asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Jihade Was Siyare

From 4410 to 4591

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

ابن عون کہتے ہیں میں نے حضرت نافع کو خط لکھ کر جنگ سے پہلے کفار کو دعوت دینے سے متعلق سوال کیا۔تو انہوں نے مجھے لکھا کہ یہ اسلام کے آغاز میں تھا کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر بے خبری میں حملہ کیا اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے آپ نے ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا اور باقی کو قید کرلیا اور اسی دن جویریہ آپ کے ہاتھ لگی تھیں راوی کہتے ہیں یا حارث کی بیٹی،یہ حدیث مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کی اور وہ اس لشکر میں تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ الْإِغَارَةِ عَلَى الْكُفَّارِ الَّذِينَ بَلَغَتْهُمْ دَعْوَةُ الْإِسْلَامِ، مِنْ غَيْرِ تَقَدُّمِ الْإِعْلَامِ بِالْإِغَارَةِ؛ترجمہ؛جن کفار کو دعوت اسلام دی گئی ان کو دوبارہ دعوت دئے بغیر جنگ کرنے کا جواز؛جلد٣ص١٣٥٦؛حدیث نمبر ٤٤١٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيَّ : إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ. قَالَ يَحْيَى : أَحْسِبُهُ قَالَ : جُوَيْرِيَةَ، أَوْ قَالَ الْبَتَّةَ : ابْنَةَ الْحَارِثِ. وَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَكَانَ فِي ذَاكَ الْجَيْشِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4410

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے اور اس میں کسی شک کے بغیر جویریہ بنت حارث کا ذکر ہے۔(حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا امہات المومنین میں سے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے حرم پاک میں داخل کرکے شرف عطاء فرمایا۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ الْإِغَارَةِ عَلَى الْكُفَّارِ الَّذِينَ بَلَغَتْهُمْ دَعْوَةُ الْإِسْلَامِ، مِنْ غَيْرِ تَقَدُّمِ الْإِعْلَامِ بِالْإِغَارَةِ؛جلد٣ص١٣٥٦؛حدیث نمبر ٤٤١١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ : جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَلَمْ يَشُكَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4411

حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بڑے یا چھوٹے لشکر کا امیر مقرر فرماتے تو اسے خاص طور پر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اس کے ساتھیوں کو نیکی کی وصیت کرتے تھے پھر فرماتے اللہ تعالیٰ کے نام سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو جو شخص اللہ تعالیٰ کا انکار کرے اس سے لڑو خیانت نہ کرنا نہ عہد شکنی کرنا،نہ کسی شخص کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل بگاڑنا اور نہ ہی کسی بچے کو قتل کرنا،جب تمہارا اپنے مشرکین دشمنوں سے مقابلہ ہو تو ان کو تین باتوں کی دعوت دینا وہ ان میں سے جسے مان لیں قبول کرلینا اور ان کے ساتھ جنگ سے رک جانا۔ پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا اگر وہ اسلام لے آئیں تو ان سے قبول کرنا اور جنگ سے رک جانا پھر ان کو اپنے علاقے سے مہاجرین کے شہر کی طرف پھر جانے کی دعوت دینا اور ان کو بتانا کہ اگر وہ ایسا کرلیں تو ان کو وہ سہولتیں حاصل ہوں گی جو مہاجرین کو ملیں گی اور ان پر وہ ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہوں گی۔اور اگر وہ اس شہر میں آنے سے انکار کردیں تو ان کو بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کے حکم میں رہیں گے ان پر وہی حکم جاری ہوگا جو دوسرے مسلمانوں پر جاری ہوگا اور ان کے لئے مال غنیمت اور مال فئے میں کچھ حصہ نہ ہوگا البتہ یہ کہ وہ کچھ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں اور اگر وہ اس دعوت(اسلام)کو قبول نہ کریں تو ان سے جزیہ کا سوال کرو اگر وہ مان جائیں تو ان سے رک جانا اور اگر وہ انکار کریں تو اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرکے ان سے جہاد کرنا۔ اور جب تم کسی قلعے کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات کا ضامن بناؤ تو تم اللہ اور اس کے رسول کو ضامن نہ بنانا بلکہ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دینا کیونکہ اگر وہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے ذمہ کو توڑیں اس بات سے آسان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کو توڑیں۔ اور جب تم کسی قلعے کا محاصرہ کرو اور وہ چاہے کہ تم ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اتارو تو تم ان کو اللہ کے حکم کے مطابق نہ اتارنا بلکہ اپنے حکم کے مطابق نکالنا کیوں تمہیں معلوم نہیں کہ تمہاری رائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہے یا نہیں۔ حضرت عبد الرحمن نے کہا یہ یا اس کی مثل ہے اور اسحاق نے حدیث کے آخر میں یحییٰ بن آدم سے اضافہ نقل کیا وہ فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت مقاتل بن حیان سے ذکر کی۔ انہوں نے کہا مجھ سے مسلم بن ہیصم نے نعمان بن مقرن سے نقل کرتے ہوئے بیان کی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَأْمِيرِ الْإِمَامِ الْأُمَرَاءَ عَلَى الْبُعُوثِ، وَوَصِيَّتِهِ إِيَّاهُمْ بِآدَابِ الْغَزْوِ وَغَيْرِهَا؛ترجمہ؛کسی شخص کو امیر جہاد بنانا اور اسے وصیت کرنا کہ لوگوں کو جہاد کے آداب سکھاے؛جلد٣ص١٣٥٧؛حدیث نمبر ٤٤١٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : أَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً. ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ، أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ثُمَّ قَالَ : " اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَمْثُلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ - أَوْ خِلَالٍ - فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ، وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَسَلْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ، وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ، وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ، وَلَكِنِ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ، وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ فَإِنَّكُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ، وَذِمَمَ أَصْحَابِكُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ، وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ، أَمْ لَا ؟ ". قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ، وَزَادَ إِسْحَاقُ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ قَالَ : فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ - قَالَ يَحْيَى : يَعْنِي أَنَّ عَلْقَمَةَ يَقُولُهُ لِابْنِ حَيَّانَ - فَقَالَ : حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4412

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی امیر یا کسی لشکر کو بھیجتے تو اسے بلا کر نصیحت فرماتے اس کے بعد حضرت سفیان کی روایت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَأْمِيرِ الْإِمَامِ الْأُمَرَاءَ عَلَى الْبُعُوثِ، وَوَصِيَّتِهِ إِيَّاهُمْ بِآدَابِ الْغَزْوِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٣٥٨؛حدیث نمبر ٤٤١٣)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بُرَيْدَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا، أَوْ سَرِيَّةً دَعَاهُ فَأَوْصَاهُ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4413

ایک اور سند سے بھی امام مسلم نے یہ حدیث نقل کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَأْمِيرِ الْإِمَامِ الْأُمَرَاءَ عَلَى الْبُعُوثِ، وَوَصِيَّتِهِ إِيَّاهُمْ بِآدَابِ الْغَزْوِ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٣٥٨؛حدیث نمبر ٤٤١٤)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4414

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کسی صحابی کو کسی مہم پر روانہ فرماتے تو ارشاد فرماتے لوگوں کو خوش کرو،متنفر نہ کرو اور فرماتے آسانی پیدا کرو مشکل میں نہ ڈالو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ، وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ؛جلد٣ص١٣٥٨؛حدیث نمبر ٤٤١٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ : " بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4415

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا آسانی پیدا کرنا تنگی میں نہ ڈالنا،خوش کرنا،متنفر نہ کرنا،آپس میں اتفاق رکھنا اور اختلاف نہ کرنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ، وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ؛جلد٣ص١٣٥٩؛حدیث نمبر ٤٤١٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ : " يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4416

امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت شعبہ کی حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں لیکن اس حدیث میں«وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا» کے الفاظ نہیں ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ، وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ؛جلد٣ص١٣٥٩؛حدیث نمبر ٤٤١٧)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ : " وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4417

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(لوگوں پر)آسانی کرو ان کو مشکل میں نہ ڈالو اور ان کو آرام پہنچاو متنفر نہ کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِالتَّيْسِيرِ، وَتَرْكِ التَّنْفِيرِ؛جلد٣ص١٣٥٩؛حدیث نمبر ٤٤١٨)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4418

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پہلو اور پچھلوں کو جمع فرماے گا تو ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛عہد شکنی کی حرمت؛جلد٣ص١٣٥٩؛حدیث نمبر ٤٤١٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ - يَعْنِي أَبَا قُدَامَةَ السَّرَخْسِيَّ - قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : الْقَطَّانُ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ ، فَقِيلَ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4419

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٤١٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٥٩؛حدیث نمبر ٤٤٢٠)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4420

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عہد شکنی کے لئے ایک جھنڈا نصب کرے گا اور کہا جائے گا سنو!یہ فلاں شخص کی عہد شکنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦٠؛حدیث نمبر ٤٤٢١)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْغَادِرَ يَنْصِبُ اللَّهُ لَهُ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ : أَلَا هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4421

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛عہد شکنی کی حرمت؛جلد٣ص١٣٦٠؛حدیث نمبر ٤٤٢٢)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4422

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے جھنڈا ہوگا اور کہا جائے گا یہ فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦٠؛حدیث نمبر ٤٤٢٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ – كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4423

امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں اور فرمایا کہ عبد الرحمن کی روایت میں یہ الفاظ نہیں کہ کہا جائے گا "يُقَالُ:هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٤)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ح وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : " يُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4424

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا کہا جائے گا یہ فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ، يُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4425

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر عہد شکن کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جاے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4426

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا اس کی سرین کے پاس(نصب)ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4427

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا اس کی عہد شکنی کے حساب سے بلند کیا جائے گا اور امیر مملکت سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی نہیں ہوتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ تَحْرِيمِ الْغَدْرِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٨)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرِهِ، أَلَا وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4428

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنگ دھوکہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ الْخِدَاعِ فِي الْحَرْبِ؛جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کا جواز؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٢٩)

وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ، وَزُهَيْرٍ - قَالَ عَلِيٌّ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَرْبُ خَدْعَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4429

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنگ دھوکہ ہے۔ (یہاں دھوکہ سے مراد جنگی چال ہے یعنی ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے دشمن قابو میں آجائے البتہ عہد شکنی جائز نہیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ الْخِدَاعِ فِي الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٣٦١؛حدیث نمبر ٤٤٣٠)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَرْبُ خَدْعَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4430

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دشمن سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو لیکن ان سے مقابلہ ہو تو صبر کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ، وَالْأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ اللِّقَاءِ؛جلد٣ص١٣٦٢؛حدیث نمبر ٤٤٣١)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ - وَهُوَ : ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4431

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عمر بن عبید اللہ مقام حروریہ میں گئے تو انہوں نے ان کو(حضرت عمر بن عبید اللہ کو)خط لکھ کر یہ حدیث بیان کی کہ جن دنوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمنوں سے مقابلہ ہوا تو آپ نے انتظار کیا حتیٰ کہ سورج ڈھل گیا تو آپ نے صحابہ کرام کے درمیان کھڑے ہوکر فرمایا اے لوگو!دشمن سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرو لیکن جب ان سے مقابلہ ہو تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوے اور یہ دعا مانگی اے اللہ!کتاب نازل کرنے والے،بادلوں کو چلانے والے اور(دشمنوں کی)جماعتوں کو شکست دینے والے ان کو شکست دے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ، وَالْأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ اللِّقَاءِ؛جلد٣ص١٣٦٢؛حدیث نمبر ٤٤٣٢)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ كِتَابِ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حِينَ سَارَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ يُخْبِرُهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ يَنْتَظِرُ حَتَّى إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ". ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ، وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4432

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب(کفار کے گروہوں)کے خلاف دعا مانگی اور یوں فرمایا اے اللہ!کتاب نازل کرنے والے،جلد حساب لینے والے احزاب کو شکست دے یا اللہ!ان کو شکست دے اور ان کو ہلاک کر دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ بِالنَّصْرِ عِنْدَ لِقَاءِ الْعَدُوِّ؛ترجمہ؛دشمن سے مقابلہ کے وقت فتح کی دعا کرنا مستحب ہے؛جلد٣ص١٣٦٣؛حدیث نمبر ٤٤٣٣)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ، وَزَلْزِلْهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4433

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی۔خالد کی روایت کی طرح ہے البتہ اس میں"اللھم"کے الفاظ نہیں«هَازِمَ الْأَحْزَابِ»(گروہوں کو شکست دینے والے)کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ بِالنَّصْرِ عِنْدَ لِقَاءِ الْعَدُوِّ؛جلد٣ص١٣٦٣؛حدیث نمبر ٤٤٣٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " هَازِمَ الْأَحْزَابِ ". وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ : " اللَّهُمَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4434

امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ بھی روایت کرتے ہیں اس میں"بادلوں کے چلانے والے"کےالفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ بِالنَّصْرِ عِنْدَ لِقَاءِ الْعَدُوِّ؛جلد٣ص١٣٦٣؛حدیث نمبر ٤٤٣٥)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ : " مُجْرِيَ السَّحَابِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4435

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن یوں فرما رہے تھے"یااللہ"یا اللہ!اگر تو چاہے کہ زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ بِالنَّصْرِ عِنْدَ لِقَاءِ الْعَدُوِّ؛جلد٣ص١٣٦٣؛حدیث نمبر ٤٤٣٦)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ : " اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4436

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی جہاد میں ایک عورت مقتول پائی گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل کو برا قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْحَرْبِ؛ترجمہ؛جنگ میں بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٣٦٤؛حدیث نمبر ٤٤٣٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4437

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کسی جہاد میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٣٦٤؛حدیث نمبر ٤٤٣٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : وُجِدَتِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَغَازِي، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4438

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ اگر وہ شبخون میں مارے جائیں تو کیا حکم ہے آپ نے فرمایا وہ ان لوگوں میں سے ہی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْبَيَاتِ مِنْ غَيْرِ تَعَمُّدٍ؛ترجمہ؛شبخون میں عورتوں اور بچوں کے بلا قصد قتل کا جواز؛جلد٣ص١٣٦٤؛حدیث نمبر ٤٤٣٩)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الذَّرَارِيِّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ ، فَيُصِيبُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ، وَذَرَارِيِّهِمْ، فَقَالَ : " هُمْ مِنْهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4439

حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!شب خون مارتے وقت ہمارے ہاتھوں مشرکین کے بچے بھی مارے جاتے ہیں؟آپ نے فرمایا وہ انہی میں سے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْبَيَاتِ مِنْ غَيْرِ تَعَمُّدٍ؛جلد٣ص١٣٦٥؛حدیث نمبر ٤٤٤٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُصِيبُ فِي الْبَيَاتِ مِنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ : " هُمْ مِنْهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4440

حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ اگر کوئی لشکر رات کے وقت حملہ کرے اور مشرکین کے بچے بھی مارے جائیں(تو کیا حکم ہے)فرمایا وہ اپنے باپ دادا(مشرکین)میں سے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْبَيَاتِ مِنْ غَيْرِ تَعَمُّدٍ؛جلد٣ص١٣٦٥؛حدیث نمبر ٤٤٤١)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ : لَوْ أَنَّ خَيْلًا أَغَارَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ : " هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4441

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بُویرہ میں بنو نضیر کے باغات جلا دئے اور کٹوا دئے قتیبہ اور رمح کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔ {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ} (ترجمہ)"جن درختوں کو تم نے کاٹا یا ان کو جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا یہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے تھا تاکہ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو رسوا کرے"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَطْعِ أَشْجَارِ الْكُفَّارِ وَتَحْرِيقِهَا؛جلد٣ص١٣٦٥؛حدیث نمبر ٤٤٤٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، زَادَ قُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ فِي حَدِيثِهِمَا : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ }.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4442

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے باغات کاٹنے اور ان کو جلانے کا حکم دیا اس موقع پر حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے ایک شعر کہا تھا۔ (ترجمہ)"بنو لوئی کے سرداروں کے نزدیک بُویرہ میں آگ لگا دینا معمولی بات ہے" اور اسی واقعہ سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔(ترجمہ) جن درختوں کو تم نے کاٹا یا ان کو ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَطْعِ أَشْجَارِ الْكُفَّارِ وَتَحْرِيقِهَا؛جلد٣ص١٣٦٥؛حدیث نمبر ٤٤٤٣)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَحَرَّقَ، وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ : وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ وَفِي ذَلِكَ نَزَلَتْ : { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا } الْآيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4443

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے درخت جلوادئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قَطْعِ أَشْجَارِ الْكُفَّارِ وَتَحْرِيقِهَا؛جلد٣ص١٣٦٦؛حدیث نمبر ٤٤٤٤)

وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4444

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی نے جہاد کیا تو اپنی قوم سے فرمایا جس شخص نے ابھی نکاح کیا ہو اور وہ ابھی تک شب زفاف نہ گزار سکا اور ایسا کرنا چاہتا ہو وہ میرے ساتھ نہ جائے اور وہ شخص جس نے مکان کی دیواریں کھڑی کی ہوں لیکن ابھی چھت نہ ڈالی ہو وہ بھی میرے ساتھ نہ جائے اور نہ وہ شخص جائے جس نے حاملہ بکریاں اور اونٹنیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچہ دینے کا منتظر ہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے جہاد کیا اور عصر کے وقت یا اس کے قریب ایک دیہات میں پہنچے اور سورج سے فرمایا تو بھی حکم(خدا وندی)کا پابند ہے اور میں بھی مامور ہوں یااللہ!اس کو میرے لئے کچھ دیر روک دے چنانچہ وہ ان پر روک دیا گیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطاء فرمائی۔آپ نے فرمایا پھر ان لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا اور اسے کھانے کے لئے آگ آئی لیکن اس نے اسے نہ کھایا اس نبی نے فرمایا تم میں سے کسی نے خیانت کی ہے پس ہر قبیلے کا ایک شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرے انہوں نے بیعت کی تو ایک شخص کا ہاتھ میرے ہاتھ سے چمٹ گیا انہوں نے فرمایا خیانت کرنے والا تمہارے قبیلے میں ہے لہٰذا تمام قبیلہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے چنانچہ اس(قبیلے)نے بیعت کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا اس بہانے فرمایا تم لوگوں میں خائن ہے اور تم نے خیانت کی ہے بالآخر وہ گاے کے سر کے برابر سونا لاے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو مال غنیمت میں اونچی جگہ رکھ دو اس کے بعدآگ نے آکر اسے کھا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت کا مال حلال نہ تھا۔اور جب اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عجز کو دیکھا تو ہمارے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ تَحْلِيلِ الْغَنَائِمِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ خَاصَّةً؛ترجمہ؛مال غنیمت حلال ہونے کے ساتھ اس امت کی فضیلت؛جلد٣ص١٣٦٦؛حدیث نمبر ٤٤٤٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ : لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ، وَلَا آخَرُ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا، وَلَا آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا، أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ مُنْتَظِرٌ وِلَادَهَا "، قَالَ : " فَغَزَا فَأَدْنَى لِلْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ : أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا. فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ، حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ "، قَالَ : " فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ، فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ، فَقَالَ : فِيكُمْ غُلُولٌ فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ. فَبَايَعُوهُ، فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ. فَبَايَعَتْهُ "، قَالَ : " فَلَصِقَتْ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، فَقَالَ : فِيكُمُ الْغُلُولُ أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ "، قَالَ : " فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ "، قَالَ : " فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ، فَأَكَلَتْهُ فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ؛ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَأَى ضَعْفَنَا، وَعَجْزَنَا، فَطَيَّبَهَا لَنَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4445

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میرے والد نے خمس میں سے ایک تلوار نکالی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یہ تلوار مجھے ہبہ کر دیں آپ نے انکار فرما دیا اس موقعہ پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: ١] ترجمہ..."لوگ آپ سے انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے انفال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہیں"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛ترجمہ؛غنیمت کا بیان؛جلد٣ص١٣٦٧؛حدیث نمبر ٤٤٤٦)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَخَذَ أَبِي مِنَ الْخُمْسِ سَيْفًا فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : هَبْ لِي هَذَا. فَأَبَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ }.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4446

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں میرے حق میں چار آیات نازل ہوئیں میں نےایک تلوار پائی تو اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا اور عرض کیا یارسول اللہ!یہ تلوار. مجھے عطاء فرمادیں آپ نے فرمایا اسے رکھ دو پھر جب میں کھڑا ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو وہیں رکھ دو جہاں سے اٹھائی ہے انہوں نے پھر کھڑے ہوکر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عنایت فرمادیں آپ نے فرمایا اسے رکھ دو انہوں نے پھر کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تلوار مجھے دے دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں ان لوگوں کی طرح کردیا جاؤں جن کا اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جہاں سے اٹھائی ہے وہیں رکھ دیں فرماتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی(ترجمہ)"آپ سے انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے انفال اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٧؛حدیث نمبر ٤٤٤٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ : أَصَبْتُ سَيْفًا فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفِّلْنِيهِ. فَقَالَ : " ضَعْهُ ". ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ". ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ : نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ : " ضَعْهُ ". فَقَامَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفِّلْنِيهِ ؛ أَؤُجْعَلُ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ". قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : { يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ }.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4447

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ(چھوٹا لشکر)نجد کی طرف بھیجا اور میں بھی اس میں تھا ان لوگوں کو وہاں سے بہت زیادہ اونٹ بطور غنیمت حاصل ہوے ہر ایک کے حصے میں بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ آے اور ایک ایک اونٹ زائد ملا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٨؛حدیث نمبر ٤٤٤٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَنَا فِيهِمْ قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَا عَشَرَ بَعِيرًا، أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4448

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک چھوٹا لشکر بھیجا اور وہ(ابن عمر رضی اللہ عنہ)بھی ان میں تھے ان لوگوں کو بارہ بارہ اونٹ اور اس کے علاوہ بھی ایک ایک اونٹ ملا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تقسیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٨؛حدیث نمبر ٤٤٤٩)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ وَفِيهِمُ ابْنُ عُمَرَ، وَأَنَّ سُهْمَانَهُمْ بَلَغَتِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا سِوَى ذَلِكَ بَعِيرًا فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4449

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا میں بھی ان لوگوں میں گیا پس ہمیں اونٹ اور بکریاں حاصل ہوئیں تو ہر ایک کے حصے میں بارہ بارہ اونٹ آے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک اونٹ زائد دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٨؛حدیث نمبر ٤٤٥٠)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4450

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٨؛حدیث نمبر ٤٤٥١)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ : الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4451

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کو مزید تین سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٩؛حدیث نمبر ٤٤٥٢)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ النَّفَلِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4452

حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے ہمارے حصے کے علاوہ بھی عطاء فرمایا اور مجھے ایک شارف ملا، شارف بڑے اونٹ کو کہتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٩؛حدیث نمبر ٤٤٥٣)

وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : نَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَلًا سِوَى نَصِيبِنَا مِنَ الْخُمْسِ، فَأَصَابَنِي شَارِفٌ ، وَالشَّارِفُ : الْمُسِنُّ الْكَبِيرُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4453

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سریہ(چھوٹے لشکر)کو مال غنیمت عطا فرمایا۔باقی حدیث ابن رجاء کی روایت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٩؛حدیث نمبر ٤٤٥٤)

وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ رَجَاءٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4454

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سریہ کے بعض مجاہدین کو مال غنیمت میں سے ان کے حصے کے علاوہ بھی عطاء فرماتے تھے اور خمس(پانچواں حصہ)پورے لشکر کے لئے واجب تھا۔ (اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکمران بعض فوجیوں کو ان کی خصوصی انعامات سے نواز سکتا ہے جب کہ دوسروں کے حق سے نہ دے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْأَنْفَالِ؛جلد٣ص١٣٦٩؛حدیث نمبر ٤٤٥٥)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً، سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ، وَالْخُمْسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلِّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4455

حضرت ابومحمد انصاری جو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے فرماتے ہیں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اور حدیث بیان کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب استخفاف القاتل سلب القتیل؛ ترجمہ؛مقتول کے سلب کئے ہوئے مال پر قاتل کا حق ہے؛جلد٣ص١٣٧٠؛حدیث نمبر ٤٤٥٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ - وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي قَتَادَةَ - قَالَ : قَالَ أَبُو قَتَادَةَ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4456

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب استخفاف القاتل سلب القتیل؛جلد٣ص١٣٧٠؛حدیث نمبر ٤٤٥٧)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ - مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ - أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4457

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گئے جب مقابلہ ہوا تو مسلمانوں نے ایک بار بھاگنے کے بعد دوبارہ حملہ کیا میں نے دیکھا کہ ایک مشرک ایک مسلمان پر چھایا ہوا ہے میں گھوم کر اس کی طرف گیا اور اس کے پیچھے کی طرف سے آکر اس کے شانے پر تلوار مارا وہ میری طرف مڑا اور مجھے پکڑ کر اس طرح دبوچا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہوا ہے میں نے کہا اللہ کا حکم،پھر لوگ واپس آے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے آپ نے فرمایا جس شخص نے کسی کو قتل کیا اور اس پر گواہ ہو تو اس کا چھینا ہوا مال اسی کا ہوگا وہ فرماتے ہیں میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا میرا گواہ کون ہوگا پھر میں بیٹھ گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی بات فرمائی میں کھڑا ہوا اور کہنے لگا میرا گواہ کون ہوگا؟پھر میں بیٹھ گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار وہی بات فرمائی تو میں کھڑا ہوا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوقتادہ تمہیں کیا ہوا میں نے تمام واقعہ بیان کردیا تو قوم میں سے ایک شخص نے کہا یارسول اللہ!اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے انہوں نے سچ کہا ہے۔آپ ان کو ان کے حق کے حوالے سے راضی کردیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں اللہ کی قسم!ہر گز نہیں اللہ کا ایک شیر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑے اور چھینا ہوا مال تمہیں دے دے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سچ کہا تو اس کا سامان اس کے حوالے کردے۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چنانچہ اس نے وہ سامان مجھے دے دیا فرماتے میں نے وہ زرہ فروخت کی اور اس کے بدلے میں بنو سلمہ کے محلے میں ایک باغ خریدا یہ سب سے پہلا مال تھا جو مجھے اسلام میں حاصل ہوا۔ حضرت لیث کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر گز نہیں ایسا نہیں ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی ایک لومڑی کو مال دیں اور اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ دیں اور لیث کی روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ پہلا مال تھا جسے میں نے حاصل کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ؛جلد٣ص١٣٧١؛حدیث نمبر ٤٤٥٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ، وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ : مَا لِلنَّاسِ ؟ فَقُلْتُ : أَمْرُ اللَّهِ. ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ". قَالَ : فَقُمْتُ، فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ : فَقُمْتُ، فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ؟ ". فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : لَا هَا اللَّهِ إِذَنْ لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ، وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ، فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ ". فَأَعْطَانِي، قَالَ : فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ. وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : كَلَّا لَا يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ، وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ. وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ : لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4458

