asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Itq

From 3664 to 3694

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں میں نے مالک سے پوچھا کہا حضرت نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے تم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہو تو کسی عادل سے غلام کی متوسط قیمت لگا کر دوسرے شریکوں کو ان کے حصے کی قیمت ادا کی جائے اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا ورنہ جس قدر غلام اس نے آزاد کیا اسی قدر آزاد ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛ترجمہ؛آزاد کرنے کا بیان؛جلد٢ص١١٣٩؛حدیث نمبر ٣٦٦٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ: حَدَّثَكَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ، قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ، وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ»،

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3664

امام مسلم نے آٹھ سندوں کے ساتھ حدیث نمبر ٣٦٦٤ کی مثل روایت کیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛جلد٢ص١١٣٩؛حدیث نمبر ٣٦٦٥)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْح، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3665

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس غلام میں دو حصہ دار ہوں اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو وہ(دوسرے کے لئے)ضامن ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛ذِكْرِ سِعَايَةِ الْعَبْدِ؛جلد٢ص١١٤٠؛حدیث نمبر ٣٦٦٦)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا، قَالَ: «يَضْمَنُ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3666

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کرے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو بقیہ غلام بھی اس کے مال سے آزاد ہوگا اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے اور اسے مشقت میں نہ ڈالا جائے(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛ذِكْرِ سِعَايَةِ الْعَبْدِ؛جلد٢ص١١٤٠؛حدیث نمبر ٣٦٦٧)

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ، اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3667

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٦٧ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام پر مبنی قیمت لگا کر اس شخص کا حصہ آزاد کردیا جائے جس نے آزاد نہیں کیا لیکن محنت کے سلسلے میں اس(غلام)کو مشقت میں نہ ڈالا جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛ذِكْرِ سِعَايَةِ الْعَبْدِ؛جلد٢ص١١٤١؛حدیث نمبر ٣٦٦٨)

وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ: إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ، ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ،

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3668

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں اس طرح آیا ہے کہ اس کی منصفانہ قیمت لگائی جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛ذِكْرِ سِعَايَةِ الْعَبْدِ؛جلد٢ص١١٤١؛حدیث نمبر ٣٦٦٩)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3669

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے ایک لونڈی خریدنے کا ارادہ کیا جسے وہ آزاد کریں تو اس کے مالکوں نے کہا ہم آپ پر اس شرط پر بیچیں گے کہ اس کی ولاء(یعنی جس کو آزاد کیا آزاد کرنے والا اس کا وارث ہوگا اس کو ولاء کہا جاتا ہے۔١٢ہزاروی)ہمارے پاس ہوگی۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا تم اس کو خریدنے سے مت روکو ولاء اسی کے لئے ہوگی جو آزاد کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛ترجمہ؛ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے؛جلد٢ص١١٤١؛حدیث نمبر ٣٦٧٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ: أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3670

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت بریرہ ان کے پاس بدل کتابت کے سلسلے میں مدد طلب کرنے کی خاطر آئیں اور انہوں نے اپنی کتابت(مکاتبت)سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اپنے مالکوں کے پاس جاؤ اگر وہ پسند کریں تو میں تمہاری کتابت کا بدل ادا کردوں اور تمہاری ولاء میرے لئے ہوگی اگر میں چاہوں تو ایسا کروں یہ بات حضرت بریرہ نے اپنے آقاؤں سے ذکر کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا اگر ام المؤمنين چاہے تو ثواب کی نیت سے ایسا کریں اور تمہاری ولاء ہمارے لئے ہوگی۔ام المؤمنين نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے ان سے فرمایا خرید کر آزاد کردو ولاء اس کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرائط رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں تو ان کو ان شرائط کا کوئی حق نہیں(اور وہ پوری نہیں کی جائیں گی)اگرچہ سو شرطیں رکھیں اللہ تعالیٰ کی شرط ہی پوری کرنے کے زیادہ لائق اور زیادہ مضبوط ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤١؛حدیث نمبر ٣٦٧١)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا، وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونَ لَنَا وَلَاؤُكِ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ، شَرْطُ اللهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3671

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ میرے پاس آئیں اور کہا اے عائشہ!میں نے اپنے مالکوں سے اس شرط پر مکاتبت کی ہے کہ میں ہرسال ایک اوقیہ کے حساب سے نو اوقیہ دوں گی۔(ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے)اس کے بعد پہلے کی طرح حدیث ہے البتہ یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات تجھے منع نہ کرے تم خرید کر آزاد کرو۔اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا اما بعد!...۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٢؛حدیث نمبر ٣٦٧٢)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلَيَّ، فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ، إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَزَادَ، فَقَالَ: «لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ مِنْهَا ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي»، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3672

