asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabun Nikah

From 3296 to 3465

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جارہا تھا تو ان کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی وہ دونوں کھڑے ہوکر باتیں کرنے لگے پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اے عبد الرحمن!کیا ہم کسی نوجوان لونڈی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں شاید وہ آپ کو آپ کے گزشتہ دنوں کی کچھ یاد دلا دے۔ راوی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم یہ کہتے ہو تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا اے نوجوانوں کے گروہ!تم میں سے جو جماع کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ یہ آنکھوں کو زیادہ جھکاتا ہے اور شرم گاہ کی حفاظت کا سبب ہے اور جس کو اس کی طاقت نہ ہو وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑنے کا باعث ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛ترجمہ؛جو شخص نکاح کا شوق رکھتا ہو اور اسے اخراجات حاصل ہوں اس کے لیے نکاح مستحب ہے اور جو اخراجات سے عاجز ہو تو وہ روزہ رکھنے میں مشغول ہو؛جلد٢ص١٠١٨؛حدیث نمبر ٣٢٩٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللهِ بِمِنًى، فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ، فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَا نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً، لَعَلَّهَا تُذَكِّرُكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ، لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3296

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوگئی انہوں نے فرمایا اے عبدالرحمن!ادھر آؤ،پھر وہ ان کو علیحدگی میں لے گئے جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ انہیں کوئی خاص کام نہیں ہے تو انہوں نے مجھ سے فرمایااے علقمہ!ادھر آؤ فرماتے ہیں میں آیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عبدالرحمن!ہم کسی کنواری لڑکی سے آپ کی شادی نہ کردیں شاید وہ گزشتہ دنوں کی یاد تازہ کردے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا آگے آپ نے یہ بات کہی ہے.... اس کے بعد حدیث نمبر ٣٢٩٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠١٩؛حدیث نمبر ٣٢٩٧)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى، إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقَالَ: هَلُمَّ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: فَاسْتَخْلَاهُ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ، قَالَ: قَالَ لِي: تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ، قَالَ: فَجِئْتُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَلَا نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ جَارِيَةً بِكْرًا، لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3297

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا اے نوجوانوں کے گروہ!تم میں سے جو جماع کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے کیوں کہ یہ آنکھوں میں حیا اور شرم گاہ کی حفاظت کا باعث ہے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے کیوں کہ روزوں سے شہوت ٹوٹ جاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠١٩؛حدیث نمبر ٣٢٩٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3298

حضرت عبد الرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں،میرے چچا حضرت علقمہ اور حضرت اسود رضی اللہ عنہم،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے فرماتے ہیں ان دنوں میں نوجوان تھا تو انہوں نے ایک حدیث بیان کی اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے وہ حدیث میرے لیے بیان کی انہوں نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا..... آگے حدیث نمبر٣٢٩٨ کی مثل مروی ہے پس میں نے نکاح کرنے میں دیر نہ کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠١٩؛حدیث نمبر ٣٢٩٩)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَمِّي عَلْقَمَةُ، وَالْأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: وَأَنَا شَابٌّ يَوْمَئِذٍ، فَذَكَرَ حَدِيثًا رُئِيتُ أَنَّهُ حَدَّثَ بِهِ مِنْ أَجْلِي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَزَادَ قَالَ: فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّى تَزَوَّجْتُ،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3299

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٢٩٨ کی مثل مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ میں گیا اور میں سب سے کم عمر تھا البتہ یہ بات مذکور نہیں کہ میں نے شادی کرنے میں دیر نہ کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠٢٠؛حدیث نمبر ٣٣٠٠)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ. بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ. وَلَمْ يَذْكُرْ: فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّى تَزَوَّجْتُ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3300

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام نے آپ کی ازواج مطہرات سے آپ کے پوشیدگی کے اعمال کے بارے میں سوال کیا تو ان حضرات میں سے بعض نے کہا میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا،کسی نے کہا میں گوشت نہیں کھاؤں گا کسی نے کہا میں بستر پر نہیں سوؤں گا پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اس طرح اس طرح کہتے ہیں میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں،روزہ بھی رکھتا ہوں اور ترک بھی کرتا ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠٢٠؛حدیث نمبر ٣٣٠١)

وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ. فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا؟ لَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3301

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا عورتوں سے الگ رہنے کا ارادہ رد فرمایا اور اگر آپ اجازت دیتے تو ہم سب خصی ہوجاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠٢٠؛حدیث نمبر ٣٣٠٢)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: «رَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ، وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3302

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عورتوں سے الگ رہنے کا ارادہ فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک دیا اگر آپ ان کو اجازت دیتے تو ہم خصی ہوجاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠٢٠؛حدیث نمبر ٣٣٠٣)

وحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ: «رُدَّ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلُ، وَلَوْ أُذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3303

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ(نے عورتوں)سے علیحدگی کا ارادہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اگر آپ اس کی اجازت دیتے تو ہم سب خصی ہوجاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠٢١؛حدیث نمبر ٣٣٠٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: «أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ أَجَازَ لَهُ ذَلِكَ لَاخْتَصَيْنَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3304

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور وہ ایک کھال کو رنگ رہی تھیں آپ نے خواہش کی تکمیل کی پھر صحابہ کرام کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور اس شیطانی صورت میں پیٹھ پھیرتی ہے پس جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے تو اپنی بیوی کے پاس جاے اس عمل سے اس کے خیالات دور ہوجائیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نَدْبِ مَنْ رَأَى امْرَأَةً فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِهِ، إِلَى أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَارِيَتَهُ فَيُوَاقِعَهَا؛ترجمہ؛کسی عورت کو دیکھ کر نفس مائل ہو تو بیوی یا لونڈی کے پاس آکر خواہش پوری کرے؛جلد٢ص١٠٢١؛حدیث نمبر ٣٣٠٥)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً، فَأَتَى امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ، وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً لَهَا، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا أَبْصَرَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3305

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا...... آگے حدیث نمبر٣٣٠٥ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ آپ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور وہ کھال کو رنگ رہی تھیں البتہ یہ بات مذکور نہیں کہ وہ شیطان کی صورت میں پیٹھ پھیرتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نَدْبِ مَنْ رَأَى امْرَأَةً فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِهِ، إِلَى أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَارِيَتَهُ فَيُوَاقِعَهَا؛جلد٢ص١٠٢١؛حدیث نمبر ٣٣٠٦)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ أَبِي الْعَالِيَةِ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَأَتَى امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً، وَلَمْ يَذْكُرْ: «تُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3306

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو کوئی عورت اچھی لگے اور اس کے دل میں خیال پیدا ہو تو اپنی بیوی کے پاس آکر اپنی خواہش پوری کرے اس طرح اس کے دل سے خیالات نکل جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نَدْبِ مَنْ رَأَى امْرَأَةً فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِهِ، إِلَى أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَارِيَتَهُ فَيُوَاقِعَهَا؛جلد٢ص١٠٢١؛حدیث نمبر ٣٣٠٧)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَ جَابِرٌ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا أَحَدُكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ، فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ، فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3307

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے جاتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں پس ہم نے کہا کیا ہم خصی نہ ہوجائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا پھر آپ نے ہمیں اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے کپڑے کے بدلے ایک خاص مدت تک نکاح کرلیں اس کے بعد حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [المائدة: ٨٧]،(ترجمہ:"اے ایمان والو!ان پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو بےشک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا") (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛ترجمہ؛نکاح متعہ اور اس بات کا بیان کہ یہ جائز قرار دیا گیا پھر منسوخ ہوا پھر جائز قرار دیا گیا اور قیامت تک یہ حرام رہے گا؛جلد٢ص١٠٢٢؛حدیث نمبر ٣٣٠٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَوَكِيعٌ، وَابْنُ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ، فَقُلْنَا: أَلَا نَسْتَخْصِي؟ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ "، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [المائدة: ٨٧]،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3308

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٠٨ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے آیت پڑھنے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٢؛حدیث نمبر ٣٣٠٩)

وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ. وَقَالَ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ الْآيَةَ، وَلَمْ يَقُلْ: قَرَأَ عَبْدُ اللهِ،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3309

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں یوں آیا کہ انہوں نے فرمایا ہم نوجوان تھے پس ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم خصی نہ ہو جائیں اس میں غزوہ کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٢؛حدیث نمبر ٣٣١٠)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: كُنَّا وَنَحْنُ شَبَابٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا نَسْتَخْصِي؟ " وَلَمْ يَقُلْ: نَغْزُو

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3310

حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما سے مروی ہے دونوں حضرات فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ہمارے پاس آکر اعلان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی۔(یاد یہ بعد میں منع ہو گیا تھا) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٢؛حدیث نمبر ٣٣١١)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَا: خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا» يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3311

حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے ہمیں متعہ کی اجازت دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٢؛حدیث نمبر ٣٣١٢)

وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانَا فَأَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3312

حضرت عطاء فرماتے ہیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ عمرہ کے لئے تشریف لائے تو ہم ان کی قیام گاہ پر ان کے پاس حاضر ہوئے پس لوگوں نے ان سے چند باتیں پوچھیں پھر ان حضرات نے متعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا ہاں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کے زمانے میں متعہ کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٣؛حدیث نمبر ٣٣١٣)

وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مُعْتَمِرًا، فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ، فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ، ثُمَّ ذَكَرُوا الْمُتْعَةَ، فَقَالَ: «نَعَمْ، اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3313

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نیز حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کے دور میں کھجوروں اور آٹے کی ایک مٹھی کے عوض چند دنوں کے لیے متعہ کرتے تھے حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن حریث کے واقعہ میں اس سے منع کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٣؛حدیث نمبر ٣٣١٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ، الْأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، حَتَّى نَهَى عَنْهُ عُمَرُ، فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3314

حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کے درمیان دو متعوں کے بارے میں اختلاف ہوگیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ عمل کیا پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے منع کردیا تو ہم دوبارہ یہ کام نہیں کریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٣؛حدیث نمبر ٣٣١٥)

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَأَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ، فَقَالَ جَابِرٌ: «فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3315

حضرت اِیاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غزوہ اوطاس کے موقع پر تین دن کے لئے متعہ کی اجازت دی پھر منع فرمادیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٣؛حدیث نمبر ٣٣١٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ، فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3316

حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ کی اجازت دی پس میں اور ایک دوسرا آدمی بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے وہ عورت نوجوان دراز گردن تھی ہم نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا تو اس نے کہا تم کیا دو گے میں نے کہا اپنی چادر دونگا اور میرے دوست نے بھی کہا میں اپنی چادر دوں گا اور میرے دوست کی چادر میرے چادر سے اچھی تھی لیکن میں اس کے مقابلے میں زیادہ جوان تھا جب وہ عورت میرے دوست کی چادر دیکھتی تو اس کو پسند کرتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے پسند کرتی پھر اس نے کہا تم اور تمہارے چادر میرے لیے کافی ہے پس میں اس کے پاس تین دن ٹھہرا اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے یہاں متعہ والی عورت میں سے کوئی عورت ہو تو وہ اسے چھوڑ دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٣؛حدیث نمبر ٣٣١٧)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ، فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَقَالَتْ: مَا تُعْطِي؟ فَقُلْتُ: رِدَائِي، وَقَالَ صَاحِبِي: رِدَائِي، وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ، فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا، وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَيَّ أَعْجَبْتُهَا، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ يَكْفِينِي، فَمَكَثْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ الَّتِي يَتَمَتَّعُ، فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3317

