asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate

From 4234 to 4289

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت سہل بن ابی حثمہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود خیبر گئے تو وہاں ایک دوسرے سے جدا ہوگئے پھر حضرت محیصہ نے حضرت عبد اللہ کو مقتول پایا تو دفن کیا پھر وہ اور حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمن بن سہل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبد الرحمن بن سہل سب سے چھوٹے تھے وہ اپنے ساتھیوں سے پہلے گفتگو کرنے لگے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عمر میں بڑا ہے اسے بولنے دو وہ خاموش ہوگئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے گفتگو کی اور وہ ان کے ساتھ بیان کرتے رہے ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبد اللہ بن سہل کے قتل کا ذکر کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پچاس قسمیں کھاکراپنے ساتھی کے خون یا(فرمایا)اپنے قاتل کو ثابت کرو گے انہوں نے کہا ہم کیسے قسم کھائیں جب کہ ہم موجود نہیں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو یہودی پچاس قسمیں کھاکر اپنی برأت ثابت کردیں گے انہوں نے کہا کس طرح کافر قوم کی قسم قبول کریں۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دیکھی تو ان کی دیت عطاء کردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛ترجمہ؛قسامت کا بیان؛جلد٣ص١٢٩١؛حدیث نمبر ٤٢٣٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ . قَالَ يَحْيَى : وَحَسِبْتُ قَالَ : وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُمَا قَالَا : خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَالِكَ، ثُمَّ إِذَا مُحَيِّصَةُ يَجِدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا، فَدَفَنَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبِّرِ " - الْكُبْرَ فِي السِّنِّ - فَصَمَتَ، فَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ، وَتَكَلَّمَ مَعَهُمَا، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ لَهُمْ : " أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ ؟ " أَوْ " قَاتِلَكُمْ ". قَالُوا : وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ ؟ قَالَ : " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا ". قَالُوا : وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ؟ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4234

حضرت سہل بن ابی حثمہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں محیصہ بن مسعود اور عبد اللہ بن سہل خیبر کی طرف گئے اور وہاں کھجور کے درختوں میں الگ الگ ہوگئے پس حضرت عبد اللہ بن سہل وہاں قتل ہوگئے تو انہوں نے یہودیوں پر الزام لگایا اور ان کے بھائی عبد الرحمن اور دو چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عبد الرحمن نے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنا شروع کیا اور وہ ان میں سے سب سے چھوٹے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بڑوں کو بولنے دو۔(بشیر کہتے ہیں کہ کبریا اکبر کا لفظ فرمایا)پس ان دونوں نے اپنے ساتھی(بھائی)کا واقعہ بیان کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،تمہارے پچاس آدمی ان کے کسی آدمی کے خلاف قسم کھائیں تو وہ بالکل تمہارے حوالے کردیا جائے گا۔انہوں نے عرض کیا ہم ایسے کام پر کیسے قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر پچاس یہودی قسم کھاکر اپنی برأت ثابت کردیں گے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!وہ تو کافر لوگ ہیں راوی فرماتے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے دیت عطاء فرمائی۔ حضرت سہل فرماتے ہیں میں ایک دن ان(دیت کی)اونٹنیوں کے باڑے میں گیا تو ان اونٹنیوں میں سے ایک نے مجھے لات ماردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٢؛حدیث نمبر ٤٢٣٥)

وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ انْطَلَقَا قِبَلَ خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبِّرِ الْكُبْرَ ". أَوْ قَالَ : " لِيَبْدَأِ الْأَكْبَرُ ". فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ ". قَالُوا : أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ، كَيْفَ نَحْلِفُ ؟ قَالَ : " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْمٌ كُفَّارٌ. قَالَ : فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ. قَالَ سَهْلٌ : فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا. قَالَ حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4235

ایک اور سند سے بھی حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی البتہ اس حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ایک اونٹنی نے مجھے لات ماردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٣؛حدیث نمبر ٤٢٣٦)

وَحَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ. وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِهِ : فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4236

دو مختلف سندوں سے یہ حدیث حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٣؛حدیث نمبر ٤٢٣٧)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4237

بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید یہ دونوں انصاری ہیں اور بنو حارثہ سے تعلق رکھتے ہیں۔رسول اللہ کے زمانے میں خیبر گئے یہ صلح کا زمانہ تھا اور خیبر میں یہودی رہتے تھے۔دونوں اپنے اپنے کام کے لئے الگ الگ ہوگئے(اس دوران)حضرت عبد اللہ بن سہل ایک حوض میں مقتول پائے گئے حضرت محیصہ نے ان کو دفن کردیا اور مدینہ طیبہ آے۔ پھر مقتول کے بھائی حضرت عبدالرحمن بن سہل،محیصہ اور حویصہ(تینوں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عبداللہ بن سہل کا واقعہ بیان کیا اور جہاں ان کو قتل کیا گیا اس کا ذکر کیا۔ بشیر اس حدیث کی روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا پچاس قسمیں کھا کر قاتل یا(فرمایا)مدعی علیہ کے خلاف خون ثابت کرسکتے ہو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم وہاں موجود نہیں تھے راوی کا خیال ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا یہودی پچاس قسمیں کھاکر اپنی برأت ثابت کردیں گے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم کافر قوم کی قسموں کو کیسے قبول لیں حضرت بشیر کہتے ہیں(یہ سن کر)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے دیت ادا کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٣؛حدیث نمبر ٤٢٣٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ، وَأَهْلُهَا يَهُودُ، فَتَفَرَّقَا لِحَاجَتِهِمَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَوُجِدَ فِي شَرَبَةٍ مَقْتُولًا، فَدَفَنَهُ صَاحِبُهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَشَى أَخُو الْمَقْتُولِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةُ، وَحُوَيِّصَةُ، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَحَيْثُ قُتِلَ، فَزَعَمَ بُشَيْرٌ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَمَّنْ أَدْرَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ : " تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا، وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ - أَوْ صَاحِبَكُمْ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَهِدْنَا، وَلَا حَضَرْنَا، فَزَعَمَ أَنَّهُ قَالَ : " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ ". فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ؟ فَزَعَمَ بُشَيْرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَهُ مِنْ عِنْدِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4238

