
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے مرنے والوں کو لاالہ الا اللہ پڑھنے کی تلقین کرو۔(یعنی قریب الموت شخص کے سامنے کلمہ پڑھا جائے اسے نہ کہا جائے کہ کہیں وہ انکار نہ کردے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛بَابُ تَلْقِينِ الْمَوْتَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛ترجمہ؛مرنے والوں کو لاالہ الا اللہ پڑھنے کی تلقین کرنا؛جلد ٢؛ص٦٣١؛حدیث نمبر٢٠٢٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٢٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛بَابُ تَلْقِينِ الْمَوْتَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد ٢؛ص٦٣١؛حدیث نمبر٢٠٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے مرنے والوں کو لاالہ الا اللہ(پڑھنے)کی تلقین کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛بَابُ تَلْقِينِ الْمَوْتَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد ٢؛ص٦٣١؛حدیث نمبر٢٠٢٤)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یوں کہتا ہے"انا للہ وانا الیہ راجعون اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرامنھا"بےشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔یااللہ!مجھے میری اس مصیبت میں اجر عطاء فرما اور اس سے بہتر عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔آپ فرماتی ہیں جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو میں نے کہا ابوسلمہ سے بہتر مسلمان کون ہو سکتا ہے جس گھر نے سب سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی پھر میں نے وہ(مذکورہ بالا)کلمات کہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد میرے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقرر فرما دیا۔(حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح کیا) ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب بن ابی بلتعہ کو میرے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا تو میں نے کہا میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت مند ہوں آپ نے فرمایا جہاں تک اس کی بیٹی کا تعلق ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے اس(بیٹی)کی طرف سے بے نیاز کردے اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ یہ غیرت اس سے دور ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ؛ترجمہ؛مصیبت کے وقت کیا کہا جائے؛جلد ٢؛ص٦٣١؛حدیث نمبر٢٠٢٥)
ابن سفینہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں وہ فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو بندہ مصیبت کے وقت یہ کلمات کہے۔ "بےشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور بلاشبہ ہم نے اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔یااللہ!مجھے میری اس مصیبت میں اجر دے اور میرے لئے اس سے بہتر مقرر کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی اس مصیبت میں اجر دیتا ہے اور اس سے بہتر عطاء کرتا ہے فرماتی ہیں جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو میں نے وہی کہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عطاء فرمادئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ؛جلد ٢؛ص٦٣١؛حدیث نمبر٢٠٢٦)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٠٢٦ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو میں نے سوچا حضرت ابوسلمہ سے بہتر کون ہوگا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈال دیا تو میں نے دعا پڑھی۔فرماتی ہیں پس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آگئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛بَابُ تَلْقِينِ الْمَوْتَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد ٢؛ص٦٣٣؛حدیث نمبر٢٠٢٧)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی مریض یا میت کے پاس جاؤ تو اچھی بات کہو کیونکہ فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں۔ فرماتی ہیں جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوگیا آپ نے فرمایا یوں کہو۔ "اللھم اغفر لی ولہ واعقبنی منہ عقبیٰ حسنۃ"یا اللہ!مجھے اور ان کو بخش دے اور مجھے ان کے بعد بہتر عطا فرما۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بہتر شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے لئے مقرر فرما دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمَرِيضِ وَالْمَيِّتِ؛ترجمہ؛مریض اور میت کے پاس کیا کہا جائے؛جلد ٢؛ص٦٣٣؛حدیث نمبر٢٠٢٨)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں آپ نے ان کو بند کیا پھر فرمایا جب روح قبض ہوتی ہے تو نگاہ اس کے پیچھے جاتی ہے(یہ سن کر)ان کے گھر والے رونے لگے تو آپ نے فرمایا اپنے نفسوں کے لئے صرف بھلائی کی دعا کرو کیونکہ فرشتے تمہاری دعا پر آمین کہتے ہیں پھر فرمایا۔ یا اللہ!ابو سلمہ کو بخش دے اور ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کا درجہ بلند فرما ان کے بعد والوں کی نگرانی فرما ہمیں اور ان کو بخش دے اے تمام جہانوں کے رب!ان کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے ان کے لیے منور کردے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي إِغْمَاضِ الْمَيِّتِ وَالدُّعَاءِ لَهُ إِذَا حُضِرَ؛جلد ٢؛ص٦٣٤؛حدیث نمبر٢٠٢٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٢٩ کی مثل مروی ہے اور اس کی دعا میں یہ کلمات ہیں۔اے اللہ ان کی قبروں کو وسیع کردے۔حضرت خالد الحداء نے ساتویں دعا بھی ذکر کی جسے راوی بھول گئے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي إِغْمَاضِ الْمَيِّتِ وَالدُّعَاءِ لَهُ إِذَا حُضِرَ؛جلد ٢؛ص٦٣٤؛حدیث نمبر٢٠٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے جب انسان مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کی آنکھیں روح کا پیچھا کرتی ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي شُخُوصِ بَصَرِ الْمَيِّتِ يَتْبَعُ نَفْسَهُ؛جلد ٢؛ص٦٣٥؛حدیث نمبر٢٠٣١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٣١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي شُخُوصِ بَصَرِ الْمَيِّتِ يَتْبَعُ نَفْسَهُ؛جلد ٢؛ص٦٣٥؛حدیث نمبر٢٠٣٢)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو میں نے کہا اجنبی ہیں اور اجنبی زمین میں جارہے ہیں۔میں ان پر اس طرح ضرور روؤں گی کہ اس کی شہرت ہوگی پس میں ان پر رونے کے لئے تیار ہوئی کہ(مدینہ طیبہ کے)بالائی حصے میں ایک عورت میری مدد کے لئے آئی اتنے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے فرمایا تم شیطان کو گھر میں داخل کرنا چاہتی ہو جسے اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ نکالا ہے پس میں(رونے سے)رک گئی اور نہیں روئی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛َبَابُ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛موت پر رونا؛جلد ٢؛ص٦٣٥؛حدیث نمبر٢٠٣٣)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ کی ایک صاحبزادی نے آپ کو بلا بھیجا اور بتایا کہ ان کا ایک بیٹا یا بیٹی موت کی حالت میں ہے۔آپ نے پیغام رساں سے فرمایا ان کے پاس واپس جاؤ اور ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ اس نے لیا اور جو عطاء کیا اور اس کے ہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ان سے کہو کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں۔قاصد دوبارہ آیا اور اس نے کہا کہ انہوں نے(آپ کی صاحبزادی نے)قسم دی ہے کہ آپ ضرور تشریف لائیں۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہمابھی تھے اور میں بھی ان حضرات کے ساتھ چلا گیا۔بچہ اٹھا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور اس کا سانس اکھڑ رہا تھا گویا پرانی مشک سے آواز نکلتی ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے ان پر رحم فرماتا ہے جو رحم کرنے والے ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛َبَابُ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٣٥؛حدیث نمبر٢٠٣٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ پہلی حدیث طویل اور مکمل ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛َبَابُ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٣٦؛حدیث نمبر٢٠٣٥)
