
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیطان کو بیڑیاں پہنا دی جاتیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ؛ترجمہ؛فضائل ماہ رمضان؛جلد٢ص٧٥٨؛حدیث نمبر٢٣٩٣
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان(کا مہینہ آتا ہے)تو رحمت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیریں دی جاتی ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ؛جلد٢ص٧٥٨؛حدیث نمبر٢٣٩٤
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا ہے آگے حدیث نمبر ٢٣٩٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ؛جلد٢ص٧٥٨؛حدیث نمبر٢٣٩٥
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھو روزہ رکھنا نہ چھوڑو اگر تم پر بادل ہوجائیں تو گنتی کر لو۔(تیس دن پورے کرلو)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛ترجمہ؛چاند دیکھ کر روزہ رکھنا واجب ہو جاتا ہے اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑنا(جائز ہوجاتا ہے)اور جب شروع یا آخر میں چاند بادلوں میں چھپ جائے تو مہینے کے تیس دن پورے کیے جائیں؛جلد٢ص٧٥٩؛حدیث نمبر٢٣٩٦
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مہینہ اس طرح ہے اس طرح ہے پھر تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کیا(دو مرتبہ دس دس اور تیسری مرتبہ نو کا اشارہ دیا)فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو اگر تم پر بادل ہوجائیں تو تیس دن پورے کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٥٩؛حدیث نمبر٢٣٩٧
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٣٩٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٥٩؛حدیث نمبر٢٣٩٨
حضرت عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کا ذکر کیا تو فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اور ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا اس طرح،اس طرح اور اس طرح،اور فرمایا اس کی مدت کو پورا کرو لیکن آپ نے تیس کا لفظ نہیں فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٥٩؛حدیث نمبر٢٣٩٩
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے پس روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ چھوڑو اور جب مطلع ابرآلود ہو تو مدت پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٥٩؛حدیث نمبر٢٤٠٠
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے پس جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو روزہ رکھنا چھوڑ دو۔اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو مدت پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٠؛حدیث نمبر٢٤٠١
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب(عید کا)چاند دیکھو تو روزہ رکھنا چھوڑ دو اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو مدت پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٠؛حدیث نمبر٢٤٠٢
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ چھوڑو اور اگر بادل چھاے ہوں تو مدت پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٠؛حدیث نمبر٢٤٠٣
Muslim Shareef Kitabus Siyam Hadees No# 2404
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٠؛حدیث نمبر٢٤٠٥
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے دس دس کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مہینہ اس طرح اس طرح ہوتا ہے اور تیسری بار نو کا اشارہ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٠؛حدیث نمبر٢٤٠٦
حضرت جبالہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ اس طرح،اس طرح ہوتا ہے۔آپ نے دو مرتبہ ہاتھ کھول کر اشارہ کیا اور تیسری بار دائیں یابائیں ہاتھ کا انگوٹھا بند کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦١؛حدیث نمبر٢٤٠٧
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے حضرت شعبہ(راوی)نے تین مرتبہ ہاتھوں سے اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کرلیا اور حضرت عقبہ(راوی)فرماتے ہیں میرا خیال ہے فرمایا مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور انہوں نے تین بار اشارہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦١؛حدیث نمبر٢٤٠٨
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ہم اُمی لوگ ہیں۔نہ لکھتے ہیں اور نہ مہینے کا حساب کرتے ہیں۔مہینہ اس طرح،اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے پورے تیس دن کا(ہوتا ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦١؛حدیث نمبر٢٤٠٩۔ تشریح:لفظ ام اُمٌّ سے بنا،بمعنی اصل یا ماں اس میں اشارہ اہل عرب کی طرف ہے۔امی کے معنی ہیں ام القرے یعنی مکہ یا حجاز والا یا بے پڑھا ہوا شخص کہ جیسے ماں کے شکم سے پیدا ہو ویسے ہی رہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو امی کہا جاتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم امی لوگ ہیں یعنی ہم حجازی جماعت والے عموماً حساب کتاب نہیں کیا کرتے یا عام صحابہ بے پڑھے ہیں حساب نہیں لگاتے مگر قیامت تک سارے مسلمان انہیں بے پڑھوں کے تابع ہیں۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ امی کے معنی بے پڑھا ہے بے علم نہیں ﷲ تعالٰی نے صحابہ کرام کو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے ایسا عالم بنایا کہ جہان بھر کے علما ان کی شاگردی کریں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بایں معنی امی ہیں کہ پیدائشی عالم،عارف،معلم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔جو باتیں فلسفیوں سے حل نہ ہوئے اور نکتہ وروں سے کھل نہ سکےوہ راز اک امی لقبی نے سمجھا دیئے چند اشاروں میں اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ چاند میں حساب،جنتری،چاند کی رفتار کا قیاس،چاند کا چھوٹا بڑا ہونا،اٹھائیس تاریخ کو نظر نہ آنا وغیرہ کچھ بھی معتبر نہیں صرف رؤیت کا اعتبار ہے اگر انتیس کو رؤیت نہ ہو تو تیس دن پورے کرنا لازم ہیں۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج ٣،ص ١٩٧،باب رؤيۃ الہلال،حدیث نمبر ١٩٧ کی تشریح کے تحت)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور دوسری بار مہینے کا ذکر کرتے ہوئے تیس دن کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦١؛حدیث نمبر٢٤١٠
حضرت سعد بن عبیدہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے سنا جو کہ رہا تھا کہ آج رات مہینہ نصف ہوگیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ آج رات مہینہ نصف ہوگیا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مہینہ ایسا ایسا ہوتا ہے۔آپ نے دس انگلیوں کا دوبار اشارہ دیا اور تیسری بار بھی اسی طرح انگلیوں سے اشارہ کیا۔آپ نے تمام انگلیوں سے اشارہ کیا اور انگوٹھے کو بند کردیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦١؛حدیث نمبر٢٤١١
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم چاند دیکھو تو روزہ چھوڑو اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو تیس دن روزہ رکھو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٢؛حدیث نمبر٢٤١٢
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو گنتی(تیس دن)پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٢؛حدیث نمبر٢٤١٣
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو اور اگر بادل چھاے ہوئے ہیں تو تیس دن پورے کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٢؛حدیث نمبر٢٤١٤
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم چاند دیکھو تو روزہ(رکھنا)چھوڑ دو اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو تیس دن شمار کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ، وَالْفِطْرِ الْهِلَالِ، وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا؛جلد٢ص٧٦٢؛حدیث نمبر٢٤١٥
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان شریف سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھو۔البتہ جو شخص پہلے سے روزہ رکھ رہا ہو وہ روزہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ؛جلد٢ص٧٦٢؛حدیث نمبر٢٤١٦
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤١٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ؛جلد٢ص٧٦٣؛حدیث نمبر٢٤١٧
حضرت زہری بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ آپ ایک مہینہ اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے۔حضرت زہری فرماتے ہیں مجھے حضرت عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں اور میں ان کو گن رہی تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے آغاز فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے جب کہ آپ انتیس دنوں کے بعد تشریف لائے اور میں گن رہی تھی آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛باب الشہر یکون تسعا وعشرين؛جلد٢ص٧٦٣؛حدیث نمبر٢٤١٨
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات سے علیحدہ رہے۔پھر انتیس دنوں کے بعد ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے عرض کیا آج انتیسواں دن ہے آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے آپ نے دونوں ہاتھ تین مرتبہ ہلاے اور آخری بار ایک انگلی بند کرلی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٣؛حدیث نمبر٢٤١٩
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج سے ایک ماہ الگ رہے۔انتیسویں دن کی صبح ہمارے پاس تشریف لائے تو بعض حضرات نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ انتیسویں دن کی صبح تشریف لائے؟آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو تین بار ہلایا اور تیسری بار نو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٣؛حدیث نمبر٢٤٢٠
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ آپ اپنی بعض ازواج(مطہرات)کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صبح یا شام کے وقت ان کے پاس تشریف لے گئے۔آپ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے نبی!صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک مہینے تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٤؛حدیث نمبر٢٤٢١
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٢١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٤؛حدیث نمبر٢٤٢٢
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا مہینہ اس طرح اس طرح بھی ہوتا ہے پھر تیسری مرتبہ ایک انگلی بند کرلی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٤؛حدیث نمبر٢٤٢٣
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا مہینہ اس طرح اس طرح ہوتا ہے،دس دس اور نو(یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٤؛حدیث نمبر٢٤٢٤
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٢٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؛جلد٢ص٧٦٤؛حدیث نمبر٢٤٢٥
حضرت کریب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام الفضل بنت حارث نے ان کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ملک شام میں بھیجا فرماتے ہیں شام میں آیا اور ان کا کام مکمل کیا تو وہاں رمضان کا چاند نظر آگیا اور ابھی میں شام ہی میں تھا پس میں نے جمعہ کی رات چاند دیکھا۔پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ طیبہ آیا تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا اور پھر چاند کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تم لوگوں نے چاند کب دیکھا ہے؟میں نے کہا ہم نے جمعہ کی رات دیکھا ہے فرمایا تم نے خود دیکھا ہے؟میں نے کہا جی ہاں اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا ہے اور روزہ رکھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔انہوں نے فرمایا لیکن ہم نے ہفتہ کی رات چاند دیکھا ہے پس ہم روزہ رکھیں گے حتیٰ کہ تیس دن پورے کریں یا چاند دیکھ لیں۔ حضرت کریب فرماتے ہیں میں نے کہا کیا آپ کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤيت(چاند دیکھنا)اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں؟فرمایا نہیں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ لِكُلِّ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ وَأَنَّهُمْ إِذَا رَأَوُا الْهِلَالَ بِبَلَدٍ لَا يَثْبُتُ حُكْمُهُ لِمَا بَعُدَ عَنْهُمْ؛ترجمہ؛ہر شہر کے لئے اسی جگہ کی رویت معتبر اور جب ایک شہر کے لوگ چاند دیکھیں تو جو لوگ ان سے دور ہیں ان کے لیے(چاند کا)حکم ثابت نہیں ہوتا؛جلد٢ص٧٦٥؛حدیث نمبر٢٤٢٦
حضرت ابوالبختری بیان کرتے ہیں کہ ہم عمرہ کے لئے نکلے جب ہم وادئ بطن نخلہ میں پہنچے تو ہم نے چاند دیکھنا شروع کر دیا۔بعض نے کہا یہ تیسری رات کا چاند ہے اور بعض نے کہا دو راتوں کا ہے۔فرماتے ہیں پھر ہماری ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو ہم نے کہا ہم نے چاند دیکھا ہے اور کچھ لوگ اسے تیسری رات کا اور بعض لوگ دوسری رات کا چاند بتاتے ہیں۔انہوں نے پوچھا تم نے اسے کس رات کا دیکھا ہے؟آپ نے عرض کیا فلاں رات دیکھا ہے انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اسے دیکھنے کے لیے بڑھایا وہ اسی رات کا ہے جس رات تم نے اسے دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ لَا اعْتِبَارَ بِكُبْرِ الْهِلَالِ وَصِغَرِهِ، وَأَنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ غُمَّ فَلْيُكْمَلْ ثَلَاثُونَ؛ترجمہ؛چاند کے چھوٹا بڑا ہونے کا اعتبار نہیں بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے دیکھنے کے لیے بڑا کیا پس اگر چاند چھپ جائے تو تیس دن مکمل کیے جائیں؛جلد٢ص٧٦٥؛حدیث نمبر٢٤٢٧
حضرت ابوالبختری کا بیان ہے فرماتے ہیں ہم نے ذات عرق(مقام)پر رمضان کا چاند دیکھا تو ہم نے ایک شخص کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے دیکھنے کے لیے بڑھایا ہے پس تم گنتی پوری کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ لَا اعْتِبَارَ بِكُبْرِ الْهِلَالِ وَصِغَرِهِ، وَأَنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ غُمَّ فَلْيُكْمَلْ ثَلَاثُونَ؛جلد٢ص٧٦٦؛حدیث نمبر٢٤٢٨
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا عید کے دو مہینے کم نہیں ہوتے یعنی ایک رمضان کا اور دوسرا حج کا(مہینہ)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ»؛ترجمہ؛"عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے"کا مطلب؛جلد٢ص٧٦٦؛حدیث نمبر٢٤٢٩
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے حضرت خالد کی(گزشتہ)روایت میں ہے عید کے دو مہینے یعنی رمضان اور ذوالحجہ۔(امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کا ثواب کم نہیں ہوتا اگر چہ دونوں کے اعتبار سے کم ہوجائیں بعض نے کہا کہ ایک سال میں دونوں مہینے(رمضان اور ذوالحجہ)دنوں کے اعتبار سے کم نہیں ہوتے۔١٢ہزاروی۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ»جلد٢ص٧٦٦؛حدیث نمبر٢٤٣٠)
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے جب آیت کریمہ:{حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: ١٨٧](ترجمہ:حتیٰ کہ تمہارے لئے سفید دھاگہ،سیاہ دھاگے سے ظاہر جائے یعنی فجر ہوجائے)نازل ہوئی تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے اپنے تکیے کے نیچے دو رسیاں رکھ لی ہیں ایک سفید اور دوسری سیاہ اس کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کرلوں گا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے(کہ اس کے نیچے رات اور دن آگیے)اس سے رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی مراد ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛ترجمہ؛طلوع فجر سے روزے کا آغاز اور سحری کے اختیار کا بیان اور جب تک فجر طلوع نہ ہو کھانا وغیرہ جائز ہے اور اس فجر کا بیان جس کے ساتھ احکام کا تعلق ہے یعنی روزے کا شروع ہونا،نماز فجر کا وقت ہوجاناوغیرہ؛جلد٢ص٧٦٦؛حدیث نمبر٢٤٣١
