
حضرت عمرہ کا بیان ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تھے اور انہوں نے ایک شخص کی آواز سنی جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارکہ میں آنا چاہتا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ شخص آپ کے گھر میں آنا چاہتا ہے؟تو آپ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ فلاں شخص ہے جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی چچا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر فلاں شخص زندہ ہوتا تو میرا رضاعی چچا تھا تو کیا وہ بھی میرے پاس اسکتا تھا۔آپ نے فرمایا ہاں بے شک رضاعت(دودھ پلانے)سے وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ؛جلد٢ص١٠٦٨؛حدیث نمبر ٣٤٦٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ؛جلد٢ص١٠٦٨؛حدیث نمبر ٣٤٦٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٦٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ؛جلد٢ص١٠٦٨؛حدیث نمبر ٣٤٦٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے رضاعی چچازاد ابو القُعیس کے بھائی افلح آے اور مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور اس وقت پردے کا حکم نازل ہوچکا تھا فرماتی ہیں میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو واقعہ بتایا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کو اندر آنے کی اجازت دوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٦٩؛حدیث نمبر ٣٤٦٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قعیس میرے پاس آئے...... اس کے بعد حدیث نمبر ٣٤٦٩ کی مثل مروی ہے۔ البتہ اس روایت میں اضافہ ہے کہ میں نے کہا مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٦٩؛حدیث نمبر ٣٤٧٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی باپ تھے ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے کہا میں افلح کو اجازت نہیں دوں گی حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں کیوں کہ مجھے ابوالقعیس نے دودھ نہیں پلایا بلکہ مجھے تو خاتون نے دودھ پلایا ہے ام المؤمنين فرماتی ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ابوالقعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی ہے لیکن میں نے آپ سے پوچھے بغیر ان کو اجازت دینا پسند نہ کیا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو اجازت دو۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں رضاعت سے ان رشتوں کو حرام سمجھو جن کو نسب سے حرام سمجھتے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٦٩؛حدیث نمبر ٣٤٧١)
اسی سند سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آے اور انہوں نے ام المومنین سے اجازت طلب کی اس میں یہ بھی ہے کہ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں وہ تمہارے چچا ہیں.... اور حضرت ابوالقعیس اس خاتون کے خاوند تھے جس نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دودھ پلایا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٦٩؛حدیث نمبر ٣٤٧٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میرے رضاعی چچا آے اور مجھ سے ملنے کی اجازت طلب کی لیکن میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر اجازت دینے سے انکار کردیا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا میرے رضاعی چچا نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی لیکن میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے چچا تمہارے پاس آسکتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا آپ نے فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں تمہارے پاس آسکتے ہیں۔ ہشام نے اسی سند کے ساتھ ذکر کیا کہ ابوالقعیس کے بھائی نے ام المومنین سے ملاقات کی اجازت مانگی باقی اسی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٣)
اسی سند سے مروی ہے کہ ابوالقعیس نے ام المومنین سے ملاقات کے لئے اجازت طلب کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٧٣ کی مثل مروی ہے کہ ابوالقعیس نے ام المومنین سے ملاقات کے لئے اجازت طلب کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے فرماتی ہیں میرے رضاعی چچا ابوالجعد کہتے ہیں وہ ابو القُعیس تھے(ام المومنین فرماتی ہیں) جب سرکار دو عالم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی آپ نے فرمایا تم نے ان کو اجازت کیوں نہ دی تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کے رضاعی چچا افلح نے مجھ سے آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انکار کردیا پھر میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا ان سے پردہ نہ کرو کیوں کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں افلح بن قعیس نے میرے ہاں آنے کی اجازت مانگی تو میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا انہوں نے پیغام بھیجا کہ میں آپ کا چچا ہوں میرے بھائی کی بیوی نے آپ کو دودھ پلایا ہے میں نے پھر بھی اجازت دینے سے انکار کردیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے یہ بات ذکر کی آپ نے فرمایا وہ تمہارے پاس آسکتے ہیں کیونکہ وہ تمہارے(رضاعی)چچا ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٨)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا وجہ ہے کہ آپ قریش(کے دوسرے لوگوں)کی طرف مائل ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے؟