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت عبد الرحمن بن عوف،حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے ہمراہ تشریف لائے جب ان کے پاس پہنچے تو ان کو بیہوشی کی حالت میں پایا آپ نے پوچھا کیا یہ فوت ہوگئے ہیں؟حاضرین نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رونا شروع کر دیا جب حاضرین نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رونے لگے آپ نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں کے آنسوؤں اور دل کے غم پر عذاب نہیں دیتا بلکہ اس کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم فرماتا ہے۔آپ نے زبان کی طرف اشارہ کیا۔(بین کرنا اور زبان سے طرح طرح کے کلمات نکالنا منع ہے آنسوؤں کے ساتھ رونا فطری بات ہے یہ منع نہیں۔)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛َبَابُ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٣٦؛حدیث نمبر٢٠٣٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک شخص آیا اور اس نے سلام کیا پھر وہ انصاری جانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے انصار کے بھائی!ہمارے بھائی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے اس نے کہا ٹھیک ہیں آپ نے پوچھا تم میں سے کون ان کی عیادت کرے گا پس آپ کھڑے ہوگئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ہم دس سے کچھ اوپر تھے ہمارے پاس جوتے نہ موزے نہ ٹوپیاں اور نہ ہی قمیص اور ہم(اسی حالت میں)اس پتھریلی زمین پر چل رہے تھے حتیٰ کہ ہم ان کے پاس پہنچے ان کے قریب والے لوگ پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے وہ صحابہ کرام جو آپ کے ساتھ تھے ان کے قریب ہوے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي عِيَادَةِ الْمَرْضَ؛ترجمہ؛عیادتِ مریض؛جلد ٢؛ص٦٣٧؛حدیث نمبر٢٠٣٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ؛مصیبت پر صبر کرنا؛جلد ٢؛ص٦٣٧؛حدیث نمبر٢٠٣٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس تشریف لے گئے جو اپنے بچے پر رو رہی تھی۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صبر کرو اس نے کہا آپ کو میری مصیبت کا اندازہ ہے جب آپ تشریف لے گئے تو اسے بتایا گیا۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں(یہ سن کر)گویا اس پر موت طاری ہوگئی وہ آپ کے دروازے پر آئی تو آپ کے دروازے پر کسی دربان کو نہ پایا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا آپ نے فرمایا صبر پہلے صدمے کے وقت(معتبر)ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ؛جلد ٢؛ص٦٣٧؛حدیث نمبر٢٠٣٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے۔جس میں یوں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ؛جلد ٢؛ص٦٣٨؛حدیث نمبر٢٠٤٠)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لئے رونے لگیں تو انہوں نے(حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے)فرمایا اے بیٹی!رک جاؤ کیا تم نہیں جانتی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں کے اس رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٣٨؛حدیث نمبر٢٠٤١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت پر رونے کی وجہ سے اسے قبر میں عذاب ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٣٨؛حدیث نمبر٢٠٤٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان پر چیخ وپکار کی گئی جب ان کو ہوش آیا تو فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٣٩؛حدیث نمبر٢٠٤٣)
حضرت ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب حضرت عمر سخت زخمی ہوئے تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ(بلند آواز سے)کہنے لگے ہاے بھائی!پس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اے صہیب کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زندہ کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٣٩؛حدیث نمبر٢٠٤٤)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے آے اور آپ کے پاس پہنچنے کے بعد سامنے کھڑے ہوکر رونے لگے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کس پر رو رہے ہو؟کیا مجھ پر روتے ہو؟فرمایا اللہ کی قسم اے امیرالمومنین!میں آپ پر رو رہا ہوں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!تم جانتے ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس پر رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے راوی فرماتے ہیں میں نے یہ بات حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں وہ یہودی تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٣٩؛حدیث نمبر٢٠٤٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ان پر زور زور سے رونے لگیں انہوں نے فرمایا جس پر رویا جاتا ہے اسے عذاب ہوتا ہے۔پھر حضرت صہیب رضی اللہ عنہ رونے لگے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے بھی فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ جس پر رویا جاتا ہے اسے عذاب ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٠؛حدیث نمبر٢٠٤٦)
حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ہم ام ابان بنت عثمان کے جنازے کے منتظر تھے اور انکے پاس عمرو بن عثمان تھے کہ اتنے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ایک شخص ان کو لا رہا تھا۔(کیونکہ ان کی بینائی چلی گئی تھی)میرا خیال ہے کہ ان کو حضرت ابن عمر کی جگہ بتا دی گئی تھی پس وہ تشریف لاکر میرے پہلو میں بیٹھ گئے پس میں ان دونوں کے درمیان تھا کہ اتنے میں گھر کے اندر سے آواز آئی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے گویا حضرت عمرو بن عثمان کو اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جاکر ان کو منع کریں کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حکم کو عام رکھا اس میں کوئی قید نہیں لگائی(کہ مرنے والے نے وصیت کی یا نہیں کی)تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے جب ہم مقام بیداء میں پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جو درخت کے سامنے میں اترا تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور مجھے بتاؤ تو وہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان سے کہو کہ وہ ہمارے پاس آئیں میں نے عرض کیا کہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی ہیں فرمایا اگرچہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ہوں۔ پس جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے تو زیادہ دن نہ گزرے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوگیا حضرت صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور ہاے بھائی!ہائے دوست!کہ کر پکارنے لگے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں یا تم نے نہیں سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں میں سے بعض کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مطلق کہا تھا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بعض گھر والوں کا ذکر کیا۔پس میں کھڑا ہوا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا۔تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گز یہ بات نہیں فرمائی کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے بلکہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ گھر والوں کے رونے کی وجہ سے کافر کے عذاب میں اضافہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے اور کوئی شخص کسی گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ حضرت ایوب(راوی)فرماتے ہیں حضرت ابن ملیکہ نے فرمایا یہ بات مجھ سے حضرت قاسم بن محمد نے بیان کی کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا تم نے جن لوگوں سے یہ بات روایت کی ہے وہ نہ تو جھوٹے ہیں اور نہ ہی ان کو جھٹلایا جاتا ہے بلکہ سننے میں غلطی لگی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤١؛حدیث نمبر٢٠٤٧)
حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں مکہ مکرمہ میں حاضری کے لئے آئے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف لائے۔ راوی فرماتے ہیں میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا فرماتے ہیں (پہلے)میں ان میں سے ایک کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا پھر دوسرے تشریف لائے اور میرے پہلو میں تشریف فرما ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عثمان سے فرمایا اور وہ ان کے سامنے تھے کہ کیا تم رونے سے نہیں رکتے بےشک رسول اکرم صل للہ علیہ السلام نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں کےاس پر رونے سے عذاب ہوتا ہے اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی اس قسم کی کچھ بات فرماتے تھے پھر انہوں نے بیان کیا اور فرمایا میں مکہ مکرمہ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ چلا حتی کہ جب مقام بیدا میں پہنچا تو وہاں کچھ سواردرخت کے سائے کے نیچے تھے۔آپ نے فرمایا جاؤ اور دیکھو یہ سوار کون ہے۔ فرماتے ہیں میں نے دیکھا تو وہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ تھے میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بتایا تو آپ نے فرمایا ان کو میرے پاس بلاؤ فرماتے ہیں میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ میرے ساتھ امیرالمومنین کے پاس چلیں پھر جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ہائے بھائی ہائے دوست!حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے صہیب!کیا تم مجھ پر رو رہے ہو حالانکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ السلام نے فرمایا بےشک میت کو اس کے بعض گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب ہوتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی۔انہوں نے فرمایا اللہ تعالٰی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے اللہ کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ السلام یہ نہیں فرمایا کہ کسی کے رونے سے مومن کو عذاب دیتا ہے بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالٰی کافر کو اس کے گھر والوں کےاس پر رونے سے عذاب دیتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تمہیں قرآن کافی ہے جس(میں فرمایا"وَلاَ تزر وازرۃ وزر اخری"کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائےگا۔ اس وقت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالٰی ہنساتا اور رلاتا ہے۔ابن ملیکہ فرماتے ہیں اللہ تعالٰی کی قسم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ فرمایا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٢؛حدیث نمبر٢٠٤٨)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث حضرت ابن ملیکہ سے مروی ہے لیکن اس میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک رفع کا ذکر نہیں کیا پہلی روایات مکمل ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٢؛حدیث نمبر٢٠٤٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو زندہ لوگوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٢؛حدیث نمبر٢٠٥٠)
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول ذکر کیا گیا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب ہوتا ہے تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے۔انہوں نے ایک بات سنی اور اسے یاد نہ رکھ سکے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی کا جنازہ گزرا اور وہ اس پر رو رہے تھے تو آپ نے فرمایا تم رو رہے ہو اور اسے عذاب ہو رہا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٢؛حدیث نمبر٢٠٥١)
حضرت ہشام اپنے والد(حضرت عروہ رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حدیث مرفوع بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو قبر میں اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ اسے اس کی خطا اور گناہ کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے اب اس پر رو رہے ہیں اور یہ اسی طرح ہے جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر کے دن اس کنویں پر کھڑے ہوے جس میں مشرکین کے مقتولین تھے تو ان سے فرمایا جو کچھ فرمایا اور آپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ میری بات سنتے ہیں اور وہ بھول گئے۔حالانکہ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ جو کچھ میں کہ رہا ہوں وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی۔{إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى} [النمل: ٨٠] {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ} [فاطر: ٢٢]ترجمہ۔"اور آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور جو قبروں میں ہیں آپ ان کو بھی سنانے والے نہیں یہ اس وقت کی خبر دے رہے ہیں جب وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا چکے"۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٣؛حدیث نمبر٢٠٥٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٥٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٣؛حدیث نمبر٢٠٥٣)
حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن سے مروی ہے وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ام المؤمنين نے ان سے ذکر فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میت کو زندہ کے رونے سے عذاب ہوتا ہے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت ابو عبدالرحمن کی مغفرت فرمائے۔انہوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے اور ان سے خطا ہوئی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ عورت کے پاس سے گزرے جس پر رویا جارہا تھا تو اس نے فرمایا یہ لوگ اس پر رورہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٣؛حدیث نمبر٢٠٥٤)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس پر رویا جاے اسے اس نوحہ کی وجہ سے عذاب ہوگا۔(اگر اس نے وصیت کی ہو) (مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٣؛حدیث نمبر٢٠٥٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٥٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٤؛حدیث نمبر٢٠٥٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٠٥٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٤؛حدیث نمبر٢٠٥٧)
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں چار کام جاہلیت(کے کاموں میں)سے ہیں جن کو لوگ نہیں چھوڑیں گے۔ (١)حسب ونسب پر فخر کرنا۔ (٢)دوسروں کے نسب پر طعن کرنا۔ (٣)ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا۔ (٤)اور نوحہ کرنا۔ اور فرمایا نوحہ کرنے والی عورت مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے یوں کھڑا کیا جائے گا کہ اسے گندھک اور خارشی کی قمیص پہنائی جائیں گی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ؛جلد ٢؛ص٦٤٤؛حدیث نمبر٢٠٥٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زید بن حارثہ،حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ مسجد میں بیٹھ گئے آپ کے چہرہ انور سے غم ظاہر ہو رہا تھا۔ام المؤمنين فرماتی ہیں میں دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی آپ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی عورتیں رورہی ہیں آپ نے اسے حکم دیا کہ جا کر ان کو روکیں وہ شخص گیا اور پھر آکر بتایا کہ وہ ان کی بات نہیں مانتیں آپ نے دوبارہ جانے کا حکم دیا اس نے پھر آکر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ ہم پر غالب آگئی ہیں۔ ام المومنین فرماتی ہیں میرا خیال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے دل میں کہا تیری ناک خاک آلود ہو تو وہ کام کیوں نہیں کرتا جس کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے اور آپ کو مشقت سے نجات کیوں نہیں دیتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِِ؛جلد ٢؛ص٦٤٤؛حدیث نمبر٢٠٥٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٥٩ کی مثل مروی ہے اور اس کا آخری جملہ اس طرح ہے اور تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تھکاوٹ سے نجات نہیں دیتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ؛جلد ٢؛ص٦٤٥؛حدیث نمبر٢٠٦٠)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی کہ ہم نوحہ نہیں کریں گے تو پانچ عورتوں کے علاوہ کسی نے یہ عہد پورا نہ کیا۔ام سلیم،ام العلاء،ابو سبرہ کی بیٹی اور معاذ کی بیوی رضی اللہ عنہم۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ؛جلد ٢؛ص٦٤٥؛حدیث نمبر٢٠٦١)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیعت کے وقت ہم سے وعدہ لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی تو ہم میں سے پانچ کے علاوہ نے یہ وعدہ پورا نہ کیا۔ان(پانچ)میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ؛جلد ٢؛ص٦٤٦؛حدیث نمبر٢٠٦٢)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی"آپ سے بیعت کرتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور نیکی کے کاموں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔تو ان میں نوحہ کی ممانعت بھی تھی فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں سوائے آل فلاں کے نوحہ نہیں کروں گی ان لوگوں نے دور جاہلیت میں میری مدد کی تھی۔پس میرے لئے ان کی مدد کرنا ضروری ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تم فلاں پر نوحہ کر سکتی ہو(مرنے والے پر پیٹنا نوحہ ہے۔جس سے اسلام میں منع کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے حاصل شدہ اختیارات کے تحت حضرت ام عطیہ کو اجازت دی کیونکہ آپ بارگاہ خداوندی سے مختار رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ؛جلد ٢؛ص٦٤٦؛حدیث نمبر٢٠٦٣)