حضرت ربیع بن سبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کے والد نے فتح مکہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کیا ان کے والد فرماتے ہیں ہم وہاں پندرہ دن ٹھہرے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ کی اجازت دی پس میں اور میری قوم کا ایک شخص گیا اور مجھے اپنے ساتھی پر حسن و جمال میں فوقیت حاصل تھی اور میرا ساتھی بدصورتی کے قریب تھا ہم میں سے ہر ایک کے پاس چادر تھی میری چادر پرانی تھی اور میرے چچازاد کی چادر نئی اور اچھی تھی حتیٰ کہ جب ہم مکہ مکرمہ کی نشیبی یا بالائی بستی میں گئے تو ایک عورت سے ملاقات ہوئی جو نوجوان اور دراز گردن تھی ہم نے کہا کیا تم ہم سے کسی ایک سے متعہ کو پسند کرتی ہو؟اس نے کہا کیا دوگے تو ہم میں سے ہر ایک نے اپنی چادر اس کے سامنے کردی پس وہ عورت ہم لوگوں کو بغور دیکھنے لگی میرا دوست اس کی توجہ کا بہت منتظر تھا کہنے لگا اس کی چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی عمدہ ہے اس نے دو یا تین بار کہا اس کی چادر کی کوئی پرواہ نہیں پھر میں نے اس سے متعہ کیا اور اس وقت تک نہیں نکلا جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٤؛حدیث نمبر ٣٣١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، «غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَكَّةَ»، قَالَ: " فَأَقَمْنَا بِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ - ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ - فَأَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي، وَلِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ، مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ، فَبُرْدِي خَلَقٌ، وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي فَبُرْدٌ جَدِيدٌ، غَضٌّ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِأَسْفَلِ مَكَّةَ - أَوْ بِأَعْلَاهَا - فَتَلَقَّتْنَا فَتَاةٌ مِثْلُ الْبَكْرَةِ الْعَنَطْنَطَةِ، فَقُلْنَا: هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا؟ قَالَتْ: وَمَاذَا تَبْذُلَانِ؟ فَنَشَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدَهُ، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ، وَيَرَاهَا صَاحِبِي تَنْظُرُ إِلَى عِطْفِهَا، فَقَالَ: إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ، وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ، فَتَقُولُ: بُرْدُ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ - أَوْ مَرَّتَيْنِ - ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مِنْهَا، فَلَمْ أَخْرُجْ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3318

حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم فتح مکہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے..... اس کے بعد حدیث نمبر ٣٣١٨ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس عورت نے کہا کیا یہ ٹھیک ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھی نے کہا اس کی چادر پرانی اور بیکار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٤؛حدیث نمبر ٣٣١٩)

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ، وَزَادَ قَالَتْ: وَهَلْ يَصْلُحُ ذَاكَ؟ وَفِيهِ: قَالَ: إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3319

حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ان کے والد نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ نے فرمایا اے لوگو!میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی اور(اب)اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک حرام کردیا ہے پس جس شخص کے پاس ان عورتوں میں سے کوئی ہو تو وہ اسے چھوڑ دے اور تم ان سے وہ چیز نہ لو جو تم نے ان کو دی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٥؛حدیث نمبر ٣٣٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ، وَإِنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3320

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٢٠ کی مثل مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ(خانہ کعبہ کے)دروازے اور رکن کے درمیان کھڑے تھے اور آپ فرما رہے تھے...... آگے حدیث نمبر ٣٣٢٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٥؛حدیث نمبر ٣٣٢١)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ، وَهُوَ يَقُولُ: بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3321

حضرت سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال ہمیں متعہ کا حکم دیا جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوے پھر وہاں سے واپسی سے پہلے آپ نے ہمیں اس سے منع فرمادیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٥؛حدیث نمبر ٣٣٢٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ، حِينَ دَخَلْنَا مَكَّةَ، ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْهَا حَتَّى نَهَانَا عَنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3322

حضرت سبرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے صحابہ کرام کو عورتوں سے متعہ کی اجازت دی وہ فرماتے ہیں میں اور میرا ایک ساتھی جس کا تعلق بنو سلیم سے تھا،گئے حتیٰ کہ بنو عامر کی ایک لونڈی جو کنواری دراز گردن تھی ہمیں ملی ہم نے اسے متعہ کے لئے کہا اور اس پر اپنی چادریں پیش کیں تو وہ دیکھنے لگی اس نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے ساتھی سے زیادہ خوبصورت ہوں اور میرے ساتھی کی چادر کو دیکھا تو وہ میری چادر سے عمدہ تھی اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد میرے دوست کے مقابلے میں مجھے پسند کیا پس وہ لڑکی میرے پاس تین دن رہی پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ والی عورتوں سے الگ ہونے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٥؛حدیث نمبر ٣٣٢٣)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، «أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالتَّمَتُّعِ مِنَ النِّسَاءِ»، قَالَ: «فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، حَتَّى وَجَدْنَا جَارِيَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ، فَخَطَبْنَاهَا إِلَى نَفْسِهَا وَعَرَضْنَا عَلَيْهَا بُرْدَيْنَا، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ فَتَرَانِي أَجْمَلَ مِنْ صَاحِبِي، وَتَرَى بُرْدَ صَاحِبِي أَحْسَنَ مِنْ بُرْدِي، فَآمَرَتْ نَفْسَهَا سَاعَةً ثُمَّ اخْتَارَتْنِي عَلَى صَاحِبِي، فَكُنَّ مَعَنَا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهِنَّ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3323

حضرت سبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٦؛حدیث نمبر ٣٣٢٤)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3324

حضرت سبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن عورتوں کے متعہ سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٦؛حدیث نمبر ٣٣٢٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ الْفَتْحِ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3325

حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے زمانے میں عورتوں کے متعہ سے منع فرمایا اور ان کے والد نے دو سرخ چادروں کے عوض متعہ کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٦؛حدیث نمبر ٣٣٢٦)

وحَدَّثَنِيهِ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِح، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ؛ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ زَمَانَ الْفَتْحِ - مُتْعَةِ النِّسَاءِ - وَأَنَّ أَبَاهُ كَانَ تَمَتَّعَ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3326

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ میں کھڑے ہوکر فرما رہے تھے کہ بعض لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے اندھا کردیا ہے جس طرح ان کی آنکھوں کو اندھا کیا ہے وہ متعہ کا فتویٰ دیتے ہیں وہ ایک شخص پر طنز کر رہے تھے۔ اس شخص نے کھڑے ہوکر کہا تم بے بیوقوف کم علم ہو متقی لوگوں کے امام کے زمانے میں متعہ ہوتا تھا اس کی مراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم متعہ کر کے دیکھو اللہ کی قسم اگر تم کرو گے تو میں تمہیں سنگسار کروں گا۔ابن شہاب کہتے ہیں پس مجھے حضرت خالد بن مہاجربن سیف اللہ نے خبر دی کہ میں ایک شخص کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک شخص نے آکر اس شخص سے متعہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے اس کی اجازت دی ابن ابی عمرہ انصاری نے کہا رک جاؤ اس نے کہا اللہ کی قسم میں نے امام المتقین کے دور میں یہ عمل کیا۔ ابن ابی عمرہ نے فرمایا اسلام کے آغاز میں مجبور لوگوں کو اس کی اجازت تھی جس طرح مردار،خون اور خنزير کا حکم ہے پھر اللہ تعالیٰ نے دین کو محکم(مضبوط)کیا اور اس سے منع کردیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا میں نے عہد نبوی میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ چادروں کے عوض متعہ کیا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ سے منع کردیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں میں نے ربیع بن سبرہ سے سنا وہ یہ حدیث حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے بیان کر رہے تھے اور میں بیٹھا ہوا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٦؛حدیث نمبر ٣٣٢٧)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَامَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: «إِنَّ نَاسًا أَعْمَى اللهُ قُلُوبَهُمْ، كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ، يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ»، يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ، فَنَادَاهُ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَجِلْفٌ جَافٍ، فَلَعَمْرِي، لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَى عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ - يُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ: «فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ، فَوَاللهِ، لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ»، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللهِ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ، جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ، فَأَمَرَهُ بِهَا، فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ: مَهْلًا، قَالَ: مَا هِيَ؟ وَاللهِ، لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ، قَالَ: ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ «إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنِ اضْطُرَّ إِلَيْهَا، كَالْمَيْتَةِ، وَالدَّمِ، وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ، ثُمَّ أَحْكَمَ اللهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: «قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ، ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ»، " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ، يُحَدِّثُ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَنَا جَالِسٌ "

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3327

حضرت سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ سنو!یہ آج کے دن سے قیامت تک حرام ہے اور جو شخص کوئی چیز دے تو وہ واپس نہ لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٧؛حدیث نمبر ٣٣٢٨)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَقَالَ: «أَلَا إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ كَانَ أَعْطَى شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3328

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٧؛حدیث نمبر ٣٣٢٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3329

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا تم صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا.... آگے حدیث ٣٣٢٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٧؛حدیث نمبر ٣٣٣٠)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ لِفُلَانٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ تَائِهٌ، نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3330

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن نکاح متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٧؛حدیث نمبر ٣٣٣١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللهِ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3331

محمد بن علی کہتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ عورتوں سے متعہ کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں تو آپ نے فرمایا اے ابن عباس رک جاؤ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو(پالتو)گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللهِ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُلَيِّنُ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَقَالَ: «مَهْلًا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3332

حضرت محمد بن علی فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٣)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللهِ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3333

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو(ایک نکاح میں)جمع نہ کیا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛ترجمہ؛پھوپھی اور بھتیجی نیز خالہ اور بھانجی کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3334

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا بھتیجی اور پھوپھی،بھانجی اور خالہ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٥)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ، أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُنَّ: الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَالْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا "

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3335

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بھتیجی پر پھوپھی سے اور خالہ پر بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٦)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ: - مَدَنِيٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ وَلَدِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُنْكَحُ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ الْأَخِ، وَلَا ابْنَةُ الْأُخْتِ عَلَى الْخَالَةِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3336

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(اس بات سے)منع کیا کہ کوئی شخص کسی عورت اور اس کی پھوپھی نیز بھانجی اور خالہ کو جمع کرے۔ابن شہاب فرماتے ہیں ہم باپ کی خالہ اور باپ کی پھوپھی کو بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔(ان کا بھی یہی حکم ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٧)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ الْكَعْبِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا»، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا، وَعَمَّةَ أَبِيهَا بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3337

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور خالہ پر نکاح نہ کیا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٩؛حدیث نمبر ٣٣٣٨)

وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3338

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٣٣٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٩؛حدیث نمبر ٣٣٣٩)

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3339

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے(مسلمان بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام نہ دے اور نہ ہی کوئی شخص اپنے بھائی کا لگائی ہوئی قیمت پر قیمت لگاے اور کسی عورت سے نکاح نہ کیا جائے جب کہ اس کی پھوپھی یا خالہ اس شخص کے نکاح میں ہوں اور نہ ہی کوئی عورت اپنی(مسلمان)بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ اس کے برتن کو اپنے لئے خاص کر لے وہ عورت(کسی شرط کے بغیر)نکاح کرے جو کچھ اس کے لیے مقدر ہے اسے مل جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٩؛حدیث نمبر ٣٣٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللهُ لَهَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3340

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کے ساتھ نکاح کرنے سے منع فرمایا یا کوئی عورت اپنی(مسلمان)بہن(سوکن)کی طلاق کا مطالبہ بھی نہ کرے تاکہ اس کے برتن کو اپنے لئے خاص کرے بے شک اللہ تعالیٰ اس کا رازق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٤١)

وحَدَّثَنِي مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا، أَوْ أَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ رَازِقُهَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3341

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت اور اس کی پھوپھی اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو(ایک وقت میں نکاح میں)جمع کرنے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٤٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، وَابْنِ نَافِعٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3342

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٤٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٤٣)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3343

