asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Adaabe

From 5475 to 5534

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

آداب کا بیان حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں بقیع میں ایک شخص نے دوسرے آدمی کو"یا ابا القاسم"کہہ کر آواز دی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو اس شخص نے کہا یا رسول اللہ!میں نے آپ کو نہیں پکارا تھا۔(اس پر)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام کے ساتھ نام رکھو اور میری کنیت نہ رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ترجمہ؛آداب کا بیان؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛ترجمہ؛ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور اچھے ناموں کا بیان؛جلد٣ص١٦٨٢؛حدیث نمبر ٥٤٧٥)

حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَا : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ - يَعْنِيَانِ : الْفَزَارِيَّ - عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ رَجُلًا بِالْبَقِيعِ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ. فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ، إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلَانًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5475

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ناموں میں سے اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبد الرحمن ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٢؛حدیث نمبر ٥٤٧٦)

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ - وَهُوَ الْمُلَقَّبُ : بِسَبَلَانَ - أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعَهُ مِنْهُمَا سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ، يُحَدِّثَانِ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5476

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھا۔اس کی قوم نے کہا تم نے اپنے بیٹے کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہے ہم تمہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے وہ شخص خود اپنے بچے کو اپنی پشت پر اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا یا رسول اللہ!میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے لیکن میری قوم کہتی ہے ہم انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نام نہیں رکھنے دیں گے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو۔میں قاسم ہوں کیونکہ میں تقسیم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٢؛حدیث نمبر ٥٤٧٧)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا، فَقَالَ لَهُ قَوْمُهُ : لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَانْطَلَقَ بِابْنِهِ حَامِلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ لِي غُلَامٌ، فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا، فَقَالَ لِي قَوْمِي : لَا نَدَعُكَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ؛ فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5477

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھا ہم نے کہا جب تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لو ہم تمہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی کنیت نہیں رکھنے دیں گے۔ فرماتے ہیں وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے اور میں اس کا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر رکھا ہے لیکن میری قوم نے مجھے یہ کنیت(نام)رکھنے سے منع کیا ہے تاوقتیکہ آپ سے اجازت نہ لے لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت کے ساتھ کنیت نہ رکھو مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٧٨)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا : لَا نَكْنِيكَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَسْتَأْمِرَهُ. قَالَ : فَأَتَاهُ، فَقَالَ : إِنَّهُ وُلِدَ لِي غُلَامٌ، فَسَمَّيْتُهُ بِرَسُولِ اللَّهِ، وَإِنَّ قَوْمِي أَبَوْا أَنْ يَكْنُونِي بِهِ، حَتَّى تَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ : " سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ؛ فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5478

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یہ بات ذکر نہیں کی گئی کہ میں قاسم بنا کر بھیجا گیا ہوں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٧٩)

حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي الطَّحَّانَ - عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ : " فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5479

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام کے ساتھ نام رکھو(لیکن)میری کنیت نہ رکھو میں ابو القاسم ہوں کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں اور ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے اور"ولا تکتنوا"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٨٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ؛ فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ : " وَلَا تَكْتَنُوا "

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5480

ایک اور سند کے ساتھ مروی ہے کہ میں قاسم بنا گیا ہوں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٨١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : " إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5481

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کا نام"محمد"رکھنا چاہا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا آپ نے فرمایا انصار نے اچھا کیا میرے نام کے ساتھ نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٨٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ : " أَحْسَنَتِ الْأَنْصَارُ ؛ سَمُّوا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5482

امام مسلم نے متعدد اسناد کے ساتھ اس حدیث کو روایت کیا حصین کی روایت میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے بے شک میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، كُلُّهُمْ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالُوا : سَمِعْنَا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ مَنْ ذَكَرْنَا حَدِيثَهُمْ مِنْ قَبْلُ، وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ : وَزَادَ فِيهِ حُصَيْنٌ، وَسُلَيْمَانُ، قَالَ حُصَيْنٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ". وَقَالَ سُلَيْمَانُ : " فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5483

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہمارے ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا ہم نے کہا ہم تمہیں اس کی کنیت ابو القاسم نہیں رکھنے دیں گے اور تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہیں کریں گے۔ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی تو آپ نے فرمایا اس کا نام عبد الرحمن رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٤؛حدیث نمبر ٥٤٨٤)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ : الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا : لَا نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا. فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ : " أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5484

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں اس میں یہ نہیں کہ ہم تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہونے دیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٤؛حدیث نمبر ٥٤٨٥)

وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - كِلَاهُمَا عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ : وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5485

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو حضرت عمرو نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے"سمعت"(میں نے سنا)کے الفاظ نہیں کہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٣؛حدیث نمبر ٥٤٨٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ". قَالَ عَمْرٌو : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَقُلْ : سَمِعْتُ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5486

