
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جارہا تھا تو ان کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی وہ دونوں کھڑے ہوکر باتیں کرنے لگے پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اے عبد الرحمن!کیا ہم کسی نوجوان لونڈی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں شاید وہ آپ کو آپ کے گزشتہ دنوں کی کچھ یاد دلا دے۔ راوی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم یہ کہتے ہو تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا اے نوجوانوں کے گروہ!تم میں سے جو جماع کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرے کیونکہ یہ آنکھوں کو زیادہ جھکاتا ہے اور شرم گاہ کی حفاظت کا سبب ہے اور جس کو اس کی طاقت نہ ہو وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑنے کا باعث ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛ترجمہ؛جو شخص نکاح کا شوق رکھتا ہو اور اسے اخراجات حاصل ہوں اس کے لیے نکاح مستحب ہے اور جو اخراجات سے عاجز ہو تو وہ روزہ رکھنے میں مشغول ہو؛جلد٢ص١٠١٨؛حدیث نمبر ٣٢٩٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوگئی انہوں نے فرمایا اے عبدالرحمن!ادھر آؤ،پھر وہ ان کو علیحدگی میں لے گئے جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ انہیں کوئی خاص کام نہیں ہے تو انہوں نے مجھ سے فرمایااے علقمہ!ادھر آؤ فرماتے ہیں میں آیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عبدالرحمن!ہم کسی کنواری لڑکی سے آپ کی شادی نہ کردیں شاید وہ گزشتہ دنوں کی یاد تازہ کردے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا آگے آپ نے یہ بات کہی ہے.... اس کے بعد حدیث نمبر ٣٢٩٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠١٩؛حدیث نمبر ٣٢٩٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا اے نوجوانوں کے گروہ!تم میں سے جو جماع کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے کیوں کہ یہ آنکھوں میں حیا اور شرم گاہ کی حفاظت کا باعث ہے اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے کیوں کہ روزوں سے شہوت ٹوٹ جاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠١٩؛حدیث نمبر ٣٢٩٨)
حضرت عبد الرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں،میرے چچا حضرت علقمہ اور حضرت اسود رضی اللہ عنہم،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے فرماتے ہیں ان دنوں میں نوجوان تھا تو انہوں نے ایک حدیث بیان کی اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے وہ حدیث میرے لیے بیان کی انہوں نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا..... آگے حدیث نمبر٣٢٩٨ کی مثل مروی ہے پس میں نے نکاح کرنے میں دیر نہ کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠١٩؛حدیث نمبر ٣٢٩٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٢٩٨ کی مثل مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ میں گیا اور میں سب سے کم عمر تھا البتہ یہ بات مذکور نہیں کہ میں نے شادی کرنے میں دیر نہ کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠٢٠؛حدیث نمبر ٣٣٠٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام نے آپ کی ازواج مطہرات سے آپ کے پوشیدگی کے اعمال کے بارے میں سوال کیا تو ان حضرات میں سے بعض نے کہا میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا،کسی نے کہا میں گوشت نہیں کھاؤں گا کسی نے کہا میں بستر پر نہیں سوؤں گا پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اس طرح اس طرح کہتے ہیں میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں،روزہ بھی رکھتا ہوں اور ترک بھی کرتا ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠٢٠؛حدیث نمبر ٣٣٠١)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا عورتوں سے الگ رہنے کا ارادہ رد فرمایا اور اگر آپ اجازت دیتے تو ہم سب خصی ہوجاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠٢٠؛حدیث نمبر ٣٣٠٢)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عورتوں سے الگ رہنے کا ارادہ فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک دیا اگر آپ ان کو اجازت دیتے تو ہم خصی ہوجاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠٢٠؛حدیث نمبر ٣٣٠٣)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ(نے عورتوں)سے علیحدگی کا ارادہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اگر آپ اس کی اجازت دیتے تو ہم سب خصی ہوجاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ النِّكَاحِ لِمَنْ تَاقَتْ نَفْسُهُ إِلَيْهِ، وَوَجَدَ مُؤَنَهُ، وَاشْتِغَالِ مَنْ عَجَزَ عَنِ الْمُؤَنِ بِالصَّوْمِ؛جلد٢ص١٠٢١؛حدیث نمبر ٣٣٠٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور وہ ایک کھال کو رنگ رہی تھیں آپ نے خواہش کی تکمیل کی پھر صحابہ کرام کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور اس شیطانی صورت میں پیٹھ پھیرتی ہے پس جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے تو اپنی بیوی کے پاس جاے اس عمل سے اس کے خیالات دور ہوجائیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نَدْبِ مَنْ رَأَى امْرَأَةً فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِهِ، إِلَى أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَارِيَتَهُ فَيُوَاقِعَهَا؛ترجمہ؛کسی عورت کو دیکھ کر نفس مائل ہو تو بیوی یا لونڈی کے پاس آکر خواہش پوری کرے؛جلد٢ص١٠٢١؛حدیث نمبر ٣٣٠٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا...... آگے حدیث نمبر٣٣٠٥ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ آپ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور وہ کھال کو رنگ رہی تھیں البتہ یہ بات مذکور نہیں کہ وہ شیطان کی صورت میں پیٹھ پھیرتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نَدْبِ مَنْ رَأَى امْرَأَةً فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِهِ، إِلَى أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَارِيَتَهُ فَيُوَاقِعَهَا؛جلد٢ص١٠٢١؛حدیث نمبر ٣٣٠٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو کوئی عورت اچھی لگے اور اس کے دل میں خیال پیدا ہو تو اپنی بیوی کے پاس آکر اپنی خواہش پوری کرے اس طرح اس کے دل سے خیالات نکل جائیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نَدْبِ مَنْ رَأَى امْرَأَةً فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِهِ، إِلَى أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَارِيَتَهُ فَيُوَاقِعَهَا؛جلد٢ص١٠٢١؛حدیث نمبر ٣٣٠٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے جاتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں پس ہم نے کہا کیا ہم خصی نہ ہوجائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا پھر آپ نے ہمیں اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے کپڑے کے بدلے ایک خاص مدت تک نکاح کرلیں اس کے بعد حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [المائدة: ٨٧]،(ترجمہ:"اے ایمان والو!ان پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو بےشک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا") (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛ترجمہ؛نکاح متعہ اور اس بات کا بیان کہ یہ جائز قرار دیا گیا پھر منسوخ ہوا پھر جائز قرار دیا گیا اور قیامت تک یہ حرام رہے گا؛جلد٢ص١٠٢٢؛حدیث نمبر ٣٣٠٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٠٨ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے آیت پڑھنے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٢؛حدیث نمبر ٣٣٠٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں یوں آیا کہ انہوں نے فرمایا ہم نوجوان تھے پس ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم خصی نہ ہو جائیں اس میں غزوہ کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٢؛حدیث نمبر ٣٣١٠)
حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما سے مروی ہے دونوں حضرات فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ہمارے پاس آکر اعلان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی۔(یاد یہ بعد میں منع ہو گیا تھا) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٢؛حدیث نمبر ٣٣١١)
حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے ہمیں متعہ کی اجازت دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٢؛حدیث نمبر ٣٣١٢)
حضرت عطاء فرماتے ہیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ عمرہ کے لئے تشریف لائے تو ہم ان کی قیام گاہ پر ان کے پاس حاضر ہوئے پس لوگوں نے ان سے چند باتیں پوچھیں پھر ان حضرات نے متعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا ہاں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کے زمانے میں متعہ کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٣؛حدیث نمبر ٣٣١٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نیز حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کے دور میں کھجوروں اور آٹے کی ایک مٹھی کے عوض چند دنوں کے لیے متعہ کرتے تھے حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن حریث کے واقعہ میں اس سے منع کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٣؛حدیث نمبر ٣٣١٤)
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کے درمیان دو متعوں کے بارے میں اختلاف ہوگیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ عمل کیا پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے منع کردیا تو ہم دوبارہ یہ کام نہیں کریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٣؛حدیث نمبر ٣٣١٥)
حضرت اِیاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غزوہ اوطاس کے موقع پر تین دن کے لئے متعہ کی اجازت دی پھر منع فرمادیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٣؛حدیث نمبر ٣٣١٦)
حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت سبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ کی اجازت دی پس میں اور ایک دوسرا آدمی بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے وہ عورت نوجوان دراز گردن تھی ہم نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا تو اس نے کہا تم کیا دو گے میں نے کہا اپنی چادر دونگا اور میرے دوست نے بھی کہا میں اپنی چادر دوں گا اور میرے دوست کی چادر میرے چادر سے اچھی تھی لیکن میں اس کے مقابلے میں زیادہ جوان تھا جب وہ عورت میرے دوست کی چادر دیکھتی تو اس کو پسند کرتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے پسند کرتی پھر اس نے کہا تم اور تمہارے چادر میرے لیے کافی ہے پس میں اس کے پاس تین دن ٹھہرا اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے یہاں متعہ والی عورت میں سے کوئی عورت ہو تو وہ اسے چھوڑ دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٣؛حدیث نمبر ٣٣١٧)
حضرت ربیع بن سبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کے والد نے فتح مکہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کیا ان کے والد فرماتے ہیں ہم وہاں پندرہ دن ٹھہرے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ کی اجازت دی پس میں اور میری قوم کا ایک شخص گیا اور مجھے اپنے ساتھی پر حسن و جمال میں فوقیت حاصل تھی اور میرا ساتھی بدصورتی کے قریب تھا ہم میں سے ہر ایک کے پاس چادر تھی میری چادر پرانی تھی اور میرے چچازاد کی چادر نئی اور اچھی تھی حتیٰ کہ جب ہم مکہ مکرمہ کی نشیبی یا بالائی بستی میں گئے تو ایک عورت سے ملاقات ہوئی جو نوجوان اور دراز گردن تھی ہم نے کہا کیا تم ہم سے کسی ایک سے متعہ کو پسند کرتی ہو؟اس نے کہا کیا دوگے تو ہم میں سے ہر ایک نے اپنی چادر اس کے سامنے کردی پس وہ عورت ہم لوگوں کو بغور دیکھنے لگی میرا دوست اس کی توجہ کا بہت منتظر تھا کہنے لگا اس کی چادر پرانی ہے اور میری چادر نئی عمدہ ہے اس نے دو یا تین بار کہا اس کی چادر کی کوئی پرواہ نہیں پھر میں نے اس سے متعہ کیا اور اس وقت تک نہیں نکلا جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٤؛حدیث نمبر ٣٣١٨)
حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم فتح مکہ کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے..... اس کے بعد حدیث نمبر ٣٣١٨ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس عورت نے کہا کیا یہ ٹھیک ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھی نے کہا اس کی چادر پرانی اور بیکار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٤؛حدیث نمبر ٣٣١٩)
حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ان کے والد نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ نے فرمایا اے لوگو!میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی اور(اب)اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک حرام کردیا ہے پس جس شخص کے پاس ان عورتوں میں سے کوئی ہو تو وہ اسے چھوڑ دے اور تم ان سے وہ چیز نہ لو جو تم نے ان کو دی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٥؛حدیث نمبر ٣٣٢٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٢٠ کی مثل مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ(خانہ کعبہ کے)دروازے اور رکن کے درمیان کھڑے تھے اور آپ فرما رہے تھے...... آگے حدیث نمبر ٣٣٢٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٥؛حدیث نمبر ٣٣٢١)
حضرت سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال ہمیں متعہ کا حکم دیا جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوے پھر وہاں سے واپسی سے پہلے آپ نے ہمیں اس سے منع فرمادیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٥؛حدیث نمبر ٣٣٢٢)
حضرت سبرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے صحابہ کرام کو عورتوں سے متعہ کی اجازت دی وہ فرماتے ہیں میں اور میرا ایک ساتھی جس کا تعلق بنو سلیم سے تھا،گئے حتیٰ کہ بنو عامر کی ایک لونڈی جو کنواری دراز گردن تھی ہمیں ملی ہم نے اسے متعہ کے لئے کہا اور اس پر اپنی چادریں پیش کیں تو وہ دیکھنے لگی اس نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے ساتھی سے زیادہ خوبصورت ہوں اور میرے ساتھی کی چادر کو دیکھا تو وہ میری چادر سے عمدہ تھی اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد میرے دوست کے مقابلے میں مجھے پسند کیا پس وہ لڑکی میرے پاس تین دن رہی پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ والی عورتوں سے الگ ہونے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٥؛حدیث نمبر ٣٣٢٣)
حضرت سبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٦؛حدیث نمبر ٣٣٢٤)
حضرت سبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن عورتوں کے متعہ سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٦؛حدیث نمبر ٣٣٢٥)
حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے زمانے میں عورتوں کے متعہ سے منع فرمایا اور ان کے والد نے دو سرخ چادروں کے عوض متعہ کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٦؛حدیث نمبر ٣٣٢٦)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ میں کھڑے ہوکر فرما رہے تھے کہ بعض لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے اندھا کردیا ہے جس طرح ان کی آنکھوں کو اندھا کیا ہے وہ متعہ کا فتویٰ دیتے ہیں وہ ایک شخص پر طنز کر رہے تھے۔ اس شخص نے کھڑے ہوکر کہا تم بے بیوقوف کم علم ہو متقی لوگوں کے امام کے زمانے میں متعہ ہوتا تھا اس کی مراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم متعہ کر کے دیکھو اللہ کی قسم اگر تم کرو گے تو میں تمہیں سنگسار کروں گا۔ابن شہاب کہتے ہیں پس مجھے حضرت خالد بن مہاجربن سیف اللہ نے خبر دی کہ میں ایک شخص کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک شخص نے آکر اس شخص سے متعہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے اس کی اجازت دی ابن ابی عمرہ انصاری نے کہا رک جاؤ اس نے کہا اللہ کی قسم میں نے امام المتقین کے دور میں یہ عمل کیا۔ ابن ابی عمرہ نے فرمایا اسلام کے آغاز میں مجبور لوگوں کو اس کی اجازت تھی جس طرح مردار،خون اور خنزير کا حکم ہے پھر اللہ تعالیٰ نے دین کو محکم(مضبوط)کیا اور اس سے منع کردیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا میں نے عہد نبوی میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ چادروں کے عوض متعہ کیا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ سے منع کردیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں میں نے ربیع بن سبرہ سے سنا وہ یہ حدیث حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے بیان کر رہے تھے اور میں بیٹھا ہوا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٦؛حدیث نمبر ٣٣٢٧)
حضرت سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ سنو!یہ آج کے دن سے قیامت تک حرام ہے اور جو شخص کوئی چیز دے تو وہ واپس نہ لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٧؛حدیث نمبر ٣٣٢٨)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٧؛حدیث نمبر ٣٣٢٩)
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا تم صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا.... آگے حدیث ٣٣٢٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٧؛حدیث نمبر ٣٣٣٠)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن نکاح متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٧؛حدیث نمبر ٣٣٣١)
محمد بن علی کہتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ عورتوں سے متعہ کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں تو آپ نے فرمایا اے ابن عباس رک جاؤ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو(پالتو)گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٢)
حضرت محمد بن علی فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛ بَابُ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، ثُمَّ أُبِيحَ، ثُمَّ نُسِخَ، وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت اور اس کی پھوپھی کو اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو(ایک نکاح میں)جمع نہ کیا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛ترجمہ؛پھوپھی اور بھتیجی نیز خالہ اور بھانجی کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا بھتیجی اور پھوپھی،بھانجی اور خالہ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بھتیجی پر پھوپھی سے اور خالہ پر بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(اس بات سے)منع کیا کہ کوئی شخص کسی عورت اور اس کی پھوپھی نیز بھانجی اور خالہ کو جمع کرے۔ابن شہاب فرماتے ہیں ہم باپ کی خالہ اور باپ کی پھوپھی کو بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔(ان کا بھی یہی حکم ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٨؛حدیث نمبر ٣٣٣٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور خالہ پر نکاح نہ کیا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٩؛حدیث نمبر ٣٣٣٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٣٣٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٩؛حدیث نمبر ٣٣٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے(مسلمان بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام نہ دے اور نہ ہی کوئی شخص اپنے بھائی کا لگائی ہوئی قیمت پر قیمت لگاے اور کسی عورت سے نکاح نہ کیا جائے جب کہ اس کی پھوپھی یا خالہ اس شخص کے نکاح میں ہوں اور نہ ہی کوئی عورت اپنی(مسلمان)بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ اس کے برتن کو اپنے لئے خاص کر لے وہ عورت(کسی شرط کے بغیر)نکاح کرے جو کچھ اس کے لیے مقدر ہے اسے مل جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٢٩؛حدیث نمبر ٣٣٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کے ساتھ نکاح کرنے سے منع فرمایا یا کوئی عورت اپنی(مسلمان)بہن(سوکن)کی طلاق کا مطالبہ بھی نہ کرے تاکہ اس کے برتن کو اپنے لئے خاص کرے بے شک اللہ تعالیٰ اس کا رازق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت اور اس کی پھوپھی اور کسی عورت اور اس کی خالہ کو(ایک وقت میں نکاح میں)جمع کرنے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٤٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٤٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ؛جلد٢ص١٠٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٤٣)
