
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس معاملے(خلافت و حکومت)میں قریش کے تابع ہیں مسلمان،قریشی مسلمانوں کے اور کافر قریشی کے تابع ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛امارت(حکومت)کا بیان؛تربَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛ترجمہ؛لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کا بیان؛جلد٣ص١٤٥١؛حدیث نمبر ٤٥٩٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس معاملے میں قریش کے تابع ہیں ان کے مسلمان قریش مسلمانوں کے اور ان کے کافر قریش کافروں کے تابع ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥١؛حدیث نمبر ٤٥٩٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھلائی اور برائی میں قریش کے تابع ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥١؛حدیث نمبر ٤٥٩٤)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چیز(خلافت)ہمیشہ قریش میں رہے گی چاہے دو آدمی ہی رہ جائیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٢؛حدیث نمبر ٤٥٩٥)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے اپنے والد کے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے سنا آپ فرماتے تھے یہ خلافت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ان میں بارہ خلیفہ پورے نہ ہو جائیں فرماتے ہیں پھر آپ نے کچھ فرمایا جو مجھ پر پوشیدہ رہا فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟تو انہوں نے کہا آپ نے فرمایا ہے کہ وہ تمام(خلفاء)قریش سے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥١؛حدیث نمبر ٤٥٩٦)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا خلافت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک بارہ خلفاء پورے نہ ہوجائیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات فرمائی جو مجھ سے پوشیدہ رہی میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ نے کیا فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٢؛حدیث نمبر ٤٥٩٧)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ حکومت ہمیشہ جاری رہے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٥٩٨)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بارہ خلیفہ ہونے تک اسلام غالب رہے گا۔ پھر ایک کلمہ فرمایا جسے میں سمجھ نہ سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا آپ نے فرمایا ہے کہ یہ سب قریش سے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٥٩٩)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ معاملہ(یعنی اسلام)ہمیشہ غالب رہے گا حتیٰ کہ بارہ خلفاء پورے ہوجائیں فرماتے ہیں اس کے بعد آپ نے کلام فرمایا جسے میں سمجھ نہ سکا اپنے والد سے پوچھا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا آپ نے فرمایا ہے کہ وہ سب قریش سے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٦٠٠)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے والد بھی ہمراہ تھے میں نے سنا آپ فرما رہے تھے یہ دین ہمیشہ غالب رہے گا حتیٰ کہ بارہ خلفاء مکمل ہوجائیں۔ فرماتے ہیں آپ نے ایک اور کلمہ بھی فرمایا جو لوگوں نے مجھے سننے نہیں دیا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا آپ نے فرمایا کہ وہ تمام قریش سے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٦٠١)
حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خط بھیجا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ فرماتے ہیں انہوں نے میری طرف لکھا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعہ کے دن سنا جس شام ماعز اسلمی کو رجم کیا گیا۔ آپ نے فرمایا دین قیامت تک قائم رہے گا یا فرمایا تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے اور وہ تمام قریش میں سے ہوں گے اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمانوں کی ایک قلیل جماعت کسریٰ یا آل کسریٰ کے سفید محل کو فتح کرے گی میں نے آپ سے یہ بھی سنا آپ نے فرمایا قیامت سے پہلے کچھ جھوٹے لوگ ہوں گے ان سے بچو اور میں نے آپ سے سنا آپ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو مال عطا کرے تو وہ اپنے آپ اور اپنے گھر والوں سے شروع کرے اور میں نے آپ کو یہ بات فرماتے ہوئے بھی سنا کہ میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٦٠٢)
حضرت عامر بن سعید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن سمرہ عدوی کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ نے جو کچھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ہمیں بتلائیں انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٠٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ،وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ؛جلد٣ص١٤٥٤؛حدیث نمبر ٤٦٠٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میرے والد(حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ)زخمی ہوئے تو میں وہاں حاضر ہوا لوگوں نے آپ کی تعریف کی اور کہا اللہ تعالیٰ آپ کو اچھی جزا دے آپ نے فرمایا مجھے(اللہ تعالیٰ کی رحمت کی)امید ہے اور(اس کے عذاب کا)خوف بھی ہے انہوں نے عرض کیا آپ کسی کو اپنا جانشین بنا دیں آپ نے فرمایا میں نے زندگی میں تمہارا بوجھ اٹھایا تو کیا اب مرنے کے بعد بھی یہ بوجھ اٹھاؤں۔ میں چاہتا ہوں کہ میری یہ خدمات میرے لئے برابر برابر ہوں جائیں نہ میرے ذمہ کچھ ہوا اور نہ میرے لئے کچھ ہو۔ اگر میں خلیفہ مقرر کروں تو انہوں نے خلیفہ مقرر کیا جو مجھ سے بہتر ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،اور اگر میں اس عمل کو چھوڑ دوں(خلیفہ مقرر نہ کروں)تو انہوں نے یہ معاملہ چھوڑ دیا جو مجھ سے بہتر ہیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے معلوم ہوا کہ جب انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے تو وہ جانشین مقرر نہیں کریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الِاسْتِخْلَافِ وَتَرْكِهِ؛ترجمہ؛خلیفہ بنانے اور اسے ترک کرنے کا بیان؛جلد٣ص١٤٥٣؛حدیث نمبر ٤٦٠٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے والد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کر رہے ہیں میں نے کہا وہ ایسا نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا وہ ایسا ہی کریں گے فرماتے ہیں میں نے قسم کھائی کہ میں اس مسئلے پر ضرور گفتگو کروں گا خاموش رہا حتیٰ کہ صبح ہوگئی اور میں نے آپ سے گفتگو نہ کی مجھے قسم اٹھانے کے باعث یوں لگتا تھا کہ میں نے اپنے ہاتھ پر پہاڑ اٹھایا ہوا ہے حتیٰ کہ میں واپس آیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے لوگوں کا حال دریافت کیا اور میں نے آپ کو ان کے حالات سے آگاہ کیا۔ فرماتے ہیں پھر میں نے ان سے کہا کہ میں نے لوگوں سے ایک بات سنی تھی اور میں نے قسم کھائی تھی کہ وہ بات آپ سے ضرور بیان کروں گا لوگ کہتے ہیں کہ آپ کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے اور بات یہ ہے کہ اگر کوئی آپ کے اونٹوں کا چرواہا ہو یا بکریوں کا چرواہا ہو پھر آپ کے پاس آئے اور ان(اونٹوں یا بکریوں)چھوڑ آئے تو آپ ہی کہیں گے کہ اس نے ان کو ضائع کیا پس لوگوں کی نگرانی زیادہ ضروری ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے میری اس بات کی موافقت کی اور کچھ دیر سر جھکاے بیٹھے رہے پھر میری طرف سر اٹھا کر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر نہیں فرمایا اور اگر میں خلیفہ مقرر کروں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ مقرر کیا ہے۔ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں اللہ کی قسم!جب انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو جان گیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور وہ کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الِاسْتِخْلَافِ وَتَرْكِهِ؛جلد٣ص١٤٥٥؛حدیث نمبر ٤٦٠٥)
حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا حکومت کا سوال نہ کرو اگر تمہیں مانگنے پر دی جائے تو تم اس کے سپرد کردئے جاؤ گے اور اگر تمہیں مانگنے کے بغیر ملے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ طَلَبِ الْإِمَارَةِ وَالْحِرْصِ عَلَيْهَا؛حکومت طلب کرنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٤٥٦؛حدیث نمبر ٤٦٠٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے تین مختلف سندوں کے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ طَلَبِ الْإِمَارَةِ وَالْحِرْصِ عَلَيْهَا؛جلد٣ص١٤٥٦؛حدیث نمبر ٤٦٠٧)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں اور میرے دو چچازاد(بھائی)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں سے ایک نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو ملک عطاء کیا ہے اس میں سے بعض پر ہمیں حکومت عطاء کیجئے دوسرے نے بھی اس قسم کی بات کہی۔آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!ہم اس عمل پر کسی ایسے شخص کو مقرر نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرے اور نہ اسے جو اس کی حرص رکھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ طَلَبِ الْإِمَارَةِ وَالْحِرْصِ عَلَيْهَا؛جلد٣ص١٤٥٦؛حدیث نمبر ٤٦٠٨)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ اشعریوں میں سے دو آدمی تھے ان میں سے ایک میرے دائیں جانب اور دوسرا بائیں طرف تھا ان دونوں نے مجھ سے منصب کا سوال کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک فرما رہے تھے آپ نے فرمایا اے ابو موسیٰ کیا کہتے ہو یا فرمایا اے عبد اللہ بن قیس!تم کیا کہ رہے ہو۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم!جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ان دونوں نے مجھے اپنے دل کی بات نہیں بتائی اور مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ یہ دونوں کس منصب کا سوال کریں گے۔ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں دیکھ رہا ہوں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی مسواک آپ کے ہونٹے کے نیچے تھی اور وہ گھس چکی تھی آپ نے فرمایا میں کسی ایسے شخص کو کسی منصب پر مقرر نہیں کرتا جو خود اس کا ارادہ رکھتا ہو لیکن اے ابو موسیٰ یا(فرمایا)اے عبد اللہ بن قیس تم یمن جاؤ چنانچہ آپ نے ان کو یمن بھیج دیا پھر ان کے بعد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ حضرت معاذ بن جبل وہاں پہنچے تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آئیے اور ان کے لئے گدا بچھا دیا وہاں ایک شخص رسیوں سے بندھا ہوا تھا فرمایا یہ کیا ہے؟ حضرت ابو موسیٰ نے کہا یہ یہودی تھا اس نے اسلام قبول کیا پھر اپنے برے دین کی طرف لوٹ گیا اور یہودی بن گیا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق اس کو قتل نہ کیا جائے۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا آپ بیٹھیں ہم اسے قتل کرتے ہیں لیکن انہوں نے تین بار یہی فرمایا کہ جب تک اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق اسے قتل نہ کیا جائے میں نہیں بیٹھوں گا چنانچہ اسے قتل کردیا گیا۔ پھر ان دونوں میں رات کے قیام کے بارے میں گفتگو ہونے لگی تو ان میں سے ایک یعنی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں سوتا بھی ہوں قیام بھی کرتا ہوں اور اپنی نیند میں اس اجر کی امید رکھتا ہوں جس کی امید اپنے قیام میں رکھتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ طَلَبِ الْإِمَارَةِ وَالْحِرْصِ عَلَيْهَا؛جلد٣ص١٤٥٦؛حدیث نمبر ٤٦٠٩)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟آپ نے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرمایا بے شک تم کمزور ہو اور یہ امانت ہے اور قیامت کے دن یہ ذلت اور شرمندگی کا باعث ہوگی البتہ جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے اور اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْإِمَارَةِ بِغَيْرِ ضَرُورَةٍ؛جلد٣ص١٤٥٧؛حدیث نمبر ٤٦١٠)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر!میں تمہیں کمزور پاتا ہوں اور میں تیرے لئے وہ بات پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ ہی کسی یتیم کے مال کا ولی بننا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْإِمَارَةِ بِغَيْرِ ضَرُورَةٍ؛جلد٣ص١٤٥٧؛حدیث نمبر ٤٦١١)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصاف کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں اللہ کے دائیں جانب نور کے منبر پر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی دونوں جانبیں دائیں ہی ہیں یہ لوگ وہ ہوں گے جو(دنیا میں)اپنے اہل و عیال اور رعایا میں عدل سے فیصلہ کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛ ترجمہ؛عادل حاکم کی فضیلت اور ظالم حاکم کی مذمت؛جلد٣ص١٤٥٨؛حدیث نمبر ٤٦١٢)
حضرت عبد الرحمن بن شماسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کوئی بات پوچھنے کے لئے آیا انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟میں نے کہا میں ایک مصری ہوں ام المؤمنين نے پوچھا تمہارا حاکم جہاد میں کس طرح پیش آتا ہے میں نے کہا ہمیں اس سے کوئی بات ناگوار نہیں گزری اگر ہم میں سے کسی کا اونٹ مر جاتا تو وہ اسے اونٹ دیتا ہے اگر غلام مر جائے تو اسے غلام دیتا ہے اگر خرچ کی ضرورت ہو تو خرچ دیتا ہے۔ ام المومنین نے فرمایا میرے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس نے جو کیا ہے وہ مجھے اس حدیث کے بیان سے نہیں روکتا جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے آپ سے سنا آپ نے میرے اس گھر میں فرمایا اے اللہ!میری امت کو جو شخص ان کے کسی معاملے کا ولی بنے پس وہ اس پر سختی کرے تو اس پر سختی کر اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ولی بنے اور وہ ان پر نرمی کرے تو بھی اس سے نرمی کے ساتھ پیش آ۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٥٨؛حدیث نمبر ٤٦١٣)
حضرت عبد الرحمن بن شماسہ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک اور روایت روایت نمبر ٤٦١٣ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٥٩؛حدیث نمبر ٤٦١٤)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا تم سب حاکم ہو اور تم سب سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا اور لوگوں پر مقرر امیر حاکم ہے اس سے بھی اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ہر شخص اپنے گھر والوں پر حاکم ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا سنو!تم سب حاکم ہو اور تم سب سے اس کی رعایا(ما تحت لوگوں)کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٥٩؛حدیث نمبر ٤٦١٥)
امام مسلم نے متعدد سندوں کے ساتھ یہ حدیث حدیث نمبر ٤٦١٦ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦١٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا آدمی اپنے باپ کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس(مال)کے بارے میں سوال ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦١٧)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٦١٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦١٨)
حضرت حسن بیان کرتے ہیں حضرت عبید اللہ بن زیاد نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی اس بیماری میں عیادت کی جس میں وہ انتقال کر گئے تھے حضرت معقل نے کہا میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اگر مجھے علم ہوتا کہ میں مزید زندہ رہوں گا تو میں آپ سے بیان نہ کرتا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب بندے کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا حاکم بنایا ہو اور وہ ان سے خیانت کرتا ہوا مرے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کردے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦١٩)
