
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگ گیا تو آپ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے آپ نے نہایت طویل قیام کیا پھر رکوع کیا اور اسے نہایت لمبا کیا پھر سرانور اٹھایا تو طویل قیام فرمایا جو پہلے قیام سے کم تھا پھر رکوع فرمایا تو اسے بہت لمبا کیا لیکن پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے تو طویل لیکن پہلے والے سے کم قیام کیا پھر رکوع کیا اور اسے لمبا کیا لیکن پہلے والے سے کم تھا پھر سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے رہے لیکن یہ قیام پہلے والے قیام سے کم تھا پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدہ کیا پھر سلام پھیرا اور سورج روشن ہوچکا تھا آپ نے صحابہ کرام کو خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اور کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگتا۔پس جب تم اسے دیکھو تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو اس سے دعا مانگو۔نماز پڑھو اور صدقہ دو۔اے امت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کو اس بات پر غصہ نہیں آتا کہ اس کا کوئی بندہ پابندی زنا کرے۔اے امت محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)اگر تمہیں معلوم ہوتا جو کچھ مجھے معلوم ہے تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے۔ سنو!کیا میں نے(اللہ کا دین پہنچا دیا؟)حضرت امام مالک کی روایت میں کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛ترجمہ؛نماز کسوف کا بیان؛جلد. ٢؛ص٦١٨؛حدیث نمبر١٩٨٨)
Muslim Shareef Kitabul Kusuf Hadees No# 1989
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی(ظاہری)حیات طیبہ میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے آپ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور صحابہ کرام آپکے پیچھے صف بستہ ہوئے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت کی پھر تکبیر کہی اس کے بعد طویل رکوع کیا پھر سر انور کو اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد"کہا پھر سجدہ کیا۔ابوالطاہر کی روایت میں سجدے کا ذکر نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کہا حتیٰ کہ چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے اور سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہوگیا پھر کھڑے ہوکر خطبہ دیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان حمدوثنا کی۔ پھر فرمایا سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگتا جب تم یہ صورت دیکھو تو نماز کی طرح جلدی کرو آپ نے یہ بھی فرمایا پس نماز پڑھو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس کو تم سے کھول دے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے مقام پر ہر اس چیز کو دیکھا جس کا تم سے وعدہ کیا گیا حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں نے جنت کا خوشہ توڑنے کا ارادہ کیا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھ رہا ہوں۔ اور میں نے یقیناً جہنم کو دیکھا کہ اس کا بعض حصہ دوسرے بعض کو توڑ رہا ہے جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹ رہا ہوں اور میں نے اس میں عمرو بن لحی کو دیکھا جس نے اسے پہلے بتوں سے نامزد کیا(اور ان کا کھانا حرام قرار دیا) ابوالطاہر کی روایت وہاں ختم ہوگئی تھی جہاں فرمایا نماز کے لئے جلدی کرو بعد والا کلام ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦١٩؛حدیث نمبر١٩٩٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ نے ایک منادی بھیجا جس نے اعلان کیا کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے پس جمع ہوجاؤ۔ پس آپ آگے بڑھے اور تکبیر کہی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢٠؛حدیث نمبر١٩٩١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قرأت کی پس آپ نے دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔(چونکہ اس نماز میں قیام لمبا تھا اس لئے پچھلی صفوں والے لوگوں کو مغالطہ لگا اور اس طرح ایک رکوع کو دو رکوع سمجھ لیا گیا ورنہ ہر رکعت میں ایک رکوع تھا)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢٠؛حدیث نمبر١٩٩٢)
ابن عباس رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں چار رکوع کیے اور چار سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢٠؛حدیث نمبر١٩٩٣)
ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کرتے تھے جب سورج کو گرہن لگا تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی مثل ذکر کیا جو حضرت عروہ کے واسطے سے مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢٠؛حدیث نمبر١٩٩٤)