حضرت نبیہ بن وہب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے حضرت ابان بن عثمان کے پاس ایک قاصد بھیجا وہ آے اور اس وقت وہ امیر حج تھے۔ چنانچہ حضرت ابان نے کہا میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم نہ نکاح کرے نہ نکاح کر کے دے اور نہ ہی نکاح کا پیغام دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛ترجمہ؛حالت احرام میں نکاح حرام اور پیغام نکاح مکروہ ہے؛جلد٢ص١٠٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٤٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ، أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَحْضُرُ ذَلِكَ وَهُوَ أَمِيرُ الْحَجِّ، فَقَالَ أَبَانُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكَحُ، وَلَا يَخْطُبُ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3344

نبیہ بن وہب فرماتے ہیں عمر بن عبید اللہ بن معمر اپنے بیٹے کی شادی شیبہ بن عثمان کی بیٹی سے کرنا چاہتے تھے چنانچہ انہوں نے مجھے حضرت ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور وہ اس وقت امیر حج تھے انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے وہ اعرابی(دیہاتی)ہیں محرم نہ نکاح کرسکتا ہے اور نہ نکاح کرکے دے سکتا ہے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٤٥)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: بَعَثَنِي عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَعْمَرٍ، وَكَانَ يَخْطُبُ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ عَلَى ابْنِهِ، فَأَرْسَلَنِي إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ، فَقَالَ: أَلَا أُرَاهُ أَعْرَابِيًّا، «إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ، وَلَا يُنْكَحُ»، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ عُثْمَانُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3345

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم نہ نکاح کرے اور نہ نکاح کرکے دے اور نہ ہی نکاح کا پیغام دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣١؛حدیث نمبر ٣٣٤٦)

وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ح وحَدَّثَنِي أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكَحُ، وَلَا يَخْطُبُ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3346

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا محرم نہ تو نکاح کرے اور نہ ہی نکاح کا پیغام دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣١؛حدیث نمبر ٣٣٤٧)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ، وَلَا يَخْطُبُ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3347

حضرت نبیہ بن وہب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبید اللہ بن معمر نے اپنے بیٹے طلحہ کا نکاح شبیہ بن جبیر کی بیٹی سے کرنے کا ارادہ کیا اور وہ حج کے دن تھے۔ حضرت ابان بن عثمان ان دنوں امیر حج تھے انہوں نے حضرت ابان کے پاس پیغام بھیجا کہ میں اپنے بیٹے طلحہ بن عمر کا نکاح کرنا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ آپ بھی تشریف لائیں۔ اس پر حضرت ابان نے فرمایا میرا خیال ہے کہ تم بیوقوف عراقی ہو میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم نکاح نہیں کرسکتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣١؛حدیث نمبر ٣٣٤٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَعْمَرٍ أَرَادَ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ طَلْحَةَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ فِي الْحَجِّ، وَأَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانٍ: إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ، فَأُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ أَبَانُ: أَلَا أُرَاكَ عِرَاقِيًّا جَافِيًا، إِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3348

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں نکاح کیا۔ابن نمیر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ زہری نے کہا مجھے یزید بن اصم نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت نکاح کیا جب آپ محرم نہیں تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣١؛حدیث نمبر ٣٣٤٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»، " زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ، فَحَدَّثْتُ بِهِ الزُّهْرِيَّ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، أَنَّهُ نَكَحَهَا وَهُوَ حَلَالٌ "

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3349

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ حالت احرام میں تھے۔(دونوں قسم کی احادیث کے درمیان تطبيق یوں ہے کہ حالت احرام میں نکاح کرنا جائز ہے جماع حرام ہے البتہ نکاح سے بھی بچنا بہتر ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3350

حضرت یزید بن اصم فرماتے ہیں مجھ سے حضرت میمونہ بنت حارث نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حلال(غیر محرم)ہونے کی حالت میں نکاح کیا اور وہ میری اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ»، قَالَ: «وَكَانَتْ خَالَتِي، وَخَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3351

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ ہی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥٢)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْح، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا يَخْطُبْ بَعْضُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3352

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کی اجازت کے بغیر اس کی بیع پر بیع اور اس کی منگنی پر منگنی نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥٣)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3353

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٥٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥٤)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3354

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٥٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥٥)

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3355

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ شہر والا گاؤں والے کا مال بیچے نیز کسی کو دھوکہ دینے کے لیے کسی چیز کی قیمت بڑھانے،نکاح کے پیغام پر پیغام دینے اور سودے پر سودا کرنے سے بھی منع فرمایا نیز یہ کہ کوئی عورت اپنی(مسلمان)بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے برتن کو اپنے لئے خاص کرے۔عمرو کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٣؛حدیث نمبر ٣٣٥٦)

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، أَوْ يَتَنَاجَشُوا، أَوْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، أَوْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا، أَوْ مَا فِي صَحْفَتِهَا»، زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ: «وَلَا يَسُمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3356

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محض دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے قیمتیں نہ بڑھاؤ(بولی نہ دو)نہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے،نہ کوئی شہری دیہاتی کے لئے سودا کرے،نہ کوئی بھائی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے اسے اپنے لئے انڈیل لے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٣؛حدیث نمبر ٣٣٥٧)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنَاجَشُوا، وَلَا يَبِعِ الْمَرْءُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا يَخْطُبِ الْمَرْءُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3357

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٥٧ کی مثل مروی ہے اس میں ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر قیمت نہ بڑھاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٣؛حدیث نمبر ٣٣٥٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ: وَلَا يَزِدِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ "

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3358

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کی قیمت پر قیمت نہ لگاے اور نہ ہی اس منگنی پر منگنی کا پیغام دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٣؛حدیث نمبر ٣٣٥٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَسُمِ الْمُسْلِمُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ».

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3359

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٣٥٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦٠)

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ، وَسُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3360

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کی قیمت پر قیمت نہ لگاے اور نہ ہی اس کی منگنی پر منگنی کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦١)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِح، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُمْ قَالُوا: «عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَخِطْبَةِ أَخِيهِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3361

حضرت عبد الرحمن بن شماسہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر کو منبر پر(کہتے ہوئے)سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن،مومن کا بھائی ہے پس کسی مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے اور نہ یہ کہ اس کی منگنی پر منگنی کرے حتیٰ کہ وہ(پہلا)اس کو چھوڑ دے۔(یہ طریقہ مسلمان کو ایذاء پہنچانے کا طریقہ ہے اس لیے جب تک پہلے شخص کو انکار نہ ہوجائے دوسرا منگنی کا پیغام نہ دے اسی طرح خریداری وغیرہ کا مسئلہ بھی ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦٢)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ، فَلَا يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3362

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا اور شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کسی کے نکاح میں اس شرط پر دے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کرے اور ان کے درمیان مہر نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛ترجمہ؛نکاح شغار کی حرمت اور باطل ہونا؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ، عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ ابْنَتَهُ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ "،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3363

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٣٣٦٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦٤)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ مَا الشِّغَارُ؟

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3364

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦٥)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3365

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں شغار نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٥؛حدیث نمبر ٣٣٦٦)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3366

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ابن نمیر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ شغار کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے سے کہے تم اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کرو اور میں اپنی بہن کا نکاح تم سے کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٥؛حدیث نمبر ٣٣٦٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ» زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ: " وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي "،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3367

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٦٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٥؛حدیث نمبر ٣٣٦٨)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ ابْنِ نُمَيْرٍ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3368

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٥؛حدیث نمبر ٣٣٦٩)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3369

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شرائط میں سے جو شرط سب سے زیادہ پوری ہونے کے لائق ہے وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم عورتوں کو اپنے لئے حلال کرتے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْوَفَاءِ بِالشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ؛ترجمہ؛شرائط نکاح کو پورا کرنا؛جلد٢ص١٠٣٥؛حدیث نمبر ٣٣٧٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَى بِهِ، مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ»، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ الْمُثَنَّى، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى قَالَ: «الشُّرُوطِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3370

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیوہ(یا مطلقہ)عورت سے اس کے مشورے کے بغیر اور کنواری سے اس کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کیا جائے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس(کنواری)کی اجازت کی کیا صورت ہے؟فرمایا"خاموشی"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛نکاح میں بیوہ کی زبان سے اجازت اور کنواری کی خاموشی کافی ہے؛جلد٢ص١٠٣٦؛حدیث نمبر ٣٣٧١)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: «أَنْ تَسْكُتَ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3371

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٧١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛جلد٢ص١٠٣٦؛حدیث نمبر ٣٣٧٢)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ وَإِسْنَادِهِ، وَاتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامٍ، وَشَيْبَانَ، وَمُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3372

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے غلام حضرت ذکوان فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لڑکی کے بارے میں پوچھا جس کا نکاح گھر والے کریں تو کیا اس سے پوچھا جائے یا نہ؟تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سے فرمایا ہاں اس سے پوچھا جائے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا(یا رسول اللہ)وہ تو حیاء کرتی ہے آپ نے فرمایا یہی اس کی اجازت ہے جب وہ خاموش رہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛جلد٢ص١٠٣٧؛حدیث نمبر ٣٣٧٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: قَالَ ذَكْوَانُ، مَوْلَى عَائِشَةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَارِيَةِ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا، أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، تُسْتَأْمَرُ»، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: فَإِنَّهَا تَسْتَحِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَذَلِكَ إِذْنُهَا، إِذَا هِيَ سَكَتَتْ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3373

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیوہ اپنے ولی کی نسبت خود اپنے نفس پر زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے اور خاموشی اس کی اجازت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛جلد٢ص١٠٣٧؛حدیث نمبر ٣٣٧٤)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ: حَدَّثَكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا»؟ قَالَ: نَعَمْ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3374

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیوہ(یا مطلقہ)اپنے ولی کے مقابلے میں خود اپنے نفس پر زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے اور اس کی اجازت اس کا خاموش رہنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛جلد٢ص١٠٣٧؛حدیث نمبر ٣٣٧٥)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ، سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ، وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3375

اسی سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیوہ اپنے ولی کی نسبت خود اپنے نفس پر زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ اس کے نفس کے بارے میں اجازت مانگے اور اس کی اجازت اس کا خاموش رہنا ہے کبھی فرمایا اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛جلد٢ص١٠٣٧؛حدیث نمبر ٣٣٧٦)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا»، وَرُبَّمَا قَالَ: «وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3376

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی اور رخصتی کے وقت میری عمر نو سال تھی آپ فرماتی ہیں ہم مدینہ طیبہ آے تھے تو مجھے ایک ماہ تک بخار آتا رہا اور میرے بال کانوں تک رہ گئے حضرت ام رومان میرے پاس آئیں تو میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولے پر تھی انہوں نے مجھے پکارا تو میں ان کے پاس آئی مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہیں انہوں نے مجھے دروازے پر کھڑے کردیا تو میں ھہ ھہ کہتی رہی حتیٰ کہ میرا سانس رک گیا تو وہاں انصار کی کچھ خواتین تھیں انہوں نے خیر و برکت کی دعا دی ام رومان(حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدہ)نے مجھے ان کے حوالے کردیا تو انہوں نے میرا سر دھویا اور میرا بناؤ سنگھار کیا میں اس وقت ڈر گئی جب چاشت کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان عورتوں نے مجھے آپ کے سپرد کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَزْوِيجِ الْأَبِ الْبِكْرَ الصَّغِيرَةَ؛ترجمہ؛باپ نابالغہ لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے؛جلد٢ص١٠٣٨؛حدیث نمبر ٣٣٧٧)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ»، قَالَتْ: " فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَوُعِكْتُ شَهْرًا، فَوَفَى شَعْرِي جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ، وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ، وَمَعِي صَوَاحِبِي، فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا، وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي، فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: هَهْ هَهْ، حَتَّى ذَهَبَ نَفَسِي، فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ "

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3377

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی اور نو سال کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَزْوِيجِ الْأَبِ الْبِكْرَ الصَّغِيرَةَ؛جلد٢ص١٠٣٩؛حدیث نمبر ٣٣٧٨)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3378