حضرت عبد الرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا کہ میں نے اپنے دائیں بائیں انصار کے دو نوجوانوں کو دیکھا میرے دل میں خیال آیا کاش میں دو طاقتور آدمیوں کے درمیان میں ہوتا اتنے میں ان میں سے ایک لڑکے نے مجھے اشارہ کرکے کہا اے چچا!کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں؟میں نے کہا ہاں پہچانتا ہوں اے بھتیجے!تجھے اس سے کیا کام ہے اس نے کہا مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں تو اس وقت اس سے جدا نہیں ہوں گا جب تک ہم میں سے وہ مر نہ جاے جس کی موت پہلے لکھی ہوئی ہے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس سے تعجب ہوا تو دوسرے نے اسی طرح اشارہ کر کے وہی بات کہی۔فرماتے ہیں زیادہ دیر نہ گزری کہ ابوجہل پر میری نظر پڑگئی جو لوگوں کے درمیان گشت کر رہا تھا میں نے کہا دیکھتے ہو یہ شخص تمہارا مطلوب ہے جس کے بارے میں تم پوچھتے ہو۔فرماتے ہیں وہ دونوں اس پر جھپٹ پڑے اور اسے اپنی تلواروں سے مارا حتیٰ کہ اسے قتل کردیا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آے اور آپ کو اس بات کی خبر دی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں ان میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے آپ نے پوچھا کیا تم نے اپنے تلواروں سے خون پونچھ لیا ہے انہوں نے عرض کیا نہیں آپ نے دونوں تلواروں کو دیکھا تو فرمایا تم دونوں نے اس کو قتل کیا ہے اور اس کے چھینے ہوئے کا فیصلہ معاذ بن عمرو بن جموح کے حق میں کیا اور وہ دونوں نوجوان معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ؛جلد٣ص١٣٧٢؛حدیث نمبر ٤٤٥٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ قَالَ : بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ : يَا عَمِّ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي ؟ قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا. قَالَ : فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَغَمَزَنِي الْآخَرُ، فَقَالَ مِثْلَهَا، قَالَ : فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَزُولُ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ : أَلَا تَرَيَانِ ؟ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ. قَالَ : فَابْتَدَرَاهُ، فَضَرَبَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا، حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ : " أَيُّكُمَا قَتَلَهُ ؟ ". فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : أَنَا قَتَلْتُ. فَقَالَ : " هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا ؟ ". قَالَا : لَا. فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ، فَقَالَ : " كِلَاكُمَا قَتَلَهُ ". وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَالرَّجُلَانِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَمُعَاذُ ابْنُ عَفْرَاءَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4459

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حمیر قبیلے کے ایک شخص نے دشمنوں کے ایک شخص کو قتل کر دیا اور اس کے سلب(چھینے ہوے مال) کو لینے کا ارادہ کیا لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے روک دیا اور وہ اس لشکر کے امیر تھے۔حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہوکر عرض کیا تو آپ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اسے سلب دینے میں کیا رکاوٹ پیش آئی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس سلب کو بہت زیادہ سمجھا فرمایا یہ سلب اسے دے دو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ،حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے حضرت خالد کی چادر کھینچی اور فرمایا کیا میں نے تم سے جو کچھ کیا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پورا نہیں کرایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو آپ ناراض ہوے اور فرمایا اے خالد مت دو،اے خالد!اسے مت دو کیا تم میرے مقرر کردہ امیروں کی اطاعت چھوڑنے والے ہو؟بےشک تمہاری اور ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو اونٹ یا بکریاں خریدتا ہے اور ان کو چراتا ہے پھر ان کو پانی پلانے کا وقت آتا ہے تو ان کا ایک حوض پر لے جاتا ہے وہ صاف صاف پانی پی لیتی ہیں اور تلچھٹ(گدلا پن)چھوڑ دیتی ہیں تو کیا صاف چیزیں تمہارے لئے ہیں اور تلچھٹ امیروں کے لیے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ؛جلد٣ص١٣٧٣؛حدیث نمبر ٤٤٦٠)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَرَادَ سَلَبَهُ ، فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لِخَالِدٍ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ ؟ " قَالَ : اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " ادْفَعْهُ إِلَيْهِ ". فَمَرَّ خَالِدٌ بِعَوْفٍ، فَجَرَّ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتُغْضِبَ، فَقَالَ : " لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ، لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي ؟ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا، أَوْ غَنَمًا فَرَعَاهَا، ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا، فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا، فَشَرَعَتْ فِيهِ، فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ، وَتَرَكَتْ كَدْرَهُ، فَصَفْوُهُ لَكُمْ، وَكَدْرُهُ عَلَيْهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4460

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں غزوہ موتہ کے موقعہ پر ان لوگوں کے ساتھ نکلا جو حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے تھے اور یمن سے بھی مجھے مدد پہنچی۔اس کے بعد حسب سابق حدیث بیان کی البتہ انہوں نے اس حدیث میں یہ بات بیان کی کہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے کہا کیا تمہیں علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب کا فیصلہ قاتل کے لیے کیا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں(مجھے معلوم ہے)لیکن میں اسے زیادہ خیال کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ابُ اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ؛جلد٣ص١٣٧٤؛حدیث نمبر ٤٤٦١)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ : قَالَ عَوْفٌ : فَقُلْتُ : يَا خَالِدُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ ؟ قَالَ : بَلَى، وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4461

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ قبیلہ ہوازن کے خلاف جہاد کے لیے گئے صبح کے وقت ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ناشتہ کر رہے تھے کہ سرخ اونٹ پر(سوار)ایک شخص آیا اس نے اس(اونٹ)کو بٹھایا پھر اپنی کمر سے ایک تسمہ نکال کر اس اونٹ کو باندھا پھر آگے بڑھ کر لوگوں کے ساتھ ناشتہ کرنے لگا اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ہم کچھ لوگ کمزور تھے کچھ سواریوں سے خالی تھے اور کچھ پیدل تھے اتنے میں وہ تیزی سے دوڑا اور اپنے اونٹ کے پاس آکر اس کا تسمہ کھولا اور اسے بیٹھا کر اس پر سوار ہوگیا اس نے اونٹ کو دوڑایا تو وہ دوڑ پڑا۔ایک شخص نے خاکی رنگ کے اونٹ پر اس کا تعاقب کیا حضرت سلمہ فرماتے ہیں میں بھی اس کے پیچھے دوڑتا ہوا بھاگا پہلے میں اونٹنی کے پچھلے حصے کے پاس تھا پھر میں آگے بڑھ گیا حتیٰ کہ میں نے اونٹ کی لگام پکڑ لی میں نے اس اونٹ کو بٹھایا جب اس نے اپنا گھٹنہ زمین پر رکھا تو میں نے اس آدمی کے سر پر تلوار سے ایک اور وار کیا وہ آدمی گر پڑا تو میں اس کے اونٹ کو کجاوے اور باقی سامان کے ساتھ لے آیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام مجھے سامنے سے آتے ہوئے ملے آپ نے پوچھا اس شخص کو کس نے قتل کیا ہے؟انہوں نے عرض کیا حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے قتل کیا آپ نے فرمایا اس کا تمام سلب(چھینا ہوا سامان)ابن اکوع کے لیے ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ابُ اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ؛جلد٣ص١٣٧٤؛حدیث نمبر ٤٤٦٢)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَأَنَاخَهُ، ثُمَّ انْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِهِ ، فَقَيَّدَ بِهِ الْجَمَلَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ، وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ فِي الظَّهْرِ وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ ، فَأَتَى جَمَلَهُ، فَأَطْلَقَ قَيْدَهُ، ثُمَّ أَنَاخَهُ، وَقَعَدَ عَلَيْهِ، فَأَثَارَهُ، فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ ، قَالَ سَلَمَةُ : وَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ، فَأَنَخْتُهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ فِي الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ فَنَدَرَ ، ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُهُ عَلَيْهِ رَحْلُهُ وَسِلَاحُهُ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَالَ : " مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ ؟ " قَالُوا : ابْنُ الْأَكْوَعِ. قَالَ : " لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4462

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے قبیلہ فزارہ سے جہاد کیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اوپر امیر مقرر کیا تھا جب ہمارے اور پانی(چشمے)کے درمیان کچھ دیر کی مسافت رہ گئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور ہم رات کے پچھلے حصے میں اترے پھر ہر طرف سے حملے کا حکم دیا اور(ان لوگوں کے) پانی پر پہنچے اور وہاں ان لوگوں کو قتل کیا جن کو قتل کرنا تھا اور(کچھ کو)قیدی بنایا۔ میں کفار کے ایک گروہ کو دیکھ رہا تھا جس میں کفار بچے اور عورتیں تھیں مجھے ڈر ہوا کہ مجھ سے پہلے پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں تو میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر پھینکا جب انہوں نے تیر دیکھا تو رک گئے اور میں ان سب کو گھیر کر آیا ان میں بنوفزارہ(قبیلہ)کی ایک عورت تھی جس نے چمڑے کی کھال اوڑھ رکھی تھی اور اس کے ساتھ اس کی لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین دو شیزہ تھی میں نے ان کو آگے لگایا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا پس حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وہ لڑکی مجھے انعام میں دے دی ہم مدینہ طیبہ پہنچے اور میں نے اس لڑکی کا کپڑا اٹھایا بھی نہ تھا کہ بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوگئی۔آپ نے فرمایا اے سلمہ!وہ لڑکی مجھے ہبہ کردو میں نے کہا یا رسول اللہ!اللہ کی قسم وہ لڑکی مجھے پسند ہے اور میں نے ابھی تک اس کا لباس نہیں اتارا پھر دوسرے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بازار میں ملے اور مجھ سے فرمایا اے سلمہ وہ لڑکی مجھے دے دو تمہارا باپ بہت اچھا تھا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ آپ کی ہے اللہ کی قسم!میں نے اس کا لباس نہیں اتارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی مکہ مکرمہ میں بھیج دی اور اس کے بدلے میں کئی مسلمان قیدیوں کو چھڑا لیا جو مکہ مکرمہ میں قید ہو گئے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ التَّنْفِيلِ، وَفِدَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِالْأَسَارَى؛جلد٣ص١٣٧٥؛حدیث نمبر ٤٤٦٣)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : غَزَوْنَا فَزَارَةَ وَعَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمَاءِ سَاعَةٌ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَعَرَّسْنَا، ثُمَّ شَنَّ الْغَارَةَ، فَوَرَدَ الْمَاءَ، فَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ عَلَيْهِ وَسَبَى، وَأَنْظُرُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِمُ الذَّرَارِيُّ، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ، فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ، فَلَمَّا رَأَوُا السَّهْمَ وَقَفُوا فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ - قَالَ : الْقَشْعُ : النِّطَعُ - مَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ، فَسُقْتُهُمْ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِمْ أَبَا بَكْرٍ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ : " يَا سَلَمَةُ هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ ". فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا. ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدِ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِي : " يَا سَلَمَةُ، هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ ". فَقُلْتُ : هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا. فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَفَدَى بِهَا نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا أُسِرُوا بِمَكَّةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4463

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جس کسی بستی میں جاؤ اور وہاں ٹھہرو تو تمہارا حصہ اس بستی میں ہوگا اور جو بستی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے تو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور باقی تمہارا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ؛جلد٣ص١٣٧٦؛حدیث نمبر ٤٤٦٤)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا، وَأَقَمْتُمْ فِيهَا فَسَهْمُكُمْ فِيهَا، وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ هِيَ لَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4464

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں بنونضیر کے مال ان اموال میں سے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر لوٹا دئے تھے مسلمانوں نے ان کے حصول کے لئے گھوڑے دوڑائے تھے نہ اونٹ،یہ اموال خاص طور پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تصرف میں تھے پس آپ ان أموال میں سے اپنے اہل کے لئے ایک سال کا نفقہ نکالتے اور جو باقی بچتا تھا اسے جہاد کی سواریوں اور ہتھیاروں کی تیاری پر خرچ کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ؛جلد٣ص١٣٧٦؛حدیث نمبر ٤٤٦٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ، وَلَا رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ، وَمَا بَقِيَ يَجْعَلُهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4465

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٤٦٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ؛جلد٣ص١٣٧٧؛حدیث نمبر ٤٤٦٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4466

حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا میں اس وقت حاضر ہوا جب سورج بلند ہوگیا تھا میں نے دیکھا کہ آپ گھر میں خالی تخت پر چمڑے کا تکیہ لگائے بیٹھے ہیں(فرمایا کہ اے مالک) تیری قوم کے کچھ آدمی جلدی جلدی میں آئے تھے میں نے ان کو کچھ سامان دینے کا حکم کردیا ہے اب تم وہ مال لے کر ان کے درمیان تقسیم کردو میں نے عرض کیا اے امیر المومنین!آپ میرے علاوہ کسی اور کو اس کام پر مقرر فرما دیں آپ نے فرمایا اے مالک تم ہی لے لو اسی دوران(آپ کا غلام) یرفاء اندر آیا اور اس نے عرض کیا اے امیر المومنین!حضرت عثمان،حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت زبیر اور حضرت سعد رضوان اللہ علیھم اجمعین حاضر خدمت ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان کے لئے اجازت ہے وہ اندر تشریف لائے پھر وہ غلام آیا اور عرض کیا کہ حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما تشریف لائے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا انہیں بھی اجازت دے دو حضرت عباس کہنے لگے اے امیر المومنین میرے اور اس جھوٹے گناہ گار دھوکے باز خائن کے درمیان فیصلہ کر دیجئے لوگوں نے کہا ہاں اے امیر المومنین ان کے درمیان فیصلہ کردیں اور ان کو ان سے راحت دلائیں۔ حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ ان دونوں حضرات یعنی حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے ان حضرات کو اسی لئے پہلے بھیجا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم (پیغمبروں) کے مال میں سے ان کے وارثوں کو کچھ نہیں ملتا جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے سب کہنے لگے کہ جی ہاں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ،حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ میں تم دونوں کو قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم دونوں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں بنایا جاتا جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز خاص کی تھی کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی سے نہیں کی ارشاد خداوندی ہے"{مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ} [الحشر: ٧] " اللہ تعالیٰ نے بستیوں والوں کے اموال سے جو کچھ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لوٹا دیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئے ہے"۔(یہ مال فئے ہے) راوی کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ اس سے پہلے کی آیت بھی انہوں نے پڑھی ہے یا نہیں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کے درمیان بنی نضیر کا مال تقسیم کردیا ہے اور اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو تم سے زیادہ نہیں سمجھا اور ایسے بھی نہیں کیا کہ وہ مال خود لے لیا ہو اور تم کو نہ دیا ہو یہاں تک کہ یہ مال باقی رہ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مال میں سے اپنے ایک سال کا خرچ نکال لیتے پھر جو باقی بچ جاتا وہ بیت المال میں جمع ہوجاتا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم کو یہ معلوم ہے انہوں نے کہا جی ہاں پھر اسی طرح حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کو قسم دی انہوں نے بھی اسی طرح جواب دیا لوگوں نے کہا کیا تم دونوں کو اس کا علم ہے انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا والی ہوں اور تم دونوں اپنی وراثت لینے آئے ہو حضرت عباس رضی اللہ عنہ تو اپنے بھتیجے کا حصہ اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کا حصہ ان کے باپ کے مال سے مانگتے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے مال کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور تم ان کو جھوٹا،گناہ گار،دھوکے باز اور خائن سمجھتے ہو؟اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے نیک اور ہدایت یافتہ تھے اور حق کے تابع تھے پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خلیفہ بنایا گیا اور تم نے مجھے بھی جھوٹا،گناہ گار، دھوکے باز اور خائن خیال کیا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں سچا،نیک،ہدایت یافتہ ہوں اور میں اس مال کا بھی والی ہوں اور پھر تم میرے پاس آئے تم بھی ایک ہو اور تمہارا معاملہ بھی ایک ہے کہ اس مال میں تم وہی کچھ کرو گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے اور تم نے یہ مال اسی شرط سے مجھ سے لیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کیا ایسا ہی ہے ان دونوں حضرات نے کہا جی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم دونوں اپنے درمیان فیصلہ کرانے کے لئے میرے پاس آئے ہو اللہ کی قسم میں قیامت تک اس کے علاوہ اور کوئی فیصلہ نہیں کروں گا اگر تم سے اس کا انتظار نہیں ہوسکتا تو پھر یہ مال مجھے لوٹا دو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ؛جلد٣ص١٣٧٨؛حدیث نمبر ٤٤٦٧)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسٍ حَدَّثَهُ، قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَجِئْتُهُ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ، قَالَ : فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا عَلَى سَرِيرٍ مُفْضِيًا إِلَى رُمَالِهِ، مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ لِي : يَا مَالُ إِنَّهُ قَدْ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ، وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ ، فَخُذْهُ، فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ. قَالَ : قُلْتُ : لَوْ أَمَرْتَ بِهَذَا غَيْرِي. قَالَ : خُذْهُ يَا مَالُ. قَالَ : فَجَاءَ يَرْفَا، فَقَالَ : هَلْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي عُثْمَانَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَالزُّبَيْرِ ، وَسَعْدٍ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : نَعَمْ. فَأَذِنَ لَهُمْ، فَدَخَلُوا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ : هَلْ لَكَ فِي عَبَّاسٍ، وَعَلِيٍّ ؟ قَالَ : نَعَمْ. فَأَذِنَ لَهُمَا، فَقَالَ عَبَّاسٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا الْكَاذِبِ الْآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ. فَقَالَ الْقَوْمُ : أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَاقْضِ بَيْنَهُمْ، وَأَرِحْهُمْ - فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ : يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُمْ قَدْ كَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِكَ - فَقَالَ عُمَرُ : اتَّئِدَا أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ " ؟ قَالُوا : نَعَمْ. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ ، وَعَلِيٍّ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ " ؟ قَالَا : نَعَمْ. فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَاصَّةٍ لَمْ يَخْصُصْ بِهَا أَحَدًا غَيْرَهُ، قَالَ : { مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ } - مَا أَدْرِي هَلْ قَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي قَبْلَهَا، أَمْ لَا ؟ - قَالَ : فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَكُمْ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ، فَوَاللَّهِ، مَا اسْتَأْثَرَ عَلَيْكُمْ، وَلَا أَخَذَهَا دُونَكُمْ حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ أُسْوَةَ الْمَالِ، ثُمَّ قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ ذَلِكَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ. ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا، وَعَلِيًّا بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ الْقَوْمَ : أَتَعْلَمَانِ ذَلِكَ ؟ قَالَا : نَعَمْ. قَالَ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ ". فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ. ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرٍ فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، فَوَلِيتُهَا، ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ، فَقُلْتُمَا : ادْفَعْهَا إِلَيْنَا. فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ ؛ أَنْ تَعْمَلَا فِيهَا بِالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِكَ. قَالَ : أَكَذَلِكَ ؟ قَالَا : نَعَمْ. قَالَ : ثُمَّ جِئْتُمَانِي لِأَقْضِيَ بَيْنَكُمَا، وَلَا وَاللَّهِ لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلَيَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4467

حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے ہیں اس کے بعد حضرت مالک کی روایت کی طرح ہے البتہ اس میں یوں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان اموال میں سے ایک سال کا خرچ نکالتے تھے۔ حضرت معمر کی روایت میں ہے کہ اپنے اہل کے لئے ایک سال کا خرچ روک لیتے تھے اور باقی کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ؛جلد٣ص١٣٧٩؛حدیث نمبر ٤٤٦٨)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ. بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ : فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً. وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ : يَحْبِسُ قُوتَ أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مِنْهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4468

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے ارادہ کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث میں سے اپنا حصہ مانگیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ہماری وراثت نہیں ہوتی ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ»؛جلد٣ص١٣٧٩؛حدیث نمبر ٤٤٦٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ عَائِشَةُ لَهُنَّ : أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4469

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ام المؤمنين حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی میراث کے بارے میں پوچھنے کے لئے پیغام بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ اور فدک کے فئی اور خیبر کے خمس سے حصہ میں ملا تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم کسی کو وارث نہیں چھوڑتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مال سے کھاتے رہیں گے اور میں اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں کسی چیز کی بھی تبدیلی نہیں کرسکتا اس صورت سے جس میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی اور میں اس میں وہی معاملہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں فرمایا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کوئی بھی چیز حضرت فاطمہ کو دینے سے انکار کردیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس وجہ سے ناراضگی ہوئی پس انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے قطع تعلق کرلیا اور ان سے بات نہ کی یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں جب وہ فوت ہوگئیں تو انہیں ان کے خاوند حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رات کو ہی دفن کردیا اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع نہ دی اور ان کا جنازہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے پڑھایا اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے لئے لوگوں کا فاطمہ کی زندگی میں کچھ میلان تھا جب وہ فوت ہوگئیں تو علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے رویہ میں کچھ تبدیلی محسوس کی تو انہوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح اور بیعت کا راستہ ہموار کرنا چاہا کیونکہ علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے ان مہینوں تک بیعت نہ کی تھی اور انہوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس آؤ اور تمہارے سوا کوئی اور نہ آئے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آنے کا ناپسند کرنے کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر سے کہا اللہ کی قسم آپ ان کے پاس اکیلے نہ جائیں حضرت ابوبکر نے کہا مجھے ان سے یہ امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ کوئی ناروا سلوک کریں گے میں اللہ کی قسم ان کے پاس ضرور جاؤں گا پس حضرت ابوبکر ان کے پاس تشریف لے گئے تو علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر کہا اے ابوبکر تحقیق کہ ہم آپ کی فضیلت پہچان چکے ہیں جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے ہم اسے جانتے ہیں اور جو بھلائی آپ کو عطا کی گئی ہے ہم اس کی رغبت نہیں کرتے اللہ نے آپ ہی کے سپرد کی ہے لیکن آپ نے خود ہی(ہمارے مشورے کے بغیر)یہ خلافت حاصل کرلی اور ہم اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری کی وجہ سے(خلافت)کا حق سمجھتے تھے پس اسی طرح وہ حضرت علی حضرت ابوبکر سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئےجب حضرت علی حضرت ابوبکر نے گفتگو کی تو کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کے ساتھ حسن سلوک کرنا اپنی قرابت سے زیادہ محبوب ہے بہرحال ان اموال کا معاملہ جو میرے اور تمہارے درمیان واقعہ ہوا ہے اس میں بھی میں نے کسی کے حق کو ترک نہیں کیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس معاملہ میں جس طرح کرتے دیکھا میں نے بھی اس معاملہ کو اسی طرح سر انجام دیا حضرت علی نے حضرت ابوبکر سے کہا آج سہ پہر کے وقت آپ سے بیعت کرنے کا وقت ہے حضرت ابوبکر نے ظہر کی نماز ادا کی منبر پر چڑھے اور کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے معاملہ اور بیعت سے رہ جانے کا قصہ اور وہ عذر بیان کیا جو حضرت علی نے ان کے سامنے پیش کیا پھر حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے استغفار کیا اور کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت کا اقرار کیا اور بتایا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ اس وجہ سے نہیں کیا کہ مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر شک تھا اور نہ اس فضیلت سے انکار کی وجہ سے جو انہیں اللہ نے عطا کی ہے بلکہ ہم اس امر(خلافت) میں اپنا حصہ خیال کرتے تھے اور ہمارے مشورہ کے بغیر ہی حکومت بنا لی گئی جس کی وجہ سے ہمارے دلوں میں رنج پہنچا مسلمان یہ سن کر خوش ہوئے اور انہوں نے کہا آپ نے درست کیا ہے اور مسلمان پھر حضرت علی کے قریب ہونے لگے جب انہوں نے اس معروف راستہ کو اختیار کرلیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ»؛جلد٣ص١٣٨٠؛حدیث نمبر ٤٤٧٠)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَفَدَكٍ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ، لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ، قَالَ : فَهَجَرَتْهُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ، وَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ، فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا، وَلَا يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ - كَرَاهِيَةَ مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَا تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، إِنِّي وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ. فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ، فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ، وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، وَكُنَّا نَحْنُ نَرَى لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرٍ حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ، فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْحَقِّ، وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ. فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ : مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ. فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَتَشَهَّدَ، وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ، وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ، وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ، وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ، وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي الْأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتُبِدَّ عَلَيْنَا بِهِ، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ، وَقَالُوا : أَصَبْتَ. فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4470

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما(دونوں)حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا حصہ طلب کرنے گئے اور وہ اس وقت فدک اور خیبر کے حصے سے مطالبہ کر رہے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس کے بعد حدیث نمبر ٤٤٧٠کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت بیان کی ان کی فضیلت اور(دین میں)ان کی سبقت کا ذکر کیا پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان کی بیعت کی تو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھے اور کہا آپ نے درست اور اچھا کام کیا ہے۔چنانچہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ معروف طریقے سے قریب ہوے تو لوگ آپ کے قریب ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ؛جلد٣ص١٣٨١؛حدیث نمبر ٤٤٧١)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ، وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ، وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ، فَعَظَّمَ مِنْ حَقِّ أَبِي بَكْرٍ، وَذَكَرَ فَضِيلَتَهُ وَسَابِقَتَهُ، ثُمَّ مَضَى إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَبَايَعَهُ، فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالُوا : أَصَبْتَ، وَأَحْسَنْتَ. فَكَانَ النَّاسُ قَرِيبًا إِلَى عَلِيٍّ حِينَ قَارَبَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4471

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئیں اور ان سے مطالبہ کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مال اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال چھوڑا ہے اس میں سے ان کا حق وراثت ان کو دیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ بے شک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ سے اپنے حصے کا سوال کرتی رہیں جو آپ کو فدک،خیبر اور مدینہ کے صدقات سے حاصل تھا۔ لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انکار کیا اور فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مال کو جہاں جہاں خرچ کرتے تھے میں آپ کے اس طریقے کو چھوڑ نہیں سکتا مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اس طریقے پر عمل ترک کردیا تو بھٹک جاؤں گا۔ مدینہ طیبہ کے صدقات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کی تولیت میں دئے جبکہ خیبر اور فدک کو انہوں نے روک لیا اور فرمایا یہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقات ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حقوق اور ریاست کے امور میں خرچ کرتے تھے لہٰذا ان کا معاملہ اس شخص کے سپرد ہوگا جو مسلمان کا خلیفہ ہوگا چنانچہ آج تک یہی معمول ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ؛جلد٣ص١٣٨١؛حدیث نمبر ٤٤٧٢)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ : ابْنُ إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ". قَالَ : وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، وَفَدَكٍ، وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ، وَقَالَ : لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ ؛ إِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ . فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ، فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، وَأَمَّا خَيْبَرُ، وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ ، وَقَالَ : هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ، قَالَ : فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4472

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے وارث ترکہ میں سے ایک دینار بھی خرچ نہیں کر سکتے میری ازواج اور میرے عامل کے خرچ کے بعد جو کچھ بچے گا وہ صدقہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ؛جلد٣ص١٣٨٢؛حدیث نمبر ٤٤٧٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4473

امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٤٧٣ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ؛جلد٣ص١٣٨٣؛حدیث نمبر ٤٤٧٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4474

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی ہم نے جو کچھ چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لا نورث ما ترکنا فھو صدقۃ؛جلد٣ص١٣٨٣؛حدیث نمبر ٤٤٧٥)

وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4475

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت سے گھوڑے کو دو حصے اور آدمی کو ایک حصہ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب کیفیۃ قسمۃالغنیمۃ بین الحاضرین؛ترجمہ؛ مجاہدین میں مال غنیمت تقسیم کرنے کا طریقہ؛جلد٣ص١٣٨٣؛حدیث نمبر ٤٤٧٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ فِي النَّفَلِ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4476

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث نقل کی گئی ہے لیکن اس میں مال غنیمت کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب کیفیۃ قسمۃالغنیمۃ بین الحاضرین؛جلد٣ص١٣٨٣؛حدیث نمبر ٤٤٧٧)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي النَّفَلِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4477