حضرت عبید بن نمیر فرماتے ہیں مجھ سے اس نے بیان کیا جس کی حدیث کو میں تسبیح سمجھتا ہوں ان کی مراد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آپ نے طویل قیام کیا پھر رکوع کیا پھر کھڑے ہوے پھر رکوع کیا پھر کھڑے ہوئے آپ نے دو رکعتیں نماز پڑھی ہر رکعت میں تین رکوع اور چار سجدے کئے سلام پھیرا تو سورج روشن ہوچکا تھا اور آپ جب بھی رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے پھر رکوع کرتے اور جب سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ہیں پس آپ(نماز کے بعد)کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا بے شک سورج اور چاند کو کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔اللہ تعالی ان کے ذریعے خوف پیدا فرماتا ہے پس جب تم گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو حتیٰ کہ سورج روشن ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢٠؛حدیث نمبر١٩٩٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ صَلَاةِ الْكُسُوفِ؛جلد ٢؛ص٦٢١؛حدیث نمبر١٩٩٦)
حضرت عمرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کرنے لگی اور پھر کہا اللہ تعالیٰ آپ کو عذاب قبر سے بچائے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگوں کو قبر میں عذاب ہوگا۔حضرت عمرہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنين نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے پھر ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سواری پر سوار ہوے اور اس دن سورج کو گرہن بھی لگا تھا ام المومنین فرماتی ہیں میں کچھ عورتوں کے ہمراہ حجرہ کی پچھلی جانب سے مسجد میں آئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے حتیٰ کہ نماز پڑھانے کی جگہ تشریف لے گئے جہاں پر آپ نماز پڑھایا کرتے تھے۔آپ کھڑے ہوئے اور صحابہ کرام بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے آپ نے ایک لمبا قیام کیا اور ایک طویل رکوع کیا پھر کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا لیکن پہلے قیام سے کم تھا پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا۔پھر کھڑے ہوئے اور سورج روشن ہوچکا تھا آپ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ تم لوگ قبروں میں دجال کے فتنوں کی طرح فتنوں میں مبتلا ہوگئے۔حضرت عمرہ فرماتی ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتی تھیں میں اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتی آپ جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے(تعلیم امت کے لئے ایسا کرتے ورنہ آپ تو معصوم ومحفوظ ہیں)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ؛ترجمہ؛نماز خسوف میں عذاب قبر کا بیان؛جلد ٢؛ص٦٢١؛حدیث نمبر١٩٩٧)
Muslim Shareef Kitabo Salatil Kusuf Hadees No# 1998
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک سخت گرم دن میں سورج کو گرہن لگ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی۔آپ نے طویل قیام فرمایا حتیٰ کہ قریب تھا کہ وہ حضرات گر پڑیں پھر طویل رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا پھر طویل رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور(دوسری رکعت میں)اسی طرح عمل کیا۔پس آپ نے چار رکوع اور چار سجدے کئے پھر فرمایا مجھ پر وہ تمام چیزیں پیش کی گئیں جن میں تم داخل ہوگے مجھ پر جنت پیش کی گئی حتیٰ کہ اگر میں اس سے کوئی خوشبو لینا چاہتا تو لے لیتا لیکن میں نے اس سے اپنا ہاتھ روک لیا اور مجھ پر جہنم کو پیش کیا گیا تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت کو دیکھا جسے ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جارہا ہے اس نے اس کو باندھ دیا تھا نہ تو اسے کھانے کے لئے کچھ دیتی اور نہ کھلا چھوڑتی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑوں سے کچھ کھالیتی اور میں نے ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی چادر کھینچ رہا ہے۔ اور وہ لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند کو کسی بڑی شخصیت کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے حالانکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ تمہیں دکھاتا ہے پس جب ان کو گرہن لگے تو نماز پڑھو حتیٰ کہ ان کی روشنی بحال ہوجائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٢؛حدیث نمبر١٩٩٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٩٩ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں فرمایا کہ میں نے جہنم میں ایک لمبی کالی عورت کو دیکھا بنی اسرائیل کا ذکر نہیں فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٣؛حدیث نمبر٢٠٠٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اس دن سورج کو گرہن لگا جس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے کہا حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے وصال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ نے چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی آغاز تکبیر سے کیا پھر طویل قرأت فرمائی۔پھر قیام کی طرح رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھاکر قرأت کی جو پہلی قرأت سے کم تھی پھر قیام کی مناسبت سے رکوع کیا پھر رکوع سے سر انور اٹھایا اور پہلی قرأت کے مقابلے میں کم قرأت کی پھر قیام کے برابر رکوع کیا پھر سر انور اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے اور دو سجدے کئے پھر(دوسری رکعت کے لئے)کھڑے ہوئے اور اس میں بھی تین رکوع کئے اور ہر رکوع سے پہلا رکوع لمبا تھا اور رکوع سجدے کی مناسبت سے برابر برابر تھا۔پھر پیچھے ہٹ گئے اور صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں حتیٰ کہ ہم آخر تک پہنچ گئے۔ ابوبکر(راوی)کہتے ہیں حتیٰ کہ ہم عورتوں تک پہنچ گئے اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے حتیٰ کہ اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور جب سلام پھیرا تو سورج روشن ہوگیا تھا۔ آپ نے فرمایا اے لوگوں!بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور لوگوں میں سے کسی کی موت کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگتا۔ ابوبکر کی روایت میں کسی انسان کی موت کا ذکر ہے،پس جب اس سلسلے میں کوئی بات دیکھو تو نماز پڑھو حتیٰ کہ روشنی ہوجائے۔تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے میں نے اسے اپنی اس نماز میں دیکھ لیا ہے آگ کو لایا گیا اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹ گیا مجھے خوف ہوا کہ اس کی لپیٹ مجھ تک نہ پہنچ جائے حتیٰ کہ میں نے اس میں لاٹھی والے کو دیکھا جو اپنی لکڑیوں کو جہنم میں کھینچ رہا تھا وہ اس کے ساتھ حاجیوں کی چوری کرتا تھا اگر حاجی کو پتہ چلتا تو کہتا یہ تو میری لاٹھی کے ساتھ اٹک گیا ہے اور اگر وہ غافل ہوتا تو وہ لے جاتا اور حتیٰ کہ میں نے اس میں بلی والی عورت کو دیکھا جس نے اسے باندھ رکھا تھا نہ تو اسے کھانے کے لئے کچھ دیتی اور نہ کھلا چھوڑتی کہ وہ کیڑے مکوڑے کھاتی حتیٰ کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔پھر جنت کو لایا گیا اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتیٰ کہ اپنی جگہ کھڑا ہوا اور میں نے اپنے ہاتھ کو آگے بڑھایا تاکہ اس کے پھل سے لوں اور تم اس کو دیکھو پھر مجھے خیال ہوا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے پس تم سے جس چیز کا بھی وعدہ کیا گیا ہے میں نے اسے اپنی اس نماز میں دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٣؛حدیث نمبر٢٠٠١)
حضرت اسماء(بنت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ)بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا تو میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا میں نے پوچھا کوئی علامت ہے؟فرمایا ہاں پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت طویل قیام کیا حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہو گئی میں نے مشکیزے سے پانی لے کر اپنے سر یا چہرے پر ڈالنا شروع کردیا۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہوچکا تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو خطبہ دیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا میں نے جس چیز کو نہیں دیکھا اپنے اس مقام پر دیکھ لیا حتیٰ کہ جنت اور جہنم کو بھی دیکھا اور مجھ پر وحی کی گئی کہ عنقریب تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے یا فرمایا دجال کے فتنے کے مثل آزمائش ہوگی معلوم نہیں حضرت اسماء نے ان سے کونسی بات فرمائی۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں تم میں سے ہر شخص کو لایا جائے گا اور کہا جاے گا اس شخص کے بارے میں کیا جانتے ہو تو مومن کہے گا یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جو روشن نشانیاں اور ہدایت لے کر تشریف لائے۔پس ہم نے ان کی اطاعت کی تین مرتبہ سوال وجواب ہوگا پس اس سے کہا جائے گا سو جاؤ ہمیں معلوم تھا کہ تم ان پر ایمان رکھتے ہو تم صالح ہو سو جاؤ لیکن منافق یا شک کرنے والا(راوی کہتے ہیں معلوم نہیں حضرت اسماء نے کون سا لفظ کہا)کہے گا مجھے معلوم نہیں میں لوگوں سے سن کر وہی بات کہتا تھا جو وہ کہتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلدط٢؛ص٦٢٤؛حدیث نمبر٢٠٠٢)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو صحابہ کرام کھڑے تھے اور ام المومنین بھی نماز پڑھ رہی تھیں میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہوا؟اس کے بعد حدیث نمبر ٢٠٠٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٤؛حدیث نمبر٢٠٠٣)
