asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Haj

From 2689 to 3295

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے تو آپ نے فرمایا قمیص،دستاریں،شلواریں،ٹوپیاں اور موزے نہ پہنو مگر یہ کہ کوئی شخص جوتے نہ پائے تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہن لے اور ایسا لباس نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس(ایک خوشبودار گھاس کا رنگ یا خوشبو)ہو۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛حج یا عمرہ کے محرم کے لباس وغیرہ کا حکم؛جلد٢ص٨٣٤؛حدیث نمبر٢٦٨٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2689

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کونسا لباس پہن سکتا ہے تو آپ نے فرمایا محرم نہ قمیص پہنے نہ پگڑی باندھے نہ ٹوپی پہنے اور نہ ہی شلوار پہنے اور کوئی ایسا کپڑا بھی نہ پہنے جس میں ورس(خوشبودار گھاس)اور زعفران(کی خوشبو)ہو اور موزے بھی نہ پہنے مگر جب اسے جوتا نہ ملے تو ان موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہن لے۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٥؛حدیث نمبر٢٦٩٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ؟ قَالَ: «لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ، وَلَا الْعِمَامَةَ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ وَلَا الْخُفَّيْنِ، إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ فَلْيَقْطَعْهُمَا، حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2690

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی محرم ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران یا ورس کا رنگ ہواور فرمایا جو آدمی جوتیاں نہ پائے وہ موزے پہن لے لیکن ان کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دے۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٥؛حدیث نمبر٢٦٩١)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ» وَقَالَ: «مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2691

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے جو چادر نہ پائے اور موزے وہ پہن سکتا ہے جو جوتیاں نہ پائے اس سے محرم مراد ہے۔(حضرت امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ شلوار کو پھاڑ کر چادر کی طرح کرے جس طرح موزوں کو کاٹ دیا جاتا ہے اگر اسی طرح شلوار پہنے گا تو دم لازم آئے گا یعنی قربانی وغیرہ کرنی ہوگی(عمدۃ القاری بحوالہ شرح مسلم علامہ غلام رسول سعیدی جلد ٣ص٢٤٦)(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٥؛حدیث نمبر٢٦٩٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ: «السَّرَاوِيلُ، لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْإِزَارَ وَالْخُفَّانِ، لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ» يَعْنِي الْمُحْرِمَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2692

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٩٢ کی مثل مروی ہے اور اس میں ہے کہ آپ عرفات میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٥؛حدیث نمبر٢٦٩٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَا: جَمِيعًا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ.

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2693

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٦٩٣ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں عرفات میں خطبہ دینے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٥؛حدیث نمبر٢٦٩٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ غَيْرُ شُعْبَةَ وَحْدَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2694

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جوتے نہ پائے وہ موزے پہن لے اور جسے چادر میسر نہ ہو وہ شلوار پہن لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٦؛حدیث نمبر٢٦٩٥)

وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا، فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2695

حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ(مقام)جعرانہ میں تھے اس شخص نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس پر خوشبو یا زردی کا اثر تھا اس نے کہا آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں میں اپنے عمرہ میں کیا طریقہ اختیار کروں راوی فرماتے ہیں اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہورہی تھی اور آپ کو کپڑا اوڑھا دیا گیا تھا۔حضرت یعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری خواہش تھی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتے ہوئے دیکھوں۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھوں جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو؟چنانچہ انہوں نے کپڑے کا کنارہ اٹھایا تو میں نے دیکھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لے رہے تھے۔راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے وہ آواز اونٹ کے خراٹوں جیسی تھی فرماتے ہیں جب وہ کیفیت دور ہوگئی تو آپ نے فرمایا عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے(پھر فرمایا)اپنے آپ سے زردی کا رنگ دھولو یا فرمایا خوشبو کا اثر دور کر دو اور جبہ بھی اتار دو۔اور عمرے میں وہی کچھ کرو جو حج میں کرتے ہو(مطلب یہ ہے کہ جس طرح حج کے احرام میں ان امور سے بچتے ہو جو اس حالت میں حرام ہیں اس طرح عمرے میں بھی بچو یا دونوں میں جو مشترک امور ہیں۔مثلا احرام باندھنا،طواف اور سعی وغیرہ امور ادا کرو(تمام افعال حج مراد نہیں(١٢ہزاروی) ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٦؛حدیث نمبر٢٦٩٦)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ، عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهَا خَلُوقٌ - أَوْ قَالَ أَثَرُ صُفْرَةٍ - فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟ قَالَ: وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ، وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ: وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ فَقَالَ: أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ؟ قَالَ: فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ لَهُ غَطِيطٌ، - قَالَ وَأَحْسَبُهُ قَالَ - كَغَطِيطِ الْبَكْرِ، قَالَ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ - أَوْ قَالَ أَثَرَ الْخَلُوقِ - وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صَانِعٌ فِي حَجِّكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2696

حضرت صفوان بن یعلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جعرانہ(مقام)میں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں بھی بارگاہ نبوی میں حاضر تھا اس شخص نے جبہ(بڑا کوٹ)پہنا ہوا تھا اور اس نے خوشبو لگا رکھی تھی اس نے کہا میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور مجھ پر جبہ ہے اور میں نے خوشبو لگائی ہوئی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا حج میں کیا کیا کرتے ہو؟ اس نے عرض کیا میں اپنے کپڑے اتار دیتا ہوں اور اپنے آپ سے خوشبو دھو ڈالتا ہوں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ حج میں کرتے ہو وہی عمرہ میں کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٦؛حدیث نمبر٢٦٩٧)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ، وَأَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ - يَعْنِي جُبَّةً - وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ، فَقَالَ: إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَيَّ هَذَا، وَأَنَا مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ؟» قَالَ: أَنْزِعُ عَنِّي هَذِهِ الثِّيَابَ، وَأَغْسِلُ عَنِّي هَذَا الْخَلُوقَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ، فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2697

حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ روایت کرتےہیں کہ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا کہ کاش میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھوں جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو پس جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعران میں تھے اور آپ پر کپڑا تھا جس سے آپ پر سایہ کیا گیا تھا آپ کے ساتھ کچھ صحابہ کرام تھے جن میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے کہ ایک شخص آیا جس نے بڑا کوٹ پہن رکھا تھا اور اس نے خوشبو لگا رکھی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا پھر خاموش ہوگئے پس آپ پر وحی نازل ہوئی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ آؤ حضرت یعلی آے اور انہوں نے اپنا سر(کپڑے کے اندر)داخل کیا تو دیکھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سرخ ہے آپ کچھ دیر خراٹے لینے لگے پھر یہ کیفیت دور ہوگئی۔ آپ نے فرمایا وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی عمرہ کے بارے میں پوچھا تھا اس شخص کو تلاش کر کے لایا گیا تو آپ نے فرمایا اپنے آپ سے خوشبو تین مرتبہ دھوڈالو اور کوٹ اتار دو پھر عمرہ میں وہی کچھ کرو جو اپنے حج میں کرتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٧؛حدیث نمبر٢٦٩٨)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَيْتَنِي أَرَى نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، وَعَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ عَلَيْهِ، مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ عُمَرُ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَمَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ سَكَتَ، فَجَاءَهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ عُمَرُ بِيَدِهِ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ: تَعَالَ، فَجَاءَ يَعْلَى، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ، يَغِطُّ سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: «أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا؟» فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ، فَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ، فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ، مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2698

حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص جعران مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا اور اس نے داڑھی اور سر میں زرد رنگ لگایا ہوا تھا جب کہ کوٹ بھی پہنا ہوا تھا۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور میری حالت آپ دیکھ رہے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا کوٹ اتار لو اور اپنے آپ سے زرد رنگ دھو ڈالو اور جو کچھ حج میں کرتے ہو اپنے عمرہ میں بھی کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٧؛حدیث نمبر٢٦٩٩)

وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ - قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ، قَدْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ، وَأَنَا كَمَا تَرَى، فَقَالَ: «انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ، فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2699

حضرت صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جس نے کوٹ پہن رکھا تھا اور اس پر خوشبو کا اثر تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے تو میں کیا کروں؟آپ خاموش رہے اور جواب نہ دیا اور جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آپ کو کپڑا اوڑھا دیتے تھے۔ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ جب آپ پر وحی نازل ہو تو میں آپ کے ساتھ کپڑے میں سر داخل کروں جب آپ پر وحی نازل ہوئی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ کو کپڑے سے ڈھانپا تو میں نے آپ کے ساتھ کپڑے میں سر داخل کیا اور آپ کو دیکھا جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا جس شخص نے ابھی عمرے کے بارے میں سوال کیا تھا وہ کہاں ہے تو وہ شخص کھڑا ہوا آپ نے فرمایا یہ جبہ اتار دو اور اپنے آپ سے خوشبو کا اثر دور کردو اور اپنے عمرہ میں وہی کچھ کرو جو حج میں کرتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، وَمَا لَا يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ؛جلد٢ص٨٣٨؛حدیث نمبر٢٧٠٠)

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا أَثَرٌ مِنْ خَلُوقٍ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ، فَكَيْفَ أَفْعَلُ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ، وَكَانَ عُمَرُ يَسْتُرُهُ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، يُظِلُّهُ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِّي أُحِبُّ، إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، أَنْ أُدْخِلَ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ، فَلَمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، خَمَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالثَّوْبِ، فَجِئْتُهُ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا عَنِ الْعُمْرَةِ؟» فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ: «انْزِعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ الَّذِي بِكَ، وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ، مَا كُنْتَ فَاعِلًا فِي حَجِّكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2700

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ،اہل شام کے لئے جحفہ اہل نجد کے لئے قرن اور اہل یمن کے لئے یلملم کو مقرر فرمایا۔آپ نے فرمایا یہ مقامات ان علاقہ والوں کے لئے بھی جو دوسرے علاقوں سے وہاں آئیں اور حج و عمرہ کا ارادہ کریں اور جو ان کے اندر ہوں وہ اپنے مقام سے احرام باندھیں حتیٰ کہ اہل مکہ،مکہ مکرمہ سے احرام باندھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛ترجمہ؛حج اور عمرہ کی مواقيت؛جلد٢ص٨٣٨؛حدیث نمبر٢٧٠١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ، ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ، قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ، يَلَمْلَمَ، قَالَ: «فَهُنَّ لَهُنَّ، وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ، وَكَذَا فَكَذَلِكَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2701

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ،شام کے لئے جحفہ،اہل نجد کے لئے قرن المنازل اور اہل یمن کے لئے یلملم کو(میقات)مقرر فرمایا اور فرمایا یہ وہاں کے رہنے والوں اور باہر سے آنے والوں کے لئے ہیں یعنی جو حج اور عمرہ کا ارادہ کریں اور جو ان کے اندر ہیں وہ اسی جگہ سے احرام باندھیں حتیٰ کہ اہل مکہ،مکہ مکرمہ سے احرام باندھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٣٩؛حدیث نمبر٢٧٠٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَقَالَ: «هُنَّ لَهُمْ، وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ، مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ، فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ، مِنْ مَكَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2702

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل مدینہ،ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں،اہل شام جحفہ سے اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٣٩؛حدیث نمبر٢٧٠٣)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ، مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ، مِنْ قَرْنٍ» قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2703

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کو حکم دیا کہ وہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں۔اہل شام جحفہ سے اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے بتایا گیا کہ آپ نے فرمایا اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٤٠؛حدیث نمبر٢٧٠٤)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: وَذُكِرَ لِي - وَلَمْ أَسْمَعْ - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2704

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اہل مدینہ کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے۔اہل شام کے لئے مَہیعہ یعنی جحفہ۔اور اہل نجد کے لئے احرام باندھنے کی جگہ قرن ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے لیکن میں نے خود آپ سے نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا اہل یمن کے لئے احرام باندھنے کی جگہ یلملم ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٤٠؛حدیث نمبر٢٧٠٥)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ذُو الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مَهْيَعَةُ، وَهِيَ الْجُحْفَةُ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ» قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: وَزَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْهُ - قَالَ: «وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2705

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل مدینہ،ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں،اہل شام جحفہ سے احرام باندھیں اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اور مجھے یہ بات بتائی گئی اور میں نے خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی کہ آپ نے فرمایا اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٤٠؛حدیث نمبر٢٧٠٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَنْ يُهِلُّوا مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلَ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلَ نَجْدٍ، مِنْ قَرْنٍ. وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: وَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ قَالَ: «وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2706

حضرت ابوالزبیر سے مروی ہے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا آپ سے میقات کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا میں نے سنا ہے۔پھر ابوالزبیر نے بیان کرتے ہوئے فرمایا میرا خیال ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٤٠؛حدیث نمبر٢٧٠٧)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ - ثُمَّ انْتَهَى فَقَالَ: أُرَاهُ يَعْنِي - النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2707

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے میقات کے بارے میں پوچھا گیا تو راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے مرفوعاً رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ اہل مدینہ کی میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے، اہل عراق کی میقات ذات عرق ہے اور اہل نجد کی میقات قرن ہے جب کہ اہل یمن کی میقات یلملم ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٤٠؛حدیث نمبر٢٧٠٨)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ - قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ فَقَالَ: سَمِعْتُ - أَحْسَبُهُ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2708

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ اس طرح تھا۔ «لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ»(ترجمہ:میں حاضر ہوں یااللہ!میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں بےشک تعریف اور نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔) اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس میں یہ اضافہ فرماتے: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ"(ترجمہ)"میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرے احکام کی تعمیل کے لئے موجود ہوں تمام بھلائیاں تیرے قبضے میں ہے میں حاضر ہوں رغبت اور عمل تیری طرف ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا؛ترجمہ؛تلبیہ اس کا طریقہ اور وقت؛جلد٢ص٨٤١؛حدیث نمبر٢٧٠٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَزِيدُ فِيهَا: " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2709

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سواری پر سوار ہوے اور وہ آپ کو لے کر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس کھڑے ہوئی تو آپ نے احرام باندھا اور کہامیں حاضر ہوں یااللہ!میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں بےشک تعریف اور نعمت تیرے لیے ہے اور بادشاہی بھی تیری ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے اور حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ یہ اضافہ بھی فرماتے۔ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیری اطاعت کے لئے مستعد ہوں تمام بھلائیاں تیرے قبضے میں ہے اور رغبت و عمل بھی تیری طرف ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا؛جلد٢ص٨٤٢؛حدیث نمبر٢٧١٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَنَافِعٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللهِ، وَحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ، أَهَلَّ فَقَالَ: «لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» قَالُوا: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَافِعٌ: كَانَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَزِيدُ مَعَ هَذَا: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2710

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنے بالوں کو(مہندی یا گوند سے)چپکاتے ہوئے تلبیہ کہ رہے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا؛جلد٢ص٨٤٢؛حدیث نمبر٢٧١١)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2711

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ اپنے بالوں کو(مہندی یا گوند سے)چپکاتے ہوئے تلبیہ کہ رہے تھے۔ میں حاضر ہوں یااللہ!میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں بےشک تعریف نعمت اور بادشاہی تیرے لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں آپ ان الفاظ پر اضافہ نہیں فرماتے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ہی بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس کھڑی ہوگئی تو آپ نے ان کلمات کے ساتھ تلبیہ کہ کر احرام باندھا۔اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کلمات کے ساتھ تلبیہ کہتے تھے جن کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے اور وہ کلمات اس طرح ہیں:لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ۔(ترجمہ گزر چکا ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا؛جلد٢ص٨٤٢؛حدیث نمبر٢٧١٢)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: فَإِنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا، يَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ، أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يُهِلُّ بِإِهْلَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَيَقُولُ: لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2712

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مشرکین یوں کہتے تھے"لبیک لاشریک لک"تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تمہارے لئے خرابی ہو اس سے آگے نہ کہو(یہی کافی ہے)تو وہ کہتے۔"الا شریکا ھو لک تملکہ وملک"مگر وہ شریک جس کا تو مالک ہے اور اس کا بھی جس کا وہ مالک ہے وہ لوگ یہ بات طواف کرتے ہوئے کہتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا؛جلد٢ص٨٤٣؛حدیث نمبر٢٧١٣)

وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكُمْ، قَدْ قَدْ» فَيَقُولُونَ: إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ، يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2713

حضرت سالم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے یہ تمہارا بیدا(مقام)ہے جس میں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہو۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام صرف مسجد ذوالحلیفہ سے باندھا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ أَمْرِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِالْإِحْرَامِ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ؛ترجمہ؛اہل مدینہ کو مسجد ذوالحلیفہ سے احرام باندھنے کا حکم؛جلد٢ص٨٤٣؛حدیث نمبر٢٧١٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا «مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ» يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2714

حضرت سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا جاتا کہ احرام(مقام)بیداء سے ہے تو وہ فرماتے ہیں وہی بیدا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام درخت کے پاس باندھا جب آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوئی۔(مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے ذوالحلیفہ پہلے اور مقام بیدا بعد میں آیا ہے چونکہ کوئی بستی اور عمارات وغیرہ نہیں اس لئے اسے بیدا(بیابان)کہا جاتا ہے ان احادیث میں بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ سے احرام باندھتے تھے کیونکہ وہ میقات اہل مدینہ ہے اور میقات سے احرام کے بغیر گزرنا منع ہے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ أَمْرِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِالْإِحْرَامِ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ؛جلد٢ص٨٤٣؛حدیث نمبر٢٧١٥)

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، إِذَا قِيلَ لَهُ: الْإِحْرَامُ مِنَ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ، حِينَ قَامَ بِهِ بَعِيرُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2715

حضرت عبید بن جریج فرماتے ہیں انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابو عبد الرحمن!میں آپ کو ایسے چار کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں جو آپ کے ساتھیوں میں کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا۔انہوں نے فرمایا اے ابن جریج!وہ کون سے کام ہیں؟انہوں نے عرض کیا آپ رکن یمانی کے علاوہ کسی رکن کو ہاتھ نہیں لگاتے اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بغیر بالوں کے چمڑے کی جوتیاں پہنتے ہیں۔میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ زرد رنگ کے ساتھ رنگتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ جب آپ مکہ مکرمہ ہوتے تو لوگ چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیتے اور آپ آٹھ ذوالحجہ کو احرام باندھے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جہاں تک ارکان کا تعلق ہے تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ وہ جوتا پہنتے تھے جس میں بال نہ ہوں اور اس میں وضو کرتے تھے پس میں ان کو پہننا پسند کرتا ہوں جہاں تک زرد رنگ کا تعلق ہے تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اسی رنگ سے رنگتے تھے تو میں بھی اسی سے رنگنا پسند کرتا ہوں اور احرام باندھنے کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اس وقت احرام باندھتے تھے جب آپ کی اونٹنی کھڑی ہوجاتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الْإِهْلَالِ مِنْ حَيْثُ تَنْبَعِثُ الرَّاحِلَةُ؛جلد٢ص٨٤٤؛حدیث نمبر٢٧١٦)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ: لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هُنَّ؟ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ، قَالَ: رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ، إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ، أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلَالَ، وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: «أَمَّا الْأَرْكَانُ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ، وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2716

حضرت عبید بن جریج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بارہ مرتبہ حج اور عمرہ کیا تو میں نے پوچھا اے ابو عبد الرحمن میں نے آپ میں چار باتیں دیکھی ہیں۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٧١٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الْإِهْلَالِ مِنْ حَيْثُ تَنْبَعِثُ الرَّاحِلَةُ؛جلد٢ص٨٤٥؛حدیث نمبر٢٧١٧)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثِنْتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، بِهَذَا الْمَعْنَى إِلَّا فِي قِصَّةِ الْإِهْلَالِ، فَإِنَّهُ خَالَفَ رِوَايَةَ الْمَقْبُرِيِّ. فَذَكَرَهُ بِمَعْنًى سِوَى ذِكْرِهِ إِيَّاهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2717

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں جب رکاب میں پاؤں رکھا اور آپ کی سواری کھڑی ہوگئی تو آپ نے احرام باندھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الْإِهْلَالِ مِنْ حَيْثُ تَنْبَعِثُ الرَّاحِلَةُ؛جلد٢ص٨٤٥؛حدیث نمبر٢٧١٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، وَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً، أَهَلَّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2718

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بتاتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت احرام باندھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوگئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الْإِهْلَالِ مِنْ حَيْثُ تَنْبَعِثُ الرَّاحِلَةُ؛جلد٢ص٨٤٥؛حدیث نمبر٢٧١٩)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2719

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوے پھر آپ نے احرام باندھا(نیت کی)جب وہ سیدھی کھڑی ہوگئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الْإِهْلَالِ مِنْ حَيْثُ تَنْبَعِثُ الرَّاحِلَةُ؛جلد٢ص٨٤٥؛حدیث نمبر٢٧٢٠)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ، حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2720

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آغاز میں ذوالحلیفہ میں رات گزاری اور اس کی مسجد میں نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ ذِي الحُلَيْفَةِ؛جلد٢ص٨٤٥؛حدیث نمبر٢٧٢١)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، - قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ حَرْمَلَةُ: - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: «بَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مَبْدَأَهُ، وَصَلَّى فِي مَسْجِدِهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2721

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی جب آپ نے احرام باندھا اور جب طواف سے پہلے آپ نے احرام کھولا تو اس وقت بھی آپ کو خوشبو لگائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛ترجمہ؛احرام سے پہلے خوشبو لگانا مستحب ہے؛جلد٢ص٨٤٦؛حدیث نمبر٢٧٢٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2722

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے احرام کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی جب آپ نے احرام باندھا اور جب آپ نے بیت اللہ شریف کے طواف سے پہلے احرام کھولا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٦؛حدیث نمبر٢٧٢٣)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ، قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2723

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی وجہ سے آپ کو احرام سے پہلے اور احرام کھولنے کے لئے طواف سے پہلے خوشبو لگائی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٦؛حدیث نمبر٢٧٢٤)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: «كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2724

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے اور کھولنے کے لیے خوشبو لگائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٦؛حدیث نمبر٢٧٢٥)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ وَلِحُرْمِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2725

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے اور کھولنے کے سلسلے میں ذَرِیرہ خوشبو لگائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٧؛حدیث نمبر٢٧٢٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، وَالْقَاسِمَ، يُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي بِذَرِيرَةٍ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2726

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کونسی خوشبو لگاتی تھیں جب آپ احرام باندھتے تو وہ فرماتی تھیں سب سے اچھی خوشبو(لگائی تھی)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٧؛حدیث نمبر٢٧٢٧)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حُرْمِهِ؟ قَالَتْ: بِأَطْيَبِ الطِّيبِ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2727

حضرت عروہ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام سے پہلے سب سے اچھی خوشبو جو میسر ہوتی لگاتی تھی پھر آپ احرام باندھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٧؛حدیث نمبر٢٧٢٨)

وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، ثُمَّ يُحْرِمُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2728

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھتے وقت اور جب طواف افاضہ(فرض طواف)سے پہلے آپ احرام کھولتے سب سے اچھی خوشبو جو مجھے ملتی،لگاتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٧؛حدیث نمبر٢٧٢٩)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ بِأَطْيَبِ مَا وَجَدْتُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2729

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ حالت احرام میں تھے راوی خلف نے یہ نہیں کہا کہ آپ محرم تھے البتہ یہ کہا کہ وہ خوشبو احرام کی وجہ سے تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٧؛حدیث نمبر٢٧٣٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: - حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»، وَلَمْ يَقُلْ خَلَفٌ: وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: وَذَاكَ طِيبُ إِحْرَامِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2730

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو دیکھ رہی ہوں اور آپ تلبیہ کہ رہے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣١)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ - قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُهِلُّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2731

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں دیکھ رہی ہوں کہ خوشبو چمک رہی ہے اور آپ تلبیہ کہ رہے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُلَبِّي»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2732

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں دیکھ رہی ہوں پھر حسب سابق ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «لَكَأَنِّي أَنْظُرُ» بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2733

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں دیکھ رہی ہوں کہ خوشبو چمک رہی ہے اور آپ حالت احرام میں تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: «كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2734

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں دیکھ رہی ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مانگ میں خوشبو چمک رہی ہے۔اور آپ حالت احرام میں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣٥)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «إِنْ كُنْتُ لَأَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2735

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو سب سے اچھی خوشبو جو حاصل ہوتی لگاتے پھر میں آپ کے سر انور اور داڑھی مبارک میں تیل کی چمک دیکھتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٨؛حدیث نمبر٢٧٣٦)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ السَّلُولِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعَ ابْنَ الْأَسْوَدِ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ، يَتَطَيَّبُ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ، ثُمَّ أَرَى وَبِيصَ الدُّهْنِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، بَعْدَ ذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2736

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا یہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں کستوری کی خوشبو چمک رہی ہے اور آپ حالت احرام میں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٩؛حدیث نمبر٢٧٣٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2737

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٣٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٩؛حدیث نمبر٢٧٣٨)

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2738

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام سے پہلے اور قربانی کے دن طواف سے پہلے ایسی خوشبو لگاتی جس میں کستوری ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٩؛حدیث نمبر٢٧٣٩)

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ، قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ، بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2739

حضرت محمد بن منتشر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو خوشبو لگاتا ہے۔پھر صبح احرام باندھتا ہے انہوں نے فرمایا میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں صبح اس حالت میں احرام باندھوں کہ میرے بدن سے خوشبو پھیل رہی ہو۔مجھے اس عمل کے مقابلے میں تارکول ملنا زیادہ پسند ہے۔ محمد بن منتشر فرماتے ہیں پھر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان کو بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں اس حالت میں صبح احرام باندھوں کہ میرے بدن سے خوشبو مہک رہی ہو مجھے اس مقابلے میں تارکول ملنا زیادہ پسند ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کے وقت آپ کو خوشبو لگاتی تھی پھر آپ اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور پھر صبح احرام باندھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٩؛حدیث نمبر٢٧٤٠)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو كَامِلٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا؟ فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَخْبَرْتُهَا، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ، ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2740

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی پھر آپ اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے پھر صبح احرام باندھتے اور اس سے خوشبو پھیل رہی ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٤٩؛حدیث نمبر٢٧٤١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: «كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2741

حضرت محمد بن منتشر فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے مجھے اس حالت میں صبح کرنا کہ مجھے تارکول ملا ہوا ہے. اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس حالت میں احرام باندھوں کہ مجھ سے خوشبو پھیل رہی ہو۔راوی فرماتے ہیں پھر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان کو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا قول بتایا تو انہوں نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی پھر آپ ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے اور پھر صبح احرام باندھتے۔(ان تمام حدیث سے ثابت ہوتا کہ احرام باندھنے سے اور طواف افاضہ سے پہلے طواف کھولنے کے بعد خوشبو لگانا مستحب ہے البتہ احرام کی حالت میں خوشبو لگانا منع اور ناجائز ہے۔١٢ہزاروی)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ الطِّيبِ لِلْمُحْرِمِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٨٥٠؛حدیث نمبر٢٧٤٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ، فَقَالَتْ: «طَيَّبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ فِي نِسَائِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2742

حضرت صعب بن جَثـَامہ لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقام ابواء یا ودّوان میں ایک جنگلی دراز گوش پیش کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روک دیا فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ملال کا اثر دیکھا تو فرمایا ہم نے صرف اس لئے یہ واپس کیا ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛ترجمہ؛محرم کے لئے شکار کی ممانعت؛جلد٢ص٨٥٠؛حدیث نمبر٢٧٤٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ - أَوْ بِوَدَّانَ - فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَلَمَّا أَنْ رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي، قَالَ: «إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2743

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٤٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٠؛حدیث نمبر٢٧٤٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، وَقُتَيْبَةُ، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ، كَمَا قَالَ: مَالِكٌ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَصَالِحٍ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2744

ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے فرماتے ہیں میں نے آپ کی خدمت میں جنگلی دراز گوش کا گوشت پیش کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥١؛حدیث نمبر٢٧٤٥)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: أَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2745

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صعب بن جَثـَامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنگلی دراز گوش پیش کیا اور آپ حالت احرام میں تھے تو آپ نے واپس کردیا اور فرمایا اگر ہم محرم نہ ہوتے تو تم سے قبول کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥١؛حدیث نمبر٢٧٤٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ، لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2746

حضرت حکم سے مروی ہے کہ حضرت صعب بن جَثـَامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنگلی دراز گوش کا ایک پاؤں پیش کیا شعبہ کی حکم سے روایت میں ہے کہ اس کے جسم کا پچھلا حصہ پیش کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا جبکہ شعبہ کی حبیب سے روایت میں ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنگلی دراز گوش کا ایک پہلو پیش کیا تو آپ نے رد دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥١؛حدیث نمبر٢٧٤٧)

وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَكَمِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَجُزَ حِمَارِ وَحْشٍ يَقْطُرُ دَمًا. وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقُّ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2747

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا آپ نے مجھے شکار کے اس گوشت کے بارے میں کیا بتایا تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا اور آپ حالت احرام میں تھے۔انہوں نے فرمایا آپ کی خدمت میں شکار کے گوشت کا ایک حصہ پیش کیا گیا تو آپ نے رد فرما دیا اور فرمایا ہم اسے نہیں کھاتے کیوں کہ ہم حالت احرام میں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥١؛حدیث نمبر٢٧٤٨)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ؟ قَالَ: قَالَ: أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: «إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2748

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے حتیٰ کہ جب وادی قاحہ میں پہنچے تو ہم میں سے بعض محرم تھے اور کچھ غیر محرم تھے اچانک میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی کسی چیز کو دیکھ رہے ہیں میں نے دیکھا تو جنگلی گدھا تھا میں نے اپنے گھوڑے پر زین ڈالی۔اپنا نیزہ سنبھالا اور سوار ہوگیا۔اتفاقاً میرا چابک گر گیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو محرم تھے کہ مجھے چابک پکڑائیں انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم اس سلسلے میں تیری کچھ مدد نہیں کر سکتے۔فرماتے ہیں میں نے اتر کر اسے پکڑ لیا پھر سوار ہوا اور میں نے اس جنگلی گدھے کو پیچھے سے جا پکڑا اور وہ ٹیلے کے پیچھے تھا میں نے اسے نیزے سے مارتے ہوئے زخمی کردیا پھر اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو ان میں سے بعض نے کہا اسے کھاؤ اور بعض نے کہا نہ کھاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے تھے میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور آپ کے پاس پہنچ گیا آپ نے فرمایا وہ حلال ہے اسے کھاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥١؛حدیث نمبر٢٧٤٩)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ، فَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ، إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ، فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ رُمْحِي، ثُمَّ رَكِبْتُ فَسَقَطَ مِنِّي سَوْطِي، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: وَكَانُوا مُحْرِمِينَ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ، فَقَالُوا: وَاللهِ، لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَنَزَلْتُ فَتَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ رَكِبْتُ، فَأَدْرَكْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: كُلُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَأْكُلُوهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ فَقَالَ: «هُوَ حَلَالٌ، فَكُلُوهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2749

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے حتیٰ کہ جب مکہ مکرمہ کے راستے میں تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے ان کے ساتھ ان کے ساتھی بھی تھے۔جنہوں نے احرام باندھا ہوا تھا جب کہ خود وہ(حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ)غیرمحرم تھے۔پس انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان کا چابک ان کو پکڑا دیں تو انہوں نے انکار کر دیا انہوں نے اپنے نیزے کے بارے میں کہا تو ان لوگوں نے انکار کردیا انہوں نے خود(اپنا نیزہ)پکڑا اور گدھے(جنگلی گدھا)پر حملہ کر کے اسے ہلاک کردیا ان میں سے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ کھانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٢؛حدیث نمبر٢٧٥٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2750

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٥٠ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس گوشت میں سے کچھ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٢؛حدیث نمبر٢٧٥١)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حِمَارِ الْوَحْشِ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2751

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد(حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ)حدیبیہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تو آپ کے بعض صحابہ کرام نے فرمایا دشمن غَیقہ(مقام)میں ہے پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے فرماتے ہیں اس دوران کہ میں بعض صحابہ کرام کے ساتھ تھا اور ان میں سے بعض مجھے دیکھ کر ہنس رہے تھے کہ اچانک مجھے ایک جنگلی گدھا نظر آیا میں اس پر حملہ کیا اور نیزہ مار کر اسے روک لیا میں نے ان حضرات سے مدد طلب کی تو انہوں نے مدد کرنے سے انکار کردیا پس ہم نے اس کے گوشت سے کھایا اور ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بچھڑ نہ جائیں پس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب میں نکلا میں اپنے گھوڑے کو کبھی دوڑاتا اور کبھی آہستہ چلاتا۔رات کے درمیانی حصے میں میری ملاقات بنو غفار قبیلے کے ایک شخص سے ہوئی۔ فرماتے ہیں میں نے پوچھا تم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کہاں کی ہے اس نے کہا میں نے آپ کو مقام تعھِن میں چھوڑا اور آپ مقام سقیا میں قیلولہ فرما رہے تھے میں آپ تک پہنچ گیا اور عرض کیا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کے صحابہ کرام آپ کو السلام علیکم کہتے ہیں اور ان میں ڈر ہے کہ کہیں وہ آپ سے بچھڑ نہ جائیں۔پس آپ ان کا انتظار فرمائیں چنانچہ آپ نے انتظار فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے شکار کیا ہے اور میرے پاس اس سے بچا ہوا گوشت ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کھاؤ اور وہ حالت احرام میں تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٣؛حدیث نمبر٢٧٥٢)

وحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ، وَحُدِّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَدُوًّا بِغَيْقَةَ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ، يَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، إِذْ نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ لَقِيتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا، فَلَحِقْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللهِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ، انْتَظِرْهُمْ، فَانْتَظَرَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَدْتُ وَمَعِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلْقَوْمِ: «كُلُوا» وَهُمْ مُحْرِمُونَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2752

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے آپ نے بعض صحابہ کرام کو ایک طرف موڑ دیا جن میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے آپ نے فرمایا تم ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ چلو حتیٰ کہ مجھ سے آملو فرماتے ہیں کہ وہ ساحل سمندر پر چلے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مڑے تو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے احرام باندھا۔انہوں نے احرام نہ باندھا اس دوران کہ یہ حضرات چل رہے تھے۔انہوں نے جنگلی گدھے دیکھے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک گدھی کی کونچیں کاٹ ڈالیں وہ اترے اور گوشت کھانے لگے پھر کہا ہم نے یہ گوشت کھایا حالانکہ ہم حالت احرام میں ہیں فرماتے ہیں انہوں نے اس گدھی کا بقیہ گوشت اٹھایا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم حالت احرام میں تھے اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کرکے ایک گدھی کو زخمی کردیا(پاؤں کاٹ دئے)۔ پس ہم اتر کر اس کا گوشت کھانے لگے پھر ہم نے سوچا کہ ہم اس کا گوشت کھا رہے ہیں حالانکہ ہم حالت احرام میں ہیں تو ہم اس کا باقی گوشت اٹھا لائے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی نے ان کو حکم دیا یا کسی چیز کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کیا ہے؟انہوں نے عرض کیا نہیں۔آپ نے فرمایا جو گوشت باقی ہے وہ کھا سکتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٤؛حدیث نمبر٢٧٥٣)

حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، وَخَرَجْنَا مَعَهُ، قَالَ: فَصَرَفَ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ: «خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى تَلْقَوْنِي» قَالَ: فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا قِبَلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ، إِلَّا أَبَا قَتَادَةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا، قَالَ فَقَالُوا: أَكَلْنَا لَحْمًا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، قَالَ: فَحَمَلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الْأَتَانِ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا، وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ، فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا، فَقُلْنَا: نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا، فَقَالَ: «هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ؟» قَالَ قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2753

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٥٣ کی مثل مروی ہے اور شیبان کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے ان کو کہا ہے کہ ان پر حملہ کریں کیا تم نے اشارہ کیا یا مدد کی یا تم نے خود شکار کیا۔ حضرت شعبہ کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے پوچھا کیا تم نے مدد کی یا فرمایا کیا تم نے خود شکار کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٤؛حدیث نمبر٢٧٥٤)

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ شَيْبَانَ، جَمِيعًا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي رِوَايَةِ شَيْبَانَ، فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟» وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ: «أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ؟» قَالَ شُعْبَةُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: «أَعَنْتُمْ» أَوْ «أَصَدْتُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2754

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حدیبیہ میں شرکت کی۔فرماتے ہیں میرے علاوہ سب نے عمرہ کے لئے احرام باندھا۔میں نے جنگلی گدھے کا شکار کیا اور اپنے احباب کو کھلایا حالانکہ وہ محرم تھے۔ پھر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر دی کہ ہمارے پاس اس کا بچا ہوا گوشت ہے آپ نے فرمایا اسے کھا سکتے ہو اور وہ سب محرم تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٤؛حدیث نمبر٢٧٥٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ: فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ، غَيْرِي، قَالَ: فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي وَهُمْ مُحْرِمُونَ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً فَقَالَ: «كُلُوهُ» وَهُمْ مُحْرِمُونَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2755

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ان سب نے احرام باندھا ہوا تھا جب کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا۔آگے حسب سابق حدیث ہے اور اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس اس میں کچھ بچاہوا ہے؟ہم نے عرض کیا اس کی ایک ٹانگ ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور کھایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٥؛حدیث نمبر٢٧٥٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ فَقَالَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟» قَالُوا مَعَنَا رِجْلُهُ، قَالَ: فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2756

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کچھ محرم حضرات میں تھے اور خود انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا آگے حدیث نمبر ٢٧٥٦ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ کیا اس کی طرف تم میں سے کسی انسان نے اشارہ کیا یا کسی چیز کا حکم دیا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نہیں آپ نے فرمایا پس اسے کھا سکتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٥؛حدیث نمبر٢٧٥٧)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَإِسْحَاقُ، عَنْ جَرِيرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَفَرٍ مُحْرِمِينَ، وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ: قَالَ: «هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ أَوْ أَمَرَهُ بِشَيْءٍ؟» قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَكُلُوا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2757

حضرت عبد الرحمن تیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے اور ہم سب محرم تھے ان کی خدمت میں ایک پرندہ بطور تحفہ پیش کیا گیا اور حضرت طلحہ اس وقت سو رہے تھے۔ہم میں سے بعض نے اسے کھایا اور بعض نے پرہیز کیا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوے تو انہوں نے کھانے والو کی موافقت کی اور فرمایا کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھایا۔(جب محرم نے شکار پر دلالت بھی نہ کی ہو اور کسی طرح اس کی معاونت نہ بھی کی اور نہ ہی حکم دیا ہو اور غیر محرم شکار کرے تو محرم اسے کھا سکتا ہے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٥؛حدیث نمبر٢٧٥٨)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ، وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ، وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ، وَقَالَ: «أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2758

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا چار جانور فاسق(موزی)ہیں ان کو حل و حرم میں قتل کیا جائے،چیل،کوا،چوہا اور کاٹنے والا کتا۔حضرت عبیداللہ بن مقسم فرماتے ہیں میں نے حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ سے پوچھا سانپ کے متعلق بتائیے تو انہوں نے فرمایا اس کی ذلت کی وجہ سے قتل کیا جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يَنْدُبُ لِلْمُحْرِمِ وَغَيْرِهِ قَتْلَهُ مِنَ الدَّوَابِّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ؛ترجمہ؛محرم اور غیر محرم کے لیے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کو مارنا مستحب ہے؛جلد٢ص٨٥٦؛حدیث نمبر٢٧٥٩)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ مِقْسَمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَرْبَعٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ، يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحِدَأَةُ، وَالْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " قَالَ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ: أَفَرَأَيْتَ الْحَيَّةَ؟ قَالَ: «تُقْتَلُ بِصُغْرٍ لَهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2759

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا پانچ جانور فاسق ہیں ان کو حرم میں قتل کیا جائے۔سانپ،سیاہ وسفید رنگ والا کوا، کاٹنے والا کتا اور چیل۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٦؛حدیث نمبر٢٧٦٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ، يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْحُدَيَّا "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2760

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ(جانور)فاسق ہیں(موذی ہیں)حرم میں قتل کیے جائیں،بچھو، چوہا، چیل،کوا اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦١)

وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ، يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْحُدَيَّا، وَالْغُرَابُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2761

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٦١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦٢)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2762

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ(جانور)فاسق ہیں ان کو حرم میں قتل کیا جائے،چوہا،بچھو،کوا،چیل اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦٣)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ، يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحُدَيَّا، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2763

اس سند سے مزید مروی ہے اس میں ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ فاسق جانوروں کو حل و حرم میں قتل کرنے کا حکم دیا پھر گزشتہ احادیث کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦٤)

وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَتْ: «أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ» ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2764

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں کہ وہ تمام فاسق ہیں ان کو حرم میں قتل کیا جائے کوا،چیل،کاٹنے والا کتا،بچھو اور چوہا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦٥)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَوَاسِقُ تُقْتَلُ فِي الْحَرَمِ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2765

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ ان کو حرم میں اور حالت احرام میں قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔چوہا،چیل،کوا،بچھو اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٧؛حدیث نمبر٢٧٦٦)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالْإِحْرَامِ: الْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: «فِي الْحُرُمِ وَالْإِحْرَامِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2766

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ام المؤمنين حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں کہ وہ تمام کے تمام فاسق ہیں ان کو مارنے میں کوئی حرج نہیں بچھو،کوا چیل،چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٨؛حدیث نمبر٢٧٦٧)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَاسِقٌ لَا حَرَجَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ: الْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2767

حضرت زید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا محرم کون کون سے جانوروں کو مارسکتا ہے۔انہوں نے فرمایا مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے بتایا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا یا آپ کو حکم دیا گیا کہ چوہا،بچھو،چیل،کاٹنے والا کتا اور کوا قتل کئے جائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٨؛حدیث نمبر٢٧٦٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ أَوْ «أُمِرَ أَنْ يَقْتُلَ الْفَأْرَةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْحِدَأَةَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْغُرَابَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2768

حضرت زید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کوئی شخص حالت احرام میں کن کن جانوروں کو قتل کر سکتا ہے انہوں نے فرمایا مجھ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاٹنے والے کتے،چوہے،بچھو،چیل،کوے اور سانپ کو مارنے کا حکم دیتے تھے اور فرمایا کہ نماز میں بھی ان کو قتل کردیا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٨؛حدیث نمبر٢٧٦٩)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الرَّجُلُ مِنَ الدَّوَابِّ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ قَالَ: حَدَّثَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ: «كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الْعَقُورِ، وَالْفَأْرَةِ، وَالْعَقْرَبِ، وَالْحُدَيَّا، وَالْغُرَابِ، وَالْحَيَّةِ» قَالَ: «وَفِي الصَّلَاةِ أَيْضًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2769

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جن کو قتل کرنے میں محرم پر کوئی گناہ نہیں۔کوا،چیل،بچھو،چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٨؛حدیث نمبر٢٧٧٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2770

حضرت ابن جریج فرماتے ہیں میں نے حضرت نافع سے پوچھا کہ آپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کیا سنا کہ محرم کے لئے کن کن جانوروں کو قتل کرنا جائز ہے تو حضرت نافع نے مجھ سے فرمایا حضرت عبداللہ(بن عمر)رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جس کو قتل کرنے میں قتل کرنے والے پر کوئی حرج نہیں۔کوا، چیل،بچھو،چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٨؛حدیث نمبر٢٧٧١)

وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: مَاذَا سَمِعْتَ ابْنَ عُمَرَ، يُحِلُّ لِلْحَرَامِ قَتْلَهُ مِنَ الدَّوَابِّ؟ فَقَالَ لِي نَافِعٌ: قَالَ عَبْدُ اللهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ، فِي قَتْلِهِنَّ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2771

متعدد اسانید سے امام مسلم روایت فرماتے ہیں وہ تمام راوی بواسطہ حضرت نافع،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٩؛حدیث نمبر٢٧٧٢)

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ نَافعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ابْنُ جُرَيْجٍ وَحْدَهُ، وَقَدْ تَابَعَ ابْنَ جُرَيْجٍ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ إِسْحَاقَ.