میں نے کہا جی ہاں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ تَحْرِيمِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧١؛حدیث نمبر ٣٤٧٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٧٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ تَحْرِيمِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧١؛حدیث نمبر ٣٤٨٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کر لیں آپ نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ تَحْرِيمِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧١؛حدیث نمبر ٣٤٨١)
ایک اور سند سے بھی اس طرح مروی ہے کہ آپ نے فرمایا وہ میری بھتیجی ہے اور جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ تَحْرِيمِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧١؛حدیث نمبر ٣٤٨٢)
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا آپ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے عقد کرنے کا خیال نہیں یا کہا گیا کہ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو نکاح کا پیغام کیوں نہیں دیتے آپ نے فرمایا حضرت حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ تَحْرِيمِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧١؛حدیث نمبر ٣٤٨٣)
حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے پوچھا میری بہن یعنی ابوسفیان کی بیٹی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے آپ نے فرمایا میں کیا کروں؟ میں نے کہا اس سے نکاح کرلیں آپ نے پوچھا کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو؟میں نے کہا میں آپ کو چھوڑنا نہیں چاہتی لیکن میں چاہتی ہوں کہ خیر میں میری بہن بھی شریک ہوجائے آپ نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے کہا مجھے پتہ چلا کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں آپ نے پوچھا ام سلمہ کی بیٹی سے؟میں نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا اگر وہ میری گود میں پرورش نہ پاتی پھر بھی وہ میرے لیے حلال نہ تھی وہ میری رضاعی بھتیجی ہے مجھے اور اس کے باپ کو حضرت ثوبیہ نے دودھ پلایا پس تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ پر پیش نہ کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ، وَأُخْتِ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٧٢؛حدیث نمبر ٣٤٨٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٨٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ، وَأُخْتِ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٧٢؛حدیث نمبر ٣٤٨٥)
حضرت ام حبیبہ(ام المؤمنين)فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری بہن عزہ سے نکاح کرلیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ!لیکن میں آپ کو چھوڑنا نہیں چاہتی البتہ یہ بات چاہتی ہوں کہ خیر میں میری بہن میرے ساتھ شریک ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لئے حلال نہیں فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں بتایا گیا ہے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؟آپ نے فرمایا ابو سلمہ کی بیٹی سے؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں،آپ نے فرمایا اگر وہ میری گود میں پرورش نہ پاتی پھر بھی وہ میرے لیے حلال نہ تھی وہ میری رضاعی بھتیجی ہے مجھے اور اس کے باپ ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے پس تم مجھ پر اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو پیش نہ کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ، وَأُخْتِ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٧٣؛حدیث نمبر ٣٤٨٦)
دیگر اسناد سے بھی حدیث نمبر ٣٤٨٦ کی مثل مروی ہے البتہ یزید بن ابی حبیب کے علاوہ کسی نے عزہ کا نام نہیں لیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ، وَأُخْتِ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٧٢؛حدیث نمبر ٣٤٨٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک یا دو مرتبہ دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃوالمَصتین؛جلد٢ص١٠٧٣؛حدیث نمبر ٣٤٨٨)
حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ میرے گھر میں تھے اس نے کہا اے اللہ کے نبی!میں نے اپنی بیوی پر دوسری شادی کرلی میری پہلی بیوی کا خیال ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک یا دو چسکیاں دودھ پلایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک یا دو چسکیوں سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃ والمَصتین؛جلد٢ص١٠٧٤؛حدیث نمبر ٣٤٨٩)
حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں بنو عامر بن صعصعہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ!کیا ایک چسکی دودھ لینے سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔؟آپ نے فرمایا:نہیں!۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃ والمَصتین ؛جلد٢ص١٠٧٣؛حدیث نمبر ٣٤٩٠)
حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک گھونٹ یا دو گھونٹ دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی اسی طرح ایک یا دو چسکیوں سے بھی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃ والمَصتین ؛جلد٢ص١٠٧٤؛حدیث نمبر ٣٤٩١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٩١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃ والمَصتین ؛جلد٢ص١٠٧٤؛حدیث نمبر ٣٤٩٢)
حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ ایک یا دو بار پستان منہ میں دینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃ والمَصتین ؛جلد٢ص١٠٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٩٣)
حضرت ام الفضل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا ایک چسکی سے حرمت ثابت ہوتی ہے؟فرمایا:نہیں! ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ، وَأُخْتِ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٩٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں قرآن مجید میں نازل ہوا کہ دس معلوم چسکیوں سے حرمت لازم آتی ہے پھر پانچ معلوم چسکیوں کے حکم سے پہلا حکم منسوخ ہوگیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو قرآن مجید میں اسی طرح پڑھا جاتا رہا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛باب التحریم بخمس رضعات؛جلد٢ص١٠٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٩٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں قرآن مجید میں دس معلوم چسکیوں سے حرمت کا حکم نازل ہوا پھر پانچ چسکیوں سے حرمت کا حکم نازل ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛باب التحریم بخمس رضعات؛جلد٢ص١٠٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٩٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٩٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛باب التحریم بخمس رضعات؛جلد٢ص١٠٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٩٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت سہلہ بنت سہیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں حضرت سالم کے گھر آنے سے حضرت ابو حذیفہ کے چہرے پر ناگواری محسوس کرتی ہوں حالانکہ وہ ان کے حلیف ہیں آپ نے فرمایا اسے دودھ پلاؤ میں نے پوچھا میں کیسے دودھ پلاؤ وہ تو بڑی عمر کا مرد ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراے اور فرمایا مجھے معلوم ہے وہ جوان مرد ہے۔(اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی برتن میں دودھ دوہ کر پلایا جاے نیز یہ ان کے ساتھ خاص تھا عام حکم نہیں ١٢ہزاروی) عمرو کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت سالم بدری صحابی تھے اور ابن عمر کی روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ رِضَاعَةِ الْكَبِيرِ؛جلد٢ص١٠٧٦؛حدیث نمبر ٣٤٩٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والوں کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے تو حضرت سہلہ بنت سہیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ حضرت سالم دوسرے مردوں کی طرح جوان ہوگئے ہیں اور وہ ان باتوں کو سمجھنے لگے ہیں جن کو مرد سمجھتے ہیں اور وہ ہمارے ہاں آتے ہیں میں محسوس کرتی ہوں کہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو دودھ پلاؤ تم پر حرام ہوجائیں گے اور حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کےدل سے ناگواری چلی گئی وہ دوبارہ آئیں اور عرض کیا کہ میں نے ان کو دودھ پلایا ہے پس حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل سے ناگواری چلی گئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ رضاعۃ الکبیر؛جلد٢ص١٠٧٦؛حدیث نمبر ٣٤٩٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ حضرت سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں اور دوسرے مردوں کی طرح بالغ ہوچکے ہیں اور وہ باتیں جانتے ہیں جو مرد حضرات جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ان کو دودھ پلاؤ تم پر حرام ہوجائیں گے۔حضرت ابن ابی ملیکہ(راوی)فرماتے ہیں میں ایک سال یا اس کے قریب ٹھہرا اور خوف کے مارے کسی سے یہ حدیث بیان نہ کی پھر حضرت قاسم سے ملاقات ہوئی تو ان سے کہا آپ نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی تھی میں نے خوف کے مارے کسی سے بیان نہیں کی انہوں نے پوچھا کون سی حدیث؟میں نے ان کو خبر دی تو انہوں نے فرمایا میری طرف سے بیان کرسکتے ہو کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے اس کی خبر دی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ رضاعۃِ الکبیر؛جلد٢ص١٠٧٦؛حدیث نمبر ٣٥٠٠)
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تمہارے ہاں ایک نوجوان لڑکا آتا ہے مجھے پسند نہیں کہ وہ میرے پاس آئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا تمہارے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اچھا نمونہ نہیں پھر فرمایا حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!حضرت سالم میرے پاس آتے ہیں اور وہ جوان مرد ہیں حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو دودھ پلادو حتیٰ کہ وہ تمہارے پاس آسکیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ رضاعۃ الکبیر؛جلد٢ص١٠٧٧؛حدیث نمبر ٣٥٠١)
