asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Janaiz

From 2022 to 2161

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے مرنے والوں کو لاالہ الا اللہ پڑھنے کی تلقین کرو۔(یعنی قریب الموت شخص کے سامنے کلمہ پڑھا جائے اسے نہ کہا جائے کہ کہیں وہ انکار نہ کردے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛بَابُ تَلْقِينِ الْمَوْتَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛ترجمہ؛مرنے والوں کو لاالہ الا اللہ پڑھنے کی تلقین کرنا؛جلد ٢؛ص٦٣١؛حدیث نمبر٢٠٢٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ بِشْرٍ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ».

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2022

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٢٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛بَابُ تَلْقِينِ الْمَوْتَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد ٢؛ص٦٣١؛حدیث نمبر٢٠٢٣)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، جَمِيعًا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2023

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے مرنے والوں کو لاالہ الا اللہ(پڑھنے)کی تلقین کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛بَابُ تَلْقِينِ الْمَوْتَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد ٢؛ص٦٣١؛حدیث نمبر٢٠٢٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ - ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ - ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالُوا: جَمِيعًا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2024

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یوں کہتا ہے"انا للہ وانا الیہ راجعون اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرامنھا"بےشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔یااللہ!مجھے میری اس مصیبت میں اجر عطاء فرما اور اس سے بہتر عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔آپ فرماتی ہیں جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو میں نے کہا ابوسلمہ سے بہتر مسلمان کون ہو سکتا ہے جس گھر نے سب سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی پھر میں نے وہ(مذکورہ بالا)کلمات کہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد میرے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقرر فرما دیا۔(حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح کیا) ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب بن ابی بلتعہ کو میرے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا تو میں نے کہا میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت مند ہوں آپ نے فرمایا جہاں تک اس کی بیٹی کا تعلق ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے اس(بیٹی)کی طرف سے بے نیاز کردے اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ یہ غیرت اس سے دور ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ؛ترجمہ؛مصیبت کے وقت کیا کہا جائے؛جلد ٢؛ص٦٣١؛حدیث نمبر٢٠٢٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ ابْنَ سَفِينَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللهُ: {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} [البقرة: ١٥٦]، اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا "، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا، فَأَخْلَفَ اللهُ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ، فَقَالَ: «أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللهَ أَنْ يُغْنِيَهَا عَنْهَا، وَأَدْعُو اللهَ أَنْ يَذْهَبَ بِالْغَيْرَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2025

ابن سفینہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں وہ فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو بندہ مصیبت کے وقت یہ کلمات کہے۔ "بےشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور بلاشبہ ہم نے اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔یااللہ!مجھے میری اس مصیبت میں اجر دے اور میرے لئے اس سے بہتر مقرر کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی اس مصیبت میں اجر دیتا ہے اور اس سے بہتر عطاء کرتا ہے فرماتی ہیں جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو میں نے وہی کہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عطاء فرمادئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛ بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ؛جلد ٢؛ص٦٣١؛حدیث نمبر٢٠٢٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سَفِينَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُولُ: {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} [البقرة: ١٥٦]، اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَجَرَهُ اللهُ فِي مُصِيبَتِهِ، وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا "، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْلَفَ اللهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2026

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٠٢٦ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو میں نے سوچا حضرت ابوسلمہ سے بہتر کون ہوگا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈال دیا تو میں نے دعا پڑھی۔فرماتی ہیں پس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آگئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛بَابُ تَلْقِينِ الْمَوْتَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد ٢؛ص٦٣٣؛حدیث نمبر٢٠٢٧)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنْ ابْنَ سَفِينَةَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَزَادَ قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَزَمَ اللهُ لِي، فَقُلْتُهَا: قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2027

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی مریض یا میت کے پاس جاؤ تو اچھی بات کہو کیونکہ فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں۔ فرماتی ہیں جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت ابوسلمہ کا انتقال ہوگیا آپ نے فرمایا یوں کہو۔ "اللھم اغفر لی ولہ واعقبنی منہ عقبیٰ حسنۃ"یا اللہ!مجھے اور ان کو بخش دے اور مجھے ان کے بعد بہتر عطا فرما۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بہتر شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے لئے مقرر فرما دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجَنَائِز؛بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ الْمَرِيضِ وَالْمَيِّتِ؛ترجمہ؛مریض اور میت کے پاس کیا کہا جائے؛جلد ٢؛ص٦٣٣؛حدیث نمبر٢٠٢٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ، أَوِ الْمَيِّتَ، فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ»، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ، قَالَ: " قُولِي: اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً "، قَالَتْ: فَقُلْتُ، فَأَعْقَبَنِي اللهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2028

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں آپ نے ان کو بند کیا پھر فرمایا جب روح قبض ہوتی ہے تو نگاہ اس کے پیچھے جاتی ہے(یہ سن کر)ان کے گھر والے رونے لگے تو آپ نے فرمایا اپنے نفسوں کے لئے صرف بھلائی کی دعا کرو کیونکہ فرشتے تمہاری دعا پر آمین کہتے ہیں پھر فرمایا۔ یا اللہ!ابو سلمہ کو بخش دے اور ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کا درجہ بلند فرما ان کے بعد والوں کی نگرانی فرما ہمیں اور ان کو بخش دے اے تمام جہانوں کے رب!ان کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے ان کے لیے منور کردے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي إِغْمَاضِ الْمَيِّتِ وَالدُّعَاءِ لَهُ إِذَا حُضِرَ؛جلد ٢؛ص٦٣٤؛حدیث نمبر٢٠٢٩)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ، فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ»، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: «لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ»، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ».

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2029

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٢٩ کی مثل مروی ہے اور اس کی دعا میں یہ کلمات ہیں۔اے اللہ ان کی قبروں کو وسیع کردے۔حضرت خالد الحداء نے ساتویں دعا بھی ذکر کی جسے راوی بھول گئے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي إِغْمَاضِ الْمَيِّتِ وَالدُّعَاءِ لَهُ إِذَا حُضِرَ؛جلد ٢؛ص٦٣٤؛حدیث نمبر٢٠٣٠)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «وَاخْلُفْهُ فِي تَرِكَتِهِ»، وَقَالَ: «اللهُمَّ أَوْسِعْ لَهُ فِي قَبْرِهِ»، وَلَمْ يَقُلْ: «افْسَحْ لَهُ»، وَزَادَ: قَالَ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ: وَدَعْوَةٌ أُخْرَى سَابِعَةٌ نَسِيتُهَا

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2030

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے جب انسان مر جاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کی آنکھیں روح کا پیچھا کرتی ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي شُخُوصِ بَصَرِ الْمَيِّتِ يَتْبَعُ نَفْسَهُ؛جلد ٢؛ص٦٣٥؛حدیث نمبر٢٠٣١)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ يَعْقُوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَمْ تَرَوُا الْإِنْسَانَ إِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُهُ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «فَذَلِكَ حِينَ يَتْبَعُ بَصَرُهُ نَفْسَهُ».

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2031

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٣١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي شُخُوصِ بَصَرِ الْمَيِّتِ يَتْبَعُ نَفْسَهُ؛جلد ٢؛ص٦٣٥؛حدیث نمبر٢٠٣٢)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنِ الْعَلَاءِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2032

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں جب حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو میں نے کہا اجنبی ہیں اور اجنبی زمین میں جارہے ہیں۔میں ان پر اس طرح ضرور روؤں گی کہ اس کی شہرت ہوگی پس میں ان پر رونے کے لئے تیار ہوئی کہ(مدینہ طیبہ کے)بالائی حصے میں ایک عورت میری مدد کے لئے آئی اتنے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے فرمایا تم شیطان کو گھر میں داخل کرنا چاہتی ہو جسے اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ نکالا ہے پس میں(رونے سے)رک گئی اور نہیں روئی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛َبَابُ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛موت پر رونا؛جلد ٢؛ص٦٣٥؛حدیث نمبر٢٠٣٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ، لَأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ، فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ، إِذْ أَقَبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي، فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللهُ مِنْهُ؟» مَرَّتَيْنِ، فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ فَلَمْ أَبْكِ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2033

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ کی ایک صاحبزادی نے آپ کو بلا بھیجا اور بتایا کہ ان کا ایک بیٹا یا بیٹی موت کی حالت میں ہے۔آپ نے پیغام رساں سے فرمایا ان کے پاس واپس جاؤ اور ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ اس نے لیا اور جو عطاء کیا اور اس کے ہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ان سے کہو کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں۔قاصد دوبارہ آیا اور اس نے کہا کہ انہوں نے(آپ کی صاحبزادی نے)قسم دی ہے کہ آپ ضرور تشریف لائیں۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہمابھی تھے اور میں بھی ان حضرات کے ساتھ چلا گیا۔بچہ اٹھا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور اس کا سانس اکھڑ رہا تھا گویا پرانی مشک سے آواز نکلتی ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے ان پر رحم فرماتا ہے جو رحم کرنے والے ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛َبَابُ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٣٥؛حدیث نمبر٢٠٣٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ إِحْدَى بَنَاتِهِ تَدْعُوهُ، وَتُخْبِرُهُ أَنَّ صَبِيًّا لَهَا، أَوِ ابْنًا لَهَا فِي الْمَوْتِ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ: " ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَأَخْبِرْهَا: أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ "، فَعَادَ الرَّسُولُ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمْ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنَّةٍ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ».