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی{وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: ١٨٧] (کھاؤ اور پئو حتیٰ کہ تمہارے لیے سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ممتاز ہوجائے)تو ایک صاحب سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور کھاتے رہتے جب تک ان میں فرق ظاہر نہ ہوجائے حتیٰ کہ اللہ نے"من الفجر"کےالفاظ نازل فرمائے تو اس سے وضاحت فرمائی کہ دن اور رات مراد ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٧؛حدیث نمبر٢٤٣٢
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی:{وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: ١٨٧](ترجمہ"کھاؤ اور پئو حتیٰ کہ تمہارے لئے سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے")تو ایک شخص جب روزہ رکھنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اپنے پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگہ باندھ لیتااور وہ کھانا پینا جاری رکھتا حتیٰ کہ اس کے لیے ان میں فرق ظاہر ہوجاتا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے"من الفجر"کےالفاظ فرمائے کہ انہیں معلوم ہوا کہ اس سے رات اور دن مراد ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٧؛حدیث نمبر٢٤٣٣
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا،بے شک حضرت بلال رات کے وقت آذان دیتے ہیں پس تم کھاؤ پئو حتیٰ کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی آذان سنو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٤
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت آذان دیتے ہیں تم کھاؤ پئو حتیٰ کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سنو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٥
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے ایک حضرت بلال اور دوسرے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن مکتوم نابینا تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت آذان دیتے ہیں پس تم کھاؤ پئو حتیٰ کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آذان دیں وہ فرماتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان یہ فرق تھا کہ وہ اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٦
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر٢٤٣٦ کی مثل ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٧
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٤٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٨
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی ایک کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آذان ہرگز سحری(کھانے پینے)سے نہ روکے وہ اس لیے آذان دیتے ہیں کہ تم میں سے جو نماز میں مشغول ہے وہ کھانے پینے کے لئے چلا جائے اور سویا ہوا جاگ جائے اور فرمایا صبح وہ نہیں جو اس طرح ہے آپ نے ہاتھوں کو سیدھا کر کے اوپر کی طرف اشارہ کیا حتیٰ کہ اس طرح ہوجاؤ(اس کے ساتھ)آپ نے انگلیوں کو کھول دیا۔(جب روشنی اوپر کو جاتی ہے تو وہ صبح کاذب ہے اور ابھی سحری کا وقت ہے اور جب دائیں بائیں پھیلے تو یہ صبح صادق ہے اور اس وقت سے روزہ شروع ہوتا ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٨؛حدیث نمبر٢٤٣٩
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٣٩ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا فجر وہ نہیں جو ایسی ہو آپ نے اپنی انگلیوں کو جمع کیا پھر زمین کی طرف جھکا دیا بلکہ وہ اس طرح ہے اور آپ نے انگشت شہادت کو(دوسرے ہاتھ کی)انگشت شہادت پر رکھ کر پھیلا دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٩؛حدیث نمبر٢٤٤٠
ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے جس میں فرمایا کہ حضرت بلال کی آذان اس لئے ہوتی ہے کہ نماز پڑھنے والا لوٹ آئے اور سویا ہوا جاگ جائے اور حضرت جریر نے اپنی حدیث میں فرمایا کہ صبح ایسی ہے یعنی جو(روشنی)اور چوڑائی میں پھیلے لمبائی میں نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٩؛حدیث نمبر٢٤٤١
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت محمد(مصطفیٰ)صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تم میں سے کسی ایک کو سحری کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ یہ سفیدی حتیٰ کہ پھیل جائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٩؛حدیث نمبر٢٤٤٢
ایک اور سند سے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آذان اور یہ سفیدی جو صبح کے وقت ستون کی طرح ہوتی ہے دھوکہ نہ دے حتیٰ کہ وہ پھیل جائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٦٩؛حدیث نمبر٢٤٤٣
ایک اور سند کے ساتھ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کے بارے میں تمہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آذان اور افق کی لمبی سفیدی سے دھوکہ نہ ہو حتیٰ کہ وہ اس طرح پھیل نہ جائے حضرت حماد نے اپنے ہاتھ سے بتایا یعنی چوڑائی میں ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٧٠؛حدیث نمبر٢٤٤٤
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے خطبہ کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہوۓ حدیث بیان کی کہ آپ نے فرمایا تمہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آذان اور یہ سفیدی دھوکہ نہ دے حتیٰ کہ فجر ظاہر ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٧٠؛حدیث نمبر٢٤٤٥
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر حدیث نمبر ٢٤٤٥ کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، وَأَنَّ لَهُ الْأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ، وَدُخُولِ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ؛جلد٢ص٧٧٠؛حدیث نمبر٢٤٤٦
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھاؤ بے شک سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛ترجمہ؛سحری کی فضیلت اور استحباب نیز سحری میں تاخیر اور افطار میں جلدی مستحب ہے؛جلد٢ص٧٧٠؛حدیث نمبر٢٤٤٧
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧٠؛حدیث نمبر٢٤٤٨
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٤٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٤٩
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر ہم نماز(نماز فجر)کے لئے کھڑے ہوگئے(حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں)میں نے پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا فرمایا پچاس آیات پڑھنے کے برابر تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٥٠
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٥٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٥١
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ جب تک(وقت پر)افطاری میں جلدی کرتے رہیں وہ بھلائی پر رہیں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٥٢
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٥٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٥٣
حضرت ابو عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور حضرت مسروق رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا اے ام المؤمنين!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک شخص جلد افطار کرتا اور جلد ہی نماز پڑھتا ہے اور دوسرا تاخیر سے افطار کرتا اور تاخیر سے نماز پڑھتا ہے تو انہوں نے پوچھا کون جلد افطار کرتا اور جلد نماز پڑھتا ہے؟ہم نے کہا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ابوکریب کی روایت میں ہے کہ دوسرے صاحب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧١؛حدیث نمبر٢٤٥٤
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابو عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں اور حضرت مسروق رضی اللہ عنہ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت مسروق نے ان سے عرض کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے"دو شخص ہیں جو دونوں نیکی اور بھلائی میں کمی نہیں کرتے ان میں سے ایک مغرب اور افطار میں جلدی کرتا ہے اور دوسرا مغرب(کی نماز)اور افطار میں تاخیر کرتا ہے"ام المومنین نے پوچھا کون مغرب اور افطار میں جلدی کرتا ہے تو انہوں نے کہا حضرت عبداللہ(بن مسعود)رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ، وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ؛جلد٢ص٧٧٢؛حدیث نمبر٢٤٥٥
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات آجائے اور دن چلا جاے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار روزہ افطار کرلے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ؛ترجمہ؛روزہ پورا ہونے اور دن کے چلے جانے کا وقت؛جلد٢ص٧٧٢؛حدیث نمبر٢٤٥٦
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ماہ رمضان کے دوران ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جب سورج غروب ہوا تو آپ نے فرمایا اے فلاں!اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ابھی تو دن ہے آپ نے فرمایا اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو پس انہوں نے اتر کر ستو گھولے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا پھر ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ جب سورج یہاں سے غائب ہوجائے اور وہاں سے(مشرق سے)رات آجائے تو روزہ دار کو افطار کرنا چاہیے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ؛جلد٢ص٧٧٢؛حدیث نمبر٢٤٥٧
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جب سورج غائب ہوا تھا آپ نے ایک شخص سے فرمایا اتر کر ہمارے لئے ستو گھولو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر آپ شام ہونے دیں (تو اچھا ہے)آپ نے فرمایا اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو پس اس نے اتر کر ستو گھولے اور آپ نے نوش فرماۓ۔پھر فرمایا جب تم رات کو اس جانب سے آتا ہوا دیکھو آپ نے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ؛جلد٢ص٧٧٣؛حدیث نمبر٢٤٥٨
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے اور آپ روزے سے تھے جب سورج غروب ہوا تو آپ نے فرمایا اے فلاں اتر کر ہمارے لئے ستو گھولو۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٤٥٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ؛جلد٢ص٧٧٣؛حدیث نمبر٢٤٥٩
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٥٩ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں ماہ رمضان کا ذکر نہیں اور یہ الفاظ بھی نہیں کہ رات ادھر سے آجائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ؛جلد٢ص٧٧٣؛حدیث نمبر٢٤٦٠
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صوم وصال رکھنے سے منع فرمایا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمہاری مثل نہیں ہوں۔مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔(دو دن یا زیادہ مسلسل اس طرح روزہ رکھنا کہ درمیان میں نہ کھائے اور نہ پئے صوم وصال کہلاتا ہے)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛ترجمہ؛صوم وصال کی ممانعت؛جلد٢ص٧٧٤؛حدیث نمبر٢٤٦١
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف میں وصال کیا(افطار کے بغیر روزے رکھے)تو صحابہ کرام نے بھی روزوں میں وصال شروع کردیا آپ نے ان کو منع فرمایا عرض کیا گیا آپ بھی تو وصال کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمہاری مثل نہیں ہوں مجھے کھلایا پلایا جاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٤؛حدیث نمبر٢٤٦٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٦٢ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں رمضان کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛- بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٤؛حدیث نمبر٢٤٦٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزوں سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ بھی تو روزوں میں وصال کرتے ہیں آپ نے فرمایا تم میں سے کون میری مثل ہے میں رات اس طرح گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔جب وہ وصال کے روزوں سے نہ رکے تو آپ نے ایک دن ان کے ساتھ افطار کے بغیر روزہ رکھا پھر دوسرے دن اسی طرح روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھا تو آپ نے فرمایا اگر چاند نکلنے میں تاخیر ہوتی تو میں تمہارے لئے اور زیادہ وصال کرتا گویا آپ نے ان کے باز نہ آنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٤؛حدیث نمبر٢٤٦٤
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صوم وصال نہ رکھو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں آپ نے فرمایا تم میری مثل نہیں ہو میں اپنے رب کے ہاں رات گزارتا ہوں وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے پس تم وہ کام کرو جس کی تمہیں طاقت ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٤؛حدیث نمبر٢٤٦٥
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٦٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٥؛حدیث نمبر٢٤٦٦
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٤٦٥کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٥؛حدیث نمبر٢٤٦٧
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف میں نماز پڑھ رہے تھے تو میں آکر آپ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا ایک اور شخص بھی آکر کھڑا ہوا حتیٰ کہ ہماری ایک جماعت ہوگئی جب آپ نے محسوس کیا کہ ہم آپ کے پیچھے ہیں تو آپ نے نماز میں تخفیف فرما دی پھر آپ گھر تشریف لے گئے اور ایسی نماز پڑھی جو ہمارے پاس نہیں پڑھی تھی صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا رات آپ کو ہمارا پتہ چل گیا تھا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں اسی وجہ سے میں نے وہ کام کیا(نماز مختصر کی)فرماتے ہیں پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے روزے رکھنے شروع کیے اور یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے تو آپ کے کئی صحابہ کرام نے بھی صوم وصال شروع کئے۔آپ نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ وصال کے روزے رکھتے ہیں تم میری مثل نہیں ہو اللہ کی قسم اگر مہینہ لمبا ہوتا تو میں روزوں میں وصال کرتا کہ یہ ضدی لوگ اپنی ضد چھوڑ دیتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٥؛حدیث نمبر٢٤٦٨
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے آغاز میں افطار کے بغیر روزے رکھنا شروع کئے تو کچھ مسلمانوں نے بھی یہ عمل شروع کردیا آپ کو یہ خبر پہنچی تو فرمایا اگر ہمارے لیے مہینہ لمبا ہوتا تو ہم اس قدر وصال کرتے کہ یہ ضدباز اپنی ضد چھوڑ دیتے(فرمایا)تم میری مثل نہیں ہو یا فرمایا میں تمہاری مثل نہیں ہوں میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا ہے پلاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛- بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٦؛حدیث نمبر٢٤٦٩
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے روزوں میں وصال سے منع فرمایا انہوں نے عرض کیا آپ بھی تو وصال کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ؛جلد٢ص٧٧٦؛حدیث نمبر٢٤٧٠
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج میں سے کسی کا بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے یہ فرما کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہنستی تھیں۔(روزے کی حالت میں جماع حرام ہے بوسہ لینا اور بیوی کے ساتھ لیٹنا جائز ہے۔لیکن جو شخص اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکتا ہو اور جماع تک اگر پہنچنے کا خطرہ ہو وہ بوسہ لینے اور بیوی کے ساتھ لیٹنے سے باز رہے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛ترجمہ ؛روزے کی حالت میں(بیوی کا)بوسہ لینا اس شخص پر حرام نہیں جس کو شہوت کی حرکت نہ ہو؛جلد٢ص٧٧٦؛حدیث نمبر٢٤٧١
حضرت سفیان فرماتے ہیں میں نے حضرت عبدالرحمن بن قاسم(رضی اللہ عنہ)سے پوچھا کیا آپ نے اپنے والد سے سنا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لیتے تھے اس پر وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٦؛حدیث نمبر٢٤٧٢
