
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے گری پڑی چیز(لقطہ)کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اس(تھیلی)کو باندھنے کی رسی اور اس تھیلی کی پہچان کو یاد رکھو پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو اگر اس کا مالک آ جائے تو ٹھیک ہے ورنہ جو چاہو کرو۔ اس نے پوچھا گم شدہ بھیڑ کا کیا حکم ہے آپ نے فرمایا وہ تمہارے لئے یا تمہارے بھائی کے لئے یا بھیڑئے کے لئے ہے۔ اس نے پوچھا گم شدہ اونٹ کا ایک حکم ہے؟آپ نے فرمایا تمہیں اس سے کیا مطلب اس کی مشک(پیٹ میں پانی)اور اس کا جوتا(پاؤں)اس کے ساتھ ہے وہ پانی پر جاے گا اور درختوں سے کھاے گا حتیٰ کہ اس کا مالک آکر اسے پکڑ لے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛ترجمہ؛گری پڑی چیزوں کے احکام؛جلد٣ص١٣٤٥؛١٣٤٧؛حدیث نمبر ٤٣٨٩)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو پھر اس کی رسی اور تھیلی کی پہچان کرلو پھر اسے خرچ کرو اس کے بعد اگر اس کا مالک آجائے تو اسے یاد کردینا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے؟آپ نے فرمایا اسے لے لو وہ تمہارے لیے ہے یا تمہارے بھائی کے لیے ہے یا بھیڑئے کے لیے۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے؟یہ سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ آپ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے یا(فرمایا کہ)آپ کا چہرہ انور سرخ ہوگیا پھر فرمایا تمہارا اس سے کیا مطلب ہے اس کے جوتے اور اس کا مشکیزہ اس کے ساتھ ہے حتیٰ کہ اس کا مالک اسے حاصل کرلے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٨؛حدیث نمبر ٤٣٩٠)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور میں بھی اس کے ساتھ تھا اس نے آپ سے لقطہ کے بارے میں پوچھا۔اس حدیث کے آخر میں ہے جب اس چیز کو مانگنے والا نہ آئے تو اسے خرچ کرڈالو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٨؛حدیث نمبر ٤٣٩١)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٣٩٠ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ کا چہرہ انور اور پیشانی سرخ ہوگئی اور آپ کو غصہ آگیا نیز اس میں یوں ہے کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرو اگر اس کا مالک نہ آئے تو وہ تمہارے پاس امانت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٨؛حدیث نمبر ٤٣٩٢)
رسول اکرم کے صحابی حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے یا چاندی کی صورت میں لقطہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس کی رسی اور تھیلی کی پہچان یاد رکھو پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو پھر بھی شناخت نہ ہو تو اسے خرچ کرو۔وہ تمہارے پاس امانت ہوگئی پھر کسی دن اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو۔اس شخص نے گمشدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا تجھے اس سے کیا تعلق؟اسے چھوڑ دو اس کے ساتھ اس کا جوتا اور مشک ہے وہ پانی پر جاے گا اور درختوں کے پتے کھاے گا حتیٰ کہ اس کا مالک اسے پا لے،اس شخص نے گمشدہ بکری کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اسے لے جاؤ وہ تمہارے لئے ہے یا تمہارے بھائی کے لیے ہے یا بھیڑئے کے لیے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٩؛حدیث نمبر ٤٣٩٣)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا ربیعہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہوگئے حتیٰ کہ آپ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے۔اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ یہ اضافہ ہے کہ اگر اس کا مالک آجائے اور اس کی تھیلی،(پیسوں کی)تعداد اور تھیلی کی رسی کو پہچان لے سو اسے دے دو ورنہ تمہارے لئے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٩؛حدیث نمبر ٤٣٩٤)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو اگر اس کی پہچان نہ ہو سکے تو اس کی تھیلی اور سر بند کی پہچان یاد رکھو اور اسے کھا لو اس کے بعد اس کا مالک آجائے تو اسے دے دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٤٩؛حدیث نمبر ٤٣٩٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اگر اس کی پہچان ہوجائے تو اسے دے دو ورنہ اس تھیلی کو اور اس کے سر بند اور عدد کی پہچان کو یاد رکھو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٥٠؛حدیث نمبر ٤٣٩٦)
