
*قربانیوں کا بیان* حضرت جندب بن سفیان فرماتے ہیں میں عید الاضحٰی کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ نے جوں ہی نماز سے فارغ ہوکر سلام پھیرا تو قربانیوں کا گوشت دیکھا جو نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی ذبح کی تھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز سے پہلے یا ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے اپنی قربانیوں کے جانور ذبح کئے وہ ان کی جگہ دوسرے جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کئے وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛ترجمہ؛قربانیوں کا بیان؛بَابُ وَقْتِهَا؛ترجمہ؛قربانی کا وقت؛جلد٣ص١٥٥١؛حدیث نمبر ٤٩٥٤)
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو ذبح کی ہوئی بکری دیکھی آپ نے فرمایا جس نے نماز سے پہلے ذبح کی ہے وہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥١؛حدیث نمبر ٤٩٥٥)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٢؛حدیث نمبر ٤٩٥٦)
حضرت جندب البجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا آپ نے عید الاضحٰی کے دن نماز پڑھانے کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا وہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٢؛حدیث نمبر ٤٩٥٧)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٢؛حدیث نمبر ٤٩٥٨)
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ماموں حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کردی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک بکری کا گوشت ہے حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے پاس بکری کا چھ ماہ کا بچہ ہے۔آپ نے فرمایا تم اس کی قربانی کردو اور تمہارے علاوہ کسی اور کے لئے اس کی قربانی جائز نہیں پھر آپ نے فرمایا جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنی ذات کے لئے ذبح کیا اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا اس کی قربانی مکمل ہوگئی اور وہ مسلمانوں کے طریقے کو پہنچ گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٢؛حدیث نمبر ٤٩٥٩)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی کر دی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ وہ دن ہے جس میں(قربانی کے علاوہ)گوشت رکھنا مکروہ ہے اور میں نے اپنی قربانی کی جلدی کی تاکہ اپنے بچوں اور پڑوسیوں اور گھر والوں کو کھلاؤں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوبارہ قربانی کرو۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے پاس ایک کم عمر کی دودھ پیتی بکری ہے اور اس میں دو بکریوں سے زیادہ گوشت ہے آپ نے فرمایا وہ تمہاری قربانیوں میں سے بہتر ہے اور تیرے بعد کسی کے لئے ایک سال سے کم عمر کی بکری کی قربانی جائز نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٢؛حدیث نمبر ٤٩٦٠)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قربانی کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا نماز پڑھنے سے پہلے کوئی شخص قربانی نہ کرے۔ فرماتے ہیں میرے ماموں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس دن(قربانی کے علاوہ)گوشت مکروہ ہے.... اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٣؛حدیث نمبر ٤٩٦١)
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہماری طرح نماز پڑھی ہمارے قبلہ کی طرف متوجہ ہوا اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی وہ نماز سے پہلے قربانی نہ کرے۔ میرے ماموں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں اپنے بیٹے کی طرف سے قربانی کر چکا ہوں آپ نے فرمایا تم اپنے گھر والوں کے لیے اس کام میں جلدی کی انہوں نے عرض کیا میرے پاس ایک بکری ہے جو دو بکریوں سے بہتر ہے فرمایا اسی کو ذبح کردو وہ بہترین قربانی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٣؛حدیث نمبر ٤٩٦٢)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم آج کے دن جس کام سے آغاز کریں گے وہ یہ ہے ہم نماز پڑھیں پھر واپس آکر قربانی کریں گے پس جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا اور جس نے(نماز سے پہلے)ذبح کیا تو وہ(محض)گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کیا ہے اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔ حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ(پہلے)ذبح کر چکے تھے انہوں نے عرض کیا میرے پاس بکری کا چھ ماہ کا بچہ ہے جو سال بھر کی بکری سے بہتر ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کردو اور تمہارے علاوہ یہ کسی کے لئے جائز نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٣؛حدیث نمبر ٤٩٦٣)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٤٩٦٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٣؛حدیث نمبر ٤٩٦٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں نماز کے بعد خطبہ دیا....