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیتے تھے اور آپ روزے سے ہوتے لیکن تم میں سے کون ہے جسے اپنے جذبات پر قابو ہو جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جذبات پر قابو تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٦؛حدیث نمبر٢٤٧٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور روزے کی حالت میں(کسی زوجہ کو)چمٹا لیتے لیکن آپ علیہ السلام تم لوگوں سے زیادہ اپنے جذبات پر قابو رکھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٧؛حدیث نمبر٢٤٧٤
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور آپ علیہ السلام کو تم لوگوں سے زیادہ اپنے جذبات پر قابو تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٧؛حدیث نمبر٢٤٧٥
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی زوجہ کو اپنے ساتھ چمٹا لیتے اور آپ روزے سے ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٧؛حدیث نمبر٢٤٧٦
حضرت اسود فرماتے ہیں میں اور حضرت مسروق رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں(کسی زوجہ کو)اپنے ساتھ چمٹا لیتے تھے؟انہوں نے فرمایا ہاں لیکن آپ علیہ السلام تم سب سے زیادہ اپنے جذبات پر قابو پانے والے تھے یا فرمایا تم میں سے کس کو اپنے جذبات پر قابو ہے۔ابوعاصم(راوی)کو شک ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٧؛حدیث نمبر٢٤٧٧
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٧٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٧؛حدیث نمبر٢٤٧٨
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٧٩
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٧٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٨٠
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزوں کے مہینے میں بوسہ لیتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٨١
ایک دوسری سند سے ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف میں بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٨٢
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٨٣
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٨؛حدیث نمبر٢٤٨٤
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٢٤٨٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٩؛حدیث نمبر٢٤٨٥
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا روزہ دار بوسہ لے سکتاہے؟تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مسئلہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھو،تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے خلاف اولی کام کو معاف کر دئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا سنو!اللہ کی قسم میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں۔(مطلب یہ ہے کہ میں اس لئے یہ عمل نہیں کرتا کہ میرے لئے یہ عمل ناجائز ہونے کے باوجود جائز ہے بلکہ یہ عمل گناہ نہیں بشرطیکہ جذبات پر قابو ہواور جماع تک نہ پہنچے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ؛جلد٢ص٧٧٩؛حدیث نمبر٢٤٨٦
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ اپنی روایات میں بیان کرتے تھے کہ جو شخص صبح کے وقت جنبی(ناپاک)ہو تو وہ روزہ رکھے میں نے اس کا ذکر حضرت عبد الرحمن بن حارث سے کیا تو انہوں نے اس بات کا انکار کیا اور میں اس کے ساتھ گیا حتیٰ کہ ہم حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوئے پس حضرت عبد الرحمن نے ان دونوں سے اس بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے جو احتلام کی وجہ سے نہ ہوتی تھی۔پھر آپ روزہ رکھ لیتے وہ فرماتے ہیں ہم دونوں چلے اور مروان سے ذکر کیا۔مروان نے کہا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ضرور جاؤ اور ان کے قوم کی تردید کرو فرماتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور (راوی)ابوبکر تھے وہاں موجود تھے حضرت عبدالرحمن نے تمام واقعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنایا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ان دونوں(حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما)نے تم سے یہ بات بیان کی ہے انہوں نے کہا جی ہاں فرمایا وہ دونوں اس بات کا زیادہ علم رکھتی ہیں پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے یہ قول حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا تھا اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس قول سے رجوع کرلیا ابن جریج فرماتے ہیں میں نے عبد الملک سے پوچھا کہ کیا یہ قول رمضان کے بارے میں فرمایا فرمایا ہاں اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر حالت جنابت میں صبح کرتے پھر روزے کی نیت کر لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٧٩؛حدیث نمبر٢٤٨٧
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں حالت جنابت میں صبح اٹھتے لیکن احتلام کی وجہ سے یہ حالت نہ ہوتی پھر آپ غسل کرتے اور روزہ رکھ لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٨٠؛حدیث نمبر٢٤٨٨
حضرت ابوبکر کہتے ہیں کہ مروان نے ان کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ وہ ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھیں جو حالت جنابت میں صبح کرتا ہے تو کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اٹھتے اور جماع کی وجہ سے جنبی ہوتے تو احتلام کی وجہ سے نہیں پھر روزہ نہ چھوڑتے اور نہ قضا کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٨٠؛حدیث نمبر٢٤٨٩
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان میں صبح کے وقت جماع کی وجہ سے نہ کہ احتلام کی وجہ سے جنبی ہوتے پھر آپ روزہ رکھ لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٨٠؛حدیث نمبر٢٤٩٠
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر مسئلہ پوچھنے لگا اور ام المومنین کواڑ کے پیچھے سے سن رہی تھیں اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!نماز کا وقت ہوجاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں تو کیا میں روزے کی نیت کرسکتا ہوں؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی بعض اوقات نماز کے وقت جنبی ہوتا ہوں تو روزہ رکھ لیتا ہوں اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہماری مثل نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے ذنب (خلاف اولی کاموں)کی مغفرت فرمادی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور بچنے والے کاموں کا تم سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٨١؛حدیث نمبر٢٤٩١
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو صبح کے وقت جنبی ہوتا ہے کہ کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے؟تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام کے بغیر صبح کے وقت جنبی ہوتے پھر آپ روزہ رکھ لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِحَّةِ صَوْمِ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ؛جلد٢ص٧٨١؛حدیث نمبر٢٤٩٢
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں ہلاک ہوگیا آپ نے پوچھا تو کس وجہ سے ہلاک ہوا؟) اس آدمی نے عرض کیا کہ)میں رمضان شریف میں (دن کے وقت)اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس آزاد کرنے کے لیے غلام(یالونڈی)ہے؟اس نے عرض کیا نہیں فرمایا کیا تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھ سکتا ہے؟عرض کیا نہیں فرمایا کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟اس نے کہا نہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر وہ بیٹھ گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرہ آیا آپ نے فرمایا اسے صدقہ کردو اس نے عرض کیا مجھ سے بھی بڑھ کر کوئی حاجت مند ہے مدینہ طیبہ کے دونوں کناروں کے درمیان؟کوئی بھی گھر والے مجھ سے زیادہ ضرورت مند نہیں ہیں اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کی مبارک داڑھیں نظر آنے لگیں پھر فرمایا جاؤ اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛ترجمہ؛ماہ رمضان میں دن کے وقت روزے دار کا جماع کرنا سخت حرام ہے اور اس میں بڑا کفارہ واجب ہوتا ہے نیز کفارہ ہر کشادہ حال اور تنگ دست پر واجب ہے اور تنگ دست کے ذمے ثابت ہوجاتا ہے(تو ادا کرے)حتیٰ کہ اسے طاقت حاصل ہوجائے؛جلد٢ص٧٨١؛حدیث نمبر٢٤٩٣
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں کھجوروں کے ٹوکرے کا ذکر ہے اور یہ نہیں ہے کہ آپ کھلکھلا کر ہنسے اور آپ کی مبارک ڈاڑھیں دکھائی دینے لگیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٢؛حدیث نمبر٢٤٩٤
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ماہ رمضان میں(دن کے وقت)اپنی بیوی سے عمل زوجیت کیا۔پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا کیا تو کوئی غلام آزاد کرسکتا ہے؟اس نے کہا نہیں فرمایا کیا دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے؟عرض کیا نہیں فرمایا پس ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٢؛حدیث نمبر٢٤٩٥
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٩٥ کی مثل مروی ہے کہ ایک شخص نے رمضان شریف میں روزہ توڑ دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے کا حکم دیا اس کے بعد پہلی حدیث کی طرح ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٢؛حدیث نمبر٢٤٩٦
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو جس نے رمضان شریف میں(جان بوجھ کر)روزہ توڑ دیا تھا حکم دیا کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٢؛حدیث نمبر٢٤٩٧
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٩٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٣؛حدیث نمبر٢٤٩٨
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں تو جل گیا آپ نے پوچھا کیوں؟اس نے عرض کیا میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرلیا۔آپ نے فرمایا صدقہ کرو،صدقہ کرو اس نے کہا میرے پاس کچھ نہیں آپ نے اسے بیٹھنے کا حکم دیا پھر آپ کے پاس کھانے کے دو ٹکرے آے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ صدقہ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٣؛حدیث نمبر٢٤٩٩
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٤٩٩ کی مثل مروی ہے اس میں صدقہ کرنے اور دن کے وقت کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٣؛حدیث نمبر٢٥٠٠
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص ماہ رمضان میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں جل گیا(دو مرتبہ کہا)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس کا معاملہ کیا ہے؟اس نے کہا میں اپنی بیوی کے پاس چلا گیا(جماع کیا)آپ نے فرمایا صدقہ کرو اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!اللہ کی قسم میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے اور میں اس پر قادر نہیں ہوں۔آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ پس وہ بیٹھ گیا اسی دوران ایک دراز گوش ہانکتا ہوا لایا جس پر کھانا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ جلنے والا کہاں ہے وہ شخص کھڑا ہوا تو آپ نے فرمایا اس کو صدقہ کردو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم اپنے علاوہ پر صدقہ کریں؟اللہ کی قسم ہم بھوکے ہیں ہمارے پاس کچھ نہیں آپ نے فرمایا پس اسے کھاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ، وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا، وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ؛جلد٢ص٧٨٣؛حدیث نمبر٢٥٠١
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان شریف میں سفر پر تشریف لے گئے تو آپ نے روزہ رکھا جب مقام کدید پر پہنچے تو آپ نے روزہ کھول لیا۔فرماتے ہیں صحابہ کرام آپ کے ہر نئے سے نئے عمل میں آپ کی پیروی کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٤؛حدیث نمبر٢٥٠٢
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے سفیان فرماتے ہیں میں نہیں جانتا کہ یہ قول کس کا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری قول پر عمل کیا جاتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٤؛حدیث نمبر٢٥٠٣
زہری کہتے ہیں کہ روزہ کھول لینا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل پر ہی عمل کرنا چاہئے زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تیرہ رمضان کو پہنچے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٤؛حدیث نمبر٢٥٠٤
حضرت ابن شہاب زہری سے حدیث نمبر ٢٥٠٤ کی مثل مروی ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام آپ کے ہر نئے کام پر عمل کرتے اور آپ کے آخری عمل کو ناسخ قرار دیتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٥؛حدیث نمبر٢٥٠٥
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف میں سفر فرمایا حتیٰ کہ جب مقام عسفان میں پہنچے تو ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا تو دن کے وقت اسے نوش فرمایا تاکہ لوگ اسے دیکھیں پھر آپ نے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے تک روزہ نہیں رکھا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(سفر میں)روزہ رکھا اور نہیں بھی رکھے پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٥؛حدیث نمبر٢٥٠٦
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم(سفر کی حالت میں)روزہ رکھنے والے اور روزہ چھوڑنے والے کسی کو بھی برا نہیں کہتے کیوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(حالت سفر میں)روزہ رکھا بھی اور چھوڑا بھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٥؛حدیث نمبر٢٥٠٧
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان شریف میں سفر پر تشریف لے گئے تو آپ نے روزہ رکھا حتیٰ کہ کُراع الغمیم مقام پر پہنچے تو صحابہ کرام نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا تو اسے بلند کیا حتیٰ کہ صحابہ کرام نے اسے دیکھا پھر آپ نے نوش فرمایا اس کے بعد آپ کو بتایا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا وہ لوگ نافرمان ہیں وہ لوگ نافرمان ہیں۔(اگرچہ سفر میں روزہ رکھنے اور نہ رکھنے میں اختیار دیا گیا لیکن ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی مخالفت کی تھی اس لیے ان کو نافرمان قرار دیا ورنہ سفر میں روزہ رکھنا گناہ نہیں ہے یا یہ کہ یہ روزہ باعث مشقت تھا)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٥؛حدیث نمبر٢٥٠٨
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ کو بتایا گیا کہ صحابہ کرام پر روزہ رکھنا مشکل ہوگیا ہے اور وہ آپ کے عمل کے منتظر ہیں تو آپ نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا..... آگے حدیث نمبر ٢٥٠٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٦؛حدیث نمبر٢٥٠٩
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو آپ نے دیکھا لوگ ایک شخص کے مابین جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے آپ نے پوچھا اسے کیا ہوا؟انہوں نے عرض کیا یہ روزہ دار شخص ہے آپ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٦؛حدیث نمبر٢٥١٠
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا پھر اس کے بعد حدیث نمبر ٢٥١٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٦؛حدیث نمبر٢٥١١
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں رخصت دی اس کو اختیار کرنا تم پر لازم ہے۔راوی کہتے ہیں میں نے ان سے دوبارہ پوچھا تو ان کو یہ جملہ یاد نہ تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٦؛حدیث نمبر٢٥١٢
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم سولہ رمضان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کے لئے گئے تو ہم میں سے بعض لوگ روزے سے تھے اور بعض کا روزہ نہیں تھا تو روزہ دار نے روزہ چھوڑنے والے اور روزہ چھوڑنے والے نے روزہ دار کی مذمت نہ کی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٦؛حدیث نمبر٢٥١٣
