asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Kusuf

From 1988 to 2021

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگ گیا تو آپ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے آپ نے نہایت طویل قیام کیا پھر رکوع کیا اور اسے نہایت لمبا کیا پھر سرانور اٹھایا تو طویل قیام فرمایا جو پہلے قیام سے کم تھا پھر رکوع فرمایا تو اسے بہت لمبا کیا لیکن پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے تو طویل لیکن پہلے والے سے کم قیام کیا پھر رکوع کیا اور اسے لمبا کیا لیکن پہلے والے سے کم تھا پھر سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے رہے لیکن یہ قیام پہلے والے قیام سے کم تھا پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدہ کیا پھر سلام پھیرا اور سورج روشن ہوچکا تھا آپ نے صحابہ کرام کو خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اور کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگتا۔پس جب تم اسے دیکھو تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو اس سے دعا مانگو۔نماز پڑھو اور صدقہ دو۔اے امت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کو اس بات پر غصہ نہیں آتا کہ اس کا کوئی بندہ پابندی زنا کرے۔اے امت محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)اگر تمہیں معلوم ہوتا جو کچھ مجھے معلوم ہے تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے۔ سنو!کیا میں نے(اللہ کا دین پہنچا دیا؟)حضرت امام مالک کی روایت میں کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛ترجمہ؛نماز کسوف کا بیان؛جلد. ٢؛ص٦١٨؛حدیث نمبر١٩٨٨)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَكَبِّرُوا، وَادْعُوا اللهَ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ، أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟». وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ».

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1988

Muslim Shareef Kitabul Kusuf Hadees No# 1989

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللهِ» وَزَادَ أَيْضًا: ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ»

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1989

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی(ظاہری)حیات طیبہ میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے آپ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور صحابہ کرام آپکے پیچھے صف بستہ ہوئے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت کی پھر تکبیر کہی اس کے بعد طویل رکوع کیا پھر سر انور کو اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد"کہا پھر سجدہ کیا۔ابوالطاہر کی روایت میں سجدے کا ذکر نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کہا حتیٰ کہ چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے اور سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہوگیا پھر کھڑے ہوکر خطبہ دیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان حمدوثنا کی۔ پھر فرمایا سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگتا جب تم یہ صورت دیکھو تو نماز کی طرح جلدی کرو آپ نے یہ بھی فرمایا پس نماز پڑھو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس کو تم سے کھول دے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے مقام پر ہر اس چیز کو دیکھا جس کا تم سے وعدہ کیا گیا حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں نے جنت کا خوشہ توڑنے کا ارادہ کیا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھ رہا ہوں۔ اور میں نے یقیناً جہنم کو دیکھا کہ اس کا بعض حصہ دوسرے بعض کو توڑ رہا ہے جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹ رہا ہوں اور میں نے اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا جس نے اسے پہلے بتوں سے نامزد کیا(اور ان کا کھانا حرام قرار دیا) ابوالطاہر کی روایت وہاں ختم ہوگئی تھی جہاں فرمایا نماز کے لئے جلدی کرو بعد والا کلام ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦١٩؛حدیث نمبر١٩٩٠)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ وَكَبَّرَ، وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ»، ثُمَّ قَامَ، فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ»، ثُمَّ سَجَدَ - وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ: ثُمَّ سَجَدَ - ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى اسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ»، وَقَالَ أَيْضًا: «فَصَلُّوا حَتَّى يُفَرِّجَ اللهُ عَنْكُمْ»، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أُقَدِّمُ - وقَالَ الْمُرَادِيُّ: أَتَقَدَّمُ - وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ، وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ «. وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ» فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1990

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ نے ایک منادی بھیجا جس نے اعلان کیا کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے پس جمع ہوجاؤ۔ پس آپ آگے بڑھے اور تکبیر کہی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢٠؛حدیث نمبر١٩٩١)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ أَبُو عَمْرٍو، وَغَيْرُهُ، سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ، يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ مُنَادِيًا: «الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ»، فَاجْتَمَعُوا، وَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ، وَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1991

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قرأت کی پس آپ نے دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔(چونکہ اس نماز میں قیام لمبا تھا اس لئے پچھلی صفوں والے لوگوں کو مغالطہ لگا اور اس طرح ایک رکوع کو دو رکوع سمجھ لیا گیا ورنہ ہر رکعت میں ایک رکوع تھا)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢٠؛حدیث نمبر١٩٩٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَرَ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1992

ابن عباس رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں چار رکوع کیے اور چار سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢٠؛حدیث نمبر١٩٩٣)

قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ».