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں نجران میں آیا تو لوگوں نے مجھ سے سوال کیا انہوں نے کہا تم لوگ"یااخت ھارون"(اے ہارون کی بہن)پڑھتے ہو حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت عیسٰی علیہ السلام سے اتنا عرصہ پہلے گزرے ہیں۔ فرماتے ہیں جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا وہ لوگ گزشتہ انبیاے کرام علیہم السلام اور صالحین کے ناموں پر نام رکھتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَنِّي بِأَبِي الْقَاسِمِ وَبَيَانِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَسْمَاءِ؛جلد٣ص١٦٨٥؛حدیث نمبر ٥٤٨٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمْتُ نَجْرَانَ سَأَلُونِي، فَقَالُوا : إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ : { يَا أُخْتَ هَارُونَ }، وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا ؟ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ : " إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5487

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے غلام کے لئے چار نام رکھنے سے منع فرمایا،افلح،رباح،یسار اور نافع۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالْأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ؛ترجمہ؛برے نام رکھنے کی کراہت؛جلد٣ص١٦٨٥؛حدیث نمبر ٥٤٨٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الرُّكَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، وَقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ : سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا بِأَرْبَعَةِ أَسْمَاءٍ ؛ أَفْلَحَ، وَرَبَاحٍ، وَيَسَارٍ، وَنَافِعٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5488

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام رباح،یسار،افلح اور نافع نہ رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالْأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ؛جلد٣ص١٦٨٥؛حدیث نمبر ٥٤٨٩)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَمِّ غُلَامَكَ رَبَاحًا، وَلَا يَسَارًا، وَلَا أَفْلَحَ، وَلَا نَافِعًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5489

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ترین کلام چار کلمات ہیں،سبحان اللہ،الحمد للہ، لا الہ الا اللہ،اللہ اکبر۔ ان میں سے جس کلمہ کو پہلے کہو کوئی حرج نہیں اور تم اپنے لڑکے کا نام یسار،رباح،نجیح اور افلح نہ رکھنا کیوں کہ تم پوچھو گے فلاں وہاں ہے وہ نہیں ہوگا تو کہنے والا کہے گا"نہیں" یہ چار ہی کلمات ہیں ان سے زائد مجھ سے نقل نہ کرنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالْأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ؛جلد٣ص١٦٨٥؛حدیث نمبر ٥٤٩٠)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ ؛ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ، وَلَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا، وَلَا رَبَاحًا، وَلَا نَجِيحًا، وَلَا أَفْلَحَ ؛ فَإِنَّكَ تَقُولُ : أَثَمَّ هُوَ، فَلَا يَكُونُ، فَيَقُولُ : لَا ". إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5490

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید تین سندیں بیان کی ہیں ان میں شعبہ کی روایت میں صرف لڑکے کا نام رکھنے کا ذکر ہے اور چار کلمات کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالْأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ؛جلد٣ص١٦٨٦؛حدیث نمبر ٥٤٩١)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ - وَهُوَ : ابْنُ الْقَاسِمِ - ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِ زُهَيْرٍ، فَأَمَّا حَدِيثُ جَرِيرٍ، وَرَوْحٍ فَكَمِثْلِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ بِقِصَّتِهِ، وَأَمَّا حَدِيثُ شُعْبَةَ فَلَيْسَ فِيهِ إِلَّا ذِكْرُ تَسْمِيَةِ الْغُلَامِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَلَامَ الْأَرْبَعَ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5491

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یعلی،برکت،افلح،یسار،نافع اور ان جیسے دوسرے نام رکھنے سے منع فرمایا پھر میں نے دیکھا کہ اس کے بعد آپ خاموش ہوگئے اور کچھ نہ فرمایا اس کے بعد آپ کا وصال ہوگیا اور آپ نے ان ناموں سے منع نہ فرمایا پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے منع کرنے کا ارادہ فرمایا لیکن اسے ترک کر دیا(عمل نہ کیا)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّسْمِيَةِ بِالْأَسْمَاءِ الْقَبِيحَةِ وَبِنَافِعٍ وَنَحْوِهِ؛جلد٣ص١٦٨٦؛حدیث نمبر ٥٤٩٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُسَمَّى بِيَعْلَى، وَبِبَرَكَةَ، وَبِأَفْلَحَ، وَبِيَسَارٍ، وَبِنَافِعٍ، وَبِنَحْوِ ذَلِكَ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا، فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ أَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ تَرَكَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5492

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام تبدیل کیا اور فرمایا تم جمیلہ ہو۔ امام احمد بن حنبل نے"اخبرنی"کی جگہ"عن"کا لفظ ذکر کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛ترجمہ؛برے ناموں کو اچھے ناموں سے بدلنے کا استحباب؛جلد٣ص١٦٨٦؛حدیث نمبر ٥٤٩٣)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ : " أَنْتِ جَمِيلَةُ ". قَالَ أَحْمَدُ - مَكَانَ أَخْبَرَنِي - : عَنْ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5493

