
حضرت سہل بن ابی حثمہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود خیبر گئے تو وہاں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے پھر حضرت محیصہ نے حضرت عبد اللہ کو مقتول پایا تو دفن کیا پھر وہ اور حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمن بن سہل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبد الرحمن بن سہل سب سے چھوٹے تھے وہ اپنے ساتھیوں سے پہلے گفتگو کرنے لگے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عمر میں بڑا ہے اسے بولنے دو وہ خاموش ہوگئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے گفتگو کی اور وہ ان کے ساتھ بیان کرتے رہے ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبد اللہ بن سہل کے قتل کا ذکر کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پچاس قسمیں کھاکراپنے ساتھی کے خون یا(فرمایا)اپنے قاتل کو ثابت کرو گے انہوں نے کہا ہم کیسے قسم کھائیں جب کہ ہم موجود نہیں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو یہودی پچاس قسمیں کھاکر اپنی برأت ثابت کردیں گے انہوں نے کہا کس طرح کافر قوم کی قسم قبول کریں۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دیکھی تو ان کی دیت عطاء کردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛ترجمہ؛قسامت کا بیان؛جلد٣ص١٢٩١؛حدیث نمبر ٤٢٣٤)
حضرت سہل بن ابی حثمہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں محیصہ بن مسعود اور عبد اللہ بن سہل خیبر کی طرف گئے اور وہاں کھجور کے درختوں میں الگ الگ ہوگئے پس حضرت عبد اللہ بن سہل وہاں قتل ہوگئے تو انہوں نے یہودیوں پر الزام لگایا اور ان کے بھائی عبد الرحمن اور دو چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عبد الرحمن نے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنا شروع کیا اور وہ ان میں سے سب سے چھوٹے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بڑوں کو بولنے دو۔(بشیر کہتے ہیں کہ کبریا اکبر کا لفظ فرمایا)پس ان دونوں نے اپنے ساتھی(بھائی)کا واقعہ بیان کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،تمہارے پچاس آدمی ان کے کسی آدمی کے خلاف قسم کھائیں تو وہ بالکل تمہارے حوالے کردیا جائے گا۔انہوں نے عرض کیا ہم ایسے کام پر کیسے قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر پچاس یہودی قسم کھاکر اپنی برأت ثابت کردیں گے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!وہ تو کافر لوگ ہیں راوی فرماتے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے دیت عطاء فرمائی۔ حضرت سہل فرماتے ہیں میں ایک دن ان(دیت کی)اونٹنیوں کے باڑے میں گیا تو ان اونٹنیوں میں سے ایک نے مجھے لات ماردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٢؛حدیث نمبر ٤٢٣٥)
ایک اور سند سے بھی حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی البتہ اس حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ایک اونٹنی نے مجھے لات ماردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٣؛حدیث نمبر ٤٢٣٦)
دو مختلف سندوں سے یہ حدیث حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٣؛حدیث نمبر ٤٢٣٧)
بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید یہ دونوں انصاری ہیں اور بنو حارثہ سے تعلق رکھتے ہیں۔رسول اللہ کے زمانے میں خیبر گئے یہ صلح کا زمانہ تھا اور خیبر میں یہودی رہتے تھے۔دونوں اپنے اپنے کام کے لئے الگ الگ ہوگئے(اس دوران)حضرت عبد اللہ بن سہل ایک حوض میں مقتول پائے گئے حضرت محیصہ نے ان کو دفن کردیا اور مدینہ طیبہ آے۔ پھر مقتول کے بھائی حضرت عبدالرحمن بن سہل،محیصہ اور حویصہ(تینوں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عبداللہ بن سہل کا واقعہ بیان کیا اور جہاں ان کو قتل کیا گیا اس کا ذکر کیا۔ بشیر اس حدیث کی روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا پچاس قسمیں کھا کر قاتل یا(فرمایا)مدعی علیہ کے خلاف خون ثابت کرسکتے ہو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم وہاں موجود نہیں تھے راوی کا خیال ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا یہودی پچاس قسمیں کھاکر اپنی برأت ثابت کردیں گے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم کافر قوم کی قسموں کو کیسے قبول لیں حضرت بشیر کہتے ہیں(یہ سن کر)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے دیت ادا کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٣؛حدیث نمبر ٤٢٣٨)
بشیر کہتے ہیں کہ انصارکے بنو حارثہ(قبیلے)میں سے ایک شخص حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے چچازاد بھائی جن کا نام حضرت محیصہ بن مسعود بن زید تھا دونوں گئے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤٢٣٨ کے مثل مروی ہے اور اس میں تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے دیت ادا کردی۔ بشیر بن یسار کہتے ہیں مجھے سہل بن ابی حثمہ نے بتایا کہ(دیت کی)ان اونٹنیوں کے باڑے میں ایک اونٹنی نے مجھے لات ماردی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٣؛حدیث نمبر ٤٢٣٩)