اس کے بعد حدیث نمبر ٤٩٦٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٤؛حدیث نمبر ٤٩٦٥)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں قربانی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تم میں سے کوئی شخص(عیدکی)نماز پڑھنے سے پہلے ہر گز قربانی نہ کرے ایک شخص نے عرض کیا میرے پاس ایک سال کی عمر سے کم بکری ہے جس میں دو بکریوں سے زیادہ گوشت ہے آپ نے فرمایا تم اسی کی قربانی کردو اور تمہارے بعد کسی کے لئے چھ ماہ کی بکری کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٤؛حدیث نمبر ٤٩٦٦)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے(عید کی)نماز سے پہلے قربانی کردی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی جگہ دوسری قربانی کرو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے پاس صرف چھ مہینے کا بکری کا بچہ ہے حضرت شعبہ کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک سال کی بکری سے بہتر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی جگہ اس کی قربانی کردو اور تمہارے بعد یہ کسی کے لئے جائز نہ ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٤؛حدیث نمبر ٤٩٦٧)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔اس میں راوی کا یہ شک مذکور نہیں کہ یہ ایک سال کی بکری سے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٤؛حدیث نمبر ٤٩٦٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا جس نے نماز سے پہلے(قربانی کا جانور)ذبح کیا وہ دوبارہ قربانی کرے ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!اس دن گوشت کی خواہش ہوتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسی کی حاجت کا بھی ذکر کیا گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق کی۔ اس نے کہا میرے پاس بکری کا چھ ماہ کا بچہ ہے جو مجھے دو بکریوں کے گوشت سے زیادہ پسند ہے کیا میں اسے ذبح کردوں راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی۔راوی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ یہ اجازت ان کے سوا کسی کو شامل ہے یا نہیں۔اور کہا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو ذبح کیا پھر لوگ ایک بکری کی طرف گئے اور اس کا گوشت تقسیم کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٤؛حدیث نمبر ٤٩٦٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا کر خطبہ دیا اور فرمایا جس نے نماز سے پہلے قربانی کی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے.... پھر حسب سابق حدیث ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٥؛حدیث نمبر ٤٩٧٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحٰی کے دن خطبہ دیا،راوی کہتے ہیں پھر آپ نے گوشت کی بو محسوس کی تو ان کو ذبح کرنے سے منع کردیا اور فرمایا جس نے قربانی کردی ہے وہ دوبارہ کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ وَقْتِهَا؛جلد٣ص١٥٥٥؛حدیث نمبر ٤٩٧١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف مُسِنَّہ(یعنی بکری وغیرہ ایک سال کی عمر اور گاے دو سال کی اور اونٹ پانچ سال کی عمر کا ہو)ذبح کرو مگر جب کہ تم پر دشوار ہو تو چھ ماہ کا مینڈھا ذبح کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ سِنِّ الْأُضْحِيَّةِ؛ترجمہ؛قربانی کے جانوروں کی عمریں؛جلد٣ص١٥٥٥؛حدیث نمبر ٤٩٧٢)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قربانی کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں ہمیں نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے جلدی کرتے ہوئے(نماز سے پہلے)جانور ذبح کردئے ان کا خیال تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذبح کرچکے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ذبح کرنے والوں کو حکم دیا کہ وہ دوبارہ قربانی کریں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے تک کوئی بھی ذبح نہ کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ سِنِّ الْأُضْحِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٥٥؛حدیث نمبر ٤٩٧٣)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کچھ بکریاں عطاء کیں کہ صحابہ کرام کے درمیان تقسیم کردیں آخر میں بکری کا ایک سال کا بچہ رہ گیا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم اس کی قربانی کردو قتیبہ کی روایت میں"علی صحابتہ" کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ سِنِّ الْأُضْحِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٥٥؛حدیث نمبر ٤٩٧٤)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں قربانی کے جانور تقسیم کئے تو مجھے ایک سال سے کم عمر کا بچہ ملا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے ایک سال سے کم عمر کا بچہ ملا ہے فرمایا اسی کی ہی قربانی کردو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ سِنِّ الْأُضْحِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٥٦؛حدیث نمبر ٤٩٧٥)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کئے..... اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ سِنِّ الْأُضْحِيَّةِ؛جلد٣ص١٥٥٦؛حدیث نمبر ٤٩٧٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گندمی رنگ کے سینگ والے مینڈھوں کی قربانی دی ان کو خود اپنے ہاتھ سے ذبح کیا بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی اور اپنا قدم مبارک ان کے پہلو پر رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الضَّحِيَّةِ، وَذَبْحِهَا مُبَاشَرَةً بِلَا تَوْكِيلٍ، وَالتَّسْمِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ؛ترجمہ؛کسی وکیل کے بغیر خود اپنے ہاتھ سے"بسم اللہ اور تکبیر کے ساتھ قربانی کا استحباب؛جلد٣ص١٥٥٦؛حدیث نمبر ٤٩٧٧)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گندمی رنگ کے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی۔فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے ان کو ذبح کیا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ نے اپنا قدم مبارک ان کے پہلو پر رکھا ہوا تھا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ نے"بسم اللہ اللہ اکبر"کہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الضَّحِيَّةِ، وَذَبْحِهَا مُبَاشَرَةً بِلَا تَوْكِيلٍ، وَالتَّسْمِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ؛جلد٣ص١٥٥٦؛حدیث نمبر ٤٩٧٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی.... اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔حضرت شعبہ فرماتے ہیں میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خود یہ حدیث سنی ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الضَّحِيَّةِ، وَذَبْحِهَا مُبَاشَرَةً بِلَا تَوْكِيلٍ، وَالتَّسْمِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ؛جلد٣ص١٥٥٧؛حدیث نمبر ٤٩٧٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں اس کے بعد حسب سابق ہے۔البتہ انہوں نے یہ کہا کہ آپ"بسم اللہ اللہ اکبر"پڑھتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الضَّحِيَّةِ، وَذَبْحِهَا مُبَاشَرَةً بِلَا تَوْكِيلٍ، وَالتَّسْمِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ؛جلد٣ص١٥٥٧؛حدیث نمبر ٤٩٨٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو سیاہی میں بیٹھتا اور سیاہی میں دیکھتا ہو(ہاتھ پاؤں پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں)اسے لایا گیا تاکہ آپ اس کی قربانی کریں تو آپ نے فرمایا اے عائشہ!چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر سے تیز کرو،(ام المومنین فرماتی ہیں)میں نے اسی طرح کیا پھر آپ نے چھری لی اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا پھر اسے ذبح کرتے ہوے کہا۔ "اے اللہ!(حضرت)محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی طرف سے آپ کی آل اور امت محمدیہ کی طرف سے قبول فرما۔اس کے بعد اس کی قربانی کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الضَّحِيَّةِ، وَذَبْحِهَا مُبَاشَرَةً بِلَا تَوْكِيلٍ، وَالتَّسْمِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ؛جلد٣ص١٥٥٧؛حدیث نمبر ٤٩٨١)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کل ہم دشمن سے مقابلہ کریں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جس چیز سے بھی خون نکلے جلدی کرنا۔جس چیز پر بھی اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اسے کھالو۔البتہ دانتوں اور ناخنوں سے ذبح کیا ہوا نہ کھانا اور میں عنقریب تم سے بیان کروں گا۔ جہاں تک دانت کا تعلق ہے تو وہ ہڈی ہے ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔ حضرت رافع فرماتے ہیں ہمیں غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں تو ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا تو ایک شخص نے تیر مار کر اسے ٹھہرا لیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان اونٹوں میں سے بعض وحشی ہوتے ہیں جب ان میں سے کوئی تم پر غالب آجائے تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، إِلَّا السِّنَّ، وَالظُّفُرَ، وَسَائِرَ الْعِظَامِ؛ترجمہ؛دانت،ناخن اور ہڈی کے علاوہ ہر خون نکالنے والی چیز سے ذبح کرنا جائز ہے؛جلد٣ص١٥٥٨؛حدیث نمبر ٤٩٨٢)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ذوالحلیفہ کے تھامہ مقام پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور ہمیں مال غنیمت میں بکریاں اور اونٹ ملے لوگوں نے جلدی سے ہانڈیوں میں ان کا گوشت چڑھا دیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دیگچیوں کو الٹنے کا حکم دیا پھر آپ نے دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٤٩٨٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، إِلَّا السِّنَّ، وَالظُّفُرَ، وَسَائِرَ الْعِظَامِ؛جلد٣ص١٥٥٨؛حدیث نمبر ٤٩٨٣)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کل ہم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو بانس کے چھلکے سے ذبح کرسکتے ہیں.... اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ان اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا پس ہم نے اسے تیر مار کر گراادیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، إِلَّا السِّنَّ، وَالظُّفُرَ، وَسَائِرَ الْعِظَامِ؛جلد٣ص١٥٥٩؛حدیث نمبر ٤٩٨٤)
