانے سے سو سال کھڑے رہنا بہتر سمجھے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي:نمازی کے آگے سے گزرنے کا بیان:جلد٢ص٩٨،حديث نمبر ٩٤٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزرے، پھر ہم سواری سے اترے اور گدھی کو چھوڑ دیا، پھر ہم صف میں شامل ہو گئے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بابُ: مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟جلد٢ص٩٩،حديث نمبر ٩٤٧)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں آپ کے سامنے سے عبداللہ یا عمر بن ابی سلمہ گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ لوٹ گئے، پھر زینب بنت ام سلمہ گزریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا مگر وہ سامنے سے گزرتی چلی گئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: ”یہ عورتیں نہیں مانتیں“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بابُ: مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟جلد٢ص١٠٠،حديث نمبر ٩٤٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کالا کتا اور حائضہ عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بابُ: مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟جلد٢ص١٠٠،حديث نمبر ٩٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کتا اور گدھا آگے سے گزر کر نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بابُ: مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟جلد٢ص١٠١،حديث نمبر ٩٥٠)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بابُ: مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟جلد٢ص١٠٢،حديث نمبر ٩٥١)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں فرماتے ہیں ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عورت گدھا اور سیاہ کتا آدمی کے آگے سے گزر کر آدمی کی نماز کو توڑ دیتے ہیں جبکہ آدمی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز سترے کے طور پر موجود نہ ہو راوی کہتے ہیں میں نے دریافت کیا سیاہ کتے کا کیا معاملہ ہے سرخ کیوں نہیں تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بابُ: مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟جلد٢ص١٠٢،حديث نمبر ٩٥٢)
حسن عرنی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کتے، گدھے اور عورت کا ذکر کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تم لوگ بکری کے بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، تو بکری کا ایک بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: ادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ:نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرنے لگے اس کو ممکن حد تک روکنے کا بیان:جلد٢ص١٠٣،حديث نمبر ٩٥٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نماز پڑھے تو سترہ کی جانب پڑھے، اور اس سے قریب کھڑا ہو، اور کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، اگر کوئی گزرنا چاہے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: ادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ:نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرنے لگے اس کو ممکن حد تک روکنے کا بیان:جلد٢ص١٠٤،حديث نمبر ٩٥٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے کسی کو گزرنے نہ دے، اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ساتھی (شیطان) ہے“۔ حسن بن داود منکدری نے کہا کہ اس کے ساتھ عزّی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: ادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ:نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرنے لگے اس کو ممکن حد تک روکنے کا بیان:جلد٢ص١٠٥،حديث نمبر ٩٥٥)
سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز ادا کر رہے ہوتے تھے حالانکہ میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی کی سمت میں یوں لیٹی ہوئی تھی جس طرح جنازہ پڑا ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ:نمازی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو نماز جائز ہے:جلد٢ص١٠٥،حديث نمبر ٩٥٦)
سیدہ زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں ان کا بستر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے کے مقام کے مد مقابل ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ:نمازی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو نماز جائز ہے:جلد٢ص١٠٦،حديث نمبر ٩٥٧)
حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی، اور بسا اوقات جب آپ سجدہ فرماتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے چھو جاتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ:نمازی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو نماز جائز ہے:جلد٢ص١٠٦،حديث نمبر ٩٥٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا بات چیت کرتے ہوئے شخص یا سونے والے شخص کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی جائے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ:نمازی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو نماز جائز ہے:جلد٢ص١٠٧،حديث نمبر ٩٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھاتے کہ ہم رکوع اور سجدے میں امام سے پہل نہ کریں اور (فرماتے) جب امام «اللہ اکبر» کہے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يُسْبَقَ الإِمَامُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جانا منع ہے:جلد٢ص١٠٨،حديث نمبر ٩٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کیا وہ شخص جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے وہ اس بات سے ڈرتا نہیں ہے کہ اللہ تعالی اس کے سر کو گدھے کے سر میں تبدیل کر دے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يُسْبَقَ الإِمَامُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جانا منع ہے:جلد٢ص١٠٨،حديث نمبر ٩٦١)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اب بھاری بھرکم ہو گیا ہوں، لہٰذا جب میں رکوع میں جاؤں تب تم رکوع میں جاؤ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھا لوں تو تم اپنا سر اٹھاؤ، اور جب سجدہ میں چلا جاؤں تو تم سجدہ میں جاؤ، میں کسی شخص کو نہ پاؤں کہ وہ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں چلا جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يُسْبَقَ الإِمَامُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جانا منع ہے:جلد٢ص١١٠،حديث نمبر ٩٦٢)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رکوع اور سجدے میں مجھ سے سبقت نہ کرو، اگر میں رکوع تم سے پہلے کروں گا تو تم مجھ کو پا لو گے جب میں رکوع سے سر اٹھا رہا ہوں گا، اور اگر میں سجدہ میں تم سے پہلے جاؤں گا تو تم مجھ کو پا لو گے جب میں سجدہ سے سر اٹھا رہا ہوں گا، کیونکہ میرا جسم بھاری بھرکم ہو گیا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يُسْبَقَ الإِمَامُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جانا منع ہے:جلد٢ص١١٠،حديث نمبر ٩٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بیان نقل فرماتے ہیں زیادتی میں یہ چیز بھی شامل ہے آدمی کا نماز سے فارغ ہونے سے پہلے اپنی پیشانی کو زیادہ مرتبہ صاف کرے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟جلد٢ص١١١،حديث نمبر ٩٦٤)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نماز کے دوران تم اپنی انگلیوں کو نہ چٹکاؤ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟جلد٢ص١١٢،حديث نمبر ٩٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا کہ آدمی نماز کے دوران اپنے چہرے کو ڈھانپ لے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟جلد٢ص١١٢،حديث نمبر ٩٦٦)
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس نے نماز کے دوران اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کی ہوئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی انگلیوں کو کھلوا دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟جلد٢ص١١٢،حديث نمبر ٩٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل فرماتے ہیں جب کسی شخص کو جماہی آئے تو وہ جماہی کی آواز پیدا نہ کرے کیونکہ شیطان اس حرکت پر ہنس دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟جلد٢ص١١٤،حديث نمبر ٩٦٨)
عدی بن ثابت اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نماز کے دوران تھوک، بلغم، حیض اور اونگ شیطان کی طرف سے آتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟جلد٢ص١١٤،حديث نمبر ٩٦٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی: ایک تو وہ جو لوگوں کی امامت کرے جب کہ لوگ اس کو ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ جو نماز میں ہمیشہ پیچھے (یعنی نماز کا وقت فوت ہو جانے کے بعد) آتا ہو، اور تیسرا وہ جو کسی آزاد کو غلام بنا لے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ:لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ امام کا کیا حکم ہے؟:جلد٢ص١١٥،حديث نمبر ٩٧٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین اشخاص ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی: ایک وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کی اور لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں، دوسرے وہ عورت جو اس حال میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، اور تیسرے وہ دو بھائی جنہوں نے باہم قطع تعلق کر لیا ہو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ:لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ امام کا کیا حکم ہے؟:جلد٢ص١١٦،حديث نمبر ٩٧١)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو یا دو سے زیادہ لوگ جماعت ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِثْنَانِ جَمَاعَةٌ:دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان:جلد٢ص١١٦،حديث نمبر ٩٧٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز (تہجد) کے لیے اٹھے، میں بھی اٹھا اور جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِثْنَانِ جَمَاعَةٌ:دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان:جلد٢ص١١٧،حديث نمبر ٩٧٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب ادا کر رہے تھے میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِثْنَانِ جَمَاعَةٌ:دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان:جلد٢ص١١٨،حديث نمبر ٩٧٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کی ایک عورت اور میرے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کیا، اور عورت نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الاِثْنَانِ جَمَاعَةٌ:دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان:جلد٢ص١١٨،حديث نمبر ٩٧٥)
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہمارے کندھوں پہ ہاتھ پھیرتے اور فرماتے: ”الگ الگ نہ رہو، ورنہ تمہارے دل الگ الگ ہو جائیں گے، اور تم میں جو عقل اور شعور والے ہیں وہ میرے نزدیک کھڑے ہوں، پھر وہ لوگ جو عقل و شعور میں ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الإِمَامَ:امام کے قریب کن لوگوں کا رہنا مستحب ہے؟:جلد٢ص١١٩،حديث نمبر ٩٧٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب کھڑے ہوں، تاکہ آپ سے دین کی باتیں سیکھ سکیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الإِمَامَ:امام کے قریب کن لوگوں کا رہنا مستحب ہے؟:جلد٢ص١١٩،حديث نمبر ٩٧٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دیکھا کہ وہ پیچھے کی صفوں میں رہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے آ جاؤ، اور نماز میں تم میری اقتداء کرو، اور تمہارے بعد والے تمہاری اقتداء کریں، کچھ لوگ برابر پیچھے رہا کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو پیچھے کر دیتا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الإِمَامَ:امام کے قریب کن لوگوں کا رہنا مستحب ہے؟:جلد٢ص١٢٠،حديث نمبر ٩٧٨)
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جب ہم واپس ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب نماز کا وقت ہو جائے تو اذان و اقامت کہو، اور تم میں جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ: کون شخص امامت کا زیادہ حقدار ہے؟:جلد٢ص١٢٠،حديث نمبر ٩٧٩)
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو لوگوں میں قرآن زیادہ جانتا ہو، اگر قراءت میں سب یکساں ہوں تو امامت وہ کرے جس نے ہجرت پہلے کی ہو، اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو امامت وہ کرے جو عمر کے لحاظ سے بڑا ہو، اور کوئی شخص کسی شخص کے گھر والوں میں اور اس کے دائرہ اختیار و منصب کی جگہ میں امامت نہ کرے، اور کوئی کسی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پہ بغیر اس کی اجازت کے نہ بیٹھے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ: کون شخص امامت کا زیادہ حقدار ہے؟:جلد٢ص١٢١،حديث نمبر ٩٨٠)
ابوحازم کہتے ہیں کہ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے جوانوں کو آگے بڑھاتے وہی لوگوں کو نماز پڑھاتے، کسی نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ جوانوں کو نماز کے لیے آگے بڑھاتے ہیں، حالانکہ آپ کو سبقت اسلام کا بلند رتبہ حاصل ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ہے، اگر وہ اچھی طرح نماز پڑھائے تو اس کے لیے بھی ثواب ہے اور مقتدیوں کے لیے بھی، اور اگر خراب طریقے سے پڑھائے تو اس پر گناہ ہے لوگوں پر نہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يَجِبُ عَلَى الإِمَامِ: امام کی ذمہ داری کیا ہے؟جلد٢ص١٢٢،حديث نمبر ٩٨١)
خرشہ کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے، کوئی امام نہیں ملے گا جو انہیں نماز پڑھائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يَجِبُ عَلَى الإِمَامِ: امام کی ذمہ داری کیا ہے؟جلد٢ص١٢٢،حديث نمبر ٩٨٢)
ابوعلی ہمدانی سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں نکلے، اس میں حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بھی تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری امامت کریں، آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ آپ صحابی رسول ہیں، انہوں نے امامت سے انکار کیا، اور بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح طریقہ سے کی تو یہ نماز اس کے لیے اور مقتدیوں کے لیے بھی باعث ثواب ہے، اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی کی تو اس کا وبال امام پر ہو گا، اور مقتدیوں پر کچھ نہ ہو گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا يَجِبُ عَلَى الإِمَامِ: امام کی ذمہ داری کیا ہے؟جلد٢ص١٢٣،حديث نمبر ٩٨٣)
حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز میں دیر سے جاتا ہوں، اس لیے کہ وہ نماز کو بہت لمبی کر دیتا ہے، حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا سخت غضبناک کبھی بھی کسی وعظ و نصیحت میں نہیں دیکھا جتنا اس دن دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم میں کچھ لوگ نفرت دلانے والے ہیں، لہٰذا تم میں جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے ہلکی پڑھائے، اس لیے کہ لوگوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند سبھی ہوتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ:جو شخص امامت کرے وہ نماز ہلکی پڑھائے:جلد٢ص١٢٤،حديث نمبر ٩٨٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختصر اور کامل نماز ادا کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ:جو شخص امامت کرے وہ نماز ہلکی پڑھائے:جلد٢ص١٢٤،حديث نمبر ٩٨٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، ہم میں سے ایک آدمی چلا گیا اور اکیلے نماز پڑھ لی، معاذ رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا: یہ منافق ہے، جب اس شخص کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات پہنچی، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہونا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى» «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ باسم ربك» پڑھو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ:جو شخص امامت کرے وہ نماز ہلکی پڑھائے:جلد٢ص١٢٥،حديث نمبر ٩٨٦)
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو طائف کا امیر بنایا، تو آپ نے میرے لیے آخری نصیحت یہ فرمائی: ”عثمان! نماز ہلکی پڑھنا، اور لوگوں (عام نمازیوں) کو اس شخص کے برابر سمجھنا جو ان میں سب سے زیادہ کمزور ہو، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے، بچے، بیمار، دور سے آئے ہوئے اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ:جو شخص امامت کرے وہ نماز ہلکی پڑھائے:جلد٢ص١٢٥،حديث نمبر ٩٨٧)
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری بات جو مجھ سے کہی وہ یہ تھی: ”لوگوں کی جب امامت کرو تو نماز ہلکی پڑھاؤ“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ:جو شخص امامت کرے وہ نماز ہلکی پڑھائے:جلد٢ص١٢٦،حديث نمبر ٩٨٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز شروع کرتا ہوں اور لمبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز اس خیال سے مختصر کر دیتا ہوں کہ بچے کی ماں کو اس کے رونے کی وجہ سے تکلیف ہو گی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الإِمَامِ يُخَفِّفُ الصَّلاَةَ إِذَا حَدَثَ أَمْرٌ:دوران نماز حادثہ پیش آ جانے پر نماز ہلکی کرنے کا بیان:جلد٢ص١٢٧،حديث نمبر ٩٨٩)
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز ہلکی کر دیتا ہوں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الإِمَامِ يُخَفِّفُ الصَّلاَةَ إِذَا حَدَثَ أَمْرٌ:دوران نماز حادثہ پیش آ جانے پر نماز ہلکی کرنے کا بیان:جلد٢ص١٢٧،حديث نمبر ٩٩٠)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس کو لمبی کروں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اس ڈر سے نماز ہلکی کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں پریشان نہ ہو جائے۔“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الإِمَامِ يُخَفِّفُ الصَّلاَةَ إِذَا حَدَثَ أَمْرٌ:دوران نماز حادثہ پیش آ جانے پر نماز ہلکی کرنے کا بیان:جلد٢ص١٢٨،حديث نمبر ٩٩١)
حضرت جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں؟“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف باندھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں، اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:بَابُ: إِقَامَةِ الصُّفُوفِ: صفیں برابر کرنے کا بیان:جلد٢ص١٢٨،حديث نمبر ٩٩٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی صفیں برابر کرو، اس لیے کہ صفوں کی برابری تکمیل نماز میں داخل ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:بَابُ: إِقَامَةِ الصُّفُوفِ: صفیں برابر کرنے کا بیان:جلد٢ص١٢٩،حديث نمبر ٩٩٣)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیزہ یا تیر کی طرح صف سیدھی کرتے تھے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا تو فرمایا: ”اپنی صفیں برابر کرو، یا اللہ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:بَابُ: إِقَامَةِ الصُّفُوفِ: صفیں برابر کرنے کا بیان:جلد٢ص١٢٩،حديث نمبر ٩٩٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں جو صفیں جوڑتے ہیں، اور جو شخص صف میں خالی جگہ بھر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:بَابُ: إِقَامَةِ الصُّفُوفِ: صفیں برابر کرنے کا بیان:جلد٢ص١٣٠،حديث نمبر ٩٩٥)
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار مغفرت کی دعا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: فَضْلِ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ: پہلی صف کی فضیلت:جلد٢ص١٣١،حديث نمبر ٩٩٦)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی صلاۃ یعنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے صلاۃ یعنی اس کے حق میں دعا کرتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: فَضْلِ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ: پہلی صف کی فضیلت:جلد٢ص١٣٢،حديث نمبر ٩٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ جان لیں کہ پہلی صف میں کتنا (ثواب) ہے تو اس کو پانے کے لیے قرعہ اندازی ہو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: فَضْلِ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ: پہلی صف کی فضیلت:جلد٢ص١٣٣،حديث نمبر ٩٩٨)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی دعا کرتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: فَضْلِ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ: پہلی صف کی فضیلت:جلد٢ص١٣٣،حديث نمبر ٩٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کی سب سے بہتر صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے خراب صف ان کی اگلی صف ہے، مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: صُفُوفِ النِّسَاءِ:عورتوں کی صف کا بیان:جلد٢ص١٣٣،حديث نمبر ١٠٠٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے، عورتوں کی سب سے اچھی صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی اگلی صف ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: صُفُوفِ النِّسَاءِ:عورتوں کی صف کا بیان:جلد٢ص١٣٤،حديث نمبر ١٠٠١)
حضرت قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ستونوں کے درمیان صف بندی سے روکا جاتا تھا، اور سختی سے وہاں سے ہٹایا جاتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: بَابُ: الصَّلاَةِ بَيْنَ السَّوَارِي فِي الصَّفِّ:ستونوں (کھمبوں) کے درمیان صف بندی کے حکم کا بیان:جلد٢ص١٣٥،حديث نمبر ١٠٠٢)
حضرت علی بن شیبان رضی اللہ عنہ اور (وہ وفد میں سے تھے) کہتے ہیں کہ ہم سفر کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دوسری نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرنے کے بعد ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے، آپ اس کے پاس ٹھہرے رہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوبارہ نماز پڑھو، جو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی"۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: صَلاَةِ الرَّجُلِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ:صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان:جلد٢ص١٣٥،حديث نمبر ١٠٠٣)
حضرت ہلال بن یساف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور رقہ کے ایک شیخ کے پاس مجھے لا کر کھڑا کیا، جن کو وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، انہوں نے کہا: ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: صَلاَةِ الرَّجُلِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ:صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان:جلد٢ص١٣٧،حديث نمبر ١٠٠٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: فَضْلِ مَيْمَنَةِ الصَّفِّ:صف کے داہنی جانب کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص١٣٧،حديث نمبر ١٠٠٥)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم پسند کرتے یا میں پسند کرتا کہ آپ کے دائیں جانب کھڑے ہوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: فَضْلِ مَيْمَنَةِ الصَّفِّ:صف کے داہنی جانب کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص١٣٨،حديث نمبر ١٠٠٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: مسجد کا بایاں جانب خالی ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے مسجد کا بائیں جانب آباد کیا، اسے دہرا اجر ملے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: فَضْلِ مَيْمَنَةِ الصَّفِّ:صف کے داہنی جانب کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص١٣٩،حديث نمبر ١٠٠٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ (خانہ کعبہ) کے طواف سے فارغ ہو گئے تو مقام ابراہیم پر آئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى»، یعنی: (مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ)۔ ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا: کیا یہ انہوں نے اسی طرح (امر کے صیغہ کے ساتھ) «واتخذوا» (خاء کے زیر ”کسرے“ کے ساتھ) پڑھا؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:الْقِبْلَةِ: قبلہ کا بیان:جلد٢ص١٣٩،حديث نمبر ١٠٠٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں (تو بہتر ہو)؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”اور تم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ“ (سورة البقرة: 125)۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:الْقِبْلَةِ: قبلہ کا بیان:جلد٢ص١٤٠،حديث نمبر ١٠٠٩)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ مہینے تک بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز ادا کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے دو مہینہ بعد قبلہ خانہ کعبہ کی جانب تبدیل کر دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت المقدس کی جانب نماز پڑھتے تو اکثر اپنا چہرہ آسمان کی جانب اٹھاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے دل کا حال جان لیا کہ آپ خانہ کعبہ کی جانب رخ کرنا پسند فرماتے ہیں، ایک بار جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے، آپ ان کی طرف نگاہ لگائے رہے، وہ آسمان و زمین کے درمیان اوپر چڑھ رہے تھے، آپ انتظار میں تھے کہ جبرائیل علیہ السلام کیا حکم لاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «قد نرى تقلب وجهك في السماء» (سورۃ البقرہ: ۱۴۴)، ہمارے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا، ہم دو رکعتیں بیت المقدس کی جانب پڑھ چکے تھے، اور رکوع میں تھے، ہم اسی حالت میں خانہ کعبہ کی جانب پھر گئے، ہم نے اپنی پچھلی نماز پر بنا کیا اور دو رکعتیں اور پڑھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل ہماری ان نماز کا کیا حال ہو گا جو ہم نے بیت المقدس کی جانب پڑھی ہیں“، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ”اللہ تعالیٰ تمہاری نماز کو ضائع کرنے والا نہیں“ (سورة البقرة: 143) (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:الْقِبْلَةِ: قبلہ کا بیان:جلد٢ص١٤١،حديث نمبر ١٠١٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق (پورب) اور مغرب (پچھم) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:باب القبلۃ:جلد٢ص١٤٢،حديث نمبر ١٠١١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلاَ يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ:مسجد میں داخل ہونے والا دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے:جلد٢ص١٤٢،حديث نمبر ١٠١٢)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلاَ يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ:مسجد میں داخل ہونے والا دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے:جلد٢ص١٤٣،حديث نمبر ١٠١٣)
