asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Aiman

From 4146 to 4233

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے آباء(واجداد)کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے اپنے آباء کی قسم نہیں کھائی نہ تو خود ذکر کرتے ہوئے اور نہ کسی سے نقل کرتے ہوئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛ترجمہ؛غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٢٦٦؛حدیث نمبر ٤١٤٦)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ". قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ذَاكِرًا ، وَلَا آثِرًا .

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4146

دو مختلف سندوں کے ساتھ یہ حدیث حدیث نمبر ٤١٤٦ کی مثل مروی ہے البتہ عقیل کی روایت میں ہے کہ جب سے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے اس سے منع فرمایا میں نے نہ تو خود یہ قسم کھائی اور نہ کسی کی قسم کا ذکر کیا نہ جان بوجھ کر اور نہ بھولے سے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٢٦٦؛حدیث نمبر ٤١٤٧)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ : مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهَا، وَلَا تَكَلَّمْتُ بِهَا. وَلَمْ يَقُلْ : ذَاكِرًا، وَلَا آثِرًا.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4147

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٢٦٦؛حدیث نمبر ٤١٤٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ بِمِثْلِ رِوَايَةِ يُونُسَ، وَمَعْمَرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4148

حضرت ابو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سواروں کی ایک جماعت میں دیکھا اس حال میں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے باپ کی قسم کھارہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آواز دی سنو!اللہ عزوجل نے تم کو اپنے آباء کی قسم کھانے سے منع کیا ہے پس جو شخص قسم کھاے تو وہ اللہ کی قسم کھاے یا خاموش رہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٢٦٧؛حدیث نمبر ٤١٤٩)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي رَكْبٍ وَعُمَرُ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَنَادَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، أَوْ لِيَصْمُتْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4149

دیگر متعدد اسانید کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤١٤٩ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٢٦٧؛حدیث نمبر ٤١٥٠)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4150

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قسم کھانے کا ارادہ کرے وہ صرف اللہ کی قسم کھاے قریش اپنے آباء(واجداد)کی قسم کھاتے تھے آپ نے فرمایا اپنے آباء کی قسم مت کھاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٢٦٧؛حدیث نمبر ٤١٥١)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ : ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ ". وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا، فَقَالَ : " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4151

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جس شخص نے اپنی قسم میں کہا لات کی قسم اسے چاہیے کہ کہے"لاالہ الااللہ" اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ کرنا چاہیے(کیونکہ اس نے گناہ کی طرف رغبت دی بطور تنبیہ صدقہ کے بارے میں فرمایا صدقہ واجب نہیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٦٧؛حدیث نمبر ٤١٥٢)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ، فَقَالَ فِي حَلِفِهِ : بِاللَّاتِ، فَلْيَقُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ : تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4152

دو مختلف سندوں کے ساتھ یہ روایت منقول ہے البتہ معمر کی روایت میں ہے کہ وہ کوئی چیز صدقہ کرے اور اوزاعی کی حدیث میں ہے کہ جو شخص لات و عزی کی قسم کھاے۔ ابوالحسین مسلم کہتے ہیں یہ حرف یعنی"آو جوا کھیلیں کہے تو وہ صدقہ دے" اسے زہری کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا نیز امام مسلم فرماتے ہیں امام زہری نوے کے قریب احادیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں جن کی اسانید عمدہ ہیں اور ان میں ان کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٦٨؛حدیث نمبر ٤١٥٣)

وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ مِثْلُ حَدِيثِ يُونُسَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ ". وَفِي حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ : " مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ". قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ : هَذَا الْحَرْفُ يَعْنِي قَوْلَهُ : " تَعَالَى أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ ". لَا يَرْوِيهِ أَحَدٌ غَيْرُ الزُّهْرِيِّ، قَالَ : وَلِلزُّهْرِيِّ نَحْوٌ مِنْ تِسْعِينَ حَدِيثًا يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُشَارِكُهُ فِيهِ أَحَدٌ بِأَسَانِيدَ جِيَادٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4153

حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتوں کی قسم نہ کھاؤ اور نہ اپنے آباء کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٦٨؛حدیث نمبر ٤١٥٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي ، وَلَا بِآبَائِكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4154

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں چند اشعریوں کے ساتھ سواری طلب کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور نہ میرے پاس سواری ہے فرماتے ہیں جس قدر اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم ٹھہرے پھر آپ کے پاس اونٹ لاے گئے تو آپ نے ہمارے لئے سفید کوہان کے تین اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم جانے لگے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے بعض سے کہا اللہ تعالیٰ ہمیں برکت نہ دے ہم رسول اکرم کے پاس سے سواری مانگتے آے آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواری نہیں دیں گے پھر آپ نے ہمیں سواری دے دی۔ اس کے ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا میں نے تمہیں سواری نہیں دی بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سواری دی۔اور بخدا میں کسی کام کو کرنے کی قسم کھاؤں پھر مجھے خیال آئے کہ اس کے خلاف بہتر ہے تو ان شاءاللہ میں اس بہتر کام کو کروں گا اور قسم کفارہ ادا کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَدْبِ مَنْ حَلَفَ يَمِينًا فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، أَنْ يَأْتِيَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَيُكَفِّرُ عَنْ يَمِينِهِ؛جلد٣ص١٢٦٨؛حدیث نمبر ٤١٥٥)

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ - وَاللَّفْظُ لِخَلَفٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ". قَالَ : فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ، فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا - أَوْ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا ؛ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا. ثُمَّ حَمَلَنَا، فَأَتَوْهُ، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ : " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4155

