asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Mosaqat

From 3854 to 4031

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے زمین کی نصف پیداوار کے عوض عمل کروایا خواہ وہ پھل ہو یا غلہ۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛ترجمہ؛پھلوں اور کھیتی کے کچھ حصے کے بدلے معاملہ کرنا؛جلد٣ص١١٨٦؛حدیث نمبر ٣٨٥٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ» [مسلم، صحيح مسلم، ١١٨٦/٣]

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3854

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں یا غلہ کے نصف پیداوار کے عوض خیبر کی زمین دی پس آپ اپنی ازواج مطہرات کو ہر سال ایک سو وسق دیتے تھے جس میں سے اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو ہوتے تھے۔ پھر حضرت عمر فاروق خلیفہ بنے اور خیبر(کے اموال)کو تقسیم کیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ ان کے لئے زمین اور پانی میں سے حصہ مقرر کیا جائے یا وہ ہر سال مقرر وسق لے لیں ازواج مطہرات میں اختلاف ہوگیا بعض نے زمین اور پانی لینا پسند کیا اور بعض نے اوساق(غلہ کے وسق)لینا پسند فرمایا کہ ہر سال لے لیں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہن ان ازواج مطہرات میں شامل ہیں جنہوں نے زمین اور پانی لینا پسند کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٦؛حدیث نمبر ٣٨٥٥)

وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «أَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كُلَّ سَنَةٍ مِائَةَ وَسْقٍ، ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ، وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ»، «فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ قَسَمَ خَيْبَرَ، خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ وَالْمَاءَ، أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ، فَاخْتَلَفْنَ، فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْأَرْضَ وَالْمَاءَ، وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ، فَكَانَتْ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ مِمَّنِ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَاءَ»، [مسلم، صحيح مسلم، ١١٨٦/٣]

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3855

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے نصف پیداوار کے عوض عمل کروایا خواہ وہ پھل ہو یا غلہ۔ اس کے بعد حدیث نمبر ٣٨٥٥ کی مثل مروی ہے اس روایت میں یہ بات مذکور نہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے زمین اور پانی لینا پسند فرمایا البتہ اس بات کا ذکر ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ازواج مطہرات کو زمین لینے کا اختیار دیا اور پانی کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٦؛حدیث نمبر ٣٨٥٦)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ زَرْعٍ أَوْ ثَمَرٍ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَكَانَتْ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ مِمَّنِ اخْتَارَتَا الْأَرْضَ وَالْمَاءَ، وَقَالَ: خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الْأَرْضَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَاءَ، [مسلم، صحيح مسلم، ١١٨٦/٣]

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3856

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب خیبرفتح ہوگیا تو یہودیوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کو خیبر میں رہنے دیں اور وہ پھلوں اور کھیتی کی نصف پیداوار کے بدلے میں عمل کریں گے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اس عمل پر اس وقت تک برقرار رکھوں گا جب تک ہم چاہیں گے۔ اس کے بعد حسب سابق کی طرح ہے البتہ اس میں یہ زائد ہے کہ خیبر سے حاصل شدہ نصف حصہ کی تقسیم کی جاتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے خمس(پانچواں حصہ)لیتے تھے۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٧؛حدیث نمبر ٣٨٥٧)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ فِيهَا، عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى نِصْفِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا»، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَابْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، وَزَادَ فِيهِ، وَكَانَ الثَّمَرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ، فَيَأْخُذُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمْسَ [مسلم، صحيح مسلم، ١١٨٧/٣]

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3857

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے خیبر کے باغات اور خیبر کی زمین پر اس شرط پر عمل کروایا کہ وہ اس زمین میں کاشتکاری کریں اور اس کی نصف پیداوار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیں گے۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٧؛حدیث نمبر ٣٨٥٨)

وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَنَّهُ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا، عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَلِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرُ ثَمَرِهَا» [مسلم، صحيح مسلم، ١١٨٧/٣]

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3858

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سرزمین حجاز سے یہود ونصاریٰ کو نکال دیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کو فتح کیا اور یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا اور وہ زمین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہوگئی تو یہودیوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ ان کو خیبر میں رہنے دیں اور وہ نصف پیداوار کے عوض کاشتکاری کریں پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تمہیں اس پر برقرار رکھتے ہیں جب تک ہم چاہیں پس ان کو برقرار رکھا گیا حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق نے ان کو(مقام)تیماء یا اریحا کی طرف جلا وطن کردیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٧؛حدیث نمبر ٣٨٥٩)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظُهِرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ، فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا، فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا، عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا»، فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ [مسلم، صحيح مسلم، ١١٨٧/٣]

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3859

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان کوئی درخت لگائے تو اس سے جو کچھ کھایا جاے گا وہ صدقہ ہوگا اور جو کچھ اس سے چوری ہو جائے گا وہ بھی صدقہ ہے جو کچھ اس سے درندے کھائیں وہ بھی صدقہ ہے اور اس میں پرندے جو کچھ کھائیں وہ بھی صدقہ ہے اور جو شخص اس میں سے کم کرے گا وہ بھی صدقہ ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛ترجمہ؛کاشتکاری اور درخت لگانے کی فضیلت؛جلد٣ص١١٨٨؛حدیث نمبر ٣٨٦٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَانَ مَا أُكِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةً، وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا أَكَلَتِ الطَّيْرُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ، وَلَا يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ» [مسلم، صحيح مسلم، ١١٨٨/٣]

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3860

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا کے کھجور کے باغ میں تشریف لے گئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا یہ کھجور کا درخت کس شخص نے لگایا تھا مسلمان نے یا کافر نے؟ انہوں نے عرض کیا مسلمان نے لگایا تھا۔آپ نے فرمایا مسلمان جو درخت لگاتا ہے یا کاشتکاری کرتا ہے پھر اس سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے یا کوئی چیز کھاتی ہے تو وہ صدقہ ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٨؛حدیث نمبر ٣٨٦١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ الأَنْصَارِيَّةِ فِى نَخْلٍ لَهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ». فَقَالَتْ بَلْ مُسْلِمٌ. فَقَالَ « لاَ يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلاَ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلاَ دَابَّةٌ وَلاَ شَىْءٌ إِلاَّ كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3861

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا مسلمان جو درخت لگاتا ہے یا کاشتکاری کرتا ہے پس اس سے کوئی درندہ یا پرندہ یا کوئی اور چیز کھاتی ہے تو اس میں اس شخص کے لئے ثواب ہے ابن ابی خلف کی روایت میں طَائِرٌ شَيْءٌ کذا کے الفاظ ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٩؛حدیث نمبر ٣٨٦٢)

وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِى خَلَفٍ قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ يَغْرِسُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلاَ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ سَبُعٌ أَوْ طَائِرٌ أَوْ شَىْءٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ ». وَقَالَ ابْنُ أَبِى خَلَفٍ طَائِرٌ شَىْءٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3862

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام معبد کے باغ میں تشریف لے گئے آپ نے فرمایا اے ام معبد یہ کھجور کا درخت کس نے لگایا ہے مسلمان نے یا کافر نے؟ حضرت ام معبد نے عرض کیا مسلمان نے؟آپ نے فرمایا جو مسلمان بھی کوئی درخت لگائے اور اس سے انسان،چوپائے یا درندے یا جو بھی کھاے وہ اس کا قیامت تک صدقہ ہو جاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٩؛حدیث نمبر ٣٨٦٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ دَخَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى أُمِّ مَعْبَدٍ حَائِطًا فَقَالَ « يَا أُمَّ مَعْبَدٍ مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ». فَقَالَتْ بَلْ مُسْلِمٌ. قَالَ « فَلاَ يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلاَ دَابَّةٌ وَلاَ طَيْرٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ صَدَقَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3863

امام مسلم نے چار مختلف سندوں کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے اس میں بعض راویوں نے ام مبشر کا قصہ بیان کیا اور بعض راویوں نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کا قصہ بیان کیا۔ اسحاق نے ابو معاویہ سے روایت کیا کہ حضرت ام مبشر،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں اور تمام راویوں نے حضرت عطاء حضرت ابوالزبیر اور حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہم کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٩؛حدیث نمبر ٣٨٦٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ. زَادَ عَمْرٌو فِى رِوَايَتِهِ عَنْ عَمَّارٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ فِى رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ فَقَالاَ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ وَفَى رِوَايَةِ ابْنِ فُضَيْلٍ عَنِ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَفِى رِوَايَةِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ قَالَ رُبَّمَا قَالَ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ وَكُلُّهُمْ قَالُوا عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِ حَدِيثِ عَطَاءٍ وَأَبِى الزُّبَيْرِ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3864

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان بھی کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی اگاتا ہے پس اس سے کوئی پرندہ یا انسان یا جانور کھاتا ہے تو وہ اس کی طرف سے صدقہ ہوجاتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٩؛حدیث نمبر ٣٨٦٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِىُّ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3865

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام مبشر کے کھجوروں کے باغ میں تشریف لے گئے جو انصاری خاتون تھیں تو آپ نے پوچھا یہ درخت کس نے لگاے ہیں کسی مسلمان نے یا کافر نے؟ انہوں نے کہا مسلمان نے،اس کے بعد حسب سابق روایت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ؛جلد٣ص١١٨٩؛حدیث نمبر ٣٨٦٦)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ نَخْلاً لأُمِّ مُبَشِّرٍ - امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ». قَالُوا مُسْلِمٌ. بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3866

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اپنے بھائی کو پھل فروخت کرو پھر ان پھلوں کو کوئی آفت لاحق ہو جاے تو تمہارے لیے جائز نہیں کہ اس کا کوئی عوض لو تم کسی حق کے بغیر اپنے بھائی کا مال کیسے لو گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩٠؛حدیث نمبر ٣٨٦٧)

حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا ». حوَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلاَ يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ »

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3867

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٨٦٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛ بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩٠؛حدیث نمبر ٣٨٦٨)

وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3868

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کا پھل اس وقت تک فروخت کرنے سے منع فرمایا جب تک اس پر رنگ نہ آجائے راوی کہتے ہیں ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رنگ آنے کا کیا مطلب ہے؟تو انہوں نے فرمایا سرخ یا زرد ہو جائے۔بتاؤ اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک لے تو تم کس چیز کے عوض اپنے بھائی کا مال حلال قرار دو گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛ بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩٠؛حدیث نمبر ٣٨٦٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ. فَقُلْنَا لأَنَسٍ مَا زَهْوُهَا قَالَ تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ. أَرَأَيْتَكَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3869

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو رنگ آنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا،لوگوں نے پوچھا رنگ آنے کا کیا مطلب ہے؟فرمایا سرخ ہوجانا پھر فرمایا جب اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک دے تم اپنے بھائی کا مال کس چیز کے بدلے حلال قرار دو گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛ بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩٠؛حدیث نمبر ٣٨٧٠)

حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَالِكٌ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُزْهِىَ قَالُوا وَمَا تُزْهِىَ قَالَ تَحْمَرُّ. فَقَالَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3870

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ اس میں پھلوں کو پیدا نہ کرے تو تم میں سے ایک کس چیز کے بدلے اپنے بھائی کے مال کو حلال قرار دے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛ بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩٠؛حدیث نمبر ٣٨٧١)

حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنْ لَمْ يُثْمِرْهَا اللَّهُ فَبِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3871

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قدرتی آفات سے(ہونے والے)نقصان کو وضع کرنے کا حکم دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛ بَابُ وَضْعِ الْجَوَائِح؛جلد٣ص١١٩١؛حدیث نمبر ٣٨٧٢)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ - وَهْوَ صَاحِبُ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3872

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے پھل خریدے اور وہ پھل(قدرتی آفات سے)ضائع ہوگئے اور اس پر قرض زیادہ ہوگیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اسے صدقہ دیا لیکن وہ قرض کی ادائیگی کو نہ پہنچ سکا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو مل جائے وہ لے لو اور تمہارے لئے صرف یہی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩١؛حدیث نمبر ٣٨٧٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ ». فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِغُرَمَائِهِ « خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلاَّ ذَلِكَ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3873