بشیر کہتے ہیں کہ انصارکے بنو حارثہ(قبیلے)میں سے ایک شخص حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے چچازاد بھائی جن کا نام حضرت محیصہ بن مسعود بن زید تھا دونوں گئے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤٢٣٨ کے مثل مروی ہے اور اس میں تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے دیت ادا کردی۔ بشیر بن یسار کہتے ہیں مجھے سہل بن ابی حثمہ نے بتایا کہ(دیت کی)ان اونٹنیوں کے باڑے میں ایک اونٹنی نے مجھے لات ماردی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٣؛حدیث نمبر ٤٢٣٩)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ يُقَالُ لَهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ انْطَلَقَ هُوَ، وَابْنُ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهُ : مُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَى قَوْلِهِ : فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ. قَالَ يَحْيَى : فَحَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ : لَقَدْ رَكَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْكَ الْفَرَائِضِ بِالْمِرْبَدِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4239

حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چند صحابہ کرام خیبر کی طرف گئے اور وہاں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے(اس کے بعد)انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے اور اس میں یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خون کا رائیگاں ہونا ناپسند فرمایا پس صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ دیت ادا کردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٣؛حدیث نمبر ٤٢٤٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا. وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ : فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ، فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4240

حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے چند بزرگوں سے روایت کرتےہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سہل اور حضرت محیصہ رضی اللہ عنہ کسی تکلیف کے باعث خیبر گئے حضرت محیصہ نے آکر خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن سہل کو قتل کرکے ان کی لاش کسی چشمے یا کنویں میں پھینک دی گئی ہے۔ وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا اللہ کی قسم!تم لوگوں نے ان کو قتل کیا ہے انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم نے ان کو قتل نہیں کیا پھر انہوں نے اپنی قوم کے پاس جاکر یہ واقعہ بیان کیا پھر وہ اور ان کے بھائی حویصہ جو ان سے بڑے تھے اور عبد الرحمن بن سہل(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس)گئے محیصہ بات کرنے لگے اور وہی خیبر میں (گئے)تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا تو یہودی تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں یا جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ بات لکھی تو انہوں نے(جواب میں)لکھا اللہ کی قسم!ہم نے ان کو قتل نہیں کیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حویصہ،حضرت محیصہ اور حضرت عبد الرحمن(رضی اللہ عنہم) سےفرمایا کیا تم قسم کھاکر اپنے ساتھی کا خون ثابت کر سکتے ہو؟انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا پھر یہودی تمہارے لئے قسم کھائیں گے انہوں نے کہا وہ مسلمان نہیں ہیں چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے(بیت المال سے)ان کی دیت ادا کی اور آپ نے ان کی طرف ایک سو اونٹنیاں بھیجی جو ان کے گھر پہنچا دی گئیں۔ حضرت سہل فرماتے ہیں ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٤؛حدیث نمبر ٤٢٤١)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ، وَطُرِحَ فِي عَيْنٍ، أَوْ فَقِيرٍ ، فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ : أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ. قَالُوا : وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ. ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ، فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ : " كَبِّرْ، كَبِّرْ " - يُرِيدُ : السِّنَّ - فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ ". فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبُوا : إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ، وَمُحَيِّصَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ : " أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ؟ " قَالُوا : لَا. قَالَ : " فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ ". قَالُوا : لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ. فَوَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، فَقَالَ سَهْلٌ : فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4241

حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور ام المؤمنين حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری صحابی سے روایت کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت کے طریقے پر قسامت کو برقرار رکھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٥؛حدیث نمبر ٤٢٤٢)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ حَرْمَلَةُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ - مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4242

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک مقتول کے حق میں قسامت کا فیصلہ فرمایا جس کے بارے میں انہوں نے یہودیوں کے خلاف دعویٰ کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٥؛حدیث نمبر ٤٢٤٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ : وَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4243

حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن اور حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ انصار کے کچھ لوگوں سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب سابق حدیث روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْقَسَامَةِ؛جلد٣ص١٢٩٥؛حدیث نمبر ٤٢٤٤)

وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ : ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4244

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ طیبہ آے تو وہاں کی آب و ہوا ان کو موافق نہ آئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم چاہو تو صدقہ کے اونٹوں کی طرف نکل جاؤ اور ان کے دودھ اور پیشاب پئو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا تو وہ تندرست ہوگئے پھر انہوں نے اونٹوں کے چرواہوں پر حملہ کیا اور ان کو قتل کرکے خود اسلام سے پھر گئے(مرتد ہوگئے)اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لے کر بھاگ گئے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے چنانچہ ان کو پکڑ کر لایا گیا تو ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں نیز ان کو تپتے ہوئے میدان میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ والدیات؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛ترجمہ؛لڑنے والے ڈاکوؤں اور مرتدوں کے احکام؛جلد٣ص١٢٩٦؛حدیث نمبر ٤٢٤٥)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ هُشَيْمٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ : أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَاجْتَوَوْهَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَتَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ". فَفَعَلُوا فَصَحُّوا، ثُمَّ مَالُوا عَلَى الرِّعَاءِ فَقَتَلُوهُمْ، وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَسَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي أَثَرِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4245

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عُکل قبیلہ کے آٹھ آدمی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کے دست مبارک پر اسلام کی بیعت کی ان کو اس مقام کی آب و ہوا موافق نہ آئی جس کی وجہ سے ان کے جسم بیمار پڑ گئے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا کیا تم ہمارے چرواہوں کے ساتھ ان کے اونٹوں(کے باڑے) میں نہیں جاتے کہ وہاں ان کے پیشاب اور دودھ پئو؟انہوں نے کہا کیوں نہیں،چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے ان اونٹنیوں کا پیشاب اور دودھ پیا پھر وہ تندرست ہوگئے انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو بھگا کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا وہ پکڑے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاے گئے آپ نے ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹنے کا حکم دیا۔چنانچہ ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں پھر ان کو دھوپ میں ڈالا گیا حتیٰ کہ وہ مر گئے ابن الصباح کی روایت میں کچھ الفاظ مختلف ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٦؛حدیث نمبر ٤٢٤٦)