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ساتھیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواریاں مانگنے کے لئے بھیجا کیونکہ وہ جیش عسرت یعنی غزوہ تبوک میں آپ کے ساتھ تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کے پاس سواریاں لینے کے لئے بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!میں تمہیں سواریاں نہیں دوں گا آپ اس وقت غصے میں تھے اور مجھے اس بات کا علم نہیں تھا پس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کی وجہ سے غمگین ہوا اور اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ناراض نہ ہوے ہوں پس میں اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور جو کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ان کو بتایا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی(انہوں نے کہا)اے عبداللہ بن قیس!میں نے ان کو جواب دیا تو انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلارہے ہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ جب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے چھ اونٹوں کی طرف اشارہ کرکے فرمایا یہ جوڑا لو،یہ جوڑا لو اور یہ جوڑا لو۔میں نے اسی وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے وہ اونٹ خریدے ہیں تم ان کو اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ اور کہو کہ بےشک اللہ تعالیٰ یا فرمایا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ سواریاں دی ہیں ان پر سوار ہوجاؤ۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ان اونٹوں کو اپنے ساتھیوں کے پاس لے گیا اور کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ سواریاں دی ہیں لیکن اللہ کی قسم میں انہیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تم میں سے کوئی شخص میرے ساتھ ان لوگوں کے پاس نہیں جائے گا جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب سنا جب میں نے آپ سے تمہارے لئے سوال کیا اور آپ نے پہلی بار منع فرمایا پھر مجھے یہ اونٹ عطاء فرمائے تم یہ گمان نہ کرنا کہ میں نے تمہیں وہ بات سنائی ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی۔ انہوں نے مجھے کہا اللہ کی قسم!بےشک تم ہمارے نزدیک سچے ہو اور ہم ضرور بضرور وہ کام کریں گے جو تم چاہتے ہو پس حضرت ابو موسیٰ ان میں سے کچھ لوگوں کو لے کر گئے حتیٰ کہ ان لوگوں کے پاس پہنچے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول سنا تھا کہ آپ نے پہلے منع فرمایا پھر اس کے بعد ان کو عطاء فرمایا چنانچہ انہوں نے بھی اسی طرح بیان کیا جیسے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٦٩؛حدیث نمبر ٤١٥٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ لَهُمُ الْحُمْلَانَ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ. فَقَالَ : " وَاللَّهِ، لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ ". وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، وَلَا أَشْعُرُ، فَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي، فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي : أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ : أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ. فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ - لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ - فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ، فَقُلْ : إِنَّ اللَّهَ - أَوْ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ، فَارْكَبُوهُنَّ ". قَالَ أَبُو مُوسَى فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي بِهِنَّ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلْتُهُ لَكُمْ، وَمَنْعَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُ إِيَّايَ بَعْدَ ذَلِكَ، لَا تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ. فَقَالُوا لِي : وَاللَّهِ، إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ، وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ. فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوُا الَّذِينَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْعَهُ إِيَّاهُمْ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ، فَحَدَّثُوهُمْ بِمَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى سَوَاءً.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4156

حضرت زہدم جرمی سے مروی ہیں ہم حضرت ابو موسیٰ کے پاس تھے تو انہوں نے دسترخوان منگوایا جس پر مرغی کا گوشت تھا اتنے میں بنو تیم اللہ(قبیلے)کا ایک آدمی آیا جو سرخ رنگ کا تھا اور غلاموں کے مشابہ تھا،حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا آؤ،وہ ہچکچانے لگا تو آپ نے فرمایا آگے بڑھو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مرغ کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔اس شخص نے کہا میں نے اسے کچھ (گندگی)کھاتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے مجھے اس سے گھن آئی اور میں نے قسم کھائی کہ میں اسے نہیں کھاؤں گا انہوں نے فرمایا آؤ میں تمہیں اس کے بارے میں حدیث سناؤں میں اشعریوں کے ایک گروہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ سے سواری مانگیں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور نہ ہی میرے پاس سواری ہے۔ پس جس قدر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ لاے گئے تو آپ نے ہمیں طلب فرمایا اور ہمیں سفید کوہان کے پانچ اونٹ عطاء فرمائے فرماتے ہیں جب ہم چلے تو ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم یاد نہیں دلائی لہٰذا ہمیں ان اونٹوں میں برکت نہیں ہوگی چنانچہ ہم دوبارہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کہ آپ سے سواریاں طلب کریں تو آپ نے قسم کھائی کہ میں تمہیں سواریاں نہیں دوں گا پھر آپ نے ہمیں سواریاں عطاء کردیں تو یا رسول اللہ!کیا آپ بھول گئے؟آپ نے فرمایا بخدا!میں کسی کام کو کرنے کی قسم کھاؤں پھر اس کے علاوہ کام کو کرنا اچھا سمجھوں تو ان شاءاللہ اس بہتر کام کو کروں گا اور قسم کا کفارہ دوں گا جاؤ!تمہیں اللہ تعالیٰ نے سواریاں دی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٠؛حدیث نمبر ٤١٥٧)

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ أَيُّوبُ : وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ مِنِّي لِحَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ. قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ، فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ شَبِيهٌ بِالْمَوَالِي، فَقَالَ لَهُ : هَلُمَّ . فَتَلَكَّأَ، فَقَالَ : هَلُمَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ. فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ. فَقَالَ : هَلُمَّ أُحَدِّثْكَ عَنْ ذَلِكَ ؛ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ". فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَدَعَا بِنَا، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى . قَالَ : فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : أَغْفَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، لَا يُبَارَكُ لَنَا. فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ، وَإِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلْتَنَا، أَفَنَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4157

زہدم جرمی کہتے ہیں کہ جرم قبیلہ اور اشعریوں کے درمیان دوستی اور بھائی چارہ تھا اور ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے پس ان کے پاس کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٥٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٠؛حدیث نمبر ٤١٥٨)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4158

امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے مختلف تین سندوں کے ساتھ زہدم جرمی سے روایت کیا کہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان تینوں سندوں کے ساتھ حماد بن زید کی روایت(٤١٥٨)کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧١؛حدیث نمبر ٤١٥٩)

وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى . وَاقْتَصُّوا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4159

زہدم جرمی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ مرغی کا گوشت تناول فرمارہے تھے۔اس کے بعد سابقہ روایت کی طرح ہے۔البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے فرمایا بخدا!میں اس قسم کو نہیں بھولا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧١؛حدیث نمبر ٤١٦٠)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الصَّعِقُ - يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ - حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ فِيهِ : قَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ، مَا نَسِيتُهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4160

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواریاں مانگنے کے لئے گئے آپ نے فرمایا میرے پاس تمہارے لئے سواری نہیں ہے اور اللہ کی قسم!میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس تین اونٹ بھیجے جن کی کوہانیں سفید تھیں تو ہم نے کہا ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواریاں مانگنے حاضر ہوئے تو آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ پس ہم نے آپ کے پاس حاضر ہوکر آپ کو قسم یاد دلائی تو آپ نے فرمایا بےشک میں جب کسی کام کو کرنے کی قسم کھاؤں پھر مجھے خیال آئے کہ اس کے خلاف کرنا بہتر ہے تو میں وہ کام کروں گا جو اس سے بہتر ہے(اور قسم کا کفارہ دوں گا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧١؛حدیث نمبر ٤١٦١)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ : " مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ، وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ ". ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَى ، فَقُلْنَا : إِنَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، فَأَتَيْنَاهُ، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ : " إِنِّي لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ أَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4161

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم پیادہ تھے تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سواریاں طلب کیں اس کے بعد حضرت جریر کی روایت نمبر ٤١٦١ کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧١؛حدیث نمبر ٤١٦٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مُشَاةً، فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ. بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4162