حضرت زینب بنت ابی سلمہ فرماتی ہیں میں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہ رہی تھیں اللہ کی قسم!مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ مجھے ایسا لڑکا دیکھے جسے دودھ پینے کی حاجت نہ رہی ہو انہوں نے پوچھا کیوں؟(پھر فرمایا)حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!میں حضرت سالم کے آنے کی وجہ سے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناگواری محسوس کرتی ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو دودھ پلا دو انہوں نے عرض کیا وہ تو داڑھی والے ہیں(جوان ہیں)آپ نے فرمایا دودھ پلاؤ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ناگواری دور ہو جائے گی وہ فرماتی ہیں اللہ کی قسم!اس کے بعد میں نے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناگواری نہیں دیکھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛باب رضاعۃ الکبیر؛جلد٢ص١٠٧٧؛حدیث نمبر ٣٥٠٢)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں تمام ازواج مطہرات نے اس قسم کی رضاعت کے ساتھ کسی کے گھر میں آنے سے انکار کیا اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم!ہم اس رخصت کو حضرت سالم کے ساتھ خاص سمجھتی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کی رضاعت کے ساتھ کسی کو ہمارے سامنے نہیں لائے اور نہ ہی ہم اس کو جائز سمجھتی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ رضاعۃ الکبیر؛ جلد٢ص١٠٧٨؛حدیث نمبر ٣٥٠٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میرے پاس ایک مرد بیٹھا ہوا تھا آپ کو یہ بات ناگوار گزری اور میں نے آپ کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرے رضاعی بھائی ہیں؟آپ نے فرمایا اپنے رضاعی بھائیوں کو دیکھ لیا کرو رضاعت تو بھوک(یعنی دودھ دینے کے دنوں)میں ہوتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧٨؛حدیث نمبر ٣٥٠٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٠٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧٩؛حدیث نمبر ٣٥٠٥)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن ایک لشکر اوطاس(قبیلے)کی طرف بھیجا جنہوں نے دشمن سے مقابلہ کرکے ان سے لڑائی کی اور ان پر غلبہ پاتے ہوئے ان کی کچھ عورتوں کو قیدی بنا لیا تو بعض صحابہ کرام نے ان کے مشرک خاوندوں کی وجہ سے ان کے قرب میں حرج خیال کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:{وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤](ترجمہ"اور شادی شدہ عورتیں(تم پر حرام ہیں)مگر جن لونڈیوں کے تم مالک بن جاؤ") یعنی وہ تمہارے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت پوری ہوجائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا بِالسَّبْيِ؛جلد٢ص١٠٧٩؛حدیث نمبر ٣٥٠٦)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٥٠٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں عدت پوری ہونے کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا باِلسَّبیِ؛جلد٢ص١٠٧٩؛حدیث نمبر ٣٥٠٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٠٦کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا باِلسَّبیِ؛جلد٢ص١٠٨٠؛حدیث نمبر ٣٥٠٨)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ اوطاس کے دن صحابہ کرام نے کچھ عورتوں کو قیدی بنایا اور وہ شادی شدہ تھیں صحابہ کرام نے ان کے قرب میں خوف محسوس کیا تو یہ آیت(مزکور بالا)نازل ہوئی(اور تم پر شادی شدہ عورتیں حرام ہیں مگر جن لونڈیوں کے تم مالک بن جاؤ) (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا باِلسَّبیِ؛جلد٢ص١٠٨٠؛حدیث نمبر ٣٥٠٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٠٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا باِلسَّبیِ؛جلد٢ص١٠٨٠؛حدیث نمبر ٣٥١٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ کا ایک بچے میں جھگڑا ہوگیا حضرت سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ ان کا بیٹا ہے آپ عتبہ کے ساتھ مشابہت ملاحظہ فرمائیں اور عبد بن زمعہ نے کہا یا رسول اللہ!یہ میرا بھائی ہے میرے والد کے بستر پر اس لونڈی سے پیدا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عتبہ کے ساتھ واضح طور پر مشابہ دیکھا تو فرمایا اے عبد!یہ تمہارا لڑکا ہے بچہ اس کا ہوتا ہے جس کا بستر ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں(پھر فرمایا)اے سودہ بنت زمعہ!