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1993

ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کرتے تھے جب سورج کو گرہن لگا تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی مثل ذکر کیا جو حضرت عروہ کے واسطے سے مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢٠؛حدیث نمبر١٩٩٤)

وحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، بِمِثْلِ مَا حَدَّثَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1994

حضرت عبید بن نمیر فرماتے ہیں مجھ سے اس نے بیان کیا جس کی حدیث کو میں تسبیح سمجھتا ہوں ان کی مراد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آپ نے طویل قیام کیا پھر رکوع کیا پھر کھڑے ہوے پھر رکوع کیا پھر کھڑے ہوئے آپ نے دو رکعتیں نماز پڑھی ہر رکعت میں تین رکوع اور چار سجدے کئے سلام پھیرا تو سورج روشن ہوچکا تھا اور آپ جب بھی رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے پھر رکوع کرتے اور جب سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ہیں پس آپ(نماز کے بعد)کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا بے شک سورج اور چاند کو کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔اللہ تعالی ان کے ذریعے خوف پیدا فرماتا ہے پس جب تم گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو حتیٰ کہ سورج روشن ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢٠؛حدیث نمبر١٩٩٥)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ، حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ، أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا، يَقُومُ قَائِمًا، ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ، قَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ»، ثُمَّ يَرْكَعُ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، فَقَامَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللهِ، يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا، فَاذْكُرُوا اللهَ حَتَّى يَنْجَلِيَا»

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1995

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢١؛حدیث نمبر١٩٩٦)

وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1996

حضرت عمرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کرنے لگی اور پھر کہا اللہ تعالیٰ آپ کو عذاب قبر سے بچائے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگوں کو قبر میں عذاب ہوگا۔حضرت عمرہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنين نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے پھر ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سواری پر سوار ہوے اور اس دن سورج کو گرہن بھی لگا تھا ام المومنین فرماتی ہیں میں کچھ عورتوں کے ہمراہ حجرہ کی پچھلی جانب سے مسجد میں آئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے حتیٰ کہ نماز پڑھانے کی جگہ تشریف لے گئے جہاں پر آپ نماز پڑھایا کرتے تھے۔آپ کھڑے ہوئے اور صحابہ کرام بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے آپ نے ایک لمبا قیام کیا اور ایک طویل رکوع کیا پھر کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا لیکن پہلے قیام سے کم تھا پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا۔پھر کھڑے ہوئے اور سورج روشن ہوچکا تھا آپ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ تم لوگ قبروں میں دجال کے فتنوں کی طرح فتنوں میں مبتلا ہوگئے۔حضرت عمرہ فرماتی ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتی تھیں میں اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتی آپ جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے(تعلیم امت کے لئے ایسا کرتے ورنہ آپ تو معصوم ومحفوظ ہیں)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ؛ترجمہ؛نماز خسوف میں عذاب قبر کا بیان؛جلد ٢؛ص٦٢١؛حدیث نمبر١٩٩٧)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْ عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ يُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ؟ قَالَتْ عَمْرَةُ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَائِذًا بِاللهِ» ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا، فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَيِ الْحُجَرِ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى مُصَلَّاهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِيهِ، فَقَامَ وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ رَفَعَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: «إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ» قَالَتْ عَمْرَةُ: فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: فَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1997

Muslim Shareef Kitabo Salatil Kusuf Hadees No# 1998

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1998

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک سخت گرم دن میں سورج کو گرہن لگ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی۔آپ نے طویل قیام فرمایا حتیٰ کہ قریب تھا کہ وہ حضرات گر پڑیں پھر طویل رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا پھر طویل رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور(دوسری رکعت میں)اسی طرح عمل کیا۔پس آپ نے چار رکوع اور چار سجدے کئے پھر فرمایا مجھ پر وہ تمام چیزیں پیش کی گئیں جن میں تم داخل ہوگے مجھ پر جنت پیش کی گئی حتیٰ کہ اگر میں اس سے کوئی خوشبو لینا چاہتا تو لے لیتا لیکن میں نے اس سے اپنا ہاتھ روک لیا اور مجھ پر جہنم کو پیش کیا گیا تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت کو دیکھا جسے ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جارہا ہے اس نے اس کو باندھ دیا تھا نہ تو اسے کھانے کے لئے کچھ دیتی اور نہ کھلا چھوڑتی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑوں سے کچھ کھالیتی اور میں نے ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی چادر کھینچ رہا ہے۔ اور وہ لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند کو کسی بڑی شخصیت کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے حالانکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ تمہیں دکھاتا ہے پس جب ان کو گرہن لگے تو نماز پڑھو حتیٰ کہ ان کی روشنی بحال ہوجائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٢؛حدیث نمبر١٩٩٩)

وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَاكَ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُولَجُونَهُ، فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ، حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ - أَوْ قَالَ: تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا - فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا، رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ يُرِيكُمُوهُمَا، فَإِذَا خَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 1999

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٩٩ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں فرمایا کہ میں نے جہنم میں ایک لمبی کالی عورت کو دیکھا بنی اسرائیل کا ذکر نہیں فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٣؛حدیث نمبر٢٠٠٠)

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «وَرَأَيْتُ فِي النَّارِ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً»، وَلَمْ يَقُلْ: «مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ»

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2000

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اس دن سورج کو گرہن لگا جس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے کہا حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے وصال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ نے چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی آغاز تکبیر سے کیا پھر طویل قرأت فرمائی۔پھر قیام کی طرح رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھاکر قرأت کی جو پہلی قرأت سے کم تھی پھر قیام کی مناسبت سے رکوع کیا پھر رکوع سے سر انور اٹھایا اور پہلی قرأت کے مقابلے میں کم قرأت کی پھر قیام کے برابر رکوع کیا پھر سر انور اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے اور دو سجدے کئے پھر(دوسری رکعت کے لئے)کھڑے ہوئے اور اس میں بھی تین رکوع کئے اور ہر رکوع سے پہلا رکوع لمبا تھا اور رکوع سجدے کی مناسبت سے برابر برابر تھا۔پھر پیچھے ہٹ گئے اور صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں حتیٰ کہ ہم آخر تک پہنچ گئے۔ ابوبکر(راوی)کہتے ہیں حتیٰ کہ ہم عورتوں تک پہنچ گئے اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے حتیٰ کہ اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور جب سلام پھیرا تو سورج روشن ہوگیا تھا۔ آپ نے فرمایا اے لوگوں!بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور لوگوں میں سے کسی کی موت کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگتا۔ ابوبکر کی روایت میں کسی انسان کی موت کا ذکر ہے،پس جب اس سلسلے میں کوئی بات دیکھو تو نماز پڑھو حتیٰ کہ روشنی ہوجائے۔تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے میں نے اسے اپنی اس نماز میں دیکھ لیا ہے آگ کو لایا گیا اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹ گیا مجھے خوف ہوا کہ اس کی لپیٹ مجھ تک نہ پہنچ جائے حتیٰ کہ میں نے اس میں لاٹھی والے کو دیکھا جو اپنی لکڑیوں کو جہنم میں کھینچ رہا تھا وہ اس کے ساتھ حاجیوں کی چوری کرتا تھا اگر حاجی کو پتہ چلتا تو کہتا یہ تو میری لاٹھی کے ساتھ اٹک گیا ہے اور اگر وہ غافل ہوتا تو وہ لے جاتا اور حتیٰ کہ میں نے اس میں بلی والی عورت کو دیکھا جس نے اسے باندھ رکھا تھا نہ تو اسے کھانے کے لئے کچھ دیتی اور نہ کھلا چھوڑتی کہ وہ کیڑے مکوڑے کھاتی حتیٰ کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔پھر جنت کو لایا گیا اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتیٰ کہ اپنی جگہ کھڑا ہوا اور میں نے اپنے ہاتھ کو آگے بڑھایا تاکہ اس کے پھل سے لوں اور تم اس کو دیکھو پھر مجھے خیال ہوا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے پس تم سے جس چیز کا بھی وعدہ کیا گیا ہے میں نے اسے اپنی اس نماز میں دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٣؛حدیث نمبر٢٠٠١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، بَدَأَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ أَيْضًا ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا، وَرُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ، وَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ خَلْفَهُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَتَّى انْتَهَى إِلَى النِّسَاءِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ وَتَقَدَّمَ النَّاسُ مَعَهُ، حَتَّى قَامَ فِي مَقَامِهِ، فَانْصَرَفَ حِينَ انْصَرَفَ، وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لِمَوْتِ بَشَرٍ - فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ، مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ، لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ، وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ، فَإِنْ فُطِنَ لَهُ قَالَ: إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي، وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ، وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي، وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ، فَمَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ "