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اور تاریخ میں راویوں کا اختلاف ہے تیمی،عمر بن عامر اور ہشام کی روایت میں اٹھارہ تاریخ ہے۔سعید کی روایت میں بارہ اور شعبہ کی روایت میں سترہ یا انیس تاریخ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٧؛حدیث نمبر٢٥١٤
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رمضان المبارک میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے تو کسی روزہ دار کو روزہ رکھنے اور چھوڑنے والے کی چھوڑے پر مذمت نہ کی جاتی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٧؛حدیث نمبر٢٥١٥
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رمضان میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے تھے تو ہم میں سے بعض روزے سے ہوتے اور بعض نے روزہ نہ رکھا ہوتا تو روزہ دار چھوڑنے والے کو اور روزہ چھوڑنے والا روزہ دار کو کچھ نہ کہتا ان کا خیال تھا کہ جو روزہ رکھ سکتا ہے اور روزہ رکھتا ہے تو یہ بہتر ہے اور جو کمزوری محسوس کرتا ہے اور روزہ نہیں رکھتا تو یہ بھی اچھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٧؛حدیث نمبر٢٥١٦
حضرت ابوسعید خدری اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ دونوں فرماتے ہیں ہم نے رمضان کے مہینے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کیا تو کسی روزہ رکھنے والے نے روزہ چھوڑنے والے پر اور روزہ نہ رکھنے والے نے روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہ لگایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٧؛حدیث نمبر٢٥١٧
حضرت حمید سے مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رمضان میں سفر کے دوران روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کیا تو روزہ رکھنے والا،چھوڑنے والے کی اور روزہ نہ رکھنے والا،روزہ رکھنے والے کی مذمت نہیں کرتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٧؛حدیث نمبر٢٥١٨
حضرت حمید فرماتے ہیں میں سفر میں گیا تو میں نے روزہ رکھا تو لوگوں نے کہا دوبارہ روزہ رکھو تو میں نے کہا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سفر کرتے تھے تو روزہ رکھنے والا،چھوڑنے والے کی اور روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی مذمت نہیں کرتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَأَنَّ الْأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلَا ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ، وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ؛جلد٢ص٧٨٨؛حدیث نمبر٢٥١٩
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ہم ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہیں رکھا فرماتے ہیں ہم ایک منزل میں اترے اور وہ گرم دن تھا اور ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ حاصل کرنے والا وہ شخص تھا جس کے پاس چادر تھی اور کوئی ہاتھ کے ذریعے دھوپ سے بچ رہا تھا۔ پھر روزہ دار گر گئے اور جنہوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ کھڑے رہے انہوں نے خیمے نصب کئے اور اونٹوں کو پانی پلایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج روزہ چھوڑنے والے اجر لے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ أَجْرِ الْمُفْطِرِ فِي السَّفَرِ إِذَا تَوَلَّى الْعَمَلَ؛جلد٢ص٧٨٨؛حدیث نمبر٢٥٢٠
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا اب روزہ چھوڑنے والے خدمت پر کمربستہ ہوگئے اور روزہ رکھنے والے کام نہ کرسکے اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ چھوڑنے والے اجر لے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ أَجْرِ الْمُفْطِرِ فِي السَّفَرِ إِذَا تَوَلَّى الْعَمَلَ؛جلد٢ص٧٨٨؛حدیث نمبر٢٥٢١
حضرت قزعہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ کے پاس بہت سے لوگ تھے جب لوگ چلے گئے تو میں نے کہا میں آپ سے وہ بات نہیں پوچھوں گا جو یہ لوگ پوچھ رہے تھے میں نے ان سے سفر کے دوران روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ کی طرف سفر کیا اور ہم نے روزہ رکھا ہوا تھا جب ہم ایک منزل پر اترے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو اب تمہارے لیے روزہ نہ رکھنا زیادہ قوت بخش ہوگا۔ تو یہ ہمارے لئے رخصت تھی پس ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہ رکھا پھر ہم ایک اور منزل پر اترے تو آپ نے فرمایا تم صبح کے وقت دشمن کے پاس ہوگے روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ طاقت کا باعث ہے پس روزہ نہ رکھو تو یہ آپ کی طرف سے لازمی حکم تھا تو ہم نے روزہ نہ رکھا۔اس کے بعد حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں روزہ رکھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ أَجْرِ الْمُفْطِرِ فِي السَّفَرِ إِذَا تَوَلَّى الْعَمَلَ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٢
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت حمزہ بن اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٣
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں روزہ رکھوں آپ نے فرمایا چاہو تو رکھو اور چاہو تو چھوڑ دو۔(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا جب کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو اجازت دی تو علماء کرام فرماتے ہیں جس کو اس کی طاقت ہو اس کے لئے درست ہے اور جو ضعیف وناتواں ہواسے منع کیا گیا۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٤
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٢٤کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٥
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں تو کیا سفر کے دوران روزہ رکھوں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٦
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں حالت سفر میں روزہ کی طاقت پاتا ہوں تو کیا اس میں کوئی حرج ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے پس جو اس پر عمل کرے تو اچھا ہے اور جو روزہ رکھنا پسند کرے اس پر بھی کوئی حرج نہیں۔ہارون کی روایت میں صرف رخصت کا ذکر ہے"اللہ کی طرف سے"کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٨٩؛حدیث نمبر٢٥٢٧
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رمضان کے مہینے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر پر گئے اور یہ سخت گرمی کا وقت تھا حتیٰ کہ ہم سے کوئی سخت گرمی کی وجہ سے اپنا ہاتھ سر پر رکھتا اور ہم میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما کے علاوہ کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٩٠؛حدیث نمبر٢٥٢٨
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے دیکھا کہ ہم ایک سفر میں سخت گرمی کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے حتیٰ کہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے سروں پر ہاتھ رکھتے تھے اور ہم میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ؛جلد٢ص٧٩٠؛حدیث نمبر٢٥٢٩
حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عرفہ(ذوالحجہ)کے دن کچھ لوگوں نے ان کے پاس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے بارے میں شک وشبه کا اظہار کیا۔ان میں سے بعض نے کہا کہ آپ نے روزہ رکھا ہے اور کچھ نے کہا کہ آپ نے روزہ نہیں رکھا تو میں نے آپ کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور آپ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر کھڑے تھے پس آپ نے اسے نوش فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ؛ترجمہ؛یوم عرفہ میں حاجی کے لئے عرفات میں روزہ نہ رکھنا مستحب ہے؛جلد٢ص٧٩١؛حدیث نمبر٢٥٣٠
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٣٠ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں اونٹ پر کھڑے ہونے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٧٩١؛حدیث نمبر٢٥٣١
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٧٩١؛حدیث نمبر٢٥٣٢
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام عمیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا سے سنا آپ فرماتی ہیں کچھ صحابہ نے عرفہ کے دن اس بات پر شک کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ ہے یا نہیں اور ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اسی مقام پر تھے پس میں نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور آپ میدان عرفات میں تھے تو آپ نے نوش فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٧٩١؛حدیث نمبر٢٥٣٣
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں صحابہ کرام نے عرفہ کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے میں شک کیا تو ام المؤمنين نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک برتن پیش کیا آپ عرفات میں کھڑے تھے پس آپ نے صحابہ کرام کے سامنے دودھ نوش فرمایا۔(اس سے معلوم ہوا کہ مبلغ اور مقتدا وپیشوا جس طرح اپنے قول کے ذریعے تبلیغ کرتا ہے اور احکام بتاتا ہے اسی طرح اگر وہ عمل کر کے بھی دکھائے تو یہ زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْفِطْرِ لِلْحَاجِّ بِعَرَفَاتٍ يَوْمَ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٧٩١؛حدیث نمبر٢٥٣٤
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ قریش دور جاہلیت میں عاشورہ(دس محرم الحرام)کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے جب مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ نے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا پس جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوے تو فرمایا جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛ترجمہ؛یوم عاشورہ کا روزہ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٣٥
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس کے شروع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کا ذکر نہیں اور حدیث کے آخر میں ہے کہ عاشورہ کا روزہ(بطور فرض)چھوڑ دیا پس جو شخص چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے لیکن پہلی روایت کی طرح ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار نہیں دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٣٦
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں عاشورہ کے دن روزہ رکھا جاتا تھا پس جب اسلام(کا دور)آیا تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٣٧
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رمضان المبارک(کے روزے)فرض ہونے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔جب رمضان فرض ہوا تو جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٣٨
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا حتیٰ کہ رمضان(کا روزہ)فرض ہوگیا تو آپ نے فرمایا جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٣٩
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دور جاہلیت کے لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے بھی رمضان المبارک کی فرضیت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھا جب رمضان(کا روزہ)فرض ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دن اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ہے پس جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٢؛حدیث نمبر٢٥٤٠
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٤٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٣؛حدیث نمبر٢٥٤١
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یوم عاشورہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس دن اہل جاہلیت روزہ رکھتے تھے پس تم میں سے جو چاہے وہ اس دن روزہ رکھے اور جو اس دن روزہ چھوڑنا پسند کرے وہ نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٣؛حدیث نمبر٢٥٤٢
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عاشورہ کے بارے میں سنا آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں دور جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے پس اس دن جو روزہ رکھنا پسند کرے وہ روزہ رکھے اور جو چھوڑنا چاہے وہ چھوڑ دے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اس دن کا روزہ اسی صورت میں رکھتے جب یہ دن ان کے روزہ رکھنے کے دنوں میں آتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٣؛حدیث نمبر٢٥٤٣
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٤٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٣؛حدیث نمبر٢٥٤٤
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے روزے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا دور جاہلیت میں لوگ اس دن روزہ رکھتے تھے پس جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٣؛حدیث نمبر٢٥٤٥
حضرت عبد الرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ اشعث بن قیس حضرت عبد اللہ کے پاس گئے اور وہ ناشتہ کر رہے تھے انہوں نے فرمایا اے ابو محمد!آؤ ناشتہ کرو۔انہوں نے پوچھا کیا آج یوم عاشورہ نہیں۔حضرت عبداللہ نے فرمایا یوم عاشورہ کی حقیقت جانتے ہو حضرت اشعث نے پوچھا وہ کیا ہے حضرت عبد اللہ نے پوچھا یہ وہ دن ہے کہ فرضیت رمضان سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا روزہ رکھتے تھے پس جب رمضان(کا روزہ)فرض ہوا تو اسے(بطور فرض)ترک کردیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٤؛حدیث نمبر٢٥٤٦
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٤٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٤؛حدیث نمبر٢٥٤٧
حضرت قیس بن سکن فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے دن حضرت اشعث بن قیس،حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہ کھانا کھا رہے تھے۔انہوں نے فرمایا اے ابو محمد!قریب ہوکر کھانا کھاؤ انہوں نے کہا میں روزے سے ہوں۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم اس دن روزہ رکھتے تھے پھر(بطور فرض)اسے ترک کردیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٤؛حدیث نمبر٢٥٤٨
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت اشعث بن قیس عاشورہ کے دن حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہ کھانا کھا رہے تھے انہوں نے کہا اے ابو عبدالرحمن(حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے)آج یوم عاشورہ ہے۔انہوں نے فرمایا رمضان(میں روزہ رکھنے کے حکم)سے پہلے اس دن کا روزہ رکھا جاتا تھا پس جب رمضان کا روزہ فرض ہوا تو اسے ترک کر دیا گیا اگر تمہارا روزہ نہیں تو کھاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٤؛حدیث نمبر٢٥٤٩
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشورہ کے روزے کا حکم دیتے اور ہمیں اس کی ترغیب دیتے اور اہتمام فرماتے تھے تو جب رمضان شریف کے روزے فرض ہوۓ تو آپ نے نہ تو ہمیں حکم دیا نہ منع فرمایا اور نہ ہی اس کا اہتمام کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٤؛حدیث نمبر٢٥٥٠
حضرت حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں جب معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ آے تو انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا اے اہل مدینہ!تمہارے علماء کہاں ہیں؟میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں سنا کہ یہ یوم عاشورہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا لیکن میں روزے سے ہوں پس تم سے جو اس دن روزہ رکھنا پسند کرے وہ روزہ رکھے اور جو چھوڑنا چاہے وہ چھوڑ دے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٥؛حدیث نمبر٢٥٥١
Muslim Shareef Kitabus Siyam Hadees No# 2552
حضرت زہری اسی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اس قسم کے دن کے بارے میں فرماتے تھے کہ جو روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھے۔حدیث کا باقی حصہ نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٥؛حدیث نمبر٢٥٥٣