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورج کے لئے کسوف نہ کہو خسوف کا لفظ کہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٥؛حدیث نمبر٢٠٠٤)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک دن سورج گرہن کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے تو آپ نے(گھبراہٹ میں)گھر والوں(میں سے کسی کی)قمیص لے لی حتیٰ کہ آپ کو چادر لا کر دی گئی پس آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ طویل قیام کیا کہ اگر کوئی شخص آتا تو اسے پتہ نہ چلتا کہ آپ نے رکوع کیا ہے اسی لئے طویل قیام کی وجہ سے آپ سے رکوع کی روایت کی گئی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٥؛حدیث نمبر٢٠٠٥)
ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٠٥ کی مثل روایت کیا ہے اور فرمایا آپ نے طویل قیام کیا پھر رکوع کیا اور یہ اضافہ کیا کہ(حضرت اسماء فرماتی ہیں)میں ایک عورت کو دیکھتی تھی جو مجھ سے زیادہ بڑی تھی اور دوسری کو دیکھتی جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٥؛حدیث نمبر٢٠٠٦)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبراہٹ میں کسی کی قمیص لے لی حتیٰ کہ آپ کو چادر پیش کی گئی وہ فرماتی ہیں میں قضائے حاجت سے فارغ ہوکر آئی اور مسجد میں داخل ہوئی تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہیں میں بھی آپ کے ساتھ کھڑی ہوگئی آپ نے طویل قیام کیا حتیٰ کہ میں نے سوچا کہ میں بیٹھ جاؤں پھر میں نے ایک کمزور عورت کو دیکھا تو کہا یہ تو مجھ سے زیادہ کمزور ہے پس میں کھڑی رہی آپ نے لمبا رکوع کیا پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا حتیٰ کہ اگر کوئی شخص آتا تو خیال کرتا کہ آپ نے رکوع نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٥؛حدیث نمبر٢٠٠٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہواتو آپ نے نماز پڑھائی صحابہ کرام آپ کے ساتھ تھے تو آپ نے ایک طویل قیام کیا جو سورہ بقرہ(کی قرأت)کے برابر تھا۔پھر ایک طویل رکوع کیا پھر سر انور اٹھایا تو طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا پھرطویل رکوع کیاجو پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے تو طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر سر انور اٹھایا تو قیام فرمایا جو طویل تھا لیکن پہلے سے کم تھا پھر طویل لیکن پہلے سے کم رکوع کیا پھر سجدہ کیا پھر سلام پھیرا تو سورج روشن ہوچکا تھا آپ نے فرمایا سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگا جب تم یہ حالت دیکھو تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے دیکھا کہ آپ اپنے اس مقام سے کسی چیز کو پکڑنے لگے تھے پھر آپ رک گئے آپ نے فرمایا میں نے جنت کو دیکھا تو اس سے ایک خوشہ توڑنے لگا اور اگر میں اسے توڑ لیتا تو جب تک دنیا باقی ہے تم اسے کھاتے رہتے اور میں نے جہنم کو دیکھا تو اس جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور اس میں میں نے زیادہ عورتوں کو دیکھا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس کی کیا وجہ ہے؟فرمایا ان کے نافرمانی کی وجہ سے،پوچھا گیا کیا وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتی ہیں فرمایا نہیں بلکہ وہ خاوند کی نافرمانی کرتی ہیں اور احسان کا انکارکرتی ہیں اگر تم ان میں سے کسی ایک سے عمر بھر نیکی کرو پھر تم سے کوئی(ناپسندیدہ)بات دیکھیں تو کہتی ہیں میں نے تمہارے پاس کبھی اچھائی نہیں دیکھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٦؛حدیث نمبر٢٠٠٨)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٢٠٠٨ کی مثل مروی ہے۔اس میں ہے پھر ہم نے آپ کو پیچھے ہٹتے دیکھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛ بَابُ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد ٢؛ص٦٢٧؛حدیث نمبر٢٠٠٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن لگنے کے وقت،آٹھ رکوع اور چار سجدے کے ساتھ نماز پڑھائی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ مَنْ قَالَ: إِنَّهُ رَكَعَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ؛جلد ٢؛ص٦٢٧؛حدیث نمبر٢٠١٠)