حضرت نبیہ بن وہب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے حضرت ابان بن عثمان کے پاس ایک قاصد بھیجا وہ آے اور اس وقت وہ امیر حج تھے۔ چنانچہ حضرت ابان نے کہا میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم نہ نکاح کرے نہ نکاح کر کے دے اور نہ ہی نکاح کا پیغام دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛ترجمہ؛حالت احرام میں نکاح حرام اور پیغام نکاح مکروہ ہے؛جلد٢ص١٠٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٤٤)
نبیہ بن وہب فرماتے ہیں عمر بن عبید اللہ بن معمر اپنے بیٹے کی شادی شیبہ بن عثمان کی بیٹی سے کرنا چاہتے تھے چنانچہ انہوں نے مجھے حضرت ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور وہ اس وقت امیر حج تھے انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے وہ اعرابی(دیہاتی)ہیں محرم نہ نکاح کرسکتا ہے اور نہ نکاح کرکے دے سکتا ہے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣٠؛حدیث نمبر ٣٣٤٥)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم نہ نکاح کرے اور نہ نکاح کرکے دے اور نہ ہی نکاح کا پیغام دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣١؛حدیث نمبر ٣٣٤٦)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا محرم نہ تو نکاح کرے اور نہ ہی نکاح کا پیغام دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣١؛حدیث نمبر ٣٣٤٧)
حضرت نبیہ بن وہب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبید اللہ بن معمر نے اپنے بیٹے طلحہ کا نکاح شبیہ بن جبیر کی بیٹی سے کرنے کا ارادہ کیا اور وہ حج کے دن تھے۔ حضرت ابان بن عثمان ان دنوں امیر حج تھے انہوں نے حضرت ابان کے پاس پیغام بھیجا کہ میں اپنے بیٹے طلحہ بن عمر کا نکاح کرنا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ آپ بھی تشریف لائیں۔ اس پر حضرت ابان نے فرمایا میرا خیال ہے کہ تم بیوقوف عراقی ہو میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محرم نکاح نہیں کرسکتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣١؛حدیث نمبر ٣٣٤٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں نکاح کیا۔ابن نمیر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ زہری نے کہا مجھے یزید بن اصم نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت نکاح کیا جب آپ محرم نہیں تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣١؛حدیث نمبر ٣٣٤٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ حالت احرام میں تھے۔(دونوں قسم کی احادیث کے درمیان تطبيق یوں ہے کہ حالت احرام میں نکاح کرنا جائز ہے جماع حرام ہے البتہ نکاح سے بھی بچنا بہتر ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥٠)
حضرت یزید بن اصم فرماتے ہیں مجھ سے حضرت میمونہ بنت حارث نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حلال(غیر محرم)ہونے کی حالت میں نکاح کیا اور وہ میری اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ، وَكَرَاهَةِ خِطْبَتِهِ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ ہی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کی اجازت کے بغیر اس کی بیع پر بیع اور اس کی منگنی پر منگنی نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٥٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٥٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٢؛حدیث نمبر ٣٣٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ شہر والا گاؤں والے کا مال بیچے نیز کسی کو دھوکہ دینے کے لیے کسی چیز کی قیمت بڑھانے،نکاح کے پیغام پر پیغام دینے اور سودے پر سودا کرنے سے بھی منع فرمایا نیز یہ کہ کوئی عورت اپنی(مسلمان)بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے برتن کو اپنے لئے خاص کرے۔عمرو کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٣؛حدیث نمبر ٣٣٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محض دوسروں کو دھوکہ دینے کے لیے قیمتیں نہ بڑھاؤ(بولی نہ دو)نہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے،نہ کوئی شہری دیہاتی کے لئے سودا کرے،نہ کوئی بھائی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے اسے اپنے لئے انڈیل لے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٣؛حدیث نمبر ٣٣٥٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٥٧ کی مثل مروی ہے اس میں ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر قیمت نہ بڑھاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٣؛حدیث نمبر ٣٣٥٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کی قیمت پر قیمت نہ لگاے اور نہ ہی اس منگنی پر منگنی کا پیغام دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٣؛حدیث نمبر ٣٣٥٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٣٥٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کی قیمت پر قیمت نہ لگاے اور نہ ہی اس کی منگنی پر منگنی کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦١)
حضرت عبد الرحمن بن شماسہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر کو منبر پر(کہتے ہوئے)سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن،مومن کا بھائی ہے پس کسی مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے اور نہ یہ کہ اس کی منگنی پر منگنی کرے حتیٰ کہ وہ(پہلا)اس کو چھوڑ دے۔(یہ طریقہ مسلمان کو ایذاء پہنچانے کا طریقہ ہے اس لیے جب تک پہلے شخص کو انکار نہ ہوجائے دوسرا منگنی کا پیغام نہ دے اسی طرح خریداری وغیرہ کا مسئلہ بھی ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخِطْبَةِ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ أَوْ يَتْرُكَ؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا اور شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کسی کے نکاح میں اس شرط پر دے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کرے اور ان کے درمیان مہر نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛ترجمہ؛نکاح شغار کی حرمت اور باطل ہونا؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦٣)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٣٣٦٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٤؛حدیث نمبر ٣٣٦٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں شغار نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٥؛حدیث نمبر ٣٣٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ابن نمیر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ شغار کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے سے کہے تم اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کرو اور میں اپنی بہن کا نکاح تم سے کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٥؛حدیث نمبر ٣٣٦٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٦٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٥؛حدیث نمبر ٣٣٦٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ نِكَاحِ الشِّغَارِ وَبُطْلَانِهِ؛جلد٢ص١٠٣٥؛حدیث نمبر ٣٣٦٩)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شرائط میں سے جو شرط سب سے زیادہ پوری ہونے کے لائق ہے وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم عورتوں کو اپنے لئے حلال کرتے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْوَفَاءِ بِالشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ؛ترجمہ؛شرائط نکاح کو پورا کرنا؛جلد٢ص١٠٣٥؛حدیث نمبر ٣٣٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیوہ(یا مطلقہ)عورت سے اس کے مشورے کے بغیر اور کنواری سے اس کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کیا جائے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس(کنواری)کی اجازت کی کیا صورت ہے؟فرمایا"خاموشی"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛نکاح میں بیوہ کی زبان سے اجازت اور کنواری کی خاموشی کافی ہے؛جلد٢ص١٠٣٦؛حدیث نمبر ٣٣٧١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٧١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛جلد٢ص١٠٣٦؛حدیث نمبر ٣٣٧٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے غلام حضرت ذکوان فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لڑکی کے بارے میں پوچھا جس کا نکاح گھر والے کریں تو کیا اس سے پوچھا جائے یا نہ؟تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سے فرمایا ہاں اس سے پوچھا جائے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا(یا رسول اللہ)وہ تو حیاء کرتی ہے آپ نے فرمایا یہی اس کی اجازت ہے جب وہ خاموش رہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛جلد٢ص١٠٣٧؛حدیث نمبر ٣٣٧٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیوہ اپنے ولی کی نسبت خود اپنے نفس پر زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے اور خاموشی اس کی اجازت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛جلد٢ص١٠٣٧؛حدیث نمبر ٣٣٧٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیوہ(یا مطلقہ)اپنے ولی کے مقابلے میں خود اپنے نفس پر زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے اور اس کی اجازت اس کا خاموش رہنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛جلد٢ص١٠٣٧؛حدیث نمبر ٣٣٧٥)