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چند صحابہ کرام خیبر کی طرف گئے اور وہاں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے(اس کے بعد)انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے اور اس میں یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خون کا رائیگاں ہونا ناپسند فرمایا پس صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ دیت ادا کردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٣؛حدیث نمبر ٤٢٤٠)
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے چند بزرگوں سے روایت کرتےہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سہل اور حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ کسی تکلیف کے باعث خیبر گئے حضرت محیصہ نے آکر خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن سہل کو قتل کرکے ان کی لاش کسی چشمے یا کنویں میں پھینک دی گئی ہے۔ وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا اللہ کی قسم!تم لوگوں نے ان کو قتل کیا ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم نے ان کو قتل نہیں کیا پھر انہوں نے اپنی قوم کے پاس جاکر یہ واقعہ بیان کیا پھر وہ اور ان کے بھائی حویصہ جو ان سے بڑے تھے اور عبد الرحمن بن سہل(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس)گئے محیصہ بات کرنے لگے اور وہی خیبر میں (گئے)تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا تو یہودی تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں یا جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ بات لکھی تو انہوں نے(جواب میں)لکھا اللہ کی قسم!ہم نے ان کو قتل نہیں کیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حویصہ،حضرت محیصہ اور حضرت عبد الرحمن(رضی اللہ عنہم) سےفرمایا کیا تم قسم کھاکر اپنے ساتھی کا خون ثابت کر سکتے ہو؟انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا پھر یہودی تمہارے لئے قسم کھائیں گے انہوں نے کہا وہ مسلمان نہیں ہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے(بیت المال سے)ان کی دیت ادا کی اور آپ نے ان کی طرف ایک سو اونٹنیاں بھیجی جو ان کے گھر پہنچا دی گئیں۔ حضرت سہل فرماتے ہیں ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٤؛حدیث نمبر ٤٢٤١)
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور ام المؤمنين حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری صحابی سے روایت کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کے طریقے پر قسامت کو برقرار رکھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٥؛حدیث نمبر ٤٢٤٢)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک مقتول کے حق میں قسامت کا فیصلہ فرمایا جس کے بارے میں انہوں نے یہودیوں کے خلاف دعویٰ کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٥؛حدیث نمبر ٤٢٤٣)
حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن اور حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ انصار کے کچھ لوگوں سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب سابق حدیث روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٥؛حدیث نمبر ٤٢٤٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ طیبہ آے تو وہاں کی آب و ہوا ان کو موافق نہ آئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم چاہو تو صدقہ کے اونٹوں کی طرف نکل جاؤ اور ان کے دودھ اور پیشاب پئو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا تو وہ تندرست ہوگئے پھر انہوں نے اونٹوں کے چرواہوں پر حملہ کیا اور ان کو قتل کرکے خود اسلام سے پھر گئے(مرتد ہوگئے)اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لے کر بھاگ گئے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے چنانچہ ان کو پکڑ کر لایا گیا تو ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں نیز ان کو تپتے ہوئے میدان میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ والدیات؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛ترجمہ؛لڑنے والے ڈاکوؤں اور مرتدوں کے احکام؛جلد٣ص١٢٩٦؛حدیث نمبر ٤٢٤٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عُکل قبیلہ کے آٹھ آدمی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کے دست مبارک پر اسلام کی بیعت کی ان کو اس مقام کی آب و ہوا موافق نہ آئی جس کی وجہ سے ان کے جسم بیمار پڑ گئے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا کیا تم ہمارے چرواہوں کے ساتھ ان کے اونٹوں(کے باڑے) میں نہیں جاتے کہ وہاں ان کے پیشاب اور دودھ پئو؟