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٨٧٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩١؛حدیث نمبر ٣٨٧٤)

حَدَّثَنِى يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3874

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ مبارکہ کے دروازے پر جھگڑنے والوں کی اونچی آوازیں سنیں ان میں سے ایک قرض میں کچھ کمی اور نرمی کا مطالبہ کر رہا تھا اور دوسرا کہ رہا تھا اللہ تعالیٰ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا وہ شخص کہاں ہے جو یہ قسم کھا رہا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا اس نے کہا یا رسول اللہ! میں ہوں اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩١؛حدیث نمبر ٣٨٧٥)

وَحَدَّثَنِى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى أُوَيْسٍ حَدَّثَنِى أَخِى عَنْ سُلَيْمَانَ - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِى الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أُمَّهُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُمَا وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِى شَىْءٍ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَيْهِمَا فَقَالَ « أَيْنَ الْمُتَأَلِّى عَلَى اللَّهِ لاَ يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ ». قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَهُ أَىُّ ذَلِكَ أَحَبَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3875

حضرت عبداللہ بن کعب بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ابن ابی حدرد سے قرض کا مسجد میں تقاضا کیا جو ان کے ذمہ تھا پس ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارکہ میں آواز سنی آپ نے حجرے کا دروازہ کھولا اور ان دونوں کی طرف تشریف لائے آپ نے حضرت کعب بن مالک کو آواز دی اور فرمایا اے کعب بن مالک!انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حاضر ہوں آپ نے دست مبارک سے اشارہ کیا کہ اپنے قرض کا نصف کم کردو حضرت کعب نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے آدھا کم کردیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اٹھو اور ان کا قرض ادا کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩٢؛حدیث نمبر ٣٨٧٦)

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِى حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ فِى بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ « يَا كَعْبُ ». فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ. قَالَ كَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قُمْ فَاقْضِهِ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3876

حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ حضرت کعب بن مالک نے ابن حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا اس کے بعد حدیث نمبر ٣٨٧٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩٢؛حدیث نمبر ٣٨٧٧)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَى دَيْنًا لَهُ عَلَى ابْنِ أَبِى حَدْرَدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3877

حضرت عبد اللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن ابی حدرد اسلمی کے ذمہ ان کا قرض تھا وہ ان سے ملے تو انہوں نے ان کو پکڑ لیا اور ان کے درمیان تکرار ہوگئی حتیٰ کہ ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا اے کعب!پھر ہاتھ سے اشارہ فرمایا گویا آپ فرما رہے تھے نصف لے لو تو انہوں نے اس قرض کا نصف وصول کیا اور باقی نصف چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ؛جلد٣ص١١٩٣؛حدیث نمبر ٣٨٧٨)

قَالَ مُسْلِمٌ وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِى جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ لَهُ مَالٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى حَدْرَدٍ الأَسْلَمِىِّ فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « يَا كَعْبُ ». فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3878

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا میں نے آپ سے سنا(راوی کو شک ہے)کہ جس شخص کو دیوالیہ قرار دیا گیا اگر کوئی شخص اپنی چیز بعینہ اس کے پاس پائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس چیز کا زیادہ حق دار ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛ترجمہ؛خریدار دیوالیہ ہو جاے اور خریدی ہوئی چیز اس کے پاس موجود ہو تو بائع واپس لے سکتا ہے؛جلد٣ص١١٩٣؛حدیث نمبر ٣٨٧٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ - « مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ - أَوْ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ - فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3879

متعدد اسناد سے یہ حدیث مروی ہے اور اس میں ہے کہ کوئی شخص مفلس قرار دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛جلد٣ص١١٩٣؛حدیث نمبر ٣٨٨٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِى هَذَا الإِسْنَادِ. بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ مِنْ بَيْنِهِمْ فِى رِوَايَتِهِ أَيُّمَا امْرِئٍ فُلِّسَ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3880

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جو معدوم المال(یعنی مفلس)قرار دیا گیا فرمایا کہ اگر اس کے پاس چیز ہو جس میں تصرف نہ کیا گیا ہو تو یہ اس شخص کا حق ہے جس نے اسے بیچا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛جلد٣ص١١٩٣؛حدیث نمبر ٣٨٨١)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ - وَهُوَ ابْنُ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِىُّ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى ابْنُ أَبِى حُسَيْنٍ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ عَنْ حَدِيثِ أَبِى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَدِيثِ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى الرَّجُلِ الَّذِى يُعْدِمُ إِذَا وُجِدَ عِنْدَهُ الْمَتَاعُ وَلَمْ يُفَرِّقْهُ « أَنَّهُ لِصَاحِبِهِ الَّذِى بَاعَهُ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3881

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس کسی شخص کو دیوالیہ قرار دیا جائے اور اس کے پاس کسی شخص کی کوئی چیز بعینہ پائی جاے تو وہ شخص دوسروں کی نسبت اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛جلد٣ص١١٩٤؛حدیث نمبر ٣٨٨٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3882

اسی سند کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٨٨٢ کی مثل مروی ہے کہ وہ شخص دوسروں کی نسبت اس چیز کا زیادہ حق دار ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛جلد٣ص١١٩٤؛حدیث نمبر ٣٨٨٣)

وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَيْضًا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ وَقَالاَ « فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنَ الْغُرَمَاءِ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3883

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی شخص کو دیوالیہ قرار دیا جائے اور کوئی شخص اس کے پاس سامان بعینہ پاے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ؛جلد٣ص١١٩٤؛حدیث نمبر ٣٨٨٤)

وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى خَلَفٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِىُّ - قَالَ حَجَّاجٌ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ - أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ عِنْدَهُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3884

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں میں فرشتوں نے ایک شخص کی روح سے ملاقات کی اور پوچھا کیا تم نے کوئی نیک کام کیا ہے؟اس نے کہا نہیں۔انہوں نے کہا یاد کرو اس نے کہا میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ پس میں اپنے ملازمین سے کہتا کہ تنگ دستوں کو مہلت دینا اور(سکوں کی پرکھ میں)مالدار سے در گزر کرنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس سے تجاوز کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٤؛حدیث نمبر ٣٨٨٥)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَلَقَّتِ الْمَلاَئِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَقَالُوا أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَالَ لاَ. قَالُوا تَذَكَّرْ. قَالَ كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِى أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ - قَالَ - قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَجَوَّزُوا عَنْهُ

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3885

حضرت ربعی حراش کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ اور حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہما کی باہم ملاقات ہوئی تو حضرت حذیفہ نے کہا ایک شخص کی اپنے رب عز وجل سے ملاقات ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے کیا عمل کیا ہے؟اس شخص نے کہا میں نے کوئی نیک کام نہیں کیا البتہ یہ کہ میں مالدار تھا اور لوگ مجھ سے مال طلب کرتے تھے میں مالدار سے قرض(واپس)لے لیتا اور تنگ دست سے در گزر کرتا۔اللہ تعالی نے فرمایا میرے بندے سے در گزر کرو۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٥؛حدیث نمبر ٣٨٨٦)

حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حُجْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِى هِنْدٍ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ « رَجُلٌ لَقِىَ رَبَّهُ فَقَالَ مَا عَمِلْتَ قَالَ مَا عَمِلْتُ مِنَ الْخَيْرِ إِلاَّ أَنِّى كُنْتُ رَجُلاً ذَا مَالٍ فَكُنْتُ أُطَالِبُ بِهِ النَّاسَ فَكُنْتُ أَقْبَلُ الْمَيْسُورَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمَعْسُورِ. فَقَالَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِى ». قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3886

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ایک شخص فوت ہونے کے بعد جنت میں داخل ہوا اور اس سے پوچھا گیا تو کیا عمل کرتا تھا۔راوی کہتے ہیں اسے خود یاد آیا یا اسے یاد دلایا گیا اس نے کہا میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا پس میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور سکوں کو پرکھنے میں اس سے در گزر کرتا تھا پس اس کو بخش دیا گیا۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں(یہ حدیث)میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٥؛حدیث نمبر ٣٨٨٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- « أَنَّ رَجُلاً مَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ فَقِيلَ لَهُ مَا كُنْتَ تَعْمَلُ قَالَ فَإِمَّا ذَكَرَ وَإِمَّا ذُكِّرَ. فَقَالَ إِنِّى كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فَكُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ وَأَتَجَوَّزُ فِى السِّكَّةِ أَوْ فِى النَّقْدِ. فَغُفِرَ لَهُ ». فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3887

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ اس کے پاس لایا گیا جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطاء کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا کہ تو نے دنیا میں کیا عمل کیا؟راوی کہتے ہیں لوگ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکتے(چنانچہ)اس نے کہا اے میرے رب!تو نے مجھے مال عطاء کیا پس میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا اور میری عادت تھی کہ میں در گزر کرتا۔ پس میں مال دار پر آسانی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے اس بات(در گزر کرنے)کا تجھ سے زیادہ حق ہے(اے میرے فرشتوں!)میرے بندے سے در گزر کرو۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے اسی طرح سنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٥؛حدیث نمبر ٣٨٨٨)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ « أُتِىَ اللَّهُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَقَالَ لَهُ مَاذَا عَمِلْتَ فِى الدُّنْيَا - قَالَ وَلاَ يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا - قَالَ يَا رَبِّ آتَيْتَنِى مَالَكَ فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِى الْجَوَازُ فَكُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ. فَقَالَ اللَّهُ أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِى ». فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِىُّ وَأَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِىُّ هَكَذَا سَمِعْنَاهُ مِنْ فِى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3888

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا تو اس کی کوئی نیکی نہ پائی گئی البتہ یہ کہ وہ لوگوں سے گھل مل کر رہتا تھا اور وہ امیر شخص تھا چنانچہ وہ اپنے ملازموں کو حکم دیتا کہ تنگ دست سے گزر کریں آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم اس سے زیادہ در گزر کے حق دار ہیں لہذا اس(کے گناہوں)سے در گزر کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٥؛حدیث نمبر ٣٨٨٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَىْءٌ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ وَكَانَ مُوسِرًا فَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3889

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا پس وہ اپنے سے کہتا جب تم کسی غریب آدمی کے پاس جاؤ تو اس سے در گزر کرنا شاید اللہ تعالیٰ ہم سے در گزر فرمائے پس اس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تو اس نے اس سےدر گزر کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٥؛حدیث نمبر ٣٨٩٠)

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِى مُزَاحِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ - قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا. فَلَقِىَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3890

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضور علیہ السلام سے سنا اس کے بعد حدیث نمبر ٣٨٩٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٦؛حدیث نمبر ٣٨٩١)

حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ. بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3891

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک قرض دار سے قرض کا مطالبہ کیا تو ان سے چھپ گیا پھر جب حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اس سے ملے تو وہ کہنے لگا میں غریب ہوں۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم!اس نے کہا(ہاں)اللہ کی قسم،آپ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دے تو وہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٦؛حدیث نمبر ٣٨٩٢)

حَدَّثَنَا أَبُو الْهَيْثَمِ خَالِدُ بْنُ خِدَاشِ بْنِ عَجْلاَنَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ فَتَوَارَى عَنْهُ ثُمَّ وَجَدَهُ فَقَالَ إِنِّى مُعْسِرٌ. فَقَالَ آللَّهِ قَالَ آللَّهِ. قَالَ فَإِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللَّهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3892

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٨٩٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ؛جلد٣ص١١٩٦؛حدیث نمبر ٣٨٩٣)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3893

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تمہارا قرض کسی مال دار کے حوالے کردیا جائے تو اسی سے مانگا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ مَطْلِ الْغَنِيِّ، وَصِحَّةِ الْحَوَالَةِ، وَاسْتِحْبَابِ قَبُولِهَا إِذَا أُحِيلَ عَلَى مَلِيٍّ؛ترجمہ؛قرض کی ادائیگی میں مالدار کا تاخیر کرنا حرام اور حوالہ جائز ہے؛جلد٣ص١١٩٧؛حدیث نمبر ٣٨٩٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ. أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَطْلُ الْغَنِىِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِىءٍ فَلْيَتْبَعْ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3894