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2034

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ پہلی حدیث طویل اور مکمل ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛َبَابُ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٣٦؛حدیث نمبر٢٠٣٥)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، جَمِيعًا عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ حَمَّادٍ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2035

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت عبد الرحمن بن عوف،حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے ہمراہ تشریف لائے جب ان کے پاس پہنچے تو ان کو بیہوشی کی حالت میں پایا آپ نے پوچھا کیا یہ فوت ہوگئے ہیں؟حاضرین نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رونا شروع کر دیا جب حاضرین نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رونے لگے آپ نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں کے آنسوؤں اور دل کے غم پر عذاب نہیں دیتا بلکہ اس کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم فرماتا ہے۔آپ نے زبان کی طرف اشارہ کیا۔(بین کرنا اور زبان سے طرح طرح کے کلمات نکالنا منع ہے آنسوؤں کے ساتھ رونا فطری بات ہے یہ منع نہیں۔)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛َبَابُ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٣٦؛حدیث نمبر٢٠٣٦)

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ، فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَشِيَّةٍ، فَقَالَ: «أَقَدْ قَضَى؟» قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ فَبَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا، فَقَالَ: «أَلَا تَسْمَعُونَ؟ إِنَّ اللهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ، وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ، وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا - وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ - أَوْ يَرْحَمُ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2036

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک شخص آیا اور اس نے سلام کیا پھر وہ انصاری جانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے انصار کے بھائی!ہمارے بھائی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے اس نے کہا ٹھیک ہیں آپ نے پوچھا تم میں سے کون ان کی عیادت کرے گا پس آپ کھڑے ہوگئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ہم دس سے کچھ اوپر تھے ہمارے پاس جوتے نہ موزے نہ ٹوپیاں اور نہ ہی قمیص اور ہم(اسی حالت میں)اس پتھریلی زمین پر چل رہے تھے حتیٰ کہ ہم ان کے پاس پہنچے ان کے قریب والے لوگ پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے وہ صحابہ کرام جو آپ کے ساتھ تھے ان کے قریب ہوے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي عِيَادَةِ الْمَرْضَ؛ترجمہ؛عیادتِ مریض؛جلد ٢؛ص٦٣٧؛حدیث نمبر٢٠٣٧)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَدْبَرَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَخَا الْأَنْصَارِ كَيْفَ أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ؟، فَقَالَ: صَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ؟» فَقَامَ، وَقُمْنَا مَعَهُ، وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ، مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ، وَلَا خِفَافٌ، وَلَا قَلَانِسُ، وَلَا قُمُصٌ، نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتَّى جِئْنَاهُ، فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْلِهِ، حَتَّى دَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2037

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ؛مصیبت پر صبر کرنا؛جلد ٢؛ص٦٣٧؛حدیث نمبر٢٠٣٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2038

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس تشریف لے گئے جو اپنے بچے پر رو رہی تھی۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صبر کرو اس نے کہا آپ کو میری مصیبت کا اندازہ ہے جب آپ تشریف لے گئے تو اسے بتایا گیا۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں(یہ سن کر)گویا اس پر موت طاری ہوگئی وہ آپ کے دروازے پر آئی تو آپ کے دروازے پر کسی دربان کو نہ پایا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا آپ نے فرمایا صبر پہلے صدمے کے وقت(معتبر)ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ؛جلد ٢؛ص٦٣٧؛حدیث نمبر٢٠٣٩)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَى عَلَى امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَى صَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَ لَهَا: «اتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي»، فَقَالَتْ: وَمَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي فَلَمَّا ذَهَبَ، قِيلَ لَهَا: إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ، فَأَتَتْ بَابَهُ، فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ»، أَوْ قَالَ: «عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ».

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2039

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے۔جس میں یوں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ؛جلد ٢؛ص٦٣٨؛حدیث نمبر٢٠٤٠)

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بِقِصَّتِهِ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2040

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لئے رونے لگیں تو انہوں نے(حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے)فرمایا اے بیٹی!رک جاؤ کیا تم نہیں جانتی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں کے اس رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٣٨؛حدیث نمبر٢٠٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ بِشْرٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ حَفْصَةَ بَكَتْ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ: مَهْلًا يَا بُنَيَّةُ أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2041

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت پر رونے کی وجہ سے اسے قبر میں عذاب ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٣٨؛حدیث نمبر٢٠٤٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2042

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان پر چیخ وپکار کی گئی جب ان کو ہوش آیا تو فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٣٩؛حدیث نمبر٢٠٤٣)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2043

حضرت ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں جب حضرت عمر سخت زخمی ہوئے تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ(بلند آواز سے)کہنے لگے ہاے بھائی!پس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اے صہیب کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زندہ کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٣٩؛حدیث نمبر٢٠٤٤)

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَصِيحَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: أَمَا عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2044

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے آے اور آپ کے پاس پہنچنے کے بعد سامنے کھڑے ہوکر رونے لگے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کس پر رو رہے ہو؟کیا مجھ پر روتے ہو؟فرمایا اللہ کی قسم اے امیرالمومنین!میں آپ پر رو رہا ہوں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!تم جانتے ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس پر رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے راوی فرماتے ہیں میں نے یہ بات حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں وہ یہودی تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٣٩؛حدیث نمبر٢٠٤٥)

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ أَبُو يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ أَقْبَلَ صُهَيْبٌ مِنْ مَنْزِلِهِ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ، فَقَامَ بِحِيَالِهِ يَبْكِي، فَقَالَ عُمَرُ: عَلَامَ تَبْكِي؟ أَعَلَيَّ تَبْكِي؟ قَالَ: إِي وَاللهِ لَعَلَيْكَ أَبْكِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ يُبْكَى عَلَيْهِ يُعَذَّبُ»، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، فَقَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: إِنَّمَا كَانَ أُولَئِكَ الْيَهُودَ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2045

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ان پر زور زور سے رونے لگیں انہوں نے فرمایا جس پر رویا جاتا ہے اسے عذاب ہوتا ہے۔پھر حضرت صہیب رضی اللہ عنہ رونے لگے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے بھی فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ جس پر رویا جاتا ہے اسے عذاب ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٠؛حدیث نمبر٢٠٤٦)

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَقَالَ: يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ؟» وَعَوَّلَ عَلَيْهِ صُهَيْبٌ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ «أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ»؟

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2046

حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ہم ام ابان بنت عثمان کے جنازے کے منتظر تھے اور انکے پاس عمرو بن عثمان تھے کہ اتنے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ایک شخص ان کو لا رہا تھا۔(کیونکہ ان کی بینائی چلی گئی تھی)میرا خیال ہے کہ ان کو حضرت ابن عمر کی جگہ بتا دی گئی تھی پس وہ تشریف لاکر میرے پہلو میں بیٹھ گئے پس میں ان دونوں کے درمیان تھا کہ اتنے میں گھر کے اندر سے آواز آئی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے گویا حضرت عمرو بن عثمان کو اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ جاکر ان کو منع کریں کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حکم کو عام رکھا اس میں کوئی قید نہیں لگائی(کہ مرنے والے نے وصیت کی یا نہیں کی)تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے جب ہم مقام بیداء میں پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جو درخت کے سامنے میں اترا تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور مجھے بتاؤ تو وہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان سے کہو کہ وہ ہمارے پاس آئیں میں نے عرض کیا کہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی ہیں فرمایا اگرچہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ہوں۔ پس جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے تو زیادہ دن نہ گزرے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوگیا حضرت صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور ہاے بھائی!ہائے دوست!کہ کر پکارنے لگے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں یا تم نے نہیں سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں میں سے بعض کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مطلق کہا تھا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بعض گھر والوں کا ذکر کیا۔پس میں کھڑا ہوا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا۔تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گز یہ بات نہیں فرمائی کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے بلکہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ گھر والوں کے رونے کی وجہ سے کافر کے عذاب میں اضافہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے اور کوئی شخص کسی گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ حضرت ایوب(راوی)فرماتے ہیں حضرت ابن ملیکہ نے فرمایا یہ بات مجھ سے حضرت قاسم بن محمد نے بیان کی کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا تم نے جن لوگوں سے یہ بات روایت کی ہے وہ نہ تو جھوٹے ہیں اور نہ ہی ان کو جھٹلایا جاتا ہے بلکہ سننے میں غلطی لگی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤١؛حدیث نمبر٢٠٤٧)

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ، وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُودُهُ قَائِدٌ، فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي، فَكُنْتُ بَيْنَهُمَا، فَإِذَا صَوْتٌ مِنَ الدَّارِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ - كَأَنَّهُ يَعْرِضُ عَلَى عَمْرٍو أَنْ يَقُومَ، فَيَنْهَاهُمْ -: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ»، قَالَ: فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللهِ مُرْسَلَةً،فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَالَ لِي: اذْهَبْ فَاعْلَمْ لِي مَنْ ذَاكَ الرَّجُلُ، فَذَهَبْتُ، فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَاكَ، وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ، قَالَ: مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا، فَقُلْتُ: إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ، قَالَ: وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ - وَرُبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ: مُرْهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا - فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ، فَجَاءَ صُهَيْبٌ يَقُولُ: وَاأَخَاهْ وَاصَاحِبَاهْ فَقَالَ عُمَرُ: أَلَمْ تَعْلَمْ، أَوَ لَمْ تَسْمَعْ - قَالَ أَيُّوبُ: أَوْ قَالَ: أَوَ لَمْ تَعْلَمْ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ»، قَالَ: فَأَمَّا عَبْدُ اللهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً، وَأَمَّا عُمَرُ، فَقَالَ: بِبَعْضِ،فَقُمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَحَدَّثْتُهَا بِمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَتْ: لَا، وَاللهِ مَا قَالَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ «إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ»، وَلَكِنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الْكَافِرَ يَزِيدُهُ اللهُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا، وَإِنَّ اللهَ لَهُوَ {أَضْحَكَ وَأَبْكَى} [النجم: ٤٣]، {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] ". قَالَ أَيُّوبُ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ، قَوْلُ عُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَتْ: إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِّي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ، وَلَا مُكَذَّبَيْنِ، وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2047

حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں مکہ مکرمہ میں حاضری کے لئے آئے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف لائے۔ راوی فرماتے ہیں میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا فرماتے ہیں (پہلے)میں ان میں سے ایک کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا پھر دوسرے تشریف لائے اور میرے پہلو میں تشریف فرما ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عثمان سے فرمایا اور وہ ان کے سامنے تھے کہ کیا تم رونے سے نہیں رکتے بےشک رسول اکرم صل للہ علیہ السلام نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں کےاس پر رونے سے عذاب ہوتا ہے اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی اس قسم کی کچھ بات فرماتے تھے پھر انہوں نے بیان کیا اور فرمایا میں مکہ مکرمہ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ چلا حتی کہ جب مقام بیدا میں پہنچا تو وہاں کچھ سواردرخت کے سائے کے نیچے تھے۔آپ نے فرمایا جاؤ اور دیکھو یہ سوار کون ہے۔ فرماتے ہیں میں نے دیکھا تو وہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ تھے میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بتایا تو آپ نے فرمایا ان کو میرے پاس بلاؤ فرماتے ہیں میں حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ میرے ساتھ امیرالمومنین کے پاس چلیں پھر جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر حملہ ہوا تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ہائے بھائی ہائے دوست!حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے صہیب!کیا تم مجھ پر رو رہے ہو حالانکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ السلام نے فرمایا بےشک میت کو اس کے بعض گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب ہوتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی۔انہوں نے فرمایا اللہ تعالٰی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے اللہ کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ السلام یہ نہیں فرمایا کہ کسی کے رونے سے مومن کو عذاب دیتا ہے بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالٰی کافر کو اس کے گھر والوں کےاس پر رونے سے عذاب دیتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تمہیں قرآن کافی ہے جس(میں فرمایا"وَلاَ تزر وازرۃ وزر اخری"کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائےگا۔ اس وقت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالٰی ہنساتا اور رلاتا ہے۔ابن ملیکہ فرماتے ہیں اللہ تعالٰی کی قسم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ فرمایا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٢؛حدیث نمبر٢٠٤٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ، قَالَ: فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا، قَالَ: فَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ: وَهُوَ مُوَاجِهُهُ، أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ»،فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَدَّثَ، فَقَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ؟ فَنَظَرْتُ، فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ، قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ادْعُهُ لِي، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ، فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ، دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي، يَقُولُ: وَا أَخَاهْ وَا صَاحِبَاهْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ»،فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ، لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللهُ عُمَرَ، لَا وَاللهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ يُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَحَدٍ، وَلَكِنْ قَالَ: «إِنَّ اللهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ» قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤]، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذَلِكَ: وَاللهُ {أَضْحَكَ وَأَبْكَى} [النجم: ٤٣]، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَوَاللهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَيْءٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2048