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے یہودیوں کو عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا کیا پس ہم اس دن کی تعظیم کے طور پر روزہ رکھتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہمارا تعلق زیادہ ہے پس آپ نے روزہ رکھنے کا حکم دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٥؛حدیث نمبر٢٥٥٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٥٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٦؛حدیث نمبر٢٥٥٥
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشورہ کا روزہ رکھتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا اس دن روزہ رکھنے کی کیا وجہ ہے انہوں نے کہا یہ عظیم دن ہے اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی جب کہ فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بطور شکر اس دن روزہ رکھا۔اس لئے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نسبت ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں پس آپ نے روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٦؛حدیث نمبر٢٥٥٦
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٥٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٦؛حدیث نمبر٢٥٥٧
Muslim Shareef Kitabus Siyam Hadees No# 2558
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل خیبر عاشورہ کے دن روزہ رکھتے اسے عید بناتے اور اس دن اپنی عورتوں کو زیورات پہناتے اور بناؤ سنگھار کرتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(مسلمانوں سے)فرمایا تم بھی روزہ رکھو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٦؛حدیث نمبر٢٥٥٩
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ سے یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دنوں پر فضیلت کے طور پر یوم عاشورہ کے علاوہ کسی دن کا اور باقی مہینوں پر فضیلت کے طور پر رمضان کے علاوہ کسی مہینے کا روزہ رکھا ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٦؛حدیث نمبر٢٥٦٠
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٦٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٧؛حدیث نمبر٢٥٦١
حضرت حکم بن اعرج فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ زمزم کے کنارے اپنی چادر کو تکیہ بناے ہوئے تھے۔میں نے عرض کیا مجھے یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں بتائے۔انہوں نے فرمایا جب محرم کا چاند دیکھو تو(دنوں کا)شمار کرو اور نویں تاریخ کو صبح روزہ رکھو میں نے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح روزہ رکھتے تھے؟فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ أَيُّ يَوْمٍ يُصَامُ فِي عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٧؛حدیث نمبر٢٥٦٢
ایک اور سند سے حضرت ابن حکم بن اعرج سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ زمزم کے پاس اپنی چادر سے ٹیک لگائے ہوئے تھے تو میں نے یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٥٦٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٧؛حدیث نمبر٢٥٦٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہودی ونصرانی اس دن تعظیم کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا جب آئندہ سال آے گا تو ان شاءاللہ ہم نویں تاریخ کو بھی روزہ رکھیں گے پس آئندہ سال آنے سے پہلے آپ کا وصال ہوگیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٧؛حدیث نمبر٢٥٦٤)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں آئندہ سال(ظاہری زندگی کے ساتھ)زندہ رہا تو نویں تاریخ کا روزہ ضرور رکھوں گا۔ایک روایت میں ہے یعنی عاشورہ کے دن۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؛جلد٢ص٧٩٨؛حدیث نمبر٢٥٦٥)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک شخص کو بھیجا اور اسے حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردیں کہ جس نے روزہ رکھا ہو وہ اسے جاری رکھے اور جس نے کھانا کھا لیا ہو وہ رات تک اپنے روزے کو پورا کرے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ مَنْ أَكَلَ فِي عَاشُورَاءَ فَلْيَكُفَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ؛جلد٢ص٧٩٨؛حدیث نمبر٢٥٦٦)
حضرت ربیع بنت معوذ ابن عفراء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کی صبح انصار کے ان گاؤں کی طرف جو مدینہ طیبہ کے گرد تھا یہ پیغام بھیجا کہ جس نے صبح روزہ رکھا ہے وہ اسے پورا کر لے اور جس نے صبح کھایا وہ دن کے باقی حصے میں نہ کھائے وہ فرماتی ہیں اس کے بعد ہم اس دن روزہ رکھتیں اور اپنے چھوٹے بچوں سے روزہ رکھواتیں اور ہم مسجد کی طرف جاتیں اور ان کے لیے روئی کی گڑیاں بناتیں جب ان میں سے کوئی(بچہ)کھانے کے لئے روتا تو ہم افطار تک اسے گڑیاں دیتیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ مَنْ أَكَلَ فِي عَاشُورَاءَ فَلْيَكُفَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ؛جلد٢ص٧٩٨؛حدیث نمبر٢٥٦٧)
حضرت خالد بن ذکوان کہتے ہیں میں حضرت ربیع بنت معوذ سے یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قاصدوں کو انصار کے دیہات میں بھیجا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٥٦٨ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ ہم ان (بچوں)کے لئے اون کے کھلونے بناتیں اور ہم ان کو ساتھ لے جاتیں جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم ان کو گڑیاں دے دیتیں اور وہ ان سے کھیلتے یہاں تک کہ اپنا روزہ پورا کرتے۔(بچوں پر روزہ فرض نہیں لیکن یہ تربیت اور مشق ہے تاکہ بچے بڑے ہوکر عبادت سے مانوس ہوں اس لئے مسلمانوں کو چاہیے کہ عبادات اور اخلاقیات کے حوالے سے بچوں کی تربیت کرتے رہیں۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ مَنْ أَكَلَ فِي عَاشُورَاءَ فَلْيَكُفَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ؛جلد٢ص٧٩٩؛حدیث نمبر٢٥٦٨)
ابن ازہر کے غلام ابو عبید فرماتے ہیں میں عید کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو وہ تشریف لائے اور انہوں نے نماز پڑھی پھر فراغت پر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا یہ دو دن(عید کے دن)ایسے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ایک وہ دن جب تم روزہ رکھنا چھوڑتے ہو اور دوسرا وہ جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛ترجمہ؛عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دنوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت؛جلد٢ص٧٩٩؛حدیث نمبر٢٥٧٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں (یعنی)یوم الاضحٰی اور یوم الفطر کے روزے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛جلد٢ص٧٩٩؛حدیث نمبر٢٥٧٠)
حضرت قزعہ کہتے ہیں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے ایک حدیث سنی جو مجھے بہت اچھی لگی۔میں نے ان سے پوچھا آپ خود یہ حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے انہوں نے فرمایا کیا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرسکتا ہوں؟جو میں نے نہ سنی ہو تو آپ نے فرمایا دو دنوں میں روزہ رکھنا درست(جائز)نہیں۔اضحی کا دن اور رمضان المبارک کی عید الفطر کے دن۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛جلد٢ص٧٩٩؛حدیث نمبر٢٥٧١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دودنوں یوم فطر اور یوم اضحی کے روزے سے منع کیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٢)
حضرت زیاد بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے ایک دن روزہ رکھنے کی نزر مانی تھی تو وہ دن عید الاضحٰی یا عید الفطر کے دن آرہا ہے(تو کیا کروں)۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے نزر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔(اس شخص کی نزر صحیح ہے لیکن وہ عید الفطر یا عید الاضحٰی کی بجائے کسی اور دن روزہ رکھے تاکہ نزر کو پورا کرنا اور عید کے دنوں میں روزہ نہ رکھنا دونوں قسم کے احکامات پر عمل ہو جائے۔البتہ عید کے دن روزہ رکھا تو جائز ہوجائے گا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی وجہ سے گناہ گار ہوگا(١٢ہزاروی۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں(یعنی)عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٤)
حضرت ابو ملیح،حضرت نبیشہ ہذلی سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام تشریق(گیارہ،بارہ،تیرہ ذوالحجہ)کھانے پینے کے دن ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَحْرِيمِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؛ترجمہ؛ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٧٦ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَحْرِيمِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٦)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور اوس بن حدثان کو ایام تشریق میں یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جنت میں صرف ایمان دار داخل ہوگا اور منی کے ایام(ایام تشریق)کھانے اور پینے کے دن ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَحْرِيمِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؛جلد٢ص٨٠٠؛حدیث نمبر٢٥٧٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٥٧٨ کی مثل مروی ہے اس میں یہ ہے کہ تم دونوں جاکر اعلان کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ تَحْرِيمِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ؛جلد٢ص٨٠١؛حدیث نمبر٢٥٧٨)
حضرت محمد بن عباد بن جعفر فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور وہ طواف کر رہے تھے کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟فرمایا ہاں اس گھر کے رب کی قسم۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ كَرَاهَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدً؛ترجمہ؛جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص کرنا مکروہ ہے؛جلد٢ص٨٠١؛حدیث نمبر٢٥٧٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٥٨٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ كَرَاهَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدًا؛جلد٢ص٨٠١؛حدیث نمبر٢٥٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص(صرف)جمعہ کا روزہ نہ رکھے مگر یہ کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کا روزہ بھی رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ كَرَاهَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدًا؛جلد٢ص٨٠١؛حدیث نمبر٢٥٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جمعہ کے رات کو قیام کے لئے اور جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص نہ کرو۔البتہ کوئی شخص کسی خاص تاریخ کو روزہ رکھتا ہو اور اس دن جمعہ ہو۔(علماء کرام نے لکھا ہے کہ اس میں حکمت یہ ہے کہ جمعہ عبادت،دعا اور ذکر وغیرہ کا دن ہے لہذا اس دن روزہ نہ رکھنا عبادت پر زیادہ معاونت ہے)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ كَرَاهَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدًا؛جلد٢ص٨٠١؛حدیث نمبر٢٥٨٢)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی:{وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} [البقرة: ١٨٤](جو لوگ روزے کی طاقت نہیں رکھتے وہ ہر دن کے بدلے مسکین کو کھانا کھلا دیں)تو جو شخص روزہ چھوڑ کر فدیہ دینا چاہتا وہ فدیہ دیتا حتیٰ کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔(آیت کریمہ حدیث نمبر ٢٥٨٥ میں ہے)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ بَيَانِ نَسْخِ قَوْله تَعَالَى {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ} [البقرة: ١٨٤] بِقَوْلِهِ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥]؛جلد٢ص٨٠٢؛حدیث نمبر٢٥٨٣)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم عہد رسالت میں رمضان المبارک میں اس حالت میں ہوتے کہ جو چاہتا روزہ رکھتا اور جو چاہتا روزہ چھوڑ کر فدیہ دیتا حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی۔{فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥](تم میں سے جو اس مہینے(رمضان کو پائے وہ اس میں روزہ رکھے)۔(چونکہ اب روزے کی جگہ فدیہ کا مطلق حکم منسوخ ہو چکا ہے لہذا اب وہی شخص فدیہ دے سکتا ہے جو دائمی مریض ہو اور کبھی روزہ رکھنے کی ہمت نہ پائے لہٰذا جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت کے باوجود فدیہ دیتے ہیں ان کی طرف سے فدیہ قبول نہیں ہوتا۔لہٰذا ان کے لیے روزہ رکھنا ہی ضروری ہے۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ بَيَانِ نَسْخِ قَوْله تَعَالَى {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ} [البقرة: ١٨٤] بِقَوْلِهِ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥]؛جلد٢ص٨٠٢؛حدیث نمبر٢٥٨٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے ذمہ رمضان کے روزے ہوتے تھے تو میں ان کو صرف شعبان میں قضا کر سکتی تھی کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مصرف رہتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ رَمَضَانَ فِي شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٠٢؛حدیث نمبر٢٥٨٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے اس میں راوی فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ تاخیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خاطر کی وجہ سے ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ رَمَضَانَ فِي شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٠٣؛حدیث نمبر٢٥٨٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث منقول ہے اور اس میں راوی کا یہ کہنا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تاخیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خاطر کی وجہ سے ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ رَمَضَانَ فِي شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٠٣؛حدیث نمبر٢٥٨٧)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے لیکن اس میں یہ بات مذکور نہیں کہ آپ کی وجہ سے یہ تاخیر ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ رَمَضَانَ فِي شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٠٣؛حدیث نمبر٢٥٨٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ہم میں سے ایک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ(باری کے دنوں)میں روزہ چھوڑ دیتی تھیں اور روزہ رکھنے پر صرف شعبان کے مہینے میں قادر ہوتی تھیں۔(ان احادیث سے معلوم ہوا کہ روزے کی قضاء میں تاخیر بھی جائز ہے اور چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شعبان میں بکثرت روزے رکھتے تھے اس لئے ازواج مطہرات بھی اس مہینے میں قضا کرتی تھیں اور اس سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتی تھیں۔(١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ رَمَضَانَ فِي شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٠٣؛حدیث نمبر٢٥٨٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مر جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛ترجمہ؛میت کی طرف سے روزے کی قضاء؛جلد٢ص٨٠٣؛حدیث نمبر٢٥٩٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا کہ میری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کے ذمہ ایک مہینے کے روزے ہیں آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر اس کے ذمہ قرض ہوتا تو تم ادا کرتیں؟اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق رکھتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٤؛حدیث نمبر٢٥٩١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے ذمہ ایک مہینے کے روزے ہیں تو کیا اس کی طرف سے قضاء کروں؟آپ نے فرمایا اگر تمہاری ماں کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادائیگی کے زیادہ لائق ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٤؛حدیث نمبر٢٥٩٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٤؛حدیث نمبر٢٥٩٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے ذمے نذر کا روزہ تھا تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟آپ نے فرمایا بتاؤ اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتیں اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٤؛حدیث نمبر٢٥٩٤)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اس دوران کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی اور اس نے کہا میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ کے طور پر دی تھی اور اب میری ماں فوت ہوچکی ہے آپ نے فرمایا تمہارا اجر ثابت ہوگیا اور وہ وراثت میں تمہاری طرف لوٹا دی گئی۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس کے ذمہ ایک مہینے کے روزے ہیں تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟فرمایا اس کی طرف سے روزے رکھو اس نے عرض کیا اس نے حج نہیں کیا تھا تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟فرمایا ہاں اس کی طرف سے حج کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٥٩٥)