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ،حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تین سو انیس تھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف منہ فرما کر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے رب سے بآواز بلند دعا مانگنا شروع کردی اے اللہ! میرے لئے اپنے کئے ہوئے وعدہ کو پورا فرما, اے اللہ!اپنے وعدہ کے مطابق عطا فرما اے اللہ!اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر اپنے رب سے ہاتھ دراز کئے قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ سے گر پڑی پس حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو اٹھایا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر ڈالا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی آپ کی اپنے رب سے دعا کافی ہوچکی عنقریب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرے گا اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی۔ "(اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰئِكَةِ مُرْدِفِيْنَ )(۔الانفال:9) " (ترجمہ)جب تم اپنے رب سے دعا کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں تمہاری مدد ایک ہزار لگاتار فرشتوں سے کروں گا" پس اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرشتوں کے ذریعہ امداد فرمائی حضرت ابوزمیل نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اس دن بیان کی جب مسلمانوں میں ایک آدمی مشرکین میں سے آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس سے آگے تھا اچانک اس نے اوپر سے ایک کوڑے کی ضرب لگنے کی آواز سنی اور یہ بھی سنا کہ کوئی گھوڑ سوار یہ کہہ رہا ہے،اے حیزوم!آگے بڑھ پس اس نے اپنے آگے مشرک کی طرف دیکھا کہ وہ چت گرا پڑا ہے جب اس کی طرف غور سے دیکھا تو اس کا ناک زخم زدہ تھا اور اس کا چہر پھٹ چکا تھا،کوڑے کی ضرب کی طرح اور اس کا پورا جسم نیلا ہوچکا تھا۔پس اس انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے سچ کہا یہ مدد تیسرے آسمان سے آئی تھی پس اس دن ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید ہوئے ابوزمیل نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا جب قیدیوں کو گرفتار کرلیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا تم ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو حضرت ابوبکر نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمارے چچا زاد اور خاندان کے لوگ ہیں میری رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فدیہ وصول کرلیں اس سے ہمیں کفار کے خلاف طاقت حاصل ہوجائے گی اور ہوسکتا ہے کہ اللہ انہیں اسلام لانے کی ہدایت عطا فرما دیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب آپ کی کیا رائے ہے؟میں نے عرض کیا نہیں!اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول میری وہ رائے نہیں جو حضرت ابوبکر کی رائے ہے بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں عقیل کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کریں،وہ اس کی گردن اڑائیں اور فلاں آدمی میرے سپرد کردیں۔اپنے رشتہ داروں میں سے ایک کا نام لیا تاکہ میں اس کی گردن مار دوں کیونکہ یہ کفر کے پیشوا اور سردار ہیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کی طرف مائل ہوئے اور میری رائے کی طرف مائل نہ ہوئے جب آئندہ روز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے بتائیں تو سہی کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کو رلا دیا پس اگر میں رو سکا تو میں بھی رؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو میں آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت ہی اختیار کرلوں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو مجھے تمہارے ساتھیوں سے فدیہ لینے کی وجہ سے پیش آیا ہے تحقیق مجھ پر ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربیی درخت سے بھی اور اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی: (ترجمہ)"کسی نبی کی شان کے لائق نہیں کہ وہ کفار کا خون زمین پر بہانے سے پہلے ان کو قیدی بناے۔پس تمہیں جو غنیمت ملی ہے اسے کھاؤ اس حال میں کہ وہ حلال پاکیزہ ہے پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا"۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب الامداد باالملائکۃ فی غزوۃ بدر،واباحۃالغنائم؛غزوہ بدر میں فرشتوں کی امداد اور غنیمتوں کے مباح ہونے کا بیان؛جلد٣ص١٣٨٣ تا ١٣٨٥؛حدیث نمبر ٤٤٧٨)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ - هُوَ : سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ، وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ : " اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ ". فَمَا زَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ، فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ، وَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ ؛ فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ }، فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلَائِكَةِ. قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ : فَحَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ، وَصَوْتَ الْفَارِسِ يَقُولُ : أَقْدِمْ حَيْزُومُ . فَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ، فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ، وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ السَّوْطِ فَاخْضَرَّ ذَلِكَ أَجْمَعُ، فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ، فَحَدَّثَ بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " صَدَقْتَ، ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ ". فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ، وَأَسَرُوا سَبْعِينَ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ : " مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى ؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةُ، أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً فَتَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ " قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا، فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَتُمَكِّنِّي مِنْ فُلَانٍ نَسِيبًا لِعُمَرَ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ؛ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ، وَصَنَادِيدُهَا، فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْكِيَانِ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ ؛ لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ". شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ }. إِلَى قَوْلِهِ : { فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا }. فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4478

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا تو وہ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو لائے جسے ثمامہ بن اثال اہل یمامہ کا سردار کہا جاتا تھا صحابہ نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا اے ثمامہ کیا خبر ہے؟اس نے عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم خیر ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو قتل کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسان فرمائیں تو شکر گزار آدمی پر احسان کریں گے اور اگر مال کا ارادہ فرماتے ہیں تو سوال کیجئے آپ جو مال چاہیں گے آپ کو مل جائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ویسے ہی چھوڑ کر تشریف لے گئے یہاں تک کہ اگلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے اس نے کہا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسان کریں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کریں تو ایک خونی آدمی کو ہی قتل کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال کا ارادہ رکھتے ہیں تو مانگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی طرح چھوڑ دیا یہاں تک کہ اگلے روز آئے تو فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا حال ہے اس نے کہا میری وہی بات ہے جو عرض کرچکا ہوں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسان فرمائیں تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کریں تو ایک طاقتور آدمی کو ہی قتل کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال کا ارادہ کرتے ہیں تو مانگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا جائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثمامہ کو چھوڑ دو وہ مسجد کے قریب ہی ایک باغ کی طرف چلا غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!اللہ کی قسم زمین پر کوئی ایسا چہرہ نہ تھا جو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے زیادہ ناپسند ہو پس اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اقدس مجھے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے اور قسم بخدا!مجھے آپ کے دین سے زیادہ ناپسند کوئی دین نہیں تھا لیکن اب آپ کا دین میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ دین ہےاور اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے زیادہ ناپسندیدہ شہر میرے نزدیک کوئی نہ تھا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر میرے نزدیک تمام شہروں سے زیادہ پسندیدہ ہوگیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے مجھے اس حال میں گرفتار کیا کہ میں عمرہ کا ارادہ رکھتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مشورہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بشارت دی اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کرے جب وہ مکہ آیا تو اسے کسی کہنے والے نے کہا کیا تم نے دین بدل لیا ہے اس نے کہا نہیں بلکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں اللہ کی قسم تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے گا یہاں تک کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت نہ فرمائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب ربط الاسیر وحبسہ وجواز المن علیہ؛ ترجمہ؛قیدیوں کو گرفتار کرنا اور احسان کے طور پر رہا کرنا؛جلد٣ص١٣٨٦؛حدیث نمبر ٤٤٧٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ : ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " فَقَالَ : عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ، فَقَالَ : " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " قَالَ : مَا قُلْتُ لَكَ ؛ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ : " مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " فَقَالَ : عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ ؛ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ". فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ، مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى ؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ : أَصَبَوْتَ ؟ فَقَالَ : لَا، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا وَاللَّهِ لَا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ، حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4479

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نجد کی طرف کچھ گھوڑ سواروں کو بھیجا تو وہ ایک شخص کو لے آئے جس کا نام ثمامہ بن اثال حنفی تھا اور وہ اہل یمامہ کا سردار تھا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٤٧٩ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک معزز شخص کو قتل کریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛باب ربط الاسیر وحبسہ وجواز المن علیہ؛جلد٣ص١٣٨٧؛حدیث نمبر ٤٤٨٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا لَهُ نَحْوَ أَرْضِ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ : ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِيُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4480

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اس دوران رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا یہودیوں کے پاس چلو پس ہم آپ کے ساتھ چلے اور یہودیوں کے پاس پہنچ گئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان سے بہ آواز بلند فرمایا اے یہودیوں!اسلام قبول کرو سلامتی میں رہو گے انہوں نے کہا اے ابوالقاسم(صلی اللہ علیہ وسلم)آپ نے تبلیغ کردی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہی ارادہ تھا تم اسلام قبول کرو سلامت رہو گے انہوں نے کہا آپ نے تبلیغ کردی آپ نے فرمایا میں یہی چاہتا ہوں اسلام قبول کرو سلامت رہو گے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار یہی بات فرمائی اور فرمایا جان لو!بےشک زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے میں تمہیں اس سرزمین سے نکالنا چاہتا ہوں پس تم میں سے جو شخص اپنا مال بیچنا چاہے وہ بیچ دے ورنہ جان لو کہ بےشک زمین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِجْلَاءِ الْيَهُودِ مِنَ الْحِجَازِ؛یہودیوں کو سرزمین حجاز سے نکال دینے کا بیان؛جلد٣ص١٣٨٧؛حدیث نمبر ٤٤٨١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ ". فَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى جِئْنَاهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُمْ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ". فَقَالُوا : قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَلِكَ أُرِيدُ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ". فَقَالُوا : قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَلِكَ أُرِيدُ ". فَقَالَ لَهُمُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ : " اعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4481

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی تو آپ نے بنو نضیر کو جلاوطن کر دیا اور بنو قریظہ کو برقرار رکھا اور ان پر احسان فرمایا،حتیٰ کہ اس کے بعد بنوقریظہ نے جنگ کی تو آپ نے ان کے مردوں کو قتل کر دیا اور ان کی عورتوں،بچوں اور مالوں کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا البتہ ان میں سے بعض یہودی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے اور آپ نے ان کو امن دیا چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کردیا ان میں سے بنو قینقاع جو حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم تھی نیز بنو حارثہ اور باقی تمام یہود مدینہ کو بھی جلا وطن کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِجْلَاءِ الْيَهُودِ مِنَ الْحِجَازِ؛جلد٣ص١٣٨٧؛حدیث نمبر ٤٤٨٢)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ، وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ، وَأَوْلَادَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا أَنَّ بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآمَنَهُمْ، وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4482

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٤٨٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِجْلَاءِ الْيَهُودِ مِنَ الْحِجَازِ؛جلد٣ص١٣٨٨؛حدیث نمبر ٤٤٨٣)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَكْثَرُ، وَأَتَمُّ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4483

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میں جزیرہ عرب سے یہود و نصارٰی کو نکال دوں گا اور وہاں مسلمانوں کے سوا کسی کو رہنے نہیں دوں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِجْلَاءِ الْيَهُودِ مِنَ الْحِجَازِ؛جلد٣ص١٣٨٨؛حدیث نمبر ٤٤٨٤)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، حَتَّى لَا أَدَعَ إِلَّا مُسْلِمًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4484

امام مسلم علیہ الرحمہ نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِجْلَاءِ الْيَهُودِ مِنَ الْحِجَازِ؛جلد٣ص١٣٨٨؛حدیث نمبر ٤٤٨٥)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ح وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ - وَهُوَ : ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4485

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنوقریظہ،حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر قلعے سے نکل آئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا تو وہ دراز گوش پر آے جب مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا اپنے سردار یا اپنے افضل کی طرف کھڑے ہو جاؤ پھر فرمایا یہ لوگ تمہارے فیصلے پر قلعے سے نکلے ہیں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ان میں سے جو لڑائی کے قابل ہیں ان کو قتل کر دیجئے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنالیں۔ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے کبھی فرمایا تم نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ابن مثنی کی روایت میں یہ آخری جملہ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛ترجمہ؛عہد شکن کرنے والوں کو قتل کرنا اور کسی عادل شخص کے فیصلہ پر اہل قلعہ کو نکالنے کی اجازت؛جلد٣ص١٣٨٨؛حدیث نمبر ٤٤٨٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ : " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ ". أَوْ : " خَيْرِكُمْ ". ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ". قَالَ : تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ، وَتَسْبِي ذُرِّيَّتَهُمْ. قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ ". وَرُبَّمَا قَالَ : " قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ ". وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى : وَرُبَّمَا قَالَ : " قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4486

امام مسلم نے اس حدیث کو ایک سند کے ساتھ بھی ذکر کیا ہے اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور کبھی فرمایا بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛جلد٣ص١٣٨٩؛حدیث نمبر ٤٤٨٧)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ ". وَقَالَ مَرَّةً : " لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4487

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ جنگ خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو قریش کے ایک شخص نے تیر مارا اور اس شخص کا نام ابن العرقہ تھا۔یہ تیر آپ کے بازو کی ایک رگ میں لگا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں خیمہ لگوادیا اور آپ وہیں قریب سے ان کی عیادت کرتے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے واپس تشریف لائے تو ہتھیار اتار کر غسل فرمایا اتنے میں حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے۔انہوں نے کہا آپ نے ہتھیار اتار دئے ہیں اللہ کی قسم ہم نے ہتھیار نہیں اتارے ان لوگوں کی طرف روانہ ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہاں؟انہوں نے بنوں قریظہ کی طرف اشارہ کیا چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگ کی اور وہ آپ کے فیصلہ پر قلعے سے نکل آئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں سے لڑنے والوں کو قتل کردیا جائے ان کے بچوں اور عورتوں کو گرفتار کیا جائے اور ان کے مالوں کو تقسیم کردیا جاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛جلد٣ص١٣٨٩؛حدیث نمبر ٤٤٨٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ؛ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ الْعَرِقَةِ رَمَاهُ فِي الْأَكْحَلِ، فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ يَعُودُهُ مِنْ قَرِيبٍ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلَاحَ، فَاغْتَسَلَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ، فَقَالَ : وَضَعْتَ السِّلَاحَ ؟ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَيْنَ ". فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ، قَالَ : فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ، وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4488

ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے)فرمایا کہ تم نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛جلد٣ص١٣٨٩؛حدیث نمبر ٤٤٨٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : قَالَ أَبِي : فَأُخْبَرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4489

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا زخم بھرنے کے قریب تھا تو انہوں نے یہ دعا کی۔اے اللہ!تو جانتا ہے کہ مجھے اس بات سے کوئی چیز عزیز نہیں کہ میں ان لوگوں کے خلاف جہاد کروں جنہوں نے تیرے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور(شہر سے)نکالا۔ یا اللہ!اگر قریش کے خلاف جنگ میں سے کچھ باقی ہے تو مجھے ابھی زندہ رکھ تاکہ میں ان کے خلاف جہاد کرسکوں،کیونکہ میرا گمان یہ ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کردی ہے اور اگر تو نے جنگ ختم کردی ہے تو میرے زخم کو جاری کردے اور اس میں میری موت واقع کردے پس وہ زخم ہنسلی کےمقام سے بہنے لگا اور وہ ان کے پاس جلدی جلدی آے اور مسجد میں ان کے ساتھ بنو غفار کا خیمہ تھا وہ خون ان کی طرف بہ رہا تھا انہوں نے کہا اے خیمہ والو!تمہاری طرف سے ہمارے پاس کیا چیز آرہی ہے انہوں نے دیکھا تو حضرت سعد کا زخم بہ رہا تھا پس اسی میں فوت ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛جلد٣ص١٣٩٠؛حدیث نمبر ٤٤٩٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ سَعْدًا قَالَ - وَتَحَجَّرَ كَلْمُهُ لِلْبُرْءِ، فَقَالَ - : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْرَجُوهُ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْءٌ فَأَبْقِنِي أُجَاهِدْهُمْ فِيكَ، اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَافْجُرْهَا، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهَا، فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ - وَفِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ - إِلَّا وَالدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا : يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ، مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ ؟ فَإِذَا سَعْدٌ جُرْحُهُ يَغِذُّ دَمًا، فَمَاتَ مِنْهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4490

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں یوں ہے کہ اسی رات سے زخم جاری ہوگیا اور مسلسل خون جاری رہا حتیٰ کہ آپ فوت ہوگئے ایک حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ شاعر نے کہا۔(ترجمہ) اے سعد!بنو معاذ کے سعد!قریظہ اور بنو نضیر نے کیا کیا جس صبح سعد بن معاذ نے مصائب برداشت کئے وہ بڑے صبر والی(صبح)ہے تم نے اپنی ہانڈی خالی چھوڑ دی جب کہ قوم کی ہانڈی گرم ہے اور ابل رہی ہے نیک شخص ابو حباب نے کہا اے قینقاع!ٹھہرو اور مت جاؤ حالانکہ وہ اپنے شہر میں وزن والے تھے جیسا کہ میطان پہاڑی کے پتھر وزنی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ، وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ؛جلد٣ص١٣٨٩؛حدیث نمبر ٤٤٩١)

وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَانْفَجَرَ مِنْ لَيْلَتِهِ، فَمَا زَالَ يَسِيلُ حَتَّى مَاتَ. وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ : فَذَاكَ حِينَ يَقُولُ الشَّاعِرُ : أَلَا يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُكَ إِنَّ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَكْتُمْ قِدْرَكُمْ لَا شَيْءَ فِيهَا وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ وَقَدْ قَالَ الْكَرِيمُ أَبُو حُبَابٍ أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلَا تَسِيرُوا وَقَدْ كَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالًا كَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّخُورُ

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4491

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ غزوہ احزاب سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آواز دی کہ بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے کوئی شخص نماز نہ پڑھے بعض صحابہ کرام نے وقت نکل جانے کے خوف سے بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے نماز پڑھ لی جبکہ دوسرے حضرات نے کہا ہم وہیں نماز پڑھیں گے جہاں(نماز پڑھنے)کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اگرچہ ہم سے وقت فوت ہوجائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی گروہ کو ملامت نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْمُبَادَرَةِ بِالْغَزْوِ، وَتَقْدِيمِ أَهَمِّ الْأَمْرَيْنِ الْمُتَعَارِضَيْنِ؛جلد٣ص١٣٩١؛حدیث نمبر ٤٤٩٢)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : نَادَى فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنِ الْأَحْزَابِ : " أَنْ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ". فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ، فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَقَالَ آخَرُونَ : لَا نُصَلِّي، إِلَّا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ. قَالَ : فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4492

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب مہاجرین مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ آے تو ان کے ہاتھ خالی تھے اور انصار زمینوں اور کھیتوں کے مالک تھے چنانچہ انصار نے مہاجرین کو اس شرط پر زمینیں دیں کہ وہ ہر سال پیداوار کا نصف انصار کو دیں گے اور انصار کی جگہ زمینوں پر کام کریں گے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ جن کو ام سلیم کہا جاتا تھا اور وہ حضرت عبد اللہ بن ابی طلحہ کی بھی والدہ تھیں ابو طلحہ ماں کی طرف سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے۔انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کا ایک درخت دیا تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ درخت اپنی آزاد کردہ لونڈی ام ایمن کو دے دیا جو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔ابن شہاب زہری فرماتے ہیں مجھے حضرت انس بن مالک نے خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر والوں کی لڑائی سے فارغ ہوئے اور مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے عطیات واپس کردیئے جو انہوں نے اپنے پھلوں سے ان کو دئے تھے۔ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھجور کا درخت میری ماں کو واپس کردیا اور ام ایمن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے باغ سے ایک درخت دے دیا۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں حضرت ام ایمن جو حضرت اسامہ بن زید کی والدہ تھیں حضرت عبد المطلب کی لونڈی تھیں اور وہ حبشہ کی رہنے والی تھیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہوے تو آپ نے ان کو آزاد کرکے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کردیا حضرت ام ایمن،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے پانچ ماہ بعد فوت ہوئیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ رَدِّ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمْ مِنَ الشَّجَرِ وَالثَّمَرِ حِينَ اسْتَغْنَوْا عَنْهَا بِالْفُتُوحِ؛جلد٣ص١٣٩١؛حدیث نمبر ٤٤٩٣)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ الْمَدِينَةَ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، وَكَانَ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ، فَقَاسَمَهُمُ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ، وَيَكْفُونَهُمُ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهِيَ تُدْعَى أُمَّ سُلَيْمٍ، وَكَانَتْ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ - كَانَ أَخًا لِأَنَسٍ لِأُمِّهِ - وَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا لَهَا، فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلَاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ أَهْلِ خَيْبَرَ وَانْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ، قَالَ : فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّي عِذَاقَهَا، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَكَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّ أَيْمَنَ أُمِّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهَا كَانَتْ وَصِيفَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكَانَتْ مِنَ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا وَلَدَتْ آمِنَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا تُوُفِّيَ أَبُوهُ فَكَانَتْ أُمُّ أَيْمَنَ تَحْضُنُهُ حَتَّى كَبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْتَقَهَا، ثُمَّ أَنْكَحَهَا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، ثُمَّ تُوُفِّيَتْ بَعْدَمَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4493

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی زمین کے(کھجور کے)درخت پیش کرتے تھے حتیٰ کہ جب قریظہ اور نضیر فتح ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دئے ہوئے درخت واپس کردئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر آپ سے یہ سوال کرو کہ ہمارے گھر والوں نے آپ کو جو درخت دئے تھے وہ سب یا بعض واپس کردیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخت حضرت ام ایمن کو دئے تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا تو آپ نے وہ وہ درخت مجھے دے دئے حضرت ام ایمن آئیں اور انہوں نے اپنا کپڑا میری گردن میں ڈال کر کہا کہ اللہ کی قسم!حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ درخت تمہیں نہیں دیں گے وہ مجھے دے چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام ایمن!وہ درخت چھوڑ دو تمہیں اتنے درخت مل جائیں گے وہ کہنے لگیں ہر گز نہیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں آپ فرمانے لگے میں تمہیں اس قدر دوں گا حتیٰ کہ آپ نے ان کو دس گنا یا دس گنا کے قریب زیادہ درخت عطاء فرمائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ رَدِّ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمْ مِنَ الشَّجَرِ وَالثَّمَرِ حِينَ اسْتَغْنَوْا عَنْهَا بِالْفُتُوحِ؛جلد٣ص١٣٩٢؛حدیث نمبر ٤٤٩٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنِ الْمُعْتَمِرِ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا - وَقَالَ حَامِدٌ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى : أَنَّ الرَّجُلَ - كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ مِنْ أَرْضِهِ، حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ، وَالنَّضِيرُ، فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا كَانَ أَعْطَاهُ. قَالَ أَنَسٌ : وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِيهِنَّ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي، وَقَالَتْ : وَاللَّهِ، لَا نُعْطِيكَاهُنَّ، وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ أَيْمَنَ، اتْرُكِيهِ وَلَكِ كَذَا وَكَذَا ". وَتَقُولُ : كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. فَجَعَلَ يَقُولُ : " كَذَا ". حَتَّى أَعْطَاهَا عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشَرَةِ أَمْثَالِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4494

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خیبر کے دن مجھے چربی کی ایک تھیلی ملی تو میں نے اسے رکھ لیا اور کہا کہ یہ تھیلی میں آج کسی کو نہیں دوں گا میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے مسکرا رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ طَعَامِ الْغَنِيمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ؛ترجمہ؛دارالحرب میں مال غنیمت کے طعام سے کھانے کا جواز؛جلد٣ص١٣٩٣؛حدیث نمبر ٤٤٩٥)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : أَصَبْتُ جِرَابًا مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ، قَالَ : فَالْتَزَمْتُهُ، فَقُلْتُ : لَا أُعْطِي الْيَوْمَ أَحَدًا مِنْ هَذَا شَيْئًا، قَالَ : فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَسِّمًا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4495

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں غزوہ خیبر کے موقع پر کسی نے ہماری طرف ایک تھیلی پھینکی جس میں طعام اور چربی تھی میں اس کو اٹھانے کے لئے دوڑا مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے تو مجھے آپ سے شرم آئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ طَعَامِ الْغَنِيمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٣٩٣؛حدیث نمبر ٤٤٩٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ يَقُولُ : رُمِيَ إِلَيْنَا جِرَابٌ فِيهِ طَعَامٌ وَشَحْمٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَوَثَبْتُ لِآخُذَهُ، قَالَ : فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4496

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں تھیلی کے اندر چربی کا ذکر اور کھانے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ طَعَامِ الْغَنِيمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٣٩٣؛حدیث نمبر ٤٤٩٧)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الطَّعَامَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4497