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث حضرت ابن ملیکہ سے مروی ہے لیکن اس میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک رفع کا ذکر نہیں کیا پہلی روایات مکمل ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٢؛حدیث نمبر٢٠٤٩)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو: عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، كُنَّا فِي جَنَازَةِ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَنُصَّ رَفْعَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا نَصَّهُ أَيُّوبُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَحَدِيثُهُمَا أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرٍو

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2049

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو زندہ لوگوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٢؛حدیث نمبر٢٠٥٠)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ سَالِمًا، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2050

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول ذکر کیا گیا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب ہوتا ہے تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے۔انہوں نے ایک بات سنی اور اسے یاد نہ رکھ سکے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی کا جنازہ گزرا اور وہ اس پر رو رہے تھے تو آپ نے فرمایا تم رو رہے ہو اور اسے عذاب ہو رہا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٢؛حدیث نمبر٢٠٥١)

وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ خَلَفٌ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ: الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: رَحِمَ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَحْفَظْهُ، إِنَّمَا مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «أَنْتُمْ تَبْكُونَ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2051

حضرت ہشام اپنے والد(حضرت عروہ رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حدیث مرفوع بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو قبر میں اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ اسے اس کی خطا اور گناہ کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے اب اس پر رو رہے ہیں اور یہ اسی طرح ہے جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر کے دن اس کنویں پر کھڑے ہوے جس میں مشرکین کے مقتولین تھے تو ان سے فرمایا جو کچھ فرمایا اور آپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ میری بات سنتے ہیں اور وہ بھول گئے۔حالانکہ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ جو کچھ میں کہ رہا ہوں وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی۔{إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى} [النمل: ٨٠] {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ} [فاطر: ٢٢]ترجمہ۔"اور آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور جو قبروں میں ہیں آپ ان کو بھی سنانے والے نہیں یہ اس وقت کی خبر دے رہے ہیں جب وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا چکے"۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٣؛حدیث نمبر٢٠٥٢)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ» فَقَالَتْ: وَهِلَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ أَوْ بِذَنْبِهِ، وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الْآنَ» وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ «إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ» وَقَدْ وَهِلَ، إِنَّمَا قَالَ: «إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ» ثُمَّ قَرَأَتْ: {إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى} [النمل: ٨٠] {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ} [فاطر: ٢٢] يَقُولُ: حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ.

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2052

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٥٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٣؛حدیث نمبر٢٠٥٣)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَحَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ أَتَمُّ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2053

حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن سے مروی ہے وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ام المؤمنين نے ان سے ذکر فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میت کو زندہ کے رونے سے عذاب ہوتا ہے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت ابو عبدالرحمن کی مغفرت فرمائے۔انہوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے اور ان سے خطا ہوئی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ عورت کے پاس سے گزرے جس پر رویا جارہا تھا تو اس نے فرمایا یہ لوگ اس پر رورہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٣؛حدیث نمبر٢٠٥٤)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَغْفِرُ اللهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، فَقَالَ: «إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2054

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس پر رویا جاے اسے اس نوحہ کی وجہ سے عذاب ہوگا۔(اگر اس نے وصیت کی ہو) (مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٣؛حدیث نمبر٢٠٥٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2055

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٥٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٤؛حدیث نمبر٢٠٥٦)

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسْدِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسْدِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2056

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٠٥٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؛جلد ٢؛ص٦٤٤؛حدیث نمبر٢٠٥٧)

وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2057

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں چار کام جاہلیت(کے کاموں میں)سے ہیں جن کو لوگ نہیں چھوڑیں گے۔ (١)حسب ونسب پر فخر کرنا۔ (٢)دوسروں کے نسب پر طعن کرنا۔ (٣)ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا۔ (٤)اور نوحہ کرنا۔ اور فرمایا نوحہ کرنے والی عورت مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اسے یوں کھڑا کیا جائے گا کہ اسے گندھک اور خارشی کی قمیص پہنائی جائیں گی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ؛جلد ٢؛ص٦٤٤؛حدیث نمبر٢٠٥٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدًا، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، لَا يَتْرُكُونَهُنَّ: الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالْاسْتِسْقَاءُ بِالنُّجُومِ، وَالنِّيَاحَةُ " وَقَالَ: «النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا، تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ، وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2058

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زید بن حارثہ،حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ مسجد میں بیٹھ گئے آپ کے چہرہ انور سے غم ظاہر ہو رہا تھا۔ام المؤمنين فرماتی ہیں میں دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی آپ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی عورتیں رورہی ہیں آپ نے اسے حکم دیا کہ جا کر ان کو روکیں وہ شخص گیا اور پھر آکر بتایا کہ وہ ان کی بات نہیں مانتیں آپ نے دوبارہ جانے کا حکم دیا اس نے پھر آکر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ ہم پر غالب آگئی ہیں۔ ام المومنین فرماتی ہیں میرا خیال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے دل میں کہا تیری ناک خاک آلود ہو تو وہ کام کیوں نہیں کرتا جس کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے اور آپ کو مشقت سے نجات کیوں نہیں دیتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِِ؛جلد ٢؛ص٦٤٤؛حدیث نمبر٢٠٥٩)

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ: لَمَّا جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ، جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، قَالَتْ: وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ - شَقِّ الْبَابِ - فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ، وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ، فَأَتَاهُ فَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ، فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَذْهَبَ فَيَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ، ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: وَاللهِ، لَقَدْ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَتْ فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اذْهَبْ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ التُّرَابِ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللهُ أَنْفَكَ، وَاللهِ، مَا تَفْعَلُ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2059

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٥٩ کی مثل مروی ہے اور اس کا آخری جملہ اس طرح ہے اور تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تھکاوٹ سے نجات نہیں دیتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ؛جلد ٢؛ص٦٤٥؛حدیث نمبر٢٠٦٠)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعِيِّ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2060

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی کہ ہم نوحہ نہیں کریں گے تو پانچ عورتوں کے علاوہ کسی نے یہ عہد پورا نہ کیا۔ام سلیم،ام العلاء،ابو سبرہ کی بیٹی اور معاذ کی بیوی رضی اللہ عنہم۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ؛جلد ٢؛ص٦٤٥؛حدیث نمبر٢٠٦١)

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْبَيْعَةِ، أَلَّا نَنُوحَ»، فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ، إِلَّا خَمْسٌ: أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ الْعَلَاءِ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، امْرَأَةُ مُعَاذٍ، أَوْ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2061

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیعت کے وقت ہم سے وعدہ لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی تو ہم میں سے پانچ کے علاوہ نے یہ وعدہ پورا نہ کیا۔ان(پانچ)میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ؛جلد ٢؛ص٦٤٦؛حدیث نمبر٢٠٦٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَسْبَاطٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْعَةِ أَلَّا تَنُحْنَ، فَمَا وَفَتْ مِنَّا غَيْرُ خَمْسٍ، مِنْهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2062

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی"آپ سے بیعت کرتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور نیکی کے کاموں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔تو ان میں نوحہ کی ممانعت بھی تھی فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں سوائے آل فلاں کے نوحہ نہیں کروں گی ان لوگوں نے دور جاہلیت میں میری مدد کی تھی۔پس میرے لئے ان کی مدد کرنا ضروری ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تم فلاں پر نوحہ کر سکتی ہو(مرنے والے پر پیٹنا نوحہ ہے۔جس سے اسلام میں منع کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے حاصل شدہ اختیارات کے تحت حضرت ام عطیہ کو اجازت دی کیونکہ آپ بارگاہ خداوندی سے مختار رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ التَّشْدِيدِ فِي النِّيَاحَةِ؛جلد ٢؛ص٦٤٦؛حدیث نمبر٢٠٦٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ قَالَتْ: كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِلَّا آلَ فُلَانٍ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَّا آلَ فُلَانٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2063

حضرت محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا تھا لیکن سختی نہیں کی گئی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَهْيِ النِّسَاءِ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ؛ترجمہ؛عورتوں کا جنازوں کے ساتھ جانا منع ہے؛ جلد ٢؛ص٦٤٦؛حدیث نمبر٢٠٦٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: «كُنَّا» نُنْهَى عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا "

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2064

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا۔لیکن اس سلسلے میں ہم پر سختی نہیں کی گئی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَهْيِ النِّسَاءِ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ؛جلد ٢؛ص٦٤٦؛حدیث نمبر٢٠٦٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2065

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہے تھے۔آپ نے فرمایا تین دفعہ یا پانچ دفعہ یا اس سے زیادہ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اگر زیادہ بار ضروری سمجھو اور آخری میں کافور یا فرمایا کافور میں سے کچھ لگا دو اور جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع کر دینا پس جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو اطلاع کی۔آپ نے اپنی چادر مبارک ہماری طرف ڈالی اور فرمایا اسے اس کے جسم سے ملا دو۔(کفن کے نیچے لپیٹ دو)۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛میت کو غسل دینے کا بیان؛جلد ٢؛ص٦٤٦؛حدیث نمبر٢٠٦٦)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: «اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي» فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2066

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم نے ان کی تین مینڈھیاں کیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٧؛حدیث نمبر٢٠٦٧)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2067