ایک اور سند سے بھی حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٥٩٦ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں دو ماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٥٩٦)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٢٥٩٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں ایک ماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٥٩٧)
ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے جس میں دوماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٥٩٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٥٩٦ کی مثل مروی ہے۔اور اس میں ایک ماہ کے روزوں کا ذکر ہے۔(بدنی عبادت میں نیابت نہیں ہوتی اس لئے حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے نزدیک اس صورت میں میت کا ولی اس کی طرف سے روزے نہیں رکھ سکتا بلکہ وہ فدیہ دے۔کیونکہ موطا امام مالک میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی طرف سے روزہ رکھنے اور کسی کی طرف سے نماز پڑھنے سے منع فرمایا(تفصیل کے لیے شرح صحیح مسلم علامہ غلام رسول سعیدی جلد ٣ص١٣٨تا١٤٢ دیکھیں)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ قَضَاءِ الصِّيَامِ عَنِ الْمَيِّتِ؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٥٩٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزہ دار ہو تویوں کہے کہ میں روزے سے ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ الصَّائِمِ يُدْعَى لِطَعَامٍ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ؛ترجمہ؛جب روزے دار کو دعوت دی جائے تو یوں کہے کہ"میں روزے سے ہوں"؛جلد٢ص٨٠٥؛حدیث نمبر٢٦٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تم سے کوئی شخص روزے کی حالت میں صبح کرے تو وہ بیہودہ باتوں اور جہالت کے کاموں سے باز رہے اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہ دے میں روزہ دار ہوں میں روزہ دار ہوں۔(اگر نفلی روزہ ہو اور دعوت دینے والا اصرار کرے تو روزہ توڑ کر اس کی دعوت قبول کرے اور بعد میں اس کی قضاء کرے البتہ فرض واجب چھوڑنا حرام اور گناہ ہے نیز روزے کی حالت میں برے کاموں سے بچنا بھی ضروری ہے۔(١٢ہزاروی۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛ بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ لِلصَّائِمِ؛جلد٢ص٨٠٦؛حدیث نمبر٢٦٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزے کے علاوہ انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے البتہ روزہ خاص طور پر میرے لیے رکھا اور میں ہی اس کی خصوصی جزا دوں گا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔روزہ دار کی منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ خوشبودار ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛باب فضل الصیام؛روزے کی فضیلت؛جلد٢ص٨٠٦؛حدیث نمبر٢٦٠٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٦؛حدیث نمبر٢٦٠٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے لیکن روزہ خاص طور پر میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی خصوصی جزا دوں گا اور روزہ ڈھال ہے پس جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو اس دن بیہودہ گفتگو نہ کرے اور نہ فحش کلامی کرے۔اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو کہ دے کہ میں روزہ دار ہوں میں روزہ دار ہوں اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے البتہ روزہ دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ خوشبودار ہوگی اور روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔روزہ افطار کرتے وقت اور جب اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے پر خوش ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٧؛حدیث نمبر٢٦٠٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انسان کے ہر عمل کا ثواب دس سے سات سوگنا تک ملتا ہے لیکن روزے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ خاص میرے لئے ہے اور میں اس کی خصوصی جزا دوں گا(روزہ دار)میری رضا کی خاطر کھانا پینا چھوڑتا ہے(اور)روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک روزہ افطار کرتے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت اور اس کے منہ کی خوشبو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ خوشبودار ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٧؛حدیث نمبر٢٦٠٥)
حضرت ابوہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا روزہ خاص طور پر میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا بےشک روزہ دار کے لئےدو خوشیاں ہیں جب روزہ افطار کرتا ہے اسے خوشی ہوتی ہے اور جب اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اسے خوشی ہوگی البتہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ خوشبودار ہوتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٧؛حدیث نمبر٢٦٠٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں فرمایا جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اجر دے گا تو وہ خوش ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٧؛حدیث نمبر٢٦٠٧)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتاہے۔قیامت کے دن اس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے ان کے ساتھ کوئی دوسرا داخل نہ ہوگا کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں؟تو وہ اس سے داخل ہوں گے جب ان کا آخری آدمی داخل ہوگا تو دروازہ بند کردیا جائے گا پس اس سے کوئی بھی داخل نہ ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ؛جلد٢ص٨٠٨؛حدیث نمبر٢٦٠٨)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بندہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال دور رکھے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ فِي سَبِيلِ اللهِ لِمَنْ يُطِيقُهُ، بِلَا ضَرَرٍ وَلَا تَفْوِيتِ حَقٍّ؛ترجمہ؛ضرر نہ ہو اور کسی کا حق بھی نہ مارے اور روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو اللہ کی راہ میں روزہ رکھنا فضیلت کا باعث ہے؛جلد٢ص٨٠٧؛حدیث نمبر٢٦٠٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦١٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ فِي سَبِيلِ اللهِ لِمَنْ يُطِيقُهُ، بِلَا ضَرَرٍ وَلَا تَفْوِيتِ حَقٍّ؛جلد٢ص٨٠٨؛حدیث نمبر٢٦١٠)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال دور رکھے گا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ الصِّيَامِ فِي سَبِيلِ اللهِ لِمَنْ يُطِيقُهُ، بِلَا ضَرَرٍ وَلَا تَفْوِيتِ حَقٍّ؛جلد٢ص٨٠٨؛حدیث نمبر٢٦١١)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ!کیا تمہارے پاس(کھانے کی)کوئی چیز ہے؟فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے پاس کچھ نہیں آپ نے فرمایا اچھا تو میں روزے سے ہوں آپ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو ہمارے پاس کچھ ہدیہ آیا یا کچھ مہمان بھی آگئے۔فرماتی ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا ہمارے پاس ہدیہ آیا یا ہمارے پاس مہمان آئے(اور ہدیہ بھی لاۓ)میں نے اس میں کچھ آپ کے لیے محفوظ کر رکھا ہے آپ نے فرمایا وہ کیا ہے؟میں نے عرض کیا حیس(کھجور،گھی اور ستو سے تیار کیا ہوا کھانا)ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لے آؤ پس میں لے کر حاضر ہوئی تو آپ نے تناول فرمایا۔فرمایا میں نے صبح روزے کی نیت کی تھی۔ حضرت طلحہ فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت مجاہد سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا یہ اس شخص کی طرح ہے جو اپنے مال سے صدقہ نکالے اب اس کی مرضی دے یا نہ دے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ صَوْمِ النَّافِلَةِ بِنِيَّةٍ مِنَ النَّهَارِ قَبْلَ الزَّوَالِ، وَجَوَازِ فِطْرِ الصَّائِمِ نَفْلًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ؛ترجمہ؛زوال سے پہلے نفلی روزہ کی نیت کرنا جائز ہے اور بلا عذر نفلی روزہ توڑنا جائز ہے؛جلد٢ص٨٠٨؛حدیث نمبر٢٦١٢)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا کیا تم لوگوں کے پاس کچھ ہے؟ہم نے کہا نہیں آپ نے فرمایا پھر میں روزے سے ہی ہوں پھر آپ دوسرے دن تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا ہمارے پاس حیس(کھانا)بطور تحفہ آیا ہے۔ فرمایا مجھے دکھاؤ میں نے صبح روزے سے کی تھی پس آپ نے تناول فرمایا۔(ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دن کے وقت زوال سے پہلے پہلے روزے کی نیت کی جاسکتی ہے۔نیز نفلی روزہ بلاعذر بھی توڑا جاسکتا ہے البتہ اب اس کی قضاء ضروری ہو جاتی ہے۔١٢ہزاروی۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ جَوَازِ صَوْمِ النَّافِلَةِ بِنِيَّةٍ مِنَ النَّهَارِ قَبْلَ الزَّوَالِ، وَجَوَازِ فِطْرِ الصَّائِمِ نَفْلًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ؛جلد٢ص٨٠٩؛حدیث نمبر٢٦١٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص روزے کی حالت میں بھول کر کھاے یا پئے وہ اپنے روزے کو پورا کرے بےشک اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ أَكْلُ النَّاسِي وَشُرْبُهُ وَجِمَاعُهُ لَا يُفْطِرُ؛بھول کر کھانے پینے اور جماع سے روزہ نہیں ٹوٹتا؛جلد٢ص٨٠٩؛حدیث نمبر٢٦١٤)
حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے علاوہ کسی مہینے میں پورے روزے رکھتے تھے؟انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم!آپ رمضان شریف کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھتے تھے حتیٰ کہ آپ اپنے رفیق اعلیٰ سے جا ملے اسی طرح کسی ماہ میں آپ نے مکمل روزے ترک بھی نہیں فرمائے(کچھ دن روزہ رکھا)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛ترجمہ؛رمضان شریف کے علاوہ مہینوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کا بیان نیز مستحب یہ ہے کہ کوئی مہینہ روزے سے خالی نہ ہو؛جلد٢ص٨٠٩؛حدیث نمبر٢٦١٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا میرے علم کے مطابق آپ نے سوائے رمضان کے کسی مہینے میں پورے روزے نہیں رکھے اور نہ ہی پورا مہینہ روزے چھوڑے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاوصال ہوگیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٠؛حدیث نمبر٢٦١٦)
حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ روزے رکھنا شروع کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزے ہی رکھ رہے ہیں(ترک نہیں فرماتے)اور روزے رکھنا چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزے نہیں رکھ رہے، وہ فرماتی ہیں میں نے آپ کو مدینہ طیبہ آنے کے بعد رمضان شریف کے علاوہ کسی مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٠؛حدیث نمبر٢٦١٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦١٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٠؛حدیث نمبر٢٦١٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھنا شروع کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزہ ترک نہیں کریں گے اور روزہ رکھنا چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزہ نہیں رکھیں گے اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان شریف کے علاوہ کسی مہینے میں پورے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں زیادہ دن روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦١٩)
حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ روزہ رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزہ ہی رکھیں گے اور آپ روزہ رکھنے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ کبھی روزہ نہیں رکھیں گے اور میں نے آپ کو ماہ شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں روزے زیادہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا آپ شعبان کا مہینہ مکمل روزے رکھتے یعنی شعبان میں چند دنوں کے علاوہ باقی دنوں میں روزہ رکھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦٢٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سال کے مہینوں میں شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں بکثرت روزے نہیں رکھتے تھے اور فرماتے اتنا عمل کرو جس قدر تمہیں طاقت ہو اللہ تعالیٰ(اجروثواب عطاء کرنے سے) نہیں تھکتا لیکن تم (عمل سے)تھک جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی پسندیدہ ترین عمل وہ ہے جسے عمل کرنے والا ہمیشہ کرے اگرچہ وہ کم ہو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦٢١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے علاوہ کسی مہینے میں مکمل روزے نہیں رکھے اور جب آپ روزہ رکھنا شروع کرتے تو کہنے والا کہتا اللہ کی قسم آپ روزے نہیں چھوڑیں گے اور آپ روزے رکھنا چھوڑ دیتے تو اس قدر چھوڑتے کہ کہنے والا کہتا اللہ کی قسم آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦٢٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٢٢ کی مثل مروی ہے اس میں یہ بھی فرمایا کہ مدینہ طیبہ آنے کے بعد آپ نے کسی مہینے میں مسلسل روزے نہیں رکھے(ماسوائے رمضان کے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦٢٣)
حضرت عثمان بن حکیم انصاری فرماتے ہیں میں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے رجب کے بارے میں پوچھا اور اس وقت رجب کا مہینہ ہی تھا انہوں نے فرمایا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزے رکھنا ترک نہیں فرمائیں گے اور آپ روزہ رکھنا چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١١؛حدیث نمبر٢٦٢٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٢٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٢؛حدیث نمبر٢٦٢٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ کہا جاتا اب آپ روزہ ہی رکھیں گے۔اور آپ روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ کہا جاتا آپ کبھی روزہ نہیں رکھیں گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ، وَاسْتِحْبَابِ أَنْ لَا يُخْلِيَ شَهْرًا عَنْ صَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٢؛حدیث نمبر٢٦٢٦)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی کہ میں کہتا ہوں جب تک میری زندگی ہے میں رات بھر قیام کروں گا اور دن کو روزہ رکھوں گا تو آپ نے فرمایا تم نے یہ کہی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے کہی ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اس کی طاقت نہیں پس روزہ رکھو اور چھوڑ بھی دو۔سوؤ اور قیام بھی کرو ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھو کیونکہ نیکی کا ثواب اس کی دس مثل ہوتا ہے اور یہ عمر بھر روزہ رکھنے کی طرح ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے آپ نے فرمایا ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے آپ نے فرمایا ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن چھوڑ دو اور یہ حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور یہ روزوں کا بہترین طریقہ ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے افضل چیز کوئی نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تین روزوں والا ارشاد گرامی قبول کرلیتا تو یہ مجھے میری اہل اور میرے مال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔(مسلم شریف كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛ترجمہ؛جس شخص کو تکلیف ہوتی ہو یا کسی کا حق فوت ہونے کا خوف ہو یا وہ عیدوں اور ایام تشریق میں بھی روزہ نہ چھوڑے اس کو زمانہ بھر کے روزوں سے منع کرنا نیز ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن چھوڑنے کی فضیلت؛جلد٢ص٨١٢؛حدیث نمبر٢٦٢٧)
