
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا۔پانچ وسق(عشر زمین کی پیداوار میں سے دیا جاتا ہے چاہے جتنی پیداوار ہو چونکہ غلے میں عشر ہوتا ہے اس لئے زکوٰۃ اس صورت میں ہوگی جب دو سودرہم قیمت کا غلہ ہو کیونکہ پانچ وسق کی قیمت اس زمانے میں دو سو درہم ہوتی تھی لہٰذا اس سے کم غلہ زکوٰۃ کا نصاب نہیں بنتا تھا۔١٢ہزاروی)سے کم(زرعی پیداوار)میں زکوٰۃ واجب نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ ہے اور نہ ہی پانچ اوقیہ سے کم میں زکوٰۃ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ترجمہ؛زکوٰۃ کا بیان؛جلد٢ص٦٧٣؛حدیث نمبر٢١٦٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٦٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٧٤؛حدیث نمبر٢١٦٣)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کی پانچ انگلیوں سے اشارہ کیا آگے حدیث نمبر ٢١٦٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٧٤؛حدیث نمبر٢١٦٤)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ وسق سے کم میں زکوۃ نہیں ہے نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ ہے اور نہ ہی پانچ اوقیہ سے کم میں زکوٰۃ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٧٤؛حدیث نمبر٢١٦٥)
Muslim Shareef Kitabuz Zakat Hadees No# 2166
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلے اور کھجوروں میں زکوٰۃ(واجب)نہیں حتیٰ کہ پانچ وسق کو پہنچ جائیں اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ(واجب)نہیں اور نہ ہی پانچ اوقیہ سے کم میں زکوۃ(واجب)ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٧٤؛حدیث نمبر٢١٦٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٦٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٧٤؛حدیث نمبر٢١٦٨)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٢١٦٧ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں کھجوروں کی بجائے پھلوں کا لفظ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٧٥؛حدیث نمبر٢١٦٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ(واجب)نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ(واجب)ہے اور پانچ وسق سے کم کھجوروں میں بھی زکوٰۃ(واجب)نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٧٥؛حدیث نمبر٢١٧٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا۔جن زمینوں کو دریا اور بارش سیراب کرے ان میں دسواں حصہ ہے اور جو زمین اونٹ کے ذریعےم(پانی لاکر)سیراب کی جائے اس میں بیسواں حصہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ مَا فِيهِ الْعُشْرُ أَوْ نِصْفُ الْعُشْرِ؛جلد٢ص٦٧٥؛حدیث نمبر٢١٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ لَا زَكَاةَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَفَرَسِهِ؛ترجمہ؛مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں؛جلد٢ص٦٧٥؛حدیث نمبر٢١٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ لَا زَكَاةَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَفَرَسِهِ؛جلد٢ص٦٧٦؛حدیث نمبر٢١٧٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢١٧٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ لَا زَكَاةَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَفَرَسِهِ؛جلد٢ص٦٧٦؛حدیث نمبر٢١٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا غلام میں صدقہ فطر کے علاوہ زکوٰۃ نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ لَا زَكَاةَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَفَرَسِهِ؛جلد٢ص٦٧٦؛حدیث نمبر٢١٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ لینے کے لئے بھیجا پھر آپ کو بتایا گیا کہ ابن جمیل،خالد بن ولید اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہم نے زکوٰۃ نہیں دی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن جمیل کو یہ بات ناپسند آئی کہ وہ فقیر تھا اللہ تعالیٰ نے اسے غنی کر دیا اور جہاں تک خالد بن ولید کا تعلق ہے تو تم ان سے زیادتی کرتے رہو انہوں نے اپنی زرہیں اور ہتھیار راہ خدا میں وقف کر دئے ہیں اور رہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تو جس قدر زکوٰۃ ان پر واجب ہے میں اس سے دوگنا ادا کروں گا پھر فرمایا اے عمر!کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مثل ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابٌ فِي تَقْدِيمِ الزَّكَاةِ وَمَنْعِهَا؛جلد٢ص٦٧٦؛حدیث نمبر٢١٧٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر رمضان میں صدقہ فطر لازم فرمایا۔ایک صالح کھجور سے یا ایک صاع جو سے ہو۔ہر آزاد،غلام،مرد و عورت پر واجب ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ؛ترجمہ؛صدقہ فطر کا بیان؛جلد٢ص٦٧٧؛حدیث نمبر٢١٧٧)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کھجور یا جو سے ایک صاع ہر غلام،آزاد،چھوٹے اور بڑے پر لازم فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ؛جلد٢ص٦٧٧؛حدیث نمبر٢١٧٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر آزاد،غلام،مرد اور عورت پر کھجوروں سے ایک صاع یا جو سے ایک صاع مقررفرمایا،فرماتے ہیں پس لوگ اس سے نصف صاع گندم کی طرف پھر گئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ؛جلد٢ص٦٧٧؛حدیث نمبر٢١٧٩)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کا حکم دیا جو کھجور یا جو سے ایک صاع ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس لوگوں نے اس کے برابر گندم سے دو مد(سوادو سیر کے قریب)گندم کردی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ؛جلد٢ص٦٧٨؛حدیث نمبر٢١٨٠)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف میں صدقہ فطر ہر مسلمان آزاد،غلام،مرد،عورت،چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع جو مقرر فرمائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ؛جلد٢ص٦٧٨؛حدیث نمبر٢١٨١)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں۔ہم صدقہ فطر میں ایک صاع طعام(غلہ)یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع منقی دیتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ؛جلد٢ص٦٧٨؛حدیث نمبر٢١٨٢)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں تشریف فرما تھے تو ہم ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے ایک صاع غلہ یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع جو یا ایک صاع کشمش دیتے تھے۔ہم مسلسل یہ صدقہ ادا کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت معاویہ بن سفیان(رضی اللہ عنہ)ہمارے پاس حج یا عمرہ کے لئے آے تو انہوں نے ممبر پر لوگوں سے گفتگو کی تو اس گفتگو میں یہ بات بھی تھی کہ میرے خیال میں شام کی گندم سے دو مد(سوا دو سیر کے قریب)ہے جو کھجور کے ایک صاع کے برابر ہے تو لوگوں نے اس پر عمل شروع کر دیا پس میں زندگی بھر اسی طرح صدقہ فطر ادا کرتا رہوں گا جس طرح پہلے ادا کیا کرتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ؛جلد٢ص٦٧٨؛حدیث نمبر٢١٨٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صدقہ فطر ہر چھوٹے بڑے،آزاد اور غلام کی طرف سے ادا کرتے تھے اور یہ تین قسم کا تھا ایک صاع کھجور سے،ایک صاع پنیر اور ایک صاع جو۔پس ہم اس طرح صدقہ فطر ادا کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سوا دو سیر گندم کھجوروں کے ایک صاع کے برابر ہے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں تو اسی طرح صدقہ فطر ادا کرتا رہوں گا جس طرح پہلے ادا کرتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ؛جلد٢ص٦٧٩؛حدیث نمبر٢١٨٤)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم تین قسم سے صدقہ فطر دیا کرتے ہیں۔پنیر،کھجور اور جو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ؛جلد٢ص٦٧٩؛حدیث نمبر٢١٨٥)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نصف صاع گندم کو ایک صاع کھجور کے برابر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور فرمایا میں تو اس سے وہی کچھ دوں گا جو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیتا تھا یعنی ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع جو یا ایک صاع پنیر۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ؛جلد٢ص٦٧٩؛حدیث نمبر٢١٨٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید کے لئے جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛صدقہ فطر نماز عید سے پہلے نکالے؛جلد٢ص٦٧٩؛حدیث نمبر٢١٨٧)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز عید کے لئے جانے سے پہلے ادا کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ؛جلد٢ص٦٧٩؛حدیث نمبر٢١٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس سونا اور چاندی ہو اور وہ اس سے اس کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن ایسا ہو گا کہ اس کی چاندی،سونے کے تختے بنائے جائیں گے اور وہ جہنم کی آگ میں گرم کیے جائیں گے پھر اس کا ماتھا اور کروٹیں اس سے داغی جائیں گی اور اس کی پیٹھ اور جب وہ ٹھنڈے ہو جائیں گے پھر گرم کیے جائیں گےاور اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی اور یہ عمل اس وقت تک ہوگا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ ہوجائے پس وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔“عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول!پھر اونٹوں کا کیا حال ہو گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اونٹ والا اپنے اونٹوں کا حق نہیں دیتا اور اس کے حق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دودھ دوہے جس دن ان کو پانی پلائے(عرب کا معمول تھا کہ تیسرے یا چوتھے دن اونٹوں کو پانی پلانے لے جاتے وہاں مسکین جمع رہتے اونٹوں کے مالک ان کو دودھ دوھ کر پلاتے حالانکہ یہ واجب نہیں ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کا ایک حق اس کو بھی قرار دیا) جب قیامت کا دن ہو گا تو وہ اوندھا لٹایا جائے گا ایک برابر زمین پر اوروہ اونٹ نہایت فربہ ہو کر آئیں گے کہ ان میں سے کوئی بچہ بھی باقی نہ رہے گا اور اس کو اپنے کھروں سے روندیں گے اور منہ سے کاٹیں گے پھر جب ان میں سے پہلا جانور روندتا چلا جائے گا پچھلا آ جائے گا۔یوں یہ عذاب ہوتا رہے گااور اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی اور یہ عمل اس وقت تک ہوگا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ ہوجائے پس وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔“پھر عرض کی اے اللہ کے رسول! اور گائے بکری کا کیا حال ہو گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی گائے بکری والا ایسا نہیں جو اس کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو مگر جب قیامت کا دن ہو گا تو وہ اوندھا لٹایا جائے گا منہ کے بل صاف زمین پر اور ان گائے بکریوں میں سب آئیں گی کوئی باقی نہ رہے گی اور ایسی ہوں گی کہ ان میں سینگ مڑی ہوئی نہ ہوں گی، نہ بے سینگ کی،نہ سینگ ٹوٹی اور آ کر اس کو ماریں گی اپنے سینگوں سے اور روندیں گی اپنے کھروں سے جب اگلی اس پر سے گزر جائے گی پچھلی پھر آئے گی یہی عذاب ہو گا اس پر اور اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی اور یہ عمل اس وقت تک ہوگا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ ہوجائے پس وہ اپنا راستہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔“ پھر عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! اور گھوڑے؟آپ نے فرمایا: ”گھوڑے تین طرح پر ہیں ایک اپنے مالک پر بار ہے یعنی بال ہے۔دوسرا اپنے مالک کا عیب ڈھاپنے والا ہے۔تیسرا اپنے مالک کے ثواب کا سامان ہے،اب اس وبال والے گھوڑے کا حال سنو جو باندھا ہے اس لیے کہ لوگوں کو دکھلائے اور لوگوں میں بڑ مارے اور مسلمانوں سے عداوت کرے سو یہ اپنے مالک کے حق میں وبال ہے اور وہ جو عیب ڈھانپنے والا ہے وہ گھوڑا ہے کہ اس کو اللہ کی راہ میں باندھا ہے(یعنی جہاد کے لئے) اور اس کی سواری میں اللہ کا حق نہیں بھولتا اور نہ اس کے گھاس چارہ میں کمی کرتا ہے تو وہ اس کا عیب ڈھانپنے والا ہے اور جو ثواب کا سامان ہے اس کا کیا کہنا وہ گھوڑا ہے کہ باندھا اللہ کی راہ میں اہل اسلام کی مدد اور حمایت کے لئے کسی چراگاہ یا باغ میں پھر اس نے جو کھایا اس پر چراگاہ یا باغ سے اس کی گنتی کے موافق نیکیاں اس کے مالک کے لئے لکھی گئیں اور اس کی لید اور پیشاب تک نیکیوں میں لکھا گیا اور جب وہ اپنی لمبی رسی توڑ کر ایک دو ٹیلے پر چڑھ جاتا ہے تو اس کے قدموں اور اس کی لید کی گنتی کے موافق نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جب اس کا مالک کسی ندی پر لے جاتا ہے اور وہ گھوڑا اس میں سے پانی پی لیتا ہے اگرچہ مالک کا پلانے کا ارادہ بھی نہ تھا، تب بھی اس کے لئے ان قطروں کے موافق نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو اس نے پیئے ہیں۔“ (یہ ثواب تو بے ارادہ پانی پی لینے میں ہے پھر جب پانی پلانے کے ارادہ سے لے جائے تو کیا کچھ ثواب نہ پائے گا) پھر عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! اور گدھے کا حال فرمائیے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھوں کے بارے میں فرمایا: ”میرے اوپر کوئی حکم نہیں اترا بجز اس آیت کے جو بے مثل اور جامع ہے«فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ترجمہ؛پس جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے وہ(اس کا اجر)دیکھ لے گا اور جو شخص ذرہ برابر برائی کرے وہ بھی اسے دیکھ لے گا"۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛باب إثم مانع الزکاۃ؛ترجمہ؛زکوٰۃ نہ دینے کا گناہ؛جلد٢ص٦٨٠،٦٨١؛حدیث نمبر٢١٨٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢١٨٩ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں "مامن صاحب اہل لا یودی حقہا" کوئی اونٹوں والا نہیں ہے جو اس کا حق ادا نہ کرتا ہو۔کے الفاظ نہیں البتہ یہ ذکر کیا"ان میں سے کوئی بچہ بھی باقی نہیں رہے گا نیز یہ بھی فرمایا اس کے پہلوؤں پیشانی اور پیٹھ کو داغا جائےگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛باب إثم مانع الزکوۃ؛جلد٢ص٦٨٢؛حدیث نمبر٢١٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جس شخص کے پاس خزانہ ہو اور وہ اپنے خزانے کی زکوٰۃ نہ دے تو گرم کیا جائے گا وہ خزانہ اس جہنم کی آگ میں اور اس کے تختے بنائے جائیں گے پھر داغی جائیں گی اس سے ان کی دونوں کروٹیں اور ماتھاحتی کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی پھر اسے راستہ دکھایا جائے گا جو جنت کی طرف ہوگیا جہنم کی طرف اور جو اونٹ والا ایسا ہو کہ ان کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو وہ لٹایا جائے گاایک چٹیل میدان میں منہ کے بل اور اونٹ آئیں گے فربہ ہو کر جیسے دنیا میں بہت فربہ کے وقت تھے اور وہ اس کو روندیں گے اور جب ان میں کا پچھلا اس پر سے نکل جائے گا اگلا پھر لوٹ آئے گا حتی کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی پھر اسے راستہ دکھایا جائے گا جو جنت کی طرف ہوگا یا جہنم کی طرف اور بکری والا ان کی زکوٰۃ نہیں دیتا وہ لٹایا جائے گا ایک چٹیل میدان میں منہ کے بل وہ آئیں گی بہت موٹی ہو کر جیسی دنیا میں تھیں اور اس کو روندیں گی اپنے کھروں سے اور کونچیں گی اپنے سینگوں سے کہ ان میں کوئی سینگ مڑی ہوئی اور بے سینگ والی نہ ہو گی، جب اس پر سے پچھلی گزر جائے گی اگلی پھر آ جائے گی یہی عذاب ہوتا رہے گا، حتی کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی پھر اسے اسکا راستہ دکھایا جائے گا جو جنت یا جہنم کی طرف ہوگا۔“ سہیل نے کہا: اور میں نہیں جانتا کہ گائے کا ذکر بھی آپ نے کیا یا نہیں؟ پھر عرض کی اور گھوڑے اے اللہ کے رسول؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”گھوڑوں کی پیشانی میں بہتری یا فرمایا:گھوڑے کی پیشانی میں بہتری بندھی ہے۔“سہیل نے کہا: مجھے اس میں شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں بہتری ہے قیامت کے دن تک“پھر فرمایا: ”گھوڑے تین قسم میں ہیں ایک تو آدمی کے لیے ثواب ہے،دوسرا پردہ ہے(اس کے عیبوں کا)،تیسرا وبال و عذاب ہے۔سو جو ثواب ہے تو وہ اس شخص کے لئے ہے جس نے گھوڑا باندھا اللہ کی راہ میں اور تیار رکھا اسی واسطے (یعنی جہاد کو) تو اس کے پیٹ میں جو کچھ ڈالتا ہے(خوراک دیتا ہے)اس کے مالک کے لئے اجر ہے (یعنی اس کا دانہ چارہ سب موجب ثواب ہے)اور اگر اس کو کسی چراگاہ میں چرایا تو جو کچھ اس نے کھایا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کا اجر عطا فرماتا ہے جس نہر سے اس نے پانی پلایا اس کے ہر قطرہ پر جو اس نے پیٹ میں اٹھایا ایک ثواب ہے یہاں تک کہ اس کے پیشاب اور لید میں ثواب کا ذکر فرمایا اور اگر ایک دو ٹیلے پر کود گیا تو ہر قدم پر جو اس نے رکھا ایک ثواب لکھا گیا اور جو مالک کا پردہ ہے وہ اس کا گھوڑا ہے جس نے احسان کرنے کو اور اپنی خوبی کے لئے باندھا اور اس کی سواری کا حق نہ بھولا اور نہ اس کے پیٹ کا (یعنی دانے چارے پانی کی خبر رکھے) اس کی تکلیف اور آرام میں اور جو وبال و عذاب ہے وہ اس کا گھوڑا ہے جس سے اترانے اور سرکشی اور شرارت کے لئے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے باندھا، سو وہ اس پر وبال ہے۔“پھر عرض کی کہ گدھے کا حال فرمائیے،اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اللہ نے مجھ پر اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں اتارا مگر یہ آیت جامع بے «فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ»"جس شخص نے ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی وہ بھی اسے دیکھ لے گا"۔[الزلزلۃ:٨](مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ؛جلد٢ص٦٨٢؛حدیث نمبر٢١٩١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٩١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِثْمِ مَانِعِ الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٨٣؛حدیث نمبر٢١٩٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے لیکن اس میں ٹیڑھے سینگوں کی بجائے ٹوٹے ہوئے سینگوں کا ذکر ہے اور فرمایا اس سے اس کے پہلو اور پیٹھ کو داغا جائے گا پیشانی کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِثْمِ مَانِعِ الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٨٣؛حدیث نمبر٢١٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہ کرے یا صدقہ نہ دے آگے حدیث نمبر ٢١٩١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِثْمِ مَانِعِ الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٨٣؛حدیث نمبر٢١٩٤)