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت بریرہ میرے پاس آئیں اور انہوں نے کہا کہ میرے مالکوں نے مجھ سے نو اوقیہ پر مکاتبت کی ہے جو ایک سال میں ایک اوقیہ کے حساب سے نو سال میں ادا کروں گی آپ میری مدد فرمائیں۔ میں نے کہا اگر تمہارے مالک چاہے کہ میں ایک مشت یہ رقم ادا کر کے تمہیں آزاد کرا دوں اور ولاء مجھے حاصل ہو تو میں ایسا کروں گی۔انہوں نے یہ بات اپنے مالکوں سے ذکر کی تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ ولاء ان کو ہی حاصل ہوگی حضرت بریرہ نے آکر مجھے بتایا ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے ان کو جھڑک دیا اور کہا کہ اللہ کی قسم ایسا نہیں ہوگا۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو مجھ سے پوچھا میں نے آپ کو واقعہ بتایا تو آپ نے فرمایا تم خرید کر آزاد کردو اور ان کے حق میں ولاء کو مشروط کردو کیونکہ ولاء اسی کے لئے ہے جو آزاد کرے۔آپ فرماتی ہیں میں نے اسی طرح کیا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے وقت خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی جیسے اس کی شان کے لائق ہے پھر فرمایا اما بعد!ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرائط رکھتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ذکر نہیں ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہےاگرچہ سو شرطیں ہوں اللہ کی کتاب زیادہ حق دار ہے اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ مضبوط ہے تم میں سے ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ ان میں سے کوئی کہتا ہے فلاں کو آزاد کردو لیکن ولاء میرے پاس ہوگی حالانکہ ولاء اس کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٢؛حدیث نمبر ٣٦٧٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي كَاتَبُونِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي تِسْعِ سِنِينَ، فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقُلْتُ لَهَا: إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ، وَيَكُونَ الْوَلَاءُ لِي فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَأَتَتْنِي فَذَكَرَتْ ذَلِكَ قَالَتْ: فَانْتَهَرْتُهَا، فَقَالَتْ: لَا هَا اللهِ إِذًا قَالَتْ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ»، فَفَعَلْتُ، قَالَتْ: ثُمَّ خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، كِتَابُ اللهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ فُلَانًا وَالْوَلَاءُ لِي، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»،

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3673

کچھ دیگر اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے جن میں سے حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حضرت بریرہ کا خاوند غلام تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا پس اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا اور اگر وہ آزاد ہوتا تو آپ اسے اختیار نہ دیتے ان حضرات کی حدیث میں"اما بعد"کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٣؛حدیث نمبر ٣٦٧٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ، كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ أَمَّا بَعْدُ

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3674

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت بریرہ کے واقعہ میں تین مسائل ہیں ان کے مالکوں نے ان کو بیچنے کا ارادہ کیا اور ان کی ولاء کو اپنے حق میں رکھنے کی شرط عائد کی میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اس کو خرید کر آزاد کردو اور ولاء اس کے لئے ہے جو آزاد کرے۔(دوسری بات یہ کہ)ان کو آزاد کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دیا پس انہوں نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا اور(تیسری بات یہ کہ)لوگ ان کو صدقہ دیتے اور وہ ہمیں بطور ہدیہ دیتی تھیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہے اور تمہارے لئے ہدیہ ہے پس تم اسے کھاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٣؛حدیث نمبر ٣٦٧٥)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ: أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ» قَالَتْ: وَعَتَقَتْ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَتْ: وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ، فَكُلُوهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3675

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں انہوں نے حضرت بریرہ کو انصار کے کچھ لوگوں سے خریدا اور ان لوگوں نے ولاء کی شرط رکھی پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولاء اس کے لیے ہوگی جو ولی نعمت ہو اور حضرت بریرہ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا اور ان کاخاوند غلام تھا اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بطور ہدیہ گوشت دیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس گوشت سے ہمارے لئے پکاتیں تو بہتر ہوتا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یہ صدقہ کا گوشت ہے جو بریرہ کو دیا گیا آپ نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٣؛حدیث نمبر ٣٦٧٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ»، وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ»، قَالَتْ عَائِشَةُ: تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3676