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیر ہوگئی جب وہ اپنے گھر گیا تو بچے سوگئے تھے اس کی بیوی اس کے پاس کھانا لے کر آئی تو اس نے بچوں کی وجہ سے قسم کھائی کہ وہ کھانا نہیں کھاے گا پھر اسے خیال آیا تو اس نے کھانا کھالیا اس کے بعد اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ عرض کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قسم کھاے پھر اسے خیال آئے کہ اس کے خلاف کرنا بہتر ہے تو وہ اس بہتر کام کو کرے اور قسم کا کفارہ ادا کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧١؛حدیث نمبر ٤١٦٣)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَعْتَمَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَوَجَدَ الصِّبْيَةَ قَدْ نَامُوا، فَأَتَاهُ أَهْلُهُ بِطَعَامِهِ، فَحَلَفَ لَا يَأْكُلُ مِنْ أَجْلِ صِبْيَتِهِ، ثُمَّ بَدَا لَهُ، فَأَكَلَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِهَا، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4163

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کام کی قسم کھائی پھر اس کے خلاف کو بہتر خیال کیا تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کام کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٢؛حدیث نمبر ٤١٦٤)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَفْعَلْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4164

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی کام کی قسم کھائی پھر اس کے خلاف کو اس سے بہتر خیال کیا تو اس بہتر کام کو کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٢؛حدیث نمبر ٤١٦٥)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4165

ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت منقول ہے اور اس میں ہے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور اس بہتر کام کو کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٢؛حدیث نمبر ٤١٦٦)

وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ - حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ : فَلْيُكَفِّرْ يَمِينَهُ، وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4166

حضرت تمیم بن طرفہ کہتے ہیں ایک سائل حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ایک غلام کی قیمت کا کچھ حصہ طلب کیا انہوں نے فرمایا میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں البتہ ایک زرہ اور خود(لوہے کی ٹوپی)ہے میں اپنے گھر والوں کو لکھتا ہوں کہ وہ تمہیں کچھ دیں مگر وہ راضی نہ ہوا اس پر حضرت عدی کو غصہ آیا اور انہوں نے کہا سنو!اللہ کی قسم!میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا پھر وہ شخص راضی ہوگیا تو حضرت عدی نے کہا اللہ کی قسم!اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ جس شخص نے قسم کھائی پھر اس نے خیال کیا کہ اس کے خلاف میں اللہ تعالیٰ کا تقوی زیادہ ہے تو وہ اس تقوی والے کام کو کرے تو میں نے اپنی قسم نہ توڑتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٢؛حدیث نمبر ٤١٦٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ - عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، قَالَ : جَاءَ سَائِلٌ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، فَسَأَلَهُ نَفَقَةً فِي ثَمَنِ خَادِمٍ، أَوْ فِي بَعْضِ ثَمَنِ خَادِمٍ، فَقَالَ : لَيْسَ عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ إِلَّا دِرْعِي، وَمِغْفَرِي، فَأَكْتُبُ إِلَى أَهْلِي أَنْ يُعْطُوكَهَا. قَالَ : فَلَمْ يَرْضَ، فَغَضِبَ عَدِيٌّ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ، لَا أُعْطِيكَ شَيْئًا. ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ رَضِيَ فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ رَأَى أَتْقَى لِلَّهِ مِنْهَا فَلْيَأْتِ التَّقْوَى " مَا حَنَّثْتُ يَمِينِي.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4167

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی کام کی قسم کھائی پھر اس کے خلاف کام کو اس سے بہتر خیال کیا تو وہ اس بہتر کام کو کرے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٦٨)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيَتْرُكْ يَمِينَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4168

حضرت عدی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک قسم کھاے پس اس کے خلاف کو اس سے بہتر خیال کرے تو اس قسم کا کفارہ ادا کرے اور اس کام کو کرے جو بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٦٩)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ طَرِيفٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَدِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ عَلَى الْيَمِينِ، فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْهَا، وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4169

حضرت عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ(مندرجہ بالا بات) فرماتے ہوئے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٧٠)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4170

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص ایک سو درہم مانگنے کے لئے آیا حضرت عدی نے کہا تو مجھ سے ایک سو درہم مانگتا ہے حالانکہ میں حاتم کا بیٹا ہوں اللہ کی قسم میں تجھے نہیں دوں گا پھر فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنا ہوا ہے کہ جو شخص کسی کام کرنے کی قسم کھاے پھر اس سے بہتر کام کو دیکھے تو اس بہتر کام کو کرے(اگر میں نے یہ بات نہ سنی ہوتی تو تمہیں نہ دیتا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٧١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ مِائَةَ دِرْهَمٍ، فَقَالَ : تَسْأَلُنِي مِائَةَ دِرْهَمٍ وَأَنَا ابْنُ حَاتِمٍ، وَاللَّهِ، لَا أُعْطِيكَ. ثُمَّ قَالَ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ رَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4171

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے ان سے سوال کیا اس کے بعد حسب سابق روایت ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ تم میری عطاء سے چار سو درہم لے لو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٧٢)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ تَمِيمَ بْنَ طَرَفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ. فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَزَادَ : وَلَكَ أَرْبَعُمِائَةٍ فِي عَطَائِي.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4172

حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبد الرحمن!حکومت کا سوال نہ کرنا اگر تمہیں سوال کرنے سے حکومت ملی تو تم اس کے سپرد کردیئے جاؤ گے اور اگر تمہیں سوال کے بغیر ملی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی کام کی قسم کھاؤ پھر اس کے خلاف کو بہتر خیال کرو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور اس بہتر کام کو کرے۔ ایک اور سند کے ساتھ بھی اسی طرح مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٣؛حدیث نمبر ٤١٧٣)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ الْجُلُودِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَاسَرْجِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4173

چار مختلف سندوں کے ساتھ بھی حضرت امام مسلم علیہ الرحمہ نے حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے ایک سند سے مروی روایت میں حکومت کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؛جلد٣ص١٢٧٤؛حدیث نمبر ٤١٧٤)

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُمَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ فِي آخَرِينَ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ح وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِيهِ ذِكْرُ الْإِمَارَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4174

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری قسم میں اس چیز کا اعتبار ہوگا جس کی تصدیق تمہارا ساتھی کرے گا عمر کی روایت میں"یصدقک بہ صاحبک" کے الفاظ(یعنی علیہ کی جگہ بہ کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ يَمِينِ الْحَالِفِ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ؛ترجمہ؛قسم میں قسم دلانے والے کی نیت کا اعتبار ہے؛جلد٣ص١٢٧٤؛حدیث نمبر ٤١٧٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ وَقَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ عَلَيْهِ صَاحِبُكَ ". وَقَالَ عَمْرٌو : " يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4175