انہوں نے کہا کیوں نہیں،چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے ان اونٹنیوں کا پیشاب اور دودھ پیا پھر وہ تندرست ہوگئے انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو بھگا کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا وہ پکڑے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاے گئے آپ نے ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹنے کا حکم دیا۔چنانچہ ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں پھر ان کو دھوپ میں ڈالا گیا حتیٰ کہ وہ مر گئے ابن الصباح کی روایت میں کچھ الفاظ مختلف ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٦؛حدیث نمبر ٤٢٤٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عکل یا عرینہ(قبیلے)کے کچھ لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اونٹنیوں کے باڑے میں جاکر ان کے پیشاب اور دودھ پینے کا حکم دیا۔جیسا کہ حجاج بن ابی عثمان کی روایت میں ہے نیز ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور ان کو گرم میدان میں ڈال دیا گیا وہ پانی مانگتے تھے لیکن ان کو پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٧؛حدیث نمبر ٤٢٤٧)
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ قسامت کے بارے میں کیا کہتے ہو؟عنبسہ نے کہا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے اس طرح بیان کیا ہے(راوی کہتے ہیں)میں نے کہا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ آے اس کے بعد انہوں نے ایوب اور حجاج کی روایت کی مثل بیان کیا۔ ابوقلابہ کہتے ہیں کہ جب میں فارغ ہوا تو عنبسہ نے کہا سبحان اللہ!ابوقلابہ کہتے ہیں میں نے کہا اے عنبسہ آپ مجھ پر تہمت لگا رہے ہیں انہوں نے کہا نہیں(بلکہ)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بھی یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے۔ اے اہل شام!جب تک تم میں ایسا شخص(ابوقلابہ)موجود رہے گا تم بھلائی کے ساتھ رہو گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٧؛حدیث نمبر ٤٢٤٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عکل قبیلہ کے آٹھ آدمی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس کے بعد حدیث نمبر ٤٢٤٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٨؛حدیث نمبر ٤٢٤٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی ان دنوں مدینہ طیبہ میں موم یعنی برسام کی بیماری پھیل گئی تھی اس کے بعد حسب سابق حدیث ذکر کی اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ کے پاس بیس سال کے قریب انصاری نوجوان تھے اور آپ نے ان کو ان لوگوں کے تعاقب میں بھیجا اور ان کے ساتھ ایک کھوجی بھی بھیجا جو ان کے قدموں کے نشان پہچان سکے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٨؛حدیث نمبر٤٢٥٠)
ہمام کی روایت میں ہے حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ عرینہ قبیلہ کی ایک جماعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی سعید کی روایت میں ہے کہ عکل اور عرینہ سے وہ جماعت حاضر ہوئی جیسا کہ سابقہ روایات میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٨؛حدیث نمبر ٤٢٥١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں کیونکہ انہوں نے بھی چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری تھیں۔(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی بدلہ نہیں لیا ان لوگوں نے کفر اختیار کیا مرتد ہو گئے ڈاکہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظوں کو قتل کیا ان کے پاؤں کاٹ ڈالے ان کی آنکھوں میں کانٹے چبھاے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی خاطر یہ سزا دی اپنی ذات کے لئے نہیں مرتد کے احکام کے لئے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٨؛حدیث نمبر ٤٢٥٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو چاندی کے زیورات کی خاطر پتھر سے قتل کردیا،فرماتے ہیں اس(لڑکی)کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور(ابھی)اس میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں شخص نے قتل کیا ہے؟اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں ان نے دوبارہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تیسری بار سوال کیا تو اس نے کہا ہاں اور سر سے اشارہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس(یہودی)کے سر کو دو پتھروں کے درمیان کچل کر ہلاک کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْقِصَاصِ فِي الْقَتْلِ بِالْحَجَرِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُحَدَّدَاتِ، وَالْمُثَقَّلَاتِ، وَقَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ ؛ترجمہ؛پتھر اور دیگر دھار والی چیزوں سے قتل کا قصاص اور مرد کے بدلے میں عورت کو قتل کرنے کا ثبوت؛جلد٣ص١٢٩٩؛حدیث نمبر ٤٢٥٣)
