asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabur Reda A

From 3466 to 3549

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عمرہ کا بیان ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تھے اور انہوں نے ایک شخص کی آواز سنی جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارکہ میں آنا چاہتا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ شخص آپ کے گھر میں آنا چاہتا ہے؟تو آپ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ فلاں شخص ہے جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی چچا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر فلاں شخص زندہ ہوتا تو میرا رضاعی چچا تھا تو کیا وہ بھی میرے پاس اسکتا تھا۔آپ نے فرمایا ہاں بے شک رضاعت(دودھ پلانے)سے وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ؛جلد٢ص١٠٦٨؛حدیث نمبر ٣٤٦٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا، وَإِنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُرَاهُ فُلَانًا» - لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ - فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا - لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ - دَخَلَ عَلَيَّ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3466

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ؛جلد٢ص١٠٦٨؛حدیث نمبر ٣٤٦٧)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3467

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٦٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ؛جلد٢ص١٠٦٨؛حدیث نمبر ٣٤٦٨)

وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. مِثْلَ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3468

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے رضاعی چچازاد ابو القُعیس کے بھائی افلح آے اور مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور اس وقت پردے کا حکم نازل ہوچکا تھا فرماتی ہیں میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو واقعہ بتایا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کو اندر آنے کی اجازت دوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٦٩؛حدیث نمبر ٣٤٦٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ، جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا، وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَ الْحِجَابُ، قَالَتْ: فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ: «فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3469

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قعیس میرے پاس آئے...... اس کے بعد حدیث نمبر ٣٤٦٩ کی مثل مروی ہے۔ البتہ اس روایت میں اضافہ ہے کہ میں نے کہا مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٦٩؛حدیث نمبر ٣٤٧٠)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَانِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، وَزَادَ، قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: «تَرِبَتْ يَدَاكِ» أَوْ «يَمِينُكِ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3470

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی باپ تھے ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے کہا میں افلح کو اجازت نہیں دوں گی حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں کیوں کہ مجھے ابوالقعیس نے دودھ نہیں پلایا بلکہ مجھے تو خاتون نے دودھ پلایا ہے ام المؤمنين فرماتی ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ابوالقعیس کے بھائی افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی ہے لیکن میں نے آپ سے پوچھے بغیر ان کو اجازت دینا پسند نہ کیا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو اجازت دو۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں رضاعت سے ان رشتوں کو حرام سمجھو جن کو نسب سے حرام سمجھتے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٦٩؛حدیث نمبر ٣٤٧١)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ، وَكَانَ أَبُو الْقُعَيْسِ أَبَا عَائِشَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: وَاللهِ، لَا آذَنُ لِأَفْلَحَ، حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ أَبَا الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَنِي يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَكَرِهْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنِي لَهُ»، قَالَ عُرْوَةُ: فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: «حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3471

اسی سند سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوالقعیس کے بھائی افلح آے اور انہوں نے ام المومنین سے اجازت طلب کی اس میں یہ بھی ہے کہ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں وہ تمہارے چچا ہیں.... اور حضرت ابوالقعیس اس خاتون کے خاوند تھے جس نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دودھ پلایا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٦٩؛حدیث نمبر ٣٤٧٢)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَفِيهِ: «فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ» وَكَانَ أَبُو الْقُعَيْسِ زَوْجَ الْمَرْأَةِ الَّتِي أَرْضَعَتْ عَائِشَةَ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3472

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میرے رضاعی چچا آے اور مجھ سے ملنے کی اجازت طلب کی لیکن میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر اجازت دینے سے انکار کردیا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا میرے رضاعی چچا نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی لیکن میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے چچا تمہارے پاس آسکتے ہیں میں نے عرض کیا مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا آپ نے فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں تمہارے پاس آسکتے ہیں۔ ہشام نے اسی سند کے ساتھ ذکر کیا کہ ابوالقعیس کے بھائی نے ام المومنین سے ملاقات کی اجازت مانگی باقی اسی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: إِنَّ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ عَمُّكِ»، قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: «إِنَّهُ عَمُّكِ، فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3473

اسی سند سے مروی ہے کہ ابوالقعیس نے ام المومنین سے ملاقات کے لئے اجازت طلب کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٤)

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَذَكَرَ نَحْوَهُ،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3474

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٧٣ کی مثل مروی ہے کہ ابوالقعیس نے ام المومنین سے ملاقات کے لئے اجازت طلب کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٥)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا أَبُو الْقُعَيْسِ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3475

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے فرماتی ہیں میرے رضاعی چچا ابوالجعد کہتے ہیں وہ ابو القُعیس تھے(ام المومنین فرماتی ہیں) جب سرکار دو عالم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتائی آپ نے فرمایا تم نے ان کو اجازت کیوں نہ دی تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٦)

وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَبُو الْجَعْدِ، فَرَدَدْتُهُ - قَالَ لِي هِشَامٌ: إِنَّمَا هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ - فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، قَالَ: «فَهَلَّا أَذِنْتِ لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ» أَوْ «يَدُكِ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3476

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کے رضاعی چچا افلح نے مجھ سے آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انکار کردیا پھر میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا ان سے پردہ نہ کرو کیوں کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يُسَمَّى أَفْلَحَ. اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ، فَأَخْبَرَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهَا: «لَا تَحْتَجِبِي مِنْهُ، فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3477

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں افلح بن قعیس نے میرے ہاں آنے کی اجازت مانگی تو میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا انہوں نے پیغام بھیجا کہ میں آپ کا چچا ہوں میرے بھائی کی بیوی نے آپ کو دودھ پلایا ہے میں نے پھر بھی اجازت دینے سے انکار کردیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے یہ بات ذکر کی آپ نے فرمایا وہ تمہارے پاس آسکتے ہیں کیونکہ وہ تمہارے(رضاعی)چچا ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّضَاعَةِ مِنْ مَاءِ الْفَحْلِ؛جلد٢ص١٠٧٠؛حدیث نمبر ٣٤٧٨)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ بْنُ قُعَيْسٍ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَأَرْسَلَ: إِنِّي عَمُّكِ، أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3478

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا وجہ ہے کہ آپ قریش(کے دوسرے لوگوں)کی طرف مائل ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے؟میں نے کہا جی ہاں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ تَحْرِيمِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧١؛حدیث نمبر ٣٤٧٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا؟ فَقَالَ: «وَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، بِنْتُ حَمْزَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3479