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ - مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ - عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ ، وَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَبْوَالِهَا، وَأَلْبَانِهَا ". فَقَالُوا : بَلَى. فَخَرَجُوا، فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا، وَأَلْبَانِهَا فَصَحُّوا، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَطَرَدُوا الْإِبِلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُدْرِكُوا، فَجِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ، وَأَرْجُلُهُمْ، وَسُمِرَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ نُبِذُوا فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا. وَقَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ فِي رِوَايَتِهِ : وَاطَّرَدُوا النَّعَمَ. وَقَالَ : وَسُمِّرَتْ أَعْيُنُهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4246

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عکل یا عرینہ(قبیلے)کے کچھ لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اونٹنیوں کے باڑے میں جاکر ان کے پیشاب اور دودھ پینے کا حکم دیا۔جیسا کہ حجاج بن ابی عثمان کی روایت میں ہے نیز ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور ان کو گرم میدان میں ڈال دیا گیا وہ پانی مانگتے تھے لیکن ان کو پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٧؛حدیث نمبر ٤٢٤٧)

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ - مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ - قَالَ : قَالَ أَبُو قِلَابَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ مِنْ عُكْلٍ، أَوْ عُرَيْنَةَ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا، وَأَلْبَانِهَا بِمَعْنَى حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ. قَالَ : وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ، وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4247

ابوقلابہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ قسامت کے بارے میں کیا کہتے ہو؟عنبسہ نے کہا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے اس طرح بیان کیا ہے(راوی کہتے ہیں)میں نے کہا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ آے اس کے بعد انہوں نے ایوب اور حجاج کی روایت کی مثل بیان کیا۔ ابوقلابہ کہتے ہیں کہ جب میں فارغ ہوا تو عنبسہ نے کہا سبحان اللہ!ابوقلابہ کہتے ہیں میں نے کہا اے عنبسہ آپ مجھ پر تہمت لگا رہے ہیں انہوں نے کہا نہیں(بلکہ)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بھی یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے۔ اے اہل شام!جب تک تم میں ایسا شخص(ابوقلابہ)موجود رہے گا تم بھلائی کے ساتھ رہو گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٧؛حدیث نمبر ٤٢٤٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ - مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ - عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ لِلنَّاسِ : مَا تَقُولُونَ فِي الْقَسَامَةِ ؟ فَقَالَ عَنْبَسَةُ : قَدْ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كَذَا وَكَذَا. فَقُلْتُ : إِيَّايَ حَدَّثَ أَنَسٌ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَحَجَّاجٍ. قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ عَنْبَسَةُ : سُبْحَانَ اللَّهِ. قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : فَقُلْتُ : أَتَتَّهِمُنِي يَا عَنْبَسَةُ ؟ قَالَ : لَا، هَكَذَا حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ يَا أَهْلَ الشَّامِ مَا دَامَ فِيكُمْ هَذَا، أَوْ مِثْلُ هَذَا.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4248

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عکل قبیلہ کے آٹھ آدمی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس کے بعد حدیث نمبر ٤٢٤٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٨؛حدیث نمبر ٤٢٤٩)

وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ - وَهُوَ : ابْنُ بُكَيْرٍ الْحَرَّانِيُّ - أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ : وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4249

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی ان دنوں مدینہ طیبہ میں موم یعنی برسام کی بیماری پھیل گئی تھی اس کے بعد حسب سابق حدیث ذکر کی اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ کے پاس بیس سال کے قریب انصاری نوجوان تھے اور آپ نے ان کو ان لوگوں کے تعاقب میں بھیجا اور ان کے ساتھ ایک کھوجی بھی بھیجا جو ان کے قدموں کے نشان پہچان سکے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٨؛حدیث نمبر٤٢٥٠)

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُرَيْنَةَ فَأَسْلَمُوا، وَبَايَعُوهُ وَقَدْ وَقَعَ بِالْمَدِينَةِ الْمُومُ، وَهُوَ : الْبِرْسَامُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ : وَعِنْدَهُ شَبَابٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَرِيبٌ مِنْ عِشْرِينَ، فَأَرْسَلَهُمْ إِلَيْهِمْ، وَبَعَثَ مَعَهُمْ قَائِفًا يَقْتَصُّ أَثَرَهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4250

ہمام کی روایت میں ہے حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ عرینہ قبیلہ کی ایک جماعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی سعید کی روایت میں ہے کہ عکل اور عرینہ سے وہ جماعت حاضر ہوئی جیسا کہ سابقہ روایات میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٨؛حدیث نمبر ٤٢٥١)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ : قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطٌ مِنْ عُرَيْنَةَ. وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ مِنْ عُكْلٍ، وَعُرَيْنَةَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4251

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں کیونکہ انہوں نے بھی چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری تھیں۔(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی بدلہ نہیں لیا ان لوگوں نے کفر اختیار کیا مرتد ہو گئے ڈاکہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظوں کو قتل کیا ان کے پاؤں کاٹ ڈالے ان کی آنکھوں میں کانٹے چبھاے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی خاطر یہ سزا دی اپنی ذات کے لئے نہیں مرتد کے احکام کے لئے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ حُكْمِ الْمُحَارِبِينَ وَالْمُرْتَدِينَ؛جلد٣ص١٢٩٨؛حدیث نمبر ٤٢٥٢)

وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَ أُولَئِكَ ؛ لِأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرِّعَاءِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4252