اسی سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیوہ اپنے ولی کی نسبت خود اپنے نفس پر زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ اس کے نفس کے بارے میں اجازت مانگے اور اس کی اجازت اس کا خاموش رہنا ہے کبھی فرمایا اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِئْذَانِ الثَّيِّبِ فِي النِّكَاحِ بِالنُّطْقِ، وَالْبِكْرِ بِالسُّكُوتِ؛جلد٢ص١٠٣٧؛حدیث نمبر ٣٣٧٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی اور رخصتی کے وقت میری عمر نو سال تھی آپ فرماتی ہیں ہم مدینہ طیبہ آے تھے تو مجھے ایک ماہ تک بخار آتا رہا اور میرے بال کانوں تک رہ گئے حضرت ام رومان میرے پاس آئیں تو میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولے پر تھی انہوں نے مجھے پکارا تو میں ان کے پاس آئی مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہیں انہوں نے مجھے دروازے پر کھڑے کردیا تو میں ھہ ھہ کہتی رہی حتیٰ کہ میرا سانس رک گیا تو وہاں انصار کی کچھ خواتین تھیں انہوں نے خیر و برکت کی دعا دی ام رومان(حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدہ)نے مجھے ان کے حوالے کردیا تو انہوں نے میرا سر دھویا اور میرا بناؤ سنگھار کیا میں اس وقت ڈر گئی جب چاشت کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان عورتوں نے مجھے آپ کے سپرد کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَزْوِيجِ الْأَبِ الْبِكْرَ الصَّغِيرَةَ؛ترجمہ؛باپ نابالغہ لڑکی کا نکاح کر سکتا ہے؛جلد٢ص١٠٣٨؛حدیث نمبر ٣٣٧٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی اور نو سال کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَزْوِيجِ الْأَبِ الْبِكْرَ الصَّغِيرَةَ؛جلد٢ص١٠٣٩؛حدیث نمبر ٣٣٧٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر سات سال تھی اور رخصتی کے وقت وہ نوسال کی تھیں اور ان کی گڑیاں ان کے ساتھ تھیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَزْوِيجِ الْأَبِ الْبِكْرَ الصَّغِيرَةَ؛جلد٢ص١٠٣٩؛حدیث نمبر ٣٣٧٩)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو وہ چھ سال کی تھیں اور رخصتی کے وقت ان کی عمر نوسال تھی جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَزْوِيجِ الْأَبِ الْبِكْرَ الصَّغِيرَةَ؛جلد٢ص١٠٣٩؛حدیث نمبر ٣٣٨٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینے میں نکاح کیا اور رخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی تو کونسی عورت مجھ سے زیادہ خوش نصیب ہے؟ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند کرتی تھیں کہ عورتوں کی رخصتی شوال میں ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّزَوُّجِ وَالتَّزْوِيجِ فِي شَوَّالٍ، وَاسْتِحْبَابِ الدُّخُولِ فِيهِ؛ترجمہ؛شوال کے مہینے میں نکاح کرنے اور نکاح کرکے دینے کا استحباب نیز اس میں جماع بھی مستحب ہے؛جلد٢ص١٠٣٩؛حدیث نمبر ٣٣٨١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٨١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّزَوُّجِ وَالتَّزْوِيجِ فِي شَوَّالٍ، وَاسْتِحْبَابِ الدُّخُولِ فِيهِ؛جلد٢ص١٠٣٩؛حدیث نمبر ٣٣٨٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ اس نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟اس نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا اسے دیکھو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ(عیب)ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نَدْبِ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِ الْمَرْأَةِ وَكَفَّيْهَا لِمَنْ يُرِيدُ تَزَوُّجَهَا؛جلد١ص ١٠٤٠؛حدیث نمبر ٣٣٨٣)
ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کرلیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اسے دیکھا ہے کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ خرابی ہوتی ہے اس نے عرض کیا میں نے اسے دیکھا ہے فرمایا کتنے مہر پر نکاح کیا ہے عرض کیا چار اوقیہ چاندی پر،آپ نے فرمایا چار اوقیہ چاندی پر گویا تم اس پہاڑ کی چوڑائی سے چاندی کھرچ لیتے ہو ہمارے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں لیکن عنقریب ہم تمہیں اپنے آدمیوں کے ساتھ بھیجتے ہیں شاید تمہیں کچھ مل جائے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر آپ نے بنو عبس کی طرف ایک لشکر بھیجا تو اسے بھی ان میں بھیجا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ نَدْبِ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِ الْمَرْأَةِ وَكَفَّيْهَا لِمَنْ يُرِيدُ تَزَوُّجَهَا؛جلد١ص ١٠٤٠؛حدیث نمبر ٣٣٨٤)
حضرت سہل بن سعد سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کے پاس آئی ہوں کہ اپنے نفس کو آپ کی خدمت میں بطور ہبہ پیش کروں آپ نے اس کی طرف دیکھا اور اس پر اچھی نظر دوڑائی پھر آپ نے سر انور جھکا دیا جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی صحابہ کرام میں سے ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!اگر آپ کو اس کی حاجت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے کردیں۔ آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس(مہر کے لئے)کوئی چیز ہے اس نے عرض کیا اللہ کی قسم یا رسول اللہ!کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا گھر والوں کے پاس جاکر دیکھو کہ ان سے کچھ ملتا ہے وہ گیا پھر آیا اور کہا اللہ کی قسم!مجھے ان سے کچھ نہیں ملا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہو۔وہ گیا پھر آیا اور عرض کیا اللہ کی قسم!یا رسول اللہ!لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی۔البتہ یہ میری چادر ہے۔ اس نے کہا میں اپنی نصف چادر اس کو دے دوں گا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری چادر کیا کرے گی اگر تم پہنو گے تو اس پر کچھ نہیں ہوگا اگر وہ پہنے گی تو تم پر کچھ نہیں ہوگا۔ پس وہ شخص بیٹھ گیا حتیٰ کہ جب زیادہ دیر ہوگئی تو کھڑا ہوگیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تو اسے بلانے کا حکم دیا وہ بلایا گیا جب آیا تو آپ نے فرمایا تمہیں قرآن پاک سے کس قدر یاد ہے اس نے کہا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں اس نے گن کر بتایا آپ نے فرمایا تم زبانی پڑھ سکتے ہو اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا جاؤ تمہیں جو قرآن یاد ہے اس کے سبب سے میں نے تمہارا نکاح اس سے کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد١ص ١٠٤٠؛حدیث نمبر ٣٣٨٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٨٥ کی مثل مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ میں نے اس سے تمہارا نکاح کردیا پس اسے قرآن سکھاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤١؛حدیث نمبر ٣٣٨٦)
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(کی ازواج مطہرات)کا مہر کتنا تھا انہوں نے فرمایا آپ کی ازواج مطہرات کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش ہوتا تھا۔ام المؤمنين نے پوچھا جانتے ہو نش کیا ہے؟فرمایا میں نے عرض کیا نہیں انہوں نے فرمایا نصف اوقیہ پس یہ پانچ سو درہم ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا یہ مہر تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٢؛حدیث نمبر ٣٣٨٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زرد رنگ(کی خوشبو)کا اثر دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے؟عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے پر نکاح کیا ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے اور اب ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری کے ساتھ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٢؛حدیث نمبر ٣٣٨٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عہد رسالت میں گٹھلی کے برابر سونے پر نکاح کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٢؛حدیث نمبر ٣٣٨٩)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے پر نکاح کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٢؛حدیث نمبر ٣٣٩٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٩١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو مجھ پر شادی کے اثرات ملاحظہ فرمائے میں نے عرض کیا میں نے انصار کی ایک خاتون سے شادی کی ہے آپ نے پوچھا تم نے کتنا مہر مقرر کیا ہے میں نے عرض کیا ایک گٹھلی(سونا) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٩٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گٹھلی کے برابر سونے پر نکاح کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٩٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٣٩٣ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں میں سے کسی نے سونے کے برابر گٹھلی کا ذکر کیا۔ (احناف کے نزدیک کم از کم مہر دس درہم ہے اور مہر میں مال کا ہونا ضروری ہے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الصَّدَاقِ، وَجَوَازِ كَوْنِهِ تَعْلِيمَ قُرْآنٍ، وَخَاتَمَ حَدِيدٍ، وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قَلِيلٍ وَكَثِيرٍ، وَاسْتِحْبَابِ كَوْنِهِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ لِمَنْ لَا يُجْحِفُ بِهِ؛جلد٢ص١٠٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٩٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں جہاد کے لیے تشریف لے گئے فرماتے ہیں ہم نے فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے اور میں ان کے پیچھے سوار ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو خیبر کی گلیوں میں دوڑایا اور میری سواری رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک چھوتی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران مبارک سے چادر کھل گئی تو میں نے آپ کی ران مبارک کی سفیدی دیکھی جب آپ بستی میں داخل ہوے تو فرمایا"اللہ اکبر"خیبر تباہ ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈراے ہوئے لوگوں کی صبح کیا ہی بری ہوتی ہے۔آپ نے یہ بات تین بار فرمائی فرماتے ہیں وہ لوگ اپنے کاموں کے لئے نکلے تو کہنے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم(اگئے) عبد العزيز(راوی)فرماتے ہیں ہمارے بعض اصحاب نے کہا کہ انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور لشکر آگیا وہ فرماتے ہیں ہم نے اس بستی کو غلبہ کے طور پر حاصل کیا(صلح کے ساتھ نہیں) قیدی جمع کیے گئے تو حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ نے حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیدیوں میں سے ایک لونڈی مجھے عنایت فرمائیں انہوں نے حضرت صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کو لیا تو ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے صفیہ بن حی جو قریظہ اور نضیر قبیلوں کی سردار ہیں،فلاں کو عنایت کردی ہیں وہ تو آپ کے لیے مناسب ہیں۔آپ نے فرمایا ان کو حضرت صفیہ سمیت بلاؤ راوی فرماتے ہیں جب وہ لے کر حاضر ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا قیدیوں میں سے کوئی دوسری لونڈی لے اور آپ نے ان کو آزاد کرکے ان سے شادی کر لی۔حضرت ثابت نے پوچھا اے ابو حمزہ!(حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مہر کیا مقرر فرمایا انہوں نے فرمایا ان کو آزاد کرکے ان سے نکاح کیا(یہی مہر تھا)حتیٰ کہ راستے میں ایک مقام پر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کیا اور رات کے وقت آپ کی خدمت میں پیش کردیا صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت عروسی میں تھے آپ نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہے لے آئے اور ایک چمڑے کا دسترخوان بچھایا پس کوئی شخص پنیر لا رہا تھا،کوئی کھجور لایا اور کوئی گھی لے کر حاضر ہوا اور اس سے ایک حلوہ تیار کیا گیا پس یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؛لونڈی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرنے کی فضیلت؛جلد٢ص١٠٤٣؛حدیث نمبر ٣٣٩٥)