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٧٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ تَحْرِيمِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧١؛حدیث نمبر ٣٤٨٠)

وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3480

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کر لیں آپ نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ تَحْرِيمِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧١؛حدیث نمبر ٣٤٨١)

وحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ، فَقَالَ: «إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3481

ایک اور سند سے بھی اس طرح مروی ہے کہ آپ نے فرمایا وہ میری بھتیجی ہے اور جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ تَحْرِيمِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧١؛حدیث نمبر ٣٤٨٢)

وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِهْرَانَ الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِ هَمَّامٍ سَوَاءً، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ شُعْبَةَ، انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ: «ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ»، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ ": وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ "، وَفِي رِوَايَةِ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3482

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا آپ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے عقد کرنے کا خیال نہیں یا کہا گیا کہ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو نکاح کا پیغام کیوں نہیں دیتے آپ نے فرمایا حضرت حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ تَحْرِيمِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧١؛حدیث نمبر ٣٤٨٣)

وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: قِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ عَنِ ابْنَةِ حَمْزَةَ - أَوْ قِيلَ: أَلَا تَخْطُبُ بِنْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ - قَالَ: «إِنَّ حَمْزَةَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3483

حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے پوچھا میری بہن یعنی ابوسفیان کی بیٹی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے آپ نے فرمایا میں کیا کروں؟ میں نے کہا اس سے نکاح کرلیں آپ نے پوچھا کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو؟میں نے کہا میں آپ کو چھوڑنا نہیں چاہتی لیکن میں چاہتی ہوں کہ خیر میں میری بہن بھی شریک ہوجائے آپ نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے کہا مجھے پتہ چلا کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں آپ نے پوچھا ام سلمہ کی بیٹی سے؟میں نے کہا جی ہاں۔آپ نے فرمایا اگر وہ میری گود میں پرورش نہ پاتی پھر بھی وہ میرے لیے حلال نہ تھی وہ میری رضاعی بھتیجی ہے مجھے اور اس کے باپ کو حضرت ثوبیہ نے دودھ پلایا پس تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ پر پیش نہ کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ، وَأُخْتِ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٧٢؛حدیث نمبر ٣٤٨٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟ فَقَالَ: «أَفْعَلُ مَاذَا؟» قُلْتُ: تَنْكِحُهَا، قَالَ: «أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكِ؟» قُلْتُ: لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي، قَالَ: «فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي»، قُلْتُ: فَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: «بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3484

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٨٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ، وَأُخْتِ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٧٢؛حدیث نمبر ٣٤٨٥)

وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَوَاءً

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3485

حضرت ام حبیبہ(ام المؤمنين)فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری بہن عزہ سے نکاح کرلیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ!لیکن میں آپ کو چھوڑنا نہیں چاہتی البتہ یہ بات چاہتی ہوں کہ خیر میں میری بہن میرے ساتھ شریک ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ میرے لئے حلال نہیں فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں بتایا گیا ہے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؟آپ نے فرمایا ابو سلمہ کی بیٹی سے؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں،آپ نے فرمایا اگر وہ میری گود میں پرورش نہ پاتی پھر بھی وہ میرے لیے حلال نہ تھی وہ میری رضاعی بھتیجی ہے مجھے اور اس کے باپ ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے پس تم مجھ پر اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو پیش نہ کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ، وَأُخْتِ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٧٣؛حدیث نمبر ٣٤٨٦)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ شِهَابٍ، كَتَبَ يَذْكُرُ، أَنَّ عُرْوَةَ، حَدَّثَهُ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، انْكِحْ أُخْتِي عَزَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُحِبِّينَ ذَلِكِ؟» فَقَالَتْ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي»، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: «بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3486

دیگر اسناد سے بھی حدیث نمبر ٣٤٨٦ کی مثل مروی ہے البتہ یزید بن ابی حبیب کے علاوہ کسی نے عزہ کا نام نہیں لیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ، وَأُخْتِ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٧٢؛حدیث نمبر ٣٤٨٧)

وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْهُ نَحْوَ حَدِيثِهِ، وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِهِ عَزَّةَ، غَيْرُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3487

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک یا دو مرتبہ دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃوالمَصتین؛جلد٢ص١٠٧٣؛حدیث نمبر ٣٤٨٨)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: - وَقَالَ سُوَيْدٌ وَزُهَيْرٌ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ -: «لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3488

حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ میرے گھر میں تھے اس نے کہا اے اللہ کے نبی!میں نے اپنی بیوی پر دوسری شادی کرلی میری پہلی بیوی کا خیال ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک یا دو چسکیاں دودھ پلایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک یا دو چسکیوں سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃ والمَصتین؛جلد٢ص١٠٧٤؛حدیث نمبر ٣٤٨٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْمُعْتَمِرِ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِي، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي كَانَتْ لِي امْرَأَةٌ، فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا أُخْرَى، فَزَعَمَتِ امْرَأَتِي الْأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتِي الْحُدْثَى رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ»، قَالَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3489

حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں بنو عامر بن صعصعہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ!کیا ایک چسکی دودھ لینے سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔؟آپ نے فرمایا:نہیں!۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃ والمَصتین ؛جلد٢ص١٠٧٣؛حدیث نمبر ٣٤٩٠)

وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هَلْ تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ الْوَاحِدَةُ؟ قَالَ: «لَا»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3490

حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک گھونٹ یا دو گھونٹ دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی اسی طرح ایک یا دو چسکیوں سے بھی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃ والمَصتین ؛جلد٢ص١٠٧٤؛حدیث نمبر ٣٤٩١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ، حَدَّثَتْ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ أَوِ الرَّضْعَتَانِ، أَوِ الْمَصَّةُ أَوِ الْمَصَّتَانِ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3491

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٩١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃ والمَصتین ؛جلد٢ص١٠٧٤؛حدیث نمبر ٣٤٩٢)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا إِسْحَاقُ، فَقَالَ كَرِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ، أَوِ الرَّضْعَتَانِ أَوِ الْمَصَّتَانِ، وَأَمَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، فَقَالَ: وَالرَّضْعَتَانِ وَالْمَصَّتَانِ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3492

حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ ایک یا دو بار پستان منہ میں دینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ المَصۃ والمَصتین ؛جلد٢ص١٠٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٩٣)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3493

حضرت ام الفضل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا ایک چسکی سے حرمت ثابت ہوتی ہے؟فرمایا:نہیں! ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ تَحْرِيمِ الرَّبِيبَةِ، وَأُخْتِ الْمَرْأَةِ؛جلد٢ص١٠٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٩٤)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحَرِّمُ الْمَصَّةُ؟ فَقَالَ: «لَا»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3494