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر سات سال تھی اور رخصتی کے وقت وہ نوسال کی تھیں اور ان کی گڑیاں ان کے ساتھ تھیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَزْوِيجِ الْأَبِ الْبِكْرَ الصَّغِيرَةَ؛جلد٢ص١٠٣٩؛حدیث نمبر ٣٣٧٩)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ، وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَلُعَبُهَا مَعَهَا، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3379

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو وہ چھ سال کی تھیں اور رخصتی کے وقت ان کی عمر نوسال تھی جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَزْوِيجِ الْأَبِ الْبِكْرَ الصَّغِيرَةَ؛جلد٢ص١٠٣٩؛حدیث نمبر ٣٣٨٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ سِتٍّ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3380

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینے میں نکاح کیا اور رخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی تو کونسی عورت مجھ سے زیادہ خوش نصیب ہے؟ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ عورتوں کی رخصتی شوال میں ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّزَوُّجِ وَالتَّزْوِيجِ فِي شَوَّالٍ، وَاسْتِحْبَابِ الدُّخُولِ فِيهِ؛ترجمہ؛شوال کے مہینے میں نکاح کرنے اور نکاح کرکے دینے کا استحباب نیز اس میں جماع بھی مستحب ہے؛جلد٢ص١٠٣٩؛حدیث نمبر ٣٣٨١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟»، قَالَ: «وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3381

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٨١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّزَوُّجِ وَالتَّزْوِيجِ فِي شَوَّالٍ، وَاسْتِحْبَابِ الدُّخُولِ فِيهِ؛جلد٢ص١٠٣٩؛حدیث نمبر ٣٣٨٢)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِعْلَ عَائِشَةَ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3382

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ اس نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟اس نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا اسے دیکھو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ(عیب)ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نَدْبِ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِ الْمَرْأَةِ وَكَفَّيْهَا لِمَنْ يُرِيدُ تَزَوُّجَهَا؛جلد١ص ١٠٤٠؛حدیث نمبر ٣٣٨٣)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا؟»، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3383

ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کرلیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اسے دیکھا ہے کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے اس نے عرض کیا میں نے اسے دیکھا ہے فرمایا کتنے مہر پر نکاح کیا ہے عرض کیا چار اوقیہ چاندی پر،آپ نے فرمایا چار اوقیہ چاندی پر گویا تم اس پہاڑ کی چوڑائی سے چاندی کھرچ لیتے ہو ہمارے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں لیکن عنقریب ہم تمہیں اپنے آدمیوں کے ساتھ بھیجتے ہیں شاید تمہیں کچھ مل جائے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر آپ نے بنو عبس کی طرف ایک لشکر بھیجا تو اسے بھی ان میں بھیجا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نَدْبِ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِ الْمَرْأَةِ وَكَفَّيْهَا لِمَنْ يُرِيدُ تَزَوُّجَهَا؛جلد١ص ١٠٤٠؛حدیث نمبر ٣٣٨٤)

وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟ فَإِنَّ فِي عُيُونِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا» قَالَ: قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا، قَالَ: «عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا؟» قَالَ: عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ؟ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ، مَا عِنْدَنَا مَا نُعْطِيكَ، وَلَكِنْ عَسَى أَنْ نَبْعَثَكَ فِي بَعْثٍ تُصِيبُ مِنْهُ»، قَالَ: فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي عَبْسٍ بَعَثَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فِيهِمْ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3384

حضرت سہل بن سعد سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے پاس آئی ہوں کہ اپنے نفس کو آپ کی خدمت میں بطور ہبہ پیش کروں آپ نے اس کی طرف دیکھا اور اس پر اچھی نظر دوڑائی پھر آپ نے سر انور جھکا دیا جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی صحابہ کرام میں سے ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!اگر آپ کو اس کی حاجت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے کردیں۔ آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس(مہر کے لئے)کوئی چیز ہے اس نے عرض کیا اللہ کی قسم یا رسول اللہ!کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا گھر والوں کے پاس جاکر دیکھو کہ ان سے کچھ ملتا ہے وہ گیا پھر آیا اور کہا اللہ کی قسم!مجھے ان سے کچھ نہیں ملا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہو۔وہ گیا پھر آیا اور عرض کیا اللہ کی قسم!یا رسول اللہ!لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی۔البتہ یہ میری چادر ہے۔ اس نے کہا میں اپنی نصف چادر اس کو دے دوں گا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری چادر کیا کرے گی اگر تم پہنو گے تو اس پر کچھ نہیں ہوگا اگر وہ پہنے گی تو تم پر کچھ نہیں ہوگا۔ پس وہ شخص بیٹھ گیا حتیٰ کہ جب زیادہ دیر ہوگئی تو کھڑا ہوگیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تو اسے بلانے کا حکم دیا وہ بلایا گیا جب آیا تو آپ نے فرمایا تمہیں قرآن پاک سے کس قدر یاد ہے اس نے کہا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں اس نے گن کر بتایا آپ نے فرمایا تم زبانی پڑھ سکتے ہو اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا جاؤ تمہیں جو قرآن یاد ہے اس کے سبب سے میں نے تمہارا نکاح اس سے کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد١ص ١٠٤٠؛حدیث نمبر ٣٣٨٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ: «فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟» فَقَالَ: لَا، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا؟» فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا، وَاللهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ»، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا، وَاللهِ، يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَا خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي - قَالَ سَهْلٌ: مَا لَهُ رِدَاءٌ - فَلَهَا نِصْفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ؟ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ»، فَجَلَسَ الرَّجُلُ، حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ، فَرَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: «مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟» قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا - عَدَّدَهَا - فَقَالَ: «تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «اذْهَبْ فَقَدْ مُلِّكْتَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَحَدِيثُ يَعْقُوبَ يُقَارِبُهُ فِي اللَّفْظِ.

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3385

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٨٥ کی مثل مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ میں نے اس سے تمہارا نکاح کردیا پس اسے قرآن سکھاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤١؛حدیث نمبر ٣٣٨٦)

وَحَدَّثَنَاهُ خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَائِدَةَ، قَالَ: «انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَعَلِّمْهَا مِنَ الْقُرْآنِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3386

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(کی ازواج مطہرات)کا مہر کتنا تھا انہوں نے فرمایا آپ کی ازواج مطہرات کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش ہوتا تھا۔ام المؤمنين نے پوچھا جانتے ہو نش کیا ہے؟فرمایا میں نے عرض کیا نہیں انہوں نے فرمایا نصف اوقیہ پس یہ پانچ سو درہم ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا یہ مہر تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٢؛حدیث نمبر ٣٣٨٧)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: «كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا»، قَالَتْ: «أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: «نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3387

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زرد رنگ(کی خوشبو)کا اثر دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے؟عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے پر نکاح کیا ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے اور اب ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری کے ساتھ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٢؛حدیث نمبر ٣٣٨٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: «فَبَارَكَ اللهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3388

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عہد رسالت میں گٹھلی کے برابر سونے پر نکاح کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٢؛حدیث نمبر ٣٣٨٩)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، تَزَوَّجَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3389

ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے پر نکاح کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٢؛حدیث نمبر ٣٣٩٠)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3390

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٩١)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3391

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو مجھ پر شادی کے اثرات ملاحظہ فرمائے میں نے عرض کیا میں نے انصار کی ایک خاتون سے شادی کی ہے آپ نے پوچھا تم نے کتنا مہر مقرر کیا ہے میں نے عرض کیا ایک گٹھلی(سونا) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٩٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: رَآنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ بَشَاشَةُ الْعُرْسِ، فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: «كَمْ أَصْدَقْتَهَا؟» فَقُلْتُ: نَوَاةً، وَفِي حَدِيثِ إِسْحَاقَ: مِنْ ذَهَبٍ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3392

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گٹھلی کے برابر سونے پر نکاح کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٩٣)

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ شُعْبَةُ: - وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ -، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3393

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٩٣ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں میں سے کسی نے سونے کے برابر گٹھلی کا ذکر کیا۔ (احناف کے نزدیک کم از کم مہر دس درہم ہے اور مہر میں مال کا ہونا ضروری ہے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٩٤)

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ: «مِنْ ذَهَبٍ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3394

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں جہاد کے لیے تشریف لے گئے فرماتے ہیں ہم نے فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے اور میں ان کے پیچھے سوار ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو خیبر کی گلیوں میں دوڑایا اور میری سواری رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک چھوتی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے چادر کھل گئی تو میں نے آپ کی ران مبارک کی سفیدی دیکھی جب آپ بستی میں داخل ہوے تو فرمایا"اللہ اکبر"خیبر تباہ ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈراے ہوئے لوگوں کی صبح کیا ہی بری ہوتی ہے۔آپ نے یہ بات تین بار فرمائی فرماتے ہیں وہ لوگ اپنے کاموں کے لئے نکلے تو کہنے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم(اگئے) عبد العزيز(راوی)فرماتے ہیں ہمارے بعض اصحاب نے کہا کہ انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور لشکر آگیا وہ فرماتے ہیں ہم نے اس بستی کو غلبہ کے طور پر حاصل کیا(صلح کے ساتھ نہیں) قیدی جمع کیے گئے تو حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ نے حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیدیوں میں سے ایک لونڈی مجھے عنایت فرمائیں انہوں نے حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کو لیا تو ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے صفیہ بن حی جو قریظہ اور نضیر قبیلوں کی سردار ہیں،فلاں کو عنایت کردی ہیں وہ تو آپ کے لیے مناسب ہیں۔آپ نے فرمایا ان کو حضرت صفیہ سمیت بلاؤ راوی فرماتے ہیں جب وہ لے کر حاضر ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا قیدیوں میں سے کوئی دوسری لونڈی لے اور آپ نے ان کو آزاد کرکے ان سے شادی کر لی۔حضرت ثابت نے پوچھا اے ابو حمزہ!(حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مہر کیا مقرر فرمایا انہوں نے فرمایا ان کو آزاد کرکے ان سے نکاح کیا(یہی مہر تھا)حتیٰ کہ راستے میں ایک مقام پر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کیا اور رات کے وقت آپ کی خدمت میں پیش کردیا صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت عروسی میں تھے آپ نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہے لے آئے اور ایک چمڑے کا دسترخوان بچھایا پس کوئی شخص پنیر لا رہا تھا،کوئی کھجور لایا اور کوئی گھی لے کر حاضر ہوا اور اس سے ایک حلوہ تیار کیا گیا پس یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؛لونڈی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرنے کی فضیلت؛جلد٢ص١٠٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٩٥)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ، قَالَ: فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ، وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ، قَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ {فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ} [الصافات: ١٧٧] "، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ، فَقَالُوا: مُحَمَّدٌ، وَاللهِ - قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: مُحَمَّدٌ، وَالْخَمِيسُ - قَالَ: وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً، وَجُمِعَ السَّبْيُ، فَجَاءَهُ دِحْيَةُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ. فَقَالَ: «اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً»، فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ؟ مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ، قَالَ: «ادْعُوهُ بِهَا»، قَالَ: فَجَاءَ بِهَا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا»، قَالَ: وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ: نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا، فَقَالَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَجِئْ بِهِ»، قَالَ: وَبَسَطَ نِطَعًا، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ، فَحَاسُوا حَيْسًا، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3395

ایک اور سند سے متعدد راوی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا حضرت معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؛؛جلد٢ص١٠٤٥؛حدیث نمبر ٣٣٩٦)

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، وَشُعَيْبِ بْنِ حَبْحَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ، كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَنَّهُ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا»، وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ تَزَوَّجَ صَفِيَّةَ وَأَصْدَقَهَا عِتْقَهَا

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3396

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی لونڈی کو آزاد کرکے پھر اس سے نکاح کرے اس کے لئے دو اجر ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؛جلد٢ص١٠٤٥؛حدیث نمبر ٣٣٩٧)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يُعْتِقُ جَارِيَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا: «لَهُ أَجْرَانِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3397