حضرت محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا تھا لیکن سختی نہیں کی گئی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَهْيِ النِّسَاءِ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ؛ترجمہ؛عورتوں کا جنازوں کے ساتھ جانا منع ہے؛ جلد ٢؛ص٦٤٦؛حدیث نمبر٢٠٦٤)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا۔لیکن اس سلسلے میں ہم پر سختی نہیں کی گئی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَهْيِ النِّسَاءِ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ؛جلد ٢؛ص٦٤٦؛حدیث نمبر٢٠٦٥)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہے تھے۔آپ نے فرمایا تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا اس سے زیادہ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اگر زیادہ بار ضروری سمجھو اور آخری میں کافور یا فرمایا کافور میں سے کچھ لگا دو اور جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع کر دینا پس جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو اطلاع کی۔آپ نے اپنی چادر مبارک ہماری طرف ڈالی اور فرمایا اسے اس کے جسم سے ملا دو۔(کفن کے نیچے لپیٹ دو)۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛میت کو غسل دینے کا بیان؛جلد ٢؛ص٦٤٦؛حدیث نمبر٢٠٦٦)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم نے ان کی تین مینڈھیاں کیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٧؛حدیث نمبر٢٠٦٧)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہوا۔ایک روایت میں ہے کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھی ۔مالک کی روایت میں ہے کہ آپ اس وقت تشریف لائے جب آپ کی صاحبزادی کا انتقال ہوا پھر حدیث نمبر ٢٠٦٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٧؛حدیث نمبر٢٠٦٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے لیکن اس میں یوں ہے کہ تین بار یاپانچ یا سات یا اس سے زیادہ بار غسل دو اگر ضروری سمجھو اور ام عطیہ فرماتی ہیں ہم نے ان کے بالوں کی تین مینڈھیاں کیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٧؛حدیث نمبر٢٠٦٩)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا طاق بار غسل دو تین یا پانچ یا سات بار،راوی کہتے ہیں حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم نے ان کے بالوں کی تین مینڈھیاں کیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٧؛حدیث نمبر٢٠٧٠)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ان کو طاق بار تین یا پانچ بار غسل دو اور پانچویں بار کافور یا(فرمایا)کافور میں سے کچھ لگاؤ اور جب تم ان کو غسل دے دو تو مجھے بتانا فرماتی ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے ہمیں اپنی چادر مبارک دی اور فرمایا اس کو ان کے جسم کے ساتھ(کفن سے نیچے)ملادو۔(اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ خداوندی میں عزت وشان والے لوگوں کے جسم سے مس کیا ہوا کپڑا فائدہ دیتا ہے کفن پر لکھنے کی اصل بھی یہی ہے کہ میت کو ان کلمات کی برکت حاصل ہوتی ہے جو کفن پر لکھے جاتے ہیں۔ہزاروی١٢)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٨؛حدیث نمبر٢٠٧١)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ نے فرمایا ان کو طاق بار غسل دو پانچ یا اس سے بھی زیادہ بار آگے حدیث نمبر ٢٠٧١ کی مثل مروی ہے۔ حدیث شریف میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ فرماتی ہیں ہم نے آپ کے بالوں کو تین مینڈھیاں کردیں دو کنپٹیوں کی طرف اور ایک پیشانی کے سامنے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٨؛حدیث نمبر٢٠٧٢)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں اپنی صاحبزادی کو غسل دینے کا حکم دیا تو آپ نے فرمایا ان کی دائیں جانب اور وضو کی جگہوں سے شروع کرنا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٨؛حدیث نمبر٢٠٧٣)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کے غسل کے بارے میں فرمایا کہ ان کی دائیں جانب سے اور وضو کے اعضاء کی طرف سے شروع کرنا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٨؛حدیث نمبر٢٠٧٤)
حضرت خباب بن إرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی اس میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب تھی۔پس ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں ثابت ہوگیا ہم میں سے بعض وہ ہیں جو فوت ہوگئے جو فوت ہو گئے اور انہیں(دنیا میں)اجر میں سے کچھ نہ ملا۔ان میں حضرت مصعب بن عمير رضی اللہ عنہ بھی تھے جو احد کے دن شہید ہوئے تو ان کے کفن کے لئے ایک چادر کے سوا کچھ نہ ملا پس جب ہم اسے ان کے سر پر رکھتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پاؤں پر رکھتے تو سر ننگا ہو جاتا پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(چادر)سر کی طرف کردو اور پاؤں پر اذخر(گھاس)ڈال دو اور ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی محنت کا پھل ان کو مل چکا ہے۔اور وہ چن چن کر کھارہے ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛میت کو کفن دینے کا بیان؛جلد ٢؛ص٦٤٩؛حدیث نمبر٢٠٧٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٩؛حدیث نمبر٢٠٧٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےفرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو تین سفید سحولی(سحول مقام کے بنے ہوئے)کپڑوں(چادروں) میں کفن دیا گیا جو سوتی تھیں ان میں قمیص اور عمامہ نہ تھا اور حلہ(دو چادروں پر مشتمل جوڑا)کے بارے میں لوگوں کو شبہ ہو گیا جو آپ کے کفن کے لئے خریدا گیا تھا پس اس(حلے) کو چھوڑ دیا گیا اور آپ کو تین سفید سحولی کپڑوں میں کفن پہنایا گیا۔پھر اسے عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے لے لیا اور فرمایا میں اسے سنبھال کر رکھوں گا۔حتیٰ کہ مجھے اس میں کفن دیا جائے۔پھر فرمایا اگر اللہ تعالٰی اسےچاہتاتو اس کے نبی اکرم صل اللہ علیہ و سلم کے کفن میں استعمال ہوتا۔پس آپ نے اسے بیچ دیا اور اس کی قیمت صدقہ کردی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٩؛حدیث نمبر٢٠٧٧)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ السلام کو ایک یمنی حلے کا کفن پہنایا گیا جو حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا تھا پھر آپ سے اتار لیا گیا اور آپ کو تین سحولی یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں عمامہ اور قمیص نہ تھی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اٹھا لیا اور فرمایا مجھے اس میں کفن دیا جائے پھر فرمایا جب اس میں رسول اکرم صل للہ علیہ السلام کو کفن نہیں دیا گیا تو میں اسے اپنے کفن کے لئے کیسے رکھوں پس آپ نے اسے صدقہ کر دیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٥٠؛حدیث نمبر٢٠٧٨)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے مگر اس میں حضرت عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٥٠؛حدیث نمبر٢٠٧٩)