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ایک صاحبزادی کا نام عاصیہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام جمیلہ رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛جلد٣ص١٦٨٧؛حدیث نمبر ٥٤٩٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ كَانَتْ يُقَالُ لَهَا : عَاصِيَةُ، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيلَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5494

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جویریہ کا پہلا نام برہ تھا آپ نے اس کا نام تبدیل کرکے جویریہ رکھا آپ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کہا جائے کہ فلاں شخص برہ(نیکی)کے پاس سے نکل گیا کریب کی روایت میں"سمعت ابن عباس"کے الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛جلد٣ص١٦٨٧؛حدیث نمبر ٥٤٩٥)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ - عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا : بَرَّةُ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ كُرَيْبٍ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5495

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت زینب کا نام برہ تھا ان سے کہا گیا کہ تم اپنی پارسائی بیان کرتی ہو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛جلد٣ص١٦٨٧؛حدیث نمبر ٥٤٩٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا : بَرَّةَ، فَقِيلَ : تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : زَيْنَبَ. وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِهَؤُلَاءِ دُونَ ابْنِ بَشَّارٍ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5496

حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرا نام برہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام زینب رکھ دیا وہ بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ام المومنین حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا آئیں ان کا نام بھی پہلے برہ تھا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛جلد٣ص١٦٨٧؛حدیث نمبر ٥٤٩٧)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَ اسْمِي بَرَّةَ، فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : زَيْنَبَ، قَالَتْ : وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، وَاسْمُهَا : بَرَّةُ، فَسَمَّاهَا : زَيْنَبَ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5497

حضرت محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا تو حضرت زینب بنت سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع فرمایا ہے اور میرا نام بھی پہلے برہ رکھا گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی پاکیزگی بیان نہ کرو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے نیکو کار کون ہے؟انہوں نے عرض کیا ہم اس کا کیا نام رکھیں فرمایا اس کا نام زینب رکھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ إِلَى حَسَنٍ، وَتَغْيِيرِ اسْمِ بَرَّةَ إِلَى زَيْنَبَ وَجُوَيْرِيَةَ وَنَحْوِهِمَا؛جلد٣ص١٦٨٧؛حدیث نمبر ٥٤٩٨)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمَّيْتُ ابْنَتِي بَرَّةَ، فَقَالَتْ لِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا الِاسْمِ، وَسُمِّيتُ بَرَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ ". فَقَالُوا : بِمَ نُسَمِّيهَا ؟ قَالَ : " سَمُّوهَا زَيْنَبَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5498

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برا نام یہ ہے کہ کوئی شخص اپنا نام"شہنشاہ"رکھے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی مالک نہیں ہے۔سفیان نے کہا"ملک الاملاک"کا مطلب شہنشاہ ہے اور امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ فرماتے ہیں میں نے ابو عمرو سے لفظ"اخنع" کا معنیٰ پوچھا تو انہوں نے فرمایا سب سے زیادہ ذلیل۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ التَّسَمِّي بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ، وَبِمَلِكِ الْمُلُوكِ؛ترجمہ؛" شہنشاہ"نام رکھنے کی ممانعت؛جلد٣ص١٦٨٨؛حدیث نمبر ٥٤٩٩)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ - قَالَ الْأَشْعَثِيُّ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَخْنَعَ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ ". زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ : " لَا مَالِكَ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ". قَالَ الْأَشْعَثِيُّ : قَالَ سُفْيَانُ : مِثْلُ شَاهَانْ شَاهْ. وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو عَنْ أَخْنَعَ، فَقَالَ : أَوْضَعَ .

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5499

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ احادیث روایت کی ہیں ان میں سے یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض اور خبیث وہ شخص ہوگا جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلاتا ہے۔اللہ تعالی کے سوا(حقیقی)مالک کوئی نہیں۔ (مسلمانوں کو شروع میں بچوں کے اچھے نام رکھنے چاہیے اور اگر کسی وجہ سے ایسا نام رکھ دیا جائے جو مناسب نہ ہو تو اسے بدل دیا جائے۔) (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ التَّسَمِّي بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ، وَبِمَلِكِ الْمُلُوكِ؛جلد٣ص١٦٨٨؛حدیث نمبر ٥٥٠٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَخْبَثُهُ، وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ رَجُلٍ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ ؛ لَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5500

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ پیدا ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چادر اوڑھے ہوئے اونٹوں کو روغن مل رہے تھے آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس کھجوریں ہیں?میں نے عرض کیا جی ہاں!چنانچہ میں نے آپ کو کھجوریں پکڑا دیں تو آپ نے ان کو منہ میں ڈال کر چبایا پھر آپ نے بچے کا منہ کھول کر کھجور اس کے منہ میں ڈال دی بچہ اسے چوسنے لگا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو کھجوروں سے محبت ہے اور آپ نے اس کا نام عبد اللہ رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛ترجمہ؛ولادت کے وقت بچے کو گھٹی دینا،پیدائش کے دن نام رکھنا عبداللہ اور ابراہیم نام رکھنا نیز دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھنا مستحب ہیں؛جلد٣ص١٦٨٩؛حدیث نمبر ٥٥٠١)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ : " هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ. فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ، فَلَاكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ، فَمَجَّهُ فِي فِيهِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ ". وَسَمَّاهُ : عَبْدَ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5501