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا اور میرے پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پاؤں کو چھورہے تھے فرماتے ہیں ہم ان لوگوں کے پاس اس وقت آے جب سورج چمک رہا تھا اور انہوں نے اپنے مویشی(چرانے کے لئے)نکال لئے تھے نیز وہ اپنی کلہاڑیاں،ٹوکریاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے وہ کہنے لگے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور لشکر(آگیا ہے)راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیبر برباد ہوگیا پس جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرے ہوئے لوگوں کی صبح کتنی بری ہوتی ہے۔ راوی فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان(یہود خیبر)کو شکست دی اور حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک خوبصورت لونڈی آئی جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات لونڈیوں کے بدلے میں خریدا پھر حضرت ام سلیم کے حوالے کیا کہ وہ ان کا بناؤ سنگھار کر کے تیار کریں۔ راوی فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ فرمایا کہ وہ ان کے گھر میں عدت پوری کریں اور وہ صفیہ بنت حی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ولیمہ کھجور،پنیر اور گھی سے تیار کروایا اور زمین کو کھود کر اس میں دسترخوان بچھائے گئے اور پنیر اور گھی لایا گیا پس لوگوں نے سیر ہوکر کھایا اور لوگ کہنے لگے معلوم نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی ہے یا ام ولد بنایا ہے۔انہوں نے کہا اگر آپ نے انہیں پردہ کرایا تو وہ آپکی زوجہ ہوگی اور اگر پردہ نہ کرایا تو وہ ام ولد ہوگی جب آپ نے سوار ہونے کا ارادہ کیا تو ان کا پردہ کرایا اور وہ اونٹ کے پچھلے حصے پر بیٹھ گئیں جس سے صحابہ کرام کو معلوم ہوگیا کہ آپ نے ان سے شادی کی ہے جب مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی دوڑائی اور ہم نے بھی اپنی اونٹنیوں کو دوڑایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی عضباء نے ٹھوکر کھائی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے اور ساتھ ہی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی گر پڑیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کا پردہ کرایا عورتیں کہنے لگیں اللہ تعالیٰ اس یہودیہ کو دور کرے۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوحمزہ!کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے تھے؟انہوں نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم آپ گرے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمہ کے موقع پر بھی موجود تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روٹی اور گوشت سے سیر کردیا آپ مجھے بھیجتے تھے اور میں لوگوں کو بلاتا تھا جب آپ فارغ ہوکر کھڑے ہوئے اور میں آپکے پیچھے چلا تو دو آدمی وہاں ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے وہ وہاں سے نہیں گئے تھے آپ اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے اور ہر ایک کو سلام کیا اور پوچھا اے اہل بیت!تم لوگ کیسے ہو؟وہ جواب دیتے ہم خیر سے ہیں آپ نے اپنی زوجہ کو کیسا پایا آپ نے فرمایا اچھی ہے جب فارغ ہوکر واپس ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس ہوا جب آپ دروازے پر پہنچے تو دیکھا وہاں دو شخص ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف اور محو ہیں جب انہوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ واپس تشریف لائے تو وہ دونوں کھڑے ہوگئے پس اللہ کی قسم!مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ کو بتایا آپ پر وحی نازل ہوئی کہ وہ دونوں جا چکے ہیں پس آپ واپس ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس لوٹا جب آپ نے اپنا قدم مبارک دروازے کے چوکھٹ پر رکھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکایا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔(ترجمہ) "نبی کے گھروں میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؛جلد٢ص١٠٤٥؛حدیث نمبر ٣٣٩٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ، وَخَرَجُوا بِفُئُوسِهِمْ، وَمَكَاتِلِهِمْ، وَمُرُورِهِمْ، فَقَالُوا: مُحَمَّدٌ، وَالْخَمِيسُ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ {فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ} [الصافات: ١٧٧] "، قَالَ: وَهَزَمَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُصَنِّعُهَا لَهُ وَتُهَيِّئُهَا - قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا، وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ، فُحِصَتِ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ، وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ، فَوُضِعَتْ فِيهَا، وَجِيءَ بِالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ، قَالَ: وَقَالَ النَّاسُ: لَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا، أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ؟ قَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا، فَقَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ، فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ، دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَفَعْنَا، قَالَ: فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ الْعَضْبَاءُ، وَنَدَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَدَرَتْ، فَقَامَ فَسَتَرَهَا، وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَاءُ، فَقُلْنَ: أَبْعَدَ اللهُ الْيَهُودِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، أَوَقَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَاللهِ، لَقَدْ وَقَعَ قَالَ أَنَسٌ: وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ، فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا، وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ، لَمْ يَخْرُجَا فَجَعَلَ يَمُرُّ عَلَى نِسَائِهِ، فَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ: «سَلَامٌ عَلَيْكُمْ، كَيْفَ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ؟» فَيَقُولُونَ: بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟ فَيَقُولُ: «بِخَيْرٍ»، فَلَمَّا فَرَغَ رَجَعَ، وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ، إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ، فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا، فَوَاللهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ، أَمْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا؟ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ، أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ: {لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ} [الأحزاب: ٥٣] الْآيَةَ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3398

حضرت ثابت فرماتے ہیں ہم سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت صفیہ،حضرت دحیہ کے حصے میں آئی تھیں اور لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی تعریف کی فرماتے ہیں انہوں نے کہا ہم نے قیدیوں میں ان کی مثل کسی کو نہیں دیکھا فرماتے ہیں پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کو بلایا اور حضرت صفیہ کے بدلے انہوں نے جو کچھ مانگا آپ نے ان کو عطاء کردیا پھر ان کو میری ماں(حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ماں)کے حوالے کیا اور فرمایا ان کو بناؤ سنوارو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب خیبر کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا تو آپ اترے پھر حضرت صفیہ کے لئے خیمہ لگوایا جب صبح ہوئی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا جس کے پاس زائد توشہ ہو وہ ہمارے پاس لے آئے پس کوئی شخص زائد کھجوریں لارہا تھا اور کوئی زائد ستو حتیٰ کہ انہوں نے ایک ڈھیر لگا دیا لوگوں نے اس کھانے سے کھایا اور حوض سے پانی پیا جو ان کے قریب تھا اور اس میں بارش کا پانی تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا فرماتے ہیں پھر ہم چلے حتیٰ کہ جب ہم نے مدینہ طیبہ کی دیواروں کو دیکھا تو ہمیں اس کا بہت اشتیاق ہوا تو ہم نے اپنی سواریوں کو دوڑایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سواری کو دوڑایا اور آپ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے بٹھایا تھا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کھڑی ہوگئی چناں چہ آپ گر پڑے اور حضرت صفیہ بھی گر پڑیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم میں سے کسی نے بھی حضور علیہ السلام اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف نہ دیکھا حتیٰ کہ آپ کھڑے ہوئے اور ان کا پردہ کروایا۔ فرماتے ہیں ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہوئی پھر ہم مدینہ طیبہ میں داخل ہوے اور آپ کی ازواج مطہرات کی کنیزیں آکر حضرت صفیہ کو دیکھنے اور ان کے گرنے پر افسوس کرنے لگیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؛جلد٢ص١٠٤٧؛حدیث نمبر ٣٣٩٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ، فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي، فَقَالَ: «أَصْلِحِيهَا»، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ، فَلْيَأْتِنَا بِهِ»، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ، وَفَضْلِ السَّوِيقِ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ، وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا، فَرَفَعْنَا مَطِيَّنَا، وَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ، قَالَ: وَصَفِيَّةُ خَلْفَهُ، قَدْ أَرْدَفَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ، قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَلَا إِلَيْهَا، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَتَرَهَا، قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ: «لَمْ نُضَرَّ»، قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ، فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3399

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی عدت ختم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا حضرت زینب سے میرا ذکر کرو چناں چہ حضرت زید رضی اللہ عنہ حضرت زینب کے پاس گئے اور وہ آٹے کا خمیر بنا رہی تھیں حضرت زید فرماتے ہیں جب میں نے ان کو دیکھا تو میرے دل میں ان کی اس قدر عظمت پیدا ہوئی کہ میں ان کی طرف دیکھ نہ سکا کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا ذکر کیا تھا پس میں ایڑیوں کے بل گھوما اور پیٹھ پھیر کر کہا اے زینب!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو پیغام بھیجا ہے انہوں نے فرمایا پس وہ اپنی سجدگاہ میں کھڑی ہوئیں اور قرآن مجید نازل ہوا۔پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم اجازت کے بغیر داخل ہوئے۔ حضرت انس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا جب دن پھیل گیا پس لوگ چلے گئے اور کچھ لوگ کھانا کھانے کے بعد آپ کے خانہ اقدس میں بیٹھے باتیں کرنے لگے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور میں آپ کے پیچھے پیچھے تھا آپ اپنی ازواج مطہرات کی طرف تشریف لے گئے اور ان کو سلام کرنے لگے انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ!آپ اپنی زوجہ کو کیسا پایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں میں نے آپ کو خبر دی کہ لوگ جاچکے ہیں یا آپ نے مجھے بتایا۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے حتیٰ کہ گھر میں داخل ہوے میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور پھر رب کا حکم نازل ہوا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر لوگوں کو وہ وعظ کیا گیا جو کیا گیا ابن رافع نے اپنی روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے(کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بلااجازت داخل نہ ہواور نہ کھانے کے منتظر رہو،اور اللہ تعالیٰ حق بات(کے بیان)سے حیا نہیں فرماتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٤٨؛حدیث نمبر ٣٤٠٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثُ بَهْزٍ، قَالَ: لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ: «فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ»، قَالَ: فَانْطَلَقَ زَيْدٌ حَتَّى أَتَاهَا وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا، قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي، حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَهَا، فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي، وَنَكَصْتُ عَلَى عَقِبِي، فَقُلْتُ: يَا زَيْنَبُ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ، قَالَتْ: مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُوَامِرَ رَبِّي، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ، وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ، قَالَ، فَقَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ، فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ، فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ، وَيَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟ قَالَ: فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا أَوْ أَخْبَرَنِي، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ، فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَنَزَلَ الْحِجَابُ، قَالَ: وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي حَدِيثِهِ: {لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} [الأحزاب: ٥٣] إِلَى قَوْلِهِ {وَاللهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ} [الأحزاب: ٥٣]

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3400

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کا اس طرح ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو ولیمہ آپ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا کیا کیونکہ آپ نے بکری ذبح کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٤٩؛حدیث نمبر ٣٤٠١)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ - وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ: عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ - مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً "

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3401

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمہ سے زیادہ اور افضل ولیمہ کسی زوجہ کا نہیں کیا۔(راوی)حضرت ثابت بنانی نے پوچھا کیا ولیمہ کیا تھا؟فرمایا ان کو روٹی اور گوشت کھلایا حتیٰ کہ انہوں نے(سیر ہونے کی وجہ سے)چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٤٩؛حدیث نمبر ٣٤٠٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: «مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أَكْثَرَ - أَوْ أَفْضَلَ - مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ»، فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ: بِمَا أَوْلَمَ؟ قَالَ: «أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3402

