asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Aqziyah

From 4361 to 4388

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دیا جائے تو کئی لوگ دوسرے لوگوں کی جانوں اور مالوں پر دعویٰ کریں گے لیکن مدعَا علیہ پر قسم لازم ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ الْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ؛ترجمہ؛مدعی علیہ پر قسم کا وجوب؛جلد٣ص١٣٣٦؛حدیث نمبر ٤٣٦١)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ، وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4361

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ الْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ؛جلد٣ص١٣٣٦؛حدیث نمبر ٤٣٦٢)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4362

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔ (اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدعی کے پاس ایک گواہ تھا تو اس سے قسم بھی لی بلکہ مطلب یہ ہے کہ چونکہ اس کے پاس کے ایک گواہ تھا لہذا مدعی علیہ سے قسم لی۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ؛ترجمہ؛ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کرنا؛جلد٣ص١٣٣٧؛حدیث نمبر ٤٣٦٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَيْدٌ - وَهُوَ : ابْنُ حُبَابٍ - حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِينٍ، وَشَاهِدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4363

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میرے پاس مقدمات لے کر آتے ہو اور شاید تم میں سے بعض دوسرے کے مقابلے میں اپنے موقف کو زائد دلائل سے پیش کر سکیں اور میں اس کے مطابق فیصلہ کروں وہ اسے نہ لے کیوں کہ میں اسے آگ کا ٹکڑا دے رہا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛ بَابُ الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ، وَاللَّحْنِ بِالْحُجَّةِ؛ترجمہ؛ظاہری دلیل اور چرب لسانی کی بنیاد پر حاکم کا فیصلہ؛جلد٣ص١٣٣٧؛حدیث نمبر ٤٣٦٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ ؛ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4364

امام مسلم نے مزید دو سندوں کے ساتھ اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛ بَابُ الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ، وَاللَّحْنِ بِالْحُجَّةِ؛جلد٣ص١٣٣٧؛حدیث نمبر ٤٣٦٥)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4365

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرہ مبارکہ کے دروازے پر کسی کے جھگڑنے کی آواز سنی تو ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا میں ایک بشر ہوں اور میرے پاس کوئی شخص مقدمہ لے کر آتا ہے اور ہوسکتا ہے کوئی شخص دوسرے آدمی کی نسبت اپنا دعویٰ زیادہ اچھی طرح پیش کرسکے اور میں اس کو سچا گمان کروں اور اس کے حق میں فیصلہ دے دوں تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے وہ اس کو اٹھا لے یا چھوڑ دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛ بَابُ الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ، وَاللَّحْنِ بِالْحُجَّةِ؛جلد٣ص١٣٣٧؛حدیث نمبر ٤٣٦٦)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ جَلَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ، فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ، فَأَقْضِي لَهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَحْمِلْهَا، أَوْ يَذَرْهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4366

امام مسلم علیہ الرحمہ نے دو اور سندوں سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں یوں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر کسی کے جھگڑنے کی آواز سنی۔(یعنی چرب لسان لوگ اپنا موقف چالاکی سے پیش کرتے ہیں یا ان کے وکیل بہت تیز ہوتے ہیں اور وہ جھوٹ کو بھی سچ کر دکھاتے ہیں اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا اپنے علم کے مطابق نہیں لہذا جس نے غلط بیانی کی وہ خود ذمہ دار ہوگا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛ بَابُ الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ، وَاللَّحْنِ بِالْحُجَّةِ؛جلد٣ص١٣٣٨؛حدیث نمبر ٤٣٦٧)

وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ، وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ : قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَجَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ أُمِّ سَلَمَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4367

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں حضرت ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان ایک بخیل شخص ہے وہ مجھے اتنا نفقہ نہیں دیتا جو مجھے اور میرے بچوں کو کافی ہو مگر یہ کہ میں اس کی لاعلمی میں اس کے مال سے کچھ لے لوں کیا اس سلسلے میں مجھ پر کوئی حرج ہے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے مال سے دستور کے مطابق اتنا لے سکتی ہو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کو کافی ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ قَضِيَّةِ هِنْدٍ؛ترجمہ؛ حضرت ہند کے متعلق فیصلہ؛جلد٣ص١٣٣٨؛حدیث نمبر ٤٣٦٨)

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ لَا يُعْطِينِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يَكْفِينِي وَيَكْفِي بَنِيَّ، إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمِهِ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ جُنَاحٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ مَا يَكْفِيكِ، وَيَكْفِي بَنِيكِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4368