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2001

حضرت اسماء(بنت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ)بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا تو میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا میں نے پوچھا کوئی علامت ہے؟فرمایا ہاں پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت طویل قیام کیا حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہو گئی میں نے مشکیزے سے پانی لے کر اپنے سر یا چہرے پر ڈالنا شروع کردیا۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہوچکا تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو خطبہ دیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا میں نے جس چیز کو نہیں دیکھا اپنے اس مقام پر دیکھ لیا حتیٰ کہ جنت اور جہنم کو بھی دیکھا اور مجھ پر وحی کی گئی کہ عنقریب تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے یا فرمایا دجال کے فتنے کے مثل آزمائش ہوگی معلوم نہیں حضرت اسماء نے ان سے کونسی بات فرمائی۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں تم میں سے ہر شخص کو لایا جائے گا اور کہا جاے گا اس شخص کے بارے میں کیا جانتے ہو تو مومن کہے گا یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جو روشن نشانیاں اور ہدایت لے کر تشریف لائے۔پس ہم نے ان کی اطاعت کی تین مرتبہ سوال وجواب ہوگا پس اس سے کہا جائے گا سو جاؤ ہمیں معلوم تھا کہ تم ان پر ایمان رکھتے ہو تم صالح ہو سو جاؤ لیکن منافق یا شک کرنے والا(راوی کہتے ہیں معلوم نہیں حضرت اسماء نے کون سا لفظ کہا)کہے گا مجھے معلوم نہیں میں لوگوں سے سن کر وہی بات کہتا تھا جو وہ کہتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلدط٢؛ص٦٢٤؛حدیث نمبر٢٠٠٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَطَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا، حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ إِلَى جَنْبِي، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي، أَوْ عَلَى وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ، قَالَتْ: فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا، أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ - لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيُؤْتَى أَحَدُكُمْ، فَيُقَالُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ، أَوِ الْمُوقِنُ - لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيَقُولُ: هُوَ مُحَمَّدٌ، هُوَ رَسُولُ اللهِ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَأَطَعْنَا، ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ، قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنَّكَ لَتُؤْمِنُ بِهِ، فَنَمْ صَالِحًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ، أَوِ الْمُرْتَابُ - لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ: شَيْئًا، فَقُلْتُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2002

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو صحابہ کرام کھڑے تھے اور ام المومنین بھی نماز پڑھ رہی تھیں میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہوا؟اس کے بعد حدیث نمبر ٢٠٠٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٤؛حدیث نمبر٢٠٠٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ، وَإِذَا هِيَ تُصَلِّي، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2003

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے لئے کسوف نہ کہو خسوف کا لفظ کہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٥؛حدیث نمبر٢٠٠٤)

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: " لَا تَقُلْ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ، وَلَكِنْ قُلْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ "

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2004

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک دن سورج گرہن کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے تو آپ نے(گھبراہٹ میں)گھر والوں(میں سے کسی کی)قمیص لے لی حتیٰ کہ آپ کو چادر لا کر دی گئی پس آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ طویل قیام کیا کہ اگر کوئی شخص آتا تو اسے پتہ نہ چلتا کہ آپ نے رکوع کیا ہے اسی لئے طویل قیام کی وجہ سے آپ سے رکوع کی روایت کی گئی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٥؛حدیث نمبر٢٠٠٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: " فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا - قَالَتْ: تَعْنِي يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ - فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ، فَقَامَ لِلنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا، لَوْ أَنَّ إِنْسَانًا أَتَى لَمْ يَشْعُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكَعَ - مَا حَدَّثَ أَنَّهُ رَكَعَ، مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2005

ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٠٥ کی مثل روایت کیا ہے اور فرمایا آپ نے طویل قیام کیا پھر رکوع کیا اور یہ اضافہ کیا کہ(حضرت اسماء فرماتی ہیں)میں ایک عورت کو دیکھتی تھی جو مجھ سے زیادہ بڑی تھی اور دوسری کو دیکھتی جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٥؛حدیث نمبر٢٠٠٦)

وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، وَقَالَ: قِيَامًا طَوِيلًا، يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، وَزَادَ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ أَسَنَّ مِنِّي، وَإِلَى الْأُخْرَى هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2006