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ابن زیاد،حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں درد تھا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦١٩ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن زیاد نے کہا آپ نے اس سے پہلے مجھ سے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی۔انہوں نے فرمایا میں نے یہ تم سے بیان نہیں کی یا فرمایا میں تمہارے لئے بیان نہیں کرتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦٢٠)
ابو الملیح بیان کرتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد،حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کے لئے گیا حضرت معقل نے فرمایا میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا اور اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو تم سے یہ حدیث بیان نہ کرتا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو امیر مسلمانوں کا حاکم ہو پھر ان کے لئے کوشش نہ کرے اور نہ ان کی خیر خواہی کرے وہ ان کے ساتھ جنت میں نہیں جاے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦٠؛حدیث نمبر ٤٦٢١)
ابوالاسود بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہوے تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لئے آیا اس کے بعد حسن کی روایت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦١؛حدیث نمبر ٤٦٢٢)
حسن کہتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اے بیٹے!میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بدترین حاکم،ظالم حاکم ہے تم ان لوگوں میں سے ہونے سے بچنا۔ اس نے کہا بیٹھو تم تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں بھوسہ ہو انہوں نے فرمایا کیا صحابہ کرام میں بھوسہ(یا تلچھٹ)ہے یہ تو بعد والے لوگوں میں ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ، وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ، وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ؛جلد٣ص١٤٦١؛حدیث نمبر ٤٦٢٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ نے خیانت کا ذکر کرتے ہوئے اس کو بہت بڑا گناہ قرار دیا پھر فرمایا میں قیامت کے دن تم سے کسی ایک کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہوکر بڑ بڑا رہا ہو اور وہ کہے یا رسول اللہ!میری مدد کیجئے اور میں کہوں میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تمہیں(دین اسلام کا پیغام)پہنچا دیا میں تم میں سے کسی ایک کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس حالت میں آے کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو وہ کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے تو میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تمہیں تبلیغ کردی تھی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اپنے کندھے پر سوار بکری کے ساتھ آے اور وہ منمنا رہی ہو وہ کہے یا رسول اللہ!میری مدد کیجئے تو میں کہوں گا میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں میں نے تمہیں(دین کا پیغام)پہنچا دیا۔میں تم میں سے کسی کو یوں نہ پاؤں کہ قیامت کے دن آے اور اس کی گردن پر کسی کی جان سوار ہو وہ کہے یا رسول اللہ!میری مدد کیجئے تو میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں میں نے تمہیں تبلیغ کردی تھی۔ میں تم میں سے کسی شخص کو قیامت کے دن اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر کپڑے لدے ہوئے ہل رہے ہوں اور وہ کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میری مدد کیجئے تو میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تمہیں(اسلام کا پیغام)پہنچا دیا تھا میں کسی کو ہر گز اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آے اور اس کی گردن پر سونا چاندی(صامت یعنی خاموش دولت)ہو اور کہے یا رسول اللہ!میری مدد کیجئے تو میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں میں تمہیں تبلیغ کرچکا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛ترجمہ؛مال غنیمت میں خیانت کرنے پر عذاب کی وعید؛جلد٣ص١٤٦١؛حدیث نمبر ٤٦٢٤)
امام مسلم نے مزید دو سندوں کے ساتھ اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٢؛حدیث نمبر ٤٦٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر کیا اور اس کی سخت سزا بیان فرمائی اس کے بعد پوری حدیث بیان کی حضرت حماد کہتے ہیں پھر میں نے یحییٰ سے سنا انہوں نے اس حدیث کو ایوب کی طرح بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٢؛حدیث نمبر ٤٦٢٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٦٢٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٢؛حدیث نمبر ٤٦٢٧)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد(قبیلے)کے ایک شخص کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے عامل مقرر کیا جس کو ابن اللتیبیہ کہتے تھے جب وہ آیا تو اس نے کہا یہ تم لوگوں کے لئے ہے اور یہ مجھے بطور تحفہ دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اس عامل کا کیا حال ہے جسے میں بھیجتا ہوں پھر وہ آکر کہتا ہے یہ تم لوگوں کے لئے ہے اور یہ مجھے بطور تحفہ دیا گیا ہے وہ اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر کیوں بیٹھ نہیں گیا۔حتیٰ کہ وہ دیکھتا کہ اسے کوئی تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے تم میں سے کوئی شخص اس میں سے کوئی چیز بھی لے گا تو قیامت کے دن وہ مال اس کی گردن پر سوار ہوگا وہ اونٹ ہوگا جو بڑ بڑا رہا ہوگا یا گاے ہوگی اور آواز نکال رہی ہوگی یا بکری منمنا رہی ہوگی۔ پھر آپ نے اپنے مبارک ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ ہم نے آپ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی اس کے بعد فرمایا اے اللہ!میں نے تبلیغ کردی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ هَدَايَا الْعُمَّالِ؛سرکاری ملازمین کو ہدیہ لینے کی ممانعت؛جلد٣ص١٤٦٣؛حدیث نمبر ٤٦٢٨)
حضرت ابو حمید ساعدی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک شخص ابن اللتیبیہ کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے عامل مقرر فرمایا اس نے مال لاکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا اور کہا یہ تم لوگوں کے لئے ہے اور یہ میرے لئے ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر کیوں نہیں بیٹھ گئے بس تم دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوے اور خطبہ ارشاد فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٢٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٣؛حدیث نمبر ٤٦٢٩)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازد قبیلہ کے ایک شخص کو جس کو ابن الاتبیہ کے نام سے پکارا جاتا تھا،بنو سلیم(قبیلے)کے صدقات پر مقرر کیا جب وہ آیا تو حساب کرنے لگا اور اس نے کہا یہ تم لوگوں کے لئے ہے اور یہ مجھے بطور تحفہ دیا گیا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے باپ یا ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھ گئے حتیٰ کہ تمہارے پاس تمہارا ہدیہ آتا اگر تم سچے ہو۔ اس کے بعد حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا اما بعد!میں تم میں سے کسی شخص کو اس پر عامل بناتا ہوں جس کی تولیت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطاء کی ہے تو وہ آکر کہتا ہے یہ تمہارا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے تو وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر میں جاکر کیوں نہیں بیٹھا حتیٰ کہ اس کے پاس اس کا ہدیہ آتا اگر وہ سچا ہے اللہ کی قسم!تم میں سے جو شخص اس میں سے کچھ بھی ناحق طور پر لے گا قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کرے گا کہ اس چیز کو گردن پر اٹھائے ہوگا میں تم میں سے کسی شخص کو ضرور پہچانوں گا کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت اس نے اونٹ اٹھا رکھا ہوگا جو بڑ بڑا رہا ہوگا یا گاے ہوگی جو اپنی آواز نکالے گی یا بکری منمنا رہی ہوگی پھر آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں کو اٹھایا حتیٰ کہ آپ کی بغلیں مبارک دکھائی دینے لگیں پھر آپ نے فرمایا یااللہ!کیا میں نے تبلیغ کردی،(راوی کہتے ہیں)اس واقعہ کو میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٣؛حدیث نمبر ٤٦٣٠)
امام مسلم نے دو سندوں کے ساتھ روایت کیا کہ جب وہ شخص آیا تو اس نے حساب کیا اور ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ تم جان لوگے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے جو شخص بھی کسی چیز سے لے گا.... سفیان کی روایت میں ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھو وہ بھی میرے ساتھ تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٤؛حدیث نمبر ٤٦٣١)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صدقہ(کی وصولی)پر مقرر کیا وہ بہت زیادہ مال لے کر آیا اور کہنے لگا یہ تم لوگوں کے لئے ہے اور یہ مجھے بطور ہدیہ دیا گیا ہے۔آگے حسب سابق ہے۔ حضرت عروہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے رسول سے(خود)سنا ہے؟انہوں نے کہا میں نے یہ حدیث آپ کے دہن مبارک سے اپنے اپنے کانوں میں سنی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٤؛حدیث نمبر ٤٦٣٢)
حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ سے سنا آپ نے فرمایا ہم،تم میں سے جس شخص کو کسی عمل پر مقرر کرتے ہیں تو اگر وہ سوئی یا اس سے بھی کم چیز چھپالے تو یہ خیانت ہے قیامت کے دن وہ اس چیز کو لے کر آئے گا۔ فرماتے ہیں انصار میں سے ایک سیاہ فام شخص اٹھ کر کھڑا ہوا گویا میں(اب بھی)اس کی طرف دیکھ رہا ہوں اس نے کہا یا رسول اللہ!آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیں آپ نے پوچھا تجھے کیا ہوا اس نے کہا میں نے آپ سے سنا آپ نے اس طرح فرمایا ہے۔ آپ نے فرمایا میں اب بھی یہی بات کہتا ہوں کہ ہم نے تم سے جس شخص کو عامل بنایا وہ ہر چھوٹی بڑی چیز کو لے کر آئے اس کے بعد اسے جو کچھ دیا جائے اسے لے لے اور جس چیز سے روک دیا جائے اس سے رک جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٥؛حدیث نمبر ٤٦٣٣)
امام مسلم نے مزید دو سندوں کے ساتھ اس حدیث کو حدیث نمبر ٤٦٣٣ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٥؛حدیث نمبر ٤٦٣٤)
حضرت عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٣٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ؛جلد٣ص١٤٦٥؛حدیث نمبر ٤٦٣٥)
ابن جریج کہتے ہیں(قرآن مجید کی آیت){يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: ٥٩] "اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو اور ارباب اختیار کی اطاعت کرو۔" (یہ آیت)حضرت عبد اللہ بن حزافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک لشکر میں(امیر بناکر)بھیجا تھا۔ ابن جریج نے اپنی سند کے ساتھ اس حدیث کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛غیر معصیت میں حاکم کی اطاعت واجب اور معصیت میں حرام ہے؛جلد٣ص١٤٦٥؛حدیث نمبر ٤٦٣٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٦؛حدیث نمبر ٤٦٣٧)
ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ بات نہیں کہ جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٦؛حدیث نمبر ٤٦٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے میرا حکم مانا اس نے اللہ تعالیٰ کا حکم مانا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے(مقررہ کردہ)امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٦؛حدیث نمبر ٤٦٣٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٣٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٦؛حدیث نمبر ٤٦٤٠)
مختلف سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٦؛حدیث نمبر ٤٦٤١)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٦٤٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٧؛حدیث نمبر ٤٦٤٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کرتےہیں اور اس میں فرمایا جس نے امیر کی اطاعت کی"امیری"(میرا امیر)کا لفظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٧؛حدیث نمبر ٤٦٤٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر(اپنے امیر کی)اطاعت تنگی اور فراخی،خوشی اور ناخوشی(تمام حالتوں میں)واجب ہے اور اس وقت بھی جب تم پر کسی کو ترجیح دی جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٧؛حدیث نمبر ٤٦٤٤)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں بےشک میرے خلیل(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)نے مجھے(امیر کی بات)سننے اور ماننے کا حکم دیا ہے اگرچہ وہ اعضاء بریدہ غلام ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٧؛حدیث نمبر ٤٦٤٥)
ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے اور اس میں اس طرح ہے کہ اگرچہ اعضاء بریدہ حبشی غلام ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٤٦)
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اور اس میں ہے کہ اگرچہ اعضاء بریدہ ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٤٧)
حضرت یحییٰ بن حصین فرماتے ہیں میں نے اپنے دادا کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ حجۃ الوداع کا خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے تھے اگر تم پر کوئی غلام بھی حاکم مقرر کردیا جائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٤٨)
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث منقول ہے اس میں حبشی غلام کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٤٩)
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں ناک کٹے حبشی غلام کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٥٠)
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی گئی ہے اس میں ناک کٹے حبشی غلام کا ذکر نہیں البتہ یہ اضافہ ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منی یا عرفات میں سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٥١)
حضرت ام حصین بیان کرتی ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کیا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں فرمائیں پھر میں نے سنا آپ نے فرمایا اگر تم پر کوئی ناک کٹا غلام حاکم مقرر کیا جائے(راوی کہتے ہیں میرے خیال میں آپ نے سیاہ بھی فرمایا)جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٨؛حدیث نمبر ٤٦٥٢)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر حاکم کی بات سننا اور ماننا لازم ہے پسند کرے یا نہ،البتہ یہ کہ اسے گناہ کا حکم دیا جائے،اگر اس کو گناہ کا حکم دیا جائے تو(اب)نہ سننا ہے اور نہ ماننا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٩؛حدیث نمبر ٤٦٥٣)
امام مسلم نے اس حدیث کو دو سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٩؛حدیث نمبر ٤٦٥٤)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر مقرر کیا اس نے آگ جلائی اور کہا اس میں داخل ہوجاؤ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا اور دوسروں نے کہا ہم آگ سے ہی تو بھاگے ہیں یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کی گئی تو آپ نے ان لوگوں سے جنہوں نے داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا فرمایا اگر تم اس میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے اور دوسروں کی تعریف فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں اطاعت صرف اچھے کاموں میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٩؛حدیث نمبر ٤٦٥٥)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر انصار میں سے ایک شخص کو امیر بنایا آپ نے ان لوگوں کو امیر کی بات سننے اور ماننے کا حکم دیا۔ وہ(امیر لشکر کی وجہ سے)ان پر غضب ناک ہوگیا اس نے کہا میرے لئے لکڑیاں جمع کرو انہوں نے جمع کیں پھر اس نے کہا آگ جلاؤ انہوں نے آگ جلائی اس نے کہا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے نہیں فرمایا تھا کہ تم میری بات سننا اور ماننا؟انہوں نے کہا ہاں فرمایا تھا اس نے کہا اس آگ میں داخل ہوجاؤ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا ہم آگ سے بھاگ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آے ہیں یہی صورت تھی کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور آگ بھی بجھ گئی۔ جب یہ لوگ واپس آے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ سنایا آپ نے فرمایا اگر وہ اس(آگ)میں داخل ہوتے تو اس سے(کبھی)نہ نکلتے،فرمانبرداری اچھے کاموں میں ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٦٩؛حدیث نمبر ٤٦٥٦)
امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٧٠؛حدیث نمبر ٤٦٥٧)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی کہ تنگی اور آسانی،خوشی اور ناخوشی،اور ہم پر(کسی کو)ترجیح دئے جانے کی صورت میں(یعنی ہر حالت میں)امیر کی بات سنیں گے اور مانیں گے اور ہم کسی شخص سے اس کے اقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے سچ بات کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٧٠؛حدیث نمبر ٤٦٥٨)
امام مسلم ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ٤٦٥٨ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٧٠؛حدیث نمبر ٤٦٥٩)
امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٦٥٩ کے مثل روایت نقل کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٧٠؛حدیث نمبر ٤٦٦٠)
حضرت جنادہ بن ابو امیہ فرماتے ہیں ہم حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہ بیمار تھے ہم نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو صحت عطاء فرمائے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں جس میں ہمارے لئے نفع ہو۔انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تو ہم نے آپ کی بیعت لی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن باتوں پر ہم سے بیعت لی ان میں یہ بات بھی تھی کہ ہم خوشی اور ناخوشی،تنگی اور آسانی اور جب ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے ان تمام حالتوں میں حاکم کی بات سنیں اور مانیں گے اور یہ کہ ہم کسی صاحب اقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے فرمایا ہاں یہ کہ تم کھلم کھلا کفر دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف دلیل ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ؛جلد٣ص١٤٧٠؛حدیث نمبر ٤٦٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا امام ڈھال ہے اس کی پشت پناہی میں جنگ کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے بچاؤ اختیار کیا جاتا ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دے اور انصاف کرے تو اس پر اس کو اجر ملے گا اور اس کے علاوہ بات کا حکم دے تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابٌ فِي الْإِمَامِ إِذَا أَمَرَ بِتَقْوَى اللهِ وَعَدَلَ كَانَ لَهُ أَجْرٌ؛؛جلد٣ص١٤٧١؛حدیث نمبر ٤٦٦٢)
ابو حازم کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پانچ سال رہا تو میں نے ان سے سنا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرام کرتے تھے ایک نبی کا وصال ہوتا تو دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہوجاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اور عنقریب خلفاء ہوں گے اور زیادہ ہوں گے صحابہ کرام نے پوچھا آپ اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا پہلے کی بیعت کو پورا کرو پھر جو اس کے بعد ہو اور ان کا حق ادا کرو بےشک اللہ تعالیٰ ان سے ان کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کرے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧١؛حدیث نمبر ٤٦٦٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٦٦٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧٢؛حدیث نمبر ٤٦٦٤)
امام مسلم نے متعدد اسناد کے ساتھ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میرے بعد ناحق ترجیح ہوگی اور ایسے کام ہوں گے جو تمہیں پسند نہیں ہوں گے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم میں سے جو اس حالت کو پائے اس کے لیے آپ کیا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا تم ان کا حق ادا کرو جو تمہارے ذمہ ہے اور اپنے حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧٢؛حدیث نمبر ٤٦٦٥)
عبد الرحمن بن عبد رب الکعبہ فرماتے ہیں میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کعبہ شریف کے ساے میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے میں بھی ان لوگوں کے پاس جاکر بیٹھ گیا۔انہوں نے فرمایا ہم ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ہم ایک منزل میں اترے تو ہم میں سے کچھ مسلمان خیمہ درست کرنے لگے بعض تیر اندازی کرنے لگے اور کچھ اپنے جانوروں میں رہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز دی نماز کھڑی ہونے والی ہے ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے۔ آپ نے فرمایا مجھ سے پہلے ہر نبی پر لازم تھا کہ وہ اپنی امت کی اس بھلائی کی طرف رہنمائی کرے جو اس کے علم میں(بھلائی)ہے اور جس برائی کو جانتا ہے اس سے ان کو ڈراے اور تمہاری اس امت کے پہلے لوگوں میں عافیت ہے اور بعد والے لوگوں کو مصیبتیں،آزمائش اور ایسے امور پہنچیں گے جن کو تم ناپسند کرتے ہو۔ اور ایسے فتنے ظاہر ہوں گے جن کے مقابلے میں دوسرے فتنے ہلکے معلوم ہوں گے۔ ایک فتنہ رونما ہوگا تو مومن کہے گا یہ فتنہ میری تباہی کا باعث ہے پھر وہ فتنہ دور ہوجائے گا اور دوسرا فتنہ آے گا یہی فتنہ ہے یہی فتنہ ہے۔ پس جو شخص جہنم کی آگ سے دور رہنا اور جنت میں جانا چاہتا ہے تو اسے موت اس حالت میں آے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور دوسروں کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور جو شخص کسی امام کی بیعت کرتے ہوئے اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے اور دل کی گہرائی سے بیعت کرے تو جس قدر ہوسکے اس کی اطاعت کرے اور اگر کوئی دوسرا شخص آکر اس سے جھگڑا کرے تو اس دوسرے کی گردن مار دو۔ راوی فرماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے تو انہوں نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یہ بات میرے کانوں نے سنی اور دل نے یاد رکھی ہے۔ میں نے کہا یہ آپ کے چچازاد معاویہ ہیں جو ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھائیں اور دوسرے کو ناحق قتل کریں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ایمان والو!ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر نہ کھاؤ مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے تجارت ہو اور ایک دوسرے کو قتل نہ کرو بےشک اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمانے والا ہے۔ فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ان کی بات نہ مانو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧٢؛حدیث نمبر ٤٦٦٦)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧٣؛حدیث نمبر ٤٦٦٧)
حضرت عبد الرحمن بن عبد رب کعبہ الصائدی فرماتے ہیں میں نے ایک جماعت کو کعبہ کے پاس دیکھا...... پھر حسب سابق بیان کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بالْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ، الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ؛جلد٣ص١٤٧٤؛حدیث نمبر ٤٦٦٨)
حضرت اسید بن حضیر فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص نے تنہائی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کیا آپ مجھے فلاں شخص کی طرح عامل نہیں بناتے؟آپ نے فرمایا عنقریب تم میرے بعد اپنے اوپر ترجیح دیکھو گے پس صبر کرو حتیٰ کہ حوض پر مجھ سے ملاقات کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ ظُلْمِ الْوُلَاةِ وَاسْتِئْثَارِهِمْ؛جلد٣ص١٤٧٤؛حدیث نمبر ٤٦٦٩)
حضرت اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں عرض کیا.... پھر اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٦٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ ظُلْمِ الْوُلَاةِ وَاسْتِئْثَارِهِمْ؛جلد٣ص١٤٧٣؛حدیث نمبر ٤٦٧٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ نہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے تنہائی میں عرض کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ ظُلْمِ الْوُلَاةِ وَاسْتِئْثَارِهِمْ؛جلد٣ص١٤٧٣؛حدیث نمبر ٤٦٧١)
حضرت علقمہ بن وائل حضرمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمیٰ بن یزید جعفی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے نبی!یہ بتلائے اگر ہم پر ایسے حاکم مسلط ہوں جو ہم سے اپنے حق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حقوق ادا نہ کریں تو(اس صورت میں)آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ نے اعراض فرمایا،انہوں نے پھر سوال کیا آپ نے پھر اعراض فرمایا پھر دوسری یا تیسری مرتبہ سوال کیا تو حضرت اشعث بن قیس نے ان کو اپنی طرف کھینچ لیا فرمایا سنو اور اطاعت کرو کیونکہ ان کا بوجھ ان پر اور تمہارا بوجھ تم پر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابٌ فِي طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ وَإِنْ مَنَعُوا الْحُقُوقَ؛جلد٣ص١٤٧٤؛حدیث نمبر ٤٦٧٢)
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے اس میں فرماتے ہیں کہ حضرت اشعث بن قیس نے ان کو اپنی طرف کھینچ لیا اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا سنو اور اطاعت کرو بےشک ان پر ان کا بوجھ ہے اور تم پر تمہارا بوجھ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابٌ فِي طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ وَإِنْ مَنَعُوا الْحُقُوقَ؛جلد٣ص١٤٧٥؛حدیث نمبر ٤٦٧٣)
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس ڈر سے کہ کہیں اس میں مبتلا نہ ہوجاؤں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں شر میں تھے تو اللہ تعالیٰ ہمارے پاس یہ خیر لایا تو کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں،میں نے پوچھا کیا اس شر کے بعد خیر ہوگی آپ نے فرمایا ہاں! ہوگی، اور اس میں کچھ کدورت ہوگی۔ میں نے عرض کیا وہ کدورت کیسی ہوگی آپ نے فرمایا کچھ لوگ میری سنت پر نہیں چلیں گے اور میری ہدایت کے خلاف عمل کریں گے ان میں اچھی باتیں بھی ہوں گی اور بری باتیں بھی۔ میں نے پوچھا کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگی آپ نے فرمایا ہاں! کچھ لوگ جہنم کے دروازے پر کھڑے ہوں گے اور لوگوں کو بلائیں گے جو ان کی بات مانے گااس کو جہنم میں ڈالیں گے۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ان کی صفت(پہچان)بیان کیجئے! آپ نے فرمایا: ان کا(ظاہری)رنگ ہماری طرح ہوگا اور وہ ہماری زبان بولتے ہوں گے، میں نے عرض کیا! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لئے کیا ہدایت ہے! آپ نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے وابستہ رہنا۔ میں نے عرض کیا اگر ان کی جماعت اور امام نہ ہو تو؟آپ نے فرمایا فرقوں سے الگ رہنا اگرچہ تمہیں موت آنے تک درخت کی جڑیں چبانا پڑیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٥؛حدیث نمبر ٤٦٧٤)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم لوگ برائی میں تھے تو اللہ تعالیٰ بھلائی(اسلام)لایا اور اب ہم اس میں ہیں تو کیا اس بھلائی کے بعد بھی شر ہوگی؟آپ نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا! کیا اس شر کے بعد خیر بھی ہوگی؟ فرمایا ہاں! میں نے پوچھا: کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی؟آپ نے فرمایا ہاں! میں نے عرض کیا کیسے ہوگی،آپ نے فرمایا میرے بعد حکمران ہوں گے جو میری ہدایت پر عمل نہیں کریں گے جن کے دل شیطانوں کے دلوں جیسے ہوں گے لیکن جسم انسانوں کی طرح ہوں گے میں نے عرض کیا میں اس وقت کیا کروں یا رسول اللہ!اگر میں وہ پاؤں؟ آپ نے فرمایا :امیر کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اگر تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال لے لیا جائے پھر بھی سنو اور اطاعت کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٦؛حدیث نمبر ٤٦٧٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس شخص نے اطاعت چھوڑی اور جماعت سے الگ ہوا وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو شخص اندھی تقلید میں کسی جھنڈے کے نیچے جنگ کرے یا کسی مصیبت کی بنا پر اسے غصہ آئے یا وہ مصیبت کی طرف دعوت دے یا عصبیت کی خاطر کسی کی مدد کرے اور قتل کیا جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو شخص میری امت پر خروج کرے اور اچھوں بروں سب کو قتل کرے کسی مؤمن کا لحاظ نہ کرے اور نہ کسی عہد کو پورا کرے اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٦؛حدیث نمبر ٤٦٧٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٧٦ کے مثل مروی ہے اس میں یوں ہے کہ "کسی مؤمن کی پرواہ نہ کرے"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٧؛حدیث نمبر ٤٦٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اطاعت سے نکل جائے اور جماعت سے الگ ہوجائے پھر مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو شخص اندھی تقلید کے نیچے لڑتا ہوا قتل کیا جائے جو عصبیت کی بنیاد پر غضب ناک ہوا اور عصبیت کی خاطر لڑ پڑا وہ میری امت میں سے نہیں اور میری امت کا جو شخص میری امت کے خلاف خروج کرے اور ان کے نیک و بد سب کو مارے کسی مؤمن کی پرواہ نہ کرے یا عہد کی پابندی نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٧؛حدیث نمبر ٤٦٧٨)
ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے ابن مثنی نے اپنی روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا لیکن ابن بشار نے دوسری روایتوں کی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ذکر کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٧؛حدیث نمبر ٤٦٧٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اپنے امیر سے ناپسندیدہ بات دیکھی تو اسے صبر کرنا چاہیے کیونکہ جو شخص اپنی جماعت سے ایک بالشت جدا ہوکر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٧؛حدیث نمبر ٤٦٨٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جس نے اپنے امیر سے کوئی ناپسندیدہ بات دیکھی تو اسے صبر کرنا چاہیے کیونکہ لوگوں میں سے جو شخص اپنے امیر(کی اطاعت)سے ایک بالشت بھی الگ ہوا اور پھر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٨؛حدیث نمبر ٤٦٨١)
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے کے نیچے مر گیا یعنی جو عصبیت کی دعوت دیتا تھا یا بطور عصبیت کسی کی مدد کرتا تھا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٨؛حدیث نمبر ٤٦٨٢)
حضرت نافع فرماتے ہیں جب یزید بن معاویہ کے دور میں واقعہ حرہ ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عبد اللہ بن مطیع کے پاس گئے ابن مطیع نے کہا ابو عبد الرحمن(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی کنیت)کے لئے غالیچہ بچھاؤ انہوں نے فرمایا میں تمہارے پاس بیٹھنے نہیں آیا میں اس لئے تمہارے پاس آیا ہوں کہ تمہیں ایک حدیث سناؤں جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے(حکمران کی)اطاعت سے ایک بالشت بھی ہاتھ کھینچ لیا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اس کے حق میں کوئی حجت نہیں ہوگی اور جو شخص اس حالت میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت نہیں تھی وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٨؛حدیث نمبر ٤٦٨٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ابن مطیع کے پاس گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ حدیث ذکر کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٨؛حدیث نمبر ٤٦٨٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٦٨٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر؛جلد٣ص١٤٧٨؛حدیث نمبر ٤٦٨٥)