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2772

حضرت نافع اور حضرت عبیداللہ بن عبداللہ،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جن کو حرم میں قتل کرنے پر کوئی گناہ نہیں پھر پہلے کی طرح ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٩؛حدیث نمبر٢٧٧٣)

وحَدَّثَنِيهِ فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَا قُتِلَ مِنْهُنَّ فِي الْحَرَمِ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2773

حضرت عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جن کو محرم آدمی قتل کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ان میں بچھو،چوہا،کاٹنے والا کتا،کوا اور چیل شامل ہیں۔(بعض احادیث میں چار موذی جانوروں کا ذکر ہے اور بعض روایات میں پانچ کا ذکر ہے اس طرح یہ چھ جانور بن جاتے ہیں۔چیل، کوا،چوہا،کاٹنے والا کتا،سانپ، بچھو ان چھ جانوروں کو حرم یا غیر حرم میں مارنے کا حکم ہے اور محرم کو بھی ان کے قتل کی اجازت ہے۔١٢ہزاروی)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٥٩؛حدیث نمبر٢٧٧٤)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ حَرَامٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيهِنَّ: الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحُدَيَّا " - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى -

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2774

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حدیبیہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میرے چہرے پر جوئیں گر رہی تھیں آپ نے فرمایا کیا تمہارے سر کے جانور تمہیں اذیت نہیں پہنچاتے میں نے عرض کیا جی ہاں پہنچاتے ہیں آپ نے فرمایا سر منڈوالو اور تین روزے رکھو یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ،یا ایک قربانی کردو۔ایوب(راوی)فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں آپ نے پہلے کس چیز کا ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛ترجمہ؛تکلیف کے باعث محرم کا سر منڈانا اور اس کے فدیہ کا وجوب اور مقدار؛جلد٢ص٨٥٩؛حدیث نمبر٢٧٧٥)

وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ - قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ: قِدْرٍ لِي، وقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: بُرْمَةٍ لِي - وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: «أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟» قَالَ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاحْلِقْ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوْ انْسُكْ نَسِيكَةً» قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2775

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٧٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦٠؛حدیث نمبر٢٧٧٦)

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2776

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ میرے بارے میں نازل ہوئی۔ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦](ترجمہ)"پس تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ روزوں یا صدقہ یا قربانی سے فدیہ دے"۔ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا قریب ہوجاؤ میں آپ کے قریب ہوا تو آپ نے فرمایا کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں ابن عون راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے فرمایا جی ہاں،تو حضرت کعب فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدیہ کا حکم دیا وہ روزے ہوں یا صدقہ یا قربانی جو بھی آسان ہو(کرو)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦٠؛حدیث نمبر٢٧٧٧)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: «ادْنُهْ» فَدَنَوْتُ، فَقَالَ: ادْنُهْ فَدَنَوْتُ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟» - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَظُنُّهُ -، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ، مَا تَيَسَّرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2777

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کھڑے ہوئے اور ان کے سر سے جوئیں جھڑ رہی تھیں آپ نے فرمایا کیا یہ جوئیں تمہیں اذیت دیتی ہے؟فرماتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ نے فرمایا اپنا سر منڈوا لو فرماتے ہیں۔یہ آیت(حدیث نمبر ٢٧٧٨ میں درج ہے)میرے حق میں نازل ہوئی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تین دن کے روزے رکھو یا تین صاع صدقہ دو جو آدمیوں(فقراء)میں تقسیم کرو یا قربانی کرو جو آسان ہو کر لو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦٠؛حدیث نمبر٢٧٧٨)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ: «أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاحْلِقْ رَأْسَكَ» قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ انْسُكْ مَا تَيَسَّرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2778

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ حدیبیہ میں تھے وہ ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے پوچھا یہ جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ نے فرمایا سر منڈاؤ اور ایک فرق(غلہ)چھ مسکینوں کو دو۔فرق تین صاع کا ہوتا ہے(چار کیلو سے کچھ اوپر)یا تین دن کے روزے رکھو،یا قربانی کرو۔ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے کہ ایک بکری ذبح کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦١؛حدیث نمبر٢٧٧٩)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبَ، وَحُمَيْدٍ، وَعَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: «أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، - وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ -، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ انْسُكْ نَسِيكَةً» قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: «أَوِ اذْبَحْ شَاةً»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2779

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں اذیت پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا سر منڈاؤ پھر ایک بکری ذبح کر کے قربانی دو یا تین روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجوریں کھلاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦١؛حدیث نمبر٢٧٨٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ لَهُ: «آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْلِقْ رَأْسَكَ، ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ، عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2780

حضرت عبداللہ بن معقل فرماتے ہیں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اور وہ مسجد میں تھے اور میں نے ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا:{فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے میرے سر میں تکلیف تھی مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا درآں حالیکہ جوئیں میرے چہرے پر جھڑ رہی تھیں۔آپ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بہت تکلیف ہورہی ہے میرے خیال میں تمہیں بکری نہیں مل سکتی۔میں نے کہا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔اس کا فدیہ روزے ہیں یا صدقہ یا قربانی ہے فرمایا تین دن کے روزے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہر مسکین کے لیے نصف صاع(دو کیلو سے کچھ زائد)وہ فرماتے ہیں یہ خاص میرے حق میں نازل ہوئی لیکن اس کا حکم تم سب کو شامل ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦١؛حدیث نمبر٢٧٨١)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦]؟ فَقَالَ كَعْبٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَزَلَتْ فِيَّ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: «مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى أَتَجِدُ شَاةً؟» فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ، قَالَ: «صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ نِصْفَ صَاعٍ، طَعَامًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ»، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً، وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2781

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حالت احرام میں نکلے تو ان کے سر اور داڑھی میں جوئیں پڑ گئیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے ان کو بلایا اور ایک حجام کو بھی بلایا جس نے اس کا سر منڈا۔ پھر فرمایا کیا تمہارے پاس قربانی(کا جانور)ہے۔انہوں نے عرض کیا مجھے اس کی طاقت نہیں آپ نے ان کو تین دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔ہر مسکین کے لئے نصف صاع ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت خاص ان کے لیے نازل فرمائی:{فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ} [البقرة: ١٩٦]"اور پس جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو(آخر تک)پھر یہ حکم تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔(محرم کے سر میں تکلیف ہو تو وہ سر منڈا سکتا ہے لیکن اسے فدیہ دینا ہوگا۔یہ فدیہ قربانی،صدقہ یا روزوں کی صورت میں ہوگا۔(١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى، وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ، وَبَيَانِ قَدْرِهَا؛جلد٢ص٨٦٢؛حدیث نمبر٢٧٨٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَعْقِلٍ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَدَعَا الْحَلَّاقَ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ؟» قَالَ: مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، «فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ»، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ} [البقرة: ١٩٦] ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2782

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں پچھنے لگوائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ؛ترجمہ؛محرم پچھنے لگا سکتا ہے؛جلد٢ص٨٦٢؛حدیث نمبر٢٧٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2783

حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے راستے میں سر کے درمیان میں پچھنہ لگوایا اور آپ حالت احرام میں تھے۔(عذر کی صورت میں حالت احرام میں پچھنہ لگوانا جائز ہے اور اس کے لیے سر کے بال بھی کاٹے جاسکتے ہیں لیکن بال کاٹنے کی صورت میں فدیہ دینا ہوگا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر کی بنیاد پر پچھنہ لگوایا۔(١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ؛جلد٢ص٨٦٢؛حدیث نمبر٢٧٨٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَسَطَ رَأْسِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2784

حضرت نُبیہ بن وہب کا بیان ہے فرماتے ہیں ہم ابان بن عثمان کے ہمراہ نکلے حتیٰ کہ جب مقام ملل پر پہنچے تو حضرت عمر بن عبید اللہ کی آنکھوں میں تکلیف ہوگئی پھر جب مقام روحاء میں پہنچے تو تکلیف زیادہ ہوگئی۔انہوں نے حضرت ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھنے کے لیے کسی کو بھیجا تو انہوں نے جواب بھیجا کہ ایلوے کا لیپ لگاؤ کیوں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ ایک محرم شخص کی آنکھیں دکھتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ایلوے کا لیپ لگایا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ مُدَاوَاةِ الْمُحْرِمِ عَيْنَيْهِ؛ترجمہ؛محرم کے لئے آنکھوں کا علاج کروانا جائز ہے؛جلد٢ص٨٦٢؛حدیث نمبر٢٧٨٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَلَلٍ، اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ عَيْنَيْهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِالرَّوْحَاءِ اشْتَدَّ وَجَعُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنِ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ، فَإِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ «إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2785

حضرت نبیہ بن وہب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن عبید اللہ کی آنکھیں دکھنے لگیں۔انہوں نے سرمہ لگانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابان بن عثمان نے ان کو روک دیا اور فرمایا کہ ایلوے کا لیپ لگاؤ اور انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا تھا۔(علاج کے طور پر لیپ لگانے کی اجازت ہے لیکن فدیہ ادا کرنا ضروری ہے(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ مُدَاوَاةِ الْمُحْرِمِ عَيْنَيْهِ؛جلد٢ص٨٦٣؛حدیث نمبر٢٧٨٦)

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَعْمَرٍ، رَمِدَتْ عَيْنُهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَكْحُلَهَا، فَنَهَاهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ «وَأَمَرَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ» وَحَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2786

حضرت عبداللہ بن حنین فرماتے ہیں ابواء کے مقام پر حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت مسور بن مخرمہ(رضی اللہ عنہم)کے درمیان اختلاف ہوا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا محرم اپنے سر کو دھو سکتا ہے اور حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں دھو سکتا۔ حضرت عبداللہ بن حنین فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے اس بارے میں پوچھوں تو میں نے ان کو دیکھا کہ وہ دو لکڑیوں کے درمیان ایک کپڑے سے پردہ کئے ہوئے غسل کر رہے تھے۔میں نے سلام کیا تو انہوں نے پوچھا کون ہے؟میں نے کہا میں عبد اللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ سے پوچھوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنا سر مبارک کیسے دھوتے تھے۔ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے نیچے کیا حتیٰ کہ ان کا سر میرے سامنے ظاہر ہوگیا۔پھر انہوں نے پانی ڈالنے والے سے فرمایا پانی ڈالو اس نے پانی ڈالا تو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے سر کو حرکت دی اور ہاتھوں کو سر پر پھیرتے ہوئے آگے لاے اور پیچھے لے گئے۔ پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ غَسْلِ الْمُحْرِمِ بَدَنَهُ وَرَأْسَهُ؛ترجمہ؛محرم کے لئے بدن اور سر دھونے کا جواز؛جلد٢ص٨٦٤؛حدیث نمبر ٢٧٨٧)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُنَيْنٍ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟» فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ، حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ: لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ: «اصْبُبْ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ» ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2787

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٧٨٧ کی مثل مروی ہے۔اس میں فرمایا کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھا کر کے پورے سر پر پھیرا پس ان کو آگے لاے اور پیچھے لے گئے۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا آئندہ میں کبھی بھی آپ سے بحث نہیں کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ غَسْلِ الْمُحْرِمِ بَدَنَهُ وَرَأْسَهُ؛جلد٢ص٨٦٤؛حدیث نمبر٢٧٨٨)

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَأَمَرَّ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لَا أُمَارِيكَ أَبَدًا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2788

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ ایک شخص اونٹ سے گرا تو اس کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا آپ نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے کپڑوں میں کفن پہنا دو اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھائے گا کہ یہ تلبیہ کہ رہا ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛ترجمہ؛محرم فوت ہوجائے تو اس کے احکام؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٨٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَعِيرِهِ، فَوُقِصَ فَمَاتَ، فَقَالَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2789

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عرفات میں کھڑا تھا کہ اچانک اونٹنی سے گر گیا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے کپڑوں میں کفن پہنا دو اسے خوشبو بھی نہ لگانا اور سر بھی نہ ڈھانپنا۔اللہ تعالی قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھائے گا کہ یہ تلبیہ کہتا ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَأَوْقَصَتْهُ - أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ - وقَالَ عَمْرٌو: فَوَقَصَتْهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، - قَالَ أَيُّوبُ - فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا - وَقَالَ عَمْرٌو - فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2790

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھڑا تھا اور اس نے احرام باندھا ہوا تھا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٧٩١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩١)

وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَذَكَرَ نَحْوَ مَا ذَكَرَ حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2791

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حالت احرام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آیا تو وہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا پس اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے کپڑوں میں اسے کفن دو اور اس کے سر کو نہ ڈھانپنا کیوں کہ یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے آے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٦؛حدیث نمبر٢٧٩٢)

وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ مِنْ بَعِيرِهِ، فَوُقِصَ وَقْصًا، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2792

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک محرم شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آیا پھر حدیث نمبر ٢٧٩٢ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ وہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے اٹھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩٣)

وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: «فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا» وَزَادَ: لَمْ يُسَمِّ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ حَيْثُ خَرَّ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2793

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو اس کی اونٹنی نے گرایا تو اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ محرم تھا وہ فوت ہوگیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کے انہی کپڑوں میں کفن دے دو لیکن اس کے چہرے اور سر کو نہ ڈھانپنا کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتے ہوئے اٹھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2794

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا اور اس نے احرام باندھا ہوا تھا وہ اونٹنی سے گرا تو اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر انہی دو کپڑوں میں کفن پہناو لیکن اسے نہ تو خوشبو لگانا اور نہ اس کا سر ڈھانپنا کیوں کہ یہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھے گا کہ اس کے بال چمٹے ہوئے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩٥)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2795

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو اس کے اونٹ نے(گراکر)اس کی گردن توڑدی اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حالت احرام میں تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ اسے پانی اور بیری(کے پتوں)کے ساتھ غسل دیا جائے اور خوشبو نہ لگائی جائے اور نہ ہی اس کا سر ڈھانپا جائے قیامت کے دن یہ اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے بال چمٹے ہوئے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٥؛حدیث نمبر٢٧٩٦)

وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَلَا يُمَسَّ طِيبًا وَلَا يُخَمَّرَ رَأْسُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2796

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ محرم تھا پس وہ اپنی اونٹنی سے گرا تو اس کی گردن ٹوٹ گئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے اور دو کپڑوں میں کفن دیا جائے لیکن خوشبو نہ لگائی جائے اور اس کا سر اور چہرہ باہر رہے کیونکہ قیامت کے دن یہ چمٹے ہوئے بالوں کے ساتھ اٹھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٧؛حدیث نمبر٢٧٩٧)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافعٍ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ: «فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا، خَارِجٌ رَأْسُهُ» قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ: خَارِجٌ رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2797

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو اس کی سواری نے گرایا تو اس کی گردن ٹوٹ گئی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے نیز اس کے چہرے کو کھلا رکھیں۔راوی فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ سر کا بھی ذکر کیا اور فرمایا قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتے ہوئے اٹھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٧؛حدیث نمبر٢٧٩٨)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَقَصَتْ رَجُلًا رَاحِلَتُهُ، وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَنْ يَكْشِفُوا وَجْهَهُ - حَسِبْتُهُ قَالَ - وَرَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُهِلُّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2798

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک شخص تھا اس کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو غسل دو لیکن نہ تو خوشبو لگانا اور نہ ہی اس کا چہرہ ڈھانپنا یہ(قیامت کے دن)تلبیہ کہتے ہوئے اٹھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ؛جلد٢ص٨٦٧؛حدیث نمبر٢٨٩٩)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُلَبِّي»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2799

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر کے پاس تشریف لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم!مجھے درد ہو رہا ہے آپ نے فرمایا حج کرو اور شرط رکھو اور یوں کہو یا اللہ!جہاں تو مجھے روک لے گا میں احرام کھول لوں گی اور یہ حضرت مقدار رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛ترجمہ؛محرم کا شرط لگانا کہ اگر میں بیمار ہوگیا تو احرام کھول دوں گا؛جلد٢ص٨٦٧؛حدیث نمبر٢٨٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا: «أَرَدْتِ الْحَجَّ؟» قَالَتْ: وَاللهِ، مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا: «حُجِّي وَاشْتَرِطِي، وَقُولِي اللهُمَّ، مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2800

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے حج کا ارادہ کیا اور مجھے تکلیف ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حج کرو اور یہ شرط رکھو کہ(یا اللہ)تو مجھے جہاں روکے گا میں احرام کھول دوں گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠١)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، وَأَنَا شَاكِيَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُجِّي، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2801

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سےحدیث نمبر ٢٨٠١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠٢)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2802

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو انہوں نے عرض کیا میں بیمار ہوں اور میں حج کا ارادہ کرتی ہوں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں،آپ نے فرمایا حج کا احرام باندھو اور شرط رکھو کہ(یااللہ)تو مجھے جہاں روک لے گا میں وہاں احرام کھول لوں گی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہوں نے حج کر لیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠٣)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، وَأَبُو عَاصِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، وَعِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «أَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي» قَالَ: فَأَدْرَكَتْ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2803

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ضباعہ نے حج کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شرط رکھنے کا حکم دیا انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسا ہی کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠٤)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ ضُبَاعَةَ أَرَادَتِ الْحَجَّ: «فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَشْتَرِطَ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2804

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ضباعہ سے فرمایا حج کرو اور شرط رکھو کہ اے اللہ جہاں تو مجھے روک لے گا(میں احرام کھول دوں گی)اسحاق کی روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا حکم دیا تھا۔(علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں احناف کے نزدیک یہ شرط صحیح نہیں اور یہ اجازت صرف حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص تھی۔(شرح مسلم جلد٣ص٣٧٦)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ؛جلد٢ص٨٦٩؛حدیث نمبر٢٨٠٥)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ، - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مَعْروفٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِضُبَاعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «حُجِّي، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي» وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ: أَمَرَ ضُبَاعَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2805

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو مقام ذوالحلیفہ میں حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی پیدائش کی وجہ سے نفاس(کا خون)شروع ہوگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا ان کو کہیں کہ غسل کریں اور احرام باندھ لیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ إِحْرَامِ النُّفَسَاءِ وَاسْتِحْبَابِ اغْتِسَالِهَا لِلْإِحْرَامِ، وَكَذَا الْحَائِضُ؛ترجمہ؛نفاس والی عورتوں کے احرام کا بیان نیز احرام کے لئے انکا غسل کرنا مستحب ہے؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠٦)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدَةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِالشَّجَرَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ، «يَأْمُرُهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2806

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ذوالحلیفہ میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو نفاس آیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کو غسل کا حکم دیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ إِحْرَامِ النُّفَسَاءِ وَاسْتِحْبَابِ اغْتِسَالِهَا لِلْإِحْرَامِ، وَكَذَا الْحَائِضُ؛جلد٢ص٨٦٨؛حدیث نمبر٢٨٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، «فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2807

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو ہم نے عمرہ کا احرام باندھا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس ہدی(قربانی کا جانور)ہو وہ حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھے پھر اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک دونوں کے احرام سے نکل نہ جائے آپ فرماتی ہیں پس ہم مکہ مکرمہ میں آے اور میں حیض سے تھی اس لئے میں نے بیت اللہ شریف کا طواف نہ کیا اور نہ ہی صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا سر کے بال کھول دو اور کنگھی کر کے حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ چھوڑ دوام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے اسی طرح کیا جب ہم نے حج کر لیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا پس میں نے عمرہ کیا آپ نے فرمایا یہ تیرے اس عمرے کی جگہ ہے پس جنہوں نے اس عمرے کا احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔پھر احرام کھول دیا پھر جب منی سے واپس آئے تو حج کا طواف کیا لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛ بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٠؛حدیث نمبر٢٨٠٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا» قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ» قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: «هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ» فَطَافَ، الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ، بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ، بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2808

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع کے لئے نکلے تو ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور کچھ نے حج کا احرام باندھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور ہدی(قربانی کا جانور)کو ساتھ نہیں لیا وہ احرام کھول لے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور ہدی ساتھ لی ہے وہ جانور کی قربانی دینے تک احرام نہ کھولے اور جس نے حج کا احرام باندھا ہے وہ اپنے حج کو پورا کرے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مجھے حیض آگیا حتیٰ کہ نو ذوالحجہ کا دن ہوا اور میں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنا سر کھول کر کنگھی کرلوں حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ ترک کردوں فرماتی ہیں میں نے اسی طرح کیا حتی کہ جب میں نے حج کر لیا تو آپ نے مجھے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ میں تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھوں اور یہ اس عمرہ کی جگہ تھا جس کے دوران حج آگیا اور میں اس کو پورا نہ کرسکی اور(عمرہ)کا احرام نہیں کھولا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٠؛حدیث نمبر٢٨٠٩)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ، وَأَهْدَى، فَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيَهُ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ» قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَحِضْتُ، فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ، وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي، وَأَمْتَشِطَ، وَأُهِلَّ بِحَجٍّ، وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا قَضَيْتُ حَجَّتِي، بَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مِنَ التَّنْعِيمِ، مَكَانَ عُمْرَتِي، الَّتِي أَدْرَكَنِي الْحَجُّ وَلَمْ أَحْلِلْ مِنْهَا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2809

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حجۃ الوداع کے موقع پر ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن میں ہدی نہیں لے گئی تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اپنے عمرہ کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھے اور وہ اس وقت احرام سے نہیں نکلے گا جب تک دونوں کے احرام سے نہ نکلے۔ فرماتی ہیں مجھے حیض آگیا جب نو ذوالحجہ کی رات ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا تو میں اپنے حج کے بارے میں کیا کروں؟آپ نے فرمایا اپنے سر(کے بالوں)کو کھول لو،کنگھی کرو اور عمرہ سے رک جاؤ اور حج کا احرام باندھو۔ آپ فرماتی ہیں جب میں نے حج پورا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔انہوں نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور تنعیم سے عمرہ کروایا اور یہ اس عمرے کی جگہ تھا جس سے میں رک گئی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧١؛حدیث نمبر٢٨١٠)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا» قَالَتْ: فَحِضْتُ، فَلَمَّا دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي؟ قَالَ: «انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَمْسِكِي عَنِ الْعُمْرَةِ، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ» قَالَتْ: فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْدَفَنِي، فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ، مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَمْسَكْتُ عَنْهَا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2810

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو آپ نے فرمایا جو شخص حج اور عمرہ دونوں کے احرام کا ارادہ کرتا ہے وہ ایسا کرے اور جو صرف عمرہ کا احرام باندھنا چاہتا ہے وہ عمرہ کا احرام باندھ لے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا اور صحابہ کرام میں سے بعض نے بھی آپ کے ساتھ حج کا احرام باندھا اور کچھ حضرات نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا بعض نے صرف عمرہ کا احرام باندھا اور میں بھی ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧١؛حدیث نمبر٢٨١١)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلْيُهِلَّ» قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَأَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ، وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ مَعَهُ، وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ، وَأَهَلَّ نَاسٌ بِعُمْرَةٍ، وَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2811

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ذوالحجہ کے چاند کے مطابق نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا احرام باندھے اگر میں نے ہدی کا جانور ساتھ نہ لیا ہوتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ تو کچھ لوگوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا اور بعض نے حج کا احرام باندھا۔ام المؤمنين فرماتی ہیں میں بھی ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔پس ہم نکلے حتیٰ کہ مکہ مکرمہ میں آے تو وہ ذوالحجہ کا دن ہوگیااور میں حالت حیض میں تھی میں نے عمرہ کا احرام نہ کھولا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی آپ نے فرمایا تم اپنا عمرہ چھوڑ دو سر کے بال کھولو کنگھی کرو حج کا احرام باندھ لو۔ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے اسی طرح کیا جب محصب کی رات آئی‌(وادی محصب میں ٹھہرنے کی رات)اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج مکمل کر دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے سواری پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور مجھے تنعیم کی طرف لے گئے پس میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج اور عمرہ پورا کردیا اس میں نہ تو قربانی تھی نہ صدقہ اور نہ ہی روزہ تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٢؛حدیث نمبر٢٨١٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ» قَالَتْ: فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «دَعِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ» قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ وَقَدْ قَضَى اللهُ حَجَّنَا، أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، فَقَضَى اللهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2812

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا۔تو آپ نے فرمایا تم میں سے جو پسند کرے وہ عمرہ کا احرام باندھ لے اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨١٢ کی طرح بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧١؛حدیث نمبر٢٨١٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُوَافِينَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ» وَسَاقَ الْحَدِيثَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2813

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم ذوالحجہ کے چاند کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گیے ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا جب کہ کچھ نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور میں ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔اس کے بعد انہوں نے گزشتہ روایات کی مثل ذکر کیا۔راوی فرماتے ہیں اس میں حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ام المومنین رضی اللہ عنہ کا حج اور عمرہ پورا کروادیا۔ حضرت ہشام فرماتے ہیں اس میں نہ ہدی واجب ہوئی نہ روزے اور نہ ہی صدقہ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٢؛حدیث نمبر٢٨١٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، فَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا، وقَالَ فِيهِ: قَالَ عُرْوَةُ فِي ذَلِكَ: إِنَّهُ قَضَى اللهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا، قَالَ هِشَامٌ: وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صِيَامٌ وَلَا صَدَقَةٌ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2814

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اور بعض نے صرف حج کا احرام باندھا جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا تھا جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تو انہوں نے(عمرہ کے بعد)احرام کھول دیا اور جس نے(صرف)حج یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا انہوں نے یوم نحر(قربانی کے دن)تک احرام نہیں کھولا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٣؛حدیث نمبر٢٨١٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، «وَأَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ»، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ، وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَلَمْ يَحِلُّوا، حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2815

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہمارا صرف حج کا ارادہ تھا حتیٰ کہ جب ہم مقام سرف میں یا اس کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رورہی تھی۔آپ نے فرمایا تجھے حیض(ماہواری کا خون)آگیا ہے۔فرماتی ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ نے فرمایا یہ ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لئے مقدر کر دی ہے پس تم وہ عمل کرو جو حج کرنے والا کرتا ہے لیکن بیت اللہ شریف کا طواف نہ کرو حتیٰ کہ غسل کرلو۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گاے ذبح کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٣؛حدیث نمبر٢٨١٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا، حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «أَنَفِسْتِ؟» - يَعْنِي الْحَيْضَةَ قَالَتْ - قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَغْتَسِلِي» قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2816

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور ہم صرف حج کا ذکر کرتے تھے حتیٰ کہ جب ہم مقام سرف میں آے تو مجھے حیض(کا خون) آگیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی آپ نے پوچھا تم کیوں رو رہی ہو؟میں نے عرض کیا اللہ کی قسم!مجھے یہ پسند ہے کہ(کاش)میں اس سال نہ آتی آپ نے پوچھا تمہیں کیا ہوا شاید حیض آیا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے وہ کچھ کرو جو جی کرتا ہے البتہ پاک ہونے تک بیت اللہ شریف کا طواف نہ کرو۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں جب میں مکہ مکرمہ میں آئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا اس احرام کو عمرہ کے احرام میں بدل دو تو جن لوگوں کے پاس ہدی تھی ان کے علاوہ سب نے احرام کھول دیا آپ فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور دوسرے مالدار لوگوں کے پاس ہدی تھی پھر جب قربانی کا دن ہوا تو میں پاک ہوگئی پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طواف زیارت کا حکم دیا پھر ہمیں گاے کا گوشت پیش کیا گیا تو میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟تو صحابہ کرام نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گاے ذبح کی ہے جب(وادی)محصب کی رات ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگ حج اور عمرہ کے ساتھ واپس جائیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی تو آپ فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ مجھے اپنے اونٹ پر پیچھے بٹھا کر لے گئے۔ام المؤمنين فرماتی ہیں مجھے یاد ہے کہ میں کم عمر لڑکی تھی اور مجھے(سواری)پر نیند اجاتی تھی اور پالان کی پچھلی لکڑی میرے چہرے پر لگتی تھی۔حتیٰ کہ ہم مقام تنعیم میں آے اور میں نے اس عمرہ کی جگہ جو صحابہ کرام نے کیا تھا عمرہ کا احرام باندھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٣؛حدیث نمبر٢٨١٧)

حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ، حَتَّى جِئْنَا سَرِفَ فَطَمِثْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» فَقُلْتُ: وَاللهِ، لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ، قَالَ: «مَا لَكِ؟ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي» قَالَتْ: فَلَمَّا قَدِمْتُ مَكَّةَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ «اجْعَلُوهَا عُمْرَةً» فَأَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، قَالَتْ: فَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ، ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهَرْتُ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْتُ، قَالَتْ: فَأُتِيَنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: أَهْدَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ؟ قَالَتْ: فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ، قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَذْكُرُ، وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ، أَنْعَسُ فَيُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ، حَتَّى جِئْنَا إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهْلَلْتُ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، جَزَاءً بِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2817

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم نے حج کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آگیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔اس کے بعد ماجشون(راوی)کی حدیث کے مطابق ہے(حدیث نمبر ٢٨١٧ کی مثل)لیکن حماد کی حدیث میں یہ بات نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر،حضرت عمر اور دیگر مالدار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ہدی تھی اور پھر انہوں نے احرام باندھا جب چلنے لگے اور اس میں ام المؤمنين کا یہ قول بھی نہیں کہ میں کم عمر لڑکی تھی اور مجھے نیند اجاتی تھی حتیٰ کہ پالان کے پچھلے حصے کی لکڑی میرے چہرے پر لگتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٤؛حدیث نمبر٢٨١٨)

وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَبْكِي، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْمَاجِشُونِ، غَيْرَ أَنَّ حَمَّادًا لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ: فَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَذَوِي الْيَسَارَةِ، ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا وَلَا قَوْلُهَا وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعَسُ فَيُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2818

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧؛حدیث نمبر٢٨١٩)

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي خَالِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2819

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم حج کے مہینوں میں اور حج کے دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر نکلے حتیٰ کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو اور وہ اس احرام کو عمرہ میں بدلنا چاہے تو وہ ایسا کر لے اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اس طرح نہیں کرسکتا تو جن کے پاس ہدی نہیں تھی ان میں سے بعض نے اس پر عمل کر لیا اور بعض نے نہیں کیا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جن صحابہ کرام کو طاقت تھی ان کے پاس ہدی تھی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی آپ نے پوچھا تم کیوں رو رہی ہو؟میں نے عرض کیا میں نے آپ کا کلام سنا ہے جو آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا اور میں نے عمرہ کے بارے میں بھی سنا ہے آپ نے فرمایا تجھے کیا ہوا؟میں نے عرض کیا میں نماز نہیں پڑھ سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا تم اپنے حج کے اعمال ادا کرو۔عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں عمرہ بھی عطاء کرے گا تم آدم علیہ السلام کے بیٹیوں میں سے ایک ہو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بھی وہ کچھ مقدر فرمایا ہے جو ان کے لیے مقدر فرمایا۔ ام المؤمنين رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پس میں اپنے حج کے سلسلے میں نکلی حتیٰ کہ جب ہم منی میں اترے تو میں پاک ہوگئی پھر ہم نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی محصب میں اترے تو حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بلاکر فرمایا اپنی بہن کو حرم شریف(کی حد)سے باہر لے جاؤ تاکہ وہ عمرہ کا احرام باندھیں اور بیت اللہ شریف کا طواف کریں میں تم دونوں کا یہاں انتظار کروں گا۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں پس ہم وہاں سے نکلے اور میں نے احرام باندھا پھر بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی مقام پر آدھی رات کے وقت پہنچی۔آپ نے پوچھا کیا تم فارغ ہو گئی ہو؟میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے صحابہ کرام کو چلنے کا حکم دیا آپ بھی تشریف لے گئے اور بیت اللہ شریف کے پاس سے گزرے تو صبح کی نماز سے پہلے طواف کیا پھر مدینہ طیبہ کی طرف تشریف لے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٥؛حدیث نمبر٢٨٢٠)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَفِي حُرُمِ الْحَجِّ، وَلَيَالِي الْحَجِّ، حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ، فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ مِنْكُمْ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلَا» فَمِنْهُمُ الْآخِذُ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا، مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَأَمَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» قُلْتُ: سَمِعْتُ كَلَامَكَ مَعَ أَصْحَابِكَ فَسَمِعْتُ بِالْعُمْرَةِ قَالَ «وَمَا لَكِ؟» قُلْتُ: لَا أُصَلِّي، قَالَ: «فَلَا يَضُرُّكِ، فَكُونِي فِي حَجِّكِ، فَعَسَى اللهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا، وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كَتَبَ اللهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ» قَالَتْ: فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّى نَزَلْنَا مِنًى فَتَطَهَّرْتُ، ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: «اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَإِنِّي أَنْتَظِرُكُمَا هَا هُنَا» قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْتُ، ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَجِئْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: «هَلْ فَرَغْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2820

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم میں سے بعض نے صرف حج کا احرام باندھا بعض نے قرآن کا احرام باندھا اور بعض نے تمتع کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٦؛حدیث نمبر٢٨٢١)

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، وَمِنَّا مَنْ قَرَنَ، وَمِنَّا مَنْ تَمَتَّعَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2821

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حج کا احرام باندھ کر آئی تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٦؛حدیث نمبر٢٨٢٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: جَاءَتْ عَائِشَةُ حَاجَّةً

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2822

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ذی القعده کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہمارا حج کے سوا کوئی ارادہ نہیں تھا حتیٰ کہ جب ہم مکہ مکرمہ کے قریب ہوے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کے پاس ہدی نہ ہو جب وہ بیت اللہ شریف کا طواف کرے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرے تو احرام کھول دے۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں دسویں ذوالحجہ(یوم نحر)کو ہمارے پاس گاے کا گوشت آیا تو میں نے پوچھا کیا ہے؟کہا گیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گاے ذبح کی ہے۔ یحییٰ(راوی)کہتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم تم نے یہ حدیث بعینہ بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٦؛حدیث نمبر٢٨٢٣)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ «أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَنْ يَحِلَّ»، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقِيلَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: أَتَتْكَ، وَاللهِ، بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2823

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٢٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٦؛حدیث نمبر٢٨٢٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2824

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگ دوعبادتوں کے ساتھ واپس جائیں گے اور میں ایک عبادت کے ساتھ واپس جاؤں گی؟آپ نے فرمایا انتظار کرو پس جب تم(حیض سے)پاک ہو تو تنعيم کی طرف چلی جانا اور وہاں سے احرام باندھ لینا پھر فلاں مقام پر ہم سے آملنا راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایا کل اور تمہارے اس عمرہ کا ثواب تمہاری تکلیف یا فرمایا تمہارے خرچ کے مطابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٦؛حدیث نمبر٢٨٢٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، ح وَعَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: «انْتَظِرِي، فَإِذَا طَهَرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهِلِّي مِنْهُ، ثُمَّ الْقَيْنَا عِنْدَ كَذَا وَكَذَا - قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ غَدًا - وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ أَوْ - قَالَ - نَفَقَتِكِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2825

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگ دو عبادتوں(حج اور عمرہ)کے ساتھ لوٹیں گے پھر حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٧؛حدیث نمبر٢٨٢٦)

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَإِبْرَاهِيمَ، قَالَ: لَا أَعْرِفُ حَدِيثَ أَحَدِهِمَا مِنَ الْآخَرِ، أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2826

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا جب ہم آے اور ہم نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس کے پاس ہدی نہیں وہ احرام کھول دے۔ام المومنین فرماتی ہیں جن کے ساتھ ہدی نہیں تھی پس انہوں نے بھی احرام کھول دیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مجھے حیض آگیا پس میں بیت اللہ شریف کا طواف نہ کر سکی جب(وادی)محصب کی رات ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگ حج اور عمرہ کے ساتھ لوٹیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ جاؤں گی۔آپ نے پوچھا کیا تم نے ان راتوں میں طواف نہیں کیا جب ہم مکہ مکرمہ میں آے تھے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا نہیں۔آپ نے فرمایا اپنے بھائی کے ساتھ تنعيم کی طرف جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھو پھر فلاں مقام پر ہم سے آملنا۔حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میرا خیال ہے کہ میں(حیض کی وجہ سے)تم لوگوں کو روکنے والی ہوں آپ نے فرمایا زخمی اور سرمنڈی(پیار سے یہ کلمات فرمائے)کیا تم نے قربانی کے دن طواف نہیں کیا تھا۔انہوں نے عرض کیا جی ہاں کیا تھا فرمایا(اب)کوئی حرج نہیں چلو۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں میری ملاقات آپ سے اس وقت ہوئی جب آپ مکہ مکرمہ سے بلندی پر چڑھ رہے تھے اور میں اتر رہی تھی یا میں اوپر جارہی تھی اور آپ اس سے اتر رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٧؛حدیث نمبر٢٨٢٧)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا، وقَالَ إِسْحَاقُ: - أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ، أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ: فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ، وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ الْهَدْيَ، فَأَحْلَلْنَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحِضْتُ، فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ؟ قَالَ: «أَوْ مَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ؟» قَالَتْ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا» قَالَتْ صَفِيَّةُ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ، قَالَ «عَقْرَى حَلْقَى، أَوْ مَا كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ» قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: «لَا بَأْسَ، انْفِرِي» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا، أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا وقَالَ إِسْحَاقُ: مُتَهَبِّطَةٌ وَمُتَهَبِّطٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2827

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہم تلبیہ کہ رہے تھے ہم نے(خاص طور)حج کا ارادہ کیا نہ عمرہ کا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٢٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٨؛حدیث نمبر٢٨٢٨)

وحَدَّثَنَاه سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُلَبِّي، لَا نَذْكُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَنْصُورٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2828

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار یا پانچ راتیں گزرنے کے بعد تشریف لائے اور میرے پاس غصے کی حالت میں آے میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کو کس نے ناراض کیا ہے اللہ اسے جہنم میں لے جائے آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا لیکن وہ اس(کی بجا آوری)میں تردد کر رہے ہیں۔(صحابہ کرام کے تردد کی وجہ یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود احرام نہ کھولا تھا اور صحابہ کرام چاہتے تھے کہ وہ آپ کی اتباع کریں اس لیے یہ نافرمانی نہ تھی۔١٢ہزاروی) راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایا جس چیز کا مجھے علم ہوا اگر پہلے علم ہوتا تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا حتیٰ کہ میں ہدی خریدتا پھر احرام کھول لیتا جیسا کہ انہوں نے کھولا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٩؛حدیث نمبر٢٨٢٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ ذَكْوَانَ، مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، أَوْ خَمْسٍ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ، يَا رَسُولَ اللهِ؟ أَدْخَلَهُ اللهُ النَّارَ، قَالَ: «أَوَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ، فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ؟» - قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ يَتَرَدَّدُونَ أَحْسِبُ - «وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَحِلُّ كَمَا حَلُّوا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2829

ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار یا پانچ راتیں گزرنے کے بعد تشریف لائے اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٩؛حدیث نمبر٢٨٣٠)

وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ أَوْ خَمْسٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ مِنَ الْحَكَمِ فِي قَوْلِهِ: يَتَرَدَّدُونَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2830

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور تشریف لائیں اور ابھی طواف کعبہ نہ کیا تھا کہ حیض آگیا پس انہوں نے تمام افعال ادا کئے اور حج کا احرام باندھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کے دن فرمایا حج اور عمرہ کے لئے تمہارا طواف کافی ہے وہ اس پر راضی نہ ہوئیں تو آپ نے ان کو حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا تو انہوں نے حج کے بعد عمرہ کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٧٩؛حدیث نمبر٢٨٣١)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ، فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَاضَتْ، فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ النَّفْرِ «يَسَعُكِ طَوَافُكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ» فَأَبَتْ، فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2831

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہیں مقام سرف میں حیض آگیا اور عرفات میں وہ اس سے پاک ہوگئیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تمہارے لیے صفا اور مروہ کی سعی تمہارے حج اور عمرہ دونوں سے کفایت کرے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٠؛حدیث نمبر٢٨٣٢)

وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا حَاضَتْ بِسَرِفَ فَتَطَهَّرَتْ بِعَرَفَةَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُجْزِئُ عَنْكِ طَوَافُكِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، عَنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2832

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا لوگ دو ثوابوں کے ساتھ واپس جائیں گے اور میں ایک ثواب کے ساتھ واپس لوٹوں گی؟تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ وہ ان کو تنعیم کی طرف لے جائیں۔فرماتی ہیں انہوں نے مجھے اونٹ پر اپنے پیچھے بٹھا لیا فرماتی ہیں میں اپنے دو پٹہ کو گردن سے ہٹا دیتی تھی اور وہ سواری کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے تھے میں ان سے کہتی کیا تمہیں یہاں کوئی نظر آرہا ہے ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے عمرہ کا احرام باندھا پھر ہم آے اور وادی حصبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٠؛حدیث نمبر٢٨٣٣)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللهِ: أَيَرْجِعُ النَّاسُ بِأَجْرَيْنِ وَأَرْجِعُ بِأَجْرٍ؟ «فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ»، قَالَتْ: فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ خِمَارِي أَحْسُرُهُ عَنْ عُنُقِي، فَيَضْرِبُ رِجْلِي بِعِلَّةِ الرَّاحِلَةِ، قُلْتُ لَهُ: وَهَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ؟ قَالَتْ: فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْحَصْبَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2833

حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے(بٹھا کر)لے جائیں اور تنعیم سے عمرہ کروائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٠؛حدیث نمبر٢٨٣٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، أَخْبَرَهُ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ، فَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2834

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج افراد کا احرام باندھ کر آے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرہ کا احرام باندھ کر آئی تھیں حتیٰ کہ جب ہم سرف میں پہنچے تو وہ حائضہ ہوگئیں یہاں تک کہ ہم نے آکر خانہ کعبہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کے پاس ہدی نہیں وہ احرام کھول دے ہم نے پوچھا اس احرام کھولنے سے کیا مراد ہے؟آپ نے فرمایا مکمل طور پر احرام سے نکل جائے پس ہم اپنی عورتوں کے قریب گئے،خوشبو لگائی اور(سلا ہوا)لباس پہنا۔اب یوم عرفہ(نو ذی الحجہ)تک چار دن باقی تھے پھر ہم نے آٹھ ذوالحجہ کو احرام باندھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں آپ نے پوچھا تمہیں کیا ہوا؟انہوں نے عرض کیا کہ مجھے حیض آگیا ہے اور لوگوں نے احرام کھول دیا جب کہ میں نے نہیں کھولا اور نہ ہی میں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا جب کہ لوگ اب حج کے لیے جارہے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے تم غسل کر کے حج کا احرام باندھ لو چنانچہ انہوں نے اسی طرح کیا اور تمام مواقف(ٹھہرنے کی جگہ)میں وقوف کیا حتیٰ کہ جب وہ پاک ہو گئیں تو انہوں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان چکر لگاے پھر آپ نے فرمایا تم حج اور عمرہ دونوں کے احرام سے نکل آئی ہو۔ام المومنین نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے دل میں خلش ہے کہ میں نے حج سے پہلے طواف نہیں کیا تو آپ نے فرمایا اے عبدالرحمن ان کو لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کراؤ اور یہ وادی حصب کی رات تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨١؛حدیث نمبر٢٨٣٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، - قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا، لَيْثٌ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ عَرَكَتْ، حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ فَقُلْنَا: حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ: «الْحِلُّ كُلُّهُ» فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ، وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ، وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا، وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ، ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَوَجَدَهَا تَبْكِي، فَقَالَ: «مَا شَأْنُكِ؟» قَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ، وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ، وَلَمْ أَحْلِلْ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاغْتَسِلِي، ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ» فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ، حَتَّى إِذَا طَهَرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: «قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ: «فَاذْهَبْ بِهَا، يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ» وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2835