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم کھانے والے کی نیت کے لحاظ سے قسم ہوگی۔(مطلب یہ ہے کہ کسی شخص نے دوسرے آدمی سے کہا تم قسم اٹھاؤ فلاں بات اس طرح ہے تو اسی بات کے لئے قسم ہوگی اب قسم اٹھانے والا کہے کہ میں نے فلاں بات کے لئے قسم کھائی ہے تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا۔١٢ہزاروی)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ يَمِينِ الْحَالِفِ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ؛جلد٣ص١٢٧٤؛حدیث نمبر ٤١٧٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4176

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ساٹھ ازواج تھیں انہوں نے قسم کھائی کہ میں آج رات تمام ازواج کے پاس جاؤں گا جس سے ہر زوجہ حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے ایک شہسوار بچہ پیدا ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرے گا لیکن ان میں سے صرف ایک حاملہ ہوئی اور اس کے ہاں بھی آدھا(ناتمام)بچہ پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ استثناء کرتے(ان شاء اللہ کہتے)تو ہر عورت کے ہاں ایک شہسوار لڑکا پیدا ہوتا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛ترجمہ؛قسم میں استثناء؛جلد٣ص١٢٧٥؛حدیث نمبر ٤١٧٧)

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي الرَّبِيعِ - قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ : ابْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ لِسُلَيْمَانَ سِتُّونَ امْرَأَةً، فَقَالَ : لَأَطُوفَنَّ عَلَيْهِنَّ اللَّيْلَةَ فَتَحْمِلُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَتَلِدُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا وَاحِدَةٌ فَوَلَدَتْ نِصْفَ إِنْسَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ اسْتَثْنَى لَوَلَدَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4177

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا آج میں ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا ہر ایک کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرے گا تو ان کے کسی ساتھی فرشتے نے کہا آپ"ان شاء اللہ"کے الفاظ کہیں لیکن وہ بھولنے کی وجہ سے نہ کہ سکے پس ان کی ایک زوجہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور وہ بھی آدھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ"ان شاء اللہ"کہتے تو ان کی قسم نہ ٹوٹتی اور ان کا مقصد پورا ہوجاتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛ترجمہ قسم میں استثناء؛جلد٣ص١٢٧٥؛حدیث نمبر ٤١٧٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ نَبِيُّ اللَّهِ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَأْتِي بِغُلَامٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ - أَوِ الْمَلَكُ - : قُلْ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَلَمْ يَقُلْ، وَنَسِيَ، فَلَمْ تَأْتِ وَاحِدَةٌ مِنْ نِسَائِهِ إِلَّا وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ غُلَامٍ ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَوْ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ دَرَكًا لَهُ فِي حَاجَتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4178

ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤١٧٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛جلد٣ص١٢٧٥؛حدیث نمبر ٤١٧٩)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، أَوْ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4179

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے فرمایا آج رات میں ستر ازواج کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر ایک عورت ایک بچہ جنے گی جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑے گا ان سے عرض کیا گیا کہ آپ"ان شاء اللہ"کہیں لیکن انہوں نے یہ کلمات نہ کہے پس ان ازواج سے صرف ایک خاتون کے ہاں نصف بچہ پیدا ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ"ان شاء اللہ"کہتے تو ان کی قسم نہ ٹوٹتی اور وہ اپنی حاجت کو پالیتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛جلد٣ص١٢٧٥؛حدیث نمبر ٤١٨٠)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لَأُطِيفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقِيلَ لَهُ : قُلْ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَلَمْ يَقُلْ، فَأَطَافَ بِهِنَّ، فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ. قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ دَرَكًا لِحَاجَتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4180

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا آج رات میں نوے بیویوں کے ہاں جاؤں گا ان میں سے ہر ایک ہاں ایک شہسوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑے گا۔ ان کے ساتھی نے کہا"ان شاء اللہ"کے الفاظ کہیں لیکن انہوں نے"ان شاء اللہ"نہ کہا پس وہ تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے لیکن ان میں سے صرف ایک خاتون حاملہ ہوئیں اور ان کے ہاں بھی ایک ناتمام بچہ پیدا ہوا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر وہ"انشاء اللہ"کہتے تو وہ سب شہسوار ہوتے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛جلد٣ص١٢٧٦؛حدیث نمبر ٤١٨١)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهَا تَأْتِي بِفَارِسٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : قُلْ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَلَمْ يَقُلْ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ. فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا، فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، فَجَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4181

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ ہر عورت سے لڑکا پیدا ہوتا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ الِاسْتِثناء؛جلد٣ص١٢٧٦؛حدیث نمبر ٤١٨٢)

وَحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّهَا تَحْمِلُ غُلَامًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4182

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل خانہ کے بارے میں قسم پر اصرار کرے تو اللہ تعالیٰ نے جس کفارے کو فرض کیا ہے اس کی ادائیگی کے مقابلے میں(قسم پر)اصرار کرنا زیادہ گناہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْإِصْرَارِ عَلَى الْيَمِينِ، فِيمَا يَتَأَذَّى بِهِ أَهْلُ الْحَالِفِ، مِمَّا لَيْسَ بِحَرَامٍ؛اگر قسم سے اہل خانہ کو نقصان ہو تو قسم پر اصرار منع ہے بشرطیکہ وہ کام حرام نہ ہو؛جلد٣ص١٢٧٦؛حدیث نمبر ٤١٨٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ، لَأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4183

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف بیٹھوں گا آپ نے فرمایا اپنی نذر کو پورا کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛ترجمہ؛کافر کی نذر اور اسلام لانے کے بعداس نذر کو پورا کرنا؛جلد٣ص١٢٧٧؛حدیث نمبر ٤١٨٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ. قَالَ : " فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4184

امام مسلم رحمت اللہ علیہ نے چار مختلف سندوں کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ابواسامہ اور ثقفی کی روایت میں ایک رات کے اعتکاف کا ذکر ہے اور شعبہ کی حدیث میں ایک دن کے اعتکاف کی نذر ماننے کا ذکر ہے اور حفص کی روایت میں دن اور رات کسی کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٢٧٧؛حدیث نمبر ٤١٨٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَقَالَ : حَفْصٌ مِنْ بَيْنِهِمْ، عَنْ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ. أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ، وَالثَّقَفِيُّ فَفِي حَدِيثِهِمَا اعْتِكَافُ لَيْلَةٍ، وَأَمَّا فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، فَقَالَ : جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ حَفْصٍ ذِكْرُ يَوْمٍ، وَلَا لَيْلَةٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4185