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو چاندی کے زیورات کی خاطر پتھر سے قتل کردیا،فرماتے ہیں اس(لڑکی)کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور(ابھی)اس میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں شخص نے قتل کیا ہے؟اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں ان نے دوبارہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تیسری بار سوال کیا تو اس نے کہا ہاں اور سر سے اشارہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس(یہودی)کے سر کو دو پتھروں کے درمیان کچل کر ہلاک کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْقِصَاصِ فِي الْقَتْلِ بِالْحَجَرِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُحَدَّدَاتِ، وَالْمُثَقَّلَاتِ، وَقَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ ؛ترجمہ؛پتھر اور دیگر دھار والی چیزوں سے قتل کا قصاص اور مرد کے بدلے میں عورت کو قتل کرنے کا ثبوت؛جلد٣ص١٢٩٩؛حدیث نمبر ٤٢٥٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ. قَالَ : فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ لَهَا : " أَقَتَلَكِ فُلَانٌ ؟ " فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَتْ : نَعَمْ. وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4253

دو مختلف سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اور ابن ادریس کی روایت میں ہے کہ اس کے سر کو دو پتھروں کے درمیان کچل دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْقِصَاصِ فِي الْقَتْلِ بِالْحَجَرِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُحَدَّدَاتِ، وَالْمُثَقَّلَاتِ، وَقَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ؛جلد٣ص١٢٩٩؛حدیث نمبر ٤٢٥٤)

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ : فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4254

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے کچھ زیورات کی خاطر ایک لڑکی کو قتل کرکے اس کو کنویں میں ڈال دیا اور اس کا سر پتھروں سے کچل دیا وہ پکڑا گیا اور اسے رسول اللہ کی خدمت میں لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس(یہودی کو)رجم کیا جائے حتیٰ کہ مر جائے پس اس کو رجم کیا گیا حتیٰ کہ وہ مرگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْقِصَاصِ فِي الْقَتْلِ بِالْحَجَرِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُحَدَّدَاتِ، وَالْمُثَقَّلَاتِ، وَقَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ؛جلد٣ص١٢٩٩؛حدیث نمبر ٤٢٥٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا، ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي الْقَلِيبِ ، وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ، فَأُخِذَ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ، فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4255

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٢٥٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْقِصَاصِ فِي الْقَتْلِ بِالْحَجَرِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُحَدَّدَاتِ، وَالْمُثَقَّلَاتِ، وَقَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ؛جلد٣ص١٢٩٩؛حدیث نمبر ٤٢٥٦)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4256

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک لڑکی اس حال میں پائی گئی اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا گیا تھا لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تم سے یہ سلوک کس نے کیا ہے کہا فلاں نے!کیا فلاں نے؟حتیٰ کہ انہوں نے یہودی کا ذکر کیا تو اس نے سر سے اشارہ کیا یہودی پکڑا گیا اور اس نے اقرار کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچلا جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْقِصَاصِ فِي الْقَتْلِ بِالْحَجَرِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُحَدَّدَاتِ، وَالْمُثَقَّلَاتِ، وَقَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ؛جلد٣ص١٣٠٠؛حدیث نمبر ٤٢٥٧)

وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَسَأَلُوهَا : مَنْ صَنَعَ هَذَا بِكِ ؟ فُلَانٌ ؟ فُلَانٌ ؟ حَتَّى ذَكَرُوا يَهُودِيًّا، فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ، فَأَقَرَّ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4257

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یعلی بن منیہ یا یعلی بن امیہ کی ایک شخص سے لڑائی ہوئی تو ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ دانتوں سے کاٹ دیا اس نے اپنا ہاتھ نکالا تو اس(کاٹنے والے)کے سامنے والے دانت نکل گئے، ابن مثنی کہتے ہیں وہ دونوں اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ایک دوسرے کو اس طرح کاٹتے ہو جس طرح اونٹ کاٹتا ہے،اس کی کوئی دیت نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛ترجمہ؛جب کوئی حملہ آور سے مدافعت کرتے ہوئے اس کی جان یا اس کے عضو کو ہلاک کردے تو اس پر کوئی تاوان نہیں؛جلد٣ص١٣٠٠؛حدیث نمبر ٤٢٥٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَاتَلَ يَعْلَى ابْنُ مُنْيَةَ، أَوِ ابْنُ أُمَيَّةَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ، فَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ - وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : ثَنِيَّتَيْهِ - فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَيَعَضُّ أَحَدُكُمْ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ ؟ لَا دِيَةَ لَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4258

امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٢٥٨ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠٠؛حدیث نمبر ٤٢٥٩)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4259

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے دوسرے شخص کی کلائی پر دانتوں سے کاٹ لیا اس نے(اپنا بازو)کھینچا تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے۔ یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دعویٰ کو باطل کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس کا گوشت کھانا چاہتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠٠؛حدیث نمبر ٤٢٦٠)

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ ذِرَاعَ رَجُلٍ، فَجَذَبَهُ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبْطَلَهُ، وَقَالَ : " أَرَدْتَ أَنْ تَأْكُلَ لَحْمَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4260

حضرت صفوان بن یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یعلی بن منیہ کے ایک نوکر کی کلائی پر کسی شخص نے دانتوں سے کاٹ لیا اس نے اسے کھینچا تو اس کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اس کا دعوٰی باطل کردیا اور فرمایا تم اس کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبا ڈالنا چاہتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠١؛حدیث نمبر ٤٢٦١)

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ عَضَّ رَجُلٌ ذِرَاعَهُ، فَجَذَبَهَا، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبْطَلَهَا، وَقَالَ : " أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4261

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ پر کاٹ ڈالا اس نے اپنا ہاتھ نکالا تو اس شخص کے سامنے کے دانت گر گئے۔ اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فریاد کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا چاہتے ہو؟ تم یہ چاہتے ہو کہ میں اس کو اس بات کا حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رکھے اور تم اسے چبا ڈالوں جس طرح اونٹ چباتا ہے چلو تم اپنا ہاتھ اس کے منہ میں رکھو حتیٰ کہ وہ اسے چبا ڈالے پھر نکال لینا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠١؛حدیث نمبر ٤٢٦٢)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ - أَوْ ثَنَايَاهُ - فَاسْتَعْدَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَأْمُرُنِي ؟ تَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَهُ أَنْ يَدَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ؟ ادْفَعْ يَدَكَ حَتَّى يَعَضَّهَا، ثُمَّ انْتَزِعْهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4262

