
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دیا جائے تو کئی لوگ دوسرے لوگوں کی جانوں اور مالوں پر دعویٰ کریں گے لیکن مدعَا علیہ پر قسم لازم ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ الْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ؛ترجمہ؛مدعی علیہ پر قسم کا وجوب؛جلد٣ص١٣٣٦؛حدیث نمبر ٤٣٦١)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ الْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٣٦؛حدیث نمبر ٤٣٦٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔ (اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدعی کے پاس ایک گواہ تھا تو اس سے قسم بھی لی بلکہ مطلب یہ ہے کہ چونکہ اس کے پاس کے ایک گواہ تھا لہذا مدعی علیہ سے قسم لی۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ترجمہ؛ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کرنا؛جلد٣ص١٣٣٧؛حدیث نمبر ٤٣٦٣)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میرے پاس مقدمات لے کر آتے ہو اور شاید تم میں سے بعض دوسرے کے مقابلے میں اپنے موقف کو زائد دلائل سے پیش کر سکیں اور میں اس کے مطابق فیصلہ کروں وہ اسے نہ لے کیوں کہ میں اسے آگ کا ٹکڑا دے رہا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛ بَابُ الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ، وَاللَّحْنِ بِالْحُجَّةِ؛ترجمہ؛ظاہری دلیل اور چرب لسانی کی بنیاد پر حاکم کا فیصلہ؛جلد٣ص١٣٣٧؛حدیث نمبر ٤٣٦٤)
امام مسلم نے مزید دو سندوں کے ساتھ اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛ بَابُ الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ، وَاللَّحْنِ بِالْحُجَّةِ؛جلد٣ص١٣٣٧؛حدیث نمبر ٤٣٦٥)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارکہ کے دروازے پر کسی کے جھگڑنے کی آواز سنی تو ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا میں ایک بشر ہوں اور میرے پاس کوئی شخص مقدمہ لے کر آتا ہے اور ہوسکتا ہے کوئی شخص دوسرے آدمی کی نسبت اپنا دعویٰ زیادہ اچھی طرح پیش کرسکے اور میں اس کو سچا گمان کروں اور اس کے حق میں فیصلہ دے دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے وہ اس کو اٹھا لے یا چھوڑ دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛ بَابُ الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ، وَاللَّحْنِ بِالْحُجَّةِ؛جلد٣ص١٣٣٧؛حدیث نمبر ٤٣٦٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے دو اور سندوں سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں یوں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر کسی کے جھگڑنے کی آواز سنی۔(یعنی چرب لسان لوگ اپنا موقف چالاکی سے پیش کرتے ہیں یا ان کے وکیل بہت تیز ہوتے ہیں اور وہ جھوٹ کو بھی سچ کر دکھاتے ہیں اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا اپنے علم کے مطابق نہیں لہذا جس نے غلط بیانی کی وہ خود ذمہ دار ہوگا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛ بَابُ الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ، وَاللَّحْنِ بِالْحُجَّةِ؛جلد٣ص١٣٣٨؛حدیث نمبر ٤٣٦٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان ایک بخیل شخص ہے وہ مجھے اتنا نفقہ نہیں دیتا جو مجھے اور میرے بچوں کو کافی ہو مگر یہ کہ میں اس کی لاعلمی میں اس کے مال سے کچھ لے لوں کیا اس سلسلے میں مجھ پر کوئی حرج ہے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے مال سے دستور کے مطابق اتنا لے سکتی ہو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کو کافی ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ قَضِيَّةِ هِنْدٍ؛ترجمہ؛ حضرت ہند کے متعلق فیصلہ؛جلد٣ص١٣٣٨؛حدیث نمبر ٤٣٦٨)
امام مسلم نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ قَضِيَّةِ هِنْدٍ؛جلد٣ص١٣٣٨؛حدیث نمبر ٤٣٦٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(پہلے)مجھے روے زمین پر کسی اہل خانہ کے ذلت آپ کے گھر والوں کی ذلت سے زیادہ محبوب نہ تھی اور اب میرے نزدیک آپ کے اہل خانہ عزت سے بڑھ کر کسی گھر والے کی عزت پسندیدہ نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ محبت مزید بڑھے گی۔اس کے بعد ہند نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شک ابو سفیان مال روکنے والے شخص ہیں کیا مجھ پر حرج ہے کہ میں اجازت کے بغیر ان کے مال سے ان کے بال بچوں پر خرچ کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم دستور کے مطابق خرچ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ قَضِيَّةِ هِنْدٍ؛جلد٣ص١٣٣٩؛حدیث نمبر ٤٣٧٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ!اللہ کی قسم!اور آج روے زمین پر کسی گھر کی عزت آپ کے گھر کی عزت سے زیادہ پسند نہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ابھی یہ محبت اور بڑھے گی اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ابوسفیان ایک بخیل شخص ہے تو کیا میں اس کے مال میں سے اپنے بچوں کو کھلاؤں تو مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں۔آپ نے فرمایا نہیں البتہ دستور کے مطابق کھلاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ قَضِيَّةِ هِنْدٍ؛جلد٣ص١٣٣٩؛حدیث نمبر ٤٣٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتوں کو پسند کرتا ہے۔وہ تمہارے لیے اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اس کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور جدا جدا نہ ہوجاؤ نیز اللہ تعالیٰ فضول بحث،زیادہ سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛ترجمہ؛ضرورت کے بغیر بکثرت سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کی ممانعت یعنی لازم حق ادا نہ کرنا اور بغیر استحقاق کے طلب کرنا؛جلد٣ص١٣٤٠؛حدیث نمبر ٤٣٧٢)
امام مسلم نے فرمایا ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٣٧٢ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تین باتوں سے ناراض ہوتا ہے اور اس میں جدا جدا ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛جلد٣ص١٣٤٠؛حدیث نمبر ٤٣٧٣)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ کام حرام کیا ہے ماؤں کی نافرمانی کرنا بیٹیوں کو زندہ در گور کرنا، حق نہ دینا اور ناحق مانگنا اور تین باتوں کو مکروہ قرار دیا فضول بحث کرنا،بکثرت سوال کرنا اور مال ضائع کرنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛جلد٣ص١٣٤١؛حدیث نمبر ٤٣٧٤)
ایک اور سند کے بھی حدیث نمبر ٤٣٧٤ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر حرار قرار دیا یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛جلد٣ص١٣٤١؛حدیث نمبر ٤٣٧٥)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہو وہ مجھے لکھ کر بھیجیں تو انہوں نے ان کی طرف یوں لکھ کر بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین باتوں کو ناپسند فرمایا فضول بحث کرنا،مال ضائع کرنا اور بکثرت سوال کرنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛جلد٣ص١٣٤١؛حدیث نمبر ٤٣٧٦)
حضرت ورَّاد کہتے ہیں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا سلام علیک اما بعد میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کی نافرمانی،بیٹیوں کو زندہ در گور کرنا،حق روکنا،ناحق مانگنا حرام قرار دیا اور تین باتوں سے منع کیا۔فضول بحث کرنا،بکثرت سوال کرنا اور مال ضائع کرنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛جلد٣ص١٣٤١؛حدیث نمبر ٤٣٧٧)
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب حاکم فیصلہ کرے اور وہ اجتہاد سے فیصلہ کرے اور اس میں غلطی ہوجائے تو اس کے لیے اجر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ أَجْرِ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ، أَوْ أَخْطَأَ؛ترجمہ؛حاکم کو اجر ملتا ہے فیصلہ صحیح کرے یا غلط ہوجائے؛جلد٣ص١٣٤٢؛حدیث نمبر ٤٣٧٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٣٧٨ کے مثل مروی ہے اور اسے ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ أَجْرِ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ، أَوْ أَخْطَأَ؛جلد٣ص١٣٤٢؛حدیث نمبر ٤٣٧٩)
امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند سے بھی روایت کیا ہے۔ (قرآن و سنت اسلام کے بنیادی ماخذ ہیں لیکن جدید مسائل کے حل کے لئے قرآن کی روشنی میں اجتہاد کرنا ہوتا ہے چونکہ اجتہاد امت کی بھلائی کا ضامن ہے لہٰذا اس پر اجر ملتا ہے اگر اجتہاد میں خطأ ہوجاے تب بھی نیک نیتی کا ثواب ملتا ہے اجتہاد درست ہو تو دو گنا اجر ملتا ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ أَجْرِ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ، أَوْ أَخْطَأَ؛جلد٣ص١٣٤٢؛حدیث نمبر ٤٣٨٠)
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں میرے والد نے سجستان کے قاضی عبیداللہ بن ابی بکرہ کی طرف لکھوایا اور میں نے لکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کوئی شخص غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ قَضَاءِ الْقَاضِي وَهُوَ غَضْبَانُ؛ترجمہ؛حالت غضب میں قاضی کا فیصلہ کرنا ناپسندیدہ ہے؛جلد٣ص١٣٤٢؛حدیث نمبر ٤٣٨١)