دو مختلف سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اور ابن ادریس کی روایت میں ہے کہ اس کے سر کو دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْقِصَاصِ فِي الْقَتْلِ بِالْحَجَرِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُحَدَّدَاتِ، وَالْمُثَقَّلَاتِ، وَقَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ؛جلد٣ص١٢٩٩؛حدیث نمبر ٤٢٥٤)
حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے کچھ زیورات کی خاطر ایک لڑکی کو قتل کرکے اس کو کنویں میں ڈال دیا اور اس کا سر پتھروں سے کچل دیا وہ پکڑا گیا اور اسے رسول اللہ کی خدمت میں لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس(یہودی کو)رجم کیا جائے حتیٰ کہ مر جائے پس اس کو رجم کیا گیا حتیٰ کہ وہ مرگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْقِصَاصِ فِي الْقَتْلِ بِالْحَجَرِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُحَدَّدَاتِ، وَالْمُثَقَّلَاتِ، وَقَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ؛جلد٣ص١٢٩٩؛حدیث نمبر ٤٢٥٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٢٥٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْقِصَاصِ فِي الْقَتْلِ بِالْحَجَرِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُحَدَّدَاتِ، وَالْمُثَقَّلَاتِ، وَقَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ؛جلد٣ص١٢٩٩؛حدیث نمبر ٤٢٥٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک لڑکی اس حال میں پائی گئی اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا گیا تھا لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تم سے یہ سلوک کس نے کیا ہے کہا فلاں نے!کیا فلاں نے؟حتیٰ کہ انہوں نے یہودی کا ذکر کیا تو اس نے سر سے اشارہ کیا یہودی پکڑا گیا اور اس نے اقرار کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچلا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْقِصَاصِ فِي الْقَتْلِ بِالْحَجَرِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُحَدَّدَاتِ، وَالْمُثَقَّلَاتِ، وَقَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ؛جلد٣ص١٣٠٠؛حدیث نمبر ٤٢٥٧)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یعلی بن منیہ یا یعلی بن امیہ کی ایک شخص سے لڑائی ہوئی تو ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ دانتوں سے کاٹ دیا اس نے اپنا ہاتھ نکالا تو اس(کاٹنے والے)کے سامنے والے دانت نکل گئے، ابن مثنی کہتے ہیں وہ دونوں اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایک دوسرے کو اس طرح کاٹتے ہو جس طرح اونٹ کاٹتا ہے،اس کی کوئی دیت نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛ترجمہ؛جب کوئی حملہ آور سے مدافعت کرتے ہوئے اس کی جان یا اس کے عضو کو ہلاک کردے تو اس پر کوئی تاوان نہیں؛جلد٣ص١٣٠٠؛حدیث نمبر ٤٢٥٨)
امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٢٥٨ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠٠؛حدیث نمبر ٤٢٥٩)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے دوسرے شخص کی کلائی پر دانتوں سے کاٹ لیا اس نے(اپنا بازو)کھینچا تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے۔ یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دعویٰ کو باطل کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس کا گوشت کھانا چاہتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠٠؛حدیث نمبر ٤٢٦٠)
حضرت صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یعلی بن منیہ کے ایک نوکر کی کلائی پر کسی شخص نے دانتوں سے کاٹ لیا اس نے اسے کھینچا تو اس کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اس کا دعوٰی باطل کردیا اور فرمایا تم اس کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبا ڈالنا چاہتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠١؛حدیث نمبر ٤٢٦١)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ پر کاٹ ڈالا اس نے اپنا ہاتھ نکالا تو اس شخص کے سامنے کے دانت گر گئے۔ اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فریاد کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا چاہتے ہو؟ تم یہ چاہتے ہو کہ میں اس کو اس بات کا حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رکھے اور تم اسے چبا ڈالوں جس طرح اونٹ چباتا ہے چلو تم اپنا ہاتھ اس کے منہ میں رکھو حتیٰ کہ وہ اسے چبا ڈالے پھر نکال لینا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠١؛حدیث نمبر ٤٢٦٢)
یعلی بن منیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کسی شخص کے ہاتھ پر کاٹا تھااس(دوسرے)شخص نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کاٹنے والے کے سامنے کے دانت گر گئے۔ راوی فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دعویٰ باطل کردیا اور فرمایا تم اس کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبانا چاہتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠١؛حدیث نمبر ٤٢٦٣)
حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ نے اپنے والد سے روایت کی وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوا وہ فرماتے ہیں مجھے اپنے عمل میں سے صرف اس پر سب سے زیادہ بھروسہ ہے۔ حضرت صفوان کہتے ہیں حضرت یعلی نے فرمایا میرا ایک نوکر تھا وہ ایک شخص سے لڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ دیا حضرت صفوان کہتے ہیں مجھے حضرت یعلی نے بتایا تھا کہ کس نے کس کے ہاتھ پر کاٹا تھا پس جس کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا اس نے کاٹنے والے کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا جس کی وجہ سے اس کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے۔وہ دونوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانتوں کی دیت ساقط کردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠١؛حدیث نمبر ٤٢٦٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٢٦٤ کے مثل مروی ہے۔ (چونکہ اس شخص نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں دانت نکل گئے لہٰذا ان کی دیت ساقط کردی گئی کیونکہ غلطی اسی شخص کی تھی جس کے دانت نکلے تھے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠٢؛حدیث نمبر ٤٢٦٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک شخص کو زخمی کردیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدلہ لیا جائے گا بدلہ لیا جائے گا۔ربیع کی ماں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا فلاں سے بدلہ لیا جائے گا اللہ کی قسم!اس سے بدلہ نہیں لیا جائے گا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ!اے ام الربیع!بدلہ لینا،اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم ہے اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم!اس سے کبھی بھی بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ مسلسل یہی بات کہتی رہی حتیٰ کہ ان لوگوں نے دیت قبول کرلی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا کر دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ إِثْبَاتِ الْقِصَاصِ فِي الْأَسْنَانِ، وَمَا فِي مَعْنَاهَا؛ترجمہ؛دانت وغیرہ میں قصاص کا حکم؛جلد٣ص١٣٠٢؛حدیث نمبر ٤٢٦٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان شخص اس بات کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، اس کا خون تین وجوہ میں سے کسی ایک وجہ سے حلال ہوتا ہے۔ (١) نکاح کے بعد زنا کرنا۔ (٢) جان کا بدلہ جان اور۔ (٣) جو شخص اپنی جماعت کو چھوڑ کر دین سے الگ ہوجائے۔ دیگر چند اسناد کے ساتھ بھی اسی طرح مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ مَا يُبَاحُ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ؛ترجمہ؛مسلمان کے خون کی اباحت کے اسباب؛جلد٣ص١٣٠٢؛حدیث نمبر ٤٢٦٧)
مختلف تین سندوں کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٢٦٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ مَا يُبَاحُ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ؛جلد٣ص١٣٠٣؛حدیث نمبر ٤٢٦٨)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے تو آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم!جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو مسلمان اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اس کا خون بہانا جائز نہیں البتہ تین(قسم کے)آدمیوں کا خون بہانا جائز ہے۔ (١) اسلام کو چھوڑ کر اپنی جماعت سے الگ ہونے والا۔ (٢) نکاح کے بعد زنا کرنے والا۔ (٣) جان کے بدلے جان۔ حضرت اعمش فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت ابراہیم کو سنائی تو انہوں نے بواسطہ حضرت اسود،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس کی مثل حدیث بیان کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ مَا يُبَاحُ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ؛جلد٣ص١٣٠٣؛حدیث نمبر ٤٢٦٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٢٦٩ کے مثل مروی ہے لیکن اس میں"والذی لاالہ غیرہ"کے الفاظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ مَا يُبَاحُ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ؛جلد٣ص١٣٠٣؛حدیث نمبر ٤٢٧٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو بھی ظلما قتل کیا جاتا ہے تو اس کا خون حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کے حصے میں ہوتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کو ایجاد کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ بَيَانِ إِثْمِ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ؛ترجمہ؛قتل کو ایجاد کرنے والے کا گناہ؛جلد٣ص١٣٠٣؛حدیث نمبر ٤٢٧١)