یعلی بن منیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کسی شخص کے ہاتھ پر کاٹا تھااس(دوسرے)شخص نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کاٹنے والے کے سامنے کے دانت گر گئے۔ راوی فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دعویٰ باطل کردیا اور فرمایا تم اس کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبانا چاہتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠١؛حدیث نمبر ٤٢٦٣)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَقَدْ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ - يَعْنِي : الَّذِي عَضَّهُ - قَالَ : فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ : " أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهُ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4263

حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ نے اپنے والد سے روایت کی وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوا وہ فرماتے ہیں مجھے اپنے عمل میں سے صرف اس پر سب سے زیادہ بھروسہ ہے۔ حضرت صفوان کہتے ہیں حضرت یعلی نے فرمایا میرا ایک نوکر تھا وہ ایک شخص سے لڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ دیا حضرت صفوان کہتے ہیں مجھے حضرت یعلی نے بتایا تھا کہ کس نے کس کے ہاتھ پر کاٹا تھا پس جس کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا اس نے کاٹنے والے کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا جس کی وجہ سے اس کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے۔وہ دونوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانتوں کی دیت ساقط کردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠١؛حدیث نمبر ٤٢٦٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، قَالَ : وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ : تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي. فَقَالَ عَطَاءٌ : قَالَ صَفْوَانُ : قَالَ يَعْلَى : كَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الْآخَرِ - قَالَ : لَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الْآخَرَ - فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ، فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4264

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٢٦٤ کے مثل مروی ہے۔ (چونکہ اس شخص نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں دانت نکل گئے لہٰذا ان کی دیت ساقط کردی گئی کیونکہ غلطی اسی شخص کی تھی جس کے دانت نکلے تھے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الصَّائِلِ عَلَى نَفْسِ الْإِنْسَانِ أَوْ عُضْوِهِ، إِذَا دَفَعَهُ الْمَصُولِ عَلَيْهِ، فَأَتْلَفَ نَفْسَهُ أَوْ عُضْوَهُ، لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٠٢؛حدیث نمبر ٤٢٦٥)

وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4265

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ربیع کی بہن ام حارثہ نے ایک شخص کو زخمی کردیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدلہ لیا جائے گا بدلہ لیا جائے گا۔ربیع کی ماں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا فلاں سے بدلہ لیا جائے گا اللہ کی قسم!اس سے بدلہ نہیں لیا جائے گا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ!اے ام الربیع!بدلہ لینا،اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم ہے اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم!اس سے کبھی بھی بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ مسلسل یہی بات کہتی رہی حتیٰ کہ ان لوگوں نے دیت قبول کرلی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا کر دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ إِثْبَاتِ الْقِصَاصِ فِي الْأَسْنَانِ، وَمَا فِي مَعْنَاهَا؛ترجمہ؛دانت وغیرہ میں قصاص کا حکم؛جلد٣ص١٣٠٢؛حدیث نمبر ٤٢٦٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقِصَاصَ، الْقِصَاصَ ". فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ ؟ وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرَّبِيعِ الْقِصَاصُ كِتَابُ اللَّهِ ". قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا. قَالَ : فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4266

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان شخص اس بات کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، اس کا خون تین وجوہ میں سے کسی ایک وجہ سے حلال ہوتا ہے۔ (١) نکاح کے بعد زنا کرنا۔ (٢) جان کا بدلہ جان اور۔ (٣) جو شخص اپنی جماعت کو چھوڑ کر دین سے الگ ہوجائے۔ دیگر چند اسناد کے ساتھ بھی اسی طرح مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ مَا يُبَاحُ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ؛ترجمہ؛مسلمان کے خون کی اباحت کے اسباب؛جلد٣ص١٣٠٢؛حدیث نمبر ٤٢٦٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ ؛ الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4267

مختلف تین سندوں کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٢٦٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ مَا يُبَاحُ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ؛جلد٣ص١٣٠٣؛حدیث نمبر ٤٢٦٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4268

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے تو آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم!جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو مسلمان اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اس کا خون بہانا جائز نہیں البتہ تین(قسم کے)آدمیوں کا خون بہانا جائز ہے۔ (١) اسلام کو چھوڑ کر اپنی جماعت سے الگ ہونے والا۔ (٢) نکاح کے بعد زنا کرنے والا۔ (٣) جان کے بدلے جان۔ حضرت اعمش فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت ابراہیم کو سنائی تو انہوں نے بواسطہ حضرت اسود،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس کی مثل حدیث بیان کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ مَا يُبَاحُ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ؛جلد٣ص١٣٠٣؛حدیث نمبر ٤٢٦٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ - قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ؛ التَّارِكُ الْإِسْلَامَ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ - أَوِ الْجَمَاعَةَ شَكَّ فِيهِ أَحْمَدُ - وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ ". قَالَ الْأَعْمَشُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4269

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٢٦٩ کے مثل مروی ہے لیکن اس میں"والذی لاالہ غیرہ"کے الفاظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ مَا يُبَاحُ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ؛جلد٣ص١٣٠٣؛حدیث نمبر ٤٢٧٠)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4270

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو بھی ظلما قتل کیا جاتا ہے تو اس کا خون حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کے حصے میں ہوتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کو ایجاد کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ بَيَانِ إِثْمِ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ؛ترجمہ؛قتل کو ایجاد کرنے والے کا گناہ؛جلد٣ص١٣٠٣؛حدیث نمبر ٤٢٧١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا ؛ لِأَنَّهُ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4271

امام مسلم نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں"سن القتل" کے الفاظ ہیں لفظ"اول" نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ بَيَانِ إِثْمِ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ؛جلد٣ص١٣٠٤؛حدیث نمبر ٤٢٧٢)

وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَعِيسَى بْنِ يُونُسَ : " لِأَنَّهُ سَنَّ الْقَتْلَ " لَمْ يَذْكُرَا : " أَوَّلَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4272

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا(قتل کا)فیصلہ ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْمُجَازَاةِ بِالدِّمَاءِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّهَا أَوَّلُ مَا يُقْضَى فِيهِ بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛ترجمہ؛آخرت میں قتل کی سزا اور قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے قتل کا فیصلہ؛جلد٣ص١٣٠٤؛حدیث نمبر ٤٢٧٣)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4273

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٢٧٣ کے مثل روایت کرتے ہیں البتہ بعض روایات میں"یقضی"اور بعض میں"یحکم بین الناس"کےالفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ الْمُجَازَاةِ بِالدِّمَاءِ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّهَا أَوَّلُ مَا يُقْضَى فِيهِ بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٣٠٤؛حدیث نمبر ٤٢٧٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ : عَنْ شُعْبَةَ يُقْضَى، وَبَعْضُهُمْ قَالَ : يُحْكَمُ بَيْنَ النَّاسِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4274

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”زمانہ گھوم کر اپنی اصلی حالت پر ویسا ہو گیا جیسا اس دن تھا،جب اللہ تعالیٰ نے زمین آسمان بنائے تھے،برس بارہ مہینے کا ہے ان میں چار مہینے حرام ہیں۔(یعنی ان میں لڑنا بھڑنا درست نہیں) تین مہینے تو برابر لگے ہوئے ہیں،ذیقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور چوتھا رجب،مضر کا مہینہ جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے بیچ میں ہے۔“بعد اس کے فرمایا:”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ہم نے کہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم سمجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ کا کچھ اور نام رکھیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کیا مہینہ ذی الحجہ کا نہیں؟“ہم نے عرض کیا:ذی الحجہ کا مہینہ ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ کون سا شہر ہے؟“ہم نے عرض کیا:اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہے یہاں تک کہ ہم سمجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شہر کا کچھ اور نام رکھیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کیا یہ شہر نہیں ہے؟“(یعنی مکہ کا شہر) ہم نے عرض کیا:ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ کون سا دن ہے؟“ہم نے عرض کیا:اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اور کوئی نام رکھیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یوم النحر نہیں ہے؟“ہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! بے شک یہ یوم النحر ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تو تمہاری جانیں اور تمہارے مال راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تمہاری عزت حرام ہیں تم پر جیسے یہ دن حرام ہے،اس شہر میں، اس مہینے میں(جس کی حرمت میں کسی کو شک نہیں ایسے ہی مسلمان کو جان، عزت، دولت بھی حرام ہے اس کا لینا بلاوجہ شرعی درست نہیں) اور قریب ہے کہ تم ملو گے اپنے پروردگار سے وہ پوچھے گا تمہارے عملوں کے بارے میں،پھر مت ہو جانا میرے بعد تم کافر یا گمراہ کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو(یعنی آپس میں لڑو) اور ایک دوسرے کو مارو۔(یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نصیحت اور بہت بڑی اور عمدہ نصیحت تھی)سنو!حاضر کو چاہیے کہ غائب تک پہنچاے شاید جن کو حدیث پہنچی ان میں سے بعض،سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوں۔پھر فرمایا سنو!کیا میں نے(پیغام حق)پہنچا دیا۔ ابن حبیب نے اپنی روایت میں کہا رجب مضر اور ابوبکر کی روایت میں"فلا ترجعوا بعدی" کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛باب تغلیظ تحریم الدماء والأعراض والأموال؛ترجمہ؛خون، مال اور عزت کی حرمت؛جلد٣ص١٣٠٥؛حدیث نمبر ٤٢٧٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ؛ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ ؛ ذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبٌ شَهْرُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ "، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ : " أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى. قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ : " أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ؟ " قُلْنَا : بَلَى. قَالَ : " فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ : " أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ - قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ - وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، فَلَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي كُفَّارًا، أَوْ ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ؛ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلَّغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ". ثُمَّ قَالَ : " أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ ". قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ فِي رِوَايَتِهِ : " وَرَجَبُ مُضَرَ ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ : " فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4275

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،جب یوم النحر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اونٹ پر بیٹھے اور ایک شخص نے اس کی نکیل تھامی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“ انہوں نے کہا:اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام لیں گے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کیا یہ یوم النحر نہیں ہے؟“ہم نے کہا: بے شک یہ یوم النحر ہے،یا رسول اللہ!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم نے کہا:اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟“ہم نے کہا: بیشک یہ ذی الحجہ ہے یارسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”یہ کون سا شہر ہے؟“ہم نے کہا:اللہ اور رسول خوب جانتے ہیں۔یہاں تک کہ ہم سمجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا اور کوئی نام لیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کیا یہ شہر نہیں ہے؟“(یعنی مکہ، عرب کے لوگ شہر مکہ ہی کو بولتے تھے)ہم نے عرض کیا:بیشک شہر ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تو تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں حرام ہیں جیسے اس دن اس مہینہ میں اس شہر میں حرام ہے،جو حاضر ہے وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے دو مینڈھوں کی طرف جو چت کبرے تھے اور ذبح کیا پھر آپ بکریوں کے گلے کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو ہم لوگوں کو بانٹ دیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛باب تغلیظ تحریم الدماء والأعراض والاموال؛جلد٣ص١٣٠٦؛حدیث نمبر ٤٢٧٦)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ قَعَدَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَخَذَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ، فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ. فَقَالَ : " أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : " أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ : حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ. قَالَ : " أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ". قَالَ : ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَإِلَى جُزَيْعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4276

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ دن(قربانی کا دن)ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر تشریف فرما ہوئے اور ایک شخص نے اس کی نکیل پکڑی اس کے بعد حدیث نمبر ٤٢٧٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛باب تغلیظ تحریم الدماء والأعراض والاموال؛ جلد٣ص١٣٠٦؛حدیث نمبر ٤٢٧٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : قَالَ مُحَمَّدٌ : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ. قَالَ : وَرَجُلٌ آخِذٌ بِزِمَامِهِ - أَوْ قَالَ : بِخِطَامِهِ - فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4277