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا تاکہ ان کو آزاد کریں تو ان کے مالکوں نے اپنے لئے ولاء کی شرط رکھی۔ ام المومنین نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا اسے خرید کر آزاد کرو بےشک ولاء اسی کے لئے ہے جس نے آزاد کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا تو اہل خانہ نے عرض کیا یہ حضرت بریرہ کو صدقہ دیا گیا ہے آپ نے فرمایا اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔نیز حضرت بریرہ کو اختیار دیا گیا تو حضرت عبد الرحمن بن قاسم فرماتے ہیں کہ ان کا خاوند آزاد تھا۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں پھر میں نے حضرت عبد الرحمن سے(اس بارے میں)پوچھا تو انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٤؛حدیث نمبر ٣٦٧٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، فَاشْتَرَطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ» وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ» وَخُيِّرَتْ - فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: - وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَأَلْتُهُ، عَنْ زَوْجِهَا، فَقَالَ: لَا أَدْرِي،

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3677

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٧٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٤؛حدیث نمبر ٣٦٧٨)

وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3678

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت بریرہ کا خاوند غلام تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٤؛حدیث نمبر ٣٦٧٩)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي هِشَامٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ أَبُو هِشَامٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3679

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت بریرہ کے واقعہ سے تین باتیں معلوم ہوئیں جب ان کو آزاد کیا گیا تو خاوند کے بارے میں ان کو اختیار دیا گیا۔اور ان کو گوشت کا تحفہ دیا گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہنڈیا چولہے پر تھی آپ نے کھانا طلب کیا تو روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا آپ نے فرمایا کیا میں آگ پر چڑھی ہوئی دیگچی میں گوشت نہیں دیکھ رہا عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ!یہ گوشت حضرت بریرہ کو بطور صدقہ دیا گیا ہے تو ہم نے اس میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا پسند نہ کیا۔ آپ نے فرمایا یہ ان کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ان کی طرف سے ہدیہ ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ولاء اس کے لئے ہےجو آزاد کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٤؛حدیث نمبر ٣٦٨٠)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ: خُيِّرَتْ عَلَى زَوْجِهَا حِينَ عَتَقَتْ، وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ، فَدَعَا بِطَعَامٍ، فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأُدُمٍ مِنْ أُدُمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: «أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً عَلَى النَّارِ فِيهَا لَحْمٌ»، فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُطْعِمَكَ مِنْهُ، فَقَالَ: «هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ مِنْهَا لَنَا هَدِيَّةٌ»، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3680

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خریدنے کا ارادہ کیا تاکہ اسے آزاد کریں تو اس کے مالکوں نے انکار کردیا البتہ یہ ہے کہ ولاء ان کے لئے ہو ام المؤمنين نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے فرمایا تمہیں اس کے خریدنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے ولاء اسی کے لئے ہے جو آزاد کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ؛جلد٢ص١١٤٥؛حدیث نمبر ٣٦٨١)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَأَبَى أَهْلُهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلَاءُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3681

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ابراهيم فرماتے ہیں میں نے امام مسلم بن حجاج سے سنا وہ کہتے ہیں اس حدیث میں تمام لوگ عبد اللہ بن دینار کے شاگرد ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَهِبَتِهِ؛جلد٢ص١١٤٥؛حدیث نمبر ٣٦٨٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ»، قَالَ مُسْلِمٌ: «النَّاسُ كُلُّهُمْ عِيَالٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ»،

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3682

امام مسلم نے پانچ سندوں سے حضرت عبد اللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٦٨٢ کی مثل روایت کیا۔البتہ عبیداللہ کی روایت میں صرف بیع کا ذکر ہے ہبہ کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ، وَهِبَتِهِ؛جلد٢ص١١٤٥؛حدیث نمبر ٣٦٨٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ الثَّقَفِيَّ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، إِلَّا الْبَيْعُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْهِبَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3683

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا کہ ہر قبیلہ پر اس کی دیت واجب ہے پھر لکھا کہ کسی مسلمان کے آزاد شدہ غلام کے لئے آزاد کرنے والے کی اجازت کے بغیر دوسرے کا والی بننا جائز نہیں پھر مجھے بتایا گیا کہ آپ نے ایسا کرنے والے پر اپنے صحیفہ میں لعنت لکھی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَوَلِّي الْعَتِيقِ غَيْرَ مَوَالِيهِ؛جلد٢ص١١٤٦؛حدیث نمبر ٣٦٨٤)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُ»، ثُمَّ كَتَبَ: «أَنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُتَوَالَى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ»، ثُمَّ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ لَعَنَ فِي صَحِيفَتِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3684

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر اپنے آپ کو کسی قوم کی طرف منسوب کرے اس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی لعنت ہے اس کا کوئی فرض اور نفل قبول نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَوَلِّي الْعَتِيقِ غَيْرَ مَوَالِيهِ؛جلد٢ص١١٤٦؛حدیث نمبر ٣٦٨٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3685