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اسے روبرو خبر دی کہ میں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مدت معاہدہ کے دوران شام کی طرف چلا ہم شام میں قیام پذیر تھے کہ اسی دوران شام کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لایا گیا جسے حضرت دحیہ کلبی لائے تھے پس انہوں نے یہ بصریٰ کے گورنر کے سپرد کیا اور بصریٰ کے گورنر نے وہ خط ہرقل کو پیش کیا تو ہرقل نے کہا کیا یہاں کوئی آدمی اس کی قوم کا آیا ہوا ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نبی ہے لوگوں نے کہا جی ہاں چناچہ مجھے قریش کے چند آدمیوں کے ساتھ بلایا گیا ہم ہرقل کے پاس پہنچے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا پھر کہا تم میں کون نسب کے اعتبار سے اس آدمی کے قریب ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ابوسفیان کہتے ہیں میں نے کہا میں ہوں تو اس نے مجھے اپنے سامنے اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا پھر اپنے ترجمان کو بلایا پھر اس سے کہا ان سے کہو میں اس آدمی کے بارے میں پوچھنے والا ہوں جس کا گمان ہے کہ وہ نبی ہے پس اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اس کی تکذیب کرنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ یہ مجھے جھوٹا کہیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ اس کا خاندان تم میں کیسا ہے؟میں نے کہا وہ ہم میں نہایت شریف النسب ہے۔اس نے کہا کیا اس کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا؟میں نے کہا نہیں ہرقل نے کہا کیا تم اسے اس بات کا دعوی کرنے سے پہلے جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟میں نے کہا نہیں ہرقل نے کہا اس کی اتباع کرنے والے بڑے بڑے لوگ ہیں یا کمزور و غریب؟میں نے کہا بلکہ وہ کمزور لوگ ہیں۔اس نے کہا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ میں نے کہا:نہیں بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں۔اس نے کہا کیا ان میں سے کوئی اپنے دین سے اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد ناراض ہوکر اس دین سے پھرا ہے؟میں نے کہا نہیں اس نے کہا کیا۔ تم نے اس سے کوئی جنگ بھی کی؟میں نے کہا جی ہاں ہرقل نے کہا اس سے تمہاری جنگ کا نتیجہ کیا رہا؟میں نے کہا جنگ ہمارے اور ان کے درمیان ایک ڈول کی طرح ہے کبھی وہ ہم سے چھین لیتے ہیں اور کبھی ہم ان سے چھین لیتے ہیں اس نے کہا کیا وہ معاہدہ کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے؟میں نے کہا نہیں اور ہم اس سے ایک معاہدہ میں ہیں ہم نہیں جانتے وہ اس بارے میں کیا کرنے والے ہیں۔ ابوسفیان کہنے لگے اللہ کی قسم اس نے مجھے اس ایک کلمہ کے سوا کوئی بات اپنی طرف سے شامل کرنے کی گنجائش ہی نہیں دی ہرقل نے کہا کیا اس سے پہلے بھی کسی نے یہ دعویٰ کیا تھا؟میں نے کہا نہیں اس نے اپنے ترجمان سے کہا اس سے کہو میں نے تجھ سے اس کے خاندان کے بارے میں پوچھا اور تیرا گمان ہے کہ وہ تم میں سے اچھے خاندان والا ہے اور رسولوں کو اسی طرح اپنی قوم کے اچھے خاندانوں سے بھیجا جاتا ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے اور تیرا خیال ہے کہ نہیں تو میں نے سوچا کہ اگر ان کے آباو اجداد میں کوئی بادشاہ ہوتا تو یہ گمان ہوسکتا تھا کہ وہ اپنے آباء کی حکومت حاصل کرنے کے لئے ایسا کرتا ہے۔ اور میں نے تجھ سے اس کی پیروی کرنے والوں کے بارے میں پوچھا کیا وہ ضعیف طبقہ کے لوگ ہیں یا بڑے آدمی ہیں تو نے کہا بلکہ وہ کمزور ہیں اور یہی لوگ رسولوں کے پیروکار ہوتے ہیں اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا تم اسے اس دعوی سے قبل جھوٹ کی تہمت لگائی ہے اور تو نے کہا نہیں تو میں نے پہچان لیا جو لوگوں پر جھوٹ نہیں باندھتا وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کا ارتکاب کیسے کرسکتا ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا ان لوگوں میں سے کوئی دین میں داخل ہونے کے بعد ان سے ناراضگی کی وجہ سے پھرا ہے تو نے کہا نہیں اور اسی طرح ایمان کی حلاوت ہوتی ہے جب دل اس سے لطف اندوز ہوجائیں اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں تو نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں تو حقیقت میں ایمان کے درجہ تکمیل تک پہنچنے میں یہی کیفیت ہوتی ہے میں نے تجھ سے پوچھا کیا تم نے اس سے کوئی جنگ بھی کی اور تو نے کہا ہم اس سے جنگ کرچکے ہیں اور جنگ تمہارے اور اس کے درمیان ڈول کی طرح ہے کبھی وہ تم پر غالب اور کبھی تم اس پر غالب رہے۔ رسولوں کا معاملہ اسی طرح رہا ہے وہ آزماے جاتے ہیں پھر آخر فتح انہی کی ہوتی ہے اور میں نے تجھ سے پوچھا کیا اس نے معاہدہ کی خلاف ورزی بھی کی؟تو نے کہا:نہیں اور رسل (علیہم السلام) اسی طرح عہد شکنی نہیں کرتے۔ میں نے تجھ سے پوچھا کیا یہ دعوی اس سے پہلے بھی کسی نے کیا تو تم نے کہا نہیں تو میں کہتا ہوں اگر یہ دعوی اس سے پہلے کیا جاتا تو کہتا یہ ایسا آدمی ہے جو اپنے سے پہلے کئے گئے دعوی کی تکمیل کر رہا ہے ابوسفیان نے کہا پھر ہرقل نے کہا وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں میں نے کہا وہ ہم رہے ہو اگر یہ سچ ہے تو وہ واقعتا نبی ہے اور مجھے علم تھا کہ وہ تشریف لائیں گے لیکن میرا خیال نہیں تھا کہ وہ تم لوگوں میں سے ہوں گے اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں ان تک پہنچ جاؤں گا تو میں ان کی ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کے پاؤں مبارک دھوتا اور ان کی حکومت یہاں تک ضرور پہنچے گی۔ راوی فرماتے ہیں پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط مبارک منگوا کر پڑھا تو اس میں یہ تھا۔ "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ"یہ (مکتوب)اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بادشاہ روم ہرقل کی طرف۔اس پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کا اتباع کیا۔اما بعد!میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے اور اسلام قبول کرلے اللہ تجھے دوہرا ثواب عطا کرے گا اور اگر تم نے اعراض کیا تو رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا اور اے اہل کتاب!آؤ اس بات کی طرف جو تمہارے اور ہمارے درمیان برابر (مطفق)ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کریں گے اور نہ ہمارے بعض دوسرے بعض کو اللہ کے سوا رب بنائیں گے۔ "پس اگر وہ اعراض کریں تو تم کہہ دو گواہ ہوجاؤ کہ ہم مسلمان ہیں" جب خط کے پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے سامنے چیخ و پکار ہونے لگی اور بکثرت آوازیں آنا شروع ہوگئیں اور اس نے ہمیں باہر لے جانے کا حکم دیا۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں میں نے اپنے ساتھیوں سے اس وقت کہا جب کہ ہمیں نکالا گیا کہ اب تو ابن ابی کبشہ(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)کی بات بہت بڑھ گئی ہے کہ اس سے تو شاہ روم بھی خوف کرتا ہے اور اسی وقت سے مجھے ہمیشہ یہ یقین رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب غالب ہوں گے حتی کہ رب العزت نے اپنی رحمت سے مجھے اسلام میں داخل کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ؛ترجمہ؛دعوت اسلام کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرقل کے نام مکتوب؛جلد٣ص١٣٩٣تا ١٣٩٦؛حدیث نمبر ٤٤٩٨)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ - قَالَ ابْنُ رَافِعٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيهِ، قَالَ : انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّأْمِ إِذْ جِيءَ بِكِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ - يَعْنِي عَظِيمَ الرُّومِ - قَالَ : وَكَانَ دَحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهِ، فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى هِرَقْلَ، فَقَالَ هِرَقْلُ : هَلْ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ قَالُوا : نَعَمْ. قَالَ : فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ، فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَقُلْتُ : أَنَا. فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي، ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ، فَقَالَ لَهُ : قُلْ لَهُمْ : إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ. قَالَ : فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : وَايْمُ اللَّهِ، لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْكَذِبُ لَكَذَبْتُ. ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : سَلْهُ : كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ ؟ قَالَ : قُلْتُ : هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ. قَالَ : فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ ؟ قُلْتُ : لَا. قَالَ : فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ؟ قُلْتُ : لَا. قَالَ : وَمَنْ يَتَّبِعُهُ ؟ أَشْرَافُ النَّاسِ، أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ. قَالَ : أَيَزِيدُونَ، أَمْ يَنْقُصُونَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا، بَلْ يَزِيدُونَ. قَالَ : هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا. قَالَ : فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : تَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا يُصِيبُ مِنَّا، وَنُصِيبُ مِنْهُ. قَالَ : فَهَلْ يَغْدِرُ ؟ قُلْتُ : لَا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا. قَالَ : فَوَاللَّهِ، مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ. قَالَ : فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا. قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : قُلْ لَهُ : إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ : لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ، قُلْتُ : رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ، وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ، أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ ؟ فَقُلْتَ : بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ يَزِيدُونَ أَوْ يَنْقُصُونَ ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَدْ قَاتَلْتُمُوهُ، فَتَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى، ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ يَغْدِرُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ، وَسَأَلْتُكَ : هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ : لَوْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَد قَبْلَهُ ؟ قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : بِمَ يَأْمُرُكُمْ ؟ قُلْتُ : يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ، وَالصِّلَةِ، وَالْعَفَافِ، قَالَ : إِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ، وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ. قَالَ : ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ ؛ أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ ، وَ { يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ } ". فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ عِنْدَهُ، وَكَثُرَ اللَّغْطُ، وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا، قَالَ : فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا : لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ. قَالَ : فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4498

حضرت امام مسلم نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے اس میں یوں ہے کہ فارس(ایران)کو شکست دینے کے بعد جب قیصر روم حمص سے ایلیاء(بیت المقدس)کی طرف روانہ ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے امتحان میں کامیابی عطاء کی اور اس حدیث میں الفاظ یوں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں نیز اریسیین کی جگہ یریسین کا لفظ ہے اسی طرح دعایۃ اسلام کی جگہ بداعیۃ الاسلام کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ طَعَامِ الْغَنِيمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٣٩٧؛حدیث نمبر ٤٤٩٩)

وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ : ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ : وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلِيَاءَ شُكْرًا لِمَا أَبْلَاهُ اللَّهُ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : " مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ". وَقَالَ : " إِثْمَ الْيَرِيسِيِّينَ "، وَقَالَ : " بِدَاعِيَةِ الْإِسْلَامِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4499

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر،کسریٰ،نجاشی اور ہر بادشاہ کو خط لکھ کر اسلام کی دعوت دی اور یہ نجاشی وہ نہیں جس کی نماز جنازہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كُتُبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُلُوكِ الْكُفَّارِ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛دعوت اسلام کے لئے غیر مسلم بادشاہوں کے نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے خطوط؛جلد٣ص١٣٩٧؛حدیث نمبر ٤٥٠٠)

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى كِسْرَى، وَإِلَى قَيْصَرَ، وَإِلَى النَّجَاشِيِّ، وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4500

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٥٠٠ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ البتہ اس میں یہ نہیں کہ یہ نجاشی وہ نہیں جس کی نماز جنازہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كُتُبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُلُوكِ الْكُفَّارِ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٣ص١٣٩٨؛حدیث نمبر ٤٥٠١)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ : وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4501

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٥٠٠ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ البتہ اس میں یہ نہیں ذکر ہے کہ یہ نجاشی وہ نہیں جس کی نماز جنازہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كُتُبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُلُوكِ الْكُفَّارِ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٣ص١٣٩٨؛حدیث نمبر ٤٥٠٢)

وَحَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4502

حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا میں اور سفیان بن حارث بن عبد المطلب،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے اور آپ سے جدا نہیں ہوے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سفید خچر پر تھے جو آپ کی خدمت میں فردہ بن نفاثہ جذامی نے بطور ہدیہ پیش کی تھی جب مسلمان اور کفار کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خچر کو کفار کی طرف دوڑا رہے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر کی لگام تھام رکھی تھی اور اسے تیز بھاگنے سے روک رہا تھا اور حضرت ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب پکڑ رکھی تھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عباس أصحاب سمرہ کو آواز دو حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو بلند آواز تھے فرماتے ہیں میں نے بآواز بلند کہا اصحاب سمرہ کہاں ہیں؟وہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!یہ سن کر وہ اس طرح پلٹے جس طرح گاے اپنے بچوں کی طرف پلٹتی ہے اور انہوں نے لبیک لبیک کہا اور کفار سے لڑنا شروع کردیا۔ انہوں نے انصار کی جماعت کو بلانا شروع کیا اور کہا اے انصار کی جماعت!اے انصار کی جماعت!پھر بنو حارث بن خزرج کو بلایا گیا اور انہوں نے کہا:اے بنو حارث بن خزرج!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن اٹھا کر جنگ کا منظر دیکھا اور اس وقت آپ خچر پر سوار تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تنور گرم ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کنکریاں لیکر کفار کے منہ پر ماریں اور فرمایا رب محمد کی قسم!یہ لوگ شکست کھا گئے حضرت عباس فرماتے ہیں میں دیکھ رہا تھا کہ لڑائی اسی تیزی کے ساتھ جاری تھی میں اسی طرح دیکھ رہا تھا کہ اچانک آپ نے کنکریاں پھینکیں تو اللہ کی قسم!میں نے دیکھا کہ ان کا زور ٹوٹ گیا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛ترجمہ؛غزوہ حنین کا بیان؛جلد٣ص١٣٩٨؛حدیث نمبر ٤٥٠٣)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : قَالَ عَبَّاسٌ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَزِمْتُ أَنَا، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ، فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ، قَالَ عَبَّاسٌ : وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لَا تُسْرِعَ، وَأَبُو سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْ عَبَّاسُ، نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ ". فَقَالَ عَبَّاسٌ - وَكَانَ رَجُلًا صَيِّتًا - فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي : أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ ؟ قَالَ : فَوَاللَّهِ، لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا، فَقَالُوا : يَا لَبَّيْكَ، يَا لَبَّيْكَ. قَالَ : فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الْأَنْصَارِ يَقُولُونَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ. قَالَ : ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَقَالُوا : يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ ". قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ، ثُمَّ قَالَ : " انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ ". قَالَ : فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا ، وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4503

امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت نقل کی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا:رب کعبہ کی قسم!یہ ہار گئے رب کعبہ کی قسم!یہ ہار گئے اور اس حدیث میں اضافہ ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دی گویا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ ان کے پیچھے اپنی خچر دوڑارہے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٣٩٩؛حدیث نمبر ٤٥٠٤)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِيُّ، وَقَالَ : " انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ". وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ : حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ : وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4504

حضرت کثیر بن عباس اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا اس کے بعد حسب سابق روایت ہے البتہ یونس اور معمعر کی روایت زیادہ مکمل ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠٠؛حدیث نمبر ٤٥٠٥)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ يُونُسَ، وَحَدِيثَ مَعْمَرٍ أَكْثَرُ مِنْهُ، وَأَتَمُّ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4505

حضرت ابو اسحاق بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا ایک شخص نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کہا کیا غزوہ حنین کے دن تم لوگ بھاگ گئے تھے؟انہوں نے فرمایا نہیں،اللہ کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری بلکہ آپ کے اصاب میں سے چند جلد باز اور نہتے نوجوان آگے نکلے اور ان کا مقابلہ ہوازن اور بنو نضیر کے ایسے تیر اندازوں سے ہوا جن کا کوئی تیر خطأ نہیں جاتا تھا انہوں نے اس طرح دیکھ دیکھ کر تیر مارے کہ ان کا کوئی تیر خطأ نہ گیا پھر یہ نوجوان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پلٹے اور آپ اپنی سفید خچر پر تشریف فرما تھے اور حضرت ابوسفیان حارث بن عبد المطلب اس کے آگے آگے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی اور یوں فرمایا: "میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں اور میں عبد المطلب کا بیٹا (پوتا) ہوں،پھر آپ نے ان کی صف بندی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠٠؛حدیث نمبر ٤٥٠٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ : يَا أَبَا عُمَارَةَ، أَفَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ، وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلَاحٌ، أَوْ كَثِيرُ سِلَاحٍ، فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ جَمْعَ هَوَازِنَ، وَبَنِي نَصْرٍ، فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ، فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ، فَنَزَلَ، فَاسْتَنْصَرَ، وَقَالَ : " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " ثُمَّ صَفَّهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4506

ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت براء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا اے ابو عمارہ!یکا یک تم لوگ غزوہ حنین کے موقع پر بھاگ گئے تھے؟انہوں نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری لیکن چند جلدباز اور نہتے نوجوان اس قبیلے ہوازن کی طرف بڑھے اور وہ تیر انداز لوگ تھے انہوں نے تیروں کی اس طرح بوچھار کی جس طرح ٹڈی دل ہو تو یہ لوگ(نوجوان صحابہ کرام)ان کے سامنے سے ہٹ گئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوے اس وقت ابوسفیان بن حارث آپ کی خچر کے آگے تھے آپ اترے دعا مانگی اور یہ فرمایا۔ "میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں اور میں عبد المطلب کا بیٹا(پوتا)ہوں،یا اللہ!اپنی مدد فرما" حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!جب جنگ تیز ہوتی تو میں ہم آپ کی پناہ میں چلے جاتے اور ہم میں سے بہادر شخص وہ ہوتا جو جنگ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠١؛حدیث نمبر ٤٥٠٧)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْبَرَاءِ ، فَقَالَ : أَكُنْتُمْ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَا أَبَا عُمَارَةَ ؟ فَقَالَ : أَشْهَدُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا وَلَّى، وَلَكِنَّهُ انْطَلَقَ أَخِفَّاءُ مِنَ النَّاسِ، وَحُسَّرٌ إِلَى هَذَا الْحَيِّ مِنْ هَوَازِنَ وَهُمْ قَوْمٌ رُمَاةٌ، فَرَمَوْهُمْ بِرِشْقٍ مِنْ نَبْلٍ كَأَنَّهَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَانْكَشَفُوا، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ يَقُودُ بِهِ بَغْلَتَهُ، فَنَزَلَ، وَدَعَا، وَاسْتَنْصَرَ، وَهُوَ يَقُولُ : " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ اللَّهُمَّ نَزِّلْ نَصْرَكَ ". قَالَ الْبَرَاءُ : كُنَّا وَاللَّهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهِ، وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِي بِهِ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4507

حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں قبیلہ قیس کے ایک شخص نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا غزوہ حنین کے دن تم لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو پیٹھ نہیں پھیری اور اس دن ہوازن(قبیلہ کے لوگ)تیر اندازی کر رہے تھے جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ گئے ہم مال غنیمت کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے ہم پر تیر اندازی کی میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی سفید خچر پر تھے اور ابو سفیان بن حارث آگے آگے اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرما رہے تھے۔ "میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠١؛حدیث نمبر ٤٥٠٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ : أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ : وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ، وَكَانَتْ هَوَازِنُ يَوْمَئِذٍ رُمَاةً، وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمُ انْكَشَفُوا، فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ، فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَهُوَ يَقُولُ : " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ "

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4508

حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے کہا اے ابو عمارہ!اس کے بعد حسب سابق ہے اس روایت کے الفاظ کم ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں دوسری روایات کے الفاظ زیادہ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠١؛حدیث نمبر ٤٥٠٩)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : قَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا أَبَا عُمَارَةَ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ أَقَلُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ، وَهَؤُلَاءِ أَتَمُّ حَدِيثًا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4509

حضرت ایاس بن سلمہ فرماتے ہیں مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی جب ہم دشمن کے مقابل ہوے تو میں آگے بڑھ کر ایک گھاٹی پر چڑھ گیا دشمن کا ایک شخص میرے سامنے آیا تو میں نے اس پر تیر پھینکا وہ مجھ سے چھپ گیا مجھے پتہ نہ چل سکا کہ اس نے کیا کیا ہے۔میں نے قوم کی طرف دیکھا تو وہ دوسری گھاٹی سے چڑھ رہے تھے ان کا اور حضور کے صحابہ کا مقابلہ ہوا۔پس صحابہ کرام پشت پھیر کر گئے اور میں بھی شکست خوردہ واپس ہوا میرے اوپر دو چادریں تھیں ایک کو بطور تہبند باندھ رکھا تھا اور دوسری اوپر اوڑھی ہوئی تھی میری چادر کھل گئی تو میں نے دونوں چادروں کو اکٹھا کیا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے شکست خوردہ گزرا اور آپ اپنی خچر شہباء پر تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن رکوع خوف زدہ ہوکر دیکھ رہا ہے جب دشمنوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لیا تو آپ خچر سے نیچے اترے پھر آپ نے مٹی کی مٹھی لے کر ان کے چہروں پر ماری اور فرمایا ان کے چہرے قبیح ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر شخص کی آنکھوں کو اس مٹھی بھر مٹی سے بھر دیا اور وہ شکست خوردہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔اللہ تعالی نے ان کو شکست دی اور اس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں مال غنیمت تقسیم کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ؛جلد٣ص١٤٠٢؛حدیث نمبر ٤٥١٠)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ، فَتَوَارَى عَنِّي، فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ، وَنَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى، فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا، مُرْتَدِيًا بِالْأُخْرَى، فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا، وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ رَأَى ابْنُ الْأَكْوَعِ فَزَعًا ". فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الْأَرْضِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ، فَقَالَ : " شَاهَتِ الْوُجُوهُ ". فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلَّا مَلَأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ، فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4510

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا اور وہاں سے کچھ حاصل نہ ہوا آپ نے فرمایا ان شاء اللہ ہم لوٹ جائیں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کیا ہم فتح کے بغیر لوٹ جائیں گے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل صبح ان سے جنگ کرنا صحابہ کرام نے صبح حملہ کیا اور وہ زخمی ہو گئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کل صبح ہم واپس جائیں گے اس پر وہ خوش ہوگئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الطَّائِفِ؛غزوہ طائف؛جلد٣ص١٤٠٢؛حدیث نمبر ٤٥١١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ، فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ : " إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ". قَالَ أَصْحَابُهُ : نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْهُ ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ". فَغَدَوْا عَلَيْهِ، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ". قَالَ : فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4511

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب ابوسفیان(کے قافلے کے آنے)کی خبر پہنچی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(صحابہ کرام سے)مشورہ کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کوئی بات فرمائی تو آپ نے ان سے اعراض کیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوئی مشورہ دیا تو آپ نے ان سے بھی اعراض فرمایا۔حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ ہم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ذات کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں گے کہ سمندر میں گھوڑے دوڑائیں تو ہم ان کو دوڑادیں گے اور آپ برک الغماد تک گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں گے تو ہم ایسا کریں گے تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا اور وہ چلے حتیٰ کہ بدر میں اترے وہاں قریش کے پانی پلانے والے ملے ان میں بنی حجاج کا ایک سیاہ فام غلام تھا پس انہوں نے اسے پکڑ لیا صحابہ کرام اس سے ابوسفیان اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھنے لگے اس نے کہا مجھے ابوسفیان کا علم نہیں لیکن یہ ابو جہل،عتبہ،شیبہ اور امیہ بن خلف ہیں۔ جب اس نے یہ بات بتائی تو انہوں نے اسے پیٹنا شروع کردیا اس نے کہا ہاں میں تمہیں ابوسفیان کے بارے میں بتاتا ہوں انہوں نے اسے چھوڑ کر ابو سفیان کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا مجھے ابوسفیان کا پتہ نہیں البتہ ابو جہل،عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف یہاں لوگوں میں موجود ہیں جب اس نے یہ بات کہی تو انہوں نے دوبارہ مارنا شروع کردیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے جب آپ نے یہ صورت حال دیکھی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب اس نے سچ کہا تو تم اسے مارنے لگے اور جب اس نے جھوٹ بولا تم نے اسے چھوڑ دیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فلاں کافر کے گرنے کی جگہ ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر اس جگہ ہاتھ رکھتے جاتے تھے فرماتے ہیں پھر کوئی کافر اس جگہ سے متجاوز نہ ہوا جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ رکھا تھا۔(یعنی جس جگہ ہاتھ رکھا وہاں ہی گرا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ؛ترجمہ؛غزوہ بدر؛جلد٣ص١٤٠٤؛حدیث نمبر ٤٥١٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حِينَ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ : فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ : إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا، وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا. قَالَ : فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا بَدْرًا وَوَرَدَتْ عَلَيْهِمْ رَوَايَا قُرَيْشٍ وَفِيهِمْ غُلَامٌ أَسْوَدُ لِبَنِي الْحَجَّاجِ فَأَخَذُوهُ، فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ، فَيَقُولُ : مَا لِي عِلْمٌ بِأَبِي سُفْيَانَ، وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ، وَعُتْبَةُ، وَشَيْبَةُ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ. فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ، فَقَالَ : نَعَمْ، أَنَا أُخْبِرُكُمْ هَذَا أَبُو سُفْيَانَ. فَإِذَا تَرَكُوهُ، فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ : مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ، وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ، وَعُتْبَةُ، وَشَيْبَةُ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فِي النَّاسِ. فَإِذَا قَالَ هَذَا أَيْضًا ضَرَبُوهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ انْصَرَفَ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَضْرِبُوهُ إِذَا صَدَقَكُمْ، وَتَتْرُكُوهُ إِذَا كَذَبَكُمْ ". قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ ". قَالَ : وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ هَاهُنَا هَاهُنَا، قَالَ : فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4512

حضرت عبداللہ بن رباح رضی اللہ عنہ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں رمضان المبارک میں کئی وفد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ہم ایک دوسرے کے لئے کھانا تیار کرتے تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں اکثر اپنے ٹھکانے پر بلاتے تھے میں نے کہا کیا میں کھانا نہ پکاؤں اور پھر انہیں اپنے مکان پر آنے کی دعوت دوں تو میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا پھر شام کے وقت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا آج رات میرے ہاں دعوت ہے انہوں نے کہا تم نے مجھ پر سبقت حاصل کرلی ہے میں نے کہا جی ہاں میں نے انہیں دعوت دی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے انصار کی جماعت کیا میں تمہیں تمہارے بارے میں حدیث کی خبر نہ دوں۔پھر فتح مکہ کا ذکر کیا تو کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(مدینہ سے)چل کر مکہ پہنچے اور دو اطراف میں سے ایک جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اور دوسری جانب خالد رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بےزرہ لوگوں پر امیر بنا کر بھیجا۔وہ وادی کے اندر سے گزرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے ایک حصے میں تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا تو فرمایا ابوہریرہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!میں حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس صرف انصاری آتے ہیں دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو میرے پاس (آنے کی) آواز دو۔پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہوگئے اور قریش نے بھی اپنے حماتیی اور متبعین کو اکٹھا کرلیا اور کہا:ہم ان کو آگے بھیج دیتے ہیں اگر انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوا تو ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائیں گے اور اگر انہیں کچھ ہوگیا تو ہم سے جو کچھ مانگا جائے گا دے دیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم قریش کے حمایتیوں اور متبعین کو دیکھ رہے ہو،تو اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا اور تم مجھ سے کوہ صفا پر ملاقات کرنا ہم چل دیئے اور ہم میں سے جو کسی کو قتل کرنا چاہتا تو کردیتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کرسکتا پس ابوسفیان نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی جماعت ختم ہو رہی ہے آج کے بعد کوئی قریش نہ ہوں گے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں رہے گا انصار نے ایک دوسرے سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر کی محبت اور اپنے قرابت داروں کے ساتھ نرمی غالب آگئی ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو کوئی بھی رسول اللہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ سکتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہوجاتی پس جب وحی پوری ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار کی جماعت انہوں نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کہا ہے کہ اس شخص کو اپنے شہر کی محبت غالب آگئی ہے انہوں نے عرض کیا واقعہ تو یہی ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے اب میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ اور موت تمہاری موت کے ساتھ ہے پس(انصار)روتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے اور عرض کرنے لگے اللہ کی قسم ہم نے جو کچھ کہا وہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں پس لوگ ابوسفیان کے گھر کی طرف جانے لگے اور کچھ لوگوں نے اپنے دروازے بند کر لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو کر حجر اسود تک پہنچے اور اسے بوسہ دیا پھر بیت اللہ کا طواف کیا کعبہ کے ایک کونے میں موجود ایک بت کے پاس آئے جس کی وہ پرستش کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں ایک کمان تھی جس کا کونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکڑے ہوئے تھے جب بت کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آنکھوں میں اس کمان کا کونا چبھونا شروع کردیا اور فرماتے تھے حق آگیا اور باطل چلا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو کوہ صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھ کر بیت اللہ کی طرف نظر دوڑائی اور آپ نے ہاتھوں کو بلند کیا اور اللہ کی حمد وثناء شروع کردی اور پھر جو چاہا اللہ سے مانگتے رہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ فَتْحِ مَكَّةَ؛ترجمہ؛فتح مکہ ؛جلد٣ص١٤٠٥تا ١٤٠٦؛حدیث نمبر ٤٥١٣)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَكَانَ يَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ ، فَقُلْتُ : أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى رَحْلِي. فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ، ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعَشِيِّ، فَقُلْتُ : الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ. فَقَالَ : سَبَقْتَنِي ؟ قُلْتُ : نَعَمْ. فَدَعَوْتُهُمْ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ؟ ثُمَّ ذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ، فَقَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ، وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى، وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ ، فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَةٍ، قَالَ : فَنَظَرَ، فَرَآنِي، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ : " لَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ ". زَادَ غَيْرُ شَيْبَانَ، فَقَالَ : " اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ ". قَالَ : فَأَطَافُوا بِهِ، وَوَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا، وَأَتْبَاعًا، فَقَالُوا : نُقَدِّمُ هَؤُلَاءِ، فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ، وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ". ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ قَالَ : " حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا ". قَالَ : فَانْطَلَقْنَا فَمَا شَاءَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ، وَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا، قَالَ : فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ". فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَجَاءَ الْوَحْيُ وَكَانَ إِذَا جَاءَ الْوَحْيُ لَا يَخْفَى عَلَيْنَا، فَإِذَا جَاءَ فَلَيْسَ أَحَدٌ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ، فَلَمَّا انْقَضَى الْوَحْيُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ". قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " قُلْتُمْ : أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ". قَالُوا : قَدْ كَانَ ذَاكَ. قَالَ : " كَلَّا، إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ، وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ". فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ، وَيَقُولُونَ : وَاللَّهِ، مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ، وَبِرَسُولِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ، وَيَعْذِرَانِكُمْ ". قَالَ : فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى دَارِ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ، قَالَ : وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، قَالَ : فَأَتَى عَلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ كَانُوا يَعْبُدُونَهُ، قَالَ : وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ، فَلَمَّا أَتَى عَلَى الصَّنَمِ جَعَلَ يَطْعُنُهُ فِي عَيْنِهِ، وَيَقُولُ : " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ". فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَى الصَّفَا فَعَلَا عَلَيْهِ، حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ، وَيَدْعُو بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4513