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور وہ رو رہی تھیں اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٣٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨١؛حدیث نمبر٢٨٣٦)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ عَبْدٌ: - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَهِيَ تَبْكِي، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَى آخِرِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا قَبْلَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2836

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا تھا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھا۔اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نرم دل تھے جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ سے کچھ فرمائش کرتیں تو آپ اسے پورا کرتے تھے چنانچہ آپ نے ان کو حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھیجا اور انہوں نے تنعیم سے عمرہ کیا۔حضرت ابوالزبیر فرماتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جب حج کرتیں تو اسی طرح کرتیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨١؛حدیث ننمبر٢٨٣٧)

وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَهْلًا، إِذَا هَوِيَتِ الشَّيْءَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ، فَأَرْسَلَهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مِنَ التَّنْعِيمِ. قَالَ مَطَرٌ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَكَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ كَمَا صَنَعَتْ مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2837

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر نکلے ہمارے ساتھ عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی جب مکہ مکرمہ پہنچ چکے تو ہم نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جس کے پاس ہدی نہیں وہ احرام کھول دے فرماتے ہیں ہم نے کہا کس طریقے پر؟فرمایا مکمل طورپر احرام سے نکل آئے فرماتے ہیں پھر ہم عورتوں کے قریب گئے اور ہم نے(سلے ہوئے)کپڑے پہنے اور خوشبو لگائی۔پس جب آٹھ ذوالحجہ کا دن ہوا تو ہم نے حج کا احرام باندھا اور ہمارے لئے صفا ومروه کے درمیان کی گئی پہلی سعی کافی ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گاے میں شریک ہوں ہم میں سے سات سات افراد ایک ایک گاے یا اونٹ میں شریک ہوئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٢؛حدیث نمبر٢٨٣٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، مَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالمَرْوَةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ» قَالَ قُلْنَا: أَيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: «الْحِلُّ كُلُّهُ» قَالَ: فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ، وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ، وَمَسِسْنَا الطِّيبَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2838

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب ہم نے احرام کھول دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم منی کی طرف جائیں تو احرام باندھ لیں۔پس ہم نے مقام ابطح میں احرام باندھ لیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٢؛حدیث نمبر٢٨٣٩)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَحْلَلْنَا، أَنْ نُحْرِمَ إِذَا تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنًى، قَالَ: فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْأَبْطَحِ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2839

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے صفا مروہ کے درمیان صرف ایک سعی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٣؛حدیث نمبر٢٨٤٠)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا» زَادَ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ: طَوَافَهُ الْأَوَّلَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2840

حضرت عطا فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور میرے ساتھ کچھ اور حضرات بھی تھے انہوں نے فرمایا ہم صحابہ کرام نے صرف حج کا احرام باندھا،(پھر)چار ذوالحجہ کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دیا۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں یہ حکم ان پر واجب نہ تھا البتہ ان کی عورتوں کو ان پر حلال کردیا تھا ہم نے سوچا کہ جب عرفہ تک پانچ دن رہ گئے ہیں تو آپ نے ہمیں بیویوں کے پاس جانے کا حکم دیا۔پس ہم عرفات میں اس حالت میں جائیں گے کہ ہم سے جنسی عمل کے آثار ظاہر ہوں گے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں یہ کہتے ہوئے حضرت جابر رضی اللہ عنہ اپنا ہاتھ ہلاتے تھے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ میں تم سب سے زیادہ نیکی کرنے والا ہوں اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی تمہاری طرح احرام کھول دیتا اور اگر مجھے اس بات کا پہلے علم ہوجاتا جس کا علم اب ہوا ہے تو میں ہدی ساتھ نہ لیتا پس احرام کھول دو چنانچہ ہم نے احرام کھول دئے اور ہم نے حکم سنا اور اطاعت کی۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت علی کرم اللہ وجہ صدقات وصول کر کے تشریف لائے تو ان سے پوچھا آپ نے کون سا احرام باندھا ہے فرمایا جو احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہدی لے لو اور احرام کی حالت میں رہو۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدی لاے تھے۔ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا یہ حکم ہمارے اسی سال کے لئے ہے؟آپ نے فرمایا نہیں ہمیشہ کے لیے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٤؛حدیث نمبر٢٨٤١)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي نَاسٍ مَعِي قَالَ: أَهْلَلْنَا، أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهُ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ «حِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ» قَالَ عَطَاءٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ، فَقُلْنَا: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، أَمَرَنَا أَنْ نُفْضِيَ إِلَى نِسَائِنَا، فَنَأْتِيَ عرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا الْمَنِيَّ، قَالَ: يَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهِ - كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى قَوْلِهِ بِيَدِهِ يُحَرِّكُهَا - قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، فَقَالَ: «قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ، وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ، وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ، فَحِلُّوا» فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ، فَقَالَ: «بِمَ أَهْلَلْتَ؟» قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا» قَالَ: وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ فَقَالَ: «لِأَبَدٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2841

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا احرام باندھا جب ہم مکہ مکرمہ میں آے تو آپ نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دیا یہ بات ہم پر گراں گزری اس سے سینوں میں گھٹن محسوس ہوئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمیں معلوم نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آسمان سے کوئی خبر آئی یا لوگوں سے معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا اے لوگو!احرام کھول دو اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی اسی طرح کرتا جس طرح تم کرتے ہو۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس ہم نے احرام کھول دیا حتیٰ کہ ہم نے بیویوں سے قرب حاصل کیا اور وہ کام کئے جو غیر محرِم کرتا ہے حتیٰ کہ جب آٹھ ذوالحجہ کا دن آیا اور ہم نے مکہ مکرمہ سے پیٹھ پھیری تو ہم نے حج کا احرام باندھا(اور تلبیہ)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٤؛حدیث نمبر٢٨٤٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ وَنَجْعَلَهَا عُمْرَةً، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيْنَا، وَضَاقَتْ بِهِ صُدُورُنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا نَدْرِي أَشَيْءٌ بَلَغَهُ مِنَ السَّمَاءِ أَمْ شَيْءٌ مِنْ قِبَلِ النَّاسِ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، أَحِلُّوا، فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي، فَعَلْتُ كَمَا فَعَلْتُمْ» قَالَ: فَأَحْلَلْنَا حَتَّى وَطِئْنَا النِّسَاءَ، وَفَعَلْنَا مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، وَجَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2842

حضرت موسی بن نافع فرماتے ہیں میں آٹھ ذوالحجہ سے چار دن پہلے تمتع کے ارادے سے مکہ مکرمہ آیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارا حج اہل مکہ کے حج کی طرح ہوگیا پس میں حضرت عطاء بن رباح کے پاس گیا کہ ان سے مسئلہ پوچھوں تو حضرت عطاء نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ سے حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا جس سال آپ نے اپنے ساتھ ہدی لی تھی ان سب حضرات نے حج افراد کا احرام باندھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اپنے احرام کھول دو بیت اللہ شریف کا طواف کرو اور صفا مروہ کے درمیان سعی کر کے بال کٹواو۔ اور بغیر احرام کے رہو حتیٰ کہ جب آٹھ ذوالحجہ کا دن ہو تو احرام باندھ کر اسے تمتع کرو انہوں نے عرض کیا ہم اسے کس طرح تمتع بنائیں۔ہم نے تو حج کی نیت کی تھی آپ نے فرمایا میں نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کرو اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی اس طرح کرتا جس طرح تمہیں حکم دیا ہے۔لیکن جب تک ہدی اپنی قربان گاہ تک پہنچ نہ جاتی میں احرام کھول نہیں سکتا لہٰذا تم احرام کھول دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٤؛حدیث نمبر٢٨٤٣)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ مُتَمَتِّعًا بِعُمْرَةٍ، قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِأَرْبَعَةِ أَيَّامٍ، فَقَالَ النَّاسُ: تَصِيرُ حَجَّتُكَ الْآنَ مَكِّيَّةً، فَدَخَلْتُ عَلَى عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فَاسْتَفْتَيْتُهُ، فَقَالَ عَطَاءٌ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ سَاقَ الْهَدْيَ مَعَهُ، وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ، فَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَصِّرُوا، وَأَقِيمُوا حَلَالًا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ، وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً» قَالُوا: كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ؟ قَالَ: «افْعَلُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ، فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ، لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ، حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ» فَفَعَلُوا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2843

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا تلبیہ کہتے ہوئے آے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں بدل دیں اور آپ کے ساتھ ہدی تھی لہٰذا آپ اسے عمرہ میں بدل نہ سکے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابُ بَيَانِ وُجُوهِ الْإِحْرَامِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ، وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ، وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ؛جلد٢ص٨٨٥؛حدیث نمبر٢٨٤٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، " فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ، قَالَ: وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2844

حضرت قتادہ حضرت ابونضرہ سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تمتع کا حکم دیتے تھے جبکہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اس سے روکتے تھے۔ فرماتے ہیں میں نے یہ بات حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے عرض کی تو انہوں نے فرمایا یہ حدیث تو میرے ہاتھوں میں ہے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عمرہ کیا پھر جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور حکومت آیا تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جس چیز کو جیسے چاہتا ہے حلال فرماتا ہے اور قرآن مجید اپنے مقام پر نازل ہوا پس حج اور عمرہ پوراکرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا اور ان عورتوں سے نکاح کرو تو میرے پاس جو ایسا شخص لایا گیا جس نے ایک خاص مدت کے لئے نکاح کیا(متعہ کیا)میں اسے سنگسار کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْحَجِّ؛بَابٌ فِي الْمُتْعَةِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٨٥؛حدیث نمبر٢٨٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِالْمُتْعَةِ، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: عَلَى يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ، «تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ قَالَ: إِنَّ اللهَ كَانَ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نَزَلَ مَنَازِلَهُ، فَ {أَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: ١٩٦]، كَمَا أَمَرَكُمُ اللهُ، وَأَبِتُّوا نِكَاحَ هَذِهِ النِّسَاءِ، فَلَنْ أُوتَى بِرَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ، إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2845

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یوں ہے کہ اپنے حج کو عمرہ سے الگ کرو اس طرح تمہارا حج بھی پورا ہوگا اور تمہارا عمرہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي الْمُتْعَةِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٨٦؛حدیث نمبر٢٨٤٦)

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَافْصِلُوا حَجَّكُمْ مِنْ عُمْرَتِكُمْ، فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّكُمْ، وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِكُمْ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2846

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آے اور ہم حج کا تلبیہ کہ رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں بدل دیں۔(ان تمام احادیث میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان صحابہ کرام نے جن کے پاس قربانی کا جانور نہ تھا حج کو عمرہ میں بدل دیا تو یہ عمل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے ساتھ خاص تھا اب ایسا نہیں کر سکتے۔امام ابو حنیفہ،امام شافعی اور امام مالک رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔(تفصیل کے لیے دیکھیےشرح مسلم از علامہ غلام رسول سعیدی،جلد ٣ص٤٢٢) (مسلم شریف؛بَابٌ فِي الْمُتْعَةِ بِالْحَجّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٨٨٦؛حدیث نمبر٢٨٤٧)

وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ خَلَفٌ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقُولُ: «لَبَّيْكَ، بِالْحَجِّ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2847

حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے گھر گئے اور انہوں نے سب کی خیریت دریافت کی یہاں تک کہ جب میری باری آئی تو میں نے کہا کہ میں محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہم ہوں۔سوانہوں نے میری طرف(شفقت سے)ہاتھ بڑھایا اور میرے سر پر ہاتھ رکھا اور میرے اوپر کی بٹن کھولی پھر نیچے کی بٹن کھولی اور پھر اپنی ہتھیلی رکھی میرے سینے پر دونوں چھاتیوں کے بیچ میں اور میں ان دنوں جوان لڑکا تھا،پھر کہا:شاباش خوش رہو۔اے میرے بھتیجے اور پوچھو مجھ سے جو چاہو۔پھر میں نے ان سے پوچھا اور وہ نابینا تھے اور اتنے میں نماز کا وقت آ گیا اور وہ کھڑے ہوئے ایک چادر اوڑھ کر کہ جب اس کے دونوں کناروں کو دونوں کندھوں پر رکھتے تھے تو وہ نیچے گر جاتے تھے اس چادر کے چھوٹے ہونے کے سبب سے اور ان کی چادر بڑی تپائی پر رکھی تھی۔پھر نماز پڑھائی انہوں نے ہم کو(یعنی امامت کی) اور میں نے کہا کہ خبر دیجئے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج سے(یعنی حجۃ الوداع سے)تو جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ٹوکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ منورہ میں رہے اور حج نہیں کیا،پھر دسویں سال صحابہ کرام میں اعلان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے جارہے ہیں،پھر جمع ہو گئے مدینہ میں بہت سے لوگ اور سب چاہتے تھے کہ پیروی کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ویسا ہی کام کریں(حج کرنے میں)جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کریں غرض ہم لوگ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے،یہاں تک کہ ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں حضرت محمد بن ابی بکر(رضی اللہ عنہم)کی پیدائش ہوئی۔اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلا بھیجا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”غسل کر لو اور لنگوٹ باندھ لو ایک کپڑے کا اور احرام باندھ لو۔“پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھیں مسجد میں اور سوار ہوئے قصواء اونٹنی پر یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر وہ سیدھی ہوئی بیداء پر(وہ ایک مقام ہے مثل ٹیلہ کے)تو میں نے دیکھا آگے کی طرف جہاں تک کہ میری نظر گئی کہ سوار اور پیادے ہی نظر آتے تھے اور اپنے داہنی طرف بھی ایسی ہی بھیڑ تھی اور بائیں طرف بھی ایسی ہی بھیر تھی اور پیچھے بھی ایسی ہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف اترتا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مراد کو اچھی طرح جانتے تھے اور جو کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہی ہم نے بھی کیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کے ساتھ لبیک پکاری اور کہا«لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ» ‏اور لوگوں نے بھی یہی لبیک پکاری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا اور یہی تلبیہ پڑھتے رہے۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم حج کے سوا اور کچھ ارادہ نہیں رکھتے تھے اور عمرہ کو پہچانتےہی نہ تھےیہاں تک کہ جب ہم بیت اللہ میں آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکن کی تعظیم کی(یعنی حجر اسود کو بوسہ دیا)پھر آپ نے تین چکروں میں رمل کیا۔(پہلوانوں کی طرح چلے)اور چار بار عادت کے موافق چلے پھر مقام ابراہیم پر آئے اور یہ آیت پڑھی«وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى» یعنی(اور بناؤ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ)اور مقام کو اپنے اور بیت اللہ کے سامنے رکھا،پھر میرے والد کہتے تھے اور میں نہیں جانتا کہ انہوں نے ذکر کیا ہو مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ذکر کیا ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھیں دو رکعتیں اور ان میں«قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» اور «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» پڑھی۔پھر لوٹ کر گئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس اور اس کو بوسہ دیا اور نکلے اس دروازہ سے جو صفا کی طرف ہے پھر جب صفا کے قریب پہنچے(وہ ایک پہاڑ کا نام ہے جو کعبہ کے دروازے سے بیس پچیس قدم پر ہے)تو یہ آیت پڑھی«ِاِنَّ الصَّفَا والْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ» یعنی ”صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“ اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ”ہم شروع کرتے ہیں جس سے شروع کیا اللہ تعالیٰ نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا اور قبلہ کی طرف دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کی اور اس کی بڑائی بیان کی(یعنی «لاالٰه الا الله» اور «الله اكبر» ‌‏کہا اور کہا «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ») یعنی کوئی معبود لائق عبادت نہیں سوا اللہ تعالیٰ کے،اکیلا ہے وہ، پورا کیا اس نے اپنا وعدہ (یعنی دین کے پھیلانے کا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کا)اور مدد کی اس نے اپنے بندے کی اور شکست دی اس نے اکیلے سب لشکروں کو۔“پھر اس کے بعد دعا کی،پھر ایسا ہی کہا،پھر دعا کی غرض کہ تین بار ایسا ہی کیا پھر اترے اور مروہ کی طرف چلے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم میدان کے بیچ میں اترے تو دوڑے یہاں تک کہ مروہ پر پہنچے پھر مروہ پر بھی ویسا ہی کیا جیسے کہ صفا پر کیا تھا یعنی وہ کلمات کہے اور دعا کی قبلہ رخ کھڑے ہو کر یہاں تک کہ جب طواف تمام ہوا مروہ پر (یعنی سات شوط ہو چکے)تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مجھے اگر پہلے سے معلوم ہوتا اپنا کام جو بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا(اور مکہ ہی میں خرید لیتا) اور اپنے اس احرام حج کو عمرہ کر ڈالتا اب تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے(یعنی طواف و سعی تو ہو چکی اور عمرہ کے افعال پورے ہو گئے) اور اس کو عمرہ کر لے۔“پھر سراقہ بن مالک جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ!یہ حج کو عمرہ کر ڈالنا ہمارے اسی سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے اس کی اجازت ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے اجازت ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے۔اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لے کر آئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ ان میں ہیں جنہوں نے احرام کھول ڈالا اور رنگین کپڑے پہنے ہوئی ہیں اور سرمہ لگائے ہوئی ہیں تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے برا مانا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے ابا نے حکم فرمایا اس کا۔پھر راوی نے کہا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ عراق میں فرماتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا غصہ کرتا ہوا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر اس کے احرام کھولنے کے سبب سے جو انہوں نے کیا تھا پوچھنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی بات کو جو اس نے ذکر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی میں نے برا جانا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”فاطمہ نے سچ کہا سچ کہا۔“(یعنی میں نے ہی ان کو احرام کھولنے کا حکم دیا ہے)پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم نے کیا کہا جب حج کا قصد کیا؟“تو میں نے عرض کی کہ میں نے کہا:یااللہ!میں اہلال کرتا ہوں اس کا جس کا اہلال کیا ہے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرے ساتھ ہدی ہے (اس لیے میں نے احرام نہیں کھولا)اب تم بھی احرام نہ کھولو۔“کہا جابر رضی اللہ عنہ نے کہ پھر وہ اونٹ جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ لائے تھے اورجو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ لائے سب مل کر سو اونٹ ہو گئے،کہا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہ پھر سب لوگوں نے احرام کھول ڈالا اور بال کترائے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور جن کے ساتھ قربانی تھی(کہ وہ محرم ہی رہے)پھر جب ترویہ کا دن ہوا (یعنی آٹھویں تاریخ ذی الحجہ کی)تو سب لوگ منیٰ کو چلے اور حج کی لبیک پکاری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوار ہوئے اور منیٰ میں ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء اور فجر(پانچ نمازیں)پڑھیں۔پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ آفتاب نکل آیا اور حکم فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیمہ کاجو بالوں کا بنا ہوا تھا کہ لگایا جائے نمرہ میں(کہ نام ہے ایک مقام کا) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور قریش یقین کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم المشعر الحرام میں وقوف کریں گے جیسے سب قریش کے لوگوں کی عادت تھی ایام جاہلیت میں اور آپ وہاں سے آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ عرفات پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ اپنا نمرہ میں لگایا اور اس میں اترے یہاں تک کہ جب آفتاب ڈھل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: قصواء اونٹنی تیار کرنے کااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے بیچ میں پہنچےاور لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارا آج کا دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے شہر میں قابل احترام ہے۔سنو!زمانہ جاہلیت کا ہر عمل میرے ان قدموں کے نیچے پامال ہے۔زمانہ جاہلیت کے ایک دوسرے پر خون پامال ہیں اور سب سے پہلا خون جسے میں ضائع قرار دیتا ہوں وہ حضرت ربیعہ بن حارث کا خون ہے وہ بنو سعد قبیلہ میں دودھ پیتے تھے تو ان کو ہذیل قبیلے نے قتل کر دیا۔ اور جاہلیت کا سود پامال اور ضائع ہے اور سب سے پہلا سود جسے میں ختم کرتا ہوں وہ حضرت عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے وہ سب کا سب پامال ہے۔پس عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو بےشک تم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی امان کے ساتھ لیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلمے کے ساتھ ان کی شرمگاہوں کو اپنے اوپر حلال کیا ہے ان کے ذمے تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دے جن کا آنا تمہیں ناگوار ہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کوایسی سزا دو جس سے چوٹ نہ آئے اور تمہارے ذمے ان کا حق ہے کہ معروف طریقے سے ان کو رزق اور لباس دو میں نے تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑو تو میرے بعد گناہ گار نہیں ہوگے اور وہ اللہ کی کتاب ہے۔قیامت کے دن تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا جواب دوگے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے(دین)پہنچا دیا۔فریضہ ادا کردیا اور(امت کی)خیر خواہی فرمائی۔ پھر آپ نے شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف کرتے ہوئے لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور تین بار فرمایا یا اللہ!تو گواہ ہوجا۔پھر اذان و اقامت ہوئی تو ظہر کی نماز پڑھی پھر اقامت ہوئی تو عصر کی نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوکر موقف(ٹھہرنے کی جگہ)کے پاس تشریف لائے اور اپنی قصوا اونٹنی کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور پیدل چلنے والوں کی پہاڑی کو اپنے سامنے رکھا اور قبلہ رخ ہوے آپ سورج غروب ہونے تک مسلسل کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج کی زردی چلی گئی اور اس کی ٹیکہ غروب ہوگئی تو آپ نے اپنے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھایا اور واپس تشریف لے گئے۔قصوا اونٹنی کا لگام اس تیزی کے ساتھ کھینچی ہوئی تھی کہ اس کا سر کجاوے کے اگلے حصے سے لگ رہا تھا اور آپ دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے اے لوگو!سکون اختیار کرو،سکون اختیار کرو۔اور جب کسی ریت کی ڈھیری پر آ جاتے (جہاں بھیڑ کم پاتے)تو ذرا مہار ڈھیلی کر دیتے یہاں تک کہ اونٹنی چڑھ جاتی آخر مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء پڑھی ایک اذان سےاور دو اقامتوں سے اور ان دونوں فرضوں کے بیچ میں نفل کچھ نہیں پڑھے(یعنی سنت وغیرہ نہیں پڑھی)پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے یہاں تک کہ صبح برآمد ہوئی پھر فجر کی نماز ادا کی(سبحان اللہ! کیسے کیسے خادم ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ رات دن،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے بیٹھنے،اٹھنے جاگنے،کھانے پینے پر نظر ہے اور ہر فعل مبارک کی یاد داشت و حفاظت ہے اللہ تعالیٰ رحمت کرے ان پر)جب فجر خوب ظاہر ہو گئی اذان اور تکبیر کے ساتھ نماز پڑھی،پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے یہاں تک کہ المشعر الحرام میں آئے اور وہاں قبلہ کی طرف منہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ اکبر کہا اور لاالٰہ الااللہ کہا اور اس کی توحید پکاری اور وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی اور لوٹے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے قبل طلوع آفتاب کے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فضل ایک نوجوان اچھے بالوں والا گورا خوبصورت جوان تھا۔پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو ایک گروہ عورتوں کا ایسا چلا جاتا تھا کہ ایک ایک اونٹ پر ایک عورت سوار تھی اور سب چلی چاتی تھیں اور فضل ان کی طرف دیکھنے لگے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا(اور زبان سے کچھ نہ فرمایا سبحان اللہ! یہ اخلاق کی بات تھی اور نہی عن المنکر کس خوبی سے ادا کیا)اور فضل نے منہ اپنا دوسری جانب پھیر لیا اور دیکھنے لگے(یہ ان کے کمال اطمینان کی وجہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر)تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا ہاتھ ادھر پھیر کر ان کے منہ پر رکھ دیا تو فضل پھر دوسری طرف منہ پھیر کر پھر دیکھنے لگے یہاں تک کہ بطن محسر میں پہنچے تب اونٹنی کو ذرا چلایا اور بیچ کی راہ لی جو جمرہ کبریٰ پر جا نکلی ہے یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے(اور اسی کو جمرہ عقبہ کہتے ہیں)اور سات کنکریاں اس کو ماریں اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے ایسی کنکریں جو چٹکی سے ماری جاتی ہیں(اور دانہ باقلا کے برابر ہوں)اور وادی کے بیچ میں کھڑے ہو کر ماریں(کہ منٰی اور عرفات اور مزدلفہ داہنی طرف اور مکہ بائیں طرف رہا)پھر نحر کی جگہ آئے اور تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے باقی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دئیے کہ جس کو انہوں نے نحر کئیے اور شریک کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ہدی میں پھر حکم فرمایا کہ ہر اونٹ میں سے ایک ٹکڑا لیں اور ایک ہانڈی میں ڈالا اور پکایا گیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دونوں نے اس میں سے گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا پھر سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف آئے اور طواف افاضہ کیا اور ظہر مکہ میں پڑھی اور بنی عبدالمطلب کے پاس آئے کہ وہ لوگ زمزم پر پانی پلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”پانی بھرو اے اولاد عبدالمطلب کی اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ بھیڑ کر کے تمہیں پانی نہ بھرنے دیں گے تو میں بھی تمہارا شریک ہو کر پانی بھرتا۔“(یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھرتے سنت ہو جاتا تو پھر ساری امت بھرنے لگتی)اور ان کی سقایت جاتی رہتی،پھر ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہوسلم؛ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حج؛جلد٢ص٨٨٦ تا ٨٩١؛حدیث نمبر٢٨٤٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ حَاتِمٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَسَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي فَنَزَعَ زِرِّي الْأَعْلَى، ثُمَّ نَزَعَ زِرِّي الْأَسْفَلَ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ، يَا ابْنَ أَخِي، سَلْ عَمَّا شِئْتَ، فَسَأَلْتُهُ، وَهُوَ أَعْمَى، وَحَضَرَ وَقْتُ الصَّلَاةِ، فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا، كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبِهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا، وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ، عَلَى الْمِشْجَبِ، فَصَلَّى بِنَا، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ، كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: «اغْتَسِلِي، وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي» فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ، حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ، نَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي بَيْنَ يَدَيْهِ، مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ، وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ، وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ، فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ «لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْهُ، وَلَزِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ، قَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ، لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ، حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ، اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ نَفَذَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَرَأَ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: ١٢٥] فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَكَانَ أَبِي يَقُولُ - وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ: {إِنَّ الصَّفَا والْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] «أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِهِ» فَبَدَأَ بِالصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهِ، حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَوَحَّدَ اللهَ وَكَبَّرَهُ، وَقَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ: مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ، حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى، حَتَّى إِذَا صَعِدَتَا مَشَى، حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا، حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ طَوَافِهِ عَلَى الْمَرْوَةِ، فَقَالَ: «لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ، وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ، وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً»، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ وَاحِدَةً فِي الْأُخْرَى، وَقَالَ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ» مَرَّتَيْنِ «لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ» وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِمَّنْ حَلَّ، وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا، وَاكْتَحَلَتْ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِهَذَا، قَالَ: فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ، بِالْعِرَاقِ: فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ لِلَّذِي صَنَعَتْ، مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذَكَرَتْ عَنْهُ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي أَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: «صَدَقَتْ صَدَقَتْ، مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟» قَالَ قُلْتُ: اللهُمَّ، إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ، قَالَ: «فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحِلُّ» قَالَ: فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً، قَالَ: فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا، إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى، فَأَهَلُّوا بِالْحَجِّ، وَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ، كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا، حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ، فَرُحِلَتْ لَهُ، فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ: «إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ، فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابُ اللهِ، وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، فَقَالَ: بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ، يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ «اللهُمَّ، اشْهَدْ، اللهُمَّ، اشْهَدْ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ، فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ، وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا، حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ، وَدَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ، حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ، وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى «أَيُّهَا النَّاسُ، السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ» كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا، حَتَّى تَصْعَدَ، حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ، وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، وَصَلَّى الْفَجْرَ، حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ، بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ، حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَدَعَاهُ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا، فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ، وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا، فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ ظُعُنٌ يَجْرِينَ، فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ، فَحَوَّلَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ، يَصْرِفُ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ، حَتَّى أَتَى بَطْنَ مُحَسِّرٍ، فَحَرَّكَ قَلِيلًا، ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تَخْرُجُ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا، مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ، فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا، فَنَحَرَ مَا غَبَرَ، وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ، فَطُبِخَتْ، فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ، فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ، فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ، فَقَالَ: «انْزِعُوا، بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ» فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2848

حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں سوال کیا۔پھر انہوں نے حاتم بن اسماعیل کی طرح حسب سابق بیان کیا اور اس حدیث میں یہ اضافہ ذکر کیا کہ اہل عرب کا دستور تھا کہ ابو سیارہ نامی ایک شخص گدھا کی ننگی پشت پر ان لوگوں کو(مزدلفہ سے)واپس لاتا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے مشعر حرام کی طرف بڑھے اور قریش کو یقین ہوگیا کہ آپ مشعر حرام پر قیام فرمائیں گے اور آپ کی منزل یہی مقام ہوگا لیکن آپ آگے بڑھ گئے اور اس جگہ کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی حتیٰ کہ آپ عرفات میں تشریف لائے اور وہاں اترے۔ (مسلم شریف؛بَابُ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٢ص٨٩٢؛حدیث نمبر٢٨٤٩)

وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ: حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَكَانَتِ الْعَرَبُ يَدْفَعُ بِهِمْ أَبُو سَيَّارَةَ عَلَى حِمَارٍ عُرْيٍ، فَلَمَّا أَجَازَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ، لَمْ تَشُكَّ قُرَيْشٌ أَنَّهُ سَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ، وَيَكُونُ مَنْزِلُهُ، ثَمَّ فَأَجَازَ وَلَمْ يَعْرِضْ لَهُ، حَتَّى أَتَى عَرَفَاتٍ فَنَزَلَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2849

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے یہاں جانور ذبح کیا اور منی پورے کا پورا ذبح کی جگہ ہے میں نے یہاں وقوف کیا اور عرفات سارے کا سارا وقوف(ٹھہرنے)کی جگہ ہے اور میں نے یہاں وقوف کیا لیکن تمام کے لئے مزدلفہ قیام کی جگہ ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ؛جلد٢ص٨٩٢؛حدیث نمبر٢٨٥٠)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرٍ، فِي حَدِيثِهِ ذَلِكَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «نَحَرْتُ هَاهُنَا، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2850

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا پھر اپنی دائیں طرف چلے تو تین چکروں میں رمل فرمایا(پہلوانوں کی طرح چلے)اور چار چکروں میں عام حالت میں چلے۔ (مسلم شریف؛بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ؛جلد٢ص٨٩٣؛حدیث نمبر٢٨٥١)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ مَشَى عَلَى يَمِينِهِ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2851

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں قریش اور جو لوگ ان کے دین کے قریب تھے مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور اس عمل کو حمس کہتے تھے اور باقی تمام لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ عرفات میں تشریف لاکر وہاں وقوف فرمائیں تو آپ وہاں وقوف فرما کر وہاں سے واپس تشریف لاتے تھے۔قرآن مجید میں اس کا ذکر یوں آیا۔{ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩]"پھر وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں"۔(مسلم شریف؛بَابٌ فِي الْوُقُوفِ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩]؛جلد٢ص٨٩٣؛حدیث نمبر٢٨٥٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ، وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ بِهَا، ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩] "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2852

حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں اہل عرب ننگے ہوکر بیت اللہ شریف کا طواف کرتے تھے سوائے حمس کے اور حمس قریش اور ان کی اولاد کو کہتے ہیں تو باقی لوگ ننگے ہوکر طواف کرتے البتہ جن کو قریش کپڑے دیتے(وہ ایسا نہیں کرتے تھے)تو مرد،مردوں کو اور عورتیں،عورتوں کو لباس دیتی تھیں اور حمس(قریش)مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے جبکہ باقی لوگ عرفات تک پہنچتے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حمس وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں ام المؤمنين فرماتی ہیں لوگ عرفات سے واپس آئے اور حمس(قریش)مزدلفہ سے واپس لوٹتے تھے وہ کہتے تھے ہم حرم کے علاوہ کسی جگہ سے نہیں لوٹتے جب آیت کریمہ{أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩] نازل ہوئی تو وہ عرفات سے لوٹنے لگے۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي الْوُقُوفِ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩]؛جلد٢ص٨٩٤؛حدیث نمبر٢٨٥٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتِ الْعَرَبُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرَاةً، إِلَّا الْحُمْسَ، وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ وَمَا وَلَدَتْ، كَانُوا يَطُوفُونَ عُرَاةً، إِلَّا أَنْ تُعْطِيَهُمُ الْحُمْسُ ثِيَابًا، فَيُعْطِي الرِّجَالُ الرِّجَالَ، وَالنِّسَاءُ النِّسَاءَ، وَكَانَتِ الْحُمْسُ لَا يَخْرُجُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانَ النَّاسُ كُلُّهُمْ يَبْلُغُونَ عَرَفَاتٍ، قَالَ هِشَامٌ: فَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " الْحُمْسُ هُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩] قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَكَانَ الْحُمْسُ يُفِيضُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، يَقُولُونَ: لَا نُفِيضُ إِلَّا مِنَ الْحَرَمِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ: {أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩] رَجَعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2853

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرا اونٹ گم ہوگیا میں عرفہ کے دن(نو ذوالحجہ کو)اس کی تلاش میں نکلا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں صحابہ کرام کے ساتھ میدان عرفات میں کھڑے ہیں تو میں نے کہا اللہ کی قسم!یہ تو حمس سے ہیں تو یہاں کیوں کھڑے ہیں قریش حمس میں شمار ہوتے تھے۔(چونکہ قریش ایک ممتاز قبیلہ تھا اس لئے وہ مزدلفہ سے آگے نہ جاکر امتیازی شان کا اظہار کرتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو دین لاے اس سے انصاف اور مساوات کا وہ نمونہ پیش کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کو بھی باقی لوگوں کے ساتھ عرفات جانے کا حکم ہوا۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛بَابٌ فِي الْوُقُوفِ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ} [البقرة: ١٩٩]؛جلد٢ص٨٩٤؛حدیث نمبر٢٨٥٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: " أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي، فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ، فَقُلْتُ: وَاللهِ، إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْحُمْسِ، فَمَا شَأْنُهُ هَاهُنَا؟ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُعَدُّ مِنَ الْحُمْسِ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2854

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ وادی بطحاء میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے آپ نے پوچھا تم نے حج کی نیت کی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں،فرمایا تم نے کس چیز کا احرام باندھا ہے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ میں نے کہا میں نے اس چیز کی نیت کی جس کی نیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔آپ نے فرمایا تم نے اچھا کیا بیت اللہ شریف کا طواف کرو،صفا مروہ کی سعی کرو اور احرام کھول لو۔ وہ فرماتے ہیں میں نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا،صفا مروہ کے چکر لگاے پھر بنو قیس کی ایک عورت کے پاس آیا جس نے میرے سر کی صفائی کی۔پھر میں نے حج کا احرام باندھا۔ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں میں لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا ہوں حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آگیا تو مجھ سے ایک شخص نے کہا اے ابو موسیٰ یا اے عبداللہ بن قیس! یہ فتویٰ دینا چھوڑ دو تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے بعد!امیر المومنین نے حج کے بارے میں کیا نئے احکام جاری کئے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے لوگو!ہم نے جن لوگوں کو فتویٰ دیا ہے وہ ٹھہر جائیں امیرالمومنین آنے والے ہیں پس تم ان کی اقتداء کرنا فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں نے ان سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا اگر ہم کتاب اللہ کی پیروی کریں تو کتاب اللہ ہمیں حج اور عمرہ پورا کرنے کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک ہدی قربان گاہ پہنچ نہیں گئی۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي نَسْخِ التَّحَلُّلِ مِنَ الْإِحْرَامِ وَالْأَمْرِ بِالتَّمَامِ؛ترجمہ؛احرام سے نکلنے کا حکم منسوخ ہوگیا اور اسے پورا کرنے کا حکم؛جلد٢ص٨٩٤؛حدیث نمبر٢٨٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ لِي: «أَحَجَجْتَ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: «بِمَ أَهْلَلْتَ؟» قَالَ قُلْتُ: لَبَّيْكَ، بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فَقَدْ أَحْسَنْتَ، طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَحِلَّ» قَالَ: فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ قَالَ: فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ، حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا مُوسَى، أَوْ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ، رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ، فَبِهِ فَائْتَمُّوا»، قَالَ: فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2855

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٥٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي نَسْخِ التَّحَلُّلِ مِنَ الْإِحْرَامِ وَالْأَمْرِ بِالتَّمَامِ؛جلد٢ص٨٩٥؛حدیث نمبر٢٨٥٦)

وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2856

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ بطحاء میں اونٹوں کو بٹھائے ہوے تھے آپ نے پوچھا تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا میں نے نیت کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کا احرام باندھا ہے میرا بھی وہی احرام ہے۔آپ نے پوچھا کیا تم ہدی لاے ہو؟میں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرو پھر احرام کھول دو پس میں نے بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا جس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھویا میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں لوگوں کو اسی بات کا فتویٰ دیتا تھا۔ پھر ایک مرتبہ میں حج کے موسم میں کھڑا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا تمہیں معلوم نہیں امیر المومنین نے حج کے بارے میں کیا احکام جاری کئے ہیں تو میں نے کہا اے لوگو!میں نے جن کو کوئی فتویٰ دیا ہے وہ ٹھہر جائیں امیر المومنین آنے والے ہیں پس ان کی اقتداء کرنا۔ جب وہ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین!آپ نے احکام حج کے سلسلے میں کیا نیا حکم جاری فرمایا ہے؟انہوں نے فرمایا اگر ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو اور اگر ہم اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اختیار کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک ہدی(کے جانور)کو ذبح نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي نَسْخِ التَّحَلُّلِ مِنَ الْإِحْرَامِ وَالْأَمْرِ بِالتَّمَامِ؛جلد٢ص٨٩٥؛حدیث نمبر٢٨٥٧)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ: «بِمَ أَهْلَلْتَ؟»، قَالَ قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْيٍ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حِلَّ» فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي، فَمَشَطَتْنِي وَغَسَلَتْ رَأْسِي " فَكُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ فِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ وَإِمَارَةِ عُمَرَ، فَإِنِّي لَقَائِمٌ بِالْمَوْسِمِ، إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ، فَقُلْتُ: أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ فَهَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَائْتَمُّوا، فَلَمَّا قَدِمَ، قُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ: مَا هَذَا الَّذِي أَحْدَثْتَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ قَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: ١٩٦] وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَام، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2857

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا فرماتے ہیں میں اس سال واپس آیا جس سال آپ نے حج کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابو موسیٰ!تم نے احرام باندھتے وقت کیا کہا ہے؟میں نے عرض کیا کہ میں نے نیت کی تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو احرام باندھا ہے میرا بھی وہی احرام ہے آپ نے پوچھا کیا تمہارے ساتھ ہدی ہے؟میں نے عرض کیا نہیں فرمایا پس چلو بیت اللہ شریف کا طواف کرو اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرکے احرام کھول دو۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٥٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛بَابٌ فِي نَسْخِ التَّحَلُّلِ مِنَ الْإِحْرَامِ وَالْأَمْرِ بِالتَّمَامِ؛جلد٢ص٨٩٦؛حدیث نمبر٢٨٥٨)

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا مُوسَى، كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ؟» قَالَ قُلْتُ: لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟» فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحِلَّ» ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2858

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حج تمتع کا فتویٰ دیتے تھے ایک شخص نے ان سے کہا کہ آپ اپنے بعض فتاویٰ سے رک جائیں کیونکہ آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد امیر المومنین نے احکام حج سے متعلق کیا حکم صادر فرمایا ہے۔امیر المومنین سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس سلسلے میں سوال کیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے یہ عمل کیا لیکن میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ لوگ پیلو کے درختوں کے نیچے اپنی بیویوں سے ازدواجی عمل کریں پھر حج کے لئے چلے جائیں اس حال میں کہ ان کے سروں سے(غسل جنابت کے باعث)پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں۔(حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا حج تمتع سے منع کرنا کس بنیاد پر تھا اس سلسلے میں قاضی عیاض علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج کو فسخ کرکے عمرہ کرنے سے منع کرتے تھے کیونکہ وہ اسے حجۃ الوداع کے ساتھ خاص سمجھتے تھے۔تفصیل کے لیے دیکھیے شرح مسلم علامہ سعیدی جلد ٣ص٤٢٥)۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج،بَابٌ فِي نَسْخِ التَّحَلُّلِ مِنَ الْإِحْرَامِ وَالْأَمْرِ بِالتَّمَامِ؛جلد٢ص٨٩٦؛حدیث نمبر٢٨٥٩)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ، حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ، وَأَصْحَابُهُ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ، ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2859

حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تمتع سے منع فرماتے تھے اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ اس کی اجازت دیتے تھے پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے ایک بات کہی پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا؟انہوں نے فرمایا ہاں معلوم ہے لیکن ہم اس وقت خوف زدہ تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج، بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٦؛حدیث نمبر٢٨٦٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ شَقِيقٍ: كَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَأْمُرُ بِهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ: كَلِمَةً، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: " لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2860

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٦٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦١)

وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2861

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مقام عسفان میں اکٹھے ہوئے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حج تمتع یا عمرہ سے منع کیا کرتے تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا بات ہے آپ اس کام سے منع کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو انہوں نے فرمایا میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا۔پھر جب حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت پر دیکھا تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: اجْتَمَعَ عَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ، فَكَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ أَوِ الْعُمْرَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَنْهَى عَنْهُ؟» فَقَالَ عُثْمَانُ: دَعْنَا مِنْكَ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَكَ، فَلَمَّا أَنْ رَأَى عَلِيٌّ ذَلِكَ، أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2862

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حج تمتع رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے ساتھ خاص تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦٣)

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2863

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہی بیان ہے کہ ہمیں حج تمتع کے لئے رخصت تھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً» يَعْنِي الْمُتْعَةَ فِي الْحَجِّ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2864

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عورتوں سے متعہ اور حج کا متعہ دونوں ہمارے ساتھ خاص تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦٥)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «لَا تَصْلُحُ الْمُتْعَتَانِ، إِلَّا لَنَا خَاصَّةً» يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ وَمُتْعَةَ الْحَجِّ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2865

حضرت عبد الرحمن بن ابو شعشاء فرماتے ہیں میں حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابراہیم تیمی کے پاس گیا تو میں نے کہا کہ میں اس سال حج اور عمرہ کو جمع کرنا چاہتا ہوں اس پر حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا لیکن آپ کے والد تو حج اور عمرہ ملاکر نہیں کرتے تھے نیز حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ربذہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور ان سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا یہ ہمارے ساتھ خاص ہے دوسروں کے لئے نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٧؛حدیث نمبر٢٨٦٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: أَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَهُمُّ أَنْ أَجْمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ الْعَامَ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ: لَكِنْ أَبُوكَ لَمْ يَكُنْ لِيَهُمَّ بِذَلِكَ. قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّبَذَةِ، فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2866

حضرت غنیم بن قیس فرماتے ہیں میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم نے یہ عمل کیا ہے اور یہ(حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ)ان دنوں مکہ مکرمہ کے مکانوں میں حالت کفر میں تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٨؛حدیث نمبر٢٨٦٧)