ایک اور سند سے متعدد راوی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا حضرت معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؛؛جلد٢ص١٠٤٥؛حدیث نمبر ٣٣٩٦)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی لونڈی کو آزاد کرکے پھر اس سے نکاح کرے اس کے لئے دو اجر ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؛جلد٢ص١٠٤٥؛حدیث نمبر ٣٣٩٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا اور میرے پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پاؤں کو چھورہے تھے فرماتے ہیں ہم ان لوگوں کے پاس اس وقت آے جب سورج چمک رہا تھا اور انہوں نے اپنے مویشی(چرانے کے لئے)نکال لئے تھے نیز وہ اپنی کلہاڑیاں،ٹوکریاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے وہ کہنے لگے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اور لشکر(آگیا ہے)راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیبر برباد ہوگیا پس جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرے ہوئے لوگوں کی صبح کتنی بری ہوتی ہے۔ راوی فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان(یہود خیبر)کو شکست دی اور حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک خوبصورت لونڈی آئی جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات لونڈیوں کے بدلے میں خریدا پھر حضرت ام سلیم کے حوالے کیا کہ وہ ان کا بناؤ سنگھار کر کے تیار کریں۔ راوی فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ فرمایا کہ وہ ان کے گھر میں عدت پوری کریں اور وہ صفیہ بنت حی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ولیمہ کھجور،پنیر اور گھی سے تیار کروایا اور زمین کو کھود کر اس میں دسترخوان بچھائے گئے اور پنیر اور گھی لایا گیا پس لوگوں نے سیر ہوکر کھایا اور لوگ کہنے لگے معلوم نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی ہے یا ام ولد بنایا ہے۔انہوں نے کہا اگر آپ نے انہیں پردہ کرایا تو وہ آپکی زوجہ ہوگی اور اگر پردہ نہ کرایا تو وہ ام ولد ہوگی جب آپ نے سوار ہونے کا ارادہ کیا تو ان کا پردہ کرایا اور وہ اونٹ کے پچھلے حصے پر بیٹھ گئیں جس سے صحابہ کرام کو معلوم ہوگیا کہ آپ نے ان سے شادی کی ہے جب مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی دوڑائی اور ہم نے بھی اپنی اونٹنیوں کو دوڑایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی عضباء نے ٹھوکر کھائی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے اور ساتھ ہی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی گر پڑیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کا پردہ کرایا عورتیں کہنے لگیں اللہ تعالیٰ اس یہودیہ کو دور کرے۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوحمزہ!کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے تھے؟انہوں نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم آپ گرے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمہ کے موقع پر بھی موجود تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روٹی اور گوشت سے سیر کردیا آپ مجھے بھیجتے تھے اور میں لوگوں کو بلاتا تھا جب آپ فارغ ہوکر کھڑے ہوئے اور میں آپکے پیچھے چلا تو دو آدمی وہاں ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے وہ وہاں سے نہیں گئے تھے آپ اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے اور ہر ایک کو سلام کیا اور پوچھا اے اہل بیت!تم لوگ کیسے ہو؟وہ جواب دیتے ہم خیر سے ہیں آپ نے اپنی زوجہ کو کیسا پایا آپ نے فرمایا اچھی ہے جب فارغ ہوکر واپس ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس ہوا جب آپ دروازے پر پہنچے تو دیکھا وہاں دو شخص ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف اور محو ہیں جب انہوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ واپس تشریف لائے تو وہ دونوں کھڑے ہوگئے پس اللہ کی قسم!مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ کو بتایا آپ پر وحی نازل ہوئی کہ وہ دونوں جا چکے ہیں پس آپ واپس ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس لوٹا جب آپ نے اپنا قدم مبارک دروازے کے چوکھٹ پر رکھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکایا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔(ترجمہ) "نبی کے گھروں میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؛جلد٢ص١٠٤٥؛حدیث نمبر ٣٣٩٨)
حضرت ثابت فرماتے ہیں ہم سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت صفیہ،حضرت دحیہ کے حصے میں آئی تھیں اور لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی تعریف کی فرماتے ہیں انہوں نے کہا ہم نے قیدیوں میں ان کی مثل کسی کو نہیں دیکھا فرماتے ہیں پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کو بلایا اور حضرت صفیہ کے بدلے انہوں نے جو کچھ مانگا آپ نے ان کو عطاء کردیا پھر ان کو میری ماں(حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ماں)کے حوالے کیا اور فرمایا ان کو بناؤ سنوارو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب خیبر کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا تو آپ اترے پھر حضرت صفیہ کے لئے خیمہ لگوایا جب صبح ہوئی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا جس کے پاس زائد توشہ ہو وہ ہمارے پاس لے آئے پس کوئی شخص زائد کھجوریں لارہا تھا اور کوئی زائد ستو حتیٰ کہ انہوں نے ایک ڈھیر لگا دیا لوگوں نے اس کھانے سے کھایا اور حوض سے پانی پیا جو ان کے قریب تھا اور اس میں بارش کا پانی تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا فرماتے ہیں پھر ہم چلے حتیٰ کہ جب ہم نے مدینہ طیبہ کی دیواروں کو دیکھا تو ہمیں اس کا بہت اشتیاق ہوا تو ہم نے اپنی سواریوں کو دوڑایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سواری کو دوڑایا اور آپ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے بٹھایا تھا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کھڑی ہوگئی چناں چہ آپ گر پڑے اور حضرت صفیہ بھی گر پڑیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم میں سے کسی نے بھی حضور علیہ السلام اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف نہ دیکھا حتیٰ کہ آپ کھڑے ہوئے اور ان کا پردہ کروایا۔ فرماتے ہیں ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہوئی پھر ہم مدینہ طیبہ میں داخل ہوے اور آپ کی ازواج مطہرات کی کنیزیں آکر حضرت صفیہ کو دیکھنے اور ان کے گرنے پر افسوس کرنے لگیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا؛جلد٢ص١٠٤٧؛حدیث نمبر ٣٣٩٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی عدت ختم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا حضرت زینب سے میرا ذکر کرو چناں چہ حضرت زید رضی اللہ عنہ حضرت زینب کے پاس گئے اور وہ آٹے کا خمیر بنا رہی تھیں حضرت زید فرماتے ہیں جب میں نے ان کو دیکھا تو میرے دل میں ان کی اس قدر عظمت پیدا ہوئی کہ میں ان کی طرف دیکھ نہ سکا کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکا ذکر کیا تھا پس میں ایڑیوں کے بل گھوما اور پیٹھ پھیر کر کہا اے زینب!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو پیغام بھیجا ہے انہوں نے فرمایا پس وہ اپنی سجدگاہ میں کھڑی ہوئیں اور قرآن مجید نازل ہوا۔پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم اجازت کے بغیر داخل ہوئے۔ حضرت انس فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا جب دن پھیل گیا پس لوگ چلے گئے اور کچھ لوگ کھانا کھانے کے بعد آپ کے خانہ اقدس میں بیٹھے باتیں کرنے لگے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور میں آپ کے پیچھے پیچھے تھا آپ اپنی ازواج مطہرات کی طرف تشریف لے گئے اور ان کو سلام کرنے لگے انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ!آپ اپنی زوجہ کو کیسا پایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں میں نے آپ کو خبر دی کہ لوگ جاچکے ہیں یا آپ نے مجھے بتایا۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے حتیٰ کہ گھر میں داخل ہوے میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور پھر رب کا حکم نازل ہوا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر لوگوں کو وہ وعظ کیا گیا جو کیا گیا ابن رافع نے اپنی روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے(کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بلااجازت داخل نہ ہواور نہ کھانے کے منتظر رہو،اور اللہ تعالیٰ حق بات(کے بیان)سے حیا نہیں فرماتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٤٨؛حدیث نمبر ٣٤٠٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کا اس طرح ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو ولیمہ آپ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا کیا کیونکہ آپ نے بکری ذبح کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٤٩؛حدیث نمبر ٣٤٠١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمہ سے زیادہ اور افضل ولیمہ کسی زوجہ کا نہیں کیا۔