
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمہ تھی اور وہ نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہوگئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم ان کی طرف سے نذر پوری کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَضَاءِ النَّذْرِ؛ترجمہ؛نذر پورا کرنے کا حکم؛جلد٣ص١٢٦٠؛حدیث نمبر ٤١٢٧)
دیگر پانچ سندوں سے بھی یہ روایت روایت نمبر ٤١٢٧ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِقَضَاءِ النَّذْرِ؛جلد٣ص١٢٦٠؛حدیث نمبر ٤١٢٨)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نذر سے منع کرنے لگے اور آپ نے فرمایا نذر کسی چیز کو ٹالتی نہیں البتہ نذر کے ذریعے بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا؛جلد٣ص١٢٦٠؛حدیث نمبر ٤١٢٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا نذر کسی چیز کو آگے اور پیچھے نہیں کرتی البتہ اس کے ذریعے بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا؛جلد٣ص١٢٦١؛حدیث نمبر ٤١٣٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا نذر کسی خیر کو نہیں لاتی یہ صرف بخیل سے مال نکلواتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا؛جلد٣ص١٢٦١؛حدیث نمبر ٤١٣١)
دیگر دو سندوں کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث ٤١٣١ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا؛جلد٣ص١٢٦١؛حدیث نمبر ٤١٣٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نذر مت مانا کرو کیونکہ نذر تقدیر کو ٹال نہیں سکتی یہ صرف بخیل سے مال نکلوانے کا ذریعہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا؛جلد٣ص١٢٦١؛حدیث نمبر ٤١٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نذر تقدیر کو نہیں ٹالتی یہ صرف بخیل سے مال نکلوانے کا ذریعہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا؛جلد٣ص١٢٦١؛حدیث نمبر ٤١٣٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نذر کسی ایسی چیز کو ابن آدم کے قریب نہیں کرتی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقدر نہیں فرمائی البتہ نذر تقدیر کے موافق ہوجاتی ہے اور بخیل جو مال نکالنا نہیں چاہتا اس سے وہ مال نکلوا لیتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا؛جلد٣ص١٢٦٢؛حدیث نمبر ٤١٣٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤١٣٥ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا؛جلد٣ص١٢٦٢؛حدیث نمبر ٤١٣٦)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو ثقیف،بنو عقیل کا حلیف تھا ثقیف نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے دو شخصوں کو قید کرلیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام بنو عقیل کے ایک شخص کو گرفتار کر لیا اور اس کے ساتھ عضباء(اونٹنی)کو بھی پکڑ لیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کیا بات ہے؟اس نے کہا آپ نے کس جرم میں پکڑا ہے اور حاجیوں کی اونٹنی سے سبقت کرنے والی اونٹنی کو کیوں پکڑا ہے آپ نے اس بات کو عظیم قرار دیتے ہوئے فرمایا میں نے تمہیں تمہارے حلیف ثقیف کے بدلے میں پکڑا ہے پھر آپ تشریف لے گئے تو اس نے آواز دی اے محمد!اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحم دل اور رقیق القلب تھے آپ اس کی طرف لوٹے اور فرمایا کیا بات ہے؟اس نے کہا میں مسلمان ہوں آپ نے فرمایا اگر تم یہ بات اس وقت کہتے جب تمہیں اپنے معاملے کا اختیار تھا تو پوری طرح کامیابی حاصل کرتا آپ واپس ہوئے تو اس نے پھر آواز دی اور کہا اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!آپ اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا بات ہے؟اس نے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھنا کھلائیں میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلائیں آپ نے(اسے کچھ عنایت فرمایا اور)ارشاد فرمایا لو اپنی حاجت پوری کرو پھر اسے ان دو شخصوں کے عوض چھوڑ دیا جن کو ثقیف نے گرفتار کیا تھا۔ راوی کہتے ہیں انصار کی ایک عورت گرفتار کی گئی اور عضباء اونٹنی کو بھی پکڑ لیا گیا تھا وہ عورت بندھی ہوئی تھی اور لوگ اپنے گھروں کے سامنے اپنے جانوروں کو آرام پہنچا رہے تھے ایک رات وہ عورت قید سے بھاگ گئی اور اونٹوں کے پاس گئی وہ جس اونٹ کے پاس جاتی وہ آواز نکالنے لگتا اور وہ اس کو چھوڑ دیتی،پھر وہ عورت عضباء اونٹنی کے پاس گئی اور اس نے آواز نہ نکالی راوی کہتے ہیں وہ مسکین اونٹنی تھی پس وہ عورت اس اونٹنی کی پشت پر بیٹھ گئی پھر اسے ڈانٹ کر چلایا اور وہ چل پڑی ثقیف نے اس عورت کو دھمکایا اور اس کا پیچھا کیا لیکن اس نے ان کو عاجز کردیا۔ راوی کہتے ہیں اس عورت نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس اونٹنی کے ساتھ نجات دی تو وہ اس کی قربانی کرے گی جب وہ عورت مدینہ طیبہ پہنچ گئی اور صحابہ کرام نے اسے دیکھا تو کہا یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی عضباء ہے اس عورت نے کہا کہ اس نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے ساتھ نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی چنانچہ وہ لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے یہ بات بیان کی۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ!اس عورت نے اس(اونٹنی)کو کتنا برا صلہ دیا اس نے اللہ کے لئے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اس کو عضباء پر نجات دی تو وہ اس کو ذبح کردے گی گناہ کی نذر کو پورا نہیں کیا جائے گا اور نہ اس چیز کی نذر کو پورا کیا جائے گا جسکا انسان مالک نہیں ابن حجر کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں نذر پوری نہیں کی جائے گی۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ؛جلد٣ص١٢٦٢؛حدیث نمبر ٤١٣٧)
دیگر دو سندوں سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور حماد کی حدیث میں ہے کہ عضباء اونٹنی بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی اور وہ حاجیوں کی اونٹنی سے آگے نکلنے والی تھی۔ ان کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت ایک مسکین اونٹنی پر آئی جس کے گلے میں گھنٹی پڑی ہوئی تھی۔ اور ثقفی کی روایت میں ہے کہ وہ سدھائی ہوئی اونٹنی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ؛جلد٣ص١٢٦٣؛حدیث نمبر ٤١٣٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان سہارے سے جارہا تھا۔ آپ نے فرمایا اس کو کیا ہوا لوگوں نے بتایا کہ اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی تھی آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے اور اسے سوار ہونے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد٣ص١٢٦٣؛حدیث نمبر ٤١٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص اپنے دو بیٹوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے چل رہا ہے آپ نے پوچھا اس کو کیا ہوا؟اس کے بیٹوں نے کہا یا رسول اللہ!اس نے نذر مانی تھی(کہ پیدل چلے گا)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے شیخ سوار ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تجھ سے اور تیری نذر سے بےنیاز ہے حدیث کے الفاظ قتیبہ اور ابن حجر کے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد٣ص١٢٦٤؛حدیث نمبر ٤١٤٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤١٤٠ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد٣ص١٢٦٤؛حدیث نمبر ٤١٤١)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی بہن نے خانہ کعبہ کی طرف ننگے پاؤں چل کر جانے کی نذر مانی تو اس نے مجھ سے کہا کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ معلوم کرکے آؤں میں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو۔(اگر کسی ایسے کام کی نذر مانی جس پر عمل مشکل ہو تو وہ عمل چھوڑ دیا جائے اور قسم کا کفارہ ادا کردیا جائے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد٣ص١٢٦٤؛حدیث نمبر ٤١٤٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے مفضل کی روایت میں ننگے پاؤں کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد٣ص١٢٦٤؛حدیث نمبر ٤١٤٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤١٤٢ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد٣ص١٢٦٥؛حدیث نمبر ٤١٤٤)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب النَّذْرِ؛بَابٌ فِي كَفَّارَةِ النَّذْرِ؛جلد٣ص١٢٦٥؛حدیث نمبر ٤١٤٥)
Muslim Shareef : Kitabun Najr
|
Muslim Shareef : كِتَابُ النَّذْرُ
|
•