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطیب کی حیثیت سے کھڑے ہوئے یا خطبہ دیا، تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: لوگو! تم دو درختوں کے پھل کھاتے ہو، اور میں انہیں خبیث اور گندہ سمجھتا ہوں، وہ پیاز اور لہسن ہیں، میں دیکھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس شخص کے منہ سے اس کی بو آتی تھی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا تھا، لہٰذا جو کوئی اسے کھانا ہی چاہے تو اس کو پکا کر اس کی بو زائل کر لے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ أَكَلَ الثُّومَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ الْمَسْجِدَ: لہسن کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت:جلد٢ص١٤٣،حديث نمبر ١٠١٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس پودے یعنی لہسن کو کھائے، وہ ہماری مسجد میں آ کر ہمیں تکلیف نہ پہنچائے“۔ ابراہیم کہتے ہیں: میرے والد سعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں گندنا ( «کراث») اور پیاز کا اضافہ کرتے تھے اور اسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ أَكَلَ الثُّومَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ الْمَسْجِدَ: لہسن کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت:جلد٢ص١٤٤،حديث نمبر ١٠١٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس پودے (پیاز و لہسن) سے کچھ کھائے تو مسجد میں ہرگز نہ آئے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ أَكَلَ الثُّومَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ الْمَسْجِدَ: لہسن کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت:جلد٢ص١٤٤،حديث نمبر ١٠١٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں آ کر نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں انصار کے کچھ لوگ آئے اور آپ کو سلام کرنے لگے، تو میں نے صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا جو آپ کے ساتھ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سلام کا جواب کیسے دیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ کے اشارے سے جواب دے رہے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْمُصَلِّي يُسَلَّمُ عَلَيْهِ كَيْفَ يَرُدُّ:نمازی دوران نماز سلام کا جواب کیسے دے؟:جلد٢ص١٤٥،حديث نمبر ١٠١٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے تحت بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو مجھے بلایا، اور پوچھا: ”ابھی تم نے مجھے سلام کیا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْمُصَلِّي يُسَلَّمُ عَلَيْهِ كَيْفَ يَرُدُّ:نمازی دوران نماز سلام کا جواب کیسے دے؟:جلد٢ص١٤٥،حديث نمبر ١٠١٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے، پھر ہمیں ارشاد ہوا کہ نماز میں خود ایک مشغولیت ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْمُصَلِّي يُسَلَّمُ عَلَيْهِ كَيْفَ يَرُدُّ:نمازی دوران نماز سلام کا جواب کیسے دے؟:جلد٢ص١٤٥،حديث نمبر ١٠١٩)
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آسمان پر بادل چھا گئے اور قبلہ کی سمت ہم پر مشتبہ ہو گئی، آخر ہم نے (اپنے ظن غالب کی بنیاد پر) نماز پڑھ لی، اور اس سمت ایک نشان رکھ دیا، جب سورج نکلا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کی سمت نماز نہیں پڑھی ہے، ہم نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اللہ تعالیٰ نے «فأينما تولوا فثم وجه الله» ”جدھر تم رخ کر لو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے“ (سورۃ البقرہ: ۱۱۵) نازل فرمائی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَنْ يُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ وَهُوَ لاَ يَعْلَمُ:لاعلمی میں قبلہ سے ہٹ کر کے نماز پڑھنے والے کے حکم کا بیان:جلد٢ص١٤٧،حديث نمبر ١٠٢٠)
حضرت طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھو تو اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکو، بلکہ اپنے بائیں جانب یا قدم کے نیچے تھوک لو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْمُصَلِّي يَتَنَخَّمُ:نمازی کے تھوکنے کا بیان:جلد٢ص١٤٨،حديث نمبر ١٠٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی سمت بلغم دیکھا، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آگے بلغم تھوکتے ہیں؟ کیا تم میں کا کوئی یہ پسند کرے گا کہ دوسرا شخص اس کی طرف منہ کر کے اس کے منہ پر تھوکے؟ جب کوئی شخص نماز کی حالت میں تھوکے تو اپنے بائیں جانب تھوکے، یا اپنے کپڑے میں اس طرح تھوک لے“۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ پھر اسماعیل بن علیہ نے مجھے اپنے کپڑے میں تھوک کر پھر مل کر دکھایا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْمُصَلِّي يَتَنَخَّمُ:نمازی کے تھوکنے کا بیان:جلد٢ص١٤٩،حديث نمبر ١٠٢٢)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے شبث بن ربعی کو اپنے آگے تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہا: شبث! اپنے آگے نہ تھوکو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے، اور کہتے تھے: ”آدمی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو جب تک وہ نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، یہاں تک کہ نماز پڑھ کر لوٹ جائے، یا اسے برا حدث ہو جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْمُصَلِّي يَتَنَخَّمُ:نمازی کے تھوکنے کا بیان:جلد٢ص١٤٩،حديث نمبر ١٠٢٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں اپنے کپڑے میں تھوکا، پھر اسے مل دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْمُصَلِّي يَتَنَخَّمُ:نمازی کے تھوکنے کا بیان:جلد٢ص١٥٠،حديث نمبر ١٠٢٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز میں کنکریوں کو چھوا، اس نے فضول کام کیا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلاَةِ: نماز میں کنکریاں ہٹانے کا بیان:جلد٢ص١٥١،حديث نمبر ١٠٢٥)
حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کنکریوں کے ہٹانے کے بارے میں فرمایا: ”اگر تمہیں ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کر لو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلاَةِ: نماز میں کنکریاں ہٹانے کا بیان:جلد٢ص١٥٢،حديث نمبر ١٠٢٦)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے، اس لیے کہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلاَةِ: نماز میں کنکریاں ہٹانے کا بیان:جلد٢ص١٥٢،حديث نمبر ١٠٢٧)
ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْخُمْرَةِ:چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص١٥٣،حديث نمبر ١٠٢٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْخُمْرَةِ:چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص١٥٣،حديث نمبر ١٠٢٩)
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں اپنے بچھونے پر نماز پڑھی، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچھونے پر نماز پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى الْخُمْرَةِ:چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص١٥٤،حديث نمبر ١٠٣٠)
حضرت عبداللہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : نبی ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اور بنو عبدالاشہل کی مسجد میں ہمیں نماز پڑھائی ، میں نے آپ ﷺ کو سجدہ کے دوران میں دونوں ہاتھ کپڑے پر رکھے ہوئے دیکھا ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:باب السجود علی الثیاب فی الحر والبرد:جلد٢ص١٥٤،حديث نمبر ١٠٣١)
حضرت ثابت بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ بنو عبدالاشہل کے محلے ( کی مسجد ) میں نماز ادا فرمائی اور آپ نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی ، کنکریوں کی ٹھنڈک سے بچنے کے لیے ( سجدہ کرتے وقت ) اس پر ہاتھ رکھ لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:باب السجود علی الثیاب فی الحر والبرد:جلد٢ص١٥٥،حديث نمبر ١٠٣٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : ہم لوگ سخت گرمی میں نبی ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھتے تھے ۔ جب کوئی زمین پر اپنی پیشانی نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کر لیتا ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:باب السجود علی الثیاب فی الحر والبرد:جلد٢ص١٥٦،حديث نمبر ١٠٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔‘‘ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:باب التسبیح للرجال فی الصَّلاَةِ والتصفیق للنساء:جلد٢ص١٥٦،حديث نمبر ١٠٣٤)
حضرت سہل بن سعد سعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے امام کو متوجہ کرنے کے لیے سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:باب التسبیح للرجال فی الصَّلاَةِ والتصفیق للنساء:جلد٢ص١٥٧،حديث نمبر ١٠٣٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے لیے تالی بجانے اور مردوں کو سبحان اللہ کہنے کی اجازت دی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:باب التسبیح للرجال فی الصَّلاَةِ والتصفیق للنساء:جلد٢ص١٥٧،حديث نمبر ١٠٣٦)
ابن ابی اوس بیان کرتے ہیں میرے دادا حضرت اوس رضی اللہ عنہ بعض اوقات نماز ادا کر رہے ہوتے تھے اور وہ نماز کے دوران ہی مجھے اشارہ کر دیتے تھے میں ان کے جوتے انہیں دے دیتا تھا وہ یہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ الصَّلاَةِ فی النعال:جلد٢ص١٥٧،حديث نمبر ١٠٣٧)
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برہنہ پاؤں اور جوتے پہن کر بھی یعنی دونوں طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ الصَّلاَةِ فی النعال:جلد٢ص١٥٨،حديث نمبر ١٠٣٨)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر اور موزے پہن کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ الصَّلاَةِ فی النعال:جلد٢ص١٥٨،حديث نمبر ١٠٣٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں نماز کے دوران بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:باب کف الشعر والثوب فی الصَّلاَةِ:جلد٢ص١٥٩،حديث نمبر ١٠٤٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ہم نماز کے دوران بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں اور نجاست پر پاؤں رکھنے کے بعد از سر نو وضو نہ کرے بلکہ صرف پاؤں دھو لے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:باب کف الشعر والثوب فی الصَّلاَةِ:جلد٢ص١٥٩،حديث نمبر ١٠٤١)
مخول بیان کرتے ہیں میں نے مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ابو سعد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جنہوں نے اپنے بال باندھے ہوئے تھے تو حضرت ابو رافع نے انہیں کھول دیا حضرت ابو رافع نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور یہ بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے منع کیا ہے آدمی اپنے بالوں کا جوڑا بنا کر نماز ادا کرے (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:باب کف الشعر والثوب فی الصَّلاَةِ:جلد٢ص١٦٠،حديث نمبر ١٠٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نماز کی حالت میں) اپنی نگاہیں آسمان کی طرف نہ اٹھاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بینائی چھین لی جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:الْخُشُوعِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں خشوع و خضوع کا بیان:جلد٢ص١٦٠،حديث نمبر ١٠٤٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب رخ کر کے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی نگاہیں (بحالت نماز) آسمان کی جانب اٹھاتے رہتے ہیں؟“، یہاں تک کہ بڑی سختی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تک فرما دیا: ”لوگ اس سے ضرور باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کی نگاہیں اچک لے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:الْخُشُوعِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں خشوع و خضوع کا بیان:جلد٢ص١٦١،حديث نمبر ١٠٤٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو (نماز کی حالت میں) آسمان کی طرف اپنی نگاہیں اٹھانے سے باز آ جانا چاہیئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی نگاہیں (صحیح سالم) نہ لوٹیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:الْخُشُوعِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں خشوع و خضوع کا بیان:جلد٢ص١٦١،حديث نمبر ١٠٤٥)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو“ (سورۃ الحجر: ۲۴) نازل فرمائی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:الْخُشُوعِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں خشوع و خضوع کا بیان:جلد٢ص١٦١،حديث نمبر ١٠٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں“؟۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص١٦٣،حديث نمبر ١٠٤٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص١٦٣،حديث نمبر ١٠٤٨)
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، اور اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص١٦٣،حديث نمبر ١٠٤٩)
حضرت کیسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بئر علیا کے پاس ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص١٦٤،حديث نمبر ١٠٥٠)
حضرت کیسان بن جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ظہر و عصر ایک ہی کپڑے میں پڑھ رہے تھے، اس حال میں کہ آپ اس کو لپیٹے ہوئے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص١٦٤،حديث نمبر ١٠٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان آیت سجدہ تلاوت کرتا اور سجدہ کرتا ہے، تو شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے، اور کہتا ہے: ہائے خرابی! ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا، اس نے سجدہ کیا، اب اس کے لیے جنت ہے، اور مجھ کو سجدہ کا حکم ہوا، میں نے انکار کیا، میرے لیے جہنم ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: سُجُودِ الْقُرْآنِ:قرآن کے سجدوں کا بیان:جلد٢ص١٦٥،حديث نمبر ١٠٥٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا «اللهم احطط عني بها وزرا واكتب لي بها أجرا واجعلها لي عندك ذخرا» ”اے اللہ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے، اور میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے“۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو میں نے سنا آپ سجدہ میں وہی دعا پڑھ رہے تھے، جو اس آدمی نے درخت سے سن کر بیان کی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: سُجُودِ الْقُرْآنِ:قرآن کے سجدوں کا بیان:جلد٢ص١٦٥،حديث نمبر ١٠٥٣)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو فرماتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت أنت ربي سجد وجهي للذي شق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين» ”اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، اور تجھ ہی پر ایمان لایا، اور تیرا ہی فرماں بردار ہوا تو میرا رب ہے، اور میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے کان اور آنکھ کو بنایا، اللہ تعالیٰ کتنا بابرکت ہے جو سب سے اچھا بنانے والا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: سُجُودِ الْقُرْآنِ:قرآن کے سجدوں کا بیان:جلد٢ص١٦٦،حديث نمبر ١٠٥٤)
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، ان میں سے ایک سورۃ النجم کا سجدہ بھی تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: عَدَدِ سُجُودِ الْقُرْآنِ:قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد:جلد٢ص١٦٧،حديث نمبر ١٠٥٥)
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، جن میں سے کوئی مفصل میں نہ تھا (اور وہ گیارہ سجدے ان سورتوں میں تھے): اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، حج، فرقان، نمل، سورۃ السجدۃ، سورۃ ص اور سورۃ حم سجدہ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: عَدَدِ سُجُودِ الْقُرْآنِ:قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد:جلد٢ص١٦٧،حديث نمبر ١٠٥٦)
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے، ان میں سے تین سجدے مفصل میں اور دو سجدے سورۃ الحج میں ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: عَدَدِ سُجُودِ الْقُرْآنِ:قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد:جلد٢ص١٦٨،حديث نمبر ١٠٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ: «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: عَدَدِ سُجُودِ الْقُرْآنِ:قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد:جلد٢ص١٦٨،حديث نمبر ١٠٥٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے مروی ہے، میں نے ان کے علاوہ کسی اور کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: عَدَدِ سُجُودِ الْقُرْآنِ:قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد:جلد٢ص١٦٩،حديث نمبر ١٠٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے، اس نے آ کر آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی“، وہ واپس گیا اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، تم نے ابھی بھی نماز نہیں پڑھی“، آخر تیسری مرتبہ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کا ارادہ کرو تو کامل وضو کرو، پھر قبلے کی طرف منہ کرو، اور «الله أكبر» کہو، پھر قرآن سے جو تمہیں آسان ہو پڑھو، پھر رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ پورا اطمینان ہو جائے، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھاؤ، اور پورے اطمینان کے ساتھ قیام کرو، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں مطمئن ہو جاؤ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے بیٹھ جاؤ، پھر اسی طرح اپنی ساری نماز میں کرو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: إِتْمَامِ الصَّلاَةِ:نماز کو مکمل طور پر ادا کرنے کا بیان:جلد٢ص١٧٠،حديث نمبر ١٠٦٠)
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کی موجودگی میں، جن میں ایک حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تھے، حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: کیسے؟ جب کہ اللہ کی قسم آپ نے ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ہے اور نہ آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے؟، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ... ضرور لیکن میں آپ لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز بیان کریں، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله أكبر» کہتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، اور آپ کا ہر عضو اپنی جگہ پر برقرار رہتا، پھر قراءت کرتے، پھر «الله أكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک کر رکھتے، نہ تو اپنا سر پیٹھ سے نیچا رکھتے نہ اونچا بلکہ پیٹھ اور سر دونوں برابر رکھتے، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے، اور دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی، پھر زمین کی طرف (سجدہ کے لیے) جھکتے اور اپنے دونوں ہاتھ پہلو سے جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے، اور سجدہ میں پاؤں کی انگلیاں کھڑی رکھتے، پھر سجدہ کرتے، پھر «الله أكبر» کہتے، اور اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھ جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی، پھر کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے، پھر جب دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے، تو اپنے دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا، پھر اپنی باقی نماز اسی طرح ادا فرماتے، یہاں تک کہ جب اس آخری سجدہ سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام ہے تو بائیں پاؤں کو ایک طرف نکال دیتے، اور بائیں پہلو پہ سرین کے بل بیٹھتے، لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: إِتْمَامِ الصَّلاَةِ:نماز کو مکمل طور پر ادا کرنے کا بیان:جلد٢ص١٧١،حديث نمبر ١٠٦١)
عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو شروع کرتے تو اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر «بسم الله» کہتے اور وضو مکمل کرتے، پھر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر رکوع کرتے، اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پہ رکھتے اور بازوؤں کو پسلیوں سے جدا رکھتے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے اور پیٹھ سیدھی کرتے، اور تمہارے قیام سے کچھ لمبا قیام کرتے، پھر سجدہ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ قبلہ رخ رکھتے، اور میرے مشاہدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ہو سکتا اپنے بازوؤں کو (اپنی بغلوں سے) جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور بائیں قدم پہ بیٹھ جاتے، اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے، (اور قعدہ اولیٰ میں) بائیں طرف مائل ہونے کو ناپسند فرماتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: إِتْمَامِ الصَّلاَةِ:نماز کو مکمل طور پر ادا کرنے کا بیان:جلد٢ص١٧٢،حديث نمبر ١٠٦٢)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے، جمعہ اور عید بھی دو رکعت ہیں، بہ زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کامل ہیں ناقص نہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: تَقْصِيرِ الصَّلاَةِ فِي السَّفَرِ:سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان:جلد٢ص١٧٣،حديث نمبر ١٠٦٣)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر اور عید الاضحی کی دو دو رکعت ہے، بہ زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کامل ہیں ناقص نہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: تَقْصِيرِ الصَّلاَةِ فِي السَّفَرِ:سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان:جلد٢ص١٧٣،حديث نمبر ١٠٦٤)
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» ”نماز قصر کرنے میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں اگر کافروں کی فتنہ انگیزیوں کا ڈر ہو“ (سورۃ النساء: ۱۰۱)، اب اس وقت تو لوگ مامون (امن و امان میں) ہو گئے ہیں؟ انہوں نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا مجھے بھی اسی پر تعجب ہوا تھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صدقہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، لہٰذا تم اس کے صدقہ کو قبول کرو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: تَقْصِيرِ الصَّلاَةِ فِي السَّفَرِ:سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان:جلد٢ص١٧٣،حديث نمبر ١٠٦٥)
امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم قرآن میں نماز حضر اور نماز خوف کا ذکر پاتے ہیں، لیکن سفر کی نماز کا ذکر نہیں پاتے؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہماری جانب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے، اور ہم دین کی کچھ بھی بات نہ جانتے تھے، ہم وہی کرتے ہیں جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: تَقْصِيرِ الصَّلاَةِ فِي السَّفَرِ:سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان:جلد٢ص١٧٤،حديث نمبر ١٠٦٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس شہر سے باہر نکلتے تو دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے یہاں تک کہ آپ یہاں لوٹ آتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: تَقْصِيرِ الصَّلاَةِ فِي السَّفَرِ:سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان:جلد٢ص١٧٤،حديث نمبر ١٠٦٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حضر (اقامت) میں چار رکعتیں اور سفر میں دو رکعتیں فرض کیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: تَقْصِيرِ الصَّلاَةِ فِي السَّفَرِ:سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان:جلد٢ص١٧٥،حديث نمبر ١٠٦٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی نماز کو سفر میں جمع کرتے تھے، نہ تو آپ کو کسی چیز کی عجلت ہوتی، نہ کوئی دشمن آپ کا پیچھا کئے ہوئے ہوتا، اور نہ آپ کو کسی چیز کا خوف ہی ہوتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ:سفر میں جمع بین الصلاتین (دو نمازیں جمع کرنے) کا بیان:جلد٢ص١٧٥،حديث نمبر ١٠٦٩)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر، اور مغرب و عشاء کی نماز کو غزوہ تبوک کے سفر میں جمع فرمایا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ:سفر میں جمع بین الصلاتین (دو نمازیں جمع کرنے) کا بیان:جلد٢ص١٧٦،حديث نمبر ١٠٧٠)
حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سفر میں تھے، انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہم ان کے ساتھ لوٹے، انہوں نے مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: سنت پڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا: اگر مجھے نفلی نماز (سنت) پڑھنی ہوتی تو میں پوری نماز پڑھتا، میرے بھتیجے! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، اور پوری زندگی ان سب لوگوں کا یہی عمل رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“ (سورۃ الاحزاب: ۲۱) (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ:سفر میں نوافل پڑھنے کا بیان:جلد٢ص١٧٦،حديث نمبر ١٠٧١)
اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سفر میں نفل پڑھنے کے بارے سوال کیا، اور اس وقت ان کے پاس حسن بن مسلم بھی بیٹھے ہوئے تھے، تو حسن نے کہا: طاؤس نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر اور سفر دونوں کی نماز فرض کی، تو ہم حضر میں فرض سے پہلے اور اس کے بعد سنتیں پڑھتے، اور سفر میں بھی پہلے اور بعد نماز پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ:سفر میں نوافل پڑھنے کا بیان:جلد٢ص١٧٧،حديث نمبر ١٠٧٢)
عبدالرحمٰن بن حمید زہری کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید سے پوچھا کہ آپ نے مکہ کی سکونت کے متعلق کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجرین کو منٰی سے لوٹنے کے بعد تین دن تک مکہ میں رہنے کی اجازت ہے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: كَمْ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ الْمُسَافِرُ إِذَا أَقَامَ بِبَلْدَةٍ:جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟:جلد٢ص١٧٨،حديث نمبر ١٠٧٣)
عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مجھ سے میرے ساتھ کئی لوگوں کی موجودگی میں حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ چار ذی الحجہ کی صبح تشریف لائے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: كَمْ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ الْمُسَافِرُ إِذَا أَقَامَ بِبَلْدَةٍ:جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟:جلد٢ص١٧٩،حديث نمبر ١٠٧٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں انیس (۱۹) دن رہے، اور دو دو رکعت پڑھتے رہے، لہٰذا ہم بھی جب انیس (۱۹) دن قیام کرتے ہیں تو دو دو رکعت پڑھتے ہیں، اور جب اس سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو چار رکعت پڑھتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: كَمْ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ الْمُسَافِرُ إِذَا أَقَامَ بِبَلْدَةٍ:جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟:جلد٢ص١٧٩،حديث نمبر ١٠٧٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مکہ میں پندرہ دن قیام کیا، اور نماز قصر کرتے رہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: كَمْ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ الْمُسَافِرُ إِذَا أَقَامَ بِبَلْدَةٍ:جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟:جلد٢ص١٨٠،حديث نمبر ١٠٧٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے اور واپسی تک دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے دنوں تک مکہ میں رہے؟ کہا: دس دن تک۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: كَمْ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ الْمُسَافِرُ إِذَا أَقَامَ بِبَلْدَةٍ:جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟:جلد٢ص١٨٠،حديث نمبر ١٠٧٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا چھوڑنا ہے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ تَرَكَ الصَّلاَةَ: تارک نماز کے گناہ کا بیان:جلد٢ص١٨١،حديث نمبر ١٠٧٨)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور منافقوں کے درمیان نماز حد ہے، جس نے نماز ترک کر دی اس نے کفر کیا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ تَرَكَ الصَّلاَةَ: تارک نماز کے گناہ کا بیان:جلد٢ص١٨١،حديث نمبر ١٠٧٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے اور شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے، جب اس نے نماز چھوڑ دی تو شرک کیا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ تَرَكَ الصَّلاَةَ: تارک نماز کے گناہ کا بیان:جلد٢ص١٨٢،حديث نمبر ١٠٧٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگو! مرنے سے پہلے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو، اور مشغولیت سے پہلے نیک اعمال میں سبقت کرو، جو رشتہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہے اسے جوڑو، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کو خوب یاد کرو، اور خفیہ و اعلانیہ طور پر زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرو، تمہیں تمہارے رب کی جانب سے رزق دیا جائے گا، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری گرتی حالت سنبھال دی جائے گی، جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جمعہ اس مقام، اس دن اور اس مہینہ میں فرض کیا ہے، اور اس سال سے تاقیامت فرض ہے، لہٰذا جس نے جمعہ کو میری زندگی میں یا میرے بعد حقیر و معمولی جان کر یا اس کا انکار کر کے چھوڑ دیا حالانکہ امام موجود ہو خواہ وہ عادل ہو یا ظالم، تو اللہ تعالیٰ اس کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے اور اس کے کام میں برکت نہ دے، سن لو! اس کی نماز، زکاۃ، حج، روزہ اور کوئی بھی نیکی قبول نہ ہو گی، یہاں تک کہ وہ توبہ کرے، لہٰذا جس نے توبہ کی اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، سن لو! کوئی عورت کسی مرد کی، کوئی اعرابی (دیہاتی) کسی مہاجر کی، کوئی فاجر کسی مومن کی امامت نہ کرے، ہاں جب وہ کسی ایسے حاکم سے مغلوب ہو جائے جس کی تلوار اور کوڑوں کا ڈر ہو“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابٌ في فَرْضِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کی فرضیت کا بیان:جلد٢ص١٨٢،حديث نمبر ١٠٨١)