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں قرآن مجید میں نازل ہوا کہ دس معلوم چسکیوں سے حرمت لازم آتی ہے پھر پانچ معلوم چسکیوں کے حکم سے پہلا حکم منسوخ ہوگیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو قرآن مجید میں اسی طرح پڑھا جاتا رہا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛باب التحریم بخمس رضعات؛جلد٢ص١٠٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٩٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ، بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ "

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3495

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں قرآن مجید میں دس معلوم چسکیوں سے حرمت کا حکم نازل ہوا پھر پانچ چسکیوں سے حرمت کا حکم نازل ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛باب التحریم بخمس رضعات؛جلد٢ص١٠٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٩٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ: - وَهِيَ تَذْكُرُ الَّذِي يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ قَالَتْ عَمْرَةُ: فَقَالَتْ: عَائِشَةُ - «نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ أَيْضًا خَمْسٌ مَعْلُومَاتٌ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3496

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٤٩٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛باب التحریم بخمس رضعات؛جلد٢ص١٠٧٥؛حدیث نمبر ٣٤٩٧)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3497

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت سہلہ بنت سہیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں حضرت سالم کے گھر آنے سے حضرت ابو حذیفہ کے چہرے پر ناگواری محسوس کرتی ہوں حالانکہ وہ ان کے حلیف ہیں آپ نے فرمایا اسے دودھ پلاؤ میں نے پوچھا میں کیسے دودھ پلاؤ وہ تو بڑی عمر کا مرد ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراے اور فرمایا مجھے معلوم ہے وہ جوان مرد ہے۔(اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی برتن میں دودھ دوہ کر پلایا جاے نیز یہ ان کے ساتھ خاص تھا عام حکم نہیں ١٢ہزاروی) عمرو کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت سالم بدری صحابی تھے اور ابن عمر کی روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ رِضَاعَةِ الْكَبِيرِ؛جلد٢ص١٠٧٦؛حدیث نمبر ٣٤٩٨)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ وَهُوَ حَلِيفُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ»، قَالَتْ: وَكَيْفَ أُرْضِعُهُ؟ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ»، زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3498

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والوں کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے تو حضرت سہلہ بنت سہیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ حضرت سالم دوسرے مردوں کی طرح جوان ہوگئے ہیں اور وہ ان باتوں کو سمجھنے لگے ہیں جن کو مرد سمجھتے ہیں اور وہ ہمارے ہاں آتے ہیں میں محسوس کرتی ہوں کہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو دودھ پلاؤ تم پر حرام ہوجائیں گے اور حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کےدل سے ناگواری چلی گئی وہ دوبارہ آئیں اور عرض کیا کہ میں نے ان کو دودھ پلایا ہے پس حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل سے ناگواری چلی گئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ رضاعۃ الکبیر؛جلد٢ص١٠٧٦؛حدیث نمبر ٣٤٩٩)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَالِمًا، مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَانَ مَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَأَهْلِهِ فِي بَيْتِهِمْ، فَأَتَتْ - تَعْنِي ابْنَةَ سُهَيْلٍ - النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ سَالِمًا قَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ. وَعَقَلَ مَا عَقَلُوا. وَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْنَا. وَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا. فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ، وَيَذْهَبِ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ» فَرَجَعَتْ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُهُ. فَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3499

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ حضرت سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں اور دوسرے مردوں کی طرح بالغ ہوچکے ہیں اور وہ باتیں جانتے ہیں جو مرد حضرات جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ان کو دودھ پلاؤ تم پر حرام ہوجائیں گے۔حضرت ابن ابی ملیکہ(راوی)فرماتے ہیں میں ایک سال یا اس کے قریب ٹھہرا اور خوف کے مارے کسی سے یہ حدیث بیان نہ کی پھر حضرت قاسم سے ملاقات ہوئی تو ان سے کہا آپ نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی تھی میں نے خوف کے مارے کسی سے بیان نہیں کی انہوں نے پوچھا کون سی حدیث؟میں نے ان کو خبر دی تو انہوں نے فرمایا میری طرف سے بیان کرسکتے ہو کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے اس کی خبر دی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ رضاعۃِ الکبیر؛جلد٢ص١٠٧٦؛حدیث نمبر ٣٥٠٠)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ -، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ سَالِمًا - لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ - مَعَنَا فِي بَيْتِنَا. وَقَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ، وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ. قَالَ: «أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ» قَالَ: " فَمَكَثْتُ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا لَا أُحَدِّثُ بِهِ وَهِبْتُهُ ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ حَدَّثْتَنِي حَدِيثًا مَا حَدَّثْتُهُ بَعْدُ. قَالَ: فَمَا هُوَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَحَدِّثْهُ عَنِّي، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِيهِ "

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3500

حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تمہارے ہاں ایک نوجوان لڑکا آتا ہے مجھے پسند نہیں کہ وہ میرے پاس آئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا تمہارے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اچھا نمونہ نہیں پھر فرمایا حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!حضرت سالم میرے پاس آتے ہیں اور وہ جوان مرد ہیں حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو دودھ پلادو حتیٰ کہ وہ تمہارے پاس آسکیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ رضاعۃ الکبیر؛جلد٢ص١٠٧٧؛حدیث نمبر ٣٥٠١)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، لِعَائِشَةَ، إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ، الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ؟ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ، وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3501

حضرت زینب بنت ابی سلمہ فرماتی ہیں میں نے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہ رہی تھیں اللہ کی قسم!مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ مجھے ایسا لڑکا دیکھے جسے دودھ پینے کی حاجت نہ رہی ہو انہوں نے پوچھا کیوں؟(پھر فرمایا)حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!میں حضرت سالم کے آنے کی وجہ سے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناگواری محسوس کرتی ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو دودھ پلا دو انہوں نے عرض کیا وہ تو داڑھی والے ہیں(جوان ہیں)آپ نے فرمایا دودھ پلاؤ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ناگواری دور ہو جائے گی وہ فرماتی ہیں اللہ کی قسم!اس کے بعد میں نے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناگواری نہیں دیکھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛باب رضاعۃ الکبیر؛جلد٢ص١٠٧٧؛حدیث نمبر ٣٥٠٢)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ -، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ نَافِعٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ لِعَائِشَةَ: وَاللهِ مَا تَطِيبُ نَفْسِي أَنْ يَرَانِي الْغُلَامُ قَدِ اسْتَغْنَى عَنِ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَتْ: لِمَ، قَدْ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ»، فَقَالَتْ: إِنَّهُ ذُو لِحْيَةٍ فَقَالَ: «أَرْضِعِيهِ يَذْهَبْ مَا فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ»، فَقَالَتْ: وَاللهِ مَا عَرَفْتُهُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3502