حضرت یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت عبداللہ بن یزید حضرت ابوسلمہ کے پاس گئے اور ہم نے ان کے پاس پیغام بھیجا تو وہ ہمارے پاس باہر آے ان کے مکان کے دروازے پر مسجد تھی اور ہم اس میں تھے حتیٰ کہ وہ ہمارے پاس تشریف لائے فرمایا اگر چاہو تو اندر(گھر میں)آؤ چاہو تو یہاں ہی بیٹھو ہم نے کہا نہیں،ہم یہاں ہی بیٹھے ہیں پس آپ ہم سے حدیث بیان کیجئے۔انہوں نے فرمایا مجھ سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں میں روزانہ روزہ رکھا کرتا تھا۔اور ہر رات قرآن مجید پڑھتا۔فرماتے ہیں یا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا۔یا آپ نے مجھے بلوایا۔میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم روزانہ روزہ رکھتے ہو اور پوری رات قرآن مجید پڑھتے ہو،میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور میرا مقصد تو نیکی کرنا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے ہر مہینے میں تین روزے رکھنا کافی ہے۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے آپ نے فرمایا تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے(پھر)فرمایا اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو وہ سب سے زیادہ عبادت گزار بندے تھے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے کیا ہیں؟آپ نے فرمایا وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور فرمایا مہینہ میں ایک بار قرآن مجید ختم کرو۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہےفرمایا بیس دن میں قرآن مجید ختم کرو۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا دس دنوں میں قرآن مجید ختم کرو۔فرماتے ہیں مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات دنوں میں قرآن مجید ختم کرو اور اس پر زیادہ نہ کرو۔کیوں کہ تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے اور تمہارے جسم کا تم پر حق ہے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس میں نے اپنے اوپر سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں شاید تمہاری عمر زائدہ ہو جائے حضرت عمرو بن عاص فرماتے ہیں میں اس عمر تک پہنچ گیا جس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب میں بوڑھا ہوگیا تو میں نے سوچا کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی رخصت قبول کرتا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ ؛جلد٢ص٨١٣؛حدیث نمبر٢٦٢٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں ہر ماہ تین دن کے روزوں(کے ذکر)کے بعد یوں آیا ہے کہ ہر نیکی کا ثواب اس کا دس گنا ہے اور یوں یہ عمر بھر کے روزوں کا ثواب ہوگا اور حدیث میں یہ بھی ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے سے کیا مراد ہے؟آپ نے فرمایا نصف زمانہ اور اس حدیث میں قرآن پڑھنے کا ذکر نہیں اور نہ یہ فرمایا کہ تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے البتہ یہ فرمایا کہ تمہاری اولاد کا تم پر حق ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٤؛حدیث نمبر٢٦٢٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مہینے میں ایک بار قرآن ختم کرو میں نے عرض کیا مجھے(اس سے زیادہ کی طاقت ہے)آپ نے فرمایا تو بیس دنوں میں ختم کرو فرماتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے(اس سے زیادہ کی)طاقت ہے فرمایا پس سات دنوں میں ختم کرو اور اس پر اضافہ نہ کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٤؛حدیث نمبر٢٦٣٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداللہ!فلاں آدمی کی طرح نہ ہو جاؤ وہ رات کو قیام کرتا تھا پس اس نے رات کا قیام چھوڑ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٤؛حدیث نمبر٢٦٣١)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور رات بھر نماز پڑھتا ہوں تو آپ نے مجھے بلوایا یا میری آپ سے ملاقات ہوئی۔تو آپ نے فرمایا کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم روزہ رکھتے ہو اور افطار نہیں کرتے(یعنی کسی دن روزہ ترک نہیں کرتے)اور رات بھر نماز پڑھتے ہو پس تم اس طرح نہ کرو تمہاری آنکھوں کا حصہ ہے تمہارے نفس کا حصہ ہے اور تمہارے گھر والوں کا حصہ ہے(یعنی حق ہے)۔روزہ بھی رکھو اور ترک بھی کرو نماز بھی پڑھو اور نیند بھی کرو۔ اور ہر دس دن کے بعد ایک روزہ رکھو اور یہ نو دنوں کا اجر ہوگا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام والے روزے رکھو انہوں نے پوچھا حضرت داؤد علیہ السلام کے روزوں کی کیا کیفیت تھی۔آپ نے فرمایا ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے اور دشمن کے مقابلے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!یہ میرے لیے کیسے ممکن ہے۔(یعنی دشمن کے مقابلے میں کھڑے رہنا) حضرت عطاء فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں صوم دہر(عمر بھر کے روزوں)کا ذکر کیسے آیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے(مقبول)روزے نہیں رکھے(تین بار یہ کلمات فرمائے)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٤؛حدیث نمبر٢٦٣٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٣٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٥؛حدیث نمبر٢٦٣٣)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبداللہ بن عمرو!تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو۔جب تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں خراب اور کمزور ہوجائیں گی۔ جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے(مقبول)روزے نہیں رکھے ہر مہینے میں تین روزے رکھنا عمر بھر کے روزے رکھنا ہے۔(فرماتے ہیں)میں نے عرض کیا کہ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور دشمن سے مقابلے کے وقت پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٥؛حدیث نمبر٢٦٣٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٣٤ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں یوں ہے کہ کمزور ہوجاؤ گے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٦؛حدیث نمبر٢٦٣٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا مجھے تمہارے بارے میں خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو۔انہوں نے عرض کیا میں ایسا کرتا ہوں آپ نے فرمایا اگر ایسا کروگے تو تمہاری آنکھیں خراب اور جسم کمزور ہوجائے گا تمہاری آنکھوں کا حق ہے تمہارے نفس کا حق ہے اور تمہارے گھر والوں کا حق ہے(رات کو)قیام بھی کرو نیند بھی کرو روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٦؛حدیث نمبر٢٦٣٦)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ روزے حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں اور سب سے زیادہ پسندیدہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز ہے وہ آدھی رات آرام فرماتے ہیں اور رات کا تہائی حصہ نماز کے لئے قیام کرتے پھر چھٹا حصہ آرام کرتے،اور آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٦؛حدیث نمبر٢٦٣٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ پسندیدہ روزے حضرت داؤد علیہ السلام رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز ہے وہ نصف رات آرام فرماتے پھر کھڑے ہوتے پھر سو جاتے اور آپ نصف رات کے بعد رات کا تہائی حصہ قیام فرماتے تھے۔ابن جریج کہتے ہیں میں نے حضرت عمرو بن دینار سے پوچھا کیا عمرو بن اوس فرماتے تھے کہ وہ نصف رات کے بعد رات کا تہائی حصہ قیام کرتے تھے تو انہوں نے فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٦؛حدیث نمبر٢٦٣٨)
حضرت ابو قلابہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابوالملیح نے خبر دی وہ فرماتے ہیں۔میں تمہارے والد کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے روزوں کا ذکر کیا گیا۔پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ کے لیے چمڑے کا گدا بچھایا جس میں چھال بھری ہوئی تھی آپ زمین پر بیٹھ گئے اور وہ گدا میرے اور آپ کے درمیان تھا۔آپ نے فرمایا کیا تجھے ہر مہینے کے تین روزے کافی نہیں؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے فرمایا پانچ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے فرمایا سات میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے فرمایا نو،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا گیارہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام کے روزوں سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں وہ عمر بھر کے روزے ہیں وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٧؛حدیث نمبر٢٦٣٩)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ایک دن روزہ رکھو تمہیں باقی دنوں کا اجر مل جائے گا۔انہوں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا دو روزے رکھو۔تمہارے باقی دنوں کا اجر ہوگا انہوں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا تین دن کے روزے رکھو تمہارے لیے باقی دنوں کا اجر ہوگا۔انہوں نے عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا چار دن روزہ رکھو باقی دنوں کا اجر مل جائے گا عرض کیا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا روزہ رکھو جو اللہ تعالیٰ کے یہاں افضل ہے اور وہ داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٧؛حدیث نمبر٢٦٤٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبد اللہ بن عمرو!مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم(روزانہ)دن کے وقت روزہ رکھتے ہو اور رات کو(نماز کے لئے)کھڑے ہوتے ہو۔تو ایسا نہ کرو بےشک تمہارے جسم کا تمہارے اوپر حق ہے تمہاری آنکھ کا تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو ہر مہینے میں تین روزے رکھو یہ ہمیشہ کے روزے ہیں۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اس عمل کی طاقت حاصل ہے آپ نے فرمایا حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کاش میں رخصت پر عمل کرتا۔(مطلب یہ ہے کہ پہلے مجھے اس عمل کی طاقت تھی اب نہیں رہی لہٰذا رخصت پر عمل کرتا تو عمل دائمی ہوتا۔)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ لِمَنْ تَضَرَّرَ بِهِ أَوْ فَوَّتَ بِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يُفْطِرِ الْعِيدَيْنِ وَالتَّشْرِيقَ، وَبَيَانِ تَفْضِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ، وَإِفْطَارِ يَوْمٍ؛جلد٢ص٨١٧؛حدیث نمبر٢٦٤١)
حضرت معاذہ عدویہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے؟انہوں نے فرمایا ہاں(رکھتے تھے)فرماتی ہیں میں نے پوچھا مہینے کے کن دنوں میں روزہ رکھتے تھے تو فرمایا اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ وہ کون سے دن ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛ترجمہ؛ہر مہینے کے تین روزے نیز نوذوالحجہ یوم عاشورہ،سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا مستحب ہے؛جلد٢ص٨١٨؛حدیث نمبر٢٦٤٢)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یا کسی اور شخص سے فرمایا اور سن رہے تھے کہ اے فلاں!کیا تم نے اس مہینے کے درمیان میں روزے رکھے ہیں اس نے کہا نہیں فرمایا جب تم افطار کرچکو تو دو روزے اور رکھنا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨١٨؛حدیث نمبر٢٦٤٣)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اور عرض کیا کہ آپ کیسے رکھتے ہیں روزہ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو عرض کرنے لگے:«رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِہم»”راضی ہوئے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر،اسلام کے دین ہونے پر،اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر اور پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے۔“ غرض سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بار بار ان کلمات کو کہتے تھے یہاں تک کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹھنڈا ہوگیا پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول!جو ہمیشہ روزہ رکھے وہ کیسا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔“پھر کہا جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی طاقت کس کو ہے۔یعنی اگر طاقت ہو تو خوب ہے پھر کہا:جو ایک دن روزہ رکھے ایک دن افطار کرے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ روزہ ہے داؤد علیہ السلام کا،پھر کہا:جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند ہے کہ مجھے اس کی طاقت حاصل ہے(علماء فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ کاش میری امت کو طاقت ہو ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ طاقت حاصل تھی)۔“پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین روزے ہر ماہ میں اور رمضان کے روزے ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان تک یہ ہمیشہ کا روزہ ہے یعنی ثواب میں اور عرفہ کے دن کا روزہ ایسا ہے کہ میں امیدوار ہوں اللہ پاک سے کہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اور عاشورے کے روزہ سے امید رکھتا ہوں ایک سال اگلے کا کفارہ ہو جائے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨١٨؛حدیث نمبر٢٦٤٤)
حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ کو غصہ آیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر اور اپنی بیعت پر راضی ہیں۔فرماتے ہیں آپ سے دہر(ہمیشہ کے روزوں)کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا نہ یہ روزہ ہے اور نہ ہی افطار۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس بات کی طاقت کسے حاصل ہے۔فرماتے آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن روزہ نہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کاش کہ اللہ تعالیٰ ہمیں(امت) کو اس کی طاقت عطاء فرماتا۔ اور آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ میرے بھائی حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے فرماتے ہیں آپ سے سوموار کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس دن میری ولادت ہوئی۔(یعنی یہ میرا یوم میلاد ہے) اس دن مجھےمبعوث کیا گیا اور اسی دن مجھ پر قرآن مجید نازل کیا گیا۔حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ نے فرمایا ہر مہینے کے تین روزے اور رمضان سے رمضان تک یہ صوم دہر ہیں۔ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا گزشتہ ایک سال اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے فرماتے ہیں آپ سے عاشورہ کےمتعلق روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ امام مسلم کہتے ہیں اس حدیث میں شعبہ کی روایت میں ہے۔حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار اور جمعرات کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔تو ہم نے جمعرات کے ذکر کو چھوڑ دیا کیونکہ ہمارے خیال میں اس میں وہم ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨١٩؛حدیث نمبر٢٦٤٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٤٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨٢٠؛حدیث نمبر٢٦٤٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٤٦ کی مثل مروی ہے اور اس میں سوموار کا ذکر ہے جمعرات کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨٢٠؛حدیث نمبر٢٦٤٧)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر قرآن مجید نازل کیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؛جلد٢ص٨٢٠؛حدیث نمبر٢٦٤٨)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یا کسی اور سے فرمایا(راوی کو شک ہے)کیا تم نے شعبان کے وسط میں روزہ رکھا ہے؟انہوں نے عرض کیا نہیں فرمایا(عید کے بعد)تم دو دن کے روزے رکھ لینا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛ترجمہ؛شعبان کے آخری دنوں کے روزے؛جلد٢ص٨٢٠؛حدیث نمبر٢٦٤٩)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں کوئی روزہ رکھا ہے انہوں نے عرض کیا نہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے روزے ختم ہوجائیں تو ان کی جگہ دو روزے رکھ لینا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٢٠؛حدیث نمبر٢٦٥٠)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں یعنی شعبان میں روزہ رکھا ہے اس نے عرض کیا نہیں۔راوی فرماتے ہیں آپ نے اس سے فرمایا جب رمضان المبارک کے روزے ختم ہوجائیں تو ایک یا دو دن کے روزے رکھ لینا۔حضرت شعبہ جن کو اس روایت میں شک ہے کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ دو دن کا ذکر کیا(حدیث شریف میں سُرر کا لفظ آیا ہے جس سے مراد مہینے کا درمیان ہے اور بعض نے آخری دنوں کو قرار دیا اور اسے ہی مشہور قول قرار دیا کہ اگر کسی شخص کی عادت ہو کہ مہینے کے آخری دنوں میں روزے رکھتا ہو تو جن احادیث میں رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے رکھنے سے منع کیا گیا وہ اس نہی میں داخل نہیں اب اگر وہ ان دنوں میں روزہ نہ رکھ سکا ہوتو عید کے بعد رکھ لے۔(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٢١؛حدیث نمبر٢٦٥١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٢١؛حدیث نمبر٢٦٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان شریف کے بعد افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی(نفل)نماز ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ صَوْمِ الْمُحَرَّمِ؛محرم کے روزے کی فضیلت؛جلد٢ص٨٢١؛حدیث نمبر٢٦٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ فرض نماز کے بعد افضل نماز کونسی ہے؟اور ماہ رمضان کے بعد کس مہینے کے روزے افضل ہیں؟آپ نے فرمایا فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی نماز(تہجد کی نماز)ہے اور ماہ رمضان کے بعد افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٢١؛حدیث نمبر٢٦٥٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٥٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ صَوْمِ سُرَرِ شَعْبَانَ؛جلد٢ص٨٢١؛حدیث نمبر٢٦٥٥)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو وہ عمر بھر کے روزوں کی طرح ہیں۔(ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہے رمضان کے روزے کا ثواب دس ماہ اور چھ دنوں کے روزوں کا ثواب دوماہ کے روزوں کی مثل ہونے کی وجہ سے یہ سال بھر کے روزے ہوے)(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ إِتْبَاعًا لِرَمَضَانَ؛ترجمہ؛رمضان شریف کے بعد شوال کے چھ روزوں کی فضیلت؛جلد٢ص٨٢٢؛حدیث نمبر٢٦٥٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٢٦٥٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ إِتْبَاعًا لِرَمَضَانَ؛جلد٢ص٨٢٢؛حدیث نمبر٢٦٥٧)
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٦٥٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ صَوْمِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ إِتْبَاعًا لِرَمَضَانَ؛جلد٢ص٨٢٢؛حدیث نمبر٢٦٥٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام کو خواب میں(رمضان المبارک کے)آخری ہفتہ میں لیلتہ القدر دکھائی گئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خواب آخری سات دنوں کے موافق ہے پس جو شخص اس(لیلۃ القدر)کو تلاش کرنا چاہے وہ آخری سات دنوں میں تلاش کرے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِهَا؛ترجمہ؛لیلتہ القدر کی فضیلت،اس کی تلاش کی ترغیب،وقوع اور اس کی طلب کے کون سے وقت کی امید زیادہ ہے؛جلد٢ص٨٢٢؛حدیث نمبر٢٦٥٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا لیلتہ القدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٣؛حدیث نمبر٢٦٦٠)
حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں ایک شخص نے رمضان المبارک کی ستائیسویں رات میں لیلتہ القدر کو خواب میں دیکھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خواب آخری دس دنوں میں واقع ہوا پس آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اسے تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٣؛حدیث نمبر٢٦٦١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے لیلتہ القدر کے بارے میں فرمایا کہ کچھ لوگوں کو یہ دکھایا گیا کہ لیلتہ القدر پہلے سات دنوں میں ہے اور کچھ لوگوں کو آخری سات دنوں میں دکھائی گئی۔پس تم اسے آخری دس دنوں میں تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٣؛حدیث نمبر٢٦٦٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخری عشرہ میں تلاش کرو یعنی لیلتہ القدر کو،اگر تم سے کوئی کمزور پڑ جائے یا عاجز ہوجائے تو باقی سات دنوں میں تلاش کرنے میں سستی نہ کرے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٣؛حدیث نمبر٢٦٦٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص اس(لیلۃ القدر)کو تلاش کرنا چاہتا ہے وہ(رمضان شریف کے)آخری عشرہ میں تلاش کرے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٤؛حدیث نمبر٢٦٦٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیلتہ القدر کو(رمضان شریف کے)آخری عشرہ میں تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٤؛حدیث نمبر٢٦٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لیلتہ القدر دکھائی گئی پھر مجھے بعض اہل خانہ نے جگا دیا تو مجھے وہ بھلادی گئی پس تم آخری دس دنوں میں تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٤؛حدیث نمبر٢٦٦٦)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے درمیان والے حصے میں اعتکاف میں بیٹھتے تھے جب بیس راتیں گزر جاتیں اور اکیسویں رات آتی تو آپ گھر تشریف لے جاتے اور آپ کے ساتھ جو صحابہ کرام ہوتے وہ بھی واپس چلے جاتے۔ پھر آپ نے ایک مہینے میں اس رات میں اعتکاف کیا جس میں آپ گھر چلے جاتے تھے(اکیسویں رات)اور صحابہ کرام کو خطبہ دیتے ہوئے آپ نے ان کو ان باتوں کا حکم دیا جو اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر فرمایا پہلے میں اس درمیانے عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھتا تھا پھر مجھ پر واضح ہوا کہ میں آخری عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھوں پس جو شخص میرے ساتھ اعتکاف میں بیٹھا ہے وہ اپنے مقام اعتکاف میں رات گزارے میں نے یہ رات دیکھی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی پس تم آخری عشرہ کی ہر طاق رات میں اسے تلاش کرو اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اکیسویں رات کو بارش ہوئی تھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز پر پانی ٹپکا جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ کو دیکھا آپ کا چہرہ انور مٹی اور پانی سے تر تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٤؛حدیث نمبر٢٦٦٧)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں مہینے کے درمیان والے حصے میں اعتکاف کرتے تھے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٦٦٧ کی مثل مروی ہے۔اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا(جس نے اعتکاف کیا)وہ اعتکاف کی جگہ رہے اور یہ بھی فرمایا کہ آپ کی پیشانی پر مٹی اور پانی لگا ہوا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٥؛حدیث نمبر٢٦٦٨)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف کے پہلے عشرہ میں اعتکاف فرمایا پھر درمیان والے عشرہ میں ایک ترکی خیمہ میں اعتکاف فرمایا۔(اس خیمے)کی دروازے پر چٹائی تھی آپ نے چٹائی کو ہاتھ سے پکڑ کر خیمہ کی ایک جانب کر دیا پھر سر انور باہر نکال کر صحابہ کرام سے گفتگو فرمائی صحابہ کرام قریب ہوگئے تو آپ نے فرمایا میں نے اس رات کی تلاش میں پہلا عشرہ اعتکاف میں گزارا۔پھر درمیان والا عشرہ اعتکاف میں بیٹھا پھر میرے پاس کوئی(فرشتہ)آیا اور مجھے کہا گیا کہ یہ آخری عشرہ میں ہے پس تم میں سے جو اعتکاف میں بیٹھنا چاہے وہ اعتکاف میں بیٹھے۔ چنانچہ صحابہ کرام آپ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھے آپ نے فرمایا مجھے یہ رات طاق راتوں میں دکھائی گئی ہے اور اس کی صبح میں نے مٹی اور پانی میں سجدہ کیا تو اکیسویں رات کو آپ نے قیام کیا اور صبح ہوئی تو بارش ہوگئی جس سے مسجد ٹپکنے لگی پس میں نے مٹی اور پانی کو دیکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوکر باہر تشریف لائے تو آپ کی پیشانی اور ناک کی چوٹی کے کنارے پر مٹی اور پانی لگا ہوا تھا اور یہ آخری عشرہ کی اکیسویں رات تھی۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٥؛حدیث نمبر٢٦٦٩
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے لیلتہ القدر کے بارے میں باہم گفتگو کی پھر میں حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ میرے دوست تھے میں نے کہا کیا آپ ہمارے ساتھ کھجوروں کے باغ تک نہیں چلتے پس وہ تشریف لے گئے اور ان پر ایک چادر تھی میں نے ان سے پوچھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلتہ القدر کا ذکر سنا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں،ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان شریف کے درمیان والے عشرہ میں اعتکاف کیا پس جب بیس رمضان کی صبح ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا مجھے لیلتہ القدر دکھائی گئی اور میں اسے بھول گیا یا فرمایا مجھے وہ بھلا دی گئی پس اسے آخری عشرہ کے طاق راتوں میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں نے(اس رات کی صبح)پانی اور مٹی میں سجدہ کیا لہذا جس شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ لوٹ جائے۔حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم واپس چلے گئے اور ہمیں آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی دکھائی نہیں دیتا تھا ان میں پھر بادل آئے اور ہم پر بارش ہوئی حتیٰ کہ مسجد کی چھت ٹپکنے لگی اور وہ کھجوروں کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی اور نماز کھڑی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی اور مٹی میں سجدہ کیا حتیٰ کہ میں نے آپ کی پیشانی میں گارے کا نشان دیکھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٥؛حدیث نمبر٢٦٧٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٧٠ کی مثل مروی ہے۔اس میں ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے پر مٹی(گارے)کا نشان تھا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٦؛حدیث نمبر٢٦٧١)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کے درمیان عشرے میں اعتکاف کیا اور آپ لیلتہ القدر تلاش کر رہے تھے اور ابھی آپ کو اس کا علم نہیں دیا گیا تھا جب درمیانہ عشرہ مکمل ہوا تو آپ نے خیمہ کھولنے کا حکم دیا پھر آپ پر واضح کیا گیا کہ لیلتہ القدر آخری عشرے میں ہے تو آپ نے دوبارہ خیمہ لگانے کا حکم دیا۔پھر صحابہ کرام کی طرف تشریف لائے اور فرمایا اے لوگو!مجھے لیلتہ القدر بتائی گئی تھی اور میں تمہیں بتانے کے لئے آیا تو دو شخص لڑتے ہوئے آے ان دونوں کے ساتھ شیطان تھا تو مجھے وہ بھلا دی گئی۔پس تم اسے رمضان شریف کے آخری عشرے میں تلاش کرو اس کو نویں،ساتویں اور پانچویں راتوں میں ڈھونڈو۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا اے ابو سعید!ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں انہوں نے فرمایا تمہاری نسبت ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں۔راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا نویں،ساتویں اور پانچویں راتیں کیا ہیں؟انہوں نے فرمایا جب اکیسویں رات گزر جائے تو اس سے ملی ہوئی رات بائسویں رات ہیں اور یہی نویں ہے اور جب تئیس گزر جائے تو اس سے ملی ہوئی ساتویں ہے اور جب پچیسویں گزر جائے تو اس سے ملی ہوئی رات پانچویں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٦؛حدیث نمبر٢٦٧٢)
حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لیلتہ القدر دکھائی گئی پھر وہ مجھے بھلادی گئی اور میں نے اس کی صبح دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کرتا ہوں فرماتے ہیں پس تیسویں رات کو ہمارے اوپر بارش ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی آپ نے سلام پھیرا تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کا نشان تھا اور حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تئیسویں رات کو لیلتہ القدر کہتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٧؛حدیث نمبر٢٦٧٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیلتہ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٨؛حدیث نمبر٢٦٧٤)
حضرت زر بن حبیش فرماتے ہیں میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص سال بھر قیام کرے وہ لیلتہ القدر کو پالیتا ہے۔انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے انہوں نے ارادہ کیا کہ لوگ(ایک رات پر)تکیہ کر کے بیٹھ نہ جائے ورنہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ(رات)رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہے اور یہ ستائیسویں رات ہے(یعنی ان شاء اللہ کے بغیر کہا)۔ حضرت زر بن حبیش فرماتے ہیں میں نے کہا اے ابالمنذر(ابی بن کعب)آپ کس بنیاد پر یہ بات کہتے ہیں؟انہوں نے فرمایا اس علامت کی بنیاد پر جس کی خبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی ہے۔آپ نے فرمایا اس رات کے بعد طلوع ہونے والے سورج میں شعائیں نہیں ہوتیں۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٨؛حدیث نمبر٢٦٧٥)
حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ،حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میں اس رات کو جانتا ہوں۔حضرت شعبہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ وہی رات ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں(نماز کے لئے)قیام کا حکم دیا اور یہ ستائیسویں رات ہے۔حضرت شعبہ کو حضرت ابی کے ان الفاظ میں شک ہے کہ یہ وہی رات ہے جس کا ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔انہوں نے کہا میرے ایک دوست نے حضرت شیخ سے اسی طرح روایت کیا۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٨؛حدیث نمبر٢٦٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لیلتہ القدر کے بارے میں گفتگو کی تو آپ نے فرمایا تم میں سے کس کو یاد ہے جب چاند طلوع ہوتا ہے۔تو وہ طشت(تھال)کے ایک ٹکڑے کی طرح ہوتا ہے۔(لیلۃ القدر نہایت بابرکات رات ہے قرآن مجید کے مطابق یہ رات ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے صحابہ کرام اسی رات کی تلاش میں عبادت کرتے رہے اور ان کو علامات کے ذریعے رات مل جاتی ہے۔اس رات کا تعین نہیں کیا گیا تاکہ لوگ ایک ہی رات پر بھروسہ نہ کریں۔لہٰذا آخری عشرہ رمضان کی طاق راتوں میں سے کوئی رات لیلتہ القدر ہوتی ہے راتوں میں قیام کرنے اور عبادت کے ذریعے لیلتہ القدر کی برکات حاصل ہوجاتی ہیں۔١٢ہزاروی)۔(مسلم شریف؛كِتَاب الصِّيَامِ؛بَابُ فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِهَا، وَبَيَانِ مَحَلِّهَا وَأَرْجَى أَوْقَاتِ طَلَبِها؛جلد٢ص٨٢٩؛حدیث نمبر٢٦٧٧)
Muslim Shareef : Kitabus Siyam
|
Muslim Shareef : كِتَاب الصِّيَامِ
|
•