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے طائف سے واپسی کے بعد مقام جعرانہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ!میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک دن اعتکاف بیٹھوں گا تو آپ کا کیا ارشاد ہے آپ نے فرمایا جاؤ ایک دن اعتکاف بیٹھوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خمس میں سے ایک لونڈی دی تھی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کیا تو انہوں نے پوچھا یہ کیا ہے؟انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا ہے پس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عبد اللہ(بن عمر)جاؤ اور اس لونڈی کو آزاد کردو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٢٧٧؛حدیث نمبر ٤١٨٦)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَنَّ أَيُّوبَ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ بَعْدَ أَنْ رَجَعَ مِنَ الطَّائِفِ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَكَيْفَ تَرَى ؟ قَالَ : " اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ يَوْمًا ". قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ فَلَمَّا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْوَاتَهُمْ يَقُولُونَ : أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ. فَقَالَ عُمَرُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ، اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْجَارِيَةِ فَخَلِّ سَبِيلَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4186

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ حنین سے واپس تشریف لائے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں ایک دن اعتکاف کی نذر کے بارے میں سوال کیا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٨٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٢٧٨؛حدیث نمبر ٤١٨٧)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؛ اعْتِكَافِ يَوْمٍ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4187

حضرت نافع کہتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ جعرانہ کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا آپ نے جعرانہ سے عمرہ نہیں کیا پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زمانہ جاہلیت میں ایک دن کے اعتکاف کی نذر کا ذکر کیا اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٨٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٢٧٨؛حدیث نمبر ٤١٨٨)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ عُمْرَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ، فَقَالَ : لَمْ يَعْتَمِرْ مِنْهَا. قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ نَذَرَ اعْتِكَافَ لَيْلَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَمَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4188

امام مسلم نے دو سندوں کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نذر کے بارے میں اس حدیث کو روایت کیا اور ان دونوں سندوں میں ایک دن کے اعتکاف کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ نَذْرِ الْكَافِرِ وَمَا يَفْعَلُ فِيهِ إِذَا أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٢٧٨؛حدیث نمبر ٤١٨٩)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي النَّذْرِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا : اعْتِكَافُ يَوْمٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4189

زاذان ابوعمر کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہوں نے ایک غلام آزاد کیا تھا انہوں نے زمین سے لکڑی یا کوئی اور چیز اٹھا کر کہا اس(غلام آزاد کرنے)میں اتنا ثواب بھی نہیں لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ مارے یا اسے پیٹے تو اس کا کفارہ اسے آزاد کرنا ہے۔۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛ترجمہ؛غلاموں سے برتاؤ اور غلام کو تھپڑ مارنے کا کفارہ؛جلد٣ص١٢٧٨؛حدیث نمبر ٤١٩٠)

حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ : أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وَقَدْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا، قَالَ : فَأَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ عُودًا، أَوْ شَيْئًا، فَقَالَ : مَا فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَسْوَى هَذَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ لَطَمَ مَمْلُوكَهُ، أَوْ ضَرَبَهُ، فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4190

حضرت زاذان کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کی پیٹھ پر نشان دیکھے اور اس سے پوچھا کہ میں نے تمہیں تکلیف پہنچائی ہے؟اس نے کہا نہیں فرمایا تم آزاد ہو۔ فرماتے ہیں پھر انہوں نے زمین سے کوئی چیز اٹھائی اور فرمایا میرے لئے اس میں اس کے برابر بھی ثواب نہیں لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے غلام کو کسی جرم کے بغیر پیٹے یا اسے تھپڑ مارے تو اس کا کفارہ اس کو آزاد کرنا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٧٩؛حدیث نمبر ٤١٩١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ زَاذَانَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَعَا بِغُلَامٍ لَهُ، فَرَأَى بِظَهْرِهِ أَثَرًا، فَقَالَ لَهُ : أَوْجَعْتُكَ ؟ قَالَ : لَا. قَالَ : فَأَنْتَ عَتِيقٌ. قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ فَقَالَ : مَا لِي فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَزِنُ هَذَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ أَوْ لَطَمَهُ فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4191

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے ابن مہدی کی روایت میں«حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ»، کے الفاظ ہیں اور وکیع کی روایت میں«مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ» کے الفاظ ہیں اور حد کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٧٩؛حدیث نمبر ٤١٩٢)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ ، وَأَبِي عَوَانَةَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ مَهْدِيٍّ فَذَكَرَ فِيهِ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : " مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ "، وَلَمْ يَذْكُرِ : " الْحَدَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4192

معاویہ بن سوید کہتے ہیں میں نے ایک غلام کو تھپڑ مارا پھر میں بھاگ گیا اور ظہر سے تھوڑی دیر پہلے آیا میں نے اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی میرے والد نے مجھے اور اس غلام کو بلایا پھر غلام سے فرمایا بدلہ لو لیکن اس نے معاف کردیا۔ پھر سوید نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم بنو مقرن کے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی ایک نے اسے تھپڑ ماردیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا اسے آزاد کردو،انہوں نے کہا ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی خادم نہیں آپ نے فرمایا اچھا یہ اس سے خدمت لیتے رہیں اور جب اس کی خدمت کی ضرورت نہ رہے تو اس کو آزاد کردیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٧٩؛حدیث نمبر ٤١٩٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا، فَهَرَبْتُ، ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي ، فَدَعَاهُ وَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ : امْتَثِلْ مِنْهُ. فَعَفَا، ثُمَّ قَالَ : كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَعْتِقُوهَا ". قَالُوا : لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا. قَالَ : " فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4193

بلال بن یساف کہتے ہیں ایک شخص نے جلدی کی اور اپنے غلام کو تھپڑ ماردیا تو سوید بن مقرن نے ان سے کہا تمہیں اس کے چہرے کے علاوہ کوئی جگہ نہیں ملی تھی میں نے دیکھا کہ بنو مقرن کا ساتواں بیٹا ہوں اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی چھوٹے نے اس کو تھپڑ ماردیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٧٩؛حدیث نمبر ٤١٩٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، قَالَ : عَجِلَ شَيْخٌ، فَلَطَمَ خَادِمًا لَهُ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ : عَجَزَ عَلَيْكَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ بَنِي مُقَرِّنٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ لَطَمَهَا أَصْغَرُنَا، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4194

ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم نعمان بن مقرن کے بھائی سوید بن مقرن کے گھر کپڑا بیچا کرتے تھے ایک لونڈی آئی اور اس نے ہمارے کسی شخص سے کچھ کہا اس شخص نے اس لونڈی کو تھپڑ ماردیا سوید غضبناک ہوگئے اس کے بعد ابن ادریس کی روایت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨٠؛حدیث نمبر ٤١٩٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، قَالَ : كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَخِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ، فَقَالَتْ لِرَجُلٍ مِنَّا كَلِمَةً، فَلَطَمَهَا، فَغَضِبَ سُوَيْدٌ . فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4195