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا:جب نکاح کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش سے۔لوگوں کو بلایا اور کھانا کھلایا پھر وہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیار ہوتے ہیں۔گویا کہ کھڑے ہوتے ہیں،پھر بھی وہ لوگ نہیں اٹھے،پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ (یہ نہیں اٹھتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ان میں سے کچھ لوگ اٹھ گئے اور عاصم اور ابن عبدالاعلیٰ نے اپنی روایتوں میں یہ بات زیادہ کی کہ تین آدمی ان میں سے بیٹھے رہ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ اندر جائیں تو دیکھا کہ لوگ بیٹھے ہیں۔پھر وہ لوگ اٹھے اور چلے گئے اور میں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور گھر میں داخل ہوئے۔سو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} [الأحزاب: ٥٣] إِلَى قَوْلِهِ {إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا} [الأحزاب: ٥٣] (ترجمہ)"اے ایمان والوں!نبی کے گھروں میں بلااجازت داخل نہ ہو نہ کھانے کے وقت کے منتظر رہو ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ لیکن کھانا کھانے کے بعد اٹھ کھڑے ہوا کرو باتیں کرنے میں نہ لگا کرو تمہاری یہ حرکتیں نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کو تکلیف دیتی ہیں مگر وہ شرم کی وجہ سے تمہیں کچھ نہیں کہتے اور اللہ تعالیٰ حق بات کہنے میں حیا نہیں فرماتا یہ بات اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑی ہے"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٥٠؛حدیث نمبر ٣٤٠٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، كُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ»، قَالَ: «فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ، فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ» - زَادَ عَاصِمٌ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى فِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ: فَقَعَدَ ثَلَاثَةٌ - «وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا»، قَالَ: «فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا»، قَالَ: " فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ، فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} [الأحزاب: ٥٣] إِلَى قَوْلِهِ {إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا} [الأحزاب: ٥٣]

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3403

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا:مجھے حجاب(پردہ)کے بارے میں زیادہ علم ہے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پردے کے بارے میں مجھ سے سوال کیا کرتے تھے حضرت انس فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے شادی کی فرماتے ہیں یہ شادی مدینہ طیبہ میں ہوئی تھی سورج بلند ہونے کے بعد سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیٹھے اور چند لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعد اس کے کہ سب لوگ چلے گئے اور وہ لوگ یہاں تک بیٹھے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا۔یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچے۔پھر خیال کیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے۔اور لوٹے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹا تو دیکھا کہ وہ لوگ پھر بھی بیٹھے ہوئے ہیں اسی جگہ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر لوٹے اور میں بھی دوبارہ لوٹا یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کےحجرے تک پہنچے اور پھر لوٹے اور میں بھی لوٹا سو دیکھا کہ وہ لوگ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیت اتری۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٥٠؛حدیث نمبر ٣٤٠٤)

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِح، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ، لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، قَالَ أَنَسٌ: «أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ»، قَالَ: «وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَى، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ، فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ الثَّانِيَةَ، حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ، فَرَجَعَ فَرَجَعَتْ، فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ، وَأَنْزَلَ اللهُ آيَةَ الْحِجَابِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3404

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نکاح کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور داخل ہوئے اپنی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کچھ ملیدہ بنایا اور اس کو ایک طباق میں رکھا اور کہا کہ اے انس!اس کو لے جا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کر کہ یہ میری ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ہے اور سلام عرض کیا ہے اور عرض کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں بہت چھوٹا ہدیہ ہے ہماری طرف سے اے اللہ کے رسول؟سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں وہ لے گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور میں نے ان سے عرض کیا کہ میری ماں نے آپ کی خدمت میں مجھے بھیجا ہے اور سلام کہا ہے اور عرض کرتی ہیں کہ یہ ہماری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب مبارک میں تھوڑا سا ہدیہ ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ”رکھ دو۔“اور فرمایا:”کہ جاؤ اور فلاں فلاں شخص کو ہمارے پاس بلاؤ اور جو تم کو مل جائے۔“اور کئی شخصوں کا نام لیا۔سو میں ان کو بھی لایا جن کا نام لیا اور جو مجھے مل گیا۔میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہاکہ پھر وہ سب لوگ گنتی میں کتنے تھے؟انہوں نے کہا:قریب تین سو کے۔اور مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ اے انس!وہ طباق لاؤ۔“ اور وہ لوگ اندر آئے۔یہاں تک کہ صفہ اور حجرہ بھر گیاپھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ دس دس آدمی حلقہ باندھتے جائیں (یعنی جب وہ کھا لیں پھر دوسرے دس بیٹھیں) اور چاہیے کہ ہر شخص اپنے نزدیک سے کھائے۔“(یعنی کھانے کی چوٹی نہ توڑے کہ برکت وہیں سے نازل ہوتی ہے) پھر ان لوگوں نے یہاں تک کھایا کہ سب سیر ہو گئے اور ایک گروہ جاتا تھا کھا کر پھر دوسرا آتا تھا۔یہاں تک کہ سب لوگ کھا چکے۔تب مجھ سے فرمایا:کہ”اٹھا لے انس!“اور میں نے اس برتن کو اٹھایا تو معلوم نہ ہوتا تھا کہ جب میں نے رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا اس وقت اس میں کھانا زیادہ تھا اور بعض لوگ بیٹھے باتیں کرنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ(یعنی ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا) دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھیں اور ان لوگوں کا بیٹھنا آپ کو گراں گزرا۔چناں چہ آپ اپنی ازواج مطہرات کی طرف تشریف لے گئے پھر واپس تشریف لائے،پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ان لوگوں نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہم گراں ہوئے۔جلد دروازے پر گئے اور باہر نکلے سب کے سب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے یہاں تک کہ پردہ ڈال دیا اور اندر تشریف لے گئے میں حجرے میں بیٹھا ہوا تھا آپ فوراً باہر تشریف لائے اور یہ آیت نازل ہوئی: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَ مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِى النَّبِىَّ"(ترجمہ)"اے ایمان والو!نبی کے گھر میں داخل نہ ہوا کرو البتہ یہ کہ تمہیں کھانے کی اجازت دی جائے اور کھانے کے وقت کا انتظار نہ کرو جب بلاے جائے تو داخل ہوجب کھا لو تو چلے جاؤ اور باتیں نہ کرتے رہو اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت ہوتی ہے"۔ جعد جو راوی ہیں انہوں نے کہا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان آیات کے نزول کا واقعہ مجھے سب سے زیادہ یاد ہے اور(اس کے بعد)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو پردہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٥١؛حدیث نمبر ٣٤٠٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ، قَالَ: فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا، فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ، فَقَالَتْ: يَا أَنَسُ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْ: بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْكَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «ضَعْهُ»، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبْ، فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا، وَمَنْ لَقِيتَ»، وَسَمَّى رِجَالًا، قَالَ: فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى، وَمَنْ لَقِيتُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: عَدَدَ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: زُهَاءَ ثَلَاثِمِائَةٍ، وَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَنَسُ، هَاتِ التَّوْرَ»، قَالَ: فَدَخَلُوا حَتَّى امْتَلَأَتِ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ»، قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، قَالَ: فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ، وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ، حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ، فَقَالَ لِي: «يَا أَنَسُ، ارْفَعْ»، قَالَ: فَرَفَعْتُ، فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ، أَمْ حِينَ رَفَعْتُ، قَالَ: وَجَلَسَ طَوَائِفُ مِنْهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ، فَثَقُلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ رَجَعَ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ، ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَابْتَدَرُوا الْبَابَ، فَخَرَجُوا كُلُّهُمْ، وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَرْخَى السِّتْرَ، وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ عَلَيَّ، وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ} [الأحزاب: ٥٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ الْجَعْدُ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الْآيَاتِ. وَحُجِبْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3405

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے لئے ملیدہ ہدیہ بھیجا ایک برتن میں پتھر کے،اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ جو مسلمان تم کو ملے اسے بلا لاؤ۔“ سو میں،جو ملا اسے بلا لایا۔اور وہ لوگ سب داخل ہونے لگے اور کھانے لگے اور نکلتے جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ کھانے پر رکھ کر دعا فرمائی اور جو کلمات اللہ تعالیٰ کو منظور تھے آپ نے اس کھانے پر پڑھے اور میں نے بھی جو مجھے ملا کسی کو نہ چھوڑا ضرور بلا لایا۔اور سب نے کھایا یہاں تک کہ سیر ہو گئے اور باہر نکلے۔اور ایک گروہ ان میں سے بیٹھا رہا۔اور بہت لمبی باتیں کرتا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شرماتے تھے کہ ان کو کچھ کہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ان کو گھر میں چھوڑ دیا۔اور اللہ تعالیٰ نے وہ آیتیں اتاریں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ کھانے کے وقت کے منتظر نہ رہو بلکہ جب بلایا جائے تو داخل ہو حتیٰ کہ جب کھانا کھالو تو اٹھ کھڑے ہو باتیں کرنے میں نہ لگے رہو تمہاری یہ حرکتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتی ہیں مگر وہ شرم کی وجہ سے تمہیں کچھ نہیں کہتے اور اللہ تعالیٰ حق بات کہنے میں شرم نہیں کرتا(آخر آیت تک)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٥٢؛حدیث نمبر ٣٤٠٦)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ أَهْدَتْ لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَقَالَ أَنَسٌ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ، فَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»، فَدَعَوْتُ لَهُ مَنْ لَقِيتُ، فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ، وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ، فَدَعَا فِيهِ، وَقَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَخَرَجُوا وَبَقِيَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} [الأحزاب: ٥٣]- قَالَ قَتَادَةُ: غَيْرَ مُتَحَيِّنِينَ طَعَامًا {وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا} [الأحزاب: ٥٣] حَتَّى بَلَغَ {ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ} [الأحزاب: ٥٣]

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3406

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں حاضر ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛ترجمہ؛دعوت قبول کرنے کا حکم؛جلد٢ص١٠٥٢؛حدیث نمبر ٣٤٠٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3407

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو چاہیے کہ وہ قبول کرے۔خالد بن حارث کہتے ہیں کہ حضرت عبید اللہ(راوی)اسے شادی کی دعوت پر محمول کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤٠٨)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ، فَلْيُجِبْ»، قَالَ خَالِدٌ: فَإِذَا عُبَيْدُ اللهِ يُنَزِّلُهُ عَلَى الْعُرْسِ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3408

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو شادی ولیمہ کی طرف بلایا جائے تو وہ(اس دعوت کو)قبول کرے ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤٠٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ، فَلْيُجِبْ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3409

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دعوت میں شرکت کرو جب تمہیں دعوت دی جاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤١٠)

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3410

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے تھے جب تم میں سے کسی ایک کو اس کو اس کا(مسلمان)بھائی دعوت دے تو وہ قبول کرے شادی ہو یا کوئی اور موقعہ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤١١)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3411

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو شادی وغیرہ کی دعوت دی جائے وہ قبول کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤١٢)

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دُعِيَ إِلَى عُرْسٍ أَوْ نَحْوِهِ، فَلْيُجِبْ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3412

حضرت عبداللہ(بن عمر)رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دعوت دی جائے تو اس میں شرکت کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤١٣)

حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3413

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں دعوت دی جاے تو اس کو قبول کرو حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ شادی اور اس کے علاوہ دعوت میں تشریف لے جاتے حالانکہ آپ روزہ دار ہوتے ہیں ھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤١٤)

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجِيبُوا هَذِهِ الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ لَهَا»، قَالَ: «وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَأْتِي الدَّعْوَةَ فِي الْعُرْسِ، وَغَيْرِ الْعُرْسِ، وَيَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3414

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں بکری کے پاے کی طرف دعوت دی جائے تو(بھی)قبول کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤١٥)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا دُعِيتُمْ إِلَى كُرَاعٍ، فَأَجِيبُوا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3415

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرے پس اگر چاہے تو کھاے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤١٦)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ، فَلْيُجِبْ، فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ»، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى: «إِلَى طَعَامٍ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3416

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤١٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤١٧)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3417

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرے پس اگر روزہ دار ہو تو نماز پڑھے اور روزے سے نہ ہو تو کھانا کھاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا، فَلْيُصَلِّ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا، فَلْيَطْعَمْ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3418

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دعوت ولیمہ کا وہ کھانا برا ہے جس میں مال دار لوگوں کو بلایا جائے اور مساکین کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت میں نہیں گیا اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤١٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى إِلَيْهِ الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ، فَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3419