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔حضرت ابو طلحہ کا ایک بیٹا بیمار تھا وہ باہر گئے تو بچہ فوت ہوگیا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ واپس آے تو پوچھا میرے بیٹے کا کیا حال ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا وہ پہلے کی نسبت پرسکون ہے انہوں نے ان کے سامنے شام کا کھانا پیش کیا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا پھر ام سلیم سے عمل زوجیت کیا جب فارغ ہوے تو ام سلیم نے کہا جاکر بچے دفن کردو جب صبح ہوئی تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی آپ نے پوچھا کیا تم نے رات کو عمل زوجیت کیا؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں! آپ نے دعا مانگی یا اللہ!ان دونوں کو برکت عطا فرما۔ پھر ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا اسے اٹھا کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ اس بچے کو لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے ساتھ کچھ کھجوریں بھی بھیجی تھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو لیا اور پوچھا کیا اس کے ساتھ کوئی چیز ہے حاضرین نے کہا جی ہاں! کچھ کھجوریں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو لے کر چبایا پھر وہ کھجوریں اس بچے کے منہ میں ڈال دیں اور ان کی گھٹی دی آپ نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٨٩؛حدیث نمبر ٥٥٠٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ، فَقُبِضَ الصَّبِيُّ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ : مَا فَعَلَ ابْنِي ؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : هُوَ أَسْكَنُ مِمَّا كَانَ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ، فَتَعَشَّى، ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَتْ : وَارُوا الصَّبِيَّ. فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ : " أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا ". فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ : احْمِلْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَمَعَهُ شَيْءٌ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ، تَمَرَاتٌ. فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَغَهَا، ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ، فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ، ثُمَّ حَنَّكَهُ ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5502

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٠؛حدیث نمبر ٥٥٠٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5503

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا میں اس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا تو آپ نے اس کا نام ابراهيم رکھا اور اسے کھجور کی گھٹی دی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٠؛حدیث نمبر ٥٥٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : وُلِدَ لِي غُلَامٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّاهُ : إِبْرَاهِيمَ، وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5504

حضرت عروہ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے ہجرت کی تو اس وقت وہ حاملہ تھیں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پیٹ میں تھے وہ قبا میں پہنچیں تو حضرت عبد اللہ پیدا ہوئے وہ اس بچے کو گھٹی دینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بچے کو لیا اور اپنی گود میں رکھ دیا پھر کھجوریں منگوائیں۔راوی فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم کھجوریں ملنے سے پہلے کچھ دیر تلاش کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو چبا کر اس بچے کے منہ میں لعاب ڈال دیا تو اس بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک پہنچا۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے پر ہاتھ پھیرا،اس کے حق میں دعا کی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ پھر جب حضرت عبداللہ سات یا آٹھ سال کے ہوے تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کے دست حق پرست پر بیعت کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف دیکھ کر مسکراے پھر ان کو بیعت کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٠؛حدیث نمبر ٥٥٠٥)

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ - يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ - أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُمَا قَالَا : خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَدِمَتْ قُبَاءً، فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ، ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا، فَمَضَغَهَا، ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ، فَإِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ : ثُمَّ مَسَحَهُ، وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ، ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ، أَوْ ثَمَانٍ لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ مُقْبِلًا إِلَيْهِ، ثُمَّ بَايَعَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5505

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ مکہ میں حاملہ تھیں اور حضرت عبد اللہ بن زبیر ان کے پیٹ میں تھے حضرت اسماء فرماتی ہیں جب میں مکہ مکرمہ سے نکلی تو میرے(حمل کے)دن پورے ہوچکے تھے۔ میں مدینہ طیبہ میں آئی اور قباء میں اتری تو بچے کی پیدائش ہوئی پھر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے بچے کو گود میں لیا آپ نے کھجوریں منگوائیں اور ان کو چبا کر لعاب مبارک بچے کے منہ میں ڈالا تو ان کے پیٹ میں جو چیز سب سے پہلے داخل ہوئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک تھا پھر آپ نے ان کھجور کی گھٹی دی اس کے بعد ان کے لئے دعا کی اور برکت کی دعا دی وہ پہلے بچے تھے(جو ہجرت کے بعد)اسلام میں پیدا ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩١؛حدیث نمبر ٥٥٠٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، قَالَتْ : فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ، فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ، فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ حَنَّكَهُ بِالتَّمْرَةِ، ثُمَّ دَعَا لَهُ، وَبَرَّكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5506

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پیٹ میں تھے اس کے بعد حدیث نمبر ٥٥٠٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩١؛حدیث نمبر ٥٥٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5507