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو اونٹوں والا ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کے اونٹ اصل تعداد سے بڑھ کر آئیں گے اسے اس کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھادیا جائے گا جو اسے اپنی ٹانگوں اور کھروں سے روندیں گے اس طرح جو گاے کہ مالک اس کا حق ادا نہ کرے تو وہ قیامت کے دن اصل تعداد سے زیادہ آئیں گی اور اسے ان کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا اور وہ اس کو اپنے پاؤں اور کھروں سے روندیں گی۔ یونہی اگر بکریوں کے مالک نے ان کا حق ادا نہ کیا تو وہ قیامت کے دن اصل تعداد سے بڑھ کر آئیں گی اور اس کو ان کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا اور وہ اسے اپنے سینگوں کے ساتھ ماریں گی اور کھروں کے ساتھ روندیں گی قیامت کے دن کوئی بھی سینگوں کے بغیر یا ٹوٹے ہوئے سینگ والی نہیں ہوگی۔ اسی طرح جو شخص خزانے کا مالک ہو اور اس میں سے اس کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجے سانپ کی شکل میں آۓگا وہ منہ کھولے ہوئے اس کے پیچھے جائے گا اور وہ اس سے بھاگے گا تو ایک پکارنے والا پکارے گا اپنے اس خزانے کو لے لو جس کو تم چھپا کر رکھتے تھے مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچ نہیں سکتا تو اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا تو وہ سانپ اسے اونٹ کی طرح چبا ڈالے گا۔ابو الزبير کہتے ہیں میں نے عبید بن عمیر سے یہ حدیث سنی پھر حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے عبید بن عمیر کے قول کی طرح بیان کیا اور ابوالزبیر کہتے ہیں میں نے عبید بن عمیر سے سنا وہ وہ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اونٹوں کا کیا حق ہے؟پانی پلانے کے موقع پر اس(اونٹنی)کا دودھ دوہنا(تاکہ لوگ پئیں)اس کے ڈول کو بطور ادھار دینا اونٹ کو جفتی کرنے کے لئے دینا اونٹنی دودھ پینے کے لیے کسی کو ادھار دینا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں سواری کے لئے دینا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِثْمِ مَانِعِ الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٨٤؛حدیث نمبر٢١٩٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص اونٹ،گاے اور بکری کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرے اسے قیامت کے دن اس کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا اور وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور سینگوں والے جانور سینگوں سے ماریں گے اس دن کوئی(بکری)سینگوں کے بغیر اور ٹوٹے ہوئے سینگ والی نہیں ہوگی۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان(جانوروں)کا حق کیا ہے۔آپ نے فرمایا ان میں سے نر کو جفتی کرنے کے لیے ادہار کے طور پر دینا ان کا ڈول ادہار دینا(پانی نکالنے کے لیے اونٹ دینا)دودھ کے لئے کسی کو دینا اور اللہ کے راستے میں سوار کرنا۔ اور فرمایا جو مالدار اپنے مال کی زکوٰۃ نہ دے قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی شکل میں اپنے مالک کا تعاقب کرے گا وہ جہاں بھی جائے اور وہ اس سے بھاگے گا اور کہا جائے گا یہ تمہارا مال ہے جس میں تو بخل کرتا تھا اور جب وہ اس سے بچ نہیں سکے گا تو اپنا ہاتھ اس کے منہ میں داخل کرے گا اور وہ اسے اس طرح چباے گا جس طرح اونٹ چباتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِثْمِ مَانِعِ الزَّكَاةِ؛جلد٢ص٦٨٥؛حدیث نمبر٢١٩٦)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کچھ دیہاتی لوگ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا عاملین زکوٰۃ ہمارے پاس آتے ہیں تو ہم پر ظلم کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ لینے والوں کو راضی رکھا کرو۔ حضرت جریر فرماتے ہیں میں نے جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے میرے پاس جو بھی صدقہ لینے آتا وہ مجھ سے ناراض ہو کر نہیں جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِرْضَاءِ السُّعَاةِ؛ترجمہ؛عاملین زکوٰۃ کو راضی رکھنا؛جلد٢ص٦٨٥؛حدیث نمبر٢١٩٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢١٩٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِرْضَاءِ السُّعَاةِ؛جلد٢ص٦٨٦؛حدیث نمبر٢١٩٨)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا رب کعبہ کی قسم!وہ لوگ خسارے میں ہے فرماتے ہیں میں بیٹھ گیا پھر بے چینی کی حالت میں کھڑا ہوگیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں کون لوگ(خسارے میں ہیں)فرمایا جن کے مال زیادہ ہیں سوائے ان کے جو ادھر اُدھر آگے پیچھے خرچ کرتے ہیں اور ایسے لوگ کم ہیں(نیز فرمایا)جو لوگ اونٹوں،گایوں اور بکریوں کے مالک ہیں اور ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ہیں وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ موٹی تازی آئیں گی اور ان کو اپنے سینگوں سے ماریں گی اور پاؤں سے روندیں گی جب آخری گزر جائیں گی تو پہلی دوبارہ آئیں گی(اور یہ سلسلہ جاری رہے گا)یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَغْلِيظِ عُقُوبَةِ مَنْ لَا يُؤَدِّي الزَّكَاةَ؛ترجمہ؛زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں پر سخت عذاب ہے؛جلد٢ص٦٨٦؛حدیث نمبر٢١٩٩)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ خانہ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے اس کے بعد حضرت وکیع کی روایت کی مثل ذکر کیا البتہ یہ فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں جو مر جائے اور اونٹ یا گاے یا بکریاں چھوڑ جائے اور ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرے آگے حدیث نمبر ٢١٩٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَغْلِيظِ عُقُوبَةِ مَنْ لَا يُؤَدِّي الزَّكَاةَ؛جلد٢ص٦٨٧؛حدیث نمبر٢٢٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے لئے احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور مجھ پر تیسرا دن اس حالت میں آے کہ میرے پاس اس میں سے ایک دینار ہو البتہ وہ دینار جو میں اپنا قرض ادا کرنے کے لئے رکھ لوں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَغْلِيظِ عُقُوبَةِ مَنْ لَا يُؤَدِّي الزَّكَاةَ؛جلد٢ص٦٨٧؛حدیث نمبر٢٢٠١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٠١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَغْلِيظِ عُقُوبَةِ مَنْ لَا يُؤَدِّي الزَّكَاةَ؛جلد٢ص٦٨٧؛حدیث نمبر٢٢٠٢)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا مدینہ کی کنکریلی زمین میں عشاء کے وقت اور ہم احد کو دیکھ رہے تھے، تب مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر!“میں نے عرض کی حاضر ہوں اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند نہیں کہ یہ احد میرے پاس سونے کا ہو اور تیسری رات میرے پاس اس میں سے ایک دینار ہو البتہ وہ دینار جسے میں قرض(کی ادائیگی)کے لئے روک رکھوں مگر میں چاہتا ہوں کہ مٹھی بھر بھر کر اللہ کے بندوں میں وہ مال تقسیم کردوں دائیں بائیں اور آگے دیتا رہوں۔سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے ابوذر!“میں نے عرض کی حاضر ہوں اے اللہ کے رسول،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت مال والے وہی ثواب کم پانے والے ہیں قیامت کے دن (یعنی زہد کے درجات عالیہ سے محروم رہنے والے) مگر جس نے خرچ کیا ادھر ادھر اور جدھر مناسب ہوا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ایسا ہی اشارہ کیا جیسے پہلے کیا تھا پھر ہم چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر!تم یونہی رہنا جیسے اب ہو (یعنی یہاں سے کہیں جانا نہیں) جب تک کہ میں نہ آؤں۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے یہاں تک کہ میری نظروں سے غائب ہو گئے۔ پھر میں نے کچھ گنگناہٹ اور آواز سنی اور دل میں کہا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حادثہ پیش ہوا ہو اور میں نے ارادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جاؤں اتنے میں یاد آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”یہیں رہنا جب تک میں نہ آؤں تمہارے پاس۔“غرض میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منتظر رہا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو میں نے اس آواز کا جو سنی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”وہ جبرئیل علیہ السلام تھے اور وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے فرمایا:جو مرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے اس حال میں کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا وہ جنت میں جائے گا میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، جبرائیل نے کہا:اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری بھی کی ہو۔“(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛باب الترغيب فی الصدقۃ؛جلد٢ص٦٨٧؛حدیث نمبر٢٢٠٣)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نکلا ایک رات اور دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے جا رہے تھے۔ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں، تو میں سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منظور ہے کہ کوئی ساتھ نہ آئے (ورنہ صحابہ کب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑتے تھے) تو میں یہ سمجھ کر چاندنی کے سایہ میں چلنے لگا (تاکہ آپ ان کو نہ دیکھیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف مڑ کر دیکھا اور فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کی ابوذر اللہ مجھ کو آپ پر فدا کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر آؤ!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں چلا، تھوڑی دیر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ دنیا میں بہت مال والے ہیں وہ کم درجہ والے ہیں قیامت کے دن مگر جسے اللہ تعالیٰ مال دے پس وہ اس میں سے دائیں بائیں اور آگے خرچ کرے اور اس کو نیکی کے کاموں میں لگائے۔“ پھر انہوں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھوڑی دیر ٹہلتا رہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں بیٹھو۔“(اور مجھے ایک صاف زمین پر بٹھا دیا کہ اس کے گرد کالے پتھر تھے) اور مجھ سے فرمایا:”تم یہیں بیٹھے رہو جب تک میں لوٹ کر آؤں۔“اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے ان پتھروں میں یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھتا تھا اور وہاں بہت دیر تک ٹھہرے رہے، پھر میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے چلے آ رہے تھے کہ ”اگر چوری کرے اور زنا کرے؟“پھر آئے تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں نے کہا:اے اللہ کے نبی!اللہ مجھے آپ پر فدا کرے کون تھا ان کالے پتھروں میں؟میں نے تو کسی کو نہ دیکھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جبرائیل علیہ السلام تھے کہ وہ میرے آگے آئے ان پتھروں میں اور فرمایا:بشارت دو اپنی امت کو کہ جو مرا اور اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔میں نے کہا:”اے جبرائیل!اگرچہ وہ چوری کرے اور زنا کرے؟“انہوں نے کہا:ہاں۔میں نے دوبارہ پھر کہا: ”اگرچہ وہ چوری کرے اور زنا کرے؟“انہوں نے کہا:ہاں۔میں نے تیسری بار پھر کہا:”اگرچہ وہ چوری اور زنا کرے؟“انہوں نے کہا: ہاں اگرچہ وہ شراب بھی پیئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛باب الترغیب فی الصدقۃ؛جلد٢ص٦٨٨؛حدیث نمبر٢٢٠٤)
حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مدینہ طیبہ میں آیا تو اس دوران کہ میں ایک حلقہ میں تھا جس میں قریش کے سردار بھی تھے کہ ایک شخص آیا جس نے موٹے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور وہ باوقار چہرے والا تھا وہ ان کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہا مال جمع کر کے خزانہ بنانے والوں کو اس پتھر کی خبر ہو جو جہنم کی آگ میں گرم کر کے ان کی چھاتی کی نوک پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ کندھے کی ہڈی سے پھوٹ کر نکل جائے اور کندھے کی ہڈی پر رکھا جائے گا جو اس کی چھاتی کی نوک سے نکل جائے گا وہ اسی طرح آر پار ہوگا۔ راوی فرماتے ہیں کچھ لوگوں نے سر جھکا لئے اور میں نے ان میں سے کسی کو جواب دیتے ہوئے نہیں دیکھا فرماتے ہیں پھر وہ شخص چلا گیا تو میں بھی اس کے پیچھے ہوگیا حتیٰ کہ وہ ایک ستون کے پاس بیٹھ گیا میں نے کہا میرے خیال میں ان لوگوں نے آپکی بات کو پسند نہیں کیا تو اس شخص نے کہا ان لوگوں کی کوئی سمجھ نہیں بے شک میرے خلیل ابوالقاسم نے مجھے بلایا تو میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کیا تم احد پہاڑ کو دیکھ رہے ہو میں نے دھوپ دیکھی اور خیال کیا کہ آپ مجھے کسی کام کے لئے بھیج رہے ہیں میں نے عرض کیا دیکھتا ہوں آپ نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے لئے اس کی مثل سونا ہو اگر ایسا ہو تو میں(قرض ادا کرنے کے لئے)تین دینار رکھ کر باقی سب خیرات کردوں۔ انہوں نے فرمایا یہ لوگ مال جمع کرتے ہیں تو یہ بےعقل ہیں میں نے ان سے پوچھا آپ کا اپنے قریشی بھائیوں سے کیا معاملہ ہے آپ ان کے پاس کسی ضرورت کے لیے نہیں جاتے اور نہ ہی ان سے سوال کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم میں ان سے دنیا کا سوال نہیں کروں گا اور نہ کوئی دینی مسئلہ پوچھوں گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابٌ فِي الْكَنَّازِينَ لِلْأَمْوَالِ وَالتَّغْلِيظِ عَلَيْهِمْ؛جلد٢ص٦٨٩؛حدیث نمبر٢٢٠٥)
حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں قریش کے کچھ لوگوں میں تھا کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ گزرے اور وہ فرمارہےتھے خزانہ جمع کرنے والوں کو ان داغوں کی خبر دو جو ان کی پیٹھوں میں لگائے جائیں گے اور ان کے پہلوؤں سے نکل جائیں گے اور ان داغوں کی جو ان کی گدیوں میں لگائے جائیں گے اور پیشانیوں سے نکل جائیں گے۔ راوی فرماتے ہیں پھر وہ الگ ہو کر بیٹھ گئے میں نے پوچھا یہ کون ہے۔تو ان لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں فرماتے ہیں میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور پوچھا تھوڑی دیر پہلے میں نے آپ سے جو کچھ سنا وہ کیا ہے انہوں نے فرمایا یہ وہی بات ہے جو میں نے ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے پوچھا حکومت سے وظائف لینے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں فرمایا لے لیا کرو اس میں آج تمہارے لیے مدد ہے۔لیکن جب یہ تمہارے دین کا معاوضہ ہوجائے تو چھوڑ دینا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابٌ فِي الْكَنَّازِينَ لِلْأَمْوَالِ وَالتَّغْلِيظِ عَلَيْهِمْ؛جلد٢ص٦٩٠؛حدیث نمبر٢٢٠٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے انسان!تو خرچ کر میں تجھے عطاء کروں گا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کا ہاتھ(جس طرح اس کے شایان شان ہے)بھرا ہوا ہے۔ابن نمیر نے کہا بھرا ہوا ہے رات دن خرچ سے اس میں کمی نہیں آتی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى النَّفَقَةِ وَتَبْشِيرِ الْمُنْفِقِ بِالْخَلَفِ؛ترجمہ؛خرچ کرنے والوں کی فضیلت اور خوشخبری؛جلد٢ص٦٩٠؛حدیث نمبر٢٢٠٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے رات اور دن کا خرچ کرنا اس میں کمی نہیں کرتا کیا تم نہیں دیکھتے جب سے اس نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا کس قدر خرچ کیا لیکن اس میں کمی نہیں ہوئی جو اس کے ہاتھ میں ہے اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں صفت قبض ہے وہ جسے چاہتا ہے بلند کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے پست کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى النَّفَقَةِ وَتَبْشِيرِ الْمُنْفِقِ بِالْخَلَفِ؛جلد٢ص٦٩٠؛حدیث نمبر٢٢٠٨)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین دینار وہ ہے جسے آدمی اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جسے وہ اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں آپ نے اپنے گھر والوں سے شروع کیا تھا پھر فرماتے ہیں اس شخص سے بڑھ کر کس کو ثواب ملے گا جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ان کو محفوظ رکھتا ہے یا نفع دیتا ہے اور غنی کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ عَلَى الْعِيَالِ وَالْمَمْلُوكِ، وَإِثْمِ مَنْ ضَيَّعَهُمْ أَوْ حَبَسَ نَفَقَتَهُمْ عَنْهُمْ؛ترجمہ؛اہل وعیال اور غلاموں لونڈیوں پر خرچ کرنے کی فضیلت اور ان کے حقوق ضائع کرنے یا انکے اخراجات کو روک رکھنے کا گناہ؛جلد٢ص٦٩١؛حدیث نمبر٢٢٠٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دینار وہ ہے جسے تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہو ایک دینار وہ ہے جسے غلام آزاد کرنے میں خرچ کرتے ہو ایک دینار وہ ہے جسے تم مسکین پر خرچ کرتے ہو اور ایک دینار وہ ہے جسے تم اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے ہو تو سب سے بڑا اجر اس کا ہے جسے تم اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے ہو۔(اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سب سے پہلے گھر والوں پر خرچ کیا جائے کیونکہ وہ اسکے زیر کفالت ہیں اگر اہل خانہ مجبور ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کے راستہ میں خرچ کرنے کی کوئی فضیلت نہیں)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ عَلَى الْعِيَالِ وَالْمَمْلُوكِ، وَإِثْمِ مَنْ ضَيَّعَهُمْ أَوْ حَبَسَ نَفَقَتَهُمْ عَنْهُمْ؛جلد٢ص٦٩٢؛حدیث نمبر٢٢١٠)
حضرت خیثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کا منشی آگیا آپ نے پوچھا کیا تم نے خادموں کو ان کا خرچہ دے دیا؟اس نے عرض کیا نہیں فرمایا جاؤ اور ان کو دو۔اور فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انسان کے لیے یہ گناہ کافی ہے کہ جن لوگوں کا رزق اس کے ذمہ ہے ان سے روک لے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ عَلَى الْعِيَالِ وَالْمَمْلُوكِ، وَإِثْمِ مَنْ ضَيَّعَهُمْ أَوْ حَبَسَ نَفَقَتَهُمْ عَنْهُمْ؛جلد٢ص٦٩٢؛حدیث نمبر٢٢١١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں بنو عذرہ قبیلے کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر بنایا(کہ اس کے مرنے کے بعد وہ آزاد ہوگا)یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ بھی مال ہے؟اس نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا کون شخص اسے مجھ سے خریدتا ہے چنانچہ نعیم بن عبداللہ العدوی نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور وہ درہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دئے اور آپ نے وہ درہم غلام کے حوالے کر دئے اور فرمایا اپنے آپ سے آغاز کرو اور اپنی ذات پر خرچ کرو اگر کچھ بچ جائے تو تیرے گھر والوں کے لئے ہے اور اگر گھر والوں سے بچ جائے تو تمہارے قرابت داروں کے لیے ہے اور اگر تمہارے قرابت داروں سے بھی بچ جائے تو ادھر اُدھر اپنے سامنے دائیں بائیں خرچ کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الِابْتِدَاءِ فِي النَّفَقَةِ بِالنَّفْسِ ثُمَّ أَهْلِهِ ثُمَّ الْقَرَابَةِ؛ترجمہ؛پہلے اپنے آپ پر پھر اہل وعیال اور پھر قرابت داروں پر خرچ کرنا؛ جلد٢ص٦٩٢؛حدیث نمبر٢٢١٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک شخص نے جسے ابومذکور کہا جاتا تھا اپنے غلام کومدبر کردیا آگے حدیث نمبر ٢٢١٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الِابْتِدَاءِ فِي النَّفَقَةِ بِالنَّفْسِ ثُمَّ أَهْلِهِ ثُمَّ الْقَرَابَةِ؛جلد٢ص٦٩٣؛حدیث نمبر٢٢١٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں انصار میں سے سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کا محبوب ترین مال بئرحاء(کا باغ)تھا اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے۔اور وہاں کا میٹھا پانی نوش فرماتے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی:{لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: ٩٢] (ترجمہ؛"تم ہر گز نیکی(کا ثواب) نہیں پاؤ گے حتیٰ کہ اپنی پسندیدہ چیز سے خرچ کرو"۔)تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے تم ہر گز نیکی(کا ثواب)نہیں پاؤ گے حتیٰ کہ اپنی پسندیدہ ترین چیز سے خرچ کرو اور مجھے میرا محبوب ترین مال بئرحاء ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لئے صدقہ ہے میں اللہ تعالیٰ سے اس کے ثواب اور آخرت میں ذخیرہ ہونے کا طالب ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ جہاں چاہے اسے خرچ کریں آپ آپ نے فرمایا خوب!یہ نفع بخش مال ہے یہ نفع بخش مال ہے میں نے تمہاری بات سنی۔میرے خیال میں تم اسے قریبی رشتہ داروں میں خرچ کرو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچازاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِينَ؛ترجمہ؛اقرباء، خاوند اولاد اور والدین پر خرچ کی فضیلت خواہ مشرک ہوں؛ جلد٢ص٦٩٣؛حدیث نمبر٢٢١٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی(ترجمہ)"تم ہر گز نیکی(کا ثواب)نہیں پاؤ گے حتیٰ کہ اپنی پسندیدہ چیز سے خرچ کرو"۔تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مالوں کا مطالبہ فرماتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے بئرحاء اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیا آپ نے فرمایا واہ واہ!یہ نفع بخش مال ہے یہ نفع بخش مال ہے میں نے تمہاری بات سن لی میرے خیال میں تم اسے اپنے رشتہ داروں میں خرچ کردو پس حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ میں تقسیم کردیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِين؛جلد٢ص٦٩٤؛حدیث نمبر٢٢١٥)
حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک لونڈی کو آزاد کر دیا اور پھر یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے فرمایا اگر تم وہ لونڈی اپنے ماموں کو دے دیتیں تو تمہیں اس کا بہت بڑا اجر ملتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِين؛جلد٢ص٦٩٤؛حدیث نمبر٢٢١٦)
حضرت زینب زوجہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عورتوں کے گروہ!صدقہ کرو اگرچہ تمہارے زیورات سے ہو وہ فرماتی ہیں میں(اپنے خاوند)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئی تو میں نے کہا آپ مفلس اور خالی ہاتھ ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر پوچھئے اگر(آپ کو دینا)ہمیں کفایت کرتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میں کسی اور کو دے دوں۔فرماتی ہیں انہوں نے فرمایا تم خود جاکر(پوچھ لو)فرماتی ہیں میں گئی تو انصار کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر تھی اور اسے بھی یہی بات در پیش تھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رعب عطا کیا گیا تھا فرماتی ہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ باہر آۓ تو ہم نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر اطلاع کیجئے کہ دروازے پر دو عورتیں آپ سے پوچھنا چاہتی ہیں کہ کیا وہ اپنا صدقہ اپنے خاوندوں اور ان یتیم بچوں کو دے سکتی ہیں جو ان کی پرورش میں ہیں اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ اندر گئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا وہ کون ہیں انہوں نے عرض کیا ایک انصاری عورت ہے اور دوسری حضرت زینب ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کونسی زینب؟عرض کیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے لئے دو گنا ثواب ہے قرابت کا ثواب بھی اور صدقہ کا ثواب بھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِين؛جلد٢ص٦٩٤؛حدیث نمبر٢٢١٧)
حضرت عمر بن حارث،حضرت زینب زوجہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے حدیث نمبر ٢٢١٧ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ وہ فرماتی ہیں میں مسجد میں تھی کہ مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا صدقہ کیا کرو اگرچہ تمہارے زیورات سے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِين؛جلد٢ص٦٩٥؛حدیث نمبر٢٢١٨)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا مجھے ابوسلمہ کی اولاد پر خرچ کرنے کا ثواب ہوگا میں ان کو ادھر اُدھر چھوڑنے والی نہیں کیونکہ وہ میری اولاد ہیں آپ نے فرمایا ہاں ان پر خرچ کرنے پر تمہیں اجر ملے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِين؛جلد٢ص٦٩٥؛حدیث نمبر٢٢١٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢١٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِين؛جلد٢ص٦٩٥؛حدیث نمبر٢٢٢٠)
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا مسلمان جب اپنے اہل وعیال پر کچھ خرچ کرتا ہے اور وہ ثواب کی امید رکھتا ہے تو یہ اس کے لئے صدقہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِين؛جلد٢ص٦٩٥؛حدیث نمبر٢٢٢١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٢١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِين؛جلد٢ص٦٩٦؛حدیث نمبر٢٢٢٢)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ دین سے بیزار ہے تو کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟آپ نے فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِين؛جلد٢ص٦٩٦؛حدیث نمبر٢٢٢٣)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری ماں میرے پاس آئی ہے اور مشرکہ ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے معاہدہ کیا ہوا تھا پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا میری ماں میرے پاس آئی ہے اور وہ دین سے اعراض کرنے والی ہے تو کیا میں اپنی ماں سے صلہ رحمی کروں؟آپ نے فرمایا ہاں تم اس سے صلہ رحمی کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ وَالصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقْرَبِينَ وَالزَّوْجِ وَالْأَوْلَادِ، وَالْوَالِدَيْنِ وَلَوْ كَانُوا مُشْرِكِين؛جلد٢ص٦٩٦؛حدیث نمبر٢٢٢٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری والدہ اچانک فوت ہوگئی اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ کلام کرتی تو صدقہ کرتی تو اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو اسے ثواب ہوگا آپ نے فرمایا ہاں ہوگا۔(جو لوگ ایصال ثواب کےمنکر ہیں وہ کہتے ہیں کسی شخص کے عمل کا فائدہ دوسرے آدمی کو نہیں پہنچتا تو اس حدیث سے واضح ہوا کہ صدقہ بیٹا کر رہا ہے اور یہ بیٹے کا عمل ہے لیکن ثواب اس کی ماں کو پہنچ رہا ہے اور احادیث میں ایسی کئی مثالیں ہیں)(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ إِلَيْهِ؛ترجمہ؛میت کو صدقہ کا ایصال ثواب؛جلد٢ص٦٩٦؛حدیث نمبر٢٢٢٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٢٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ وُصُولِ ثَوَابِ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ إِلَيْهِ؛جلد٢ص٦٩٧؛حدیث نمبر٢٢٢٦)
ابن ابی شیبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ ہر نیکی صدقہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ؛ترجمہ؛ہر قسم کی نیکی کو صدقہ کا نام دیا جاتا ہے؛جلد٢ص٦٩٧؛حدیث نمبر٢٢٢٧)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مالدار لوگ ثواب لے گئے وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزہ رکھتے ہیں اور اپنے زائد مالوں کا صدقہ بھی دیتے ہیں آپ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے صدقہ کا سبب نہیں بنایا ہے بے شک ہر تسبیح صدقہ ہے ہر تکبیر صدقہ ہے،ہر تحمید صدقہ ہے اور ہر تہلیل صدقہ ہے۔(سبحان اللہ پڑھنا تسبیح، اللہ اکبر کہنا تکبیر،الحمد للہ پڑھنا تحمید اور لاالہ الا اللہ پڑھنا تہلیل ہے) نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور حقوقِ زوجیت ادا کرنا بھی صدقہ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ایک شخص اپنی شہوت کی تکمیل کرتا ہے اور اسے اجر ملتا ہے؟آپ نے فرمایا بتاؤ اگر وہ یہ کام حرام طریقے سے کرتا تو اسے گناہ نہ ہوتا تو اسی طرح جب وہ حلال طریقے سے کرے گا تو اسے ثواب ملے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ؛جلد٢ص٦٩٧؛حدیث نمبر٢٢٢٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انسان تین سو ساٹھ جوڑوں کے ساتھ پیدا کیا گیا پس جو شخص اللہ اکبر،الحمد للہ لا الہ الا اللہ،سبحان اللہ اور استغفر اللہ پڑھے،راستے سے پتھر یا کانٹا یا ہڈی ہٹائے نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے تو یہ تین سو ساٹھ جوڑوں کے برابر(شکر)ہے وہ اس دن اس حال میں چل رہا ہوگا کہ جہنم سے آزاد ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ؛جلد٢ص٦٩٨؛حدیث نمبر٢٢٢٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٢٩ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے کہ یا وہ نیکی کا حکم دے اور فرمایا وہ اس دن شام کرے گا اس حال میں کہ جہنم سے آزاد ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ؛جلد٢ص٦٩٨؛حدیث نمبر٢٢٣٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر انسان پیدا کیا گیا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٢٢٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ؛جلد٢ص٦٩٨؛حدیث نمبر٢٢٣١)
حضرت سعید بن ابی بردہ اپنے والد سے وہ اپنے والد سے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے عرض کیا گیا بتائیے اگر وہ نہ پائے فرمایا اپنے ہاتھوں سے کماۓ اور اپنے نفس کو بھی نفع پہنچاے اور صدقہ بھی کرے پوچھا بتائے اگر اسے اس کی طاقت بھی نہ ہو؟کسی مجبور پریشان آدمی کی مدد کرے فرماتے ہیں پوچھا گیا بتائیے اگر اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو فرمایا نیکی کا حکم دے۔کہا بتائیے اگر یہ کام بھی نہ کر سکے تو؟آپ نے فرمایا برائی سے رک جائے پس بے شک یہ صدقہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ؛جلد٢ص٦٩٩؛حدیث نمبر٢٢٣٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٣٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ؛جلد٢ص٦٩٩؛حدیث نمبر٢٢٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر روز طلوع آفتاب کے بعد انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے فرمایا دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا بھی صدقہ ہے،کسی شخص کو سواری پر سوار کرنے میں اس کی مدد کرنا بھی صدقہ ہے،اس کا سامان سواری پر رکھنا بھی صدقہ ہے فرمایا اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے، ہر وہ قدم جس کے ساتھ نماز کی طرف چل کر جاۓ صدقہ ہے اور راستے سے اذیت ناک چیز کو ہٹانا بھی صدقہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ اسْمَ الصَّدَقَةِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ نَوْعٍ مِنَ الْمَعْرُوفِ؛جلد٢ص٦٩٩؛حدیث نمبر٢٢٣٤)
Hazrat Abu Hurairah Radiallaahu A'nhu Se Marwi Hai Ke Rasoole Akram ﷺ Ne Farmaaya, Jab Bande Subah Karte Hai'n To 2 Farishte Utarte Hai'n, Unme'n Se Ek Kehta Hai Ya Allaah Kharch Karne Waale Ko Uska Achcha Badla Ata Farma Aur Doosra Kehta Hai Ya Allaah Bakheel Ka Maal Tabaah Karde.
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا صدقہ کرو قریب ہے کہ کوئی شخص صدقہ لے کر جاے اور جس کو وہ دے وہ کہے اگر تم کل لے کر آتے تو میں قبول کرتا لیکن آج مجھے کوئی حاجت نہیں پس اسے کوئی صدقہ لینے والا نہ ملے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ لَا يُوجَدَ مَنْ يَقْبَلُهَا؛جلد٢ص٧٠٠؛حدیث نمبر٢٢٣٦)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں عنقریب لوگوں پر ایسا وقت آے گا جب ایک شخص صدقہ کرنے کے لئے سونا لے کر پھرے گا لیکن اسے صدقہ وصول کرنے والا کوئی نہیں ملے گا اور مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت کی وجہ سے ایک مرد کی پناہ میں چالیس عورتیں ہوں گی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ لَا يُوجَدَ مَنْ يَقْبَلُهَا؛جلد٢ص٧٠٠؛حدیث نمبر٢٢٣٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مال زیادہ ہوکر بہ نہ جائے حتیٰ کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نکلے گا لیکن کسی قبول کرنے والے کو نہیں پائے گا اور یہاں تک کہ عرب کی زمین چراگاہ اور نہروں والی ہو جائے گی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ لَا يُوجَدَ مَنْ يَقْبَلُهَا؛جلد٢ص٧٠١؛حدیث نمبر٢٢٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم میں مال کثرت کی وجہ سے بہ نہ جائے یہاں تک کہ مال والا سوچ میں پڑ جائے گا کہ اس سے صدقہ کون قبول کرے اور کسی کو صدقہ قبول کرنے کے لئے بلایا جائے گا تو وہ کہے گا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ لَا يُوجَدَ مَنْ يَقْبَلُهَا؛جلد٢ص٧٠١؛حدیث نمبر٢٢٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین سونے چاندی کے ستونوں کی مثل اپنے جگر پارے اگل دے گی۔قاتل آے گا اور کہے گا میں نے اسی کی وجہ سے قتل کیا قاطع آئے گا اور کہے گا میں نے اسی کی وجہ سے رشتہ داری کے تعلق کو قطع کیا،چور آۓ گا اور کہے گا اسی کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا ہے۔پھر وہ اسے چھوڑ دیں گے اور اس سے کچھ نہیں لیں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ لَا يُوجَدَ مَنْ يَقْبَلُهَا؛جلد٢ص٧٠١؛حدیث نمبر٢٢٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص پاکیزہ مال صدقہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ پاک مال کو ہی قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں سے لیتا ہے(جس طرح اس کے شایانِ شان ہے)اگرچہ وہ ایک کھجور ہو پس وہ رحمن کے ہاتھ میں بڑھ کر پہاڑ سے بھی بڑا ہوجائے گا جس طرح تم میں سے کوئی ایک گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ قَبُولِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ وَتَرْبِيَتِهَا؛جلد٢ص٧٠٢؛حدیث نمبر٢٢٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص حلال کمائی سے ایک کھجور صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دائیں ہاتھ میں پکڑتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی ایک اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے حتیٰ کہ وہ پہاڑ کی مثل یا اس سے بھی بڑا ہوجاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ قَبُولِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ وَتَرْبِيَتِهَا؛جلد٢ص٧٠٢؛حدیث نمبر٢٢٤٢)
مزید دو سندوں کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٤٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ قَبُولِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ وَتَرْبِيَتِهَا؛جلد٢ص٧٠٢؛حدیث نمبر٢٢٤٣)
ایک اور کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٤٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ قَبُولِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ وَتَرْبِيَتِهَا؛جلد٢ص٧٠٢؛حدیث نمبر٢٢٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو!اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک چیز کو ہی قبول کرتا ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو اس کام کا حکم دیا جس کا حکم رسولوں کو دیا۔فرمایا اے رسولو!پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ اور اچھے کام کرو بے شک میں تمہارے اعمال کو جانتا ہوں اور فرمایا اے ایمان والو!پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطاء کی ہیں پھر آپ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور چہرہ گرد آلود ہے وہ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتا ہے(اور کہتا ہے)اے میرے رب اے میرے رب!حالانکہ اس کا کھانا حرام،اس کا پینا حرام اور اس کا لباس حرام ہوتا ہے اور اسے حرام سے غذا حاصل ہوئی پس اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ قَبُولِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ وَتَرْبِيَتِهَا؛جلد٢ص٧٠٣؛حدیث نمبر٢٢٤٥)
حضرت عدی بن حاتم سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص آگ سے بچنے کی طاقت رکھتا ہے اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہو تو وہ ایسا کرے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ؛ترجمہ؛صدقہ کرنے کی ترغیب اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے یا اچھی بات کے ذریعے ہواور یہ جہنم کی آگ سے پردہ ہوگا؛جلد٢ص٧٠٣؛حدیث نمبر٢٢٤٦)
ایک اور سند سے بھی حضرت عدی بن حاتم سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالیٰ کسی ترجمان کے بغیر کلام کرے گا جب وہ اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے اپنے بھیجے ہوئے اعمال نظر آئیں گے اور جب بائیں جانب دیکھے گا تو بھی اسے اپنے اعمال نظر آئیں گے اور سامنے دیکھے گا تو اسے آگ ہی نظر آئے گی پس تم آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہو۔ ایک اور روایت میں ہے اگر چہ اچھی بات کے ذریعے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ؛جلد٢ص٧٠٣؛حدیث نمبر٢٢٤٧)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا تو اس کو ناپسند کرتے ہوئے رخ پھیر لیا حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں پھر فرمایا جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہو پس جو نہ پائے وہ اچھی گفتگو کے ذریعے بچے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ؛جلد٢ص٧٠٤؛حدیث نمبر٢٢٤٨)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے جہنم کا ذکر کر کے اس سے پناہ مانگی اور اس سے منہ پھیر لیا آپ نے تین مرتبہ اس طرح کیا پھر فرمایا جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے سے ہو پس اگر تم نہ پاؤ تو اچھے کلمہ کے ذریعے(ہی بچو)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ؛جلد٢ص٧٠٤؛حدیث نمبر٢٢٤٩)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک مرتبہ دن کے ابتدائی حصے میں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ کے پاس ایک جماعت آئی جو ننگے پاؤں،ننگے جسم والے تھے انہوں نے اونی چادریں جن میں چمڑے کے پیوند لگے ہوے تھے گلے میں کفن کی طرح پہنی ہوئی تھیں اور تلواریں لٹکائی ہوئی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو ان کے فاقہ زدہ ہونے کو ملاحظہ کرتے وقت آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا آپ گھر کے اندر تشریف لائے پھر باہر نکلے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے آذان اور اقامت کہی تو آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا۔ ترجمہ"اے لوگوں!اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا(آیت کے آخر تک)یعنی۔بے شک اللہ تعالیٰ تمہارا نگہبان ہے۔اور سورہ حشر کی یہ آیت پڑھی۔ ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ہر نفس کو دیکھنا چاہیےکہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے(عمل کیا)۔ پھر آپ نے فرمایا آدمی کو صدقہ کرنا چاہیے اس کے دینار سے ہو،درہم سے ہو،کپڑے سے ہو گندم کے صاع سے ہو(چار کیلو سے زائد کا پیمانہ صاع ہے)اور کھجور کے صاع سے ہو۔حتیٰ کہ آپ نے فرمایا اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے سے ہو۔ راوی فرماتے ہیں پس انصار میں سے ایک شخص اتنی بڑی تھیلی لے کر آیا کہ قریب تھا اس کا ہاتھ تھک جاتا بلکہ واقعی تھک گیا تھا پھر لوگ مسلسل آنے لگے حتیٰ کہ میں نے غلے اور کپڑوں کے دوڈھیر دیکھے اور یہاں تک کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چمکتا ہوا دیکھا گویا سونے کا ہو۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اسلام میں اچھا کام جاری کیا اس کے لیے اس کا اجر ہے اور ان لوگوں کا اجر بھی جواس کے بعد اس پر عمل کریں اور ان کے اجر میں سے بھی کچھ کم نہ ہوگا اور جو شخص اسلام میں برا کام جاری کرے اس پر اس کا بوجھ ہوگا اور ان لوگوں(کے گناہ)کا بوجھ بھی جو اس پر عمل کریں اور خود ان کے اپنے بوجھوں میں کوئی کمی نہ ہوگی۔(معلوم ہوا کہ اچھے کام جاری کرنا بدعت نہیں بلکہ ثواب کا کام ہے اور برے کام جاری کرنا باعث عذاب ہے۔آج کل عجب تماشہ ہے لوگ اچھے کاموں کو بدعت کہ کر روکتے ہیں اور برے کاموں کو روکنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ؛جلد٢ص٧٠٥؛حدیث نمبر٢٢٥٠)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم دن کے پہلے حصے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٢٥٠ کی مثل مروی ہے اور حضرت معاذ کی روایت میں ہے کہ ظہر کی نماز پڑھی پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ؛جلد٢ص٧٠٦؛حدیث نمبر٢٢٥١)
