
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان،کافر کا وارث نہیں ہوتا اور کافر بھی مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛ترجمہ؛فرائض کا بیان؛جلد٣ص١٢٣٣؛حدیث نمبر ٤٠٣٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذوی الفروض(جن لوگوں کے حصے مقرر ہیں ان کو ذوی الفروض کہا جاتا ہے)کو ان کے مقرر کردہ حصے دو پس جو بچ جائے وہ(میت کے)سب سے زیادہ قریبی مرد کا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ؛جلد٣ص١٢٣٣؛حدیث نمبر ٤٠٣٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اصحاب فروض کو ان کے مقررہ کردہ حصہ دو اور جو کچھ ذوی الفروض چھوڑ دیں(یعنی بچ جائے)وہ(میت کے)سب سے زیادہ قریبی مرد کے لئے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ؛جلد٣ص١٢٣٣؛حدیث نمبر ٤٠٣٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذوی الفروض کے درمیان مال کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کرو اور جو کچھ ذوی الفروض سے بچ جائے وہ(میت کے)سب سے زیادہ قریبی مرد کا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ؛جلد٣ص١٢٣٤؛حدیث نمبر ٤٠٣٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٠٣٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ؛جلد٣ص١٢٣٤؛حدیث نمبر ٤٠٣٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عیادت کے لئے میرے پاس پیدل چل کر تشریف لائے مجھ پر بیہوشی طاری تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا پس مجھے افاقہ ہوگیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں اپنے مال کو کس طرح تقسیم کروں آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا حتیٰ کہ آیت کریمہ نازل ہوئی{يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} [النساء: ١٧٦] "آپ سے حکم پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ اللہ تمہیں کلالہ(کی میراث)کے بارے میں حکم دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مِيرَاثِ الْكَلَالَةِ؛جلد٣ص١٢٣٤؛حدیث نمبر ٤٠٣٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پیدل چل کر بنو سلمہ(قبیلہ)میں میری عیادت کے لئے تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بے ہوش پایا چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو کرکے مجھ پر چھینٹے ڈالے تو مجھے افاقہ ہوگیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں اپنے مال کو کیسے تقسیم کروں؟تو اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی۔ {يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] " " اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ مرد کے لئے عورت کا دو گنا حصہ ہے"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مِيرَاثِ الْكَلَالَةِ؛جلد٣ص١٢٣٥؛حدیث نمبر ٤٠٣٨)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بیمار تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میری باز پرسی کے لئے تشریف لائے انہوں نے مجھے بے ہوش پایا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرما کر بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا جس سے مجھے ہوش آگیا میں نے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں اپنے مال کو کیسے تقسیم کروں؟آپ نے کوئی جواب نہ دیا حتیٰ کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ؛جلد٣ص١٢٣٤؛حدیث نمبر ٤٠٣٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے دراں حالیکہ میں بیمار اور بے ہوش تھا آپ نے وضو فرمایا اور لوگوں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا مجھے ہوش آیا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرا وارث کلالہ ہوگا اس پر آیت میراث نازل ہوئی۔حضرت شعبہ فرماتے ہیں میں نے حضرت محمد منکدر سے پوچھا: {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ}[النساء: ١٧٦]مراد ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں یہی آیت نازل ہوئی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ؛جلد٣ص١٢٣٥؛حدیث نمبر ٤٠٤٠)
حضرت وہب بن جریر کی سند سے مروی ہے کہ آیت فرائض نازل ہوئی جب کہ نضر اور عقدی کی روایت میں ہے آیت فرائض نازل ہوئی اور ان میں سے کسی کی روایت میں حضرت شعبہ کا حضرت ابن منکدر سے سوال مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ؛جلد٣ص١٢٣٥؛حدیث نمبر ٤٠٤١)
حضرت معدان بن طلحہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا پھر فرمایا میں اپنے بعد کوئی ایسی چیز چھوڑ کر نہیں جارہا جو میرے نزدیک کلالہ سے زیادہ اہم ہو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق اتنا رجوع نہیں کیا جتنا کلالہ کے بارے میں کیا اور آپ نے کسی بات کے جواب میں اتنی سختی نہیں کی جس قدر سختی کلالہ کے بارے میں کی حتیٰ کہ آپ نے اپنی انگشت مبارک میرے سینے پر چبھو کر فرمایا!کیا تجھے آیت صیف کافی نہیں جو سورۃ نساء کے آخر میں ہے۔ اس کے بعد حضرت فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں زندہ رہا تو کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا جس کے مطابق ہر شخص کرسکے گا چاہے وہ قرآن مجید پڑھتا ہو یا نہ پڑھتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ؛جلد٣ص١٢٣٦؛حدیث نمبر ٤٠٤٢)