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو کپڑوں میں کفن دیا گیا تو انہوں نے فرمایا"تین سحولی کپڑوں میں"۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٥٠؛حدیث نمبر٢٠٨٠)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ کو ایک یمنی چادر کے ساتھ ڈھانپا گیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ تَسْجِيَةِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٥١؛حدیث نمبر٢٠٨١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٨١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ تَسْجِيَةِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٥١؛حدیث نمبر٢٠٨٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ ارشاد فرمایا تو اپنے ایک صحابی کا ذکر کیا جن کا انتقال ہوا اور ان کو چھوٹے سے کپڑے میں کفن دے کر رات کے وقت دفن کر دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت دفنانے پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کیوں کہ اس پر نماز پڑھنے کا موقعہ نہ مل سکا فرمایا مجبوری ہو تو الگ بات ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اسے اچھا کفن دے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي تَحْسِينِ كَفَنِ الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛میت کا کفن اچھا ہونا چاہیے؛جلد ٢؛ص٦٥١؛حدیث نمبر٢٠٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جنازہ جلدی لے جایا کرو اگر وہ نیک ہے تو تم اسے بھلائی کی طرف لے جارہے ہو اور اس کے علاوہ ہے تو یہ ایک شر ہے اسے اپنے کندھوں سے اتار دو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛ترجمہ؛جنازہ جلدی لے جانا چاہیے؛جلد ٢؛ص٦٥١؛حدیث نمبر٢٠٨٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٢٠٨٤ کی مثل روایت کرتے ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جلد ٢؛ص٦٥٢؛حدیث نمبر٢٠٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا آپ نے فرمایاجنازہ جلدی لے جاؤ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے بھلائی کے قریب لے جا رہے ہو اور اگر وہ اس کے علاوہ ہے تو وہ شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتاردو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جلد ٢؛ص٦٥٢؛حدیث نمبر٢٠٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں نماز جنازہ کی ادائیگی تک حاضررہے اس کے لئے ایک قیراط(بطور ثواب)ہے اور جو دفن تک موجود ہے اس کے لئے دو قیراط ہے پوچھا گیا قیراط سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا دو بڑے پہاڑوں کی مثل۔حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نماز جنازہ پڑھ کر واپس آجاتے تھے جب ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی(یہ)حدیث پہنچی تو انہوں نے فرمایا ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دئیے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فضل الصَّلَاةِ علی الجنازۃ واتبعھا؛ترجمہ؛نماز جنازہ اور اسکے ساتھ جانے کی فضیلت؛جلد ٢؛ص٦٥٢؛حدیث نمبر٢٠٨٧)
ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے "بڑے پہاڑوں کی مثل"کے الفاظ تک روایت کرتے ہیں اس کے بعدراویوں کےالفاظ مذکور ہیں۔عبدالاعلی کی روایت میں فراغت کا اور عبدالرزاق کی روایت میں قبر میں رکھنے کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فضل الصَّلَاةِ علی الجنازۃ واتبعھا؛ جلد ٢؛ص٦٥٢؛حدیث نمبر٢٠٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٠٨٨کی طرح مروی ہے اور اس میں ہے کہ جو اس کے (جنازے) پیچھے جائے حتی کہ اسے دفن کر دیا جائے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فضل الصَّلَاةِ علی الجنازۃ واتبعھا؛ جلد ٢؛ص٦٥٣؛حدیث نمبر٢٠٨٩)
ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس نے نماز جنازہ پڑھی اور اس کے ساتھ نہ گیا اس کے لئے ایک قیراط ہے اور اگر اس کے ساتھ جائے تو اس کے لئے دو قیراط ہیں عرض کیا گیا دو قیراط کیا ہیں؟ان میں سے چھوٹا قیراط احد پہاڑ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فضل الصَّلَاةِ علی الجنازۃ واتبعھا؛جلد ٢؛ص٦٥٣؛حدیث نمبر٢٠٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا جس نے نماز جنازہ پڑھی اس کے لئے ایک قیراط ہے۔اور جو اس کے ساتھ جائے حتی کہ اسے قبر میں رکھا جائےتو اس کے لئے دو قیراط ہیں راوی لکھتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا قیراط کیا ہے تو فرمایا۔ احد پہاڑ کی طرح۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فضل الصَّلَاةِ علی الجنازۃ واتبعھا؛جلد ٢؛ص٦٥٣؛حدیث نمبر٢٠٩١)
حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جو شخص کسی جنازہ کے ساتھ گیا اس کے لئے ایک قیراط کے برابر ثواب ہے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایسی احادیث بکثرت بیان کرتے ہیں۔انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی۔اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دئے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَاتِّبَاعِهَا؛جلد ٢؛ص٦٥٣؛حدیث نمبر٢٠٩٢)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ صاحب مقصورہ،حضرت خباب رضی اللہ عنہ آے اور کہنے لگے۔اے ابن عمر رضی اللہ عنہ!کیا آپ نہیں سنتے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اپنے گھر سے جائے اور نماز جنازہ پڑھے پھر اس کے ساتھ جائے حتیٰ کہ اسے دفن کیا جائے تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے اور جو شخص نماز جنازہ پڑھ کر واپس آجائے اس کے لئے احد پہاڑ کے مثل ہے۔ (یہ سن کر)حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں پوچھیں اور واپس آکر بتائیں کہ ام المومنین نے کیا فرمایا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ مسجد کی کنکریاں میں سے ایک مٹھی کنکریاں لے کر ہاتھوں میں لوٹ پوٹ کرنے لگے۔حتیٰ کہ قاصد لوٹ آئے انہوں نے بتایا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے کنکریاں پھینک دیں پھر فرمایا ہم نے بہت سے قیراط حاصل کرنے میں کوتاہی کی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَاتِّبَاعِهَا؛جلد ٢؛ص٦٥٣؛حدیث نمبر٢٠٩٣)
Muslim Shareef Kitabul Janaiz Hadees No# 2094
Muslim Shareef Kitabul Janaiz Hadees No# 2095
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا جس مسلمان میت پر مسلمانوں کی ایک جماعت نماز پڑھے اور وہ ایک سو کی تعداد کو پہنچ جائیں اور وہ سب اس کی شفاعت کریں تو اس کے بارے میں ان کی سفارش قبول ہوتی ہے راوی کہتے ہیں میں نے یہ حدیث شعیب بن حجاب سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا مجھ سے یہ حدیث حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ شُفِّعُوا فِيهِ؛جلد ٢؛ص٦٥٤؛حدیث نمبر٢٠٩٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت کریب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے کا مقام قدید یا مقام غسفان میں انتقال ہوگیا تو انہوں نے فرمایا اے کریب!دیکھو کتنے لوگ جمع ہوئے ہیں وہ فرماتے ہیں میں(باہر)نکلا تو دیکھا کہ لوگ جمع تھے میں نے ان کو بتایا تو انہوں نے فرمایا تم کیا کہتے ہو چالیس افراد ہوں گے انہوں نے جواب دیا جی ہاں آپ نے فرمایا جنازہ نکالو۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو مسلمان شخص فوت ہوجائے اور اس کے جنازے میں چالیس افراد ہوں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے بارے میں ان کی سفارش(دعا)کو قبول کرتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ أَرْبَعُونَ شُفِّعُوا فِيهِ؛جلد ٢؛ص٦٥٥؛حدیث نمبر٢٠٩٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک جنازہ گزراتو لوگوں نے اس کی تعریف کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی،واجب ہوگئی ایک اور جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی کا تذکرہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی واجب ہوگئی۔ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ایک جنازہ گزرا اور اس کی تعریف کی گئی تو آپ نے فرمایا واجب ہوگئی۔واجب ہوگئی واجب ہوگئی اور دوسرا جنازہ گزرا جس کی برائی بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی،واجب ہوگئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جس کی اچھی تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی تم نے برائی کی اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو،تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ فِيمَنْ يُثْنَى عَلَيْهِ خَيْرٌ أَوْ شَرٌّ مِنَ الْمَوْتَى؛جلد ٢؛ص٦٥٥؛حدیث نمبر٢٠٩٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٠٩٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ فِيمَنْ يُثْنَى عَلَيْهِ خَيْرٌ أَوْ شَرٌّ مِنَ الْمَوْتَى؛جلد ٢؛ص٦٥٦؛حدیث نمبر٢٠٩٩)