حضرت منذر بن جریر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا انہوں نے چمڑے کی کفنیاں پہنی ہوئی تھیں۔اس کے بعد حدیث نمبر٢٢٥٠ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی پھر چھوٹے ممبر پر تشریف فرما ہوۓ اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا اما بعد!بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اتارا:{يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ} [النساء: ١](مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ؛جلد٢ص٧٠٦؛حدیث نمبر٢٢٥٢)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کچھ دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان پر اونی کپڑے تھے آپ نے ان کی حاجت کی بنیاد پر ان کا برا حال دیکھا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٢٥٠ کی طرح مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ؛جلد٢ص٧٠٦؛حدیث نمبر٢٢٥٣)
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا اور ہم بوجھ اٹھاتے تھے فرماتے ہیں حضرت ابوعقیل نے نصف صاع(دوکیلو)صدقہ کیا اور ایک شخص ان سے زیادہ مال لے کر آیا تو منافقین نے کہا بےشک اللہ تعالیٰ کو اس صدقہ کی حاجت نہیں اور دوسرے نے محض دکھاوے کے لئے صدقہ دیا تھا پس یہ آیت نازل ہوئی۔[التوبة: ٧٩]ترجمہ:جو لوگ خوشی خوشی صدقہ دینے والوں اور ان لوگوں پر طنز کرتے ہیں صرف اپنی محنت مزدوری کے حساب سے صدقہ کرتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْحَمْلِ أُجْرَةً يُتَصَدَّقُ بِهَا، وَالنَّهْيِ الشَّدِيدِ عَنْ تَنْقِيصِ الْمُتَصَدِّقِ بِقَلِيلٍ؛ترجمہ؛اجرت پر کام کر کے صدقہ کرنا اور کم صدقہ کرنے والوں کی مذمت کرنے سے ممانعت؛جلد٢ص٧٠٦؛حدیث نمبر٢٢٥٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی ایسی ہی روایت ہے اور اس میں یوں ہے کہ ہم اپنی پیٹھوں پر بوجھ لادتےتھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْحَمْلِ أُجْرَةً يُتَصَدَّقُ بِهَا، وَالنَّهْيِ الشَّدِيدِ عَنْ تَنْقِيصِ الْمُتَصَدِّقِ بِقَلِيلٍ؛جلد٢ص٧٠٧؛حدیث نمبر٢٢٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی صاحب خانہ کو ایسی اونٹنی ادہار دے جو صبح و شام ایک گھڑا دودھ نکالتی ہو تو اس کا بہت بڑا اجر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ فَضْلِ الْمَنِيحَةِ؛ترجمہ؛منیحہ(کسی کو دودھ والا جانور عاریتاً دینا منیحہ کہلاتا ہے)کی فضیلت؛جلد٢ص٧٠٧؛حدیث نمبر٢٢٥٦)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے منع فرمایا پھر انہوں نے بہت سے کاموں کا ذکر فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جس نے کسی کو دودھ والا جانور عاریتاً دیا تو اسے صبح دودھ کے وقت اور شام کو دودھ کے وقت صدقہ کا ثواب ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ فَضْلِ الْمَنِيحَةِ؛جلد٢ص٧٠٧؛حدیث نمبر٢٢٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا خرچ کرنے والے اور صدقہ دینے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چھاتی سے گلے تک دو زرہیں یا دو کرتے پہن رکھے ہوں تو جب وہ خرچ کرنے والا یا صدقہ دینے والا صدقہ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زرہ کشادہ ہوکر اس کے پورے جسم پر پھیل جاتی ہے۔ اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زرہ تنگ ہوجاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پکڑ لیتا ہے حتیٰ کہ اس کے پوروں کو چھپا لیتا ہے اور اس کے نشانات کو مٹا دیتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ِبَابُ مَثَلِ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ؛ترجمہ؛خرچ کرنے والے اور بخیل کی مثال؛جلد٢ص٧٠٨؛حدیث نمبر٢٢٥٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح بیان کی جن پر لوہے کی دو زرہیں ہوں اور ان کے ساتھ ان کے سینوں اور گردنوں سے جکڑے ہوئے ہوں پس صدقہ کرنے والا جب صدقہ کرتا ہے تو وہ اس قدر کشادہ ہوجاتی ہے کہ اس کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کے نشانات مٹا دیتی ہے اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زرہ تنگ ہوجاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ رک جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے اپنی گریبان کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔اگر تم دیکھتے تو کہتے کہ کشادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن کشادہ نہیں ہو رہا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ِبَابُ مَثَلِ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ؛جلد٢ص٧٠٨؛حدیث نمبر٢٢٥٩)
ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں ہوں جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس پر کشادہ ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اس کے نشان مٹا دیتی ہے اور جب بخیل صدقہ کرنا چاہتا ہے تو وہ تنگ ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ اس کی گردن سے مل جاتے ہیں۔اور ہر حلقہ دوسرے حلقہ میں گھس جاتا ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا وہ اس کو کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن اس کی طاقت نہیں رکھتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ِبَابُ مَثَلِ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ؛جلد٢ص٧٠٩؛حدیث نمبر٢٢٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ایک شخص نے کہا میں آج رات صدقہ کروں گا پس وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو کسی زانیہ عورت کے ہاتھ پر رکھ دیا صبح لوگ باہم گفتگو کرنے لگے کہ آج رات زانیہ کو صدقہ دیا گیا اس نے کہا یااللہ!تیرے لئے حمد ہے، زانیہ کو صدقہ دیا گیا۔میں اب ضرور صدقہ کروں گا پھر صدقہ لے کر نکلا تو کسی مالدار کے ہاتھ میں دے دیا صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ مالدار کو مل گیا میں ضرور بضرور صدقہ کروں گا پس وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو کسی چور کے ہاتھ میں رکھ دیا صبح لوگ باہم باتیں کرنے لگے کسی چور کو صدقہ دے دیا گیا اس نے کہا یااللہ!تیرے لئے تعریف ہے زانیہ کو، مالدار کو اور چور کو صدقہ دیا گیا۔ پھر اس کے پاس ایک آنے والا آیا تو اس نے کہا تیرا صدقہ قبول ہوگیا۔جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو شاید وہ اس کے ذریعے زنا سے بچ جائے اور غنی شاید عبرت پکڑے اور اس مال سے خرچ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطاء کیا اور شاید چور اس وجہ سے چوری سے بچ جائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ ثُبُوتِ أَجْرِ الْمُتَصَدِّقِ، وَإِنْ وَقَعَتِ الصَّدَقَةُ فِي يَدِ غَيْرِ أَهْلِهَا؛ترجمہ؛صدقہ کرنے والے کا ثواب اگرچہ صدقہ غیر مستحق کے پاس پہنچ جائے؛جلد٢ص٧٠٩؛حدیث نمبر٢٢٦١)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا مسلمان امانت دار خازن کو جس مال کے دینے کا حکم دیا گیا وہ پورا پورا خوشی خوشی اس شخص کو دے جس کو دینے کا حکم دیا گیا تو اس کا شمار بھی صدقہ کرنے والوں میں ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ أَجْرِ الْخَازِنِ الْأَمِينِ، وَالْمَرْأَةِ إِذَا تَصَدَّقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ بِإِذْنِهِ الصَّرِيحِ أَوِ الْعُرْفِيِّ؛ترجمہ؛عورت امانت دار خازن اور عورت اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ دے لیکن اس(خزانے سے)مال کو خراب نہ کرے جب واضح اجازت یا عرفی اجازت سے ہو تو ثواب ملے گا؛جلد٢ص٧١٠؛حدیث نمبر٢٢٦٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب عورت اپنے گھر کے کھانے سے اس کو خراب کرنے کے بغیر خرچ کرے تو اس خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے خاوند کو اس کے کمانے کا ثواب ہوگا اور خازن کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا اس سے دوسرے کا اجر کم نہیں ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ أَجْرِ الْخَازِنِ الْأَمِينِ، وَالْمَرْأَةِ إِذَا تَصَدَّقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ بِإِذْنِهِ الصَّرِيحِ أَوِ الْعُرْفِيِّ؛جلد٢ص٧١٠؛حدیث نمبر٢٢٦٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٦٣ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں خاوند کے گھر کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ أَجْرِ الْخَازِنِ الْأَمِينِ، وَالْمَرْأَةِ إِذَا تَصَدَّقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ بِإِذْنِهِ الصَّرِيحِ أَوِ الْعُرْفِيِّ؛جلد٢ص٧١٠؛حدیث نمبر٢٢٦٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت جب اپنے خاوند کے گھر سے خرچ کرے اور اسے خراب کرنے والی نہ ہو تو اسے اس کا ثواب ہوگا اور اس کے خاوند کو اسی قدر کمانے کا ثواب ہوگا اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے اجر ملے گا اور خازن کے لئے بھی اسی کی مثل ہے اور ان میں سے کسی کے ثواب میں کمی نہ ہوگی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ أَجْرِ الْخَازِنِ الْأَمِينِ، وَالْمَرْأَةِ إِذَا تَصَدَّقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ بِإِذْنِهِ الصَّرِيحِ أَوِ الْعُرْفِيِّ؛جلد٢ص٧١٠؛حدیث نمبر٢٢٦٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٦٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ أَجْرِ الْخَازِنِ الْأَمِينِ، وَالْمَرْأَةِ إِذَا تَصَدَّقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ بِإِذْنِهِ الصَّرِيحِ أَوِ الْعُرْفِيِّ؛جلد٢ص٧١٠؛حدیث نمبر٢٢٦٦)
حضرت ابواللحم کے غلام حضرت عمیر سے مروی ہے فرماتے ہیں میں جب غلام تھا تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں اپنے مالکوں کے مال سے صدقہ دے سکتا ہوں؟آپ نے فرمایا ہاں اور ثواب تم دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛باب ما أنفق العبد من مال مولاہ؛جلد٢ص٧١١؛حدیث نمبر٢٢٦٧)
حضرت ابواللحم کے غلام حضرت عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے میرے مالک نے حکم دیا کہ میں گوشت سے کھاؤں اتنے میں میرے پاس ایک مسکین آگیا تو میں نے اس میں سے اسے کھلادیا میرے مالک کو اس بات کا پتہ چلا اس نے مجھے مارا پس میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر ماجرا سنایا تو آپ نے اسے بلاکر فرمایا تم نے اسے کیوں مارا اس نے کہا یہ میرا کھانا میری اجازت کے بغیر دیتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا ثواب تم دونوں کو آدھا آدھا ملے گا۔(بطور ترغیب فرمایا)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ مَا أنفق العبد من مال مولاہ؛جلد٢ص٧١١؛حدیث نمبر٢٢٦٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کا خاوند موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے اور اس کی موجودگی میں(اپنے کسی محرم کو)اس کی اجازت کے بغیر گھر میں نہ آنے دے اور وہ اس کی کمائی سے اس کی اجازت کے بغیر جو کچھ خرچ کرے تو اس(خاوند)کے لئے نصف ثواب ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ مَا أَنْفَقَ الْعَبْدُ مِنْ مَالِ مَوْلَاهُ؛جلد٢ص٧١١؛حدیث نمبر٢٢٦٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک جوڑا خرچ کیا اسے جنت میں یوں پکارا جائے گا اے اللہ کے بندے!یہ نیکی ہے پس جو نمازیوں میں سے ہوگا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جاے گا اور جو اہل جہاد سے ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا اسے صدقہ کے دروازے سے بلایا جاے گا اور جو روزہ رکھنے والوں میں سے ہوگا اسے باب الریان سے بلایا جائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے پکارے جانے کی ضرورت تو نہیں لیکن کیا کوئی ایسا شخص بھی ہوگا جس کو ان تمام دروازوں سے بلایا جاے۔فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ہوں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ مَنْ جَمَعَ الصَّدَقَةَ، وَأَعْمَالَ الْبِرِّ؛ترجمہ؛صدقہ کے ساتھ دیگر نیکیوں کو ملانے کا حکم؛جلد٢ص٧١١؛حدیث نمبر٢٢٧٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٧٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ مَنْ جَمَعَ الصَّدَقَةَ، وَأَعْمَالَ الْبِرِّ؛جلد٢ص٧١٢؛حدیث نمبر٢٢٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک جوڑا خرچ کیا اسے جنت کے پہرہ دار ہر دروازے سے بلائیں گے کہ اے فلاں!ادھر آؤ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ایسے شخص پر کوئی حرج نہیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے تم ان میں سے ہوگے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ مَنْ جَمَعَ الصَّدَقَةَ، وَأَعْمَالَ الْبِرِّ؛جلد٢ص٧١٢؛حدیث نمبر٢٢٧٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تم میں سے کسی نے روزہ رکھا ہے؟حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے(رکھا ہے)آپ نے فرمایا آج تم میں سے کون جنازے کے ساتھ گیا ہے؟حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں(گیا ہوں)فرمایا آج تم میں سے کسی نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے،آپ نے فرمایا آج تم میں سے کسی نے بیمار کی عیادت کی ہے؟پس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی میں یہ تمام کام جمع ہوجائیں وہ ضرور جنت میں جائے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ مَنْ جَمَعَ الصَّدَقَةَ، وَأَعْمَالَ الْبِرِّ؛جلد٢ص٧١٣؛حدیث نمبر٢٢٧٣)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا خرچ کرو یا فرمایا دیا کرو اور گنتی نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں گن گن کر دے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْإِنْفَاقِ وَكَرَاهَةِ الْإِحْصَاءِ؛ترجمہ؛خرچ کرنے کی ترغیب اور جمع کرنے کی ناپسندیدگی؛جلد٢ص٧١٣؛حدیث نمبر٢٢٧٤)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرچ کرو اور گن گن کر نہ رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں گن گن کر دے گا اور جمع نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے روک لے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْإِنْفَاقِ وَكَرَاهَةِ الْإِحْصَاءِ؛جلد٢ص٧١٣؛حدیث نمبر٢٢٧٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْإِنْفَاقِ وَكَرَاهَةِ الْإِحْصَاءِ؛جلد٢ص٧١٤؛حدیث نمبر٢٢٧٦)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!میرے پاس اس مال کے علاوہ کچھ نہیں جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مجھے دیتے ہیں تو کیا اس مال میں سے دینے میں مجھ پر کوئی حرج ہے؟آپ نے فرمایا جس قدر دے سکو دو اور جمع نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے روک لے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْإِنْفَاقِ وَكَرَاهَةِ الْإِحْصَاءِ؛جلد٢ص٧١٤؛حدیث نمبر٢٢٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے اے مسلمان عورتوں!تم میں سے کوئی عورت اپنی ہمسایہ کو حقیر نہ جانے اگرچہ بکری کا ایک کھر ہو(اگرچہ معمولی چیز دے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ، وَلَوْ بِالْقَلِيلِ وَلَا تَمْتَنِعُ مِنَ الْقَلِيلِ لِاحْتِقَارِهِ؛ترجمہ؛صدقہ دینے کی ترغیب اگرچہ کم ہو اور کم مال کو حقیر جان کر نہ روکے؛جلد٢ص٧١٤؛حدیث نمبر٢٢٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا سات(قسم کے)آدمی وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس دن(قیامت کے دن)سایہ عطاء فرمائے گا جس دن اس کے ہمسائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ (١)انصاف کرنے والا حکمران۔ (٢)وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں پروان چڑھا۔ (٣)وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا رہے۔ (٤)ایسے دو مرد جو اللہ تعالیٰ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کریں اسی(محبت)پر جمع ہوں اور اسی پر جدا ہوں۔ (٥)وہ مرد جسے کوئی منصب اور حسن والی عورت(گناہ کی)دعوت دے تو وہ کہے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ (٦)وہ شخص جو صدقہ کرے حتیٰ کہ اس کے دائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ اس کے بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ (٧)اور وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرے تو اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِخْفَاءِ الصَّدَقَةِ؛ترجمہ؛پوشیدہ طور پر صدقہ دینے کی فضیلت؛جلد٢ص٧١٥؛حدیث نمبر٢٢٧٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٧٩ کی مثل مروی ہے اور اس میں ہے کہ جو شخص مسجد سے نکلے تو اس کی طرف واپس آنے تک اس کا دل اسی(مسجد کی طرف اٹکا رہے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِخْفَاءِ الصَّدَقَةِ؛جلد٢ص٧١٦؛حدیث نمبر٢٢٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کس صدقہ کا ثواب زیادہ ہے؟فرمایا تم صدقہ کرو جب تم تندرست،حریص ہو اور تمہیں فقر کا خوف اور مالدار کی امید ہو اور انتظار نہ کرو کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تم کہو فلاں کے لئے اس قدر ہے فلاں کے لئے اس قدر ہے سنو!اب تو وہ فلاں کے لئے ہوگیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ صَدَقَةُ الصَّحِيحِ الشَّحِيحِ؛ترجمہ؛تندرست اور حریص آدمی کا صدقہ دینا افضل ہے؛جلد٢ص٧١٦؛حدیث نمبر٢٢٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کون سے صدقہ کا ثواب زیادہ ہے۔آپ نے فرمایا سنو!تمہارے باپ کی قسم تمہیں ضرور بتایا جائے گا وہ یہ کہ تم اس وقت صدقہ کرو جب تم تندرست حریص ہو تمہیں فقر کا ڈر اور مالداری کی امید ہو اور اس وقت تک مؤخر نہ کرو کہ جان حلق تک پہنچ جائے تو تم کہو فلاں کے لئے اس قدر ہے فلاں کے لئے اس قدر ہے اب تو فلاں کا اتنا ہوچکا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ صَدَقَةُ الصَّحِيحِ الشَّحِيحِ؛جلد٢ص٧١٦؛حدیث نمبر٢٢٨٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٢٨٢ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں اعظم کی جگہ افضل کا لفظ ہے(معنیٰ ایک جیسا ہے)(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ صَدَقَةُ الصَّحِيحِ الشَّحِيحِ؛جلد٢ص٧١٦؛حدیث نمبر٢٢٨٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر تشریف فرما ہوتے ہوئے صدقہ دینے اور سوال سے بچنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نچلا ہاتھ مانگنے والا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَأَنَّ السُّفْلَى هِيَ الْآخِذَةُ؛ترجمہ؛اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نچلا ہاتھ مانگنے والا ہے؛جلد٢ص٧١٧؛حدیث نمبر٢٢٨٤)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افضل یا(فرمایا)بہترین صدقہ وہ ہے جس کے صدقہ کرنے کے بعد بھی آدمی مالداررہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور ان لوگوں سے آغاز کرو جو تمہاری کفالت میں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَأَنَّ السُّفْلَى هِيَ الْآخِذَةُ؛جلد٢ص٧١٧؛حدیث نمبر٢٢٨٥)