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ جہاد کے لئے گئے مجھے ایک چابک پڑا ہوا ملا تو میں نے اسے اٹھا لیا ان دونوں نے کہا اس کو چھوڑ دو میں نے کہا میں اس کا اعلان کروں گا اگر اس کا مالک آگیا تو ٹھیک ہے ورنہ میں اس سے نفع حاصل کروں گا اور میں نے ان دونوں کی بات نہ مانی جب ہم جہاد سے واپس آئے تو میں حکم خداوندی سے حج کے لیے چلا گیا پھر جب مدینہ طیبہ آیا اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرکے ان کو چابک کا معاملہ بتایا اور ان دونوں حضرات کی بات بھی بتائی تو انہوں نے فرمایا میں نے ایک تھیلی پائی تھی جس میں ایک سو دینار تھے یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی بات ہے پس میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو میں نے اس کا اعلان کیا لیکن اس کی شناخت کے لئے کوئی نہ آیا پھر میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔میں نے اس کا اعلان کیا لیکن اس کی پہچان کے لئے کوئی نہ یا پھر حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو میں نے اس کا اعلان کیا تو اس کی شناخت کرنے والا کوئی نہ پایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی تعداد،تھیلی اور سربند کی شناخت کو یاد رکھو اگر اس کا مالک آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس سے نفع حاصل کرو میں نے اس سے نفع حاصل کیا اس کے بعد مکہ مکرمہ میں میری ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا مجھے یاد نہیں تین سال تھے یا ایک سال۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٥٠؛حدیث نمبر ٤٣٩٧)
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا تو میں نے ایک چابک پائی اس کے بعد انہوں نے ان الفاظ تک حدیث نمبر ٤٣٩٧ کے مثل بیان کیا کہ میں نے اس سے فائدہ اٹھایا حضرت شعبہ فرماتے ہیں میں نے دس سال بعد ان سے سنا انہوں نے فرمایا ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٥٠؛حدیث نمبر ٤٣٩٨)
حضرت امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی چار سندیں ذکر کی ہیں حماد بن سلمہ کے علاوہ سب نے تین کا ذکر کیا انہوں نے دو سال یا تین سال(شک کے ساتھ)ذکر کیا ہے۔سفیان، زید بن ابی اُنیسہ اور حماد بن سلمہ کی روایت میں یوں ہے کہ اگر کوئی شخص آے اور تمہیں اس کے عدد تھیلی اور سر بند کی خبر دے تو اسے دے دو ابن نمیر کی روایت میں ہے ورنہ تم اس سے نفع حاصل کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛جلد٣ص١٣٥٠؛حدیث نمبر ٤٣٩٩)
حضرت عبد الرحمن بن عثمان تیمی سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجیوں کی گری پڑی چیز سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ؛جلد٣ص١٣٥١؛حدیث نمبر ٤٤٠٠)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس کسی نے کسی کی گمشدہ چیز کو رکھ لے تو وہ شخص گمراہ ہے جب تک اس کا اعلان نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ؛جلد٣ص١٣٥١؛حدیث نمبر ٤٤٠١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے کیا تم میں سے کوئی شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کی کوٹھری میں گھس کر اس کا خزانہ توڑا جائے اور اس کا کھانا منتقل کیا جائے جانوروں کے تھنوں میں ان لوگوں کا کھانا ذخیرہ ہوتا ہے پس کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی اجازت کے بغیر اس کے جانور کا دودھ نہ دوہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ حَلْبِ الْمَاشِيَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ مَالِكِهَا؛ترجمہ؛مالک کی اجازت کے بغیر دودھ دوہنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٣٥١؛حدیث نمبر ٤٤٠٢)
امام مسلم نے اس حدیث کی متعدد سندیں ذکر کی ہیں لیث کی سند کے سوا سب میں"فَيُنْتَقَلَ"کا لفظ ہے جب کہ ان کی روایت میں «فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ» کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ حَلْبِ الْمَاشِيَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ مَالِكِهَا؛جلد٣ص١٣٥٢؛حدیث نمبر ٤٤٠٣)