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ الْفَزَارِيِّ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْمُتْعَةِ؟ فَقَالَ: «فَعَلْنَاهَا وَهَذَا يَوْمَئِذٍ كَافِرٌ بِالْعُرُشِ، يَعْنِي بُيُوتَ مَكَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2867

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٦٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٨؛حدیث نمبر٢٨٦٨)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ: يَعْنِي مُعَاوِيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2868

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے اور اس میں حج تمتع کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٨؛حدیث نمبر٢٨٦٩)

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2869

حضرت مطرف فرماتے ہیں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا،آج میں تمہیں ایک حدیث سناؤں گا جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں آج کے بعد نفع دے گا اور جان لو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے ایک گروہ کے ہمراہ ذوالحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا اور اس کے بعد کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس نے اسے منسوخ کیا ہواور نہ ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا اس کے بعد جس نےجو کچھ کیا اپنی رائے سے کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٨؛حدیث نمبر٢٨٧٠)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: إِنِّي لَأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ يَنْفَعُكَ اللهُ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ، «وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ، فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، ارْتَأَى كُلُّ امْرِئٍ، بَعْدُ مَا شَاءَ أَنْ يَرْتَئِيَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2870

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں ہے کہ ایک شخص نے جو کچھ کہا اپنی رائے سے کہا تو اس سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٨؛حدیث نمبر٢٨٧١)

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، كِلَاهُمَا عَنْ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي رِوَايَتِهِ ارْتَأَى رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ يَعْنِي عُمَرَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2871

حضرت مطرف فرماتے ہیں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے تمہیں نفع عطا کرے گا وہ یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کیا پھر اس سے منع نہیں فرمایا حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا اور قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس نے اسے حرام قرار دیا ہو اور مجھے(فرشتوں کی طرف سے)سلام کیا جاتا تھا حتیٰ کہ میں نے(مرض کی شدت کے باعث)داغ لگوایا تو یہ سلام موقوف ہوگیا پھر میں نے داغ لگانا چھوڑ دیا تو یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٩؛حدیث نمبر٢٨٧٢)

وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللهُ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ، وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ، وَقَدْ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ، حَتَّى اكْتَوَيْتُ، فَتُرِكْتُ، ثُمَّ تَرَكْتُ الْكَيَّ فَعَادَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2872

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٧٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٩؛حدیث نمبر٢٨٧٣)

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2873

حضرت مطرف فرماتے ہیں جب عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اس مرض میں مبتلا ہوے جس میں ان کا وصال ہوا تو انہوں نے مجھے بلایا اور فرمایا میں تمہیں کچھ احادیث بتاتا ہوں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے بعد تمہیں ان سے نفع عطاء کرے گا اگر میں زندہ رہا تو اس بات کو مخفی رکھنا(کیوں کہ یہ شہرت کے زمرے میں آجائے گا)اور اگر میرا وصال ہوجائے تو بیان کرنا اگر تم چاہو بات یہ ہے کہ مجھے سلام کیا جاتا تھا اور جان لو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس میں اس سے منع کیا گیا ہو اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے منع کیا اس کے خلاف جس نے بھی بات کی اپنی رائے سے کی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٩؛حدیث نمبر٢٨٧٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ مُحَدِّثَكَ بِأَحَادِيثَ، لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهَا بَعْدِي، فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَنِّي، وَإِنْ مُتُّ فَحَدِّثْ بِهَا إِنْ شِئْتَ: إِنَّهُ قَدْ سُلِّمَ عَلَيَّ، وَاعْلَمْ «أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابُ اللهِ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ رَجُلٌ فِيهَا: بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2874

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع فرمایا پھر اس سلسلے میں قرآن مجید میں کوئی حکم(ممانعت کا حکم)نازل نہیں ہوا اور نہ ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا اس سلسلے میں جس نے جو کچھ کہا اپنی رائے سے کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٨٩٩؛حدیث نمبر٢٨٧٥)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ، وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: فِيهَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2875

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تمتع کیا اور اس سلسلے میں قرآن مجید میں کوئی حکم(ممانعت کا)نازل نہیں ہوا ایک شخص نے جو کچھ کہا اپنی رائے سے کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٩٠٠؛حدیث نمبر٢٨٧٦)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ» قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2876

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اس حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج تمتع کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٩٠٠؛حدیث نمبر٢٨٧٧)

وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: تَمَتَّعَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2877

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے فرماتے ہیں کہ اللہ کی کتاب میں حج تمتع کے بارے میں آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا پھر کوئی ناسخ آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا اس کے بعد ایک شخص نے جو چاہا کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٩٠٠؛حدیث نمبر٢٨٧٨)

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: «نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ، فِي كِتَابِ اللهِ - يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ - وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ» قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ: بَعْدُ، مَا شَاءَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2878

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٧٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٩٠٠؛حدیث نمبر٢٨٧٩)

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ: وَأَمَرَنَا بِهَا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2879

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج اور عمرہ کو ملاکر تمتع کیا اور ہدی دی آپ ہدی(قربانی کے جانور)کو ذوالحلیفہ سے ساتھ لے گئے تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے تلبیہ سے آغاز کیا پھر حج کا تلبیہ پڑھا اور صحابہ کرام نے بھی آپ کے ساتھ حج تمتع کیا بعض صحابہ کرام کے پاس ہدی تھی تو ہدی(کا جانور)ساتھ لے گئے۔ اور بعض کے پاس ہدی نہیں تھی جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگوں سے فرمایا جس کے پاس ہدی ہو وہ حج کی ادائیگی تک ان چیزوں سے حلال نہ ہو جو(احرام کی وجہ سے)اس پر حرام ہوچکی ہیں اور جس نے ہدی نہیں چلائی وہ بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرے اور بال کٹواکراحرام سے نکل جائے پھر حج کا احرام باندھے اور قربانی کرے اور جس کو قربانی کی طاقت نہ ہو وہ حج کے ایام میں تین دن روزے رکھے اور جب گھر واپس آے تو سات روزے رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ جب تشریف لائے تو آپ نے طواف کیا اور سب سے پہلے حجر اسود کو بوسہ دیا پھر سات پھیروں میں سے تین چکر دوڑ کر لگائے اور چار چکروں میں عام رفتار میں چلے پھر طواف مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد صفا پر تشریف لائے اور صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگاے پھر آپ ان چیزوں میں سے کسی سے حلال نہیں ہوے جو حرام ہوئی تھیں حتیٰ کہ حج ادا کیا اور قربانی کے دن قربانی کی بیت اللہ شریف کا فرض طواف کیا اور پھر وہ تمام چیزیں حلال ہوگئیں جو(احرام کی وجہ سے)جوحرام ہوئی تھیں۔ اور جن لوگوں نے ہدی چلائی تھی انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح عمل کیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ وُجُوبِ الدَّمِ عَلَى الْمُتَمَتِّعِ، وَأَنَّهُ إِذَا عَدَمَهُ لَزِمَهُ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ؛ترجمہ؛تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے اور جب نہ پائے تو حج کے دنوں میں تین روزے رکھے اور گھر واپس آکر سات روزے رکھے؛جلد٢ص٩٠١؛حدیث نمبر٢٨٨٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَهْدَى، فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْيَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى، فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا، فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ» وَطَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ رَكَعَ، حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ، فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَفَاضَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ، مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2880

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ان کو خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ ملاکر کیا اور لوگوں نے بھی تمتع کیا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٨٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ التَّمَتُّعِ؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨١)

وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: «عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتُّعِهِ بِالْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ، وَتَمَتُّعِ النَّاسِ مَعَهُ» بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2881

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا اور آپ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا آپ نے فرمایا میں نے اپنے بالوں کو چپکا لیا اور ہدی کے گلے میں قلادہ ڈال دیا ہے پس میں قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولوں گا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَتَحَلَّلُ إِلَّا فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ؛ترجمہ؛قارن اس وقت احرام کھولے جب حج افراد والا احرام کھولتا ہے؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2882

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا وجہ ہے آپ نے احرام نہیں کھولا؟اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٨٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَتَحَلَّلُ إِلَّا فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨٣)

وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ بِنَحْوِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2883

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا اور آپ نے اپنے عمرہ سے احرام نہیں کھولا آپ نے فرمایا میں نے اپنی ہدی(کے جانور)کے گلے میں قلادہ ڈالا اور سر کو چپکایا ہے پس میں جب تک حج نہ کر لوں احرام سے باہر نہیں آسکتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَتَحَلَّلُ إِلَّا فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: «إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2884

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٨٨٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَتَحَلَّلُ إِلَّا فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ «فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2885

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھ سے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات سے فرمایا کہ وہ احرام کھول دیں۔ام المؤمنين حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا کیا وجہ ہے کہ آپ احرام نہیں کھولتے؟آپ نے فرمایا میں نے اپنے سر کو چپکایا ہے اور ہدی کا جانور ساتھ لایا ہوں پس جب تک قربانی نہ کروں احرام نہیں کھول سکتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَتَحَلَّلُ إِلَّا فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ؛جلد٢ص٩٠٢؛حدیث نمبر٢٨٨٦)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَقُلْتُ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ؟ قَالَ: «إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2886

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ فتنہ کے زمانے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عمرہ کی غرض سے تشریف لے گئے اور فرمایا اگر ہمیں بیت اللہ شریف سے روک دیا گیا تو ہم اسی طرح کریں گے جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا پھر وہ تشریف لے گئے اور عمرہ کا احرام باندھا حتیٰ کہ جب مقام بیدا پر پہنچے تو اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا تو فرمایا حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے پس جب آپ بیت اللہ شریف کے پاس آئے تو اس کا طواف سات چکروں میں کیا اور صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگاے(سعی کی)اور اس پر اضافہ نہ کیا انہوں نے خیال کیا کہ یہ سات چکر کافی ہیں اور پھر انہوں نے قربانی کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ؛ترجمہ؛احصار کے وقت احرام کھولنے اور قِران کا جواز (نوٹ:احصار رک جانے کو کہتے ہیں جو شخص حج کے لئے رک جائے اور اسے راستے میں کوئی رکاوٹ ہو وہ محصر ہے)؛ جلد٢ص٩٠٣؛حدیث نمبر٢٨٨٧)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا وَقَالَ: " إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَارَ، حَتَّى إِذَا ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ سَبْعًا، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، سَبْعًا. لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ، وَرَأَى أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ، وَأَهْدَى "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2887

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ اور حضرت سالم بن عبداللہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کلام کیا جب حجاج،حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے آیا،ان دونوں حضرات نے کہا اگر آپ اس سال حج نہ کریں تو کوئی حرج نہیں۔ہمیں ڈر ہے کہ لوگوں کے درمیان لڑائی ہوجائے اور بیت اللہ شریف تک پہنچ نہ سکیں۔ انہوں نے فرمایا اگر میرے اور بیت اللہ شریف کے درمیان کوئی رکاوٹ ہوئی تو میں اسی طرح کروں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا جب کفار قریش آپ کے اور بیت اللہ شریف کے درمیان حائل ہوے تھے۔ (فرمایا)میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کی نیت کی ہے پھر آپ تشریف لے گئے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو عمرہ کا تلبیہ کیا پھر فرمایا اگر میرا راستہ صاف رہا تو عمرہ کروں گا اور رکاوٹ ہوگئی تو اس طرح کروں گا جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور میں آپ کے ہمراہ تھا آپ نے یہ آیت کریمہ پڑھی:{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١]،"بے شک تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"۔ پھر تشریف لے گئے جب مقام بیدا پر پہنچے تو فرمایا حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے اگر میرے لئے عمرہ میں رکاوٹ ہوئی تو حج میں بھی رکاوٹ ہوگی میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے پھر آپ نے مقام قدید میں ہدی خریدی اور پھر دونوں(حج اور عمرہ)کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر دونوں سے حلال نہ ہوے یہاں تک کہ قربانی کے دن حج کے احرام سے نکلے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ؛جلد٢ص٩٠٣؛حدیث نمبر٢٨٨٨)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، كَلَّمَا عَبْدَ اللهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ يُحَالُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: " فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّى بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ تَلَا: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١]، ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ، فَانْطَلَقَ حَتَّى ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2888

حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا جب حجاج نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اس کے بعد حدیث نمبر ٢٨٨٨ کی مثل مروی ہے اور حدیث کے آخر میں فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے جو شخص حج اور عمرہ کو جمع کرے اسے ایک طواف کافی ہے اور وہ اس وقت تک حلال نہیں ہوتا جب تک دونوں سے حلال نہ ہوجائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٨٩)

وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَكَانَ يَقُولُ: مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2889

حضرت نافع سے مروی ہے فرماتے ہیں جس سال حجاج نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اس سال حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا ان سے کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان جنگ ہونے والی ہے اور ہمیں ڈر کہ آپ کو رکاوٹ پیش آئے انہوں نے فرمایا:{لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: ٢١]"تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے" میں اسی طرح کروں گا جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے پھر آپ تشریف لے گئے حتیٰ کہ جب مقام ظاہر البیداء پر پہنچے تو فرمایا حج اور عمرہ کا ایک ہی معاملہ ہے تم گواہ رہو۔ابن رمح نے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے اور انہوں نے ہدی چلائی جو مقام قدید میں خریدی۔پھر دونوں کا تلبیہ کہتے ہوئے تشریف لے گئے حتیٰ کہ مکہ مکرمہ پہنچے تو بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی لیکن اس پر اضافہ نہ کیا قربانی بھی نہ کی،سر بھی نہ منڈایا اور نہ ہی بال کٹواے اور احرام کی وجہ سے جو امور حرام ہوے تھے ان سے حلال نہ ہوے حتیٰ کہ جب قربانی کا دن آیا تو انہوں نے قربانی کی اور سر منڈایا اور ان کا خیال تھا کہ انہوں نے پہلے طواف کے ذریعے حج اور عمرہ دونوں کا طواف کرلیا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٩٠)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: ٢١] حَسَنَةٌ " أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ، اشْهَدُوا - قَالَ ابْنُ رُمْحٍ: أُشْهِدُكُمْ - أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي، وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْحَرْ، وَلَمْ يَحْلِقْ، وَلَمْ يُقَصِّرْ، وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ، وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ ". وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2890

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر صرف شروع میں کیا جب آپ سے کہا گیا کہ لوگ آپ کو بیت اللہ شریف سے روک دیں گے تو آپ نے فرمایا میں اس وقت اس طرح کروں گا جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور حدیث کے آخر میں یہ نہیں فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا جس طرح حضرت لیث نے ذکر کیا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٩١)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ حِينَ قِيلَ لَهُ يَصُدُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، قَالَ: إِذَنْ أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا ذَكَرَهُ اللَّيْثُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2891

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج افراد کا احرام باندھا۔ابن عون کی روایت میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کا احرام باندھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛ترجمہ؛حج افراد اور قران؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٩٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - فِي رِوَايَةِ يَحْيَى - قَالَ: «أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، - وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَوْنٍ - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2892

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ کہتے تھے حضرت بکر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا تلبیہ کہا تھا پھر میری ملاقات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول بتایا اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم ہمیں بچہ سمجھتے ہو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے«لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا»"میں حج اور عمرہ کے ساتھ حاضر ہوں"(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٥؛حدیث نمبر٢٨٩٣)

وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا» قَالَ بَكْرٌ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: «لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ» فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ أَنَسٌ: مَا تَعُدُّونَنَا إِلَّا صِبْيَانًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2893

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حج اور عمرہ دونوں کو جمع فرمایا۔راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم نے حج کا احرام باندھا تھا پھر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول بتایا تو انہوں نے فرمایا گویا ہم اس وقت بچے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٩٤)

وَحَدَّثَنِي وأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «جَمَعَ بَيْنَهُمَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ» قَالَ: فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: «أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ» فَرَجَعْتُ إِلَى أَنَسٍ فَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: «كَأَنَّمَا كُنَّا صِبْيَانًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2894

حضرت وبرہ کہتے ہیں میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کیا میرے لیے عرفات میں آنے سے پہلے بیت اللہ شریف کا طواف درست ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں اس نے کہا ہاں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بیت اللہ شریف کا طواف عرفات میں جانے سے پہلے نہ کرو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو عرفات جانے سے پہلے بیت اللہ شریف کا طواف کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول پر عمل کرنا صحیح ہے یا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول پر اگر تم اپنے دعویٰ ایمان میں سچے ہو۔(مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اتباع سب سے مقدم ہے) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَلْزَمُ مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ مِنَ الطَّوَافِ وَالسَّعْيِ؛جلد٢ص٩٠٥؛حدیث نمبر٢٨٩٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الْمَوْقِفَ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: لَا تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «فَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَوْقِفَ» فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ، أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2895

حضرت وبرہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا میں بیت اللہ شریف کا طواف کرسکتا ہوں حالانکہ میں نے حج کا احرام باندھا ہے انہوں نے فرمایا تجھے کیا رکاوٹ ہے اس نے کہا میں نے فلاں کے بیٹے کو دیکھا ہے کہ وہ اسے ناپسند کرتا ہے اور آپ ہمارے لیے اس سے زیادہ محبوب ہیں ہم نے دیکھا کہ اسے دنیا کی محبت نے غافل کردیا ہے انہوں نے فرمایا ہم میں اور تم میں کون ایسا ہے جسے دنیا نے غافل نہ کیا ہو۔ پھر فرمایا ہم نےرسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حج کا احرام باندھا پھر بیت اللہ شریف کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔پس فلاں کے طریقے کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتباع کے زیادہ لائق ہے اگر تم دعویٰ ایمان میں سچے ہو۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٤؛حدیث نمبر٢٨٩٦)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ؟ فَقَالَ: وَمَا يَمْنَعُكَ؟ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ فُلَانٍ يَكْرَهُهُ وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ، رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا، فَقَالَ: وَأَيُّنَا - أَوْ أَيُّكُمْ - لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا؟ ثُمَّ قَالَ: «رَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ»، فَسُنَّةُ اللهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلَانٍ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2896

حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو عمرہ کے لئے آتا ہے اور بیت اللہ شریف کا طواف کرتا ہے لیکن صفا مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتا کیا وہ اپنی بیوی کے پاس جاسکتا ہے؟انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے بیت اللہ شریف کے سات چکر لگاے اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں پھر صفا مروہ کے درمیان سات چکر سعی کے لگائے اور تمہارے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٦؛حدیث نمبر٢٨٩٧)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟ فَقَالَ: «قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2897

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٢٨٩٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٦؛حدیث نمبر٢٨٩٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، جَمِيعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2898

حضرت محمد بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ ایک عراقی شخص نے ان سے کہا کہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے میرے لئے یہ مسئلہ پوچھو کہ ایک شخص حج کا احرام باندھتا ہے تو کیا بیت اللہ شریف کے طواف کے بعد وہ احرام کھول سکتا ہے؟اگر وہ فرمائیں کہ نہیں کھول سکتا تو ان سے کہیں کہ ایک شخص یہ مسئلہ بیان کرتا ہے۔ حضرت محمد بن عبد الرحمن فرماتے ہیں میں نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا جس نے حج کا احرام باندھا ہو وہ احرام سے نہیں نکل سکتا جب تک حج نہ کر لے میں نے کہا ایک شخص کہتا ہے(کہ وہ احرام کھول سکتا ہے) انہوں نے فرمایا اس نے بری بات کہی وہ فرماتے ہیں پھر وہ عراقی مجھے ملا اور اس نے مجھ سے پوچھا میں نے اسے بتا دیا۔اس نے کہا آپ ان سے پوچھیں کہ وہ شخص اس بات کی خبر دیتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا ہے اور حضرت اسماء اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح کیا۔وہ فرماتے ہیں میں نے جاکر ان کو بتایا تو انہوں نے پوچھا وہ کون ہے؟میں نے کہا مجھے معلوم نہیں انہوں نے فرمایا اسے کیا ہے کہ وہ خود میرے پاس آکر نہیں پوچھتا میرا خیال ہے وہ عراقی ہے۔ فرماتے ہیں میں نے کہا مجھے معلوم نہیں انہوں نے فرمایا اس نے جھوٹ کہا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا اور مجھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے وضو کیا پھر بیت اللہ شریف کا طواف کیا پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو انہوں نے بھی پہلے طواف کیا پھر حج کے سوا کچھ نہ کیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو میں نے ان کو دیکھا انہوں نے بیت اللہ شریف کے طواف سے آغاز کیا پھر کچھ اور عمل نہ کیا پھر حضرت معاویہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے حج کیا تو انہوں نے سب سے پہلے طواف کیا اور پھر کوئی دوسرا عمل نہ کیا پھر میں نے مہاجرین اور انصار کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا وہ اس کے سوا کچھ نہ کرتے تھے پھر میں نے سب سے آخر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ اسی طرح کرتے تھے انہوں نے بھی عمرہ کے بعد حج کا احرام نہیں کھولا۔ اور یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس ہیں وہ اس سے سوال کیوں نہیں کرتے اسی طرح جو صحابہ کرام گزر چکے ہیں جب وہ مکہ مکرمہ جاتے تو سب سے پہلے طواف کرتے تھے پھر وہ احرام نہیں کھولتے تھے اور میں نے اپنی والدہ(حضرت اسماء)اور اپنی خالہ(حضرت عائشہ)رضی اللہ عنہما کو دیکھا جب وہ مکہ مکرمہ آتی تھیں تو سب سے پہلے طواف کرتیں پھر احرام نہیں کھولتی تھیں اور میری ماں نے مجھے بتایا کہ وہ اور ان کی ہمشیرہ حضرت زبیر اور فلاں فلاں نے فقط عمرہ کیا جب انہوں نے حجرہ اسود کو تعظیما ہاتھ لگایا تو احرام سے نکل گئے عراقی نے اس مسئلہ میں جو کچھ کہا ہے وہ جھوٹ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٦؛حدیث نمبر٢٨٩٩)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ: سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ، فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لَا؟ فَإِنْ قَالَ لَكَ: لَا يَحِلُّ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: لَا يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا بِالْحَجِّ، قُلْتُ: فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: بِئْسَ مَا قَالَ، فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: فَقُلْ لَهُ: فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ، وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ قَدْ فَعَلَا ذَلِكَ، قَالَ: فَجِئْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَمَا بَالُهُ لَا يَأْتِينِي بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِي؟ أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَإِنَّهُ قَدْ كَذَبَ، قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: «أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَجَّ» أَبُو بَكْرٍ فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ، ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ، وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ؟ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَيْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ، وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ لَا تَبْدَآنِ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ، ثُمَّ لَا تَحِلَّانِ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2899

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم احرام کی حالت میں نکلے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس ہدی ہو وہ اپنا احرام برقرار رکھے اور جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دے میرے پاس ہدی نہیں تھی تو میں نے احرام کھول دیا اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس ہدی تھی تو انہوں نے احرام نہ کھولا۔ فرماتی ہیں میں نے کپڑے پہن لئے پھر میں باہر آکر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گئی تو انہوں نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ جاؤ میں نے کہا کیا آپ کو خوف ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٧؛حدیث نمبر٢٩٠٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَحْلِلْ» فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ: وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحْلِلْ، قَالَتْ: " فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: قُومِي عَنِّي، فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ؟ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2900

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ آے پھر حدیث نمبر ٢٩٠٠ کی مثل مروی ہے۔ البتہ اس میں یہ ہے کہ انہوں نے فرمایا مجھ سے دور جاؤ تو میں نے کہا کیا آپ کو ڈر ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٨؛حدیث نمبر٢٩٠١)

وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ: اسْتَرْخِي عَنِّي، اسْتَرْخِي عَنِّي، فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ؟

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2901

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام حضرت عبد اللہ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے سنا جب بھی وہ مقام حَجون سے گزرتیں تو فرماتیں،اللہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرمائے ہم آپ کے ساتھ یہاں اترے تھے اور ان دنوں ہمارے پاس سامان کم تھا اور سواریاں بھی کم تھیں تو میں نے میری بہن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا،حضرت زبیر اور فلاں فلاں رضی اللہ عنہم نے عمرہ کیا جب ہم بیت اللہ شریف کے طواف سے فارغ ہوئے تو ہم نے احرام کھول دیا پھر شام کے وقت ہم نے حج کا احرام باندھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٠٨؛حدیث نمبر٢٩٠٢)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ، مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ أَسْمَاءَ كُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُونِ تَقُولُ: «صَلَّى الله عَلَى رَسُولِهِ وَسَلَّمَ، لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَاهُنَا، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافُ الْحَقَائِبِ، قَلِيلٌ ظَهْرُنَا قَلِيلَةٌ أَزْوَادُنَا، فَاعْتَمَرْتُ أَنَا وَأُخْتِي عَائِشَةُ وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ أَحْلَلْنَا، ثُمَّ أَهْلَلْنَا مِنَ الْعَشِيِّ بِالْحَجِّ» قَالَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ: أَنَّ مَوْلَى أَسْمَاءَ، وَلَمْ يُسَمِّ: عَبْدَ اللهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2902

حضرت مسلم القری سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی جب کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ اس سے روکتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ حضرت ابن زبیر کی والدہ ہیں جو بیان کرتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں اجازت دی ہے پس ان کے پاس جاؤ اور ان سے اس بارے میں پوچھو۔راوی فرماتے ہیں ہم ان کے پاس حاضر ہوئے تو وہ بھاری جسم کی نابینا خاتون تھیں انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں اجازت دی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابٌ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٠٩؛حدیث نمبر٢٩٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ؟ فَرَخَّصَ فِيهَا، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ: هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا، فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا، فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ، فَقَالَتْ: قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2903

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں بعض راویوں نے صرف متعہ کا لفظ استعمال کیا متعۃ الحج کا لفظ نہیں۔ امام مسلم نے فرمایا معلوم نہیں کہ متعۃ الحج مراد ہے یا متعۃ النساء؟ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابٌ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٠٩؛حدیث نمبر٢٩٠٤)

وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَفِي حَدِيثِهِ الْمُتْعَةُ وَلَمْ يَقُلْ مُتْعَةُ الْحَجِّ، وَأَمَّا ابْنُ جَعْفَرٍ فَقَالَ: قَالَ شُعْبَةُ قَالَ مُسْلِمٌ: «لَا أَدْرِي مُتْعَةُ الْحَجِّ أَوْ مُتْعَةُ النِّسَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2904

حضرت مسلم القری سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا اور صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور جن صحابہ کرام نے ہدی چلائی تھی۔احرام نہ کھولا جب کہ دوسرے حضرات نے احرام کھول دیا۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بھی ہدی لے جانے والوں میں سے تھے پس انہوں نے احرام نہ کھولا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابٌ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٠٩؛حدیث نمبر٢٩٠٥)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْقُرِّيُّ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: «أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ، فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَحَلَّ بَقِيَّتُهُمْ» فَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ فِيمَنْ سَاقَ الْهَدْيَ فَلَمْ يَحِلَّ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2905

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یوں آیا ہے کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور ایک شخص کے پاس ہدی نہیں تھی پس انہوں نے احرام کھول دیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابٌ فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٠٩؛حدیث نمبر٢٩٠٦)

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2906

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا خیال تھا کے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ ہے چنانچہ وہ محرم کے مہینے کو صفر کا مہینہ قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ جب اونٹنیوں کی پیٹھیں ٹھیک ہو جائیں، نشانات مٹ جائیں اور صفر نکل جائے، تو عمرہ کرنے والے کے لئے عمرہ جائز ہو جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام چارذوالحجہ کی صبح حج کا احرام باندھے ہوئے آئے تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ اسے عمرہ میں بدل دیں ان پر یہ بات گراں گزری تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم کس طرح حلال ہوں تو آپ نے فرمایا پورے حلال ہو جاؤ۔(احرام سے مکمل طور پر نکل جاؤ)(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٠٩؛حدیث نمبر٢٩٠٧)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ، وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا، وَيَقُولُونَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَانْسَلَخَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ، لِمَنِ اعْتَمَرْ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ، مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: «الْحِلُّ كُلُّهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2907

حضرت ابو العالیہ البراء سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا آپ ذوالحجہ کی چار تاریخیں گزرنے کے بعد تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھی اور نماز کے بعد فرمایا جو شخص اسے عمرہ میں بدلنا چاہے اسے عمرہ میں بدل دے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١٠؛حدیث نمبر٢٩٠٨)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَصَلَّى الصُّبْحَ، وَقَالَ: لَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ «مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2908

ایک اور سند سے یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے روح اور یحییٰ نے نصر کی طرح بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا جب کہ ابوشہاب کی روایت میں ہے کہ ہم حج کا احرام باندھ کر نکلے پھر ان سب کی روایت میں ہے کہ صبح کی نماز بطحاء میں ادا کی البتہ جہضمی نے یہ بات ذکر نہیں کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١٠؛حدیث نمبر٢٩٠٩)

وحَدَّثَنَاه إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا رَوْحٌ، وَيَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، فَقَالَا: كَمَا، قَالَ نَصْرٌ: أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، وَأَمَّا أَبُو شِهَابٍ فَفِي رِوَايَتِهِ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُهِلُّ بِالْحَجِّ، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا: فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ، خَلَا الْجَهْضَمِيَّ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2909

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی چار راتیں گزرنے پر تشریف لائے اور وہ سب حج کا تلبیہ کہ رہے تھے تو آپ نے ان کو حکم دیا اس کو عمرہ(کےتلبیہ) میں بدل دیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١١؛حدیث نمبر٢٩١٠)

وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنَ الْعَشْرِ، وَهُمْ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2910

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز مقام ذی طوی میں ادا کی اور ذوالحجہ کی چار راتیں گزرنے پر تشریف لائے آپ صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اپنے احرام کو عمرہ میں بدل دیں سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ہدی چلائی ہو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١١؛حدیث نمبر٢٩١١)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِذِي طَوًى وَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحَوِّلُوا إِحْرَامَهُمْ بِعُمْرَةٍ، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2911

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عمرہ جس کے ذریعے ہم نے تمتع کیا پس جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ مکمل طور پر احرام کی پابندیوں سے نکل جائے کیونکہ عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو چکا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١١؛حدیث نمبر٢٩١٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْيُ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2912

حضرت ابوجمرہ الضبعی فرماتے ہیں میں نے تمتع کیا تو کچھ لوگوں نے مجھے اس سے روکا میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس کی اجازت دی پھر میں بیت اللہ شریف کے پاس چلا گیا اور سو گیا تو کوئی شخص خواب میں آیا اور اس نے کہا حج اور عمرہ مقبول ہیں فرماتے ہیں پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اپنا خواب بیان کیا تو انہوں نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؛جلد٢ص٩١١؛حدیث نمبر٢٩١٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَنِي بِهَا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي، فَقَالَ: عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ، فَقَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2913

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز پڑھائی پھر اپنی اونٹنی طلب فرمائی اور اس کی کوہان کی دائیں جانب اشعار دیا(چیر دیا)جس سے خون جاری ہوا پھر اس کے گلے میں دو جوتوں کا قلادہ ڈال دیا اس کے بعد آپ اپنی سواری پر سوار ہوے جب مقام بیدا میں آپ اس پر اچھی طرح سوار ہوئے تو احرام کا تلبیہ کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛ترجمہ؛احرام کے وقت قربانی کو اشعار کرنا اور قلادہ ڈالنا؛جلد٢ص٩١٢؛حدیث نمبر٢٩١٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ دَعَا بِنَاقَتِهِ فَأَشْعَرَهَا فِي صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ، وَسَلَتَ الدَّمَ، وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2914

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے البتہ اس میں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ تشریف لائے اس میں نماز ظہر پڑھنے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٩١٢؛حدیث نمبر٢٩١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلَمْ يَقُلْ صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2915

حضرت ابو حسان اعرج فرماتے ہیں بنو ھجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ فتویٰ ہے جس کی وجہ سے آپ نے لوگوں کو پریشان کردیا کہ جو شخص خانہ کعبہ کا طواف کرے وہ احرام سے نکل آیا انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی کی سنت ہے چاہے تمہیں ناگوار گزرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٩١٣؛حدیث نمبر٢٩١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَغَّبَتْ بِالنَّاسِ، «أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ»؟ فَقَالَ: «سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2916

حضرت ابو احسان فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اس مسئلہ سے شور مچ گیا ہے کہ جو شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرے وہ عمرہ کے طواف سے فارغ ہوگیا تو انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار گزرے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٩١٣؛حدیث نمبر٢٩١٧)

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ قَدْ تَفَشَّغَ بِالنَّاسِ، «مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ الطَّوَافُ عُمْرَةٌ» فَقَالَ: «سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغَمْتُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2917

حضرت عطاء سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ حاجی یا غیر حاجی جب بیت اللہ شریف کا طواف کرے تو وہ احرام سے نکل جاتا ہے۔ابن جریج فرماتے ہیں میں نے حضرت عطاء سے پوچھا یہ بات کہاں سے فرمارہے ہیں انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی سے(کہ رہا ہوں){ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: ٣٣]"قربانی کے ذبح ہونے کی جگہ بیت اللہ شریف ہے" راوی کہتے ہیں میں نے کہا قربانی تو عرفات سے واپسی کے بعد ہوتی ہے تو انہوں نے فرمایا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ عرفات سے واپسی کے بعد اور پہلے دونوں طرح ہے اور انہوں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی جب آپ نے صحابہ کرام کو حجۃ الوداع کے موقع پر احرام کھولنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؛جلد٢ص٩١٣؛حدیث نمبر٢٩١٨)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: لَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ وَلَا غَيْرُ حَاجٍّ إِلَّا حَلَّ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: ٣٣] قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: هُوَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ، وَكَانَ يَأْخُذُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ «أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2918

حضرت طاؤس فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے مروہ کے پاس تیر کے پیکان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر انور مونڈا وہ فرماتے ہیں میں نے کہا مجھے معلوم نہیں اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ التَّقْصِيرِ فِي الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩١٣؛حدیث نمبر٢٩١٩)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ: «أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ؟» فَقُلْتُ لَهُ: لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا حُجَّةً عَلَيْكَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2919

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان نے ان کو خبر دیتے ہوئے کہا کہ میں نے تیر کے پیکان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر انور مروہ پر مونڈایا کہا کہ میں نے آپ کو دیکھا آپ کا سر انور تیر کے پیکان سے مونڈا جارہا تھا اور آپ مروہ پر تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ التَّقْصِيرِ فِي الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩١٣؛حدیث نمبر٢٩٢٠)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُ قَالَ: «قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ، وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ، أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ، وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2920

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے اور ہم حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں بدل دیں البتہ جس نے ہدی چلائی ہو(وہ پہلے والی حالت میں رہے) جب آٹھ ذوالحجہ کا دن ہوا تو ہم حج کا احرام باندھ کر منی کی طرف چلے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ التَّقْصِيرِ فِي الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩١٤؛حدیث نمبر٢٩٢١)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، وَرُحْنَا إِلَى مِنًى، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2921

حضرت جابر اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے دونوں حضرات فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آے اور ہم حج کا تلبیہ کہ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ التَّقْصِيرِ فِي الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩١٤؛حدیث نمبر٢٩٢٢)

وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَا: «قَدِمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2922

Muslim Shareef Kitabul Haj Hadees No# 2923

حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ، فَقَالَ جَابِرٌ: فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2923

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کس چیز کا احرام باندھا ہے؟انہوں نے فرمایا میں نے وہی احرام باندھا ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے آپ نے فرمایا اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں احرام کھول دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٤؛حدیث نمبر٢٩٢٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ عَلِيًّا، قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِمَ أَهْلَلْتَ؟» فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2924

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٢٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٤؛حدیث نمبر٢٩٢٥)

وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ بَهْزٍ «لَحَلَلْتُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2925

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ کہتے ہوئے یوں فرمایا"لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا "(میں حج و عمرہ کے لئے حاضر ہوں) (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٥؛حدیث نمبر٢٩٢٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٍ، أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا: لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2926

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیک عمرۃ وحجا کہتے ہوئے سنا ایک اور روایت میں بھی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیک عمرۃ وحج کہتے ہوئے سنا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٥؛حدیث نمبر٢٩٢٧)

وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» وقَالَ حُمَيْدٌ، قَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2927

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے حضرت ابن مریم(عیسی)علیہ السلام مقام فج الروحا میں حج یا عمرہ یا دونوں کا تلبیہ کہیں گے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٥؛حدیث نمبر٢٩٢٨)

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ، حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2928

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٢٨ کی مثل مروی ہے اس میں ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٥؛حدیث نمبر٢٩٢٩)

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2929

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں آپ کے اسم گرامی کی بجائے"والذی نفسی بیدہ"(اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے)کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ إِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ؛جلد٢ص٩١٥؛حدیث نمبر٢٩٣٠)

وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ» بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2930

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور یہ تمام عمرے ذی قعدہ میں کئے سوائے اس عمرہ کے جو حج کے ساتھ کیا۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ کے زمانے میں ذی قعدہ میں کیا۔دوسرا عمرہ آئندہ سال ذی قعدہ میں کیا تیسرا عمرہ جعرانہ سے جب ذی قعدہ کے مہینے میں غزوہ حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں اور ایک عمرہ حج کے ساتھ کیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمروں کی تعداد اور ان کا وقت؛جلد٢ص٩١٦؛حدیث نمبر٢٩٣١)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ: عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنْ جِعْرَانَةَ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2931

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کئے انہوں نے فرمایا آپ نے صرف ایک حج کیا اور عمرے چار کئے،تفصیل حدیث نمبر ٢٩٣١ کی مثل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ؛جلد٢ص٩١٦؛حدیث نمبر٢٩٣٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا، كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَدَّابٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2932

حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات میں شرکت کی انہوں نے فرمایا سات غزوات میں،اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوات فرمائے اور ہجرت کے بعد آپ نے ایک حج یعنی حجۃ الوداع فرمایا،ابو اسحاق فرماتے ہیں مکہ مکرمہ میں دوسرا حج کیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ؛جلد٢ص٩١٦؛حدیث نمبر٢٩٣٣)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَمَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً، حَجَّةَ الْوَدَاعِ» قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَبِمَكَّةَ أُخْرَى

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2933

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ہم ام المومنین کے مسواک کرنے کی آواز سن رہے تھے فرماتے ہیں میں نے کہا اے ابو عبد الرحمن!(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے)کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں عمرہ کیا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں کیا ہے میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اماں جان!کیا آپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات سنی ہے انہوں نے پوچھا کیا کہتے ہیں میں نے کہا وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں عمرہ کیا ہے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت ابو عبدالرحمن کی مغفرت فرمائے مجھے اپنی زندگی کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں عمرہ نہیں کیا اور آپ نے جب بھی عمرہ کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ساتھ تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سن رہے تھے انہوں نے نہ ہاں کہا اور نہ انکار کیا بلکہ خاموش رہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ؛جلد٢ص٩١٦؛حدیث نمبر٢٩٣٤)

وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يُخْبِرُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَإِنَّا لَنَسْمَعُ ضَرْبَهَا بِالسِّوَاكِ تَسْتَنُّ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَيْ أُمَّتَاهُ أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟ قُلْتُ يَقُولُ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: «يَغْفِرُ اللهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَعَمْرِي، مَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ، وَمَا اعْتَمَرَ مِنْ عُمْرَةٍ إِلَّا وَإِنَّهُ لَمَعَهُ» قَالَ: وَابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ، فَمَا قَالَ: لَا، وَلَا نَعَمْ، سَكَتَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2934

حضرت مجاہد فرماتے ہیں میں اور حضرت عمرو بن زبیر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے ہم نے ان سے لوگوں کی اس نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ بدعت ہے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا اے ابو عبد الرحمن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ہیں انہوں نے جواب دیا آپ نے چار عمرے کئے ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہم نے ان کو جھٹلانا یا ان کی بات کو رد کرنا نا پسند خیال کیا اور ہم نے حجرہ مبارکہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا اے ام المومنین!کیا آپ حضرت ابو عبدالرحمن کی بات سن رہی ہیں؟انہوں نے پوچھا وہ کیا کہتے ہیں انہوں نے کہا وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے جن میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا۔ام المومنین نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت ابو عبدالرحمن پر رحم فرماۓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی عمرہ کیا وہ آپ کے ہمراہ تھے اور آپ نے رجب میں عمرہ کبھی نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ؛جلد٢ص٩١٧؛حدیث نمبر٢٩٣٥)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ؟ فَقَالَ: بِدْعَةٌ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: أَرْبَعَ عُمَرٍ، إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ وَنَرُدَّ عَلَيْهِ، وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: أَلَا تَسْمَعِينَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟ قَالَ: يَقُولُ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ «مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2935

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورت سے فرمایا راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباس نے اس کا نام بھی لیا تھا لیکن میں بھول گیا(آپ نے فرمایا)ہمارے ساتھ حج کرنے میں تمہیں کیا رکاوٹ ہے اس نے کہا ہمارے پاس پانی لانے کے لئے دو ہی اونٹنیاں تھیں ایک پر میرا شوہر اور میرا بیٹا حج کرنے گئے ہیں اور دوسرا اونٹ ہمارے پاس چھوڑ گئے ہیں جس پر ہم پانی لاتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آے تو عمرہ کرلینا کیونکہ اس مہینے میں عمرہ حج کے برابر ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ فَضْلِ الْعُمْرَةِ فِي رَمَضَانَ؛ترجمہ؛رمضان شریف میں عمرہ کرنے کی فضیلت؛جلد٢ص٩١٧؛حدیث نمبر٢٩٣٦)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُنَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا «مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا؟» قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا نَاضِحَانِ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحٍ وَتَرَكَ لَنَا نَاضِحًا نَنْضِحُ عَلَيْهِ، قَالَ: «فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2936

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری خاتون جسے ام سنان کہا جاتا تھا،فرمایا تمہیں کس چیز نے منع کیا کہ ہمارے ساتھ حج کرو اس نے کہا فلاں(یعنی اس کے شوہر)کے پاس پانی لانے کے دو اونٹ تھے وہ اور اس کا بیٹا حج کرنے گئے ہیں اور دوسرے پر ہمارا غلام پانی لاتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے یا فرمایا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ فَضْلِ الْعُمْرَةِ فِي رَمَضَانَ؛جلد٢ص٩١٧؛حدیث نمبر٢٩٣٧)

وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ سِنَانٍ «مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِي حَجَجْتِ مَعَنَا؟» قَالَتْ: نَاضِحَانِ كَانَا لِأَبِي فُلَانٍ - زَوْجِهَا - حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا، وَكَانَ الْآخَرُ يَسْقِي عَلَيْهِ غُلَامُنَا، قَالَ: «فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2937

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درخت والے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے داخل ہوتے اور جب آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو بالائی گھاٹی سے داخل ہوتے اور جب باہر نکلتے تو نچلی گھاٹی سے نکلتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلَدِهِ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرَ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا؛جلد٢ص٩١٨؛حدیث نمبر٢٩٣٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ، وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ، وَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ، دَخَلَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2938

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٤٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلَدِهِ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرَ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا؛جلد٢ص٩١٨؛حدیث نمبر٢٩٣٩)

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وقَالَ فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ: الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2939

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو اوپر والی جانب سے داخل ہوتے اور جب تشریف لے جاتے تو نچلی جانب سے نکلتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلَدِهِ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرَ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا؛جلد٢ص٩١٨؛حدیث نمبر٢٩٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ إِلَى مَكَّةَ دَخَلَهَا مِنْ أَعْلَاهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2940