سوید بن مقرن سے روایت ہے کہ ان کی لونڈی کو کسی نے تھپڑ ماردیا تو سوید نے اس سے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ چہرہ قابل احترام ہے پھر انہوں نے کہا مجھے یاد ہے میں اپنے بھائیوں میں سے ساتواں تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی شخص نے اس خادم کو ایک تھپڑ لگا دیا۔ پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨٠؛حدیث نمبر ٤١٩٦)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ : مَا اسْمُكَ ؟ قُلْتُ : شُعْبَةُ. فَقَالَ مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ الْعِرَاقِيُّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، أَنَّ جَارِيَةً لَهُ لَطَمَهَا إِنْسَانٌ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدٌ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَابِعُ إِخْوَةٍ لِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا خَادِمٌ غَيْرُ وَاحِدٍ، فَعَمَدَ أَحَدُنَا فَلَطَمَهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4196

شعبہ کہتے ہیں مجھ سے محمد بن منکدر نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤١٩٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨٠؛حدیث نمبر ٤١٩٧)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ : مَا اسْمُكَ ؟ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4197

حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک غلام کو چابک سے مار رہا تھا اچانک میں نے پیچھے سے ایک آواز سنی کہ اے ابو مسعود!جان لو،لیکن مجھے غصے کی وجہ سے آواز کا پتہ نہ چلا،لیکن جب وہ میرے قریب ہوے تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ فرما رہے تھے اے ابو مسعود جان لو!اے ابو مسعود جان لو!حضرت ابومسعود کہتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے چابک پھینک دیا تو آپ نے فرمایا اے ابو مسعود!جان لو کہ جس قدر تم اس غلام پر قادر ہو اللہ تعالیٰ اس سے بڑھ کر تم پر قادر ہے فرماتے ہیں میں نے کہا میں آئندہ کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨٠؛حدیث نمبر ٤١٩٨)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ : كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي بِالسَّوْطِ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي : " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ ". فَلَمْ أَفْهَمِ الصَّوْتَ مِنَ الْغَضَبِ. قَالَ : فَلَمَّا دَنَا مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَقُولُ : " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ ". قَالَ : فَأَلْقَيْتُ السَّوْطَ مِنْ يَدِي، فَقَالَ : " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ أَنَّ اللَّهَ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا الْغُلَامِ ". قَالَ : فَقُلْتُ : لَا أَضْرِبُ مَمْلُوكًا بَعْدَهُ أَبَدًا.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4198

دیگر تین سندوں کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ جریر کی سند میں اس طرح ہے کہ آپ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے چابک گر گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨١؛حدیث نمبر ٤١٩٩)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَهُوَ : الْمَعْمَرِيُّ - عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ الْوَاحِدِ نَحْوَ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ : فَسَقَطَ مِنْ يَدِي السَّوْطُ مِنْ هَيْبَتِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4199

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنے غلاموں کو مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی کہ اے ابومسعود!تمہیں علم ہونا چاہئے کہ جس قدر تم اس غلام پر قادر ہو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ تم پر قادر ہے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ اللہ تعالیٰ کے لئے آزاد ہے آپ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتے تو تم جہنم کی آگ میں ڈالے جاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨١؛حدیث نمبر ٤٢٠٠)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي، فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا : " اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ ". فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ. فَقَالَ : " أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ "، أَوْ " لَمَسَّتْكَ النَّارُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4200

حضرت ابو مسعود بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا اللہ کی پناہ!وہ اسے پھر مارنے لگے تو اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ!(یہ سن کر)اسے چھوڑ دیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس قدر تم اس پر قادر ہو اللہ تعالیٰ اس سے بڑھ کر تم پر قادر ہے راوی فرماتے ہیں پس انہوں نے اسے آزاد کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨١؛حدیث نمبر ٤٢٠١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَضْرِبُ غُلَامَهُ، فَجَعَلَ يَقُولُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ. قَالَ : فَجَعَلَ يَضْرِبُهُ، فَقَالَ : أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ. فَتَرَكَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ، لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ ". قَالَ : فَأَعْتَقَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4201

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی پناہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ صُحْبَةِ الْمَمَالِيكِ، وَكَفَّارَةِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ؛جلد٣ص١٢٨١؛حدیث نمبر ٤٢٠٢)

وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ، أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4202

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی قیامت کے دن اس پر حد قائم کی جائے گی(عذاب دیا جائے گا)مگر یہ کہ وہ سچا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٢؛حدیث نمبر ٤٢٠٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي نُعْمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَى يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4203

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں یہ ہیں کہ میں نے أبوالقاسم نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٢؛حدیث نمبر ٤٢٠٤)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، كِلَاهُمَا عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيَّ التَّوْبَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4204

حضرت معرور بن سوید کہتے ہیں کہ ہم ربذہ میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ایک چادر پہن رکھی تھی اور ان کے غلام نے بھی ویسی ہی چادر پہنی ہوئی تھی۔ہم نے کہا اے ابوذر!اگر تم یہ دونوں چادریں پہنتے تو یہ حلہ(جوڑا)ہوجاتا۔انہوں نے کہا میرے اور میرے ایک بھائی کے درمیان لڑائی ہوئی تھی اور اس کی ماں عجمی تھی میں نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے عار دلائی تو اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت لگائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا اے ابوذر!تم ایسے شخص ہو جس میں زمانہ جاہلیت کی عادت ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!جو شخص لوگوں کو گالی دے گا تو لوگ اس کے باپ اور ماں کو گالی دیں گے آپ نے فرمایا اے ابوذر!تم میں دور جاہلیت کی عادت ہے یہ لوگ تمہارے بھائی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ماتحت کیا ہے پس جو کچھ کھاؤ اس سے ان کو کھلاؤ اور جو کچھ خود پہنو اس سے ان کو پہناؤ اور ان کو ایسے کام کا مکلف نہ بناؤ جو ان پر غالب آجائے اور اگر تم ان کو(ایسے کام کی)تکلیف دو تو ان کی مدد کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ إِطْعَامِ الْمَمْلُوكِ مِمَّا يَأْكُلُ، وَإِلْبَاسُهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ؛جلد٣ص١٢٨٢؛حدیث نمبر ٤٢٠٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : مَرَرْنَا بِأَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ، وَعَلَى غُلَامِهِ مِثْلُهُ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا ذَرٍّ ، لَوْ جَمَعْتَ بَيْنَهُمَا كَانَتْ حُلَّةً. فَقَالَ : إِنَّهُ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ إِخْوَانِي كَلَامٌ، وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ، فَشَكَانِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ ". قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ سَبَّ الرِّجَالَ سَبُّوا أَبَاهُ وَأُمَّهُ. قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ ؛ هُمْ إِخْوَانُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4205