ایک حدیث میں ہے کہ انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس چھریاں نہیں تو کیا ہم بانس کے ساتھ ذبح کرلیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، إِلَّا السِّنَّ، وَالظُّفُرَ، وَسَائِرَ الْعِظَامِ؛جلد٣ص١٥٥٩؛حدیث نمبر ٤٩٨٥)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کل ہم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں...اس کے بعد ٤٩٨٢ کے مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یہ نہیں کہ لوگوں نے جلدی جلدی ہانڈیاں چڑہادیں اور آپ کے حکم سے ان کو الٹا دیا گیا،باقی تمام واقعہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، إِلَّا السِّنَّ، وَالظُّفُرَ، وَسَائِرَ الْعِظَامِ؛جلد٣ص١٥٥٩؛حدیث نمبر ٤٩٨٦)
حضرت ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھی اور فرمایا بے شک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن کے بعد اپنی قربانیوں کو گوشت کھانے سے منع کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛ترجمہ؛ابتداء اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت اور پھر اس حکم کا منسوخ ہونا اور جب تک چاہے کھانے کی اجازت؛جلد٣ص١٥٦٠؛حدیث نمبر ٤٩٨٧)
ابن ازہر کے غلام ابو عبید کہتے ہیں کہ وہ عید کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے فرماتے ہیں پھر میں نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی اور انہوں نے ہمیں خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا بےشک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں قربانیوں کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا پس تم اسے نہ کھاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٠؛حدیث نمبر ٤٩٨٨)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید تین سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٠؛حدیث نمبر ٤٩٨٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٠؛حدیث نمبر ٤٩٩٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٤٩٩٠ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٠؛حدیث نمبر ٤٩٩١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت سالم فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے بعض روایات میں"فوق ثلاث" اور بعض میں"بعد ثلاث" ہے(مطلب ایک ہی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦١؛حدیث نمبر ٤٩٩٢)
حضرت عبداللہ بن واقد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ عبد اللہ بن ابی بکر کہتے ہیں میں نے عمر سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا انہوں نے سچ کہا ہے میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عید الاضحٰی کے موقعہ پر دیہات سے کچھ لوگ آے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تین دن تک گوشت جمع کرو اور اس کے بعد جو باقی بچے اسے صدقہ کردو۔ اس کے بعد صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!لوگ اپنی قربانی(کی کھالوں)کی مشکیں بناتے تھے اور اس(قربانی)کی چربی رکھ لیتے تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تو اب کیا ہوا۔انہوں نے عرض کیا آپ نے تین دن کے بعد قربانیوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے آپ نے فرمایا میں نے ان محتاجوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت آے تھے پس اب تم کھاؤ جمع کرو اور صدقہ کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦١؛حدیث نمبر ٤٩٩٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین(دن)کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا پھر فرمایا کھاؤ،زاد راہ بناؤ اور جمع کرو۔(کا حکم دیا) (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٢؛حدیث نمبر ٤٩٩٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ہم اپنے اونٹوں کی قربانیوں کا گوشت منی میں تین دن سے زیادہ نہیں کھاتے تھے پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دی اور فرمایا کھاؤ اور زاد راہ بناؤ۔ ابن جریج فرماتے ہیں میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ حتیٰ کہ ہم مدینہ(طیبہ)آگئے؟