امام مسلم نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ قَضِيَّةِ هِنْدٍ؛جلد٣ص١٣٣٨؛حدیث نمبر ٤٣٦٩)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4369

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(پہلے)مجھے روے زمین پر کسی اہل خانہ کے ذلت آپ کے گھر والوں کی ذلت سے زیادہ محبوب نہ تھی اور اب میرے نزدیک آپ کے اہل خانہ عزت سے بڑھ کر کسی گھر والے کی عزت پسندیدہ نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ محبت مزید بڑھے گی۔اس کے بعد ہند نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شک ابو سفیان مال روکنے والے شخص ہیں کیا مجھ پر حرج ہے کہ میں اجازت کے بغیر ان کے مال سے ان کے بال بچوں پر خرچ کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم دستور کے مطابق خرچ کرو تو تم پر کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ قَضِيَّةِ هِنْدٍ؛جلد٣ص١٣٣٩؛حدیث نمبر ٤٣٧٠)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُذِلَّهُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، وَمَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُعِزَّهُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ". ثُمَّ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي عَلَيْهِمْ بِالْمَعْرُوفِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4370

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ!اللہ کی قسم!اور آج روے زمین پر کسی گھر کی عزت آپ کے گھر کی عزت سے زیادہ پسند نہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ابھی یہ محبت اور بڑھے گی اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ابوسفیان ایک بخیل شخص ہے تو کیا میں اس کے مال میں سے اپنے بچوں کو کھلاؤں تو مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں۔آپ نے فرمایا نہیں البتہ دستور کے مطابق کھلاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ قَضِيَّةِ هِنْدٍ؛جلد٣ص١٣٣٩؛حدیث نمبر ٤٣٧١)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ، وَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ". ثُمَّ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ مِنْ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا ؟ فَقَالَ لَهَا : " لَا، إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4371

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتوں کو پسند کرتا ہے۔وہ تمہارے لیے اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اس کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور جدا جدا نہ ہوجاؤ نیز اللہ تعالیٰ فضول بحث،زیادہ سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛ترجمہ؛ضرورت کے بغیر بکثرت سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کی ممانعت یعنی لازم حق ادا نہ کرنا اور بغیر استحقاق کے طلب کرنا؛جلد٣ص١٣٤٠؛حدیث نمبر ٤٣٧٢)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا، وَيَكْرَهُ لَكُمْ ثَلَاثًا ؛ فَيَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا، وَلَا تَفَرَّقُوا، وَيَكْرَهُ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4372

امام مسلم نے فرمایا ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٣٧٢ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تین باتوں سے ناراض ہوتا ہے اور اس میں جدا جدا ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛جلد٣ص١٣٤٠؛حدیث نمبر ٤٣٧٣)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا ". وَلَمْ يَذْكُرْ : " وَلَا تَفَرَّقُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4373

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ کام حرام کیا ہے ماؤں کی نافرمانی کرنا بیٹیوں کو زندہ در گور کرنا، حق نہ دینا اور ناحق مانگنا اور تین باتوں کو مکروہ قرار دیا فضول بحث کرنا،بکثرت سوال کرنا اور مال ضائع کرنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛جلد٣ص١٣٤١؛حدیث نمبر ٤٣٧٤)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَرَّادٍ - مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ - عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنْعًا وَهَاتِ، وَكَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا ؛ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4374

ایک اور سند کے بھی حدیث نمبر ٤٣٧٤ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر حرار قرار دیا یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛جلد٣ص١٣٤١؛حدیث نمبر ٤٣٧٥)

وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَلَمْ يَقُلْ : إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4375

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہو وہ مجھے لکھ کر بھیجیں تو انہوں نے ان کی طرف یوں لکھ کر بھیجا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین باتوں کو ناپسند فرمایا فضول بحث کرنا،مال ضائع کرنا اور بکثرت سوال کرنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛جلد٣ص١٣٤١؛حدیث نمبر ٤٣٧٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ : اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَكَتَبَ إِلَيْهِ : أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا ؛ قِيلَ وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4376

