
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عويمر عجلانی،عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا اے عاصم بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اسے قتل کردے اس طرح تم لوگ اس کو قتل کردو گے یا وہ کیا کرے۔ اے عاصم!میرے لئے یہ مسئلہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو جب حضرت عاصم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ایسے مسائل دریافت کرنا برا سمجھا اور ان کی مذمت کی حضرت عاصم پر یہ بات شاق گزری پھر جب وہ اپنے گھر آئے اور حضرت عویمر نے آکر ان سے پوچھا کہ اے عاصم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا حضرت عاصم نے حضرت عویمر سے کہا تم میرے لئے کوئی اچھی بات نہیں لائے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسند کیا جس کے بارے میں تم نے پوچھا تھا۔ حضرت عویمر نے کہا اللہ کی قسم میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گا جب تک خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ نہ لوں چنانچہ حضرت عویمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو وہ اسے قتل کر دے تو تم لوگ اس کو قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں حکم نازل ہوگیا ہے جاؤ اپنی بیوی کو لے کر آؤ حضرت سہل فرماتے ہیں ان دونوں نے لعان کیا اور میں بھی لوگوں کے ہمراہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ جب وہ دونوں فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر میں اس کو رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا پس انہوں نے اس کو تین طلاقیں دے دیں اور ابھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تھا تو لعان کرنے والوں کا یہ طریقہ رائج ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٢٩؛حدیث نمبر ٣٦٣٧)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عویمر انصاری بنو عجلان سے تھے اور وہ عاصم بن عدی کے پاس آئے اس کے بعد حدیث نمبر ٣٦٣٧ کی مثل مروی ہے البتہ اس سند کے ساتھ حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت عویمر کا اپنی بیوی سے علیحدہ ہونا لعان والوں میں رائج اور معمول بن گیا اور اس میں یہ بھی اضافہ ہے کہ ان کی بیوی حاملہ تھی پس ان کا بچہ ماں کی طرف منسوب کیا گیا پھر یہ طریقہ رائج ہوگیا کہ ایسا بچہ ماں کا وارث ہوتا تھا اور ماں اس کی وارث ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٠؛حدیث نمبر ٣٦٣٨)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاے...... اس کے بعد حدیث نمبر ٣٦٣٧ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا اور میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس حدیث میں یہ بھی اضافہ ہے کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ارشاد فرمانے سے پہلے اسے تین طلاقیں دے دیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی کو جدا کردیا۔اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لعان کرنے والوں کے درمیان اس طرح علیحدگی ہوگی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٠؛حدیث نمبر ٣٦٣٩)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھ سے حضرت مصعب بن زبیر کے زمانہ خلافت میں لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کردی جائے تو مجھے اس کا جواب معلوم نہ تھا پس میں مکہ مکرمہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے گھر گیا اور غلام سے کہا میرے لئے اجازت طلب کرو اس نے کہا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ قیلولہ فرمارہے ہیں آپ نے میری آواز سن لی اور فرمایا ابن جبیر ہو؟میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا آ جاؤ اللہ کی قسم!اس وقت تم کسی ضروری کام کے بغیر نہیں آے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں میں اندر گیا تو دیکھا کہ آپ نے کمبل بچھایا ہوا ہے تکیہ سے ٹیک لگائی ہوئی ہے جس میں چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے کہا اے ابو عبد الرحمن!کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے؟فرمایا سبحان اللہ!ہاں۔اس سلسلے میں سب سے پہلے فلاں بن فلاں نے سوال کیا تھا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! بتائیے اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کو بے حیائی کا کام کرتے دیکھے تو کیا کرے اگر کسی سے کہے تو بہت بڑی بات کہے گا اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بات ہے خاموش رہے گا فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا بعد میں وہ شخص پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ میں نے آپ سے جس بات کے بارے میں پوچھا تھا اس میں مبتلا ہوگیا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی یہ آیات نازل فرمائیں:{وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ} [النور: ٦] آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائیں اور اسے وعظ و نصیحت کی اور بتایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے۔ اس شخص نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے اس پر جھوٹ نہیں باندھا۔ اس کے بعد آپ نے اس عورت کو بلایا اور وعظ و نصیحت کے بعد بتایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے۔ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے وہ جھوٹ کہتا ہے۔ پس اس شخص سے آغاز کیا تو اس نے چار مرتبہ گواہی دی کہ اللہ کی قسم وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ کہا کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔پھر آپ اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اس نے بھی چار مرتبہ گواہی دی کہ وہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہا کہ اس(عورت)پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر وہ مرد سچا ہے اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کردی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٠؛حدیث نمبر ٣٦٤٠)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں مجھ سے لعان کرنے والے(میاں بیوی)کے بارے میں پوچھا گیا تو مجھے اس کا جواب معلوم نہ تھا پس میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا آپ لعان کرنے والے مرد و عورت کے بارے میں کیا کہتے ہیں کیا ان کے درمیان تفریق کردی جائے پھر حدیث نمبر ٣٦٤٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣١؛حدیث نمبر ٣٦٤١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں(میاں بیوی)سے فرمایا تمہارا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے اب تمہارا اس عورت پر کوئی حق نہیں اس نے کہا یا رسول اللہ!اور میرا مال؟آپ نے فرمایا اگر تم نے سچ کہا پھر تمہارے لیے مال نہیں کیونکہ وہ شرم گاہ کے عوض میں ہے اور اگر تم اس پر جھوٹ بولا ہے تو مال کا مطالبہ بہت بعید ہے۔ حضرت زبیر کی روایت میں کچھ تغیر و تبدل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣١؛حدیث نمبر ٣٦٤٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے ایک مرد اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کردی اور فرمایا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٢؛حدیث نمبر ٣٦٤٣)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے لعان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٦٤٣ کی مثل روایت کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٢؛حدیث نمبر ٣٦٢٤٤)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ نے لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق نہیں کی سعید کہتے ہیں میں نے یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے دو فریقوں میں تفریق کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٢؛حدیث نمبر ٣٦٤٥)
یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے پوچھا کہ کیا نافع نے آپ سے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی اور بچے کو اس کی ماں کے حوالے کردیا،تو انہوں نے کہا ہاں بیان کیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٢؛حدیث نمبر ٣٦٤٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کیا اور ان کے درمیان تفریق کردی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٣؛حدیث نمبر ٣٦٤٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٤٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٣؛حدیث نمبر ٣٦٤٨)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کی رات مسجد میں تھا کہ انصار کا ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے اور اعتراض کرے تو تم لوگ اسے کوڑے مارو گے یا وہ قتل کردے گا تو تم اسے قتل کرو گے اور اگر وہ خاموش ہوجائے تو غصے کی حالت میں خاموش ہوگا اللہ کی قسم!میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں ضرور پوچھوں گا۔ جب دوسرا دن ہوا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں آپ سے پوچھا اور کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاے اور یہ واقعہ ذکر کرے تو آپ لوگ اسے کوڑے لگائیں گے اور اگر وہ اسے قتل کردے تو تم اس کو قتل کردو گے اور اگر وہ خاموش ہوجائے تو غصے کی حالت میں خاموش ہو گا آپ نے دعا مانگی یااللہ!اس مسئلہ کو کھول دے اور آپ مسلسل دعا مانگتے رہے حتیٰ کہ آیت لعان نازل ہوئی ارشاد خداوندی ہے: "اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس سوائے ان کے کوئی گواہ نہیں" پھر وہ شخص خود اس مسئلہ سے دوچار ہوگیا اور اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا اور ان دونوں سے لعان کیا مرد نے چار مرتبہ گواہی دی کہ اللہ کی قسم وہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں مرتبہ لعنت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔پھر عورت نے لعان کرنا شروع کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رک جا وہ عورت نہ مانی اور اس نے لعان کیا جب وہ دونوں واپس ہوے تو آپ نے فرمایا شاید اس کے ہاں سیاہ فام گھنگھریالے بالوں والا بچہ پیدا ہوگا پس اس کے ہاں سیاہ رنگ کا گھنگھریالے بالوں والا بچہ پیدا ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٣؛حدیث نمبر ٣٦٤٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٤٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٤؛حدیث نمبر ٣٦٥٠)
محمد بن سیرین کہتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور میرا خیال تھا کہ ان کو علم ہوگا تو انہوں نے بتایا کہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی اور وہ حضرت براء بن مالک کے ماں کی طرف سے بھائی تھے اور یہ اسلام میں لعان کرنے والے پہلے شخص تھے پس انہوں نے اس عورت سے لعان کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھتے رہنا اگر اس عورت کے ہاں سفید رنگ کا سیدھے بالوں اور سرخ آنکھوں والا بچہ پیدا ہو تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا اور وہ سرمگیں آنکھوں،گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو تو شریک بن سحماء کا ہوگا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے بتایا گیا کہ وہ بچہ سرمگیں آنکھوں گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا پیدا ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٤؛حدیث نمبر ٣٦٥١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کا ذکر کیا گیا تو عاصم بن عدی نے اس سلسلے میں کوئی بات کہی پھر وہ چلے اس کے بعد ان کے قبیلے کا ایک آدمی آیا اور شکایت کرنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک مرد کو پایا۔ حضرت عاصم کہتے ہیں میں اپنی اس بات کی وجہ سے اس معاملے میں پڑا وہ اس شخص کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور بتایا کی اس شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پایا ہے اور وہ شخص زرد رنگ(کے چہرے)والا تھا دبلا پتلا اور سیدھے بالوں والا تھا اور جس کے بارے میں اس نےدعویٰ کیا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے وہ بھری پنڈلیوں والا گندمی رنگ کا تھا اور اس کا جسم موٹا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی یا اللہ!