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٨٩٤ کی مثل روایت کرتےہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ مَطْلِ الْغَنِيِّ، وَصِحَّةِ الْحَوَالَةِ، وَاسْتِحْبَابِ قَبُولِهَا إِذَا أُحِيلَ عَلَى مَلِيٍّ؛جلد٣ص١١٩٧؛حدیث نمبر ٣٨٩٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3895

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فالتو پانی بیچنے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلَأِ، وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ، وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ؛ترجمہ؛جنگلات کے فاضل پانی کو بیچنے،اس کے استعمال کو منع کرنے اور جفتی کرانے کی اجرت لینے کی ممانعت؛جلد٣ص١١٩٧؛حدیث نمبر ٣٨٩٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3896

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کی بیع،پانی کی بیع اور کاشت کے لئے زمین کی بیع سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلَأِ، وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ، وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ؛جلد٣ص١١٩٧؛حدیث نمبر ٣٨٩٧)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَالأَرْضِ لِتُحْرَثَ. فَعَنْ ذَلِكَ نَهَى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم-.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3897

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فالتو پانی نہ روکا جائے کہ اس کے واسطے سے گھاس کو روکا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلَأِ، وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ، وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ؛جلد٣ص١١٩٨؛حدیث نمبر ٣٨٩٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3898

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فالتو پانی کو نہ روکو کہ اس طرح تم گھاس کو روکو گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلَأِ، وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ، وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ؛جلد٣ص١١٩٨؛حدیث نمبر ٣٨٩٩)

وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعُوا بِهِ الْكَلأَ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3899

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زائد پانی نہ بیچا جائے کہ اس طرح گھاس کی بیع کی جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلَأِ، وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ، وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ؛جلد٣ص١١٩٨؛حدیث نمبر ٣٩٠٠)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُسَامَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يُبَاعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُبَاعَ بِهِ الْكَلأُ ».

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3900

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت،فاحشہ کی اجرت اور نجومی کی مٹھائی سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛ترجمہ؛کتوں کی قیمت،فاحشہ عورت اور نجومی کی اجرت اور بلی کی بیع کا حرام ہونا؛جلد٣ص١١٩٨؛حدیث نمبر ٣٩٠١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ .

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3901

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اور ابن ابی رافع کی حضرت ابن رمح سے روایت میں ہے کہ انہوں نے ابومسعود سے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٢)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3902

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا سب سے بری کمائی فاحشہ کی اجرت،کتے کی قیمت اور سینگی لگانے والے کی اجرت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٣)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " شَرُّ الْكَسْبِ مَهْرُ الْبَغِيِّ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3903

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتے کی قیمت خبیث ہے،فاحشہ کی کمائی خبیث ہے اور سینگی(پچھنے)لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ قَارِظٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3904

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٠٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3905

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب سابق روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٦)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3906

حضرت ابو زبیر کہتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کتے اور بلی کی قیمت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ؛جلد٣ص١١٩٩؛حدیث نمبر ٣٩٠٧)

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَالسِّنَّوْرِ، قَالَ : زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3907

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ترجمہ؛کتوں کے قتل کا حکم اور پھر منسوخ ہونے کا بیان نیز شکار یا کھیت اور جانوروں کی حفاظت کے لئے کتا پالنے کا جواز؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩٠٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3908

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اطراف مدینہ میں کتوں کو قتل کرنے کے لئے آدمی روانہ فرمائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩٠٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، فَأَرْسَلَ فِي أَقْطَارِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُقْتَلَ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3909

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے تھے پھر مدینہ طیبہ اور اس کے اطراف میں کتوں کا پیچھا کرنے کا حکم دیا گیا پس ہم نے کسی کتے کو قتل کئے بغیر نہ چھوڑا حتیٰ کہ ہم نے دیہاتیوں کی اونٹنی کے ساتھ رہنے والے کتے کو بھی قتل کیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھیت کے کتے کا بھی استثناء کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩١٠)

وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ : ابْنُ أُمَيَّةَ - عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ فَنَنْبَعِثُ فِي الْمَدِينَةِ، وَأَطْرَافِهَا فَلَا نَدَعُ كَلْبًا إِلَّا قَتَلْنَاهُ، حَتَّى إِنَّا لَنَقْتُلُ كَلْبَ الْمُرَيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَتْبَعُهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3910

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے اور بکریوں یا مویشیوں کی حفاظت کے کتے کے علاوہ(تمام)کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھیت کے کتے کا بھی استثناء کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا حضرت ابوہریرہ کے پاس کھیت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩١١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ كَلْبَ غَنَمٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنَّ لِأَبِي هُرَيْرَةَ زَرْعًا.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3911

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا حتیٰ کہ عورت دیہات سے اپنا کتا لے کر آئی تو ہم نے اس کتے کو بھی قتل کردیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا اس کالے سیاہ کتے کو قتل کرو جو دو نقطے والا ہو کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩١٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا، فَنَقْتُلُهُ، ثُمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا، وَقَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ ؛ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3912

حضرت ابن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا تمہیں کتوں سے کیا غرض اس کے بعد آپ نے شکاری کتے اور بکریوں(کی حفاظت)کے کتوں کی اجازت دے دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٠؛حدیث نمبر ٣٩١٣)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ . حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ. ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلَابِ ". ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ، وَكَلْبِ الْغَنَمِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3913

امام مسلم متعدد اسانید کے ساتھ حضرت ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے کتوں،شکار کے کتوں اور کھیت کے کتوں کی اجازت دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠١؛حدیث نمبر ٣٩١٤)

وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ يَحْيَى : وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الْغَنَمِ، وَالصَّيْدِ، وَالزَّرْعِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3914

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے شکاری کتے اور جانوروں کی حفاظت کے سوا کتا رکھا اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔(قیراط دینار کا بیسواں حصہ) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠١؛حدیث نمبر ٣٩١٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ ضَارِيًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3915

حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی حفاظت کے کتے کے علاوہ کتا رکھا تو ہر دن اس کے اجر سے دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠١؛حدیث نمبر ٣٩١٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3916

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی حفاظت کے علاوہ کوئی کتا رکھا تو اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کم ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠١؛حدیث نمبر ٣٩١٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ : ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ ضَارِيَةٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3917

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جانوروں کی حفاظت سے کتے یا شکاری کتے کے علاوہ کتا رکھا اس کے عمل سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھیتی کے کتے کا بھی ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٢؛حدیث نمبر ٣٩١٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ - وَهُوَ : ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ - عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3918

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا جانوروں کی حفاظت کے علاوہ کتا رکھا اس کے عمل سے روزانہ دو قیراط کم ہوں گے حضرت سالم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھیتی کے کتے کو بھی مستثنیٰ قرار دیا اور وہ کاشتکاری کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٢؛حدیث نمبر ٣٩١٩)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ ضَارٍ ، أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ". قَالَ سَالِمٌ : وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ : " أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ ". وَكَانَ صَاحِبَ حَرْثٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3919

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس گھر والوں نے جانور کی حفاظت یا شکار کے علاوہ کتا رکھا اس کے عمل(اجر)سے یومیہ دو قیراط کم ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٢؛حدیث نمبر ٣٩٢٠)

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا أَهْلِ دَارٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ كَلْبَ صَائِدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3920

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے کھیتی یا بکریوں(کی حفاظت)یا شکار کے علاوہ کتا رکھا اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٢؛حدیث نمبر ٣٩٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ زَرْعٍ أَوْ غَنَمٍ أَوْ صَيْدٍ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3921

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے ایسا کتا رکھا جو شکار یا جانوروں یا زمین کی حفاظت کے لیے نہیں تو اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کم ہوں گے ابو الطاہر کی حدیث میں زمین کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٢)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، وَلَا مَاشِيَةٍ، وَلَا أَرْضٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي الطَّاهِرِ " وَلَا أَرْضٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3922

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جانوروں کی حفاظت یا شکار یا کھیتی کے علاوہ کوئی کتا رکھا اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے وہ کھیت والے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ صَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ". قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَذُكِرَ لِابْنِ عُمَرَ قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا هُرَيْرَةَ ؛ كَانَ صَاحِبَ زَرْعٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3923

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کتا رکھا اس کے عمل(اجر)سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا البتہ کھیتی یا جانوروں(کی حفاظت)کے کتے کی اجازت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٤)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ، إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3924

ایک اور سند سے بواسطہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٣٩٢٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3925

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٢٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3926

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے شکاری کتے یا بکریوں( کی حفاظت) کے کتے کے علاوہ کتا رکھا اس کے عمل(اجر)سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا رہے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٣؛حدیث نمبر ٣٩٢٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَزِينٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، وَلَا غَنَمٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3927

حضرت سفیان بن ابی زہیر جو قبیلہ شنوہ سے تعلق رکھتے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں فرماتے ہیں جس نے کتا رکھا جو کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو اس کے عمل(اجر)سے روزانہ ایک قیراط کم ہوگا راوی کہتے ہیں میں نے حضرت سفیان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود یہ بات سنی ہے؟انہوں نے کہا ہاں اس مسجد کے رب کی قسم۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٤؛حدیث نمبر ٣٩٢٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ - وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ شَنُوءَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا، وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ". قَالَ : آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِي، وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3928

حضرت سفیان بن ابی زہیر الشنی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٣٩٢٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ، وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلَّا لِصَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٢٠٤؛حدیث نمبر ٣٩٢٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَئِيُّ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3929

حمید کہتے ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پچھنا لگانے والے کی اجرت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنہ لگوایا ابو طیبہ نے آپ کو پچھنا لگایا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دو صاع غلہ کا حکم دیا اور اس کے مالکوں سے سفارش کی کہ اس کے خراج سے کچھ کم کر دیں آپ نے فرمایا تمہاری دواؤں میں سے بہترین چیز پچھنا لگوانا ہے یا فرمایا یہ تمہاری بہترین دواؤں میں سے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ؛پچھنا لگانے کی اجرت کا حلال ہونا؛جلد٣ص١٢٠٤؛حدیث نمبر ٣٩٣٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ، وَكَلَّمَ أَهْلَهُ، فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ، وَقَالَ : " إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ ". أَوْ : " هُوَ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3930

حضرت حمید کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پچھنا لگانے والے کی اجرت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے حدیث نمبر ٣٩٣٠ کی مثل مروی ذکر کیا البتہ انہوں نے فرمایا کہ تمہاری دواؤں میں بہترین دواء پچھنا لگوانا اور اور عودھندی ہے پس اپنے بچوں کے گلے دباکر تکلیف نہ دو(گلے دباکر علاج کرنے کی بجائے عودھندی(کٹھ)استعمال کرو یہ حلق کے لئے مفید ہے)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ؛جلد٣ص١٢٠٤؛حدیث نمبر ٣٩٣١)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ، وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ، وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3931

حضرت حمید فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ایک غلام کو بلایا جو پچھنے لگاتا تھا اس نے آپ کو پچھنا لگایا تو آپ نے اس کے لئے ایک صاع یا ایک مد یا دو مد(غلے)کا حکم دیا اور اس کے خراج میں کمی کی سفارش کی تو اس کے خراج میں کمی کردی گئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ؛جلد٣ص١٢٠٥؛حدیث نمبر ٣٩٣٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَنَا حَجَّامًا، فَحَجَمَهُ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ، أَوْ مُدٍّ ، أَوْ مُدَّيْنِ، وَكَلَّمَ فِيهِ، فَخُفِّفَ عَنْ ضَرِيبَتِهِ .