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہوا۔ایک روایت میں ہے کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھی ۔مالک کی روایت میں ہے کہ آپ اس وقت تشریف لائے جب آپ کی صاحبزادی کا انتقال ہوا پھر حدیث نمبر ٢٠٦٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٧؛حدیث نمبر٢٠٦٨)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2068

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے لیکن اس میں یوں ہے کہ تین بار یاپانچ یا سات یا اس سے زیادہ بار غسل دو اگر ضروری سمجھو اور ام عطیہ فرماتی ہیں ہم نے ان کے بالوں کی تین مینڈھیاں کیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٧؛حدیث نمبر٢٠٦٩)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ بِنَحْوِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ» فَقَالَتْ حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2069

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا طاق بار غسل دو تین یا پانچ یا سات بار،راوی کہتے ہیں حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم نے ان کے بالوں کی تین مینڈھیاں کیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٧؛حدیث نمبر٢٠٧٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، قَالَ: وَقَالَتْ حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا»، قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: «مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2070

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ان کو طاق بار تین یا پانچ بار غسل دو اور پانچویں بار کافور یا(فرمایا)کافور میں سے کچھ لگاؤ اور جب تم ان کو غسل دے دو تو مجھے بتانا فرماتی ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے ہمیں اپنی چادر مبارک دی اور فرمایا اس کو ان کے جسم کے ساتھ(کفن سے نیچے)ملادو۔(اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ خداوندی میں عزت وشان والے لوگوں کے جسم سے مس کیا ہوا کپڑا فائدہ دیتا ہے کفن پر لکھنے کی اصل بھی یہی ہے کہ میت کو ان کلمات کی برکت حاصل ہوتی ہے جو کفن پر لکھے جاتے ہیں۔ہزاروی١٢)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٨؛حدیث نمبر٢٠٧١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، وَاجْعَلْنَ فِي الْخَامِسَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا غَسَلْتُنَّهَا، فَأَعْلِمْنَنِي» قَالَتْ: فَأَعْلَمْنَاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ وَقَالَ «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2071

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں تو آپ نے فرمایا ان کو طاق بار غسل دو پانچ یا اس سے بھی زیادہ بار آگے حدیث نمبر ٢٠٧١ کی مثل مروی ہے۔ حدیث شریف میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ فرماتی ہیں ہم نے آپ کے بالوں کو تین مینڈھیاں کردیں دو کنپٹیوں کی طرف اور ایک پیشانی کے سامنے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٨؛حدیث نمبر٢٠٧٢)

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ إِحْدَى بَنَاتِهِ، فَقَالَ: «اغْسِلْنَهَا وِتْرًا خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ» بِنَحْوِ حَدِيثِ أَيُّوبَ وَعَاصِمٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قَالَتْ: فَضَفَرْنَا شَعْرَهَا ثَلَاثَةَ أَثْلَاثٍ، قَرْنَيْهَا وَنَاصِيَتَهَا

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2072

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں اپنی صاحبزادی کو غسل دینے کا حکم دیا تو آپ نے فرمایا ان کی دائیں جانب اور وضو کی جگہوں سے شروع کرنا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٨؛حدیث نمبر٢٠٧٣)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَمَرَهَا أَنْ تَغْسِلَ ابْنَتَهُ قَالَ لَهَا: «ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا، وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2073

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کے غسل کے بارے میں فرمایا کہ ان کی دائیں جانب سے اور وضو کے اعضاء کی طرف سے شروع کرنا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٨؛حدیث نمبر٢٠٧٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ: «ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا، وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2074

حضرت خباب بن إرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی اس میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب تھی۔پس ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں ثابت ہوگیا ہم میں سے بعض وہ ہیں جو فوت ہوگئے جو فوت ہو گئے اور انہیں(دنیا میں)اجر میں سے کچھ نہ ملا۔ان میں حضرت مصعب بن عمير رضی اللہ عنہ بھی تھے جو احد کے دن شہید ہوئے تو ان کے کفن کے لئے ایک چادر کے سوا کچھ نہ ملا پس جب ہم اسے ان کے سر پر رکھتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پاؤں پر رکھتے تو سر ننگا ہو جاتا پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(چادر)سر کی طرف کردو اور پاؤں پر اذخر(گھاس)ڈال دو اور ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی محنت کا پھل ان کو مل چکا ہے۔اور وہ چن چن کر کھارہے ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛میت کو کفن دینے کا بیان؛جلد ٢؛ص٦٤٩؛حدیث نمبر٢٠٧٥)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى -، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللهِ، نَبْتَغِي وَجْهَ اللهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ شَيْءٌ يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةٌ، فَكُنَّا إِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رَأْسِهِ، خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رِجْلَيْهِ، خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعُوهَا مِمَّا يَلِي رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الْإِذْخِرَ»، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ، فَهْوَ يَهْدِبُهَا

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2075

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٩؛حدیث نمبر٢٠٧٦)

وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2076

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےفرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو تین سفید سحولی(سحول مقام کے بنے ہوئے)کپڑوں(چادروں) میں کفن دیا گیا جو سوتی تھیں ان میں قمیص اور عمامہ نہ تھا اور حلہ(دو چادروں پر مشتمل جوڑا)کے بارے میں لوگوں کو شبہ ہو گیا جو آپ کے کفن کے لئے خریدا گیا تھا پس اس(حلے) کو چھوڑ دیا گیا اور آپ کو تین سفید سحولی کپڑوں میں کفن پہنایا گیا۔پھر اسے عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے لے لیا اور فرمایا میں اسے سنبھال کر رکھوں گا۔حتیٰ کہ مجھے اس میں کفن دیا جائے۔پھر فرمایا اگر اللہ تعالٰی اسےچاہتاتو اس کے نبی اکرم صل اللہ علیہ و سلم کے کفن میں استعمال ہوتا۔پس آپ نے اسے بیچ دیا اور اس کی قیمت صدقہ کردی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٤٩؛حدیث نمبر٢٠٧٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى -، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ، مِنْ كُرْسُفٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ، وَلَا عِمَامَةٌ، أَمَّا الْحُلَّةُ، فَإِنَّمَا شُبِّهَ عَلَى النَّاسِ فِيهَا، أَنَّهَا اشْتُرِيَتْ لَهُ لِيُكَفَّنَ فِيهَا، فَتُرِكَتِ الْحُلَّةُ، وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ» فَأَخَذَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: " لَأَحْبِسَنَّهَا حَتَّى أُكَفِّنَ فِيهَا نَفْسِي، ثُمَّ قَالَ: لَوْ رَضِيَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ لَكَفَّنَهُ فِيهَا، فَبَاعَهَا وَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهَا "

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2077

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ السلام کو ایک یمنی حلے کا کفن پہنایا گیا جو حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا تھا پھر آپ سے اتار لیا گیا اور آپ کو تین سحولی یمنی کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں عمامہ اور قمیص نہ تھی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اٹھا لیا اور فرمایا مجھے اس میں کفن دیا جائے پھر فرمایا جب اس میں رسول اکرم صل للہ علیہ السلام کو کفن نہیں دیا گیا تو میں اسے اپنے کفن کے لئے کیسے رکھوں پس آپ نے اسے صدقہ کر دیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٥٠؛حدیث نمبر٢٠٧٨)

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أُدْرِجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ يَمَنِيَّةٍ كَانَتْ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ نُزِعَتْ عَنْهُ، وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولٍ يَمَانِيَةٍ، لَيْسَ فِيهَا عِمَامَةٌ، وَلَا قَمِيصٌ»، فَرَفَعَ عَبْدُ اللهِ الْحُلَّةَ، فَقَالَ: أُكَفَّنُ فِيهَا، ثُمَّ قَالَ: لَمْ يُكَفَّنْ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُكَفَّنُ فِيهَا، فَتَصَدَّقَ بِهَا

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2078

ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے مگر اس میں حضرت عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٥٠؛حدیث نمبر٢٠٧٩)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، وَعَبْدَةُ، وَوَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ قِصَّةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2079

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو کپڑوں میں کفن دیا گیا تو انہوں نے فرمایا"تین سحولی کپڑوں میں"۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي كَفَنِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٥٠؛حدیث نمبر٢٠٨٠)

وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهَا: فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: «فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سَحُولِيَّةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2080

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ کو ایک یمنی چادر کے ساتھ ڈھانپا گیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ تَسْجِيَةِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٥١؛حدیث نمبر٢٠٨١)

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: «سُجِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَ بِثَوْبِ حِبَرَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2081

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٠٨١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ تَسْجِيَةِ الْمَيِّتِ؛جلد ٢؛ص٦٥١؛حدیث نمبر٢٠٨٢)

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَوَاءً

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2082

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ ارشاد فرمایا تو اپنے ایک صحابی کا ذکر کیا جن کا انتقال ہوا اور ان کو چھوٹے سے کپڑے میں کفن دے کر رات کے وقت دفن کر دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت دفنانے پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کیوں کہ اس پر نماز پڑھنے کا موقعہ نہ مل سکا فرمایا مجبوری ہو تو الگ بات ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اسے اچھا کفن دے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي تَحْسِينِ كَفَنِ الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛میت کا کفن اچھا ہونا چاہیے؛جلد ٢؛ص٦٥١؛حدیث نمبر٢٠٨٣)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا، فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَيْلًا، فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ، إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيُحَسِّنْ كَفَنَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2083

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جنازہ جلدی لے جایا کرو اگر وہ نیک ہے تو تم اسے بھلائی کی طرف لے جارہے ہو اور اس کے علاوہ ہے تو یہ ایک شر ہے اسے اپنے کندھوں سے اتار دو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛ترجمہ؛جنازہ جلدی لے جانا چاہیے؛جلد ٢؛ص٦٥١؛حدیث نمبر٢٠٨٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ، فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ - لَعَلَّهُ قَالَ - تُقَدِّمُونَهَا عَلَيْهِ، وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ، فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2084

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٢٠٨٤ کی مثل روایت کرتے ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جلد ٢؛ص٦٥٢؛حدیث نمبر٢٠٨٥)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2085

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا آپ نے فرمایاجنازہ جلدی لے جاؤ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے بھلائی کے قریب لے جا رہے ہو اور اگر وہ اس کے علاوہ ہے تو وہ شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتاردو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ؛جلد ٢؛ص٦٥٢؛حدیث نمبر٢٠٨٦)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَرَّبْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ كَانَ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2086

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں نماز جنازہ کی ادائیگی تک حاضررہے اس کے لئے ایک قیراط(بطور ثواب)ہے اور جو دفن تک موجود ہے اس کے لئے دو قیراط ہے پوچھا گیا قیراط سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا دو بڑے پہاڑوں کی مثل۔حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نماز جنازہ پڑھ کر واپس آجاتے تھے جب ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی(یہ)حدیث پہنچی تو انہوں نے فرمایا ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دئیے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فضل الصَّلَاةِ علی الجنازۃ واتبعھا؛ترجمہ؛نماز جنازہ اور اسکے ساتھ جانے کی فضیلت؛جلد ٢؛ص٦٥٢؛حدیث نمبر٢٠٨٧)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ، وَحَرْمَلَةَ، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ - أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ»، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ: «مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ» انْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ، وَزَادَ الْآخَرَانِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2087

ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے "بڑے پہاڑوں کی مثل"کے الفاظ تک روایت کرتے ہیں اس کے بعدراویوں کےالفاظ مذکور ہیں۔عبدالاعلی کی روایت میں فراغت کا اور عبدالرزاق کی روایت میں قبر میں رکھنے کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فضل الصَّلَاةِ علی الجنازۃ واتبعھا؛ جلد ٢؛ص٦٥٢؛حدیث نمبر٢٠٨٨)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، كِلَاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْلِهِ: «الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ»، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى: حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ.