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ کے بالائی حصے کداء سے داخل ہوئے،ہشام فرماتے ہیں میرے والد ان دونوں راستوں سے داخل ہوتے تھے اور اکثر کداء کی جانب داخل ہوتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلَدِهِ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرَ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا؛جلد٢ص٩١٩؛حدیث نمبر٢٩٤١)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ " قَالَ هِشَامٌ: «فَكَانَ أَبِي يَدْخُلُ مِنْهُمَا كِلَيْهِمَا، وَكَانَ أَبِي أَكْثَرَ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2941

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ذی طوی میں گزاری حتیٰ کہ صبح ہوگئی پھر آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوے حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے ابن سعید کی روایت میں ہے حتیٰ کہ آپ نے صبح کی نماز پڑھی یحییٰ فرماتے ہیں یا فرمایا حتیٰ کہ صبح کی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طُوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ، وَالِاغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا؛دخول مکہ کے وقت ذی طوی میں رات گزارنا،داخل ہونے کے لئے غسل کرنا اور دن کے وقت داخل ہونا مستحب ہے؛جلد٢ص٩١٩؛حدیث نمبر٢٩٤٢)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ بِذِي طَوًى حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ» قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ سَعِيدٍ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ، قَالَ يَحْيَى: أَوْ قَالَ: حَتَّى أَصْبَحَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2942

حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں صرف ذی طوی کی طرف سے آتے حتیٰ کہ صبح ہوجاتی تو آپ غسل کرکے دن کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوے اور وہ ذکر کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طُوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ، وَالِاغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا؛جلد٢ص٩١٩؛حدیث نمبر٢٩٤٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: «كَانَ لَا يَقْدَمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طَوًى، حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ نَهَارًا، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2943

حضرت نافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو ذی طوی میں اترتے اور وہاں رات گزارتے حتیٰ کہ صبح کی نماز وہیں اداکرتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مصلیٰ ایک بڑے ٹیلے پر ہے اس مسجد میں نہیں جو بعد میں بنائی گئی بلکہ اس سے نیچے بڑے ٹیلے پر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طُوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ، وَالِاغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا؛جلد٢ص٩١٩؛حدیث نمبر٢٩٤٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ، حَدَّثَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طَوًى وَيَبِيتُ بِهِ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ، لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ، وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2944

حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پہاڑ کی دو چوٹیوں کے درمیان قبلہ رخ ہوتے جو طویل پہاڑ ہے اور وہاں بنی ہوئی اس مسجد کو بائیں طرف کرتے جو ٹیلے کے کنارے پر ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز اس سے نیچے سیاہ ٹیلے کے کنارے پر تھی آپ ٹیلے سے دس ہاتھ یا کم و بیش چھوڑ دیتے پھر اس طویل پہاڑ کی دونوں چوٹیوں کے درمیان قبلہ رخ ہوتے جو آپ کے اور کعبہ شریف کے درمیان ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج:بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طُوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ، وَالِاغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٤٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ، أَخْبَرَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَيِ الْجَبَلِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ، نَحْوَ الْكَعْبَةِ، يَجْعَلُ الْمَسْجِدَ، الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ، يَسَارَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ، يَدَعُ مِنَ الْأَكَمَةِ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا، ثُمَّ يُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ، الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2945

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف کا پہلا طواف کرتے تو تین چکروں میں تیز دوڑتے اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلتے اور جب صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے تو دو سبز میلوں کے درمیان دوڑتے تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛ترجمہ؛عمرہ کے طواف اور حج کے پہلے طواف میں رمل کا بیان؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٤٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ، خَبَّ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ» وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2946

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مکہ مکرمہ آنے کے بعد)جب حج اور عمرہ کا پہلا طواف کرتے تو بیت اللہ شریف کے طواف میں پہلے تین چکروں میں دوڑ لگاتے پھر چار چکروں میں عام طریقے پر چلتے پھر دو رکعتیں پڑھ کر صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٤٧)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ، فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ يَمْشِي أَرْبَعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2947

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو حجرہ اسود کو بوسہ دیتے اور پہلے طواف میں سات چکروں میں سے تین میں دوڑتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٤٨)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ، إِذَا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ، أَوَّلَ مَا يَطُوفُ حِينَ يَقْدَمُ، يَخُبُّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2948

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(طواف کے)تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک تین حالت رمل میں چکر لگاے اور چار میں عام رفتار میں چلے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٤٩)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «رَمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2949

حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا(دوڑ لگائی)اور فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٠؛حدیث نمبر٢٩٥٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ: «أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2950

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے طواف کے تین چکروں میں حجر اسود سے رمل شروع کیا اور اسی پر ختم کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢١؛حدیث نمبر٢٩٥١)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ، ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2951

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے(پہلے)تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢١؛حدیث نمبر٢٩٥٢)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ الثَّلَاثَةَ أَطْوَافٍ، مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2952

حضرت ابو الطفیل بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے بتائے کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل اور باقی میں معمول کے مطابق چلنا سنت ہے کیونکہ آپ کی قوم اسے سنت سمجھتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ان لوگوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی بولا،فرماتے ہیں میں نے پوچھا آپ کی اس بات کا کیا مطلب ہے کہ انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی بولا؟فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو مشرکین نے کہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے صحابہ کمزور ہونے کی وجہ سے بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کر سکتے اور وہ آپ سے حسد کرتے تھے تو آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ(طواف کے)تین چکروں میں رمل کریں اور چار چکروں میں معمول کے مطابق چلیں۔راوی فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا مجھے صفا مروہ کے درمیان سعی کے بارے میں بتائیں کہ یہ سواری کی حالت میں سنت ہے؟کیونکہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ یہ سنت ہے فرمایا انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ بھی بولا میں نے پوچھا اس کا کیا مطلب ہے کہ سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی بولا،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں کا ہجوم ہوگیا اور وہ کہنے لگے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حتیٰ کہ کنواری لڑکیاں بھی گھر سے نکل آئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اپنے سامنے سے نہیں ہٹاتے تھے جب ہجوم زیادہ ہوا تو آپ سوار ہوگئے اب پیدل چلنا اور سعی کرنا افضل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢١؛حدیث نمبر٢٩٥٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشْيَ أَرْبَعَةِ أَطْوَافٍ، أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ فَقَالَ: صَدَقُوا، وَكَذَبُوا، قَالَ قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهُزَالِ، وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثًا، وَيَمْشُوا أَرْبَعًا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا، أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قَالَ قُلْتُ: وَمَا قَوْلُكَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ، يَقُولُونَ: هَذَا مُحَمَّدٌ هَذَا مُحَمَّدٌ، حَتَّى خَرَجَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ النَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ وَالْمَشْيُ وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2953

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٥٣ کی مثل مروی ہے سوائے اس کے وہاں یہ الفاظ ہیں وکان اھل مکۃ قوم حسد اور یہ نہیں ہے یحسدونہ۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٢؛حدیث نمبر٢٩٥٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَكَانَ أَهْلُ مَكَّةَ قَوْمَ حَسَدٍ، وَلَمْ يَقُلْ: يَحْسُدُونَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2954

حضرت ابو الطفیل فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کے طواف میں رمل کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی ہے اور یہ سنت ہے فرمایا انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی بولا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٢؛حدیث نمبر٢٩٥٥)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: «إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهِيَ سُنَّةٌ»، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2955

حضرت ابو الطفیل فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے انہوں نے فرمایا مجھ سے بیان کرو فرماتے ہیں میں نے کہا میں نے آپ کو مروہ کے پاس اونٹنی پر دیکھا اور آپ کے گرد لوگوں کا ہجوم تھا وہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے کیونکہ صحابہ کرام کی عادت تھی کہ وہ آپ کو چھوڑتے تھے اور نہ آپ سے دور ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٢؛حدیث نمبر٢٩٥٦)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَبْجَرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أُرَانِي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَصِفْهُ لِي، قَالَ قُلْتُ: «رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ عَلَى نَاقَةٍ، وَقَدْ كَثُرَ النَّاسُ عَلَيْهِ» قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَاكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يُدَعُّونَ عَنْهُ وَلَا يُكْهَرُونَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2956

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں تشریف لائے اور مدینہ طیبہ کے بخار نے ان کو کمزور کردیا تھا تو مشرکین نے کہا کل تمہارے پاس ایک جماعت آے گی جن کو بخار نے کمزور کردیا ہے اور انہیں اس سے سخت تکلیف پہنچی ہے پس وہ حطیم کے پاس بیٹھ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ تین چکروں میں رمل کریں اور دو رکنوں کے درمیان معمول کے مطابق چلیں تاکہ آپ مشرکین کو صحابہ کرام کی توانائی دکھائیں۔ تو مشرکین نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تمہارا خیال تھا کہ بخار نے ان کو کمزور کردیا ہے حالانکہ یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ طاقت ور ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان کو تمام چکروں میں رمل کا حکم ان کی تھکاوٹ کے پیش نظر نہیں دیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٣؛حدیث نمبر٢٩٥٧)

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ، وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، قَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ غَدًا قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى، وَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً، فَجَلَسُوا مِمَّا يَلِي الْحِجْرَ، وَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ، وَيَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ جَلَدَهُمْ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ، هَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا، إِلَّا الْإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2957

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی کی اور بیت اللہ شریف کے طواف میں رمل کیا تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں۔(کفار کہتے تھے کہ ان لوگوں کو یثرب کے بخار نے کمزور کردیا ہے اس لئے ان کے سامنے پہلوانوں کی طرح چلنے کا حکم فرمایا۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ، وَفِي الطَّوَافِ الْأَوَّلِ فِي الْحَجِّ؛جلد٢ص٩٢٣؛حدیث نمبر٢٩٥٨)

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَمَلَ بِالْبَيْتِ، لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2958

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمنی رکنوں کے علاوہ بیت اللہ شریف(کے کسی حصے)کو ہاتھ لگاتے نہیں دیکھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٤؛حدیث نمبر٢٩٥٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ، إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2959

حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف کے ارکان میں سے صرف حجر اسود اور اس کے ساتھ والے رکن کی تعظیم کرتے تھے جو بنو جمحیین کے مکانوں کی طرف ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٤؛حدیث نمبر٢٩٦٠)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ، وَالَّذِي يَلِيهِ، مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2960

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کی تعظیم کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٤؛حدیث نمبر٢٩٦١)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، «ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَسْتَلِمُ إِلَّا الْحَجَرَ وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2961

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو رکنوں کی تعظیم کرتے ہوئے دیکھا میں نے شدت اور آسانی کی صورت میں بھی ان کی تعظیم کو نہیں چھوڑا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٤؛حدیث نمبر٢٩٦٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ، وَالْحَجَرَ، مُذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا، فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2962

حضرت نافع فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے حجر اسود کو ہاتھ لگایا پھر اسے بوسہ دیا اور فرمایا میں نے جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ عمل کرتے دیکھا ہے میں نے اسے نہیں چھوڑا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٤؛حدیث نمبر٢٩٦٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ، وَقَالَ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2963

‌‌‌‏حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے نہیں دیکھا سوا ان دو رکن یمانی کے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الْآخَرَيْنِ؛جلد٢ص٩٢٥؛حدیث نمبر٢٩٦٤)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ الْبَكْرِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتَلِمُ غَيْرَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2964

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا سنو!اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے تو ایک پتھر ہے اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِ؛ترجمہ؛طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا حکم جلد٢ص٩٢٥؛حدیث نمبر٢٩٦٥)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرٌو، ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْحَجَرَ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَ وَاللهِ، لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ» زَادَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2965

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے تجھے بوسہ دیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِجلد٢ص٩٢٥؛حدیث نمبر٢٩٦٦)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَقَالَ: «إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2966

حضرت عبداللہ بن سرجس فرماتے ہیں میں نے اصلح یعنی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حجر اسود کو بوسہ دے رہے تھے اور فرماتے تھے اللہ کی قسم میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور تو نقصان دے سکتا ہے نہ نفع، اور اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِجلد٢ص٩٢٥؛حدیث نمبر٢٩٦٧)

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْمُقَدَّمِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ خَلَفٌ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: رَأَيْتُ الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ: «وَاللهِ، إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ، وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَأَنَّكَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ» وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ وَأَبِي كَامِلٍ رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2967

حضرت عابس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حجر اسود کو بوسہ دے رہے تھے اور فرماتے تھے میں تجھے بوسہ دیتا ہوں حالانکہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِجلد٢ص٩٢٥؛حدیث نمبر٢٩٦٨)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: «إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2968

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے اور فرمایا میں نے دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تجھے بہت چاہتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِجلد٢ص٩٢٦؛حدیث نمبر٢٩٦٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2969

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ تجھے بہت چاہتے تھے اور اس میں چمٹنے کا ذکر نہیں۔(اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند اور عمل سے بہت زیادہ لگاؤ تھا اور دوسری بات یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں وہ اپنے قیاس اور سوچ کو بھی ترک کر دیتے تھے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِجلد٢ص٩٢٦؛حدیث نمبر٢٩٧٠)

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا وَلَمْ يَقُلْ وَالْتَزَمَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2970

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر(سوار ہوکر)طواف کیا(اور)آپ چھڑی سے حجر اسود کا استلام کرتے تھے(چھڑی حجر اسود سے لگا کر اسے بوسہ دیتے) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛ترجمہ؛اونٹ وغیرہ پر سوار ہوکر طواف کرنا اور حجر اسود کا لاٹھی وغیرہ سے استلام کرنا؛ِجلد٢ص٩٢٦؛حدیث نمبر٢٩٧١)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2971

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں بیت اللہ شریف کا طواف اپنی سواری پر کیا اور آپ اپنی چھڑی سے حجر اسود کی تعظیم فرماتے ہیں(سوار ہونے کا مقصد یہ تھا)تاکہ آپ بلند ہوں اور لوگ آپ کو دیکھ کر سوال کرسکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛جلد٢ص٩٢٦؛حدیث نمبر٢٩٧٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ، لِأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2972

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ شریف کا طواف سواری پر کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی اسی طرح کی تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور بلند ہونے کی وجہ سے آپ سے سوالات بھی کرسکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛جلد٢ص٩٢٧؛حدیث نمبر٢٩٧٣)

وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، لِيَرَاهُ النَّاسُ، وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ» وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ خَشْرَمٍ وَلِيَسْأَلُوهُ فَقَطْ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2973

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر کعبہ کے ارد گرد طواف اپنی اونٹنی پر کیا اور اسی حالت میں حجر اسود کا استلام کیا آپ نے یہ بات ناپسند فرمائی کہ لوگوں کو آپ سے ہٹایا جائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛جلد٢ص٩٢٧؛حدیث نمبر٢٩٧٤)

حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْكَعْبَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُضْرَبَ عَنْهُ النَّاسُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2974

حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ بیت اللہ شریف کا طواف اور حجر اسود کا استلام چھڑی سے کر رہے تھے(چھڑی کو حجر اسود سے لگا کر)اسے بوسہ دیتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛جلد٢ص٩٢٧؛حدیث نمبر٢٩٧٥)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ، يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ وَيُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2975

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بیمار ہونے کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا لوگوں کے پیچھے سے سوار ہوکر طواف کرو فرماتی ہیں میں نے طواف کیا اور اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور اس میں سورہ طور کی تلاوت کر رہے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ، وَاسْتِلَامِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ؛جلد٢ص٩٢٧؛حدیث نمبر٢٩٧٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ: «طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ» قَالَتْ: فَطُفْتُ، «وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2976

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کیا میں سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو کوئی حرج نہیں ام المؤمنين نے فرمایا تم یہ بات کس وجہ سے کہ رہے ہو قرآن مجید میں تو ہے۔{إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨]("بے شک صفااورمروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں ہیں")پھر ام المؤمنين نے فرمایا جو شخص صفااور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کے حج کو پورا نہیں کرتا۔اور اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہ رہے ہو تو(قرآن پاک میں)یوں ہوتا"فلاجناح علیہ ان لا یطوف بھما"(اس پر کوئی حرج نہیں اگر ان کے درمیان سعی نہ کرے)تم جانتے ہو کہ اس آیت کا شان نزول کیا ہے جاہلیت کے دور میں سمندر کے کنارے دو بت تھے جن کے نام اساف اور ارنالہ تھے انصار ان کے نام کا احرام باندھتے پھر آکر صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے اور سر منڈاتے جب اسلام آیا تو انہوں نے ان کے درمیان سعی کو ناپسند کیا اور دور جاہلیت کی سعی ان کے پیش نظر تھی فرماتی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] إِلَى آخِرِهَا،(بےشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں(آخر تک)ام المؤمنين فرماتی ہیں اس کے بعد انہوں نے سعی کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ ؛ترجمہ؛صفا مروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اس کے بغیر حج صحیح نہیں ہوتا؛جلد٢ص٩٢٨؛حدیث نمبر٢٩٧٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: إِنِّي لَأَظُنُّ رَجُلًا، لَوْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، مَا ضَرَّهُ، قَالَتْ: «لِمَ؟» قُلْتُ: لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَتْ: " مَا أَتَمَّ اللهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ: فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، وَهَلْ تَدْرِي فِيمَا كَانَ ذَاكَ؟ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمَيْنِ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ، يُقَالُ لَهُمَا إِسَافٌ وَنَائِلَةُ، ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ يَحْلِقُونَ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا لِلَّذِي كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] إِلَى آخِرِهَا، قَالَتْ: فَطَافُوا "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2977

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کیا میں اس بات میں حرج نہیں سمجھتا کہ میں صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کروں ام المؤمنين نے پوچھا کیوں؟میں نے عرض کیا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں"(آخر تک)ام المؤمنين نے فرمایا اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہ رہے ہو تو یو ہوتا"پس اس پر حرج نہیں کہ وہ ان کے درمیان سعی نہ کرے"یہ آیت ان انصار کے بارے میں نازل ہوئی جو دور جاہلیت میں مناۃ(بت)کا احرام باندھتے تھے پس وہ صفا مروہ کے درمیان سعی کو جائز نہیں سمجھتے تھے جب وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کے لئے آے تو انہوں نے یہ بات ذکر کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی پس مجھے اپنی جان کی قسم! اللہ تعالیٰ اس شخص کے حج کو مکمل نہیں کرتا جب تک وہ صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ؛جلد٢ص٩٢٧؛حدیث نمبر٢٩٧٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا أَرَى عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ: «لِمَ؟» قُلْتُ: لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨] الْآيَةَ، فَقَالَتْ: " لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ، لَكَانَ: فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَار كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا، أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَجِّ، ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ، فَلَعَمْرِي، مَا أَتَمَّ اللهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2978

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ جو شخص صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے میں اس پر کوئی حرج نہیں سمجھتا اور میں اس سعی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ ام المؤمنين نے فرمایا اے بھانجے!تم نے غلط کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی کی اور صحابہ کرام نے بھی کی لہٰذا یہ سنت(واجب)ہے اصل بات یہ ہے کہ کچھ لوگ مُشلِّل میں مناۃ کے لئے احرام باندھتے تھے اور وہ صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے جب اسلام کا دور آیا تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی"ترجمہ"بےشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو شخص بیت اللہ شریف کا حج یا عمرہ کرے اس پر حرج نہیں کہ ان دونوں کے درمیان سعی کرے اور اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہ رہے ہو تو یوں فرمایا جاتا"پس اس پر حرج نہیں اگر وہ ان کے درمیان سعی نہ کرے" حضرت زہری فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن بن ہشام کو یہ بات بتائی تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا اور فرمایا یہ علم ہے۔. اور میں نے بہت سے اہل علم سے سنا وہ کہتے تھے کہ جو اہل عرب صفا مروہ کے درمیان سعی نہیں کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ان دو پتھروں کے درمیان ہماری سعی جاہلیت کے کام سے ہے اور انصار کے دوسرے لوگ کہتے تھے ہمیں بیت اللہ شریف کے طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کا حکم نہیں دیا گیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی"بےشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں"(آخر تک) حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ یہ آیت ان دونوں گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ؛جلد٢ص٩٢٢٩؛حدیث نمبر٢٩٧٩)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا، وَمَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا، قَالَتْ: " بِئْسَ مَا قُلْتَ، يَا ابْنَ أُخْتِي، طَافَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ، فَكَانَتْ سُنَّةً وَإِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ، لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ} [البقرة: ١٥٨] اللهِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا، وَلَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ، لَكَانَتْ: فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا " قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ، وَقَالَ: " إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: إِنَّمَا كَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ، يَقُولُونَ: إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وقَالَ آخَرُونَ مِنَ الْأَنْصَار: إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ. قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2979

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا پھر حدیث نمبر ٢٩٧٩ کی مثل بیان کیا اور اس حدیث میں فرمایا کہ جب انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم صفا مروہ کے درمیان سعی میں حرج سمجھتے ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "بے شک صفا مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو شخص حج اور عمرہ کرے اس پر حرج نہیں کہ ان دونوں کے درمیان سعی کرے۔" حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان سعی کا طریقہ جاری فرمایا پس کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ ان کے درمیان سعی کو چھوڑ دے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ؛جلد٢ص٩٢٩؛حدیث نمبر٢٩٨٠)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: ١٥٨] قَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2980

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ اسلام لانے سے پہلے انصار اور غسان مناۃ(بت)کے لئے احرام باندھتے تھے پس انہوں نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں حرج خیال کیا اور ان کے باپ دادا سے یہ طریقہ چلاآرہاتھا کہ جو شخص مناۃ کے لئے احرام باندھے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کرسکتا انہوں نے اسلام لانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ "بےشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو شخص حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان دونوں کے درمیان سعی کرے اور جو اپنی طرف سے نیکی کرے تو اللہ تعالیٰ شکر کا بدلہ دینے والا جاننے والا ہے"۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ؛جلد٢ص٩٣٠؛حدیث نمبر٢٩٨١)

وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ الْأَنْصَارَ، كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ، يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي آبَائِهِمْ مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ حِينَ أَسْلَمُوا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ} [البقرة: ١٥٨] اللهِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا، وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2981

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں انصار،صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا ناپسند کرتے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی"بےشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں"(آخر تک)(صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیک واجب ہے اس کے ترک کرنے سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے اور دم(قربانی)دینے سے نقصان پورا ہوجاتا ہے جن احادیث میں سنت کا لفظ آیا ہے تو اس سے مراد سنت سے ثابت ہونا مراد ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لَا يَصِحُّ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ؛جلد٢ص٩٣٠؛حدیث نمبر٢٩٨٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَتِ الْأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، حَتَّى نَزَلَتْ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ} [البقرة: ١٥٨] اللهِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2982

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے صفا مروہ کے درمیان سعی صرف ایک ایک بار کی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ لَا يُكَرَّرُ؛ترجمہ؛سعی میں تکرار نہیں؛جلد٢ص٩٣٠؛حدیث نمبر٢٩٨٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2983

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٨٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ لَا يُكَرَّرُ؛جلد٢ص٩٣١؛حدیث نمبر٢٩٨٤)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا، طَوَافَهُ الْأَوَّلَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2984

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں عرفات سے سواری پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی بائیں جانب گھاٹی کے نیچے پہنچے تو اونٹنی کو بٹھایا اور پیشاب فرمایا پھر تشریف لائے تو میں نے آپ کو وضو کرایا آپ نے ہلکا سا وضو کیا پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ نماز(پڑھیں گے)فرمایا نماز آگے چل کر پڑھیں گے۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے حتیٰ کہ مزدلفہ تشریف لائے اور نماز پڑھی پھر مزدلفہ کی صبح حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سواری پر آپ کے پیچھے سوار ہوئے۔حضرت کریب فرماتے ہیں مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت فضل(رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ(ستون جسے کنکریاں مارتے ہیں)تک مسلسل تلبیہ(لبیک اللھم لبیک۔آخر تک)کہتے رہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛ترجمہ؛قربانی کے دن جمرہ عقبی کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہنا؛جلد٢ص٩٣١؛حدیث نمبر٢٩٨٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: «رَدِفْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الْأَيْسَرَ، الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ فَبَالَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا»، ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «الصَّلَاةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَصَلَّى، ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ»قَالَ كُرَيْبٌ: فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2985

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا تو وہ فرماتے ہیں حضرت فضل رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣١؛حدیث نمبر٢٩٨٦)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2986

حضرت ابن عباس،حضرت فضل بن عباس(رضی اللہ عنہم)سے روایت کرتے ہیں اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوئے تھے وہ فرماتے ہیں عرفات کی شام اور مزدلفہ کی صبح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرماتے تھے آرام سے چلو اور آپ اپنی اونٹنی کو روکتے ہوے جاتے تھے حتیٰ کہ وادی محسر میں داخل ہوئے اور وہ منی میں ہے آپ نے فرمایا جمرہ کو کنکریاں مارنے کے لیے کنکریاں چن لو وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں ماریں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣١؛حدیث نمبر٢٩٨٧)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا «عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ، حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا - وَهُوَ مِنْ مِنًى - قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ» وَقَالَ: «لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي، حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2987

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٨٧ کی مثل مروی ہے اس میں مسلسل تلبیہ کا ذکر نہیں البتہ یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ فرماتے تھے جیسے انسان چٹکی سے پکڑ کر مارتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣٢؛حدیث نمبر٢٩٨٨)

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2988

حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اور اس وقت ہم مزدلفہ میں تھے کہ میں نے اس ذات سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی آپ اس مقام پر"لبیک اللھم لبیک"کہ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣٢؛حدیث نمبر٢٩٨٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ، وَنَحْنُ بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَقَامِ: «لَبَّيْكَ، اللهُمَّ لَبَّيْكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2989

حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دیہاتی ہیں اس پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا لوگ بھول گئے یا گمراہ ہوگئے ہیں میں نے اس ذات سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی آپ اس مقام پر لبیک اللھم لبیک کہ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣٢؛حدیث نمبر٢٩٩٠)

وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ، لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ هَذَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا، سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ: فِي هَذَا الْمَكَانِ «لَبَّيْكَ، اللهُمَّ، لَبَّيْكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2990

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٩٩٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣٢؛حدیث نمبر٢٩٩١)

وحَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2991

حضرت عبد الرحمن بن یزید اور حضرت اسود بن یزید فرماتے ہیں ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے کہ میں نے اس شخصیت سے سنا جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی کہ آپ اس مقام پر لبیک اللھم لبیک کہ رہے تھے پھر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے تلبیہ کہا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٣٢؛حدیث نمبر٢٩٩٢)

وحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَا: سَمِعْنَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا، يَقُولُ: «لَبَّيْكَ، اللهُمَّ، لَبَّيْكَ» ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2992

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں منی سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عرفات کی طرف گئے تو ہم میں سے بعض تلبیہ کہ رہے تھے اور بعض تکبیر کہتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذَّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ؛ترجمہ؛یوم عرفہ کو منی سے عرفات جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنا؛جلد٢ص٩٣٣؛حدیث نمبر٢٩٩٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَا: جَمِيعًا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2993

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے وہ فرماتے ہیں ہم عرفہ کی صبح(نو ذوالحجہ کی صبح)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہم میں سے بعض تکبیر کہنے والے اور بعض لا الہ الا اللہ پڑھنے والے تھے پس ہم تکبیر کہتے تھے حضرت عبد اللہ بن ابو سلمہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم پر تعجب ہے تم نے ان سے کیوں نہیں پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذَّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٩٣٣؛حدیث نمبر٢٩٩٤)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةِ عَرَفَةَ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ»، فَأَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ، قَالَ قُلْتُ: وَاللهِ، لَعَجَبًا مِنْكُمْ، كَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ: مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2994

حضرت محمد بن ابی بکر ثقفی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور وہ دونوں منی سے عرفات کی طرف جارہے تھے کہ اس دن تم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا طریقہ اختیار کرتے تھے انہوں نے فرمایا ہم سے کوئی لا الہ الا اللہ پڑھتا تو اس پر اعتراض نہ کیا جاتا اور کوئی اللہ اکبر کہتا تو اس پر بھی اعتراض نہ کیا جاتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذَّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٩٣٣؛حدیث نمبر٢٩٩٥)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2995

حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عرفہ کی صبح پوچھا اس دن تلبیہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں،انہوں نے فرمایا میں اس سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے ساتھ تھا تو ہم میں سے بعض اللہ اکبر کہتے اور کچھ لا الہ الا اللہ پڑھتے تھے اور کوئی کسی دوسرے پر اعتراض نہیں کرتا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذَّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ؛جلد٢ص٩٣٤؛حدیث نمبر٢٩٩٦)

وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: غَدَاةَ عَرَفَةَ: مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: «سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ، وَلَا يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَى صَاحِبِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2996

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس تشریف لائے حتیٰ کہ جب گھاٹی میں اتر کر پیشاب فرمایا تو ہلکا سا وضو فرمایا میں نے عرض کیا"نماز"آپ نے فرمایا نماز آگے پڑھیں گے پس آپ سوار ہوئے جب مزدلفہ پہنچے تو اتر کر کامل وضو کیا پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو آپ نے نماز مغرب پڑھی پھر ہر آدمی نے اپنے اونٹ کو اس کے مقام پر بٹھا دیا پھر عشاء کی اقامت ہوئی تو آپ نے نماز پڑھی اور دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛ترجمہ؛عرفات سے مزدلفہ کی طرف لوٹنا اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنا؛جلد٢ص٩٣٤؛حدیث نمبر٢٩٩٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: " دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، قَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّاهَا، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2997

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپسی پر قضائے حاجت کے لیے ایک گھاٹی میں تشریف لے گئے پھر میں نے آپ کو وضو کروایا اور عرض کیا کیا آپ نماز پڑھیں گے؟آپ نے فرمایا نماز کی جگہ تمہارے آگے ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٤؛حدیث نمبر٢٩٩٨)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى بَعْضِ تِلْكَ الشِّعَابِ لِحَاجَتِهِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، فَقُلْتُ: أَتُصَلِّي؟ فَقَالَ: الْمُصَلَّى أَمَامَكَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2998

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس تشریف لائے جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو اتر کر پیشاب فرمایا اس روایت میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے وضو کرانے کا ذکر نہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم"نماز" آپ نے فرمایا نماز تمہارے آگے ہے پھر آپ چل پڑے حتیٰ کہ مزدلفہ میں پہنچے تو مغرب اور عشاء دونوں نمازیں(عشاء کے وقت میں)پڑھیں۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٥؛حدیث نمبر٢٩٩٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ: " أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ - وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ: أَرَاقَ الْمَاءَ - قَالَ: فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ "، قَالَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الصَّلَاةَ، قَالَ: «الصَّلَاةُ أَمَامَكَ» قَالَ: «ثُمَّ سَارَ حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 2999

حضرت کریب فرماتے ہیں انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب آپ سواری پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے تو عرفہ کی شام آپ لوگوں نے کیا طریقہ اختیار کیا؟ انہوں نے فرمایا ہم اس گھاٹی میں پہنچے جہاں لوگ مغرب(کی نماز)کے لئے اونٹ بٹھاتے ہیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور پیشاب فرمایا(اس میں حضرت اسامہ کے وضو کرانے کا ذکر نہیں)پھر پانی منگواکر خفیف سا وضو کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز؟فرمایا نماز تمہارے آگے ہے پس آپ سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ میں آے تو مغرب کی اقامت ہوئی پھر لوگوں نے اپنے اونٹوں کو اپنے ٹھکانوں پر بٹھایا اور انہوں نے کھولا نہیں تھا کہ عشاء کی اقامت ہوئی آپ نے نماز پڑھائی پھر ان حضرات نے اونٹوں کو کھولا،راوی فرماتے ہیں میں نے پوچھا صبح کے وقت تم نے کیا کیا؟فرمایا حضرت فضل رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوئے اور میں قریش کے آگے جانے والوں کے ساتھ پیدل گیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٥؛حدیث نمبر٣٠٠٠)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، كَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَقَالَ: " جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَبَالَ - وَمَا: قَالَ: أَهَرَاقَ الْمَاءَ - ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: «الصَّلَاةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ، وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَصَلَّى، ثُمَّ حَلُّوا»، قُلْتُ: فَكَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: «رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3000

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس گھاٹی پر تشریف لائے جہاں امراء اترتے ہیں پس آپ اترے اور پیشاب کیا انہوں نے وضو کرانے کا ذکر نہیں کیا۔ پھر آپ نے پانی منگواکر خفیف سا وضو کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!نماز؟فرمایا نماز آگے چل کر ہوگی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٥؛حدیث نمبر٣٠٠١)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا أَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ - وَلَمْ يَقُلْ: أَهَرَاقَ - ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: «الصَّلَاةُ أَمَامَكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3001

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس لوٹے تو میں سواری پر آپ کے پیچھے تھا جب آپ گھاٹی پر پہنچے تو آپ نے اپنی سواری کو بٹھایا اور قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے واپس تشریف لائے تو میں نے برتن سے پانی لے کر آپ کو وضو کروایا پھر آپ سوار ہوکر مزدلفہ پہنچے اور مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٦؛حدیث نمبر٣٠٠٢)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، مَوْلَى سِبَاعٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: «أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الشِّعْبَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا رَجَعَ صَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَجَمَعَ بِهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3002

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس تشریف لائے اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ میں پہنچ گئے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٦؛حدیث نمبر٣٠٠٣)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ» قَالَ أُسَامَةُ: «فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هَيْئَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3003

حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں موجود تھا کہ میرے سامنے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا یا فرمایا کہ میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا تھا،پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپسی پر کیسے چلتے تھے انہوں نے فرمایا آہستہ آہستہ جارہے تھے جب کچھ گنجائش پاتے تو سواری کو تیز چلاتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٦؛حدیث نمبر٣٠٠٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَوْ قَالَ: سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ؟ قَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ:، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3004

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٠٤ کی مثل مروی ہے حضرت ہشام کہتے ہیں"النص"وہ رفتار ہے جو"العنق"سے ذرا تیز ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٦؛حدیث نمبر٣٠٠٥)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُمَيْدٍ، قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3005

حضرت عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر مغرب اور عشاء کی نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مزدلفہ میں ادا کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠٠٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ: «صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3006

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٣٠٠٦ کی مثل مروی ہے اور ابن رمح نے عبداللہ بن یزید خطمی کی روایت میں بیان کیا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور میں کوفہ کے امیر تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠٠٧)

وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3007

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں اکٹھی پڑھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠٠٨)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3008

حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ان کے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو ملاکر پڑھا اور ان کے درمیان نوافل بالکل نہیں پڑھے آپ نے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں(بطور مسافر)پڑھیں پس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی مزدلفہ میں اسی طرح کرتے تھے حتیٰ کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠٠٩)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ» فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ كَذَلِكَ، حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ تَعَالَى "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3009

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت کے ساتھ پڑھی پھر انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے بھی اسی طرح نماز پڑھی تھی اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠١٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ «صَلَّى الْمَغْرِبَ بِجَمْعٍ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ» ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صَلَّى مِثْلَ ذَلِكَ، وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3010

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠١٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٧؛حدیث نمبر٣٠١١)

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: صَلَّاهُمَا بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3011

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء(کی نمازوں)کو جمع کیا مغرب کی تین اور عشاء کی چار رکعتیں ایک ہی اقامت سے پڑھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٨؛حدیث نمبر٣٠١٢)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3012

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئےحتی کہ ہم مزدلفہ میں آے تو انہوں نے ہمیں مغرب اور عشاء کی نماز ایک ہی اقامت سے پڑھائی پھر واپس لوٹے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس مقام پر اسی طرح نماز پڑھائی تھی۔(مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت میں اس طرح جمع کر کے پڑھنا واجب ہے کہ درمیان میں نفل نہ پڑھے ہدایہ میں ہے کہ اگر نفل پڑھے تو ان نمازوں کو دوبار پڑھے۔) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلَاتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ؛جلد٢ص٩٣٨؛حدیث نمبر٣٠١٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: " أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3013

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ وقت پر نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کے،اور آپ نے فجر کی نماز اس دن وقت سے پہلے پڑھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٣٨؛حدیث نمبر٣٠١٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا، إِلَّا صَلَاتَيْنِ: صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، وَصَلَّى الْفَجْرَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3014

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠١٤ کی مثل مروی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ نے صبح کی نماز(اس کے معروف)وقت سے پہلے اندھیرے میں پڑھی۔(اس حدیث سے احناف کے موقف کی تائید ہوتی ہے کہ عام دنوں میں صبح کی تاخیر مستحب ہے)۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٣٨؛حدیث نمبر٣٠١٥)

وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: قَبْلَ وَقْتِهَا بِغَلَسٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3015

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ سے پہلے چلی جائیں تاکہ لوگوں کے ہجوم سے بچ جائیں اور وہ بھاری جسم کی خاتون تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی اور وہ آپ سے پہلے چلی گئیں اور ہمیں روک لیا گیا حتیٰ کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اگر میں بھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی طرح اجازت طلب کرتی اور آپ کی اجازت سے چلی جاتی تو یہ بات میرے لئے اس سے بہتر تھی جس پر میں خوش ہو رہی تھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ دَفْعِ الضَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنًى فِي أَوَاخِرِ اللَّيْلِ قَبْلَ زَحْمَةِ النَّاسِ، وَاسْتِحْبَابِ الْمُكْثِ لِغَيْرِهِمْ حَتَّى يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمُزْدَلِفَةَ؛جلد٢ص٩٣٩؛حدیث نمبر٣٠١٦)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ، تَدْفَعُ قَبْلَهُ، وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً - يَقُولُ الْقَاسِمُ: وَالثَّبِطَةُ الثَّقِيلَةُ - قَالَ: فَأَذِنَ لَهَا، فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ، وَحَبَسَنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ " وَلَأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأَكُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3016

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بھاری جسم کی خاتون تھیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ کی رات(جانے کی)اجازت مانگی تو آپ نے ان کو اجازت دے دی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کاش میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتی اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مزدلفہ سے امام کے ساتھ ہی جایا کرتی تھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٣٩؛حدیث نمبر٣٠١٧)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، فَأَذِنَ لَهَا» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «فَلَيْتَنِي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ» وَكَانَتْ عَائِشَةُ «لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3017

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں مجھے یہ بات پسند آئی کہ کاش میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتی جس طرح حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت مانگی تھی اور صبح کی نماز منی میں پڑھ کو لوگوں کے آنے سے پہلے کنکریاں مارتی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ کیا حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تھی؟فرمایا ہاں اور ان کا جسم بھاری تھا پس انہوں نے اجازت مانگی اور آپ نے اجازت دے دی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٣٩؛حدیث نمبر٣٠١٨)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى، فَأَرْمِي الْجَمْرَةَ، قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: فَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3018

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠١٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر٣٠١٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3019

حضرت اسماء کے غلام عبد اللہ فرماتے ہیں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے ان سے پوچھا کیا چاند غروب ہوگیا ہے اس وقت وہ دار مزدلفہ کے نزدیک تھیں میں نے کہا نہیں چنانچہ انہوں نے کچھ دیر نماز پڑھی پھر فرمایا بیٹے!کیا چاند غروب ہوگیا ہے میں نے کہا جی ہاں فرمایا مجھے لے چلو چنانچہ ہم گئے اور انہوں نے کنکریاں ماریں پھر اپنی منزل میں نماز پڑھی میں نے کہا مائی صاحبہ!ہم نے اندھیرے میں نماز نہیں پڑھی؟فرمایا ہر گز نہیں اے بیٹے!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(عورتوں کو)کوچ کرنے کی اجازت دی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر٣٠٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ، مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: قَالَتْ لِي أَسْمَاءُ: وَهِيَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: ارْحَلْ بِي، فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: كَلَّا، أَيْ بُنَيَّ، «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3020

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٣٠٢١ کی مثل مروی ہے اور اس میں ہے کہ انہوں نے فرمایا نہیں اے بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کرنے کی اجازت دی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر٣٠٢١)

وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَتْ: لَا، أَيْ بُنَيَّ، إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِظُعُنِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3021

حضرت عطاء فرماتے ہیں حضرت ابن شوال(حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے غلام)نے ان کو خبر دی کہ وہ حضرت ام حبیبہ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے ان کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مزدلفہ سے(منی کی طرف)رات کو ہی بھیج دیا تھا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر٣٠٢٢)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ ابْنَ شَوَّالٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَأَخْبَرَتْهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3022

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ کے دور میں اندھیرے میں ہی مزدلفہ سے منی کی طرف روانہ ہو جاتی تھیں۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر ٣٠٢٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: «كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نُغَلِّسُ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى» وَفِي رِوَايَةِ النَّاقِدِ نُغَلِّسُ مِنْ مُزْدَلِفَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3023

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات مجھے کمزور لوگوں کے ساتھ ہی بھیج دیا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤٠؛حدیث نمبر٣٠٢٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ - أَوْ قَالَ فِي الضَّعَفَةِ - مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3024

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے جن کمزورافراد کو(مزدلفہ سے)آگے بھیجا ان میں میں بھی تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤١؛حدیث نمبر٣٠٢٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3025

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں سے جن کمزور افراد کو آگے بھیجا میں بھی ان میں شامل تھا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤١؛حدیث نمبر٣٠٢٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3026

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامان کے ساتھ مزدلفہ کی رات سحری کے وقت بھیج دیا حضرت ابن جریج نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رات کے وقت بہت پہلے بھیج دیا تھا انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ سحری کا ذکر کیا تھا۔ میں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ہم نے فجر سے پہلے کنکریاں ماریں تو فجر کی نماز کہاں پڑھی تھی،فرمایا انہوں نے اور کچھ نہیں کہا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤١؛حدیث نمبر٣٠٢٧)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: " بَعَثَ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَبَلَغَكَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ بِي بِلَيْلٍ طَوِيلٍ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا كَذَلِكَ بِسَحَرٍ، قُلْتُ لَهُ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَأَيْنَ صَلَّى الْفَجْرَ؟ قَالَ: لَا إِلَّا كَذَلِكَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3027

حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر والوں میں سے کمزور لوگوں کو پہلے بھیج دیتے تھے پس وہ رات کے وقت مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ٹھہرتے اور جس قدر ہوسکتا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے پھر امام کے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے چلے جاتے تو ان میں سے بعض نماز فجر کے وقت منی میں پہنچے اور بعض اس کے بعد پہنچتے اور جب وہاں پہنچتے تو کنکریاں مارتے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے۔(عذر کی وجہ سے اب بھی ایسا ہوسکتا ہے)۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ؛جلد٢ص٩٤١؛حدیث نمبر٣٠٢٨)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ «يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِاللَّيْلِ، فَيَذْكُرُونَ اللهَ مَا بَدَا لَهُمْ، ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوْا الْجَمْرَةَ» وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: «أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3028

حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وادی کے دمن سے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں آپ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے فرماتے ہیں آپ سے کہا گیا کہ لوگ تو اوپر کی جانب سے کنکریاں مارتے ہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ وہی مقام ہے جہاں سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛ترجمہ؛بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنامکہ مکرمہ اس کی بائیں جانب ہو اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر ہے؛جلد٢ص٩٤٢؛حدیث نمبر٣٠٢٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ. قَالَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أُنَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: هَذَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، «مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3029