حضرت ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)جس شخص کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت اور خاطر داری کرے صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!خاطر داری کب تک کرے؟فرمایا ایک دن اور ایک رات تک،تین دن اور تین رات تک اس کی مہمان نوازی کرے اس کے بعد بھی رہے تو وہ اس پر صدقہ ہے اور آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ الضِّيَافَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٣ص١٣٥٢؛حدیث نمبر ٤٤٠٤)
حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ضیافت تین دن اور جائزہ(خاطر اور مدارات)ایک دن اور ایک رات ہے اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے پاس اتنی دیر تک ٹھہرے کہ اس کو گناہ گار کردے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ اسے کیسے گناہ گار کرے گا۔فرمایا اس کے پاس ٹھہرے اور اس کے پاس مہمان نوازی کے لئے کچھ نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ الضِّيَافَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٣ص١٣٥٣؛حدیث نمبر ٤٤٠٥)
حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے کانوں سے سنا میری آنکھوں نےدیکھا اور میرے دل نے یاد رکھا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٤٠٥ کے مثل مروی ہے اور اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ تم میں سے کسی ایک کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پاس رہے حتیٰ کہ اسے گناہ گار کردے جیسا کہ وکیع کی روایت میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ الضِّيَافَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٣ص١٣٥٣؛حدیث نمبر ٤٤٠٦)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ ہمیں بھیجتے ہیں اور ہم کسی قوم کے پاس اترتے ہیں لیکن وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو آپ کیا فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا اگر تم کسی قوم کے پاس ٹھہرو اور وہ تمہارے لئے ایسی ضیافت کا اہتمام کریں جو مہمان کے لئے مناسب ہے تو اسے قبول کرو اور اگر ایسا نہ کریں تو ان سے مہمان نوازی کا وہ حق وصول کرو جو ان کے لئے مناسب ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ الضِّيَافَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٣ص١٣٥٣؛حدیث نمبر ٤٤٠٧)
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دفعہ ہم سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک شخص اونٹنی پر سوار ہوکر آیا اور دائیں بائیں گھورنے لگا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس زاید سواری ہو وہ اس شخص کو دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زاد راہ ہو وہ اسے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قسم کے مالوں کا ذکر کیا حتیٰ کہ ہم نے خیال کیا کہ کسی شخص کا اس کے(اپنے)زائد مال میں کوئی حق نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ اللُّقَطَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمُؤَاسَاةِ بِفُضُولِ الْمَالِ؛ترجمہ؛زائد مال کو مسلمانوں کی خیر خواہی پر خرچ کرنا؛جلد٣ص١٣٥٤؛حدیث نمبر ٤٤٠٨)
حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں گئے تو ہمیں سخت تنگی پیش آئی حتیٰ کہ ہم نے ارادہ کیا کہ ہم اپنی بعض سواریوں کو ذبح کردیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تو ہم نے اپنا اپنا زاد راہ جمع کیا اور چمڑے کا ایک دسترخوان بچھایا جس پر سب کے زاد راہ جمع ہو گئے راوی کہتے میں اس چمڑے کے ٹکڑے کا اندازہ کرنے آگے بڑھا تو میرے اندازے کے مطابق وہ بکری کے بیٹھنے کی جگہ کے برابر تھا اور ہم چودہ سو افراد تھے۔ وہ فرماتے ہیں ہم سب نے سیر ہوکر کھایا پھر ہم اپنی اپنی تھیلی کو بھر لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وضو کے لئے پانی ہے؟تو ایک شخص لوٹے میں تھوڑا سا پانی لے کر آیا تو آپ نے اسے ایک پیالے میں ڈال دیا اور ہم سب نے وضو کیا چودہ سو آدمیوں نے اچھی طرح پانی بہایا پھر آٹھ سو آدمی آے اور انہوں نے پوچھا کیا وضو کے لئے پانی ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو سے فراغت ہوچکی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب اللقطه؛بَابُ اسْتِحْبَابِ خَلْطِ الْأَزْوَادِ إِذَا قَلَّتْ، وَالْمُؤَاسَاةِ فِيهَا؛ترجمہ؛کمی کی صورت میں سب کے زاد راہ کو ملا نا اور باہم غم خواہی کرنا؛جلد٣ص١٣٥٤؛حدیث نمبر ٤٤٠٩)
Muslim Shareef : Kitabul Loqatate
|
Muslim Shareef : كِتَابُ اللُّقَطَۃِ
|
•