انہوں نے کہا ہاں(کہا تھا) (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٢؛حدیث نمبر ٤٩٩٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم قربانیوں کے گوشت تین دن سے زیادہ نہیں رکھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس سے زاد راہ بنائیں اور اس سے کھاتے رہیں(یعنی تین دن سے زیادہ) (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٢؛حدیث نمبر ٤٩٩٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانیوں کا گوشت زاد راہ کے طور پر مدینہ منورہ لے جاتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٢؛حدیث نمبر ٤٩٩٧)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اہل مدینہ!قربانیوں کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھاؤ ابن مثنی کی روایت میں تین دن کا ذکر ہے۔پھر صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی کہ ان کے ہاں بچے اور نوکر چاکر ہیں آپ نے فرمایا کھاؤ اور کھلاؤ اور اس کو رکھو یا(فرمایا)ذخیرہ کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٢؛حدیث نمبر ٤٩٩٨)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص قربانی دے تو تین دن کے بعد امیر کے گھر میں اس میں سے کوئی چیز نہ رہے جب آئندہ سال آیا تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم اسی طرح کریں جس طرح پہلے سال کرتے تھے؟فرمایا نہیں اس سال لوگوں کو(گوشت کی)زیادہ حاجت تھی تو میں نے چاہا کہ ان میں بھی پھیل جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٣؛حدیث نمبر ٤٩٩٩)
حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بکری کو ذبح کیا اور پھر فرمایا اے ثوبان!اس کے گوشت کو درست کرو تو میں اس سے مسلسل کھلاتا رہا حتیٰ کہ آپ مدینہ طیبہ آگئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٣؛حدیث نمبر ٥٠٠٠)
امام مسلم نے اس حدیث کی مزید دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٣؛حدیث نمبر ٥٠٠١)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اس گوشت کو ٹھیک ٹھاک کرکے رکھو فرماتے ہیں میں نے اسے ٹھیک کیا تو مدینہ طیبہ پہنچنے تک آپ اس سے کھاتے رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٣؛حدیث نمبر ٥٠٠٢)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں حجۃ الوداع کے الفاظ نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٣؛حدیث نمبر ٥٠٠٣)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تم کو زیارت قبور سے منع کیا۔تم قبرستان میں جاسکتے ہو اور تمہیں تین دن سے زیادہ(قربانی کا)گوشت کھانے سے منع فرمایا اب تم جب تک چاہو رکھ سکتے ہو اور میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ تمام برتنوں میں نبیذ(پھلوں کا رس)بنانے سے منع کیا اب تم ہر برتن میں بنا سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز نہ پینا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٣؛حدیث نمبر ٥٠٠٤)
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں منع کیا تھا... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٠٠٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ؛جلد٣ص١٥٦٤؛حدیث نمبر ٥٠٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرع اور عتیرہ کوئی چیز نہیں ابن رافع نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ فرع اونٹنی کے پہلے بچے کو کہتے ہیں جسے مشرکین ذبح کرتے تھے۔ رجب کے پہلے دس دنوں میں جانور ذبح کرتے تھے اسے عتیرہ کہتے تھے اور جب اونٹوں کی تعداد ایک سو ہوجائے تو اب پہلا بچہ ذبح کیا جاتا اسے فرع کہا جاتا تھا۔یہ دور جاہلیت کا طریقہ تھا اسلام میں منع کردیا) (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛ بَابُ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ؛ترجمہ؛فرع اور عتیرہ کا حکم؛جلد٣ص١٥٦٤؛حدیث نمبر ٥٠٠٦)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ذوالحجہ کا(پہلا)عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ بھی نہ کاٹے۔حضرت سفیان سے کہا گیا کہ بعض لوگ اس حدیث کو مرفوع بیان نہیں کرتے تو انہوں نے فرمایا میں اسے مرفوعاً روایت کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَهُوَ مُرِيدُ التَّضْحِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ، أَوْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا؛ترجمہ؛قربانی کرنے والے کے لئے قربانی سے پہلے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت؛جلد٣ص١٥٦٥؛حدیث نمبر ٥٠٠٧)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب عشرہ ذوالحجہ داخل ہوجائے تو جس شخص کے پاس قربانی(کا جانور)ہو اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَهُوَ مُرِيدُ التَّضْحِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ، أَوْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا؛جلد٣ص١٥٦٥؛حدیث نمبر ٥٠٠٨)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں(کو کاٹنے)سے باز رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَهُوَ مُرِيدُ التَّضْحِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ، أَوْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا؛جلد٣ص١٥٦٥؛حدیث نمبر ٥٠٠٩)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَهُوَ مُرِيدُ التَّضْحِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ، أَوْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا؛جلد٣ص١٥٦٦؛حدیث نمبر ٥٠١٠)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس ذبح کے لئے جانور ہو اور وہ اسے ذبح کرنا چاہے تو ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَهُوَ مُرِيدُ التَّضْحِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ، أَوْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا؛جلد٣ص١٥٦٦؛حدیث نمبر ٥٠١١)
حضرت عمرو بن مسلم بن عمار لیثی فرماتے ہیں عید الاضحٰی سے پہلے ہم لوگ حمام میں تھے تو بعض لوگوں نے چونے سے اپنے بال صاف کئے تو بعض اہل حمام نے کہا کہ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اس فعل کو مکروہ کہتے ہیں یا اس سے منع کرتے ہیں۔ میں نے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور یہ بات ذکر کی تو انہوں نے فرمایا اے بھتیجے!یہ حدیث بھلا دی گئی اور چھوڑ دی گئی ہے مجھ سے ام المؤمنين حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.... اس کے بعد حدیث نمبر ٥٠١١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَهُوَ مُرِيدُ التَّضْحِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ، أَوْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا؛جلد٣ص١٥٦٦؛حدیث نمبر ٥٠١٢)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٠١٢ کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَهُوَ مُرِيدُ التَّضْحِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ، أَوْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا؛جلد٣ص١٥٦٦؛حدیث نمبر ٥٠١٣)
حضرت عامر بن واثلہ فرماتے ہیں میں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے سرگوشیوں میں کیا کہا کرتے تھے۔ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ ناراض ہوے اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے راز کے طور پر کچھ نہیں بتایا جس کو آپ لوگوں سے چھپاتے البتہ آپ نے مجھے چار باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ راوی کہتے ہیں اس نے پوچھا اے امیر المومنین پر وہ چار باتیں کیا ہیں؟آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی جو اپنے پر لعنت کرے،اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے،اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی جو کسی بدعتی کو پناہ دے اور اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی جو زمین کے نشانات مٹاے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الذَّبْحِ لِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى وَلَعْنِ فَاعِلِهِ؛ترجمہ؛غیر اللہ کی تعظیم کے لئے ذبح کرنا حرام ہے اور ذبح کرنے والا ملعون ہے؛جلد٣ص١٥٦٧؛حدیث نمبر ٥٠١٤)
حضرت ابو الطفیل کہتے ہیں ہم نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمیں وہ راز بتائیں جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے آپ کو بتایا ہے انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی ایسی بات نہیں بتائی جسے آپ نے لوگوں سے چھپایا ہو لیکن میں نے آپ سے سنا اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے اس پر لعنت کی جو کسی بدعتی کو پناہ دے،اس پر لعنت کی جو اپنے والد پر لعنت بھیجے اور اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی جو زمین کے نشانات بدل دیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الذَّبْحِ لِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى وَلَعْنِ فَاعِلِهِ؛جلد٣ص١٥٦٧؛حدیث نمبر ٥٠١٥)
ابو الطفیل کہتے ہیں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کسی چیز کے ساتھ خاص کیا تھا؟انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں(اہل بیت)کو کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا جو دوسروں کو نہ دی ہو سوائے اس کے جو میری اس تلوار کی نیام میں ہے۔راوی فرماتے ہیں پھر آپ نے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا ہوا تھا اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے لئے ذبح کرے، اس پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کی نشانی(حد بندی)چراے،اس شخص پر لعنت ہو جو اپنے والد پر لعنت کرے اور اس شخص پر لعنت ہو جو کسی بدعتی کو پناہ دے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْأَضَاحِيِّ؛بَابُ تَحْرِيمِ الذَّبْحِ لِغَيْرِ اللهِ تَعَالَى وَلَعْنِ فَاعِلِهِ؛جلد٣ص١٥٦٧؛حدیث نمبر ٥٠١٦)
Muslim Shareef : Kitabul Azahi
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْأَضَاحِيُّ
|
•