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3932

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فصد لگوائی اور فصد لگانے والے کو اس کی اجرت دی اور ناک میں دوا ڈالی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ؛جلد٣ص١٢٠٥؛حدیث نمبر ٣٩٣٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، كِلَاهُمَا عَنْ وُهَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3933

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو بیاضہ کے ایک غلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فصد لگائی تو آپ نے اس کو اجرت دی اور اس کے مالک سے سفارش کی کہ اس کے خراج میں کچھ کمی کردے اور اگر(فصد کی کمائی)حرام ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اجرت عطاء نہ کرتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ حِلِّ أُجْرَةِ الْحِجَامَةِ؛جلد٣ص١٢٠٥؛حدیث نمبر ٣٩٣٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَهُ، وَكَلَّمَ سَيِّدَهُ فَخَفَّفَ عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ ، وَلَوْ كَانَ سُحْتًا لَمْ يُعْطِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3934

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے مدینہ طیبہ میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت کا اشارہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ عنقریب اس کے بارے میں حکم نازل فرمائے گا پس جس شخص کے پاس اس(شراب)سے کوئی چیز ہو وہ اسے بیچ کر اس کی(قیمت)سے نفع اٹھائے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چند دن ہی گزرے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا پس جس شخص کو حرمت شراب کی آیت معلوم ہو اور اس کے پاس اس سے کچھ ہو تو وہ نہ پئے اور نہ بیچے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر جن لوگوں کے پاس شراب تھی انہوں نے لاکر اسے مدینہ طیبہ کے راستوں میں بہا دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ؛ترجمہ؛شراب کی خرید و فروخت حرام ہے؛جلد٣ص١٢٠٥؛حدیث نمبر ٣٩٣٥)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُعَرِّضُ بِالْخَمْرِ، وَلَعَلَّ اللَّهَ سَيُنْزِلُ فِيهَا أَمْرًا، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلْيَبِعْهُ، وَلْيَنْتَفِعْ بِهِ ". قَالَ : فَمَا لَبِثْنَا إِلَّا يَسِيرًا، حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَرَّمَ الْخَمْرَ، فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الْآيَةُ وَعِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلَا يَشْرَبْ، وَلَا يَبِعْ ". قَالَ : فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ بِمَا كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَسَفَكُوهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3935

حضرت عبد الرحمن بن وعلہ سبائی مصری حضرت ابن عباس کے پاس آئے اور ان سے انگور کے شیرے کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کی ایک مشک بطور ہدیہ پیش کی تو آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے؟اس نے کہا نہیں۔پھر اس نے کسی دوسرے شخص سے سر گوشی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس سے سرگوشی کیوں کی ہے؟اس نے کہا میں نے اسے شراب بیچنے کا کہا ہے آپ نے فرمایا جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے اسی نے اس کو فروخت کرنا بھی حرام قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٢٠٦؛حدیث نمبر ٣٩٣٦)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ - أَنَّهُ جَاءَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ السَّبَئِيِّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنَ الْعِنَبِ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ رَجُلًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا ؟ ". قَالَ : لَا. فَسَارَّ إِنْسَانًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِمَ سَارَرْتَهُ ؟ ". فَقَالَ : أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا. فَقَالَ : " إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا ". قَالَ : فَفَتَحَ الْمَزَادَةَ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3936

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٣٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٢٠٦؛حدیث نمبر ٣٩٣٧)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3937

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صحابہ کرام کے سامنے یہ آیات پڑھیں پھر شراب کی تجارت سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٢٠٦؛حدیث نمبر ٣٩٣٨)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْتَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ نَهَى عَنِ التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3938

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں جب سود کے بارے میں سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے اور شراب کی تجارت کو حرام قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ؛جلد٣ص١٢٠٦؛حدیث نمبر ٣٩٣٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا، قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3939

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فتح کے موقع پر مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بےشک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب،مردار،خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ!مردار کی چربی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کیونکہ اس کو کشتیوں پر ملا جاتا ہے،کھالوں پر لگایا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ روشن کرتے ہیں آپ نے فرمایا نہیں،یہ بھی حرام ہے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر اس(مردار)کی چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچ دیا اور اس کی قیمت کھائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛ترجمہ؛شراب،مردار،خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت کا حرام ہونا؛جلد٣ص١٢٠٧؛حدیث نمبر ٣٩٤٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ ". فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ. فَقَالَ : " لَا، هُوَ حَرَامٌ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ؛ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ ، ثُمَّ بَاعُوهُ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3940

متعدد اسانید سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےحدیث نمبر ٣٩٤٠ کی مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛جلد٣ص١٢٠٧؛حدیث نمبر ٣٩٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3941

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت سمرہ کو ہلاک کرے کیا انہیں معلوم نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت بھیجے ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اس کو پگھلا کر بیچ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛جلد٣ص١٢٠٧؛حدیث نمبر ٣٩٤٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ – قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَلَغَ عُمَرَ ، أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا، فَقَالَ : قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ؛ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا ، فَبَاعُوهَا " ؟

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3942

حضرت عمرو بن دینار سے بھی یہ روایت حدیث نمبر ٣٩٤٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛جلد٣ص١٢٠٧؛حدیث نمبر ٣٩٤٣)

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ - يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3943

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی حرام کی تھی تو انہوں نے اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھالی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛جلد٣ص١٢٠٨؛حدیث نمبر ٣٩٤٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ؛ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا "

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3944

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے ان پر چربی حرام کی گئی تھی تو انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھالی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ؛جلد٣ص١٢٠٨؛حدیث نمبر ٣٩٤٥)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ؛ حُرِّمَ عَلَيْهِمُ الشَّحْمُ فَبَاعُوهُ، وَأَكَلُوا ثَمَنَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3945

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے صرف برابر برابر فروخت کرو اور بعض سونے کے عوض کم سونا فروخت نہ کرو اور چاندی کو بھی چاندی کے بدلے صرف برابر برابر ہی فروخت کرو اور بعض چاندی کو کم چاندی کے عوض فروخت نہ کرو اور ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار فروخت نہ کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرِّبَا؛ترجمہ؛سود کا بیان؛جلد٣ص١٢٠٨؛حدیث نمبر ٣٩٤٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3946

حضرت نافع فرماتے ہیں بنو لیث کے ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کرتےہیں قتیبہ کی روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ اور حضرت نافع اس شخص کے پاس گئے اور ابن رمح کی حدیث میں ہے حضرت نافع نے کہا کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے اور میں بھی آپ کے ہمراہ تھا حتیٰ کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمایا کہ یہ(حضرت نافع)مجھے بتاتے ہیں کہ آپ خبر دیتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کو چاندی کے بدلے برابر برابر کے علاوہ فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے بیچو مگر یہ کہ برابر برابر ہوں اور بعض کے بدلے بعض کو کم کرکے نہ دو اور نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو بلکہ نقد سودا کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرِّبَا؛ترجمہ؛سود کا بیان؛جلد٣ص١٢٠٨؛حدیث نمبر ٣٩٤٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ : إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَأْثُرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ : فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ، وَنَافِعٌ مَعَهُ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ : قَالَ نَافِعٌ : فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ، وَأَنَا مَعَهُ، وَاللَّيْثِيُّ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَقَالَ : إِنَّ هَذَا أَخْبَرَنِي أَنَّكَ تُخْبِرُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَعَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ. فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى عَيْنَيْهِ، وَأُذُنَيْهِ، فَقَالَ : أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهُ بِنَاجِزٍ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3947

امام مسلم نے یہ حدیث دو سندوں کے ساتھ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرِّبَا؛جلد٣ص١٢٠٩؛حدیث نمبر ٣٩٤٨)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ . بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3948

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے نہ بیچو مگر یہ کہ ناپ اور تول میں برابر برابر ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرِّبَا؛جلد٣ص١٢٠٩؛حدیث نمبر ٣٩٤٩)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3949

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دینار کو دو دیناروں کے بدلے اور ایک درہم کو دو درہموں کے بدلے فروخت نہ کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرِّبَا؛جلد٣ص١٢٠٩؛حدیث نمبر ٣٩٥٠)

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَبِي عَامِرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3950

حضرت مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں میں یہ بات کہتا ہوا آیا کہ دراہم کون فروخت کرتا ہے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے فرمانے لگے اپنا سونا دکھاؤ اور پھر ہمارے پاس آنا جب ہمارا خادم آے گا تو ہم تمہیں تمہاری چاندی دیں گے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر گز نہیں تم اس کو چاندی ابھی دو ورنہ اس کا سونا واپس کردو کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کے بدلے چاندی سود ہے مگر جو نقد ونقد ہو گندم کے بدلے گندم سود ہے مگر یہ کہ نقد ہو جو کے بدلے جو سود ہے مگر یہ کہ نقد ہو اور کھجور کے بدلے کھجور سود ہے مگر یہ کہ نقد بہ نقد ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢٠٩؛حدیث نمبر ٣٩٥١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ قَالَ : أَقْبَلْتُ أَقُولُ : مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَرِنَا ذَهَبَكَ، ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَادِمُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : كَلَّا، وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ، أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3951

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٥١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٠؛حدیث نمبر ٣٩٥٢)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3952

حضرت ابوقلابہ فرماتے ہیں،میں شام میں لوگوں کے ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا جس میں حضرت مسلم بن یسار رضی اللہ عنہ بھی تھے پس حضرت ابوالاشعث تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں لوگوں نے کہا حضرت ابو الاشعث آگئے پس وہ بیٹھ گئے تو میں نے کہا ہمارے ان بھائیوں کو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث سناؤ۔ انہوں نے فرمایا ہم نے ایک جہاد کیا اور ہم نے بہت سی غنیمت حاصل کی تو ہم نے جب مال غنیمت حاصل کیا تو اس میں چاندی کا برتن تھا بس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اسے لوگوں کی تنخواہوں میں فروخت کردیں تو لوگوں نے اس کو لینے میں جلدی کی۔حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو وہ کھڑے ہوئے اور فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے سونے کے بدلے سونے،چاندی کے بدلے چاندی، گندم کے بدلے گندم،جو کے بدلے جو،کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک فروخت کرنے سے منع فرمایا البتہ یہ کہ برابر برابر ہوں اور نقد بہ نقد ہوں۔ پس جو شخص زیادہ دے یا زیادہ لے تو یہ سود ہے چنانچہ لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس کردیا یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوے اور فرمایا سنو!ان لوگوں کا کیا حال ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث نقل کرتے ہیں حالانکہ ہم آپ کے پاس حاضر اور ہم مجلس رہے لیکن ہم نے آپ سے ایسی احادیث نہیں سنیں۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر واقعہ دوبارہ بیان کیا اور فرمایا ہم وہ حدیث بیان کریں گے جو ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اگرچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ناپسند کریں یا فرمایا اگرچہ ان کی ناک خاک آلود ہو مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ میں تاریک رات میں ان کے لشکر کے ساتھ نہ رہوں۔ حضرت حماد نے بھی یہی یا اس کی مثل کہا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٠؛حدیث نمبر ٣٩٥٣)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ : كُنْتُ بِالشَّامِ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، فَجَاءَ أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ : قَالُوا : أَبُو الْأَشْعَثِ، أَبُو الْأَشْعَثِ . فَجَلَسَ، فَقُلْتُ لَهُ : حَدِّثْ أَخَانَا حَدِيثَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ. قَالَ : نَعَمْ، غَزَوْنَا غَزَاةً وَعَلَى النَّاسِ مُعَاوِيَةُ، فَغَنِمْنَا غَنَائِمَ كَثِيرَةً، فَكَانَ فِيمَا غَنِمْنَا آنِيَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا أَنْ يَبِيعَهَا فِي أَعْطِيَاتِ النَّاسِ، فَتَسَارَعَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ، فَبَلَغَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، فَقَامَ فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ. فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى . فَرَدَّ النَّاسُ مَا أَخَذُوا. فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ : أَلَا مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ ؟ قَدْ كُنَّا نَشْهَدُهُ وَنَصْحَبُهُ فَلَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُ. فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَأَعَادَ الْقِصَّةَ ثُمَّ قَالَ : لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ - أَوْ قَالَ : وَإِنْ رَغِمَ - مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَصْحَبَهُ فِي جُنْدِهِ لَيْلَةً سَوْدَاءَ. قَالَ حَمَّادٌ : هَذَا أَوْ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3953

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٥٣ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١١؛حدیث نمبر ٣٩٥٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3954