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2088

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٠٨٨کی طرح مروی ہے اور اس میں ہے کہ جو اس کے (جنازے) پیچھے جائے حتی کہ اسے دفن کر دیا جائے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فضل الصَّلَاةِ علی الجنازۃ واتبعھا؛ جلد ٢؛ص٦٥٣؛حدیث نمبر٢٠٨٩)

وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي رِجَالٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، وَقَالَ: «وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2089

ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس نے نماز جنازہ پڑھی اور اس کے ساتھ نہ گیا اس کے لئے ایک قیراط ہے اور اگر اس کے ساتھ جائے تو اس کے لئے دو قیراط ہیں عرض کیا گیا دو قیراط کیا ہیں؟ان میں سے چھوٹا قیراط احد پہاڑ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فضل الصَّلَاةِ علی الجنازۃ واتبعھا؛جلد ٢؛ص٦٥٣؛حدیث نمبر٢٠٩٠)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَلَمْ يَتْبَعْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ تَبِعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ»، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ: «أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ» حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَقِيرَاطَانِ» قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَمَا الْقِيرَاطُ؟ قَالَ: «مِثْلُ أُحُدٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2090

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا جس نے نماز جنازہ پڑھی اس کے لئے ایک قیراط ہے۔اور جو اس کے ساتھ جائے حتی کہ اسے قبر میں رکھا جائےتو اس کے لئے دو قیراط ہیں راوی لکھتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا قیراط کیا ہے تو فرمایا۔ احد پہاڑ کی طرح۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فضل الصَّلَاةِ علی الجنازۃ واتبعھا؛جلد ٢؛ص٦٥٣؛حدیث نمبر٢٠٩١)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ» فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَكْثَرَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَبَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَهَا، فَصَدَّقَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2091

حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جو شخص کسی جنازہ کے ساتھ گیا اس کے لئے ایک قیراط کے برابر ثواب ہے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایسی احادیث بکثرت بیان کرتے ہیں۔انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی۔اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دئے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَاتِّبَاعِهَا؛جلد ٢؛ص٦٥٣؛حدیث نمبر٢٠٩٢)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ» فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَكْثَرَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَبَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَهَا، فَصَدَّقَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2092

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ صاحب مقصورہ،حضرت خباب رضی اللہ عنہ آے اور کہنے لگے۔اے ابن عمر رضی اللہ عنہ!کیا آپ نہیں سنتے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص جنازے کے ساتھ اپنے گھر سے جائے اور نماز جنازہ پڑھے پھر اس کے ساتھ جائے حتیٰ کہ اسے دفن کیا جائے تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے اور جو شخص نماز جنازہ پڑھ کر واپس آجائے اس کے لئے احد پہاڑ کے مثل ہے۔ (یہ سن کر)حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں پوچھیں اور واپس آکر بتائیں کہ ام المومنین نے کیا فرمایا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ مسجد کی کنکریاں میں سے ایک مٹھی کنکریاں لے کر ہاتھوں میں لوٹ پوٹ کرنے لگے۔حتیٰ کہ قاصد لوٹ آئے انہوں نے بتایا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے کنکریاں پھینک دیں پھر فرمایا ہم نے بہت سے قیراط حاصل کرنے میں کوتاہی کی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ وَاتِّبَاعِهَا؛جلد ٢؛ص٦٥٣؛حدیث نمبر٢٠٩٣)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا، وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنْ أَجْرٍ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ رَجَعَ، كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ»؟ فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيُخْبِرُهُ مَا قَالَتْ: وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصَى الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، حَتَّى رَجَعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ، فَقَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2093

Muslim Shareef Kitabul Janaiz Hadees No# 2094

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2094

Muslim Shareef Kitabul Janaiz Hadees No# 2095

وحَدَّثَنِي ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ، وَهِشَامٍ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ، فَقَالَ: «مِثْلُ أُحُدٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2095

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا جس مسلمان میت پر مسلمانوں کی ایک جماعت نماز پڑھے اور وہ ایک سو کی تعداد کو پہنچ جائیں اور وہ سب اس کی شفاعت کریں تو اس کے بارے میں ان کی سفارش قبول ہوتی ہے راوی کہتے ہیں میں نے یہ حدیث شعیب بن حجاب سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا مجھ سے یہ حدیث حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ شُفِّعُوا فِيهِ؛جلد ٢؛ص٦٥٤؛حدیث نمبر٢٠٩٦)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، رَضِيعِ عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ مَيِّتٍ تُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ مِائَةً، كُلُّهُمْ يَشْفَعُونَ لَهُ، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ»، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ شُعَيْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2096

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت کریب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے کا مقام قدید یا مقام غسفان میں انتقال ہوگیا تو انہوں نے فرمایا اے کریب!دیکھو کتنے لوگ جمع ہوئے ہیں وہ فرماتے ہیں میں(باہر)نکلا تو دیکھا کہ لوگ جمع تھے میں نے ان کو بتایا تو انہوں نے فرمایا تم کیا کہتے ہو چالیس افراد ہوں گے انہوں نے جواب دیا جی ہاں آپ نے فرمایا جنازہ نکالو۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو مسلمان شخص فوت ہوجائے اور اس کے جنازے میں چالیس افراد ہوں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے بارے میں ان کی سفارش(دعا)کو قبول کرتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ أَرْبَعُونَ شُفِّعُوا فِيهِ؛جلد ٢؛ص٦٥٥؛حدیث نمبر٢٠٩٧)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، قَالَ الْوَلِيدُ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ بِقُدَيْدٍ - أَوْ بِعُسْفَانَ - فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهُ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: تَقُولُ هُمْ أَرْبَعُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَخْرِجُوهُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، لَا يُشْرِكُونَ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيهِ»، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَعْرُوفٍ: عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2097

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک جنازہ گزراتو لوگوں نے اس کی تعریف کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی،واجب ہوگئی ایک اور جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی کا تذکرہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی واجب ہوگئی۔ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ایک جنازہ گزرا اور اس کی تعریف کی گئی تو آپ نے فرمایا واجب ہوگئی۔واجب ہوگئی واجب ہوگئی اور دوسرا جنازہ گزرا جس کی برائی بیان کی گئی تو آپ نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی،واجب ہوگئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جس کی اچھی تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی تم نے برائی کی اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو،تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ فِيمَنْ يُثْنَى عَلَيْهِ خَيْرٌ أَوْ شَرٌّ مِنَ الْمَوْتَى؛جلد ٢؛ص٦٥٥؛حدیث نمبر٢٠٩٨)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ»، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ»، قَالَ عُمَرُ: فِدًى لَكَ أَبِي وَأُمِّي، مُرَّ بِجَنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ، فَقُلْتَ: «وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ»، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ، فَقُلْتَ: «وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ»؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2098

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٠٩٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ فِيمَنْ يُثْنَى عَلَيْهِ خَيْرٌ أَوْ شَرٌّ مِنَ الْمَوْتَى؛جلد ٢؛ص٦٥٦؛حدیث نمبر٢٠٩٩)

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلَاهُمَا عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَتَمُّ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2099

حضرت ابو قتادہ ربعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا یہ آرام پانے والا ہے۔یا اس سے لوگوں کو آرام مل گیا ہے صحابہ کرام نے پوچھا آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام مل گیا کا کیا مطلب ہے۔؟آپ نے فرمایا مؤمن بندہ دنیا کی مشقتوں(اور تھکاوٹوں)سے آرام پالیتا ہے اور کافر سے بندوں،شہروں درختوں اور جانوروں کو آرام مل جاتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ مَا جَاءَ فِي مُسْتَرِيحٍ وَمُسْتَرَاحٍ مِنْهُ؛جلد ٢؛ص٦٥٦؛حدیث نمبر٢١٠٠)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: «مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: «الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ، وَالْبِلَادُ، وَالشَّجَرُ، وَالدَّوَابُّ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2100

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢١٠٠ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ بندہ دنیا کی تکلیفوں اور مشقتوں سے آرام پاکر اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کر لیتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ مَا جَاءَ فِي مُسْتَرِيحٍ وَمُسْتَرَاحٍ مِنْهُ؛جلد ٢؛ص٦٥٦؛حدیث نمبر٢١٠١)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: «يَسْتَرِيحُ مِنْ أَذَى الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا إِلَى رَحْمَةِ اللهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2101

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نجاشی بادشاہ کا انتقال ہوا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فوت ہونے کی خبر دی پھر آپ عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور چار تکبیروں کے ساتھ نماز پڑھائی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛ترجمہ؛نماز جنازہ کی تکبیریں؛جلد ٢؛ص٦٥٦؛حدیث نمبر٢١٠٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى، وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2103

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٠٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جلد ٢؛ص٦٥٧؛حدیث نمبر٢١٠٤)

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، كَرِوَايَةِ عُقَيْلٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2104

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصمحہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے چار تکبیریں کہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جلد ٢؛ص٦٥٧؛حدیث نمبر٢١٠٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2105

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے اصمحہ کا انتقال ہوگیا ہے پس آپ کھڑے ہوئے اور ہماری أمامت فرماتے ہوئے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٥٧؛حدیث نمبر٢١٠٦)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ لِلَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ»، فَقَامَ فَأَمَّنَا، وَصَلَّى عَلَيْهِ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2106