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی بینائی چلی گئی تو میں انہیں پکڑ کر لے جایا کرتا تھا، جب میں انہیں نماز جمعہ کے لیے لے کر نکلتا اور وہ اذان سنتے تو ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار اور دعا کرتے، میں ایک زمانہ تک ان سے یہی سنتا رہا، پھر ایک روز میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اللہ کی قسم یہ تو بے وقوفی ہے کہ میں اتنے عرصے سے ہر جمعہ یہ بات سن رہا ہوں کہ جب بھی وہ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار اور دعا کرتے ہیں، اور ابھی تک میں نے ان سے اس کی وجہ نہیں پوچھی، چنانچہ ایک روز معمول کے مطابق انہیں جمعہ کے لیے لے کر نکلا، جب انہوں نے اذان سنی تو حسب معمول (اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے) مغفرت کی دعا کی تو میں نے ان سے کہا: ابا جان! جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرماتے ہیں، آخر اس کی وجہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اسعد ہی نے ہمیں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے قبیلہ بنی بیاضہ کے ہموار میدان «نقیع الخضمات» میں نماز جمعہ پڑھائی، میں نے سوال کیا: اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کیا تھی؟ کہا: ہم چالیس آدمی تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابٌ في فَرْضِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کی فرضیت کا بیان:جلد٢ص١٨٣،حديث نمبر ١٠٨٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا، یہود نے ہفتہ کا دن، اور نصاریٰ نے اتوار کا دن (عبادت کے لیے) منتخب کیا، اس طرح وہ قیامت تک ہمارے پیچھے رہیں گے، ہم دنیا والوں سے (آمد کے لحاظ سے) آخر ہیں، اور آخرت کے حساب و کتاب میں ساری مخلوقات سے اول ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابٌ في فَرْضِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کی فرضیت کا بیان:جلد٢ص١٨٤،حديث نمبر ١٠٨٣)
حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن ہے، اس کا درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی زیادہ ہے، اس کی پانچ خصوصیات ہیں: اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم کو پیدا فرمایا، اسی دن ان کو روئے زمین پہ اتارا، اسی دن اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دی، اور اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ بندہ اس میں جو بھی اللہ سے مانگے اللہ تعالیٰ اسے دے گا جب تک کہ حرام چیز کا سوال نہ کرے، اور اسی دن قیامت آئے گی، جمعہ کے دن ہر مقرب فرشتہ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ اور سمندر (قیامت کے آنے سے) ڈرتے رہتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابٌ في فَضْلِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص١٨٤،حديث نمبر ١٠٨٤)
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اور اسی دن پہلا اور دوسرا صور پھونکا جائے گا، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود (صلاۃ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جائے گا“، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا درود (صلاۃ) آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین پہ انبیاء کے جسموں کے کھانے کو حرام قرار دیا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابٌ في فَضْلِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص١٨٦،حديث نمبر ١٠٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابٌ في فَضْلِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کی فضیلت کا بیان:جلد٢ص١٨٧،حديث نمبر ١٠٨٦)
حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کرایا اور خود بھی غسل کیا ۱؎، اور نماز کے لیے سویرے نکلا اور شروع خطبہ میں حاضر ہوا، بغیر سواری کے پیدل چل کر آیا، اور امام کے قریب بیٹھا، خطبہ غور سے سنا، اور کوئی لغو کام نہیں کیا، تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے نفلی روزوں اور تہجد کا ثواب ملے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان:جلد٢ص١٨٨،حديث نمبر ١٠٨٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ”جو جمعہ کے لیے آئے، وہ غسل کرے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان:جلد٢ص١٨٩،حديث نمبر ١٠٨٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان:جلد٢ص١٨٩،حديث نمبر ١٠٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور امام سے قریب بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جس نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا اس نے لغو حرکت کی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کا بیان:جلد٢ص١٩٠،حديث نمبر ١٠٩٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو یہ بڑی اچھی بات ہے، اس سے فریضہ ادا ہو جائے گا، اور جس نے غسل کیا تو غسل زیادہ بہتر ہے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کا بیان:جلد٢ص١٩١،حديث نمبر ١٠٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے متعین ہوتے ہیں، وہ لوگوں کے نام ان کے درجات کے مطابق لکھتے رہتے ہیں، جو پہلے آتے ہیں ان کا نام پہلے (ترتیب وار) لکھتے ہیں، اور جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں، لہٰذا جمعہ کے لیے سویرے جانے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے، اور اس کے بعد جانے والا گائے قربان کرنے والے، اور اس کے بعد جانے والا مینڈھا قربان کرنے والے کے مانند ہے“ یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے (کی قربانی) کا بھی ذکر فرمایا اور سہل نے اپنی حدیث میں اتنا زیادہ بیان کیا کہ جو کوئی اس کے (خطبہ شروع ہو چکنے کے) بعد آئے تو وہ صرف اپنا فریضہ نماز ادا کرنے کے لیے آیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّهْجِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ:جمعہ کے لیے مسجد سویرے جانے کا بیان:جلد٢ص١٩٢،حديث نمبر ١٠٩٢)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ اور جمعہ کے لیے سویرے آنے والے کی مثال اونٹ قربان کرنے والے، گائے قربان کرنے والے اور بکری قربان کرنے والے کی بیان فرمائی ہے، یہاں تک کہ مرغی (کی قربانی) کا بھی ذکر فرمایا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّهْجِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ:جمعہ کے لیے مسجد سویرے جانے کا بیان:جلد٢ص١٩٣،حديث نمبر ١٠٩٣)
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں حضرتِ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے لیے نکلا، انہوں نے تین آدمیوں کو دیکھا جو ان سے آگے بڑھ گئے تھے، تو کہا: میں چار میں سے چوتھا ہوں اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس اسی ترتیب سے بیٹھیں گے جس ترتیب سے جمعہ کے لیے پہلے اور بعد میں جاتے رہتے ہیں، جمعہ کے لیے پہلے جانے والا وہاں بھی پہلے درجہ میں دوسرا دوسرے درجہ میں اور تیسرا تیسرے درجہ میں“ پھر کہا: چار میں سے چوتھا اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّهْجِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ:جمعہ کے لیے مسجد سویرے جانے کا بیان:جلد٢ص١٩٣،حديث نمبر ١٠٩٤)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن منبر پہ فرماتے ہوئے سنا: ”کیا اچھا ہوتا کہ تم میں سے ہر شخص جمعہ کے لیے اپنے عام استعمال کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے خرید لے“۔ ایک اور سند سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اور پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الزِّينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن زیب و زینت کا بیان:جلد٢ص١٩٤،حديث نمبر ١٠٩٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن خطبہ دیا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھاری دار چادریں پہنے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مشکل ہے کہ تم میں سے جو صاحب وسعت ہو وہ جمعہ کے لیے اپنے عام کپڑے کے علاوہ دوسرے دو کپڑے بنا لے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الزِّينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن زیب و زینت کا بیان:جلد٢ص١٩٥،حديث نمبر ١٠٩٦)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا، اچھی طرح وضو کیا، سب سے اچھا کپڑا پہنا، اور اس کے گھر والوں کو اللہ نے جو خوشبو میسر کی اسے لگایا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور کوئی لغو اور بیکار کام نہیں کیا، اور دو مل کر بیٹھنے والوں کو الگ الگ کر کے بیچ میں نہیں گھسا ۱؎ تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الزِّينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن زیب و زینت کا بیان:جلد٢ص١٩٦،حديث نمبر ١٠٩٧)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اسے عید کا دن قرار دیا ہے، لہٰذا جو کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے، اور تم لوگ اپنے اوپر مسواک کو لازم کر لو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الزِّينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن زیب و زینت کا بیان:جلد٢ص١٩٧،حديث نمبر ١٠٩٨)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے، اور دوپہر کا کھانا کھایا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے وقت کا بیان:جلد٢ص١٩٧،حديث نمبر ١٠٩٩)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر گھروں کو واپس ہوتے تو دیواروں کا سایہ اتنا بھی نہ ہوتا تھا کہ ہم اس سایہ میں چل سکیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے وقت کا بیان:جلد٢ص١٩٨،حديث نمبر ١١٠٠)
مؤذن رسول حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ جوتا کے تسمے کے برابر ہو جاتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے وقت کا بیان:جلد٢ص١٩٨،حديث نمبر ١١٠١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ پڑھتے پھر لوٹ کر قیلولہ کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے وقت کا بیان:جلد٢ص١٩٩،حديث نمبر ١١٠٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبہ دیتے تھے، اور دونوں کے درمیان کچھ دیر بیٹھتے تھے۔ بشر بن مفضل نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دیتے وقت) کھڑے ہوتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے خطبہ کا بیان:جلد٢ص١٩٩،حديث نمبر ١١٠٣)
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ کے سر پہ ایک کالا عمامہ تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے خطبہ کا بیان:جلد٢ص١٩٩،حديث نمبر ١١٠٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، البتہ آپ (دونوں خطبوں کے درمیان) تھوڑی دیر بیٹھتے تھے، پھر کھڑے ہو جاتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے خطبہ کا بیان:جلد٢ص٢٠٠،حديث نمبر ١١٠٥)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہوتے اور قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرماتے اور اللہ کا ذکر کرتے، آپ کا خطبہ اور نماز دونوں ہی درمیانی ہوتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے خطبہ کا بیان:جلد٢ص٢٠١،حديث نمبر ١١٠٦)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میدان جنگ میں خطبہ دیتے تو کمان پر ٹیک لگا کر دیتے، اور جب جمعہ کا خطبہ دیتے تو چھڑی پر ٹیک لگا کر دیتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے خطبہ کا بیان:جلد٢ص٢٠١،حديث نمبر ١١٠٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے یا کھڑے ہو کر؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم نے یہ آیت کریمہ نہیں پڑھی: «وتركوك قائما» ”اور ان لوگوں نے تمہیں کھڑے ہوئے چھوڑ دیا“ (سورة الجمعة: 11) ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس کو صرف ابن ابی شیبہ ہی نے بیان کرتے ہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے خطبہ کا بیان:جلد٢ص٢٠١،حديث نمبر ١١٠٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر چڑھتے تو لوگوں کو سلام کرتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے خطبہ کا بیان:جلد٢ص٢٠٢،حديث نمبر ١١٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے دوران خطبہ کہا کہ چپ رہو، تو تم نے لغو کام کیا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:مَا جَاءَ فِي الاِسْتِمَاعِ لِلْخُطْبَةِ وَالإِنْصَاتِ لَهَا:خطبہ جمعہ کو خاموشی کے ساتھ غور سے سننے کا بیان:جلد٢ص٢٠٢،حديث نمبر ١١١٠)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہو کر سورۃ تبارک (سورۃ الملک) پڑھی، اور ہمیں اللہ عزوجل کی طرف سے گزشتہ قوموں پر پیش آنے والے اہم واقعات سے نصیحت کی، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ یا ابوذر رضی اللہ عنہ نے میری جانب نظر سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی؟ میں نے تو یہ ابھی سنی ہے، تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان کو اشارہ کیا کہ خاموش رہو، جب وہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ یا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ابی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی تو آپ نے نہیں بتایا، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آج آپ کو آپ کی نماز میں ان لغو باتوں کے سوا کچھ بھی اجر و ثواب نہیں ملے گا، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، اور ابی رضی اللہ عنہ نے جو بات کہی تھی وہ بھی بتائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابی نے سچ کہا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:مَا جَاءَ فِي الاِسْتِمَاعِ لِلْخُطْبَةِ وَالإِنْصَاتِ لَهَا:خطبہ جمعہ کو خاموشی کے ساتھ غور سے سننے کا بیان:جلد٢ص٢٠٣،حديث نمبر ١١١١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے نماز ادا کر لی؟“ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعت پڑھ لو“۔ عمرو بن دینار نے سلیک کا ذکر نہیں کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:مَا جَاءَ فِيمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ: دوران خطبہ مسجد میں آنے والا کیا کرے؟:جلد٢ص٢٠٤،حديث نمبر ١١١٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران ایک شخص مسجد میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نماز پڑھ لی؟“ اس نے کہا: جی نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعت پڑھ لو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:مَا جَاءَ فِيمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ: دوران خطبہ مسجد میں آنے والا کیا کرے؟:جلد٢ص٢٠٤،حديث نمبر ١١١٣)
حضرت ابوہریرہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم نے (میرے نزدیک) آنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لی ہے؟“ تو انہوں نے کہا: جی نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھ لو، اور ہلکی پڑھو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ:مَا جَاءَ فِيمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ: دوران خطبہ مسجد میں آنے والا کیا کرے؟:جلد٢ص٢٠٥،حديث نمبر ١١١٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی، اور آنے میں تاخیر بھی کی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ تَخَطِّي النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:دوران جمعہ لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی ممانعت:جلد٢ص٢٠٦،حديث نمبر ١١١٥)
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگے گا وہ جہنم کا پل بنایا جائے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ تَخَطِّي النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:دوران جمعہ لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی ممانعت:جلد٢ص٢٠٦،حديث نمبر ١١١٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جمعہ کے دن منبر سے اترتے تو ضروری امور سے متعلق گفتگو فرما لیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا: مَا جَاءَ فِي الْكَلاَمِ بَعْدَ نُزُولِ الإِمَامِ عَنِ الْمِنْبَرِ: منبر سے اترنے کے بعد امام بات چیت کر سکتا ہے:جلد٢ص٢٠٧،حديث نمبر ١١١٧)
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا، خود مکہ گئے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز جمعہ پڑھائی، پہلی رکعت میں سورۃ الجمعہ اور دوسری رکعت میں: «إذا جاءك المنافقون» پڑھی۔ عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ میں نے نماز کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، اور ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ بھی کوفہ میں (نماز جمعہ میں) یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلاَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:نماز جمعہ پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٢٠٧،حديث نمبر ١١١٨)
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ضحاک (احنف) بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورۃ الجمعہ کے ساتھ اور کون سی سورت پڑھتے تھے؟ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلاَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:نماز جمعہ پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٢٠٨،حديث نمبر ١١١٩)
حضرت ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں: «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلاَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:نماز جمعہ پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٢٠٨،حديث نمبر ١١٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی، تو اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً:جمعہ کی ایک رکعت پانے والے کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٠٩،حديث نمبر ١١٢١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پا لی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً:جمعہ کی ایک رکعت پانے والے کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢١١،حديث نمبر ١١٢٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ یا کسی بھی نماز سے ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً:جمعہ کی ایک رکعت پانے والے کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢١١،حديث نمبر ١١٢٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: قباء کے رہنے والے جمعے کے دن جمعے کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا:بَابُ: مَا جَاءَ مِنْ أَيْنَ تُؤْتَى الْجُمُعَةُ: کتنی دور سے جمعہ کے لیے آنا ضروری ہے:جلد٢ص٢١٢،حديث نمبر ١١٢٤)
حضرت ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ (انہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین جمعے سستی سے چھوڑ دئیے، اس کے دل پہ مہر لگ گئی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: فِيمَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ: بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں وارد وعید کا بیان:جلد٢ص٢١٣،حديث نمبر ١١٢٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین جمعے بغیر کسی ضرورت کے چھوڑ دئیے اللہ تعالیٰ اس کے دل پہ مہر لگا دے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: فِيمَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ: بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں وارد وعید کا بیان:جلد٢ص٢١٤،حديث نمبر ١١٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن لو! قریب ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک یا دو میل کے فاصلے پہ بکریوں کا ایک ریوڑ اکٹھا کر لے، وہاں گھاس ملنی مشکل ہو جائے تو دور چلا جائے، پھر جمعہ آ جائے اور وہ واپس نہ آئے، اور نماز جمعہ میں شریک نہ ہو، پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو، اور پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو، بالآخر اس کے دل پہ مہر لگا دی جاتی ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: فِيمَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ: بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں وارد وعید کا بیان:جلد٢ص٢١٤،حديث نمبر ١١٢٧)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ جان بوجھ کر چھوڑ دیا، تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اور اگر ایک دینار نہ ہو سکے تو آدھا دینار ہی سہی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: فِيمَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ: بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں وارد وعید کا بیان:جلد٢ص٢١٥،حديث نمبر ١١٢٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، اور درمیان میں فصل نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ الْجُمُعَةِ: جمعہ سے پہلے کی سنتوں کا بیان:جلد٢ص٢١٦،حديث نمبر ١١٢٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو اپنے گھر میں دو رکعت پڑھتے، اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے بعد کی سنتوں کا بیان:جلد٢ص٢١٦،حديث نمبر ١١٣٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے بعد کی سنتوں کا بیان:جلد٢ص٢١٧،حديث نمبر ١١٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جمعہ کے بعد سنت پڑھو تو چار رکعت پڑھو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے بعد کی سنتوں کا بیان:جلد٢ص٢١٧،حديث نمبر ١١٣٢)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحِلَقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَالاِحْتِبَاءِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ:نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر اور دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت:جلد٢ص٢١٧،حديث نمبر ١١٣٣)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحِلَقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَالاِحْتِبَاءِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ:نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر اور دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت:جلد٢ص٢١٨،حديث نمبر ١١٣٤)
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف ایک ہی مؤذن تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ کے لیے) نکلتے تو وہ اذان دیتے، اور جب منبر سے اترتے تو اقامت کہتے، حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں بھی ایسا ہی تھا، جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور لوگ زیادہ ہو گئے، تو انہوں نے زوراء نامی بازار میں ایک مکان پر، تیسری اذان کا اضافہ کر دیا، چنانچہ جب عثمان رضی اللہ عنہ (خطبہ دینے کے لیے) نکلتے تو مؤذن (دوبارہ) اذان دیتا، اور جب منبر سے اترتے تو تکبیر کہتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الأَذَانِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ:جمعہ کے دن اذان کا بیان:جلد٢ص٢١٨،حديث نمبر ١١٣٥)
عدی بن ثابت اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر کھڑے ہوتے تو آپ کے صحابہ اپنا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کر لیتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي اسْتِقْبَالِ الإِمَامِ وَهُوَ يَخْطُبُ:دوران خطبہ امام کی جانب منہ کرنے کا بیان:جلد٢ص٢١٩،حديث نمبر ١١٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بندہ نماز پڑھتا ہوا اسے پا لے، اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے کسی بھلائی کا سوال کرے، تو اللہ اسے عطا فرماتا ہے“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارہ سے اس وقت کو بہت ہی مختصر بتایا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى فِي الْجُمُعَةِ: جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کے وقت کا بیان:جلد٢ص٢٢٠،حديث نمبر ١١٣٧)
حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت (گھڑی) ہے کہ اس میں بندہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگے اس کی دعا قبول ہو گی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کون سی ساعت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے لیے اقامت کہی جانے سے لے کر اس سے فراغت تک“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى فِي الْجُمُعَةِ: جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کے وقت کا بیان:جلد٢ص٢٢١،حديث نمبر ١١٣٨)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، میں نے کہا: ہم اللہ کی کتاب (قرآن) میں پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت (گھڑی) ہے کہ جو مومن بندہ نماز پڑھتا ہوا اس کو پا لے اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو وہ اس کی حاجت پوری کرے گا، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کیا کہ ”وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے“ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا، وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے، میں نے پوچھا: وہ کون سی ساعت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دن کی آخری ساعت ہے“ میں نے کہا: یہ تو نماز کی ساعت نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں! بیشک مومن بندہ جب نماز پڑھتا ہے، پھر نماز ہی کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے، تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى فِي الْجُمُعَةِ: جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کے وقت کا بیان:جلد٢ص٢٢٢،حديث نمبر ١١٣٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص روزانہ پابندی کے ساتھ بارہ رکعات سنن موکدہ پڑھا کرے، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، اور دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، دو رکعت عشاء کے بعد، دو رکعت فجر سے پہلے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ السُّنَّةِ:سنن موکدہ کی بارہ رکعتوں کا بیان:جلد٢ص٢٢٣،حديث نمبر ١١٤٠)
حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رات اور دن میں بارہ رکعتیں (سنن موکدہ) پڑھیں ، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ السُّنَّةِ:سنن موکدہ کی بارہ رکعتوں کا بیان:جلد٢ص٢٢٤،حديث نمبر ١١٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں (سنن موکدہ) پڑھیں، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا: دو رکعت فجر سے پہلے، دو رکعت ظہر سے پہلے، اور دو رکعت اس کے بعد، غالباً آپ نے یہ بھی فرمایا: دو رکعت عصر سے پہلے، اور دو رکعت مغرب کے بعد، اور یہ بھی فرمایا: دو رکعت عشاء کے بعد“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ السُّنَّةِ:سنن موکدہ کی بارہ رکعتوں کا بیان:جلد٢ص٢٢٥،حديث نمبر ١١٤٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح صادق روشن ہو جاتی تو دو رکعت پڑھتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ:فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان:جلد٢ص٢٢٦،حديث نمبر ١١٤٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے، گویا کہ آپ اقامت سن رہے ہوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ:فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان:جلد٢ص٢٢٦،حديث نمبر ١١٤٤)
ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نماز فجر کی نماز کی خبر دے دی جاتی تو آپ نماز کے لیے اٹھنے سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ:فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان:جلد٢ص٢٢٦،حديث نمبر ١١٤٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو دو رکعت پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکلتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ:فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان:جلد٢ص٢٢٨،حديث نمبر ١١٤٦)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اقامت کے وقت دو رکعت پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ:فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان:جلد٢ص٢٢٨،حديث نمبر ١١٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ: فجر کی سنتوں میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٢٢٩،حديث نمبر ١١٤٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مہینہ تک غور سے دیکھا ہے کہ آپ فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں: «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ: فجر کی سنتوں میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٢٣٠،حديث نمبر ١١٤٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے، اور کہتے تھے کہ یہ دونوں سورتیں جو فجر کی دونوں رکعتوں میں پڑھی جاتی ہیں کیا ہی بہتر ہیں ایک: «قل هو الله أحد» دوسری «قل يا أيها الكافرون» ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ: فجر کی سنتوں میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٢٣١،حديث نمبر ١١٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی بھی نماز نہیں ہوتی“۔ ایک اور سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم مثل حدیث مروی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ: فرض نماز کی اقامت کے بعد کوئی اور نماز نہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٣٢،حديث نمبر ١١٥١)
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو نماز فجر سے پہلے دو رکعت پڑھ رہا تھا، اس وقت آپ فرض پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اپنی دونوں نماز میں سے کس نماز کا تم نے اعتبار کیا؟“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ:فرض نماز کی اقامت کے بعد کوئی اور نماز نہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٣٢،حديث نمبر ١١٥٢)
حضرت عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا، اور نماز فجر کے لیے اقامت کہی جا رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کہا جو میری سمجھ میں نہیں آیا، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو ہم اس کے گرد یہ پوچھنے کے لیے جمع ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قریب ہے کہ اب تم میں سے کوئی فجر کی نماز چار رکعت پڑھے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ:فرض نماز کی اقامت کے بعد کوئی اور نماز نہ پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٣٣،حديث نمبر ١١٥٣)
حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز فجر کے بعد دو رکعت پڑھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا نماز فجر دو بار پڑھ رہے ہو؟“، اس شخص نے کہا: میں نماز فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکا تھا، تو میں نے اب ان کو پڑھ لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ مَتَى يَقْضِيهِمَا: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھی ہو تو اس سے کب پڑھے؟:جلد٢ص٢٣٤،حديث نمبر ١١٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سو گئے، اور فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے، تو ان کی قضاء سورج نکلنے کے بعد کی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ مَتَى يَقْضِيهِمَا: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھی ہو تو اس سے کب پڑھے؟:جلد٢ص٢٣٥،حديث نمبر ١١٥٥)
قابوس اپنے والد (ابوظبیان) سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (یہ پوچھنے کے لیے) بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ان سنتوں میں سے) کس سنت پر مداومت پسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، ان میں قیام لمبا، اور رکوع و سجود اچھی طرح کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ:ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت کا بیان:جلد٢ص٢٣٦،حديث نمبر ١١٥٦)
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے اور بیچ میں سلام سے فصل نہیں کرتے تھے، اور فرماتے: ”سورج ڈھلنے کے بعد آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ:ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت کا بیان:جلد٢ص٢٣٦،حديث نمبر ١١٥٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر سے پہلے چار رکعتیں فوت ہو جاتیں تو آپ ان کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتوں کے بعد پڑھ لیتے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف قیس بن ربیع نے شعبہ سے روایت کی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَنْ فَاتَتْهُ الأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ:جو ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں نہ پڑھ سکا ہو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٣٧،حديث نمبر ١١٥٨)
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص بھیجا، قاصد کے ساتھ میں بھی گیا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں نماز ظہر کے لیے وضو کر رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ وصول کرنے والا ایک شخص روانہ کیا تھا، آپ کے پاس مہاجرین کی بھیڑ تھی، اور ان کی بدحالی نے آپ کو فکر میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر نکلے، ظہر پڑھائی پھر بیٹھے، اور صدقہ وصول کرنے والا جو کچھ لایا تھا اسے تقسیم کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر تک ایسے ہی تقسیم کرتے رہے، پھر آپ میرے گھر میں داخل ہوئے، اور دو رکعت پڑھی، اور فرمایا: ”صدقہ وصول کرنے والے کے معاملے نے مجھے ظہر کے بعد دو رکعت سنت کی ادائیگی سے مشغول کر دیا تھا، اب نماز عصر کے بعد میں نے وہی دونوں رکعتیں پڑھی ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ بَعْدَ الظُّهْرِ:جس کی ظہر کے بعد کی دو رکعت سنت چھوٹ جائے اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٣٨،حديث نمبر ١١٥٩)
ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا :ظہر سے پہلے اور اس کے بعد چار چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٣٩،حديث نمبر ١١٦٠)
عاصم بن ضمرہ سلولی کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کی نفل نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تم ان کو ادا نہ کر سکو گے، ہم نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیے، ہم ان میں سے جتنی ادا کر سکیں گے اتنی لے لیں گے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھنے کے بعد رکے رہتے یہاں تک کہ جب سورج مشرق (پورب) کی جانب سے اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ عصر کے وقت مغرب (پچھم) کی جانب سے ہوتا ہے تو کھڑے ہوتے اور دو رکعت پڑھتے، ۱؎ پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ جب سورج (پورب) کی جانب سے اتنا بلند ہو جاتا جتنا ظہر کے وقت مغرب (پچھم) کی طرف سے بلند ہوتا ہے، تو آپ کھڑے ہوتے اور چار رکعت پڑھتے، ۲؎ اور جب سورج ڈھل جاتا تو نماز ظہر سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے، اور چار رکعت عصر سے پہلے جن میں ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں، انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں پر سلام بھیج کر فصل کرتے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سب سولہ رکعتیں ہوئیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دن میں بطور نفل پڑھتے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جو پابندی کے ساتھ انہیں پڑھتے رہیں۔ راوی حدیث وکیع کہتے ہیں کہ میرے والد نے اس حدیث میں اتنا اضافہ کیا کہ حبیب بن ابی ثابت نے ابواسحاق سے کہا کہ اے ابواسحاق! اگر اس حدیث کے بدلے مجھے تمہاری اس مسجد بھر سونا ملتا تو میں پسند نہیں کرتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنَ التَّطَوُّعِ بِالنَّهَارِ:دن کی مستحب (نفل) نماز کا بیان:جلد٢ص٢٣٩،حديث نمبر ١١٦١)
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے، آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور تیسری مرتبہ میں کہا: ”اس کے لیے جو چاہے“ ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ:مغرب سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان:جلد٢ص٢٤٠،حديث نمبر ١١٦٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مؤذن اذان دیتا تو لوگ اتنی کثرت سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے کہ محسوس ہوتا کہ نماز مغرب کے لیے اقامت کہہ دی گئی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ:مغرب سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان:جلد٢ص٢٤١،حديث نمبر ١١٦٣)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھتے، پھر میرے گھر واپس آتے، اور دو رکعت پڑھتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ:مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت کا بیان:جلد٢ص٢٤١،حديث نمبر ١١٦٤)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بنو عبدالاشہل (قبیلہ) میں آئے، اور ہمیں ہماری مسجد میں مغرب پڑھائی، پھر فرمایا: ”یہ دونوں رکعتیں (مغرب کے بعد کی سنتیں) اپنے گھروں میں پڑھو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ:مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت کا بیان:جلد٢ص٢٤٢،حديث نمبر ١١٦٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں: «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ:مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں کون سی سورتیں پڑھے؟:جلد٢ص٢٤٢،حديث نمبر ١١٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھے اور ان کے درمیان کوئی غلط بات نہ کہے، تو وہ بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار دی جائیں گی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي السِّتِّ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْمَغْرِبِ:مغرب کے بعد چھ رکعت سنت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٤٣،حديث نمبر ١١٦٧)
حضرت خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر مزید ایک نماز مقرر کی ہے، جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، وہ وتر کی نماز ہے، اللہ نے اسے تمہارے لیے عشاء سے لے کر طلوع فجر کے درمیان مقرر کیا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ:وتر کا بیان:جلد٢ص٢٤٤،حديث نمبر ١١٦٨)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر واجب نہیں ہے، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی پھر فرمایا: ”اے قرآن والو! وتر پڑھو، اس لیے کہ اللہ طاق ہے، طاق (عدد) کو پسند فرماتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ:وتر کا بیان:جلد٢ص٢٤٤،حديث نمبر ١١٦٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ طاق (یکتا و بے نظیر) ہے، طاق کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو، ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ:وتر کا بیان:جلد٢ص٢٤٥،حديث نمبر ١١٧٠)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں: «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُقْرَأُ فِي الْوِتْرِ:وتر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٢٤٦،حديث نمبر ١١٧١)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں: «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے۔ ایک اور سند سے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُقْرَأُ فِي الْوِتْرِ:وتر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٢٤٧،حديث نمبر ١١٧٢)
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں: «سبح اسم ربك الأعلى» دوسری میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو الله أحد» اور معوذتین پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُقْرَأُ فِي الْوِتْرِ:وتر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٢٤٨،حديث نمبر ١١٧٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دو دو رکعت پڑھتے تھے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ: ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٤٩،حديث نمبر ١١٧٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت اور وتر ایک رکعت ہے“، ابومجلز (لاحق بن حمید) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ اگر میری آنکھ لگ جائے، اگر میں سو جاؤں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر مگر اس ستارے کے پاس لے جاؤ، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ستارہ سماک چمک رہا تھا، پھر انہوں نے وہی جملہ دہرایا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور وتر صبح سے پہلے ایک رکعت ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ: ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٥٠،حديث نمبر ١١٧٥)
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں وتر کیسے پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: تم ایک رکعت کو وتر بناؤ، اس شخص نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس نماز کو «بتیراء» (دم کٹی نماز) کہیں گے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے، ان کی مراد تھی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ: ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٥١،حديث نمبر ١١٧٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت پہ سلام پھیرتے تھے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ: ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٥٢،حديث نمبر ١١٧٧)
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جن کو میں وتر کے قنوت میں پڑھا کروں: «اللهم عافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت واهدني فيمن هديت وقني شر ما قضيت وبارك لي فيما أعطيت إنك تقضي ولا يقضى عليك إنه لا يذل من واليت سبحانك ربنا تباركت وتعاليت» ”اے اللہ! مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جن کو تو نے عافیت بخشی ہے، اور میری مدد کر ان لوگوں میں جن کی تو نے مدد کی ہے، اور مجھے ہدایت دے ان لوگوں کے زمرے میں جن کو تو نے ہدایت دی ہے، اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، اور میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے، پس جو تو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے، اور تجھ پر کسی کا حکم نہیں چل سکتا، اور جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو پاک، بابرکت اور بلند ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ:وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٥٢،حديث نمبر ١١٧٨)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں تیری رضا مندی کے ذریعہ تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیری معافی کے ذریعہ تیری سزاؤں سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے رحم و کرم کے ذریعہ تیرے غیظ و غضب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری حمد و ثنا کو شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف کی ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ:وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٥٣،حديث نمبر ١١٧٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بھی دعا میں اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، البتہ آپ استسقاء میں اپنے ہاتھ اتنا اوپر اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَنْ كَانَ لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الْقُنُوتِ:دعائے قنوت میں ہاتھ نہ اٹھانے کا بیان:جلد٢ص٢٥٢،حديث نمبر ١١٨٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کا باطن منہ کی طرف کر کے دعا کرو، ان کے ظاہری حصہ کو منہ کی طرف نہ کرو، اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو دونوں ہتھیلیاں اپنے چہرہ پر پھیر لو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَنْ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ:دعا میں ہاتھ اٹھانے اور اس کو چہرے پر پھیرنے کا بیان:جلد٢ص٢٥٤،حديث نمبر ١١٨١)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھتے تھے تو دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ:رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٥٥،حديث نمبر ١١٨٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے نماز فجر میں دعائے قنوت کے متعلق پوچھا گیا کہ کب پڑھی جائے؟ تو انہوں نے کہا: ہم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں طرح دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ:رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٥٥،حديث نمبر ١١٨٣)
محمد (محمد بن سیرین) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ:رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٥٦،حديث نمبر ١١٨٤)
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا، کبھی رات کے شروع حصے میں، کبھی درمیانی حصے میں، اور وفات کے قریبی ایام میں اپنا وتر صبح صادق کے قریب پڑھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ آخِرَ اللَّيْلِ: رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٥٧،حديث نمبر ١١٨٥)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں کبھی شروع میں، اور کبھی بیچ میں، صبح صادق کے طلوع تک نماز وتر پڑھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ آخِرَ اللَّيْلِ: رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٥٧،حديث نمبر ١١٨٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو رات کی ابتداء ہی میں وتر پڑھ لے اور سو جائے، اور جس کو امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو جائے گا تو رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی قراءت میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ آخِرَ اللَّيْلِ: رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٥٨،حديث نمبر ١١٨٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نماز وتر سے سو جائے، یا اسے بھول جائے، تو صبح کے وقت یا جب یاد آ جائے پڑھ لے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرٍ أَوْ نَسِيَهُ:سو جانے یا بھولنے کی وجہ سے وتر فوت ہو جائے تو کیا کرے؟:جلد٢ص٢٥٨،حديث نمبر ١١٨٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح صادق سے پہلے وتر پڑھ لو“۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن زید کی حدیث ضعیف ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرٍ أَوْ نَسِيَهُ:سو جانے یا بھولنے کی وجہ سے وتر فوت ہو جائے تو کیا کرے؟:جلد٢ص٢٥٩،حديث نمبر ١١٨٩)
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر حق (ثابت) ہے، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِثَلاَثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ:وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٠،حديث نمبر ١١٩٠)
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا رات میں آپ کو بیدار کر دیتا، آپ مسواک اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، بیچ میں کسی بھی رکعت پر نہ بیٹھتے، ہاں آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے، اس کا ذکر کرتے اور حمد کرتے ہوئے اسے پکارتے، پھر اٹھ جاتے، سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کرتے، اور اپنے رب سے دعا کرتے، اور اس کے نبی پر درود (صلاۃ) پڑھتے، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم سن لیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے، یہ سب گیارہ رکعتیں ہوئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی، اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہو گیا، تو آپ سات رکعتیں وتر پڑھتے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِثَلاَثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ:وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦١،حديث نمبر ١١٩١)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعتیں وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام اور کلام سے فصل نہیں کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِثَلاَثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ:وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٢،حديث نمبر ١١٩٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں، اور رات میں تہجد پڑھتے تھے، سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں) وتر پڑھتے تھے؟ کہا: جی ہاں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ فِي السَّفَرِ:سفر میں وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٢،حديث نمبر ١١٩٣)
حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی نماز دو رکعت مقرر کی ہے، یہ دو رکعت پوری ہے ناقص نہیں، اور سفر میں نماز وتر پڑھنا سنت ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ فِي السَّفَرِ:سفر میں وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٢،حديث نمبر ١١٩٤)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو ہلکی رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ جَالِسًا:وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٣،حديث نمبر ١١٩٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے اور ان میں قراءت کرتے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ جَالِسًا:وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٤،حديث نمبر ١١٩٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اخیر رات میں پاتی تو اپنے پاس سویا ہوا پاتی۔ وکیع نے کہا: ان کی مراد وتر کے بعد۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ جَالِسًا:وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٥،حديث نمبر ١١٩٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعت سنت پڑھ لیتے تو دائیں کروٹ لیٹ جاتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ جَالِسًا:وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٥،حديث نمبر ١١٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعت سنت پڑھ لیتے تو پہلو پر لیٹ جاتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ جَالِسًا:وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٥،حديث نمبر ١١٩٩)
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، میں پیچھے ہو گیا، اور نماز وتر ادا کی، انہوں نے پوچھا: تم پیچھے کیوں رہ گئے؟ میں نے کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا: کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ عَلَى الرَّاحِلَةِ:سواری پر وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٦،حديث نمبر ١٢٠٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ عَلَى الرَّاحِلَةِ:سواری پر وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٧،حديث نمبر ١٢٠١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ کہا: شروع رات میں عشاء کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اے عمر! انہوں نے کہا: رات کے اخیر حصے میں، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! تم نے مضبوط کڑا پکڑا ہے (یقینی طریقہ اختیار کیا) اور اے عمر! تم نے قوت والا کام پکڑا“۔ ایک اور سند سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ:رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٦٧،حديث نمبر ١٢٠٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے کچھ زیادہ یا کچھ کم کر دیا، (ابراہیم نخعی نے کہا یہ وہم میری جانب سے ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کچھ زیادتی کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی انسان ہی ہوں، جیسے تم بھولتے ہوں ویسے میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا جب کوئی شخص بھول جائے تو بیٹھ کر دو سجدے کرے“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی جانب گھوم گئے، اور دو سجدے کئے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابٌ في السَّهْوِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں سہو (بھول چوک) کا بیان:جلد٢ص٢٦٨،حديث نمبر ١٢٠٣)
عیاض نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کوئی شخص نماز ادا کرتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کر لیں؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے، اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا :بَابٌ في السَّهْوِ فِي الصَّلاَةِ: نماز میں سہو (بھول چوک) کا بیان:جلد٢ص٢٦٩،حديث نمبر ١٢٠٤)
عیاض نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ آپ سے کہا گیا (کہ آپ نے پانچ رکعت پڑھی ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، اور سہو کے دو سجدے کئے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَنْ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا وَهُوَ سَاهٍ:بھول کر ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٧٠،حديث نمبر ١٢٠٥)
ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، میرا خیال ہے کہ وہ ظہر کی نماز تھی، جب آپ دوسری رکعت میں تھے تو تشہد کیے بغیر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ آخری تشہد میں بیٹھے تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ قَامَ مِنَ اثْنَتَيْنِ سَاهِيًا:جو شخص بھول سے دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٧٠،حديث نمبر ١٢٠٦)
