
حضرت اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے ایک عمدہ گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستے میں دے دیا تو اس شخص نے جسے(میں نے)دیا تھا اسے ضائع کردیا میں نے سوچا یہ کم قیمت پر اسے فروخت کردے گا تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا تم اسے مت خریدو اور اپنے صدقے میں رجوع نہ کرو کیونکہ اپنے صدقے میں رجوع کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے اسے چاٹ لیتا ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ شِرَاءِ الْإِنْسَانِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ مِمَّنْ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ؛ترجمہ؛صدقہ کی ہوئی چیز کو اس سے خریدنے کی کراہت جس پر صدقہ کی گئی؛جلد٣ص١٢٣٨؛حدیث نمبر ٤٠٥٥)
حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث روایت کی ہے اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ اگر وہ تم کو ایک درہم میں دے پھر بھی اسے مت خریدو۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ شِرَاءِ الْإِنْسَانِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ مِمَّنْ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٢٣٩؛حدیث نمبر ٤٠٥٦)
حضرت اسلم فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک گھوڑا دیا پھر انہوں نے دیکھا کہ اس کے مالک نے اسے ضائع کردیا تھا اور وہ شخص تنگ دست تھا آپ نے اس سے خریدنے کا ارادہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور ماجرا بیان کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مت خریدو اگرچہ وہ تمہیں ایک درہم میں دیا جائے کیونکہ صدقہ میں رجوع کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے اسے کھا لیتا ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ شِرَاءِ الْإِنْسَانِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ مِمَّنْ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٢٣٩؛حدیث نمبر ٤٠٥٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٠٥٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ شِرَاءِ الْإِنْسَانِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ مِمَّنْ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٢٣٩؛حدیث نمبر ٤٠٥٨)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں ایک گھوڑا دیا پھر انہوں نے دیکھا کہ وہ گھوڑا فروخت کیا جارہا ہے انہوں نے اسے خریدنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اسے مت خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ شِرَاءِ الْإِنْسَانِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ مِمَّنْ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٢٤٠؛حدیث نمبر ٤٠٥٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ شِرَاءِ الْإِنْسَانِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ مِمَّنْ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٢٤٠؛حدیث نمبر ٤٠٦٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں ایک گھوڑا دیا پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا فروخت کیا جارہا ہے انہوں نے اسے خریدنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر اپنے صدقہ میں رجوع نہ کرو۔ (امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں یہ نہی تنزیہی ہے یعنی صدقہ دے کر رجوع نہ کیا جائے لیکن خریدنے کی صورت میں رجوع نہیں کیونکہ اب ملک بدل گئی۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ شِرَاءِ الْإِنْسَانِ مَا تَصَدَّقَ بِهِ مِمَّنْ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٢٤٠؛حدیث نمبر ٤٠٦١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صدقہ کرکے رجوع کرتا ہے اس کی مثال اس طرح ہے جیسے کوئی کتا قے کرکے اسے چاٹے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الرُّجُوعِ فِي الصَّدَقَةِ وَالْهِبَةِ بَعْدَ الْقَبْضِ إِلَّا مَا وَهَبَهُ لِوَلَدِهِ وَإِنْ سَفَلَ؛ترجمہ؛صدقہ میں رجوع کی حرمت صدقہ اور ہبہ پر قبضہ ہوجائے تو رجوع ممنوع ہے البتہ اولاد کو دیا ہوا ہبہ واپس ہوسکتا ہے اگرچہ نچلے درجہ میں ہو(پوتا وغیرہ)؛جلد٣ص١٢٤٠؛حدیث نمبر ٤٠٦٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٠٦٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الرُّجُوعِ فِي الصَّدَقَةِ وَالْهِبَةِ بَعْدَ الْقَبْضِ إِلَّا مَا وَهَبَهُ لِوَلَدِهِ وَإِنْ سَفَلَ؛جلد٣ص١٢٤٠؛حدیث نمبر ٤٠٦٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٠٦٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الرُّجُوعِ فِي الصَّدَقَةِ وَالْهِبَةِ بَعْدَ الْقَبْضِ إِلَّا مَا وَهَبَهُ لِوَلَدِهِ وَإِنْ سَفَلَ؛جلد٣ص١٢٤١؛حدیث نمبر ٤٠٦٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص صدقہ کرکے پھر اپنے صدقہ سے رجوع کرتا ہے اس کی مثال اس کتے کی ہے جو قے کرکے اپنی قے کھالیتا ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الرُّجُوعِ فِي الصَّدَقَةِ وَالْهِبَةِ بَعْدَ الْقَبْضِ إِلَّا مَا وَهَبَهُ لِوَلَدِهِ وَإِنْ سَفَلَ؛جلد٣ص١٢٤١؛حدیث نمبر ٤٠٦٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ہبہ سے رجوع کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو قے کرکے اس کو واپس کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الرُّجُوعِ فِي الصَّدَقَةِ وَالْهِبَةِ بَعْدَ الْقَبْضِ إِلَّا مَا وَهَبَهُ لِوَلَدِهِ وَإِنْ سَفَلَ؛جلد٣ص١٢٤١؛حدیث نمبر ٤٠٦٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٠٦٦ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الرُّجُوعِ فِي الصَّدَقَةِ وَالْهِبَةِ بَعْدَ الْقَبْضِ إِلَّا مَا وَهَبَهُ لِوَلَدِهِ وَإِنْ سَفَلَ؛جلد٣ص١٢٤١؛حدیث نمبر ٤٠٦٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ہبہ میں رجوع کرنے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اپنی قے میں رجوع کرے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ تَحْرِيمِ الرُّجُوعِ فِي الصَّدَقَةِ وَالْهِبَةِ بَعْدَ الْقَبْضِ إِلَّا مَا وَهَبَهُ لِوَلَدِهِ وَإِنْ سَفَلَ؛جلد٣ص١٢٤١؛حدیث نمبر ٤٠٦٨)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ان کے والد ان کو لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں نے اپنے پاس اس لڑکے کو ایک غلام ہبہ کیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اپنے ہر لڑکے کو ایسا غلام ہبہ کیا ہے؟انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا پھر اس سے بھی واپس لے لو۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ؛ہبہ میں بعض اولاد کو بعض پر ترجیح دینا؛جلد٣ص١٢٤١؛حدیث نمبر ٤٠٦٩)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے اور کہا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہبہ کیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو غلام ہبہ کیا ہے؟انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا اس کو بھی واپس لے لو۔(مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ؛جلد٣ص١٢٤٢؛حدیث نمبر ٤٠٧٠)
متعدد اسناد سے بھی اس قسم کی بات مروی ہے کہ حضرت بشیر حضرت نعمان کو لے کر گئے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ؛جلد٣ص١٢٤٢؛حدیث نمبر ٤٠٧١)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو ایک غلام ہبہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ غلام کیسا ہے؟انہوں نے عرض کیا کہ میرے والد نے مجھے عطیہ دیا ہے آپ نے(ان کے والد سے)پوچھا کیا تم نے اس کے تمام بھائیوں کو ایسا غلام عطاء کیا ہے جیسا اسے عطاء کیا ہے؟انہوں نے عرض کیا نہیں،آپ نے فرمایا تو اس سے بھی واپس لے لو۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ؛جلد٣ص١٢٤٢؛حدیث نمبر ٤٠٧٢)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے اپنا کچھ مال دیا تو میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو تو وہ مجھے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو اس صدقہ پر گواہ بنا لیں جو مجھے دیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کے ساتھ اسی طرح کیا ہے؟انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے بارے میں انصاف سے کام لو پس میرے والدہ واپس لوٹ گئے اور وہ صدقہ واپس لے لیا۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ؛جلد٣ص١٢٤٢؛حدیث نمبر ٤٠٧٣)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والدہ نے ان کے باپ سے کہا کہ وہ اپنے مال میں سے کچھ ان کے بیٹے(حضرت نعمان)کو دیں وہ ایک سال تک ٹال مٹول سے کام لیتے رہے پھر ان کو اس بات کا خیال آیا تو ان کی بیوی نے کہا میں راضی نہیں ہوں گی حتیٰ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عطیہ پر گواہ بناؤ جو میرے بیٹے کو دیا۔