حضرت عرفجہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا عنقریب فتنے ہوں گے سنو!جو شخص اس امت کی جمعیت کو توڑنے کا ارادہ کرے اس کو تلوار سے مار دو وہ جو بھی ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُكْمِ مَنْ فَرَّقَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مُجْتَمِعٌ؛جلد٣ص١٤٧٩؛حدیث نمبر ٤٦٨٦)
امام مسلم نے متعدد سندوں کے ساتھ اس حدیث کو حدیث نمبر ٤٦٨٦ کے مثل روایت کیا سب روایات میں(فاضربوہ کی بجائے)"فاقتلوا" ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُكْمِ مَنْ فَرَّقَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مُجْتَمِعٌ؛جلد٣ص١٤٧٩؛حدیث نمبر ٤٦٨٧)
حضرت عرفجہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب تم ایک شخص کی امامت پر متفق ہو اور وہ(تمہارے اتحاد کی)لاٹھی کو توڑنا چاہے یا تمہاری جماعت میں تفریق پیدا کرنا چاہے تو اس کو قتل کردو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُكْمِ مَنْ فَرَّقَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مُجْتَمِعٌ؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٨٨)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کردو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ؛ترجمہ؛دو خلیفوں سے بیعت کا حکم؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٨٩)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب کچھ امراء ہوں گے تم ان کی اچھی اور بری دونوں باتیں دیکھو گے جس نے برے کاموں کو پہچان لیا وہ بری الذمہ ہوگیا اور جس نے(ان برے کاموں کا)انکار کیا وہ محفوظ ہوگیا لیکن جو راضی ہوا اور ان کی پیروی کی(وہ محفوظ نہیں رہے گا) صحابہ کرام نے عرض کیا ہم ان سے لڑائی نہ لڑیں آپ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِنْكَارِ عَلَى الْأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ، وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ترجمہ؛خلاف شرع امور میں حکام کا رد کرنا واجب ہے اور جب تک نماز پڑھتے رہیں ان سے لڑنا ممنوع ہے؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٩٠)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم پر حکمران مقرر کئے جائیں گے تم ان میں اچھی باتیں بھی دیکھو گے اور بری باتیں بھی جس نے ان برے کاموں کو ناپسند کیا وہ بری ہوگیا اور جس نے ان برے کاموں کو ناپسند کیا وہ محفوظ ہوگیا لیکن جو راضی ہوا اور اس نے پیروی کی(وہ محفوظ نہ رہا)صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم ان کو قتل نہ کریں؟فرمایا نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں(مطلب یہ ہے کہ دل سے ناپسند کیا اور دل سے مسترد کیا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِنْكَارِ عَلَى الْأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ، وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٤٨١؛حدیث نمبر ٤٦٩١)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٦٩١ کے مثل مروی ہے۔ البتہ اس میں یہ فرمایا جس نے انکار کیا وہ بری ہوگیا اور جس نے ناپسند کیا وہ محفوظ ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِنْكَارِ عَلَى الْأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ، وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٩٢)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا...... اس کے بعد حدیث ٤٦٩١ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ نہیں"کہ جو راضی ہوا اور پیروی کی"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِنْكَارِ عَلَى الْأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ، وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٩٣)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں تم ان کے لئے دعائے مغفرت کرو اور وہ تمہارے لئے دعائے مغفرت کریں اور تمہارے برے حکمران وہ ہیں جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ہم ان کو تلوار کے ذریعے معزول نہ کریں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی برائی دیکھو تو ان کے عمل کو برا جانو لیکن ان کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ خِيَارِ الْأَئِمَّةِ وَشِرَارِهِمْ؛جلد٣ص١٤٨٠؛حدیث نمبر ٤٦٩٤)
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت رکھو اور وہ تم سے محبت رکھیں اور وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھیں اور تم ان کے ساتھ نماز پڑھو اور تمہارے بدترین حکمران وہ ہیں کہ تم ان سے نفرت کرو وہ تم سے نفرت کرے تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔صحابہ کرام فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا اس صورت میں ہم ان کو معزول نہ کردیں آپ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔ سنو!جن لوگوں پر کسی شخص کو حاکم بنایا گیا پھر وہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا دیکھیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی اس معصیت کو برا جانیں لیکن اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچیں۔ ابن جابر فرماتے ہیں جب رزیق بن حیان نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تو میں نے ان سے کہا اے ابو المقدام!میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں کہ تم سے یہ حدیث کسی نے بیان کی ہے یا تم نے خود مسلم بن قرظہ سے سنی ہے جو کہتے ہیں میں نے حضرت عوف سے سنی اور وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ وہ فرماتے ہیں یہ سن کر حضرت رزیق گھٹنوں کے بل جھک گئے اور قبلہ رخ ہو کر کہنے لگے اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے یہ حدیث مسلم بن قرظہ سے سنی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے عوف بن مالک سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ خِيَارِ الْأَئِمَّةِ وَشِرَارِهِمْ؛جلد٣ص١٤٨٢؛حدیث نمبر ٤٦٩٥)
امام مسلم نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث حضرت عوف بن مالک سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ وُجُوبِ الْإِنْكَارِ عَلَى الْأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ، وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٣ص١٤٨٢؛حدیث نمبر ٤٦٩٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حدیبیہ کے دن چودہ سو افراد تھے ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ(سمرہ)درخت کے نیچے آپ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے ہم نے آپ کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛ترجمہ؛جنگ کے وقت مجاہدین سے بیعت لینے کا استحباب اور بیعت رضوان کا بیان؛جلد٣ص١٤٨٣؛حدیث نمبر ٤٦٩٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر موت کی بیعت نہیں کی تھی ہم نے اس بات پر آپ کی بیعت کی تھی ہم بھاگیں گے نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٣؛حدیث نمبر ٤٦٩٨)
ابو الزبير کہتے ہیں انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا جب ان سے پوچھا گیا کہ حدیبیہ میں آپ لوگوں کی کتنی تعداد تھی انہوں نے فرمایا ہم چودہ سو افراد تھے ہم نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ہاتھ پر سمرہ درخت کے نیچے بیعت کی جد بن قیس انصاری کے علاوہ سب نے بیعت کی،وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٣؛حدیث نمبر ٤٦٩٩)
ابو الزبير فرماتے ہیں انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی؟انہوں نے فرمایا نہیں آپ نے وہاں صرف نماز پڑھی آپ نے حدیبیہ کے درخت کے سوا کسی درخت کے نیچے بیعت نہیں لی۔ ابوالزبیر فرماتے ہیں انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوے سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے کنویں پر دعا فرمائی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٣؛حدیث نمبر ٤٧٠٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حدیبیہ کے دن ہم چودہ سو افراد تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تم آج تمام اہل زمین سے بہترین لوگ ہو۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر مجھے دکھائی دیتا(چونکہ آپ نابینا ہوچکے تھے)تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٤؛حدیث نمبر ٤٧٠١)
حضرت سالم بن ابی جعد فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اصحاب شجرہ(بیعت رضوان والے صحابہ کرام)کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کفایت کرتا۔ لیکن ہم پندرہ سو تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٤؛حدیث نمبر ٤٧٠٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کفایت کرتا لیکن ہم پندرہ سو تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٤؛حدیث نمبر ٤٧٠٣)
حضرت سالم بن ابی جعد فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس دن تم کتنے تھے؟انہوں نے فرمایا چودہ سو تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٤؛حدیث نمبر ٤٧٠٤)
حضرت عبید اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اصحاب شجرہ تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧٠٥)
امام مسلم نے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧٠٦)
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے بیعت رضوان کے دن دیکھا حضور علیہ الصلاۃ والسلام لوگوں کو بیعت فرما رہے تھے اور میں درخت کی ایک شاخ کو آپ کے سر انور سے ہٹا رہا تھا اس دن ہم چودہ سو افراد تھے وہ فرماتے ہیں ہم نے آپ سے موت پر بیعت نہیں کی بلکہ اس بات پر بیعت کی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧٠٧)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧٠٨)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد بھی ان لوگوں میں تھے جو درخت کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کر رہے تھے فرماتے ہیں جب ہم اگلے سال حج کے لئے گئے تو وہ جگہ ہمیں معلوم نہ ہو سکی اگر تمہیں وہ جگہ معلوم ہو تو تم زیادہ جانتے ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧٠٩)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ بیعت رضوان کے وقت وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے پھر وہ اگلے سال اس درخت کو بھول گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٥؛حدیث نمبر ٤٧١٠)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے اس درخت کو دیکھا تھا پھر اس کے بعد وہاں آیا تو اس کو پہچان نہ سکا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٦؛حدیث نمبر ٤٧١١)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام یزید بن ابی عبیدہ کہتے ہیں میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حدیبیہ کے دن تم لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر کس چیز کی بیعت کی تھی،انہوں نے فرمایا موت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٦؛حدیث نمبر ٤٧١٢)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٦؛حدیث نمبر ٤٧١٣)
حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کے پاس کوئی شخص آیا اور کہنے لگا ابن حنظله لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں پوچھا کس چیز پر؟کہا موت پر،انہوں نے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کروں گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الْإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ، وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ؛جلد٣ص١٤٨٦؛حدیث نمبر ٤٧١٤)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حجاج کے پاس گئے تو انہوں نے پوچھا اے ابن اکوع!کیا تم اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ گئے ہو اور جنگلوں میں رہنے لگ گئے ہو؟انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگلوں میں رہنے کی اجازت دی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ تَحْرِيمِ رُجُوعِ الْمُهَاجِرِ إِلَى اسْتِيطَانِ وَطَنِهِ؛ترجمہ؛ہجرت کے بعد پھر اس جگہ کو وطن بنانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٤٨٦؛حدیث نمبر ٤٧١٥)
حضرت مجاشع بن مسعود سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کہ ہجرت پر آپ کی بیعت کروں تو آپ نے فرمایا ہجرت،اہل ہجرت کے لئے ختم ہوچکی ہے لیکن اسلام،جہاد اور بھلائی پر بیعت کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛ترجمہ؛فتح مکہ کے بعد اسلام،جہاد اور خیر پر بیعت کرنا اور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہ ہونے کی تاویل؛جلد٣ص١٤٨٧؛حدیث نمبر ٤٧١٦)
حضرت مجاشع بن مسعود سلمی فرماتے ہیں میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی ابو معبد کے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہجرت پر ان سے بیعت لیجیے آپ نے فرمایا ہجرت کے اہل لوگوں کی ہجرت ختم ہوچکی ہے میں نے عرض کیا پھر آپ کس بات پر ان کی بیعت لیں گے آپ نے فرمایا اسلام،جہاد اور بھلائی پر(بیعت لوں گا) ابو عثمان کہتے ہیں میری حضرت ابو معبد سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کو حضرت مجاشع کی بات بتائی تو انہوں نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٧؛حدیث نمبر ٤٧١٧)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ اس میں ہے کہ میری حضرت مجاشع کے بھائی سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہا اس نے سچ کہا اس میں ابو معبد کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٧؛حدیث نمبر ٤٧١٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا(اب مکہ مکرمہ سے)ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تمہیں(جہاد کے لیے)بلایا جائے تو نکلا کرو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٧؛حدیث نمبر ٤٧١٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید تین سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٨؛حدیث نمبر ٤٧٢٠)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا فتح کے بعد ہجرت نہیں البتہ جہاد اور نیت ہے اور جب تمہیں(جہاد کے لیے)بلایا جائے تو فوراً چل پڑو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٨؛حدیث نمبر ٤٧٢١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہجرت تو بہت مشکل کام ہے کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا کیا تو ان کی زکوٰۃ دیتا ہے؟اس نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا سمندر کے پار عمل کرتے رہو اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ضائع نہیں کرے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٨؛حدیث نمبر ٤٧٢٢)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کسی چیز کو ضائع نہیں کرے گا اور یہ اضافہ بھی ہے کہ جس دن اونٹنیاں گھاٹ(یا چشمے)پر آتی ہیں تو تم،لوگوں کو ان کا دودھ دوہنے کی اجازت دیتے ہو؟اس نے عرض کیا جی ہاں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُبَايَعَةِ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ، وَبَيَانِ مَعْنَى لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ؛جلد٣ص١٤٨٨؛حدیث نمبر ٤٧٢٣)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مؤمنہ عورتیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرتیں تو اس آیت کی بنا پر ان کا امتحان لیا جاتا ہے۔ "اے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)جب آپ کے پاس مؤمن عورتیں آئیں اور اس بات پر آپ سے بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کی مرتکب ہوں گی"(آخر تک) ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جن مؤمنہ عورتوں نے اس بات کا اقرار کیا انہوں نے اپنے آپ کو امتحان میں ڈال دیا اور جب وہ عورتیں ان باتوں کا اقرار کرلیتی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے جاؤ میں تمہیں بیعت کرچکا ہوں اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا آپ صرف زبان سے ان کو بیعت کرتے تھے۔ ام المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اللہ کی قسم!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان ہی باتوں کی بیعت لی جن باتوں کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک نے کسی عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا بلکہ آپ جب ان سے بیعت لیتے تو زبانی فرماتے میں نے تمہیں بیعت کرلیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ بَيْعَةِ النِّسَاءِ؛ترجمہ؛عورت کو بیعت کرنے کا طریقہ؛جلد٣ص١٤٨٩؛حدیث نمبر ٤٧٢٤)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عورتوں کی بیعت کے بارے میں بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا البتہ آپ ان سے زبانی عہد لیتے تھے جب آپ ان سے عہد لے لیتے تو فرماتے جاؤ میں نے تمہیں بیعت کرلیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَيْفِيَّةِ بَيْعَةِ النِّسَاءِ؛جلد٣ص١٤٨٩؛حدیث نمبر ٤٧٢٥)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْبَيْعَةِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَاعَ؛جلد٣ص١٤٩٠؛حدیث نمبر ٤٧٢٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے غزوہ احد میں اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ مجھے اجازت نہیں دی کیونکہ اس وقت میری عمر چودہ سال تھی اور خندق کے موقع پر پیش کیا اور اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی تو آپ نے اجازت دے دی۔ حضرت نافع فرماتے ہیں میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان دنوں وہ خلیفہ تھے میں نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا یہ صغیرہ اور کبیرہ کے درمیان حد ہے چنانچہ انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ جو شخص پندرہ سال کا ہو اس کا حصہ مقرر کریں اور جو اس سے کم عمر کا ہو اس کو بچوں میں شمار کریں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ سِنِّ الْبُلُوغِ؛جلد٣ص١٤٩٠؛حدیث نمبر ٤٧٢٧)
ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ میں چودہ سال کا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوٹا قرار دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ سِنِّ الْبُلُوغِ؛جلد٣ص١٤٩٠؛حدیث نمبر ٤٧٢٨)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے ملک میں قرآن مجید ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْكُفَّارِ إِذَا خِيفَ وُقُوعُهُ بِأَيْدِيهِمْ؛ترجمہ؛کفار کے ہاتھوں لگنے کا ڈر ہو تو قرآن مجید کو کفار کی زمین میں لے جانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٤٩٠؛حدیث نمبر ٤٧٢٩)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ سے روایت کرتےہیں کہ آپ دشمن کی سرزمین میں قرآن مجید ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرماتے تھے آپ اس بات کا خوف محسوس کرتے تھے کہ کہیں قرآن مجید دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْكُفَّارِ إِذَا خِيفَ وُقُوعُهُ بِأَيْدِيهِمْ؛جلد٣ص١٤٩١؛حدیث نمبر ٤٧٣٠)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن مجید لے کر(دشمن کے ملک میں)سفر نہ کرو کیونکہ میں اس کے دشمن کے ہاتھ لگنے سے بے خوف نہیں ہوں۔ ایوب فرماتے ہیں قرآن مجید دشمن کے ہاتھ لگ گیا تو وہ اس کے ساتھ تمہارا مقابلہ کرے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْكُفَّارِ إِذَا خِيفَ وُقُوعُهُ بِأَيْدِيهِمْ؛جلد٣ص١٤٩١؛حدیث نمبر ٤٧٣١)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں بیان کی ہیں ایک سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے خوف ہے ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں"دشمن کے ہاتھ لگنے کا خوف ہے"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ إِلَى أَرْضِ الْكُفَّارِ إِذَا خِيفَ وُقُوعُهُ بِأَيْدِيهِمْ؛جلد٣ص١٤٩١؛حدیث نمبر ٤٧٣٢)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضمار شدہ(اضمار کا مطلب یہ ہے کہ گھوڑے کا چارہ کم کر کے اسے ایک گرم جھول پہنا کر کسی کوٹھری میں بند کردیا جائے تاکہ اسے خوب پسینہ آے اور اس کا گوشت کم ہو اور زیادہ تیز دوڑ سکے)گھوڑوں میں حفیاء سے ثنیہ الوداع تک دوڑ کامقابلہ کرایا اور جن میں اضمار نہیں کیا گیا تھا ان میں ثنیہ سے مسجد زریق کا مقابلہ کرایا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی دوڑ میں حصہ لینے والوں میں شامل تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُسَابَقَةِ بَيْنَ الْخَيْلِ وَتَضْمِيرِهَا؛ترجمہ؛گھڑدوڑ میں مقابلہ اور اس کی تیاری کا بیان؛جلد٣ص١٤٩١؛حدیث نمبر ٤٧٣٣)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے متعدد اسناد کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ایک روایت میں ہے کہ میں آگے نکل گیا اور گھوڑا مجھے لے کر مسجد میں چڑھ گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْمُسَابَقَةِ بَيْنَ الْخَيْلِ وَتَضْمِيرِهَا؛جلد٣ص١٤٩٢؛حدیث نمبر ٤٧٣٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے برکت رکھی گئی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٣٥)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی پانچ سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٣٦)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے گھوڑے کی پیشانی کے بال مل رہے تھے اور فرما رہے تھے کے خیر و برکت قیامت تک گھوڑے کی پیشانی میں مرکوز ہے یعنی اجر و غنیمت۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٣٧)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٣٨)
حضرت عروہ بارقی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت تک خیر و برکت(یعنی)اجر و غنیمت گھوڑوں کی پیشانی میں باندھ دی گئی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٣٩)
حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی مرکوز ہے آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ!یہ کس صورت میں ہے فرمایا قیامت تک اجر اور غنیمت۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٣؛حدیث نمبر ٤٧٤٠)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بھی ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤١)
امام مسلم نے حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت کی سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤٢)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بھی ذکر کی ہے اس میں اجر اور غنیمت کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برکت گھوڑوں کی پیشانی میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٧٤٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شکال گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ صِفَاتِ الْخَيْلِ؛جلد٣ص١٤٩٤؛حدیث نمبر ٤٧٤٦)
ایک اور سند سے حدیث نمبر ٤٧٤٦ کے مثل مروی ہے اور عبد الرزاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ شکال وہ گھوڑا ہے جس کا دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ یا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں سفید ہو۔(اس گھوڑے کو ناپسند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاؤں میں دوڑنے کی زیادہ قوت نہیں ہوتی شرعی کراہت مراد نہیں۔)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ صِفَاتِ الْخَيْلِ؛جلد٣ص١٤٩٥؛حدیث نمبر ٤٧٤٧)
ایک اور سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٧٤٧ کے مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ صِفَاتِ الْخَيْلِ؛جلد٣ص١٤٩٥؛حدیث نمبر ٤٧٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکلے اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہے جو شخص صرف میرے راستے میں جہاد کے لئے نکلے وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہو اور میرے رسولوں کی تصدیق کرتا ہو۔ تو میں اس بات کا ضامن ہوں کہ اس کو جنت میں داخل کروں گا(یعنی شہادت کا مقام پائے گا)یا اسے اس کے گھر اجر و غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں گا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے اسے جو بھی زخم لگے گا قیامت کے دن وہ اسی حالت میں اٹھے گا جس حالت میں اسے زخم لگا تھا اس کا رنگ خون کی طرح ہوگا اور اس کی خوشبو کستوری جیسی ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں کسی جہاد کرنے والے لشکر سے پیچھے نہ رہتا۔ لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ میں ان سب کو سواریاں مہیا کرسکوں اور ان پر یہ بات گراں گزرے گی کہ وہ مجھ سے پیچھے رہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جاؤں پھر جہاد کروں اور شہید ہو جاؤں پھر جہاد کروں اور شہید ہو جاؤں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٥؛حدیث نمبر ٤٧٤٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور اس کا گھر سے نکلنا صرف اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے اور اس کے کلمہ کی تصدیق کی خاطر ہو تو اللہ تعالیٰ اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ(اگر وہ شہید ہوجائے تو)اسے جنت میں داخل کرے یا اجر و غنیمت کے ساتھ اس کو اس گھر کی طرف لوٹاے جہاں سے نکلا تھا اور اس کو اجر و غنیمت بھی عطاء فرمائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں کون زخمی ہوتا ہے تو وہ شخص قیامت کے دن اس طرح آے گا کہ اس کا زخم بہ رہا ہوگا اس کا رنگ خون کی طرح ہوگا اور خوشبو مشک کی طرح ہوگی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں ان میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو اللہ کی راہ میں جو زخم لگتا ہے قیامت تک وہ زخم اسی حالت میں ہوگا جیسا زخم لگتے وقت تھا اس سے خون ابل رہا ہوگا جس کا رنگ خون کی طرح ہوگا اور خوشبو کستوری کی طرح ہوگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے اگر میں اپنی امت پر مشقت(کا باعث)نہ سمجھتا تو میں کسی لشکر سے پیچھے بیٹھ نہ جاتا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے لیکن میرے پاس اتنی فراخی نہیں کہ ان(سب)کو سواری میسر کرسکوں اور نہ ہی گنجائش رکھتے ہیں کہ میرے ساتھ جاسکیں اور وہ مجھ سے پیچھے رہ جانے پر خوش بھی نہیں ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٧؛حدیث نمبر ٤٧٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اگر میں یہ مومنوں پر باعث مشقت نہ سمجھتا تو کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٥٣ کے مثل مروی ہے اور اسی سند کے ساتھ فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں اس کے بعد ابوزرعہ کی روایت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اپنی امت پر دشوار خیال نہ کرتا تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ کسی لشکر سے پیچھے نہ رہوں..... اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہے اس کے بعد حسب سابق ہے یہاں تک کہ فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلے میں اس سے پیچھے نہ رہتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٤٩٦؛حدیث نمبر ٤٧٥٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو شخص فوت ہوتا ہے اور اللہ کے ہاں اس کا اچھا اجر ہوتا ہے وہ اس بات کو پسند نہیں کرے گا کہ وہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور نہ یہ کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کے لئے ہو،مگر شہید تمنا کرے گا کہ وہ پھر دنیا میں جاے اور اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٨؛حدیث نمبر ٤٧٥٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ دنیا میں واپس جانا پسند نہیں کرے گا اور نہ اس بات کو کہ اسے دنیا کی ہر چیز مل جاے البتہ شہید یہ تمنا کرے گا کہ وہ پھر دنیا میں جاے اور دس بار قتل کیا جائے اس کی وجہ وہ عزت و کرامت ہے جو دیکھے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٨؛حدیث نمبر ٤٧٥٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے برابر عبادت کونسی ہے آپ نے فرمایا تم اس عبادت کی طاقت نہیں رکھتے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ کرام نے دو یا تین بار یہی سوال کیا ہر بار آپ نے یہی جواب دیا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے تیسری بار فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو روزہ دار ہو (رات کو)قیام کرنے والا ہو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے جھکنے والا(عمل کرنے والا)ہو وہ روزے اور نماز میں کمی نہ کرے حتیٰ کہ مجاہد واپس لوٹ آئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٨؛حدیث نمبر ٤٧٥٩)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٩؛حدیث نمبر ٤٧٦٠)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر شریف کے پاس تھا ایک شخص نے عرض کیا مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد صرف حجاج کرام کو پانی پلاؤں دوسرے شخص نے کہا مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد صرف مسجد حرام کو آباد کروں تیسرے شخص نے کہا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا تمہارے بیان کردہ اعمال سے افضل ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر شریف کے پاس آوازیں بلند نہ کرو۔ (فرمایا)جمعہ کا دن تھا میں جمعہ کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جس مسئلہ میں تمہارا اختلاف ہے اس کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ "کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس شخص(کے عمل)کی طرح قرار دیا جو اللہ تعالیٰ کی اور آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا۔[التوبة: ١٩] (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٩؛حدیث نمبر ٤٧٦١)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا...... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٦١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٤٩٩؛حدیث نمبر ٤٧٦٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح یا شام اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛ترجمہ؛صبح و شام اللہ کی راہ میں نکلنے کی فضیلت؛جلد٣ص١٤٩٩؛حدیث نمبر ٤٧٦٣)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا صبح کے وقت بندے کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے،سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٠؛حدیث نمبر ٤٧٦٤)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح یا شام کے وقت اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا ومافيها سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٠؛حدیث نمبر ٤٧٦٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری امت میں ایسے لوگ نہ ہو..... آگے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا البتہ صبح یا شام کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں دنیاو مافيها سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٠؛حدیث نمبر ٤٧٦٦)