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تو آپ ان کو برکت کی دعا دیتے اور گھٹی دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩١؛حدیث نمبر ٥٥٠٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ - يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ - عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ، وَيُحَنِّكُهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5508

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم(حضرت)عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے آپ نے ان کو گھٹی دی پھر ہم نے کھجور تلاش کی اور ہمیں اس کی تلاش میں دشواری ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٠؛حدیث نمبر ٥٥٠٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : جِئْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ، فَطَلَبْنَا تَمْرَةً، فَعَزَّ عَلَيْنَا طَلَبُهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5509

حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ حضرت منذر بن ابی اسید پیدا ہوئے تو ان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ران پر رکھا اور ابو اسید بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے کسی کام میں مشغول ہوگئے۔ حضرت ابو اسید نے اپنے بیٹے کو اٹھانے کا حکم دیا اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے اٹھا لیا گیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام سے فارغ ہوئے تو فرمایا بچہ کہاں ہے، حضرت اسید نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم نے اس کو اٹھا لیا تھا آپ نے فرمایا اس کا نام کیا ہے؟عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس کا نام فلاں ہے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اس کا نام منذر ہے پھر آپ نے اس کا منذر رکھ دیا۔ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت کا یہ عالم ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو گھٹی دلانے کے لئے لاے اور آپ کسی حیل و حجت کے بغیر ان کو گھٹی دیتے صحابہ کرام یہ بات جانتے تھے کہ جس بچے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھٹی دیں گے اسے برکات حاصل ہوں گے اس لیے بچوں کو بزرگان دین کے پاس لے جانا اور گھٹی یا دم وغیرہ کے ذریعے برکات حاصل کرنا کوئی نیا کام نہیں صحابہ کرام کی سنت ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٢؛حدیث نمبر ٥٥١٠)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - وَهُوَ : ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ - حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، فَوَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ، فَلَهِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ، فَاحْتُمِلَ مِنْ عَلَى فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْلَبُوهُ ، فَاسْتَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " أَيْنَ الصَّبِيُّ ؟ " فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ : أَقْلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ : " مَا اسْمُهُ ؟ " قَالَ : فُلَانٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " لَا، وَلَكِنِ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ ". فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5510

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اچھے اخلاق والے تھے اور میرا ایک بھائی تھا جس کو ابو عمیر کہا جاتا تھا۔ (راوی کہتا ہے)میرا خیال ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ اس وقت(دودھ چھوڑ کر)ٹھوس غزا کھانے لگا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو اسے دیکھ کر فرماتے اے ابو عمیر!نُغَیر(پرندے کا نام)نے کیا کیا وہ بچہ اس پرندے سے کھیلا کرتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَحْنِيكِ الْمَوْلُودِ عِنْدَ وِلَادَتِهِ وَحَمْلِهِ إِلَى صَالِحٍ يُحَنِّكُهُ، وَجَوَازِ تَسْمِيَتِهِ يَوْمَ وِلَادَتِهِ، وَاسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ بِعَبْدِ اللهِ وَإِبْرَاهِيمَ وَسَائِرِ أَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمِ السَّلَامُ؛جلد٣ص١٦٩٢؛حدیث نمبر ٥٥١١)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو عُمَيْرٍ، قَالَ : أَحْسِبُهُ قَالَ : كَانَ فَطِيمًا، قَالَ : فَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَآهُ قَالَ : " أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ". قَالَ : فَكَانَ يَلْعَبُ بِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5511

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا"اے بیٹے!" (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ جَوَازِ قَوْلِهِ لِغَيْرِ ابْنِهِ: يَا بُنَيَّ وَاسْتِحْبَابِهِ لِلْمُلَاطَفَةِ؛کسی اور کے بیٹے کو بطور شفقت بیٹا کہنے کا جواز؛جلد٣ص١٦٩٣؛حدیث نمبر ٥٥١٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بُنَيَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5512

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جس قدر سوال میں نے کئے ہیں کسی دوسرے نے نہیں کئے تو آپ نے فرمایا اے میرے بیٹے!تمہیں اس (دجال)سے کچھ ضرر نہیں ہوگا۔ میں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہر اور روٹی کے پہاڑ ہوں گے آپ نے فرمایا وہ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذلیل ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ جَوَازِ قَوْلِهِ لِغَيْرِ ابْنِهِ: يَا بُنَيَّ وَاسْتِحْبَابِهِ لِلْمُلَاطَفَةِ؛جلد٣ص١٦٩٣؛حدیث نمبر ٥٥١٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : مَا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ لِي : " أَيْ بُنَيَّ، وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ ؛ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ ". قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ أَنْهَارَ الْمَاءِ، وَجِبَالَ الْخُبْزِ. قَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5513