امام مسلم نے اس حدیث کو چھ سندوں کے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ سے حدیث نمبر ٤٣٨١ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ قَضَاءِ الْقَاضِي وَهُوَ غَضْبَانُ؛جلد٣ص١٣٤٣؛حدیث نمبر ٤٣٨٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمارے دین میں ایسی بات ایجاد کرے جس کی اصل دین میں نہ ہو تو وہ(بات)مردود ہے۔(لغوی اعتبار سے ہر نیا کام بدعت کہلاتا ہے لیکن اصطلاحی بدعت جس کی مذمت کی گئی ہے وہ فکر اور عمل ہے جو شریعت کے خلاف ہو لہٰذا ہر نیا کام بدعت سیئہ نہیں کہلاتا ہے اچھے نئے کام بدعت حسنہ ہیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ نَقْضِ الْأَحْكَامِ الْبَاطِلَةِ، وَرَدِّ مُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ؛ترجمہ؛احکام باطلہ کو ساقط اور بدعات کو رد کرنا؛جلد٣ص١٣٤٣؛حدیث نمبر ٤٣٨٣)
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں میں نے قاسم بن سعد سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس کے تین مکانات ہوں اور وہ ہر مکان میں سے ایک تہائی کی وصیت کرے انہوں نے فرمایا ان سب کو ایک مکان میں جمع کردیا جائے۔ پھر فرمایا مجھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایسا عمل کرے جس کی اصل ہمارے دین میں نہیں تو وہ مردود ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ نَقْضِ الْأَحْكَامِ الْبَاطِلَةِ، وَرَدِّ مُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ؛جلد٣ص١٣٤٣؛حدیث نمبر ٤٣٨٤)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں بہترین گواہ نہ بتاؤں اور یہ(گواہ)وہ شخص ہے جو سوال کرنے سے پہلے گواہی دے۔ ( یعنی جو شخص کسی واقع کا گواہ ہے اگر وہ از خود گواہی دیتا ہے تاکہ حق دار کو اس کا حق ملے تو یہ بہت بڑی دیانت اور قربانی ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ خَيْرِ الشُّهُودِ؛ترجمہ؛بہترین گواہ؛جلد٣ص١٣٤٤؛حدیث نمبر ٤٣٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا دو عورتیں اپنے اپنے بچے کو لے کر جارہی تھیں کہ ایک بھیڑیا آیا اور ایک عورت کے بچے کو لے کر چلا گیا ان میں سے ایک عورت نے کہا بھیڑیا تمہارے بچے کو لے کر گیا ہے۔دوسری نے کہا تمہارے بچے کو لے کر گیا وہ دونوں اپنا مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس لے کر گئیں تو آپ نے بڑی کے حق میں فیصلہ دے دیا پھر وہ دونوں حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں اور ان کو واقعہ بتایا انہوں نے فرمایا مجھے چھری لا کر دو تاکہ میں اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے تم دونوں کو دے دوں۔ چھوٹی نے کہا نہیں،اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے یہ اس(دوسری)کا بچہ ہے تو آپ نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ کردیا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے چھری کا نام"سکین"اسی دن سنا تھا اس سے پہلے ہم اسے مدیہ کہتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ اخْتِلَافِ الْمُجْتَهِدِينَ؛ترجمہ؛مجتہدین کا اختلاف؛جلد٣ص١٣٤٤؛حدیث نمبر ٤٣٨٦)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں مزید بیان کی ہیں اور فرمایا کہ ان سندوں سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ اخْتِلَافِ الْمُجْتَهِدِينَ؛جلد٣ص١٣٤٥؛حدیث نمبر ٤٣٨٧)
حضرت ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کئی احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص نے دوسرے شخص سے زمین خریدی تو جس نے زمین خریدی تھی اس نے اس میں سونے سے بھرا ہوا گھڑا پایا تو خریدار نے کہا اپنا سونا لے لو میں نے تم سے صرف زمین خریدی ہے تم سے سونا نہیں خریدا جس نے زمین فروخت کی تھی اس نے کہا میں نے تم پر زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ فروخت کیا تھا۔ پھر ان دونوں نے ایک شخص سے فیصلہ لیا تو منصف نے کہا تم دونوں کی اولاد ہے؟ایک نے کہا میرا لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا میری لڑکی ہے اس نے کہا اس لڑکے اور لڑکی کی شادی کرادو اور یہ سونا اپنے اوپر خرچ کردو اور صدقہ کردو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِصْلَاحِ الْحَاكِمِ بَيْنَ الْخَصْمَيْنِ؛ترجمہ؛دو فریقوں کے درمیان حاکم کا صلح کرانا مستحب ہے؛جلد٣ص١٣٤٥؛حدیث نمبر ٤٣٨٨)
Muslim Shareef : Kitabul Aqziyah
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْأَقْضِيَةُ
|
•