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں تمام ازواج مطہرات نے اس قسم کی رضاعت کے ساتھ کسی کے گھر میں آنے سے انکار کیا اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم!ہم اس رخصت کو حضرت سالم کے ساتھ خاص سمجھتی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کی رضاعت کے ساتھ کسی کو ہمارے سامنے نہیں لائے اور نہ ہی ہم اس کو جائز سمجھتی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ رضاعۃ الکبیر؛ جلد٢ص١٠٧٨؛حدیث نمبر ٣٥٠٣)

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَتْ تَقُولُ: " أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللهِ مَا نَرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً، فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ، وَلَا رَائِينَا "

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3503

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میرے پاس ایک مرد بیٹھا ہوا تھا آپ کو یہ بات ناگوار گزری اور میں نے آپ کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرے رضاعی بھائی ہیں؟آپ نے فرمایا اپنے رضاعی بھائیوں کو دیکھ لیا کرو رضاعت تو بھوک(یعنی دودھ دینے کے دنوں)میں ہوتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧٨؛حدیث نمبر ٣٥٠٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، قَالَتْ: فَقَالَ: «انْظُرْنَ إِخْوَتَكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3504

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٠٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ؛جلد٢ص١٠٧٩؛حدیث نمبر ٣٥٠٥)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، بِإِسْنَادِ أَبِي الْأَحْوَصِ كَمَعْنَى حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّهُمْ قَالُوا مِنَ الْمَجَاعَةِ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3505

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن ایک لشکر اوطاس(قبیلے)کی طرف بھیجا جنہوں نے دشمن سے مقابلہ کرکے ان سے لڑائی کی اور ان پر غلبہ پاتے ہوئے ان کی کچھ عورتوں کو قیدی بنا لیا تو بعض صحابہ کرام نے ان کے مشرک خاوندوں کی وجہ سے ان کے قرب میں حرج خیال کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:{وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤](ترجمہ"اور شادی شدہ عورتیں(تم پر حرام ہیں)مگر جن لونڈیوں کے تم مالک بن جاؤ") یعنی وہ تمہارے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت پوری ہوجائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا بِالسَّبْيِ؛جلد٢ص١٠٧٩؛حدیث نمبر ٣٥٠٦)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسَ، فَلَقُوا عَدُوًّا، فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ، وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا، فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤]، أَيْ: فَهُنَّ لَكُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ "،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3506

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٥٠٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں عدت پوری ہونے کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا باِلسَّبیِ؛جلد٢ص١٠٧٩؛حدیث نمبر ٣٥٠٧)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ، حَدَّثَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ سَرِيَّةً، بِمَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْهُنَّ فَحَلَالٌ لَكُمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3507

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٠٦کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا باِلسَّبیِ؛جلد٢ص١٠٨٠؛حدیث نمبر ٣٥٠٨)

وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3508

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ اوطاس کے دن صحابہ کرام نے کچھ عورتوں کو قیدی بنایا اور وہ شادی شدہ تھیں صحابہ کرام نے ان کے قرب میں خوف محسوس کیا تو یہ آیت(مزکور بالا)نازل ہوئی(اور تم پر شادی شدہ عورتیں حرام ہیں مگر جن لونڈیوں کے تم مالک بن جاؤ) (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا باِلسَّبیِ؛جلد٢ص١٠٨٠؛حدیث نمبر ٣٥٠٩)

وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " أَصَابُوا سَبْيًا يَوْمَ أَوْطَاسَ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ، فَتَخَوَّفُوا، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] "،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3509

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٠٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ وَطْءِ الْمَسْبِيَّةِ بَعْدَ الِاسْتِبْرَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَهَا زَوْجٌ انْفَسَخَ نِكَاحُهَا باِلسَّبیِ؛جلد٢ص١٠٨٠؛حدیث نمبر ٣٥١٠)

وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3510

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ کا ایک بچے میں جھگڑا ہوگیا حضرت سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ ان کا بیٹا ہے آپ عتبہ کے ساتھ مشابہت ملاحظہ فرمائیں اور عبد بن زمعہ نے کہا یا رسول اللہ!یہ میرا بھائی ہے میرے والد کے بستر پر اس لونڈی سے پیدا ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عتبہ کے ساتھ واضح طور پر مشابہ دیکھا تو فرمایا اے عبد!یہ تمہارا لڑکا ہے بچہ اس کا ہوتا ہے جس کا بستر ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں(پھر فرمایا)اے سودہ بنت زمعہ!اس سے پردہ کرو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس لڑکے نے حضرت سودہ کو کبھی نہیں دیکھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَتَوَقِّي الشُّبُهَاتِ؛ترجمہ؛بچہ صاحب فراش کا ہے اور شبہات سے بچنا چاہیے؛جلد٢ص١٠٨٠؛حدیث نمبر ٣٥١١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ»، قَالَتْ: فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح: قَوْلَهُ: «يَا عَبْدُ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3511

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو"زانی کے لئے پتھر ہیں"کا جملہ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَتَوَقِّي الشُّبُهَاتِ؛جلد٢ص١٠٨١؛حدیث نمبر ٣٥١٢)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّ مَعْمَرًا، وَابْنَ عُيَيْنَةَ، فِي حَدِيثِهِمَا «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ»، وَلَمْ يَذْكُرَا: «وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3512

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَتَوَقِّي الشُّبُهَاتِ؛جلد٢ص١٠٨١؛حدیث نمبر ٣٥١٣)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3513

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥١٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَتَوَقِّي الشُّبُهَاتِ؛جلد٢ص١٠٨١؛حدیث نمبر ٣٥١٤)

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَمَّا ابْنُ مَنْصُورٍ، فَقَالَ: عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَمَّا عَبْدُ الْأَعْلَى، فَقَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَوْ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ زُهَيْرٌ: عَنْ سَعِيدٍ، أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَحَدُهُمَا - أَوْ كِلَاهُمَا - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، مَرَّةً عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ، وَمَرَّةً عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3514