عبدالرحمٰن اعرج سے روایت ہے کہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دوسری رکعت پڑھ کر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو گئے، اور تشہد بھول گئے، یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے، اور صرف سلام پھیرنا باقی رہ گیا، تو سہو کے دو سجدے کئے، اور سلام پھیرا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ قَامَ مِنَ اثْنَتَيْنِ سَاهِيًا:جو شخص بھول سے دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٧١،حديث نمبر ١٢٠٧)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے لیکن ابھی پورے طور پہ کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے، اور اگر پورے طور پہ کھڑا ہو گیا ہو تو نہ بیٹھے، اور آخر میں سہو کے دو سجدے کرے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ قَامَ مِنَ اثْنَتَيْنِ سَاهِيًا:جو شخص بھول سے دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٧٢،حديث نمبر ١٢٠٨)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب کوئی شخص شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا ایک، تو ایک کو اختیار کرے، (کیونکہ وہ یقینی ہے) اور جب دو اور تین رکعت میں شک کرے تو دو کو اختیار کرے، اور جب تین یا چار میں شک کرے تو تین کو اختیار کرے، پھر باقی نماز پوری کرے، تاکہ وہم زیادتی میں ہو کمی میں نہ ہو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَرَجَعَ إِلَى الْيَقِينِ:نماز میں شک کی صورت میں یقینی بات پر عمل کرنے کا بیان:جلد٢ص٢٧٢،حديث نمبر ١٢٠٩)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی نماز میں شبہ کرے تو شبہ کو ختم کر کے یقین پر بنا کرے، اور جب نماز کے مکمل ہو جانے کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز پوری تھی تو جو رکعت زائد پڑھی وہ نفل ہو جائے گی، اور اگر ناقص تھی تو یہ رکعت نماز کو پوری کر دے گی، اور یہ دونوں سجدے شیطان کی تذلیل و تحقیر کے لیے ہوں گے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَرَجَعَ إِلَى الْيَقِينِ:نماز میں شک کی صورت میں یقینی بات پر عمل کرنے کا بیان:جلد٢ص٢٧٣،حديث نمبر ١٢١٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی، ہمیں یاد نہیں کہ آپ نے اس میں کچھ بیشی کر دی یا کمی کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کے بارے میں پوچھا تو ہم نے آپ سے اسے بیان کیا، آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور قبلہ کی جانب رخ کیا، اور دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں ضرور باخبر کرتا، میں تو ایک انسان ہوں، میں بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور تم میں سے جو بھی نماز میں شک کرے تو سوچے، اور جو صحیح کے قریب تر معلوم ہو اسی کے حساب سے نماز پوری کر کے سلام پھیرے، اور دو سجدے کرے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَتَحَرَّى الصَّوَابَ:جس شخص کو نماز میں شک ہو تو وہ سوچے اور غور کرے اور جو صحیح معلوم ہو اس پر عمل کرے:جلد٢ص٢٧٤،حديث نمبر ١٢١١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز میں شک کرے، تو سوچ کر صحیح کو معلوم کرے، پھر دو سجدے کرے“۔ طنافسی کہتے ہیں: یہی اصل ہے جس کو کوئی شخص رد نہیں کر سکتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَتَحَرَّى الصَّوَابَ:جس شخص کو نماز میں شک ہو تو وہ سوچے اور غور کرے اور جو صحیح معلوم ہو اس پر عمل کرے:جلد٢ص٢٧٤،حديث نمبر ١٢١٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو ذوالیدین نامی ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”نہ تو نماز کم ہوئی ہے نہ ہی میں بھولا ہوں“ حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: تب تو آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا حقیقت وہی ہے جو ذوالیدین کہتا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ آگے بڑھے اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کئے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: فِيمَنْ سَلَّمَ مِنْ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ سَاهِيًا:دوسری یا تیسری رکعت میں بھول کر سلام پھیر دے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٧٥،حديث نمبر ١٢١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء (یعنی زوال کے بعد کی دو نمازوں ظہر یا عصر) میں سے کوئی نماز دو ہی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جلد باز لوگ تو یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم ہو گئی، مقتدیوں میں ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکے، لوگوں میں ذوالیدین نامی ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تو وہ کم ہوئی، نہ میں بھولا ہوں“ تو انہوں نے کہا: آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ایسا ہی ہے جیسا کہ ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟“، تو لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: فِيمَنْ سَلَّمَ مِنْ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ سَاهِيًا:دوسری یا تیسری رکعت میں بھول کر سلام پھیر دے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٧٦،حديث نمبر ١٢١٤)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر میں تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر اٹھے اور حجرہ میں تشریف لے گئے، تو لمبے ہاتھوں والے خرباق (رضی اللہ عنہ) کھڑے ہوئے اور پکارا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، اور لوگوں سے پوچھا، تو اس کے بارے میں آپ کو خبر دی گئی، تو آپ نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: فِيمَنْ سَلَّمَ مِنْ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ سَاهِيًا:دوسری یا تیسری رکعت میں بھول کر سلام پھیر دے تو اس کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٧٨،حديث نمبر ١٢١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں آتا ہے، اور انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے زیادہ پڑھی یا کم پڑھی، جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے، پھر سلام پھیرے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلاَمِ:سلام سے پہلے سجدہ سہو کا بیان:جلد٢ص٢٧٨،حديث نمبر ١٢١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی؟ جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلاَمِ:سلام سے پہلے سجدہ سہو کا بیان:جلد٢ص٢٧٩،حديث نمبر ١٢١٧)
علقمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کئے، اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلاَمِ:سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٧٩،حديث نمبر ١٢١٨)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ہر سہو میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلاَمِ:سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کے حکم کا بیان:جلد٢ص٢٨٠،حديث نمبر ١٢١٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے اور آپ نے «الله أكبر» کہا، پھر لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، لوگ ٹھہرے رہے، پھر آپ گھر گئے اور غسل کر کے آئے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میں تمہارے پاس جنابت کی حالت میں نکل آیا تھا، اور غسل کرنا بھول گیا تھا یہاں تک کہ نماز کے لیے کھڑا ہو گیا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الصَّلاَةِ:نماز پر بنا کرنے کا بیان:جلد٢ص٢٨٠،حديث نمبر ١٢٢٠)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے نماز میں قے، نکسیر، منہ بھر کر پانی یا مذی آ جائے تو وہ لوٹ جائے، وضو کرے پھر اپنی نماز پر بنا کرے، لیکن اس دوران کسی سے کلام نہ کرے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الصَّلاَةِ:نماز پر بنا کرنے کا بیان:جلد٢ص٢٨١،حديث نمبر ١٢٢١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی شخص کو نماز میں حدث ہو جائے، تو اپنی ناک پکڑ لے اور چلا جائے“ ایک اور سند سے بھی ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أَحْدَثَ فِي الصَّلاَةِ كَيْفَ يَنْصَرِفُ:جس کو نماز میں حدث ہو جائے تو وہ مسجد سے کس حالت میں باہر جائے؟:جلد٢ص٢٨٢،حديث نمبر ١٢٢٢)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ناسور کی بیماری تھی، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْمَرِيضِ: بیمار کی نماز کا بیان:جلد٢ص٢٨٣،حديث نمبر ١٢٢٣)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے دائیں پہلو پر بیٹھ کر نماز پڑھی، اس وقت آپ بیمار تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْمَرِيضِ: بیمار کی نماز کا بیان:جلد٢ص٢٨٣،حديث نمبر ١٢٢٤)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کو قبض کیا، آپ وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ کو وہ نیک عمل انتہائی محبوب اور پسندیدہ تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابٌ في صَلاَةِ النَّافِلَةِ قَاعِدًا:نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٨٣،حديث نمبر ١٢٢٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (نفل نماز میں) بیٹھ کر قراءت کرتے تھے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں کوئی شخص چالیس آیتیں پڑھ لیتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابٌ في صَلاَةِ النَّافِلَةِ قَاعِدًا:نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٨٤،حديث نمبر ١٢٢٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ رات کی نماز کھڑے ہو کر پڑھتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی تو بیٹھ کر پڑھنے لگے، جب آپ کی قراءت سے چالیس یا تیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے (پھر رکوع) اور سجدے کرتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابٌ في صَلاَةِ النَّافِلَةِ قَاعِدًا:نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٨٥،حديث نمبر ١٢٢٧)
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، اور کبھی دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابٌ في صَلاَةِ النَّافِلَةِ قَاعِدًا:نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٨٥،حديث نمبر ١٢٢٨)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں (ثواب میں) آدھی ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: صَلاَةِ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاَةِ الْقَائِمِ: بیٹھ کر نماز پڑھنے میں آدھا ثواب ہے:جلد٢ص٢٨٦،حديث نمبر ١٢٢٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو کچھ لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں (ثواب میں) آدھی ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: صَلاَةِ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاَةِ الْقَائِمِ: بیٹھ کر نماز پڑھنے میں آدھا ثواب ہے:جلد٢ص٢٨٧،حديث نمبر ١٢٣٠)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ زیادہ بہتر ہے، اور جو بیٹھ کر نماز پڑھے تو اسے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے، اور جو شخص لیٹ کر نماز پڑھے تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: صَلاَةِ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاَةِ الْقَائِمِ: بیٹھ کر نماز پڑھنے میں آدھا ثواب ہے:جلد٢ص٢٨٨،حديث نمبر ١٢٣١)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے (ابومعاویہ نے کہا: جب آپ مرض کی گرانی میں مبتلا ہوئے) تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، اور نماز نہ پڑھا سکیں گے، لہٰذا اگر آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، (تو بہتر ہو) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ والیوں جیسی ہو“، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لیے نکلے، اور آپ کے پاؤں زمین پہ گھسٹ رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی آہٹ محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ ”اپنی جگہ پر رہو“ ان دونوں آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں پہلو میں بیٹھا دیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ:مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان:جلد٢ص٢٨٩،حديث نمبر ١٢٣٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو باہر نکلے، اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا: ”اپنی جگہ رہو“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ:مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان:جلد٢ص٢٨٩،حديث نمبر ١٢٣٣)
حضرت سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض الموت میں بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش میں آئے، تو آپ نے پوچھا: ”کیا نماز کا وقت ہو گیا؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا نماز کا وقت ہو گیا؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“ پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: ”کیا نماز کا وقت ہو گیا؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے والد نرم دل آدمی ہیں، جب اس جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، نماز نہ پڑھا سکیں گے، اگر آپ ان کے علاوہ کسی اور کو حکم دیتے (تو بہتر ہوتا)! پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: ”بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ والیوں جیسی ہو“ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا، تو انہوں نے اذان دی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو فرمایا: ”دیکھو کسی کو لاؤ جس پر میں ٹیک دے کر (مسجد جا سکوں) بریرہ رضی اللہ عنہا اور ایک شخص آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ٹیک لگایا، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ”اپنی جگہ پر رہو“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز پوری کی، پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وفات ہو گیا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، نصر بن علی کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت نہیں کیا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ:مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان:جلد٢ص٢٩٠،حديث نمبر ١٢٣٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی، اس وقت آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی (رضی اللہ عنہ) کو بلاؤ“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں بلاؤ“ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ نے فرمایا: ”بلا دو“، ام الفضل نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم عباس کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر ان لوگوں کی طرف دیکھا، اور خاموش رہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جاؤ ، پھر بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، پڑھنے میں ان کی زبان رک جاتی ہے، اور جب آپ کو نہ دیکھیں گے تو رونے لگیں گے، اور لوگ بھی رونا شروع کر دیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (تو بہتر ہو)، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے، اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں پر ٹیک دے کر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو آتے دیکھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو «سبحان الله» کہا، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں جانب بیٹھ گئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے رہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت وہاں سے شروع کی جہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے۔ وکیع نے کہا: یہی سنت ہے، راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی مرض میں انتقال ہو گیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ:مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان:جلد٢ص٢٩٢،حديث نمبر ١٢٣٥)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک سفر میں) پیچھے رہ گئے، اور ہم اس وقت لوگوں کے پاس پہنچے جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز مکمل کرنے کا اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا، ایسے ہی کیا کرو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِهِ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ایک امتی کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٩٣،حديث نمبر ١٢٣٦)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ آپ کی عیادت کے لیے اندر آئے، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اپنا سر اٹھاؤ، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ:امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے:جلد٢ص٢٩٤،حديث نمبر ١٢٣٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، تو آپ کے دائیں جانب خراش آ گئی، ہم آپ کی عیادت کے لیے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: ”امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے، تو تم لوگ «ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم سب لوگ سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب لوگ بیٹھ کر نماز پڑھو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ:امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے:جلد٢ص٢٩٥،حديث نمبر ١٢٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم بھی «ربنا ولك الحمد» کہو، اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ:امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے:جلد٢ص٢٩٦،حديث نمبر ١٢٣٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھے ہوئے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہہ رہے تھے تاکہ لوگ سن لیں، آپ ہماری جانب متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر ہماری جانب اشارہ کیا، ہم بیٹھ گئے، پھر ہم نے آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اس وقت تم فارس اور روم والوں کی طرح کرنے والے تھے کہ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں، لہٰذا تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو بیٹھ کر نماز پڑھو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ:امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے:جلد٢ص٢٩٦،حديث نمبر ١٢٤٠)
ابومالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے اور کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، تو کیا وہ لوگ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: بیٹے یہ نئی بات ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٩٦،حديث نمبر ١٢٤١)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے سے منع کر دیا گیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٩٧،حديث نمبر ١٢٤٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے رہے، اور عرب کے ایک قبیلہ (قبیلہ مضر پر) ایک مہینہ تک بد دعا کرتے رہے، پھر اسے آپ نے ترک کر دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٩٧،حديث نمبر ١٢٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين بمكة اللهم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم سنين كسني يوسف» ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور حال مسلمانوں کو نجات دیدے، اے اللہ! تو اپنی پکڑ قبیلہ مضر پر سخت کر دے، اور یوسف علیہ السلام کے عہد کے قحط کے سالوں کی طرح ان پر بھی قحط مسلط کر دے)۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ:نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٢٩٨،حديث نمبر ١٢٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا: سانپ کو اور بچھو کو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلاَةِ:دوران نماز سانپ اور بچھو مارنے کا بیان:جلد٢ص٢٩٩،حديث نمبر ١٢٤٥)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے نماز میں ڈنک مار دیا، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بچھو پر لعنت کرے کہ وہ نمازی و غیر نمازی کسی کو نہیں چھوڑتا، اسے حرم اور حرم سے باہر، ہر جگہ میں مار ڈالو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلاَةِ:دوران نماز سانپ اور بچھو مارنے کا بیان:جلد٢ص٢٩٩،حديث نمبر ١٢٤٦)
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں ایک بچھو کو مار ڈالا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلاَةِ:دوران نماز سانپ اور بچھو مارنے کا بیان:جلد٢ص٣٠٠،حديث نمبر ١٢٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں سے منع فرمایا، ایک فجر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج نکلنے تک، دوسرے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج ڈوب جانے تک۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَجْرِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ:فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت:جلد٢ص٣٠٠،حديث نمبر ١٢٤٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَجْرِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ:فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت:جلد٢ص٣٠١،حديث نمبر ١٢٤٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی اچھے لوگوں نے گواہی دی، ان میں میرے نزدیک سب زیادہ اچھے شخص عمر رضی اللہ عنہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: النَّهْيِ عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَجْرِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ:فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت:جلد٢ص٣٠١،حديث نمبر ١٢٥٠)
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: کیا کوئی وقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوسرے وقت سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، رات کا بیچ کا حصہ، لہٰذا اس میں جتنی نمازیں چاہتے ہو پڑھو، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جائے، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اور جب تک وہ ڈھال کے مانند رہے رکے رہو یہاں تک کہ وہ پوری طرح روشن ہو جائے، پھر جتنی نمازیں چاہتے ہو پڑھو یہاں تک کہ ستون کا اپنا اصلی سایہ رہ جائے، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اس لیے کہ دوپہر کے وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے، پھر عصر تک جتنی نماز چاہو پڑھو، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے اس لیے کہ اس کا نکلنا اور ڈوبنا شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي السَّاعَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاَةُ:جن اوقات میں نماز مکروہ ہے ان کا بیان:جلد٢ص٣٠٢،حديث نمبر ١٢٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھ رہا ہوں جسے آپ جانتے ہیں میں نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: رات اور دن میں کوئی وقت ایسا بھی ہے جس میں نماز مکروہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، جب تم نماز فجر پڑھ لو تو نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے، اس لیے کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، پھر نماز پڑھو اس میں فرشتے حاضر ہوں گے اور وہ قبول ہو گی، یہاں تک کہ سورج سیدھے سر پہ نیزے کی طرح آ جائے تو نماز چھوڑ دو کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے، اور اس کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ سورج تمہارے دائیں ابرو سے ڈھل جائے، لہٰذا جب سورج ڈھل جائے (تو نماز پڑھو) اس میں فرشتے حاضر ہوں گے اور وہ قبول ہو گی، یہاں تک کہ عصر پڑھ لو، پھر (عصر کے بعد) نماز چھوڑ دو یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي السَّاعَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاَةُ:جن اوقات میں نماز مکروہ ہے ان کا بیان:جلد٢ص٣٠٣،حديث نمبر ١٢٥٢)
ابوعبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے، یا فرمایا کہ سورج کے ساتھ وہ اس کی دونوں سینگیں نکلتی ہیں، جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سورج آسمان کے بیچ میں آتا ہے تو وہ اس سے مل جاتا ہے، پھر جب سورج ڈھل جاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے تو وہ اس سے مل جاتا ہے، پھر جب ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے، لہٰذا تم ان تین اوقات میں نماز نہ پڑھو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي السَّاعَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاَةُ:جن اوقات میں نماز مکروہ ہے ان کا بیان:جلد٢ص٣٠٤،حديث نمبر ١٢٥٣)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی عبدمناف! دن و رات کے جس وقت میں جو کوئی خانہ کعبہ کا طواف کرنا یا نماز پڑھنا چاہے اسے نہ روکو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الصَّلاَةِ بِمَكَّةَ فِي كُلِّ وَقْتٍ:مکہ میں ہر وقت نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان:جلد٢ص٣٠٥،حديث نمبر ١٢٥٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم لوگ ایسے لوگوں کو پاؤ گے، جو نماز بے وقت پڑھیں گے، اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو نماز اپنے گھر ہی میں وقت مقررہ پر پڑھ لو، پھر ان کے ساتھ بھی پڑھ لو اور اسے نفل بنا لو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا أَخَّرُوا الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا: جب ائمہ و حکمران نماز میں تاخیر کریں تو کیا کرنا چاہئے؟:جلد٢ص٣٠٦،حديث نمبر ١٢٥٥)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اس کے وقت پر پڑھو، اگر امام کو پاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لو، اگر تم نے نماز نہیں پڑھی ہے تو یہ تمہاری فرض نماز ہو گئی، ورنہ پھر یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا أَخَّرُوا الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا: جب ائمہ و حکمران نماز میں تاخیر کریں تو کیا کرنا چاہئے؟:جلد٢ص٣٠٦،حديث نمبر ١٢٥٦)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو کاموں میں مشغول رہیں گے، اور وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے (تو تم وقت پہ نماز پڑھ لو) اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا أَخَّرُوا الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا: جب ائمہ و حکمران نماز میں تاخیر کریں تو کیا کرنا چاہئے؟:جلد٢ص٣٠٧،حديث نمبر ١٢٥٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف کی (کیفیت) کے بارے میں فرمایا: ”امام اپنے ساتھ مجاہدین کی ایک جماعت کو نماز پڑھائے، اور وہ ایک رکعت ادا کریں، اور دوسری جماعت ان کے اور دشمن کے درمیان متعین رہے، پھر جس گروہ نے ایک رکعت اپنے امام کے ساتھ پڑھی وہ ہٹ کر اس جماعت کی جگہ چلی جائے جس نے نماز نہیں پڑھی، اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے وہ آئیں، اور اپنے امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں، اب امام تو اپنی نماز سے فارغ ہو جائے گا، اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک اپنی ایک ایک رکعت پڑھیں، اگر خوف و دہشت اس سے بھی زیادہ ہو، (صف بندی نہ کر سکتے ہوں) تو ہر شخص پیدل یا سواری پر نماز پڑھ لے“ ۱؎۔ راوی نے کہا کہ ”سجدہ“ سے مراد ”رکعت“ ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ: ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٠٨،حديث نمبر ١٢٥٨)
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نماز خوف کے بارے میں کہا: امام قبلہ رو کھڑا ہو، اور ایک جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہو، اور ایک جماعت دشمن کے سامنے اس طرح کھڑی ہو کہ ان کے رخ صف کی جانب ہوں، امام انہیں ایک رکعت پڑھائے، پھر وہ اسی جگہ میں امام سے علیحدہ اپنے لیے ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے کر کے دوسری رکعت پوری کریں، پھر یہ لوگ دوسری جماعت کی جگہ چلے جائیں، اب وہ جماعت آئے اور امام ان کو ایک رکوع اور دو سجدے سے نماز پڑھائے، امام کی نماز دو رکعت ہوئی، اور دوسری جماعت کی ابھی ایک ہی رکعت ہوئی، لہٰذا وہ لوگ ایک رکوع اور دو سجدے الگ الگ کر کے نماز پوری کر لیں ۱؎۔ محمد بن بشار کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے «شعبة عن عبدالرحمٰن بن القاسم عن أبيه عن صالح بن خوات عن سهل بن أبي حثمة» کے طریق سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ً یحییٰ بن سعید کی روایت کے مثل بیان کیا۔ محمد بن بشار کہتے ہیں کہ یحییٰ القطان نے مجھ سے کہا کہ اسے بھی اس کے پاس ہی لکھ لو اور مجھے تو حدیث یاد نہیں، لیکن یہ یحییٰ کی حدیث کے ہم مثل ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ: ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٠٩،حديث نمبر ١٢٥٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو صلاۃ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور اس صف نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے لوگ کھڑے رہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو ان لوگوں نے اپنے طور سے دو سجدے کئے، پھر پہلی صف پیچھے آ گئی اور وہاں جا کر کھڑی ہو گئی، جہاں یہ لوگ تھے، اور درمیان ہی سے یہ لوگ آگے بڑھ گئے اور ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، اور پچھلی صف ہٹ کر اگلی کی جگہ کھڑی ہو گئی، اب پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب لوگوں کے ساتھ رکوع کیا، اور آپ نے اور آپ سے قریبی صف نے سجدہ کیا، جب یہ صف سجدے سے فارغ ہو گئی تو دوسری صف نے اپنے دو سجدے کئے، اس طرح سب نے ایک رکوع اور دو سجدے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے، اور ہر جماعت نے دو سجدے اپنے اپنے طور پر کئے، اور دشمن قبلہ کے سامنے تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ: ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣١٠،حديث نمبر ١٢٦٠)