امام مسلم نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں"سن القتل" کے الفاظ ہیں لفظ"اول" نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ بَيَانِ إِثْمِ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ؛جلد٣ص١٣٠٤؛حدیث نمبر ٤٢٧٢)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا(قتل کا)فیصلہ ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْمُجَازَاةِ بِالدِّمَاءِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّهَا أَوَّلُ مَا يُقْضَى فِيهِ بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛ترجمہ؛آخرت میں قتل کی سزا اور قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے قتل کا فیصلہ؛جلد٣ص١٣٠٤؛حدیث نمبر ٤٢٧٣)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٢٧٣ کے مثل روایت کرتے ہیں البتہ بعض روایات میں"یقضی"اور بعض میں"یحکم بین الناس"کےالفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْمُجَازَاةِ بِالدِّمَاءِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّهَا أَوَّلُ مَا يُقْضَى فِيهِ بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٣٠٤؛حدیث نمبر ٤٢٧٤)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”زمانہ گھوم کر اپنی اصلی حالت پر ویسا ہو گیا جیسا اس دن تھا،جب اللہ تعالیٰ نے زمین آسمان بنائے تھے،برس بارہ مہینے کا ہے ان میں چار مہینے حرام ہیں۔(یعنی ان میں لڑنا بھڑنا درست نہیں) تین مہینے تو برابر لگے ہوئے ہیں،ذیقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور چوتھا رجب،مضر کا مہینہ جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے بیچ میں ہے۔“بعد اس کے فرمایا:”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ہم نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم سمجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ کا کچھ اور نام رکھیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کیا مہینہ ذی الحجہ کا نہیں؟“ہم نے عرض کیا:ذی الحجہ کا مہینہ ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ کون سا شہر ہے؟“ہم نے عرض کیا:اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہے یہاں تک کہ ہم سمجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شہر کا کچھ اور نام رکھیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کیا یہ شہر نہیں ہے؟“(یعنی مکہ کا شہر) ہم نے عرض کیا:ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ کون سا دن ہے؟“ہم نے عرض کیا:اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اور کوئی نام رکھیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یوم النحر نہیں ہے؟“ہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! بے شک یہ یوم النحر ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تو تمہاری جانیں اور تمہارے مال راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تمہاری عزت حرام ہیں تم پر جیسے یہ دن حرام ہے،اس شہر میں، اس مہینے میں(جس کی حرمت میں کسی کو شک نہیں ایسے ہی مسلمان کو جان، عزت، دولت بھی حرام ہے اس کا لینا بلاوجہ شرعی درست نہیں) اور قریب ہے کہ تم ملو گے اپنے پروردگار سے وہ پوچھے گا تمہارے عملوں کے بارے میں،پھر مت ہو جانا میرے بعد تم کافر یا گمراہ کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو(یعنی آپس میں لڑو) اور ایک دوسرے کو مارو۔(یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نصیحت اور بہت بڑی اور عمدہ نصیحت تھی)سنو!حاضر کو چاہیے کہ غائب تک پہنچاے شاید جن کو حدیث پہنچی ان میں سے بعض،سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوں۔پھر فرمایا سنو!کیا میں نے(پیغام حق)پہنچا دیا۔ ابن حبیب نے اپنی روایت میں کہا رجب مضر اور ابوبکر کی روایت میں"فلا ترجعوا بعدی" کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛باب تغلیظ تحریم الدماء والأعراض والأموال؛ترجمہ؛خون، مال اور عزت کی حرمت؛جلد٣ص١٣٠٥؛حدیث نمبر ٤٢٧٥)
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،جب یوم النحر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اونٹ پر بیٹھے اور ایک شخص نے اس کی نکیل تھامی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ انہوں نے کہا:اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام لیں گے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کیا یہ یوم النحر نہیں ہے؟“ہم نے کہا: بے شک یہ یوم النحر ہے،یا رسول اللہ!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم نے کہا:اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟“ہم نے کہا: بیشک یہ ذی الحجہ ہے یارسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ کون سا شہر ہے؟“ہم نے کہا:اللہ اور رسول خوب جانتے ہیں۔یہاں تک کہ ہم سمجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اور کوئی نام لیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کیا یہ شہر نہیں ہے؟