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوشی خوشی تشریف لائے اور آپ کا چہرہ انور چمک دمک رہا تھا آپ نے فرمایا تم نے نہیں دیکھا کہ ایک قیافہ شناس نے ابھی ابھی حضرت زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو دیکھا اور کہا کہ ان میں سے بعض قدم بعض کا جز ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْعَمَلِ بِإِلْحَاقِ الْقَائِفِ الْوَلَدَ؛جلد٢ص١٠٨١؛حدیث نمبر ٣٥١٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْح، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا، تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ آنِفًا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ لَمِنْ بَعْضٍ "

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3515

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوشی خوشی تشریف لائے اور فرمایا اے عائشہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایک قیافہ شناس مد لجی میرے پاس آیا اور اس نے حضرت اسامہ اور حضرت زید کو دیکھا ان دونوں پر ایک چادر تھی جس سے انہوں نے اپنے سروں کو ڈھانپ رکھا تھا اور ان کے پاؤں ننگے تھے تو اس نے کہا ان میں سے بعض قدم دوسرے بعض کا جز ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْعَمَلِ بِإِلْحَاقِ الْقَائِفِ الْوَلَدَ؛جلد٢ص١٠٨٢؛حدیث نمبر ٣٥١٦)

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا، فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ، فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا، وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا، وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ "

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3516

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں ایک قیافہ شناس آیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے حضرت اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ دونوں لیٹے ہوئے تھے تو اس نے کہا ان میں سے بعض قدم دوسرے بعض سے ہیں اس بات پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور آپ کو یہ بات پسند آئی چنانچہ آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی خبر دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْعَمَلِ بِإِلْحَاقِ الْقَائِفِ الْوَلَدَ؛جلد٢ص١٠٨٢؛حدیث نمبر ٣٥١٧)

وَحَدَّثَنَاهُ مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " دَخَلَ قَائِفٌ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ، فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ، وَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ "

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3517

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥١٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْعَمَلِ بِإِلْحَاقِ الْقَائِفِ الْوَلَدَ؛جلد٢ص١٠٨٢؛حدیث نمبر ٣٥١٨)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ: وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3518

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین دن ٹھہرے اور فرمایا تم اپنے شوہر کی نظروں میں کم اہمیت کی حامل نہیں ہواگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے سات دن مقرر کروں اور اگر تمہارے لیے سات دن مقرر کروں گا تو باقی ازواج کے لئے بھی سات دن مقرر کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛ترجمہ؛شب زفاف کے بعد کنواری اور بیوہ دلہنوں کے پاس ٹھہرنے کی مقدار؛جلد٢ص١٠٨٢؛حدیث نمبر ٣٥١٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِنِسَائِي»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3519

حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو صبح کے وقت ان سے فرمایا تم اپنے شوہر کی نظر میں کم اہمیت نہیں رکھتیں اگر تم چاہو تو تمہارے پاس سات دن رہوں اور اگر چاہو تو تین دن رہوں پھر دوبارہ آتا رہوں۔انہوں نے عرض کیا تین دن مقرر فرما دیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٣؛حدیث نمبر ٣٥٢٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ، قَالَ لَهَا: «لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ، ثُمَّ دُرْتُ»، قَالَتْ: ثَلِّثْ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3520

حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور ان کے پاس تشریف لے گئے جب واپس تشریف لے جانے لگے تو انہوں نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو تمہارے لیے دنوں میں اضافہ کردوں اور مدت کا حساب رکھوں کنواری کے پاس سات دن اور بیوہ کے پاس تین دن رہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٣؛حدیث نمبر ٣٥٢١)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَأَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَخَذَتْ بِثَوْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ شِئْتِ زِدْتُكِ، وَحَاسَبْتُكِ بِهِ، لِلْبِكْرِ سَبْعٌ، وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3521

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٢١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٣؛حدیث نمبر ٣٥٢٢)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3522

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا پھر انہوں نے اس وقت کی کئی باتیں بتائیں اس میں یہ بھی بتایا کہ آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو تمہارے لیے سات دن مقرر کروں اور باقی ازواج کے لئے بھی سات سات دن مقرر کروں کیونکہ جب تمہارے پاس سات دن رہوں گا تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات سات دن رہوں گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٣؛حدیث نمبر ٣٥٢٣)

حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ هَذَا فِيهِ، قَالَ: «إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ، وَأُسَبِّعَ لِنِسَائِي، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِنِسَائِي»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3523

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب کوئی شخص بیوہ کے اوپر کنواری سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات دن ٹھہرے اور جب کنواری پر بیوہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے۔ حضرت خالد فرماتے ہیں اگر میں کہوں کہ یہ حدیث مرفوع ہے(حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے)تو میں سچ کہوں گا لیکن انہوں نے کہا سنت اسی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٤؛حدیث نمبر ٣٥٢٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ، أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا»، قَالَ خَالِدٌ: وَلَوْ قُلْتُ إِنَّهُ رَفَعَهُ لَصَدَقْتُ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: السُّنَّةُ كَذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3524

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کنواری کے پاس سات دن رہنا سنت سے ہے حضرت خالد فرماتے ہیں اگر میں چاہتا تو کہہ دیتا کہ یہ حدیث مرفوع ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ قَدْرِ مَا تَسْتَحِقُّهُ الْبِكْرُ، وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْجِ عِنْدَهَا عُقْبَ الزِّفَافِ؛جلد٢ص١٠٨٤؛حدیث نمبر ٣٥٢٥)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ الْبِكْرِ سَبْعًا» قَالَ خَالِدٌ: وَلَوْ شِئْتُ قُلْتُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3525