امام مسلم نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا ان کو کھیتی کی طرح کاٹ دو۔ ایک حدیث میں ہے صحابہ کرام نے کہا یا رسول اللہ!ہم نے یہ بات کہی ہے آپ نے فرمایا اس وقت میرا نام کیا ہوگا،ہرگز نہیں،میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ فَتْحِ مَكَّةَ؛جلد٣ص١٤٠٧؛حدیث نمبر ٤٥١٤)

وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ : ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى : " احْصُدُوهُمْ حَصْدًا ". وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : قَالُوا : قُلْنَا : ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " فَمَا اسْمِي إِذَنْ، كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4514

حضرت عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ ہمارا وفد حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ہم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھیوں کے لئے ایک دن کھانا تیار کرتا۔جب میری باری آئی تو میں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آج میری باری ہے۔سب لوگ ہمارے ٹھکانے پر آے اور ابھی کھانا تیار نہیں ہوا تھا میں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب تک کھانا تیار ہوتا ہے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں انہوں نے فرمایا ہم فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو میمنہ(دائیں)جانب پر حضرت زبیر کو میسرہ پر(بائیں جانب)اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو پیادہ پر مقرر فرمایا اور وادی کے اندر روانہ کیا۔ پھر فرمایا اے ابوہریرہ!انصار کو میرے پاس بلاؤ میں نے ان کو بلایا تو وہ دوڑتے ہوئے آے آپ نے پوچھا اے گروہ انصار!کیا تم قریش کے اوباش(کمینے)لوگوں کو دیکھ رہے ہو؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں،فرمایا دیکھو!صبح جب مقابلہ ہو تو ان کو(کھیتی کی طرح)کاٹ کر رکھ دو اور آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر(قتل کا)اشارہ کیا اور فرمایا صفا پر ملاقات ہوگی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن ان کو جو بھی دکھائی دیا اسے سلا دیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر تشریف لے گئے انصار آے اور انہوں نے طواف کیا پھر حضرت ابوسفیان آے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!قریش کی جماعت ختم ہوگئی اور آج کے بعد کوئی قریش نہیں رہے گا ابوسفیان فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اسے امن ہے جو ہتھیار ڈال دے اسے بھی امن ہے اور جو اپنا دروازہ بند کردے اسے بھی امن ہے۔ انصار نے کہا ان پر رشتہ داروں کے ساتھ نرمی اور وطن کی محبت غالب آگئی ہے(اس وقت)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا تم لوگوں نے کہا ہے کہ اس شخص پر خاندان سے شفقت اور وطن کی محبت غالب آگئی ہے آپ نے فرمایا تم جانتے ہو میرا نام کیا ہے آپ نے تین بار فرمایا میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے اب میری زندگی بھی تمہاری زندگی(کے ساتھ)ہے اور میری موت بھی تمہاری موت(کے ساتھ)ہے۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ہم نے تو یہ بات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری تصدیق کرتے اور تمہارے عذر کو قبول کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ فَتْحِ مَكَّةَ؛جلد٣ص١٤٠٧؛حدیث نمبر ٤٥١٥)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَكَانَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَصْنَعُ طَعَامًا يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ، فَكَانَتْ نَوْبَتِي، فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الْيَوْمُ نَوْبَتِي، فَجَاءُوا إِلَى الْمَنْزِلِ وَلَمْ يُدْرِكْ طَعَامُنَا، فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَوْ حَدَّثْتَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُدْرِكَ طَعَامُنَا، فَقَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَى، وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْبَيَاذِقَةِ ، وَبَطْنِ الْوَادِي، فَقَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ادْعُ لِيَ الْأَنْصَارَ ". فَدَعَوْتُهُمْ، فَجَاءُوا يُهَرْوِلُونَ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، هَلْ تَرَوْنَ أَوْبَاشَ قُرَيْشٍ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ. قَالَ : " انْظُرُوا إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا أَنْ تَحْصُدُوهُمْ حَصْدًا ". وَأَخْفَى بِيَدِهِ، وَوَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ، وَقَالَ : " مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا ". قَالَ : فَمَا أَشْرَفَ يَوْمَئِذٍ لَهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَنَامُوهُ ، قَالَ : وَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا، وَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ، فَأَطَافُوا بِالصَّفَا، فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيدَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ". فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ، وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : " قُلْتُمْ : أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ، وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، أَلَا فَمَا اسْمِي إِذَنْ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ، فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ". قَالُوا : وَاللَّهِ، مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ، وَيَعْذِرَانِكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4515

حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوے تو کعبہ شریف کے گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے آپ کے ہاتھ میں لاٹھی تھی آپ اس کے ساتھ ان بتوں کو چھوتے اور فرماتے حق آگیا اور باطل مٹ گیا بےشک باطل مٹنے کے لئے ہے حق آگیا اور باطل نہ کسی چیز کو بناتا ہے اور نہ ہی لوٹاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِزَالَةِ الْأَصْنَامِ مِنْ حَوْلِ الْكَعْبَةِ؛جلد٣ص١٤٠٨؛حدیث نمبر ٤٥١٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ : " { جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا }، { جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ } ". زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : يَوْمَ الْفَتْحِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4516

امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ بھی ذکر کیا ہے لیکن اس میں صرف"زھوقا" تک ہے اس کے بعد والی آیت نہیں اور "نصب" کی جگہ صنم کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ إِزَالَةِ الْأَصْنَامِ مِنْ حَوْلِ الْكَعْبَةِ؛جلد٣ص١٤٠٩؛حدیث نمبر ٤٥١٧)

وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ : { زَهُوقًا }. وَلَمْ يَذْكُرِ الْآيَةَ الْأُخْرَى، وَقَالَ بَدَلَ نُصُبًا : صَنَمًا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4517

حضرت عبد اللہ بن مطیع اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فتح مکہ کے دن فرمایا آج کے بعد قیامت تک کسی قریش کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٠٩؛حدیث نمبر ٤٥١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4518

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے کہ قریش کے جن لوگوں کا نام عاص تھا ان میں عاص بن اسود کے علاوہ کوئی مسلمان نہیں ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٠٩؛حدیث نمبر ٤٥١٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ قَالَ : وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ ؛ كَانَ اسْمُهُ الْعَاصِي، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُطِيعًا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4519

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان صلح نامہ لکھا انہوں نے یوں لکھا کہ وہ معاہدہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا ہے۔ قریش نے کہا رسول(کا لفظ)مت لکھو اگر ہمیں علم(یقین)ہوتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو ہم آپ سے نہ لڑتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ لفظ مٹا دیں انہوں نے عرض کیا میں تو نہیں مٹاؤں گا۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے مٹا دیا۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان لوگوں کی شرائط میں یہ بات بھی تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام(آئندہ سال)مکہ مکرمہ میں داخل ہوں تو وہاں تین دن ٹھہریں اور ہتھیار لے کر نہ آئیں۔البتہ یہ کہ ہتھیار غلافوں میں رکھ کر لا سکتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛ترجمہ؛صلح حدیبیہ کا بیان؛جلد٣ص١٤٠٩؛حدیث نمبر ٤٥٢٠)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ : كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الصُّلْحَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ فَكَتَبَ : " هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ". فَقَالُوا : لَا تَكْتُبْ : رَسُولُ اللَّهِ فَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نُقَاتِلْكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : " امْحُهُ ". فَقَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ. فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، قَالَ : وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطُوا أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ فَيُقِيمُوا بِهَا ثَلَاثًا، وَلَا يَدْخُلُهَا بِسِلَاحٍ إِلَّا جُلُبَّانَ السِّلَاحِ. قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ : وَمَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ ؟ قَالَ : الْقِرَابُ وَمَا فِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4520

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حدیبیہ سے صلح کی تو حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان صلح نامہ لکھا فرماتے ہیں انہوں نے"محمد رسول اللہ" لکھا۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے البتہ اس میں"ھذا ما کاتب علیہ" کے الفاظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٠؛حدیث نمبر ٤٥٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ : لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ كَتَبَ عَلِيٌّ كِتَابًا بَيْنَهُمْ، قَالَ : فَكَتَبَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ : " هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4521

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ شریف میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تو اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں پر صلح کرلی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہو کر صرف تین دن قیام کریں گے اور مکہ میں تلواریں نیاموں میں ہوں اور اہل مکہ میں سے کسی کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر نہ جائیں گے اور جو مکہ میں ٹھہرنا چاہے اسے منع بھی نہ کریں گے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا ان شرائط کو ہمارے درمیان تحریر کردو۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ یہ وہ شرائط ہیں جن کا فیصلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔آپ سے مشرکین نے کہا اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ جانتے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرلیتے بلکہ محمد بن عبداللہ لکھو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو اسے مٹانے کا حکم دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم میں تو اسے نہ مٹاؤں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس(لفظ)کی جگہ مجھے دکھاؤ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لفظ کی جگہ دکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے مٹا دیا اور ابن عبداللہ لکھ دیا گیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تین دن رہے جب تیسرا دن ہوا تو مشرکین نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے کہا یہ تمہارے صاحب(حضور صلی اللہ علیہ وسلم)کی شرط کا آخری دن ہے ان کو روانگی کے لئے کہو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔چنانچہ آپ تشریف لے گئے۔ ایک روایت میں "تابعنا" کی جگہ "بایعناک" لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٠؛حدیث نمبر ٤٥٢٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ - وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ - أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَمَّا أُحْصِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْتِ صَالَحَهُ أَهْلُ مَكَّةَ عَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا، فَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثًا، وَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ ؛ السَّيْفِ، وَقِرَابِهِ، وَلَا يَخْرُجَ بِأَحَدٍ مَعَهُ مِنْ أَهْلِهَا، وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا يَمْكُثُ بِهَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ، قَالَ لِعَلِيٍّ : " اكْتُبِ الشَّرْطَ بَيْنَنَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ". فَقَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ : لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ تَابَعْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ. فَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَمْحَاهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ : لَا وَاللَّهِ لَا أَمْحَاهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرِنِي مَكَانَهَا ". فَأَرَاهُ مَكَانَهَا، فَمَحَاهَا، وَكَتَبَ : ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ. فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ قَالُوا لِعَلِيٍّ : هَذَا آخِرُ يَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِكَ، فَاؤْمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ. فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ : " نَعَمْ ". فَخَرَجَ. وَقَالَ ابْنُ جَنَابٍ فِي رِوَايَتِهِ مَكَانَ تَابَعْنَاكَ : بَايَعْنَاكَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4522

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مصالحت کی ان لوگوں میں سہیل بن عمرو بھی تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے فرمایا لکھو"بسم اللہ الرحمن الرحیم"سہیل نے کہا ہمیں معلوم نہیں"بسم اللہ الرحمن الرحیم" کیا ہے۔ آپ وہ الفاظ لکھیں جو ہم جانتے ہیں آپ"باسمک الھم"لکھیں پھر آپ نے فرمایا یوں لکھو"محمد رسول اللہ"کی طرف سے،انہوں نے کہا اگر ہمیں آپ کی نبوت پر یقین ہوتا تو ہم آپ کی اتباع کرتے آپ اپنے والد کا نام لکھیں۔آپ نے فرمایا یوں لکھ دیں.محمد بن عبد اللہ"(محمد بن عبد اللہ کی طرف سے)انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرائط طے کیں کہ تمہارے لوگوں میں سے جو شخص ہمارے پاس جاے گا ہم اسے تم لوگوں کی طرف نہیں لوٹائیں گے اور ہم میں سے جو تمہارے پاس جاے گا تم اسے ہماری طرف لوٹاؤ گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم یہ شرائط لکھیں؟آپ نے فرمایا ہاں لکھو۔ہم میں سے جو ان لوگوں کے پاس جاے گا اللہ تعالیٰ اسے دور رکھے گا اور ان میں سے جو شخص ہمارے پاس اے گا اللہ تعالیٰ عنقریب اس کے لئے فراخی اور کوئی سبیل پیدا کردے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١١؛حدیث نمبر ٤٥٢٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : " اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ". قَالَ سُهَيْلٌ : أَمَّا بِاسْمِ اللَّهِ فَمَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَلَكِنِ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ ؛ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ. فَقَالَ : " اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ". قَالُوا : لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبِ اسْمَكَ، وَاسْمَ أَبِيكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ". فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ، وَمَنْ جَاءَكُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا. فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَكْتُبُ هَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ، إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، وَمَنْ جَاءَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4523

حضرت ابو وائل فرماتے ہیں صفین کے دن حضرت سہل بن حنیف کھڑے ہوکر کہنے لگے اے لوگو اپنے آپ کو قصوروار قرار دو۔ حدیبیہ کے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اگر ہم لڑنا چاہتے تو لڑتے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان صلح کا ذکر ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں؟آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔ انہوں نے عرض کیا کیا ہمارے شہید جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟آپ نے فرمایا ہاں(اسی طرح ہے)انہوں نے عرض کیا پھر ہم دین میں جھکنا کیوں قبول کریں اور واپس چلے جائیں حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ صادر نہیں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب!بےشک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور وہ مجھے کبھی بھی ضائع نہیں فرماے گا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چلے گئے اور وہ اپنے غصے کو قابو میں نہ رکھ سکے چنانچہ وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آے اور کہا اے ابوبکر!کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟انہوں نے فرمایا ہاں کیوں نہیں،پوچھا کیا ہمارے شہید جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں جائیں گے؟انہوں نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہوگا۔ فرمایا پھر ہم اپنے دین میں جھکاؤ کیوں قبول کریں اور یوں واپس جائیں کہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ نہیں فرمایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابن خطاب!بےشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ فتح نازل ہوئی تو آپ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان کے سامنے یہ سورت پڑھی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا یہ فتح ہے؟فرمایا ہاں!اس پر وہ خوش ہوکر واپس ہوے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَةِ؛جلد٣ص١٤١٠؛حدیث نمبر ٤٥٢٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَوْمَ صِفِّينَ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ ؛ لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا، وَذَلِكَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ ؟ قَالَ : " بَلَى ". قَالَ : أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : " بَلَى ". قَالَ : فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا ". قَالَ : فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا، فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ، وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ ؟ قَالَ : بَلَى. قَالَ : أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ، وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : بَلَى. قَالَ : فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ فَقَالَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا. قَالَ : فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَتْحِ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ، فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَفَتْحٌ هُوَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ". فَطَابَتْ نَفْسُهُ، وَرَجَعَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4524

حضرت شقیق فرماتے ہیں میں نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے سنا وہ جنگ صفین کے دن کہہ رہے تھے اے لوگو!اپنی رائے کی غلطی مان لو،اللہ کی قسم!میں نے ابوجندل کے دن اپنے آپ کو دیکھا اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مسترد کرنے کی طاقت رکھتا تو آپ کے حکم کو مسترد کردیتا اللہ کی قسم ہم نے جب بھی اپنے کاندھوں پر تلواریں اس وقت اٹھائی ہیں جب کوئی معروف اور اچھا کام مقصود تھا مگر تمہارا یہ عمل باہمی جنگ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٢؛حدیث نمبر ٤٥٢٥)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُ بِصِفِّينَ : أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَنِّي أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ، وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ قَطُّ إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ، إِلَّا أَمْرَكُمْ هَذَا. لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ نُمَيْرٍ : إِلَى أَمْرٍ قَطُّ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4525

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٥٢٥ کے مثل مروی ہے اس میں ہےإِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٢؛حدیث نمبر ٤٥٢٦)

وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا : إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4526

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے دن فرمایا اے لوگو!تم اس دینی مسئلہ میں اپنی خطا تسلیم کرو کیونکہ میں نے ابوجندل کے دن اپنے آپ کو دیکھا اور اگر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو مسترد کرسکتا تو رد کردیتا(تمہاری رائے ایسی ہے کہ)اگر ہم ایک کونہ کھولتے ہیں تو دوسرا کونہ خود بخود کھل جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٣؛حدیث نمبر ٤٥٢٧)

وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ بِصِفِّينَ يَقُولُ : اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ ؛ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا فَتَحْنَا مِنْهُ فِي خُصْمٍ إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4527

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیت کریمہ"انا فتحنا لک فتحا مبینا"نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے لوٹ کر آرہے تھے اور صحابہ کرام کو بہت غم اور ملال تھا آپ نے حدیبیہ میں ایک اونٹ ذبح کیا اور فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے تمام دنیا سے زیادہ پسند ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٣؛حدیث نمبر ٤٥٢٨)

وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : { إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا } { لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ } إِلَى قَوْلِهِ : { فَوْزًا عَظِيمًا } مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُمْ يُخَالِطُهُمُ الْحُزْنُ وَالْكَآبَةُ وَقَدْ نَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ : " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4528

حضرت امام مسلم نے تین سندوں کے ساتھ یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحُدَيْبِيَة؛جلد٣ص١٤١٣؛حدیث نمبر ٤٥٢٩)

وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4529

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جنگ بدر میں میری عدم شمولیت کی صرف یہ وجہ تھی کہ میں اور میرے والد حسیل دونوں نکلے تو کفار قریش نے ہمیں پکڑ لیا انہوں نے کہا تم(حضرت)محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کے پاس جانا چاہتے ہو ہم نے کہا ہم ان کے پاس جانا نہیں چاہتے ہم تو مدینہ طیبہ جانا چاہتے ہیں انہوں نے ہم سے عہد لیا کہ ہم مدینہ طیبہ جائیں گے اور آپ کے ساتھ مل کر جنگ نہیں کریں گے۔ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ عرض کیا تو آپ نے فرمایا واپس لوٹ جاؤ ہم ان سے کیا ہوا وعدہ پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ؛ترجمہ؛عہد کو پورا کرنا؛جلد٣ص١٤١٤؛حدیث نمبر ٤٥٣٠)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ ، حَدَّثَنَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، قَالَ : مَا مَنَعَنِي أَنْ أَشْهَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّي خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي حُسَيْلٌ، قَالَ : فَأَخَذَنَا كُفَّارُ قُرَيْشٍ، قَالُوا : إِنَّكُمْ تُرِيدُونَ مُحَمَّدًا. فَقُلْنَا : مَا نُرِيدُهُ، مَا نُرِيدُ إِلَّا الْمَدِينَةَ. فَأَخَذُوا مِنَّا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَلَا نُقَاتِلُ مَعَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ : " انْصَرِفَا نَفِي لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4530

حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ایک آدمی نے کہا اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پا لیتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتا اور بہت کوشش کرتا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا تم ایسے کرتے؟ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ احزاب کی رات سخت ہوا اور سردی دیکھ چکے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جو اس قوم کی خبر میرے پاس لائے اللہ اسے قیامت کے دن میری رفاقت عطاء فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب نہ دیا پھر فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں جو قوم کی ہمارے پاس خبر لائے اللہ اسے قیامت کے دن میری رفاقت عطاء فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب نہ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں کوئی ایسا آدمی نہیں جو ان کافروں کی ہمارے پاس خبر لائے اللہ اسے قیامت کے دن میری رفاقت عطاء فرمائے گا ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب نہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حذیفہ کھڑے ہوجاؤ اور ہمارے پاس قوم کی خبر لے آؤ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر پکارا تو میرے لئے سوائے اٹھنے کے کوئی چارہ نہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور قوم کی میرے پاس خبر لے کر آؤ مگر انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پشت پھیر کر چلنے لگا تو مجھے یوں محسوس ہونے لگا گویا کہ میں حمام میں چل رہا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا میں نے ابوسفیان کو اپنی پیٹھ آگ سے سینکتے دیکھا پس میں نے فورا کمان کے درمیان میں تیر رکھا اور اسے مارنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول یاد آگیا کہ انہیں میرے خلاف بھڑکانا نہیں اگر میں تیر مار دیتا تو صحیح نشانہ پر ہی لگتا میں واپس لوٹا اور میں حمام ہی کی طرح چل رہا تھا جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قوم کی خبر دے کر فارغ ہوا تو مجھے سردی محسوس ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی بقیہ چادر اوڑھا دی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوڑھ کر نماز ادا کرتے تھے اور میں صبح تک نیند کرتا رہا۔ پس جب صبح ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بہت سونے والے اٹھ جاؤ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ؛ترجمہ؛غزوہ احزاب کا بیان؛جلد٣ص١٤١٤؛حدیث نمبر ٤٥٣١)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ، فَقَالَ رَجُلٌ : لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُ مَعَهُ وَأَبْلَيْتُ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَلِكَ ؟ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ وَقُرٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ ". فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ ". فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ ". فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ، فَقَالَ : " قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ". فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ، قَالَ : " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ، وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ ". فَلَمَّا وَلَّيْتُ مِنْ عِنْدِهِ جَعَلْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ، حَتَّى أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ يَصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ، فَوَضَعْتُ سَهْمًا فِي كَبِدِ الْقَوْسِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَلَا تَذْعَرْهُمْ عَلَيَّ ". وَلَوْ رَمَيْتُهُ لَأَصَبْتُهُ، فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَمْشِي فِي مِثْلِ الْحَمَّامِ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ، وَفَرَغْتُ قُرِرْتُ، فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَضْلِ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قَالَ : " قُمْ يَا نَوْمَانُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4531

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن تنہا رہ گئے اور آپ کے ساتھ صرف سات انصاری اور دو قریشی تھے جب کفار نے آپ کو گھیر لیا تو آپ نے فرمایا ان کو ہم سے کون دور کرے گا اور اس کے لیے جنت ہوگی یا(فرمایا)وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا۔ انصار میں سے ایک شخص آگے بڑھا کہ وہ شہید ہوگیا انہوں نے پھر گھیر لیا تو آپ نے فرمایا کون شخص ان لوگوں کو مجھ سے دور کرے گا اس کے لیے جنت ہوگی یا(فرمایا)وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ انصار میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور شہید ہوگیا۔مسلسل اسی طرح ہوتا رہا حتیٰ کہ سات افراد شہید ہوگئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان(قریشی)ساتھیوں سے فرمایا ہم نے اپنے ساتھیوں(انصار)کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛ترجمہ؛غزوہ احد کا بیان؛جلد٣ص١٤١٥؛حدیث نمبر ٤٥٣٢)

وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُفْرِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ : " مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ " أَوْ : " هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ ؟ " فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ رَهِقُوهُ أَيْضًا، فَقَالَ : " مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ " أَوْ : " هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ ؟ " فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ : " مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4532

حضرت حازم فرماتے ہیں کہ انہوں نے سہل بن سعد سے سنا ان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کے بارے میں پوچھا گیا جو احد کے دن پہنچے تھے انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور زخمی ہوگیا اور آپ کے سامنے کا دانت مبارک ٹوٹ گیا اور سر انور پر خود ٹوٹ گیا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خون دھو رہی تھیں اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی لاکر ڈال رہے تھے۔ جب حضرت خاتون جنت نے دیکھا کہ پانی سے تو خون میں اضافہ ہو رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا حتیٰ کہ وہ راکھ بن گیا تو اسے زخموں پر لگایا جس سے خون انا بند ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٦؛حدیث نمبر ٤٥٣٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ : جُرِحَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ، فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ، وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَسْكُبُ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ، فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا كَثْرَةً، أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا، ثُمَّ أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ، فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4533

حضرت ابو حازم کہتے ہیں انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا سنو!خدا کی قسم!میں اس شخصیت کو جانتا ہوں جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کو دھویا اور اسے بھی جو پانی ڈال رہا تھا نیز کس دوا کے ساتھ آپ کے زخم کا علاج کیا گیا۔ پھر گزشہ حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ کا چہرہ انور زخمی ہوگیا اور ھُشمت کی جگہ کُسرت کا لفظ ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٦؛حدیث نمبر ٤٥٣٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : أَمَ وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَعْرِفُ مَنْ كَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ كَانَ يَسْكُبُ الْمَاءَ، وَبِمَاذَا دُووِيَ جُرْحُهُ. ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ : وَجُرِحَ وَجْهُهُ. وَقَالَ مَكَانَ هُشِمَتْ : كُسِرَتْ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4534

امام مسلم نے تین سندوں کے ساتھ یہ حدیث حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ابن ابی ہلال کی سند میں"اصیب وجھہ"ہے جب کہ ابن مطرف کی سند میں"جرح وجھہ"کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٦؛حدیث نمبر ٤٥٣٥)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ مُطَرِّفٍ - كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ : أُصِيبَ وَجْهُهُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُطَرِّفٍ : جُرِحَ وَجْهُهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4535

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کا دانت مبارک ٹوٹ گیا اور آپ کے سر انور میں زخم بھی آیا آپ اس سے خون پونچھ رہے تھے اور فرماتے تھے وہ قوم کیسے کامیابی حاصل کرے گی جس نے اپنے نبی کو زخمی کردیا اور سامنے کا دانت توڑ دیا حالانکہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ} [آل عمران: ١٢٨](اس معاملے میں آپ کے اختیار میں کچھ نہیں) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٦؛حدیث نمبر ٤٥٣٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ، وَشُجَّ فِي رَأْسِهِ، فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ، وَيَقُولُ : كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ، وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ }.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4536

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ انبیاء کرام میں سے کسی نبی کا ذکر کر رہے تھے کہ ان کی قوم نے ان کو زدوکوب کیا اور وہ اپنے چہرے سے خون پوچھتے ہوے کہہ رہے تھے یا اللہ!میری قوم کو بخش دے یہ لوگ جانتے نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٧؛حدیث نمبر ٤٥٣٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَيَقُولُ : " رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4537

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ پیشانی سے خون پونچھتے جاتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ أُحُدٍ؛جلد٣ص١٤١٧؛حدیث نمبر ٤٥٣٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَهُوَ يَنْضِحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4538

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر سخت ہوگا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کرے اس وقت آپ اپنے دانتیں مبارک کی طرف اشارہ فرما رہے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص پر اللہ تعالیٰ کا غضب زیادہ ہوتا ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کریں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ اشْتِدَادِ غَضَبِ اللهِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛جس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کریں اس پر غضب الٰہی کا نزول؛جلد٣ص١٤١٧؛حدیث نمبر ٤٥٣٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا هَذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4539