حضرت ابو قتادہ ربعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا یہ آرام پانے والا ہے۔یا اس سے لوگوں کو آرام مل گیا ہے صحابہ کرام نے پوچھا آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام مل گیا کا کیا مطلب ہے۔؟آپ نے فرمایا مؤمن بندہ دنیا کی مشقتوں(اور تھکاوٹوں)سے آرام پالیتا ہے اور کافر سے بندوں،شہروں درختوں اور جانوروں کو آرام مل جاتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ مَا جَاءَ فِي مُسْتَرِيحٍ وَمُسْتَرَاحٍ مِنْهُ؛جلد ٢؛ص٦٥٦؛حدیث نمبر٢١٠٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢١٠٠ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ بندہ دنیا کی تکلیفوں اور مشقتوں سے آرام پاکر اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کر لیتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ مَا جَاءَ فِي مُسْتَرِيحٍ وَمُسْتَرَاحٍ مِنْهُ؛جلد ٢؛ص٦٥٦؛حدیث نمبر٢١٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نجاشی بادشاہ کا انتقال ہوا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فوت ہونے کی خبر دی پھر آپ عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز پڑھائی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛ترجمہ؛نماز جنازہ کی تکبیریں؛جلد ٢؛ص٦٥٦؛حدیث نمبر٢١٠٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٠٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جلد ٢؛ص٦٥٧؛حدیث نمبر٢١٠٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصمحہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے چار تکبیریں کہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جلد ٢؛ص٦٥٧؛حدیث نمبر٢١٠٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے اصمحہ کا انتقال ہوگیا ہے پس آپ کھڑے ہوئے اور ہماری أمامت فرماتے ہوئے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٥٧؛حدیث نمبر٢١٠٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ایک بھائی کا انتقال ہوگیا ہے۔پس کھڑے ہو کر ان کی نماز جنازہ پڑھو چنانچہ ہم کھڑے ہوئے اور ان پر دو صفیں باندھیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٥٧؛حدیث نمبر٢١٠٧)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ایک بھائی کا انتقال ہوگیا ہے پس کھڑے ہو کر ان کی نماز جنازہ پڑھو۔راوی کہتے ہیں اس سے نجاشی مراد ہے۔(اتنی جلدی اور اتنے دوری سے نجاشی کی انتقال کی خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی واسطے، ذریعہ اور عقل کے بغیر حاصل ہوئی اور اسی کو غیب کہتے ہیں۔١٢یزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٥٧؛حدیث نمبر٢١٠٨)
حضرت شعبی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کے دفن ہونے کے بعد اس کی قبر پر چار رکعات پڑھیں تو چار تکبیریں کہیں۔(احناف کے نزدیک میت تازہ تازہ ہو تو قبر پر نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے جب کہ پڑھنے والا میت کا ولی ہو اور اس نے نماز جنازہ نہ پڑھی ہو اور دوسرے لوگوں نے پڑھ لی ہو۔ہزاری١٢) شیبانی نے پوچھا آپ سے یہ حدیث کس نے بیان کی انہوں نے فرمایا ایک معتبر شخص یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابن نمیر نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک تازہ قبر کے پاس گئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی صحابہ کرام آپ کے پیچھے صف بستہ ہوے اور آپ نے چار تکبیریں پڑھیں۔راوی کہتے ہیں میں نے عامر سے پوچھا آپ سے کس نے بیان کیا تو انہوں نے کہا ایک ایسے معتبر شخص نے جس کے پاس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ آے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ؛ترجمہ؛قبر پر نماز جنازہ پڑھنا؛جلد٢ص٦٥٨؛حدیث نمبر٢١٠٩)
Muslim Shareef Kitabul Janaiz Hadees No# 2110
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر پر نماز پڑھنے کا ذکر کرتے ہیں لیکن اس میں بھی چار تکبیروں کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٥٩؛حدیث نمبر٢١١١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٥٩؛حدیث نمبر٢١١٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک سیاہ رنگ کی(حبشی)عورت یا ایک نوجوان مسجد کی صفائی وغیرہ کرتا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی نہ دیا تو آپ نے اس کے بارے میں پوچھا صحابہ کرام نے عرض کیا اس کا انتقال ہو گیا ہے۔آپ نے فرمایا تم نے اطلاع کیوں نہ کی۔راوی کہتے ہیں گویا ان لوگوں نے اس کے معاملے کو معمولی سمجھا آپ نے فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ۔انہوں نے بتائی تو آپ نے اس پر نماز پڑھی پھر فرمایا یہ قبریں ان قبر والوں پر اندھیرے سے بھر پور ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو میری ان پر نماز کی وجہ سے روشن کر دیتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٥٩؛حدیث نمبر٢١١٣)
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ جنازوں پر چار تکبیریں کہتے تھے ایک جنازے پر انہوں نے چار تکبیریں کہیں تو میں نے ان سے(اس بارے میں)پوچھا تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٥٩؛حدیث نمبر٢١١٤)
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ حتیٰ کہ وہ تم سے آگے چلا جائے یا رکھ دیا جائے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛ترجمہ؛جنازہ کے لئے کھڑا ہو جانا؛جلد٢ص٦٥٩؛حدیث نمبر٢١١٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١١٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١١٦)
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جنازہ دیکھے تو اگر وہ اس کے ساتھ جانے والا نہ ہو تو کھڑا ہو جائے حتیٰ کہ وہ اس سے آگے چلا جائے یا آگے جانے سے پہلے اسے زمین پر رکھ دیا جائے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١١٧)
حضرت ابن جریح بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جنازہ دیکھے تو اسے دیکھ کر کھڑا ہو جائے حتیٰ کہ وہ آگے چلا جائے اگر وہ اس کے ساتھ جانے والا نہ ہو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١١٨)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی جنازے کے ساتھ جاؤ تو اس کو رکھنے سے پہلے نہ بیٹھو۔(کیونکہ ہوسکتا ہے اسے نیچے رکھنے کے لئے تمہاری ضرورت پڑ جائے۔١٥ہزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١١٩)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جس نے اس کے ساتھ جانا ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اسے رکھ نہ دیا جائے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١٢٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک جنازہ گزرا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے کھڑے ہوگئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو یہودی عورت ہے آپ نے فرمایا موت گھبراہٹ کا سبب ہے پس جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١٢١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦١؛حدیث نمبر٢١٢٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ایک یہودی کے جنازے کے لئے کھڑے ہوے حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦١؛حدیث نمبر٢١٢٣)
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد اور حضرت سہل بن حنیف قادسیہ میں تھے تو ان دونوں کے پاس سے جنازہ گزرا وہ دونوں کھڑے ہوئے تو ان سے کہا گیا یہ تو اس سرزمین کا تھا۔(کافر تھا)تو ان دونوں نے جواب دیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے۔عرض کیا گیا یہ تو یہودی ہے آپ نے فرمایا کیا یہ روح ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦١؛حدیث نمبر٢١٢٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی اسی قسم کی روایت مروی ہے اس میں وہ بتاتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہمارے سامنے سے ایک جنازہ گزرا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦١؛حدیث نمبر٢١٢٥)
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے دیکھا اور ہم ایک جنازے میں کھڑے تھے اور وہ جنازہ رکھنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کیوں کھڑے ہو میں نے کہا میں جنازہ رکھنے کا منتظر ہوں کیونکہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہی بات بیان کی ہے۔حضرت نافع نے فرمایا حضرت مسعود بن حکم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پھر بیٹھ گئے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦١؛حدیث نمبر٢١٢٦)
حضرت مسعود بن حکم بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے جنازوں کے بارے میں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کھڑے ہوئے پھر بیٹھ گئے انہوں نے یہ حدیث اس لیے بیان کی کہ حضرت نافع بن جبیر نے واقد بن عمرو کو دیکھا کہ وہ جنازے رکھنے تک کھڑے رہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٢؛حدیث نمبر٢١٢٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٢٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٢؛حدیث نمبر٢١٢٨)