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،سونے کی بیع سونے کے بدلے میں چاندی کی بیع چاندی کے عوض،گندم کی بیع گندم کے عوض،جو کی بیع جو کے بدلے میں،کھجور کی بیع کھجور کے عوض اور نمک کی بیع نمک کے بدلے میں برابر برابر اور نقد بہ نقد ہو۔اور جب یہ اقسام مختلف ہو جائیں تو جس طرح چاہو بیچو جب کہ نقد سودا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١١؛حدیث نمبر ٣٩٥٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3955

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کے بدلے سونا،چاندی کے بدلے چاندی،گندم کے بدلے گندم،جو کے بدلے جو،کھجور کے بدلے کھجور اور نمک کے بدلے نمک برابر برابر اور نقد بہ نقد فروخت کرو پس جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا کاروبار کیا اس میں دینے والا اور لینے والا(دونوں)برابر ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١١؛حدیث نمبر ٣٩٥٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ - أَوِ اسْتَزَادَ - فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3956

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا،سونے کے بدلے برابر ہو،آگے مکمل حدیث ذکر کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١١؛حدیث نمبر ٣٩٥٧)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ الرَّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ". فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3957

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور،کھجور کے بدلے،گندم،گندم کے بدلے،جو،جو کے بدلے اور نمک،نمک کے بدلے برابر برابر اور نقد و نقد ہو پس جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سودی کاروبار کیا مگر یہ کہ ان کی اقسام مختلف ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١١؛حدیث نمبر ٣٩٥٨)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، يَدًا بِيَدٍ. فَمَنْ زَادَ - أَوِ اسْتَزَادَ - فَقَدْ أَرْبَى ، إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3958

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں نقد بہ نقد کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٥٩)

حَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ. وَلَمْ يَذْكُرْ " يَدًا بِيَدٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3959

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا،سونے کے بدلے تول کر برابر برابر،چاندی،چاندی کے بدلے تول کر برابر برابر فروخت کرو پس جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو یہ سود ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٦٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ - أَوِ اسْتَزَادَ - فَهُوَ رِبًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3960

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،دینار کے بدلے دینار فروخت کرو اور دونوں کے درمیان کمی زیادتی نہ ہو اور درہم کے بدلے درہم(یوں فروخت کرو)کہ کسی کو زیادہ نہ دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٦١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ - عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا. وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3961

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٦١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٦٢)

حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي تَمِيمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3962

حضرت ابو المنہال کہتے ہیں میرے ایک شریک نے(حج کے)موسم یا حج تک چاندی ادھار بیچی پھر اس نے آکر مجھے خبر دی میں نے کہا یہ معاملہ ٹھیک نہیں اس نے کہا میں نے بازار میں اس کا سودا کیا لیکن مجھ پر کسی نے اعتراض نہ کیا۔ پس میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے اور ہم یہ کاروبار کرتے تھے آپ نے فرمایا جو نقد بہ نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو وہ سود ہے اور تم حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ مجھ سے زیادہ تجارت کرتے ہیں میں ان کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے ایسا ہی فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٦٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : بَاعَ شَرِيكٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ إِلَى الْمَوْسِمِ، أَوْ إِلَى الْحَجِّ، فَجَاءَ إِلَيَّ، فَأَخْبَرَنِي، فَقُلْتُ : هَذَا أَمْرٌ لَا يَصْلُحُ. قَالَ : قَدْ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ. فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ : " مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا " وَائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ تِجَارَةً مِنِّي. فَأَتَيْتُهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3963

حضرت ابو المنہال کہتے ہیں میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بیع صرف(سونے چاندی کی بیع)کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھو وہ زیادہ علم والے ہیں پس میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا حضرت براء رضی اللہ عنہ سے پوچھو وہ زیادہ علم والے ہیں پھر ان دونوں نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی سونے کے بدلے میں ادھار بیع سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٢؛حدیث نمبر ٣٩٦٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ يَقُولُ : سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ : سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَهُوَ أَعْلَمُ. فَسَأَلْتُ زَيْدًا فَقَالَ : سَلِ الْبَرَاءَ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ. ثُمَّ قَالَا : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3964

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے(فرماتے ہیں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونا بیچنے سے منع فرمایا مگر یہ کہ برابر برابر ہو اور ہمیں حکم دیا کہ ہم سونے کے بدلے چاندی جیسے چاہیں خریدیں اور چاندی کے بدلے سونا جیسے چاہیں خریدیں۔ فرماتے ہیں ایک شخص نے سوال کیا تو کہا نقد بہ نقد ہو اور کہا کہ میں نے اسی طرح سنا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٣؛حدیث نمبر ٣٩٦٥)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِيَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا، وَنَشْتَرِيَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا، قَالَ : فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَدًا بِيَدٍ ؟ فَقَالَ : هَكَذَا سَمِعْتُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3965

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ اس کے بعد حدیث نمبر ٣٩٦٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الصَّرْفِ وَبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ نَقْدًا؛جلد٣ص١٢١٣؛حدیث نمبر ٣٩٦٦)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3966

حضرت فضالہ بن عبید اللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت کا ایک ہار لایا گیا جس میں پتھر کے نگینے اور سونا تھا اور یہ بیچا جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار سے سونا نکالنے کا حکم دیا تو صرف سونا نکالا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کے بدلے میں سونا برابر برابر تول کر فروخت کریں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْقِلَادَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ؛جلد٣ص١٢١٣؛حدیث نمبر ٣٩٦٧)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُلَيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِيَ مِنَ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ. فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3967

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے غزہ خیبر کے دن ایک ہار بارہ دینار کے بدلے خریدا جس میں سونا اور پتھر کے نگینے تھے جب میں نے ہار سے سونا الگ کیا تو سونا بارہ دینار سے زیادہ تھا میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے فرمایا سونے کو جدا کئے بغیر نہ بیچا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْقِلَادَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ؛جلد٣ص١٢١٣؛حدیث نمبر ٣٩٦٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ. فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنِ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3968

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٦٨ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْقِلَادَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ؛جلد٣ص١٢١٤؛حدیث نمبر ٣٩٦٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3969

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیبر کے دن ہم،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور ہم ایک اوقیہ سونے کی یہودیوں سے دو اور تین دینار سونے کے بدلے بیع کر رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے برابر برابر وزن کے بغیر نہ بیچو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْقِلَادَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ؛جلد٣ص١٢١٤؛حدیث نمبر ٣٩٧٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنِ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْوُقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3970

حضرت حنش فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو میرے اور میرے ساتھیوں کے حصے میں ایک ہار آیا جس میں سونا،چاندی اور جواہر تھے میں نے اسے خریدنا چاہا تو حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا انہوں نے فرمایا اس کا سونا اتار کر ایک پلڑے میں رکھو اور اپنا سونا ایک پلڑے میں رکھو پھر برابر برابر کے سوا مت لو کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ برابر برابر کے سوا نہ لے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْقِلَادَةِ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ؛جلد٣ص١٢١٤؛حدیث نمبر ٣٩٧١)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَغَيْرِهِمَا أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَى الْمَعَافِرِيَّ أَخْبَرَهُمْ عَنْ حَنَشٍ أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزْوَةٍ فَطَارَتْ لِي وَلِأَصْحَابِي قِلَادَةٌ فِيهَا ذَهَبٌ وَوَرِقٌ وَجَوْهَرٌ. فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا فَسَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ فَقَالَ : انْزِعْ ذَهَبَهَا فَاجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ ذَهَبَكَ فِي كِفَّةٍ ثُمَّ لَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3971

حضرت معمر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلام کو ایک صاع گندم دے کر بھیجا اور کہا کہ اس کو بیچ کر اس کے بدلے میں جو خرید لینا،غلام گیا اور اس نے ایک صاع سے زیادہ جو خریدے جب اس نے حضرت معمر کے پاس حاضر ہوکر خبر دی تو حضرت معمر نے اس سے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا جاؤ اور واپس کرو اور برابر برابر ہی لو میں خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا آپ فرماتے تھے غلے کے بدلے غلہ صرف برابر برابر لو اور ان دنوں ہمارا غلہ جو تھا ان سے کہا گیا کہ(جو اور گندم)مثل تو نہیں انہوں نے فرمایا مجھے اس کے مشابہ ہونے کا خوف ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٤؛حدیث نمبر ٣٩٧٢)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ فَقَالَ : بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا. فَذَهَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ. فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ : لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ، وَلَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ؛ فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ". قَالَ : وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ. قِيلَ لَهُ : فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمِثْلِهِ. قَالَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3972

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عدی انصاری کے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا تو وہ عمدہ کھجوریں لے کر آئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟انہوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ!اللہ کی قسم!ہم دو صاع(ردی)کھجوریں دے کر ایک صاع(عمدہ کھجوریں)خریدتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو بلکہ برابر برابر بیچو،یا اس کو بیچ کر اس کی قیمت کے بدلے دوسری کھجوریں خرید لو اسی طرح تول میں بھی برابری رکھو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٥؛حدیث نمبر ٣٩٧٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ - عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ " قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْعَلُوا، وَلَكِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ ". أَوْ : " بِيعُوا هَذَا، وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا، وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3973

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر پر عامل بنایا تو وہ عمدہ کھجوریں لے کر آیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں انہوں نے عرض کیا نہیں اور یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اللہ کی قسم!ہم دو صاع(ردی)کھجوروں کے بدلے یہ کھجوریں ایک صاع اور تین کے بدلے دو صاع کھجوریں لیتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو ردی کھجوروں کو درہموں کے بدلے بیچو پھر درہموں کے بدلے عمدہ کھجوریں خریدو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٥؛حدیث نمبر ٣٩٧٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ؟ " فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَا تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3974

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ برنی کھجوریں لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا یہ کھجوریں کہاں سے لائے ہو تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا میرے پاس ردی کھجوریں تھیں تو میں نے ان میں دو صاع کھجوریں بیچ کر ایک صاع(عمدہ)کھجوریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے لئے لی ہیں اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو عین سود ہے ایسا مت کرو بلکہ جب کھجوریں خریدنا چاہو تو ان کو بیچ کر دوسری کھجوریں خریدو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٥؛حدیث نمبر ٣٩٧٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا جَمِيعًا - عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - وَهُوَ : ابْنُ سَلَّامٍ - أَخْبَرَنِي يَحْيَى - وَهُوَ : ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ : جَاءَ بِلَالٌ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَيْنَ هَذَا ؟ " فَقَالَ بِلَالٌ : تَمْرٌ كَانَ عِنْدَنَا رَدِيءٌ، فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ : " أَوَّهْ، عَيْنُ الرِّبَا، لَا تَفْعَلْ، وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ التَّمْرَ فَبِعْهُ بِبَيْعٍ آخَرَ، ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ ". لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ سَهْلٍ فِي حَدِيثِهِ : " عِنْدَ ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3975

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو آپ نے فرمایا ہماری کھجوروں کے مقابلے میں یہ کتنی اچھی کھجوریں ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر یہ کھجوریں ایک صاع لی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سود ہے لہٰذا یہ واپس کردو پھر اپنی کھجوریں بیچ کر ہمارے لئے یہ کھجوریں خریدو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٦؛حدیث نمبر ٣٩٧٦)

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَقَالَ : " مَا هَذَا التَّمْرُ مِنْ تَمْرِنَا " فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِعْنَا تَمْرَنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " هَذَا الرِّبَا. فَرُدُّوهُ، ثُمَّ بِيعُوا تَمْرَنَا، وَاشْتَرُوا لَنَا مِنْ هَذَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3976

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں"تمر الجمع"(کھجوریں)دی جاتی تھیں اور یہ ملی جلی(ردی)کے عوض ایک صاع(عمدہ)کھجوریں لیتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا دو صاع کھجوریں ایک صاع کھجوروں کے بدلے دو صاع گندم ایک صاع کے بدلے اور ایک درہم دو درہم کے بدلے فروخت کرنے کی اجازت نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٦؛حدیث نمبر ٣٩٧٧)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ، فَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ، وَلَا دِرْهَمَ بِدِرْهَمَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3977