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں پس جب آپ ان کے درمیان ایام کی تقسیم فرماتے تو پہلی بیوی کے پاس نو دن کے بعد پہنچتے تھے وہ سب ہر رات اس زوجہ مطہرہ کے ہاں اکٹھی ہوتی تھیں جن کے ہاں آپ تشریف لاتے تھے چنانچہ آپ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا تشریف لائیں آپ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا یہ زینب ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک روک لیا۔ دونوں ازواج میں بحث چھڑ گئی حتیٰ کہ جب آواز بلند ہونے لگی اور ادھر اقامت ہوگئی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور ان دونوں کی آوازیں سنیں تو عرض کیا یا رسول اللہ!تشریف لائیں اور ان کے منہ میں مٹی ڈال دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا اب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر تشریف لائیں گے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ آئیں گے اور مجھے ہی برا بھلا کہیں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور انہیں سخت بات کہی اور فرمایا کیا تم ایسا کرتی ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْقَسْمِ بَيْنَ الزَّوْجَاتِ، وَبَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ أَنْ تَكُونَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ لَيْلَةٌ مَعَ يَوْمِهَا؛جلد٢ص١٠٨٤؛حدیث نمبر ٣٥٢٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعُ نِسْوَةٍ، فَكَانَ إِذَا قَسَمَ بَيْنَهُنَّ، لَا يَنْتَهِي إِلَى الْمَرْأَةِ الْأُولَى إِلَّا فِي تِسْعٍ، فَكُنَّ يَجْتَمِعْنَ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي بَيْتِ الَّتِي يَأْتِيهَا، فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَجَاءَتْ زَيْنَبُ، فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: هَذِهِ زَيْنَبُ، فَكَفَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَتَقَاوَلَتَا حَتَّى اسْتَخَبَتَا، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ عَلَى ذَلِكَ، فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُمَا، فَقَالَ: اخْرُجْ يَا رَسُولَ اللهِ إِلَى الصَّلَاةِ، وَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: الْآنَ يَقْضِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، فَيَجِيءُ أَبُو بَكْرٍ فَيَفْعَلُ بِي وَيَفْعَلُ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، أَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ لَهَا قَوْلًا شَدِيدًا، وَقَالَ: أَتَصْنَعِينَ هَذَا "

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3526

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں مجھے ازواج مطہرات میں سے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی خاتون عزیز نہ تھیں میں تمنا کرتی تھی کہ کاش میں ان کے جسم میں ہوتی اور حضرت سودہ کے مزاج میں تیزی تھی جب وہ بوڑھی ہوگئیں تو انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی باری حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دو دن عطاء فرماتے ایک ان کا اپنا دن دوسرا حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٥؛حدیث نمبر ٣٥٢٧)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ فِي مِسْلَاخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، مِنِ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَّةٌ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَبِرَتْ، جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ، «فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ، يَوْمَهَا وَيَوْمَ سَوْدَةَ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3527

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت حدیث نمبر ٣٥٢٧ کی طرح منقول ہے۔البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میرے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے ان سے نکاح کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٥؛حدیث نمبر ٣٥٢٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ح وحَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ سَوْدَةَ لَمَّا كَبِرَتْ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شَرِيكٍ، قَالَتْ: وَكَانَتْ أَوَّلَ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا بَعْدِي

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3528

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مجھے ان عورتوں پر غصہ آتا تھا جنہوں نے اپنے نفسوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہبہ کردیا اور میں کہتی تھی کیا کوئی عورت اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے پس جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ} [الأحزاب: ٥١] (ترجمہ)"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنی ازواج میں سے جسے چاہیں پیچھے ہٹا دیں(الگ کردیں)اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جسے آپ نے الگ کردیا تھا اسے بلانا چاہیں تو کوئی حرج نہیں" حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم!آپ کا رب آپ کی خواہش کو جلدی پورا کرتا ہے۔ ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٥؛حدیث نمبر ٣٥٢٩)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقُولُ: وَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ} [الأحزاب: ٥١] " قَالَتْ: قُلْتُ: «وَاللهِ، مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3529

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کیا کسی عورت کو اس بات سے حیا نہیں آتا کہ وہ اپنا نفس کسی مرد کو ہبہ کردے حتیٰ کہ یہ آیت(مزکورہ بالا)نازل ہوئی تو میں نے کہا آپ کا رب آپ کی خواہش بہت جلدی پوری کردیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٥؛حدیث نمبر ٣٥٣٠)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: " أَمَا تَسْتَحِي امْرَأَةٌ تَهَبُ نَفْسَهَا لِرَجُلٍ، حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} [الأحزاب: ٥١] "، فَقُلْتُ: «إِنَّ رَبَّكَ لَيُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3530

حضرت عطاء فرماتے ہیں ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مقام سرف میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں حاضر ہوئے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں جب تم ان کی میت کو اٹھاؤ تو اسے زیادہ حرکت اور جھٹکے نہ دینا اور انتہائی سکون کے ساتھ لے کر چلنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں تو آپ نے آٹھ کی باریاں مقرر فرمائی تھیں اور ایک کی باری مقرر نہ کی حضرت عطاء فرماتے ہیں جن کی باری مقرر نہ کی وہ حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٦؛حدیث نمبر ٣٥٣١)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «هَذِهِ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا، فَلَا تُزَعْزِعُوا، وَلَا تُزَلْزِلُوا، وَارْفُقُوا، فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعٌ، فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ». قَالَ عَطَاءٌ: " الَّتِي لَا يَقْسِمُ لَهَا: صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ ".

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3531

ایک اور سند سے یہ روایت منقول ہے اس میں حضرت عطاء کا یہ قول زائد ہے کہ حضرت میمونہ نے تمام ازواج مطہرات کے آخر میں مدینہ طیبہ میں وفات پائی۔(اور تدفین مقام سرف میں ہوئی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا؛جلد٢ص١٠٨٦؛حدیث نمبر ٣٥٣٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ، قَالَ عَطَاءٌ: كَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3532

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال،اس کے حسب ونسب،اس کے حسن اور اس کے دین کی وجہ سے.... تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں تم دیندار عورت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ ذَاتِ الدِّينِ؛ترجمہ؛دیندار عورت سے نکاح کرنا مستحب ہے؛جلد٢ص١٠٨٦؛حدیث نمبر ٣٥٣٣)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ "

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3533

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت سے شادی کی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا اے جابر!تم نے شادی کی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں،فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟میں نے عرض کیا بیوہ سے،آپ نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کیوں نہیں کیا وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری کچھ بہنیں ہیں مجھے ڈر تھا کہ وہ میری بہنوں(کی پرورش)اور میرے درمیان حائل نہ ہو جائے۔ آپ نے فرمایا پھر ٹھیک ہے بےشک عورت سے اس کے دین اس کے مال اور اس کے جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے تمہارے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں تم دیندار کو ترجیح دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ ذَاتِ الدِّينِ؛جلد٢ص١٠٨٧؛حدیث نمبر ٣٥٣٤)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «بِكْرٌ، أَمْ ثَيِّبٌ؟» قُلْتُ: ثَيِّبٌ، قَالَ: «فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ، قَالَ: «فَذَاكَ إِذَنْ، إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3534