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ایک بھائی کا انتقال ہوگیا ہے۔پس کھڑے ہو کر ان کی نماز جنازہ پڑھو چنانچہ ہم کھڑے ہوئے اور ان پر دو صفیں باندھیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٥٧؛حدیث نمبر٢١٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ»، قَالَ: فَقُمْنَا فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2107

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ایک بھائی کا انتقال ہوگیا ہے پس کھڑے ہو کر ان کی نماز جنازہ پڑھو۔راوی کہتے ہیں اس سے نجاشی مراد ہے۔(اتنی جلدی اور اتنے دوری سے نجاشی کی انتقال کی خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی واسطے، ذریعہ اور عقل کے بغیر حاصل ہوئی اور اسی کو غیب کہتے ہیں۔١٢یزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٥٧؛حدیث نمبر٢١٠٨)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ: «إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ» يَعْنِي النَّجَاشِيَ، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ: «إِنَّ أَخَاكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2108

حضرت شعبی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کے دفن ہونے کے بعد اس کی قبر پر چار رکعات پڑھیں تو چار تکبیریں کہیں۔(احناف کے نزدیک میت تازہ تازہ ہو تو قبر پر نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے جب کہ پڑھنے والا میت کا ولی ہو اور اس نے نماز جنازہ نہ پڑھی ہو اور دوسرے لوگوں نے پڑھ لی ہو۔ہزاری١٢) شیبانی نے پوچھا آپ سے یہ حدیث کس نے بیان کی انہوں نے فرمایا ایک معتبر شخص یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابن نمیر نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک تازہ قبر کے پاس گئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی صحابہ کرام آپ کے پیچھے صف بستہ ہوے اور آپ نے چار تکبیریں پڑھیں۔راوی کہتے ہیں میں نے عامر سے پوچھا آپ سے کس نے بیان کیا تو انہوں نے کہا ایک ایسے معتبر شخص نے جس کے پاس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ آے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ؛ترجمہ؛قبر پر نماز جنازہ پڑھنا؛جلد٢ص٦٥٨؛حدیث نمبر٢١٠٩)

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَمَا دُفِنَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا»، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ: فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: الثِّقَةُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَسَنٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: انْتَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرٍ رَطْبٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَصَفُّوا خَلْفَهُ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا، قُلْتُ لِعَامِرٍ: مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2109

Muslim Shareef Kitabul Janaiz Hadees No# 2110

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا».

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2110

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر پر نماز پڑھنے کا ذکر کرتے ہیں لیکن اس میں بھی چار تکبیروں کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٥٩؛حدیث نمبر٢١١١)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، جَمِيعًا عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ عَلَى الْقَبْرِ، نَحْوَ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ: «وَكَبَّرَ أَرْبَعًا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2111

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٥٩؛حدیث نمبر٢١١٢)

وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2112

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک سیاہ رنگ کی(حبشی)عورت یا ایک نوجوان مسجد کی صفائی وغیرہ کرتا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی نہ دیا تو آپ نے اس کے بارے میں پوچھا صحابہ کرام نے عرض کیا اس کا انتقال ہو گیا ہے۔آپ نے فرمایا تم نے اطلاع کیوں نہ کی۔راوی کہتے ہیں گویا ان لوگوں نے اس کے معاملے کو معمولی سمجھا آپ نے فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ۔انہوں نے بتائی تو آپ نے اس پر نماز پڑھی پھر فرمایا یہ قبریں ان قبر والوں پر اندھیرے سے بھر پور ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو میری ان پر نماز کی وجہ سے روشن کر دیتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٥٩؛حدیث نمبر٢١١٣)

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ - قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ - أَوْ شَابًّا - فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهَا - أَوْ عَنْهُ - فَقَالُوا: مَاتَ، قَالَ: «أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي» قَالَ: فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا - أَوْ أَمْرَهُ - فَقَالَ: «دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ» فَدَلُّوهُ، فَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2113

حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ جنازوں پر چار تکبیریں کہتے تھے ایک جنازے پر انہوں نے چار تکبیریں کہیں تو میں نے ان سے(اس بارے میں)پوچھا تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٥٩؛حدیث نمبر٢١١٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَنْ شُعْبَةَ - عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2114

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ حتیٰ کہ وہ تم سے آگے چلا جائے یا رکھ دیا جائے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛ترجمہ؛جنازہ کے لئے کھڑا ہو جانا؛جلد٢ص٦٥٩؛حدیث نمبر٢١١٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ، فَقُومُوا لَهَا، حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2115

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١١٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١١٦)

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2116

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جنازہ دیکھے تو اگر وہ اس کے ساتھ جانے والا نہ ہو تو کھڑا ہو جائے حتیٰ کہ وہ اس سے آگے چلا جائے یا آگے جانے سے پہلے اسے زمین پر رکھ دیا جائے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١١٧)

وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا، فَلْيَقُمْ حَتَّى تُخَلِّفَهُ، أَوْ تُوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2117

حضرت ابن جریح بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جنازہ دیکھے تو اسے دیکھ کر کھڑا ہو جائے حتیٰ کہ وہ آگے چلا جائے اگر وہ اس کے ساتھ جانے والا نہ ہو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١١٨)

وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ، فَلْيَقُمْ حِينَ يَرَاهَا حَتَّى تُخَلِّفَهُ، إِذَا كَانَ غَيْرَ مُتَّبِعِهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2118

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی جنازے کے ساتھ جاؤ تو اس کو رکھنے سے پہلے نہ بیٹھو۔(کیونکہ ہوسکتا ہے اسے نیچے رکھنے کے لئے تمہاری ضرورت پڑ جائے۔١٥ہزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١١٩)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اتَّبَعْتُمْ جَنَازَةً، فَلَا تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2119

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جس نے اس کے ساتھ جانا ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اسے رکھ نہ دیا جائے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١٢٠)

وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2120

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک جنازہ گزرا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے کھڑے ہوگئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو یہودی عورت ہے آپ نے فرمایا موت گھبراہٹ کا سبب ہے پس جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٠؛حدیث نمبر٢١٢١)

وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَرَّتْ جَنَازَةٌ، فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْنَا مَعَهُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا يَهُودِيَّةٌ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2121

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦١؛حدیث نمبر٢١٢٢)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: «قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2122

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ایک یہودی کے جنازے کے لئے کھڑے ہوے حتیٰ کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦١؛حدیث نمبر٢١٢٣)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: «قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2123

حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد اور حضرت سہل بن حنیف قادسیہ میں تھے تو ان دونوں کے پاس سے جنازہ گزرا وہ دونوں کھڑے ہوئے تو ان سے کہا گیا یہ تو اس سرزمین کا تھا۔(کافر تھا)تو ان دونوں نے جواب دیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے۔عرض کیا گیا یہ تو یہودی ہے آپ نے فرمایا کیا یہ روح ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦١؛حدیث نمبر٢١٢٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ، وَسَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، كَانَا بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرَّتْ بِهِمَا جَنَازَةٌ فَقَامَا، فَقِيلَ لَهُمَا: إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَقَالَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ، فَقَامَ فَقِيلَ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: «أَلَيْسَتْ نَفْسًا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2134

ایک اور سند کے ساتھ بھی اسی قسم کی روایت مروی ہے اس میں وہ بتاتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہمارے سامنے سے ایک جنازہ گزرا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦١؛حدیث نمبر٢١٢٥)

وحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ فَقَالَا: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ عَلَيْنَا جَنَازَةٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2125

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے دیکھا اور ہم ایک جنازے میں کھڑے تھے اور وہ جنازہ رکھنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کیوں کھڑے ہو میں نے کہا میں جنازہ رکھنے کا منتظر ہوں کیونکہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہی بات بیان کی ہے۔حضرت نافع نے فرمایا حضرت مسعود بن حکم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پھر بیٹھ گئے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦١؛حدیث نمبر٢١٢٦)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، أَنَّهُ قَالَ: رَآنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ وَنَحْنُ فِي جَنَازَةٍ قَائِمًا، وَقَدْ جَلَسَ يَنْتَظِرُ أَنْ تُوضَعَ الْجَنَازَةُ، فَقَالَ لِي: مَا يُقِيمُكَ؟ فَقُلْتُ: أَنْتَظِرُ أَنْ تُوضَعَ الْجَنَازَةُ، لِمَا يُحَدِّثُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ نَافِعٌ: فَإِنَّ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَعَدَ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2126

حضرت مسعود بن حکم بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے جنازوں کے بارے میں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کھڑے ہوئے پھر بیٹھ گئے انہوں نے یہ حدیث اس لیے بیان کی کہ حضرت نافع بن جبیر نے واقد بن عمرو کو دیکھا کہ وہ جنازے رکھنے تک کھڑے رہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٢؛حدیث نمبر٢١٢٧)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ: فِي شَأْنِ الْجَنَائِزِ «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ، ثُمَّ قَعَدَ» وَإِنَّمَا حَدَّثَ بِذَلِكَ لِأَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ رَأَى وَاقِدَ بْنَ عَمْرٍو قَامَ، حَتَّى وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2127

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٢٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٢؛حدیث نمبر٢١٢٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2128

حضرت مسعود بن حکم انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے اور آپ بیٹھ گئے تو ہم بھی بیٹھ گئے یعنی جنازہ میں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٢؛حدیث نمبر٢١٢٩)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: رَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَامَ فَقُمْنَا وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا يَعْنِي فِي الْجَنَازَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2129

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٢٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ نَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ؛جلد٢ص٦٦٢؛حدیث نمبر٢١٣٠)

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2130

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے کی نماز پڑھی تو میں نے اس جنازے میں آپ کی دعا سے یہ الفاظ یاد رکھے۔ ترجمہ:"اے اللہ!اس کی مغفرت فرما اس پر رحم فرما اس کو عافیت میں رکھنا۔اسے معاف کر دے اس کی عزت کے ساتھ معافی فرمانا اس کی قبر کو کشادہ کردے اسکو پانی،برف اور اولوں سے دھو دے اس کو خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیا جاتا ہے اور اس کو گھر کے بدلے اچھا گھر،اس گھر والوں سے اچھے گھر والے اس بیوی سے اچھی بیوی عطا فرما اس کو جنت میں داخل کردے۔نیز قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے بچا لے۔" راوی فرماتے ہیں حتیٰ کہ میں نے تمنا کی کہ کاش کہ وہ میت میں ہوتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ فِي الصَّلَاةِ؛نماز جنازہ میں میت کے لئے دعا کرنا؛جلد٢ص٦٦٢؛حدیث نمبر٢١٣١)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، سَمِعَهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ، فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ، اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ - أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ -» قَالَ: «حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2131