حضرت ابونضرہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیع صرف(سونے چاندی کی باہم فروخت)کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا نقد ونقد ہے،میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی اور کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا نقد ونقد ہے میں نے عرض کیا جی ہاں تو انہوں نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا واقعی انہوں نے یہ بات فرمائی ہے ہم ان کی طرف لکھتے ہیں وہ تمہیں یہ فتویٰ دیں گے۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم!کچھ نوجوان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں لے کر حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کھجوریں دیکھ کر تعجب ہوا اور آپ نے فرمایا یہ کھجوریں ہماری زمین کی نہیں ہیں تو انہوں نے یہ کھجوریں لیں اور کچھ زیادہ کھجوریں دیں آپ نے فرمایا تم نے زیادہ کھجوریں دیں تم نے سودی کاروبار کیا اس کے قریب نہ جانا جب تمہیں اپنی کھجوروں میں کوئی کمی محسوس ہو تو ان کو بیع کردہ کھجوریں خریدو جو تم چاہتے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٦؛حدیث نمبر ٣٩٧٨)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ : أَيَدًا بِيَدٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : فَلَا بَأْسَ بِهِ. فَأَخْبَرْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَقُلْتُ : إِنِّي سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ : أَيَدًا بِيَدٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : فَلَا بَأْسَ بِهِ. قَالَ : أَوَقَالَ ذَلِكَ ؟ إِنَّا سَنَكْتُبُ إِلَيْهِ فَلَا يُفْتِيكُمُوهُ. قَالَ : فَوَاللَّهِ، لَقَدْ جَاءَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَأَنْكَرَهُ، فَقَالَ : " كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا " قَالَ : كَانَ فِي تَمْرِ أَرْضِنَا، أَوْ فِي تَمْرِنَا الْعَامَ بَعْضُ الشَّيْءِ، فَأَخَذْتُ هَذَا، وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ، فَقَالَ : " أَضْعَفْتَ، أَرْبَيْتَ، لَا تَقْرَبَنَّ هَذَا، إِذَا رَابَكَ مِنْ تَمْرِكَ شَيْءٌ فَبِعْهُ، ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِي تُرِيدُ مِنَ التَّمْرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3978

حضرت ابو نضرہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو میں نے ان سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا جو زائد ہو وہ سود ہے میں نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے جو کچھ سنا تھا اس کی بنیاد پر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے قول کا انکار کیا حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے تمہیں وہی بات بتائی ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کھجور والا ایک صاع اچھی کھجوریں لے کر آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوریں بھی اسی رنگ کی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تمہیں یہ کھجوریں کہاں سے حاصل ہوئیں اس نے کہا تین دو صاع کھجوریں لے کر گیا اور ان کے بدلے یہ ایک صاع کھجوریں خریدیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر افسوس تم نے سودی کاروبار کیا جب تم اس طرح کرنا چاہو تو اپنی کھجوریں سامان کے بدلے فروخت کرو اور پھر اس سامان کے بدلے جو کھجوریں چاہو خریدو۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا بتاؤ کیا کھجوروں کے بدلے میں کھجور سود ہونے کی زیادہ حقدار ہے یا چاندی کے بدلے چاندی؟ ابونضرہ کہتے ہیں پھر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے بھی اس(سودے)سے منع کیا اور میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس نہ گیا۔راوی کہتے ہیں مجھ سے ابو الصہباء نے بیان کیا کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے اسے ناپسند کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٧؛حدیث نمبر ٣٩٧٩)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ ، فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا. فَإِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ : مَا زَادَ فَهُوَ رِبًا. فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ لِقَوْلِهِمَا. فَقَالَ : لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ جَاءَهُ صَاحِبُ نَخْلِهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَيِّبٍ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا اللَّوْنَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّى لَكَ هَذَا ؟ " قَالَ : انْطَلَقْتُ بِصَاعَيْنِ، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ هَذَا الصَّاعَ، فَإِنَّ سِعْرَ هَذَا فِي السُّوقِ كَذَا، وَسِعْرَ هَذَا كَذَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلَكَ، أَرْبَيْتَ، إِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَبِعْ تَمْرَكَ بِسِلْعَةٍ، ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أَيَّ تَمْرٍ شِئْتَ ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ رِبًا، أَمِ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ؟ قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ، فَنَهَانِي، وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ. قَالَ : فَحَدَّثَنِي أَبُو الصَّهْبَاءِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهُ بِمَكَّةَ، فَكَرِهَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3979

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دینار،دینار کے بدلے اور درہم،درہم کے بدلے برابر برابر ہوں پس جو زیادہ دے اور زیادہ لے اس نے سودی کاروبار کیا ابو صالح راوی کہتے ہیں میں نے ان سے عرض کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کے علاوہ بات کرتے ہیں انہوں نے فرمایا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور پوچھا کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں کیا یہ بات آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں پائی ہے۔انہوں نے فرمایا میں نے اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا اور نہ ہی اللہ کی کتاب میں پایا بلکہ مجھ سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٧؛حدیث نمبر ٣٩٨٠)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ – قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، مَنْ زَادَ، أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى . فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ هَذَا. فَقَالَ : لَقَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ فَقَالَ : لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَجِدْهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3980

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٨؛حدیث نمبر ٣٩٨١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3981

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نقد بہ نقد ہو تو سود نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٨؛حدیث نمبر ٣٩٨٢)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3982

حضرت عطاء بن ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو ان سے پوچھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیع صرف کے بارے میں کچھ سنا ہے یا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کچھ پایا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر گز نہیں میں ان میں سے کوئی بات نقل نہیں کرتا۔ جہاں تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے تو تم لوگ مجھ سے زیادہ جانتے ہو اور کتاب اللہ میں مجھے اس کا علم نہیں مجھ سے تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ؛جلد٣ص١٢١٨؛حدیث نمبر ٣٩٨٣)

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ : أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ فِي الصَّرْفِ ، أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ أَمْ شَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَلَّا، لَا أَقُولُ أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ، وَأَمَّا كِتَابُ اللَّهِ فَلَا أَعْلَمُهُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3983

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور سود کھلانے والے(دونوں)پر لعنت فرمائی (راوی)فرماتے ہیں میں نے پوچھا اور اس کے لکھنے والے اور گواہوں پر بھی(لعنت فرمائی)؟انہوں نے فرمایا ہم اتنی ہی بات بیان کرتے ہیں جتنی ہم نے سنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ لَعْنِ آكِلِ الرِّبَا وَمُؤْكِلِهِ؛جلد٣ص١٢١٨؛حدیث نمبر ٣٩٨٤)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ شِبَاكٌ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنَا، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ. قَالَ : قُلْتُ : وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ ؟ قَالَ : إِنَّمَا نُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْنَا.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3984

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے(فرماتے ہیں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے،کھلانے والے اسے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا یہ سب(گناہ میں)برابر ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ لَعْنِ آكِلِ الرِّبَا وَمُؤْكِلِهِ؛جلد٣ص١٢١٩؛حدیث نمبر ٣٩٨٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ. وَقَالَ : " هُمْ سَوَاءٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3985

حضرت شعبی حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں انہوں نے اپنی دو انگلیوں سے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں بےشمار لوگ اس کا علم نہیں رکھتے پس جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنےدین اور عزت کو بچا لیا اور جو مشتبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا یہ اس چرواہے کی طرح ہے جو سرکاری چراگاہ کے قریب چراتا ہے قریب ہے وہ جانور اس(ممنوعہ سرکاری) چراگاہ میں چرے سنو!ہر بادشاہ کی ایک(ممنوع)چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی (ممنوعہ)چراگاہ اس کے حرام کردہ چیزیں ہیں۔ اور سنو!جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ ٹھیک ہوتا ہے تو تمام جسم ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوجاتا ہے تو تمام جسم خراب ہوجاتا ہےسنو!وہ دل ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ أَخْذِ الْحَلَالِ وَتَرْكِ الشُّبُهَاتِ؛ترجمہ؛حلال لینا اور مشتبہ چیزوں کو ترک کر دینا؛جلد٣ص١٢١٩؛حدیث نمبر ٣٩٨٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ - وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ - : " إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3986

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٣٩٨٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ أَخْذِ الْحَلَالِ وَتَرْكِ الشُّبُهَاتِ؛جلد٣ص١٢٢٠؛حدیث نمبر ٣٩٨٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3987

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں البتہ زکریا راوی کی حدیث دیگر راویوں کی حدیثوں سے زیادہ مکمل اور پوری ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ أَخْذِ الْحَلَالِ وَتَرْكِ الشُّبُهَاتِ؛جلد٣ص١٢٢٠؛حدیث نمبر ٣٩٨٨)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، وَأَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ زَكَرِيَّاءَ أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَأَكْثَرُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3988

حضرت عامر شعبی فرماتے ہیں انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حمص میں خطبہ دیتے ہوئے فرماتے تھے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے پھر انہوں نے زکریا کی روایت(٣٩٨٦)کی طرح "قریب ہے کہ اس چراگاہ میں پڑ جائے"تک روایت کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ أَخْذِ الْحَلَالِ وَتَرْكِ الشُّبُهَاتِ؛جلد٣ص١٢٢١؛حدیث نمبر ٣٩٨٩)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ نُعْمَانَ بْنَ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِحِمْصَ وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْحَلَالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ " فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ زَكَرِيَّاءَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ إِلَى قَوْلِهِ : " يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3989

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں وہ اپنے اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک گیا تھا انہوں نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آملے اور آپ نے میرے لئے دعا فرمائی نیز اونٹ کو ایک ضرب لگائی اس کے بعد وہ اس قدر تیز چلا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا تیز نہیں چلا تھا آپ نے فرمایا اسے مجھ پر ایک اوقیہ(چالیس درہم)کے بدلے بیچو میں نے عرض کیا نہیں(بلکہ آپ کی خدمت میں ہدیہ ہے)پھر فرمایا اسے مجھ پر بیچو(فرماتے ہیں)میں نے آپ پر ایک اوقیہ(چاندی)کے بدلے میں بیچ دیا اور گھر تک اس پر سواری کا استثناء کیا جب میں(گھر میں)پہنچا تو اونٹ لے کر حاضر خدمت ہوا آپ نے مجھے اس کی قیمت ادا فرمائی اور واپس لوٹ آیا تو آپ نے میرے پیچھے ایک آدمی بھیجا اور فرمایا کیا تم نے خیال کیا کہ میں نے تم سے کم قیمت لگائی ہے اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور یہ دراہم بھی تمہارے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛ترجمہ؛اونٹ کی خریداری اور سواری کا استثناء کرنا؛جلد٣ص١٢٢١؛حدیث نمبر ٣٩٩٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ، قَالَ : فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ. قَالَ : " بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ ". قُلْتُ : لَا، ثُمَّ قَالَ : " بِعْنِيهِ ". فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ، وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي، فَقَالَ : " أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لِآخُذَ جَمَلَكَ ؟ خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ ؛ فَهُوَ لَكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3990

ایک اور سند سے بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٣٩٩٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢١؛حدیث نمبر ٣٩٩١)

وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3991

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں ایک غزوہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا آپ مجھے آملے اور میں اپنے سواری والے اونٹ پر سوار تھا جو تھک چکا تھا اور چلنے کے قریب نہ تھا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارے اونٹ کا کیا ہوا فرماتے ہیں میں نے عرض کیا بیمار ہے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہوگئے اونٹ کو ڈانٹا اور اس کے لئے دعا کی تو وہ اونٹ چلنے لگا اور تمام اونٹ سے آگے نکل گیا۔ فرماتے ہیں آپ نے مجھ سے پوچھا اپنے اونٹ کو کیسا پاتے ہو؟میں نے عرض کیا بہتر پاتا ہوں اسے آپ کی برکت سے فائدہ ہوا ہے آپ نے فرمایا اسے مجھ پر فروخت کرو گے پس مجھے حیا آئی اور میرے پاس پانی لانے کے لئے دوسرا اونٹ نہیں تھا میں نے عرض کیا جی ہاں پس میں نے آپ پر یہ اونٹ بیچ دیا اور یہ شرط رکھی کہ مدینہ طیبہ تک میں اس کی پشت پر سواری کروں گا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری نئی نئی شادی ہوئی ہے پس میں نے آپ سے اجازت طلب کی تو آپ نے مجھے اجازت دے دی اور میں سب لوگوں سے پہلے مدینہ طیبہ پہنچ گیا میرے ماموں کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا پس میں نے بتایا کہ میں اونٹ کے متعلق کیا کر چکا ہوں تو انہوں نے مجھے اس پر ملامت کی۔ اور جب میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جانے کی اجازت طلب کی تھی تو آپ نے پوچھا تھا کہ تم نے کنواری لڑکی سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟میں نے عرض کیا بیوہ سے،آپ نے فرمایا تم نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے والد فوت ہوگئے ہیں یا فرمایا شہید ہوگئے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اور میں نے یہ بات پسند نہ کی کہ ان جیسی لڑکی سے شادی کروں اور وہ ان کی تربیت نہ کرسکے اور نہ وہ اس کی نگرانی کر سکے پس میں نے بیوہ عورت سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور ان کو ادب سکھاے۔ فرماتے ہیں جس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو صبح کے وقت میں اونٹ لے کر حاضر خدمت ہوا آپ نے مجھے اس کی قیمت ادا کی اور اونٹ بھی واپس کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢١؛حدیث نمبر ٣٩٩٢)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ – قَالَ : إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلَا يَكَادُ يَسِيرُ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " مَا لِبَعِيرِكَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : عَلِيلٌ، قَالَ : فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَجَرَهُ، وَدَعَا لَهُ، فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : بِخَيْرٍ ؛ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ. قَالَ : " أَفَتَبِيعُنِيهِ ؟ " فَاسْتَحْيَيْتُ، وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ. فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ؛ إِنِّي عَرُوسٌ. فَاسْتَأْذَنْتُهُ، فَأَذِنَ لِي، فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى انْتَهَيْتُ، فَلَقِيَنِي خَالِي، فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ، فَلَامَنِي فِيهِ، قَالَ : وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ : " مَا تَزَوَّجْتَ ؟ أَبِكْرًا، أَمْ ثَيِّبًا ؟ " فَقُلْتُ لَهُ : تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا. قَالَ : أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا ؟ فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُوُفِّيَ وَالِدِي - أَوِ اسْتُشْهِدَ - وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ، وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا ؛ لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ، وَرَدَّهُ عَلَيَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3992

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف آے تو میرا اونٹ بیمار ہوگیا پھر انہوں نے مکمل واقعہ حسب سابق بیان کیا۔ اس میں یہ ہے کہ آپ نے مجھ سے فرمایا اپنا یہ اونٹ مجھ پر فروخت کردو۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا نہیں بلکہ یہ آپ کا ہی ہے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مجھ پر بیچو میں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ!یہ آپ ہی کا ہے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مجھ پر بیچو۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا(یا رسول اللہ!)میں نے ایک شخص کا ایک اوقیہ سونا دینا ہے اس کے عوض یہ اونٹ لے لیں آپ نے فرمایا میں نے لے لیا اور تم اس اونٹ پر مدینہ طیبہ چلے جانا فرماتے ہیں جب میں مدینہ طیبہ پہنچا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا ان کو ایک اوقیہ(سونا)دے دو اور ایک قیراط زیادہ عطاء فرمایا اور وہ زائد قیراط مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوا فرماتے ہیں وہ سونا ہمیشہ میری تھیلی میں رہا حتیٰ کہ یوم الحرۃ کو اہل شام(شامی یزیدی فوج) نے مجھ سے لے لیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٢؛حدیث نمبر ٣٩٩٣)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَلَّ جَمَلِي. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَفِيهِ : ثُمَّ قَالَ لِي : " بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا " قَالَ : قُلْتُ : لَا، بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ : " لَا، بَلْ بِعْنِيهِ " قَالَ : قُلْتُ : لَا، بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ : " لَا، بَلْ بِعْنِيهِ " قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ : " قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَةِ ". قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ : " أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ " قَالَ : فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ، وَزَادَنِي قِيرَاطًا، قَالَ : فَقُلْتُ : لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي، فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3993

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو میرا اونٹ پیچھے رہ گیا اس کے بعد انہوں نے مکمل حدیث بیان کی ہے اور فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو لکڑی سے ٹھوکا لگایا پھر مجھ سے فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اس پر سوار ہو جاؤ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مسلسل دعا دیتے رہے اور اس میں اضافہ کرتے رہے اور فرماتے اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٣؛حدیث نمبر ٣٩٩٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي. وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ : فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِي : " ارْكَبْ بِاسْمِ اللَّهِ "، وَزَادَ أَيْضًا، قَالَ : فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ : " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3994

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرا اونٹ عاجز آگیا تھا آپ نے اسے ایک ٹھوکر لگائی تو وہ کودنے لگا پھر میں آپ کی بات سننے کے لئے اس کی نکیل کھینچتا تھا لیکن اس پر قادر نہ ہوسکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ تک پہنچے اور فرمایا یہ اونٹ مجھ پر فروخت کردو۔ پس میں نے پانچ اوقیہ کے بدلے اونٹ فروخت کردیا۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا میری شرط ہے کہ میں مدینہ طیبہ جانے تک اس پر سواری کروں گا آپ نے فرمایا مدینہ طیبہ تک تم اس پر سواری کرسکتے ہو فرماتے ہیں جب میں مدینہ طیبہ پہنچا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ مجھے بطور ہبہ عطا فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٣؛حدیث نمبر ٣٩٩٥)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي قَالَ : فَنَخَسَهُ فَوَثَبَ، فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لِأَسْمَعَ حَدِيثَهُ فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " بِعْنِيهِ "، فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ، قَالَ : قُلْتُ : عَلَى أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ : " وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ " قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً، ثُمَّ وَهَبَهُ لِي.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3995

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گیا۔ راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سفر جہاد تھا اس میں اسی واقعہ کو بیان کیا اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے فرمایا اے جابر!کیا تم نے پوری قیمت لے لی؟میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا یہ قیمت بھی تمہاری اور اونٹ بھی تمہارا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٣؛حدیث نمبر ٣٩٩٦)

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، أَظُنُّهُ قَالَ : غَازِيًا. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَزَادَ فِيهِ : قَالَ : " يَا جَابِرُ ؛ أَتَوَفَّيْتَ الثَّمَنَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ، قَالَ : " لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ، لَكَ الثَّمَنُ وَلَكَ الْجَمَلُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3996

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم کے بدلے میں خریدا فرماتے ہیں جب ہم مقام صرار میں پہنچے تو آپ گاے ذبح کرنے کا حکم دیا گاے ذبح کی گئی اور تمام لوگوں نے اسے کھایا پھر جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ مسجد میں آؤں اور دو رکعتیں نماز پڑھوں پھر آپ نے اونٹ کی قیمت وزن کرکے مجھے عطاء فرمائی اور وزن زیادہ رکھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٣؛حدیث نمبر ٣٩٩٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ، أَوْ دِرْهَمَيْنِ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَذُبِحَتْ، فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ، فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ، فَأَرْجَحَ لِي.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3997

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی واقعہ نقل کرتے ہیں البتہ اس میں یہ فرمایا کہ آپ نے وہ اونٹ مجھ سے قیمت کے بدلے میں خریدا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قیمت مقرر فرمائی اس میں دو اوقیہ اور ایک یا دو درہموں کا ذکر نہیں اور فرمایا کہ آپ نے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا وہ ذبح کی گئی اور اس کا گوشت تقسیم کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٤؛حدیث نمبر ٣٩٩٨)

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ، وَقَالَ : أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَنُحِرَتْ، ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3998

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میں نے تمہارا اونٹ چار دینار کے بدلے لیا اور تم اس کی پشت پر سوار ہوکر مدینہ طیبہ جاسکتے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ؛جلد٣ص١٢٢٤؛حدیث نمبر ٣٩٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ، وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 3999

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جوان اونٹ قرض لیا پھر اس کے پاس صدقے کے اونٹ آے تو آپ نے حضرت ابورافع کو حکم دیا کہ اس شخص کا قرض لیا ہوا اونٹ واپس کردیں حضرت رافع نے آپ کی خدمت میں واپس آکر عرض کیا کہ ان میں اچھے ساتویں سال کے اونٹ ہیں(اس کے برابر نہیں)فرمایا وہی دے دو بےشک بہترین لوگ وہی ہیں جو قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ، وَخَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً؛ترجمہ؛کیا کوئی چیز بطور قرض لینا اور بدلے میں بہتر جانور دینا مستحب ہے اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو ادائیگی اچھی طرح کرے؛جلد٣ص١٢٢٤؛حدیث نمبر ٤٠٠٠)

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا . فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَ أَبَا رَافِعٍ أَنْ يَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ. فَرَجَعَ إِلَيْهِ أَبُو رَافِعٍ، فَقَالَ : لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا خِيَارًا رَبَاعِيًا . فَقَالَ : " أَعْطِهِ إِيَّاهُ ؛ إِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4000

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٠٠٠ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا اللہ تعالیٰ کے بہترین بندے وہ ہیں جو قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ، وَخَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً؛جلد٣ص١٢٢٤؛حدیث نمبر ٤٠٠١)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ - مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا. بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَإِنَّ خَيْرَ عِبَادِ اللَّهِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4001

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک شخص کا حق تھا وہ آپ سے سختی سے پیش آیا صحابہ کرام نے اسے مارنے کا ارادہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صاحب حق کو بات کرنے کا حق ہے چنانچہ آپ نے فرمایا اس کے لئے ایک اونٹ خریدو اور اسے دے دو صحابہ کرام نے عرض کیا ہمیں اس اونٹ سے بہتر ہی ملا ہے(اس کے برابر کا نہیں)آپ نے فرمایا وہی خرید کر اسے دے دو بےشک تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں سب سے اچھا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ، وَخَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً؛جلد٣ص١٢٢٥؛حدیث نمبر ٤٠٠٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ، فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا " فَقَالَ لَهُمُ : " اشْتَرُوا لَهُ سِنًّا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ ". فَقَالُوا : إِنَّا لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا هُوَ خَيْرٌ مِنْ سِنِّهِ. قَالَ : " فَاشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ ؛ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ - أَوْ خَيْرَكُمْ - أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4002

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ قرض لیا تھا پھر آپ نے اس سے بڑی عمر کا اونٹ عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بہترین انسان وہ ہیں جو قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ، وَخَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً؛جلد٣ص١٢٢٥؛حدیث نمبر ٤٠٠٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنًّا فَأَعْطَى سِنًّا فَوْقَهُ، وَقَالَ : " خِيَارُكُمْ مَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4003

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے لگا آپ نے فرمایا اس کے اونٹ سے بڑی عمر کا اونٹ دے دو اور فرمایا تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں اچھا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا فَقَضَى خَيْرًا مِنْهُ، وَخَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً؛جلد٣ص١٢٢٥؛حدیث نمبر ٤٠٠٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يَتَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فَقَالَ : " أَعْطُوهُ سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ "، وَقَالَ : " خَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4004

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارکہ پر بیعت کی آپ نے یہ خیال نہ فرمایا کہ یہ غلام ہے پھر اس کا مالک اسے لینے آگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اس کو مجھ پر بیچ دو چنانچہ آپ نے اسے دو سیاہ غلاموں کےبدلے خریدا پھر اس کے بعد آپ کی بیعت اس وقت تک نہ لیتے جب تک اس سے پوچھ نہ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ جَوَازِ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ مِنْ جِنْسِهِ مُتَفَاضِلًا؛ترجمہ؛حیوان کو حیوان کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ بیچنے کا جواز؛جلد٣ص١٢٢٥؛حدیث نمبر ٤٠٠٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنِيهِ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ عَبْدٌ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعْنِيهِ "، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ : " أَعَبْدٌ هُوَ ؟ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4005

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ بطور ادھار خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرَّهْنِ وَجَوَازِهِ فِي الْحَضَرِ كَالسَّفَرِ؛ترجمہ؛سفر و حضر میں گروی رکھنے کا جواز؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠٠٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ : اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ، فَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4006