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح کے وقت اللہ کی راہ میں نکلنا یا شام کے وقت نکلنا اس سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٠؛حدیث نمبر ٤٧٦٧)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٦٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٠؛حدیث نمبر ٤٧٦٨)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو سعید!جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ہونے،اسلام کے دین اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ بات اچھی لگی تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!دوبارہ فرمائے،آپ نے دوبارہ اسی طرح فرمایا پھر فرمایا ایک اور بات بھی ہے جس کے ذریعے جنت میں بندے کے ایک سو درجات بلند ہوتے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فیصلہ ہے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد،اللہ کے راستے میں جہاد۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ مَا أَعَدَّهُ اللهُ تَعَالَى لِلْمُجَاهِدِ فِي الْجَنَّةِ مِنَ الدَّرَجَاتِ؛ترجمہ؛جنت میں مجاہد کے درجات؛جلد٣ص١٥٠١؛حدیث نمبر ٤٧٦٩)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام میں کھڑے ہوکر ذکر کیا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!بتائیے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگر تم اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کیے جاؤ اور تم صبر کرنے والے،ثواب کی نیت رکھنے والے اور آگے بڑھنے والے ہو پیٹھ پھیرنے والے نہ ہو۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے کس طرح کہا تھا۔ اس نے عرض کیا آپ بتائیے اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہو جاؤں تو یہ میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں(کفارہ ہوگا)اگر تم صبر کرنے والے ثواب کی نیت کرنے والے آگے بڑھنے والے ہو پیٹھ پھیرنے والے نہ ہو البتہ قرض(معاف نہ ہوگا)حضرت جبریل علیہ السلام نے مجھ سے یہ بات کہی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ كُفِّرَتْ خَطَايَاهُ إِلَّا الدَّيْنَ؛جلد٣ص١٥٠١؛حدیث نمبر ٤٧٧٠)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک شخص نے عرض کیا مجھے بتائیے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل ہو جاؤں..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٧٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابٌ : مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُفِّرَتْ خَطَايَاهُ، إِلَّا الدَّيْنَ,جلد٣ص١٥٠١؛حدیث نمبر ٤٧٧١)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے کچھ کمی اور کچھ اضافہ کے ساتھ یہ روایت بھی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ منبر پر تھے اس نے کہا بتلائیے اگر میں اپنی تلوار سے مارا جاؤں...... اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٢؛حدیث نمبر ٤٧٧٢)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کے سوا شہید کا ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٢؛حدیث نمبر ٤٧٧٣)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہوجانا قرض کے علاوہ ہر گناہ کا کفارہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥٠٢؛حدیث نمبر ٤٧٧٤)
حضرت مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی۔(ترجمہ آیت کریمہ) "اور ان لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں،مردہ خیال نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں رزق پاتے ہیں۔" حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے بھی اس کی تفسیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی تھی تو آپ نے فرمایا ان(شہداء)کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹ میں رہتی ہیں ان کے لئے عرش میں قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں وہ جنت میں جہاں چاہیں چرتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ان کا رب ان کی طرف مطلع ہوکر فرماتا ہے تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے تو وہ کہتے ہیں ہم کس چیز کی خواہش کریں جب کہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں چرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے تین بار یہ بات دریافت فرماتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کو سوال کے بغیر چھوڑا نہیں جارہا تو عرض کرتے ہیں اے رب!ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دے حتیٰ کہ ہم دوبارہ تیرے راستے میں شہید ہوجائیں۔ جب اللہ تعالیٰ ان کی طرف دیکھتا ہے کہ ان کو کوئی حاجت نہیں تو ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَنَّهُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ؛ترجمہ؛شہداء کی ارواح جنت میں ہوتی ہے شہداء زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے؛جلد٣ص١٥٠٢؛حدیث نمبر ٤٧٧٥)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا کہ لوگوں میں افضل کون شخص ہے؟آپ نے فرمایا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرتا ہے۔ پوچھا پھر کون؟آپ نے فرمایا وہ شخص جو گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے جو اس کا رب ہے اور لوگوں کو اپنی شر سے محفوظ رکھتا ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛ترجمہ؛جہاد اور سرحدوں پر پہرہ دینے کی فضیلت؛جلد٣ص١٥٠٣؛حدیث نمبر ٤٧٧٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ لوگوں میں افضل کون شخص ہے؟آپ نے فرمایا وہ مؤمن جو اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اس نے پوچھا پھر کون؟آپ نے فرمایا وہ شخص جو لوگوں سے الگ تھلگ گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں ہو اپنے رب کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛جلد٣ص١٥٠٣؛حدیث نمبر ٤٧٧٧)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے"گھاٹی میں ایک شخص" "ثم رجل" کے الفاظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛جلد٣ص١٥٠٣؛حدیث نمبر ٤٧٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی بہترین زندگی کا طریقہ یہ ہے کہ ایک شخص گھوڑے کی لگام پکڑ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکل جائے اور اس کی پیٹ پر اڑتا پھرے جب دشمن کی آہٹ یا خوف محسوس کرے تو اس طرف نکل جائے اور قتل یا موت کی تلاش کرے یا وہ شخص جو بکریاں لے کر پہاڑ کی کسی چوٹی یا کسی وادی میں نکل جائے نماز پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اور موت آنے تک اپنے رب کی عبادت کرے اور لوگوں کے معاملات میں بھلائی کے علاوہ کسی معاملے میں نہ پڑے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛جلد٣ص١٥٠٣؛حدیث نمبر ٤٧٧٩)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اور اس میں"من ھذہ الشعاب" کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛جلد٣ص١٥٠٤؛حدیث نمبر ٤٧٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٧٧٩ کے مثل روایت کرتے ہیں اور اس حدیث میں"فی شعب من الشعاب" کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ؛جلد٣ص١٥٠٤؛حدیث نمبر ٤٧٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف دیکھ کر خوش ہوتا ہے کیونکہ ایک دوسرے آدمی کو قتل کرے گا اور یہ دونوں جنت میں جائیں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم)یہ کیسے ہوگا آپ نے فرمایا ایک شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑتے لڑتے شہید ہوگا پھر اللہ تعالیٰ قاتل کی توبہ قبول کرے گا اور وہ اسلام قبول کرلے گا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑتے لڑتے شہید ہوجائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الرَّجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ؛ترجمہ؛قاتل اور مقتول کا جنت میں داخل ہونا؛جلد٣ص١٥٠٤؛حدیث نمبر ٤٧٨٢)
ایک اور سند سے بھی یہ روایت حدیث نمبر ٤٧٨٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الرَّجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ؛جلد٣ص١٥٠٥؛حدیث نمبر ٤٧٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ دو بندوں کی طرف دیکھ کر خوش ہوتا ہے(راضی ہونا مراد ہے)ان میں سے ایک شخص دوسرے کو قتل کرے گا اور وہ دونوں جنت میں جائیں گے صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!یہ کس طرح ہوگا فرمایا یہ(ایک)شہید ہوکر جنت میں جاے گا پھر اللہ تعالیٰ دوسرے کی توبہ قبول کر کے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الرَّجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ؛جلد٣ص١٥٠٥؛حدیث نمبر ٤٧٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر اور اس کا قاتل مسلمان جہنم میں کبھی جمع نہیں ہوں گے۔(یعنی اگر مسلمان کسی جرم کی وجہ سے جہنم میں جائے گا تو ہمیشہ وہاں نہیں رہے گا یعنی عدم جمع کی مخصوص صورت مراد ہے۔) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ أَسْلَمَ؛ترجمہ؛کافر کو قتل کرنے کے بعد نیک اعمال پر قائم رہنا؛جلد٣ص١٥٠٥؛حدیث نمبر ٤٧٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دونوں جہنم میں اس طرح جمع نہیں ہوں گے کہ ایک دوسرے کو ضرر پہنچائیں پوچھا گیا یا رسول اللہ!کون؟فرمایا وہ مؤمن جس کسی کافر کو قتل کرے اور پھر نیکی پر قائم رہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ أَسْلَمَ؛جلد٣ص١٥٠٥؛حدیث نمبر ٤٧٨٦)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص اونٹنی کی مہار پکڑ کر لایا اور اس نے عرض کیا یہ اللہ کی راہ میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں قیامت کے دن اس کے بدلے میں سات سو اونٹنیاں ملیں گی ان سب کو نکیل ڈالی گئی ہوگی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ وَتَضْعِيفِهَا؛ترجمہ؛اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی فضیلت؛جلد٣ص١٥٠٥؛حدیث نمبر ٤٧٨٧)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الصَّدَقَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ وَتَضْعِيفِهَا؛جلد٣ص١٥٠٦؛حدیث نمبر ٤٧٨٨)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرا جانور ضائع ہوگیا ہے آپ مجھے کوئی سواری عنایت فرمائیں آپ نے فرمایا میرے پاس کوئی سواری نہیں۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں آپ کو ایک ایسا شخص بتاتا ہوں جو اس کو سوار کردے گا آپ نے فرمایا جو شخص کسی نیکی کا راستہ بتاے گا اس کے لیے عمل کرنے والے کے برابر ثواب ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٦؛حدیث نمبر ٤٧٨٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٦؛حدیث نمبر ٤٧٩٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلم قبیلہ کے ایک نوجوان نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں نے جہاد کا ارادہ کیا ہے لیکن میرے پاس جہاد کا سامان نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا فلاں شخص کے پاس جاؤ اس نے سامان جہاد تیار کیا تھا پھر وہ بیمار ہوگیا،چنانچہ وہ شخص اس کے پاس آیا اور کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم نے جو سامان تیار کیا ہے وہ مجھے دے دو اس نے(اپنی بیوی سے)کہا اے فلاں خاتون!جو سامان میں نے تیار کیا ہے وہ ان کو دے دیں اور اس میں سے کچھ بھی اپنے پاس نہ رکھیں اللہ تعالیٰ کی قسم!اگر تم اس میں سے کچھ اپنے پاس رکھو گی تو اس میں تمہارے لیے برکت نہ ہوگی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٦؛حدیث نمبر ٤٧٩١)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں کسی غازی کو سامان دیا اس نے(گویا)جہاد کیا اور جس شخص نے غازی کے گھر کی اچھی طرح دیکھ بھال کی اس نے بھی جہاد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٦؛حدیث نمبر ٤٧٩٢)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے کسی مجاہد کے لئے سامان مہیا کیا اور جس نے کسی مجاہد کے گھر کی دیکھ بھال کی اس نے بھی جہاد کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٧؛حدیث نمبر ٤٧٩٣)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہذیل(قبیلہ)کی شاخ بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا(ہر گھر میں سے)دو مردوں میں سے ایک نکلے اور ثواب دونوں کو ملے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٧؛حدیث نمبر ٤٧٩٤)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٩٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٧؛حدیث نمبر ٤٧٩٥)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٧؛حدیث نمبر ٤٧٩٦)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو لحیان کی طرف لشکر بھیجا اور فرمایا ہر دو مردوں میں سے ایک نکلے پھر پیچھے رہنے والوں سے فرمایا تم میں سے جو بھی جہاد پر جانے والوں کے گھر اور مال کی اچھی طرح حفاظت کرے گا اسے جانے والے شخص کا آدھا اجر ملے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ إِعَانَةِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللهِ بِمَرْكُوبٍ وَغَيْرِهِ، وَخِلَافَتِهِ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ؛جلد٣ص١٥٠٧؛حدیث نمبر ٤٧٩٧)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھروں میں بیٹھنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی عزت اسی طرح ہے جس طرح ان کی اپنی ماؤں کی عزت و حرمت ہے اور پیچھے رہنے والوں میں سے جو کسی مجاہد کے گھر کی دیکھ بھال رکھے اور پھر ان میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد اس کے مال سے جو کچھ چاہے گا لے لےگا اب تمہارا کیا خیال ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُرْمَةِ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ، وَإِثْمِ مَنْ خَانَهُمْ فِيهِنَّ؛ترجمہ؛مجاہدین کی عورتوں کی عزت اور ان میں خیانت کا گناہ؛جلد٣ص١٥٠٨؛حدیث نمبر ٤٧٩٨)
حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.........اس کے بعد حدیث نمبر ٤٧٩٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُرْمَةِ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ، وَإِثْمِ مَنْ خَانَهُمْ فِيهِنَّ؛جلد٣ص١٥٠٨؛حدیث نمبر ٤٧٩٩)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یوں ہے کہ مجاہد سے کہا جائے گا جو چاہو لے لو پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھ کر فرمایا اب تمہارا کیا خیال ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ حُرْمَةِ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ، وَإِثْمِ مَنْ خَانَهُمْ فِيهِنَّ؛جلد٣ص١٥٠٨؛حدیث نمبر ٤٨٠٠)
حضرت اسحاق کہتے ہیں انہوں نے حضرت براء سے سنا وہ اس آیت کے بارے میں فرماتے تھے۔ "مومنوں میں سے(گھروں میں) بیٹھنے والے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے برابر نہیں"[النساء: ٩٥] کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ایک شانہ کی ہڈی لے کر آئیں وہ بازو لے کر آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنی نابینائی کی شکایت کی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ مومنوں میں سے گھروں میں بیٹھنے والے(مجاہدین کے)برابر نہیں،ماسوائے معذور لوگوں کے"[النساء: ٩٥] ایک اور سند کے ساتھ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر اسی طرح مذکور ہے ایک اور سند سے بھی ان سے اسی طرح مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ سُقُوطِ فَرْضِ الْجِهَادِ عَنِ الْمَعْذُورِينَ؛ترجمہ؛معذور لوگوں سے جہاد ساقط ہونا؛جلد٣ص١٥٠٨؛حدیث نمبر ٤٨٠١)