(راوی)حضرت ثابت بنانی نے پوچھا کیا ولیمہ کیا تھا؟فرمایا ان کو روٹی اور گوشت کھلایا حتیٰ کہ انہوں نے(سیر ہونے کی وجہ سے)چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٤٩؛حدیث نمبر ٣٤٠٢)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا:جب نکاح کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش سے۔لوگوں کو بلایا اور کھانا کھلایا پھر وہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیار ہوتے ہیں۔گویا کہ کھڑے ہوتے ہیں،پھر بھی وہ لوگ نہیں اٹھے،پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ (یہ نہیں اٹھتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ان میں سے کچھ لوگ اٹھ گئے اور عاصم اور ابن عبدالاعلیٰ نے اپنی روایتوں میں یہ بات زیادہ کی کہ تین آدمی ان میں سے بیٹھے رہ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ اندر جائیں تو دیکھا کہ لوگ بیٹھے ہیں۔پھر وہ لوگ اٹھے اور چلے گئے اور میں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور گھر میں داخل ہوئے۔سو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} [الأحزاب: ٥٣] إِلَى قَوْلِهِ {إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا} [الأحزاب: ٥٣] (ترجمہ)"اے ایمان والوں!نبی کے گھروں میں بلااجازت داخل نہ ہو نہ کھانے کے وقت کے منتظر رہو ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ لیکن کھانا کھانے کے بعد اٹھ کھڑے ہوا کرو باتیں کرنے میں نہ لگا کرو تمہاری یہ حرکتیں نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کو تکلیف دیتی ہیں مگر وہ شرم کی وجہ سے تمہیں کچھ نہیں کہتے اور اللہ تعالیٰ حق بات کہنے میں حیا نہیں فرماتا یہ بات اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑی ہے"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٥٠؛حدیث نمبر ٣٤٠٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا:مجھے حجاب(پردہ)کے بارے میں زیادہ علم ہے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پردے کے بارے میں مجھ سے سوال کیا کرتے تھے حضرت انس فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے شادی کی فرماتے ہیں یہ شادی مدینہ طیبہ میں ہوئی تھی سورج بلند ہونے کے بعد سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیٹھے اور چند لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعد اس کے کہ سب لوگ چلے گئے اور وہ لوگ یہاں تک بیٹھے رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا۔یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچے۔پھر خیال کیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے۔اور لوٹے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹا تو دیکھا کہ وہ لوگ پھر بھی بیٹھے ہوئے ہیں اسی جگہ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر لوٹے اور میں بھی دوبارہ لوٹا یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کےحجرے تک پہنچے اور پھر لوٹے اور میں بھی لوٹا سو دیکھا کہ وہ لوگ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیت اتری۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٥٠؛حدیث نمبر ٣٤٠٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نکاح کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور داخل ہوئے اپنی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کچھ ملیدہ بنایا اور اس کو ایک طباق میں رکھا اور کہا کہ اے انس!اس کو لے جا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کر کہ یہ میری ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ہے اور سلام عرض کیا ہے اور عرض کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں بہت چھوٹا ہدیہ ہے ہماری طرف سے اے اللہ کے رسول؟سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں وہ لے گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور میں نے ان سے عرض کیا کہ میری ماں نے آپ کی خدمت میں مجھے بھیجا ہے اور سلام کہا ہے اور عرض کرتی ہیں کہ یہ ہماری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب مبارک میں تھوڑا سا ہدیہ ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ”رکھ دو۔“اور فرمایا:”کہ جاؤ اور فلاں فلاں شخص کو ہمارے پاس بلاؤ اور جو تم کو مل جائے۔“اور کئی شخصوں کا نام لیا۔سو میں ان کو بھی لایا جن کا نام لیا اور جو مجھے مل گیا۔میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہاکہ پھر وہ سب لوگ گنتی میں کتنے تھے؟انہوں نے کہا:قریب تین سو کے۔اور مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ اے انس!وہ طباق لاؤ۔“ اور وہ لوگ اندر آئے۔یہاں تک کہ صفہ اور حجرہ بھر گیاپھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ دس دس آدمی حلقہ باندھتے جائیں (یعنی جب وہ کھا لیں پھر دوسرے دس بیٹھیں) اور چاہیے کہ ہر شخص اپنے نزدیک سے کھائے۔“(یعنی کھانے کی چوٹی نہ توڑے کہ برکت وہیں سے نازل ہوتی ہے) پھر ان لوگوں نے یہاں تک کھایا کہ سب سیر ہو گئے اور ایک گروہ جاتا تھا کھا کر پھر دوسرا آتا تھا۔یہاں تک کہ سب لوگ کھا چکے۔تب مجھ سے فرمایا:کہ”اٹھا لے انس!“اور میں نے اس برتن کو اٹھایا تو معلوم نہ ہوتا تھا کہ جب میں نے رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا اس وقت اس میں کھانا زیادہ تھا اور بعض لوگ بیٹھے باتیں کرنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ(یعنی ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا) دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھیں اور ان لوگوں کا بیٹھنا آپ کو گراں گزرا۔چناں چہ آپ اپنی ازواج مطہرات کی طرف تشریف لے گئے پھر واپس تشریف لائے،پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ان لوگوں نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہم گراں ہوئے۔جلد دروازے پر گئے اور باہر نکلے سب کے سب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے یہاں تک کہ پردہ ڈال دیا اور اندر تشریف لے گئے میں حجرے میں بیٹھا ہوا تھا آپ فوراً باہر تشریف لائے اور یہ آیت نازل ہوئی: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَ مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِى النَّبِىَّ"(ترجمہ)"اے ایمان والو!نبی کے گھر میں داخل نہ ہوا کرو البتہ یہ کہ تمہیں کھانے کی اجازت دی جائے اور کھانے کے وقت کا انتظار نہ کرو جب بلاے جائے تو داخل ہوجب کھا لو تو چلے جاؤ اور باتیں نہ کرتے رہو اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت ہوتی ہے"۔ جعد جو راوی ہیں انہوں نے کہا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان آیات کے نزول کا واقعہ مجھے سب سے زیادہ یاد ہے اور(اس کے بعد)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو پردہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٥١؛حدیث نمبر ٣٤٠٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے لئے ملیدہ ہدیہ بھیجا ایک برتن میں پتھر کے،اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ جو مسلمان تم کو ملے اسے بلا لاؤ۔“ سو میں،جو ملا اسے بلا لایا۔اور وہ لوگ سب داخل ہونے لگے اور کھانے لگے اور نکلتے جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ کھانے پر رکھ کر دعا فرمائی اور جو کلمات اللہ تعالیٰ کو منظور تھے آپ نے اس کھانے پر پڑھے اور میں نے بھی جو مجھے ملا کسی کو نہ چھوڑا ضرور بلا لایا۔اور سب نے کھایا یہاں تک کہ سیر ہو گئے اور باہر نکلے۔اور ایک گروہ ان میں سے بیٹھا رہا۔اور بہت لمبی باتیں کرتا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شرماتے تھے کہ ان کو کچھ کہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ان کو گھر میں چھوڑ دیا۔اور اللہ تعالیٰ نے وہ آیتیں اتاریں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ کھانے کے وقت کے منتظر نہ رہو بلکہ جب بلایا جائے تو داخل ہو حتیٰ کہ جب کھانا کھالو تو اٹھ کھڑے ہو باتیں کرنے میں نہ لگے رہو تمہاری یہ حرکتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتی ہیں مگر وہ شرم کی وجہ سے تمہیں کچھ نہیں کہتے اور اللہ تعالیٰ حق بات کہنے میں شرم نہیں کرتا(آخر آیت تک)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ زَوَاجِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَنُزُولِ الْحِجَابِ، وَإِثْبَاتِ وَلِيمَةِ الْعُرْسِ؛جلد٢ص١٠٥٢؛حدیث نمبر ٣٤٠٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں حاضر ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛ترجمہ؛دعوت قبول کرنے کا حکم؛جلد٢ص١٠٥٢؛حدیث نمبر ٣٤٠٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو چاہیے کہ وہ قبول کرے۔خالد بن حارث کہتے ہیں کہ حضرت عبید اللہ(راوی)اسے شادی کی دعوت پر محمول کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤٠٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو شادی ولیمہ کی طرف بلایا جائے تو وہ(اس دعوت کو)قبول کرے ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤٠٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دعوت میں شرکت کرو جب تمہیں دعوت دی جاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤١٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے فرماتے تھے جب تم میں سے کسی ایک کو اس کو اس کا(مسلمان)بھائی دعوت دے تو وہ قبول کرے شادی ہو یا کوئی اور موقعہ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤١١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو شادی وغیرہ کی دعوت دی جائے وہ قبول کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤١٢)