اس سے پردہ کرو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس لڑکے نے حضرت سودہ کو کبھی نہیں دیکھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَتَوَقِّي الشُّبُهَاتِ؛ترجمہ؛بچہ صاحب فراش کا ہے اور شبہات سے بچنا چاہیے؛جلد٢ص١٠٨٠؛حدیث نمبر ٣٥١١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو"زانی کے لئے پتھر ہیں"کا جملہ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَتَوَقِّي الشُّبُهَاتِ؛جلد٢ص١٠٨١؛حدیث نمبر ٣٥١٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَتَوَقِّي الشُّبُهَاتِ؛جلد٢ص١٠٨١؛حدیث نمبر ٣٥١٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥١٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَتَوَقِّي الشُّبُهَاتِ؛جلد٢ص١٠٨١؛حدیث نمبر ٣٥١٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوشی خوشی تشریف لائے اور آپ کا چہرہ انور چمک دمک رہا تھا آپ نے فرمایا تم نے نہیں دیکھا کہ ایک قیافہ شناس نے ابھی ابھی حضرت زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو دیکھا اور کہا کہ ان میں سے بعض قدم بعض کا جز ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْعَمَلِ بِإِلْحَاقِ الْقَائِفِ الْوَلَدَ؛جلد٢ص١٠٨١؛حدیث نمبر ٣٥١٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوشی خوشی تشریف لائے اور فرمایا اے عائشہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایک قیافہ شناس مد لجی میرے پاس آیا اور اس نے حضرت اسامہ اور حضرت زید کو دیکھا ان دونوں پر ایک چادر تھی جس سے انہوں نے اپنے سروں کو ڈھانپ رکھا تھا اور ان کے پاؤں ننگے تھے تو اس نے کہا ان میں سے بعض قدم دوسرے بعض کا جز ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْعَمَلِ بِإِلْحَاقِ الْقَائِفِ الْوَلَدَ؛جلد٢ص١٠٨٢؛حدیث نمبر ٣٥١٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک قیافہ شناس آیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے حضرت اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ دونوں لیٹے ہوئے تھے تو اس نے کہا ان میں سے بعض قدم دوسرے بعض سے ہیں اس بات پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور آپ کو یہ بات پسند آئی چنانچہ آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی خبر دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْعَمَلِ بِإِلْحَاقِ الْقَائِفِ الْوَلَدَ؛جلد٢ص١٠٨٢؛حدیث نمبر ٣٥١٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥١٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْعَمَلِ بِإِلْحَاقِ الْقَائِفِ الْوَلَدَ؛جلد٢ص١٠٨٢؛حدیث نمبر ٣٥١٨)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین دن ٹھہرے اور فرمایا تم اپنے شوہر کی نظروں میں کم اہمیت کی حامل نہیں ہواگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے سات دن مقرر کروں اور اگر تمہارے لیے سات دن مقرر کروں گا تو باقی ازواج کے لئے بھی سات دن مقرر کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛ترجمہ؛شب زفاف کے بعد کنواری اور بیوہ دلہنوں کے پاس ٹھہرنے کی مقدار؛جلد٢ص١٠٨٢؛حدیث نمبر ٣٥١٩)
حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو صبح کے وقت ان سے فرمایا تم اپنے شوہر کی نظر میں کم اہمیت نہیں رکھتیں اگر تم چاہو تو تمہارے پاس سات دن رہوں اور اگر چاہو تو تین دن رہوں پھر دوبارہ آتا رہوں۔انہوں نے عرض کیا تین دن مقرر فرما دیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٣؛حدیث نمبر ٣٥٢٠)
حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور ان کے پاس تشریف لے گئے جب واپس تشریف لے جانے لگے تو انہوں نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو تمہارے لیے دنوں میں اضافہ کردوں اور مدت کا حساب رکھوں کنواری کے پاس سات دن اور بیوہ کے پاس تین دن رہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٣؛حدیث نمبر ٣٥٢١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٢١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٣؛حدیث نمبر ٣٥٢٢)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا پھر انہوں نے اس وقت کی کئی باتیں بتائیں اس میں یہ بھی بتایا کہ آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو تمہارے لیے سات دن مقرر کروں اور باقی ازواج کے لئے بھی سات سات دن مقرر کروں کیونکہ جب تمہارے پاس سات دن رہوں گا تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات سات دن رہوں گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٣؛حدیث نمبر ٣٥٢٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب کوئی شخص بیوہ کے اوپر کنواری سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات دن ٹھہرے اور جب کنواری پر بیوہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے۔ حضرت خالد فرماتے ہیں اگر میں کہوں کہ یہ حدیث مرفوع ہے(حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے)تو میں سچ کہوں گا لیکن انہوں نے کہا سنت اسی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٤؛حدیث نمبر ٣٥٢٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کنواری کے پاس سات دن رہنا سنت سے ہے حضرت خالد فرماتے ہیں اگر میں چاہتا تو کہہ دیتا کہ یہ حدیث مرفوع ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٤؛حدیث نمبر ٣٥٢٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں پس جب آپ ان کے درمیان ایام کی تقسیم فرماتے تو پہلی بیوی کے پاس نو دن کے بعد پہنچتے تھے وہ سب ہر رات اس زوجہ مطہرہ کے ہاں اکٹھی ہوتی تھیں جن کے ہاں آپ تشریف لاتے تھے چنانچہ آپ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا تشریف لائیں آپ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا یہ زینب ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک روک لیا۔ دونوں ازواج میں بحث چھڑ گئی حتیٰ کہ جب آواز بلند ہونے لگی اور ادھر اقامت ہوگئی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور ان دونوں کی آوازیں سنیں تو عرض کیا یا رسول اللہ!تشریف لائیں اور ان کے منہ میں مٹی ڈال دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا اب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر تشریف لائیں گے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ آئیں گے اور مجھے ہی برا بھلا کہیں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور انہیں سخت بات کہی اور فرمایا کیا تم ایسا کرتی ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْقَسْمِ بَيْنَ الزَّوْجَاتِ، وَبَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ أَنْ تَكُونَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ لَيْلَةٌ مَعَ يَوْمِهَا؛جلد٢ص١٠٨٤؛حدیث نمبر ٣٥٢٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں مجھے ازواج مطہرات میں سے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی خاتون عزیز نہ تھیں میں تمنا کرتی تھی کہ کاش میں ان کے جسم میں ہوتی اور حضرت سودہ کے مزاج میں تیزی تھی جب وہ بوڑھی ہوگئیں تو انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی باری حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دو دن عطاء فرماتے ایک ان کا اپنا دن دوسرا حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٥؛حدیث نمبر ٣٥٢٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت حدیث نمبر ٣٥٢٧ کی طرح منقول ہے۔البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میرے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے ان سے نکاح کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٥؛حدیث نمبر ٣٥٢٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مجھے ان عورتوں پر غصہ آتا تھا جنہوں نے اپنے نفسوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہبہ کردیا اور میں کہتی تھی کیا کوئی عورت اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے پس جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ} [الأحزاب: ٥١] (ترجمہ)"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنی ازواج میں سے جسے چاہیں پیچھے ہٹا دیں(الگ کردیں)اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جسے آپ نے الگ کردیا تھا اسے بلانا چاہیں تو کوئی حرج نہیں" حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم!آپ کا رب آپ کی خواہش کو جلدی پورا کرتا ہے۔ ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٥؛حدیث نمبر ٣٥٢٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کیا کسی عورت کو اس بات سے حیا نہیں آتا کہ وہ اپنا نفس کسی مرد کو ہبہ کردے حتیٰ کہ یہ آیت(مزکورہ بالا)نازل ہوئی تو میں نے کہا آپ کا رب آپ کی خواہش بہت جلدی پوری کردیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٥؛حدیث نمبر ٣٥٣٠)
حضرت عطاء فرماتے ہیں ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مقام سرف میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں حاضر ہوئے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں جب تم ان کی میت کو اٹھاؤ تو اسے زیادہ حرکت اور جھٹکے نہ دینا اور انتہائی سکون کے ساتھ لے کر چلنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں تو آپ نے آٹھ کی باریاں مقرر فرمائی تھیں اور ایک کی باری مقرر نہ کی حضرت عطاء فرماتے ہیں جن کی باری مقرر نہ کی وہ حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٦؛حدیث نمبر ٣٥٣١)
ایک اور سند سے یہ روایت منقول ہے اس میں حضرت عطاء کا یہ قول زائد ہے کہ حضرت میمونہ نے تمام ازواج مطہرات کے آخر میں مدینہ طیبہ میں وفات پائی۔(اور تدفین مقام سرف میں ہوئی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٦؛حدیث نمبر ٣٥٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال،اس کے حسب ونسب،اس کے حسن اور اس کے دین کی وجہ سے.... تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں تم دیندار عورت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ ذَاتِ الدِّينِ؛ترجمہ؛دیندار عورت سے نکاح کرنا مستحب ہے؛جلد٢ص١٠٨٦؛حدیث نمبر ٣٥٣٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت سے شادی کی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا اے جابر!تم نے شادی کی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں،فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟میں نے عرض کیا بیوہ سے،آپ نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کیوں نہیں کیا وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری کچھ بہنیں ہیں مجھے ڈر تھا کہ وہ میری بہنوں(کی پرورش)اور میرے درمیان حائل نہ ہو جائے۔ آپ نے فرمایا پھر ٹھیک ہے بےشک عورت سے اس کے دین اس کے مال اور اس کے جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے تمہارے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں تم دیندار کو ترجیح دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ ذَاتِ الدِّينِ؛جلد٢ص١٠٨٧؛حدیث نمبر ٣٥٣٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے ایک خاتون سے نکاح کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے نکاح کیا ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟میں نے کہا بیوہ سے،آپ نے فرمایا تم کنواری لڑکیوں اور ان کے دل لبھانے سے غافل کیوں رہے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں میں نے یہ بات حضرت عمرو بن دینار سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا میں نے یہ بات جابر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور آپ نے فرمایا تم نے ایسی لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی جس سے تم کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٧؛حدیث نمبر ٣٥٣٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ(ان کے والد)حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا اور انہوں نے نو یا فرمایا سات بیٹیاں چھوڑیں(فرماتے ہیں)میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کر لی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جابر!تم نے شادی کی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے پوچھا کنواری ہے یا بیوہ؟فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ بیوہ ہے آپ نے فرمایا تم نے کسی ایسی لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی جس سے تم کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی یا فرمایا تم اس سے ہنسی مزاق کرتے وہ تم سے کرتی۔ حضرت جابر فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ اللہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور انہوں نے نو بیٹیاں چھوڑی ہیں یا سات کا ذکر کیا اور عرض کیا میں نے یہ بات پسند نہ کی کہ میں ان کے پاس ان کی مثل لڑکی لاؤں اور اس بات کو پسند کیا کہ ایسی عورت لاؤں جو ان کے معاملے کو درست کردے اور ان کی نگہداشت کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے یا فرمایا بھلائی عطاء کرے ابو الربیع کی روایت میں ہے کہ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی تم اس سے ہنسی مزاق کرتے وہ تم سے کرتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٧؛حدیث نمبر ٣٥٣٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا اے جابر!تم نے نکاح کیا ہے؟اس کے بعد حدیث نمبر ٣٥٣٦ کی مثل مروی ہے۔ اس کے بعد آخر میں ہے میں نے ایسی عورت سے نکاح کیا جو میری بہنوں کی نگہداشت اور کنگھی پٹی کرتی آپ نے فرمایا تم نے ٹھیک کیا.... اس کے بعد والے الفاظ منقول نہیں ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٨؛حدیث نمبر ٣٥٣٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جب ہم آے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلا رہا تھا پیچھے سے ایک سوار نے میرے اونٹ کو چھڑی ماری پھر وہ اونٹ اس قدر تیز چلنے لگا کہ تو نے کبھی اتنا تیز چلتا ہوا اونٹ نہیں دیکھا ہوگا میں نے مڑکر دیکھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے آپ نے فرمایا اے جابر تجھے کیا جلدی ہے؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے نئی نئی شادی کی ہے آپ نے پوچھا کسی کنواری لڑکی سے کی ہے یا بیوہ سے؟میں نے عرض کیا بیوہ سے کیا ہے،فرمایا کسی ایسی لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔فرماتے ہیں جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے اور شہر میں داخل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا ٹھہر جاؤ رات کو یعنی عشاء کے وقت داخل ہوں گے تاکہ جس عورت کے بال بکھرے ہوے ہوں وہ کنگھی کر لے اور جس کا خاوند باہر گیا ہو وہ اپنی شرمگاہ کے بال صاف کرلے اور پھر جب تم جاؤ گے تو سمجھداری سے کام لینا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٨؛حدیث نمبر ٣٥٣٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ(میں شرکت)کے لئے گیا میرا اونٹ سست چل رہا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو پوچھا اے جابر!میں نے عرض کیا جی ہاں،آپ نے فرمایا کیا بات ہے میں نے عرض کیا میرا اونٹ آہستہ چل رہا ہے اس نے مجھے تھکا دیا ہے اور میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور اپنی ڈھال سے چھڑی کی طرح مارا پھر فرمایا سوار ہوجاؤ،فرماتے ہیں میں سوار ہوگیا تو میں نے دیکھا کہ اب میں اس اونٹ کو آگے بڑھنے سے روکتا ہوں آپ نے پوچھا تم نے شادی کی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں پوچھا کنواری سے یا بیوہ عورت سے؟میں نے عرض کیا بیوہ عورت سے کی ہے آپ نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کیوں نہیں کیا تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ میں نے عرض کیا میری چند بہنیں ہیں میں نے چاہا کہ میں ایسی عورت سے نکاح کروں جو ان کو متفق رکھے ان کو کنگھی کرے اور ان کی خبر گیری کرے۔ آپ نے فرمایا تم گھر جارہے ہو جب تم جاؤ تم سمجھ داری سے کام لینا پھر فرمایا اپنے اونٹ کو بیچتے ہو میں نے عرض کیا جی ہاں پس آپ مجھ سے وہ اونٹ ایک اوقیہ چاندی کے بدلے خریدا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے اور میں بھی صبح کے وقت پہنچ گیا میں مسجد میں آیا تو آپ دروازے میں کھڑے تھے آپ نے پوچھا اب آے ہو؟فرمایا اونٹ کو چھوڑو اور اندر آکر دو رکعت نفل پڑھو۔ حضرت جابر فرماتے ہیں میں اندر داخل ہوا اور نماز پڑھی جب واپس ہوا تو آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ میرے لیے ایک اوقیہ چاندی کا وزن کریں اور جھکتا ہوا تولیں۔ حضرت جابر فرماتے ہیں میں چاندی لے کر چلا اور ابھی میں نے پیٹھ پھیری تھی کہ آپ نے فرمایا جابر کو بلاؤ مجھے بلایا گیا تو میں نے سوچا کہ آپ میرا اونٹ مجھے واپس کریں گے اور مجھے اس سے زیادہ ناپسند کوئی بات نہ تھی لیکن آپ نے فرمایا اپنا اونٹ لے جاؤ اور اس کی قیمت بھی رکھو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٩؛حدیث نمبر ٣٥٣٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک سفر میں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور میں اپنے پانی لانے والے اونٹ پر تھا جو سب لوگوں سے پیچھے تھا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کسی چیز کے ساتھ مارا جو آپ کے پاس تھی تو اس کے بعد وہ اونٹ تمام سواریوں سے آگے نکل گیا میں اسے روکنے کی کوشش کرتا تھا لیکن وہ میرے قابو میں نہ تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اتنی رقم پر بیچتے ہو اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!(صلی اللہ علیہ وسلم)یہ آپ ہی کا ہے آپ نے فرمایا اتنی رقم پر مجھ سے سودا کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یہ آپ ہی کا ہے آپ نے پوچھا کیا تم نے شادی کی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں پوچھا کسی بیوہ سے یا کنواری سے؟فرماتے ہیں میں نے عرض کیا"بیوہ سے" آپ نے فرمایا کسی کنواری سے کیوں نہیں کی وہ تم سے دل لگی کرتی اور تم اس سے دل لگی کرتے وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے۔ ابونضرہ کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا تکیہ کلام ہے کہ فلاں کام کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٩؛حدیث نمبر ٣٥٤٠)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا نفع اٹھانے کی چیز ہے اور سب سے بہترین متاع نیک عورت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ خَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ؛جلد٢ص١٠٩٠؛حدیث نمبر ٣٥٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دوگے اور اگر اسی طرح چھوڑ گے تو اس کے ٹیڑھے پن کے باوجود اس سے نفع حاصل کروگے۔(مطلب یہ ہے کہ عورت سے حسن سلوک کیا جائے اس کی طرف معمولی معمولی باتوں کو نظر انداز کیا جائے تاکہ زندگی کی گاڑی چلتی رہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛ترجمہ؛عورتوں کی خیر خواہی؛جلد٢ص١٠٩٠؛حدیث نمبر ٣٥٤٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٤٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٢ص١٠٩٠؛حدیث نمبر ٣٥٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے وہ سیدھا کرنے سے سیدھی نہیں ہو گی اگر تم اس سے نفع حاصل کرنا چاہو تو اس کے ٹیڑھے پن کے باوجود نفع حاصل کرو گے اور اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو تو اسے توڑ دوگے اور اس کا توڑنا طلاق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جب کوئی بات دیکھے تو اچھی بات کہے یا خاموش رہے اور عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو۔بےشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی اور پسلی کے اوپر کا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو تو توڑ دوگے اور اگر تم اسے(اسی طرح)چھوڑ دو گے تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی عورتوں سے خیر خواہی کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مؤمن کسی مومنہ عورت سے نفرت نہ کرے اگر اسے اس کی ایک عادت اچھی نہیں لگتی تو دوسری عادت سے خوش ہو جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٣٥٤٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اگر حضرت حواء ایسا نہ کرتیں تو کوئی عورت عمر بھر اپنے خاوند سے نافرمانی نہ کرتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ لَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد احادیث مروی ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کبھی کوئی کھانا اور گوشت خراب نہ ہوتا اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت عمر بھر اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔(علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت حواء نے حضرت آدم علیہ السلام کو درخت سے کھانے کی ترغیب دی اور وہ شیطان کے بہکاوے میں آگئی تھیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ لَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٩)
Muslim Shareef : Kitabur Reda A
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الرِّضَاعِ
|
•