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ شریف کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے اور گزشتہ روز ایک اونٹنی ذبح ہوئی تھی۔ابوجہل نے کہا تم میں سے کون ہے جو فلاں قبیلہ کی اونٹنی کی اوجھڑی لے کر آئے اور(حضرت)محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جائیں تو ان کے کندھوں پر رکھ دے قوم کا سب سے بدبخت شخص اٹھا اور وہ اوجھڑی اٹھاکر لے آیا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے وہ اوجھڑی آپ کے کاندھوں پر رکھ دی راوی فرماتے ہیں وہ لوگ ہنستے ہوئے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں کھڑا دیکھ رہا تھا اگر مجھے طاقت ہوتی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک سے وہ اوجھڑی گرادیتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ریز رہے حتیٰ کہ کسی شخص نے جاکر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی اور ابھی آپ چھوٹی عمر کی تھیں انہوں نے آپ کی پشت سے اوجھڑی گرا دیا پھر ان لوگوں کے پاس آکر ان کو برا بھلا کہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے بلند آواز سے ان کے خلاف دعا کی اور آپ جب دعا کرتے تو تین بار دعا کرتے تھے اور جب آپ(اللہ تعالیٰ سے)سوال کرتے تو تین بار سوال کرتے اور اس کے بعد آپ نے یوں دعا کی یا اللہ! یااللہ!قریش کی گرفت فرما"جب انہوں نے آپ کی آواز سنی تو ان کی ہنسی چھوٹ گئی اور وہ آپ کی دعا سے خوف زدہ ہوگئے۔ اس کے بعد آپ نے یوں دعا کی۔ اے اللہ!ابوجہل بن ہشام کی گرفت فرما،عقبہ بن ربیعہ،ولید بن عقبہ،امیہ بن خلف،اور عقبہ بن ابی معیط کی گرفت فرما۔ راوی کہتے ہیں حضور علیہ الصَّلَاة والسلام نے ساتویں آدمی کا نام بھی لیا لیکن مجھے یاد نہیں رہا اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں نے غزوہ بدر کے دن دیکھا کہ آپ نے جن لوگوں کی گرفت کی دعا کی تھی وہ سب اس دن قتل ہوئے پھر بدر کے کنویں میں اوندھے پڑے ہوے تھے۔ ابو إسحاق نے کہا کہ ولید بن عقبہ کے نام میں راوی سے غلطی ہوئی(صحیح)ولید بن عتبہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤١٨؛حدیث نمبر ٤٥٤٠)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، وَقَدْ نُحِرَتْ جَزُورٌ بِالْأَمْسِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى سَلَى جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ، فَيَأْخُذُهُ، فَيَضَعُهُ فِي كَتِفَيْ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ ؟ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ، فَأَخَذَهُ، فَلَمَّا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، قَالَ : فَاسْتَضْحَكُوا، وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَمِيلُ عَلَى بَعْضٍ وَأَنَا قَائِمٌ أَنْظُرُ لَوْ كَانَتْ لِي مَنَعَةٌ طَرَحْتُهُ عَنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى انْطَلَقَ إِنْسَانٌ، فَأَخْبَرَ فَاطِمَةَ، فَجَاءَتْ وَهِيَ جُوَيْرِيَةٌ، فَطَرَحَتْهُ عَنْهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَشْتِمُهُمْ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ رَفَعَ صَوْتَهُ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِمْ وَكَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلَاثًا، وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا سَمِعُوا صَوْتَهُ ذَهَبَ عَنْهُمُ الضِّحْكُ، وَخَافُوا دَعْوَتَهُ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ". وَذَكَرَ السَّابِعَ وَلَمْ أَحْفَظْهُ، فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ سَمَّى صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ، ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ. { 7 قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ غَلَطٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. }

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4540

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت سجدہ میں تھے اور آپ کے گرد قریش کے کچھ لوگ تھے کہ اس دوران عقبہ بن ابی معید اونٹنی کی اوجھڑی لے کر آیا اور اسے آپ کے پشت مبارک پر ڈال دیا آپ نے اپنا سر مبارک نہ اٹھایا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور اس اوجھڑی کو آپ کے پشت مبارک سے اتارا اور جن لوگوں نے یہ حرکت کی ان کے خلاف دعا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی۔ اے اللہ!قریش کی جماعت پر گرفت فرما،ابوجہل بن ہشام،عتبہ بن ربیعہ،عقبہ بن ابی معیط،شیبہ بن ربیعہ،امیہ بن خلف فرمایا یا ابی بن خلف فرمایا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کے بدر کے دن یہ سب لوگ قتل ہوے اور ان کو کنویں میں ڈالا گیا۔ البتہ امیہ یا ابی کو کنویں میں نہیں ڈالا گیا کیونکہ اس کے جوڑ کٹ چکے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤١٩؛حدیث نمبر ٤٥٤١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ، فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ، فَأَخَذَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ ؛ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ". أَوْ : " أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ ". شُعْبَةُ الشَّاكُّ قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ، غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ، أَوْ أُبَيًّا تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ، فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4541

امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند سے بھی روایت کیا اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ تین مرتبہ دعا کرنا پسند فرماتے تھے اور آپ نے یوں دعا کی اے اللہ!قریش کی گرفت فرما(تین بار فرمایا)اور ان میں ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف کا بھی ذکر کیا اور اس میں راوی کا شک ذکر نہیں کیا گیا ابواسحاق کہتے ہیں میں ساتویں آدمی کا نام بھول گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤١٩؛حدیث نمبر ٤٥٤٢)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَزَادَ : وَكَانَ يَسْتَحِبُّ ثَلَاثًا يَقُولُ : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ". ثَلَاثًا، وَذَكَرَ فِيهِمُ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، وَلَمْ يَشُكَّ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : وَنَسِيتُ السَّابِعَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4542

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کی طرف منہ کرکے قریش کے چھ آدمیوں کے خلاف دعا کی ان میں ابوجہل،امیہ بن خلف،عتبہ بن ربیعہ،شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط بھی شامل ہیں۔ پس میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کو میدان بدر میں گرا ہوا پایا اور ان کے رنگ بدل چکے تھے کیونکہ وہ سخت گرم دن تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٠؛حدیث نمبر ٤٥٤٣)

وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ ؛ فَدَعَا عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ؛ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ قَدْ غَيَّرَتْهُمُ الشَّمْسُ، وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4543

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا آپ پر احد کے دن سے زیادہ سخت دن بھی آیا ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے تمہاری قوم کی طرف سے تکلیف پہنچی اور سب سے زیادہ تکلیف عقبہ کے دن پہنچی جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبد کلال پر پیش کیا(اسلام لانے کی دعوت دی)تو اس نے وہ بات قبول نہ کی جو میں چاہتا تھا میں حالت غم میں اپنے منہ واپس چلا آیا اور مجھے قرن ثعالب(مقام)پر پہنچ کر افاقہ ہوا میں نے سر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ بادل مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے میں نے دیکھا تو اس میں جبریل تھے انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کا وہ قول بھی سن لیا جو آپ نے اپنی قوم سے فرمایا اور ان کا جواب بھی سن لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تاکہ آپ اسے ان لوگوں کے بارے میں جو چاہے حکم دیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرماتے ہیں پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے آواز دی اور سلام کے بعد کہا اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کا قول سن لیا ہے اور میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے کوئی حکم دیں تو آپ کیا چاہتے ہیں کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اخشبین پہاڑوں کو ان پر بچھا دوں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(نہیں بلکہ)مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ان لوگوں کو نکالے گا جو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٠؛حدیث نمبر ٤٥٤٤)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ ؟ فَقَالَ : " لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ ؛ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ، فَنَادَانِي، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَمَا رُدُّوا عَلَيْكَ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ ". قَالَ : " فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ، وَسَلَّمَ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ، وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ فَمَا شِئْتَ ؟ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْنِ ". فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4544

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی مبارک زخمی ہوگئی تو آپ نے فرمایا «هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ، وَفِي سَبِيلِ اللهِ مَا لَقِيتِ»،تو ایک انگلی ہے جو خون آلود ہوگئی اور تو نے جو تکلیف اٹھائی ہے وہ اللہ کی راہ میں اٹھائی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢١؛حدیث نمبر ٤٥٤٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ : يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ ، قَالَ : دَمِيَتْ إِصْبَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَشَاهِدِ. فَقَالَ : " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ "

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4545

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں یوں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر میں تھے اور وہاں آپ کی انگلی زخمی ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢١؛حدیث نمبر ٤٥٤٦)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، فَنُكِبَتْ إِصْبَعُهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4546

حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام کے آنے میں تاخیر ہوگئی تو مشرکین نے کہا(حضرت)محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کو چھوڑ دیا گیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ والضحى نازل کی فرمایا قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جب وہ چھا جائے آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢١؛حدیث نمبر ٤٥٤٧)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا يَقُولُ : أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { وَالضُّحَى } { وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى } { مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى }.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4547

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم علیل ہوگئے اور دو یا تین راتیں اٹھ نہ سکے تو ایک عورت نے آکر کہا اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)مجھے امید ہے کہ آپ کے شیطان نے آپ کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ دو یا تین راتوں سے آپ کے پاس نہیں آیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جب چھا جائے آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٢؛حدیث نمبر ٤٥٤٨)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ يَقُولُ : اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ : يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ ؛ لَمْ أَرَهُ قَرِبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثٍ. قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { وَالضُّحَى } { وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى } { مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى }.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4548

امام مسلم نے یہ حدیث مزید دو سندوں کے ساتھ حدیث نمبر ٤٥٤٩ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ وَالْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٢؛حدیث نمبر ٤٥٤٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4549

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دراز گوش پر سوار ہوے اس کے اوپر پالان تھا جس کے نیچے فدک(کے علاقہ)کی ایک چادر تھی آپ نے اپنے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو سوار کیا آپ بنو حارث بن خزرج قبیلے میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے جارہے تھے اور یہ واقعہ،غزوہ بدر سے پہلے کا ہے حتیٰ کہ جب آپ ایک مجلس سے گزرے جس میں مسلمان مشرکین بت پرست اور یہودی ملے جلے تھے۔ ان میں عبد اللہ بن ابی بھی تھا اور اسی مجلس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے جب سواری اس مجلس کے گرد پہنچی تو عبد اللہ بن ابی نے اپنی ناک کو چادر سے ڈھاپ لیا اور کہنے لگا ہمیں گردو غبار نہ پہنچاؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سلام کیا پھر نیچے اترے اور وہاں ٹھہر کر ان کو اسلام کی دعوت دی اور ان پر قرآن مجید کی تلاوت کی۔ عبداللہ بن ابی نے کہا اے شخص!اس سے اچھی کوئی اور بات نہیں ہے اگر یہ بات حق ہے جو تم کہ رہے ہو تم بھی ہمیں مجلس میں آکر تکلیف نہ دیا کرو اور اپنے گھر لوٹ جاؤ پس جو شخص تمہارے پاس آے اسے وعظ کیا کرو۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ ہماری مجلس میں تشریف لے آئیں ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں پھر مسلمان،مشرکین اور یہودی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ان کو ٹھنڈا کرتے تھے پھر اپنی سواری پر سورا ہوے اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اے سعد!کیا آپ نے سنا ابو حباب یعنی عبد اللہ بن ابی نے کیا کہا،اس نے یہ بات کہی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اسے معاف کیجئے اور در گزر کریں اللہ کی قسم،اللہ نے آپ کو جو مرتبہ دیا ہے وہ دیا ہے۔ اس شہر والوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کے سر پر تاج رکھیں گے(سرداری کا)عمامہ باندھیں گے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کرکے اور یہ مرتبہ عطاء کرکے اسے رد کردیا تو وہ اس وجہ سے جل بھن گیا تو اس نے جو کچھ کیا اس کی وجہ ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اللهِ، وَصَبْرِهِ عَلَى أَذَى الْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٣؛حدیث نمبر ٤٥٥٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ - قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ . أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِكَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ، وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَذَاكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ، فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ : لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا. فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَقَفَ، فَنَزَلَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ : أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا، إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا، وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ، فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا ؛ فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ. قَالَ : فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ، وَالْمُشْرِكُونَ، وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ ، ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ : " أَيْ سَعْدُ، أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ ؟ - يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ - قَالَ : كَذَا وَكَذَا ". قَالَ : اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاكَ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ شَرِقَ بِذَلِكَ ، فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ، فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4550

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس وقت تک عبد اللہ بن ابی نے(بظاہر)اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اللهِ، وَصَبْرِهِ عَلَى أَذَى الْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٣؛حدیث نمبر ٤٥٥١)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ - يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ : وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4551

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کاش آپ عبداللہ بن ابی کے پاس جائیں فرماتے ہیں پس آپ دراز گوش پر سوار ہوکر تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ مسلمان بھی گئے اور وہ زمین شور والی(زمین)تھی جس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے کہا مجھ سے دور ہٹو،اللہ کی قسم!تمہارے دراز گوش کی بو سے مجھے اذیت پہنچ رہی ہے انصار میں سے ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دراز گوش کی بو تم سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر عبد اللہ کی قوم کے ایک شخص کو غصہ آگیا پھر دونوں طرف کے لوگوں کو غصہ آیا اور وہ ایک دوسرے کو کھجور کی چھڑیوں،ہاتھوں اور جوتوں سے مارنے لگے۔ راوی کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی(ترجمہ)اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرایا کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابٌ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اللهِ، وَصَبْرِهِ عَلَى أَذَى الْمُنَافِقِينَ؛جلد٣ص١٤٢٤؛حدیث نمبر ٤٥٥٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ. قَالَ : فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ، وَرَكِبَ حِمَارًا، وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ، فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِلَيْكَ عَنِّي فَوَاللَّهِ، لَقَدْ آذَانِي نَتْنُ حِمَارِكَ. قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ. قَالَ : فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ : فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ، قَالَ : فَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ، وَبِالْأَيْدِي، وَبِالنِّعَالِ، قَالَ : فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ : { وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا }.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4552

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو جہل کی خبر کون لاے گا؟تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ چلے گئے انہوں نے اسے یوں پایا کہ عفراء کے دو بیٹوں نے اسے قتل کردیا تھا حتیٰ کہ جب اس کا جسم ٹھنڈا ہونے کے قریب تھا تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی داڑھی کو پکڑا اور فرمایا تو ابوجہل ہے؟ اس نے کہا کیا تم نے اتنے بڑے کسی اور شخص کو بھی قتل کیا ہے یا اس نے کہا اس کی قوم نے اتنے بڑے شخص کو قتل کیا ہے۔؟ ابومجلز کہتے ہیں ابوجہل نے یہ بھی کہا تھا کہ کاش مجھے کسان کے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ؛ترجمہ؛ابو جہل کا قتل؛جلد٣ص١٤٢٥؛حدیث نمبر ٤٥٥٣)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَنْظُرُ لَنَا مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ ". فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ : فَقَالَ آنْتَ أَبُو جَهْلٍ ؟ فَقَالَ : وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ ؟ أَوْ قَالَ : قَتَلَهُ قَوْمُهُ ؟ قَالَ : وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِي.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4553

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کون بتائے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٥٥٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛ بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ؛جلد٣ص١٤٢٥؛حدیث نمبر ٤٥٥٤)

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَعْلَمُ لِي مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ ". بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَقَوْلِ أَبِي مِجْلَزٍ كَمَا ذَكَرَهُ إِسْمَاعِيلُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4554

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی ہے محمد بن مسلمہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں کہ میں اسے قتل کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں انہوں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں کہ میں اس سے کچھ بات تعریضا کہو(ایسی بات جسکا ظاہر کچھ اور بتائے اور مقصود کچھ اور ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہہ لے وہ اس(کعب بن اشرف) کے پاس آئے اور اس سے کہا اور اپنے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک فرضی بیان کیا اور کہا یہ آدمی ہم سے صدقہ وصول کرتا ہے اور ہمیں مشقت میں ڈال رکھا ہے جب کعب نے سنا تو اس نے کہا اللہ کی قسم ابھی اور لوگ بھی اس سے تنگ ہوں گے ابن مسلمہ نے کہا اب تو ہم ان کی اتباع کرچکے ہیں اور ہم اسے اس کے معاملہ کا انجام دیکھے بغیر چھوڑنا پسند نہیں کرتے مزید کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ تو مجھے کچھ دے دے کعب نے کہا تم میرے پاس رہن کیا چیز رکھو گے ابن مسلمہ نے کہا جو تم چاہو گے کعب نے کہا تم اپنی عورتیں میرے پاس رہن رکھ دو ابن مسلمہ نے کہا تو تو عرب کا خوبصورت آدمی ہے کیا ہم تیرے پاس اپنی عورتیں رہن رکھیں کعب نے کہا اچھا تم اپنی اولاد گروی رکھ دو ابن مسلمہ نے کہا ہمارے بیٹوں کو گالی دی جائے گی تو کہا جائے گا وہ دو وسق کھجور کے بدلے گروی رکھا گیا ہے البتہ ہم اسلحہ تیرے پاس گروی رکھ سکتے ہیں اس نے کہا ٹھیک ہے ابن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ اس کے پاس حارث ابی عبس بن جبر اور عباد بن بشر کو لے آئے گا پس یہ لوگ اس کے پاس گئے اور رات کے وقت اسے بلایا وہ ان کی طرف آنے لگا تو اسے اس کی بیوی نے کہا میں آواز سنتی ہوں گویا کہ وہ خون کی آواز ہے کعب نے کہا یہ محمد بن مسلمہ اور اس کا رضاعی بھائی اور ابونائلہ ہے اور معزز آدمی کو اگر رات کے وقت بھی نیزہ بازی کی طرف بلایا جائے تو اسے بھی قبول کرلیتا ہے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ جب وہ آئے گا میں اس کے سر کی طرف اپنے ہاتھ کو بڑھاؤں گا جب میں اسے قبضہ میں لے لوں تو تم حملہ کردینا پس جب نیچے اترا تو اس نے چادر اوڑھی ہوئی تھی ان حضرات نے کہا ہم آپ سے خوشبو کی مہک محسوس کر رہے ہیں اس نے کہا ہاں میری بیوی فلاں ہے جو عرب کی عورتوں میں سب سے زیادہ خوشبو کو پسند کرنے والی ہے ابن مسلمہ نے کہا کیا تو مجھے خوشبو سونگھنے کی اجازت دے گا اس نے کہا سونگھو پھر دوبارہ کہا کیا تو مجھے دوبارہ سونگھنے کی اجازت دے گا اس مرتبہ انہوں نے اس کے سر کو قابو میں لیا اور کہا حملہ کردو پس انہوں نے اسے قتل کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ قَتْلِ كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ طَاغُوتِ الْيَهُودِ؛ترجمہ؛یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف کا قتل؛جلد٣ص١٤٢٥؛حدیث نمبر ٤٥٥٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ الزُّهْرِيُّ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لِلزُّهْرِيِّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ ؛ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ؟ " فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ". قَالَ : ائْذَنْ لِي فَلْأَقُلْ. قَالَ : " قُلْ ". فَأَتَاهُ، فَقَالَ لَهُ، وَذَكَرَ مَا بَيْنَهُمَا، وَقَالَ : إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَرَادَ صَدَقَةً، وَقَدْ عَنَّانَا. فَلَمَّا سَمِعَهُ قَالَ : وَأَيْضًا وَاللَّهِ، لَتَمَلُّنَّهُ. قَالَ : إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ الْآنَ وَنَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ، حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ. قَالَ : وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ تُسْلِفَنِي سَلَفًا. قَالَ : فَمَا تَرْهَنُنِي ؟ قَالَ : مَا تُرِيدُ. قَالَ : تَرْهَنُنِي نِسَاءَكُمْ. قَالَ : أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ، أَنَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا. قَالَ لَهُ : تَرْهَنُونِي أَوْلَادَكُمْ. قَالَ : يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا، فَيُقَالُ : رُهِنَ فِي وَسْقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ، وَلَكِنْ نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ - يَعْنِي السِّلَاحَ. قَالَ : فَنَعَمْ. وَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِالْحَارِثِ، وَأَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ، وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ. قَالَ : فَجَاءُوا فَدَعَوْهُ لَيْلًا، فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ قَالَ : قَالَ غَيْرُ عَمْرٍو : قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : إِنِّي لَأَسْمَعُ صَوْتًا كَأَنَّهُ صَوْتُ دَمٍ . قَالَ : إِنَّمَا هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَضِيعُهُ، وَأَبُو نَائِلَةَ إِنَّ الْكَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَى طَعْنَةٍ لَيْلًا لَأَجَابَ. قَالَ مُحَمَّدٌ : إِنِّي إِذَا جَاءَ فَسَوْفَ أَمُدُّ يَدِي إِلَى رَأْسِهِ، فَإِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَدُونَكُمْ. قَالَ : فَلَمَّا نَزَلَ نَزَلَ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ، فَقَالُوا : نَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الطِّيبِ. قَالَ : نَعَمْ، تَحْتِي فُلَانَةُ هِيَ أَعْطَرُ نِسَاءِ الْعَرَبِ. قَالَ : فَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشُمَّ مِنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ، فَشُمَّ. فَتَنَاوَلَ فَشَمَّ، ثُمَّ قَالَ : أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَعُودَ ؟ قَالَ : فَاسْتَمْكَنَ مِنْ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ : دُونَكُمْ. قَالَ : فَقَتَلُوهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4555

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں سے جنگ کی پس ہم نے خیبر کے قریب پہنچ کر فجر کی نماز اندھیرے میں ادا کرلی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سوار ہوگئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے میں سوار ہوگیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری خیبر کی گلیوں کی طرف دوڑائی اور میرا گھٹنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے لگ جاتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چادر جدا ہوگئی تھی اور میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی دیکھی پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستی میں پہنچے تو فرمایا اَللَّهُ أَکْبَرُ خیبر ویران ہوگیا کیونکہ ہم جب کسی قوم کے میدانوں میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے اس جملہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اور اہل خیبر اس وقت اپنے اپنے کاموں کی طرف نکلے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور بعض راویوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے ساتھ آگئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے خیبر کو جنگ کے ذریعے فتح کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ؛جلد٣ص١٤٢٦؛حدیث نمبر ٤٥٥٦)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ، قَالَ : فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ، وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ". قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ : وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ، فَقَالُوا : مُحَمَّدٌ. قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا : وَالْخَمِيسَ . قَالَ : وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً .

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4556

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں خیبر کے دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا اور میرا قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم کو لگ رہا تھا پس ہم ان کے پاس اس وقت آئے جب سورج نکل چکا تھا اور انہوں نے اپنے جانوروں کو نکال لیا تھا اور خود درانیتاں اور ٹوکریاں اور درختوں پر چڑھنے کے لئے رسیاں لے کر باہر نکل رہے تھے انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بمع لشکر آگئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیبر برباد ہوگیا کیونکہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے پس اللہ رب العزت نے انہیں شکست سے دوچار کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ؛جلد٣ص١٤٢٧؛حدیث نمبر ٤٥٥٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ، وَخَرَجُوا بِفُئُوسِهِمْ، وَمَكَاتِلِهِمْ ، وَمُرُورِهِمْ ، فَقَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسَ . قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ". قَالَ : فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4557

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تشریف لائے تو آپ نے فرمایا"جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو عذاب سے ڈراے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ؛جلد٣ص١٤٢٧؛حدیث نمبر ٤٥٥٨)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ : " إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4558

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف نکلے اور رات کے وقت سفر کیا قوم میں سے ایک آدمی نے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہمیں اپنے اشعار میں سے کچھ شعر نہ سنائیں گے اور عامر رضی اللہ عنہ شاعر تھے عامر قوم کے ساتھ اترے اور یہ شعر کہے۔ اے اللہ!اگر تو ہماری مدد نہ کرتا تو ہمیں ہدایت نہ ملتی نہ ہم زکوٰۃ ادا کرتے اور نہ نماز پڑھتے پس تو ہمیں معاف کر دے یہی ہماری طلب ہے۔ اور ہم تجھ پر فدا ہوں اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر دے اگر ہم دشمنوں سے مقابلہ کریں اور ہم پر تسلی نازل فرما جب ہم کو آواز دی جاتی ہے تو ہم پہنچ جاتے ہیں اور آواز دینے کے ساتھ ہی لوگ ہم پر بھروسہ کرلیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حدی خوان کون ہے صحابہ نے عرض کیا عامر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس پر رحم فرمائے قوم میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس پر رحمت واجب ہوگئی کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی اس سے مستفید کرتے۔ ہم خبیر میں پہنچے اور ان کا محاصرہ کرلیا یہاں تک کہ ہمیں سخت بھوک لگی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ نے خبیر تمہارے لئے فتح کردیا ہے جب لوگوں نے شام کی اس دن جس دن خبیر ان کے لئے فتح کیا گیا تو لوگوں نے بہت زیادہ آگ جلائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آگ کیسی ہے اور کس چیز پر تم جلا رہے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا گوشت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کونسا گوشت صحابہ نے عرض کیا گھریلو گدھے کا گوشت۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے انڈیل دو اور ہانڈیوں کو توڑ ڈالو۔ ایک صحابی نے عرض کیا کیا ہم اسے انڈیل دیں اور ہانڈیوں کو دھولیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کرلو۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب لوگوں نے صف بندی کی تو عامر کی تلوار چھوٹی تھی انہوں نے یہودی کی پنڈلی پر وہ تلوار ماری لیکن تلوار کی دھار واپس آ کر عامر کے زانوں پر لگی پس وہ اس سے شہید ہوگئے۔ پس جب صحابہ واپس لوٹے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خاموش دیکھا تو فرمایا تجھے کیا ہے؟میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، لوگوں نے گمان کیا ہے کہ عامر کے تمام اعمال برباد ہوگئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس نے یہ بات کہی ہے؟ میں نے عرض کیا فلاں فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے یہ بات کہی جھوٹ کہا ہے اس کے لئے دوہرا اجر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ اس نے اس طرح جہاد کیا جس کی مثال عرب میں بہت کم ہے جو اس راستہ میں اسی طرح چلا ہو۔ قتیبہ نے دو حرفوں میں حدیث کے راوی محمد کی مخالفت کی ہے اور ابن عباد کی روایت میں ہے کہ"الق سکینیۃ علینا" (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ؛جلد٣ص١٤٢٨؛حدیث نمبر ٤٥٥٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - وَهُوَ : ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ - مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ - عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَتَسَيَّرْنَا لَيْلًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ : أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ . وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا، فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا اقْتَفَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَا السَّائِقُ ؟ " قَالُوا : عَامِرٌ. قَالَ : " يَرْحَمُهُ اللَّهُ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ. قَالَ : فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ، فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْكُمْ ". قَالَ : فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذِهِ النِّيرَانُ ؟ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ ؟ " فَقَالُوا : عَلَى لَحْمٍ. قَالَ : " أَيُّ لَحْمٍ ؟ " قَالُوا : لَحْمُ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْرِيقُوهَا، وَاكْسِرُوهَا ". فَقَالَ رَجُلٌ : أَوَيُهْرِيقُوهَا وَيَغْسِلُوهَا ؟ فَقَالَ : " أَوْ ذَاكَ ". قَالَ : فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ، فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ رُكْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ، قَالَ : فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي، قَالَ : فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتًا قَالَ : " مَا لَكَ ؟ " قُلْتُ لَهُ : فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ. قَالَ : " مَنْ قَالَهُ ؟ " قُلْتُ : فُلَانٌ، وَفُلَانٌ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ. فَقَالَ : " كَذَبَ مَنْ قَالَهُ ؛ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ - وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ - إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ، قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ ". وَخَالَفَ قُتَيْبَةُ مُحَمَّدًا فِي الْحَدِيثِ فِي حَرْفَيْنِ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّادٍ : وَأَلْقِ سَكِينَةً عَلَيْنَا