حضرت مسعود بن حکم انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے اور آپ بیٹھ گئے تو ہم بھی بیٹھ گئے یعنی جنازہ میں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٢؛حدیث نمبر٢١٢٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٢٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٢؛حدیث نمبر٢١٣٠)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے کی نماز پڑھی تو میں نے اس جنازے میں آپ کی دعا سے یہ الفاظ یاد رکھے۔ ترجمہ:"اے اللہ!اس کی مغفرت فرما اس پر رحم فرما اس کو عافیت میں رکھنا۔اسے معاف کر دے اس کی عزت کے ساتھ معافی فرمانا اس کی قبر کو کشادہ کردے اسکو پانی،برف اور اولوں سے دھو دے اس کو خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیا جاتا ہے اور اس کو گھر کے بدلے اچھا گھر،اس گھر والوں سے اچھے گھر والے اس بیوی سے اچھی بیوی عطا فرما اس کو جنت میں داخل کردے۔نیز قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے بچا لے۔" راوی فرماتے ہیں حتیٰ کہ میں نے تمنا کی کہ کاش کہ وہ میت میں ہوتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ فِي الصَّلَاةِ؛نماز جنازہ میں میت کے لئے دعا کرنا؛جلد٢ص٦٦٢؛حدیث نمبر٢١٣١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٣١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد٢ص٦٦٣؛حدیث نمبر٢١٣٢)
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ نماز جنازہ پڑھا رہے تھے آپ نے یوں دعا کی۔ "یااللہ!اسے بخش دے اس پر رحم فرما اس کو معاف کردے اس کی اچھی طرح مہمان نوازی فرما اس کی قبر کو کشادہ کر دے اس کو پانی،برف اور اولوں سے دھو دے اور اس کو گناہوں سے اس طرح پاک کردے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے اور اس کو(دنیاوی)گھر کے بدلے میں اچھا گھر عطا فرما(دنیاوی)گھر والوں کے مقابلے میں اچھا گھرانہ عطا کر اور(دنیوی)بیوی سے اچھی بیوی عطاء فرما۔اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔حضرت عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس میت پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کی وجہ سے میں نے تمنا کی کاش وہ میت میں ہی ہوتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد٢ص٦٦٣؛حدیث نمبر٢١٣٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہی روایت ہے لیکن اس میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی والدہ کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ أَيْنَ يَقُومُ الْإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٤؛حدیث نمبر٢١٣٥)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھوٹا لڑکا تھا اور میں آپ کی احادیث یاد کیا کرتا تھا اور میں ان کے پاس اس لیے نہیں بولتا تھا کہ مجھ سے زیادہ عمر والے لوگ ہوتے تھے اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں فوت ہوگئی تھیں تو آپ اس کے جنازے کے وسط میں کھڑے ہوئے۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لئے اس کے وسط میں کھڑے ہوئے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ أَيْنَ يَقُومُ الْإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٤؛حدیث نمبر٢١٣٦)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ننگی پیٹھ والا گھوڑا لایا گیا جب آپ ابن دحداح کے جنازے سے واپس ہوئے تو اس پر سوار ہوے اور ہم آپ کے گرد پیدل چل رہے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ رُكُوبِ الْمُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ إِذَا انْصَرَفَ؛جلد٢ص٦٦٤؛حدیث نمبر٢١٣٧)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کا جنازہ پڑھا پھر آپ کے پاس ننگی پیٹھ والا گھوڑا لایا گیا ایک شخص نے اسے پکڑا اور آپ اس پر سوار ہوے وہ گھوڑا ادھر اُدھر دلکی چال چلنے لگا اور ہم آپ کے پیچھے بھاگتے ہوئے چل رہے تھے۔راوی فرماتے ہیں لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن دحداح کے لئے جنت میں کتنے خوشے لٹک رہے ہیں۔حضرت شعبہ نے ابوالدحداح کا ذکر کیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ رُكُوبِ الْمُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ إِذَا انْصَرَفَ؛جلد٢ص٦٦٥؛حدیث نمبر٢١٣٨)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے اپنے مرض الموت میں فرمایا میرے لئے لحد بنانا اور اس پر کچھ اینٹیں لگانا جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(کی قبر مبارک)کے لئے کیا گیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فی اللحد ونصب اللبن علی المیت؛جلد٢ص٦٦٥؛حدیث نمبر٢١٣٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور میں سرخ چادر رکھی گئی تھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ جَعْلِ الْقَطِيفَةِ فِي الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٦٥؛حدیث نمبر٢١٤٠)
حضرت ثمامہ بن شفی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت فضالہ بن ابی لبید کے ساتھ روم کے شہر رودس میں تھے تو ہمارے ایک ساتھی کا انتقال ہوگیا پس حضرت فضالہ نے حکم دیا کہ ان کی قبر زمین کے برابر کر دی جائے پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٦٦؛حدیث نمبر٢١٤١)
حضرت ابو الہیاج اسدی فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کیا میں تجھے اس کام کے لیے نہ بھیجوں جس کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا کہ تم ہر تصویر کو مٹا دو اور ہر اونچی قبر کو زمین کے برابر کر دو۔(زیادہ اونچی قبر بنانے کا کوئی فائدہ نہیں اور دور جاہلیت میں ایسا ہوتا تھا اس لئے ایسا کرنے کا حکم دیا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ قبریں مسمار کر کے نام ونشان مٹا دیا جائے جس طرح نجدیوں نے سمجھا۔١٢ہزاروی۔)۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٦٦؛حدیث نمبر٢١٤٢)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٢١٤٢کی مثل مروی ہے اور اس میں(تمثال کی جگہ)صورت کا لفظ ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛جلد٢َص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو پختہ کرنے اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَجْصِيصِ الْقَبْرِ وَالْبِنَاءِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٤٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَجْصِيصِ الْقَبْرِ وَالْبِنَاءِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں قبروں کو پختہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔(اندر سے قبر کچی ہو اگر باہر سے اس لئے پختہ کی جائے کہ دستبرد سے محفوظ رہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَجْصِيصِ الْقَبْرِ وَالْبِنَاءِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص انگاروں پر بیٹھ جاے جس سے اس کے کپڑے جل جائیں اور آگ اس کی کھال تک پہنچ جائے تو یہ اس کے لئے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْقَبْرِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛ترجمہ؛قبروں پر بیٹھنا اور اس پر نماز پڑھنا ناجائز ہے؛جلد٢ص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٤٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْقَبْرِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٨)
حضرت ابو مرثدغنوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبروں پر نہ تو بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْقَبْرِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٨؛حدیث نمبر٢١٤٩)
حضرت ابو مرثدغنوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قبروں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْقَبْرِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٨؛حدیث نمبر٢١٥٠)
حضرت عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازہ کو مسجد میں لایا جائے تاکہ وہ بھی ان پر نماز جنازہ پڑھیں۔صحابہ کرام نے اس پر اعتراض کیا تو ام المؤمنين نے فرمایا لوگ کس قدر بھول گئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ِبَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛ترجمہ؛نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا؛جلد ٢؛ص٦٦٨؛حدیث نمبر٢١٥١)
حضرت عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے پیغام بھیجا کہ انکا جنازہ مسجد سے گزاریں تاکہ وہ بھی نماز جنازہ پڑھ سکیں چنانچہ صحابہ کرام نے ایسا ہی کیا پس اسے ان(أزواج)مطہرات کے حجرے پر رکھا گیا کہ وہ اس پر نماز پڑھیں پھر اسے مقاعد کے حجرے پر رکھا گیا کہ وہ اس پر نماز پڑھیں پھر اسے مقاعد کی طرف باب الجنائز سے لے جایا گیا۔ اس کے بعد ازواج مطہرات کو خبر پہنچی کہ صحابہ کرام نے اس بات پر اعتراض کیا اور کہا کہ جنازوں کو مسجد میں نہیں لے جایا جاتا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگوں نے اس بات پر اعتراض کرنے میں اتنی جلدی کی جس کا ان کو علم نہیں۔انہوں نے ہم پر اعتراض کیا کہ مسجد میں جنازہ لے جایا گیا حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھی تھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ِبَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛جلد ٢؛ص٦٦٨؛حدیث نمبر٢١٥٢)