چنانچہ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں ان دنوں نو عمر لڑکا تھا وہ مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لاے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس کی ماں بنت رواحہ کو یہ بات پسند ہے کہ میں اس کے بیٹے کو ہبہ کئے گئے مال پر آپ کو گواہ بناؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے بشیر کیا اس کے علاوہ بھی تمہارا کوئی بیٹا ہے؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں،آپ نے پوچھا کیا ان سب کو اس کی مثل دیا ہے؟انہوں نے کہا نہیں،فرمایا پھر مجھے گواہ نہ بناؤ کیوں کہ میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ؛جلد٣ص١٢٤٣؛حدیث نمبر ٤٠٧٤)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے بیٹے ہیں؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں،آپ نے فرمایا کیا تم نے ان سب کو اسی طرح ہبہ کیا ہے؟انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ؛جلد٣ص١٢٤٣؛حدیث نمبر ٤٠٧٥)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے فرمایا مجھے ظلم پر گواہ نہ بناؤ۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ؛جلد٣ص١٢٤٣؛حدیث نمبر ٤٠٧٦)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اٹھا کر لے گئے اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس پر گواہ ہوجائیں کہ میں نے اپنے(اس)بیٹے نعمان کو اپنے مال سے یہ چیز دی ہے آپ نے پوچھا کیا تم نے اپنے(باقی)بیٹوں کو اسی طرح عطیہ دیا جس طرح نعمان کو دیا ہے،انہوں نے عرض کیا نہیں، تو فرمایا :تمہیں اچھا نہیں لگتا کہ تمہارے ساتھ نیکی کرنے میں تمہاری تمام اولاد برابر ہو انہوں نے کہا؟کیوں نہیں آپ نے فرمایا تو پھر اس طرح نہ کرو۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ؛جلد٣ص١٢٤٣؛حدیث نمبر ٤٠٧٧)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میرے والد نے مجھے ایک عطیہ دیا پھر مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لاے تاکہ آپ کو گواہ بنائیں آپ نے پوچھا کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو یہ عطیہ دیا ہے؟انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا کیا تم ان سب سے نیکی کا سلوک نہیں چاہتے جس طرح اس سے چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا ہاں چاہتا ہوں آپ نے فرمایا پھر میں اس پر گواہی نہیں بنوں گا حضرت ابن عون(راوی)فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت محمد کو سنائی تو انہوں نے مجھ سے یوں بیان کیا کہ آپ نے فرمایا اپنے تمام بیٹوں کو برابر برابر دو۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ؛جلد٣ص١٢٤٤؛حدیث نمبر ٤٠٧٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے(ان سے)کہا کہ میرے بیٹے(حضرت نعمان رضی اللہ عنہ)کو عطیہ دیں اور(اس پر)میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں چنانچہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ فلاں کی بیٹی نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو ایک غلام بطور عطیہ دوں اور اس نے یہ بھی کہا کہ(اس پر)میرے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ۔ آپ نے پوچھا اس کے دیگر بھائی بھی ہیں؟عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا کیا تم نے ان سب کو اس کی مثل دیا ہے جو اس کو دیا،عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا یہ بات ٹھیک نہیں اور میں حق کے سوا کسی چیز پر گواہی نہیں دیتا۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ؛جلد٣ص١٢٤٣؛حدیث نمبر ٤٠٧٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اور اس کے وارثوں کو تاحیات کوئی چیز دی گئی وہ اسی کے لئے ہے جس کو دی گئی،جس نے دی ہے اس کی طرف نہیں لوٹے گی کیونکہ اس نے ایسی چیز دی ہے جس میں وراثت جاری ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛ترجمہ؛عمری(زندگی بھر کے ہبہ)کا بیان؛جلد٣ص١٢٤٥؛حدیث نمبر ٤٠٨٠)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص کسی کو اور اس کے وارثوں کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز عطا کرے تو اس کے قول نے اس میں اس شخص کے حق کو ختم کردیا یہ اس شخص کے لئے ہے جس کو تا حیات دی گئی اور اس کے وارثوں کے لئے ہے البتہ یحییٰ کی روایت میں حدیث کے شروع میں ہے کہ جس شخص کو کوئی چیز عمر بھر کے لیے عطاء کی گئی وہ چیز اس کی اور اس کے وارثوں کی ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٥؛حدیث نمبر ٤٠٨١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی کو اور اس کے وارثوں کو تاحیات کوئی چیز دی اور اس سے کہا کہ یہ چیز میں نے تمہیں اور تمہارے وارثوں کو دی جب تک تم میں سے کوئی ایک بھی باقی ہے۔ تو یہ چیز اسی کی ہوگی جس کو دی ہے اس کے مالک کی طرف نہیں لوٹے گی کیونکہ اس نے یہ چیز اس طریقے پر دی ہے جس میں وراثت جاری ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٥؛حدیث نمبر ٤٠٨٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں عمری(تا حیات کوئی چیز دینا)جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز کہا ہے یہ ہے کہ کوئی شخص کہے یہ تمہارے لئے اور تمہارے وارثوں کے لئے ہے اور اگر کہے کہ یہ تیرے لئے ہے تو وہ مالک کی طرف لوٹ آئے گی۔ حضرت معمر فرماتے ہیں حضرت زھری اسی پر فتویٰ دیتے تھے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٦؛حدیث نمبر ٤٠٨٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جس شخص کو اور اس کے وارثوں کو کوئی چیز تاحیات دی گئی وہ قطعی طور پر اس کی ہے دینے والے کے لئے اس میں کوئی شرط رکھنا یا استثناء کرنا درست نہیں۔ ابو سلمہ فرماتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے ایسی چیز دی ہے جس میں وراثت جاری ہوتی ہے اور وراثت نے شرط منقطع کردی۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٦؛حدیث نمبر ٤٠٨٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،عمری(تاحیات ہبہ)اسی کے لئے ہے جس کو دیا گیا۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٦؛حدیث نمبر ٤٠٨٥)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤٠٨٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٦؛حدیث نمبر ٤٠٨٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٠٨٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٦؛حدیث نمبر ٤٠٨٧)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے مالوں کو روک لو اور ان کو فاسد نہ کرو کیونکہ جس نے تاحیات ہبہ کیا وہ اس کے لیے ہے جس کو ہبہ کیا گیا وہ زندہ رہے یا مر جائے اور اس کے وارثوں کا ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٦؛حدیث نمبر ٤٠٨٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مثل سابق روایت کیا اور ایک سند کے ساتھ روایت میں یہ اضافہ ہے فرماتے ہیں انصار،مہاجرین کو عمر بھر کے لیے عطیہ دینے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے مال اپنے پاس رکھو۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٧؛حدیث نمبر ٤٠٨٩)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک عورت نے مدینہ طیبہ میں اپنے بیٹے کو ایک باغ تاحیات دیا پھر وہ بیٹا بھی فوت ہوگیا اور وہ عورت بھی فوت ہوگئی اور اس بیٹے نے اولاد چھوڑی اور اس کے بھائی بھی تھے جو عطیہ دینے والی کے بیٹے تھے اس عورت کی اولاد نے کہا یہ باغ ہماری طرف واپس آگیا اور جس کو عطیہ دیا گیا اس کے بیٹوں نے کہا نہیں بلکہ یہ ہمارے باپ کا تھا ان کی زندگی میں بھی اور اس کی موت کے بعد بھی،چنانچہ وہ حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام طارق کے پاس مقدمہ لے گئے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتے ہوئے کہا کہ یہ باغ اسی کا ہے جس کو تاحیات دیا گیا طارق نے اسی کے مطابق فیصلہ کردیا پھر عبد الملک کو خط لکھ کر اس بات کی خبر دی اور اسے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی گواہی کی خبر بھی دی عبد الملک نے کہا حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا طارق نے یہ فیصلہ برقرار رکھا اور وہ باغ آج تک اس لڑکے کی اولاد کے پاس ہے جس کو تاحیات دیا گیا تھا۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٧؛حدیث نمبر ٤٠٩٠)
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں طارق نے عمری کا وراثت کے حق میں فیصلہ کیا کیونکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٧؛حدیث نمبر ٤٠٩١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا عمری(تاحیات عطیہ)جائز ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٧؛حدیث نمبر ٤٠٩٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمری اس کی میراث ہے جس کو دیا گیا۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٨؛حدیث نمبر ٤٠٩٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا عمری جائز ہے۔ (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٨؛حدیث نمبر ٤٠٩٤)
اسی سند کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔(جو چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی گئی اسے"عمری" کہتے ہیں) (مسلم شریف؛ كِتَابُ الْهِبَاتِ؛بَابُ الْعُمْرَى؛؛جلد٣ص١٢٤٨؛حدیث نمبر ٤٠٩٥)
Muslim Shareef : Kitabul Hibat
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْهِبَاتُ
|
•