asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Le Aan

From 3546 to 3663

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عويمر عجلانی،عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا اے عاصم بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اسے قتل کردے اس طرح تم لوگ اس کو قتل کردو گے یا وہ کیا کرے۔ اے عاصم!میرے لئے یہ مسئلہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو جب حضرت عاصم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ایسے مسائل دریافت کرنا برا سمجھا اور ان کی مذمت کی حضرت عاصم پر یہ بات شاق گزری پھر جب وہ اپنے گھر آئے اور حضرت عویمر نے آکر ان سے پوچھا کہ اے عاصم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا حضرت عاصم نے حضرت عویمر سے کہا تم میرے لئے کوئی اچھی بات نہیں لائے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسند کیا جس کے بارے میں تم نے پوچھا تھا۔ حضرت عویمر نے کہا اللہ کی قسم میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گا جب تک خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ نہ لوں چنانچہ حضرت عویمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو وہ اسے قتل کر دے تو تم لوگ اس کو قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں حکم نازل ہوگیا ہے جاؤ اپنی بیوی کو لے کر آؤ حضرت سہل فرماتے ہیں ان دونوں نے لعان کیا اور میں بھی لوگوں کے ہمراہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ جب وہ دونوں فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر میں اس کو رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا پس انہوں نے اس کو تین طلاقیں دے دیں اور ابھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تھا تو لعان کرنے والوں کا یہ طریقہ رائج ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٢٩؛حدیث نمبر ٣٦٣٧)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ، جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ، فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَسَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا؟ قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ، لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ؟ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا»، قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3637

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عویمر انصاری بنو عجلان سے تھے اور وہ عاصم بن عدی کے پاس آئے اس کے بعد حدیث نمبر ٣٦٣٧ کی مثل مروی ہے البتہ اس سند کے ساتھ حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت عویمر کا اپنی بیوی سے علیحدہ ہونا لعان والوں میں رائج اور معمول بن گیا اور اس میں یہ بھی اضافہ ہے کہ ان کی بیوی حاملہ تھی پس ان کا بچہ ماں کی طرف منسوب کیا گیا پھر یہ طریقہ رائج ہوگیا کہ ایسا بچہ ماں کا وارث ہوتا تھا اور ماں اس کی وارث ہوتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٠؛حدیث نمبر ٣٦٣٨)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ: وَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا بَعْدُ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَزَادَ فِيهِ، قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ حَامِلًا، فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ أَنَّهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ لَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3638

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاے...... اس کے بعد حدیث نمبر ٣٦٣٧ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا اور میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس حدیث میں یہ بھی اضافہ ہے کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ارشاد فرمانے سے پہلے اسے تین طلاقیں دے دیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی کو جدا کردیا۔اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لعان کرنے والوں کے درمیان اس طرح علیحدگی ہوگی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٠؛حدیث نمبر ٣٦٣٩)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهِمَا، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَزَادَ فِيهِ فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَا شَاهِدٌ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ذَاكُمُ التَّفْرِيقُ بَيْنَ كُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3639

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھ سے حضرت مصعب بن زبیر کے زمانہ خلافت میں لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کردی جائے تو مجھے اس کا جواب معلوم نہ تھا پس میں مکہ مکرمہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے گھر گیا اور غلام سے کہا میرے لئے اجازت طلب کرو اس نے کہا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ قیلولہ فرمارہے ہیں آپ نے میری آواز سن لی اور فرمایا ابن جبیر ہو؟میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا آ جاؤ اللہ کی قسم!اس وقت تم کسی ضروری کام کے بغیر نہیں آے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں میں اندر گیا تو دیکھا کہ آپ نے کمبل بچھایا ہوا ہے تکیہ سے ٹیک لگائی ہوئی ہے جس میں چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے کہا اے ابو عبد الرحمن!کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے؟فرمایا سبحان اللہ!ہاں۔اس سلسلے میں سب سے پہلے فلاں بن فلاں نے سوال کیا تھا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! بتائیے اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کو بے حیائی کا کام کرتے دیکھے تو کیا کرے اگر کسی سے کہے تو بہت بڑی بات کہے گا اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بات ہے خاموش رہے گا فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا بعد میں وہ شخص پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ میں نے آپ سے جس بات کے بارے میں پوچھا تھا اس میں مبتلا ہوگیا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی یہ آیات نازل فرمائیں:{وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ} [النور: ٦] آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائیں اور اسے وعظ و نصیحت کی اور بتایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے۔ اس شخص نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے اس پر جھوٹ نہیں باندھا۔ اس کے بعد آپ نے اس عورت کو بلایا اور وعظ و نصیحت کے بعد بتایا کہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے۔ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے وہ جھوٹ کہتا ہے۔ پس اس شخص سے آغاز کیا تو اس نے چار مرتبہ گواہی دی کہ اللہ کی قسم وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ کہا کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔پھر آپ اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اس نے بھی چار مرتبہ گواہی دی کہ وہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہا کہ اس(عورت)پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر وہ مرد سچا ہے اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کردی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٠؛حدیث نمبر ٣٦٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، فَمَضَيْتُ إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ: اسْتَأْذِنْ لِي، قَالَ: إِنَّهُ قَائِلٌ، فَسَمِعَ صَوْتِي، قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ادْخُلْ، فَوَاللهِ، مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ، فَدَخَلْتُ فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، نَعَمْ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ، كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ؟ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ، فَقَالَ: " إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ} [النور: ٦] فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ، وَوَعَظَهُ، وَذَكَّرَهُ، وَأَخْبَرَهُ: أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، قَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ. قَالَتْ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ إِنَّهُ لَمِنِ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ إِنَّهُ لَمِنِ الْكَاذِبِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا،