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر اپنے آپ کو دوسرے لوگوں کی طرف منسوب کرے اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کی فرض نماز اور نوافل قبول نہیں ہوں گے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَوَلِّي الْعَتِيقِ غَيْرَ مَوَالِيهِ؛جلد٢ص١١٤٦؛حدیث نمبر ٣٦٨٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ»،

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3686

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٦٨٦ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں"من تولی"کی جگہ من والی" کے الفاظ ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَوَلِّي الْعَتِيقِ غَيْرَ مَوَالِيهِ؛جلد٢ص١١٤٦؛حدیث نمبر ٣٦٨٧)

وحَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «وَمَنْ وَالَى غَيْرَ مَوَالِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3687

ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا جس شخص کا یہ خیال ہے کہ ہم کتاب اللہ اور اس صحیفے کے سوا کوئی چیز پڑھتے ہیں جو ہمارے پاس ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں وہ صحیفہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی تلوار کی میان سے لٹکا ہوا تھا اس صحیفہ میں اونٹوں کی عمروں اور چھ زخموں کی دیت کا بیان تھا اور اس میں یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ عیر سے ثور تک حرم ہے پس جو شخص اس میں بدعت کا ارتکاب کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ تعالیٰ،اس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض اور نفل نماز قبول نہیں کرے گا۔ اور مسلمانوں کا ذمہ واحد ہے اس کے لئے ان کا ادنیٰ بھی کوشش کرسکتا ہے اور جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی کی طرف منسوب ہو یا اپنے آزاد کرنے والوں کے علاوہ کسی کی طرف اپنی نسبت کرے اس پر اللہ تعالیٰ،فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی فرض اور نماز قبول نہیں کرے گا۔(جس طرح باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب ہونا یا منسوب کرنا جھوٹ ہے اسی طرح آزاد کوئی کرے اور نسبت کرے کسی کی طرف کی جائے یہ بھی جھوٹ ہے لہذا اس سے منع کیا گیا ہے۔١٢ہزاروی)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ تَحْرِيمِ تَوَلِّي الْعَتِيقِ غَيْرَ مَوَالِيهِ؛جلد٢ص١١٤٧؛حدیث نمبر ٣٦٨٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، قَالَ: وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ، فَقَدْ كَذَبَ، فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3688

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایک مؤمن غلام آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس شخص کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ؛جلد٢ص١١٤٧؛حدیث نمبر ٣٦٨٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3689

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص کسی مؤمن غلام کو آزاد کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس شخص کے ہر عضو حتیٰ کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرم گاہ جہنم سے آزاد کرے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ؛جلد٢ص١١٤٧؛حدیث نمبر ٣٦٩٠)

وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ أَبِي غَسَّانَ الْمَدَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً، أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهِ مِنَ النَّارِ، حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3690

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص کسی مؤمن غلام کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا حتیٰ کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ کو آزاد کرے گا۔۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ؛جلد٢ص١١٤٧؛حدیث نمبر ٣٦٩١)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ، حَتَّى يُعْتِقَ فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3691

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس(غلام)کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد گا۔ سعید بن مرجانہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی اور حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے اپنا غلام آزاد کردیا جس کی قیمت ابن جعفر دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار دے رہے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ؛جلد٢ص١١٤٨؛حدیث نمبر ٣٦٩٢)

وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنَا وَاقِدٌ - يَعْنِي أَخَاهُ -، حَدَّثَنِي سَعِيدُ ابْنُ مَرْجَانَةَ - صَاحِبُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ -، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، اسْتَنْقَذَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ»، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ حِينَ سَمِعْتُ الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَذَكَرْتُهُ لِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، فَأَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ قَدْ أَعْطَاهُ بِهِ ابْنُ جَعْفَرٍ عَشَرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ أَوْ أَلْفَ دِينَارٍ

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3692

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیٹا اپنے باپ(کے احسانات)کا بدلہ نہیں دے سکتا مگر یہ کہ اس کو غلام پاے تو خرید کر آزاد کردے ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے۔ "ولد والدا"کی جگہ"ولدوالدہ" کے الفاظ ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ عِتْقِ الْوَالِدِ؛جلد٢ص١١٤٨؛حدیث نمبر ٣٦٩٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدًا، إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ»، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: «وَلَدٌ وَالِدَهُ»،

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3693

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث منقول ہے اور ان سب نے"ولد والدہ"کےالفاظ ذکر کئے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْعِتْقِ؛بَابُ فَضْلِ عِتْقِ الْوَالِدِ؛جلد٢ص١١٤٨؛حدیث نمبر ٣٦٩٤)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالُوا: «وَلَدٌ وَالِدَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Itq, Hadees No. 3694

Muslim Shareef : Kitabul Itq

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْعِتْقِ

|

•