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا تو آپ نے مجھے عطاء فرمایا پھر سوال کیا تو آپ نے عطاء فرمایا میں پھر مانگا تو آپ نے پھر عطاء کیا پھر فرمایا یہ مال سر سبز ہوتا ہے پس جو اسے(دینے والے کی)خوشی کے ساتھ لے اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور جو اپنے نفس کو ذلیل کر کے لے اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہوگی اور وہ اس کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَأَنَّ السُّفْلَى هِيَ الْآخِذَةُ؛جلد٢ص٧١٧؛حدیث نمبر٢٢٨٦)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انسان!تیرے لئے ضرورت سے زائد خرچ کرنا بہتر ہے اور اسے روک رکھنا تیرے لئے برا ہے۔ضرورت کے مطابق اخراجات رکھنے میں تم پر کوئی ملامت نہیں اور اپنے زیر کفالت لوگوں سے آغاز کرو اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَأَنَّ السُّفْلَى هِيَ الْآخِذَةُ؛جلد٢ص٧١٨؛حدیث نمبر٢٢٨٧)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم ان احادیث کے سوا احادیث بیان کرنے سے بچو جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں روایت کی گئیں کیونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے۔اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس شخص کے لئے بھلائی کا اردہ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دین کی سمجھ عطاء کرتا ہے اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا کہ میں صرف خازن ہوں پس جس کو میں نے خوشی سے دیا اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور جس کو میں نے مانگنے اور حرص کی وجہ سے دیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ؛ترجمہ؛مانگنے کی ممانعت؛جلد٢ص٧١٨؛حدیث نمبر٢٢٨٨)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گڑگڑا کر نہ مانگو پس اللہ کی قسم!جو شخص مجھ سے سوال کرے اور میں اسے ناخوشی سے دوں تو اس کے لیے برکت کیسے ہوگی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ؛جلد٢ص٧١٨؛حدیث نمبر٢٢٨٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٢٨٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ؛جلد٢ص٧١٩؛حدیث نمبر٢٢٩٠)
حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے لئے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے میں صرف تقسیم کرتا ہوں اللہ تعالیٰ عطاء فرماتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ؛جلد٢ص٧١٩؛حدیث نمبر٢٢٩١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص مسکین نہیں جو لوگوں کے درمیان چکر لگاتا ہے۔ایک لقمہ،دو لقمے،ایک کھجور اور دو کھجوریں دے واپس کردیا جاتا ہے۔صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مسکین کون ہے؟آپ نے فرمایا جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اس کو مستغنی کر دے اور نہ اس کے آثار سے(اس کے مسکین ہونے کا)پتہ چلے کہ اسے صدقہ دیا جائے اور نہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْمِسْكِينِ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧١٩؛حدیث نمبر٢٢٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص مسکین نہیں جو ایک یا دو کھجور اور ایک یا دو لقمے لے کر چلا جاتا ہو بلکہ مسکین وہ ہے جو(سوال سے)بچتا ہے اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو{لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا} [البقرة: ٢٧٣](ترجمہ"وہ لوگوں سے چمٹ کر(گڑگڑا کر)نہیں مانگتے"۔) (مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْمِسْكِينِ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧١٩؛حدیث نمبر٢٢٩٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٢٩٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْمِسْكِينِ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧٢٠؛حدیث نمبر٢٢٩٤)
حضرت حمزہ بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مسلسل مانگتا رہے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْمِسْكِينِ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧٢٠؛حدیث نمبر٢٢٩٥)
ایک اور سند سے حدیث نمبر ٢٢٩٥ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں گوشت کے ٹکڑے کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْمِسْكِينِ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧٢٠؛حدیث نمبر٢٢٩٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص لوگوں سے مسلسل مانگتا رہے گا حتیٰ کہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ لِلنَّاسِ؛جلد٢ص٧٢٠؛حدیث نمبر٢٢٩٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں سے ان کے مال اس لئے مانگتا ہے کہ اس کا مال بڑھے وہ انگاروں کا سوال کرتا ہے پس وہ(یہ انگارے)کم کرے یا زیادہ(اس کی مرضی)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ لِلنَّاسِ؛جلد٢ص٧٢٠؛حدیث نمبر٢٢٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص صبح کے وقت جاکر اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لادے اور صدقہ کرے اور اس کے ذریعے لوگوں سے بے نیاز رہے یہ اس بات سے بہتر ہے کہ کسی سے سوال کرے وہ اس کو دے دے یا انکار کرے بےشک اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور ان لوگوں سے آغاز کرو جو تمہاری کفالت میں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ لِلنَّاسِ؛جلد٢ص٧٢١؛حدیث نمبر٢٢٩٩)
حضرت قیس بن حازم فرماتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ،نچلے ہاتھ سے بہتر ہے اور اپنے اہل وعیال سے آغاز کرو پھر حدیث نمبر ٢٢٩٩ کی مثل بیان کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ لِلنَّاسِ؛جلد٢ص٧٢١؛حدیث نمبر٢٣٠٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص لکڑیوں کا گٹھا اکٹھا کر کے اپنی پیٹھ پر لاۓ اور اسے بیچ دے یہ اس کے لئے اس بات سے بہتر ہے کہ کسی سے سوال کرے وہ دے یا انکار کردے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ لِلنَّاسِ؛جلد٢ص٧٢١؛حدیث نمبر٢٣٠١)
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نو یا آٹھ یا سات افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے آپ نے فرمایا کیا تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے؟اور ہم نے انہی دنوں آپ سے بیعت کی تھی پس ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم تو آپ کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں آپ نے پھر فرمایا کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہیں کرتے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو آپ کی بیعت کر چکے ہیں آپ نے پھر فرمایا کیا تم اللہ کے رسول کی بیعت نہیں کرتے فرماتے ہیں پس ہم نے اپنے ہاتھ بڑھاۓ اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔اب کس بات پر بیعت کریں؟آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے۔پانچ(فرض)نمازیں پڑھو گے اللہ تعالیٰ کا حکم مانو گے اور ایک بات آہستہ سے فرمائی کہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے(راوی فرماتے ہیں)میں نے اس جماعت میں سے بعض ساتھیوں کو دیکھا کہ اگر ان میں سے کسی کی چابک گر جاتی تھی تو وہ کسی سے سوال نہیں کرتا کہ اٹھا کر مجھے دے دو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْمَسْأَلَةِ لِلنَّاسِ؛جلد٢ص٧٢١؛حدیث نمبر٢٣٠٢)
حضرت قبیصہ بن مخارق الھلالی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ایک بڑی رقم کا مقروض ہوگیا تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ اس کے بارے میں سوال کروں آپ نے فرمایا اس وقت ہمارے پاس ٹھہرے رہو جب تک صدقہ(کا مال)آجائے پس ہم اس سے تمہارے لئے حکم دیں گے۔پھر فرمایا،اے قبیصہ!سوال کرنا صرف تین آدمیوں کے لئے جائز ہے جو بہت زیادہ مقروض ہو تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہےوہ قرض ادا کرے پھر(سوال سے)رک جائے۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے مال میں اچانک آفت پہنچی اور اس کا مال تباہ ہو گیا اس کے لئے گزارے کے مطابق سوال کرنا جائز ہے تیسرا وہ شخص جو فاقہ زدہ ہو اور اس کے قبیلے کے تین آدمی گواہی دیں کہ وہ فاقہ زدہ ہے تو اس کے لیے اتنی مقدار کا سوال کرنا جائز ہے جس سے اس کا گزر اوقات ہو جائے۔ اے قبیصہ اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے اور ایسا شخص حرام کھاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ مَنْ تَحِلُّ لَهُ الْمَسْأَلَةُ؛ترجمہ؛کس کے لیے سوال کرنا جائز ہے؛جلد٢ص٧٢٢؛حدیث نمبر٢٣٠٣)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ عطاء فرماتے تو میں عرض کرتا(یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!)کسی ایسے شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کیا مجھ سے زیادہ محتاج کو عطاء کیجئے۔تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مال لے لو اور اس کے علاوہ جو مال تمہارے پاس حرص اور سوال کے بغیر آے وہ لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ آئے اس کا خیال نہ کیا کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْأَخْذِ لِمَنْ أُعْطِيَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ؛ترجمہ؛سوال کے بغیر لینے کا جواز اور حرص نہ کرنا؛جلد٢ص٧٢٣؛حدیث نمبر٢٣٠٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کچھ عطیہ عنایت فرماتے تو وہ عرض کرتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھ سے زیادہ محتاج کو عطاء فرمائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس مال کو لے لو اس سے فائدہ حاصل کرو یا صدقہ کرو اور جب تمہارے پاس یہ مال(اس صورت میں)آے اور تم حرص کرنے اور سوال کرنے والے نہ ہو تو اسے لے لواور جو اس طرح نہ ہو اس کا خیال نہ کرو۔ حضرت سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کسی سے کچھ مانگتےبھی نہیں تھے اور کسی کا عطیہ رد بھی نہیں کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْأَخْذِ لِمَنْ أُعْطِيَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ؛جلد٢ص٧٢٣؛حدیث نمبر٢٣٠٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٠٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْأَخْذِ لِمَنْ أُعْطِيَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ؛جلد٢ص٧٢٣؛حدیث نمبر٢٣٠٦)
حضرت ابن ساعدی مالکی فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقات وصول کرنے کا عامل بنایا جب میں اس سے فارغ ہوا اور مال لاکر ان کو دے دیا تو انہوں نے میرے لیے اجرت دینے کا حکم دیا میں نے عرض کیا میں نے یہ عمل اللہ تعالیٰ(کی رضا)کے لئے کیا ہے اور میرا اجر اللہ کے پاس ہے۔انہوں نے فرمایا جو کچھ تمہیں دیا جائے وہ لے لو پھر انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام پر مامور فرمایا تو میں نے تمہاری طرح کیا پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تمہیں مانگنے کے بغیر جو کچھ ملے اسے کھاؤ اور صدقہ بھی کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْأَخْذِ لِمَنْ أُعْطِيَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ؛جلد٢ص٧٢٣؛حدیث نمبر٢٣٠٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے۔ابن سعد(دونوں طرح آیا ابن ساعدی اور ابن سعد بھی)امام نووی فرماتے ہیں ابن سعدی زیادہ درست ہے)فرماتے ہیں مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقات وصول کرنے پر مقرر فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْأَخْذِ لِمَنْ أُعْطِيَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ؛جلد٢ص٧٢٤؛حدیث نمبر٢٣٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی کا دل دو باتوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے لمبی زندگی اور مال مال کی محبت۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الدُّنْيَا؛ترجمہ؛دنیوی مال کی حرص کی مذمت؛جلد٢ص٧٢٤؛حدیث نمبر٢٣٠٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی کا دل دو باتوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے لمبی زندگی اور مال کی محبت۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الدُّنْيَا؛جلد٢ص٧٢٤؛حدیث نمبر٢٣١٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے اور اس کی دو خصلتیں جوان ہوتی ہیں مال کی حرص اور زندگی کی حرص۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الدُّنْيَا؛جلد٢ص٧٢٤؛حدیث نمبر٢٣١١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٣١١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الدُّنْيَا؛جلد٢ص٧٢٥؛حدیث نمبر٢٣١٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٣١١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الدُّنْيَا؛جلد٢ص٧٢٥؛حدیث نمبر٢٣١٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر انسان کے لیے مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی تلاش کرے گا اور انسان کے پیٹ کو تو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ لَابْتَغَى ثَالِثًا؛جلد٢ص٧٢٥؛حدیث نمبر٢٣١٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا(اور)مجھے معلوم نہیں یہ بات آپ پر نازل ہوئی یا آپ از خود فرما رہے تھے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٣١٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ لَابْتَغَى ثَالِثًا؛جلد٢ص٧٢٥؛حدیث نمبر٢٣١٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اگر انسان کے لیے سونے کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لیے ایک اور وادی ہو اور اس کے منہ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہے اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ لَابْتَغَى ثَالِثًا؛جلد٢ص٧٢٥؛حدیث نمبر٢٣١٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اگر انسان کے لئے مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے لیے اس کی مثل ہو اور انسان کے نفس کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ یہ بات قرآن سے ہے یانہیں۔زہیر کی روایت میں ہے کہ یہ بات کہ"مجھے معلوم نہیں یہ قرآن سے ہے یا نہیں"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ لَابْتَغَى ثَالِثًا؛جلد٢ص٧٢٥؛حدیث نمبر٢٣١٧)
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو قراء بصرہ کی طرف بھیجا گیا تو ان کے پاس تین سو آدمی حاضر ہوئے جو قرآن مجید پڑھ چکے تھے انہوں نے فرمایا تم اہل بصرہ میں سے بہترین لوگ ہو اور ان کے قراء ہو پس قرآن پڑھتے رہو کہیں زیادہ وقت گزرنے کی وجہ سے تمہارے دل سخت نہ ہوجائیں۔جس طرح تم سے پہلے لوگوں کے دل سخت ہوگئے اور ہم ایک سورت پڑھتے تھے جو طول اور شدت میں سورہ برأت کے مشابہ تھی مجھے وہ سورت بھلا دی گئی البتہ مجھے اس سے یہ بات یاد ہے کہ اگر انسان کے لیے مال کی دو وادیاں ہو تو وہ تیسری وادی تلاش کرتا ہے اور انسان کے پیٹ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور ہم ایک سورت پڑھتے تھے جو مسبحات(وہ سورتیں جنکے شروع میں سبح یسبح ہے)میں سے کسی ایک کے مشابہ تھی۔پس مجھے وہ بھلا دی گئی البتہ اس سے مجھے یہ یاد ہے۔ ترجمہ:اے ایمان والو!وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے تمہاری گردنوں میں شہادت لکھ دی گئی اور پھر قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ لَابْتَغَى ثَالِثًا؛جلد٢ص٧٢٦؛حدیث نمبر٢٣١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری،مال کی کثرت سے نہیں دل کے مالداری غنا سے ہے۔(یعنی قناعت کا وصف ہو اور بخل و لالچ سے محفوظ ہو تو یہ مالدار ہے مال کی زیادتی سے غنی نہ ہو تو حرص کبھی ختم نہیں ہوتی)(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ؛ترجمہ؛قناعت کی فضیلت اور اس کی ترغیب؛جلد٢ص٧٢٦؛حدیث نمبر٢٣١٩)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا اللہ کی قسم اے لوگو!مجھے تم پر صرف اس زینت دنیا کا خوف ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے(امتحان) کےلیے پیدا کی۔ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا خیر کے سبب سے شر آے گی اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا تم نے کیا کہا تھا؟اس نے کہا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا خیر،شر کا سبب بنے گی؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا بھلائی تو بھلائی کو ہی لاتی ہے تو کیا(زینت دنیا)تمہارے لیے خیر ہے بے شک موسم بہار میں جو سبزہ اگتا ہے وہ جانوروں کو ماردیتا ہے یا موت کے قریب کردیتا ہے مگر وہ جانور جو سبزہ کھاتا ہے حتیٰ کہ اس کی کھوکھیں پھول جاتی ہیں تو وہ دھوپ میں بیٹھ کر لید یا پیشاب کرتا ہے پھر جگالی کرتے ہوئے دوبارہ چرنا شروع کر دیتا ہے پس جو شخص مال کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے اسے اس میں برکت دی جاتی ہے اور جو آدمی ناحق مال لے گا اس کی مثال اس کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَخَوُّفِ مَا يَخْرُجُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا؛جلد٢ص٧٢٧؛حدیث نمبر٢٣٢٠)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے بارے میں اس زینت دنیا کا خوف ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری(آزمائش)کے لئے نکالی ہے۔صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!