اس بات کو واضح فرمادے تو اس عورت نے اس شخص کا ہم شکل بچہ جنا جس کے بارے میں اس کے خاوند نے کہا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کیا۔ حاضرین مجلس میں سے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا یہ وہی عورت ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو سنگسار کرتا تو اسے رجم کرتا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ وہ عورت تو وہ تھی جو اسلام لانے کے بعد علی الاعلان بدکاری کرتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٤؛حدیث نمبر ٣٦٥٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کرنے والوں کا تذکرہ ہوا۔باقی روایت حدیث نمبر ٣٦٥٢ کی مثل مروی ہے صرف اتنا اضافہ ہے کہ جس شخص کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی وہ موٹے جسم اور گھنگھریالے بالوں والا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٥؛حدیث نمبر ٣٦٥٣)
عبداللہ بن شداد کہتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس دو لعان والوں کا ذکر ہوا تو ابن شداد نے پوچھا کیا یہ وہی تھے جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو گواہوں کے بغیر رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کرتا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں وہ عورت علی الإعلان بدکاری کرتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٥؛حدیث نمبر ٣٦٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاے تو کیا اسے قتل کردے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں حضرت سعد نے کہا کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ معزز بنایا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(حاضرین سے)فرمایا سنو تمہارے سردار کیا کہ رہے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٥؛حدیث نمبر ٣٦٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاؤں تو اسے اتنی مہلت دوں کہ چار گواہ لے آؤں آپ نے فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٥؛حدیث نمبر ٣٦٥٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاؤں تو اسے اس وقت تک ہاتھ نہ لگاؤں جب تک چار گواہ نہ لے آؤں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے کہا ہر گز نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں تو اس سے پہلے اس کو تلوار سے قتل کردوں گا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو!تمہارے سردار کیا کہ رہے ہیں بے شک یہ غیرت مند ہیں اور میں ان سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٥؛حدیث نمبر ٣٦٥٧)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھوں گا تو میں کسی چشم پوشی کے بغیر اسے تلوار سے مار دوں گا یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا تم لوگوں کو حضرت سعد کی غیرت پر تعجب ہوتا ہے اللہ کی قسم میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیار غیور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی غیرت کی وجہ سے بے حیائی کے تمام کاموں کو حرام کردیا ہے وہ ظاہری ہوں یا باطنی۔اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیور بھی کوئی نہیں اور اس سے زیادہ عذر قبول کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے رسولوں کو بھیجا جو بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی کی تعریف پسند نہیں اسی بنیاد پر اس نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٦؛حدیث نمبر ٣٦٥٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ارشاد فرماے"غیر مُصفِح" اور عنہ کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٦؛حدیث نمبر ٣٦٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو خزارہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا میری بیوی کے ہاں سیاہ فام بچہ پیدا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس اونٹ ہے اس نے کہا جی ہاں،فرمایا ان کا کیا ہے اس نے جواب دیا سرخ فرمایا کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟اس نے جواب دیا جی ہاں خاکی رنگ کا بھی ہے فرمایا وہ کہاں سے آگیا؟اس نے کہا شاید کسی رنگ نے کھینچا ہو آپ نے فرمایا شاید تیرے بچے میں بھی یہ رنگ کسی رگ نے کھینچا ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٧؛حدیث نمبر ٣٦٦٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے البتہ معمر کی روایت میں ہے کہ اس شخص نے کہا یارسول اللہ!میری بیوی نے سیاہ فام بچے کو جنم دیا ہے اور وہ در پردہ اپنے نسب کی نفی کر رہا تھا اس حدیث کے آخر میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نسب کی نفی کرنے کی اجازت نہ دی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٧؛حدیث نمبر ٣٦٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!میری بیوی کے ہاں سیاہ رنگ کا بچہ پیدا ہوا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں اس نے عرض کیا جی ہاں،فرمایا ان کا رنگ کیا ہے؟اس نے کہا سرخ،فرمایا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟اس نے عرض کیا جی ہاں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کہاں سے آیا ہے؟اس نے کہا یارسول اللہ!شاید کسی رگ نے کھینچا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید اسے بھی کسی رگ نے کھینچا ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٧؛حدیث نمبر ٣٦٦٢)
ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٦٦٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٨؛حدیث نمبر ٣٦٦٣)
Muslim Shareef : Kitabul Le Aan
|
Muslim Shareef : كِتَابُ اللِّعَانِ
|
•