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3640

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں مجھ سے لعان کرنے والے(میاں بیوی)کے بارے میں پوچھا گیا تو مجھے اس کا جواب معلوم نہ تھا پس میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا آپ لعان کرنے والے مرد و عورت کے بارے میں کیا کہتے ہیں کیا ان کے درمیان تفریق کردی جائے پھر حدیث نمبر ٣٦٤٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣١؛حدیث نمبر ٣٦٤١)

وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ زَمَنَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَلَمْ أَدْرِ مَا أَقُولُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3641

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں(میاں بیوی)سے فرمایا تمہارا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے اب تمہارا اس عورت پر کوئی حق نہیں اس نے کہا یا رسول اللہ!اور میرا مال؟آپ نے فرمایا اگر تم نے سچ کہا پھر تمہارے لیے مال نہیں کیونکہ وہ شرم گاہ کے عوض میں ہے اور اگر تم اس پر جھوٹ بولا ہے تو مال کا مطالبہ بہت بعید ہے۔ حضرت زبیر کی روایت میں کچھ تغیر و تبدل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣١؛حدیث نمبر ٣٦٤٢)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: «حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَالِي، قَالَ: «لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا، فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا، فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا». قَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3642

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے ایک مرد اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کردی اور فرمایا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٢؛حدیث نمبر ٣٦٤٣)

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ: «اللهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ»؟،

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3643

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے لعان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٦٤٣ کی مثل روایت کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٢؛حدیث نمبر ٣٦٢٤٤)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ اللِّعَانِ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3644

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ نے لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق نہیں کی سعید کہتے ہیں میں نے یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے دو فریقوں میں تفریق کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٢؛حدیث نمبر ٣٦٤٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِلْمِسْمَعِيِّ وَابْنِ الْمُثَنَّى - قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: لَمْ يُفَرِّقِ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ سَعِيدٌ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: «فَرَّقَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ»

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3645

یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے پوچھا کہ کیا نافع نے آپ سے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی اور بچے کو اس کی ماں کے حوالے کردیا،تو انہوں نے کہا ہاں بیان کیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٢؛حدیث نمبر ٣٦٤٦)

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ: حَدَّثَكَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ»؟ قَالَ: نَعَمْ

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3546

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کیا اور ان کے درمیان تفریق کردی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٣؛حدیث نمبر ٣٦٤٧)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «لَاعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَامْرَأَتِهِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا»،

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3647

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٤٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٣؛حدیث نمبر ٣٦٤٨)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3648

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کی رات مسجد میں تھا کہ انصار کا ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے اور اعتراض کرے تو تم لوگ اسے کوڑے مارو گے یا وہ قتل کردے گا تو تم اسے قتل کرو گے اور اگر وہ خاموش ہوجائے تو غصے کی حالت میں خاموش ہوگا اللہ کی قسم!میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں ضرور پوچھوں گا۔ جب دوسرا دن ہوا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں آپ سے پوچھا اور کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاے اور یہ واقعہ ذکر کرے تو آپ لوگ اسے کوڑے لگائیں گے اور اگر وہ اسے قتل کردے تو تم اس کو قتل کردو گے اور اگر وہ خاموش ہوجائے تو غصے کی حالت میں خاموش ہو گا آپ نے دعا مانگی یااللہ!اس مسئلہ کو کھول دے اور آپ مسلسل دعا مانگتے رہے حتیٰ کہ آیت لعان نازل ہوئی ارشاد خداوندی ہے: "اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس سوائے ان کے کوئی گواہ نہیں" پھر وہ شخص خود اس مسئلہ سے دوچار ہوگیا اور اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا اور ان دونوں سے لعان کیا مرد نے چار مرتبہ گواہی دی کہ اللہ کی قسم وہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں مرتبہ لعنت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔پھر عورت نے لعان کرنا شروع کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رک جا وہ عورت نہ مانی اور اس نے لعان کیا جب وہ دونوں واپس ہوے تو آپ نے فرمایا شاید اس کے ہاں سیاہ فام گھنگھریالے بالوں والا بچہ پیدا ہوگا پس اس کے ہاں سیاہ رنگ کا گھنگھریالے بالوں والا بچہ پیدا ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٣؛حدیث نمبر ٣٦٤٩)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: إِنَّا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَتَكَلَّمَ، جَلَدْتُمُوهُ، أَوْ قَتَلَ، قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ سَكَتَ، سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، وَاللهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ، جَلَدْتُمُوهُ، أَوْ قَتَلَ، قَتَلْتُمُوهُ، أَوْ سَكَتَ، سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، فَقَالَ: «اللهُمَّ افْتَحْ وَجَعَلَ يَدْعُو»، فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ هَذِهِ الْآيَاتُ، فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ، فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ إِنَّهُ لَمِنِ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، فَذَهَبَتْ لِتَلْعَنَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْ، فَأَبَتْ، فَلَعَنَتْ، فَلَمَّا أَدْبَرَا، قَالَ» لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا "، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا،