حضرت عبداللہ(بن عمر)رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دعوت دی جائے تو اس میں شرکت کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤١٣)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں دعوت دی جاے تو اس کو قبول کرو حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ شادی اور اس کے علاوہ دعوت میں تشریف لے جاتے حالانکہ آپ روزہ دار ہوتے ہیں ھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٣؛حدیث نمبر ٣٤١٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں بکری کے پاے کی طرف دعوت دی جائے تو(بھی)قبول کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤١٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرے پس اگر چاہے تو کھاے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤١٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤١٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤١٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرے پس اگر روزہ دار ہو تو نماز پڑھے اور روزے سے نہ ہو تو کھانا کھاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دعوت ولیمہ کا وہ کھانا برا ہے جس میں مال دار لوگوں کو بلایا جائے اور مساکین کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت میں نہیں گیا اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤١٩)
حضرت سفیان فرماتے ہیں میں نے حضرت زہری سے پوچھا اے ابوبکر(ان کی کنیت)یہ حدیث کس طرح ہے کہ سب سے برا کھانا مال دار لوگوں کا کھانا ہے اور وہ ہنس پڑے اور فرمایا حدیث اس طرح نہیں کہ مال دار لوگوں کا کھانا برا ہے۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میرے والد مال دار تھے اس لئے مجھے اس حدیث سے پریشانی رہتی تھی پس میں نے حضرت زہری سے یہ بات پوچھی۔انہوں نے فرمایا مجھ سے عبد الرحمن اعرج نے بیان کیا انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے..... آگے گزشتہ حدیث کی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٥؛حدیث نمبر ٣٤٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں سب سے برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے،اس کے بعد حدیث نمبر ٢٤١٩ کے مثل مروی ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٤؛حدیث نمبر ٣٤٢١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٢١کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٥؛حدیث نمبر ٣٤٢٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے کہ اس سے اس کو روکا جائے جو آنا چاہتا ہے اور اس کو دعوت دی جاے جو انکار کرتا ہے نیز جو شخص دعوت قبول نہ کرے اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ؛جلد٢ص١٠٥٥؛حدیث نمبر ٣٤٢٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت رفاعہ کی بیوی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں رفاعہ کے نکاح میں تھی تو انہوں نے مجھے طلاق مغلظہ دی پھر میں نے حضرت عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا لیکن ان کے پاس تو صرف کپڑے کے پلو کی طرح تھا(نامردی کی طرف اشارہ ہے)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراے اور فرمایا کیا تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟نہیں یہ نہیں ہوسکتا حتی کہ تم ان کی مٹھاس چکھو اور وہ تمہاری مٹھاس چکھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور علیہ السلام کے پاس تھے اور حضرت خالد بن سعید دروازے پرمنتظر تھے کہ ان کو اجازت دی جائے پھر انہوں نے پکارا اے ابوبکر کیا آپ سن نہیں رہے کہ یہ حضور علیہ السلام کے سامنے کس طرح کی باتیں کر رہی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٥؛حدیث نمبر ٣٤٢٤)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انکو خبر دی کہ حضرت رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دی اس کے بعد اس نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں حضرت رفاعہ کے عقد میں تھی تو انہوں نے مجھے تین طلاقیں دیں اس کے بعد میں نے حضرت عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کیا اور اللہ کی قسم ان کے پاس تو پلو(پھندے)کی طرح ہے پس اس نے اپنے کپڑے کا پلو پکڑ کر بتایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراے اور فرمایا شاید تم حضرت رفاعہ کی طرف واپسی کا ارادہ کرتی ہو نہیں ایسا نہیں ہوسکتا حتیٰ کہ وہ تمہارا ذائقہ چکھیں اور تم ان کا ذائقہ چکھو۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب کہ حضرت خالد بن سعید بن عاص دروازے پر بیٹھے انتظار کر رہے تھے اور ان کو اجازت نہیں ملی تھی وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز دینے لگے کہ اے ابوبکر!آپ اس عورت کو ڈانٹتے کیوں نہیں یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کہ رہی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٦؛حدیث نمبر ٣٤٢٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رفاعہ قُرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پھر انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت رفاعہ نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں..... آخر تک حدیث نمبر ٢٤٢٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٧؛حدیث نمبر ٣٤٢٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس سے کوئی شخص نکاح کرے پھر اسے طلاق دے دے پھر وہ کسی اور مرد سے نکاح کرے اور وہ جماع سے پہلے طلاق دے دے تو کیا یہ پہلے خاوند کے لئے حلال ہوگی فرمایا نہیں حتیٰ کہ وہ مرد اس کی مٹھاس چکھ لے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٧؛حدیث نمبر ٣٤٢٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٢٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٧؛حدیث نمبر ٣٤٢٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کیا اور اس نے جماع سے پہلے طلاق دی اب پہلے خاوند نے اس سے نکاح کرنا چاہا اور حضور علیہ السلام سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا نہیں کرسکتا حتیٰ کہ دوسرا خاوند اس کا ذائقہ چکھے جو پہلے خاوند نے چکھا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٧؛حدیث نمبر ٣٤٢٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٢٤٢٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ لَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِمُطَلِّقِهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، وَيَطَأَهَا، ثُمَّ يُفَارِقَهَا وَتَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا؛جلد٢ص١٠٥٧؛حدیث نمبر ٣٤٣٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے تو اگر یہ کلمات پڑھے:"بِاسْمِ اللهِ، اللهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا" (ترجمہ)"اللہ کے نام سے،یااللہ!ہمیں شیطان سے دور رکھ اور شیطان کو ہم سے دور رکھ" تو اگر اس کے مقدر میں،اولاد ہوگی تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يَقُولَهُ عِنْدَ الْجِمَاعِ؛جلد٢ص١٠٥٨؛حدیث نمبر ٣٤٣١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٣١ کی مثل مروی ہے البتہ بعض راویوں نے بسم اللہ کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يَقُولَهُ عِنْدَ الْجِمَاعِ؛جلد٢ص١٠٥٨؛حدیث نمبر ٣٤٣٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہودی کہتے تھے جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی جانب سے ہوتے ہوئے شرمگاہ کی طرف آے تو بچہ بھینگا(پیدا)ہوتا ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: "تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتوں میں جیسے چاہو جاؤ" (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ جِمَاعِهِ امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا، مِنْ قُدَّامِهَا، وَمِنْ وَرَائِهَا مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلدُّبُرِ؛جلد٢ص١٠٥٨؛حدیث نمبر ٣٤٣٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہودی کہتے تھے جب عورت کے پاس اس کے پچھلے حصے کی طرف سے ہوکر جائے پھر وہ حاملہ ہو جائے تو اس کا بچہ بھینگا ہوگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی: "تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پس اپنی کھیتوں میں جیسے چاہو جاؤ" (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ جِمَاعِهِ امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا، مِنْ قُدَّامِهَا، وَمِنْ وَرَائِهَا مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلدُّبُرِ؛جلد٢ص١٠٥٨؛حدیث نمبر ٣٤٣٤)
ایک اور سند کے ساتھ متعدد راوی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی بات روایت کرتےہیں البتہ حضرت زہری کی روایت میں ہے اگر چاہے تو الٹا لٹا کر کرے اور چاہے تو یہ صورت اختیار کرے البتہ سوراخ ایک ہی استعمال کرے۔(یعنی شرمگاہ) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ جِمَاعِهِ امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا، مِنْ قُدَّامِهَا، وَمِنْ وَرَائِهَا مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلدُّبُرِ؛جلد٢ص١٠٥٩؛حدیث نمبر ٣٤٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب کوئی عورت اپنے خاوند کا بستر چھوڑ کر رات گزارے فرشتے اس پر صبح تک لعنت بھیجے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ امْتِنَاعِهَا مِنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا؛ترجمہ؛عورت کا اپنے خاوند کا بستر چھوڑنا منع ہے؛جلد٢ص١٠٥٩؛حدیث نمبر ٣٤٣٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اس میں ہے حتی کہ وہ لوٹ آئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ امْتِنَاعِهَا مِنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا؛جلد٢ص١٠٦٠؛حدیث نمبر ٣٤٣٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلاے لیکن وہ انکار کردے تواللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ(خاوند)اس سے ناراض ہوجائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ امْتِنَاعِهَا مِنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا؛جلد٢ص١٠٦٠؛حدیث نمبر ٣٤٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مرد اپنی بیوی کو بستر پر بلاے اور وہ نہ آئے پس وہ(خاوند)اس پر غصے کی حالت میں رات گزارے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ امْتِنَاعِهَا مِنْ فِرَاشِ زَوْجِهَا؛جلد٢ص١٠٦٠؛حدیث نمبر ٣٤٣٩)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن بدترین انسان وہ مرد ہوگا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور وہ اس کے پاس جاتی ہے پھر وہ اس کے راز کو پھیلا دیتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ إِفْشَاءِ سِرِّ الْمَرْأَةِ؛ترجمہ؛عورت کا راز ظاہر کرنے کی ممانعت؛جلد٢ص١٠٦٠؛حدیث نمبر ٣٤٤٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ مرد اپنی عورت کے پاس جاے عورت اپنا جسم اس کے حوالے کردے پھر وہ مرد اس بھید کو ظاہر کردے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ إِفْشَاءِ سِرِّ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٦١؛حدیث نمبر ٣٤٤١)