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر(قربانی کےدن)ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا یہ کون سا دن ہے۔اس کے بعد حسب سابق روایت ہے لیکن اس میں تمہاری عزت کے الفاظ مذکور نہیں اور یہ بھی ذکر نہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھو کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے بعد کا بھی ذکر نہیں۔ اور اس حدیث میں فرمایا کے تمہارے آج کے دن کی حرمت کی طرح جو تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں ہے یہ حکم اس وقت تک ہے کہ تم اپنے رب سے ملاقات کرو سنو!کیا میں نے پہنچا دیا؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا یا اللہ!تو گواہ ہو جا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛باب تغلیظ تحریم الدماء والأعراض والاموال؛ جلد٣ص١٣٠٧؛حدیث نمبر ٤٢٧٨)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بِإِسْنَادِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ - وَسَمَّى الرَّجُلَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ ". وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْكُرُ : وَأَعْرَاضَكُمْ، وَلَا يَذْكُرُ : ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ، وَمَا بَعْدَهُ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : " كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ. قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4278

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا جو دوسرے شخص کو تسمے سے کھینچ رہا تھا۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے قتل کیا ہے؟اس(پہلے)شخص نے کہا اگر یہ اقرار نہیں کرے گا تو میں اس کے خلاف گواہ قائم کروں گا۔اس (دوسرے)نے کہا ہاں میں نے قتل کیا ہے آپ نے پوچھا تو نے اس کو کس طرح قتل کیا اس نے کہا میں اور وہ دونوں درخت کے پتے جھاڑ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دی جس سے میں مشتعل ہوگیا پس میں نے اس کے سر پر کلہاڑی دے ماری اور اسے قتل کردیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تیرے پاس کوئی مال ہے جو اسے اپنے نفس کے بدلے میں دے دے اس نے کہا میرے پاس میری چادر اور کلہاڑی کے سوا کوئی مال نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے تمہاری قوم تجھے چھڑا ے گی؟اس نے کہا میں اپنی قوم میں اس سے زیادہ بےوقعت ہوں۔ (اس پر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تسمہ اس شخص(مقتول کے ولی)کی طرف پھینک دیا اور فرمایا اس کو لے جاؤ وہ اس کو لے کر جانے لگا اور جب پیٹھ پھیرلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس کو قتل کیا تو یہ بھی اس کی مثل ہوجائے گا چنانچہ وہ واپس ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر یہ اس کو قتل کرے تو یہ اس کی مثل ہے حالانکہ میں نے اسے آپ کے حکم پر پکڑا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو نہیں چاہتا کہ وہ تیرے اور تیرے ساتھی کا گناہ سمیٹ لے اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!کیا ایسا ہوسکتا ہے؟آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے راوی فرماتے ہیں اس نے اس کا تسمہ پھینک دیا اور اس کو چھوڑ کر آزاد کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛صحۃ الإقرار بالقتل وتمکین ولی القتیل من القصاص واستحباب طلب العفو منہ؛ ترجمہ؛قتل کے اقرار کا صحیح ہونا،مقتول کے ولی کو قصاص کا حق طلب معافی کا استحباب؛جلد٣ص١٣٠٧؛حدیث نمبر ٤٢٧٩)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ : إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا قَتَلَ أَخِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَتَلْتَهُ ؟ " - فَقَالَ : إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ - قَالَ : نَعَمْ، قَتَلْتَهُ. قَالَ : " كَيْفَ قَتَلْتَهُ ؟ " قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَةٍ، فَسَبَّنِي، فَأَغْضَبَنِي، فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ ، فَقَتَلْتُهُ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ ؟ " قَالَ : مَا لِي مَالٌ إِلَّا كِسَائِي، وَفَأْسِي. قَالَ : " فَتَرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ ؟ " قَالَ : أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ. فَرَمَى إِلَيْهِ بِنِسْعَتِهِ، وَقَالَ : " دُونَكَ صَاحِبَكَ ". فَانْطَلَقَ بِهِ الرَّجُلُ، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ ". فَرَجَعَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ : " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ ". وَأَخَذْتُهُ بِأَمْرِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ، وَإِثْمِ صَاحِبِكَ ؟ " قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ - لَعَلَّهُ قَالَ - بَلَى. قَالَ : " فَإِنَّ ذَاكَ كَذَاكَ ". قَالَ : فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ، وَخَلَّى سَبِيلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4279

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص لایا گیا جس نے کسی شخص کو قتل کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی کو اس(قاتل)سے قصاص لینے کا حکم دیا۔ وہ اسے لے کر چلا اور اس کی گردن میں تسمہ تھا جس کو کھینچ رہا تھا جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہے پھر ایک شخص نے جاکر اس کو اس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا دیا تو اس نے اس کو چھوڑ دیا۔اسماعیل بن سالم کہتے ہیں میں نے یہ حدیث حبیب بن ثابت کو سنائی تو انہوں نے کہا مجھے یہ حدیث ابن اشوع نے سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے وارث سے خون معاف کرنے کے لئے کہا تھا اور اس نے انکار کردیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ صِحَّةِ الْإِقْرَارِ بِالْقَتْلِ، وَتَمْكِينِ وَلِيِّ الْقَتِيلِ مِنَ الْقِصَاصِ، وَاسْتِحْبَابِ طَلَبِ الْعَفْوِ مِنْهُ؛ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٣٠٨؛حدیث نمبر ٤٢٨٠)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا، فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ وَفِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ". فَأَتَى رَجُلٌ الرَّجُلَ، فَقَالَ لَهُ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَلَّى عَنْهُ. قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ، فَأَبَى.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4280