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3649

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٤٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٤؛حدیث نمبر ٣٦٥٠)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3650

محمد بن سیرین کہتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور میرا خیال تھا کہ ان کو علم ہوگا تو انہوں نے بتایا کہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی اور وہ حضرت براء بن مالک کے ماں کی طرف سے بھائی تھے اور یہ اسلام میں لعان کرنے والے پہلے شخص تھے پس انہوں نے اس عورت سے لعان کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھتے رہنا اگر اس عورت کے ہاں سفید رنگ کا سیدھے بالوں اور سرخ آنکھوں والا بچہ پیدا ہو تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا اور وہ سرمگیں آنکھوں،گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو تو شریک بن سحماء کا ہوگا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے بتایا گیا کہ وہ بچہ سرمگیں آنکھوں گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا پیدا ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٤؛حدیث نمبر ٣٦٥١)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَأَنَا أُرَى أَنَّ عِنْدَهُ مِنْهُ عِلْمًا، فَقَالَ: إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ، وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَ أَوَّلَ رَجُلٍ لَاعَنَ فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَلَاعَنَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ»، قَالَ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3651

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کا ذکر کیا گیا تو عاصم بن عدی نے اس سلسلے میں کوئی بات کہی پھر وہ چلے اس کے بعد ان کے قبیلے کا ایک آدمی آیا اور شکایت کرنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک مرد کو پایا۔ حضرت عاصم کہتے ہیں میں اپنی اس بات کی وجہ سے اس معاملے میں پڑا وہ اس شخص کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور بتایا کی اس شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پایا ہے اور وہ شخص زرد رنگ(کے چہرے)والا تھا دبلا پتلا اور سیدھے بالوں والا تھا اور جس کے بارے میں اس نےدعویٰ کیا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے وہ بھری پنڈلیوں والا گندمی رنگ کا تھا اور اس کا جسم موٹا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی یا اللہ!اس بات کو واضح فرمادے تو اس عورت نے اس شخص کا ہم شکل بچہ جنا جس کے بارے میں اس کے خاوند نے کہا تھا کہ اس نے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کیا۔ حاضرین مجلس میں سے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا یہ وہی عورت ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو سنگسار کرتا تو اسے رجم کرتا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں بلکہ وہ عورت تو وہ تھی جو اسلام لانے کے بعد علی الاعلان بدکاری کرتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٤؛حدیث نمبر ٣٦٥٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، وَعِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ، واللَّفْظُ لِابْنِ رُمْح، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: ذُكِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْكُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا لِقَوْلِي، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا، قَلِيلَ اللَّحْمِ، سَبِطَ الشَّعَرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلًا، آدَمَ، كَثِيرَ اللَّحْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ بَيِّنْ»، فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا، فَلَاعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ: أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ»؟، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوءَ».

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3652

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کرنے والوں کا تذکرہ ہوا۔باقی روایت حدیث نمبر ٣٦٥٢ کی مثل مروی ہے صرف اتنا اضافہ ہے کہ جس شخص کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی وہ موٹے جسم اور گھنگھریالے بالوں والا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٥؛حدیث نمبر ٣٦٥٣)

وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: ذُكِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ كَثِيرَ اللَّحْمِ، قَالَ: جَعْدًا قَطَطًا

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3653

عبداللہ بن شداد کہتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس دو لعان والوں کا ذکر ہوا تو ابن شداد نے پوچھا کیا یہ وہی تھے جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو گواہوں کے بغیر رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کرتا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں وہ عورت علی الإعلان بدکاری کرتی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٥؛حدیث نمبر ٣٦٥٤)