مزید دو سندوں سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں ان الفاظ کے بعد کہ"تم میں زمانہ جاہلیت کی عادت ہے"یہ زائد ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے عرض کیا میرے اس بڑھاپے کے حال میں؟آپ نے فرمایا"ہاں" ابو معاویہ کی روایت میں ہے آپ نے فرمایا ہاں تمہارے بڑھاپے کے حال میں بھی،عیسی کی روایت میں ہے اگر وہ اسے کام کی تکلیف دے جو اس پر غالب آجائے تو اسے بیچ دے اور زہیر کی روایت میں ہے کہ اس سلسلے میں اس کی مدد کرے اور ابو معاویہ کی روایت میں اس کو فروخت کرنے کا ذکر نہیں اور نہ ہی اس کی اعانت کا ذکر ہے بلکہ"اسے ایسے کام کی تکلیف نہ دے جو اس پر غالب آے"کے الفاظ پر روایت مکمل ہوجاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٣؛حدیث نمبر ٤٢٠٦)

وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَأَبِي مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَوْلِهِ : " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ ". قَالَ : قُلْتُ : عَلَى حَالِ سَاعَتِي مِنَ الْكِبَرِ. قَالَ : " نَعَمْ ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُعَاوِيَةَ : " نَعَمْ، عَلَى حَالِ سَاعَتِكَ مِنَ الْكِبَرِ ". وَفِي حَدِيثِ عِيسَى : " فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيَبِعْهُ ". وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ : " فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ ". وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ : " فَلْيَبِعْهُ "، وَلَا " فَلْيُعِنْهُ ". انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ : " وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4206

حضرت معرور بن سوید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو ایک حلہ(جوڑا)پہنے ہوئے دیکھا اور ان کے غلام نے بھی ایسا ہی حلہ پہنا ہوا تھا میں نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص کو برا بھلا کہا اور اسے اس کی ماں کے حوالے سے عار دلائی۔ فرماتے ہیں وہ شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے یہ ماجرا بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں جاہلیت کی عادت پائی جاتی ہے یہ تمہارے بھائی اور تمہارے خادم ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ماتحت کردیا ہے پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو اسے اس میں سے کھلاے جو خود کھاتا ہے اور اسے اس لباس میں سے پہناے جو خود پہنتا ہے اور ان کو ایسے کاموں کی تکلیف نہ دو جو ان پر غالب آجائیں اور اگر تم ان کو تکلیف دو تو اس پر ان کی مدد کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٣؛حدیث نمبر ٤٢٠٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، وَعَلَى غُلَامِهِ مِثْلُهَا، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ : فَذَكَرَ أَنَّهُ سَابَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَيَّرَهُ بِأُمِّهِ، قَالَ : فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ إِخْوَانُكُمْ وَخَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ عَلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4207

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلام کو کھانا اور کپڑا دو اور اسے اسی کام کی تکلیف دی جائے جس کی وہ طاقت رکھتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٤؛حدیث نمبر ٤٢٠٨)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ عَنِ الْعَجْلَانِ - مَوْلَى فَاطِمَةَ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ، وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4208

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کے لئے اس کا خادم کھانا تیار کرے پھر وہ اسے لے کر آئے درآں حالیکہ اس نے کھانا پکانے میں گرمی اور دھواں برداشت کیا تو وہ اسے اپنے ساتھ بیٹھا کر کھلاے اور اگر کھانا بہت کم ہو تو اس کے ہاتھ میں ایک یا دو لقمے رکھ دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا؛جلد٣ص١٢٨٤؛حدیث نمبر ٤٢٠٩)

وَحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ ". قَالَ دَاوُدُ : يَعْنِي لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4209

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اچھی طرح کرے تو اس کے لئے دو گنا اجر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٤؛حدیث نمبر ٤٢١٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4210

چار سندوں کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت منقول ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٤؛حدیث نمبر ٤٢١١)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : الْقَطَّانُ - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4211

حضرت سعید بن مسیب،حضرت ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ)سے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا نیک غلام کے لئے دو اجر ہیں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابوہریرہ کی جان ہے اگر جہاد فی سبیل اللہ،حج اور ماں کے ساتھ سلوک کی عبادات نہ ہوتیں تو میں یہ بات پسند کرتا کہ مجھے غلامی کی حالت میں موت آئے۔ راوی کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کی خدمت کی وجہ سے ان کی وفات تک حج نہیں کیا او طاہر نے اپنی حدیث میں نیک غلام کا ذکر کیا ہے محض غلام کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٤؛حدیث نمبر ٤٢١٢)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ الْمُصْلِحِ أَجْرَانِ ". وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْحَجُّ، وَبِرُّ أُمِّي لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ. قَالَ : وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمْ يَكُنْ يَحُجُّ حَتَّى مَاتَتْ أُمُّهُ لِصُحْبَتِهَا. قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ : " لِلْعَبْدِ الْمُصْلِحِ "، وَلَمْ يَذْكُرِ : " الْمَمْلُوكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4212

اسی سند کے ساتھ ابن شہاب سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔اور اس میں یہ الفاظ نہیں کہ"ہمیں خبر پہنچی ہے"اور اس کے بعد کے الفاظ بھی نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٥؛حدیث نمبر ٤٢١٣)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ : بَلَغَنَا. وَمَا بَعْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4213

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ اللہ تعالیٰ کا حق اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں،راوی کہتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت کعب کو سنائی انہوں نے فرمایا اس غلام سے حساب نہیں ہوگا اور نہ اس مؤمن سے حساب ہوگا جو دنیا سے بےرغبتی رکھتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٥؛حدیث نمبر ٤٢١٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَدَّى الْعَبْدُ حَقَّ اللَّهِ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ ". قَالَ : فَحَدَّثْتُهَا كَعْبًا، فَقَالَ كَعْبٌ : لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ، وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ .

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4214

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٢١٤ کی مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٥؛حدیث نمبر ٤٢١٥)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4215

ہمام بن منبہ کہتے ہیں یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں انہوں نے اس سلسلے میں روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیا ہی اچھا غلام ہے جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی اچھی طرح کرتا ہو اور اپنے مالک کی خیر خواہی بھی کرتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ ثَوَابِ الْعَبْدِ وَأَجْرِهِ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللهِ؛جلد٣ص١٢٨٥؛حدیث نمبر ٤٢١٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يُتَوَفَّى يُحْسِنُ عِبَادَةَ اللَّهِ، وَصَحَابَةَ سَيِّدِهِ نِعِمَّا لَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4216

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس غلام کی قیمت کے برابر مال ہو تو اس غلام کی ٹھیک ٹھاک قیمت لگائی جائے پھر وہ اپنے شرکاء کو ان کا حصہ ادا کردے تو وہ غلام اس کی طرف سے آزاد ہوجائے گا ورنہ اس کی طرف سے اسی قدر آزاد ہوگا جس قدر اس نے آزاد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٦؛حدیث نمبر ٤٢١٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ، وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4217

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کرے تو اس پر لازم ہے کہ پورے غلام کو آزاد کرے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس(غلام)کی قیمت کو پہنچتا ہو اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کی طرف سے اسی قدر آزاد ہوگا جس قدر اس نے آزاد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٦؛حدیث نمبر ٤٢١٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4218

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال تھا جو اس کی قیمت کو پہنچتا تھا تو اس کی مناسب قیمت لگائی جائے گی ورنہ اسی قدر غلام آزاد ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٦؛حدیث نمبر ٤٢١٩)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ - مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ قَدْرُ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4219

متعدد اسانید کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے لیکن ان حضرات کی روایت میں یہ ہے کہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کی طرف سے اسی قدر آزاد ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا البتہ ایوب اور یحییٰ بن سعید کی حدیث میں یہ الفاظ مذکور ہیں اور وہ فرماتے ہیں ہمیں معلوم نہیں کہ آیا یہ الفاظ حدیث کے ہیں یا حضرت نافع(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راوی)نے اپنی طرف سے کہا ہے۔ اسی طرح لیث بن سعد کے علاوہ کسی کی حدیث میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی نہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٦؛حدیث نمبر ٤٢٢٠)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ : ابْنُ زَيْدٍ - ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ : " وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ". إِلَّا فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ؛ فَإِنَّهُمَا ذَكَرَا هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ، وَقَالَا : لَا نَدْرِي أَهُوَ شَيْءٌ فِي الْحَدِيثِ أَوْ قَالَهُ نَافِعٌ مِنْ قِبَلِهِ ؟ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَحَدٍ مِنْهُمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. إِلَّا فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4220

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے اور کسی دوسرے شخص کے درمیان مشترک غلام کو آزاد کیا تو اس کے مال میں سے اس(غلام)کی مناسب قیمت لگائی جائے نہ کمی ہو نہ زیادتی پھر وہ اس کے مال سے آزاد ہوگا اگر کشادہ حال ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢١)

وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ قُوِّمَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ قِيمَةَ عَدْلٍ لَا وَكْسَ ، وَلَا شَطَطَ ، ثُمَّ عَتَقَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ مُوسِرًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4221

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کیا تو جو باقی ہے وہ اس کے مال سے آزاد ہوگا جب اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس غلام کی قیمت کو پہنچتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢٢)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ، إِذَا كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4222

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے ایک اسے آزاد کر دے تو(دوسرا)اس کی قیمت کا ضامن ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا، قَالَ : " يَضْمَنُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4223

ایک اور سند کے ساتھ حضرت شعبہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا جس شخص نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا وہ اس کے مال سے آزاد کیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢٤)

وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ مَمْلُوكٍ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4224

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس شخص نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا تو اس کی آزادی اسی شخص کے مال سے ہوگی اگر اس کے پاس مال ہو اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے کمائی کرائی جائے لیکن اسے(زیادہ)مشقت میں نہ ڈالا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢٥)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4225

دو مختلف سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اور عیسی کی روایت میں ہے کہ جس شخص کے حصہ کو آزاد نہیں کیا گیا اس کے حصہ میں غلام سے کمائی کرائی جائے لیکن(زیادہ)مشقت میں نہ ڈالا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٧؛حدیث نمبر ٤٢٢٦)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى : " ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4226

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے چھ غلاموں کو آزاد کیا اور اس کے پاس ان غلاموں کے علاوہ کوئی مال نہ تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو بلاکر ان کے تین حصے کئے پھر ان میں قرعہ اندازی کرکے دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام رہنے دیا اور اس شخص کے بارے میں سخت کلمہ کہا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٨؛حدیث نمبر ٤٢٢٧)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ : ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً، وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4227

دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے ایک روایت میں ہے کہ انصار میں سے ایک شخص نے اپنی موت کے وقت چھ غلاموں کو آزاد کرنے کی وصیت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٨؛حدیث نمبر ٤٢٢٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنِ الثَّقَفِيِّ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا حَمَّادٌ فَحَدِيثُهُ كَرِوَايَةِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَأَمَّا الثَّقَفِيُّ فَفِي حَدِيثِهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4228

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٢٢٨ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٨؛حدیث نمبر ٤٢٢٩)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَحَمَّادٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4229

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے اپنے غلام کو مدبر کردیا(کہ وہ اس کے مرنے کے بعد آزاد ہوجائے گا)اور اس کے پاس اس کے علاوہ مال نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس غلام کو مجھ سے کون خریدے گا؟نعیم بن عبداللہ نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ درہم اس شخص کو دے دئے۔ راوی کہتے ہیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ غلام قبطی تھا اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے سال فوت ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ جَوَازِ بَيْعِ الْمُدَبِّرِ؛ترجمہ؛مدبر غلام کی بیع کا جواز؛جلد٣ص١٢٨٩؛حدیث نمبر ٤٢٣٠)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟ " فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ. قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4230

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے اپنے غلام کو مدبر کردیا اور اس غلام کے سوا اس کا کوئی اور مال نہ تھا پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس(غلام)کو فروخت کردیا۔حضرت جابر فرماتے ہیں ابن نحام نے اس قبطی غلام کو خریدا تھا اور وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے سال فوت ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٩؛حدیث نمبر ٤٢٣١)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يَقُولُ : دَبَّرَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامًا لَهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَاعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ جَابِرٌ : فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4231

حضرت جابر رضی اللہ عنہ مدبر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٢٣١ کی مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٨٩؛حدیث نمبر ٤٢٣٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُدَبَّرِ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4232

تین مختلف سندوں کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مدبر کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث منقول ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَيْمَانِ؛بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ؛جلد٣ص١٢٩٠؛حدیث نمبر ٤٢٣٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ الْمُعَلِّمِ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُمْ فِي بَيْعِ الْمُدَبَّرِ كُلُّ هَؤُلَاءِ قَالَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادٍ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aiman, Hadees No. 4233

Muslim Shareef : Kitabul Aiman

|

Muslim Shareef : كِتَابٌ الْأَيْمَانُ

|

•