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے ایک خاتون سے نکاح کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے نکاح کیا ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟میں نے کہا بیوہ سے،آپ نے فرمایا تم کنواری لڑکیوں اور ان کے دل لبھانے سے غافل کیوں رہے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں میں نے یہ بات حضرت عمرو بن دینار سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا میں نے یہ بات جابر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور آپ نے فرمایا تم نے ایسی لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی جس سے تم کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٧؛حدیث نمبر ٣٥٣٥)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَزَوَّجْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَبِكْرًا، أَمْ ثَيِّبًا؟» قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: «فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الْعَذَارَى، وَلِعَابِهَا»، قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ، وَإِنَّمَا قَالَ: «فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3535

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ(ان کے والد)حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا اور انہوں نے نو یا فرمایا سات بیٹیاں چھوڑیں(فرماتے ہیں)میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کر لی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جابر!تم نے شادی کی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے پوچھا کنواری ہے یا بیوہ؟فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ بیوہ ہے آپ نے فرمایا تم نے کسی ایسی لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی جس سے تم کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی یا فرمایا تم اس سے ہنسی مزاق کرتے وہ تم سے کرتی۔ حضرت جابر فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ اللہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور انہوں نے نو بیٹیاں چھوڑی ہیں یا سات کا ذکر کیا اور عرض کیا میں نے یہ بات پسند نہ کی کہ میں ان کے پاس ان کی مثل لڑکی لاؤں اور اس بات کو پسند کیا کہ ایسی عورت لاؤں جو ان کے معاملے کو درست کردے اور ان کی نگہداشت کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے یا فرمایا بھلائی عطاء کرے ابو الربیع کی روایت میں ہے کہ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی تم اس سے ہنسی مزاق کرتے وہ تم سے کرتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٧؛حدیث نمبر ٣٥٣٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ هَلَكَ، وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ - أَوْ قَالَ سَبْعَ - فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جَابِرُ، تَزَوَّجْتَ؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَبِكْرٌ، أَمْ ثَيِّبٌ؟» قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ»، أَوْ قَالَ: «تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ»، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ هَلَكَ، وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ - أَوْ سَبْعَ -، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ أَوْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجِيءَ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، وَتُصْلِحُهُنَّ، قَالَ: «فَبَارَكَ اللهُ لَكَ» أَوْ قَالَ لِي خَيْرًا، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ: «تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3536

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا اے جابر!تم نے نکاح کیا ہے؟اس کے بعد حدیث نمبر ٣٥٣٦ کی مثل مروی ہے۔ اس کے بعد آخر میں ہے میں نے ایسی عورت سے نکاح کیا جو میری بہنوں کی نگہداشت اور کنگھی پٹی کرتی آپ نے فرمایا تم نے ٹھیک کیا.... اس کے بعد والے الفاظ منقول نہیں ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٨؛حدیث نمبر ٣٥٣٧)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ؟» وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ: امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ، قَالَ: «أَصَبْتَ» وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3537

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جب ہم آے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلا رہا تھا پیچھے سے ایک سوار نے میرے اونٹ کو چھڑی ماری پھر وہ اونٹ اس قدر تیز چلنے لگا کہ تو نے کبھی اتنا تیز چلتا ہوا اونٹ نہیں دیکھا ہوگا میں نے مڑکر دیکھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے آپ نے فرمایا اے جابر تجھے کیا جلدی ہے؟میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے نئی نئی شادی کی ہے آپ نے پوچھا کسی کنواری لڑکی سے کی ہے یا بیوہ سے؟میں نے عرض کیا بیوہ سے کیا ہے،فرمایا کسی ایسی لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔فرماتے ہیں جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے اور شہر میں داخل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا ٹھہر جاؤ رات کو یعنی عشاء کے وقت داخل ہوں گے تاکہ جس عورت کے بال بکھرے ہوے ہوں وہ کنگھی کر لے اور جس کا خاوند باہر گیا ہو وہ اپنی شرمگاہ کے بال صاف کرلے اور پھر جب تم جاؤ گے تو سمجھداری سے کام لینا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٨؛حدیث نمبر ٣٥٣٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ خَلْفِي، فَنَخَسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا يُعْجِلُكَ يَا جَابِرُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَقَالَ: «أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا، أَمْ ثَيِّبًا؟» قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: «هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ» قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ: «أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا - أَيْ عِشَاءً - كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ» قَالَ: وَقَالَ: «إِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3538

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ(میں شرکت)کے لئے گیا میرا اونٹ سست چل رہا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو پوچھا اے جابر!میں نے عرض کیا جی ہاں،آپ نے فرمایا کیا بات ہے میں نے عرض کیا میرا اونٹ آہستہ چل رہا ہے اس نے مجھے تھکا دیا ہے اور میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور اپنی ڈھال سے چھڑی کی طرح مارا پھر فرمایا سوار ہوجاؤ،فرماتے ہیں میں سوار ہوگیا تو میں نے دیکھا کہ اب میں اس اونٹ کو آگے بڑھنے سے روکتا ہوں آپ نے پوچھا تم نے شادی کی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں پوچھا کنواری سے یا بیوہ عورت سے؟میں نے عرض کیا بیوہ عورت سے کی ہے آپ نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کیوں نہیں کیا تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ میں نے عرض کیا میری چند بہنیں ہیں میں نے چاہا کہ میں ایسی عورت سے نکاح کروں جو ان کو متفق رکھے ان کو کنگھی کرے اور ان کی خبر گیری کرے۔ آپ نے فرمایا تم گھر جارہے ہو جب تم جاؤ تم سمجھ داری سے کام لینا پھر فرمایا اپنے اونٹ کو بیچتے ہو میں نے عرض کیا جی ہاں پس آپ مجھ سے وہ اونٹ ایک اوقیہ چاندی کے بدلے خریدا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے اور میں بھی صبح کے وقت پہنچ گیا میں مسجد میں آیا تو آپ دروازے میں کھڑے تھے آپ نے پوچھا اب آے ہو؟فرمایا اونٹ کو چھوڑو اور اندر آکر دو رکعت نفل پڑھو۔ حضرت جابر فرماتے ہیں میں اندر داخل ہوا اور نماز پڑھی جب واپس ہوا تو آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ میرے لیے ایک اوقیہ چاندی کا وزن کریں اور جھکتا ہوا تولیں۔ حضرت جابر فرماتے ہیں میں چاندی لے کر چلا اور ابھی میں نے پیٹھ پھیری تھی کہ آپ نے فرمایا جابر کو بلاؤ مجھے بلایا گیا تو میں نے سوچا کہ آپ میرا اونٹ مجھے واپس کریں گے اور مجھے اس سے زیادہ ناپسند کوئی بات نہ تھی لیکن آپ نے فرمایا اپنا اونٹ لے جاؤ اور اس کی قیمت بھی رکھو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٩؛حدیث نمبر ٣٥٣٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي، فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: «يَا جَابِرُ»، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مَا شَأْنُكَ؟» قُلْتُ: أَبْطَأَ بِي جَمَلِي، وَأَعْيَا فَتَخَلَّفْتُ، فَنَزَلَ فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ، ثُمَّ قَالَ: «ارْكَبْ»، فَرَكِبْتُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَتَزَوَّجْتَ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: «أَبِكْرًا، أَمْ ثَيِّبًا؟» فَقُلْتُ: بَلْ ثَيِّبٌ، قَالَ: «فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ» قُلْتُ: إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ، وَتَمْشُطُهُنَّ، وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ: «أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ»، ثُمَّ قَالَ: «أَتَبِيعُ جَمَلَكَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعْ جَمَلَكَ، وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً، فَوَزَنَ لِي بِلَالٌ، فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ، قَالَ: «ادْعُ لِي جَابِرًا»، فَدُعِيتُ، فَقُلْتُ: الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ، فَقَالَ: «خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3539