امام مسلم نے اس حدیث کی چار سندیں بیان کی ہیں ان میں یزید کی روایت کے سوا کسی روایت میں یہ نہیں کہ آپ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بیٹا فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ جَوَازِ قَوْلِهِ لِغَيْرِ ابْنِهِ: يَا بُنَيَّ وَاسْتِحْبَابِهِ لِلْمُلَاطَفَةِ؛جلد٣ص١٦٩٣؛حدیث نمبر ٥٥١٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُغِيرَةِ : " أَيْ بُنَيَّ ". إِلَّا فِي حَدِيثِ يَزِيدَ وَحْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5514

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں مدینہ طیبہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت ابو موسیٰ خوفزدہ اور سہمے ہوئے آئے ہم نے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟انہوں نے فرمایا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا تھا میں آپ کے دروازے پر آیا اور تین مرتبہ سلام کیا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا میں واپس چلا گیا انہوں نے فرمایا تم کیوں نہیں آے؟میں نے کہا میں آیا اور میں نے آپ کے دروازے پر(کھڑے ہوکر)تین بار سلام کیا لیکن مجھے کوئی جواب نہ دیا گیا چنانچہ میں واپس چلا گیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک تین بار اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ واپس چلا جائے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر کوئی گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان کے ساتھ وہ شخص جائے گا جو سب سے چھوٹا ہو۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا میں سب سے چھوٹا ہوں فرمایا اچھا تم جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛ترجمہ؛اجازت طلب کرنے کا بیان؛جلد٣ص١٦٩٤؛حدیث نمبر ٥٥١٥)

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى فَزِعًا - أَوْ مَذْعُورًا - قُلْنَا : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ، فَأَتَيْتُ بَابَهُ، فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا ؟ فَقُلْتُ : إِنِّي أَتَيْتُكَ، فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ ". فَقَالَ عُمَرُ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ. فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : لَا يَقُومُ مَعَهُ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قُلْتُ : أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ. قَالَ : فَاذْهَبْ بِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5515

امام مسلم ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں اس طرح ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ہوا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گواہی دی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٤؛حدیث نمبر ٥٥١٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَقُمْتُ مَعَهُ، فَذَهَبْتُ إِلَى عُمَرَ، فَشَهِدْتُ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5516

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں آئے حتیٰ کہ کھڑے ہوگئے انہوں نے فرمایا میں تم لوگوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم میں سے کسی ایک نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اجازت طلب کرنا تین بار ہے اگر تمہیں اجازت دی جائے تو ٹھیک ہے ورنہ واپس چلے جاؤ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا ہوا انہوں نے فرمایا میں نے کل حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے تین بار اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ دی گئی چنانچہ میں واپس چلا گیا پھر آج ان کے پاس آیا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا کہ میں کل حاضر ہوا تھا پس میں نے تین بار سلام کیا اور(جواب نہ آنے پر)واپس چلا گیا۔ انہوں نے فرمایا ہم نے تمہارے سلام کی آواز سنی تھی لیکن اس وقت ہم کسی کام میں مشغول تھے کاش تم مسلسل اجازت طلب کرتے رہتے حتیٰ کہ تمہیں اجازت دی جاتی۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اتنی بار ہی اجازت طلب کی جتنی بار اجازت طلب کرنے کے بارے میں،میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم!میں تمہاری پیٹھ پر یا پیٹ پر سزا دوں گا ورنہ تمہیں اس حدیث پر گواہ پیش کرنا ہوں گا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ کے ساتھ ہم میں سے سب سے چھوٹا جائے گا اے ابو سعید!اٹھو۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اٹھا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر کہا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٤؛حدیث نمبر ٥٥١٧)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا، حَتَّى وَقَفَ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ " ؟ قَالَ أُبَيٌّ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ، ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ، فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ انْصَرَفْتُ. قَالَ : قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغُلٍ فَلَوْمَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ. قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : فَوَاللَّهِ، لَأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ، وَبَطْنَكَ، أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا. فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : فَوَاللَّهِ، لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَحْدَثُنَا سِنًّا ؛ قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ. فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ، فَقُلْتُ : قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5517

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے اور اجازت طلب کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ ایک بار ہوئی پھر انہوں نے دوبارہ اجازت طلب کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ دوبار ہوئی پھر انہوں نے تیسری بار اجازت طلب کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تین بار ہوئی۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کسی کو ان کے پیچھے بھیج کر ان کو واپس بلایا اور فرمایا اس سلسلے میں تمہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث یاد ہے تو پیش کرو ورنہ میں تمہیں عبرتناک سزا دوں گا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اجازت تین بار طلب کرنا ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لوگ ہنسنے لگے میں نے کہا تمہارے پاس تمہارا بھائی مصیبت میں گرفتار ہوکر آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو میں نے کہا چلیے میں اس مصیبت میں تمہارا ساتھی ہوں پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا یہ حضرت ابو سعید ہیں(جو اس حدیث کے گواہ ہیں) (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٥؛حدیث نمبر ٥٥١٨)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَى بَابَ عُمَرَ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ عُمَرُ : وَاحِدَةٌ ثُمَّ. اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ عُمَرُ : ثِنْتَانِ. ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ عُمَرُ : ثَلَاثٌ. ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتْبَعَهُ، فَرَدَّهُ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَا، وَإِلَّا فَلَأَجْعَلَنَّكَ عِظَةً. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَتَانَا، فَقَالَ : أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ " ؟ قَالَ : فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَتَاكُمْ أَخُوكُمُ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَكُونَ، انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ. فَأَتَاهُ، فَقَالَ : هَذَا أَبُو سَعِيدٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5518