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٣١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد٢ص٦٦٣؛حدیث نمبر٢١٣٢)

قَالَ: وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا. وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2132

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ نماز جنازہ پڑھا رہے تھے آپ نے یوں دعا کی۔ "یااللہ!اسے بخش دے اس پر رحم فرما اس کو معاف کردے اس کی اچھی طرح مہمان نوازی فرما اس کی قبر کو کشادہ کر دے اس کو پانی،برف اور اولوں سے دھو دے اور اس کو گناہوں سے اس طرح پاک کردے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے اور اس کو(دنیاوی)گھر کے بدلے میں اچھا گھر عطا فرما(دنیاوی)گھر والوں کے مقابلے میں اچھا گھرانہ عطا کر اور(دنیوی)بیوی سے اچھی بیوی عطاء فرما۔اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔حضرت عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس میت پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کی وجہ سے میں نے تمنا کی کاش وہ میت میں ہی ہوتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد٢ص٦٦٣؛حدیث نمبر٢١٣٣)

وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلَاهُمَا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْحِمْصِيِّ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِأَبِي الطَّاهِرِ - قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ يَقُولُ: «اللهُمَّ، اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَاعْفُ عَنْهُ وَعَافِهِ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ» قَالَ عَوْفٌ: «فَتَمَنَّيْتُ أَنْ لَوْ كُنْتُ أَنَا الْمَيِّتَ، لِدُعَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ الْمَيِّتِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2133

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہی روایت ہے لیکن اس میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی والدہ کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ أَيْنَ يَقُومُ الْإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٤؛حدیث نمبر٢١٣٥)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، كُلُّهُمْ عَنْ حُسَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرُوا أُمَّ كَعْبٍ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2135

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھوٹا لڑکا تھا اور میں آپ کی احادیث یاد کیا کرتا تھا اور میں ان کے پاس اس لیے نہیں بولتا تھا کہ مجھ سے زیادہ عمر والے لوگ ہوتے تھے اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں فوت ہوگئی تھیں تو آپ اس کے جنازے کے وسط میں کھڑے ہوئے۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لئے اس کے وسط میں کھڑے ہوئے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ أَيْنَ يَقُومُ الْإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٤؛حدیث نمبر٢١٣٦)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ: لَقَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا، فَكُنْتُ أَحْفَظُ عَنْهُ، فَمَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا أَنَّ هَا هُنَا رِجَالًا هُمْ أَسَنُّ مِنِّي، وَقَدْ «صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ وَسَطَهَا» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلَاةِ وَسَطَهَا

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2136

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ننگی پیٹھ والا گھوڑا لایا گیا جب آپ ابن دحداح کے جنازے سے واپس ہوئے تو اس پر سوار ہوے اور ہم آپ کے گرد پیدل چل رہے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ رُكُوبِ الْمُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ إِذَا انْصَرَفَ؛جلد٢ص٦٦٤؛حدیث نمبر٢١٣٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ يَحْيَى: - أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَرَسٍ مُعْرَوْرًى، فَرَكِبَهُ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جَنَازَةِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ، وَنَحْنُ نَمْشِي حَوْلَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2137

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کا جنازہ پڑھا پھر آپ کے پاس ننگی پیٹھ والا گھوڑا لایا گیا ایک شخص نے اسے پکڑا اور آپ اس پر سوار ہوے وہ گھوڑا ادھر اُدھر دلکی چال چلنے لگا اور ہم آپ کے پیچھے بھاگتے ہوئے چل رہے تھے۔راوی فرماتے ہیں لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن دحداح کے لئے جنت میں کتنے خوشے لٹک رہے ہیں۔حضرت شعبہ نے ابوالدحداح کا ذکر کیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ رُكُوبِ الْمُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ إِذَا انْصَرَفَ؛جلد٢ص٦٦٥؛حدیث نمبر٢١٣٨)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ: ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْيٍ فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ، وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ، نَسْعَى خَلْفَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ - أَوْ مُدَلًّى - فِي الْجَنَّةِ لِابْنِ الدَّحْدَاحِ» أَوْ قَالَ شُعْبَةُ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ "

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2138

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے اپنے مرض الموت میں فرمایا میرے لئے لحد بنانا اور اس پر کچھ اینٹیں لگانا جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(کی قبر مبارک)کے لئے کیا گیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب فی اللحد ونصب اللبن علی المیت؛جلد٢ص٦٦٥؛حدیث نمبر٢١٣٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمِسْوَرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: فِي مَرَضِهِ الَّذِي هَلَكَ فِيهِ: «الْحَدُوا لِي لَحْدًا، وَانْصِبُوا عَلَيَّ اللَّبِنَ نَصْبًا، كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2139

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور میں سرخ چادر رکھی گئی تھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ جَعْلِ الْقَطِيفَةِ فِي الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٦٥؛حدیث نمبر٢١٤٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، وَوَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ» قَالَ مُسْلِم: «أَبُو جَمْرَةَ، اسْمُهُ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ، وَأَبُو التَّيَّاحِ، اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ مَاتَا بِسَرَخْسَ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2140

حضرت ثمامہ بن شفی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت فضالہ بن ابی لبید کے ساتھ روم کے شہر رودس میں تھے تو ہمارے ایک ساتھی کا انتقال ہوگیا پس حضرت فضالہ نے حکم دیا کہ ان کی قبر زمین کے برابر کر دی جائے پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٦٦؛حدیث نمبر٢١٤١)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ - فِي رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ - أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَهُ - وَفِي رِوَايَةِ هَارُونَ - أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ، حَدَّثَهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2141

حضرت ابو الہیاج اسدی فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کیا میں تجھے اس کام کے لیے نہ بھیجوں جس کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا کہ تم ہر تصویر کو مٹا دو اور ہر اونچی قبر کو زمین کے برابر کر دو۔(زیادہ اونچی قبر بنانے کا کوئی فائدہ نہیں اور دور جاہلیت میں ایسا ہوتا تھا اس لئے ایسا کرنے کا حکم دیا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ قبریں مسمار کر کے نام ونشان مٹا دیا جائے جس طرح نجدیوں نے سمجھا۔١٢ہزاروی۔)۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛جلد٢ص٦٦٦؛حدیث نمبر٢١٤٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ «أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2142

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٢١٤٢کی مثل مروی ہے اور اس میں(تمثال کی جگہ)صورت کا لفظ ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ؛جلد٢َص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٣)

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: وَلَا صُورَةً إِلَّا طَمَسْتَهَا

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2143

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو پختہ کرنے اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَجْصِيصِ الْقَبْرِ وَالْبِنَاءِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2144

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٤٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَجْصِيصِ الْقَبْرِ وَالْبِنَاءِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٥)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2145

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں قبروں کو پختہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔(اندر سے قبر کچی ہو اگر باہر سے اس لئے پختہ کی جائے کہ دستبرد سے محفوظ رہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَجْصِيصِ الْقَبْرِ وَالْبِنَاءِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٦)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «نُهِيَ عَنْ تَقْصِيصِ الْقُبُورِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2146

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص انگاروں پر بیٹھ جاے جس سے اس کے کپڑے جل جائیں اور آگ اس کی کھال تک پہنچ جائے تو یہ اس کے لئے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْقَبْرِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛ترجمہ؛قبروں پر بیٹھنا اور اس پر نماز پڑھنا ناجائز ہے؛جلد٢ص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٧)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ، فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2147

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٤٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْقَبْرِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٧؛حدیث نمبر٢١٤٨)

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ وَاثِلَةَ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2148

حضرت ابو مرثدغنوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبروں پر نہ تو بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْقَبْرِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٨؛حدیث نمبر٢١٤٩)

وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُصَلُّوا إِلَى الْقُبُورِ، وَلَا تَجْلِسُوا عَلَيْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2149

حضرت ابو مرثدغنوی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قبروں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى الْقَبْرِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٦٦٨؛حدیث نمبر٢١٥٠)

وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُصَلُّوا إِلَى الْقُبُورِ، وَلَا تَجْلِسُوا عَلَيْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2150

حضرت عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازہ کو مسجد میں لایا جائے تاکہ وہ بھی ان پر نماز جنازہ پڑھیں۔صحابہ کرام نے اس پر اعتراض کیا تو ام المؤمنين نے فرمایا لوگ کس قدر بھول گئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ِبَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛ترجمہ؛نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا؛جلد ٢؛ص٦٦٨؛حدیث نمبر٢١٥١)

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ قَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ: - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَمَرَتْ أَنْ يَمُرَّ بِجَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَتُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأَنْكَرَ النَّاسُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ النَّاسُ، «مَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2151

حضرت عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے پیغام بھیجا کہ انکا جنازہ مسجد سے گزاریں تاکہ وہ بھی نماز جنازہ پڑھ سکیں چنانچہ صحابہ کرام نے ایسا ہی کیا پس اسے ان(أزواج)مطہرات کے حجرے پر رکھا گیا کہ وہ اس پر نماز پڑھیں پھر اسے مقاعد کے حجرے پر رکھا گیا کہ وہ اس پر نماز پڑھیں پھر اسے مقاعد کی طرف باب الجنائز سے لے جایا گیا۔ اس کے بعد ازواج مطہرات کو خبر پہنچی کہ صحابہ کرام نے اس بات پر اعتراض کیا اور کہا کہ جنازوں کو مسجد میں نہیں لے جایا جاتا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگوں نے اس بات پر اعتراض کرنے میں اتنی جلدی کی جس کا ان کو علم نہیں۔انہوں نے ہم پر اعتراض کیا کہ مسجد میں جنازہ لے جایا گیا حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھی تھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ِبَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛جلد ٢؛ص٦٦٨؛حدیث نمبر٢١٥٢)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَمُرُّوا بِجَنَازَتِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَيُصَلِّينَ عَلَيْهِ، فَفَعَلُوا فَوُقِفَ بِهِ عَلَى حُجَرِهِنَّ يُصَلِّينَ عَلَيْهِ أُخْرِجَ بِهِ مِنْ بَابِ الْجَنَائِزِ الَّذِي كَانَ إِلَى الْمَقَاعِدِ، فَبَلَغَهُنَّ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا ذَلِكَ، وَقَالُوا: مَا كَانَتِ الْجَنَائِزُ يُدْخَلُ بِهَا الْمَسْجِدَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لَا عِلْمَ لَهُمْ بِهِ، عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ يُمَرَّ بِجَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، «وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2152

حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ان(کے جنازے)کو مسجد میں داخل کرو تاکہ میں بھی ان پر نماز پڑھو۔صحابہ کرام کی طرف سے ان پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بیضاء کے دو بیٹوں حضرت سہیل اور ان کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تھی۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ِبَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ؛جلد ٢؛ص٦٦٩؛حدیث نمبر٢١٥٣)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ -، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَتْ: ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: «وَاللهِ، لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَيْ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ» قَالَ مُسْلِم: «سُهَيْلُ بْنُ دَعْدٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَيْضَاءِ أُمُّهُ بَيْضَاءُ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2153

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے ہاں باری ہوتی تو رات کے آخری حصے میں آپ جنت البقیع کی طرف تشریف لے جاتے اور فرماتے۔ ترجمہ:"اے مومنوں کی جماعت!السلام علیکم!تمہارے پاس وہ چیز آچکی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا تھا اور ہم بھی انشاءاللہ تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں یا اللہ! بقیع غرقد والوں کو بخش دے۔ حضرت قتیبہ نے" تمہارے پاس آگئی"کے الفاظ نقل نہیں کئے۔(معلوم ہوا کہ قبرستان میں جانا اور فوت شدہ لوگوں کو خطاب کر کے سلام کرنا سنت ہے(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ِبَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لِأَهْلِهَا؛جلد ٢؛ص٦٦٩؛حدیث نمبر٢١٥٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقُولُ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا، مُؤَجَّلُونَ، وَإِنَّا، إِنْ شَاءَ اللهُ، بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللهُمَّ، اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ» وَلَمْ يُقِمْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ «وَأَتَاكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2154

ابن جریج فرماتے ہیں مجھے قریش کے ایک آدمی نے حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ ایک دن انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں اپنی اور اپنی ماں کی طرف سے حدیث بیان نہ کروں؟انہوں نے خیال کیا کہ شاید کہ وہ اپنی نسبی بیان کا ذکر کر رہے ہیں پھر فرمایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا میں تم سے اپنی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حدیث بیان نہ کروں ہم نے عرض کیا جی ہاں بیان فرمائیں۔فرماتے ہیں ام المومنین نے فرمایا جب وہ رات ہوئی جس دن رسول اکرم صلی علیہ وسلم کی میرے ہاں باری تھی تو آپ نے کروٹ لے کر چادر اوڑھ لی۔نعلین مبارک اتار کر اپنے پاؤں کے پاس رکھ لئے اور چادر کا کنارہ اپنے بستر پر بچھا کر لیٹ گئے۔کچھ دیر(میری نیند کے خیال سے)اسی حالت پر ٹھہرے رہے میں سو گئی تو آپ نے چادر اوڑھی،جوتا مبارک پہنا اور آہستہ دروازہ کھولا اور تشریف لے گئے اور آہستہ سے دروازہ بند کر دیا میں نے بھی ایک چادر سر پر اوڑھی اور دوسری چادر اوڑھ کر آپ کے پیچھے چل پڑی حتی کہ آپ جنت البقیع میں تشریف لائے اور دیر تک کھڑے رہے پھر تین بار ہاتھ اٹھائے اور واپس لوٹنے لگے۔میں بھی واپس لوٹنے لگی۔آپ تیز چلنے لگے میں بھی تیز چلنے لگی آپ مزید تیز چلے تو میں بھی زیادہ تیز چلنے لگی۔آپ گھر گئے تو میں آپ سے پہلے گھر پہنچ آئی اور اندر داخل ہوئی اور لیٹ گئی۔آپ داخل ہوئے تو فرمایا اے عائشہ کیا ہوا تمہارا سانس پھولا ہوا ہے۔ ام المومنین فرماتی ہیں میں نے عرض کیا کوئی بات نہیں آپ نے فرمایا مجھے بتاؤ ورنہ مجھے لطیف و خبیر ذات بتادے گی۔فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر واقعہ بتایا۔آپ نے فرمایا مجھے اپنے آگے سے ایک سایہ نظر آیا تھا وہ تم تھیں میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے(بطور شفقت)میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے مجھے درد ہوا پھر فرمایا کیا تمہیں ڈر ہوا کہ اللہ تعالٰی اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تمہارا حق مارے گا۔آپ فرماتی ہیں میں نے سوچا کہ جب لوگ کچھ چھپاتے ہیں تو اللہ تعالٰی آپ کو بتا دیتا ہے پھر دل میں ہی کہا ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم نے مجھے دیکھا تھا تو اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے۔انہوں نے مجھے بلایا اور تم سے مخفی رکھا میں نے ان کو جواب دیا اور میں نے بھی تم سے مخفی رکھا اور وہ تمہارے پاس نہیں آئے تھے کیونکہ تم نے(زائد)لباس اتار دیا تھا۔میں نے خیال کیا کہ تم سو گئی ہو پس میں نے تمہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور میں نے خیال کیا کہ تم گھبرا جاؤگی۔انہوں نے حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا آپ کارب آپ کو حکم دیتا ہے کہ جنت البقیع والوں کے پاس جاکر ان کے لئے بخشش مانگے۔ام المومنین فرماتی ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں کس طرح دعا کروں آپ نے فرمایا یوں کہو۔ اے مومنوں اور مسلمانوں کے گھر والوں!تم پر سلام ہو جو ہم سے پہلے جا چکے ہیں اور جو بعد میں جانے والے ہیں اللہ تعالٰی سب پر رحم فرمائے۔اور ان شاء اللہ ہم بھی تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛باب ما یقال عند دخول القبور والدعاء لاھلھا؛جلد ٢؛ص٦٧٠؛حدیث نمبر٢١٥٥)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ فَقَالَتْ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِّي، قُلْنَا: بَلَى، ح وحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ، حَجَّاجًا الْأَعْوَرَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ - رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي قَالَ: فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: قَالَتْ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي، انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ، وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَاضْطَجَعَ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنْ قَدْ رَقَدْتُ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا، وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا، وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ، ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا، فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي، وَاخْتَمَرْتُ، وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي، ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى إِثْرِهِ، حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ، فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ، فَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ، فَقَالَ: «مَا لَكِ؟ يَا عَائِشُ، حَشْيَا رَابِيَةً» قَالَتْ: قُلْتُ: لَا شَيْءَ، قَالَ: «لَتُخْبِرِينِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: «فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَلَهَدَنِي فِي صَدْرِي لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِي، ثُمَّ قَالَ: «أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟» قَالَتْ: مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللهُ، نَعَمْ، قَالَ: " فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ، فَنَادَانِي، فَأَخْفَاهُ مِنْكِ، فَأَجَبْتُهُ، فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ، وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي، فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ "، قَالَتْ: قُلْتُ: كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ " قُولِي: السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَيَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ "

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2155

حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد(رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتےہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سکھاتے تھے کہ جب وہ قبرستان کی طرف جائیں تو یوں کہیں"السلام علیکم اھل الدیار"اورایک روایت میں ہے"السلام علیکم اھل الدیار من المؤمنين والمسلمين"اے مؤمنوں اور مسلمانوں کے گھر والو!تم پر سلام ہو ہم ان شاءاللہ تم سے ملنے والے ہیں۔میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ِبَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لِأَهْلِهَا؛جلد٢ص٦٧١؛حدیث نمبر٢١٥٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ، فَكَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ - فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ -: السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ، - وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ -: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا، إِنْ شَاءَ اللهُ لَلَاحِقُونَ، أَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ "

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2156

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی بخشش طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے نہ دی اور میں نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کے لئے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت دے دی۔(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین طیبین نے زمانہ فترت پایا اور ان کا وصال اعلان نبوت سے پہلے ہوا اس لئے وہ توحید پر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔مغفرت،گناہوں سے معافی کے لئے ہوتی ہے وہ گناہ گار نہ تھے اس لئے طلب مغفرت کی اجازت نہ دی۔اور زیارت کی اجازت عطاء ہوئی۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ؛ترجمہ؛حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے والدہ کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگنا؛ جلد٢ص٦٧١؛حدیث نمبر٢١٥٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2157

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ رونے لگے اور آپ کے ارد گرد والے بھی روۓ۔پھر فرمایا میں نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ میں ان کے لیے طلب مغفرت کروں تو مجھے اجازت نہ دی گئی اور میں نے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت دی گئی پس قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ(زیارت)تمہیں موت یاد دلاتی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛ بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ؛جلد٢ص٦٧١؛حدیث نمبر٢١٥٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ: «اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2158

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں زیارت قبور سے منع کیا کرتا تھا پس ان کی زیارت کیا کرو اور میں تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کرتا تھا اور اب جب تک چاہو رکھ سکتے ہو اور میں تمہیں مشکیزوں کے علاوہ برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کرتا تھا اب تم سب اس قسم کے برتنوں میں نبیذ پی سکتے ہو لیکن نشہ آور چیز استعمال نہ کرنا۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ؛جلد٢ص٦٧٢؛حدیث نمبر٢١٥٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ وَابْنِ نُمَيْرٍ - قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ وَهُوَ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا» قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ،

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2159

کئی دیگر اسناد سے بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٢١٥٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ؛جلد٢ص٦٧٢؛حدیث نمبر٢١٦٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ - الشَّكُّ مِنْ أَبِي خَيْثَمَةَ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2160

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے ایک تیر سے اپنے آپ کو ہلاک کیا تھا تو آپ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات نماز جنازہ خود نہ پڑھتے لیکن صحابہ کرام کو اجازت دیتے تھے تاکہ لوگ اس جرم سے بچ جائیں جس کی وجہ سے فلاں میت کی نماز جنازہ آپ نے نہ پڑھی۔جس طرح آپ مقروض کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے جب تک اس کا قرض ادا یا معاف نہ ہو جائے۔خود کشی کرنے والا اگر حلال سمجھ کر یہ عمل کرتا ہے تو اس کی نماز جنازہ نہیں ہوگی کیونکہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا ورنہ اس کی نماز جنازہ ہے۔)(مسلم شریف؛کتاب الجنائز؛بَابُ تَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَاتِلِ نَفْسَهُ؛جلد٢ص٦٧٢؛حدیث نمبر٢١٦١)

حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Janaiz, Hadees No. 2161

Muslim Shareef : Kitabul Janaiz

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْجَنَائِزِ

|

•