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک سورج و چاند کسی کے موت کی وجہ سے نہیں گہناتے ، لہٰذا جب تم اسے گہن میں دیکھو تو اٹھو، اور نماز پڑھو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ:سورج اور چاند گرہن کی نماز کا بیان:جلد٢ص٣١١،حديث نمبر ١٢٦١)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج میں گہن لگا تو آپ اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں آئے اور سورج روشن ہونے تک برابر نماز پڑھتے رہے، پھر فرمایا: ”کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سورج اور چاند کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے، بیشک سورج اور چاند کو کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے، بلکہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز پر اپنی تجلی کرتا ہے تو وہ عاجزی سے جھک جاتی ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ:سورج اور چاند گرہن کی نماز کا بیان:جلد٢ص٣١٢،حديث نمبر ١٢٦٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد گئے، اور کھڑے ہو کر «الله أكبر» کہا، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ نے لمبی قراءت کی، پھر «الله أكبر» کہا، اور دیر تک رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم تھی، پھر «الله أكبر» کہا، اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا، اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو چکا تھا، پھر آپ کھڑے ہوئے، خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی جس کا وہ مستحق ہے، پھر فرمایا: ”بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے، لہٰذا جب تم ان کو گہن میں دیکھو تو نماز کی طرف دوڑ پڑو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ:سورج اور چاند گرہن کی نماز کا بیان:جلد٢ص٣١٣،حديث نمبر ١٢٦٣)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گہن کی نماز پڑھائی، تو ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ:سورج اور چاند گرہن کی نماز کابیان:جلد٢ص٣١٤،حديث نمبر ١٢٦٤)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گہن کی نماز پڑھائی، اور کافی لمبا قیام کیا، پھر کافی لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو کافی لمبا قیام کیا، پھر کافی لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو کافی لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا، اور کافی لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جنت مجھ سے اتنی قریب ہو گئی کہ اگر میں چاہتا تو تمہارے پاس اس کے خوشوں (گچھوں) میں سے کوئی خوشہ (گچھا) لے کر آتا، اور جہنم بھی مجھ سے اتنی قریب ہو گئی کہ میں نے کہا: اے رب! (کیا لوگوں پر عذاب آ جائے گا) جبکہ میں ان کے درمیان موجود ہوں؟“۔ نافع کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ اس کو اس کی بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ اس عورت نے اسے باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی، نہ اس نے اسے کھلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ:سورج اور چاند گرہن کی نماز کابیان:جلد٢ص٣١٥،حديث نمبر ١٢٦٥)
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے کسی امیر نے مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کے متعلق پوچھنے کے لیے بھیجا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر نے مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھ لیا؟ پھر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی کے ساتھ سادہ لباس میں، خشوع خضوع کے ساتھ، آہستہ رفتار سے، گڑگڑاتے ہوئے (عید گاہ کی طرف) روانہ ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید کی طرح دو رکعت نماز پڑھائی، اور اس طرح خطبہ نہیں دیا جیسے تم دیتے ہو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الاِسْتِسْقَاءِ:نماز استسقا کا بیان:جلد٢ص٣١٦،حديث نمبر ١٢٦٦)
حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ کی جانب نماز استسقاء کے لیے نکلے، آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اپنی چادر کو پلٹا، اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ اس سند سے بھی عباد بن تمیم نے اپنے چچا (عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سفیان ثوری نے مسعودی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابوبکر بن محمد بن عمرو سے پوچھا کہ چادر کو کیسے پلٹا، کیا اوپر کا حصہ نیچے کر دیا، یا دائیں کو بائیں جانب کر دیا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ دائیں کو بائیں جانب کر لیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الاِسْتِسْقَاءِ:نماز استسقا کا بیان:جلد٢ص٣١٧،حديث نمبر ١٢٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز استسقاء پڑھنے کے لیے نکلے، تو بغیر اذان و اقامت کے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنا منہ قبلہ کی طرف کیا، پھر اپنی چادر پلٹی تو دایاں جانب بائیں کندھے پر اور بایاں جانب دائیں کندھے پر کر لیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الاِسْتِسْقَاءِ:نماز استسقا کا بیان:جلد٢ص٣١٩،حديث نمبر ١٢٦٨)
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب بن مرہ! آپ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کیجئیے اور احتیاط برتئے، تو انہوں نے کہا: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے بارش مانگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا: «اللهم اسقنا غيثا مريئا مريعا طبقا عاجلا غير رائث نافعا غير ضار» ”اے اللہ! ہم پر اچھے انجام والی، سبزہ اگانے والی، زمین کو بھر دینے والی، جلد برسنے والی، تھم کر نہ برسنے والی، فائدہ دینے والی اور نقصان نہ پہنچانے والی بارش برسا“ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ابھی نماز جمعہ سے ہم فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ بارش ہونے لگی اور مسلسل ہوتی رہی، بالآخر پھر لوگ آپ کے پاس آئے، اور بارش کی کثرت کی شکایت کی اور کہا اللہ کے رسول! مکانات گر گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا فرمائی «اللهم حوالينا ولا علينا» ”اے اللہ! بارش ہمارے اردگرد میں ہو ہم پر نہ ہو“، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا تھا کہ بادل دائیں اور بائیں پھٹنے لگا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:استسقا کی دعا کا بیان:جلد٢ص٣٢٠،حديث نمبر ١٢٦٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس ایک ایسی قوم کے پاس سے آیا ہوں جس کے کسی چرواہے کے پاس توشہ (کھانے پینے کی چیزیں) نہیں، اور کوئی بھی نر جانور (کمزوری دبلے پن کی وجہ سے) دم تک نہیں ہلاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر یوں دعا فرمائی: «اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا طبقا مريعا غدقا عاجلا غير رائث» ”اے اللہ! ہمیں سیراب کر دینے والا، فائدہ دینے والا، ساری زمین پر برسنے والا، سبزہ اگانے والا، زور کا برسنے والا، جلد برسنے والا اور تھم کر نہ برسنے والا پانی نازل فرما“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر گئے، اس کے بعد جو بھی جس کسی سمت سے آتا وہ یہی کہتا کہ ہمیں زندگی عطا ہو گئی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:استسقا کی دعا کا بیان:جلد٢ص٣٢١،حديث نمبر ١٢٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا مانگی یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، یا یوں کہا کہ یہاں تک کہ آپ کی بغل کی سفیدی دکھائی دی۔ معتمر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ استسقاء کے بارے میں ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:استسقا کی دعا کا بیان:جلد٢ص٣٢٢،حديث نمبر ١٢٧١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو منبر پہ دیکھتا تھا، تو اکثر مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آ جاتا تھا، آپ ابھی منبر سے اترے بھی نہیں کہ مدینہ کے ہر پر نالہ میں پانی زور سے بہنے لگا، وہ شعر یہ ہے: وہ سفید فام شخصیت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جس کے چہرے کے وسیلے سے بادل سے بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کا نگہبان، بیواؤں کا محافظ۔ یہ ابوطالب کا کلام ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:استسقا کی دعا کا بیان:جلد٢ص٣٢٣،حديث نمبر ١٢٧٢)
عطاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے نماز ادا کی، پھر خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ عورتوں تک آواز نہیں پہنچ سکی ہے لہٰذا آپ ان کے پاس آئے، ان کو (بھی) وعظ و نصیحت کی، اور انہیں صدقہ و خیرات کا حکم دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا دامن پھیلائے ہوئے تھے جس میں عورتیں اپنی بالیاں، انگوٹھیاں اور دیگر سامان ڈالنے لگیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:عیدین کی نماز کا بیان:جلد٢ص٣٢٤،حديث نمبر ١٢٧٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:عیدین کی نماز کا بیان:جلد٢ص٣٢٤،حديث نمبر ١٢٧٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (گورنر) مروان عید کے دن (عید گاہ) منبر لے گئے، اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت عمل کیا، عید کے دن منبر لے آئے، جب کہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا، اور آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا جب کہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا تھا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص خلاف شرع کام ہوتے ہوئے دیکھے اور اپنے ہاتھ سے اسے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر زبان سے بھی کچھ نہ کہہ سکتا ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:عیدین کی نماز کا بیان:جلد٢ص٣٢٥،حديث نمبر ١٢٧٥)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما عید کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:عیدین کی نماز کا بیان:جلد٢ص٣٢٥،حديث نمبر ١٢٧٦)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُكَبِّرُ الإِمَامُ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟:جلد٢ص٣٢٦،حديث نمبر ١٢٧٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید میں سات اور پانچ تکبیریں کہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُكَبِّرُ الإِمَامُ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟:جلد٢ص٣٢٦،حديث نمبر ١٢٧٨)
حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُكَبِّرُ الإِمَامُ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟:جلد٢ص٣٢٧،حديث نمبر ١٢٧٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی اور عید الفطر میں رکوع کی تکبیروں کے علاوہ سات اور پانچ تکبیریں کہیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُكَبِّرُ الإِمَامُ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟:جلد٢ص٣٢٧،حديث نمبر ١٢٨٠)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:نماز عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٣٢٨،حديث نمبر ١٢٨١)
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن نکلے تو ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے انہوں نے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن نماز عید میں کون سی سورۃ پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا: سورۃ «قٓ» اور «اقتربت الساعۃ» ۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:نماز عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٣٢٩،حديث نمبر ١٢٨٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں: «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:نماز عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان:جلد٢ص٣٢٩،حديث نمبر ١٢٨٣)
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوکاہل رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا، میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوکاہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ:عیدین میں خطبے کا بیان:جلد٢ص٣٣٠،حديث نمبر ١٢٨٤)
حضرت قیس بن عائذ رضی اللہ عنہ (ابوکاہل) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خوبصورت اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ:عیدین میں خطبے کا بیان:جلد٢ص٣٣٠،حديث نمبر ١٢٨٥)
حضرت نبیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حج کیا اور کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ:عیدین میں خطبے کا بیان:جلد٢ص٣٣١،حديث نمبر ١٢٨٦)
حضرت سعد مؤذن کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے درمیان تکبیر کہتے تھے، اور عیدین کے خطبہ کے دوران کثرت سے تکبیریں پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ:عیدین میں خطبے کا بیان:جلد٢ص٣٣١،حديث نمبر ١٢٨٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت پڑھاتے، پھر سلام پھیرتے، اور اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر لوگوں کی جانب رخ کرتے، اور لوگ بیٹھے رہتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”لوگو! صدقہ کرو، صدقہ کرو، زیادہ صدقہ عورتیں دیتیں، کوئی بالی ڈالتی، کوئی انگوٹھی اور کوئی کچھ اور، اگر آپ کو لشکر بھیجنا ہوتا تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے، ورنہ تشریف لے جاتے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ:عیدین میں خطبے کا بیان:جلد٢ص٣٣١،حديث نمبر ١٢٨٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر یا عید الاضحی میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر تھوڑی دیر بیٹھے، پھر کھڑے ہو گئے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ:عیدین میں خطبے کا بیان:جلد٢ص٣٣٢،حديث نمبر ١٢٨٩)
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر ہوا، تو آپ نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”ہم نماز ادا کر چکے، لہٰذا جو شخص خطبہ کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے، اور جو جانا چاہے جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي انْتِظَارِ الْخُطْبَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ:نماز کے بعد خطبہ کا انتظار کرنا ضروری ہے یا نہیں؟:جلد٢ص٣٣٣،حديث نمبر ١٢٩٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف گئے تو آپ نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، اور اس سے پہلے یا بعد کوئی اور نماز نہ پڑھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا:عید سے پہلے اور اس کے بعد نماز پڑھنا کیسا ہے؟:جلد٢ص٣٣٣،حديث نمبر ١٢٩١)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید میں عید سے پہلے یا بعد کوئی بھی نماز نہیں پڑھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا:عید سے پہلے اور اس کے بعد نماز پڑھنا کیسا ہے؟:جلد٢ص٣٣٣،حديث نمبر ١٢٩٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے پہلے کچھ بھی نہیں پڑھتے تھے، جب اپنے گھر واپس لوٹتے تو دو رکعت پڑھتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا:عید سے پہلے اور اس کے بعد نماز پڑھنا کیسا ہے؟:جلد٢ص٣٣٤،حديث نمبر ١٢٩٣)
حضرت سعد مؤذن سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا:عید کے لیے عیدگاہ پیدل چل کر جانے کا بیان:جلد٢ص٣٣٤،حديث نمبر ١٢٩٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل جاتے، اور پیدل ہی واپس آتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا:عید کے لیے عیدگاہ پیدل چل کر جانے کا بیان:جلد٢ص٣٣٥،حديث نمبر ١٢٩٥)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ لوگ عید کی نماز کے لیے پیدل چل کر جائیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا:عید کے لیے عیدگاہ پیدل چل کر جانے کا بیان:جلد٢ص٣٣٥،حديث نمبر ١٢٩٦)
ابورافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کے لیے پیدل چل کر آتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا:عید کے لیے عیدگاہ پیدل چل کر جانے کا بیان:جلد٢ص٣٣٥،حديث نمبر ١٢٩٧)
مؤذن رسول حضرت سعد القرظ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کی نماز کے لیے نکلتے تو سعید بن ابی العاص کے مکان سے گزرتے، پھر خیمہ والوں کی طرف تشریف لے جاتے، پھر دوسرے راستے سے واپس ہوتے، اور قبیلہ بنی زریق کے راستے سے عمار بن یاسر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے مکانات کو پار کرتے ہوئے مقام بلاط پر تشریف لے جاتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ يَوْمَ الْعِيدِ مِنْ طَرِيقٍ وَالرُّجُوعِ مِنْ غَيْرِهِ:عید کے دن ایک راستے سے عیدگاہ جانے اور دوسرے راستے سے واپس آنے کا بیان:جلد٢ص٣٣٦،حديث نمبر ١٢٩٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عید کے لیے ایک راستے سے جاتے، اور دوسرے راستے سے واپس آتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ يَوْمَ الْعِيدِ مِنْ طَرِيقٍ وَالرُّجُوعِ مِنْ غَيْرِهِ:عید کے دن ایک راستے سے عیدگاہ جانے اور دوسرے راستے سے واپس آنے کا بیان:جلد٢ص٣٣٦،حديث نمبر ١٢٩٩)
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور اس راستہ کے سوا دوسری راستہ سے لوٹتے تھے جس سے پہلے آئے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ يَوْمَ الْعِيدِ مِنْ طَرِيقٍ وَالرُّجُوعِ مِنْ غَيْرِهِ:عید کے دن ایک راستے سے عیدگاہ جانے اور دوسرے راستے سے واپس آنے کا بیان:جلد٢ص٣٣٧،حديث نمبر ١٣٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کے لیے نکلتے تو اس راستہ کے سوا دوسرے راستہ سے لوٹتے جس سے شروع میں آئے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ يَوْمَ الْعِيدِ مِنْ طَرِيقٍ وَالرُّجُوعِ مِنْ غَيْرِهِ:عید کے دن ایک راستے سے عیدگاہ جانے اور دوسرے راستے سے واپس آنے کا بیان:جلد٢ص٣٣٧،حديث نمبر ١٣٠١)
عامر شعبی کہتے ہیں کہ حضرت عیاض اشعری نے شہر انبار میں عید کی اور کہا: کیا بات ہے کہ میں تم کو اس طرح دف بجاتے نہیں دیکھ رہا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بجایا،جاتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّقْلِيسِ يَوْمَ الْعِيدِ:عید کے دن دف بجانے کا بیان:جلد٢ص٣٣٨،حديث نمبر ١٣٠٢)
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنی چیزیں تھیں، وہ سب میں نے دیکھیں سوائے ایک چیز کے، وہ یہ کہ عید الفطر کے روز آپ کے لیے گانا بجانا ہوتا تھا۔ ان سندوں سے بھی عامر شعبی سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّقْلِيسِ يَوْمَ الْعِيدِ:عید کے دن دف بجانے کا بیان:جلد٢ص٣٣٩،حديث نمبر ١٣٠٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن عید گاہ کی جانب صبح جاتے، اور آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا، جب آپ عید گاہ پہنچ جاتے تو آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز عید پڑھاتے، اس لیے کہ عید گاہ ایک کھلا میدان تھا اس میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے نماز کے لیے سترہ بنایا جاتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحَرْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ:عید کے دن (عیدگاہ میں) نیزہ لے جانے کا بیان:جلد٢ص٣٣٩،حديث نمبر ١٣٠٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید یا کسی اور دن جب (میدان میں) نماز پڑھتے تو نیزہ آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔ نافع کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے امراء نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحَرْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ:عید کے دن (عیدگاہ میں) نیزہ لے جانے کا بیان:جلد٢ص٣٤٠،حديث نمبر ١٣٠٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں عید کی نماز نیزہ کو سترہ بنا کے ادا فرمائی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْحَرْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ:عید کے دن (عیدگاہ میں) نیزہ لے جانے کا بیان:جلد٢ص٣٤٠،حديث نمبر ١٣٠٦)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عورتوں کو عیدین میں لے جائیں، ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو (کیا کرے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی ساتھ والی اسے اپنی چادر اڑھا دے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ:عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان:جلد٢ص٣٤١،حديث نمبر ١٣٠٧)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری اور پردہ نشیں عورتوں کو عید گاہ لے جاؤ تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز کی جگہ سے الگ بیٹھیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ:عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان:جلد٢ص٣٤١،حديث نمبر ١٣٠٨)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو عیدین میں عید گاہ لے جاتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ:عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان:جلد٢ص٣٤٢،حديث نمبر ١٣٠٩)
ایاس بن ابورملہ شامی کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی ایک ہی دن دو عید میں حاضر رہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس آدمی نے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید پڑھائی پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا: ”جو پڑھنا چاہے پڑھے“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدَانِ فِي يَوْمٍ:عید اور جمعہ ایک دن اکٹھا ہو جائیں تو کیسے کرے؟:جلد٢ص٣٤٢،حديث نمبر ١٣١٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے آج کے دن میں دو عیدیں جمع ہوئی ہیں، لہٰذا جو جمعہ نہ پڑھنا چاہے اس کے لیے عید کی نماز ہی کافی ہے، اور ہم تو ان شاءاللہ جمعہ پڑھنے والے ہیں“۔ ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدَانِ فِي يَوْمٍ:عید اور جمعہ ایک دن اکٹھا ہو جائیں تو کیسے کرے؟:جلد٢ص٣٤٢،حديث نمبر ١٣١١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو عیدیں (عید اور جمعہ) اکٹھا ہو گئیں، تو آپ نے لوگوں کو عید پڑھائی، پھر فرمایا ”جو جمعہ کے لیے آنا چاہے آئے، اور جو نہ چاہے نہ آئے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدَانِ فِي يَوْمٍ:عید اور جمعہ ایک دن اکٹھا ہو جائیں تو کیسے کرے؟:جلد٢ص٣٤٤،حديث نمبر ١٣١٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عید کے دن بارش ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید مسجد ہی میں پڑھائی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ إِذَا كَانَ مَطَرٌ:بارش کی وجہ سے نماز عید مسجد میں پڑھنے کا بیان۔:جلد٢ص٣٤٥،حديث نمبر ١٣١٣)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی شہروں میں عیدین کے دنوں میں ہتھیار باندھ کر جانے سے منع فرمایا، الا یہ کہ دشمن کا سامنا ہو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي لُبْسِ السِّلاَحِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ:عید کے دن ہتھیار بند ہونے کا حکم:جلد٢ص٣٤٦،حديث نمبر ١٣١٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الاِغْتِسَالِ فِي الْعِيدَيْنِ:عیدین میں غسل کرنے کا بیان:جلد٢ص٣٤٦،حديث نمبر ١٣١٥)
فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر، عید الاضحی اور عرفہ کے دن غسل فرمایا کرتے تھے اور فاکہ رضی اللہ عنہ اپنے اہل و عیال کو ان دنوں میں غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الاِغْتِسَالِ فِي الْعِيدَيْنِ:عیدین میں غسل کرنے کا بیان:جلد٢ص٣٤٧،حديث نمبر ١٣١٦)
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے تو امام کے تاخیر کرنے پر ناگواری کا اظہار کیا، اور کہنے لگے کہ ہم لوگ تو اس وقت عیدین کی نماز سے فارغ ہو جایا کرتے تھے، اور وہ وقت کراہت کے گزرنے کے بعد نماز الضحی (چاشت کی نفل) کا وقت ہوتا تھا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابٌ في وَقْتِ صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ: عیدین کی نماز کے وقت کا بیان:جلد٢ص٣٤٨،حديث نمبر ١٣١٧)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نفل نماز دو دو رکعت پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ: تہجد (قیام اللیل) دو دو رکعت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٤٨،حديث نمبر ١٣١٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ: تہجد (قیام اللیل) دو دو رکعت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٤٨،حديث نمبر ١٣١٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو رکعت پڑھے، جب طلوع فجر کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ: تہجد (قیام اللیل) دو دو رکعت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٤٨،حديث نمبر ١٣٢٠)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں (نفل) نماز دو دو رکعت پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ: تہجد (قیام اللیل) دو دو رکعت پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٤٩،حديث نمبر ١٣٢١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو رکعت ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى:رات اور دن کی (نفلی) نماز دو دو رکعت ہے:جلد٢ص٣٤٩،حديث نمبر ١٣٢٢)
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن نماز الضحیٰ (چاشت کی نماز) آٹھ رکعت پڑھی، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى:رات اور دن کی (نفلی) نماز دو دو رکعت ہے:جلد٢ص٣٥٠،حديث نمبر ١٣٢٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر دو رکعت پر سلام ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى:رات اور دن کی (نفلی) نماز دو دو رکعت ہے:جلد٢ص٣٥١،حديث نمبر ١٣٢٤)
مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، اور اللہ کے سامنے اپنی محتاجی و مسکینی ظاہر کرنا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا، اور کہنا ہے کہ اے اللہ! مجھ کو بخش دے، جو کوئی ایسا نہ کرے (یعنی اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر نہ کرے تو) اس کی نماز ناقص ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى:رات اور دن کی (نفلی) نماز دو دو رکعت ہے:جلد٢ص٣٥٢،حديث نمبر ١٣٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اور (اس کی راتوں میں) قیام کیا، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِيامِ شَهْرِ رَمَضَانَ:ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان:جلد٢ص٣٥٢،حديث نمبر ١٣٢٦)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے کسی بھی رات ہمارے ساتھ نماز تراویح نہ ادا فرمائی، یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں، تو ساتویں (یعنی تیئیسویں) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات تہائی کے قریب گزر گئی، پھر اس کے بعد چھٹی (یعنی چوبیسویں) رات کو جو اس کے بعد آتی ہے، آپ نے قیام نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے بعد والی پانچویں یعنی (پچیسویں) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ رات آدھی کے قریب گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ باقی رات بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، تو وہ ساری رات کے قیام کے برابر ہے، پھر جب اس کے بعد والی چوتھی (یعنی چھبیسویں) رات آئی تو آپ نے اس میں قیام نہیں کیا، جب اس کے بعد والی تیسری (یعنی ستائیسویں) رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور گھر والوں کو جمع کیا، اور لوگ بھی جمع ہوئے،حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ہم سے «فلاح» فوت نہ ہو جائے، ان سے پوچھا گیا: «فلاح» کیا ہے؟ کہا: سحری: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے باقی دنوں میں تراویح باجماعت نہیں پڑھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِيامِ شَهْرِ رَمَضَانَ:ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان:جلد٢ص٣٥٢،حديث نمبر ١٣٢٧)
نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے، جو آپ نے رمضان سے متعلق اپنے والد سے سنی ہو، ابوسلمہ نے کہا: ہاں، میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: ”وہ ایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کے روزے کو فرض قرار دیا ہے، اور میں نے اس کے قیام اللیل کو تمہارے لیے مسنون قرار دیا ہے، لہٰذا جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس مہینے میں روزے رکھے، اور راتوں میں نفل پڑھے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِيامِ شَهْرِ رَمَضَانَ:ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان:جلد٢ص٣٥٥،حديث نمبر ١٣٢٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص کی گدی پر رات میں شیطان رسی سے تین گرہیں لگا دیتا ہے، اگر وہ بیدار ہوا اور اللہ کو یاد کیا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب اٹھ کر وضو کیا تو ایک گرہ اور کھل جاتی ہے، پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوا تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں، اس طرح وہ چست اور خوش دل ہو کر صبح کرتا ہے، جیسے اس نے بہت ساری بھلائی حاصل کر لی ہو، اور اگر ایسا نہ کیا تو سست اور بری حالت میں صبح کرتا ہے، جیسے اس نے کوئی بھی بھلائی حاصل نہیں کی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ: تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٥٥،حديث نمبر ١٣٢٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح تک سوتا رہا، آپ نے فرمایا: ”شیطان نے اس شخص کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ: تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٥٦،حديث نمبر ١٣٣٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا جو رات میں تہجد پڑھتا تھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ: تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٥٦،حديث نمبر ١٣٣١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان بن داود علیہما السلام کی ماں نے سلیمان سے کہا: بیٹے! تم رات میں زیادہ نہ سویا کرو اس لیے کہ رات میں بہت زیادہ سونا آدمی کو قیامت کے دن فقیر کر دے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ: تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٥٦،حديث نمبر ١٣٣٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات میں زیادہ نمازیں پڑھے گا، دن میں اس کے چہرے سے نور ظاہر ہو گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ: تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٥٨،حديث نمبر ١٣٣٣)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں، تو لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کے لیے میں بھی آیا، جب میں نے کوشش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا، تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے، پہلی بات آپ نے جو کہی وہ یہ تھی کہ ”لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، اور رات کو نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوں، تب تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ: تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٦٠،حديث نمبر ١٣٣٤)
حضرت ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی رات میں بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے، اور دونوں دو رکعت نماز پڑھیں، تو وہ دونوں «ذاکرین» (اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے) اور «ذاکرات» (کثرت سے یاد کرنے والیوں) میں سے لکھے جائیں گے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أَيْقَظَ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ: (عبادت کے لیے) رات میں بیوی کو جگانے کا بیان۔:جلد٢ص٣٦٠،حديث نمبر ١٣٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوا، اور نماز پڑھی، اور اپنی بیوی کو بھی جگایا، اس نے نماز پڑھی، اگر نہ اٹھی تو اس کے چہرہ پہ پانی چھڑکا، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوئی، پھر اس نے نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا، اس نے بھی نماز پڑھی اگر نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ أَيْقَظَ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ: (عبادت کے لیے) رات میں بیوی کو جگانے کا بیان۔:جلد٢ص٣٦١،حديث نمبر ١٣٣٦)
عبدالرحمٰن بن سائب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے، وہ نابینا ہو گئے تھے، میں نے ان کو سلام کیا، تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں (اپنے بارے میں) بتایا: تو انہوں نے کہا: بھتیجے! تمہیں مبارک ہو، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم قرآن اچھی آواز سے پڑھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”یہ قرآن غم کے ساتھ اترا ہے لہٰذا جب تم قرآن پڑھو، تو رؤو، اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف رؤو، اور قرآن پڑھتے وقت اسے اچھی آواز کے ساتھ پڑھو، جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابٌ في حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔:جلد٢ص٣٦٢،حديث نمبر ١٣٣٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں دیر کر دی، جب میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہاں تھیں؟“ میں نے کہا: آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی تلاوت سن رہی تھی، ویسی تلاوت اور ویسی آواز میں نے کسی سے نہیں سنی، یہ سنتے ہی آپ کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوئی، آپ نے اس شخص کی قراءت سنی، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے، اور فرمایا: ”یہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسا شخص پیدا کیا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابٌ في حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔:جلد٢ص٣٦٣،حديث نمبر ١٣٣٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابٌ في حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔:جلد٢ص٣٦٤،حديث نمبر ١٣٣٩)
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ خوش الحان شخص کا قرآن اس سے زیادہ متوجہ ہو کر سنتا ہے جتنا کہ گانا سننے والا اپنی توجہ گانے والی کی طرف لگاتا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابٌ في حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔:جلد٢ص٣٦٥،حديث نمبر ١٣٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی قراءت سنی تو پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ عرض کیا گیا: عبداللہ بن قیس ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں داؤد (علیہ السلام) کی خوش الحانی میں سے حصہ ملا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابٌ في حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔:جلد٢ص٣٦٥،حديث نمبر ١٣٤١)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابٌ في حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔:جلد٢ص٣٦٥،حديث نمبر ١٣٤٢)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا پورا وظیفہ (ورد) یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر سو جائے، اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کو ایسا لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ نَامَ عَنْ جُزْئِهِ مِنَ اللَّيْلِ:جو کوئی رات کا مقررہ وظیفہ یا ورد پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟:جلد٢ص٣٦٧،حديث نمبر ١٣٤٣)
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بستر پہ آئے، اور ارادہ رکھتا ہو کہ رات میں اٹھ کر نماز پڑھے گا، پھر اسے ایسی نیند آئی کہ صبح ہو گئی، تو اس کا ثواب اس کی نیت کے مطابق لکھا جائے گا، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ نَامَ عَنْ جُزْئِهِ مِنَ اللَّيْلِ:جو کوئی رات کا مقررہ وظیفہ یا ورد پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟:جلد٢ص٣٦٨،حديث نمبر ١٣٤٤)
حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کے ایک وفد میں آئے، تو لوگوں نے قریش کے حلیفوں کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس اتارا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مالک کو اپنے ایک خیمہ میں اتارا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے، اور کھڑے کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پر بدل بدل کر کھڑے رہتے، اور اکثر وہ حالات بیان کرتے جو اپنے خاندان قریش سے آپ کو پیش آئے تھے، اور فرماتے: ”ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم کمزور اور بے حیثیت تھے، لیکن جب ہم مدینہ آئے تو لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا، ہم ان کے اوپر ڈول نکالتے اور وہ ہمارے اوپر ڈول نکالتے“ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت مقررہ پر آنے میں تاخیر کی؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے آج رات تاخیر کی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا قرآن کا وظیفہ پڑھنے سے رہ گیا تھا، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو پورا کئے بغیر نکلوں“۔ اوس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا: آپ لوگ قرآن کے وظیفے کیسے مقرر کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: پہلا حزب تین سورتوں کا (بقرہ، آل عمران اور نساء) دوسرا حزب پانچ سورتوں کا (مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور براءۃ)، تیسرا حزب سات سورتوں کا (یونس، ہود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر اور نمل)، چوتھا حزب نو سورتوں کا (بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہٰ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان)، پانچواں حزب گیارہ سورتوں کا (شعراء، نحل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین)، اور چھٹا حزب تیرہ سورتوں کا (صافات، ص، زمر، ساتوں حوامیم، محمد، فتح اور حجرات)، اور ساتواں حزب مفصل کا (سورۃ ق سے آخر قرآن تک)۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُسْتَحَبُّ يُخْتَمُ الْقُرْآنُ:قرآن مجید کو کتنے دن میں ختم کرنا مستحب ہے؟:جلد٢ص٣٦٩،حديث نمبر ١٣٤٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے قرآن حفظ کیا، اور پورا قرآن ایک ہی رات میں پڑھنے کی عادت بنا لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ڈر ہے کہ کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد تم اکتا جاؤ گے، لہٰذا تم اسے ایک مہینے میں پڑھا کرو“ میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو دس دن میں پڑھا کرو“ میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے تو سات دن میں پڑھا کرو“ میں نے کہا: مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُسْتَحَبُّ يُخْتَمُ الْقُرْآنُ:قرآن مجید کو کتنے دن میں ختم کرنا مستحب ہے؟:جلد٢ص٣٧٠،حديث نمبر ١٣٤٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا، اس نے سمجھ کر نہیں پڑھا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُسْتَحَبُّ يُخْتَمُ الْقُرْآنُ:قرآن مجید کو کتنے دن میں ختم کرنا مستحب ہے؟:جلد٢ص٣٧١،حديث نمبر ١٣٤٧)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رات میں پورا قرآن پڑھا ہو۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُسْتَحَبُّ يُخْتَمُ الْقُرْآنُ:قرآن مجید کو کتنے دن میں ختم کرنا مستحب ہے؟:جلد٢ص٣٧١،حديث نمبر ١٣٤٨)
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اپنے گھر کی چھت پہ لیٹی ہوئی سنتی رہتی تھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ:تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان۔:جلد٢ص٣٧٢،حديث نمبر ١٣٤٩)
جسرۃ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے، اور وہ آیت یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» ”اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو بخش دے، تو تو عزیز (غالب)، اور حکیم (حکمت والا) ہے“ (سورة المائدة: 118)۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ:تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان۔:جلد٢ص٣٧٢،حديث نمبر ١٣٥٠)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، اور عذاب کی آیت آتی تو اس سے پناہ مانگتے، اور جب کوئی ایسی آیت آتی جس میں اللہ تعالیٰ کی پاکی ہوتی تو تسبیح کہتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ:تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان۔:جلد٢ص٣٧٣،حديث نمبر ١٣٥١)
حضرت ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی، آپ رات میں نفل نماز پڑھ رہے تھے، جب عذاب کی آیت سے گزرے تو فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور تباہی ہے جہنمیوں کے لیے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ:تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان۔:جلد٢ص٣٧٣،حديث نمبر ١٣٥٢)
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ:تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان۔:جلد٢ص٣٧٤،حديث نمبر ١٣٥٣)
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے یا آہستہ؟ انہوں نے کہا: کبھی بلند آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ، میں نے کہا: اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ:تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان۔:جلد٢ص٣٧٤،حديث نمبر ١٣٥٤)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت مالك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت الحق ووعدك حق ولقاؤك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرك ولا حول ولا قوة إلا بك» اے اللہ! حمد تیرے لیے تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کو روشن کرنے والا ہے، حمد تیرے لیے ہے تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز قائم کرنے والا ہے، حمد تیرے لیے ہے تو آسمان و زمین اور ان میں موجود ہر چیز کا مالک ہے، حمد تیرے لیے ہے تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے ،تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے ،تمام نبی حق ہیں اور حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) حق ہیں اے اللہ!میں تیرے لیے اسلام لایا اور میں تجھ پر ایمان لایا اور میں نے تجھ ہی پر توکل کیا تیری طرف ر جوع کرتا ہوں تیری مدد سے جنگ کرتا ہوں تجھے حاکم تسلیم کرتا ہوں اور تو میرے تمام گزشتہ اور آئندہ خفیہ اور اعلانیہ ذنب کی مغفرت کر دے بے شک تو آگے لانے والا ہے اور تو پیچھے کرنے والا ہے صرف تو ہی معبود ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں اور تیری مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنَ اللَّيْلِ': رات میں آدمی جاگے تو کیا دعا پڑھے؟:جلد٢ص٣٧٥،حديث نمبر ١٣٥٥)
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر»، دس مرتبہ «الحمد لله»، دس مرتبہ «سبحان الله»، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» ”اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق دے، اور مجھے عافیت دے“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے)۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنَ اللَّيْلِ': رات میں آدمی جاگے تو کیا دعا پڑھے؟:جلد٢ص٣٧٦،حديث نمبر ١٣٥٦)
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں قیام کرتے تو کس دعا سے اپنی نماز شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم رب جبرئيل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك لتهدي إلى صراط مستقيم» ”اے اللہ! جبرائیل، ۱؎ میکائیل، اور اسرافیل کے رب، آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافی امور میں فیصلہ کرتا ہے، تو اپنے حکم سے اختلافی امور میں مجھے حق کی راہنمائی فرما، بیشک تو ہی راہ راست کی راہنمائی فرماتا ہے۔ عبدالرحمٰن بن عمر کہتے ہیں: یاد رکھو جبرائیل ہمزہ کے ساتھ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی منقول ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنَ اللَّيْلِ': رات میں آدمی جاگے تو کیا دعا پڑھے؟:جلد٢ص٣٧٧،حديث نمبر ١٣٥٧)
المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان رکعتوں میں سجدہ اتنا طویل کرتے کہ کوئی سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، اور جب مؤذن صبح کی پہلی اذان سے فارغ ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ: تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟:جلد٢ص٣٧٨،حديث نمبر ١٣٥٨)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ: تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟:جلد٢ص٣٧٨،حديث نمبر ١٣٥٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نو رکعتیں پڑھتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ: تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟:جلد٢ص٣٨٠،حديث نمبر ١٣٦٠)
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے کہا: تیرہ رکعت، ان میں آٹھ رکعت (تہجد کی ہوتی) اور تین رکعت وتر ہوتی، اور دو رکعت فجر کے بعد کی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ: تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟:جلد٢ص٣٨٠،حديث نمبر ١٣٦١)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جی میں کہا کہ میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا، میں نے آپ کی چوکھٹ یا خیمہ پر ٹیک لگا لیا، آپ کھڑے ہوئے، آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں کافی لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے کچھ ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر ادا کی تو یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ: تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟:جلد٢ص٣٨١،حديث نمبر ١٣٦٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس سوئے، وہ کہتے ہیں: میں تکیہ کی چوڑان میں لیٹا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی اس کی لمبائی میں لیٹے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ وقت گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، اور نیند کو زائل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اپنے چہرہ مبارک پر پھیرنے لگے، پھر سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، اس کے بعد ایک لٹکی ہوئی مشک کے پاس گئے، اور اس سے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا، اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، پھر میں گیا، اور آپ کی بغل میں کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا، اور میرے دائیں کان کو ملتے رہے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پھر وتر ادا کی، پھر لیٹ گئے، جب مؤذن آیا تو دو ہلکی رکعتیں پڑھیں پھر نماز (فجر) کے لیے نکل گئے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ: تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟:جلد٢ص٣٨٢،حديث نمبر ١٣٦٣)
حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کون کون سے لوگ اسلام لائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آزاد اور ایک غلام“ میں نے پوچھا: کیا کوئی گھڑی دوسری گھڑی کے مقابلے میں ایسی ہے جس میں اللہ کا قرب زیادہ ہوتا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں رات کی درمیانی ساعت (گھڑی)“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ:رات کا کون سا وقت (عبادت کے لیے) سب سے اچھا ہے؟:جلد٢ص٣٨٢،حديث نمبر ١٣٦٤)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع رات میں سو جاتے تھے، اور اخیر رات میں عبادت کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ:رات کا کون سا وقت (عبادت کے لیے) سب سے اچھا ہے؟:جلد٢ص٣٨٣،حديث نمبر ١٣٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت اخیر کی تہائی رات رہ جاتی ہے تو ہمارا رب جو کہ برکت والا اور بلند ہے، ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور فرماتا ہے: کوئی ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو دوں؟ کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اسے بخش دوں؟ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے“، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اخیر رات میں عبادت کرنا بہ نسبت اول رات کے پسند کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ:رات کا کون سا وقت (عبادت کے لیے) سب سے اچھا ہے؟:جلد٢ص٣٨٤،حديث نمبر ١٣٦٦)
حضرت رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ مہلت دیتا ہے (اپنے بندوں کو کہ وہ سوئیں اور آرام کریں) یہاں تک کہ جب رات کا آدھا یا اس کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے، تو فرماتا ہے: میرے بندے! میرے سوا کسی سے ہرگز نہ مانگیں، جو کوئی مجھے پکارے گا میں اس کی دعا قبول کروں گا، جو مجھ سے سوال کرے گا میں اسے دوں گا، جو مجھ سے مغفرت چاہے گا، میں اسے بخش دوں گا، طلوع فجر تک یہی حال رہتا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ:رات کا کون سا وقت (عبادت کے لیے) سب سے اچھا ہے؟:جلد٢ص٣٨٥،حديث نمبر ١٣٦٧)
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ البقرہ کی آخر کی دو آیتیں جو رات میں پڑھے گا، تو وہ دونوں آیتیں اس کو کافی ہوں گی“۔ حفص نے اپنی حدیث میں کہا کہ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی وہ طواف کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُرْجَى أَنْ يَكْفِيَ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ:تہجد (قیام اللیل) کے بدلے کس عمل کے کافی ہونے کی امید کی جاتی ہے؟:جلد٢ص٣٨٥،حديث نمبر ١٣٦٨)
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں ایک رات میں پڑھیں، تو وہ دونوں اسے کافی ہوں گی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُرْجَى أَنْ يَكْفِيَ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ:تہجد (قیام اللیل) کے بدلے کس عمل کے کافی ہونے کی امید کی جاتی ہے؟:جلد٢ص٣٨٦،حديث نمبر ١٣٦٩)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی شخص کو اونگھ آئے تو سو جائے یہاں تک کہ نیند جاتی رہے، اس لیے کہ اگر وہ اونگھنے کی حالت میں نماز پڑھے گا تو اسے یہ خبر نہ ہو گی کہ وہ استغفار کر رہا ہے، یا اپنے آپ کو بد دعا دے رہا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُصَلِّي إِذَا نَعَسَ:نمازی اونگھنے لگے تو کیا کرے؟:جلد٢ص٣٨٦،حديث نمبر ١٣٧٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی تنی ہوئی دیکھی، پوچھا ”یہ رسی کیسی ہے؟“ لوگوں نے کہا: زینب کی ہے، وہ یہاں نماز پڑھتی ہیں، جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھول دو، اسے کھول دو، تم میں سے نماز پڑھنے والے کو نماز اپنی نشاط اور چستی میں پڑھنی چاہیئے، اور جب تھک جائے تو بیٹھ رہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُصَلِّي إِذَا نَعَسَ: نمازی اونگھنے لگے تو کیا کرے؟:جلد٢ص٣٨٧،حديث نمبر ١٣٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو پھر (نیند کے غلبے کی وجہ سے) قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے، اور اسے معلوم نہ رہے کہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے، تو اسے سو جانا چاہیئے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُصَلِّي إِذَا نَعَسَ: نمازی اونگھنے لگے تو کیا کرے؟:جلد٢ص٣٨٧،حديث نمبر ١٣٧٢)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعت پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ:مغرب اور عشاء کے درمیان کی نماز کا بیان:جلد٢ص٣٨٨،حديث نمبر ١٣٧٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں، اور بیچ میں زبان سے کوئی غلط بات نہیں نکالی، تو اس کی یہ نماز بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار دی جائے گی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ:مغرب اور عشاء کے درمیان کی نماز کا بیان:جلد٢ص٣٨٨،حديث نمبر ١٣٧٤)
عاصم بن عمرو کہتے ہیں کہ عراق کے کچھ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے چلے، جب آپ ان کے پاس پہنچے تو آپ نے ان سے پوچھا: تم لوگ کس جگہ سے تعلق رکھتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: عراق سے، پوچھا: کیا اپنے امیر کی اجازت سے آئے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہاں، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے گھر میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا: تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا نور ہے، لہٰذا تم اپنے گھروں کو روشن کرو“ ایک اور سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث مروی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ: گھر میں نفل پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٨٨،حديث نمبر ١٣٧٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی نماز ادا کر لے تو اس میں سے اپنے گھر کے لیے بھی کچھ حصہ رکھے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر پیدا کرنے والا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ: گھر میں نفل پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٨٩،حديث نمبر ١٣٧٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ: گھر میں نفل پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٩٠،حديث نمبر ١٣٧٧)
حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: دونوں میں کون افضل ہے گھر میں نماز پڑھنا یا مسجد میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے گھر کو نہیں دیکھتے کس قدر مسجد سے قریب ہے، اس کے باوجود بھی مجھے فرض کے علاوہ نفلی نمازیں گھر میں پڑھنی زیادہ محبوب ہیں“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ: گھر میں نفل پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٣٩١،حديث نمبر ١٣٧٨)
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نماز الضحی (چاشت کی نماز) کے متعلق پوچھا اور اس وقت لوگ (صحابہ) بہت تھے، لیکن ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز پڑھی، ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا نے یہ مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعت پڑھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الضُّحَى:صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان:جلد٢ص٣٩٢،حديث نمبر ١٣٧٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے نماز الضحی (چاشت کی نماز) بارہ رکعت پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل بنائے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الضُّحَى:صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان:جلد٢ص٣٩٢،حديث نمبر ١٣٨٠)
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز الضحی (چاشت کی نماز) پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، چار رکعت، اور جتنا اللہ چاہتا زیادہ پڑھتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الضُّحَى:صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان:جلد٢ص٣٩٣،حديث نمبر ١٣٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز الضحی (چاشت) کی دو رکعتوں پر محافظت کرے گا، اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الضُّحَى:صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان:جلد٢ص٣٩٣،حديث نمبر ١٣٨٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز استخارہ سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورۃ سکھایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے، تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے، پھر یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم هذا الأمر (پھر متعلق کام یا چیز کا نام لے) خيرا لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو خيرا لي في عاجل أمري وآجله- فاقدره لي ويسره لي وبارك لي فيه وإن كنت تعلم (پھر ویسا ہی کہے جیسے پہلی بار کہا)، وإن كان شرا لي فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيثما كان ثم رضني به» ”اے اللہ! میں تیرے علم کی مدد سے خیر مانگتا ہوں، اور تیری قدرت کی مدد سے قوت کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے میں نہیں جانتا، تو غیب کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (جس کا میں قصد رکھتا ہوں) میرے لیے میرے دین، میری دنیا اور میرے انجام کار میں بہتر ہے، تو اس کو میرے لیے مقدر کر دے، میرے لیے آسان کر دے، اور میرے لیے اس میں برکت دے، اور اگر یہ کام میرے لیے برا ہے (ویسے ہی کہے جیسا کہ پہلی بار کہا تھا) تو اس کو مجھ سے پھیر دے، اور مجھ کو اس سے پھیر دے، اور میرے لیے خیر مقدر کر دے، جہاں بھی ہو، پھر مجھ کو اس پر راضی کر دے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الاِسْتِخَارَةِ: نماز استخارہ کا بیان:جلد٢ص٣٩٤،حديث نمبر ١٣٨٣)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: ”جسے اللہ سے یا اس کی مخلوق میں سے کسی سے کوئی ضرورت ہو تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے، اس کے بعد یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين اللهم إني أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم أسألك ألا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها» ”کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے جو حلیم ہے، کریم (کرم والا) ہے، پاکی ہے اس اللہ کی جو عظیم عرش کا مالک ہے، تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اے اللہ! میں تجھ سے ان چیزوں کا سوال کرتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہوں، اور تیری مغفرت کو لازم کریں، اور میں تجھ سے ہر نیکی کے پانے اور ہر گناہ سے بچنے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے، اور تمام غموں کو دور کر دے، اور کوئی بھی حاجت جس میں تیری رضا ہو اس کو میرے لیے پوری کر دے“۔ پھر اس کے بعد دنیا و آخرت کا جو بھی مقصد ہو اس کا سوال کرے، تو وہ اس کے نصیب میں کر دیا جائے گا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْحَاجَةِ:نماز حاجت کا بیان:جلد٢ص٣٩٤،حديث نمبر ١٣٨٤)
حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے صحت و عافیت کی دعا فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے آخرت کی بھلائی چاہوں جو بہتر ہے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے دعا کروں، اس شخص نے کہا: آپ دعا کر دیجئیے، تب آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کرے، اور دو رکعت نماز پڑھے، اس کے بعد یہ دعا کرے: «اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى اللهم فشفعه في» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے جو نبی رحمت ہیں، اے محمد! میں نے آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی جانب اس کام میں توجہ کی تاکہ پورا ہو جائے، اے اللہ! تو میرے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْحَاجَةِ:نماز حاجت کا بیان:جلد٢ص٣٩٤،حديث نمبر ١٣٨٥)
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میرے چچا! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو فائدہ نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ سے صلہ رحمی نہ کروں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ چار رکعت پڑھیے، اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ ملا کر پڑھیے، جب قراءت ختم ہو جائے تو «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» پندرہ مرتبہ رکوع سے پہلے پڑھیے، پھر رکوع کیجئیے اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر اپنا سر اٹھائیے اور انہیں کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر سجدہ کیجئیے، اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر اپنا سر اٹھائیے، اور کھڑے ہونے سے پہلے انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، تو ہر رکعت میں پچھتر (۷۵) مرتبہ ہوئے، اور چار رکعتوں میں تین سو (۳۰۰) مرتبہ ہوئے، تو اگر آپ کے گناہ ریت کے ٹیلوں کے برابر ہوں تو بھی اللہ انہیں بخش دے گا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص اس نماز کو روزانہ نہ پڑھ سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہفتہ میں ایک بار پڑھ لے، اگر یہ بھی نہ ہو سکے، تو مہینے میں ایک بار پڑھ لے“ یہاں تک کہ فرمایا: ”سال میں ایک بار پڑھ لے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ التَّسْبِيحِ:صلاۃ التسبیح کا بیان:جلد٢ص٣٩٦،حديث نمبر ١٣٨٦)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے عباس! اے چچا جان! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ سے اچھا سلوک نہ کروں؟ کیا میں آپ کو دس خصلتیں نہ بتاؤں کہ اگر آپ اس کو اپنائیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے، نئے اور پرانے، جانے اور انجانے، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر سبھی گناہ بخش دے، وہ دس خصلتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھیں، جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں تو کھڑے کھڑے پندرہ مرتبہ «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہیں، پھر رکوع کریں، اور بحالت رکوع اس تسبیح کو دس مرتبہ کہیں، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ میں جائیں اور بحالت سجدہ ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ کریں، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، تو یہ ہر رکعت میں پچھتر (۷۵) مرتبہ ہوا، چاروں رکعتوں میں اسی طرح کریں، اگر آپ سے یہ ہو سکے تو روزانہ یہ نماز ایک مرتبہ پڑھیں، اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ہفتہ میں ایک بار پڑھیں، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو مہینے میں ایک بار پڑھیں، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اپنی عمر میں ایک بار پڑھیں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ التَّسْبِيحِ:صلاۃ التسبیح کا بیان:جلد٢ص٣٩٧،حديث نمبر ١٣٨٧)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔ اس رات اللہ تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہی پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے اور صبح صادق طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے معاف کر دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں؟ کیا کوئی (کسی بیماری یا مصیبت میں) مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت عطا فرما دوں؟۔“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ:نصف شعبان کی رات کا بیان:جلد٢ص٣٩٩،حديث نمبر ١٣٨٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (گھر میں) نہ پایا۔ میں آپ کی تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ بقیع میں ہیں اور آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا ہوا ہے۔ (جب مجھے دیکھا تو) فرمایا: ”عائشہ! کیا تجھے یہ ڈر تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے“؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: میں نے عرض کیا: مجھے یہ خوف تو نہیں تھا لیکن میں نے سوچا (شاید) آپ اپنی کسی (اور) زوجہ محترمہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ (لوگوں) کو معاف فرما دیتا ہے۔“ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ:نصف شعبان کی رات کا بیان:جلد٢ص٣٩٩،حديث نمبر ١٣٨٩)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات (اپنے بندوں پر) نظر رحمت فرماتا ہے، پھر مشرک اور (مسلمان بھائی سے) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے۔“ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنے استاد محمد بن اسحاق کی سند سے یہ روایت بیان کی تو انہوں نے ضحاک بن عبدالرحمٰن اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے درمیان ضحاک کے باپ کا واسطہ بیان کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ:نصف شعبان کی رات کا بیان:جلد٢ص٤٠٠،حديث نمبر ١٣٩٠)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کا سر لائے جانے کی بشارت سنائی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ وَالسَّجْدَةِ عِنْدَ الشُّكْرِ: شکرانہ کی نماز اور سجدہ شکر کا بیان:جلد٢ص٤٠١،حديث نمبر ١٣٩١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کام کے پورے ہو جانے کی بشارت سنائی گئی تو آپ سجدے میں گر پڑے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ وَالسَّجْدَةِ عِنْدَ الشُّكْرِ: شکرانہ کی نماز اور سجدہ شکر کا بیان:جلد٢ص٤٠٢،حديث نمبر ١٣٩٢)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی تو وہ سجدے میں گر پڑے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ وَالسَّجْدَةِ عِنْدَ الشُّكْرِ: شکرانہ کی نماز اور سجدہ شکر کا بیان:جلد٢ص٤٠٢،حديث نمبر ١٣٩٣)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسا معاملہ آتا جس سے آپ خوش ہوتے، یا وہ خوش کن معاملہ ہوتا، تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ وَالسَّجْدَةِ عِنْدَ الشُّكْرِ: شکرانہ کی نماز اور سجدہ شکر کا بیان:جلد٢ص٤٠٢،حديث نمبر ١٣٩٤)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو جتنا اللہ چاہتا اس سے مجھے نفع دیتا، اور جب کوئی اور مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حدیث بیان کی، وہ سچے تھے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے، اور دو رکعتیں پڑھتا ہے“، مسعر کی روایت میں ہے: ”پھر نماز پڑھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَنَّ الصَّلاَةَ كَفَّارَةٌ:نماز گناہوں کا کفارہ ہے:جلد٢ص٤٠٣،حديث نمبر ١٣٩٥)
عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل میں گئے ، لڑائی نہیں ہوئی، ان لوگوں نے صرف مورچہ باندھا، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس لوٹ آئے، اس وقت ابوایوب انصاری اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عاصم نے کہا: ابوایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا، اور ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ جو کوئی چاروں مسجدوں میں نماز پڑھے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، ابوایوب نے کہا: میرے بھتیجے! کیا میں تمہیں اس سے آسان بات نہ بتاؤں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی وضو کرے جیسا حکم دیا گیا ہے، اور نماز پڑھے جس طرح حکم دیا گیا ہے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے“ پوچھا: ایسے ہی ہے نا عقبہ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَنَّ الصَّلاَةَ كَفَّارَةٌ:نماز گناہوں کا کفارہ ہے:جلد٢ص٤٠٤،حديث نمبر ١٣٩٦)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اگر تم میں سے کسی کے آنگن میں نہر بہہ رہی ہو جس میں وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے، تو کیا اس کے بدن پہ کچھ میل کچیل باقی رہ جائے گا؟“ لوگوں نے کہا: کچھ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز گناہوں کو ایسے ہی ختم کر دیتی ہے جس طرح پانی میل کچیل کو ختم کر دیتا ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَنَّ الصَّلاَةَ كَفَّارَةٌ:نماز گناہوں کا کفارہ ہے:جلد٢ص٤٠٥،حديث نمبر ١٣٩٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا سے کم کچھ بدتہذیبی کر لی، میں نہیں جانتا کہ وہ اس معاملہ میں کہاں تک پہنچا، بہرحال معاملہ زناکاری تک نہیں پہنچا تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «أقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ”دن کے دونوں حصوں (صبح و شام) میں اور رات کے کچھ حصہ میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں، اور یہ یاد کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے“ (سورة هود: ۱۱۴)، پھر اس شخص نے عرض کیا: کیا یہ حکم میرے لیے خاص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اس شخص کے لیے جو اس پر عمل کرے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَنَّ الصَّلاَةَ كَفَّارَةٌ:نماز گناہوں کا کفارہ ہے:جلد٢ص٤٠٦،حديث نمبر ١٣٩٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے (معراج کی رات) میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں انہیں لے کر لوٹا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں میرے اوپر فرض کی ہیں، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس پھر جائیں آپ کی امت انہیں ادا نہ کر سکے گی، میں اپنے رب کے پاس لوٹا، تو اس نے آدھی معاف کریں، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، اور ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں آپ کی امت اس کو انجام نہ دے سکے گی، چنانچہ میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے فرمایا: یہ (ادا کرنے میں) پانچ وقت کی نمازیں (شمار میں) ہیں، جو (ثواب میں) پچاس نماز کے برابر ہیں، میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا، اٹل ہوتا ہے، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس جائیں، تو میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٠٧،حديث نمبر ١٣٩٩)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تمہارے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پچاس نمازوں کا حکم ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے رب سے تخفیف چاہی کہ پچاس کو پانچ کر دے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٠٨،حديث نمبر١٤٠٠)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پانچ وقت کی نمازیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں، لہٰذا جو کوئی ان کو بجا لائے اور ان کے حق کو معمولی حقیر سمجھ کر ان میں کچھ کمی نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ پورا کرے گا، اور جس کسی نے ان کو اس طرح ادا کیا کہ انہیں معمولی اور حقیر جان کر ان کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی وعدہ نہیں، چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو بخش دے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٠٨،حديث نمبر١٤٠١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں اونٹ پر سوار ایک شخص آیا، اور اسے مسجد میں بٹھایا، پھر اسے باندھ دیا، پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد کون ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لوگوں نے کہا: یہ ہیں جو سفید رنگ والے، اور تکیہ لگائے بیٹھے ہیں، اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”ہاں، میں نے تمہاری بات سن لی“، تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے ایک سوال کرنے والا ہوں، اور سوال میں سختی برتنے والا ہوں، تو آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جو چاہو پوچھو“، اس شخص نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب کی قسم دیتا ہوں، اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب لوگوں کی جانب نبی بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہمارے مالداروں سے زکاۃ و صدقات لیں، اور اس کو ہمارے غریبوں میں تقسیم کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، تو اس شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی شریعت پہ ایمان لایا، اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے لیے پیغام رساں کی حیثیت سے ہوں جو پیچھے رہ گئے ہیں، اور میں قبیلہ بنو سعد بن بکر کا ایک فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٠٩،حديث نمبر١٤٠٢)
حضرت ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اور میں نے اپنے پاس سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو انہیں ان کے اوقات پر پڑھنے کی پابندی کرے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو ان کی پابندی نہیں کرے گا، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی وعدہ نہیں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤١٠،حديث نمبر١٤٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے“۔ ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون کی حدیث مروی ہے۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤١١،حديث نمبر١٤٠٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤١٢،حديث نمبر١٤٠٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے، اور مسجد الحرام میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤١٢،حديث نمبر١٤٠٦)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! ہم کو بیت المقدس کا مسئلہ بتائیے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے، وہاں جاؤ اور نماز پڑھو، اس لیے کہ اس میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز کی طرح ہے“ میں نے عرض کیا: اگر وہاں تک جانے کی طاقت نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم تیل بھیج دو جسے وہاں کے چراغوں میں جلایا جائے، جس نے ایسا کیا گویا وہ وہاں گیا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ:بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت:جلد٢ص٤١٣،حديث نمبر١٤٠٧)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سلیمان بن داود علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، ایک تو یہ کہ میں مقدمات میں جو فیصلہ کروں، وہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو، دوسرے مجھ کو ایسی حکومت دے کہ میرے بعد پھر ویسی حکومت کسی کو نہ ملے، تیسرے یہ کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز ہی کے ارادے سے آئے وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو باتیں تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں، مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہو گی“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ:بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت:جلد٢ص٤١٤،حديث نمبر١٤٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین مساجد: مسجد الحرام، میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) اور مسجد الاقصیٰ کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب سفر نہ کیا جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ:بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت:جلد٢ص٤١٥،حديث نمبر١٤٠٩)
حضرت ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مساجد: مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی) کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر نہ کیا جائے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ:بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت:جلد٢ص٤١٥،حديث نمبر١٤١٠)
حضرت اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ:مسجد قباء میں نماز کی فضیلت:جلد٢ص٤١٦،حديث نمبر١٤١١)
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے، تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ:مسجد قباء میں نماز کی فضیلت:جلد٢ص٤١٥،حديث نمبر١٤١٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز کے برابر ہے، محلہ کی مسجد میں پچیس نماز کے برابر ہے، اور جامع مسجد میں پانچ سو نماز کے برابر ہے، مسجد الاقصیٰ میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، مسجد نبوی میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، اور خانہ کعبہ میں ایک لاکھ نماز کے برابر ہے“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ:جامع مسجد میں نماز کی فضیلت:جلد٢ص٤١٧،حديث نمبر١٤١٣)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مسجد چھپر کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کی طرف نماز پڑھتے تھے، اور اسی تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز بنائیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ انہیں اپنا خطبہ سنا سکیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ پھر اس شخص نے تین سیڑھیاں بنائیں، یہی منبر کی اونچائی ہے، جب منبر تیار ہو گیا، تو لوگوں نے اسے اس مقام پہ رکھا جہاں اب ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا، تو اس تنے کے پاس سے گزرے جس کے سہارے آپ خطبہ دیا کرتے تھے، جب آپ تنے سے آگے بڑھ گئے تو وہ رونے لگا، یہاں تک کہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس وقت آپ منبر سے اترے اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تب وہ خاموش ہوا، پھر آپ منبر پہ لوٹے، جب آپ نماز پڑھتے تھے تو اسی تنے کی جانب پڑھتے تھے، پھر جب (عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تعمیر نو کے لیے) مسجد شہید کی گئی، اور اس کی لکڑیاں بدل دی گئیں، تو اس تنے کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا، اور وہ ان کے گھر ہی میں رہا یہاں تک کہ پرانا ہو گیا، پھر اسے دیمک کھا گئی، اور وہ گل کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ:منبر رسول پہلے کیسے بنا؟:جلد٢ص٤١٧،حديث نمبر١٤١٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے، جب منبر تیار ہو گیا تو آپ منبر کی طرف چلے، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا، تو وہ خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ:منبر رسول پہلے کیسے بنا؟:جلد٢ص٤١٨،حديث نمبر١٤١٥)
ابوحازم کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا، تو لوگ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے پوچھا؟ انہوں نے کہا: اب لوگوں میں کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس منبر کا حال مجھ سے زیادہ جانتا ہو، وہ غابہ کے جھاؤ کا تھا، جس کو فلاں بڑھئی نے بنایا تھا، جو فلاں عورت کا غلام تھا، بہرحال وہ غلام منبر لے کر آیا، جب وہ رکھا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور قبلہ کی طرف رخ کیا، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا، اور رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، اور زمین پہ سجدہ کیا، پھر منبر کی طرف لوٹ گئے، اور قراءت کی، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے، پھر الٹے پاؤں پیچھے لوٹے، (اور منبر سے اتر کر) زمین پر سجدہ کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ:منبر رسول پہلے کیسے بنا؟:جلد٢ص٤١٩،حديث نمبر١٤١٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ، یا یوں کہا: ایک تنے کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منبر بنوا لیا، تو وہ تنا سسکیاں لے لے کر رونے لگا، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو وہ خاموش ہو گیا، بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ:منبر رسول پہلے کیسے بنا؟:جلد٢ص٤٢٠،حديث نمبر١٤١٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا، (راوی ابووائل کہتے ہیں:) میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں بیٹھ جاؤں، اور آپ کو (کھڑا) چھوڑ دوں۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي طُولِ الْقِيَامِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں قیام لمبا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٢١،حديث نمبر١٤١٨)
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے پیروں میں ورم آ گیا، تو عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام ذنب کی مغفرت کر دی ہے (پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں (اللہ کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي طُولِ الْقِيَامِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں قیام لمبا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٢١،حديث نمبر١٤١٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سارے ذنب معاف کر دئیے ہیں (پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي طُولِ الْقِيَامِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں قیام لمبا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٢٢،حديث نمبر١٤٢٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میں قیام لمبا ہو“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي طُولِ الْقِيَامِ فِي الصَّلاَةِ:نماز میں قیام لمبا کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٢٢،حديث نمبر١٤٢١)
حضرت ابوفاطمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اوپر سجدے کو لازم کر لو، اس لیے کہ جب بھی تم کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا“۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ السُّجُودِ: کثرت سے سجدہ کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٢٣،حديث نمبر١٤٢٢)
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے کہا: آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ دے گا، یہ سن کر وہ خاموش رہے، پھر میں نے دوبارہ وہی بات کہی، تو بھی وہ خاموش رہے، تین بار ایسا ہی ہوا، پھر انہوں نے کہا: تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ لازم کر لو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے“۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی بیان کیا۔ (سنن ابن ماجه:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ السُّجُودِ: کثرت سے سجدہ کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٢٤،حديث نمبر١٤٢٣)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرے گا، اللہ اس کے بدلے ایک نیکی لکھے گا، اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا، اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، لہٰذا تم کثرت سے سجدے کرو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ السُّجُودِ: کثرت سے سجدہ کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٢٤،حديث نمبر١٤٢٤)
انس بن حکیم کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو ان کو بتاؤ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”مسلمان بندے سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہو گی، اگر اس نے اسے کامل طریقے سے ادا کی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ کہا جائے گا کہ دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر اس کے پاس نفل نمازیں ہوں گی تو اس سے فرض میں کمی پوری کی جائے گی، پھر باقی دوسرے فرائض اعمال کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَوَّلِ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلاَةُ:(قیامت کے دن) بندے سے سب سے پہلے نماز کا محاسبہ ہو گا:جلد٢ص٤٢٥،حديث نمبر١٤٢٥)
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن بندے سے جس چیز کا سب سے پہلے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہو گی، اگر اس نے نماز مکمل طریقے سے ادا کی ہو گی تو نفل نماز علیحدہ لکھی جائے گی، اور اگر مکمل طریقے سے ادا نہ کی ہو گی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا: دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس نفل نمازیں ہیں، تو ان سے فرض کی کمی کو پورا کرو، پھر باقی اعمال کا بھی اسی طرح حساب ہو گا“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَوَّلِ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلاَةُ:(قیامت کے دن) بندے سے سب سے پہلے نماز کا محاسبہ ہو گا:جلد٢ص٤٢٦،حديث نمبر١٤٢٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں کا کوئی اتنا عاجز و مجبور ہے کہ جب (فرض) نماز پڑھ چکے تو نفل کے لیے آگے بڑھ جائے، یا پیچھے ہٹ جائے، یا دائیں، بائیں ہو جائے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ النَّافِلَةِ حَيْثُ تُصَلَّى الْمَكْتُوبَةُ:فرض نماز پڑھنے کی جگہ پر نفل پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٢٦،حديث نمبر١٤٢٧)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس جگہ سنت (نفل نماز) نہ پڑھے جہاں پر اس نے فرض پڑھائی ہے، جب تک کہ وہاں سے دور نہ جائے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ النَّافِلَةِ حَيْثُ تُصَلَّى الْمَكْتُوبَةُ:فرض نماز پڑھنے کی جگہ پر نفل پڑھنے کا بیان:جلد٢ص٤٢٧،حديث نمبر١٤٢٨)
حضرت عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز میں) تین چیزوں سے منع فرمایا: ”ایک تو کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے، دوسرے درندے کی طرح بازو بچھانے سے، اور تیسرے نماز کے لیے ایک جگہ متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ مقرر کرتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَوْطِينِ الْمَكَانِ فِي الْمَسْجِدِ يُصَلِّي فِيهِ:مسجد میں نماز کے لیے جگہ مخصوص کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٢٧،حديث نمبر١٤٢٩)
حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نماز الضحیٰ (چاشت کی نفل نماز) کے لیے آتے اور صف سے پہلے ستون کے پاس جاتے اور اس کے نزدیک نماز پڑھتے، میں مسجد کے ایک گوشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے کہتا: آپ اس جگہ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ تو وہ کہتے: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی جگہ کا قصد کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَوْطِينِ الْمَكَانِ فِي الْمَسْجِدِ يُصَلِّي فِيهِ:مسجد میں نماز کے لیے جگہ مخصوص کرنے کا بیان:جلد٢ص٤٢٨،حديث نمبر١٤٣٠)
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَيْنَ تُوضَعُ النَّعْلُ إِذَا خُلِعَتْ فِي الصَّلاَةِ:نماز کے وقت جوتا نکال کر کہاں رکھا جائے؟:جلد٢ص٤٢٨،حديث نمبر١٤٣١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جوتے اپنے پاؤں میں پہنے رکھو، اور اگر انہیں اتارو تو اپنے پیروں کے درمیان رکھو، اور اپنے دائیں طرف نہ رکھو، نہ اپنے ساتھی کے دائیں طرف رکھو، اور نہ پیچھے رکھو کیونکہ پیچھے والوں کو تکلیف ہو“۔ (سنن ابن ماجہ:ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ :بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَيْنَ تُوضَعُ النَّعْلُ إِذَا خُلِعَتْ فِي الصَّلاَةِ:نماز کے وقت جوتا نکال کر کہاں رکھا جائے؟:جلد٢ص٤٢٩،حديث نمبر١٤٣٢)
Ibne Majah Shareef : Iqamat e Salat Aur Uske Sunan WA Aadab....
|
Ibne Majah Shareef : اقامت نماز اور اس کے سنن و آداب و احکام و مسائل
|
•