Muslim Shareef Kitabul Kusuf Hadees No# 2011
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب سورج کو گرہن لگا تو آواز دی گئی۔"نماز کھڑی ہونے والی"ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے پھر سورج روشن ہوگیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس طویل رکوع اور اس سے لمبا سجدہ کبھی نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٧؛حدیث نمبر٢٠١٢)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔اللہ تعالی ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور کسی انسان کی موت کے سبب ان کو گرہن نہیں لگتا پس جب تم اس سے کوئی بات دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو حتیٰ کہ تمہارے لئے یہ روشن ہوجائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٨؛حدیث نمبر٢٠١٣)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک سورج اور چاند کو کسی انسان کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں پس جب یہ بات دیکھو تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٨؛حدیث نمبر٢٠١٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے کہ جس دن حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا اس دن سورج کو گرہن لگا تو لوگوں نے کہا حضرت ابراہیم کہ وفات کی وجہ سے سورج کو گرہن لگا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٨؛حدیث نمبر٢٠١٥)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو گھبراہٹ کی حالت میں کھڑے ہوئے۔آپ کو ڈر تھا کہ قیامت آگئی حتیٰ کہ مسجد میں تشریف لائے اور طویل قیام کیا،رکوع اور سجدہ کیا میں نے آپ کو کسی نماز میں اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا پھر فرمایا یہ نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے کسی کی موت یا زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو بھیج کر لوگوں کو ڈراتا ہے پس جب تم ان میں سے کوئی بات دیکھو تو اس کے ذکر دعا اور طلب مغفرت کے ساتھ پناہ حاصل کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٩؛حدیث نمبر٢٠١٦)
حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تیر اندازی کر رہا تھا کہ سوچا کہ دیکھتا ہوں کہ آج اس گرہن کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ہاتھ اٹھاتے ہوئے دعا مانگ رہے تھے آپ نے تکبیر کہی اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی اور لاالہ الا اللہ پڑھا۔حتیٰ کہ سورج روشن ہوگیا تو آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعات نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٩؛حدیث نمبر٢٠١٧)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں،میں مدینہ طیبہ میں تیر اندازی کر رہا تھا کہ سورج کو گرہن لگ گیا میں نے تیروں کو پھینک دیا اور سوچا کہ اللہ کی قسم میں ضرور دیکھوں گا کہ سورج گرہن کی صورت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا طریقہ اختیار فرماتے ہیں پس میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز میں کھڑے تھے اور آپ نے ہاتھ اٹھا رکھے تھے پس آپ نے سبحان اللہ،الحمدللہ، لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہنا شروع کر دیا اور دعا مانگنے لگے حتیٰ کہ گرہن دور ہوگیا جب سورج روشن ہوگیا تو آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٩؛حدیث نمبر٢٠١٨)
حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، تیر اندازی کر رہا تھا کہ سورج کو گرہن لگا۔آگے حدیث نمبر ٢٠١٨ کی طرح بیان کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٢٩؛حدیث نمبر٢٠١٩)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دیتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بے شک سورج اور چاند کو کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں پس جب تم یہ حالت دیکھو تو نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٣٠؛حدیث نمبر٢٠٢٠)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس دن سورج کو گرہن لگا جس دن حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے ان کو گرہن نہیں لگتا پس جب تم یہ بات دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور نماز پڑھو حتیٰ کہ سورج روشن ہوجائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْكُسُوفِ؛بَابُ ذِكْرِ النِّدَاءِ بِصَلَاةِ الْكُسُوفِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ؛جلد ٢؛ص٦٣٠؛حدیث نمبر٢٠٢١)
Muslim Shareef : Kitabul Kusuf
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْكُسُوفِ
|
•