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اس کے پاس لوہے کی زرہ گروی رکھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرَّهْنِ وَجَوَازِهِ فِي الْحَضَرِ كَالسَّفَرِ؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠٠٧)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ : اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا، وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4007

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے معینہ مدت تک کے لئے غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی لوہے کی زرہ رکھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرَّهْنِ وَجَوَازِهِ فِي الْحَضَرِ كَالسَّفَرِ؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠٠٨)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ : ذَكَرْنَا الرَّهْنَ فِي السَّلَمِ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فَقَالَ : حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ؛ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4008

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٤٠٠٨ کی طرح مروی ہے لیکن اس میں لوہے کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الرَّهْنِ وَجَوَازِهِ فِي الْحَضَرِ كَالسَّفَرِ؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠٠٩)

حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ : مِنْ حَدِيدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4009

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ ایک سال اور دو سال کے ادھار پر پھلوں کی بیع کرتے تھے آپ نے فرمایا جو شخص کھجوروں میں بیع سلم کرے تو وہ معین ماپ،معین وزن سے اور معین مدت تک بیع کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ السَّلَمِ؛ترجمہ؛بیع سلم؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠١٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا، وَقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ، فَقَالَ : " مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4010

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مدینہ طیبہ)تشریف لائے تو لوگ بیع سلم کرتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جو شخص بیع کرے تو وہ صرف معین وزن اور معین ماپ میں کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ السَّلَمِ؛جلد٣ص١٢٢٦؛حدیث نمبر ٤٠١١)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَسْلَفَ فَلَا يُسْلِفْ إِلَّا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4011

ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت ٤٠١١ کی مثل مروی ہے اور اس میں معین مدت کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ السَّلَمِ؛ترجمہ؛بیع سلم؛جلد٣ص١٢٢٧؛حدیث نمبر ٤٠١٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ. وَلَمْ يَذْكُرْ : " إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4012

ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت ابن عیینہ کی روایت(٤٠١١)کے مطابق مروی ہے اور اس میں معین کا ذکر نہیں۔(رقم پہلے ادا کی جائے اور غلہ وغیرہ بعد میں لیا جائے تو یہ بیع سلم کہلاتی ہے یہ جائز قرار دی گئی کہ اس میں بائع اور مشتری دونوں کا فائدہ ہے بائع کو ضرورت کے لئے فوراً رقم مل جاتی ہے اور خریدار کو غلہ مناسب دام پر مل جاتا ہے۔) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ السَّلَمِ؛جلد٣ص١٢٢٧؛حدیث نمبر ٤٠١٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِإِسْنَادِهِمْ. مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ يَذْكُرُ فِيهِ : " إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4013

حضرت معمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ذخیرہ اندوزی کی وہ خطا کار ہے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ تو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں انہوں نے فرمایا اس حدیث کے راوی حضرت معمر بھی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الِاحْتِكَارِ فِي الْأَقْوَاتِ؛ترجمہ؛کھانے پینے کی چیزوں میں ذخیرہ اندوزی حرام ہے؛جلد٣ص١٢٢٧؛حدیث نمبر ٤٠١٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ - عَنْ يَحْيَى - وَهُوَ : ابْنُ سَعِيدٍ – قَالَ : كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ مَعْمَرًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ احْتَكَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ "، فَقِيلَ لِسَعِيدٍ : فَإِنَّكَ تَحْتَكِرُ ؟ قَالَ سَعِيدٌ : إِنَّ مَعْمَرًا الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ يَحْتَكِرُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4014

حضرت معمر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ذخیرہ اندوزی گناہ گار شخص ہی کرتا ہے۔۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الِاحْتِكَارِ فِي الْأَقْوَاتِ؛جلد٣ص١٢٢٨؛حدیث نمبر ٤٠١٥)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4015

عدی بن کعب(قبیلہ)کے ایک فرد معمر بن ابی معمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٠١٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الِاحْتِكَارِ فِي الْأَقْوَاتِ؛جلد٣ص١٢٢٨؛حدیث نمبر ٤٠١٦)

قَالَ إِبْرَاهِيمُ : قَالَ مُسْلِمٌ : وَحَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي مَعْمَرٍ - أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ – قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4016

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قسم سودے کو بڑھانے والی اور برکت کو مٹانے والی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ؛ترجمہ؛بیع میں قسم کھانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٢٢٨؛حدیث نمبر ٤٠١٧)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ . كِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلرِّبْحِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4017

حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ سودے میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچو کیونکہ یہ(پہلے)سودا بکواتی ہے اور پھر اس کو(برکت کو)مٹاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ؛جلد٣ص١٢٢٨؛حدیث نمبر ٤٠١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ ؛ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ، ثُمَّ يَمْحَقُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4018

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے ساتھ کوئی(دوسرا)مکان یا باغ میں شریک ہو تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے شریک کو خبردار کئے بغیر سودا کرے اگر وہ(شریک)چاہے تو لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الشُّفْعَةِ؛ترجمہ؛شفع کا بیان؛جلد٣ص١٢٢٩؛حدیث نمبر ٤٠١٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ ، أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ، وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4019

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسی شرکت میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا جو تقسیم نہ ہوتی ہو مکان ہو یا باغ،اس کے لئے جائز نہیں کہ شریک کو اطلاع کئے بغیر فروخت کرے پس اگر وہ چاہے تو لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے اور اگر وہ اس کو خبردار کئے بغیر بیچ دے تو وہ(شریک)اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الشُّفْعَةِ؛جلد٣ص١٢٢٩؛حدیث نمبر ٤٠٢٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شِرْكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ ؛ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ، لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، فَإِذَا بَاعَ، وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4020

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مشترک مال میں شفعہ(کا حق)ہے خواہ وہ زمین ہو یا گھر یا باغ،کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ اپنے ساتھی پر پیش کئے بغیر اسے فروخت کرے اب اس کی مرضی لے یا چھوڑ دے اور اگر وہ انکار کرے(اطلاع نہ کرے)تو جب تک وہ اسے اطلاع نہ کرے یہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ الشُّفْعَةِ؛ترجمہ؛شفع کا بیان؛جلد٣ص١٢٢٩؛حدیث نمبر ٤٠٢١)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ فِي أَرْضٍ، أَوْ رَبْعٍ ، أَوْ حَائِطٍ، لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى شَرِيكِهِ فَيَأْخُذَ أَوْ يَدَعَ، فَإِنْ أَبَى فَشَرِيكُهُ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4021

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اس بات سے منع نہ کرے کہ وہ اس کی دیوار پر شہتیر رکھے،راوی فرماتے ہیں اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کیا سبب ہے کہ میں تمہیں اس سے اعراض کرتے ہوئے دیکھتا ہوں اللہ کی قسم!میں یہ شہتیر تمہارے کندھوں پر رکھ دوں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ غَرْزِ الْخَشَبِ فِي جِدَارِ الْجَارِ؛ترجمہ؛پڑوسی کی دیوار میں لکڑی گاڑنا؛جلد٣ص١٢٣٠؛حدیث نمبر ٤٠٢٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ ". قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ ؟ وَاللَّهِ، لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4022

دیگر تین اسانید سے بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٠٢٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ غَرْزِ الْخَشَبِ فِي جِدَارِ الْجَارِ؛جلد٣ص١٢٣٠؛حدیث نمبر ٤٠٢٣)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4023

حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایک بالشت زمین بھی بطور ظلم لی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس زمین کو اس کے گلے میں سات طبقوں تک ڈالے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛ترجمہ؛ظلم کرنا اور زمین وغیرہ غصب کرنا حرام ہے؛جلد٣ص١٢٣٠؛حدیث نمبر ٤٠٢٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4024

حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اروی نے ان کے گھر کے بعض حصے میں ان سے جھگڑا کیا تو انہوں نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور یہ اسے دے دو۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص نے ایک بالشت زمین ناحق طور پر لی قیامت کے دن یہ زمین سات طبقوں تک اس کے گلے میں ڈالی جائے گی۔ اے اللہ!اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کردے اور اس کی قبر اسی گھر میں بنا دے راوی فرماتے ہیں میں نے اس عورت کو دیکھا کہ وہ اندھی ہوگئی تھی اور دیواروں کو ٹٹولتی پھرتی تھی۔ وہ کہتی تھی مجھے حضرت سعید بن زید کی بددعا لگ گئی ہے اس اثناء میں کہ وہ گھر میں چل رہی تھی گھر کے اندر ایک کنویں کے پاس سے گزری اور اس میں گرگئی پس وہی(کنواں)اس کی قبر بن گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣٠؛حدیث نمبر ٤٠٢٥)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، أَنَّ أَرْوَى خَاصَمَتْهُ فِي بَعْضِ دَارِهِ، فَقَالَ : دَعُوهَا وَإِيَّاهَا ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا، وَاجْعَلْ قَبْرَهَا فِي دَارِهَا. قَالَ : فَرَأَيْتُهَا عَمْيَاءَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ تَقُولُ : أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشِي فِي الدَّارِ مَرَّتْ عَلَى بِئْرٍ فِي الدَّارِ فَوَقَعَتْ فِيهَا فَكَانَتْ قَبْرَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4025

حضرت ہشام اپنے والد حضرت عروہ سے نقل کرتے ہیں کہ اروی بنت اویس نے حضرت سعید بن زید پر دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی زمین سے کچھ لیا ہے پس وہ اپنا مقدمہ مروان بن حکم کے پاس لے گئی۔حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سننے کے بعد اس کی زمین لے سکتا ہوں؟مروان نے کہا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص بطور زیادتی ایک بالشت زمین بھی لے گا سات زمینوں تک وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالی جائے گی اس پر مروان نے آپ سے کہا اس کے بعد میں آپ سے کسی دلیل کا سوال نہیں کروں گا۔ حضرت سعید نے دعا مانگی یا اللہ!اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کردے اور اسے موت نہ آئے اور ایک دن وہ اس زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں گر کر مر گئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣١؛حدیث نمبر ٤٠٢٦)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَرْوَى بِنْتَ أُوَيْسٍ ادَّعَتْ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَقَالَ سَعِيدٌ : أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ ". فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ : لَا أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَعَمِّ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا. قَالَ : فَمَا مَاتَتْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهَا، ثُمَّ بَيْنَا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4026

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس نے ایک بالشت زمین بھی بطور ظلم لی اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک طوق بنا کر(اس کے گلے میں)ڈالا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣١؛حدیث نمبر ٤٠٢٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4027

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص ایک بالشت زمین بھی ناحق طور پر لے گا تو قیامت کے دن یہ زمین طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالی جائے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣١؛حدیث نمبر ٤٠٢٨)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4028

حضرت ابو سلمہ سے مروی ہے اور ان کے اور ان کی قوم کے درمیان جھگڑا تھا کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے فرمایا اے ابو سلمہ!زمین سے اجتناب کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایک بالشت کے برابر زمین ظلم کے طور پر لی اسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣١؛حدیث نمبر ٤٠٢٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ - حَدَّثَنَا حَرْبٌ - وَهُوَ : ابْنُ شَدَّادٍ - حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ، وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ : يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الْأَرْضَ ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4029

حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اس کے بعد حدیث نمبر ٤٠٢٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٢٣٢؛حدیث نمبر ٤٠٣٠)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، أَخْبَرَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ . فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4030

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب راستے میں تمہارا اختلاف ہو تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ رکھو۔(دوسروں کی زمینوں اور مکانات وغیرہ پر قبضہ کرنے والوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے دنیا میں کسی غلط فیصلے کے تحت وہ دوسروں کی زمین پر قبضہ کر بھی لیں تو آخرت کے عذاب سے کیسے بچیں گے بلکہ اس عورت کی طرح دنیا میں بھی سزا مل سکتی ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ؛بَابُ قَدْرِ الطَّرِيقِ إِذَا اخْتَلَفُوا فِيهِ؛جلد٣ص١٢٣٢؛حدیث نمبر ٤٠٣١)

حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ جُعِلَ عَرْضُهُ سَبْعَ أَذْرُعٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Mosaqat, Hadees No. 4031

Muslim Shareef : Kitabul Mosaqat

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْمُسَاقَات

|

•