دنیا کی زینت اور تروتازگی کیا ہے آپ نے فرمایا زمین کی برکتیں،انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا بھلائی،برائی کو لاتی ہے فرمایا بھلائی تو بھلائی کو ہی لاتی ہے(تین بار فرمایا)بےشک جو کچھ موسم بہار میں پیدا ہوتا ہے وہ کھانے والے جانور کو ہلاک کرتا ہے یا ہلاکت کے قریب کردیتا ہے۔سوائے ان جانوروں کے جو صرف سبزہ کھاتے ہیں وہ کھاتے رہتے ہیں حتی کہ ان کی کھوکیں پھول جاتی ہیں پھر وہ دھوپ میں لوٹ پوٹ ہو کر پیشاب اور لید کرتے ہیں پھر دوبارہ کھاتے ہیں بےشک یہ مال سر سبز میٹھا ہے پس جو اسے حق کے ساتھ لیتا ہے اور صحیح مصرف پر خرچ کرتا ہے تو یہ اچھی مشقت ہے اور جو حق کے بغیر لیتا ہے وہ اس کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَخَوُّفِ مَا يَخْرُجُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا؛جلد٢ص٧٢٨؛حدیث نمبر٢٣٢١)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوۓ اور ہم آپ کے گرد بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا مجھے تم پر جن باتو کا خوف ہے ان میں سے ایک یہ کہ میرے بعد تم پر دنیا کی تروتازگی اور زینت کے دروازے اللہ تعالیٰ کھول دے گا ایک شخص نے عرض کیا کیا خیر،شر کو لاے گی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں خاموش رہے اس شخص سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ تم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر رہے ہواور آپ جواب نہیں دے رہے ہیں۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے آپ کی حالت معمول پر آئی تو آپ نے اپنے آپ سے پسینہ پوچھا اور فرمایا سوال کرنے والا کہاں ہے۔گویا آپ نے اس کی تعریف کی پھر فرمایا خیر،شر کو نہیں لاتی(بات یہ ہے کہ)موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے وہ ہلاک کرتا یا ہلاکت کے قریب کرتا ہے۔ البتہ وہ جانور جو سبزہ کھاتا ہے حتیٰ کہ جب اس کی کھوکیں پھول جاتی ہیں(پیٹ بھر جاتا ہے)تو وہ دھوپ میں لوٹ پوٹ ہوکر لید اور پیشاب کرتا ہے پھر چرنے لگتا ہے۔ اور یہ مال سر سبز میٹھا ہے اور مسلمان کا اچھا ساتھی اس مال سے وہ حصہ ہے جو اس سے مسکین،یتیم اور مسافر کو دیتا ہے یا جیسا آپ نے فرمایا۔اور جو اسے ناحق طور پر لیتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور یہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَخَوُّفِ مَا يَخْرُجُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا؛جلد٢ص٧٢٨؛حدیث نمبر٢٣٢٢)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے ان کو عطاء فرمایا انہوں نے پھر سوال کیا تو آپ نے ان کو عطاء کیا حتیٰ کہ وہ سب ختم ہوگیا جو آپ کے پاس تھا تو آپ نے فرمایا میرے پاس جو مال ہوتا ہے میں اسے تم سے بچا کر ہر گز نہیں رکھتا اور جو شخص(سوال سے)بچتا رہے اللہ تعالیٰ اسے بچائے گا اور جو شخص بے نیازی اختیار کرے(کسی سے نہ مانگے)اللہ تعالیٰ اسے بےنیاز کردے گا اور جو صبر کرے اللہ تعالیٰ اسے صابر رکھے گا اور کسی شخص کو صبر سے زیادہ بہتر اور زیادہ عطیہ نہیں دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ التَّعَفُّفِ وَالصَّبْرِ؛ترجمہ؛صبر اور قناعت کی فضیلت؛جلد٢ص٧٢٩؛حدیث نمبر٢٣٢٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٢٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ فَضْلِ التَّعَفُّفِ وَالصَّبْرِ؛جلد٢ص٧٢٩؛حدیث نمبر٢٣٢٤)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص نے کامیابی حاصل کی جو اسلام لایا اسے ضرورت کے مطابق رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو کچھ عطا فرمایا اس پر قناعت کی توفیق بھی عطا فرمائی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابٌ فِي الْكَفَافِ وَالْقَنَاعَةِ؛جلد٢ص٧٣٠؛حدیث نمبر٢٣٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے اللہ!آل محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کو اتنی روزی دے جو ان کی ضرورت کو پورا کردے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابٌ فِي الْكَفَافِ وَالْقَنَاعَةِ؛جلد٢ص٧٣٠؛حدیث نمبر٢٣٢٦)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا مال تقسیم کیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ان لوگوں کے علاوہ دوسرے لوگ زیادہ حق دار تھے آپ نے فرمایا ان لوگوں نے ایسی صورت پیدا کردی ہے کہ یا تو مجھ سے بےحیائی کے ساتھ سوال کرتے ہیں یا مجھے بخیل قرار دیتے ہیں حالانکہ میں بخیل نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ سَأَلَ بِفُحْشٍ وَغِلْظَةٍ؛جلد٢ص٧٣٠؛حدیث نمبر٢٣٢٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جارہا تھا اور آپ پر ایک نجرانی چادر تھی جس کے کنارے موٹے تھے ناگاہ ایک دیہاتی آیا اور اس نے چادر کے ساتھ آپ کو زور سے کھینچا میں نے دیکھا کہ اس کی وجہ سے آپ کی گردن مبارک پر نشان پڑ گیا پھر کہنے لگا اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ تعالیٰ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے دینے کا حکم دیجئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف دیکھ کر مسکراے پھر اسے دینے کا حکم دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛- بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ سَأَلَ بِفُحْشٍ وَغِلْظَةٍ؛جلد٢ص٧٣٠؛حدیث نمبر٢٣٢٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے اور حضرت عکرمہ بن عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اضافہ ہے وہ فرماتے ہیں پھر اس نے آپ کو اپنی طرف اس طرح کھینچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سینے سے جا لگے اور حضرت ہمام کی حدیث میں اس طرح ہے کہ اس نے کھینچا حتیٰ کہ چادر پھٹ گئی اور اس کا کنارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں باقی رہ گیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛- بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ سَأَلَ بِفُحْشٍ وَغِلْظَةٍ؛جلد٢ص٧٣١؛حدیث نمبر٢٣٢٩)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائیں تقسیم فرمائیں اور حضرت مخرمہ کو کچھ نہ دیا۔مخرمہ نے کہا اے بیٹے ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ تو میں ان کو لے گیا انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے لیے بلاکر لاؤ فرماتے ہیں میں نے آپ کو بلایا تو آپ اس حالت میں تشریف لائے کہ آپ پر قباء تھی آپ نے فرمایا اے مخرمہ!میں نے یہ قباء تمہارے لیے محفوظ رکھی تھی۔حضرت مخرمہ نے اس قباء کو دیکھا اور راضی ہوگئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ سَأَلَ بِفُحْشٍ وَغِلْظَةٍ؛جلد٢ص٧٣١؛حدیث نمبر٢٣٣٠)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبائیں آئیں تو میرے باپ مخرمہ نے کہا ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ،شاید آپ ہمیں ان میں سے کچھ دیں فرماتے ہیں میرے والد دروازے پر کھڑے ہوے اور گفتگو کی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آواز پہچان گئے اور اس طرح باہر تشریف لائے کہ آپ کے پاس قباء تھی اور آپ اس قباء کے محاسن دکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ یہ قباء میں نے تمہارے لئے محفوظ رکھی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ سَأَلَ بِفُحْشٍ وَغِلْظَةٍ؛جلد٢ص٧٣٢؛حدیث نمبر٢٣٣١)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی ایک جماعت کو کچھ مال دیا اور میں ان میں بیٹھا ہوا تھا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو چھوڑ دیا اور اسے کچھ نہ دیا حالانکہ وہ میرے نزدیک بہت پسندیدہ تھا میں اٹھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور چپکے سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے فلاں شخص کو کیوں نہیں دیا اللہ تعالیٰ کی قسم میں اسے مؤمن دیکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا یا مسلمان(چونکہ ایمان کا تعلق دل سے ہے اور اسلام کا تعلق کلمہ طیبہ پڑھنے اور اعمال صالحہ سے ہے اس لئے فرمایا وہ بات کرو جو تمہارے سامنے ہے۔)میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر مجھ پر اس کے بارے میں میرا علم مجھ پر غالب آگیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا وجہ ہے آپ فلاں کو عطا نہیں فرماتے اللہ کی قسم!میں اسے مؤمن خیال کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا یا مسلمان!پھر مجھ سے نہ رہا گیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ فلاں کو کیوں نہیں دیتے اللہ کی قسم میں اس کو مؤمن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا یا مسلمان!اس کے بعد فرمایا میں ایک شخص کو دیتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ دوسرا شخص مجھے زیادہ پسند ہوتا ہے لیکن میں اسے اس خوف سے دیتا ہوں کہ وہ کہیں منہ کے بل جہنم میں نہ گر جائے۔حلوائی کی روایت میں یہ قول دو مرتبہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ يُخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ؛جلد٢ص٧٣٢؛حدیث نمبر٢٣٣٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٣٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ يُخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ؛جلد٢ص٧٣٣؛حدیث نمبر٢٣٣٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٣٢ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور کندھوں کے درمیان ہاتھ مارا پھر فرمایا اے سعد!اگر میں کسی کو دوں تو مجھ سے لڑائی لڑو گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ يُخَافُ عَلَى إِيمَانِهِ؛جلد٢ص٧٣٣؛حدیث نمبر٢٣٣٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں غزوہ حنین کے دن جب اللہ تعالٰی نے کسی جنگ کے بغیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو ہوازن قبیلے کے مال میں سے عطا فرمایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم قریش کے لوگوں کو سو اونٹ دینے لگے تو انصار میں سے کچھ حضرات نے کہا اللہ تعالٰی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی مغفرت فرمائے آپ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں حالانکہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے بیان کی گئی تو آپ نے انصار کو بلا کر ایک چمڑے کے خیمے میں جمع فرمایا جب وہ جمع ہوئے تو آپ ان کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا تمہاری طرف سے مجھے کسی قسم کی بات پہنچی ہے انصار میں سے سمجھدار لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! ہم میں سے عقل مند لوگوں نے کوئی بات نہیں کہی کچھ کم عمر نوجوانوں نے یہ بات کہی ہے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالٰی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی مغفرت کرے۔آپ انصار کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ہماری تلواروں سے خون گر رہا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جو تازہ تازہ کفر سے اسلام کی طرف آئے تاکہ ان کے دلوں کو نرم کیا جائے۔کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ مال لے جائیں اور تم رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو لے کر گھر جاؤ اللہ کی قسم جس کے ساتھ تم واپس جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لوگ لے کر جا رہے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بےشک ہم راضی ہوئے آپ نے فرمایا عنقریب تم پر ترجیح دی جائے گی پس تم صبر کرنا حتیٰ کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرو۔کیونکہ میں حوض پر ہوں گا۔انہوں نے عرض کیا ہم صبر کریں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُه؛جلد٢ص٧٣٣؛حدیث نمبر٢٣٣٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے کسی لڑائی کے بغیر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ھوازِن کے مالوں میں سے مال دیا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٣٣٥ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا پس ہم صبر نہ کرسکے اور یہ الفاظ کہ نوعمر لوگوں نے کہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٤؛حدیث نمبر٢٣٣٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٣٥ کی مثل مروی ہے اور اس میں ہے کہ ہم صبر کریں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٤؛حدیث نمبر٢٣٣٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا کیا تم میں تمہارے علاوہ بھی کوئی ہے انہوں نے کہا نہیں البتہ ہمارا بھانجا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا انہی میں سے ہوتا ہے پھر آپ نے فرمایا قریش ابھی تازہ تازہ مسلمان ہوئے ہیں اور مصیبت سے نکلے ہیں۔اور میں ان کو پناہ میں رکھنا اور ان کی تالیف قلوب کرنا چاہتا ہوں کیا تم نہیں چاہتے کہ لوگ دنیا کے ساتھ لوٹے ہیں اور تم اپنے گھروں کو اللہ کے رسول کے ساتھ واپس جاؤ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٥؛حدیث نمبر٢٣٣٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے جب مکہ فتح ہوا تو قریش میں مال غنیمت تقسیم کیا گیا اس پر انصار نے کہا یہ تو تعجب خیز بات ہے ہماری تلواروں سے خون بہ رہا ہے اور غنیمت کا مال ان لوگوں کو دیا جاتا ہے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کو جمع کیا اور پوچھا کہ تم سے کس طرح کی بات مجھے پہنچی ہے۔انہوں نے کہا(ہم نے)وہی بات(کہی ہے)جو آپ تک پہنچی ہے اور وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے آپ نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم اپنے گھروں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاؤ اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٥؛حدیث نمبر٢٣٣٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب(غزوہ)حنین کا دن ہوا توا ھوازِن،غطفان اور ان کے علاوہ لوگ اپنی اولاد اور جانوروں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس دن دس ہزار کا لشکر تھا اور آپ کے ساتھ طلقاء(فتح کے دن مسلمان ہونے والے)بھی تھے تو وہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے حتیٰ کہ آپ تنہا رہ گئے۔راوی فرماتے ہیں آپ نے اس دن دو آوازیں دیں۔جن کے درمیان کچھ نہیں کہا حضرت انس فرماتے ہیں آپ نے دائیں طرف دیکھا تو فرمایا اے انصار کی جماعت!انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم حاضر ہیں آپ کو خوشخبری ہو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر آپ بائیں طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے انصار کے گروہ!انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کو خوشخبری ہو ہم حاضر ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ سفید خچر پر تھے تو اس سے اترے اور فرمایا میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔پس مشرکین بھاگ نکلے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی غنیمتیں حاصل ہوئیں جن کو آپ نے مہاجرین اور طلقاء میں تقسیم کردیا اور انصار کو کچھ نہ دیا تو انصار نے کہا جب معاملہ سخت ہوتا ہے تو ہمیں بلایا جاتا ہے اور غنیمت کا مال دوسرے لوگوں کو دیا جاتا ہے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ان سب کو ایک خیمہ میں جمع کیا اور فرمایا اے انصار کی جماعت!مجھے تمہاری طرف سے کس قسم کی بات پہنچی ہے تو وہ خاموش ہوگئے پھر فرمایا اے انصار کی جماعت کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے گھروں کو جاؤ انہوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم راضی ہیں آپ نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں انصار والی گھاٹی میں چلوں گا۔ حضرت ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اے ابوحمزہ(حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے)آپ اس بات کے گواہ ہیں؟تو انہوں نے فرمایا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے غائب کب تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٥؛حدیث نمبر٢٣٤٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے مکہ مکرمہ فتح کیا پھر ہم غزوۂ حنین میں گئے فرماتے ہیں مشرکین بہترین صفیں باندھ کر آے تھے جو میں نے دیکھا فرماتے ہیں پہلے گھوڑوں کی صف پھر لڑنے والوں کی صف اس کے بعد عورتوں کی صف تھی فرماتے ہیں ہم بہت سے لوگ تھے اور ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ گئی تھی۔ہماری ایک طرف شتر سواروں پر حضرت خالد بن ولید امیر تھے اچانک ہمارے گھوڑے ہماری پیٹھ کے پیچھے مڑ گئے۔پس ہم ٹھہر نہ سکے اور ہمارے گھوڑوں کی پیٹھیں ننگی ہوگئیں۔بدو اور جن کو ہم جانتے تھے بھاگ نکلے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی۔ اے مہاجرو!اے مہاجرو!پھر فرمایا اے انصار!اے انصار!حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ایک جماعت کی حدیث ہے۔فرماتے ہیں ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم حاضر ہیں پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!ہم وہاں تک پہنچے بھی نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست سے دوچار کردیا۔فرماتے ہیں ہم نے اس مال پر قبضہ کرلیا پھر ہم طائف کی طرف گئے اور چالیس راتیں ان کا محاصرہ کیے رکھا اس کے بعد مکہ مکرمہ کی طرف واپس آئے اور وہاں ٹھہرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آدمی کو ایک سو اونٹ دیتے تھے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٣٤٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٦؛حدیث نمبر٢٣٤١)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان بن حرب،صفوان بن امیہ،عیینہ بن حصن اور أقرع بن حابس میں سے ہر ایک کو سو، سو اونٹ عطاء فرمائے اور عباس بن مرداس کو سو سے کم دئے تو عباس بن مرداس نے یہ اشعار پڑھے۔ ترجمہ؛آپ میری لوٹ مار اور میرے گھوڑے عبید کی لوٹ مار کو عیینہ اور أقرع کے درمیان شمار کرتے ہیں حالانکہ بدر اور حابس کسی معرکہ میں مرداس سے بڑھ نہیں سکتے اور میں ان دونوں سے کسی طرح کم نہیں ہوں اور آج جس کی بات پست ہوگئی پھر وہ بلند نہیں ہوگی۔ حضرت رافع فرماتے ہیں پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بھی سو اونٹ مکمل کردئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٧؛حدیث نمبر٢٣٤٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے حنین کے مال غنیمت تقسیم کئے تو حضرت ابوسفیان بن حرب کو ایک سو اونٹ دئے۔اس کے بعد حسب سابق ہے اور اس میں ہے کہ علقمہ بن علاثہ کو ایک سواونٹ دئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٨؛حدیث نمبر٢٣٤٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٤٢ کی مثل مروی ہے اس میں علقمہ بن علاثہ اور صفوان بن امیہ کا ذکر نہیں اور ان کی روایت میں اشعار کا ذکر بھی نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٨؛حدیث نمبر٢٣٤٤)
حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حنین کو فتح کیا تو مال غنیمت تقسیم کیا۔آپ نے ان لوگوں کو جن کے دلوں کی تالیف(نرمی)مطلوب تھی،زیادہ دیا پس آپ کو یہ بات پہنچی کہ انصار چاہتے ہیں ان کو بھی دوسرے لوگوں کے برابر دیا جائے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی پھر فرمایا اے انصار کی جماعت!کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پس اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعے ہدایت دی اور تم فقراء تھے تو اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے مالدار کردیا تم متفرق تھے تو میرے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہیں جمع کردیا۔ اور انصار اس کے ساتھ ساتھ کہ رہے تھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ احسان کرنے والے ہیں آپ نے فرمایا تم مجھے جواب کیوں نہیں دیتے تو انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر بہت احسان کیا۔آپ نے فرمایا سنو!اگر تم چاہتے تو کہتے اس طرح ہو اس طرح ہو،اور واقع اس طرح ہوا،آپ نے چند باتیں شروع کیں راوی کا خیال ہے کہ ان کو یاد نہیں،آپ نے فرمایا کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں لے جاؤ۔ آپ نے فرمایا انصار استر ہیں اور باقی لوگ اوپر والا کپڑا ہیں اور اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا عنقریب تم میرے بعد ترجیحات دیکھو گے۔توصبر کرنا حتیٰ کہ تم مجھ سے حوض پر ملاقات کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٨؛حدیث نمبر٢٣٤٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب غزوۂ حنین کا دن ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم میں بعض لوگوں کو ترجیح دی پس آپ نے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ دئے،عیینہ کو بھی اس کی مثل عطاء فرمایا اور عرب کے کچھ سرداروں کو بھی اسی طرح دیا اور اس دن ان لوگوں کو تقسیم میں ترجیح دی۔ تو ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا گیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا۔وہ فرماتے ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم!میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ضرور بتاؤں گا۔فرماتے ہیں پس میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ بات بتائی تو اس سے آپ کے چہرہ انور کا رنگ تبدیل ہوگیا حتیٰ کہ خون کی مثل ہوگیا۔پھر آپ نے فرمایا اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو کون انصاف کرے گا۔اس کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ان کو اس سے زیادہ اذیت دی گئی پس انہوں نے صبر کیا۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے(دل میں)کہا اس کے بعد میں آپ کو ایسی بات نہیں بتاؤں گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٩؛حدیث نمبر٢٣٤٦)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال تقسیم کیا تو ایک شخص نے کہا اس تقسیم میں اللہ تعالیٰ کے رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور چپکے سے یہ بات بتادی اس پر آپ کو سخت غصہ آیا ہے۔آپ کا چہرہ انور سرخ ہوگیا حتیٰ کہ میں نے(دل میں)تمنا کی کہ میں یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر نہ کرتا پھر آپ نے فرمایا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس سے زیادہ اذیت پہنچائی گئی لیکن آپ نے صبر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ؛جلد٢ص٧٣٩؛حدیث نمبر٢٣٤٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص جعرانہ مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ حنین سے واپس لوٹ رہے تھے۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چاندی تھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے لے لے کر لوگوں کو عطاء فرما رہے تھے تو اس نے کہا اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)انصاف کیجیے۔آپ نے فرمایا تمہارے لیے ہلاکت ہواگر میں انصاف نہیں کروں گا تو کون انصاف کرے گا؟اگر میں عدل نہ کرتا تو تو نامراد ہوتا اور خسارہ پاتا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کو قتل کردوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاذاللہ!لوگ باتیں کریں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں یہ(شخص)اور اس کے ساتھی قرآن پاک پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترتا یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے سے نکل جاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛ترجمہ؛خوارج اور ان کی علامتوں کا بیان؛جلد٢ص٧٤٠؛حدیث نمبر٢٣٤٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٤٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤٠؛حدیث نمبر٢٣٤٩)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے تو انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سونا بھیجا جس میں کچھ مٹی بھی تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کردیا۔أقرع بن حابس حنظل،عیینہ بن بدر فزاری،علقمہ بن علاثہ العامري اور بنو کلاب کے ایک شخص پھر زید خیر الطائی کو پھر بنی نبہان میں سے ایک شخص کو عطاء کیا۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس پر قریش کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان کو اس لیے دیا کہ ان کی تالیف قلب کروں۔پھر ایک شخص آیا جس کی داڑھی گھنی تھی۔رخسار ابھرے ہوئے تھے آنکھیں دھنسی ہوئی تھی،پیشانی اونچی تھی اور سر منڈا ہوا تھا،اس نے کہا اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ تعالیٰ سے ڈریں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اللہ کی فرمانبرداری نہیں کروں گا تو کون کرے گا۔اللہ تعالی مجھے زمین والوں پر امین بناتا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے۔ راوی فرماتے ہیں پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو قوم میں سے ایک شخص نے اسے قتل کرنے کی اجازت طلب کی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی نسل سے ایسی قوم پیدا ہوگی جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے سے نکل جاتا ہے اگر میں ان کو پالیتا تو قوم ثمود کی طرح ان کو قتل کردیتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤١؛حدیث نمبر٢٣٥٠)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رنگے ہوئے چمڑے میں سونا بھیجا جس سے مٹی الگ نہیں کی گئی تھی۔فرماتے ہیں آپ نے اسے چار آدمیوں یعنی عیینہ بن بدر،أقرع بن حابس،زید خیل اور چوتھے علقمہ بن علاثہ کے درمیان تقسیم کردیا۔یا عامر بن طفیل چوتھے تھے۔تو آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا ان لوگوں کی نسبت ہم زیادہ حق دار تھے۔ فرماتے ہیں یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو فرمایا کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے میں تو اس کا امین ہوں جو آسمانوں میں ہے میرے پاس صبح وشام آسمان کی خبر آتی ہے۔ راوی فرماتے ہیں ایک شخص اٹھا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں۔رخسار اٹھے ہوئے تھے اور پیشانی ابھری ہوئی تھی،داڑھی گھنی تھی،سرمنڈا ہواتھا اور تہبند پنڈلیوں سے اوپر تھا اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اللہ تعالیٰ سے ڈریں آپ نے فرمایا تیرے لیے ہلاکت ہو کیا میں زمین والوں میں سے سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حقدار نہیں ہوں۔ پھر وہ شخص پیٹھ پھیر گیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اس کی گردن نہ ماردوں آپ نے فرمایا نہیں شاید وہ نمازی ہو۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کتنے ہی نمازی ہیں کہ وہ جو کچھ زبان سے کہتے ہیں ان کے دل میں نہیں ہوتا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بات کا مکلف نہیں بنایا گیا کہ میں لوگوں کے دل پھاڑ کر دیکھوں اور نہ یہ کہ ان کے پیٹ چیردوں پھر دیکھا تو وہ شخص جارہا تھا۔آپ نے فرمایا اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اچھی طرح پڑھیں گے لیکن ان کے گلوں سے نہ نیچے اترے گی وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے سے نکل جاتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایا اگر میں ان کو پالیتا تو قوم ثمود کی طرح ان کو قتل کردیتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤٢؛حدیث نمبر٢٣٥١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں علقمہ بن علاثہ کا ذکر ہے عامر بن طفیل کا ذکر نہیں کیا اور فرمایا ابھری ہوئی پیشانی والا،اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا میں اس کی گردن نہ مار دوں آپ نے فرمایا نہیں پھر وہ شخص چلا گیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کی طرف اٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا میں اس کو ہلاک نہ کردوں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اس کی نسل سے ایک قوم پیدا ہوگی جو قرآن مجید بہت اچھی طرح پڑھیں گے اور عمارہ کہتے ہیں آپ نے فرمایا اگر میں ان کو پالیتا تو قوم ثمود کی طرح ان کو قتل کردیتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤٣؛حدیث نمبر٢٣٥٢)
ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت آئی ہے اس میں ہے کہ آپ نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کردیا۔یعنی زیدخیل،اقرع بن حابس،عیینہ بن حصن،علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل کو عطاء فرمایا اور فرمایا وہ اٹھی ہوئی پیشانی والا ہوگا۔(ایک روایت میں ناشر کا لفظ ہے اور یہاں بھی اسی طرح ہے اور دوسری میں ناتی کا لفظ ہے دونوں کا معنیٰ ایک ہے)آپ نے فرمایا عنقریب اس کی نسل سے ایک قوم ظاہر ہوگی یہ نہیں فرمایا کہ اگر میں ان کو پالیتا تو ان کو قتل کردیتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤٣؛حدیث نمبر٢٣٥٣)
حضرت ابوسلمہ اور حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ دونوں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے حروریہ کے بارے میں پوچھا کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ذکر سنا ہے؟انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں حروریہ کون ہے لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے کہ اس امت میں ایک جماعت نکلے گی یہ نہیں فرمایا کہ اس امت میں ایک جماعت ہوگی کہ تم ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو کم سمجھو گے وہ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کی حلقوم یا گلوں سے نیچے نہیں جائے گا۔وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔پس شکاری اپنے تیر اس کے پھل،اس کے اوپر اور اس کے آخری کنارے کو دیکھتا ہے کہ اس میں خون لگا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤٣؛حدیث نمبر٢٣٥٤)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے فرماتے ہیں اس دوران کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ آپ کے پاس ذوالخویصرہ آیا اور وہ بنو تمیم کا ایک شخص تھا اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!انصاف کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لیے ہلاکت ہو اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو کون کرے گا،اگر میں انصاف نہ کرتا تو تم ناکام اور نامراد ہوجاتے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن ماردوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو اس کے کچھ ساتھی ہیں کہ تم میں سے ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نماز کو اور ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو معمولی سمجھو گے وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ اس کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے۔جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے(شکاری)اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو اس میں کچھ(خون)نہیں پاتا پھر پھل کی جڑ کو دیکھتا ہے تو اس میں کچھ نہیں پاتا پھر اس کے پر کو دیکھتا ہے تو اس میں کچھ نہیں پاتا حالانکہ تیر،شکار کی پیٹ اور خون سے نکلتا ہے ان لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ وہ شخص سیاہ رنگ کا ہوگا،اور اس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح ہوگا یا جس طرح ہلتا ہوا گوشت کا لوتھڑا ہو وہ اس وقت ظاہر ہوں گے جب لوگوں میں تفرقہ ہوگا۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑائی کی اور میں ان کے ساتھ تھا۔انہوں نے اس شخص کو تلاش کرنے کا حکم دیا وہ پایا گیا تو اسے لایا گیا حتیٰ کہ میں نے اسے انہی صفات پر پایا جن کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤٣؛حدیث نمبر٢٣٥٥)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کا ذکر فرمایا جو آپ کی امت میں ہوگی وہ لوگ،لوگوں کے تفرقہ کے موقع پر ظاہر ہوں گے ان کی نشانی سر منڈانا ہے آپ نے فرمایا وہ لوگ مخلوق میں سے بدترین لوگ ہوں گے اور ان کو وہ لوگ قتل کریں گے جو حق کے زیادہ قریب ہوں گے۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے مثال پیش کی یا ایک بات فرمائی کہ ایک شخص کسی شکار یا نشانہ پر تیر مارتا ہے تو وہ اس کے پر کو دیکھتا ہے تو اس میں کچھ خون نہیں دیکھتا پھر وہ تیر کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو اس میں بھی خون نظر نہیں آتا۔حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اہل عراق تم ان لوگوں کو قتل کروگے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤٥؛حدیث نمبر٢٣٥٦)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں تفریق کے وقت ایک فرقہ جدا ہوجائے گا اور اسے وہ جماعت قتل کرے گی جو حق کے زیادہ قریب ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤٥؛حدیث نمبر٢٣٥٧)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں دو جماعتیں ہو جائے گی اور ان میں ایک فرقہ پیدا ہوگا جسے وہ جماعت قتل کرے گی جو حق کے زیادہ قریب ہوگی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤٦؛حدیث نمبر٢٣٥٨)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں تفرقہ کے وقت ایک فرقہ پیدا ہوگا جسے دو گروہوں میں سے وہ گروہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤٦؛حدیث نمبر٢٣٥٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث میں ذکر کرتے ہیں کہ لوگوں میں تفرقہ کے وقت ایک گروہ نکلے گا جسے دو جماعتوں میں سے ایک جماعت قتل کرے گی جو حق کے زیادہ قریب ہوگی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ ذِكْرِ الْخَوَارِجِ وَصِفَاتِهِمْ؛جلد٢ص٧٤٦؛حدیث نمبر٢٣٦٠)
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا جب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہوۓ کوئی بات تم سے بیان کروں تو آسمان سے گر پڑنا میرے لئے اس بات سے بہتر ہے کہ میں آپ کی طرف وہ بات منسوب کروں جو آپ نے نہیں فرمائی اور جب میں اپنی اور تمہاری بات بیان کروں تو لڑائی ایک چال ہے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا عنقریب آخری زمانے میں ایک قوم ظاہر ہوگی جو کم عمر اور کم عقل لوگ ہوں گے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کریں گے قرآن مجید پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے پس جب تم ان سے ملاقات کرو تو ان کو قتل کردو کیونکہ جو ان کو قتل کرے گا۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر پائے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قَتْلِ الْخَوَارِجِ؛جلد٢ص٧٤٦؛حدیث نمبر٢٣٦١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٦١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ التحریض علی قتل الخوارج؛جلد٢ص٧٤٧؛حدیث نمبر٢٣٦٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٦١ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہے کہ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ التحریض علی قتل الخوارج؛جلد٢ص٧٤٧؛حدیث نمبر٢٣٦٣)
حضرت عبیدہ بیان کرتے ہیں وہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے خارجیوں کا ذکر کیا تو فرمایا ان میں ایک شخص ہوگا جس کا ہاتھ ناقص ہوگا یا فرمایا اس کا ہاتھ چھوٹا ہوگا اگر تم فخر نہ کرو تو میں تم سے بیان کروں کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے کیا وعدہ فرمایا جو اسے قتل کریں گے۔راوی فرماتے ہیں میں نے پوچھا آپ نے خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں!رب کعبہ کی قسم،رب کعبہ کی قسم۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ التحریض علی قتل الخوارج؛جلد٢ص٧٤٧؛حدیث نمبر٢٣٦٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٦٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ التحریض علی قتل الخوارج؛جلد٢ص٧٤٨؛حدیث نمبر٢٣٦٥)
حضرت زید بن وھب جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ اس لشکر میں تھے جو حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا(وہ فرماتے ہیں)یہ لوگ خوارج کی طرف چلے تو حضرت علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا اے لوگو!میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں ایک جماعت نکلے گی جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کی قرآت کے مقابلے میں تمہارے پڑھنے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی اور نہ ہی ان کی نماز کے مقابلے میں تمہاری نماز کی اور نہ ہی ان کے روزوں کے مقابلے میں تمہارے روزوں کی کوئی حیثیت ہوگی۔وہ قرآن پڑھ کر یہ خیال کریں گے کہ وہ ان کے لیے مفید ہے حالانکہ وہ ان کے لئے نقصان دہ ہوگا ان کی نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گی وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔جو لشکر ان کی سرکوبی کے لئے جاے گا اسے معلوم ہوتا کہ ان کے لئے ان کے نبی کی زبان پر کیا وعدہ کیا گیا ہے تو وہ باقی کام چھوڑ کر اس مقصد کے لئے جاے ان لوگوں کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک شخص ہوگا شاید آپ نے فرمایا کہ اس کے شانے کے ساتھ بازو نہیں ہوگا اس کے شانے کی ہڈی کے کنارے پر پستان کے سرے کی طرح ہوگا اور اس پر چند سفید بال ہوں گے تم لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کی طرف جاتے ہو اور ان لوگوں کو اپنے پیچھے اپنی اولاد اور مالوں میں چھوڑ جاتے ہو اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے حرام خون بہایا اور لوگوں کی چراگاہوں کو لوٹ لیا پس اللہ کے نام پر جاؤ۔ حضرت سلمہ بن کُہیل فرماتے ہیں مجھ سے زید بن وہب نے ایک ایک منزل کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ جب ہم ایک پل سے گزرے اور ان سے جاکر ملے اور ان دنوں خوارج پرعبد اللہ بن وہب راسی سپہ سالار تھا۔اس نے حکم دیا کہ اپنے نیزے پھینک دو اور تلواریں میان سے نکال دو مجھے ڈر ہے کہ یہ تم پر اس طرح حملہ کریں گے جس طرح حروراء کے دن حملہ کیا چنانچہ وہ پھرے اور انہوں نے اپنے نیزے پھینک کر تلواریں نکال لی اور لوگوں نے ان پر نیزوں سے حملہ کیا فرماتے ہیں اور ان میں سےبعض قتل ہوکر بعض پر گرنا شروع کردیا اس دن حضرت علی کرم اللہ وجہ کے لشکر سے صرف دو آدمی شہید ہوے آپ نے فرمایا ان میں سے اس ناقص آدمی کو تلاش کرو انہوں نے تلاش کیا لیکن نہ پایا تو حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ خود اٹھ بیٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جہاں ان کی لاشیں ایک دوسرے پر پڑی ہوئی تھیں۔آپ نے فرمایا ان لاشوں کو پیچھے کرو پس اسے زمین سے لگا ہوا پایا تو آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے(ہم تک)پہنچایا عبید سلمانی کھڑے ہوئے تو کہا اے امیرالمومنین!اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا آپ نے یہ حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے آپ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم!جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس نے آپ سے تین مرتبہ قسم لی اور آپ نے قسم اٹھائی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قَتْلِ الْخَوَارِجِ؛جلد٢ص٧٤٨؛حدیث نمبر٢٣٦٦)