حضرت سفیان فرماتے ہیں میں نے حضرت زہری سے پوچھا اے ابوبکر(ان کی کنیت)یہ حدیث کس طرح ہے کہ سب سے برا کھانا مال دار لوگوں کا کھانا ہے اور وہ ہنس پڑے اور فرمایا حدیث اس طرح نہیں کہ مال دار لوگوں کا کھانا برا ہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میرے والد مال دار تھے اس لئے مجھے اس حدیث سے پریشانی رہتی تھی پس میں نے حضرت زہری سے یہ بات پوچھی۔انہوں نے فرمایا مجھ سے عبد الرحمن اعرج نے بیان کیا انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے..... آگے گزشتہ حدیث کی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٥؛حدیث نمبر ٣٤٢٠)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: يَا أَبَا بَكْرٍ، كَيْفَ هَذَا الْحَدِيثُ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ؟ فَضَحِكَ، فَقَالَ: لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ أَبِي غَنِيًّا، فَأَفْزَعَنِي هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3420

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سب سے برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے،اس کے بعد حدیث نمبر ٢٤١٩ کے مثل مروی ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤٢١)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3421

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٢١کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٥؛حدیث نمبر ٣٤٢٢)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3422

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے کہ اس سے اس کو روکا جائے جو آنا چاہتا ہے اور اس کو دعوت دی جاے جو انکار کرتا ہے نیز جو شخص دعوت قبول نہ کرے اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٥؛حدیث نمبر ٣٤٢٣)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْأَعْرَجَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا، وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3423

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت رفاعہ کی بیوی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں رفاعہ کے نکاح میں تھی تو انہوں نے مجھے طلاق مغلظہ دی پھر میں نے حضرت عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا لیکن ان کے پاس تو صرف کپڑے کے پلو کی طرح تھا(نامردی کی طرف اشارہ ہے)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراے اور فرمایا کیا تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟نہیں یہ نہیں ہوسکتا حتی کہ تم ان کی مٹھاس چکھو اور وہ تمہاری مٹھاس چکھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور علیہ السلام کے پاس تھے اور حضرت خالد بن سعید دروازے پرمنتظر تھے کہ ان کو اجازت دی جائے پھر انہوں نے پکارا اے ابوبکر کیا آپ سن نہیں رہے کہ یہ حضور علیہ السلام کے سامنے کس طرح کی باتیں کر رہی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٥؛حدیث نمبر ٣٤٢٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ، فَطَلَّقَنِي، فَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ»، قَالَتْ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ وَخَالِدٌ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَنَادَى: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3424

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انکو خبر دی کہ حضرت رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دی اس کے بعد اس نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں حضرت رفاعہ کے عقد میں تھی تو انہوں نے مجھے تین طلاقیں دیں اس کے بعد میں نے حضرت عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کیا اور اللہ کی قسم ان کے پاس تو پلو(پھندے)کی طرح ہے پس اس نے اپنے کپڑے کا پلو پکڑ کر بتایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراے اور فرمایا شاید تم حضرت رفاعہ کی طرف واپسی کا ارادہ کرتی ہو نہیں ایسا نہیں ہوسکتا حتیٰ کہ وہ تمہارا ذائقہ چکھیں اور تم ان کا ذائقہ چکھو۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب کہ حضرت خالد بن سعید بن عاص دروازے پر بیٹھے انتظار کر رہے تھے اور ان کو اجازت نہیں ملی تھی وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز دینے لگے کہ اے ابوبکر!آپ اس عورت کو ڈانٹتے کیوں نہیں یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کہ رہی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٦؛حدیث نمبر ٣٤٢٥)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَبَتَّ طَلَاقَهَا، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ، فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّهُ وَاللهِ، مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ الْهُدْبَةِ، وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا، فَقَالَ: «لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ، وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ»، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ، لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، قَالَ: فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ: أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3425

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رفاعہ قُرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پھر انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت رفاعہ نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں..... آخر تک حدیث نمبر ٢٤٢٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٧؛حدیث نمبر ٣٤٢٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3426

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس سے کوئی شخص نکاح کرے پھر اسے طلاق دے دے پھر وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے اور وہ جماع سے پہلے طلاق دے دے تو کیا یہ پہلے خاوند کے لئے حلال ہوگی فرمایا نہیں حتیٰ کہ وہ مرد اس کی مٹھاس چکھ لے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٧؛حدیث نمبر ٣٤٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ، فَيُطَلِّقُهَا فَتَتَزَوَّجُ رَجُلًا، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ؟ قَالَ: «لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3427

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٢٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٧؛حدیث نمبر ٣٤٢٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3428

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کیا اور اس نے جماع سے پہلے طلاق دی اب پہلے خاوند نے اس سے نکاح کرنا چاہا اور حضور علیہ السلام سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا نہیں کرسکتا حتیٰ کہ دوسرا خاوند اس کا ذائقہ چکھے جو پہلے خاوند نے چکھا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٧؛حدیث نمبر ٣٤٢٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَأَرَادَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «لَا، حَتَّى يَذُوقَ الْآخِرُ مِنْ عُسَيْلَتِهَا مَا ذَاقَ الْأَوَّلُ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3429

ایک اور سند کے ساتھ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٢٤٢٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٧؛حدیث نمبر ٣٤٣٠)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى: عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3430

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے تو اگر یہ کلمات پڑھے:"بِاسْمِ اللهِ، اللهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا" (ترجمہ)"اللہ کے نام سے،یااللہ!ہمیں شیطان سے دور رکھ اور شیطان کو ہم سے دور رکھ" تو اگر اس کے مقدر میں،اولاد ہوگی تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يَقُولَهُ عِنْدَ الْجِمَاعِ؛جلد٢ص١٠٥٨؛حدیث نمبر ٣٤٣١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ، قَالَ: بِاسْمِ اللهِ، اللهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا "،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3431

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٣١ کی مثل مروی ہے البتہ بعض راویوں نے بسم اللہ کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يَقُولَهُ عِنْدَ الْجِمَاعِ؛جلد٢ص١٠٥٨؛حدیث نمبر ٣٤٣٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنِ الثَّوْرِيِّ، كِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ، غَيْرَ أَنَّ شُعْبَةَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ: «بِاسْمِ اللهِ» وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ: «بِاسْمِ اللهِ»، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ: قَالَ مَنْصُورٌ: أُرَاهُ قَالَ: «بِاسْمِ اللهِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3432

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہودی کہتے تھے جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی جانب سے ہوتے ہوئے شرمگاہ کی طرف آے تو بچہ بھینگا(پیدا)ہوتا ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: "تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتوں میں جیسے چاہو جاؤ" (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ جِمَاعِهِ امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا، مِنْ قُدَّامِهَا، وَمِنْ وَرَائِهَا مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلدُّبُرِ؛جلد٢ص١٠٥٨؛حدیث نمبر ٣٤٣٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: " كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ: إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا، كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ، فَنَزَلَتْ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] "

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3433

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہودی کہتے تھے جب عورت کے پاس اس کے پچھلے حصے کی طرف سے ہوکر جائے پھر وہ حاملہ ہو جائے تو اس کا بچہ بھینگا ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی: "تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پس اپنی کھیتوں میں جیسے چاہو جاؤ" (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ جِمَاعِهِ امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا، مِنْ قُدَّامِهَا، وَمِنْ وَرَائِهَا مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلدُّبُرِ؛جلد٢ص١٠٥٨؛حدیث نمبر ٣٤٣٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، " أَنَّ يَهُودَ كَانَتْ تَقُولُ: إِذَا أُتِيَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ دُبُرِهَا، فِي قُبُلِهَا، ثُمَّ حَمَلَتْ، كَانَ وَلَدُهَا أَحْوَلَ "، قَالَ: " فَأُنْزِلَتْ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] "،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3434

ایک اور سند کے ساتھ متعدد راوی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی بات روایت کرتےہیں البتہ حضرت زہری کی روایت میں ہے اگر چاہے تو الٹا لٹا کر کرے اور چاہے تو یہ صورت اختیار کرے البتہ سوراخ ایک ہی استعمال کرے۔(یعنی شرمگاہ) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ جِمَاعِهِ امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا، مِنْ قُدَّامِهَا، وَمِنْ وَرَائِهَا مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلدُّبُرِ؛جلد٢ص١٠٥٩؛حدیث نمبر ٣٤٣٥)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ النُّعْمَانِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: إِنْ شَاءَ مُجَبِّيَةً، وَإِنْ شَاءَ غَيْرَ مُجَبِّيَةٍ، غَيْرَ أَنَّ ذَلِكَ فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3435

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے خاوند کا بستر چھوڑ کر رات گزارے فرشتے اس پر صبح تک لعنت بھیجے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ امْتِنَاعِهَا مِنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا؛ترجمہ؛عورت کا اپنے خاوند کا بستر چھوڑنا منع ہے؛جلد٢ص١٠٥٩؛حدیث نمبر ٣٤٣٦)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ، هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3436

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اس میں ہے حتی کہ وہ لوٹ آئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ امْتِنَاعِهَا مِنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا؛جلد٢ص١٠٦٠؛حدیث نمبر ٣٤٣٧)

وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «حَتَّى تَرْجِعَ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3437

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلاے لیکن وہ انکار کردے تواللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ(خاوند)اس سے ناراض ہوجائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ امْتِنَاعِهَا مِنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا؛جلد٢ص١٠٦٠؛حدیث نمبر ٣٤٣٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا، فَتَأْبَى عَلَيْهِ، إِلَّا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3438

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مرد اپنی بیوی کو بستر پر بلاے اور وہ نہ آئے پس وہ(خاوند)اس پر غصے کی حالت میں رات گزارے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ امْتِنَاعِهَا مِنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا؛جلد٢ص١٠٦٠؛حدیث نمبر ٣٤٣٩)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلَمْ تَأْتِهِ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3439

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن بدترین انسان وہ مرد ہوگا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور وہ اس کے پاس جاتی ہے پھر وہ اس کے راز کو پھیلا دیتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ إِفْشَاءِ سِرِّ الْمَرْأَةِ؛ترجمہ؛عورت کا راز ظاہر کرنے کی ممانعت؛جلد٢ص١٠٦٠؛حدیث نمبر ٣٤٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ، وَتُفْضِي إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3440

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ مرد اپنی عورت کے پاس جاے عورت اپنا جسم اس کے حوالے کردے پھر وہ مرد اس بھید کو ظاہر کردے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ إِفْشَاءِ سِرِّ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٦١؛حدیث نمبر ٣٤٤١)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْأَمَانَةِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ، وَتُفْضِي إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا»، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: «إِنَّ أَعْظَمَ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3441

ابن مُحَیریز بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت ابو صرمہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ابو صرمہ نے ان سے پوچھا اے ابو سعید!کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کا تذکرہ سنا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کا تذکرہ سنا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنو مصطلق میں شرکت کی تو ہم نے عرب کی معزز عورتوں کو قید کرلیا ہمیں عورتوں سے الگ ہوے کئی دن ہوچکے تھے اور ہم نے چاہا کہ ہم کفار سے فدیہ لے کر ان عورتوں کو چھوڑ دیں اور ہم نے یہ بھی چاہا کہ ان عورتوں سے نفع حاصل کریں اور عزل کریں(انزال کے وقت الگ ہوجائے تاکہ حمل نہ ہو) پھر ہم نے سوچا کہ ہم عزل کر رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں تو کیوں نہ ہم آپ سے اس کا حکم پوچھ لیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایاایسا نہ کرو تو کوئی حرج نہیں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک جس روح کے پیدا ہونے کے بارے میں لکھ دیا ہے وہ پیدا ہوکر رہے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛ترجمہ؛عزل کا حکم؛جلد٢ص١٠٦١؛حدیث نمبر٣٤٤٢)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةَ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَذْكُرُ الْعَزْلَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ بَلْمُصْطَلِقِ، فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ، فَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ، وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَاءِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ، فَقُلْنَا: نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا لَا نَسْأَلُهُ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ «لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، مَا كَتَبَ اللهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِلَّا سَتَكُونُ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3442