“(یعنی مکہ، عرب کے لوگ شہر مکہ ہی کو بولتے تھے)ہم نے عرض کیا:بیشک شہر ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تو تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں حرام ہیں جیسے اس دن اس مہینہ میں اس شہر میں حرام ہے،جو حاضر ہے وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے دو مینڈھوں کی طرف جو چت کبرے تھے اور ذبح کیا پھر آپ بکریوں کے گلے کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو ہم لوگوں کو بانٹ دیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛باب تغلیظ تحریم الدماء والأعراض والاموال؛جلد٣ص١٣٠٦؛حدیث نمبر ٤٢٧٦)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ دن(قربانی کا دن)ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر تشریف فرما ہوئے اور ایک شخص نے اس کی نکیل پکڑی اس کے بعد حدیث نمبر ٤٢٧٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛باب تغلیظ تحریم الدماء والأعراض والاموال؛ جلد٣ص١٣٠٦؛حدیث نمبر ٤٢٧٧)
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر(قربانی کےدن)ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا یہ کون سا دن ہے۔اس کے بعد حسب سابق روایت ہے لیکن اس میں تمہاری عزت کے الفاظ مذکور نہیں اور یہ بھی ذکر نہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھو کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے بعد کا بھی ذکر نہیں۔ اور اس حدیث میں فرمایا کے تمہارے آج کے دن کی حرمت کی طرح جو تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں ہے یہ حکم اس وقت تک ہے کہ تم اپنے رب سے ملاقات کرو سنو!کیا میں نے پہنچا دیا؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا یا اللہ!تو گواہ ہو جا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛باب تغلیظ تحریم الدماء والأعراض والاموال؛ جلد٣ص١٣٠٧؛حدیث نمبر ٤٢٧٨)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا جو دوسرے شخص کو تسمے سے کھینچ رہا تھا۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے قتل کیا ہے؟اس(پہلے)شخص نے کہا اگر یہ اقرار نہیں کرے گا تو میں اس کے خلاف گواہ قائم کروں گا۔اس (دوسرے)نے کہا ہاں میں نے قتل کیا ہے آپ نے پوچھا تو نے اس کو کس طرح قتل کیا اس نے کہا میں اور وہ دونوں درخت کے پتے جھاڑ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دی جس سے میں مشتعل ہوگیا پس میں نے اس کے سر پر کلہاڑی دے ماری اور اسے قتل کردیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تیرے پاس کوئی مال ہے جو اسے اپنے نفس کے بدلے میں دے دے اس نے کہا میرے پاس میری چادر اور کلہاڑی کے سوا کوئی مال نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے تمہاری قوم تجھے چھڑا ے گی؟اس نے کہا میں اپنی قوم میں اس سے زیادہ بےوقعت ہوں۔ (اس پر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تسمہ اس شخص(مقتول کے ولی)کی طرف پھینک دیا اور فرمایا اس کو لے جاؤ وہ اس کو لے کر جانے لگا اور جب پیٹھ پھیرلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس کو قتل کیا تو یہ بھی اس کی مثل ہوجائے گا چنانچہ وہ واپس ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر یہ اس کو قتل کرے تو یہ اس کی مثل ہے حالانکہ میں نے اسے آپ کے حکم پر پکڑا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو نہیں چاہتا کہ وہ تیرے اور تیرے ساتھی کا گناہ سمیٹ لے اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!کیا ایسا ہوسکتا ہے؟آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے راوی فرماتے ہیں اس نے اس کا تسمہ پھینک دیا اور اس کو چھوڑ کر آزاد کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛صحۃ الإقرار بالقتل وتمکین ولی القتیل من القصاص واستحباب طلب العفو منہ؛ ترجمہ؛قتل کے اقرار کا صحیح ہونا،مقتول کے ولی کو قصاص کا حق طلب معافی کا استحباب؛جلد٣ص١٣٠٧؛حدیث نمبر ٤٢٧٩)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص لایا گیا جس نے کسی شخص کو قتل کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی کو اس(قاتل)سے قصاص لینے کا حکم دیا۔ وہ اسے لے کر چلا اور اس کی گردن میں تسمہ تھا جس کو کھینچ رہا تھا جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہے پھر ایک شخص نے جاکر اس کو اس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا دیا تو اس نے اس کو چھوڑ دیا۔