دو اور سندوں کے ساتھ بھی یہ روایت حدیث نمبر ٤٠٤٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ؛جلد٣ص١٢٣٦؛حدیث نمبر ٤٠٤٣)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں قرآن مجید میں جو سب سے آخر میں آیت کریمہ نازل ہوئی وہ یہ ہے{يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} [النساء: ١٧٦] " (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْكَلَالَةِ؛جلد٣ص١٢٣٦؛حدیث نمبر ٤٠٤٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نزول کے اعتبار سے آخری آیت،آیت کلالہ ہے اور آخری نازل ہونے والی سورت سورت براۃ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْكَلَالَةِ؛جلد٣ص١٢٣٦؛حدیث نمبر ٤٠٤٥)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو پوری سورت آخر میں نازل ہوئی وہ سورۃ توبہ ہے اور آخری نازل ہونے والی آیت آیت کلالہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْكَلَالَةِ؛جلد٣ص١٢٣٧؛حدیث نمبر ٤٠٤٦)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٠٤٦ کی مثل ایک اور روایت مروی ہے اس میں"تامۃ" کی بجائے"کاملۃ" کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْكَلَالَةِ؛جلد٣ص١٢٣٧؛حدیث نمبر ٤٠٤٧)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا آخری نازل ہونے والی آیت"یستفتونک"ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْكَلَالَةِ؛جلد٣ص١٢٣٧؛حدیث نمبر ٤٠٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی ایسے شخص کا جنازہ لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ پوچھتے کیا اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے قرض ادا ہوسکے اگر بتایا جاتا ہے کہ اس نے ادائگی کے لئے مال چھوڑا ہے تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ورنہ فرماتے اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتوحات عطاء فرمائیں تو آپ نے فرمایا میں مومنوں کی جانوں پر ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھتا ہوں پس جو شخص فوت ہوجائے اور اس پر قرض ہو تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو شخص مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کے لئے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ؛جلد٣ص١٢٣٧؛حدیث نمبر ٤٠٤٩)
دیگر تین اسنادوں سے بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٠٤٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ؛جلد٣ص١٢٣٧؛حدیث نمبر ٤٠٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے کہ زمین پر جو بھی مؤمن ہے میں لوگوں کی نسبت سے زیادہ اس کا ولی ہوں تم میں سے جو قرض یا بال بچے چھوڑ کر فوت ہوا تو میں اس کا کفیل ہوں اور تم میں سے جو مال چھوڑ کر جاے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے وہ جو بھی ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ؛جلد٣ص١٢٣٧؛حدیث نمبر ٤٠٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ احادیث روایت کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے فرمایا میں کتاب اللہ کے مطابق لوگوں کی نسبت مؤمنوں کا زیادہ ولی ہوں پس تم میں سے جو قرض یا بال بچے چھوڑ کر جاے تو مجھے بلاؤ میں ان کا کفیل ہوں اور جو شخص مال چھوڑ کر فوت ہوا تو اس کے وارث وہ مال لیں گے وہ کوئی بھی ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ؛جلد٣ص١٢٣٨؛حدیث نمبر ٤٠٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثوں کا ہے جس نے بال بچے چھوڑے وہ ہمارے ذمہ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ؛جلد٣ص١٢٣٨؛حدیث نمبر ٤٠٥٣)
حضرت شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے۔اور اس میں سے ہے کہ جس نے بال بچے چھوڑے میں اس کا ولی ہوں۔(ان احادیث سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ بلاضرورت قرض نہیں لینا چاہئے اور دوسری بات یہ کہ اگر کسی کے ذمہ قرض ہو یا اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں اور وہ مال چھوڑ کر نہ جائے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرض ادا کرے اور بچوں کی کفالت بھی کرے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْفَرَائِضِ؛بَابُ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ؛جلد٣ص١٢٣٨؛حدیث نمبر ٤٠٥٤)
Muslim Shareef : Kitabul Faraiz
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْفَرَائِضُ
|
•