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٥؛حدیث نمبر ٥٥١٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَا : سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5519

حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اندر آنے کی تین بار اجازت طلب کی تو گویا ان کو مشغول پایا اور واپس چلے گئے(اس کے بعد)حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نے عبد اللہ بن قیس کی آواز سنی ان کو آنے کی اجازت دو حضرت ابو موسیٰ(حضرت عبد اللہ بن قیس آپ کا نام ہے)کو بلایا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا واپس کیوں لوٹ گئے تھے؟انہوں نے فرمایا ہمیں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر گواہ قائم کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی مجلس میں گئے انہوں نے کہا تمہارے اس موقف پر ہم میں سے چھوٹی عمر کا ہی گواہی دے سکتا ہے چنانچہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ اٹھےاور جاکر کہا ہمیں اس بات کا حکم دیا جاتا تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھ پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مخفی رہا بازار میں سودا خریداری نے مجھے اس سے مشغول رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٥؛حدیث نمبر ٥٥٢٠)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا ؛ فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا، فَرَجَعَ، فَقَالَ عُمَرُ : أَلَمْ تَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ. ائْذَنُوا لَهُ. فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، قَالَ : لَتُقِيمَنَّ عَلَى هَذَا بَيِّنَةً، أَوْ لَأَفْعَلَنَّ، فَخَرَجَ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا : لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا. فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ : كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، فَقَالَ عُمَرُ : خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5520

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں یہ نہیں کہ بازار میں سودا کی خریداری نے مجھے اس سے مشغول رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٦؛حدیث نمبر ٥٥٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ح وَحَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ - يَعْنِي ابْنَ شُمَيْلٍ - قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرَ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ : أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5521

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا السلام علیکم یہ عبد اللہ بن قیس حاضر ہے انہوں نے جواب نہ دیا انہوں نے(پھر کہا)السلام علیکم یہ عبد اللہ بن قیس حاضر ہے السلام علیکم یہ اشعری ہے۔اس کے بعد واپس چلے گئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان کو میرے پاس لاؤ وہ حاضر ہوئے تو فرمایا اے ابو موسیٰ!تمہیں کس بات نے واپس کیا ہم مشغول تھے۔انہوں نے کہا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اجازت تین بار طلب کی جائے اگر تمہیں اجازت دی جائے تو ٹھیک ہے ورنہ واپس چلے جاؤ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر گواہ لاؤ ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ چلے گئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر حضرت ابو موسیٰ کو گواہ مل گیا تو تم شام کے وقت منبر کے پاس پاؤ گے اور اگر انہیں گواہ نہ ملا تو تم ان کو نہیں پاؤ گے۔جب شام کے وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے تو حضرت ابو موسیٰ کو موجود پایا فرمایا اے ابو موسیٰ کیا کہتے ہو کیا تم نے گواہ پالیا انہوں نے کہا جی ہاں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں فرمایا وہ نیک آدمی ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو الطفیل(حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت)یہ کیا کہ رہے ہیں انہوں نے فرمایا اے ابن خطاب!میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے یہی بات فرمائی ہے آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے لئے عذاب نہ بنیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا سبحان اللہ!میں نے تو ایک حدیث سنی اور اس کی تحقیق کرنا مناسب سمجھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٦؛حدیث نمبر ٥٥٢٢)

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ، فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، هَذَا أَبُو مُوسَى، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، هَذَا الْأَشْعَرِيُّ. ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ : رُدُّوا عَلَيَّ، رُدُّوا عَلَيَّ. فَجَاءَ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُوسَى، مَا رَدَّكَ ؛ كُنَّا فِي شُغُلٍ. قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ ؛ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ، وَإِلَّا فَارْجِعْ ". قَالَ : لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ، وَإِلَّا فَعَلْتُ، وَفَعَلْتُ. فَذَهَبَ أَبُو مُوسَى، قَالَ عُمَرُ : إِنْ وَجَدَ بَيِّنَةً تَجِدُوهُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَشِيَّةً، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً فَلَمْ تَجِدُوهُ، فَلَمَّا أَنْ جَاءَ بِالْعَشِيِّ وَجَدُوهُ، قَالَ : يَا أَبَا مُوسَى، مَا تَقُولُ ؟ أَقَدْ وَجَدْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ . قَالَ : عَدْلٌ، قَالَ : يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، مَا يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَلَا تَكُونَنَّ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَمِعْتُ شَيْئًا، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5522