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: ٩٥] ("گھروں میں) بیٹھنے والے مومن(اور جہاد کرنے والے) برابر نہیں" تو حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ السلام سے گفتگو کی اس پر "(ما سوا معذوروں کے)الفاظ نازل ہوۓ۔ (جو لوگ کسی عزر کی وجہ سے جہاد کے لیے نہیں جا سکے ان کو اجر ملے گا البتہ بلا عذر نہ جانے والے کے بارے میں کہا گیا کہ ان کا وہ مقام نہیں جو مجاہدین کا ہوگا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ سُقُوطِ فَرْضِ الْجِهَادِ عَنِ الْمَعْذُورِينَ؛جلد٣ص١٥٠٩؛حدیث نمبر ٤٨٠٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!اگر میں شہید ہو جاؤں تو کہاں ہوں گا؟آپ نے فرمایا"جنت میں"اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کھجوریں پھینک دیں پھر لڑتے لڑتے شہید ہو گیا۔حضرت سوید کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛ترجمہ؛شہید کے لئے جنت کا ثبوت؛جلد٣ص١٥٠٩؛حدیث نمبر ٤٨٠٣)
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو نبیث کا ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں۔پھر آگے بڑھ کر لڑا حتیٰ کہ شہید ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص نے بہت کم عمل کیا اور اس کو اجر زیادہ دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛جلد٣ص١٥٠٩؛حدیث نمبر ٤٨٠٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو ابوسفیان کے قافلے کی خبر لانے کے لئے بھیجا جب وہ واپس آیا تو گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہیں تھا(راوی کہتے ہیں)مجھے یاد نہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ السلام کی بعض ازواج مطہرات کا استثناء کیا یا نہیں۔ حضرت انس کہتے ہیں اس جاسوس نے آکر رپورٹ پیش کی پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا ہمیں ایک چیز کی طلب ہے پس جس شخص کی سواری حاضر ہو وہ ہمارے ساتھ سوار ہوکر چلے۔ بعض صحابہ کرام نے آپ سے اجازت طلب کی کہ مدینہ طیبہ کے بالائی مقام سے اپنی سواریاں لے آئیں آپ نے فرمایا نہیں صرف وہی لوگ چلیں جن کی سواریاں موجود ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام چلے حتیٰ کہ مشرکین سے پہلے"بدر"میں پہنچ گئے پھر مشرکین بھی آگئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص میرے بغیر پیش قدمی نہ کرے مشرکین قریب آگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی میں آسمان اور زمین سماے ہیں۔ حضرت عمیر بن حمام انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!جنت کا عرض آسمان اور زمین ہے آپ نے فرمایا ہاں،اس نے کہا واہ،واہ آپ نے فرمایا یہ کلمہ تحسین کس وجہ سے کہا ہے اس نے کہا یا رسول اللہ!اللہ کی قسم!اس امید پر کہا کہ میں بھی جنتیوں میں سے ہوجاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اہل جنت میں سے ہو حضرت عمیر نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکال کر انہیں کھانا شروع کیا پھر کہا اگر میں کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو یہ لمبی زندگی ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے کھجوروں کو پھینکا پھر لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ (اس حدیث سے یہ درس ملتا ہے کہ نیکی کے کاموں میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیا پتہ موت کس وقت آجائے۔) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛جلد٣ص١٥١٠؛حدیث نمبر ٤٨٠٥)
حضرت عبد اللہ بن قیس فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کے دروازے تلواروں کے ساے میں ہیں(یہ سن کر)ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہا اے ابو موسیٰ کیا آپ نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟انہوں نے کہا ہاں۔ وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا میں تمہیں"السلام علیکم"کہتا ہوں پھر اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینک دی اور اپنی تلوار لے کر دشمنوں میں گھس گیا حتیٰ کہ شہید کردیا گیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛جلد٣ص١٥١١؛حدیث نمبر ٤٨٠٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہمارے ساتھ کچھ افراد کو بھیجیں جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دیں آپ نے ان کی طرف انصار کے ستر افراد بھیجے جن کو قراء کہا جاتا تھا(حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں)ان میں میرے ماموں حضرت حرام بھی تھے۔ یہ لوگ(رات کے وقت)قرآن مجید پڑھتے اور درس و تدریس میں مصروف رہتے اور سیکھتے جب کہ دن کے وقت پانی لاتے اور پانی مسجد میں رکھ دیتے لکڑیاں لاکر بیچتے اور اس کے عوض اصحاب صفہ اور فقراء کے لئے کھانا لاتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اصحاب صفہ کو کفار کی طرف بھیجا لیکن انہوں نے منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی ان پر حملہ کرکے شہید کردیا۔ اس وقت انہوں نے کہا یا اللہ!ہماری طرف سے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دے کہ ہم نے تجھ سے ملاقات کرلی ہے پس ہم تجھ سے راضی ہوئے اور تو ہم سے راضی ہوا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے میرے ماموں حضرت حرام رضی اللہ عنہ کے پیچھے سے آکر نیزہ مارا کہ آر پار ہوگیا تو حضرت حرام نے فرمایا رب کعبہ کی قسم!میں کامیاب ہوگیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا تمہارے بھائی قتل کر دئے گئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے یا اللہ ہماری طرف سے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچا دے کہ بے شک ہم نے تجھ سے ملاقات کرلی پس ہم تجھ سے راضی ہوئے اور تو ہم سے راضی ہوا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛جلد٣ص١٥٠٩؛حدیث نمبر ٤٨٠٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ چچا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا ہے بدر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر نہیں ہو ۓ اور یہ غیر حاضر ان پر بہت شاق گزری اور کہنےلگے یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور میں اس سے غیر حاضر رہا اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجھے کوئی معرکہ دکھایا تو اللہ تعالیٰ دکھاۓگا کہ میں کیا کرتا ہوں وہ ان کلمات کے علاوہ کوئی بات کہنے سے ڈرے۔پھر وہ غزوہ احد میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آرہے تو(میرے چچا)حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو عمرو!کہاں جارہے ہو؟انہوں نے کہا مجھے احد کے پہاڑوں سے جنت کی خوشبو ارہی ہے فرماتے ہیں پھر وہ کفار کے خلاف لڑائی میں گھس گئے حتیٰ کہ شہید ہوگئے چنانچہ ان کے جسم میں تلواروں،نیزوں اور تیروں کے اسی سے زیادہ زخم پاے گئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی بہن(میری پھوپھی)الربیع بنت نضر فرماتی ہیں میں نے اپنے بھائی کی لاش کو انگلیوں کے پوروں سے پہچانا اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ "کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا پس ان میں سے بعض اپنی نذر پوری کر چکے ہیں اور بعض منتظر ہیں اور انہوں نے (اپنے وعدے میں)کوئی تبدیلی نہیں کی۔"[الأحزاب: ٢٣] حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت(ان کے چچا)حضرت انس اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثُبُوتِ الْجَنَّةِ لِلشَّهِيدِ؛جلد٣ص١٥١٢؛حدیث نمبر ٤٨٠٨)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ!کوئی شخص مال غنیمت کے لئے لڑتا ہے کوئی شخص اپنی شہرت کے لئے لڑتا ہے کوئی شخص اپنی شجاعت کے جوہر دکھانے کے لئے لڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں(لڑنے والا)کون ہے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو وہی(در حقیقت)اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑنے والا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥١٢؛حدیث نمبر ٤٨٠٩)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو شجاعت کے لئے لڑتا ہے اور ایک شخص جو تعصب کی بنیاد پر لڑتا ہے اور ایک شخص ریاکاری کے طور پر لڑتا ہے ان میں سے کون اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥١٣؛حدیث نمبر ٤٨١٠)
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم میں سے ایک شخص اظہار شجاعت کے لئے لڑتا ہے اس کے بعد حدیث نمبر ٤٨١٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥١٣؛حدیث نمبر ٤٨١١)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے بارے میں سوال کیا اور کہا کہ ایک شخص غضب کی بنیاد پر لڑتا ہے اور کوئی شخص تعصب کی وجہ سے لڑتا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور آپ نے صرف اس لئے سر اٹھا کر دیکھا کہ وہ شخص کھڑا تھا پھر فرمایا جوشخص اس لئے لڑتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں(لڑتا)ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ؛جلد٣ص١٥١٣؛حدیث نمبر ٤٨١٢)
حضرت سلیمان بن یسار کہتے ہیں جب لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بچھڑ گئے تو اہل شام میں سے ناتل نامی ایک شخص نے کہا اے شیخ!آپ ہمیں وہ حدیث سنائے جو آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی انہوں نے فرمایا ہاں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قیامت کے دن جس شخص کا سب سے پہلے فیصلہ ہوگا وہ شہید ہوگا اس کو لایا جاے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو نعمتوں کی پہچان کرائے گا وہ پہچان لے گا اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا وہ کہے گا میں تیرے راستے میں لڑا حتیٰ کہ شہید ہوا اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے جھوٹ کہا تو صرف اس لئے لڑا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے اور وہ تمہیں کہا گیا پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور ایک شخص نے علم سکھایا اور قرآن مجید پڑھا ہوگا اسے لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے نعمتوں کی پہچان کرائے گا وہ پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے اس سلسلے میں کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا اور دوسروں کو سکھایا اور تیرے لئے قرآن مجید پڑھا اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے جھوٹ کہا تم نے اس لیے علم حاصل کیا کہ لوگ تمہیں عالم کہیں اور قرآن کی قرأت کی تاکہ تجھے قاری کہا جائے اور وہ کہا گیا پس اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے(مالی)کشادگی عطاء کی اور ہر قسم کا مال عطاء کیا اس کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے نعمتوں کی پہچان کراے گا وہ پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے ان نعمتوں میں کیا عمل کیا۔وہ کہے گا میں نے ہر اس راستے میں خرچ کیا جہاں خرچ کیا جانا تجھے پسند ہے اللہ تعالیٰ فرماے گا تو نے جھوٹ کہا تو نے یہ عمل اس لئے کیا کہ تجھے سخی کہا جائے اور وہ کہا گیا پھر حکم دیا جائے گا تو اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِلرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ اسْتَحَقَّ النَّارَ؛جلد٣ص١٥١٣؛حدیث نمبر ٤٨١٣)
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ جب لوگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے چھٹ گئے تو شام کے ایک ناتل نامی شخص نے کہا:اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ (مسلم شریف کتاب الامارۃ،بَابٌ : مَنْ قَاتَلَ لِلرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ اسْتَحَقَّ النَّارَ،حدیث نمبر ٤٨١٤)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لشکر اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے جاتا ہے اور ان لوگوں کو مال غنیمت حاصل ہوتا ہے اسے اجر آخرت کا دو تہائی حصہ مل جاتا ہے اور ان کے لئے ایک تہائی باقی رہتا ہے اور اگر ان کو مال غنیمت نہ ملے تو ان کا اجر پورا ہو جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ قَدْرِ ثَوَابِ مَنْ غَزَا فَغَنِمَ، وَمَنْ لَمْ يَغْنَمْ؛جلد٣ص١٥١٤؛حدیث نمبر ٤٨١٥)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس غزوہ یا لشکر کے لوگ جہاد کریں اور ان کو مال غنیمت مل جائے اور سلامتی سے لوٹ آئیں ان کو دو تہائی اجر فوری طور پر مل جاتا ہے اور جس غزوہ یا لشکر کے لوگ خالی لوٹ آئیں اور نقصان اٹھائیں ان کو آخرت میں پورا اجر ملے گا۔(اگرچہ دنیا میں کچھ نہ ملا لیکن آخرت میں دو تہائی کی بجائے پورے اجر کے مستحق ہوں گے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ قَدْرِ ثَوَابِ مَنْ غَزَا فَغَنِمَ، وَمَنْ لَمْ يَغْنَمْ؛جلد٣ص١٥١٥؛حدیث نمبر ٤٨١٦)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال(کے ثواب)کا دارو مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کے لئے ہو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو تو اس کی ہجرت اس کی طرف ہی(معتبر)ہوگی جس کی طرف ہجرت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ»، وَأَنَّهُ يَدْخُلُ فِيهِ الْغَزْوُ وَغَيْرُهُ مِنَ الْأَعْمَالِ؛جلد٣ص١٥١٦؛حدیث نمبر ٤٨١٧)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید چھ سندیں ذکر کی ہیں بعض احادیث میں یوں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہوکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ»، وَأَنَّهُ يَدْخُلُ فِيهِ الْغَزْوُ وَغَيْرُهُ مِنَ الْأَعْمَالِ؛جلد٣ص١٥١٦؛حدیث نمبر ٤٨١٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سچے دل سے شہادت طلب کرے اسے شہادت کا ثواب دیا جاتا ہے اگرچہ وہ شہادت حاصل نہ کر سکے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ طَلَبِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٥١٧؛حدیث نمبر ٤٨١٩)
حضرت سہل بن حنیف فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سچے دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے شہادت کا سوال کرے اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مقام تک پہنچا دیتا ہے اگرچہ اپنے بستر پر فوت ہوجائے۔ابو الطاہر کی روایت میں"صدق"(سچے دل)کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ طَلَبِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٣ص١٥١٧؛حدیث نمبر ٤٨٢٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ اس نے جہاد نہ کیا اور نہ اس کے دل میں اس کی تمنا پیدا ہوگی تو اس کی موت منافقت کے ایک شعبہ پر ہوگی حضرت عبد اللہ بن مبارک کہتے ہیں ہمارے خیال میں یہ حکم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ساتھ خاص تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ذَمِّ مَنْ مَاتَ، وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِالْغَزْوِ؛جلد٣ص١٥١٧؛حدیث نمبر ٤٨٢١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ میں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو آپ نے فرمایا مدینہ طیبہ میں کچھ لوگ ہیں تم جس راستے پر چلتے،جس وادی کو طے کرتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں ان کو بیماری نے روک رکھا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثَوَابِ مَنْ حَبَسَهُ عَنِ الْغَزْوِ مَرَضٌ أَوْ عُذْرٌ آخَرُ؛جلد٣ص١٥١٨؛حدیث نمبر ٤٨٢٢)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں ہے کہ وہ تمہارے ساتھ ثواب میں شریک ہوتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ ثَوَابِ مَنْ حَبَسَهُ عَنِ الْغَزْوِ مَرَضٌ أَوْ عُذْرٌ آخَرُ؛جلد٣ص١٥١٨؛حدیث نمبر ٤٨٢٣)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا(حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ)کے پاس تشریف لے جاتے اور وہ آپ کو کھانا کھلاتی تھیں حضرت ام حرام،حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا پھر آپ کے سر انور میں ہاتھ پھیرنے لگیں اور آپ آرام فرما ہوگئے پھر آپ بیدار ہوے تو مسکرا رہے تھے حضرت ام حرام فرماتی ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟آپ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کئے گئے وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں اور وہ کشتیوں پر سوار بادشاہ یا بادشاہوں کی مثل سوار سمندر میں جارہے ہیں(راوی کو شک ہے کہ بادشاہ یا بادشاہ کی مثل فرمایا) حضرت ام حرام فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کردے آپ نے ان کے لئے دعا فرمائی۔ پھر آپ سر انور رکھ کر سو گئے پھر بیدار ہوے تو مسکرارہے ہیں فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں،مجھ پر پیش کیے گئے جس طرح پہلے فرمایا تھا،فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے کردے آپ نے فرمایا تم پہلوں میں سے ہو پس حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سمندر(کے جہاد)میں سوار ہوئیں اور جب ندر سے نکلیں تو گر کر فوت ہوگئیں۔(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ آئندہ پیش آنے والے امور پرمطلع فرما دیتا تھا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥١٨؛حدیث نمبر ٤٨٢٤)