اسماعیل بن سالم کہتے ہیں میں نے یہ حدیث حبیب بن ثابت کو سنائی تو انہوں نے کہا مجھے یہ حدیث ابن اشوع نے سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے وارث سے خون معاف کرنے کے لئے کہا تھا اور اس نے انکار کردیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ صِحَّةِ الْإِقْرَارِ بِالْقَتْلِ، وَتَمْكِينِ وَلِيِّ الْقَتِيلِ مِنَ الْقِصَاصِ، وَاسْتِحْبَابِ طَلَبِ الْعَفْوِ مِنْهُ؛ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٣٠٨؛حدیث نمبر ٤٢٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہذیل(قبیلہ)کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو مارا تو اس کے پیٹ کا بچہ ساقط ہوگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان دینے کا حکم فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛ترجمہ؛پیٹ کے بچے اور قتل خطأ نیز قتل شبہ عمد میں دیت کا وجوب؛جلد٣ص١٣٠٩؛حدیث نمبر ٤٢٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنولحیان کی ایک عورت کے پیٹ کا بچہ ساقط ہونے پر ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان دینے کا فیصلہ فرمایا پھر جس عورت کے خلاف لونڈی یا غلام کا فیصلہ ہوا تھا فوت ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت اس کی اولاد اور اس کے خاوند کے لئے ہے اور دیت اس کے عصبات(باپ کے خاندان)پر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣٠٩؛حدیث نمبر ٤٢٨٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہذیل(قبیلہ)کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں سے ایک نے دوسرے کو پتھر مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو ہلاک کر دیا وہ لوگ اپنا مقدمہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے ساقط ہونے والے بچے کا تاوان ایک غلام یا ایک لونڈی ہے اور عورت کی دیت اس قاتلہ کی عاقلہ(باپ کے خاندان)پر مقرر فرمائی اور اس(دیت)کا وارث اس کی والد اور دیگر رشتہ دار کو قرار دیا۔ حمل بن نابغہ الہذلی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کس طرح اس کا تاوان دوں جس نے پیا نہ کھایا نہ بات چیت کی اور نہ چلایا اس قسم کے بچے کی دیت نہیں دی جاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شخص اس مسجع عبادت پر کاہنوں کا بھائی(معلوم ہوتا)ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣٠٩؛حدیث نمبر ٤٢٨٣)
ایک اور سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دو عورتیں باہم لڑ پڑیں اس کے بعد حدیث نمبر ٤٢٨٣ کے مثل مروی ہے اس میں اس کی اولاد رشتہ داروں کو وارث بنانے کا ذکر نہیں اور یہ فرمایا کہ ایک کہنے والے نے کہا ہم کس طرح دیت دیں حمل بن مالک کا نام مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١٠؛حدیث نمبر ٤٢٨٤)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک خاتون نے اپنی سوکن کو خیمے کی ایک لکڑی سے مارا اور وہ حاملہ تھی پس اسے ہلاک کر دیا فرماتے ہیں ان میں سے ایک عورت بنو لحیان قبیلے سے تعلق رکھتی تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کی عاقلہ پر ڈال دی اور اس کے پیٹ میں جو کچھ تھا اس کے بدلے میں ایک غلام یا لونڈی تاوان لازم فرمائی۔ قاتلہ کے رشتہ داروں میں سے کسی نے کہا کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے کھایا نہ پیا اور نہ ہی کوئی آواز نکالی اس قسم کی دیت باطل ہوتی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بدوؤں کی طرح مسجع عبارت بولتا ہے پس آپ نے دیت مقرر کردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١٠؛حدیث نمبر ٤٢٨٥)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے خیمے کے ڈنڈے سے اپنی سوکن کو قتل کردیا یہ مقدمہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو اس نے اس(قاتلہ)کی عاقلہ(ددھیال)پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور وہ عورت حاملہ تھی پس اس کے پیٹ کے بچے کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان دینے کا فیصلہ فرمایا۔ اس پر اس کے بعض رشتہ داروں نے کہا کیا ہم اس بچے کی دیت دیں جس نے کھایا نہ پیا،چیخا نہ چلایا اس جیسے کی دیت نہیں دی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں کی طرح مسجع کلام کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١١؛حدیث نمبر ٤٢٨٦)
امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٢٨٦ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١١؛حدیث نمبر ٤٢٨٧)
امام مسلم نے اپنی سندوں کے ساتھ یہ قصہ روایت کیا ہے اور اس میں یہ ہے کہ اس کے پیٹ کا بچہ ساقط ہوگیا یہ مقدمہ بارگاہِ نبوی میں پیش ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی یا غلام ادا کرنے کا تاوان لازم کیا اور اسے اس عورت کے وارثوں پر لازم کیا اور حدیث میں عورت کی دیت کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١١؛حدیث نمبر ٤٢٨٨)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت سے متعلق مشورہ کیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا تو آپ نے ایک لونڈی یا غلام بطور تاوان ادا کرنے کا حکم دیا۔ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے پاس کسی ایسے شخص کو لائیں جو آپ کے ساتھ گواہی دے راوی کہتے ہیں پس حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ گواہی دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١١؛حدیث نمبر ٤٢٨٩)
Muslim Shareef : Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ
|
•