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا اے ابو المنذر!کیا تم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟انہوں نے کہا جی ہاں اے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ!آپ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے لئے وبال نہ بنیں۔اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول کہ میں نے ایک حدیث سنی اور اس کی تحقیق کو ضروری سمجھا،مذکور نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛ بَابُ الِاسْتِئْذَان؛جلد٣ص١٦٩٧؛حدیث نمبر ٥٥٢٣)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ، فَلَا تَكُنْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ قَوْلِ عُمَرَ : سُبْحَانَ اللَّهِ. وَمَا بَعْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5523

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آواز دی آپ نے پوچھا کون ہے؟میں نے کہا"میں ہوں"فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لائے"میں،میں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ قَوْلِ الْمُسْتَأْذِنِ أَنَا إِذَا قِيلَ مَنْ هَذَا؛ترجمہ؛اجازت طلب کرنے والے کا"کون"ہے کے جواب میں"میں ہوں"کہنا ناپسند ہے؛جلد٣ص١٦٩٧؛حدیث نمبر ٥٥٢٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَوْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قُلْتُ : أَنَا. قَالَ : فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ : " أَنَا، أَنَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5524

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کون ہے؟میں نے کہا میں ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"میں،"میں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ قَوْلِ الْمُسْتَأْذِنِ أَنَا إِذَا قِيلَ مَنْ هَذَا؛جلد٣ص١٦٩٧؛حدیث نمبر ٥٥٢٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ - قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " فَقُلْتُ : أَنَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا، أَنَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5525

امام مسلم علیہ الرحمہ نے ان احادیث کی تین سندیں بیان کی ہیں ان روایات میں ہے کہ آپ"میں ہوں"کہنے کو ناپسند فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ كَرَاهَةِ قَوْلِ الْمُسْتَأْذِنِ أَنَا إِذَا قِيلَ مَنْ هَذَا؛جلد٣ص١٦٩٧؛حدیث نمبر ٥٥٢٦)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمْ : كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5526

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے سوراخ سے جھانکا اور آپ کے پاس ایک آلہ تھا جس سے سر کھجا رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا اگر مجھے علم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں اس کو تیری آنکھ میں چبھو دیتا۔ (پھر آپ نے فرمایا)اجازت لینے کا حکم دیکھنے ہی کی وجہ سے مقرر کیا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛ترجمہ؛اجنبی کے مکان میں جھانکنے کی مذمت؛جلد٣ص١٦٩٨؛حدیث نمبر ٥٥٢٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5527

حضرت سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے سوراخ(جھری)میں سے جھانک رہا تھا اور آپ کے ہاتھ میں کنگھا تھا جس سے سر انور کو کنگھی کر رہے تھے آپ نے اس شخص سے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم دیکھ رہے تو میں اس کو تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا اللہ تعالیٰ نے اجازت لینے کا حکم نظر کی وجہ سے ہی تو دیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛جلد٣ص١٦٩٨؛حدیث نمبر ٥٥٢٨)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يُرَجِّلُ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ طَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ ؛ إِنَّمَا جَعَلَ اللَّهُ الْإِذْنَ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5528

ایک اور سند کے ساتھ بواسطہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٥٢٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛جلد٣ص١٦٩٨؛حدیث نمبر ٥٥٢٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَيُونُسَ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5529

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے(دروازے کے)سوراخ سے جھانکا تو آپ ایک تیر یا کئی تیر لے کر اس کی طرف اٹھے میں دیکھ رہا ہوں کہ گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آنکھوں میں تیر چبھونے کی تدبیر کر رہے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛جلد٣ص١٦٩٩؛حدیث نمبر ٥٥٣٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، وَأَبِي كَامِلٍ - قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ ، أَوْ مَشَاقِصَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5530

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص کسی قوم کی اجازت کے بغیر ان کے گھروں کو جھانکتے ہیں تو ان کے لئے جائز ہے کہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛جلد٣ص١٦٩٩؛حدیث نمبر ٥٥٣١)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَئُوا عَيْنَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5531

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص بلااجازت تمہارے مکان میں جھانکے اور تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو کہ تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (ان احادیث میں کسی کے گھر میں جھانکنے کی برائی اور اس کی شدت کا بیان ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ؛جلد٣ص١٦٩٩؛حدیث نمبر ٥٥٣٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5532

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے مجھے نظر ہٹانے کا حکم دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ؛ترجمہ؛اچانک نگاہ پڑ جانے کا حکم؛جلد٣ص١٦٩٩؛حدیث نمبر ٥٥٣٣)

حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5533

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْآدَابِ؛بَابُ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ؛جلد٣ص١٧٠٠؛حدیث نمبر ٥٥٣٤)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Adaabe, Hadees No. 5534

Muslim Shareef : Kitabul Adaabe

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْآدَابِ

|

•