حضرت اعمش کہتے ہیں میں نے حجاج بن یوسف کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہ رہا تھا قرآن پاک اس طرح جمع کرو جس طرح حضرت جبریل علیہ السلام نے جمع کیا وہ سورت جس میں سورہ بقرہ(گاے)کا ذکر ہے وہ سورت جس میں عورتوں کا ذکر ہے(سورہ نساء)وہ سورت جس میں آل عمران کا ذکر ہے حضرت اعمش فرماتے ہیں میں نے ابراہیم سے ملاقات کی تو میں نے ان کو حجاج بن یوسف کے اس قول کے بارے میں بتایا تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا اور فرمایا مجھ سے عبد الرحمن بن یزید نے بیان کیا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور وادی کے دامن میں چلے گئے اور جمرہ عقبہ کے سامنے ہو کر وہاں سے سات کنکریاں ماریں آپ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں میں نے کہا اے عبد الرحمن!لوگ تو اوپر کی جانب سے کنکریاں مارتے ہیں انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں یہ وہی مقام ہے جہاں سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛جلد٢ص٩٤٢؛حدیث نمبر٣٠٣٠)

وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ: وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَلِّفُوا الْقُرْآنَ كَمَا أَلَّفَهُ جِبْرِيلُ، السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ. قَالَ: فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِ، فَسَبَّهُ وَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَأَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِي، فَاسْتَعْرَضَهَا، فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، قَالَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا فَقَالَ: هَذَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، «مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3030

حضرت اعمش نے کہا کہ میں نے حجاج کو کہتے ہوئے سنا کہ سورہ بقرہ نہ کہو اس کے بعد حدیث نمبر ٣٠٣٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛جلد٢ص٩٤٢؛حدیث نمبر٣٠٣١)

وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ: لَا تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَاقْتَصَّا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3031

حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حج کیا تو آپ نے سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ شریف کو اپنی بائیں جانب رکھا جب کہ منی آپ کی دائیں جانب تھا اور فرمایا اسی مقام پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛جلد٢ص٩٤٣؛حدیث نمبر٣٠٣٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللهِ قَالَ: فَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ: «هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3032

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں جمرہ عقبہ کے پاس آنے کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛جلد٢ص٩٤٣؛حدیث نمبر٣٠٣٣)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلَمَّا أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3033

حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ جمرہ عقبہ کے اوپر کی جانب سے کنکریاں مارتے ہیں فرماتے ہیں حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے کنکریاں ماریں پھر فرمایا اللہ کی قسم جس ذات پر سورہ بقرہ نازل ہوئی انہوں نے یہاں سے ہی کنکریاں ماری تھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ؛جلد٢ص٩٤٣؛حدیث نمبر٣٠٣٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُحَيَّاةِ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللهِ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ مِنْ فَوْقِ الْعَقَبَةِ، قَالَ: فَرَمَاهَا عَبْدُ اللهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ قَالَ: «مِنْ هَا هُنَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، رَمَاهَا الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3034

حضرت جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن سواری پر تھے اور کنکریاں مارتے تھے آپ نے فرمایا مجھ سے حج کے احکام سیکھو کیونکہ مجھے معلوم ہیں شاید میں اس حج کے بعد حج نہ کر سکوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا، وَبَيَانِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ»ترجمہ؛یوم نحر میں سوار ہو کر جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول"اپنے احکام حج سیکھ لو"؛جلد٢ص٩٤٣؛حدیث نمبر٣٠٣٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَيَقُولُ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3035

حضرت ام الحصین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع کیا تو میں نے آپ کو دیکھا جب آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں آپ واپس ہوئے تو آپ سواری پر تھے اور آپ کے ہمراہ حضرت بلال اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہما بھی تھے ان میں ایک آپ کی سواری کی مہار پکڑ کر چل رہے تھے اور دوسرے نے کپڑے سے آپ کے سر انور پر دھوپ سے سایہ کر رکھا تھا اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافی باتیں فرمائیں پھر میں نے آپ سے سنا آپ نے فرمایا اگر تم پر ایک ناک کٹا حبشی بھی امیر بنا دیا جائے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ تمہاری قیادت کرے تو اس کی بات سنو اور تسلیم کرو۔راوی فرماتے ہیں میرے خیال میں حضرت ام الحصین نے سیاہ رنگ کا ذکر کیا(کہ وہ سیاہ رنگ کا ہو) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا، وَبَيَانِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ»؛جلد٢ص٩٤٤؛حدیث نمبر٣٠٣٦)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَأُسَامَةُ أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّمْسِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ - حَسِبْتُهَا قَالَتْ - أَسْوَدُ، يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللهِ تَعَالَى، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3036

حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو میں نے حضرت اسامہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا ان میں سے ایک نے آپ کی سواری کی مہار پکڑ رکھی تھی اور دوسرے نے اپنے کپڑے کو اٹھا کر دھوپ سے آپ پر سایہ کر رکھا تھا حتیٰ کہ آپ جمرہ عقبہ کے پاس تشریف لائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا، وَبَيَانِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ»؛جلد٢ص٩٤٤؛حدیث نمبر٣٠٣٧)

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ، جَدَّتِهِ قَالَتْ: «حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ وَبِلَالًا، وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ» قَالَ مُسْلِم: وَاسْمُ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ وَهُوَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ رَوَى عَنْهُ وَكِيعٌ وَحَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3037

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ٹھیکریوں کے برابر کنکریاں جمرہ پر ماریں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ كَوْنِ حَصَى الْجِمَارِ بِقَدْرِ حَصَى الْخَذْفِ؛ترجمہ؛ٹھیکری کے برابر کنکری مارنا مستحب ہے؛جلد٢ص٩٤٤؛حدیث نمبر٣٠٣٨)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3038

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت اور دوسرے دنوں میں زوال آفتاب کے بعد کنکریاں ماریں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ اسْتِحْبَابِ الرَّمْيِ؛کنکریاں مارنے کا مستحب وقت؛جلد٢ص٩٤٥؛حدیث نمبر٣٠٣٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «رَمَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3039

ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ آپ اس طرح رمی کرتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ اسْتِحْبَابِ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٥؛حدیث نمبر٣٠٤٠)

وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3040

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ڈھیلوں سے استنجاء طاق مرتبہ ہے جمرات کو کنکریاں مارنا طاق بار ہے صفا مروہ کے درمیان سعی طاق مرتبہ ہے اور جب تم میں سے کوئی استنجاء کرے تو طاق بار کرے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ وَقْتِ اسْتِحْبَابِ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٥؛حدیث نمبر٣٠٤١)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الِاسْتِجْمَارُ تَوٌّ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ تَوٌّ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَوٌّ، وَالطَّوَافُ تَوٌّ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَجْمِرْ بِتَوٍّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3041

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یا دوبار فرمایا اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے پھر فرمایا اور بال کٹوانے والوں پر(بھی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛ترجمہ؛سر منڈانا،بال کٹوانے سے افضل ہے اور کٹوانا بھی جائز ہے؛جلد٢ص٩٤٥؛حدیث نمبر٣٠٤٢)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ، قَالَ: حَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَحِمَ اللهُ الْمُحَلِّقِينَ» مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3042

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی: "یا اللہ!سر منڈانے والوں پر رحم فرما صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور بال کٹوانے والے،آپ نے پھر یوں دعا کی یااللہ!سر منڈانے والوں پر رحم فرما صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور بال کٹوانے والے؟فرمایا اور بال کٹوانے والوں پر بھی" (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٥؛حدیث نمبر٣٠٤٣)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اللهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «اللهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ» قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3043

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی کہ اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بال کٹوانے والوں پر،فرمایا اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!بال کٹوانے والوں پر بھی؟فرمایا اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے؟صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بال کٹوانے والوں پر بھی؟آپ نے فرمایا (ہاں)بال کٹوانے والوں پر بھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٦؛حدیث نمبر٣٠٤٤)

أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رَحِمَ اللهُ الْمُحَلِّقِينَ» قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «رَحِمَ اللهُ الْمُحَلِّقِينَ» قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «رَحِمَ اللهُ الْمُحَلِّقِينَ» قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3044

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٤٤ کی مثل مروی ہے۔اور اس میں یوں ہے کہ چوتھی بار آپ نے فرمایا اور بال کٹانے والے پر بھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٦؛حدیث نمبر٣٠٤٥)

وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ، قَالَ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3045

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا اللہ!سر منڈانے والوں کو بخش دے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بال کٹانے والوں کو بھی،آپ نے پھر دعا مانگی یا اللہ!سر منڈانے والوں کو بخش دے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بال کٹانے والے کو بھی،آپ نے پھر دعا کی یااللہ!سر منڈانے والے کو بخش دے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور بال کٹانے والوں کو بھی،آپ نے فرمایا اور بال کٹانے والوں کو بھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٦؛حدیث نمبر٣٠٤٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟، قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟، قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: «وَلِلْمُقَصِّرِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3046

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٤٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٦؛حدیث نمبر٣٠٤٧)

وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3047

حضرت یحییٰ بن حسین کی دادی بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے تین بار سر منڈانے والوں کے لیے اور ایک بار بال کٹوانے والوں کے لئے دعا مانگی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٦؛حدیث نمبر٣٠٤٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ «دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا، وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً» وَلَمْ يَقُلْ وَكِيعٌ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3048

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سر مبارک مونڈوایا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ؛جلد٢ص٩٤٧؛حدیث نمبر٣٠٤٩)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، كِلَاهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3049

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی میں تشریف لائے توجمرہ کے پاس جاکر اسے کنکریاں ماریں پھر اپنی رہائش گاہ میں تشریف لائے اور قربانی کی پھر حجام کو سر کی دائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے مونڈنے کا حکم دیا پھر بائیں جانب اشارہ فرمایا پھر(وہ بال مبارک)صحابہ کرام کو عطاء فرمانے لگے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ، ثُمَّ يَنْحَرَ، ثُمَّ يَحْلِقَ وَالِابْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الْأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ؛ترجمہ؛قربانی کے دن پہلے کنکریاں مارنا پھر قربانی کرنا پھر سر منڈوانا اور منڈوانے میں سر کی داہنی جانب سے آغاز کرنا سنت ہے؛جلد٢ص٩٤٧؛حدیث نمبر٣٠٥٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مِنًى، فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ خُذْ وَأَشَارَ إِلَى جَانِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3050

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت آئی ہے کہ حجام کو دائیں طرف کا اشارہ فرمایا اور وہاں موجود حضرات میں بال تقسیم فرمائے پھر حجام کو بائیں جانب اشارہ کیا اس نے بال مبارک مونڈے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو عطاء فرمائے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ دائیں جانب سے آغاز کیا تو آپ نے ایک ایک اور دو دو بال لوگوں میں تقسیم فرمایا پھر بائیں جانب کا حکم دیا اس نے اس طرف بھی اسی طرح کیا پھر فرمایا یہاں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں اس کے بعد وہ بال ان کو عطاء فرمائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ، ثُمَّ يَنْحَرَ، ثُمَّ يَحْلِقَ وَالِابْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الْأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ؛جلد٢ص٩٤٧؛حدیث نمبر٣٠٥١)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ، لِلْحَلَّاقِ «هَا» وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ هَكَذَا، فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ، قَالَ: ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَلَّاقِ وَإِلَى الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ، فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ وَأَمَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ قَالَ: فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الْأَيْمَنِ، فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ، ثُمَّ قَالَ: بِالْأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: «هَا هُنَا» أَبُو طَلْحَةَ؟ فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3051

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر اونٹوں کے پاس تشریف لائے اور ان کو ذبح کیا حجام بیٹھا ہوا تھا آپ نے اپنے سر انور کی دائیں جانب اشارہ کیا تو اس نے دائیں جانب کے بال مونڈے آپ نے قریب والوں میں تقسیم کر دئے پھر فرمایا بائیں جانب کے بال مونڈو اور فرمایا ابوطلحہ کہاں ہیں؟پھر ان کو عطاء فرمائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ، ثُمَّ يَنْحَرَ، ثُمَّ يَحْلِقَ وَالِابْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الْأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ؛جلد٢ص٩٤٧؛حدیث نمبر٣٠٥٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ، وَقَالَ: بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ، فَحَلَقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ "، ثُمَّ قَالَ: «احْلِقِ الشِّقَّ الْآخَرَ» فَقَالَ: «أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ؟ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3052

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کو کنکریاں ماریں قربانی کا جانور ذبح کیا اور سر انور منڈانے لگے دائیں جانب حجام کی طرف کی اس نے سر انور کے بال مونڈے تو آپ نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ بال ان کو عطاء فرمائے پھر بائیں جانب اس کے قریب کی اور فرمایا مونڈو،اس نے آپ کا سر انور مونڈا تو آپ نے یہ بال مبارک حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو عطاء فرمائے اور فرمایا یہ لوگوں میں تقسیم کردو۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ، ثُمَّ يَنْحَرَ، ثُمَّ يَحْلِقَ وَالِابْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الْأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ؛جلد٢ص٩٤٨؛حدیث نمبر٣٠٥٣)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُكَهُ وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ»، فَقَالَ: «احْلِقْ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ»، فَقَالَ: «اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3053

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر منی میں لوگوں کے لئے کھڑے ہوے اور لوگ آپ سے سوال کرنے لگے ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے پتا نہ چل سکا اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا آپ نے فرمایا ذبح کرو کوئی حرج نہیں پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے پتا نہ چل سکا اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کرلیا آپ نے فرمایا کنکریاں مارو کوئی حرج نہیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس عمل کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس میں تقدیم وتأخير ہوگئی تو آپ نے فرمایا اسے بجا لاؤ کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٨؛حدیث نمبر٣٠٥٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، بِمِنًى، لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ أَشْعُرْ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، فَقَالَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ، إِلَّا قَالَ: «افْعَلْ وَلَا حَرَجَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3054

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ٹھہرے ہوئے تھے تو لوگوں نے سوالات شروع کر دئے ان میں سے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ رمی،قربانی سے پہلے ہوتی ہے تو میں نے رمی سے پہلے قربانی کردی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمی کرو کوئی حرج نہیں۔ راوی فرماتے ہیں دوسرے شخص نے کہا مجھے معلوم نہ تھا کہ قربانی سر منڈانے سے پہلے ہوتی ہے تو میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا آپ نے فرمایا قربانی کرو کوئی حرج نہیں۔ راوی فرماتے ہیں اس دن میں نے جس کام کے بارے میں بھی سنا کہ کسی شخص نے بھول کر افعال حج میں تقدیم و تاخیر کردی تو آپ نے فرمایا اسے بجا لاؤ،کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٨؛حدیث نمبر٣٠٥٥)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ، فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ الرَّمْيِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَارْمِ وَلَا حَرَجَ» قَالَ: وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ: إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، فَيَقُولُ: «انْحَرْ وَلَا حَرَجَ» قَالَ: فَمَا سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ يَوْمَئِذٍ عَنْ أَمْرٍ، مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ وَيَجْهَلُ، مِنْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الْأُمُورِ قَبْلَ بَعْضٍ، وَأَشْبَاهِهَا، إِلَّا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْعَلُوا ذَلِكَ، وَلَا حَرَجَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3055

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٥٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٥٦)

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَى آخِرِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3056

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے معلوم نہ تھا کہ فلاں کام فلاں کام سے پہلے ہے دوسرا آیا اور اس نے عرض کیا میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں کام سے پہلے ہے آپ نے تینوں کے بارے میں فرمایا کرلو کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٥٧)

وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسِبُ، يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَّ كَذَا وَكَذَا، قَبْلَ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا، قَبْلَ كَذَا وَكَذَا، لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ، قَالَ: «افْعَلْ وَلَا حَرَجَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3057

ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے لیکن اس میں تین آدمیوں کا ذکر نہیں یحییٰ اموی کی روایت میں ہے کہ میں نے قربانی سے پہلے سر مونڈایا(اور)کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی اور اس طرح کے سوالات تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٥٨)

وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا رِوَايَةُ ابْنِ بَكْرٍ فَكَرِوَايَةِ عِيسَى، إِلَّا قَوْلَهُ: لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ، وَأَمَّا يَحْيَى الْأُمَوِيُّ فَفِي رِوَايَتِهِ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3058

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا میں نے ذبح سے پہلے سر منڈا لیا آپ نے فرمایا ذبح کرلو کوئی حرج نہیں۔ اس نے کہا کہ کنکریاں مارنے سے پہلے ذبح کرلیا فرمایا کنکریاں مارو کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٥٩)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: «فَاذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» قَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3059

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منی میں اونٹنی پر دیکھا تو آپ کے پاس ایک شخص آیا....... اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٦٠)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ بِمِنًى، فَجَاءَهُ رَجُلٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3060

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اس حال میں کہ آپ کے پاس ایک شخص قربانی کے دن آیا اور آپ جمرہ کے پاس کھڑے تھے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے رمی سے پہلے سر منڈا لیا آپ نے فرمایا رمی کرو کوئی حرج نہیں اور ایک شخص آیا اس نے کہا میں نے رمی سے پہلے جانور ذبح کرلیا فرمایا رمی کرو کوئی حرج نہیں ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا میں نے رمی سے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کر لیا فرمایا رمی کرلو کوئی حرج نہیں۔ راوی فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ اس دن آپ سے جس عمل کے بارے میں سوال کیا گیا آپ نے فرمایا کرلو کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٤٩؛حدیث نمبر٣٠٦١)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ: إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» وَأَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: إِنِّي أَفَضْتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ «افْعَلُوا وَلَا حَرَجَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3061

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذبح،حلق(سر منڈانے)اور رمی کے سلسلے میں تقدیم و تاخیر کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔(حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیک ان افعال میں ترتیب واجب ہے اور ترتیب چھوڑنے پر دم لازم آتا ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ حَلَقَ قَبْلَ النَّحْرِ، أَوْ نَحَرَ قَبْلَ الرَّمْيِ؛جلد٢ص٩٥٠؛حدیث نمبر٣٠٦٢)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: فِي الذَّبْحِ، وَالْحَلْقِ، وَالرَّمْيِ، وَالتَّقْدِيمِ، وَالتَّأْخِيرِ، فَقَالَ: «لَا حَرَجَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3062

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن طواف اضافہ کیا پھر واپس تشریف لاکر ظہر کی نماز منی میں پڑھی۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی قربانی کے دن طواف اضافہ کرتے پھر واپس آکر ظہر کی نماز منی میں پڑھتے اور بیان کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ طَوَافِ الْإِفَاضَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛؛ترجمہ؛قربانی کے دن طواف اضافہ کرنا؛ جلد٢ص٩٥٠؛حدیث نمبر٣٠٦٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى» قَالَ نَافِعٌ: «فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3063

حضرت عبد العزيز بن رفیع فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توریہ کے دن(آٹھ ذوالحجہ کو)نماز کہاں پڑھی تھی اس سلسلے میں آپ کو جو احادیث یاد ہوں بتائے انہوں نے فرمایا منی میں،میں نے عرض کیا واپسی پر نماز کہاں پڑھی؟فرمایا وادی ابطح میں پڑھی، پھر فرمایا وہی کرو جو تمہارے امرا کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ طَوَافِ الْإِفَاضَةِ يَوْمَ النَّحْرِ؛جلد٢ص٩٥٠؛حدیث نمبر٣٠٦٤)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنًى، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ مَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3064

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم وادی ابطح میں اترتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥١؛حدیث نمبر٣٠٦٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3065

حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ وادی محصب میں جانا سنت سمجھتے تھے اور واپسی کے دن ظہر کی نماز وادی محصب میں پڑھتے تھے حضرت نافع فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء وادی محصب میں جاتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥١؛حدیث نمبر٣٠٦٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَرَى التَّحْصِيبَ سُنَّةً، وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ، قَالَ نَافِعٌ: «قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3066

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں وادی ابطح میں اترنا سنت نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اس لیے اترے تھے کہ مکہ مکرمہ جاتے ہوئے آپ کے لئے وہاں سے نکلنا آسان تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥١؛حدیث نمبر٣٠٦٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ إِذَا خَرَجَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3067

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٦٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥١؛حدیث نمبر٣٠٦٨)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَاه أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3068

حضرت سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق،حضرت عمر فاروق اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم ابطح میں اترتے تھے حضرت عروہ فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا،وادی محصب میں نہیں جاتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اس لئے اترے تھے کہ وہاں سے نکلنا آسان تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥١؛حدیث نمبر٣٠٦٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَابْنَ عُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ، وَقَالَتْ: «إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلًا أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3069

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وادی محصب میں جانا حج کی کوئی مقررہ عبادت نہیں یہ ایک منزل ہے جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اترے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥٢؛حدیث نمبر٣٠٧٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3070

حضرت ابو رافع فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب منی سے تشریف لے گئے تو آپ نے مجھے وادی ابطح میں اترنے کا حکم نہیں دیا لیکن میں آیا اور میں نے وہاں خیمہ لگایا اور آپ وہاں آکر ٹھہر گئے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو رافع،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان پر مقرر تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥٢؛حدیث نمبر٣٠٧١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو رَافِعٍ: «لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْزِلَ الْأَبْطَحَ حِينَ خَرَجَ مِنْ مِنًى، وَلَكِنِّي جِئْتُ فَضَرَبْتُ فِيهِ قُبَّتَهُ، فَجَاءَ فَنَزَلَ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي رِوَايَةِ صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: عَنْ أَبِي رَافِعٍ وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3071

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاء اللہ کل ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں کفار نے آپس میں کفر پر قسمیں کھائی تھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥٢؛حدیث نمبر٣٠٧٢)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «نَنْزِلُ غَدًا، إِنْ شَاءَ اللهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3072

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب ہم منی میں تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کل ہم خیف بنی کنانہ میں اتریں گے جہاں کفار نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں قریش اور بنو کنانہ نے قسم کھائی کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب سے اس وقت تک نکاح اور خرید وفروخت نہیں کریں گے جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے سپرد نہ کردیں۔ اس جگہ سے مراد وادی محصب ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥٢؛حدیث نمبر٣٠٧٣)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ بِمِنًى: «نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ» وَذَلِكَ إِنَّ قُرَيْشًا وَبَنِي كِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ، حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي بِذَلِكَ، الْمُحَصَّبَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3073

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ان شاء اللہ جب اللہ تعالیٰ فتح عطاء فرمائے گا تو ہماری منزل وہ جگہ ہوگی جہاں کفار نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلَاةِ بِه؛جلد٢ص٩٥٢؛حدیث نمبر٣٠٧٤)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْزِلُنَا إِنْ شَاءَ اللهُ، إِذَا فَتَحَ اللهُ الْخَيْفُ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3074

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عباس بن عبد المطلب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ منی کی راتیں مکہ مکرمہ میں گزاریں کیونکہ وہ اب زمزم پلاتے تھے تو آپ نے ان کو اجازت دے دی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ وُجُوبِ الْمَبِيتِ بِمِنًى لَيَالِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، وَالتَّرْخِيصِ فِي تَرْكِهِ لِأَهْلِ السِّقَايَةِ؛جلد٢ص٩٥٣؛حدیث نمبر٣٠٧٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِي مِنًى، مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3075

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٠٧٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ وُجُوبِ الْمَبِيتِ بِمِنًى لَيَالِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، وَالتَّرْخِيصِ فِي تَرْكِهِ لِأَهْلِ السِّقَايَةِ؛جلد٢ص٩٥٣؛حدیث نمبر٣٠٧٦)

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3076

حضرت بکر بن عبداللہ مزنی بیان کرتے ہیں فرماتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں آپ کے چچا زاد شہد اور دودھ پلاتے ہیں اور تم لوگ نبیذ(کھجور کا رس)پلاتے ہو اس کی وجہ غربت ہے یا بخل(کنجوسی)؟حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا الحمد للہ!ہمیں کوئی حاجت(غربت)اور بخل نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تشریف لائے اور آپ کے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھے آپ نے پانی طلب کیا تو ہم نے کھجور کا نبیذ پیش کیا آپ نے خود نوش فرمایا اور باقی حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو پلایا۔ پھر فرمایا تم نے بہت اچھا اور عمدہ کام کیا پس اسی طرح کرو تو ہم اس چیز کو بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتے جس کا حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ وُجُوبِ الْمَبِيتِ بِمِنًى لَيَالِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، وَالتَّرْخِيصِ فِي تَرْكِهِ لِأَهْلِ السِّقَايَةِ؛جلد٢ص٩٥٣؛حدیث نمبر٣٠٧٧)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: مَا لِي أَرَى بَنِي عَمِّكُمْ يَسْقُونَ الْعَسَلَ وَاللَّبَنَ وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ؟ أَمِنْ حَاجَةٍ بِكُمْ أَمْ مِنْ بُخْلٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، مَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ وَلَا بُخْلٍ، قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ، فَاسْتَسْقَى فَأَتَيْنَاهُ بِإِنَاءٍ مِنْ نَبِيذٍ فَشَرِبَ، وَسَقَى فَضْلَهُ أُسَامَةَ، وَقَالَ: «أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ، كَذَا فَاصْنَعُوا» فَلَا نُرِيدُ تَغْيِيرَ مَا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3077

حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ،حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں قربانی کے جانوروں کے پاس کھڑا ہوں اور ان کا گوشت چمڑے اور جھول صدقہ کردوں اور اس میں قصاب کو(بطور اجرت)نہ دوں۔وہ فرماتے ہیں ہم(اجرت)اپنی طرف سے دیں گے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا؛ترجمہ؛قربانی کا گوشت،کھال اور جھول وغیرہ صدقہ کرنا؛جلد٢ص٩٥٤؛حدیث نمبر٣٠٧٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا»، قَالَ: «نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3078

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٧٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا؛جلد٢ص٩٥٤؛حدیث نمبر٣٠٧٩)

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3079

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں لیکن اس میں قصاب کی اجرت کا ذکر نہیں۔ مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا؛جلد٢ص٩٥٤؛حدیث نمبر٣٠٨٠)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا أَجْرُ الْجَازِرِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3080

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ قربانی کے اونٹوں پر کھڑے ہوں اور یہ بھی حکم دیا کہ اپنے اونٹوں کے گوشت،کھالوں اور جھولوں کو مساکین میں تقسیم کردیں اور اس میں سے قصاب کو(بطور اجرت)کوئی چیز نہ دیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا؛جلد٢ص٩٥٤؛حدیث نمبر٣٠٨١)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مُجَاهِدًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَهُ: «أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا، لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، فِي الْمَسَاكِينِ وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3081

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٨١ کی مثل مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلَالِهَا؛جلد٢ص٩٥٤؛حدیث نمبر٣٠٨٢)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ الْجَزَرِيُّ، أَنَّ مُجَاهِدًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3082

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے حدیبیہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور گاے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٥؛حدیث نمبر٣٠٨٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3083

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کا تلبیہ کہتے ہوئے نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گاے کی قربانی میں سات سات افراد شریک ہوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٥؛حدیث نمبر٣٠٨٤)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ: «فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3084

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا تو ہم نے اونٹ کی قربانی سات افراد کی طرف سے اور گاے کی قربانی سات افراد کی طرف سے کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٥؛حدیث نمبر٣٠٨٥)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَحَرْنَا الْبَعِيرَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3085

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم حج اور عمرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور سات سات افراد ایک جانور میں شریک ہوئے ایک شخص نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا ہم جس طرح قربانی کے جانور میں شریک ہوسکتے ہیں اسی طرح بعد میں خریدے گئے جانور میں بھی شریک ہوسکتے ہیں؟انہوں نے فرمایا یہ بھی تو بڑے جانوروں میں سے ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ حدیبیہ کے موقعہ پر موجود تھے وہ فرماتے ہیں ہم نے اس دن ستر اونٹ ذبح کئے اور ہر اونٹ میں سات افراد شریک تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٥؛حدیث نمبر٣٠٨٦)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «اشْتَرَكْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ» فَقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ: أَيُشْتَرَكُ فِي الْبَدَنَةِ مَا يُشْتَرَكُ فِي الْجَزُورِ؟ قَالَ: " مَا هِيَ إِلَّا مِنَ الْبُدْنِ، وَحَضَرَ جَابِرٌ الْحُدَيْبِيَةَ، قَالَ: نَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ بَدَنَةً اشْتَرَكْنَا كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3086

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں نقل کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں حکم دیا کہ جب قربانی کر لیں تو احرام کھول دیں اور فرمایا کہ چند آدمیوں کی ایک جماعت قربانی میں شریک ہو آپ نے یہ حکم اس وقت دیا جب ان کو حج کا احرام کھولنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٦؛حدیث نمبر٣٠٨٧)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فَأَمَرَنَا إِذَا أَحْلَلْنَا أَنْ نُهْدِيَ، وَيَجْتَمِعَ النَّفَرُ مِنَّا فِي الْهَدِيَّةِ» وَذَلِكَ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا مِنْ حَجِّهِمْ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3087

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کرتے تو ہم ایک گاے میں سات افراد شریک ہوتے اور ان کی طرف سے ذبح کرتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٦؛حدیث نمبر٣٠٨٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ، فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ نَشْتَرِكُ فِيهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3088

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ایک گاے ذبح کی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٦؛حدیث نمبر٣٠٨٩)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً يَوْمَ النَّحْرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3089

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے حج کے موقعہ پر ایک گاے کی قربانی دیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الِاشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ؛جلد٢ص٩٥٦؛حدیث نمبر ٣٠٩٠)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «نَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ نِسَائِهِ» وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3090

حضرت زیاد بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ایک شخص کے پاس تشریف لائے اور وہ اپنے اونٹ کو بٹھا کر ذبح کر رہا تھا انہوں نے فرمایا اس کو اٹھا کر کھڑا کرکے پاؤں باندھ کر ذبح کرو یہ تمہارے نبی کی سنت ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَحْرِ الْبُدْنِ قِيَامًا مُقَيَّدَةً؛جلد٢ص٩٥٦؛حدیث نمبر٣٠٩١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ بَارِكَةً، فَقَالَ: «ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً، سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3091

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ سے قربانی کے جانور(ہدی)روانہ کیا کرتے تھے تو میں آپ کی ہدی کے ہار خود بناتی تھی پھر آپ ان کاموں سے پرہیز نہیں کرتے تھے جن سے محرم پرہیز کرتا ہے(مطلب یہ کہ ہدی بھیجنے سے محرم نہیں ہوتے تھے)(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٧؛حدیث نمبر٣٠٩٢)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3092

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٠٩٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٧؛حدیث نمبر٣٠٩٣)

وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3093

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں گویا میں اپنے آپ کو دیکھ رہی ہوں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے لئے ہار بناتی ہوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٧؛حدیث نمبر٣٠٩٤)

وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيَّ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3094

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے لئے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے ہار بناتی تھی پھر آپ کسی کام سے پرہیز نہ کرتے اور اسے نہ چھوڑتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٧؛حدیث نمبر٣٠٩٥)

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: «كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ، ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلَا يَتْرُكُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3095

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے اپنے ہاتھوں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے لئے ہار بناے پھر آپ نے ان جانوروں کو نشان لگا کر اور ہار ڈالکر بیت اللہ شریف کی طرف بھیجا اور خود مدینہ طیبہ میں تشریف فرمارہے اور آپ ان چیزوں میں سے کسی چیز کو حرام قرار نہ دیتے جو آپ کے لیے حلال تھیں۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٧؛حدیث نمبر٣٠٩٦)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلًّا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3096

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے جانور بھیجتے تو میں اپنے ہاتھوں سے ان کے لئے ہار بناتی پھر آپ ان کاموں کو نہ چھوڑتے جن کو حلال(غیر محرم)نہیں چھوڑتا)۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٨؛حدیث نمبر٣٠٩٧)

وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَأَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ أَفْتِلُ قَلَائِدَهَا بِيَدَيَّ، ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ لَا يُمْسِكُ عَنْهُ الْحَلَالُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3097

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں یہ ہار اون سے بِنتی تھی جو ہمارے پاس تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس غیر محرم رہتے اور جس طرح وہ شخص جس نے احرام نہیں باندھا اپنی اہلیہ سے متمتع ہوتا ہے آپ بھی اسی طرح متمتع ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٨؛حدیث نمبر٣٠٩٨)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: «أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا، فَأَصْبَحَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالًا، يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ، أَوْ يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3098

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں دیکھتی ہوں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے لئے ہار بکری کی اون سے بنتی تھی پھر آپ ان(جانوروں)کو بھیجتے اور خود ہمارے درمیان احرام کے بغیر ٹھہرتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٨؛حدیث نمبر٣٠٩٩)

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ، فَيَبْعَثُ بِهِ، ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلَالًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3099

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے جانوروں کے ہار اکثر میں بناتی تھی پھر آپ ان جانوروں کے گلے میں ڈال کر ان کو بھیجتے اور خود ٹھہرتے رہتے اور کسی ایسے کام سے پرہیز نہ کرتے جس سے احرام والا پرہیز کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٨؛حدیث نمبر٣١٠٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ، ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3100

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کی طرف قربانی کے لیے بکریاں بھیجیں تو ان کے گلے میں ہار ڈالا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٨؛حدیث نمبر٣١٠١)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أَهْدَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا، فَقَلَّدَهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3101

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم بکریوں کے گلے میں ہار ڈال کر بھیجتے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احرام کے بغیر ٹھہرتے اور کسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٩؛حدیث نمبر٣١٠٢)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ، فَنُرْسِلُ بِهَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ، لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3102

حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابن زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں لکھا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص قربانی کا جانور(حرم کی طرف)بھیجتا ہے تو اس پر وہ کام حرام ہو جاتے ہیں جو حج کرنے والے پر حرام ہوتے ہیں حتی کہ قربانی کا جانور ذبح کردیا جائے اور میں نے جانور بھیجا ہے تو مجھے اپنی رائے لکھ کر بھیجیں۔ حضرت عمرہ فرماتی ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بات اس طرح نہیں جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہی ہے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لئے اپنے ہاتھ سے ہار بناتی تھی پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے ان کے گلے میں ڈالتے اور پھر ان کو میرے والد کے ہمراہ مکہ مکرمہ بھیجتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے ذبح ہونے تک اپنے اوپر کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٩؛حدیث نمبر٣١٠٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ ابْنَ زِيَادٍ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ، حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْيُ، وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيِي، فَاكْتُبِي إِلَيَّ بِأَمْرِكِ، قَالَتْ عَمْرَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللهُ لَهُ، حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3103

حضرت مسروق فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ پردے کے پیچھے سے دستک دیتے ہوئے فرما رہی تھیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لئے خود اپنے ہاتھ سے ہار بنتی تھی پھر آپ ان کو بھیجتے اور قربانی ذبح ہونے تک کسی ایسے کام سے اجتناب نہ کرتے جس سے محرم اجتناب کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٩؛حدیث نمبر٣١٠٤)

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ تُصَفِّقُ، وَتَقُولُ: «كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ، مِمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ، حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3104

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٣١٠٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لَا يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلَائِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لَا يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ بِذَلِكَ؛جلد٢ص٩٥٩؛حدیث نمبر٣١٠٥)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3105

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے قربانی کے جانور کو ہنکاتا ہوا لے جا رہا ہے آپ نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ قربانی کا جانور ہے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ دوسری یا تیسری بار فرمایا تمہیں خرابی ہو(یہ بدعا نہیں ہے محاورتاً فرمایا) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٠؛حدیث نمبر٣١٠٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: «ارْكَبْهَا»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ، فَقَالَ: «ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ» فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3106

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٠٦ کی مثل مروی ہے اس میں ہے کہ اس اونٹ کے گلے میں ہار تھا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٠؛حدیث نمبر٣١٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكَ، ارْكَبْهَا» فَقَالَ: بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «وَيْلَكَ، ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ، ارْكَبْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3107

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اس دوران کہ ایک شخص اونٹ کو ہنکاتا ہوا لے جا رہا تھا اور اس کے گلے میں ہار تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے لیے خرابی ہو سوار ہوجا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ قربانی کا جانور ہے آپ نے فرمایا تیرے لیے خرابی ہو سوار ہوجا تیرے لیے خرابی ہو سوار ہوجا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٠؛حدیث نمبر٣١٠٨)

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: وَأَظُنُّنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ: «ارْكَبْهَا» فَقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: «ارْكَبْهَا» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3108

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اونٹ کو چلا رہا تھا تو آپ نے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا یہ(قربانی کا)اونٹ ہے آپ نے دو یا تین بار فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٠؛حدیث نمبر٣١٠٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ، فَقَالَ: «ارْكَبْهَا» قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ، فَقَالَ: «وَإِنْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3109

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص اونٹ یا قربانی کا جانور لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ اس نے کہا یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٠؛حدیث نمبر٣١١٠)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ، إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3110

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اونٹ لے کر گزرا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٣١١٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦١؛حدیث نمبر٣١١١)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا، عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ، حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3111

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے قربانی کے جانور پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اس پر مناسب طریقے سے سواری کر سکتے ہو جب تم اس کے لیے مجبور ہو حتیٰ کہ سواری پاؤ۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦١؛حدیث نمبر٣١١٢)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ، إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3112

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اس پر مناسب طریقے سے سوار ہوسکتے ہو حتیٰ کہ سواری پاؤ۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦١؛حدیث نمبر٣١١٣)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا، عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ، حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3113

حضرت موسیٰ بن سلمہ ہزلی فرماتے ہیں میں اور سنان بن سلمہ رضی اللہ عنہ عمرہ کرنے گئے اور حضرت سنان اپنے ساتھ قربانی کا اونٹ بھی لے گئے جسے وہ ہانک رہے تھے راستے میں اونٹ تھک کر ٹھہر گیا تو حضرت سنان پریشان ہو گئے کہ اگر یہ تھک کر ٹھہر گیا تو وہ اس کے ساتھ کیا کریں گے انہوں نے سوچا کہ وہ شہر جاکر اس کے بارے میں مسئلہ معلوم کریں فرماتے ہیں دوپہر کے وقت ہم پہنچے اور بطحاء(وادی)میں اترے تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس چلو تاکہ ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں پھر ان کے پاس جاکر واقعہ بیان کیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے ایک جاننے والے سے سوال کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہمراہ سولہ اونٹ روانہ کئے تھے اور ان کے بارے میں اسے حکم دیا فرماتے ہیں وہ چلا گیا پھر واپس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھک جائے تو میں کیا کروں آپ نے فرمایا اسے ذبح کردو پھر اس کے گلے میں پڑے ہوئے جوتے کو اس کے خون سے رنگ دو اور اس کی کوہان پر مارو اور اس میں سے نہ تم کھاؤ اور نہ تمہارا کوئی ساتھی کھاے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٢؛حدیث نمبر٣١١٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ، مُعْتَمِرَيْنِ قَالَ: وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا، فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ، فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ، يَأْتِي بِهَا فَقَالَ: لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لَأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَضْحَيْتُ، فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قَالَ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ فَقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا، قَالَ: فَمَضَى ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا، قَالَ: «انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3114

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہمراہ اٹھارہ اونٹ بھیجے اس کے بعد حدیث نمبر ٣١١٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦١؛حدیث نمبر٣١١٥)

وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3115

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوقبیصہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ اونٹ بھیجتے پھر فرماتے اگر ان میں سے کوئی تھک جائے اور تمہیں اس کی ہلاکت کا خوف ہو تو اس کو ذبح کردو پھر اس کے جوتے کو اس کے خون میں لت پت کرکے اس کی کوہان پر مارو اور اس میں سے نہ تم کھاؤ اور نہ تمہارا کوئی ساتھی کھاے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا؛جلد٢ص٩٦٣؛حدیث نمبر٣١١٦)

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ ثُمَّ يَقُولُ: «إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ، فَخَشِيتَ عَلَيْهِ مَوْتًا فَانْحَرْهَا، ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا، وَلَا تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3116

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں لوگ حج کے بعد بہر طور واپس جاتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص بیت اللہ شریف کا طواف کئے بغیر نہ جائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٣؛حدیث نمبر٣١١٧)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ»، قَالَ زُهَيْرٌ: يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ، وَلَمْ يَقُلْ: فِي

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3117

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کا آخری عمل بیت اللہ شریف کا طواف ہو البتہ حیض والی عورت کو اس سے مستثنیٰ کیا گیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٣؛حدیث نمبر٣١١٨)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ، إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3118

حضرت طاؤس فرماتے ہیں میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حیض والی عورت طواف وداع کے بغیر جاسکتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ میرے فتویٰ پر یقین نہیں رکھتے تو فلاں انصاریہ(خاتون)سے پوچھیں کہ آیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ نہیں۔ راوی فرماتے ہیں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ہنستے ہوئے لوٹے اور فرمایا مجھے یقین ہے کہ آپ نے سچ فرمایا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٣؛حدیث نمبر٣١١٩)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ. قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: «تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ، قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ»، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِمَّا لَا، فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ، هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَرَجَعَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَضْحَكُ وَهُوَ يَقُولُ: مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3119

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت صفیہ بنت حی کو طواف افاضہ کے بعد حیض آگیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے حیض کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کیا وہ ہمیں روکنے والی ہیں فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!انہوں نے طواف افاضہ کرلیا ہے تو ان کو حیض آیا ہے تو آپ نے فرمایا چلو(یعنی اب کوئی رکاوٹ نہیں) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٤؛حدیث نمبر٣١٢٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَذَكَرْتُ حِيضَتَهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَفَاضَتْ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلْتَنْفِرْ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3120

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو حجۃ الوداع کے موقع پر طواف افاضہ کے بعد حیض آگیا.... آگے حدیث نمبر٣١٢٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٤؛حدیث نمبر٣١٢١)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قَالَتْ: طَمِثَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ طَاهِرًا، بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3121

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آگیا ہے.... آگے حدیث نمبر٣١٢٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٤؛حدیث نمبر٣١٢٢)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ صَفِيَّةَ قَدْ حَاضَتْ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3122

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہمیں خدشہ تھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو طواف افاضہ سے پہلے حیض آجائے گا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ حضرت صفیہ ہمارے لیے رکاوٹ بنیں گی ہم نے عرض کیا کہ وہ طواف اضافہ کر چکی ہیں آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٤؛حدیث نمبر٣١٢٣)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَح، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّا نَتَخَوَّفُ أَنْ تَحِيضَ صَفِيَّةُ قَبْلَ أَنْ تُفِيضَ، قَالَتْ: فَجَاءَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَحَابِسَتُنَا صَفِيَّةُ؟» قُلْنَا: قَدْ أَفَاضَتْ، قَالَ: «فَلَا إِذَنْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3123

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کو حیض آگیا ہے آپ نے فرمایا شاید ان کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا انہوں نے تمہارے ساتھ بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کیا؟سب نے کہا ہاں کیا ہے فرمایا پس چلو۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٥؛حدیث نمبر٣١٢٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا. أَلَمْ تَكُنْ قَدْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «فَاخْرُجْنَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3124

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے وہ ارادہ کیا جو مرد اپنی زوجہ سے کرتا ہے تو بتایا کہ وہ حیض والی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید وہ ہمیں روکنے والی ہیں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ قربانی کے دن طواف زیارت کرچکی ہیں فرمایا اب وہ تمہارے ساتھ جاسکتی ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٥؛حدیث نمبر٣١٢٥)

حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، لَعَلَّهُ قَالَ: عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ بَعْضَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالُوا: إِنَّهَا حَائِضٌ، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «وَإِنَّهَا لَحَابِسَتُنَا؟» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا قَدْ زَارَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: «فَلْتَنْفِرْ مَعَكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3125

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(مکہ مکرمہ سے)واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر غمگین کھڑی ہوگئیں تو آپ نے فرمایا زخمی!سر منڈی!تم ہمیں روکنے والی ہو؟پھر فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کرلیا تھا؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں،فرمایا پس چلو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٥؛حدیث نمبر٣١٢٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ، إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً، فَقَالَ: «عَقْرَى حَلْقَى، إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا» ثُمَّ قَالَ لَهَا: «أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَانْفِرِي»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3126

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٢٥ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں ان کے غمگین ہونے کا ذکر نہیں۔(ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر حیض والی عورت طواف افاضہ(فرض طواف)کر چکی ہو تو طواف وداع اس سے ساقط ہوجائے گا اور وہ اس(آخری)طواف کے بغیر ہی اپنے وطن واپس جا سکتی ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بابُ وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ؛جلد٢ص٩٦٥؛حدیث نمبر٣١٢٧)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَكَمِ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَا يَذْكُرَانِ: كَئِيبَةً حَزِينَةً

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3127

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ،حضرت بلال اور حضرت عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم کعبہ شریف میں داخل ہوئے تو اس کا دروازہ بند کر کے اندر ٹھہر گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب باہر تشریف لائے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(اندر)کیا عمل کیا تھا انہوں نے فرمایا آپ نے دو ستونوں کو بائیں جانب،ایک ستون کو اپنی دائیں جانب اور تین ستون کو اپنے پیچھے رکھا اور ان دنوں بیت اللہ شریف چھ ستونوں پر تھا،پھر آپ نے نماز پڑھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛ترجمہ؛حجاج وغیرہ کا کعبۃ اللہ میں داخل ہونا اور نماز پڑھنا؛جلد٢ص٩٦٥؛حدیث نمبر٣١٢٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ، فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ مَكَثَ فِيهَا. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا، حِينَ خَرَجَ: مَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «جَعَلَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ، وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ، وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ - وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ - ثُمَّ صَلَّى»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3128

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن تشریف لائے اور کعبہ شریف کے صحن میں اترے تو حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا وہ چابی لے کر آئے اور دروازہ کھولا،فرماتے ہیں پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت بلال،حضرت اسامہ بن زید اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم داخل ہوئے اور آپ کے حکم سے دروازہ بند کردیا گیا وہاں کچھ دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھولا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں جھپٹ کر سب لوگوں سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا کہاں؟فرمایا اپنے سامنے کے دو ستونوں کے درمیان،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں یہ بات پوچھنا بھول گیا کہ کتنی رکعات پڑھی ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٦؛حدیث نمبر٣١٢٩)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَنَزَلَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، وَأَرْسَلَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ، فَجَاءَ بِالْمِفْتَحِ، فَفَتَحَ الْبَابَ، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَأَمَرَ بِالْبَابِ فَأُغْلِقَ، فَلَبِثُوا فِيهِ مَلِيًّا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَتَلَقَّيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا وَبِلَالٌ عَلَى إِثْرِهِ، فَقُلْتُ لِبِلَالٍ: «هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: «أَيْنَ؟» قَالَ: «بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ»، قَالَ: " وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ: كَمْ صَلَّى؟ ".