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ان(کے جنازے)کو مسجد میں داخل کرو تاکہ میں بھی ان پر نماز پڑھو۔صحابہ کرام کی طرف سے ان پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بیضاء کے دو بیٹوں حضرت سہیل اور ان کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ِبَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛جلد ٢؛ص٦٦٩؛حدیث نمبر٢١٥٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ہاں باری ہوتی تو رات کے آخری حصے میں آپ جنت البقیع کی طرف تشریف لے جاتے اور فرماتے۔ ترجمہ:"اے مومنوں کی جماعت!السلام علیکم!تمہارے پاس وہ چیز آچکی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا تھا اور ہم بھی انشاءاللہ تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں یا اللہ! بقیع غرقد والوں کو بخش دے۔ حضرت قتیبہ نے" تمہارے پاس آگئی"کے الفاظ نقل نہیں کئے۔(معلوم ہوا کہ قبرستان میں جانا اور فوت شدہ لوگوں کو خطاب کر کے سلام کرنا سنت ہے(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ِبَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لِأَهْلِهَا؛جلد ٢؛ص٦٦٩؛حدیث نمبر٢١٥٤)
ابن جریج فرماتے ہیں مجھے قریش کے ایک آدمی نے حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ ایک دن انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں اپنی اور اپنی ماں کی طرف سے حدیث بیان نہ کروں؟انہوں نے خیال کیا کہ شاید کہ وہ اپنی نسبی بیان کا ذکر کر رہے ہیں پھر فرمایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا میں تم سے اپنی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حدیث بیان نہ کروں ہم نے عرض کیا جی ہاں بیان فرمائیں۔فرماتے ہیں ام المومنین نے فرمایا جب وہ رات ہوئی جس دن رسول اکرم صلی علیہ وسلم کی میرے ہاں باری تھی تو آپ نے کروٹ لے کر چادر اوڑھ لی۔نعلین مبارک اتار کر اپنے پاؤں کے پاس رکھ لئے اور چادر کا کنارہ اپنے بستر پر بچھا کر لیٹ گئے۔کچھ دیر(میری نیند کے خیال سے)اسی حالت پر ٹھہرے رہے میں سو گئی تو آپ نے چادر اوڑھی،جوتا مبارک پہنا اور آہستہ دروازہ کھولا اور تشریف لے گئے اور آہستہ سے دروازہ بند کر دیا میں نے بھی ایک چادر سر پر اوڑھی اور دوسری چادر اوڑھ کر آپ کے پیچھے چل پڑی حتی کہ آپ جنت البقیع میں تشریف لائے اور دیر تک کھڑے رہے پھر تین بار ہاتھ اٹھائے اور واپس لوٹنے لگے۔میں بھی واپس لوٹنے لگی۔آپ تیز چلنے لگے میں بھی تیز چلنے لگی آپ مزید تیز چلے تو میں بھی زیادہ تیز چلنے لگی۔آپ گھر گئے تو میں آپ سے پہلے گھر پہنچ آئی اور اندر داخل ہوئی اور لیٹ گئی۔آپ داخل ہوئے تو فرمایا اے عائشہ کیا ہوا تمہارا سانس پھولا ہوا ہے۔ ام المومنین فرماتی ہیں میں نے عرض کیا کوئی بات نہیں آپ نے فرمایا مجھے بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر ذات بتادے گی۔فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر واقعہ بتایا۔آپ نے فرمایا مجھے اپنے آگے سے ایک سایہ نظر آیا تھا وہ تم تھیں میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے(بطور شفقت)میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے مجھے درد ہوا پھر فرمایا کیا تمہیں ڈر ہوا کہ اللہ تعالٰی اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تمہارا حق مارے گا۔آپ فرماتی ہیں میں نے سوچا کہ جب لوگ کچھ چھپاتے ہیں تو اللہ تعالٰی آپ کو بتا دیتا ہے پھر دل میں ہی کہا ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم نے مجھے دیکھا تھا تو اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے۔انہوں نے مجھے بلایا اور تم سے مخفی رکھا میں نے ان کو جواب دیا اور میں نے بھی تم سے مخفی رکھا اور وہ تمہارے پاس نہیں آئے تھے کیونکہ تم نے(زائد)لباس اتار دیا تھا۔میں نے خیال کیا کہ تم سو گئی ہو پس میں نے تمہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور میں نے خیال کیا کہ تم گھبرا جاؤگی۔انہوں نے حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا آپ کارب آپ کو حکم دیتا ہے کہ جنت البقیع والوں کے پاس جاکر ان کے لئے بخشش مانگے۔ام المومنین فرماتی ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں کس طرح دعا کروں آپ نے فرمایا یوں کہو۔ اے مومنوں اور مسلمانوں کے گھر والوں!تم پر سلام ہو جو ہم سے پہلے جا چکے ہیں اور جو بعد میں جانے والے ہیں اللہ تعالٰی سب پر رحم فرمائے۔اور ان شاء اللہ ہم بھی تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب ما یقال عند دخول القبور والدعاء لاھلھا؛جلد ٢؛ص٦٧٠؛حدیث نمبر٢١٥٥)
حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد(رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتےہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سکھاتے تھے کہ جب وہ قبرستان کی طرف جائیں تو یوں کہیں"السلام علیکم اھل الدیار"اورایک روایت میں ہے"السلام علیکم اھل الدیار من المؤمنين والمسلمين"اے مؤمنوں اور مسلمانوں کے گھر والو!تم پر سلام ہو ہم ان شاءاللہ تم سے ملنے والے ہیں۔میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ِبَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لِأَهْلِهَا؛جلد٢ص٦٧١؛حدیث نمبر٢١٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی بخشش طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے نہ دی اور میں نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کے لئے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت دے دی۔(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین طیبین نے زمانہ فترت پایا اور ان کا وصال اعلان نبوت سے پہلے ہوا اس لئے وہ توحید پر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔مغفرت،گناہوں سے معافی کے لئے ہوتی ہے وہ گناہ گار نہ تھے اس لئے طلب مغفرت کی اجازت نہ دی۔اور زیارت کی اجازت عطاء ہوئی۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ؛ترجمہ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے والدہ کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگنا؛ جلد٢ص٦٧١؛حدیث نمبر٢١٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ رونے لگے اور آپ کے ارد گرد والے بھی روۓ۔پھر فرمایا میں نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ میں ان کے لیے طلب مغفرت کروں تو مجھے اجازت نہ دی گئی اور میں نے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت دی گئی پس قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ(زیارت)تمہیں موت یاد دلاتی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ؛جلد٢ص٦٧١؛حدیث نمبر٢١٥٨)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں زیارت قبور سے منع کیا کرتا تھا پس ان کی زیارت کیا کرو اور میں تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کرتا تھا اور اب جب تک چاہو رکھ سکتے ہو اور میں تمہیں مشکیزوں کے علاوہ برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کرتا تھا اب تم سب اس قسم کے برتنوں میں نبیذ پی سکتے ہو لیکن نشہ آور چیز استعمال نہ کرنا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ؛جلد٢ص٦٧٢؛حدیث نمبر٢١٥٩)
کئی دیگر اسناد سے بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٢١٥٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ؛جلد٢ص٦٧٢؛حدیث نمبر٢١٦٠)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے ایک تیر سے اپنے آپ کو ہلاک کیا تھا تو آپ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات نماز جنازہ خود نہ پڑھتے لیکن صحابہ کرام کو اجازت دیتے تھے تاکہ لوگ اس جرم سے بچ جائیں جس کی وجہ سے فلاں میت کی نماز جنازہ آپ نے نہ پڑھی۔جس طرح آپ مقروض کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے جب تک اس کا قرض ادا یا معاف نہ ہو جائے۔خود کشی کرنے والا اگر حلال سمجھ کر یہ عمل کرتا ہے تو اس کی نماز جنازہ نہیں ہوگی کیونکہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا ورنہ اس کی نماز جنازہ ہے۔)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ تَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَاتِلِ نَفْسَهُ؛جلد٢ص٦٧٢؛حدیث نمبر٢١٦١)
Muslim Shareef : Kitabul Janaiz
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْجَنَائِزِ
|
•