حضرت ورَّاد کہتے ہیں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا سلام علیک اما بعد میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کی نافرمانی،بیٹیوں کو زندہ در گور کرنا،حق روکنا،ناحق مانگنا حرام قرار دیا اور تین باتوں سے منع کیا۔فضول بحث کرنا،بکثرت سوال کرنا اور مال ضائع کرنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ كَثْرَةِ الْمَسَائِلِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ، وَهُوَ الِامْتِنَاعُ مِنْ أَدَاءِ حَقٍّ لَزِمَهُ، أَوْ طَلَبِ مَا لَا يَسْتَحِقُّهُ؛جلد٣ص١٣٤١؛حدیث نمبر ٤٣٧٧)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ وَرَّادٍ ، قَالَ : كَتَبَ الْمُغِيرَةُ إِلَى مُعَاوِيَةَ : سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ ؛ حَرَّمَ عُقُوقَ الْوَالِدِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَلَا وَهَاتِ، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ ؛ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4377

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب حاکم فیصلہ کرے اور وہ اجتہاد سے فیصلہ کرے اور اس میں غلطی ہوجائے تو اس کے لیے اجر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ أَجْرِ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ، أَوْ أَخْطَأَ؛ترجمہ؛حاکم کو اجر ملتا ہے فیصلہ صحیح کرے یا غلط ہوجائے؛جلد٣ص١٣٤٢؛حدیث نمبر ٤٣٧٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ - مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ، ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ، ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4378

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٣٧٨ کے مثل مروی ہے اور اسے ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ أَجْرِ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ، أَوْ أَخْطَأَ؛جلد٣ص١٣٤٢؛حدیث نمبر ٤٣٧٩)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي عَقِبِ الْحَدِيثِ : قَالَ يَزِيدُ : فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، فَقَالَ : هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4379

امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند سے بھی روایت کیا ہے۔ (قرآن و سنت اسلام کے بنیادی ماخذ ہیں لیکن جدید مسائل کے حل کے لئے قرآن کی روشنی میں اجتہاد کرنا ہوتا ہے چونکہ اجتہاد امت کی بھلائی کا ضامن ہے لہٰذا اس پر اجر ملتا ہے اگر اجتہاد میں خطأ ہوجاے تب بھی نیک نیتی کا ثواب ملتا ہے اجتہاد درست ہو تو دو گنا اجر ملتا ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ أَجْرِ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ، أَوْ أَخْطَأَ؛جلد٣ص١٣٤٢؛حدیث نمبر ٤٣٨٠)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ - حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِثْلَ رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا.

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4380

حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں میرے والد نے سجستان کے قاضی عبیداللہ بن ابی بکرہ کی طرف لکھوایا اور میں نے لکھا کہ دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کوئی شخص غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ قَضَاءِ الْقَاضِي وَهُوَ غَضْبَانُ؛ترجمہ؛حالت غضب میں قاضی کا فیصلہ کرنا ناپسندیدہ ہے؛جلد٣ص١٣٤٢؛حدیث نمبر ٤٣٨١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كَتَبَ أَبِي وَكَتَبْتُ لَهُ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضٍ بِسِجِسْتَانَ : أَنْ لَا تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4381

امام مسلم نے اس حدیث کو چھ سندوں کے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ سے حدیث نمبر ٤٣٨١ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ قَضَاءِ الْقَاضِي وَهُوَ غَضْبَانُ؛جلد٣ص١٣٤٣؛حدیث نمبر ٤٣٨٢)

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4382

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمارے دین میں ایسی بات ایجاد کرے جس کی اصل دین میں نہ ہو تو وہ(بات)مردود ہے۔(لغوی اعتبار سے ہر نیا کام بدعت کہلاتا ہے لیکن اصطلاحی بدعت جس کی مذمت کی گئی ہے وہ فکر اور عمل ہے جو شریعت کے خلاف ہو لہٰذا ہر نیا کام بدعت سیئہ نہیں کہلاتا ہے اچھے نئے کام بدعت حسنہ ہیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ نَقْضِ الْأَحْكَامِ الْبَاطِلَةِ، وَرَدِّ مُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ؛ترجمہ؛احکام باطلہ کو ساقط اور بدعات کو رد کرنا؛جلد٣ص١٣٤٣؛حدیث نمبر ٤٣٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ ، جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4383

حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں میں نے قاسم بن سعد سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس کے تین مکانات ہوں اور وہ ہر مکان میں سے ایک تہائی کی وصیت کرے انہوں نے فرمایا ان سب کو ایک مکان میں جمع کردیا جائے۔ پھر فرمایا مجھے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایسا عمل کرے جس کی اصل ہمارے دین میں نہیں تو وہ مردود ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ نَقْضِ الْأَحْكَامِ الْبَاطِلَةِ، وَرَدِّ مُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ؛جلد٣ص١٣٤٣؛حدیث نمبر ٤٣٨٤)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَامِرٍ ، قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ مَسَاكِنَ فَأَوْصَى بِثُلُثِ كُلِّ مَسْكَنٍ مِنْهَا، قَالَ : يُجْمَعُ ذَلِكَ كُلُّهُ فِي مَسْكَنٍ وَاحِدٍ. ثُمَّ قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4384