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبراہٹ میں کسی کی قمیص لے لی حتیٰ کہ آپ کو چادر پیش کی گئی وہ فرماتی ہیں میں قضائے حاجت سے فارغ ہوکر آئی اور مسجد میں داخل ہوئی تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہیں میں بھی آپ کے ساتھ کھڑی ہوگئی آپ نے طویل قیام کیا حتیٰ کہ میں نے سوچا کہ میں بیٹھ جاؤں پھر میں نے ایک کمزور عورت کو دیکھا تو کہا یہ تو مجھ سے زیادہ کمزور ہے پس میں کھڑی رہی آپ نے لمبا رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا حتیٰ کہ اگر کوئی شخص آتا تو خیال کرتا کہ آپ نے رکوع نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٥؛حدیث نمبر٢٠٠٧)

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَزِعَ فَأَخْطَأَ بِدِرْعٍ حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَقَضَيْتُ حَاجَتِي، ثُمَّ جِئْتُ وَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا، فَقُمْتُ مَعَهُ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، حَتَّى رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ أَجْلِسَ، ثُمَّ أَلْتَفِتُ إِلَى الْمَرْأَةِ الضَّعِيفَةِ، فَأَقُولُ هَذِهِ أَضْعَفُ مِنِّي، فَأَقُومُ، فَرَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَرْكَعْ "

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2007

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہواتو آپ نے نماز پڑھائی صحابہ کرام آپ کے ساتھ تھے تو آپ نے ایک طویل قیام کیا جو سورہ بقرہ(کی قرأت)کے برابر تھا۔پھر ایک طویل رکوع کیا پھر سر انور اٹھایا تو طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا پھرطویل رکوع کیاجو پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے تو طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر سر انور اٹھایا تو قیام فرمایا جو طویل تھا لیکن پہلے سے کم تھا پھر طویل لیکن پہلے سے کم رکوع کیا پھر سجدہ کیا پھر سلام پھیرا تو سورج روشن ہوچکا تھا آپ نے فرمایا سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگا جب تم یہ حالت دیکھو تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے دیکھا کہ آپ اپنے اس مقام سے کسی چیز کو پکڑنے لگے تھے پھر آپ رک گئے آپ نے فرمایا میں نے جنت کو دیکھا تو اس سے ایک خوشہ توڑنے لگا اور اگر میں اسے توڑ لیتا تو جب تک دنیا باقی ہے تم اسے کھاتے رہتے اور میں نے جہنم کو دیکھا تو اس جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور اس میں میں نے زیادہ عورتوں کو دیکھا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس کی کیا وجہ ہے؟فرمایا ان کے نافرمانی کی وجہ سے،پوچھا گیا کیا وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتی ہیں فرمایا نہیں بلکہ وہ خاوند کی نافرمانی کرتی ہیں اور احسان کا انکارکرتی ہیں اگر تم ان میں سے کسی ایک سے عمر بھر نیکی کرو پھر تم سے کوئی(ناپسندیدہ)بات دیکھیں تو کہتی ہیں میں نے تمہارے پاس کبھی اچھائی نہیں دیکھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٦؛حدیث نمبر٢٠٠٨)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَدْرَ نَحْوِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللهَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَفَفْتَ، فَقَالَ: «إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ»، قَالُوا: بِمَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «بِكُفْرِهِنَّ»، قِيلَ: أَيَكْفُرْنَ بِاللهِ؟ قَالَ: " بِكُفْرِ الْعَشِيرِ، وَبِكُفْرِ الْإِحْسَانِ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2008

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٢٠٠٨ کی مثل مروی ہے۔اس میں ہے پھر ہم نے آپ کو پیچھے ہٹتے دیکھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٧؛حدیث نمبر٢٠٠٩)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2009

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن لگنے کے وقت،آٹھ رکوع اور چار سجدے کے ساتھ نماز پڑھائی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ مَنْ قَالَ: إِنَّهُ رَكَعَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ؛جلد ٢؛ص٦٢٧؛حدیث نمبر٢٠١٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ». وَعَنْ عَلِيٍّ مِثْلُ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2010

Muslim Shareef Kitabul Kusuf Hadees No# 2011

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «صَلَّى فِي كُسُوفٍ، قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ»، قَالَ: وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2011

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب سورج کو گرہن لگا تو آواز دی گئی۔"نماز کھڑی ہونے والی"ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے پھر سورج روشن ہوگیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس طویل رکوع اور اس سے لمبا سجدہ کبھی نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٧؛حدیث نمبر٢٠١٢)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ خَبَرِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: «لَمَّا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نُودِيَ بِالصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: مَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ، وَلَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ، كَانَ أَطْوَلَ مِنْهُ

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2012

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔اللہ تعالی ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور کسی انسان کی موت کے سبب ان کو گرہن نہیں لگتا پس جب تم اس سے کوئی بات دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو حتیٰ کہ تمہارے لئے یہ روشن ہوجائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٨؛حدیث نمبر٢٠١٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَصَلُّوا، وَادْعُوا اللهَ حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ "

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2013

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک سورج اور چاند کو کسی انسان کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں پس جب یہ بات دیکھو تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٨؛حدیث نمبر٢٠١٤)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيْسَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَقُومُوا فَصَلُّوا».