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3129

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی سواری پر سوار ہوکر تشریف لائے حتیٰ کہ اسے بیت اللہ شریف کے صحن میں بٹھایا پھر حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلوایااور فرمایا چابی مجھے دو۔ وہ اپنی ماں کے پاس گئے تو اس نے دینے سے انکار کردیا انہوں نے کہا اللہ کی قسم یا تم چابی دو گی یا میں اپنی تلوار میان سے نکال لوں گا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس نے چابی دے دی اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے اور آپ کو دے دی اور آپ نے دروازہ کھولا پھر حدیث نمبر ٣١٢٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٦؛حدیث نمبر٣١٣٠)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ، فَقَالَ: «ائْتِنِي بِالْمِفْتَاحِ»، فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ، فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ، فَقَالَ: وَاللهِ، لَتُعْطِينِهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي، قَالَ: فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ، فَفَتَحَ الْبَابَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3130

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت اسامہ،حضرت بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بھی تھے انہوں نے دیر تک دروازہ بند رکھا پھر کھول دیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے پہلے میں داخل ہوا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرکے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟انہوں نے فرمایا اگلے دو ستونوں کے درمیان لیکن میں یہ بات پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعات پڑھی تھیں۔؟ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٧؛حدیث نمبر٣١٣١)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، وَمَعَهُ أُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، فَأَجَافُوا عَلَيْهِمِ الْبَابَ طَوِيلًا، ثُمَّ فُتِحَ، فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ»، فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ: كَمْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3131

حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ کعبہ شریف تک پہنچ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت بلال اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہم بھی اندر داخل ہوئے تھے اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کردیا فرماتے ہیں وہ کچھ دیر وہاں ٹھہرے پھر دروازہ کھولا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں سیڑھیاں چڑھ کر بیت اللہ شریف میں داخل ہوا اور میں نے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی تھی۔؟ انہوں نے فرمایا یہاں،اور میں یہ بات پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعات پڑھی ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٧؛حدیث نمبر٣١٣٢)

وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ، وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَابَ، قَالَ: فَمَكَثُوا فِيهِ مَلِيًّا، ثُمَّ فُتِحَ الْبَابُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَقِيتُ الدَّرَجَةَ، فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: «هَا هُنَا»، قَالَ: وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ: كَمْ صَلَّى؟

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3132

حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت اسامہ بن زید،حضرت بلال اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے اور انہوں نے دروازہ بند کردیا جب دروازہ کھولا تو سب سے پہلے میں داخل ہوا اور میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی ہے؟انہوں نے فرمایا جی ہاں آپ نےدو یمنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٧؛حدیث نمبر٣١٣٣)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْح، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ وَلَجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا، فَسَأَلْتُهُ: هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، «صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3133

حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ،حضرت اسامہ بن زید،حضرت بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم کعبہ شریف میں داخل ہوئے اور ان حضرات کے ساتھ کوئی اور داخل نہیں ہوا پھر ان پر دروازہ بند کردیا گیا۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے یا حضرت عثمان بن طلحہ نے مجھے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف کے درمیان دو یمنی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٧؛حدیث نمبر٣١٣٤)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَلَمْ يَدْخُلْهَا مَعَهُمْ أَحَدٌ، ثُمَّ أُغْلِقَتْ عَلَيْهِمْ» قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: فَأَخْبَرَنِي بِلَالٌ، أَوْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3134

حضرت ابن جریج فرماتے ہیں میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا کہ تمہیں طواف کا حکم دیا گیا لیکن کعبہ شریف میں داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا انہوں نے فرمایا اس میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے ان سے سنا وہ فرماتے تھے مجھے حضرت اسامہ بن زید نے خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کے تمام کونوں میں دعا مانگی اور نماز نہیں پڑھی جب باہر تشریف لائے تو بیت اللہ شریف کی طرف رخ کر کے دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا یہ قبلہ ہے۔ راوی فرماتے ہیں میں نے پوچھا نواحی سے کیا مراد ہے کیا کونے مراد ہیں فرمایا نہیں بلکہ بیت اللہ شریف کی ہر جانب قبلہ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٨؛حدیث نمبر٣١٣٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ بَكْرٍ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ، دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِي قُبُلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ «هَذِهِ الْقِبْلَةُ»، قُلْتُ لَهُ: مَا نَوَاحِيهَا؟ أَفِي زَوَايَاهَا؟ قَالَ: بَلْ فِي كُلِّ قِبْلَةٍ مِنَ الْبَيْتِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3135

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں داخل ہوئے اور اس میں چھ ستون تھے آپ ایک ستون کے پاس کھڑے ہوئے اور دعا مانگی لیکن نماز نہیں پڑھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٨؛حدیث نمبر٣١٣٦)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ، فَقَامَ عِنْدَ سَارِيَةٍ فَدَعَا، وَلَمْ يُصَلِّ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3136

حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں میں نے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرہ کے موقع پر بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے؟انہوں نے فرمایا نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا؛جلد٢ص٩٦٨؛حدیث نمبر٣١٣٧)

وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ؟ قَالَ: «لَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3137

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اگر تمہاری قوم نے کفر کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا تو میں کعبہ شریف کو گرا کر اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قائم کردہ بنیادوں پر کردیتا کیوں کہ قریش نے کعبہ شریف کی تعمیر کرتے ہوئے کچھ حصہ چھوڑ دیا اور میں اس کی پچھلی جانب دروازہ بناتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب نقض الکعبۃ وبنائھا؛جلد٢ص٩٦٨؛حدیث نمبر٣١٣٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ، وَلَجَعَلْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ، فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتِ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3138

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٣٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٦٨؛حدیث نمبر٣١٣٩)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3139

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتی کہ تمہاری قوم نے خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے ہوئے اسے ابراہیمی بنیادوں سے چھوٹا بنا دیا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا آپ ابراهيمی بنیادوں پر لوٹا نہیں دیتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا(تو میں ایسا کرتا)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر(حطیم)سے ملے ہوئے دو کونوں کی تعظیم اسی لئے چھوڑی کہ یہ ابراہیمی بنیادوں پر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٦٩؛حدیث نمبر٣١٤٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ» قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْتُ»، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: «لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أُرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3140

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا دور جاہلیت قریب نہ ہوتا یا فرمایا کفر کا زمانہ قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کا خزانہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں دے دیتا اس کا دروازہ زمین سے ملا دیتا اور حطیم کو کعبہ شریف میں داخل کردیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٦٩؛حدیث نمبر٣١٤١)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ - أَوْ قَالَ: بِكُفْرٍ - لَأَنْفَقْتُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالْأَرْضِ، وَلَأَدْخَلْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3141

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!اگر تمہاری قوم کا زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتا تو میں کعبۃ اللہ کو گرا کر اسے زمین سے ملا دیتا اور اس کے دروازے بناتا ایک مشرقی دروازہ اور دوسرا مغربی دروازہ، اور میں اس میں حطیم سے چھ گز داخل کرتا کیونکہ قریش نے کعبہ شریف کی تعمیر کے وقت اسے کم کردیا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٦٩؛حدیث نمبر٣١٤٢)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي، يَعْنِي عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ، لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْكٍ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ: بَابًا شَرْقِيًّا، وَبَابًا غَرْبِيًّا، وَزِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حَيْثُ بَنَتِ الْكَعْبَةَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3142

حضرت عطاء فرماتے ہیں جب یزید بن معاویہ کے زمانے میں بیت اللہ شریف اہل شام کی یہاں جنگ کی وجہ سے جل گیا اور اس کا وہ حال ہوا جو ہونا تھا تو حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے اسی حالت پر چھوڑ دیا حتیٰ کہ لوگ حج کے موسم میں آے۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا ارادہ تھا کہ لوگوں کو اہل شام کے خلاف برانگیختہ کریں یا ان کے خلاف اشتعال دلائیں۔ جب لوگ واپس ہونے لگے تو انہوں نے فرمایا اے لوگو!مجھے کعبہ شریف کے بارے میں مشورہ دو میں اسے توڑ کر نئے سرے سے بناؤں یا اس کو مرمت وغیرہ کرکے ٹھیک کردوں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری رائے جو مجھ پر منکشف ہوتی ہے یہ ہے کہ آپ اس کی اصلاح ومرمت کردیں اور اس کو اسی حالت پر چھوڑ دیں جس طرح اسلام کے ابتدائی دور میں تھا اور انہی پتھروں کو رہنے دیں جو لوگوں کے اسلام لانے کے وقت تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تھی۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جائے تو وہ جب تک نئے سرے سے نہ بنائے راضی نہیں ہوتا رب کا گھر کیوں نہ نیا بنایا جائے میں تین بار استخارہ کرنے کے بعد اپنے ارادے کو پکا کروں گا جب تین بار استخارہ کر لیا تو انہوں نے اس کو توڑنے کا ارادہ کر لیا لوگوں کو ڈر ہوا کہ جو شخص توڑنے کے لئے پہلے اس پر چڑھے گا اس پر آسمان سے بلا نازل نہ ہو جائے۔ حتیٰ کہ ایک شخص اوپر چڑھا اور اس نے اس سے ایک پتھر نیچے پھینکا جب لوگوں نے دیکھا کہ کوئی آفت نہیں پہنچی تو وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے گئے چنانچہ انہوں نے اسے زمین تک توڑ دیا حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ستون کھڑے کرکے ان پر پردے ڈال دئے حتیٰ کہ اس کی دیواریں بلند ہوگئیں۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کا زمانہ کفر قریب نہ ہوتا اور میرے پاس خرچہ بھی نہیں جس سے میں اس کی تعمیر کرسکوں ورنہ میں حطیم سے پانچ گز اس میں داخل کردیتا اور میں اس میں ایک دروازہ لوگوں کے داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ ان کے نکلنے کے لیے بناتا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آج میرے پاس خرچہ ہے اور مجھے لوگوں کا ڈر بھی نہیں ہے چنانچہ انہوں نے حطیم سے پانچ گز جگہ اس میں داخل کردی حتیٰ کہ اس جگہ بناے ابراہیمی ظاہر ہوگئی اور لوگوں نے اسے دیکھا انہوں نے اسے اس بنیاد پر تعمیر کیا خانہ کعبہ کی لمبائی اٹھارہ گز(ہاتھ)تھی جب اس میں اضافہ کیا تو لمبائی کم نظر آنے لگی پس لمبائی میں دس ہاتھ کا اضافہ کیا اور اس کے دروازے بناے ایک داخل اور دوسرا نکلنے کے لیے۔جب حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تو حجاج نے عبد الملک بن مروان کو خط لکھ کر اس بات کی خبر دی اور یہ بات بھی بتائی کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے بناے ابراہیمی پر بنیاد رکھی ہے اور اسے اہل مکہ کے معتبر(عادل)لوگوں نے دیکھا ہے۔ عبد الملک نے اس کی طرف لکھا ہمیں حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے تغیر وتبدل سے کوئی غرض نہیں انہوں نے لمبائی میں جو اضافہ کیا ہے اسے برقرار رکھواور جو کچھ حطیم سے اس میں ڈالا ہے اسکو پہلی بنیاد پر قائم کرو اور انہوں نے جو دروازہ کھولا ہے اسے بھی بند کر دو چنانچہ اس نے خانہ کعبہ کو شہید کرکے پہلے کی طرح بنادیا (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٧٠؛حدیث نمبر٣١٤٣)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ، تَرَكَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ - أَوْ يُحَرِّبَهُمْ - عَلَى أَهْلِ الشَّامِ، فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي الْكَعْبَةِ، أَنْقُضُهَا ثُمَّ أَبْنِي بِنَاءَهَا؟ أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنِّي قَدْ فُرِقَ لِي رَأْيٌ فِيهَا، أَرَى أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَى مِنْهَا، وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا، وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: " لَوْ كَانَ أَحَدُكُمُ احْتَرَقَ بَيْتُهُ، مَا رَضِيَ حَتَّى يُجِدَّهُ، فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ؟ إِنِّي مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلَاثًا، ثُمَّ عَازِمٌ عَلَى أَمْرِي، فَلَمَّا مَضَى الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُضَهَا، فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ، حَتَّى صَعِدَهُ رَجُلٌ، فَأَلْقَى مِنْهُ حِجَارَةً، فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَتَابَعُوا فَنَقَضُوهُ حَتَّى بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ، فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً، فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّى ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ، وَلَيْسَ عِنْدِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ، لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ، وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ»، قَالَ: «فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ، وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ»، قَالَ: " فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ حَتَّى أَبْدَى أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَبَنَى عَلَيْهِ الْبِنَاءَ وَكَانَ طُولُ الْكَعْبَةِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ، فَزَادَ فِي طُولِهِ عَشْرَ أَذْرُعٍ، وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ: أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ، وَالْآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ ". فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ كَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَاءَ عَلَى أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ: إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي شَيْءٍ، أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقِرَّهُ، وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَى بِنَائِهِ، وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ، فَنَقَضَهُ وَأَعَادَهُ إِلَى بِنَائِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3143

حضرت عبداللہ بن عبید فرماتے ہیں کہ حارث بن عبداللہ،عبد الملک بن مروان کی خلافت کے دوران اس کے پاس وفد لے کر گئے۔ تو عبدالملک نے کہا میرا خیال نہیں کہ ابو خبیب یعنی حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ بات سنی ہے جس کا وہ دعوا کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے سنا ہے حضرت حارث نے فرمایا ہاں میں نے بھی ام المؤمنين سے سنا ہے اس نے پوچھا آپ نے کیا سنا بتائیے انہوں نے فرمایا کہ ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری قوم نے بیت اللہ شریف میں کمی کردی اگر تمہاری قوم کا زمانہ شرک قریب نہ ہوتا تو انہوں نے جو کچھ چھوڑا ہے میں اسے دوبارہ شامل کر لیتا اگر میرے بعد تمہاری قوم اسے بنانا چاہے تو آؤ میں تمہیں دکھاؤں کہ انہوں نے اس تعمیر سے کیا چھوڑا ہے تو آپ نے ان کو سات ہاتھ(شرعی گز)کے قریب دکھایا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٧١؛حدیث نمبر٣١٤٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ، يُحَدِّثَانِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدٍ: وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ فِي خِلَافَتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ، سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ: بَلَى أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَلَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ، أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي لِأُرِيَكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ»، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ، هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا، وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا؟»، قَالَتْ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: «تَعَزُّزًا أَنْ لَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ أَرَادُوا، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدَعُونَهُ يَرْتَقِي، حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ»، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ، لِلْحَارِثِ: أَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَكَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3144

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٤٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٧٢؛حدیث نمبر٣١٤٥)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ بَكْرٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3145

حضرت ابوقزعہ کا بیان ہے کہ عبد الملک بن مروان بیت اللہ شریف کا طواف کر رہا تھا کہ اس نے کہا اللہ تعالیٰ(حضرت)ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو ہلاک کرے انہوں نے ام المومنین پر جھوٹ باندھا کہ انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر قریب نہ ہوتا تو میں بیت اللہ شریف کو شہید کرکے اس میں حطیم میں سے اضافہ کردیتا تمہاری قوم نے تعمیر کو چھوٹا کردیا۔ حارث بن عبداللہ بن ربیعہ نے کہا امیر المومنین ایسا نہ کہو میں نے خود ام المومنین کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ عبد الملک نے کہا اگر میں بیت اللہ شریف کو شہید کرنے سے پہلے یہ بات سنتا تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیر کو قائم رکھتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا؛جلد٢ص٩٧٢؛حدیث نمبر٣١٤٦)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ: قَاتَلَ اللهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، يَقُولُ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَا عَائِشَةُ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَاءِ»، فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ: لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا قَالَ: لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ، لَتَرَكْتُهُ عَلَى مَا بَنَى ابْنُ الزُّبَيْرِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3146

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حطیم کی دیوار بیت اللہ شریف میں شامل ہے آپ نے فرمایا ہاں۔میں نے پوچھا کہ ان(قریش)نے اس کو بیت اللہ شریف میں شامل کیوں نہیں کیا؟آپ نے فرمایا تمہاری قوم کے پاس خرچہ کم تھا میں نے پوچھا اس کا دروازہ کیوں اونچا رکھا آپ نے فرمایا تمہاری قوم نے یہ کام اس لیے کیا کہ وہ جسے چاہے داخل ہونے کی اجازت دیں اور جس کو چاہے روک دیں۔اگر تمہاری قوم کا دور جہالت قریب قریب نہ گزرا ہوتا اور مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ وہ اس کو ناپسند کریں گے تو میں حطیم کی دیواروں کو کعبہ شریف میں داخل کردیتا اور اسکے دروازے کو زمین سے ملا دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَدْرِ الْكَعْبَةِ وَبَابِهَا؛جلد٢ص٩٧٣؛حدیث نمبر٣١٤٧)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَلِمَ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ؟ قَالَ: «إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمِ النَّفَقَةُ»، قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا؟ قَالَ: «فَعَلَ ذَلِكِ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا، وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ، لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ، وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3147

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے بارے میں پوچھا...... اس کے بعد حدیث نمبر ٣١٤٧ کی مثل مروی ہے اس میں یہ بھی پوچھا اس کا دروازہ اونچا کیوں ہے کہ سیڑھی کے بغیر نہیں چڑھ سکتے آپ نے جواب دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ مجھے ان کے دلوں کے متنفر ہونے کا ڈر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَدْرِ الْكَعْبَةِ وَبَابِهَا؛جلد٢ص٩٧٣؛حدیث نمبر٣١٤٨)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجْرِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَقَالَ فِيهِ: فَقُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا، لَا يُصْعَدُ إِلَيْهِ إِلَّا بِسُلَّمٍ، وَقَالَ: «مَخَافَةَ أَنْ تَنْفِرَ قُلُوبُهُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3148

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے کہ خشعم قبیلے کی ایک عورت حاضر ہوئی آپ سے مسئلہ پوچھنے لگی حضرت فضل رضی اللہ عنہ اس کی طرف اور وہ ان کی طرف دیکھنے لگی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فضل رضی اللہ عنہ کے چہرے کو دوسری طرف پھیرنے لگے اس عورت نے پوچھا یا رسول اللہ!اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے اور میرا باپ بہت بوڑھا ہوچکا ہے وہ سواری پر ٹھہر نہیں سکتا تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟آپ نے فرمایا ہاں(حج کرو)اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْعَاجِزِ لِزَمَانَةٍ وَهَرَمٍ وَنَحْوِهِمَا، أَوْ لِلْمَوْتِ؛جلد٢ص٩٧٣؛حدیث نمبر٣١٤٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3149

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خشعم قبیلے کی ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرا باپ بہت بوڑھا ہے اور اس پر اللہ کا فریضہ حج واجب ہوچکا ہے جب کہ وہ اپنے اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ نہیں سکتا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی طرف سے حج کرو۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْعَاجِزِ لِزَمَانَةٍ وَهَرَمٍ وَنَحْوِهِمَا، أَوْ لِلْمَوْتِ؛جلد٢ص٩٧٤؛حدیث نمبر٣١٥٠)

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، عَلَيْهِ فَرِيضَةُ اللهِ فِي الْحَجِّ، وَهُوَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَحُجِّي عَنْهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3150

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام روحاء میں کچھ سواروں نے ملاقات کی تو آپ نے پوچھا تم کون ہو؟انہوں نے عرض کیا ہم مسلمان ہیں انہوں نے کہا آپ کون ہیں؟آپ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں۔ تو ایک خاتون نے بچے کو اٹھا کر پوچھا کیا اس کا حج ہوجائے گا؟فرمایا ہاں اور تمہارے لیے اجر ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ؛ترجمہ؛بچے کے حج کا صحیح ہونا؛جلد٢ص٩٧٤؛حدیث نمبر٣١٥١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ، فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، فَقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: «رَسُولُ اللهِ»، فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا، فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3151

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو اٹھا کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا اس کا حج بھی ہے،فرمایا ہاں اور تمہارے لئے اجر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ؛جلد٢ص٩٧٤؛حدیث نمبر٣١٥٢)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3152

حضرت کریب فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے بچہ اٹھایا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا اس کا حج بھی ہے؟فرمایا ہاں اور تمہارے لئے ثواب ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ؛جلد٢ص٩٧٤؛حدیث نمبر٣١٥٣)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3153

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٥٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ؛جلد٢ص٩٧٤؛حدیث نمبر٣١٥٤)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3154

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگو!تحقیق کہ تم پر حج فرض ہوگیا ہے پس حج کرو ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہر سال(فرض ہے)آپ خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے تین مرتبہ پوچھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ہاں کہ دیتا تو(ہر سال)فرض ہوجاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے پھر فرمایا جن باتوں کو میں چھوڑ دوں تم بھی چھوڑ دیا کرو(سوال نہ کیا کرو)بےشک تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور(پھر)اپنے انبیاء کرام سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے پس جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اس پر عمل کرو جس قدر طاقت ہو اور جس کام سے میں روک دوں اس سے رک جاؤ۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَرْضِ الْحَجِّ مَرَّةً فِي الْعُمُرِ؛ترجمہ؛زندگی میں حج ایک بار فرض ہوتا ہے؛جلد٢ص٩٧٥؛حدیث نمبر٣١٥٥)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ، فَحُجُّوا»، فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ، وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ "، ثُمَّ قَالَ: «ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3155

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛ترجمہ؛عورت کا محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنا؛جلد٢ص٩٧٥؛حدیث نمبر٣١٥٦)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3156

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٥٦ کی مثل مروی ہے اس میں بھی محرم کے ساتھ تین دن کے سفر کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٥؛حدیث نمبر٣١٥٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: فَوْقَ ثَلَاثٍ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ أَبِيهِ: «ثَلَاثَةً إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3157

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین راتوں(دن رات)کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٥؛حدیث نمبر٣١٥٨)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ، تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3158

حضرت قزعہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث سنی تو وہ مجھے بہت پسند آئی حضرت قزعہ فرماتے ہیں میں نے پوچھا کیا آپ نے یہ حدیث خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟انہوں نے فرمایا کیا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرتا ہوں جو میں نے آپ سے سنی نہ ہو۔فرماتے ہیں میں نے آپ سے سنا آپ نے فرمایا"تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی طرف(زیادہ ثواب کی نیت سے)سفر نہ کیا جائے میری مسجد،مسجد حرام اور مسجد اقصٰی۔اور میں نے آپ کو یہ بات فرماتے بھی سنا کہ کوئی عورت دو دن کا سفر کسی محرم یا خاوند کے بغیر نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٥؛حدیث نمبر٣١٥٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى " وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ يَوْمَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا، أَوْ زَوْجُهَا»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3159

حضرت قزعہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں سنی ہیں جو مجھے بہت پسند ہیں اور مجھے ان پر بہت یقین ہے آپ نے عورت کو منع کیا کہ وہ دو دن کا سفر خاوند یا محرم کے بغیر نہ کرے باقی حدیث حدیث نمبر ٣١٥٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٦؛حدیث نمبر٣١٦٠)

وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَزَعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا فَأَعْجَبْنَنِي وَآنَقْنَنِي، نَهَى أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ، إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ وَاقْتَصَّ بَاقِيَ الْحَدِيثِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3160

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٦؛حدیث نمبر٣١٦١)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3161

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین راتوں سے زیادہ کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٦؛حدیث نمبر٣١٦٢)

وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُسَافِرِ امْرَأَةٌ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3162

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن سے زائد کا سفر کسی محرم کے بغیر نہ کرے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٦؛حدیث نمبر٣١٦٣)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3163

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں کہ ایک رات کا سفر کرے مگر اس حالت میں(جائز ہے)کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم مرد ہو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٦؛حدیث نمبر٣١٦٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3164

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ ایک دن کا سفر(بھی)کسی محرم کے بغیر کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٧؛حدیث نمبر٣١٦٥)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3165

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ ایک دن رات کا سفر کسی محرم کے بغیر کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٧؛حدیث نمبر٣١٦٦)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ عَلَيْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3166

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن کی مسافت کا سفر کسی محرم کے بغیر کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٧؛حدیث نمبر٣١٦٧)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِح، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُسَافِرَ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3167

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زائد(مسافت)کا سفر کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ باپ یا بیٹا یا خاوند یا بھائی یا کوئی بھی محرم ہو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٧؛حدیث نمبر٣١٦٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِح، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا يَكُونُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا، إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوهَا، أَوِ ابْنُهَا، أَوْ زَوْجُهَا، أَوْ أَخُوهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3168

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٦٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٧؛حدیث نمبر٣١٦٩)

وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3169

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ علیحدگی میں نہ ہو مگر یہ کہ اس عورت کے ساتھ اس کا محرم ہو اور کوئی عورت اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری بیوی حج کے لیے جارہی ہے اور فلاں فلاں جہاد میں میرا نام لکھا ہوا ہے آپ نے فرمایا اپنی بیوی کے ساتھ جاؤ اور حج کرو ۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٨؛حدیث نمبر٣١٧٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ: «لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ، وَلَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ»، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً، وَإِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: «انْطَلِقْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3170

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٧٠کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٨؛حدیث نمبر٣١٧١)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3171

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٧١ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ نہیں کہ کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٨؛حدیث نمبر٣١٧٢)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: «لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3172

حضرت علی ازدی فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سکھایا کہ جب اونٹ پر بیٹھ کر سفر کے لیے نکل پڑے تو تین بار"اللہ اکبر"کہنے کے بعد یہ کلمات پڑھیں(آیت کریمہ)«سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ" " وہ ذات پاک ہے جس نے ہمارے لئے اس(سواری)کو مسخر کردیا ہم اس کو مسخر کرنے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں" (پھر یہ دعا) اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ»، "یا اللہ!ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور اس عمل کا سوال کرتے ہیں،جس پر تو راضی ہو یا اللہ!تو ہم پر یہ سفر آسان کر دے اور اس کی مسافت کو ہمارے لیے لپیٹ دے یا اللہ!اس سفر میں تو ہمارا رفیق اور گھر میں نگہبان ہے یااللہ!ہم سفر کی مشقت اور اہل و مال میں برے منظر سے تیری پناہ چاہتے ہیں" اور جب واپس لوٹے تو یہی کلمات کہے اور ان میں یہ اضافہ کرے «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» " ہم لوٹنے والے ہیں،توبہ کرنے،عبادت کرنے والے اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں"۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ إِلَى سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛ترجمہ؛حج وغیرہ کا سفر کرنے کے لئے سوار ہو تو کیا پڑھے؛جلد٢ص٩٧٨؛حدیث نمبر٣١٧٣)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُمْ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ، كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ»، وَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3173

حضرت عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو سفر کی شدت و مشقت اور بری چیزیں دیکھنے سے،برے انجام سے،مظلوم کی بدعا سے اور اہل و مال میں برے انجام سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ إِلَى سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٩؛حدیث نمبر٣١٧٤)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3174

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٧٤ کی مثل مروی ہے البتہ کچھ الفاظ کا تغیر و تبدل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ إِلَى سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٧٩؛حدیث نمبر٣١٧٥)

وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ: فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ خَازِمٍ، قَالَ: يَبْدَأُ بِالْأَهْلِ إِذَا رَجَعَ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا جَمِيعًا: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3175

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر،جہاد،حج یا عمرہ سے واپس تشریف لائے یا جب کسی ٹیلے یا ہموار میدان میں تشریف لاتے تو تین بار"اللہ اکبر"کہتے پھر یہ کلمات پڑھتے:«لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» "اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے وہی تعریف کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں عبادت کرنے والے،سجدہ کرنے والے اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا،اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا تمام لشکروں کو بھگا دیا۔ "(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛حج وغیرہ کے سفر سے واپسی پر پڑھی جانے والی دعائیں؛جلد٢ص٩٨٠؛حدیث نمبر٣١٧٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْجُيُوشِ، أَوِ السَّرَايَا، أَوِ الْحَجِّ، أَوِ الْعُمْرَةِ، إِذَا أَوْفَى عَلَى ثَنِيَّةٍ أَوْ فَدْفَدٍ، كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3176

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣١٧٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٨٠؛حدیث نمبر٣١٧٧)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، إِلَّا حَدِيثَ أَيُّوبَ، فَإِنَّ فِيهِ التَّكْبِيرَ مَرَّتَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3177

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آرہے تھے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے آپ کی اونٹنی پر تھیں حتیٰ کہ جب ہم ظہر المدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: "ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں" آپ یہ کلمات مسلسل کہتے رہے حتیٰ کہ ہم مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٨٠؛حدیث نمبر٣١٧٨)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ، وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَى نَاقَتِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ»، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3178

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣١٧٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرِ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ؛جلد٢ص٩٨٠؛حدیث نمبر٣١٧٩)

وحدثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3179

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی کنکریلی زمین میں اپنا اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی۔راوی فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اس طرح کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّعْرِيسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ؛حج یا عمرہ سے واپسی پر رات کے آخری حصے میں ذوالحلیفہ میں اترنا اور نماز پڑھنا؛جلد٢ص٩٨١؛حدیث نمبر٣١٨٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَصَلَّى بِهَا»، «وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3180

حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ذوالحلیفہ کی پتھریلی زمین میں اونٹ بٹھاتے تھے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا اونٹ بٹھاتے اور وہاں نماز پڑھتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّعْرِيسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٨١؛حدیث نمبر٣١٨١)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: «كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُنِيخُ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنِيخُ بِهَا، وَيُصَلِّي بِهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3181

حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ابن عمر رضی اللہ عنہ حج اور عمرہ سے واپسی پر ذوالحلیفہ کی کنکریلی جگہ پر اونٹ بٹھاتے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ بٹھایا کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّعْرِيسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٨١؛حدیث نمبر٣١٨٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي أَبَا ضَمْرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، «كَانَ إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ، أَوِ الْعُمْرَةِ، أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، الَّتِي كَانَ يُنِيخُ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3182

حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر)رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں ذوالحلیفہ میں پہنچ گئے تو آپ سے عرض کیا گیا کہ یہ بطحاء مبارکہ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّعْرِيسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٨١؛حدیث نمبر٣١٨٣)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مُعَرَّسِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3183

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک فرشتہ آیا جب آپ رات کے پچھلے حصے میں وادی کے دامن میں ذوالحلیفہ میں اترے تو آپ سے کہا گیا کہ یہ بطحاء مبارکہ ہے۔ حضرت موسیٰ بن عقبہ(راوی)فرماتے ہیں کہ حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مسجد کے پاس اس جگہ اونٹ بٹھایا جہاں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اونٹ بٹھاتے تھے اور وہ اس جگہ کو تلاش کرتے تھے جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اترے تھے اور یہ مقام وادی کے دامن میں مسجد کی نچلی جانب ہے اور یہ مسجد اور قبلہ کے درمیان ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّعْرِيسِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ؛جلد٢ص٩٨١؛حدیث نمبر٣١٨٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسِهِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي، فَقِيلَ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ "، قَالَ مُوسَى: وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ بِالْمُنَاخِ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللهِ يُنِيخُ بِهِ، يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3184

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حجۃ الوداع سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حج کا امیر بنایا تھا اس حج کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے قربانی کے دن ایک جماعت کے ساتھ یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی شخص برہنہ ہوکر طواف کرے۔ حمید بن عبدالرحمن،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے پیش نظر کہتے تھے کہ یوم نحر ہی یوم حج اکبر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ لَا يَحُجُّ الْبَيْتَ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَبَيَانُ يَوْمِ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ؛جلد٢ص٩٨٢؛حدیث نمبر٣١٨٥)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فِي رَهْطٍ، يُؤَذِّنُونَ فِي النَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ: «لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ»، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ يَوْمُ النَّحْرِ: يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3185

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یوم عرفہ سے زیادہ کسی دن بندوں کو دوزخ سے آزاد نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بندوں سے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور فرماتا ہے یہ بندے کس ارادے سے آے ہیں۔(ذوالحجہ کی نو تاریخ یوم عرفہ ہے) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَةَ؛ترجمہ؛یوم عرفہ کی فضیلت؛جلد٢ص٩٨٢؛حدیث نمبر٣١٨٦)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ: عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ، مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمِ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3186

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمرہ سے عمرہ تک درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مقبول کی جزا جنت ہی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَة؛جلد٢ص٩٨٣؛حدیث نمبر٣١٨٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3187

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣١٨٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَة؛جلد٢ص٩٨٣؛حدیث نمبر٣١٨٨)

وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ح، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3188

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص بیت اللہ شریف آے اور وہ بیہودہ باتیں اور گناہ نہ کرے وہ اس طرح واپس ہوتا ہے جیسے وہ آج ہی اپنی ماں سے پیدا ہوا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَة؛جلد٢ص٩٨٣؛حدیث نمبر٣١٨٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3189

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٨٩ کی مثل مروی ہے اور اس میں بھی یہ الفاظ ہیں کہ جس نے حج کیا اور کوئی بیہودہ بات اور گناہ نہ کیا ۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَة؛جلد٢ص٩٨٤؛حدیث نمبر٣١٩٠)

وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، وَأَبِي الْأَحْوَصِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا: «مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3190

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣١٨٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَيَوْمِ عَرَفَة؛جلد٢ص٩٨٤؛حدیث نمبر٣١٩١)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3191

حضرت اسامہ بن زید بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ مکہ مکرمہ میں اپنے گھر میں اتریں گے؟آپ نے فرمایا کیا عقیل نے مکہ مکرمہ میں ہمارا کوئی مکان یا زمین چھوڑی ہے عقیل اور طالب،ابوطالب کے وارث ہوئے تھے حضرت جعفر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کو ان کے ترکہ سے کچھ نہ ملا اس لئے کہ وہ دونوں مسلمان تھے جب کہ عقیل اور طالب کافر تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ النُّزُولِ بِمَكَّةَ لِلْحَاجِ، وَتَوْرِيثِ دُورِهَا؛ترجمہ؛حجاج کا مکہ مکرمہ میں اترنا اور مکہ مکرمہ کے گھروں کی وراثت؛جلد٢ص٩٨٤؛حدیث نمبر٣١٩٢)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ؟ فَقَالَ «وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ، أَوْ دُورٍ»، «وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ، وَلَا عَلِيٌّ شَيْئًا لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3192

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کل آپ کہاں اتریں گے اور یہ حجۃ الوداع کی بات ہے جب ہم مکہ مکرمہ کے قریب پہنچے،آپ نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی گھر چھوڑا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ النُّزُولِ بِمَكَّةَ لِلْحَاجِ، وَتَوْرِيثِ دُورِهَا؛جلد٢ص٩٨٤؛حدیث نمبر٣١٩٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا؟ وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ حِينَ دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، فَقَالَ: «وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3193

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ان شاء الله!کل آپ کہاں اتریں گے؟اور یہ فتح مکہ کا زمانہ تھا آپ نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے مکان چھوڑا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ النُّزُولِ بِمَكَّةَ لِلْحَاجِ، وَتَوْرِيثِ دُورِهَا؛جلد٢ص٩٨٤؛حدیث نمبر٣١٩٤)

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِح قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ؟ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْحِ، قَالَ: «وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3194

حضرت عبد الرحمن بن حمید فرماتے ہیں انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے سنا وہ حضرت سائب بن یزید(رضی اللہ عنہ)سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ نے مکہ مکرمہ میں اقامت اختیار کرنے کے بارے میں کچھ سنا ہے حضرت سائب نے فرمایا میں نے حضرت علاء بن حضرمی سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مہاجر منی سے لوٹنے کے بعد تین دن مکہ مکرمہ میں رہ سکتا ہے گویا آپ نے فرمایا زیادہ دن قیام نہ کرے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بِلَا زِيَادَةٍ؛جلد٢ص٩٨٥؛حدیث نمبر٣١٩٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ فَقَالَ السَّائِبُ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لِلْمُهَاجِرِ إِقَامَةُ ثَلَاثٍ بَعْدَ الصَّدَرِ بِمَكَّةَ»، «كَأَنَّهُ يَقُولُ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3195

حضرت عبدالرحمن بن حمید فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے سنا وہ اپنے ساتھیوں سے پوچھ رہے تھے کہ تم نے مکہ مکرمہ میں قیام کے بارے میں کیا سنا ہے تو حضرت سائب بن یزید نے فرمایا میں نے حضرت علاء سے سنایا حضرت علاء بن حضرمی نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہاجر مناسک حج ادا کرنے کے بعد مکہ مکرمہ میں تین دن ٹھہرے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بِلَا زِيَادَةٍ؛جلد٢ص٩٨٥؛حدیث نمبر٣١٩٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ لِجُلَسَائِهِ: مَا سَمِعْتُمْ فِي سُكْنَى مَكَّةَ؟ فَقَالَ السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ، - أَوْ قَالَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ - قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُقِيمُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3196

حضرت عبد الرحمن بن حمید سے مروی ہے انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے تو حضرت سائب نے فرمایا میں نے حضرت علاء بن حضرمی سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مہاجر(منی سے)واپسی پر مکہ مکرمہ میں تین دن قیام کرے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بِلَا زِيَادَةٍ؛جلد٢ص٩٨٥؛حدیث نمبر٣١٩٧)

وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، فَقَالَ السَّائِبُ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ثَلَاثُ لَيَالٍ يَمْكُثُهُنَّ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ الصَّدَرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3197

حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا مناسک حج کے بعد مہاجر کے لئے مکہ مکرمہ میں تین دن ٹھہرنا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بِلَا زِيَادَةٍ؛جلد٢ص٩٨٦؛حدیث نمبر٣١٩٨)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَأَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، أَخْبَرَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَكْثُ الْمُهَاجِرِ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثٌ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3198

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣١٩٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بِلَا زِيَادَةٍ؛جلد٢ص٩٨٦؛حدیث نمبر٣١٩٩)

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3199

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اب(مکہ مکرمہ سے)ہجرت نہیں البتہ جہاد اور نیت باقی ہے پس جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو جاؤ اور آپ نے فتح مکہ کے دن یہ بھی فرمایا مکہ مکرمہ فتح ہوگیا بےشک اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے اس دن حرم بنایا جب آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا پس یہ اللہ تعالیٰ کے حرم قرار دینے سے قیامت تک حرم ہے مجھ سے پہلے کسی کے لے مکہ مکرمہ میں جنگ جائز نہ تھی اور میرے لیے بھی صرف دن کی ایک ساعت جنگ کرنا جائز ہوا پس یہ اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ حرمت کے ساتھ قیامت تک حرم ہے اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے اور کوئی شخص اس میں گری پڑی چیز نہ اٹھائے سوائے اس شخص کے جو اس کا اعلان کرے(اور مالک تک پہنچائے)اور اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اذخر گھاس کو مستثنیٰ کردیں یہ لوہاروں اور گھروں کے کام آتی ہے آپ نے فرمایا ہاں اذخر گھاس مستثنیٰ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلَاهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ؛مکہ مکرمہ میں شکار وغیرہ کی حرمت؛جلد٢ص٩٨٦؛حدیث نمبر٣٢٠٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ - فَتْحِ مَكَّةَ - «لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا» وَقَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ - فَتْحِ مَكَّةَ - «إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا»، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ، فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3200

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٠٠ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر نہیں اور قتال کی جگہ قتل کا لفظ ہے البتہ«لَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا»کے الفاظ مذکور ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلَاهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ؛جلد٢ص٩٨٦؛حدیث نمبر٣٢٠١)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: «يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ»، وَقَالَ: بَدَلَ الْقِتَالِ: «الْقَتْلَ» وَقَالَ: «لَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3201

حضرت سعید بن ابی سعید فرماتے ہیں جب عمرو بن سعید(حاکم مدینہ)مکہ مکرمہ کی طرف فوج روانہ کر رہا تھا تو حضرت ابن شریح عدوی نے کہا اے امیر!مجھے اجازت دو کہ میں تمہیں وہ حدیث بتاؤں جو فتح مکہ کے دن حضور علیہ السلام نے فرمائی تھی اسے میرے کانوں نے سنا میرے دل نے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب آپ نے کلام فرمایا تو اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ حرم بنایا اسے لوگوں نے حرم نہیں بنایا پس کسی ایسے شخص کے لئے وہاں خون بہانا اور وہاں کے درخت کاٹنا جائز نہیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔اگر کوئی شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہاں جنگ کرنے کی وجہ سے جنگ کو جائز سمجھتا ہے تو اسے کہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی اور تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے بھی دن کی ایک گھڑی اجازت دی اور آج اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کل تھی، اور چاہئے کہ حاضر لوگ،غیر موجود لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں۔" حضرت ابو شریح سے پوچھا گیا کہ عمرو بن سعید نے تمہیں کیا جواب دیا تو فرمایا اس نے کہا اے ابو شریح مجھے یہ بات تم سے زیادہ معلوم ہے بےشک حرم کسی گناہ گار کو پناہ نہیں دیتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلَاهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ؛جلد٢ص٩٨٧؛حدیث نمبر٣٢٠٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، أَنَّهُ حَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ، وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ "، فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْح: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْح، «إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ، وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3202