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک جس کو پیدا کرنے والا ہے اس نے وہ لکھ دیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٢؛حدیث نمبر ٣٤٤٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فِي مَعْنَى حَدِيثِ رَبِيعَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَإِنَّ اللهَ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3443

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے(ایک جنگ میں)کچھ عورتوں کو قید کرلیا تو ہم ان سے عزل کرتے تھے پھر ہم نے اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا تم ایسا ضرور کروگے،تم ایسا ضرور کروگے،تم ایسا ضرور کرو گے۔قیامت تک جس روح نے پیدا ہونا ہے وہ پیدا ہوکر رہے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٢؛حدیث نمبر ٣٤٤٤)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَصَبْنَا سَبَايَا، فَكُنَّا نَعْزِلُ، ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَنَا: «وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ؟ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ؟ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ؟ مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3444

حضرت انس بن سیرین کہتے ہیں میں نے معبد بن سیرین سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ بات حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنی ہے فرمایا ہاں انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ تم پر کوئی حرج نہیں اگر تم یہ کام نہ کرو یہ تو مقدر ہوچکی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٢؛حدیث نمبر ٣٤٤٥)

وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - قَالَ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3445

حضرت انس بن سیرین نے اسی سند سے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ کام نہ کرو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ چیز مقدر ہوچکی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٢؛حدیث نمبر ٣٤٤٦)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَبَهْزٌ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْعَزْلِ: «لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ»، وَفِي رِوَايَةِ بَهْزٍ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3446

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اگر تم یہ کام نہ کرو تو کوئی حرج نہیں یہ تو تقدیر کی بات ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٢؛حدیث نمبر ٣٤٤٧)

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: «لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ»، قَالَ: مُحَمَّدٌ: وَقَوْلُهُ: «لَا عَلَيْكُمْ» أَقْرَبُ إِلَى النَّهْيِ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3447

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا ایسا کیوں کرتے ہو؟انہوں نے بتایا کہ ایک شخص کی بیوی دودھ پلاتی ہے اور وہ اس کا قرب اختیار کرتا ہے اور اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا اسی طرح ایک شخص کی لونڈی ہوتی ہے وہ اس کے قریب جاتا ہے اور اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا تم پر کوئی حرج نہیں اگر تم ایسا نہ کرو یہ تقدیر میں لکھا جاچکا ہے حضرت حسن نے یہ حدیث سن کر فرمایا قسم بخدا یہ تو ناراضگی کا اظہار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٣؛حدیث نمبر ٣٤٤٨)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: فَرَدَّ الْحَدِيثَ حَتَّى رَدَّهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «وَمَا ذَاكُمْ؟» قَالُوا: الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ، فَيُصِيبُ مِنْهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، وَالرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ فَيُصِيبُ مِنْهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، قَالَ: «فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَاكُمْ، فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ»، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْحَسَنَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَكَأَنَّ هَذَا زَجْرٌ.

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3448

ایک سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٤٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٣؛حدیث نمبر ٣٤٤٩)

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثْتُ مُحَمَّدًا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ - يَعْنِي حَدِيثَ الْعَزْلِ - فَقَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3449

حضرت معبد بن سیرین فرماتے ہیں ہم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں کچھ سنا ہے انہوں نے فرمایا ہاں...... پھر حدیث نمبر ٢٤٤٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٣؛حدیث نمبر ٣٤٥٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قُلْنَا لِأَبِي سَعِيدٍ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَذْكُرُ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ إِلَى قَوْلِهِ الْقَدَرُ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3450

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے پوچھا تم میں سے کوئی شخص ایسا کیوں کرتا ہے آپ نے فرمایا کہ تم یہ کام نہ کرو کیونکہ جو نفس بھی پیدا ہونے والا ہے اللہ تعالیٰ اسے پیدا کرکے رہے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٣,حدیث نمبر ٣٤٥١)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُبَيْدُ اللهِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيح، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزْعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " وَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ؟ - وَلَمْ يَقُلْ: فَلَا يَفْعَلْ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ - فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللهُ خَالِقُهَا "

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3451

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ہرپانی(مادہ منویہ)سے بچہ پیدا نہیں ہوتا اور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے تو کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٣؛حدیث نمبر ٣٤٥٢)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، سَمِعَهُ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: «مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ، وَإِذَا أَرَادَ اللهُ خَلْقَ شَيْءٍ، لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3452

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٤٥٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٤؛حدیث نمبر ٣٤٥٣)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3453

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میری ایک لونڈی ہے جو ہمارے گھر کے کام کاج کرتی ہے اور پانی لاتی ہے اور میں اس سے مقاربت کرتا ہوں لیکن میں اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا آپ نے فرمایا اگر چاہو تو اس سے عزل کرو لیکن جو کچھ مقدر ہے وہ پیدا ہوگا۔ پھر وہ شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ وہ لونڈی حاملہ ہوگئی ہے آپ نے فرمایا میں نے تجھے کہا تھا کہ عنقریب وہ کچھ ہو جائے گا جو مقدر ہوچکا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٤؛حدیث نمبر ٣٤٥٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ لِي جَارِيَةً، هِيَ خَادِمُنَا وَسَانِيَتُنَا، وَأَنَا أَطُوفُ عَلَيْهَا، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، فَقَالَ: «اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا»، فَلَبِثَ الرَّجُلُ، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَبِلَتْ، فَقَالَ: «قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3454

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میری ایک لونڈی ہے اور میں اس سے عزل کرنا چاہتا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا اسے عزل روک نہیں سکتا۔ فرماتے ہیں پھر وہ شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے جس لونڈی کا ذکر کیا تھا وہ حاملہ ہوگئی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٤؛حدیث نمبر ٣٤٥٥)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً لِي، وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ ذَلِكَ لَنْ يَمْنَعَ شَيْئًا أَرَادَهُ اللهُ» قَالَ: فَجَاءَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْجَارِيَةَ الَّتِي كُنْتُ ذَكَرْتُهَا لَكَ حَمَلَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3455

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٥٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٥؛حدیث نمبر ٣٤٥٦)

وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ، قَاصُّ أَهْلِ مَكَّةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ النَّوْفَلِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3456

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اترتا تھا اور اسحٰق کی روایت میں یہ بھی ہے کہ سفیان نے کہا کہ اگر عزل برا ہوتا تو قرآن میں اس کی نہی اترتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٥؛حدیث نمبر ٣٤٥٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «كُنَّا نَعْزِلُ، وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ»، زَادَ إِسْحَاقُ، قَالَ سُفْيَانُ: لَوْ كَانَ شَيْئًا يُنْهَى عَنْهُ لَنَهَانَا عَنْهُ الْقُرْآنُ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3457

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کیا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٥؛حدیث نمبر ٣٤٥٨)

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: «لَقَدْ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3458

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم عہد رسالت میں عزل کرتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر پہنچی تو آپ نے منع نہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٥؛حدیث نمبر ٣٤٥٩)

وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَنْهَنَا»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3459

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسی لونڈی لائی گئی جس کا زمانہ ولادت قریب تھا آپ نے فرمایا شاید یہ شخص اس سے جماع کرنا چاہتا ہے حاضرین نے عرض کیا جی ہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ قبر میں جائے وہ اس بچے کو کیسے وارث بناے گا جب کہ وہ اس کے لیے حلال نہیں اور اس سے کیسے خدمت لے گا جب کہ وہ اس کے لیے حلال نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ وَطْءِ الْحَامِلِ الْمَسْبِيَّةِ؛ترجمہ؛حاملہ قیدی عورت سے جماع کی ممانعت؛جلد٢ص١٠٦٥؛حدیث نمبر ٣٤٦٠)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَتَى بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ، فَقَالَ: «لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا»، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟»،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3460

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٦٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ وَطْءِ الْحَامِلِ الْمَسْبِيَّةِ؛جلد٢ص١٠٦٦؛حدیث نمبر ٣٤٦١)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3461

حضرت جدامہ بنت وہب الاسدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا غِیلہ(دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنا)سے منع کرنے کا ارادہ کیا حتیٰ کہ مجھے بتایا گیا کہ رومی اور فارسی یہ عمل کرتے ہیں لیکن ان کی اولاد کو کوئی ضرر نہیں ہوتا۔ حضرت خلف کی روایت میں جذامہ ہے لیکن امام مسلم فرماتے ہیں صحیح بات یہ ہے کہ یہ جدامہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ الْغِيلَةِ، وَهِيَ وَطْءُ الْمُرْضِعِ، وَكَرَاهَةِ الْعَزْلِ؛دودھ پلانے والی کے ساتھ جماع کی اجازت اور عزل کی کراہت؛جلد٢ص١٠٦٦؛حدیث نمبر ٣٤٦٢)

وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ، حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ، فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ»، قَالَ مُسْلِمٌ: " وَأَمَّا خَلَفٌ، فَقَالَ: عَنْ جُذَامَةَ الْأَسَدِيَّةِ، وَالصَّحِيحُ مَا قَالَهُ يَحْيَى: بِالدَّالِ "

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3462

حضرت جدامہ بنت وہب(جو حضرت عکاشہ کی بہن ہیں)فرماتی ہیں کچھ لوگوں کے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ فرما رہے تھے میں نے ارادہ کیا کہ غِیلہ سے منع کروں پھر میں نے روم اور ایران والے کو دیکھا کہ وہ غِیلہ کرتے ہیں لیکن ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا پھر انہوں نے عزل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ زندہ درگور کرنا ہے۔ عبیداللہ نے اپنی حدیث میں المُقری سے یہ اضافہ کیا ہے اور جب زندہ درگور کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا(کہ اس کو کس گناہ کی پاداش میں قتل کیا گیا)(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ الْغِيلَةِ، وَهِيَ وَطْءُ الْمُرْضِعِ، وَكَرَاهَةِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٧؛حدیث نمبر ٣٤٦٣)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، أُخْتِ عُكَّاشَةَ، قَالَتْ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ، فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ وَفَارِسَ، فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلَادَهُمْ، فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا»، ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ»، زَادَ عُبَيْدُ اللهِ فِي حَدِيثِهِ: عَنِ الْمُقْرِئِ، وَهِيَ: {وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ}،

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3463

حضرت جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا...... پھر حدیث نمبر ٣٤٦٣ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں غِیلہ کی بجائے الغیال کا لفظ ہے(معنیٰ ایک ہی ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ الْغِيلَةِ، وَهِيَ وَطْءُ الْمُرْضِعِ، وَكَرَاهَةِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٧؛حدیث نمبر ٣٤٦٤)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ فِي الْعَزْلِ، وَالْغِيلَةِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «الْغِيَالِ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3464

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تم یہ کام کیوں کرتے ہو اس نے کہا مجھے اس کے بچے کا خوف ہے آپ نے فرمایا اگر یہ عمل مضر ہوتا تو فارس اور روم والے کو ضرر ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ الْغِيلَةِ، وَهِيَ وَطْءُ الْمُرْضِعِ، وَكَرَاهَةِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٧؛حدیث نمبر ٣٤٦٥)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَ وَالِدَهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ؟» فَقَالَ الرَّجُلُ: أُشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا، أَوْ عَلَى أَوْلَادِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كَانَ ذَلِكَ ضَارًّا ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ»، وقَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ: «إِنْ كَانَ لِذَلِكَ فَلَا، مَا ضَارَ ذَلِكَ فَارِسَ، وَلَا الرُّومَ»

Muslim Shareef, Kitabun Nikah, Hadees No. 3465

Muslim Shareef : Kitabun Nikah

|

Muslim Shareef : کتاب النکاح

|

•