حضرت عبیداللہ بن ابی رافع(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام)سے مروی ہے کہ جب حروریہ کا ظہور ہوا تو وہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے ان لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حاکم نہیں۔حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بات حق ہے لیکن اس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کی نشانیاں بیان فرمائیں میں بخوبی ان کا علم رکھتا ہوں وہ لوگ زبان سے حق بات کہتے ہیں آپ نے حلق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ اس سے تجاوز نہیں کرتا اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے قابل نفرت ہیں ان میں سے ایک شخص کالے رنگ کا ہے اس کا ایک ہاتھ بکری کے تھن یا پستان کے کنارے کی طرح ہے جب ان کو حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تو فرمایا دیکھو تو انہوں نے دیکھا تو اسے نہ پایا تو آپ نے فرمایا دوبارہ دیکھو اللہ کی قسم نہ میں نے جھوٹ کہا اور نہ ہی مجھ سے جھوٹ کہا گیا آپ نے یہ بات دو یا تین بار فرمائی۔پھر ان لوگوں نے اسے ایک کھنڈر میں تلاش کیا اور اسے لے کر آئے۔حتیٰ کہ آپ کے سامنے رکھ دیا۔ عبیداللہ فرماتے ہیں میں اس موقعہ پر وہاں موجود تھا۔یونس نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ بکیر نے کہا اور مجھ سے ایک شخص نے ابن حنین سے روایت کرتےہوۓ بیان کیا کہ میں نے اس سیاہ فام شخص کو دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قَتْلِ الْخَوَارِجِ؛جلد٢ص٧٤٩؛حدیث نمبر٢٣٦٧)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد میری امت میں ایک ایسی قوم ظاہر ہوگی جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر وہ اس(دین)میں نہیں لوٹیں گے۔یہ لوگ مخلوق خدا میں سے بدترین لوگ ہوں گے۔ ابن صامت کہتے ہیں میں نے رافع بن عمرو غفاری یعنی حکم کے بھائی سے ملاقات کی تو میں نے کہا میں نے جو حدیث حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے وہ اس طرح ہے پھر میں نے ان سے وہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا میں نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْخَوَارِجُ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ؛جلد٢ص٧٥٠؛حدیث نمبر٢٣٦٨)
حضرت یُسیر بن عمرو فرماتے ہیں میں نے حضرت سہل بن حنیف سے پوچھا کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خوارج کا تذکرہ سنا ہے انہوں نے فرمایا ہاں سنا ہے۔اور انہوں نے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا(یہاں سے)ایسی قوم ظاہر ہوگی جو زبانوں سے قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْخَوَارِجُ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ؛جلد٢ص٧٥٠؛حدیث نمبر٢٣٦٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٦٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْخَوَارِجُ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ؛جلد٢ص٧٥٠؛حدیث نمبر٢٣٧٠)
حضرت سہل بن حنیف سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مشرق کی طرف سے ایک قوم نکلے گی جن کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔(خارجیوں کی نشانی بتائی گئی ان کا نعرہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا حکم نہیں(لاحکم الا اللہ)آج بھی خارجی مختلف ناموں سے مثلاً نجدی وغیرہ یہی نشانیاں رکھتے ہیں اور یہی نعرہ بلند کرتے ہیں اور اس نعرے کی آڑ میں انبیاء کرام علیہم السلام،اولیاء عظام علیہم الرحمہ کی توہین کرتے ہیں۔١٢ہزاروی)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الْخَوَارِجُ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ؛جلد٢ص٧٥٠؛حدیث نمبر٢٣٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے صدقہ(زکوٰۃ)کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر منہ میں ڈالی تو آپ نے فرمایا تھوتھو! اسے پھینک دو کیا تمہیں معلوم نہیں ہم صدقہ نہیں کھاتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الزَّكَاةِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ؛ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر زکوٰۃ حرام ہے اور یہ(آل)بنو ہاشم،بنو مطلب ان کے علاوہ لوگ نہیں؛جلد٢ص٧٥١؛حدیث نمبر٢٣٧٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٧٢ کی مثل مروی ہے اس میں ہے کہ ہمارے لئے مالِ صدقہ حلال نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الزَّكَاةِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ؛جلد٢ص٧٥١؛حدیث نمبر٢٣٧٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٧٢ کی مثل مروی ہےاس میں ہے کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الزَّكَاةِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ؛جلد٢ص٧٥١؛حدیث نمبر٢٣٧٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا میں اپنے گھر والوں کی طرف جاتا ہوں تو وہاں اپنے بستر پر کوئی کھجور پڑی ہوئی دیکھتا ہوں پھر اسے کھانے کے لئے اٹھاتا ہوں تو اس خدشہ سے پھینک دیتا ہوں کہ کہیں صدقہ کی نہ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الزَّكَاةِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ؛جلد٢ص٧٥١؛حدیث نمبر٢٣٧٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور پائی تو فرمایا اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھالیتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الزَّكَاةِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ؛جلد٢ص٧٥١؛حدیث نمبر٢٣٧٦،
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں ایک کھجور سے گزرے تو فرمایا اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الزَّكَاةِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ؛جلد٢ص٧٥٢؛حدیث نمبر٢٣٧٧،
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور پائی تو فرمایا اگر صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھالیتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الزَّكَاةِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ دُونَ غَيْرِهِمْ؛جلد٢ص٧٥٢؛حدیث نمبر٢٣٧٨،
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث نے بیان کیا کہ حضرت ربیعہ بن حارث اور حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما نے کہا میرے بارے میں اور حضرت فضیل بن عباس کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم!اگر ہم ان دو لڑکوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیں اور یہ آپ کی خدمت میں عرض کریں کہ آپ ان کو صدقات کی وصولی پر عامل مقرر کردیں اور یہ دوسرے لوگوں کی طرح صدقات لاکر دیں اوران کو بھی وہ کچھ مل جائے جو دوسروں کو ملتا ہے۔اسی دوران حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ان دونوں کے پاس ٹھہر گئے ان دونوں نے ان سے ذکر کیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا ایسا نہ کرنا اللہ کی قسم حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرنے والے نہیں ہیں۔ اس پر ربیعہ بن حارث ان کو برا بھلا کہنے لگے اور کہا اللہ کی قسم تم ہم پر حسد کی وجہ سے ایسا کہ رہے ہو تمہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا داماد ہونے کا شرف حاصل ہے اور اس بنا پر تم ہم سے حسد کرتے ہو۔حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا ان دونوں کو بھیج دو۔وہ دونوں چلے گئے اور خود حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ لیٹ گئے۔ فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا فرمائی تو ہم دونوں آپ سے پہلے حجرے میں جاپہنچے اور آپ کے تشریف لانے تک کھڑے رہے۔حتیٰ کہ آپ تشریف لائے تو ہم دونوں کے کان پکڑے اور فرمایا جو کچھ تمہارے دل میں ہے بتاؤ پھر آپ اندر تشریف لے گئے اور ہم بھی حجرے میں داخل ہوئے اس دن آپ حضرت زینب بنت حجش کے یہاں تھے۔فرماتے ہیں ہم نے ایک دوسرے سے بات کی پھر ہم سے ایک نے گفتگو کی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ لوگوں میں سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے والے ہیں اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ہم نکاح کے قابل ہوچکے ہیں اور آپ کے پاس حاضر ہوتے ہیں کہ آپ ہمیں بعض صدقات پر مقرر فرمائیں ہم آپ تک پہنچائیں جس طرح لوگ پہنچاتے ہیں اور ہمیں بھی اس میں حصہ ملے جس طرح دوسروں کو ملتا ہے۔ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے آپ سے گفتگو کا ارادہ کیا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ہمیں پردے کے پیچھے سے بات نہ کرنے کا اشارہ کر رہی تھیں۔فرماتے ہیں پھر آپ نے فرمایا ال محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کے لئے صدقہ مناسب نہیں یہ لوگوں کی میل ہے۔محمیہ جو خمس مال پر معمور تھے کو اور نوفل بن حارث بن عبد المطلب کو میرے پاس بلاؤ فرماتے ہیں وہ دونوں آپ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے محمیۃ سے فرمایا اس لڑکے یعنی فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے اپنی بیٹی کا نکاح کردو تو انہوں نے اپنی لڑکی کا ان سے نکاح کردیا۔اور نوفل بن حارث سے فرمایا اس لڑکے سے اپنی لڑکی کا نکاح کردو تو انہوں نے اس سے میرا نکاح کردیا۔ پھر حضرت مخمیہ سے فرمایا ان دونوں کی طرف سے(خمس میں سے)اتنا اتنا مہر ادا کردو۔حضرت زہری فرماتے ہیں راوی نے مجھ سے مہر کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَرْكِ اسْتِعْمَالِ آلِ النَّبِيِّ عَلَى الصَّدَقَةِ؛جلد٢ص٧٥٢؛٧٥٣؛حدیث نمبر ٢٣٧٩)
حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث بن مطلب نے خبر دی کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبد المطلب دونوں نے عبد المطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس(رضی اللہ عنہم)سے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔پھر حدیث نمبر ٢٣٨٠ کے مثل بیان کیا اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے چادر بچھائی اور اس پر لیٹ گئے اور فرمایا ابوالحسن ہوں اور امور کی معرفت رکھتا ہوں(سردار ہوں)اللہ کی قسم میں اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا حتیٰ کہ تمہارے بیٹے تمہارے پاس اس بات کا جواب لے کر نہ آئیں جس مقصد کے لئے تم نے ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضور علیہ السلام نے ہم سے فرمایا یہ(صدقہ)لوگوں کی میل ہے اور یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں اور یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا محمیہ بن جزء کو میرے پاس بلاؤ اور وہ بنو اسد قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خمس وصول کرنے پر مقرر کیا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ تَرْكِ اسْتِعْمَالِ آلِ النَّبِيِّ عَلَى الصَّدَقَةِ؛جلد٢ص٧٥٤؛حدیث نمبر٢٣٨٠)
حضرت عبید بن سباق بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کیا کھانا ہے؟انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس بکری کی ہڈی کے سوا میرے پاس کچھ نہیں جو میری لونڈی کو صدقہ کے طور پر دی گئی ہے آپ نے فرمایا اسے میرے پاس لے آؤ کیونکہ صدقہ اپنی جگہ پہنچ چکا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ إِبَاحَةِ الْهَدِيَّةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَإِنْ كَانَ الْمُهْدِي مَلَكَهَا بِطَرِيقِ الصَّدَقَةِ، وَبَيَانِ أَنَّ الصَّدَقَةَ، إِذَا قَبَضَهَا الْمُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ زَالَ عَنْهَا وَصْفُ الصَّدَقَةِ وَحَلَّتْ لِكُلِّ أَحَدٍ مِمَّنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،بنو ہاشم اور بنو مطلب کے لیے ہدیہ کے جواز کا بیان اگرچہ ہدیہ دینے والا صدقہ کے طریقہ پردے اور اس بات کا بیان کہ جب وہ شخص صدقہ پر قبضہ کر لے جسے صدقہ دیا گیا تو صدقہ کا وصف دور ہوجاتا ہے اور یہ چیز ان لوگوں کے لیے حلال ہوجاتی ہے جن پر صدقہ حرام ہے؛جلد٢ص٧٥٤؛حدیث نمبر٢٣٨١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٨٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْهَدِيَّةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَإِنْ كَانَ الْمُهْدِي مَلَكَهَا بِطَرِيقِ الصَّدَقَةِ، وَبَيَانِ أَنَّ الصَّدَقَةَ، إِذَا قَبَضَهَا الْمُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ زَالَ عَنْهَا وَصْفُ الصَّدَقَةِ وَحَلَّتْ لِكُلِّ أَحَدٍ مِمَّنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧٥٥؛حدیث نمبر٢٣٨٢)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کو کچھ گوشت صدقہ دیا گیا انہوں نے وہ گوشت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا آپ نے فرمایا یہ ان کے لیے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْهَدِيَّةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَإِنْ كَانَ الْمُهْدِي مَلَكَهَا بِطَرِيقِ الصَّدَقَةِ، وَبَيَانِ أَنَّ الصَّدَقَةَ، إِذَا قَبَضَهَا الْمُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ زَالَ عَنْهَا وَصْفُ الصَّدَقَةِ وَحَلَّتْ لِكُلِّ أَحَدٍ مِمَّنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧٥٥؛حدیث نمبر٢٣٨٣)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گاے کا گوشت پیش کیا گیا تو عرض کیا گیا یہ گوشت حضرت بریرہ کو صدقہ کے طور پر دیا گیا آپ نے فرمایا ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْهَدِيَّةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَإِنْ كَانَ الْمُهْدِي مَلَكَهَا بِطَرِيقِ الصَّدَقَةِ، وَبَيَانِ أَنَّ الصَّدَقَةَ، إِذَا قَبَضَهَا الْمُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ زَالَ عَنْهَا وَصْفُ الصَّدَقَةِ وَحَلَّتْ لِكُلِّ أَحَدٍ مِمَّنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧٥٥؛حدیث نمبر٢٣٨٤
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ میں تین باتیں تھیں لوگ ان کو صدقہ دیتے تھے اور وہ ہمیں ہدیہ دیتیں میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا یہ اس پر صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے پس اسے کھاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْهَدِيَّةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَإِنْ كَانَ الْمُهْدِي مَلَكَهَا بِطَرِيقِ الصَّدَقَةِ، وَبَيَانِ أَنَّ الصَّدَقَةَ، إِذَا قَبَضَهَا الْمُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ زَالَ عَنْهَا وَصْفُ الصَّدَقَةِ وَحَلَّتْ لِكُلِّ أَحَدٍ مِمَّنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧٥٥؛حدیث نمبر٢٣٨٥
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٨٦ کی مثل حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْهَدِيَّةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَإِنْ كَانَ الْمُهْدِي مَلَكَهَا بِطَرِيقِ الصَّدَقَةِ، وَبَيَانِ أَنَّ الصَّدَقَةَ، إِذَا قَبَضَهَا الْمُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ زَالَ عَنْهَا وَصْفُ الصَّدَقَةِ وَحَلَّتْ لِكُلِّ أَحَدٍ مِمَّنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧٥٥؛حدیث نمبر٢٣٨٦
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٢٣٨٦ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ وہ اس کی طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْهَدِيَّةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَإِنْ كَانَ الْمُهْدِي مَلَكَهَا بِطَرِيقِ الصَّدَقَةِ، وَبَيَانِ أَنَّ الصَّدَقَةَ، إِذَا قَبَضَهَا الْمُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ زَالَ عَنْهَا وَصْفُ الصَّدَقَةِ وَحَلَّتْ لِكُلِّ أَحَدٍ مِمَّنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧٥٦؛حدیث نمبر٢٣٨٧
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس صدقہ کی بکری بھیجی تو میں نے اس میں سے کچھ گوشت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو پوچھا تم لوگوں کے پاس کچھ ہے؟انہوں نے عرض کیا نہیں البتہ نُسیبہ(ام عطیہ)نے اس بکری میں سے کچھ بھیجا ہے جو آپ نے ان کے پاس بھیجی تھی۔آپ نے فرمایا وہ اپنے مقام تک پہنچ گئی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ إِبَاحَةِ الْهَدِيَّةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَإِنْ كَانَ الْمُهْدِي مَلَكَهَا بِطَرِيقِ الصَّدَقَةِ، وَبَيَانِ أَنَّ الصَّدَقَةَ، إِذَا قَبَضَهَا الْمُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ زَالَ عَنْهَا وَصْفُ الصَّدَقَةِ وَحَلَّتْ لِكُلِّ أَحَدٍ مِمَّنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ مُحَرَّمَةً عَلَيْهِ؛جلد٢ص٧٥٦؛حدیث نمبر٢٣٨٨
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی کھانا لایا جاتا تو اس کے بارے میں پوچھتے اگر کہا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو اس سے تناول فرماتے اور اگر کہا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو اس سے تناول نہ فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ قَبُولِ النَّبِيِّ الْهَدِيَّةَ وَرَدِّهِ الصَّدَقَةَ؛ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ کا قبول فرمانا اور صدقہ کا لوٹا دینا؛جلد٢ص٧٥٦؛حدیث نمبر٢٣٨٩
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی قوم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ لے کر آتی تو آپ فرماتے یااللہ ان پر صلاۃ(رحمت)نازل فرما جب میرے والد حضرت ابو اوفی رضی اللہ عنہ صدقہ لے کر آئے تو آپ نے دعا فرمائی اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر رحمت نازل فرما۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الدُّعَاءِ لِمَنْ أَتَى بِصَدَقَتِهِ؛ترجمہ؛صدقہ لانے والے کو دعا دینا؛جلد٢ص٧٥٦؛حدیث نمبر٢٣٩٠
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٩١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛بَابُ الدُّعَاءِ لِمَنْ أَتَى بِصَدَقَتِهِ؛جلد٢ص٧٥٧؛حدیث نمبر٢٣٩١
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہارےپاس صدقہ وصول کرنے والا آے تو اسے تمہارے پاس سے راضی ہوکر جانا چاہئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الزَّكَاةِ؛ بَابُ إِرْضَاءِ السَّاعِي مَا لَمْ يَطْلُبْ حَرَامًا؛ترجمہ؛زکوٰۃ وصول کرنے والے کو راضی رکھنا جب تک حرام کا مطالبہ نہ کرے؛جلد٢ص٧٥٧؛حدیث نمبر٢٣٩٢
Muslim Shareef : Kitabuz Zakat
|
Muslim Shareef : - كِتَاب الزَّكَاةِ
|
•