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہذیل(قبیلہ)کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو مارا تو اس کے پیٹ کا بچہ ساقط ہوگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان دینے کا حکم فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛ترجمہ؛پیٹ کے بچے اور قتل خطأ نیز قتل شبہ عمد میں دیت کا وجوب؛جلد٣ص١٣٠٩؛حدیث نمبر ٤٢٨١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ ؛ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4281

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنولحیان کی ایک عورت کے پیٹ کا بچہ ساقط ہونے پر ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان دینے کا فیصلہ فرمایا پھر جس عورت کے خلاف لونڈی یا غلام کا فیصلہ ہوا تھا فوت ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت اس کی اولاد اور اس کے خاوند کے لئے ہے اور دیت اس کے عصبات(باپ کے خاندان)پر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣٠٩؛حدیث نمبر ٤٢٨٢)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ ؛ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا، وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4282

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہذیل(قبیلہ)کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں سے ایک نے دوسرے کو پتھر مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو ہلاک کر دیا وہ لوگ اپنا مقدمہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے ساقط ہونے والے بچے کا تاوان ایک غلام یا ایک لونڈی ہے اور عورت کی دیت اس قاتلہ کی عاقلہ(باپ کے خاندان)پر مقرر فرمائی اور اس(دیت)کا وارث اس کی والد اور دیگر رشتہ دار کو قرار دیا۔ حمل بن نابغہ الہذلی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کس طرح اس کا تاوان دوں جس نے پیا نہ کھایا نہ بات چیت کی اور نہ چلایا اس قسم کے بچے کی دیت نہیں دی جاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شخص اس مسجع عبادت پر کاہنوں کا بھائی(معلوم ہوتا)ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣٠٩؛حدیث نمبر ٤٢٨٣)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ ؛ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا، وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا، وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ، وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ". مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4283

ایک اور سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں دو عورتیں باہم لڑ پڑیں اس کے بعد حدیث نمبر ٤٢٨٣ کے مثل مروی ہے اس میں اس کی اولاد رشتہ داروں کو وارث بنانے کا ذکر نہیں اور یہ فرمایا کہ ایک کہنے والے نے کہا ہم کس طرح دیت دیں حمل بن مالک کا نام مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١٠؛حدیث نمبر ٤٢٨٤)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ : وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، وَقَالَ : فَقَالَ قَائِلٌ : كَيْفَ نَعْقِلُ وَلَمْ يُسَمِّ حَمَلَ بْنَ مَالِكٍ ؟

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4284

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک خاتون نے اپنی سوکن کو خیمے کی ایک لکڑی سے مارا اور وہ حاملہ تھی پس اسے ہلاک کر دیا فرماتے ہیں ان میں سے ایک عورت بنو لحیان قبیلے سے تعلق رکھتی تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کی عاقلہ پر ڈال دی اور اس کے پیٹ میں جو کچھ تھا اس کے بدلے میں ایک غلام یا لونڈی تاوان لازم فرمائی۔ قاتلہ کے رشتہ داروں میں سے کسی نے کہا کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے کھایا نہ پیا اور نہ ہی کوئی آواز نکالی اس قسم کی دیت باطل ہوتی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بدوؤں کی طرح مسجع عبارت بولتا ہے پس آپ نے دیت مقرر کردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١٠؛حدیث نمبر ٤٢٨٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ وَهِيَ حُبْلَى، فَقَتَلَتْهَا، قَالَ : وَإِحْدَاهُمَا لِحْيَانِيَّةٌ، قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ : أَنَغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ ؟ " قَالَ : وَجَعَلَ عَلَيْهِمُ الدِّيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4285

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے خیمے کے ڈنڈے سے اپنی سوکن کو قتل کردیا یہ مقدمہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو اس نے اس(قاتلہ)کی عاقلہ(ددھیال)پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور وہ عورت حاملہ تھی پس اس کے پیٹ کے بچے کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان دینے کا فیصلہ فرمایا۔ اس پر اس کے بعض رشتہ داروں نے کہا کیا ہم اس بچے کی دیت دیں جس نے کھایا نہ پیا،چیخا نہ چلایا اس جیسے کی دیت نہیں دی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں کی طرح مسجع کلام کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١١؛حدیث نمبر ٤٢٨٦)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً قَتَلَتْ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ ، فَأُتِيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى عَلَى عَاقِلَتِهَا بِالدِّيَةِ وَكَانَتْ حَامِلًا فَقَضَى فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ، فَقَالَ بَعْضُ عَصَبَتِهَا : أَنَدِي مَنْ لَا طَعِمَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ ؟ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ . قَالَ : فَقَالَ : " سَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4286

امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٢٨٦ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١١؛حدیث نمبر ٤٢٨٧)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَمُفَضَّلٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4287

امام مسلم نے اپنی سندوں کے ساتھ یہ قصہ روایت کیا ہے اور اس میں یہ ہے کہ اس کے پیٹ کا بچہ ساقط ہوگیا یہ مقدمہ بارگاہِ نبوی میں پیش ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لونڈی یا غلام ادا کرنے کا تاوان لازم کیا اور اسے اس عورت کے وارثوں پر لازم کیا اور حدیث میں عورت کی دیت کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١١؛حدیث نمبر ٤٢٨٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِمُ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ : فَأَسْقَطَتْ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ، وَجَعَلَهُ عَلَى أَوْلِيَاءِ الْمَرْأَةِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ : دِيَةَ الْمَرْأَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4288

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت سے متعلق مشورہ کیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا تو آپ نے ایک لونڈی یا غلام بطور تاوان ادا کرنے کا حکم دیا۔ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے پاس کسی ایسے شخص کو لائیں جو آپ کے ساتھ گواہی دے راوی کہتے ہیں پس حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ گواہی دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ؛بَابُ دِيَةِ الْجَنِينِ، وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ، وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي؛جلد٣ص١٣١١؛حدیث نمبر ٤٢٨٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : اسْتَشَارَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ ؛ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ. قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ. قَالَ : فَشَهِدَ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ .

Muslim Shareef, Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate, Hadees No. 4289

Muslim Shareef : Kitabul Qasamate Wal Muharebina Wal Qisase Wad Diyate

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ

|

•