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4559

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب خیبر کا دن ہوا تو میرے بھائی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر بڑی شدید جنگ کی مگر اتفاق سے ان کی تلوار ان کی طرف پلٹ گئی اور وہ شہید ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ان کے بارے میں کچھ گفتگو کی اور اس شخص کی شہادت کے بارے میں شک کیا جو اپنی تلوار سے قتل ہوجائے۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے بارے میں کچھ رجز یہ کلام کہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا سوچ کرکہنا۔ فرماتے ہیں میں نے یہ اشعار کہے؛ اللہ کی قسم!اگر اللہ کی مدد نہ ہوتی تو ہمیں ہدایت حاصل نہ ہوتی اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی نماز پڑھتے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سچ کہا۔ (پھر کہا)اور ہم پر سکینہ(رحمت)نازل فرما اور کفار کے مقابلے میں ہمیں ثابت قدم رکھنا بےشک کفار نے ہم پر حملہ کیا ہے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں رجز پورا کرچکا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کس کے اشعار ہیں؟میں نے عرض کیا یہ میرے بھائی کا کلام ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگ اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے ہچکچا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے ہتھیا سے مرا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مجاہد ہے اور جہاد کرتے ہوئے شہید ہوا۔ ابن شہاب زہری فرماتے ہیں پھر میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو اس نے اپنے والد سے یہ روایت اسی طرح بیان کی البتہ یہ فرمایا کہ جب میں نے کہا لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے ہچکچا رہے ہیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں وہ مجاہد ہیں اور جہاد کرتے ہوئے شہید ہوے اور آپ نے اپنی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان کے لئے دو اجر ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ؛جلد٣ص١٤٢٩؛حدیث نمبر ٤٥٦٠)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ - وَنَسَبَهُ غَيْرُ ابْنِ وَهْبٍ فَقَالَ : ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ، فَقَتَلَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، وَشَكُّوا فِيهِ : رَجُلٌ مَاتَ فِي سِلَاحِهِ، وَشَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ، قَالَ سَلَمَةُ : فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي أَنْ أَرْجُزَ لَكَ. فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَعْلَمُ مَا تَقُولُ. قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقْتَ ". وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا قَالَ : فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ هَذَا ؟ " قُلْتُ : قَالَهُ أَخِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُهُ اللَّهُ ". قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ ؛ يَقُولُونَ : رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ اْلَأَكْوَعِ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ - حِينَ قُلْتُ: إِنَّ نَاسًا يَهَابُونَ الصَّلاةَ عَلَيْهِ - فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا، فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4560

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غزوہ خندق کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ ہمارے ساتھ مٹی لا رہے تھے اور گرد و غبار نے آپ کے شکم انور کی سفیدی کو چھپا رکھا تھا اور آپ یہ فرما رہے تھے۔ اللہ کی قسم!(اے اللہ)اگر تیری مدد نہ ہوتی تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے اور نہ صدقہ کرتے اور نہ ہی نماز پڑھتے۔ پس تو ہم پر سکون و اطمینان نازل فرما بےشک دشمن ہم پر حملہ آور ہوا ہے۔ اور کبھی یوں فرماتے ان کفار نے ہماری بات ماننے سے انکار کردیا ہے اور جب وہ فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں اور آپ لفظ"ابینا"(انکار کرتے ہیں)کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣٠؛حدیث نمبر ٤٥٦١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ، وَلَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا " قَالَ : وَرُبَّمَا قَالَ : " إِنَّ الْمَلَا قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا " وَيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4561

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت مروی ہے۔البتہ اس میں"إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا" کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣٠؛حدیث نمبر ٤٥٦٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ . فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا "

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4562

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کاندھوں پر مٹی لاد رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ اے اللہ!زندگی تو بس آخرت کی ہے پس تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣١؛حدیث نمبر ٤٥٦٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَافِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4563

Muslim Sharif Kitabul Jihade Was Siyare Hadees No# 4564

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ "

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4564

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے،اے اللہ!زندگی تو بس اخروی زندگی ہے۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں یا یوں فرمایا: اے اللہ!زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے پس تو مہاجرین اور انصار کو عزت و احترام عطاء فرما۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣١؛حدیث نمبر ٤٥٦٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ ". قَالَ شُعْبَةُ : أَوْ قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ "

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4565

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رجز کرتے تھے اور ان کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رجز فرماتے تھے اور وہ یوں کہتے تھے: اے اللہ!بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما۔ شیبان کی روایت میں"" فانصر"کی جگہ" فاغفر"ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣١؛حدیث نمبر ٤٥٦٦)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ شَيْبَانُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ : اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ بَدَلَ فَانْصُرْ : فَاغْفِرْ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4566

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام خندق کے دن یہ کلمات کہتے تھے۔ ہم نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ کے ہاتھ پر اسلام کے لئے تاحیات بیعت کی ہے۔ حماد کو شک ہے کہ روایت میں اسلام کی بجائے جہاد کا لفظ ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات کہتے تھے: اے اللہ!بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣٢؛حدیث نمبر ٤٥٦٧)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا أَوْ قَالَ : عَلَى الْجِهَادِ شَكَّ حَمَّادٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ "

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4567

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں پہلی آذان سے پہلے نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں مقام ذی قرد میں چر رہی تھیں فرماتے ہیں وہاں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام سے ملاقات ہوئی اس نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں پکڑی گئی ہیں میں نے پوچھا کس نے پکڑی ہیں اس نے کہا غطفان(قبیلے)نے، حضرت سلمہ فرماتے ہیں میں نے تین مرتبہ چینخ کر کہا یا صباحاہ!میری یہ آواز مدینہ طیبہ کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچی۔ پھر میں اپنی سیدھ پر چل پڑا حتیٰ کہ ان کو مقام ذی قرد میں پایا وہ ان کو وہاں پانی پلا رہے تھے میں نے ان کو تیر مارنا شروع کئے اور میں تیر اندازی کرتے ہوئے یہ کہ رہا تھا۔ "میں اکوع کا بیٹا ہوں،اور آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے میں رجز پڑھتا رہا حتیٰ کہ میں نے ان سے اونٹنیاں چھڑا لیں اور ان سے تیس چادریں بھی لے لیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!میں نے ان کو پانی سے روک رکھا ہے حالانکہ وہ پیاسے ہیں آپ اسی وقت ان کے پاس کسی کو بھیج دیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن اکوع!تم اپنی چیزیں لے کر مالک بنو اور ان کو جانے دو۔ فرماتے ہیں ہم واپس لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھایا حتیٰ کہ ہم مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ ذِي قَرَدٍ وَغَيْرِهَا؛جلد٣ص١٤٣٢؛حدیث نمبر ٤٥٦٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ يَقُولُ : خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالْأُولَى وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَى بِذِي قَرَدٍ، قَالَ : فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ : أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقُلْتُ : مَنْ أَخَذَهَا ؟ قَالَ : غَطَفَانُ. قَالَ : فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ : يَا صَبَاحَاهْ ، قَالَ : فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي، حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ بِذِي قَرَدٍ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْقُونَ مِنَ الْمَاءِ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي وَكُنْتُ رَامِيًا، وَأَقُولُ : أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَرْتَجِزُ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً. قَالَ : وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ فَابْعَثْ إِلَيْهِمُ السَّاعَةَ. فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ، مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ ". قَالَ : ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ، حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4568

حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتےہیں وہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر آئے اور ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے اور ہمارے پاس پچاس بکریاں تھیں وہ سیراب نہیں ہو رہی تھیں راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں کے کنارے بیٹھ گئےاور آپ نے دعا مانگی یا کنویں میں لعاب مبارک ڈالا راوی کہتے ہیں کہ پھر اس کنوئیں میں جوش آگیا پھر ہم نے اپنے جانوروں کو بھی سیراب کیا اور خود ہم بھی سیراب ہوگئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں درخت کی جڑ میں بیٹھ کر بیعت کے لئے بلایا راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے میں نے بیعت کی پھر اور لوگوں نے بیعت کی یہاں تک کہ جب آدھے لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوسلمہ بیعت کرو میں نے عرض کیا اللہ کے رسول میں تو سب سے پہلے بیعت کرچکا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر دوبارہ کرلو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میرے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ڈھال عطا فرمائی(اس کے بعد)پھر بیعت کا سلسلہ شروع ہوگیا جب سب لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سلمہ کیا تو نے بیعت نہیں کی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے پہلے تو میں نے بیعت کی اور لوگوں کے درمیان میں بھی میں نے بیعت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کرلو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تیسری مرتبہ بیعت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا!اے سلمہ رضی اللہ عنہ وہ ڈھال کہاں ہے جو میں نے تجھے دی تھی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے چچا عامر کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا وہ ڈھال میں نے ان کو دے دی حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا کہ تو بھی اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے سب سے پہلے دعا کی تھی اے اللہ مجھے وہ دوست عطا فرما جو مجھے میری جان سے زیادہ پیارا ہو پھر مشرکوں نے ہمیں صلح کا پیغام بھیجا یہاں تک کہ ہر ایک جانب کا آدمی دوسری جانب جانے لگا اور ہم نے صلح کرلی حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ کی خدمت میں تھا اور میں ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا تھا اور اسے چرایا کرتا اور ان کی خدمت کرتا اور کھانا بھی ان کے ساتھ ہی کھاتا کیونکہ میں اپنے گھر والوں اور اپنے مال و اسباب کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کر آیا تھا پھر جب ہماری اور مکہ والوں کی صلح ہوگئی اور ایک دوسرے سے میل جول ہونے لگا تو میں ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے نیچے سے کانٹے وغیرہ صاف کر کے اس کی جڑ میں لیٹ گیا اور اسی دوران مکہ کے مشرکوں میں سے چار آدمی آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے لگے مجھے ان مشرکوں پر بڑا غصہ آیا پھر میں دوسرے درخت کی طرف آگیا اور انہوں نے اپنا اسلحہ لٹکایا اور لیٹ گئے وہ لوگ اس حال میں تھے کہ اسی دوران وادی کے نشیب میں سے ایک پکارنے والے نے پکارا اے مہاجرین ابن زقیم شہید کر دئے گئے میں نے یہ سنتے ہی اپنی تلوار سیدھی کی اور پھر میں نے ان چاروں پر اس حال میں حملہ کیا کہ وہ سو رہے تھے اور ان کا اسلحہ میں نے پکڑ لیا اور ان کا ایک گٹھا بنا کر اپنے ہاتھ میں رکھا پھر میں نے کہا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کو عزت عطا فرمائی تم میں سے کوئی اپنا سر نہ اٹھائے ورنہ میں تمہارے اس حصہ میں ماروں گا کہ جس میں دونوں آنکھیں ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر میں ان کو کھینچتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور میرے چچا حضرت عامر رضی اللہ عنہ بھی قبیلہ عبلات کے آدمی کو جسے مکرز کہا جاتا ہے اس کے ساتھ مشرکوں کے ستر آدمیوں کو گھسیٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے حضرت عامر رضی اللہ عنہ جھول پوش گھوڑے پر سوار تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا ان کو چھوڑ دو کیونکہ جھگڑے کی ابتداء بھی انہی کی طرف سے ہوئی اور تکرار بھی انہی کی طرف سے،الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف فرما دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ "اور وہی ذات ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے مکہ مکرمہ کی وادی میں روکا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر غالب کردیا تھا" پھر ہم مدینہ منورہ کی طرف نکلے راستہ میں ہم ایک جگہ اترے جس جگہ ہمارے اور بنی لحیان کے قبیلے کے درمیان ایک پہاڑ تھا اور وہ(بنو لحیان) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی جو آدمی اس پہاڑ پر چڑھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لئے پہرہ دے حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں اس پہاڑ پر دو یا تین مرتبہ چڑھا پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ رباح کے ساتھ بھیج دیئے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام تھا میں بھی ان اونٹوں کے ساتھ حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا جب صبح ہوئی تو عبدالرحمن فزاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ لیا اور ان سب اونٹوں کو ہانک کرلے گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کردیا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے رباح یہ گھوڑا پکڑ اور اسے حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو پہنچا دے اور رسول اللہ کو خبر دے کہ مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ لیا ہے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں ایک ٹیلے پھر کھڑا ہوا اور میں نے اپنا رخ مدینہ منورہ کی طرف کر کے بہت بلند آواز سے پکارا یا صباحاہ پھر میں ان لٹیروں کے پیچھے ان کو تیر مارتا ہوا اور رجز پڑھتے ہوئے نکلا میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ میں ان میں سے ایک ایک آدمی سے ملتا اور اسے تیر مارتا یہاں تک کہ تیر ان کے کندھے سے نکل جاتا۔ اور میں کہتا کہ یہ وار پکڑ، میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں ان کو لگاتار تیر مارتا رہا اور ان کو زخمی کرتا رہا تو جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف لوٹتا تو میں درخت کے نیچے آ کر اس درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا پھر میں اس کو ایک تیر مارتا جس کی وجہ سے وہ زخمی ہوجاتا یہاں تک کہ وہ لوگ پہاڑ کے تنگ راستہ میں گھسے اور میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں سے میں نے ان کو پتھر مارنے شروع کر دئے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں لگاتار ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ کوئی اونٹ جو اللہ نے پیدا کیا ہو اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کا ہو ایسا نہیں ہوا کہ اسے میں نے اپنی پشت کے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو حضرت سلمہ کہتے ہیں پھر میں نے ان کے پیچھے تیر پھینکے یہاں تک کہ ان لوگوں نے ہلکا ہونے کی خاطر تیس چادریں اور تیس نیزوں سے زیادہ پھینک دیئے سوائے اس کے کہ وہ لوگ جو چیز بھی پھینکتے میں پتھروں سے نشان رکھ دیتا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پہچان لیں یہاں تک کہ وہ ایک تنگ گھاٹی پر آگئے اور فلاں بن بدر فزاری بھی ان کے پاس آگیا سب لوگ دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے اور میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر بیٹھ گیا فزاری کہنے لگا کہ یہ کون ہے جو ہمیں دیکھ رہا ہے لوگوں نے کہا اس آدمی نے ہمیں بڑا تنگ کر رکھا ہے اللہ کی قسم اندھیری رات سے ہمارے ساتھ ہے اور لگاتار ہمیں تیر مار رہا ہے یہاں تک کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا اس نے سب کچھ چھین لیا ہے فزاری کہنے لگا کہ تم میں سے چار آدمی اس کی طرف جائیں حضرت سلمہ کہتے ہیں ان میں سے چار آدمی میری طرف پہاڑ پر چڑھے تو جب وہ اتنی دور تک پہنچ گئے جہاں میری بات سن سکیں حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیا تم مجھے پہچانتے ہو انہوں نے کہا نہیں اور تم کون ہو میں نے جواب میں کہا میں سلمہ بن اکوع ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں تم میں سے جسے چاہوں مار دوں اور تم میں سے کوئی مجھے نہیں مار سکتا۔ ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ ہاں لگتا تو ایسے ہی ہے پھر وہ سب وہاں سے لوٹ پڑے اور میں ابھی تک اپنی جگہ سے چلا ہی نہیں تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو دیکھ لیا جو کہ درختوں میں گھس گئے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ ان میں سب سے آگے حضرت اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے پیچھے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے پیچھے حضرت مقداد بن اسود کندی تھے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے جا کر اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑی وہ لٹیرے بھاگ پڑے میں نے کہا اے اخرم ان سے ذرا بچ کے رہنا ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں مار ڈالیں جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نہ آجائیں۔اخرم کہنے لگے اے ابوسلمہ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو تم میرے اور میری شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ ڈالو۔حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان کو چھوڑ دیا اور پھر اخرم کا مقابلہ عبدالرحمن فزاری سے ہوا۔اخرم نے عبدالرحمن کے گھوڑے کو زخمی کردیا اور پھر عبدالرحمن نے اخرم کو برچھی مار کر شہید کردیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ کر بیٹھ گیا اسی دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار حضرت ابوقتادہ آگئے(جب انہوں نے یہ منظر دیکھا)تو حضرت ابوقتادہ نے عبدالرحمن فزاری کو بھی برچھی مار کر قتل کردیا( اور پھر فرمایا) قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں ان کے تعاقب میں لگا رہا اور میں اپنے پاؤں سے ایسے بھاگ رہا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صحابی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ان کا گرد و غبار یہاں تک کہ وہ لیٹرے سورج غروب ہونے سے پہلے ایک گھاٹی کی طرف آئے جس میں پانی تھا جس گھاٹی کو ذی قرد کہا جاتا تھا تاکہ وہ لوگ اسی گھاٹی سے پانی پئیں کیونکہ وہ پیاسے تھے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے دیکھا اور میں ان کے پیچھے دوڑتا ہوا چلا آ رہا تھا بالآخر میں نے ان کو پانی سے ہٹایا وہ اس سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکے۔حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اب وہ کسی اور گھاٹٰ کی طرف نکلے میں بھی ان کے پیچھے بھاگا اور ان میں سے ایک آدمی کو پا کر میں نے اس کے شانے کی ہڈی میں ایک تیر مارا،میں نے کہا پکڑ اس کو اور میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی بربادی کا دن ہے۔وہ کہنے لگا اس کی ماں اس پر روئے کیا یہ وہی اکوع تو نہیں جو صبح کو میرے ساتھ تھا میں نے کہا ہاں اے اپنی جان کے دشمن جو صبح کے وقت تیرے ساتھ تھا۔حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے دو گھوڑے ایک گھاٹی پر چھوڑ دیئے تو میں ان دونوں گھوڑوں کو ہنکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے آیا حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہاں عامر سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک چھاگل تھا جس میں دودھ تھا اور ایک مشکیزے میں پانی تھا۔پانی سے میں نے وضو کیا اور دودھ پی لیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پانی والی جگہ پر تھے جہاں سے میں نے لیٹروں کو بھگا دیا تھا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اور تمام چیزیں جو میں نے مشرکوں سے چھین لی تھیں اور سب نیزے اور چادریں لے لیں اور حضرت بلال نے ان اونٹوں میں جو میں نے لٹیروں سے چھینے تھے ایک اونٹ کو ذبح کیا اور اس کی کلیجی اور کوہان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھونا۔حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں لشکر میں سے سو آدمیوں کا انتخاب کروں اور پھر میں ان لٹیروں کا مقابلہ کروں اور جب تک میں ان کو قتل نہ کر ڈالوں اس وقت تک نہ چھوڑوں کہ وہ جا کر اپنی قوم کو خبر دیں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آگ کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سلمہ اب تو وہ غطفان کے علاقہ میں ہوں گے اسی دوران علاقہ غطفان سے ایک آدمی آیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں آدمی نے ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کیا تھا اور ابھی اس اونٹ کی کھال ہی اتار پائے تھے کہ انہوں نے کچھ غبار دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ لوگ آگئے وہ لوگ وہاں سے بھی بھاگ کھڑے ہوئے تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن ہمارے بہترین سواروں میں سے بہتر سوار حضرت قتادہ ہیں اور پیادوں میں سب سے بہتر حضرت سلمہ ہیں،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو حصے عطا فرمائے اور ایک سوار کا حصہ اور ایک پیادہ کا حصہ اور دونوں حصے اکٹھے مجھے ہی عطا فرمائے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غضباء اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور ہم سب مدینہ منورہ واپس آگئے دوران سفر انصار کا ایک آدمی جس سے دوڑنے میں کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا وہ کہنے لگا کیا کوئی مدینہ تک میرے ساتھ دوڑ لگانے والا ہے اور وہ بار بار یہی کہتا رہا۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب میں نے اس کا چیلنچ سنا تو میں نے کہا کیا تجھے کسی بزرگ کی بزرگی کا لحاظ نہیں اور کیا تو کسی بزرگ سے ڈرتا نہیں اس انصاری شخص نے کہا نہیں،سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان مجھے اجازت عطا فرمائیں تاکہ میں اس آدمی سے دوڑ لگاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہتا ہے تو ٹھیک ہے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس انصاری سے کہا کہ میں تیری طرف آتا ہوں اور میں نے اپنا پاؤں ٹیڑھا کیا پھر میں کود پڑا اور دوڑنے لگا فرماتے ہیں ایک یا دو چڑہائیاں چڑھنے کے بعد میں سانس لینے کے لئے رکا پھر اس کے پیچھے دوڑ پڑا پھر ایک دو چڑھائوں کے بعد میں نے سر بلند کیا حتیٰ کہ میں اس سے جا ملا اور اس کے دونوں شانوں کے درمیان ایک گھونسا مارا۔اور میں نے کہا اللہ کی قسم میں آگے بڑھ گیا اور پھر اس سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گیا حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ابھی ہم مدینہ منورہ میں صرف تین راتیں ہی ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکل پڑے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میرے چچا حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے رجزیہ اشعار پڑھنا شروع کردیے۔اللہ کی قسم اگر اللہ کی مدد نہ ہوتی تو ہمیں ہدایت نہ ملتی اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی ہم نماز پڑھتے۔ اور ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں اور تو ہمیں ثابت قدم رکھ جب ہم دشمن سے ملیں اور اے اللہ ہم پر سکینت نازل فرما۔ جب یہ اشعار سنے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون ہے انہوں نے عرض کیا میں عامر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رب تیری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی انسان کے لئے خاص طور پر مغفرت کی دعا فرماتے تو وہ ضرور شہادت کا درجہ حاصل کرتا۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب اپنے اونٹ پر تھے کہ بلند آواز سے پکارا اے اللہ کے نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عامر سے کیوں نہ فائدہ حاصل کرنے دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہم خیبر آئے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا اور کہتا ہے۔ خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح،بہادر تجربہ کار ہوں جس وقت جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ یہ میرے چچا عامر اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور انہوں نے بھی یہ رجزیہ اشعار پڑھے خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں اسلحہ سے مسلح اور بےخوف جنگ میں گھسنے والا ہوں۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ عامر اور مرحب دونوں کی ضربیں مختلف طور پر پڑنے لگیں مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر لگی اور عامر رضی اللہ عنہ نے نیچے سے مرحب کو تلوار ماری تو حضرت عامر کی اپنی تلوار خود اپنے ہی لگ گئی جس سے ان کہ شہ رگ کٹ گئی اور اسی نتیجہ میں وہ شہید ہوگئے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نکلا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام کو دیکھا وہ کہنے لگے حضرت عامر کا عمل ضائع ہوگیا انہوں نے اپنے آپ کو خود مار ڈالا ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روتا ہوا آیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عامر کا عمل ضائع ہوگیا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کس نے کہا ہے۔میں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے بھی کہا ہے جھوٹ کہا ہے بلکہ عامر کے لئے دگنا اجر ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ان کی آنکھ دکھ رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے علی کو پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آیا کیونکہ علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو ان کی آنکھیں اسی وقت ٹھیک ہوگئیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا اور مرحب یہ کہتا ہوا نکلا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر تجربہ کار ہوں جب جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔تو پھر حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے بھی جواب میں کہا کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے جو جنگلوں کے شیروں کی طرح رعب و دبدبہ والا ہے میں لوگوں کو ایک صاع کے بدلہ اس سے بڑا پیمانہ دیتا ہوں۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے مرحب کے سر پر ایک ضرب لگائی تو وہ قتل ہوگیا پھر خیبر حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر فتح ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٣٣تا١٤٤١؛حدیث نمبر ٤٥٦٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، كِلَاهُمَا عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ - وَهَذَا حَدِيثُهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ - وَهُوَ : ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : قَدِمْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لَا تُرْوِيهَا، قَالَ : فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَبَا الرَّكِيَّةِ، فَإِمَّا دَعَا، وَإِمَّا بَصَقَ فِيهَا، قَالَ : فَجَاشَتْ، فَسَقَيْنَا، وَاسْتَقَيْنَا، قَالَ : ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانَا لِلْبَيْعَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ، قَالَ : فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ، ثُمَّ بَايَعَ، وَبَايَعَ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَسَطٍ مِنَ النَّاسِ قَالَ : " بَايِعْ يَا سَلَمَةُ ". قَالَ : قُلْتُ : قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ. قَالَ : " وَأَيْضًا ". قَالَ : وَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَزِلًا - يَعْنِي لَيْسَ مَعَهُ سِلَاحٌ - قَالَ : فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَفَةً، أَوْ دَرَقَةً، ثُمَّ بَايَعَ، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ النَّاسِ، قَالَ : " أَلَا تُبَايِعُنِي يَا سَلَمَةُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ، وَفِي أَوْسَطِ النَّاسِ. قَالَ : " وَأَيْضًا ". قَالَ : فَبَايَعْتُهُ الثَّالِثَةَ، ثُمَّ قَالَ لِي : " يَا سَلَمَةُ، أَيْنَ حَجَفَتُكَ ؟ أَوْ دَرَقَتُكَ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقِيَنِي عَمِّي عَامِرٌ عَزِلًا، فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ : " إِنَّكَ كَالَّذِي قَالَ الْأَوَّلُ : اللَّهُمَّ أَبْغِنِي حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي ". ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ، حَتَّى مَشَى بَعْضُنَا فِي بَعْضٍ وَاصْطَلَحْنَا، قَالَ : وَكُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَسْقِي فَرَسَهُ، وَأَحُسُّهُ، وَأَخْدِمُهُ، وَآكُلُ مِنْ طَعَامِهِ، وَتَرَكْتُ أَهْلِي وَمَالِي مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَكَّةَ، وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَكَسَحْتُ شَوْكَهَا، فَاضْطَجَعْتُ فِي أَصْلِهَا، قَالَ : فَأَتَانِي أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَجَعَلُوا يَقَعُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبْغَضْتُهُمْ، فَتَحَوَّلْتُ إِلَى شَجَرَةٍ أُخْرَى، وَعَلَّقُوا سِلَاحَهُمْ، وَاضْطَجَعُوا، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِي : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ. قَالَ : فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي، ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَى أُولَئِكَ الْأَرْبَعَةِ وَهُمْ رُقُودٌ، فَأَخَذْتُ سِلَاحَهُمْ فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا فِي يَدِي، قَالَ : ثُمَّ قُلْتُ : وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ، لَا يَرْفَعُ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَأْسَهُ إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِي فِيهِ عَيْنَاهُ، قَالَ : ثُمَّ جِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : وَجَاءَ عَمِّي عَامِرٌ بِرَجُلٍ مِنَ الْعَبَلَاتِ يُقَالُ لَهُ : مِكْرَزٌ يَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ مُجَفَّفٍ فِي سَبْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " دَعُوهُمْ يَكُنْ لَهُمْ بَدْءُ الْفُجُورِ وَثِنَاهُ ". فَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ : { وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ }. الْآيَةَ كُلَّهَا، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي لَحْيَانَ جَبَلٌ وَهُمُ الْمُشْرِكُونَ، فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ رَقِيَ هَذَا الْجَبَلَ اللَّيْلَةَ، كَأَنَّهُ طَلِيعَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، قَالَ : سَلَمَةُ : فَرَقِيتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ مَعَ الظَّهْرِ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ، وَقَتَلَ رَاعِيَهُ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَبَاحُ، خُذْ هَذَا الْفَرَسَ، فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِهِ. قَالَ : ثُمَّ قُمْتُ عَلَى أَكَمَةٍ ، فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَادَيْتُ ثَلَاثًا : يَا صَبَاحَاهْ . ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ، وَأَرْتَجِزُ أَقُولُ : أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ رَجُلًا مِنْهُمْ، فَأَصُكُّ سَهْمًا فِي رَحْلِهِ، حَتَّى خَلَصَ نَصْلُ السَّهْمِ إِلَى كَتِفِهِ، قَالَ : قُلْتُ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ : فَوَاللَّهِ، مَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ، وَأَعْقِرُ بِهِمْ ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ أَتَيْتُ شَجَرَةً، فَجَلَسْتُ فِي أَصْلِهَا، ثُمَّ رَمَيْتُهُ، فَعَقَرْتُ بِهِ، حَتَّى إِذَا تَضَايَقَ الْجَبَلُ، فَدَخَلُوا فِي تَضَايُقِهِ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّيهِمْ بِالْحِجَارَةِ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ كَذَلِكَ أَتْبَعُهُمْ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي، وَخَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ، حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً، وَثَلَاثِينَ رُمْحًا يَسْتَخِفُّونَ، وَلَا يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، حَتَّى أَتَوْا مُتَضَايِقًا مِنْ ثَنِيَّةٍ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَتَاهُمْ فُلَانُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ، فَجَلَسُوا يَتَضَحَّوْنَ - يَعْنِي : يَتَغَدَّوْنَ - وَجَلَسْتُ عَلَى رَأْسِ قَرْنٍ ، قَالَ الْفَزَارِيُّ : مَا هَذَا الَّذِي أَرَى ؟ قَالُوا : لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ ، وَاللَّهِ مَا فَارَقَنَا مُنْذُ غَلَسٍ يَرْمِينَا، حَتَّى انْتَزَعَ كُلَّ شَيْءٍ فِي أَيْدِينَا. قَالَ : فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ أَرْبَعَةٌ. قَالَ : فَصَعِدَ إِلَيَّ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فِي الْجَبَلِ، قَالَ : فَلَمَّا أَمْكَنُونِي مِنَ الْكَلَامِ، قَالَ : قُلْتُ : هَلْ تَعْرِفُونِي ؟ قَالُوا : لَا، وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ، وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أَطْلُبُ رَجُلًا مِنْكُمْ إِلَّا أَدْرَكْتُهُ، وَلَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ فَيُدْرِكَنِي. قَالَ أَحَدُهُمْ : أَنَا أَظُنُّ. قَالَ : فَرَجَعُوا فَمَا بَرِحْتُ مَكَانِي حَتَّى رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ، قَالَ : فَإِذَا أَوَّلُهُمُ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ عَلَى إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، وَعَلَى إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ، قَالَ : فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ الْأَخْرَمِ، قَالَ : فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ. قُلْتُ : يَا أَخْرَمُ، احْذَرْهُمْ لَا يَقْتَطِعُوكَ، حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ. قَالَ : يَا سَلَمَةُ، إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ، وَالنَّارَ حَقٌّ فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ. قَالَ : فَخَلَّيْتُهُ فَالْتَقَى هُوَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ : فَعَقَرَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَهُ، وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَتَلَهُ، وَتَحَوَّلَ عَلَى فَرَسِهِ، وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَطَعَنَهُ، فَقَتَلَهُ، فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَتَبِعْتُهُمْ أَعْدُو عَلَى رِجْلَيَّ، حَتَّى مَا أَرَى وَرَائِي مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا غُبَارِهِمْ شَيْئًا، حَتَّى يَعْدِلُوا قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ، يُقَالُ لَهُ : ذُو قَرَدٍ لِيَشْرَبُوا مِنْهُ وَهُمْ عِطَاشٌ، قَالَ : فَنَظَرُوا إِلَيَّ أَعْدُو وَرَاءَهُمْ، فَخَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ - يَعْنِي : أَجْلَيْتُهُمْ عَنْهُ - فَمَا ذَاقُوا مِنْهُ قَطْرَةً، قَالَ : وَيَخْرُجُونَ فَيَشْتَدُّونَ فِي ثَنِيَّةٍ، قَالَ : فَأَعْدُو، فَأَلْحَقُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَصُكُّهُ بِسَهْمٍ فِي نُغْضِ كَتِفِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ : يَا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ أَكْوَعُهُ بُكْرَةَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ، يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَكْوَعُكَ بُكْرَةَ. قَالَ : وَأَرْدَوْا فَرَسَيْنِ عَلَى ثَنِيَّةٍ، قَالَ : فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : وَلَحِقَنِي عَامِرٌ بِسَطِيحَةٍ فِيهَا مَذْقَةٌ مِنْ لَبَنٍ، وَسَطِيحَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَتَوَضَّأْتُ، وَشَرِبْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي حَلَّأْتُهُمْ عَنْهُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ تِلْكَ الْإِبِلَ، وَكُلَّ شَيْءٍ اسْتَنْقَذْتُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَكُلَّ رُمْحٍ وَبُرْدَةٍ، وَإِذَا بِلَالٌ نَحَرَ نَاقَةً مِنَ الْإِبِلِ الَّذِي اسْتَنْقَذْتُ مِنَ الْقَوْمِ، وَإِذَا هُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَبِدِهَا، وَسَنَامِهَا، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَلِّنِي فَأَنْتَخِبُ مِنَ الْقَوْمِ مِائَةَ رَجُلٍ، فَأَتَّبِعُ الْقَوْمَ، فَلَا يَبْقَى مِنْهُمْ مُخْبِرٌ إِلَّا قَتَلْتُهُ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فِي ضَوْءِ النَّارِ، فَقَالَ : " يَا سَلَمَةُ، أَتُرَاكَ كُنْتَ فَاعِلًا ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ. فَقَالَ : " إِنَّهُمُ الْآنَ لَيُقْرَوْنَ فِي أَرْضِ غَطَفَانَ ". قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ، فَقَالَ : نَحَرَ لَهُمْ فُلَانٌ جَزُورًا، فَلَمَّا كَشَفُوا جِلْدَهَا رَأَوْا غُبَارًا. فَقَالُوا : أَتَاكُمُ الْقَوْمُ. فَخَرَجُوا هَارِبِينَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ خَيْرَ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ، وَخَيْرَ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ ". قَالَ : ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ ؛ سَهْمَ الْفَارِسِ، وَسَهْمَ الرَّاجِلِ، فَجَمَعَهُمَا لِي جَمِيعًا، ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ : فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ، قَالَ : وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يُسْبَقُ شَدًّا ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقُولُ : أَلَا مُسَابِقٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ ؟ فَجَعَلَ يُعِيدُ ذَلِكَ، قَالَ : فَلَمَّا سَمِعْتُ كَلَامَهُ، قُلْتُ : أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا، وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا ؟ قَالَ : لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي وَأُمِّي ذَرْنِي فَلِأُسَابِقَ الرَّجُلَ. قَالَ : " إِنْ شِئْتَ ". قَالَ :قُلْتُ : اذْهَبْ إِلَيْكَ. وَثَنَيْتُ رِجْلَيَّ، فَطَفَرْتُ، فَعَدَوْتُ، قَالَ : فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا، أَوْ شَرَفَيْنِ أَسْتَبْقِي نَفَسِي، ثُمَّ عَدَوْتُ فِي إِثْرِهِ، فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا ، أَوْ شَرَفَيْنِ، ثُمَّ إِنِّي رَفَعْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ، قَالَ : فَأَصُكُّهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، قَالَ : قُلْتُ : قَدْ سُبِقْتَ وَاللَّهِ. قَالَ : أَنَا أَظُنُّ. قَالَ : فَسَبَقْتُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ : فَوَاللَّهِ، مَا لَبِثْنَا إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى خَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَجَعَلَ عَمِّي عَامِرٌ يَرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ : تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قَالَ : أَنَا عَامِرٌ. قَالَ : " غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ ". قَالَ : وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ يَخُصُّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ. قَالَ : فَنَادَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْلَا مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ. قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ، قَالَ : خَرَجَ مَلِكُهُمْ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ ، وَيَقُولُ : قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ : وَبَرَزَ لَهُ عَمِّي عَامِرٌ، فَقَالَ : قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ قَالَ : فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ، فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ، وَذَهَبَ عَامِرٌ يَسْفُلُ لَهُ، فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَى نَفْسِهِ، فَقَطَعَ أَكْحَلَهُ، فَكَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ. قَالَ سَلَمَةُ : فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ : بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ ؛ قَتَلَ نَفْسَهُ. قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ ذَلِكَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ. قَالَ : " كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ، بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ". ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ أَرْمَدُ، فَقَالَ : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ "، أَوْ " يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ". قَالَ : فَأَتَيْتُ عَلِيًّا، فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَقَ فِي عَيْنَيْهِ، فَبَرَأَ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، وَخَرَجَ مَرْحَبٌ، فَقَالَ : قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ : فَضَرَبَ رَأْسَ مَرْحَبٍ، فَقَتَلَهُ، ثُمَّ كَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْهِ. قَالَ إِبْرَاهِيمُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4569

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٥٦٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ الْأَحْزَابِ وَهِيَ الْخَنْدَقُ؛جلد٣ص١٤٤١؛حدیث نمبر ٤٥٧٠)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4570

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل مکہ میں سے اسی افراد جبل تنعیم سے مسلح ہوکر اترے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو دھوکہ دے کر غفلت میں حملہ کرنا چاہتے تھے آپ نے ان کو پکڑ کر قید کر لیا اور پھر چھوڑ دیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "اور وہی ذات ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا جب مکہ مکرمہ میں تمہیں ان پر کامرانی عطاء فرمائی"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ} [الفتح: ٢٤] الْآيَةَ؛جلد٣ص١٤٤٢؛حدیث نمبر ٤٥٧١)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَأَخَذَهُمْ سِلْمًا ، فَاسْتَحْيَاهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ }.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4571

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حنین کے دن حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک خنجر لیا جو ان کے پاس تھا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ خنجر دیکھا عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس خنجر ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا یہ خنجر کیسا ہے؟انہوں نے عرض کیا کہ میں نے یہ اس لئےلیا ہے اگر کوئی مشرک میرے قریب آے تو میں اس کا پیٹ پھاڑ دوں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔ حضرت ام سلیم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہمارے بعد جو طلقاء ہیں(جو مکہ کے دن مسلمان ہوے)اور آپ سے شکست کھا چکے ہیں ان کو قتل کر دوں؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم!ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے اور اس نے اچھا کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ؛ترجمہ؛مردوں کے ہمراہ عورتوں کا جہاد کرنا؛جلد٣ص١٤٤٢؛حدیث نمبر ٤٥٧٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا فَكَانَ مَعَهَا، فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذَا الْخِنْجَرُ ؟ ". قَالَتِ : اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ. فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ ؛ انْهَزَمُوا بِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4572

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ام سلیم کے واقعہ میں حدیث نمبر ٤٥٧٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ؛جلد٣ص١٤٤٢؛حدیث نمبر ٤٥٧٣)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ ثَابِتٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4573

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد کرتے تو آپ کے ساتھ حضرت ام سلیم اور انصاری کی کچھ دیگر خواتین بھی ہوتی تھیں وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کو دوا دیتی تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ؛جلد٣ص١٤٤٣؛حدیث نمبر ٤٥٧٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مَعَهُ، إِذَا غَزَا فَيَسْقِينَ الْمَاءَ، وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4574

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب(غزوہ)احد کا دن ہوا تو کئی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک ڈھال سے آڑ کئے ہوئے تھے حضرت ابوطلحہ زبردست تیر انداز تھے اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑی تھیں۔ جب کوئی شخص تیروں کا ترکش لے کر نکلتا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے یہ تیر حضرت ابوطلحہ کے لئے رکھ دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گردن اٹھا کر کفار کی طرف دیکھتے تو حضرت ابوطلحہ عرض کرتے اللہ کے نبی!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ ان کو نہ دیکھیں کہیں آپ کو ان کا کوئی تیر نہ لگ جائے میرا سینہ آپ کے سینے کے سامنے ہے(تاکہ مجھے تیر لگے) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکر اور حضرت ام سلیم(رضی اللہ عنہما)کو دیکھا ان دونوں نے اپنی شلواریں اوپر کی ہوئی تھیں اور میں نے ان کی پنڈلیوں کی پازیب کو دیکھا وہ دونوں اپنی پیٹھ پر مشکیں بھر کر لاتیں اور لوگوں کے مونہوں میں ڈالتی تھیں پھر واپس جاتیں اور دوبارہ بھر کر لاتیں اور ان کے مونہوں میں ڈالتی اور اس دن حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اونگھ کی وجہ سے دو یا تین بار تلوار گر گئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ؛جلد٣ص١٤٤٣؛حدیث نمبر ٤٥٧٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو - وَهُوَ : أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - وَهُوَ : ابْنُ صُهَيْبٍ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ، قَالَ : وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ، وَكَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ : فَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ فَيَقُولُ : انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ، قَالَ : وَيُشْرِفُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ ، لَا يُصِبْكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ، نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ. قَالَ : وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِهِمْ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآنِهَا، ثُمَّ تَجِيئَانِ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ، وَإِمَّا ثَلَاثًا مِنَ النُّعَاسِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4575

حضرت یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر آپ سے پانچ باتوں کے بارے میں پوچھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر مجھے علم چھپانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس کو جواب نہ لکھتا۔ نجدہ نے ان کو لکھا تھا حمد و صلاۃ کے بعد!مجھے بتائے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں عورتوں کو ساتھ لے جاتے تھے اور کیا ان کے لئے(مال غنیمت میں سے)حصہ مقرر کرتے،کیا آپ بچوں کو قتل کرتے تھے نیز یتیم کب تک یتیم رہتا ہے اور خمس(مال غنیمت کا پانچواں حصہ)کس کے لیے ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے! تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جہاد میں شریک کرتے تھے اور وہ زخمیوں کا علاج معالجہ کرتی تھیں اور ان کو مال غنیمت سے حصہ بھی ملتا تھا لیکن ان کا حصہ مقرر نہ تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے لہٰذا تم بھی بچوں کو قتل نہ کرو تم نے مجھے لکھا اور پوچھا ہے کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے تو مجھے اپنی زندگی کی قسم!بعض لوگوں کی داڑھی آجاتی لیکن ان کو کسی چیز کے لینے اور دینے کی سمجھ نہیں ہوتی جب اسے دوسرے لوگوں کی طرح کوئی چیز لینے کا شعور حاصل ہوجائے تو اس کا دور یتیمی ختم ہوجاتا ہے تم نے مجھے لکھا اور خمس کے بارے میں پوچھا کہ وہ کس کے لیے ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے لیکن ہماری قوم اس بات کو نہیں مانتی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛ترجمہ؛جہاد میں شریک ہونے والی عورتوں کو مال غنیمت میں سے باقاعدہ حصہ دینے کی ممانعت اور کچھ عطیہ دینے کا حکم اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٤٤٤؛حدیث نمبر ٤٥٧٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ - عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَوْلَا أَنْ أَكْتُمَ عِلْمًا مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ. كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ : أَمَّا بَعْدُ، فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ ؟ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ ؟ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ ؟ وَعَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ ؟ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ، فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا بِسَهْمٍ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ، فَلَا تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ ؟ فَلَعَمْرِي، إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ، ضَعِيفُ الْعَطَاءِ مِنْهَا، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ ؟ وَإِنَّا كُنَّا نَقُولُ : هُوَ لَنَا. فَأَبَى عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَاكَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4576

حضرت یزید بن ہرمز سے مروی ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا اور کچھ باتوں کے بارے میں سوال کیا اس کے بعد گزشتہ حدیث کے مثل ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے پس تم بھی بچوں کو قتل نہ کرو البتہ یہ کہ تمہیں ایسی بات کا علم ہو جائے جس کی بنیاد حضرت خضر علیہ السلام نے ایک بچے کو قتل کیا تھا اسحاق نے اپنے حدیث میں حاتم سے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ تم اس بات کی تمیز کرلو کہ یہ بچہ مؤمن ہوگا یا کافر:پس تم کافر کو قتل کردو اور مؤمن کو چھوڑدو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٥؛حدیث نمبر ٤٥٧٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خِلَالٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ حَاتِمٍ : وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ، فَلَا تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَ. وَزَادَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ حَاتِمٍ : وَتُمَيِّزَ الْمُؤْمِنَ فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ، وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4577

یزید بن ہرمز کہتے ہیں نجدہ بن عامر حروری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر ان سے پوچھا کہ اگر جنگ میں غلام اور عورت شریک ہوں تو ان کو حصہ ملے گا؟کیا بچوں کو قتل کرنا جائز ہے؟نیز یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ذوی القربى(اہل قرابت)کون ہیں؟حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یزید بن ہرمز سے فرمایا اسے جواب لکھو اگر اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ وہ حماقت میں پڑے گاتو میں اس کو جواب نہ لکھتا اسے لکھو کہ تم نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوں تو ان کو مال غنیمت سے حصہ دیا جائے گا؟تو ان کے لئے کوئی حصہ نہیں البتہ ان کو عطیہ دیا جاسکتا ہے۔ اور تم نے مجھے لکھا اور بچوں کو قتل کرنے کے بارے میں پوچھا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو قتل نہیں کرتے تھے لہٰذا تم بھی قتل نہ کرو مگر یہ کہ تم ان کے بارے میں وہ بات جان لو جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی(حضرت خضر علیہ السلام)نے اس لڑکے کے بارے میں معلوم کی جس کو انہوں نے قتل کیا تھا۔ تم نے مجھے لکھا اور پوچھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے تو جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے اور اس سے سمجھ داری معلوم نہ ہو،اس سے یتیمی کا لفظ ختم نہیں ہوتا۔تم نے مجھے لکھ کر قرابت داروں کے بارے میں پوچھا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں تو ہماری راے یہ ہے کہ ہم لوگ قرابت دار ہیں لیکن ہماری قوم نے اس کا انکار کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٥؛حدیث نمبر ٤٥٧٨)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ، هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا ؟ وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ ؟ وَعَنْ ذَوِي الْقُرْبَى، مَنْ هُمْ ؟ فَقَالَ لِيَزِيدَ : اكْتُبْ إِلَيْهِ فَلَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، اكْتُبْ : إِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ، هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا شَيْءٌ ؟ وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا شَيْءٌ، إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ ؟ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ، وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ، إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْيَتِيمِ، مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ ؟ وَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ حَتَّى يَبْلُغَ، وَيُؤْنَسَ مِنْهُ رُشْدٌ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ ذَوِي الْقُرْبَى، مَنْ هُمْ ؟ وَإِنَّا زَعَمْنَا أَنَّا هُمْ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4578

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٥٧٨کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٦؛حدیث نمبر ٤٥٧٩)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4579

یزید بن ہرمز کہتے ہیں نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا جب انہوں نے وہ خط پڑھا اور اس کا جواب لکھا میں اس وقت وہاں موجود تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر مجھے خیال نہ ہوتا کہ وہ بدبو(کسی برے کام)میں پڑ جائے گا تو میں اسے کبھی جواب نہ لکھتا۔ پس آپ نے اس کی طرف لکھا کہ تم نے قرابت داروں کے حصے کے بارے میں پوچھا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے ہمارے خیال میں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار لوگ ہیں اور وہ ہم ہیں لیکن ہماری قوم نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا تم نے یتیم کے بارے میں پوچھا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے تو جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اس سے سمجھ داری معلوم ہوجائے اور اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے تو وہ یتیم نہیں رہتا ۔ تم نے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے بچوں میں سے کسی ایک کو قتل کرتے تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو قتل نہیں کرتے تھے اور تم بھی ان میں سے کسی کو قتل نہ کرو۔مگر یہ کہ انہیں وہ بات معلوم ہو جو حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے میں معلوم ہوئی جسے آپ نے قتل کیا تھا۔تم نے پوچھا کہ عورت اور غلام کے لئے معلوم حصہ ہے جب وہ جنگ میں شریک ہوں،تو ان کے لئے کوئی حصہ نہیں البتہ یہ کہ قوم کے مال غنیمت سے ان کو عطیہ دیا جاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٦؛حدیث نمبر ٤٥٨٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ، وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَاللَّهِ، لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ نَتْنٍ يَقَعُ فِيهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ، وَلَا نُعْمَةَ عَيْنٍ. قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيْهِ : إِنَّكَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ، مَنْ هُمْ ؟ وَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَحْنُ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا، وَسَأَلْتَ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ ؟ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ، وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ، وَدُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ، وَسَأَلْتَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا، وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ، وَسَأَلْتَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ، هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ ؟ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ، إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ. وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ. فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يُتِمَّ الْقِصَّةَ كَإِتْمَامِ مَنْ ذَكَرْنَا حَدِيثَهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4580

حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی مجاہدین کے پیچھے خیموں میں رہتی تھی اور ان کے لئے کھانا پکاتی،زخموں کو دوا دیتی اور بیماروں کی عیادت کرتی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٧؛حدیث نمبر ٤٥٨١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ، فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ، وَأُدَاوِي الْجَرْحَى وَأَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4581

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٥٨١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ النِّسَاءِ الْغَازِيَاتِ يُرْضَخُ لَهُنَّ وَلَا يُسْهَمُ، وَالنَّهْيِ عَنْ قَتْلِ صِبْيَانِ أَهْلِ الْحَرْبِ؛جلد٣ص١٤٤٧؛حدیث نمبر ٤٥٨٢)

وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4582

ابو اسحاق کہتے ہیں عبداللہ بن یزید نماز استسقاء پڑھانے نکلے تو انہوں نےدو رکعت نماز پڑھا کر بارش کے لئے دعا کی۔ اس دن حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی میرے اور ان کے درمیان صرف ایک آدمی تھا میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات میں شرکت فرمائی انہوں نے جواب دیا انیس غزوات میں،میں نے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں آپ نے شرکت کی انہوں نے فرمایا سترہ غزوات میں،فرماتے ہیں میں نے پوچھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا۔انہوں نے فرمایا ذات العسیر یا ذات العشیر۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کی تعداد؛جلد٣ص١٤٤٧؛حدیث نمبر ٤٥٨٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اسْتَسْقَى، قَالَ : فَلَقِيتُ يَوْمَئِذٍ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، وَقَالَ : لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُ رَجُلٍ، أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَجُلٌ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : تِسْعَ عَشْرَةَ. فَقُلْتُ : كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ ؟ قَالَ : سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً. قَالَ : فَقُلْتُ : فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا ؟ قَالَ : ذَاتُ الْعُسَيْرِ، أَوِ الْعُشَيْرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4583

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوات میں شریک فرمائی اور ہجرت کے بعد آپ نے ایک حج کیا اور حجۃ الوداع کے علاوہ کوئی حج نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٣ص١٤٤٧؛حدیث نمبر ٤٥٨٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ سَمِعَهُ مِنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، وَحَجَّ بَعْدَمَا هَاجَرَ حَجَّةً لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا ؛ حَجَّةَ الْوَدَاعِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4584

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انیس غزوات میں شرکت کی البتہ بدر اور احد میں شریک نہ ہوا،غزوہ احد میں میرے والد شہید ہوگئے تھے اور اس کے بعد میں نے کوئی غزوہ نہیں چھوڑا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٣ص١٤٤٨؛حدیث نمبر ٤٥٨٥)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً. قَالَ جَابِرٌ : لَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا، وَلَا أُحُدًا ؛ مَنَعَنِي أَبِي، فَلَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَطُّ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4585

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انیس غزوات میں تشریف لے گئے اور آپ نے ان میں سے آٹھ غزوات میں جنگ کی(راوی)ابوبکر نے"منھن"(ان میں سے)کے الفاظ ذکر نہیں کئے اور انہوں نے اپنی روایت میں کہا کہ مجھ سے عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٣ص١٤٤٨؛حدیث نمبر ٤٥٨٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَاتَلَ فِي ثَمَانٍ مِنْهُنَّ. وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ : مِنْهُنَّ. وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4586

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سولہ غزوات میں شریک ہوے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٣ص١٤٤٨؛حدیث نمبر ٤٥٨٧)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4587

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک تھا، اور لشکر آپ نے روانہ کیے ان میں نو مرتبہ شریک رہا ایک مرتبہ ہمارے سردار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے اور ایک مرتبہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے۔ (مسلم شریف کتاب الجہاد والسیرۃ،بَابٌ : عَدَدُ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ,حدیث نمبر ٤٥٨٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ - وَهُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ - قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ يَقُولُ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ ؛ مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4588

امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے اس کی دونوں جگہ سات کا عدد مزکور ہے۔(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن جنگوں میں بذات خود شریک ہوئے ان کو غزوات کہتے ہیں ان کی تعداد میں اختلاف ہے علامہ غلام رسول سعیدی صاحب شرح صحیح مسلم جلد ٥ص٧٠١ پر ان غزوات کی تفصیل طبقات ابن سعد سے نقل کی ہے جن کی تعداد ٢٧ ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ عَدَدِ غَزَوَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٣ص١٤٤٨؛حدیث نمبر ٤٥٨٩)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي كِلْتَيْهِمَا : سَبْعَ غَزَوَاتٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4589

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں گئے اور ہم چھ افراد تھے اور ہم ایک اونٹ میں شریک تھے جس پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ فرماتے ہیں ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے اور میرا پاؤں بھی زخمی ہوا اور ناخن بھی نکل گئے ہم نے پاؤں پر کپڑوں کے ٹکڑے لپیٹے،اس وجہ سے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع(ٹکڑوں والا)ہوگیا کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر کپڑوں کے ٹکڑے لپیٹ رہے تھے۔ حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوموسیٰ نے یہ حدیث بیان کی پھر اس(بیان)کو ناپسند کیا شاید وہ اپنے کسی عمل کو ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے۔ حضرت ابو اسامہ فرماتے ہیں حضرت بریدہ کے علاوہ دیگر راویوں نے یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس محنت کا اجر دے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ؛جلد٣ص١٤٤٩؛حدیث نمبر ٤٥٩٠)

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ، قَالَ : فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا ، فَنَقِبَتْ قَدَمَايَ، وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، فَسُمِّيَتْ : غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ ؛ لِمَا كُنَّا نُعَصِّبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ. قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ، ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ. قَالَ : كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ. قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : وَزَادَنِي غَيْرُ بُرَيْدٍ : وَاللَّهُ يُجْزِي بِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4590

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف نکلے جب آپ حرۃ الوبرہ(یہ وہ مقام ہے جو مدینہ سے چار میل کے فاصلے پر ہے)میں پہنچے تو ایک شخص ملا جس کی جرات اور بہادری کا بہت تذکرہ تھا۔صحابہ کرام نے اسے دیکھا تو بہت خوش ہوئے جب وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو اس نے کہا میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ کے ساتھ جاؤں اور مال سے حصہ پاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے؟اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لیتا۔ وہ شخص چلا گیا حتیٰ کہ جب ہم شجرہ(درخت)کے پاس پہنچے تو وہ شخص ملا اور اس نے پہلے کی درخواست کی،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس چلے جاؤ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لیتا۔ وہ شخص واپس چلا گیا پھر آپ نے اسے مقام بیداء میں پایا اور پہلے کی طرح پوچھا کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اس نے کہا جی ہاں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الِاسْتِعَانَةِ فِي الْغَزْوِ بِكَافِرٍ؛ترجمہ؛جہاد میں کافر سے مدد لینا ناپسندیدہ ہے؛جلد٣ص١٤٥٠؛حدیث نمبر ٤٥٩١)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ بَدْرٍ، فَلَمَّا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَكَهُ رَجُلٌ قَدْ كَانَ يُذْكَرُ مِنْهُ جُرْأَةٌ وَنَجْدَةٌ فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ، فَلَمَّا أَدْرَكَهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جِئْتُ لِأَتَّبِعَكَ، وَأُصِيبَ مَعَكَ. قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ " قَالَ : لَا. قَالَ : " فَارْجِعْ، فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ". قَالَتْ : ثُمَّ مَضَى، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالشَّجَرَةِ أَدْرَكَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، قَالَ : " فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ". قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ، فَأَدْرَكَهُ بِالْبَيْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَانْطَلِقْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Jihade Was Siyare, Hadees No. 4591

Muslim Shareef : Kitabul Jihade Was Siyare

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ

|

•