ابن مُحَیریز بیان کرتے ہیں کہ میں اور حضرت ابو صرمہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ابو صرمہ نے ان سے پوچھا اے ابو سعید!کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کا تذکرہ سنا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کا تذکرہ سنا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنو مصطلق میں شرکت کی تو ہم نے عرب کی معزز عورتوں کو قید کرلیا ہمیں عورتوں سے الگ ہوے کئی دن ہوچکے تھے اور ہم نے چاہا کہ ہم کفار سے فدیہ لے کر ان عورتوں کو چھوڑ دیں اور ہم نے یہ بھی چاہا کہ ان عورتوں سے نفع حاصل کریں اور عزل کریں(انزال کے وقت الگ ہوجائے تاکہ حمل نہ ہو) پھر ہم نے سوچا کہ ہم عزل کر رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں تو کیوں نہ ہم آپ سے اس کا حکم پوچھ لیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایاایسا نہ کرو تو کوئی حرج نہیں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک جس روح کے پیدا ہونے کے بارے میں لکھ دیا ہے وہ پیدا ہوکر رہے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛ترجمہ؛عزل کا حکم؛جلد٢ص١٠٦١؛حدیث نمبر٣٤٤٢)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک جس کو پیدا کرنے والا ہے اس نے وہ لکھ دیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٢؛حدیث نمبر ٣٤٤٣)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے(ایک جنگ میں)کچھ عورتوں کو قید کرلیا تو ہم ان سے عزل کرتے تھے پھر ہم نے اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا تم ایسا ضرور کروگے،تم ایسا ضرور کروگے،تم ایسا ضرور کرو گے۔قیامت تک جس روح نے پیدا ہونا ہے وہ پیدا ہوکر رہے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٢؛حدیث نمبر ٣٤٤٤)
حضرت انس بن سیرین کہتے ہیں میں نے معبد بن سیرین سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ بات حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنی ہے فرمایا ہاں انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ تم پر کوئی حرج نہیں اگر تم یہ کام نہ کرو یہ تو مقدر ہوچکی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٢؛حدیث نمبر ٣٤٤٥)
حضرت انس بن سیرین نے اسی سند سے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ کام نہ کرو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ چیز مقدر ہوچکی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٢؛حدیث نمبر ٣٤٤٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اگر تم یہ کام نہ کرو تو کوئی حرج نہیں یہ تو تقدیر کی بات ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٢؛حدیث نمبر ٣٤٤٧)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا ایسا کیوں کرتے ہو؟انہوں نے بتایا کہ ایک شخص کی بیوی دودھ پلاتی ہے اور وہ اس کا قرب اختیار کرتا ہے اور اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا اسی طرح ایک شخص کی لونڈی ہوتی ہے وہ اس کے قریب جاتا ہے اور اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا تم پر کوئی حرج نہیں اگر تم ایسا نہ کرو یہ تقدیر میں لکھا جاچکا ہے حضرت حسن نے یہ حدیث سن کر فرمایا قسم بخدا یہ تو ناراضگی کا اظہار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٣؛حدیث نمبر ٣٤٤٨)
ایک سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٢٤٤٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٣؛حدیث نمبر ٣٤٤٩)
حضرت معبد بن سیرین فرماتے ہیں ہم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں کچھ سنا ہے انہوں نے فرمایا ہاں...... پھر حدیث نمبر ٢٤٤٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٣؛حدیث نمبر ٣٤٥٠)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے پوچھا تم میں سے کوئی شخص ایسا کیوں کرتا ہے آپ نے فرمایا کہ تم یہ کام نہ کرو کیونکہ جو نفس بھی پیدا ہونے والا ہے اللہ تعالیٰ اسے پیدا کرکے رہے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٣,حدیث نمبر ٣٤٥١)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ہرپانی(مادہ منویہ)سے بچہ پیدا نہیں ہوتا اور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنا چاہے تو کوئی چیز اسے روک نہیں سکتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٣؛حدیث نمبر ٣٤٥٢)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٤٥٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٤؛حدیث نمبر ٣٤٥٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میری ایک لونڈی ہے جو ہمارے گھر کے کام کاج کرتی ہے اور پانی لاتی ہے اور میں اس سے مقاربت کرتا ہوں لیکن میں اس کا حاملہ ہونا پسند نہیں کرتا آپ نے فرمایا اگر چاہو تو اس سے عزل کرو لیکن جو کچھ مقدر ہے وہ پیدا ہوگا۔ پھر وہ شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ وہ لونڈی حاملہ ہوگئی ہے آپ نے فرمایا میں نے تجھے کہا تھا کہ عنقریب وہ کچھ ہو جائے گا جو مقدر ہوچکا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٤؛حدیث نمبر ٣٤٥٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میری ایک لونڈی ہے اور میں اس سے عزل کرنا چاہتا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا اسے عزل روک نہیں سکتا۔ فرماتے ہیں پھر وہ شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے جس لونڈی کا ذکر کیا تھا وہ حاملہ ہوگئی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٤؛حدیث نمبر ٣٤٥٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٥٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٥؛حدیث نمبر ٣٤٥٦)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اترتا تھا اور اسحٰق کی روایت میں یہ بھی ہے کہ سفیان نے کہا کہ اگر عزل برا ہوتا تو قرآن میں اس کی نہی اترتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٥؛حدیث نمبر ٣٤٥٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کیا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٥؛حدیث نمبر ٣٤٥٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم عہد رسالت میں عزل کرتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر پہنچی تو آپ نے منع نہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ حُكْمِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٥؛حدیث نمبر ٣٤٥٩)
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ایسی لونڈی لائی گئی جس کا زمانہ ولادت قریب تھا آپ نے فرمایا شاید یہ شخص اس سے جماع کرنا چاہتا ہے حاضرین نے عرض کیا جی ہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ قبر میں جائے وہ اس بچے کو کیسے وارث بناے گا جب کہ وہ اس کے لیے حلال نہیں اور اس سے کیسے خدمت لے گا جب کہ وہ اس کے لیے حلال نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ وَطْءِ الْحَامِلِ الْمَسْبِيَّةِ؛ترجمہ؛حاملہ قیدی عورت سے جماع کی ممانعت؛جلد٢ص١٠٦٥؛حدیث نمبر ٣٤٦٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٦٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ تَحْرِيمِ وَطْءِ الْحَامِلِ الْمَسْبِيَّةِ؛جلد٢ص١٠٦٦؛حدیث نمبر ٣٤٦١)
حضرت جدامہ بنت وہب الاسدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا غِیلہ(دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنا)سے منع کرنے کا ارادہ کیا حتیٰ کہ مجھے بتایا گیا کہ رومی اور فارسی یہ عمل کرتے ہیں لیکن ان کی اولاد کو کوئی ضرر نہیں ہوتا۔ حضرت خلف کی روایت میں جذامہ ہے لیکن امام مسلم فرماتے ہیں صحیح بات یہ ہے کہ یہ جدامہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ الْغِيلَةِ، وَهِيَ وَطْءُ الْمُرْضِعِ، وَكَرَاهَةِ الْعَزْلِ؛دودھ پلانے والی کے ساتھ جماع کی اجازت اور عزل کی کراہت؛جلد٢ص١٠٦٦؛حدیث نمبر ٣٤٦٢)
حضرت جدامہ بنت وہب(جو حضرت عکاشہ کی بہن ہیں)فرماتی ہیں کچھ لوگوں کے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ فرما رہے تھے میں نے ارادہ کیا کہ غِیلہ سے منع کروں پھر میں نے روم اور ایران والے کو دیکھا کہ وہ غِیلہ کرتے ہیں لیکن ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا پھر انہوں نے عزل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا یہ زندہ درگور کرنا ہے۔ عبیداللہ نے اپنی حدیث میں المُقری سے یہ اضافہ کیا ہے اور جب زندہ درگور کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا(کہ اس کو کس گناہ کی پاداش میں قتل کیا گیا)(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ الْغِيلَةِ، وَهِيَ وَطْءُ الْمُرْضِعِ، وَكَرَاهَةِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٧؛حدیث نمبر ٣٤٦٣)
حضرت جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا...... پھر حدیث نمبر ٣٤٦٣ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں غِیلہ کی بجائے الغیال کا لفظ ہے(معنیٰ ایک ہی ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ الْغِيلَةِ، وَهِيَ وَطْءُ الْمُرْضِعِ، وَكَرَاهَةِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٧؛حدیث نمبر ٣٤٦٤)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تم یہ کام کیوں کرتے ہو اس نے کہا مجھے اس کے بچے کا خوف ہے آپ نے فرمایا اگر یہ عمل مضر ہوتا تو فارس اور روم والے کو ضرر ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ النِّكَاحِ؛بَابُ جَوَازِ الْغِيلَةِ، وَهِيَ وَطْءُ الْمُرْضِعِ، وَكَرَاهَةِ الْعَزْلِ؛جلد٢ص١٠٦٧؛حدیث نمبر ٣٤٦٥)
Muslim Shareef : Kitabun Nikah
|
Muslim Shareef : کتاب النکاح
|
•