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2014

ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے کہ جس دن حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا اس دن سورج کو گرہن لگا تو لوگوں نے کہا حضرت ابراہیم کہ وفات کی وجہ سے سورج کو گرہن لگا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٨؛حدیث نمبر٢٠١٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَوَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَمَرْوَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَوَكِيعٍ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ: انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2015

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو گھبراہٹ کی حالت میں کھڑے ہوئے۔آپ کو ڈر تھا کہ قیامت آگئی حتیٰ کہ مسجد میں تشریف لائے اور طویل قیام کیا،رکوع اور سجدہ کیا میں نے آپ کو کسی نماز میں اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا پھر فرمایا یہ نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے کسی کی موت یا زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو بھیج کر لوگوں کو ڈراتا ہے پس جب تم ان میں سے کوئی بات دیکھو تو اس کے ذکر دعا اور طلب مغفرت کے ساتھ پناہ حاصل کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٩؛حدیث نمبر٢٠١٦)

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ، مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللهَ يُرْسِلُهَا، يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ، وَدُعَائِهِ، وَاسْتِغْفَارِهِ». وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْعَلَاءِ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ، وَقَالَ: «يُخَوِّفُ عِبَادَهُ» وحَدَّثَنِي

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2016

حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تیر اندازی کر رہا تھا کہ سوچا کہ دیکھتا ہوں کہ آج اس گرہن کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ہاتھ اٹھاتے ہوئے دعا مانگ رہے تھے آپ نے تکبیر کہی اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی اور لاالہ الا اللہ پڑھا۔حتیٰ کہ سورج روشن ہوگیا تو آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعات نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٩؛حدیث نمبر٢٠١٧)

عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَرْمِي بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَنَبَذْتُهُنَّ، وَقُلْتُ: «لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا يَحْدُثُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي انْكِسَافِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَدْعُو، وَيُكَبِّرُ، وَيَحْمَدُ، وَيُهَلِّلُ، حَتَّى جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ، وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2017

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں،میں مدینہ طیبہ میں تیر اندازی کر رہا تھا کہ سورج کو گرہن لگ گیا میں نے تیروں کو پھینک دیا اور سوچا کہ اللہ کی قسم میں ضرور دیکھوں گا کہ سورج گرہن کی صورت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا طریقہ اختیار فرماتے ہیں پس میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز میں کھڑے تھے اور آپ نے ہاتھ اٹھا رکھے تھے پس آپ نے سبحان اللہ،الحمدللہ، لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہنا شروع کر دیا اور دعا مانگنے لگے حتیٰ کہ گرہن دور ہوگیا جب سورج روشن ہوگیا تو آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٩؛حدیث نمبر٢٠١٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنْتُ أَرْتَمِي بِأَسْهُمٍ لِي بِالْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَنَبَذْتُهَا، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، قَالَ: «فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يُسَبِّحُ، وَيَحْمَدُ، وَيُهَلِّلُ، وَيُكَبِّرُ، وَيَدْعُو، حَتَّى حُسِرَ عَنْهَا»، قَالَ: «فَلَمَّا حُسِرَ عَنْهَا، قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ».

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2018

حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، تیر اندازی کر رہا تھا کہ سورج کو گرہن لگا۔آگے حدیث نمبر ٢٠١٨ کی طرح بیان کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٩؛حدیث نمبر٢٠١٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ لِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2019

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دیتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بے شک سورج اور چاند کو کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں پس جب تم یہ حالت دیکھو تو نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٣٠؛حدیث نمبر٢٠٢٠)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا»

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2020

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس دن سورج کو گرہن لگا جس دن حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگتا پس جب تم یہ بات دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور نماز پڑھو حتیٰ کہ سورج روشن ہوجائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٣٠؛حدیث نمبر٢٠٢١)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللهَ وَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ»

Muslim Shareef, Kitabul Kusuf, Hadees No. 2021

Muslim Shareef : Kitabul Kusuf

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْكُسُوفِ

|

•