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں بہترین گواہ نہ بتاؤں اور یہ(گواہ)وہ شخص ہے جو سوال کرنے سے پہلے گواہی دے۔ ( یعنی جو شخص کسی واقع کا گواہ ہے اگر وہ از خود گواہی دیتا ہے تاکہ حق دار کو اس کا حق ملے تو یہ بہت بڑی دیانت اور قربانی ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ خَيْرِ الشُّهُودِ؛ترجمہ؛بہترین گواہ؛جلد٣ص١٣٤٤؛حدیث نمبر ٤٣٨٥)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ ؟ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4385

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا دو عورتیں اپنے اپنے بچے کو لے کر جارہی تھیں کہ ایک بھیڑیا آیا اور ایک عورت کے بچے کو لے کر چلا گیا ان میں سے ایک عورت نے کہا بھیڑیا تمہارے بچے کو لے کر گیا ہے۔دوسری نے کہا تمہارے بچے کو لے کر گیا وہ دونوں اپنا مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس لے کر گئیں تو آپ نے بڑی کے حق میں فیصلہ دے دیا پھر وہ دونوں حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں اور ان کو واقعہ بتایا انہوں نے فرمایا مجھے چھری لا کر دو تاکہ میں اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے تم دونوں کو دے دوں۔ چھوٹی نے کہا نہیں،اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے یہ اس(دوسری)کا بچہ ہے تو آپ نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ کردیا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے چھری کا نام"سکین"اسی دن سنا تھا اس سے پہلے ہم اسے مدیہ کہتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ اخْتِلَافِ الْمُجْتَهِدِينَ؛ترجمہ؛مجتہدین کا اختلاف؛جلد٣ص١٣٤٤؛حدیث نمبر ٤٣٨٦)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ هَذِهِ لِصَاحِبَتِهَا : إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ أَنْتِ. وَقَالَتِ الْأُخْرَى : إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ. فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا. فَقَالَتِ الصُّغْرَى : لَا، يَرْحَمُكَ اللَّهُ، هُوَ ابْنُهَا. فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى ". قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، مَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4386

امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں مزید بیان کی ہیں اور فرمایا کہ ان سندوں سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ بَيَانِ اخْتِلَافِ الْمُجْتَهِدِينَ؛جلد٣ص١٣٤٥؛حدیث نمبر ٤٣٨٧)

وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصٌ - يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ - وَهُوَ : ابْنُ الْقَاسِمِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ وَرْقَاءَ.

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4387

حضرت ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کئی احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص نے دوسرے شخص سے زمین خریدی تو جس نے زمین خریدی تھی اس نے اس میں سونے سے بھرا ہوا گھڑا پایا تو خریدار نے کہا اپنا سونا لے لو میں نے تم سے صرف زمین خریدی ہے تم سے سونا نہیں خریدا جس نے زمین فروخت کی تھی اس نے کہا میں نے تم پر زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ فروخت کیا تھا۔ پھر ان دونوں نے ایک شخص سے فیصلہ لیا تو منصف نے کہا تم دونوں کی اولاد ہے؟ایک نے کہا میرا لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا میری لڑکی ہے اس نے کہا اس لڑکے اور لڑکی کی شادی کرادو اور یہ سونا اپنے اوپر خرچ کردو اور صدقہ کردو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِصْلَاحِ الْحَاكِمِ بَيْنَ الْخَصْمَيْنِ؛ترجمہ؛دو فریقوں کے درمیان حاکم کا صلح کرانا مستحب ہے؛جلد٣ص١٣٤٥؛حدیث نمبر ٤٣٨٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ : خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ. فَقَالَ الَّذِي شَرَى الْأَرْضَ : إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ، وَمَا فِيهَا. قَالَ : فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ : أَلَكُمَا وَلَدٌ ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : لِي غُلَامٌ. وَقَالَ الْآخَرُ : لِي جَارِيَةٌ. قَالَ : أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ، وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِكُمَا مِنْهُ، وَتَصَدَّقَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Aqziyah, Hadees No. 4388

Muslim Shareef : Kitabul Aqziyah

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْأَقْضِيَةُ

|

•