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک سفر میں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور میں اپنے پانی لانے والے اونٹ پر تھا جو سب لوگوں سے پیچھے تھا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کسی چیز کے ساتھ مارا جو آپ کے پاس تھی تو اس کے بعد وہ اونٹ تمام سواریوں سے آگے نکل گیا میں اسے روکنے کی کوشش کرتا تھا لیکن وہ میرے قابو میں نہ تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اتنی رقم پر بیچتے ہو اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!(صلی اللہ علیہ وسلم)یہ آپ ہی کا ہے آپ نے فرمایا اتنی رقم پر مجھ سے سودا کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یہ آپ ہی کا ہے آپ نے پوچھا کیا تم نے شادی کی ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں پوچھا کسی بیوہ سے یا کنواری سے؟فرماتے ہیں میں نے عرض کیا"بیوہ سے" آپ نے فرمایا کسی کنواری سے کیوں نہیں کی وہ تم سے دل لگی کرتی اور تم اس سے دل لگی کرتے وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے۔ ابونضرہ کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا تکیہ کلام ہے کہ فلاں کام کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ اسْتِحْبَابِ نِكَاحِ الْبِكْرِ؛جلد٢ص١٠٨٩؛حدیث نمبر ٣٥٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا فِي مَسِيرٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ، إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، قَالَ: فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَ: نَخَسَهُ، أُرَاهُ قَالَ: بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ - قَالَ: فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُنَازِعُنِي، حَتَّى إِنِّي لِأَكُفُّهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللهُ يَغْفِرُ لَكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا نَبِيَّ اللهِ، قَالَ: «أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا، وَاللهُ يَغْفِرُ لَكَ؟» قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ، يَا نَبِيَّ اللهِ، قَالَ: وَقَالَ لِي: «أَتَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «ثَيِّبًا، أَمْ بِكْرًا؟» قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: «فَهَلَّا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا، وَتُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا»، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: «فَكَانَتْ كَلِمَةً يَقُولُهَا الْمُسْلِمُونَ افْعَلْ كَذَا وَكَذَا وَاللهُ يَغْفِرُ لَكَ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3540

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا نفع اٹھانے کی چیز ہے اور سب سے بہترین متاع نیک عورت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ خَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ؛جلد٢ص١٠٩٠؛حدیث نمبر ٣٥٤١)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3541

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کو توڑ دوگے اور اگر اسی طرح چھوڑ گے تو اس کے ٹیڑھے پن کے باوجود اس سے نفع حاصل کروگے۔(مطلب یہ ہے کہ عورت سے حسن سلوک کیا جائے اس کی طرف معمولی معمولی باتوں کو نظر انداز کیا جائے تاکہ زندگی کی گاڑی چلتی رہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛ترجمہ؛عورتوں کی خیر خواہی؛جلد٢ص١٠٩٠؛حدیث نمبر ٣٥٤٢)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ كَالضِّلَعِ، إِذَا ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا، وَإِنْ تَرَكْتَهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3542

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٥٤٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٢ص١٠٩٠؛حدیث نمبر ٣٥٤٣)

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ سَوَاءً

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3543

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے وہ سیدھا کرنے سے سیدھی نہیں ہو گی اگر تم اس سے نفع حاصل کرنا چاہو تو اس کے ٹیڑھے پن کے باوجود نفع حاصل کرو گے اور اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو تو اسے توڑ دوگے اور اس کا توڑنا طلاق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٤)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ، فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ، وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا، كَسَرْتَهَا وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3544

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جب کوئی بات دیکھے تو اچھی بات کہے یا خاموش رہے اور عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو۔بےشک عورت پسلی سے پیدا کی گئی اور پسلی کے اوپر کا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو تو توڑ دوگے اور اگر تم اسے(اسی طرح)چھوڑ دو گے تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی عورتوں سے خیر خواہی کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَإِذَا شَهِدَ أَمْرًا فَلْيَتَكَلَّمْ بِخَيْرٍ أَوْ لِيَسْكُتْ، وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ، إِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3545

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مؤمن کسی مومنہ عورت سے نفرت نہ کرے اگر اسے اس کی ایک عادت اچھی نہیں لگتی تو دوسری عادت سے خوش ہو جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٦)

وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ» أَوْ قَالَ: «غَيْرَهُ»،

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3546

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٣٥٤٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛ بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٧)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3547

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اگر حضرت حواء ایسا نہ کرتیں تو کوئی عورت عمر بھر اپنے خاوند سے نافرمانی نہ کرتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ لَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٨)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا حَوَّاءُ، لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3548

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد احادیث مروی ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کبھی کوئی کھانا اور گوشت خراب نہ ہوتا اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت عمر بھر اپنے خاوند سے خیانت نہ کرتی۔(علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت حواء نے حضرت آدم علیہ السلام کو درخت سے کھانے کی ترغیب دی اور وہ شیطان کے بہکاوے میں آگئی تھیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الرِّضَاع؛بَابُ لَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ؛جلد٢ص١٠٩١؛حدیث نمبر ٣٥٤٩)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ، لَمْ يَخْبُثِ الطَّعَامُ، وَلَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ»

Muslim Shareef, Kitabur Reda A, Hadees No. 3549

Muslim Shareef : Kitabur Reda A

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الرِّضَاعِ

|

•