حضرت انس بن مالک اپنی خالہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے ہمارے یہاں قیلولہ فرمایا(دو پہر کو آرام فرمایا)آپ بیدار ہوے تو مسکرا رہے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ کیوں مسکرا رہے ہیں میرے ماں باپ اور پر قربان ہوں،پھر آپ نے فرمایا مجھے ایک قوم دکھائی گئی ہے جو میری امت میں سے ہے وہ سمندر میں اس طرح سواری کر رہے ہیں جس طرح بادشاہ اپنے تختوں پر ہوتے ہیں۔ حضرت ام حرام فرماتی ہیں میں نے عرض کیا(یا رسول اللہ)اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے آپ نے فرمایا تم ان میں سے ہو فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر آرام فرما ہوے جب بیدار ہوے تو مسکرا رہے تھے میں نے پوچھا تو پہلے کی طرح فرمایا میں نے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان لوگوں میں سے کردے آپ نے فرمایا تم پہلے گروہ میں سے ہو۔ اس کے بعد حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کرلیا اور انہوں نے سمندر کے راستے کے جہاد کیا اور حضرت ام حرام کو بھی ساتھ لے گئے جب وہ واپس لوٹیں تو خچر ان کے قریب کی گئی وہ سوار ہوئیں تو خچر نے ان کو گرا دیا جس سے ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥١٩؛حدیث نمبر ٤٨٢٥)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی خالہ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے ہاں آرام فرما ہوۓ پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟آپ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے وہ اس سبز سمندر پر سوار ہوکر جائیں گے اس کے بعد حدیث نمبر ٤٨٢٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥١٩؛حدیث نمبر ٤٨٢٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انکی خالہ بنت ملحان کے پاس تشریف لائے اور وہاں سر انور رکھ کر سو گئے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤٨٢٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الْغَزْوِ فِي الْبَحْرِ؛جلد٣ص١٥٢٠؛حدیث نمبر ٤٨٢٧)
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرا دینا،ایک مہینے کے روزے اور قیام سے زیادہ بہتر ہے اور اگر وہ مر جاے تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کرتا تھا اور اس کا رزق بھی جاری کیا جائے گا اور اس کو قبر کے فتنوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّبَاطِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٣ص١٥٢٠؛حدیث نمبر ٤٨٢٨)
حضرت سلمان خیر نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث نمبر ٤٨٢٨ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرِّبَاطِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٣ص١٥٢٠؛حدیث نمبر ٤٨٢٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص کہیں جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک خاردار شاخ دیکھی تو اس نے اس کو وہاں سے ہٹا دیا اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اس کو بخش دیا پھر آپ نے فرمایا شہداء پانچ قسم کے لوگ ہیں۔ (١)طاعون کی بیماری میں مرنے والا۔ (٢)پیٹ کی بیماری میں مرنے والا۔ (٣)ڈوبنے والا۔ (٤)کسی چیز کے نیچے دب کر مرنے والا۔ (٥)اللہ کے راستے میں شہید ہونے والا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛ترجمہ؛شہداء کا بیان؛جلد٣ص١٥٢١؛حدیث نمبر ٤٨٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کس کو شہید سمجھتے ہو؟صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے آپ نے فرمایا اس وقت میری امت کے شہداء بہت کم ہوں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر وہ کون لوگ ہیں؟آپ نے فرمایا جو شخص اللہ کے راستے میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے اور جو اللہ کی راہ میں مر جائے وہ شہید ہے جو طاعون کی بیماری میں فوت ہوجائے وہ شہید ہے جو پیٹ کی بیماری سے مر جائے وہ شہید ہے۔ ابن مقسم فرماتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ تمہارے باپ نے یہ بھی کہا تھا کہ جو ڈوب کر مر جائے وہ بھی شہید ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛جلد٣ص١٥٢١؛حدیث نمبر ٤٨٣١)
عبید اللہ بن مقسم نے کہا میں تیرے بھائی پر گواہی دیتا ہوں اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ جو غرق ہوجائے وہ بھی شہید ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛جلد٣ص١٥٢١؛حدیث نمبر ٤٨٣٢)
امام مسلم نے ایک اور سند سے یہ حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے کہ جو غرق ہوجائے وہ شہید ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛جلد٣ص١٥٢١؛حدیث نمبر ٤٨٣٣)
حضرت حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ حضرت یحییٰ بن ابی عمرہ کس سبب سے فوت ہوئے فرماتی ہیں میں نے کہا طاعون سے،فرماتی ہیں انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طاعون پر مسلمان کی شہادت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٤)
امام مسلم نے اس حدیث کو ایک اور سند سے بھی بیان کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ بَيَانِ الشُّهَدَاءِ؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٥)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ منبر پر فرما رہے تھے۔ "{وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} [الأنفال: ٦٠] "کفار کے خلاف جس قدر ممکن ہو طاقت حاصل کرو" سنو!قوت تیر اندازی ہے سنو!قوت تیر اندازی ہے سنو!قوت تیر اندازی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ، وَذَمِّ مَنْ عَلِمَهُ ثُمَّ نَسِيَهُ؛ترجمہ؛تیر اندازی کی فضیلت؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٦)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب فتوحات حاصل ہوں گی پس تم میں سے کوئی شخص تیر اندازی کی مشق سے غافل نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ، وَذَمِّ مَنْ عَلِمَهُ ثُمَّ نَسِيَهُ؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٧)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٨٣٧ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ، وَذَمِّ مَنْ عَلِمَهُ ثُمَّ نَسِيَهُ؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٨)
حضرت عبد الرحمن بن شماسہ بیان کرتے ہیں کہ فقیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر سے کہا آپ بوڑھے ہونے کے باوجود دو نشانوں کے درمیان آ جاتے ہیں یہ چیز آپ پر دشوار ہوگئی۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تو میں یہ مشقت نہ اٹھاتا۔ (حارث بن یعقوب فرماتے ہیں)میں نے ابن شماسہ سے پوچھا وہ کیا حدیث ہے؟انہوں نے کہا آپ نے فرمایا جو شخص تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس کو ترک کردے وہ ہم میں سے نہیں یا فرمایا کہ اس نے نافرمانی کی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ فَضْلِ الرَّمْيِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ، وَذَمِّ مَنْ عَلِمَهُ ثُمَّ نَسِيَهُ؛جلد٣ص١٥٢٢؛حدیث نمبر ٤٨٣٩)
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا جو شخص اس کو رسوا کرنا چاہے گا وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا وہ اسی حالت پر رہیں گے کہ قیامت آجائے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٣؛حدیث نمبر ٤٨٤٠)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا حتیٰ کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا حکم(قیامت)آجائے اور وہ اسی حالت میں ہوں گے(غالب ہوں گے)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٣؛حدیث نمبر ٤٨٤١)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا..... اس کے بعد حدیث نمبر ٤٨٤١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٣؛حدیث نمبر ٤٨٤٢)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین ہمیشہ قائم رہے گا حتیٰ کہ مسلمانوں کی ایک جماعت اس دین کی خاطر قیامت تک جہاد کرے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٤؛حدیث نمبر ٤٨٤٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کا ایک گروہ دین حق کی خاطر ہمیشہ جنگ کرتا رہے گا اور وہ ہمیشہ لوگوں پر غالب رہیں حتیٰ کہ قیامت آجائے گی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٤؛حدیث نمبر ٤٨٤٤)
حضرت عمیر بن ہانی کہتے ہیں میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا ان کو رسوا کرنے یا مخالفت کرنے والا ان کو کچھ نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم(قیامت)آجائے اور وہ غالب رہیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٤؛حدیث نمبر ٤٨٤٥)
یزید بن اصم کہتے ہیں میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا یہ حدیث میں نے کسی اور سے منبر پر نہیں سنی انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطاء کرتا ہے۔ اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور وہ اپنے مخالفین پر قیامت تک قائم رہیں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٤؛حدیث نمبر ٤٨٤٦)
عبد الرحمن شماسہ مہری فرماتے ہیں میں حضرت مسلم بن مخلد کے پاس تھا اور ان کے پاس حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قیامت بدترین مخلوق پر قائم ہوگی۔وہ اہل جاہلیت میں سے بدترین لوگ ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کی دعا کریں گے اللہ تعالیٰ اسے رد کردے گا۔ اسی دوران حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ آے تو حضرت مسلم نے ان سے کہا اے عقبہ!سنو!حضرت عبد اللہ کیا فرمارہے ہیں حضرت عقبہ نے کہا وہ زیادہ جانتے ہیں لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم کی خاطر لڑتا رہے گا اور وہ اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے ان کے مخالفین ان کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکیں گے وہ اسی حالت پر رہیں گے حتیٰ کہ قیامت آجائے گی۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں پھر اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس کی خوشبو کستوری کی طرح ہوگی اور چھونے میں ریشم کی طرح ہوگی اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا وہ اس کو قبض کرلےگی پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور ان پر قیامت قائم ہوگی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٤؛حدیث نمبر ٤٨٤٧)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل مغرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے حتیٰ کہ قیامت قائم ہوجائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛ بَابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ»؛جلد٣ص١٥٢٥؛حدیث نمبر ٤٨٤٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہریالی میں سفر کرو تو اونٹوں کو زمین سے ان کا حصہ دو اور جب تم خشک سالی(قحط)کے موسم میں سفر کرو تو ان کو تیز تیز چلاؤ اور جب تم رات کے آخری حصے میں اترو تو راستے سے بچو کیونکہ رات کے وقت یہ حشرات الارض(کیڑے مکوڑے)کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مُرَاعَاةِ مَصْلَحَةِ الدَّوَابِّ فِي السَّيْرِ، وَالنَّهْيِ عَنِ التَّعْرِيسِ فِي الطَّرِيقِ؛جلد٣ص١٥٢٥؛حدیث نمبر ٤٨٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم سر سبز و شاداب جگہ میں سفر کرو تو اس سے اونٹوں کو ان کا حق دو اور جب قحط زدہ علاقہ میں سفر کرو تو ان کو جلدی جلدی لے جاؤ تاکہ وہ کمزور نہ ہو جائیں اور جب رات کے آخری حصے میں اترو تو راستے میں ٹھہرنے سے بچو کیونکہ وہ جانوروں اور حشرات الارض کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ مُرَاعَاةِ مَصْلَحَةِ الدَّوَابِّ فِي السَّيْرِ، وَالنَّهْيِ عَنِ التَّعْرِيسِ فِي الطَّرِيقِ؛جلد٣ص١٥٢٥؛حدیث نمبر ٤٨٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے وہ تمہیں سونے،کھانے اور پینے سے روکتا ہے پس جب تم میں سے کوئی شخص اپنا کام پورا کرلے تو گھر آنے میں جلدی کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ الْمُسَافِرِ إِلَى أَهْلِهِ بَعْدَ قَضَاءِ شُغْلِهِ؛جلد٣ص١٥٢٦؛حدیث نمبر ٤٨٥١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اپنے گھر تشریف لاتے تھے بلکہ آپ صبح یا شام کے وقت تشریف لاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٧؛حدیث نمبر ٤٨٥٢)
ایک اور سند سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٨٥٢ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں(لا یطرق کی جگہ)لا یدخل ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٧؛حدیث نمبر ٤٨٥٣)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے جب ہم مدینہ طیبہ میں داخل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا ٹھہرو تاکہ بکھرے ہوئے بالوں والی اپنے بال درست کرے اور جس کا شوہر غائب تھا وہ اپنے زیر ناف بال صاف کر لے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٧؛حدیث نمبر ٤٨٥٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک رات کے وقت آے تو اچانک جاکر دروازہ نہ کھٹکھٹاے بلکہ(اتنی تاخیر کرے کہ)جس عورت کا شوہر غائب تھا وہ اپنے زیر ناف بال صاف کرلے اور جس کے بال بکھرے ہوئے ہوں وہ ان کو ٹھیک کرلے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٧؛حدیث نمبر ٤٨٥٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٨٥٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٧؛حدیث نمبر ٤٨٥٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کی اپنے گھر سے غیر حاضری طویل ہوجائے تو وہ اچانک رات کے وقت گھر نہ جاے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٨؛حدیث نمبر ٤٨٥٧)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٤٨٥٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٨؛حدیث نمبر ٤٨٥٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی رات کے وقت گھر پہنچے اور ان کا تجسس کرے یا ان کی کمزوریوں پر مطلع ہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٨؛حدیث نمبر ٤٨٥٩)
ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں راوی کہتے ہیں کہ گھر میں تجسس کرے یا ان کمزوریوں پر مطلع ہو"کے الفاظ کے بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ حدیث میں ہیں یا نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٨؛حدیث نمبر ٤٨٦٠)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کو اچانک گھر آنے کی کراہت نقل کرتے ہیں اور آخری الفاظ یعنی حالات کا تجسس اور گھر والوں کی کمزوریوں پر اطلاع ذکر نہیں کرتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْإِمَارَةِ؛بَابُ كَرَاهَةِ الطُّرُوقِ، وَهُوَ الدُّخُولُ لَيْلًا، لِمَنْ وَرَدَ مِنْ سَفَرٍ؛جلد٣ص١٥٢٨؛حدیث نمبر ٤٨٦١)
Muslim Shareef : Kitabul Imarate
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْإِمَارَۃِ
|
•