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ عطاء فرمائی تو آپ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھی کو روکا اور اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس پر غلبہ عطاء فرمایا اور مکہ مکرمہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا اور میرے لیے بھی دن کی ایک ساعت حلال ہوا اور میرے بعد یہ کسی کے لیے حلال نہیں پس اس کے شکار کو بھگایا نہ جائے اور نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز بھی صرف اس کے لئے حلال ہے(یعنی اٹھانا)جو اس کا اعلان کرے اور جس کا کوئی آدمی قتل کیا جائے اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا فدیہ(خون بہا)وصول کر لے یا اسے(قصاص میں)قتل کردے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اذخر گھاس کو مستثنیٰ کردیجئے کیونکہ ہم اسے اپنی قبروں اور گھروں میں ڈالتے ہیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اذخر مستثنٰی ہے اس وقت یمن کے ایک شخص ابو شاہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے لکھ کر دیجئے تو آپ نے فرمایا ابو شاہ کو لکھ کر دو ولید بیان کرتے ہیں میں نے حضرت اوزاعی سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول"اس کو لکھ کردو"کا کیا مطلب ہے؟فرمایا وہ خطبہ جو اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلَاهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ؛جلد٢ص٩٨٨؛حدیث نمبر٣٢٠٣)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَامَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يُفْدَى، وَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ "، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ» فَقَامَ أَبُو شَاهٍ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ - فَقَالَ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ»، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: مَا قَوْلُهُ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3203

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں خزاعہ(قبیلہ کے لوگوں)نے فتح مکہ کے سال اپنے ایک مقتول کے بدلے میں بنو لیث کا ایک شخص قتل کردیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی گئی تو آپ اپنی سواری پر سوار ہوے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: "بےشک اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھی کو روک دیا اور اس پر اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مؤمنوں کو غلبہ عطاء فرمایا سنو!یہ(مکہ مکرمہ)مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں سنو!یہ میرے لیے دن کی ایک گھڑی حلال ہوا سنو!اب مکہ حرام ہے،اس کے کانٹے اور درخت نہ کاٹے جائیں یہاں کی گری پڑی چیز کو وہی اٹھا سکتا ہے جو اس کا اعلان کرے(اور مالک تک پہنچائے) جس کا کوئی آدمی قتل کیا جائے اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو اس کو دیت دی جائے گی یا وہ قاتل سے قصاص لے گا۔" راوی فرماتے ہیں پھر یمن کا ایک شخص آیا جس کا نام ابوشاہ تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے لکھ دیجیے آپ نے فرمایا ابوشاہ کے لئے لکھ دو،قریش کے ایک شخص نے عرض کیا اذخر(گھاس)کو مستثنٰی کردیں کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں ڈالتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلَاهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا، إِلَّا لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ؛جلد٢ص٩٨٩؛حدیث نمبر٣٢٠٤)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَخَطَبَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، أَلَا وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ، لَا يُخْبَطُ شَوْكُهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يُعْطَى - يَعْنِي الدِّيَةَ -، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ - أَهْلُ الْقَتِيلِ - "، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ، فَقَالَ: اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ»، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3204

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ مکہ مکرمہ میں ہتھیار اٹھائے۔(یعنی وہاں کے باشندوں کو ہرا ساں کرے) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ حَمْلِ السِّلَاحِ بِمَكَّةَ بِلَا حَاجَةٍ؛ترجمہ؛مکہ مکرمہ میں حاجت کے بغیر ہتھیار اٹھانے کی ممانعت؛جلد٢ص٩٨٩؛حدیث نمبر٣٢٠٥)

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَحْمِلَ بِمَكَّةَ السِّلَاحَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3205

حضرت یحییٰ فرماتے ہیں میں نے حضرت مالک سے پوچھا آپ کو ابن شہاب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوے تو آپ کے سر پر خود تھا جب آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آکر عرض کیا ابن خطل کعبۃ اللہ کے پردوں کو پکڑے ہوئے ہے آپ نے فرمایا اسے قتل کردو۔(چونکہ ابن خطل گستاخ رسول تھا اور اس کی لونڈیاں بھی یہ قبیح حرکت کرتی تھیں نیز وہ مرتد ہوگیا تھا اس لئے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔١٢ہزاروی) حضرت امام مالک علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہاں بیان کی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ؛جلد٢ص٩٨٩؛حدیث نمبر٣٢٠٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَمَّا الْقَعْنَبِيُّ، فَقَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَأَمَّا قُتَيْبَةُ، فَقَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، وقَالَ يَحْيَى: وَاللَّفْظُ لَهُ، قُلْتُ لِمَالِكٍ: أَحَدَّثَكَ ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: «اقْتُلُوهُ»، فَقَالَ مَالِكٌ: نَعَمْ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3206

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوے تو آپ پر سیاہ عمامہ تھا اور آپ احرام کے بغیر تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ؛جلد٢ص٩٩٠؛حدیث نمبر٣٢٠٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ الدُّهْنِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ - وَقَالَ قُتَيْبَةُ: دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ - وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ "، وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3207

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن داخل ہوئے تو آپ کے سر انور پر سیاہ عمامہ مبارکہ تھا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ؛جلد٢ص٩٩٠؛حدیث نمبر٣٢٠٨)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3208

حضرت عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛ بَابُ جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ؛جلد٢ص٩٩٠؛حدیث نمبر٣٢٠٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3209

حضرت عمرو بن حریث بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں گویا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھ رہا ہوں آپ پر سیاہ عمامہ ہے اور آپ نے اس کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا رکھے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ؛جلد٢ص٩٩٠؛حدیث نمبر٣٢١٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنِي، وَفِي رِوَايَةِ الْحُلْوَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ»، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ: عَلَى الْمِنْبَرِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3210

حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا اور اس میں رہنے والوں کے لئے دعا کی اور میں نے مدینہ طیبہ کو حرم بنایا جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا اور بےشک میں اس کے صاع اور مد(غلہ کے دو پیمانے)کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے دو گنا دعا کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛ترجمہ؛مدینہ طیبہ کی فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں برکت کے لئے دعا کرنا اس کو حرم قرار دینا اس کا شکار کرنے اور درختوں کا کاٹنے کی حرمت اور حرم مدینہ کی حدود؛جلد٢ص٩٩١؛حدیث نمبر٣٢١١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لِأَهْلِهَا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَإِنِّي دَعَوْتُ فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3211

وھیب کی روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جتنی دعائیں مانگی ہیں ان کی دو چند دعا کرتا ہوں جب کہ سلیمان بن بلال اور عبد العزيز بن مختار کی روایت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے مثل ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩١؛حدیث نمبر٣٢١٢)

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى هُوَ الْمَازِنِيُّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. أَمَّا حَدِيثُ وُهَيْبٍ فَكَرِوَايَةِ الدَّرَاوَرْدِيِّ: «بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ»، وَأَمَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ فَفِي رِوَايَتِهِمَا: «مِثْلَ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3212

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا اور میں اس(یعنی مدینہ طیبہ)کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان کو حرم بناتا ہوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩١؛حدیث نمبر٣٢١٣)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا» يُرِيدُ الْمَدِينَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3213

حضرت نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے مکہ مکرمہ اور اہل مکہ نیز اس کی حرمت کا ذکر کیا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اسے آواز دی اور فرمایا کیا بات ہے کہ میں تم سے مکہ،اہل مکہ اور حرمت مکہ کا ذکر سنتا ہوں اور تم مدینہ طیبہ اہل مدینہ اور حرمت مدینہ کا ذکر نہیں کرتے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پتھریلی زمین کے دو کناروں کے درمیان کو حرم قرار دیا۔ ہمارے پاس یہ حکم خولانی چمڑے میں لکھا ہوا ہے اگر تم چاہو تو میں تمہیں پڑھ کر سناؤں۔راوی کہتے ہیں مروان خاموش ہوگیا اور پھر کہنے لگا میں نے بھی اس میں سے کچھ سنا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩١؛حدیث نمبر٣٢١٤)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، خَطَبَ النَّاسَ، فَذَكَرَ مَكَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: «مَا لِي أَسْمَعُكَ ذَكَرْتَ مَكَّةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ تَذْكُرِ الْمَدِينَةَ وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا»، " وَذَلِكَ عِنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُكَهُ، قَالَ: فَسَكَتَ مَرْوَانُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِكَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3214

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا اور میں نے مدینہ طیبہ کی دو پتھریلی جانبوں کے درمیان کو حرم قرار دیا اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے کسی جانور کو شکار نہ کیا جائے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٢؛حدیث نمبر٣٢١٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أَحْمَدَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا، وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3215

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میں مدینہ طیبہ کے دونوں پتھریلی کناروں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں یہاں تک کہ کانٹے دار درختوں کو نہ کاٹا جائے اور نہ ہی اس کے شکار کو قتل کیا جائے اور آپ نے فرمایا مدینہ طیبہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے اگر وہ جان لیں جو شخص مدینہ سے اعراض کرتے ہوئے اس کی سکونت کو ترک کرے اللہ تعالیٰ اس میں ایسے لوگوں کو ٹھہراے گا جو اس سے بہتر ہوں گے اور جو لوگ اس کی محنت و مشقت پر صبر کریں میں قیامت کے دن ان کی شفاعت کروں گا اور ان کے حق میں گواہی دوں گا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٢؛حدیث نمبر٣٢١٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا»، وَقَالَ: «الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3216

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢١٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں اس قدر اضافہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کو تکلیف پہچانے کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اسے آگ میں اس طرح پگھلاے گا جس طرح سیسہ پگھلتا ہے یا جس طرح پانی نمک میں گھل جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٢؛حدیث نمبر٣٢١٧)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: «وَلَا يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ إِلَّا أَذَابَهُ اللهُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرَّصَاصِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3217

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سوار ہوکر مقام عقیق میں اپنے مکان کی طرف تشریف لے گئے تو وہاں ایک غلام کو دیکھا جو درخت کاٹ رہا تھا یا اس کے کانٹے توڑ رہا تھا حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس کا سامان چھین لیا جب آپ واپس تشریف لائے تو غلام کے مالکوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی کہ اس کا جو سامان لیا ہے وہ اس غلام کو یا ان لوگوں کو واپس کردیں۔ انہوں نے فرمایا اللہ کی پناہ!میں وہ چیزیں واپس کردوں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی ہے اور آپ نے ان کو واپس دینے سے انکار کردیا۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٣؛حدیث نمبر٣٢١٨)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنِ الْعَقَدِيِّ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ، فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا، أَوْ يَخْبِطُهُ، فَسَلَبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ، جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ - أَوْ عَلَيْهِمْ - مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ، فَقَالَ: «مَعَاذَ اللهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3218

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے اپنے لڑکوں میں سے کوئی لڑکا میرے لئے لاؤ تاکہ وہ میری وہ خدمت کرے(حضرت انس فرماتے ہیں)حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنے پیچھے بٹھا کر لے گئے تو جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترتے تو میں آپ کی خدمت کرتا۔ وہ اپنی حدیث میں مزید بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ تشریف لائے حتیٰ کہ جب احد پہاڑ آپ کے سامنے آیا تو آپ نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جب آپ مدینہ طیبہ کے سامنے تشریف لائے تو دعا کی یااللہ!میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان جگہ کو اس طرح حرم بناتا ہوں جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا یااللہ!ان لوگوں کے مد اور صاع(غلے کے پیمانے)میں برکت عطاء فرما۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٣؛حدیث نمبر٣٢١٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: «الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي»، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ، قَالَ: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ»، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3219

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٢١٩ کی مثل روایت کرتے ہیں البتہ انہوں نے فرمایا بےشک میں اس کے پتھریلے کناروں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٣؛حدیث نمبر٣٢٢٠)

وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3220

حضرت عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کو حرم قرار دیا؟ انہوں نے فرمایا فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک(کو حرم قرار دیا)پس جو شخص اس میں کوئی بدعت جاری کرے پھر مجھ سے فرمایا یہ سخت گناہ ہے جو اس میں بدعت جاری کرے تو اس پر اللہ تعالیٰ کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض اور نفل قبول نہیں کرے گا۔ راوی فرماتے ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٤؛حدیث نمبر٣٢٢١)

وَحَدَّثَنَاهُ حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَحَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: هَذِهِ شَدِيدَةٌ «مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا»، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ أَنَسٍ: «أَوْ آوَى مُحْدِثًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3221

حضرت عاصم احول فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کو حرم قرار دیا ہے؟ فرمایا ہاں یہ حرم ہے اس کی گھاس نہیں کاٹی جائے گی پس جو شخص ایسا کام کرے اس پر اللہ تعالیٰ،اس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٤؛حدیث نمبر٣٢٢٢)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا، أَحَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، هِيَ حَرَامٌ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3222

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی: "یا اللہ!ان لوگوں کے پیمانے میں برکت عطاء فرما ان کے صاع میں برکت دے اور ان کے مد میں برکت عطاء فرما۔" (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٤؛حدیث نمبر٣٢٢٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3223

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: "یا اللہ!مدینہ طیبہ کو مکہ مکرمہ کی برکتوں کا دو گنا عطاء فرما۔" (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٤؛حدیث نمبر٣٢٢٤)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّامِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3224

حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا جو شخص بھی یوں خیال کرتا ہے کہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب جسے ہم پڑھتے ہیں اور اس صحیفے کے علاوہ آپ نے تلوار کی نیام میں لٹکے ہوئے صحیفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا،کچھ اور ہے تو اس نے جھوٹ بولا۔ اس صحیفہ میں اونٹوں کی عمروں اور کچھ زخموں کی دیت کا بیان ہے اور اس میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ،عیر پہاڑ سے ثور(پہاڑ)تک حرم ہے۔پس جو شخص اس میں کوئی بدعت(بدعت سیئہ)جاری کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ تعالیٰ،اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے کوئی فرض اور نفل نماز قبول نہیں فرمائے گا اور مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے اس کے لیے اس کا ادنیٰ بھی کوشش کر سکتا ہے(پناہ دے سکتا ہے)اور جو شخص اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی طرف منسوب کرے یا جو غلام اپنے مالکوں کے علاوہ کسی کی طرف اپنی نسبت کرے اس پر اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ تو اس کی فرض نماز قبول کرے گا اور نہ نفل، ابوبکر کی روایت یہاں ختم ہوگئی اور زہیر کی روایت وہاں ختم جہاں یہ فرمایا کہ ان میں سے ادنیٰ بھی اس(پناہ دینے)کے لئے کوشش کر سکتا ہے اس کے بعد اس میں ذکر نہیں اور دونوں کی روایت میں تلوار کی میان میں لٹکنے کا ذکر بھی نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٤تا ٩٩٨؛حدیث نمبر٣٢٢٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَاى الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ - قَالَ: وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ - فَقَدْ كَذَبَ، فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا» وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، وَزُهَيْرٍ عِنْدَ قَوْلِهِ «يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ»، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ. وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3225

ایک اور سند کے ساتھ حضرت کریب کی روایت حسب سابق ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پناہ توڑے اللہ تعالیٰ فرشتوں اور تمام لوگوں کی اس پر لعنت ہے قیامت کے دن اس کی کوئی فرض اور نفل نماز قبول نہیں ہوگی۔ ان دونوں روایتوں میں یہ بات نہیں کہ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی کی طرف منسوب ہو اور وکیع کی روایت میں قیامت کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٩؛حدیث نمبر٣٢٢٦)

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ إِلَى آخِرِهِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: «فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ»، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ»، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ وَكِيعٍ ذِكْرُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3226

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٢٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں غلام کے کسی دوسرے کو اپنا مالک بنانے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٩؛حدیث نمبر٣٢٢٧)

وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَوَكِيعٍ، إِلَّا قَوْلَهُ: «مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ»، وَذِكْرَ اللَّعْنَةِ لَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3227

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا مدینہ(طیبہ)حرم ہے پس جو شخص اس میں کوئی(بری)بدعت جاری کرے اس پر اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کی کوئی فرض اور نفل عبادت قبول نہ ہوگی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٩؛حدیث نمبر٣٢٢٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِح، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَدِينَةُ حَرَمٌ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3228

ایک اور سند کے ساتھ حضرت اعمش سے روایت ہے اس میں قیامت کا ذکر نہیں البتہ یہ اضافہ ہے کہ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے ان میں سے ادنیٰ بھی اس کے لئے کوشش کرسکتا ہے پس جو شخص کسی مسلمان کا عہد توڑے اس پر اللہ تعالیٰ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اس سے کوئی فرض اور نفل عبادت قبول نہیں ہوگی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٩؛حدیث نمبر٣٢٢٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: «يَوْمَ الْقِيَامَةِ» وَزَادَ: «وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3229

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے تھے اگر میں مدینہ طیبہ میں ہِرنیا چرتے ہوئے دیکھوں تو ان کو منع نہیں کروں گا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو پتھریلی زمینوں کے درمیان جگہ حرم ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص٩٩٩؛حدیث نمبر٣٢٣٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3230

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی دو پتھریلی جگہوں کے درمیان حرم قرار دیا اگر میں ان پتھریلی جگہوں کے درمیان ہرنیوں کو دیکھوں تو ان کو ہراساں نہیں کروں گا مدینہ طیبہ کے ارد گرد بارہ میل کا علاقہ حرم قرار دیا گیا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص١٠٠٠؛حدیث نمبر٣٢٣١)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا»، وَجَعَلَ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حَوْلَ الْمَدِينَةِ حِمًى

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3231

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب لوگ پہلا پھل دیکھتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑتے تو یوں دعا فرماتے: یا اللہ!ہمارے لئے ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت عطا کردے ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت ڈال دے اور ہمارے لئے ہمارے مد میں برکت پیدا کردے۔ یا اللہ!بے شک حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے،تیرے خلیل اور تیرے نبی ہیں اور میں تیرا بندہ اور نبی ہوں اور انہوں نے تجھ سے مکہ مکرمہ کے لئے دعا فرمائی اور میں تجھ سے مدینہ(طیبہ)کے لئے دعا کرتا ہوں اسی طرح جس طرح انہوں نے مکہ کے لئے دعا کی اور اس کے ساتھ اس کی مثل بھی... حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی چھوٹے بچے کو بلا کر وہ پھل اسے عطاء فرماتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص١٠٠٠؛حدیث نمبر٣٢٣٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَمِثْلِهِ مَعَهُ»، قَالَ: ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3232

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہلا پھل پیش کیا جاتا تو آپ فرماتے یااللہ!ہمارے پھلوں،ہمارے مد اور صاع میں برکت پیدا فرما پھر وہ پھل موجود بچوں میں سے سب سے چھوٹے بچے کو عطاء فرماتے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا، وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا، وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا؛جلد٢ص١٠٠٠؛حدیث نمبر٣٢٣٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِأَوَّلِ الثَّمَرِ، فَيَقُولُ: «اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَفِي ثِمَارِنَا، وَفِي مُدِّنَا، وَفِي صَاعِنَا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ»، ثُمَّ يُعْطِيهِ أَصْغَرَ مَنْ يَحْضُرُهُ مِنَ الْوِلْدَانِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3233

مہری کے غلام ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو مدینہ طیبہ میں سخت قحط اور تنگی برداشت کرنی پڑی اور وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ ان کے بچے زیادہ ہیں اور ہم لوگوں کو سخت تکلیف ہے پس میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے بچوں کو کسی سر سبز و شاداب جگہ لے جاؤں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کرنا(بلکہ)مدینہ طیبہ میں ہی ٹھہرے رہنا کیونکہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا حتیٰ کہ ہم مقام عسفان میں پہنچے وہاں کچھ راتیں ٹھہرے لوگ کہنے لگے یہاں تو ہمارے پاس کچھ نہیں اور ہمارے بچوں کی نگہداشت کے لئے کوئی نہیں اور ہم ان کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو فرمایا تمہاری طرف سے مجھے کیسی باتیں پہنچ رہی ہیں راوی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں آپ نے کیا الفاظ فرمائے تھے(آپ نے فرمایا)اس ذات کی قسم جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے یا فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا یا آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں اپنی اونٹنی پر پالان کسنے کا حکم دوں پھر اس وقت تک نہ کھولوں جب تک مدینہ طیبہ نہ پہنچ جاؤں اور آپ نے فرمایا یااللہ!حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ طیبہ کو حرم بناتا ہوں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان حرم ہے اس میں خون نہ بہایا جائے نہ لڑائی کے لیے اسلحہ اٹھایا جائے اور چارہ کے علاوہ درختوں کے پتے نہ کاٹے جائیں یااللہ!ہمارے مدینہ میں برکت پیدا فرما اے اللہ!ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت ڈال دے یااللہ!ہمارے لئے ہمارے مد میں برکت پیدا فرما یااللہ!ہمارے لئے ہمارے مدینے میں برکت پیدا فرما یا اللہ!ایک برکت کے ساتھ دو برکتیں عطا فرما۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے مدینہ منورہ کی ہر گھاٹی اور ہر درے پر دو فرشتے رہتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں حتی کہ تم وہاں پہنچ جاؤ۔ پھر لوگوں سے فرمایا کوچ کرو پس ہم نے کوچ کیا اور مدینہ طیبہ کی طرف چل پڑے پس اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم کھاتے ہیں یا جس کی قسم کھائی جاتی ہے(حماد راوی کو شک ہے)ہم نے مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد ابھی سامان نہیں اتارا تھا کہ عطفانیوں نے حملہ کر دیا حالانکہ اس سے پہلے ان میں کوئی بے چینی نہیں پائی جاتی تھی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠١؛حدیث نمبر٣٢٣٤)

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ، وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ، وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَا تَفْعَلْ، الْزَمِ الْمَدِينَةَ، فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ - حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ، فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ، فَقَالَ النَّاسُ: وَاللهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ، وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ؟» - مَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ - «وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ - أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ - لَقَدْ هَمَمْتُ - أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ - لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ، ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ»، وَقَالَ: «اللهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَمًا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ، وَلَا نَقْبٌ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا»، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: «ارْتَحِلُوا»، فَارْتَحَلْنَا، فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ - الشَّكُّ مِنْ حَمَّادٍ - مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3234

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یااللہ!ہمارے مد اور صاع میں برکت پیدا فرما اور(مکہ مکرمہ کی)ایک برکت کے مقابلے میں دو برکتیں عطاء فرما۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٢؛حدیث نمبر٣٢٣٥)

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا، وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3235

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٣٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٢؛حدیث نمبر٣٢٣٦)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3236

ابوسعید مولیٰ مہری کہتے ہیں کہ وہ جنگ حرہ کے دنوں میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے مدینہ طیبہ سے چلے جانے کے بارے میں مشورہ کیا اور ان سے مدینہ طیبہ کی مہنگائی اور بچوں کی کثرت کی شکایت کی اور ان کو بتایا کہ مدینہ طیبہ کی مشکلات کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تجھے یہ مشورہ نہیں دوں گا کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ طیبہ کی تکالیف پر صبر کرے اور اسی حالت میں فوت ہوجائے تو میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا بشرطیکہ وہ مسلمان(فوت ہوا)ہو۔(یزید نے جب مدینہ طیبہ پر حملہ کیا تو اسے جنگ حرہ کہتے ہیں)(مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٢؛حدیث نمبر٣٢٣٧)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ، وَأَخْبَرَهُ أَنْ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا، فَقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا، فَيَمُوتَ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا - أَوْ شَهِيدًا - يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3237

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مدینہ طیبہ کی دو پتھریلی جگہوں کے درمیان والی جگہوں کو حرم قرار دیا ہے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا۔ چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ میں جب کسی کے ہاتھ میں پرندہ دیکھ لیتے تو اس کے ہاتھ سے چھڑا کر آزاد کردیتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٣؛حدیث نمبر٣٢٣٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ»، قَالَ: ثُمَّ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ، فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ، ثُمَّ يُرْسِلُهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3238

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ طیبہ کی طرف اشارہ فرمایا اور فرمایا یہ حرم اور امن کی جگہ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٣؛حدیث نمبر٣٢٣٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: أَهْوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3239

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ہم مدینہ طیبہ آے تو وہاں وبائی بخار آیا ہوا تھا چنانچہ ابوبکر صدیق اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما بیمار ہوگئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کی بیماری کو دیکھا تو دعا فرمائی: یااللہ!مدینہ طیبہ کوہمارے لئے محبوب بنادے جس طرح تو نے مکہ مکرمہ کو محبوب بنایااس سے بھی زیادہ اسے مقام صحت بنادے اور ہمارے لئے اس کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما اور اس کے بخار کو جحفہ مقام کی طرف منتقل کردے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٣؛حدیث نمبر٣٢٤٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَاشْتَكَى بِلَالٌ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكْوَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: «اللهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3240

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٤٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٣؛حدیث نمبر٣٢٤١)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3241

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اس(مدینہ طیبہ)کی تکالیف پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کا شفیع ہوں گا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٢)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3242

يُحَنَّسَ مولیٰ زبیر فرماتے ہیں کہ میں فتنہ کے زمانے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں آزاد کردہ لونڈی آئی اس نے اس کو سلام کیا اور عرض کیا کہ اے ابو عبد الرحمن!میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں کیونکہ حالات زیادہ خراب ہوگئے ہیں تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بے وقوف عورت یہیں رہو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اس(مدینہ طیبہ)کی مصیبتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ يُحَنَّسَ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ، فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللهِ: اقْعُدِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3243

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص مدینہ طیبہ کی مصیبتوں اور سختیوں پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کا گواہ یا فرمایا شفاعت کرنے والا ہوں گا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٤)

وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ قَطَنٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ يُحَنَّسَ، مَوْلَى مُصْعَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا، كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» يَعْنِي الْمَدِينَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3244

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے جو شخص مدینہ طیبہ کی مصیبتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔(مدینہ طیبہ وہ عظمت والا شہر ہے جس سے غلبہ اسلام کی تحریک ہوئی،فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا اور پہلی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا ان احادیث مبارکہ میں اس مقدس شہر کی فضیلت کا اظہار ہے اللہ تعالیٰ اس کی عظمتوں اور شرف میں اضافہ فرمائے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٥)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ شَهِيدًا»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3245

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٢٤٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٦)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللهِ الْقَرَّاظَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3246

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مدینہ طیبہ کے مصائب پر صبر کرے... آگے حدیث نمبر٣٢٤٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛باب الترغيب في سكن المدينة والصبر على لأوائها؛جلد٢ص١٠٠٤؛حدیث نمبر٣٢٤٧)

وحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِح، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ» بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3247

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوسکتا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِيَانَةِ الْمَدِينَةِ مِنْ دُخُولِ الطَّاعُونِ، وَالدَّجَّالِ إِلَيْهَا؛ترجمہ؛مدینہ طیبہ طاعون اور دجال سے محفوظ ہے؛جلد٢ص١٠٠٥؛حدیث نمبر٣٢٤٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ، وَلَا الدَّجَّالُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3248

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسیح دجال مشرق سے آے گا اور وہ مدینہ طیبہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرے گا حتیٰ کہ احد(پہاڑ)کے پیچھے اترے گا پھر فرشتے اس کا منہ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہ وہیں ہلاک ہوگا۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ صِيَانَةِ الْمَدِينَةِ مِنْ دُخُولِ الطَّاعُونِ، وَالدَّجَّالِ إِلَيْهَا؛جلد٢ص١٠٠٥؛حدیث نمبر٣٢٤٩)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، هِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ، حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ، ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3249

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آے گا کہ ایک شخص اپنے چچا زاد بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں کو بلا کر کہے گا آؤ خوشحالی کی جگہ چلیں حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانیں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو شخص اس سے اعراض کرتے ہوئے باہر جاے گا اللہ تعالیٰ اس سے بہتر کو لے آئے گا سنو!مدینہ طیبہ بھٹی کی طرح ہے جو میل کچیل کو نکال دیتی ہے قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مدینہ طیبہ خبیث لوگوں کو نکال نہ دے جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٥؛حدیث نمبر٣٢٥٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ وَقَرِيبَهُ: هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ، هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ، أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ، تُخْرِجُ الْخَبِيثَ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3250

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس بستی(کی طرف ہجرت)کا حکم دیا گیا وہ مدینہ طیبہ ہے وہ(خبیث)لوگوں کو اس طرح باہر نکال دے گی جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو نکالتی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٦؛حدیث نمبر٣٢٥١)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ: يَثْرِبَ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ، تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ "،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3251

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٥١ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں میل کچیل کا ذکر ہے لیکن لوہے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٦؛حدیث نمبر٣٢٥٢)

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: «كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ». لَمْ يَذْكُرَا: «الْحَدِيدَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3252

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی پھر اس اعرابی کو مدینہ طیبہ میں سخت بخار ہوگیا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!میری بیعت توڑ دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا وہ پھر حاضر ہوا اور عرض کیا میری بیعت توڑ دیں آپ نے پھر انکار کیا وہ پھر حاضر ہوا اور عرض کیا اے محمد!صلی اللہ علیہ وسلم میری بیعت توڑ دیں آپ نے انکار فرمایا پس اعرابی چلا گیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ بھٹی کی طرح ہے یہ میل کچیل کو دور کرتا ہے اور پاک چیز کو صاف اور خالص کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٦؛حدیث نمبر٣٢٥٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ، تَنْفِي خَبَثَهَا، وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3253

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا یہ(مدینہ طیبہ)طیبہ ہےاور میل کچیل کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح آگ چاندی کی میل کچیل کو دور کرتی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٦؛حدیث نمبر٣٢٥٤)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّهَا طَيْبَةُ - يَعْنِي - الْمَدِينَةَ، وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3254

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ الْمَدِينَةِ تَنْفِي شِرَارَهَا؛جلد٢ص١٠٠٧؛حدیث نمبر٣٢٥٥)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3255

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس شہر(مدینہ طیبہ)والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلادے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللهُ؛ترجمہ؛جو شخص اہل مدینہ کو ایذا پہنچانے کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اس کو پگھلا دے گا؛جلد٢ص١٠٠٧؛حدیث نمبر٣٢٥٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح، وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنَّسَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْقَرَّاظِ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ أَهْلَ هَذِهِ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - أَذَابَهُ اللهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3256

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس(مدینہ طیبہ)کے رہنے والوں سے برائی کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللهُ؛جلد٢ص١٠٠٧؛حدیث نمبر٣٢٥٧)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ - يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ - يُرِيدُ الْمَدِينَةَ - أَذَابَهُ اللهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ»، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ يُحَنَّسَ: بَدَلَ قَوْلِهِ بِسُوءٍ: شَرًّا،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3257

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٥٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللهُ؛جلد٢ص١٠٠٧؛حدیث نمبر٣٢٥٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، جَمِيعًا سَمِعَا أَبَا عَبْدِ اللهِ الْقَرَّاظَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3258

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ سے برائی کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دیتا ہے جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللهُ؛جلد٢ص١٠٠٨؛حدیث نمبر٣٢٥٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ، أَخْبَرَنِي دِينَارٌ الْقَرَّاظُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ، أَذَابَهُ اللهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3259

Muslim Shareef Kitabul Haj Hadees No# 3260

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ الْكَعْبِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْقَرَّاظِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوءٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3260

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ دونوں سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یااللہ!اہل مدینہ کو ان کے مد میں برکت عطاء فرما اور اس حدیث میں یہ بھی ہے جو شخص یہاں کے رہنے والوں سے برائی کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللهُ؛جلد٢ص١٠٠٨؛حدیث نمبر٣٢٦١)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْقَرَّاظِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَسَعْدًا، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مُدِّهِمْ» وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: «مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ، أَذَابَهُ اللهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3261

حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شام فتح ہوگا تو مدینہ طیبہ سے ایک جماعت اپنے اہل وعیال کے ساتھ اونٹ ہنکاتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے پھر یمن فتح ہوگا تو ایک قوم مدینہ طیبہ سے اپنے اہل وعیال کے ہمراہ اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے پھر عراق فتح ہوگا تو مدینہ طیبہ سے ایک قوم اپنے اہل وعیال کے ہمراہ اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الْمَدِينَةِ عِنْدَ فَتْحِ الْأَمْصَارِ؛شہروں کی فتوحات کے زمانے میں مدینہ طیبہ میں رہنے کی ترغیب؛جلد٢ص١٠٠٨؛حدیث نمبر٣٢٦٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3262

حضرت سفیان بن زہیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا یمن فتح ہوگا تو ایک قوم اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے آے گی پس وہ اپنے اہل وعیال اور اپنے پیرو کاروں کو ساتھ لے کر جاے گی حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لئے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے۔ پھر شام فتح ہوگا تو ایک قوم اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے آے گی وہ اپنے اہل وعیال اور خدام کو لے کر جائیں گے حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے پھر عراق فتح ہوگا تو ایک قوم اونٹوں کو ہنکاتے ہوئے آے گی اور وہ اپنے گھر والوں اور اپنے خدام کو لے کر جائیں گے حالانکہ مدینہ طیبہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الْمَدِينَةِ عِنْدَ فَتْحِ الْأَمْصَارِ؛جلد٢ص١٠٠٩؛حدیث نمبر٣٢٦٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ يُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3263

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے بارے میں فرمایا کہ یہاں کے لوگ اس کے خیر اور بہتر ہونے کے باوجود اسے درندوں اور پرندوں کے لئے چھوڑ دیں گے۔ امام مسلم فرماتے ہیں ابوصفیان عبداللہ بن عبد الملک(راوی)یتیم تھے اور انہوں نے دس سال حضرت ابن جریج کے ہاں پرورش پائی۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْمَدِينَةِ حِينَ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا؛جلد٢ص١٠٠٩؛حدیث نمبر٣٢٦٤)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْمَدِينَةِ لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي» يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ، قَالَ مُسْلِمٌ: «أَبُو صَفْوَانَ هَذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، يَتِيمُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَشْرَ سِنِينَ كَانَ فِي حَجْرِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3264

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ مدینہ طیبہ کے بہتر ہونے کے باوجود اسے چھوڑ جائیں گے اور اس میں درندے اور پرندے رہیں گے پھر مزینہ قبیلے کے دو چرواہے مدینہ طیبہ پہنچنے کے ارادے سے اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے آئیں گے تو وہاں وحشی جانور دیکھیں گے حتیٰ کہ جب ثنیۃ الوداع پر پہنچیں گے تو اپنے چہرے کے بل گر پڑیں گے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابٌ فِي الْمَدِينَةِ حِينَ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا؛جلد٢ص١٠١٠؛حدیث نمبر٣٢٦٥)

وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي - يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ - ثُمَّ يَخْرُجُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ، يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا، فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا، حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3265

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ؛ترجمہ؛قبر انور اور منبر شریف کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے؛جلد٢ص١٠١٠؛حدیث نمبر٣٢٦٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3266

حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ؛جلد٢ص١٠١٠؛حدیث نمبر٣٢٦٧)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا بَيْنَ مِنْبَرِي وَبَيْتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3267

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ مَا بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ؛جلد٢ص١٠١١؛حدیث نمبر٣٢٦٨)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3268

Muslim Shareef Kitabul Haj Hadees No# 3269

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِي الْقُرَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي مُسْرِعٌ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِي، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ»، فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3269

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک احد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ؛جلد٢ص١٠١١؛حدیث نمبر٣٢٧٠)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3270

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھا تو فرمایا بے شک احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ؛جلد٢ص١٠١١؛حدیث نمبر٣٢٧١)

وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ: «إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3271

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛ترجمہ؛مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز کی فضیلت؛ جلد٢ص١٠١٢؛حدیث نمبر٣٢٧٢)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3272

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اس مسجد میں نماز مسجد حرام کے علاوہ کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٢؛حدیث نمبر٣٢٧٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ: ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3273

حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور حضرت ابوعبد اللہ الاغر دونوں فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا آپ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں ایک ہزار نمازوں کی نسبت زیادہ افضل ہے بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور یہ سب سے آخری مسجد ہے ابو سلمہ اور ابو عبداللہ فرماتے ہیں ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے تھے لیکن ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس بات کی تصدیق نہ کرا سکے حتیٰ کہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو ہم نے اس سلسلے میں باہم گفتگو کی تو ہمیں افسوس ہوا کہ ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تحقیق کیوں نہ کی تاکہ وہ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے اگر انہوں نے آپ سے سنی ہوتی۔ ہم اس سلسلے میں گفتگو کر رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ابراہیم قارظ ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے ہم نے یہ حدیث ذکر کی اور اس کوتاہی کا بھی ذکر کیا جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کے سلسلے میں کی تو حضرت عبداللہ بن إبراهيم بن قارظ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخر المساجد ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٢؛حدیث نمبر٣٢٧٤)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَغَرِّ، مَوْلَى الْجُهَنِيِّينَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ - أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ مَسْجِدَهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ: لَمْ نَشُكَّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَنَا ذَلِكَ أَنْ نَسْتَثْبِتَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ، تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ، وَتَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونَ كَلَّمْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ حَتَّى يُسْنِدَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْهُ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ، جَالَسَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ الْحَدِيثَ، وَالَّذِي فَرَّطْنَا فِيهِ مِنْ نَصِّ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْهُ، فَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ مَسْجِدِي آخِرُ الْمَسَاجِدِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3274

حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوصالح سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں کچھ سنا ہے؟انہوں نے فرمایا نہیں،البتہ مجھے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے یا فرمایا ایک ہزار نمازوں کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٣؛حدیث نمبر٣٢٧٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا صَالِح، هَلْ سَمِعْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ فَضْلَ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ؛ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ - أَوْ كَأَلْفِ صَلَاةٍ - فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3275

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٧٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٣؛حدیث نمبر٣٢٧٦)

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3276

Muslim Shareef Kitabul Haj Hadees No# 3277

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3277

حضرت عبیداللہ اسی سند کے ساتھ حدیث نمبر ٣٢٧٧ کی مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٣؛حدیث نمبر٣٢٧٨)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3278

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی حدیث نمبر ٣٢٧٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٤؛حدیث نمبر٣٢٧٩)

وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ، وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3279

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٧٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٤؛حدیث نمبر٣٢٨٠)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3280

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک عورت بیمار ہوگئی تو اس نے کہا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطا فرمائی تو میں بیت المقدس میں جاکر نماز پڑھوں گی پس وہ ٹھیک ہوگئی پھر جانے کی تیاری کرنے لگی اس کے بعد ام المؤمنين حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان کو واقعہ بتایا ام المؤمنين نے فرمایا بیٹھو اور جو کھانا تم نے پکایا ہے اسے کھاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس میں ایک نماز مسجد کعبہ کے علاوہ مساجد کے مقابلے میں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٢ص١٠١٤؛حدیث نمبر٣٢٨١)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْح، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً اشْتَكَتْ شَكْوَى، فَقَالَتْ: إِنْ شَفَانِي اللهُ لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَبَرَأَتْ، ثُمَّ تَجَهَّزَتْ تُرِيدُ الْخُرُوجَ، فَجَاءَتْ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَلِّمُ عَلَيْهَا، فَأَخْبَرَتْهَا ذَلِكَ، فَقَالَتْ: اجْلِسِي فَكُلِي مَا صَنَعْتِ، وَصَلِّي فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «صَلَاةٌ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3281

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف کجاوے نہ کسے جائیں(سفر کا ارادہ نہ کیا جائے)میری یہ مسجد(نبوی) ،مسجد حرام اور مسجد اقصٰی۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ؛جلد٢ص١٠١٤؛حدیث نمبر٣٢٨٢)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى "،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3282

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٨٢ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ ان تین مساجد کے لئے کجاوے کسے جائیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ؛جلد٢ص١٠١٤؛حدیث نمبر٣٢٨٣)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3283

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے مسجد کعبہ،میری مسجد(مسجد نبوی)اور مسجد ایلیاء(بیت المقدس) (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ؛جلد٢ص١٠١٥؛حدیث نمبر٣٢٨٤)

وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ أَبِي أَنَسٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ سَلْمَانَ الْأَغَرَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا يُسَافَرُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ، وَمَسْجِدِي، وَمَسْجِدِ إِيلِيَاءَ "

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3284

حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے تو میں نے ان سے پوچھا آپ نے اپنے والد سے اس مسجد کے بارے میں کیا سنا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میرے والد نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی ایک کے ہاں گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی،فرماتے ہیں آپ نے کنکریوں کی ایک مٹھی لے کر زمین پر ماری پھر فرمایا وہ تمہاری یہ مسجد ہے یعنی مدینہ منورہ کی مسجد۔ وہ فرماتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ کے والد سے اسی طرح سنا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ؛ترجمہ؛وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی وہ مدینہ طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے؛جلد٢ص١٠١٥؛حدیث نمبر٣٢٨٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: مَرَّ بِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَذْكُرُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ: قَالَ أَبِي: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ: فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصْبَاءَ، فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: «هُوَ مَسْجِدُكُمْ هَذَا» لِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَاكَ هَكَذَا يَذْكُرُهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3285

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٨٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ؛جلد٢ص١٠١٥؛حدیث نمبر٣٢٨٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، قَالَ سَعِيدٌ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ فِي الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3286

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قباء شریف کی زیارت کے لئے سوار ہوکر اور پیدل(دونوں طرح)تشریف لے جاتے تھے۔(مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛ترجمہ؛مسجد قباء کی فضیلت اس میں نماز پڑھنا اور اس کی زیارت کرنا؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر٣٢٨٧)

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3287

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں سوار ہوکر اور پیدل(دونوں طرح)تشریف لے جاتے اور وہاں دورکعتیں پڑھتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر٣٢٨٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ح، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ رَاكِبًا وَمَاشِيًا، فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ»، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3288

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قباء شریف میں سوار اور پیدل تشریف لے جاتے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر ٣٢٨٩)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا»،

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3289

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٢٨٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر٣٢٩٠)

وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ الثّقَفِيُّ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3290

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مسجد)قباء میں سوار اور پیدل تشریف لے جاتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر ٣٢٩١)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3291

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مسجد)قباء میں سوار ہوکر اور پیدل(دونوں طرح)تشریف لے جاتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٦؛حدیث نمبر ٣٢٩٢)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3292

حضرت عبداللہ بن دینار سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ(مسجد)قباء میں ہر ہفتہ کے دن تشریف لے جاتے اور آپ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ہفتہ کے دن مسجد قباء میں جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٧؛حدیث نمبر ٣٢٩٣)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَأْتِي قُبَاءً كُلَّ سَبْتٍ، وَكَانَ يَقُولُ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3293

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کے دن مسجد قباء میں تشریف لے جاتے اور آپ(کبھی)سوار ہوکر اور(کبھی)پیدل تشریف لے جاتے تھے۔ حضرت ابن دینار فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٧؛حدیث نمبر ٣٢٩٤)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي قُبَاءً - يَعْنِي - كُلَّ سَبْتٍ،، كَانَ يَأْتِيهِ رَاكِبًا وَمَاشِيًا»، قَالَ ابْنُ دِينَارٍ: «وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ».

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3294

ایک اور سند کے ساتھ حضرت سفیان ابن دینار سے حدیث نمبر ٣٢٩٤ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں ہر ہفتہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب الحج؛بَابُ فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ، وَفَضْلِ الصَّلَاةِ فِيهِ، وَزِيَارَتِهِ؛جلد٢ص١٠١٧؛حدیث نمبر ٣٢٩٥)

وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ كُلَّ سَبْتٍ

Muslim Shareef, Kitabul Haj, Hadees No. 3295

Muslim Shareef : Kitabul Haj

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْحَجِّ

|

•