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ شَدَّادٍ: وَذُكِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ شَدَّادٍ: أَهُمَا اللَّذَانِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا»، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: فِي رِوَايَتِهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3654

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاے تو کیا اسے قتل کردے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں حضرت سعد نے کہا کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ معزز بنایا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(حاضرین سے)فرمایا سنو تمہارے سردار کیا کہ رہے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٥؛حدیث نمبر ٣٦٥٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا»، قَالَ سَعْدٌ: بَلَى، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3655

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاؤں تو اسے اتنی مہلت دوں کہ چار گواہ لے آؤں آپ نے فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٥؛حدیث نمبر ٣٦٥٦)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا، أَؤُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3656

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاؤں تو اسے اس وقت تک ہاتھ نہ لگاؤں جب تک چار گواہ نہ لے آؤں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے کہا ہر گز نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں تو اس سے پہلے اس کو تلوار سے قتل کردوں گا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو!تمہارے سردار کیا کہ رہے ہیں بے شک یہ غیرت مند ہیں اور میں ان سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٥؛حدیث نمبر ٣٦٥٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»، قَالَ: كَلَّا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، إِنْ كُنْتُ لَأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ، إِنَّهُ لَغَيُورٌ، وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي»

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3657

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھوں گا تو میں کسی چشم پوشی کے بغیر اسے تلوار سے مار دوں گا یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا تم لوگوں کو حضرت سعد کی غیرت پر تعجب ہوتا ہے اللہ کی قسم میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیار غیور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی غیرت کی وجہ سے بے حیائی کے تمام کاموں کو حرام کردیا ہے وہ ظاہری ہوں یا باطنی۔اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیور بھی کوئی نہیں اور اس سے زیادہ عذر قبول کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے رسولوں کو بھیجا جو بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی کی تعریف پسند نہیں اسی بنیاد پر اس نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٦؛حدیث نمبر ٣٦٥٨)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرُ مُصْفِحٍ عَنْهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ، فَوَاللهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي، مِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا، وَمَا بَطَنَ، وَلَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللهِ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللهِ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ اللهُ الْمُرْسَلِينَ، مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللهِ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللهُ الْجَنَّةَ»،

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3658

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ارشاد فرماے"غیر مُصفِح" اور عنہ کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٦؛حدیث نمبر ٣٦٥٩)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: غَيْرَ مُصْفِحٍ وَلَمْ يَقُلْ عَنْهُ

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3659

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو خزارہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا میری بیوی کے ہاں سیاہ فام بچہ پیدا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس اونٹ ہے اس نے کہا جی ہاں،فرمایا ان کا کیا ہے اس نے جواب دیا سرخ فرمایا کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟اس نے جواب دیا جی ہاں خاکی رنگ کا بھی ہے فرمایا وہ کہاں سے آگیا؟اس نے کہا شاید کسی رنگ نے کھینچا ہو آپ نے فرمایا شاید تیرے بچے میں بھی یہ رنگ کسی رگ نے کھینچا ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٧؛حدیث نمبر ٣٦٦٠)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَمَا أَلْوَانُهَا؟» قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: «هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟» قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: «فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ؟» قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: «وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ»،

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3660

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے البتہ معمر کی روایت میں ہے کہ اس شخص نے کہا یارسول اللہ!میری بیوی نے سیاہ فام بچے کو جنم دیا ہے اور وہ در پردہ اپنے نسب کی نفی کر رہا تھا اس حدیث کے آخر میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نسب کی نفی کرنے کی اجازت نہ دی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٧؛حدیث نمبر ٣٦٦١)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَدَتِ امْرَأَتِي غُلَامًا أَسْوَدَ، وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ، وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3661

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!میری بیوی کے ہاں سیاہ رنگ کا بچہ پیدا ہوا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں اس نے عرض کیا جی ہاں،فرمایا ان کا رنگ کیا ہے؟اس نے کہا سرخ،فرمایا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟اس نے عرض کیا جی ہاں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کہاں سے آیا ہے؟اس نے کہا یارسول اللہ!شاید کسی رگ نے کھینچا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید اسے بھی کسی رگ نے کھینچا ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٧؛حدیث نمبر ٣٦٦٢)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «مَا أَلْوَانُهَا؟» قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: «فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَنَّى هُوَ؟» قَالَ: لَعَلَّهُ يَا رَسُولَ اللهِ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ لَهُ»،

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3662

ایک اور سند سے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٦٦٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ اللِّعَانِ؛جلد٢ص١١٣٨؛حدیث نمبر ٣٦٦٣)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ

Muslim Shareef, Kitabul Le Aan, Hadees No. 3663

Muslim Shareef : Kitabul Le Aan

|

Muslim Shareef : كِتَابُ اللِّعَانِ

|

•