asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabus Salame

From 5132 to 5749

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

سلام کا بیان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار پیدل کو،پیدل بیٹھے ہوئے کو اور کم آدمی زیادہ آدمی کو سلام کرے۔ (سلام کرنا سنت اور جواب دینا واجب ہے اور گزرنے والی ایک جماعت ہو تو سنت کفایہ ہے ایک کے سلام سے سب کی طرف سے ادائیگی ہوجائے گی اسی طرح جس کو سلام کیا گیا وہ ایک ہو تو جواب فرض عین ہے اور اگر جماعت ہو تو فرض(واجب)کفایہ ہوگا حدیث شریف میں جو بیان ہوا کہ سوار پیدل کو چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے تو یہ مستحب اس کے خلاف بھی جائز ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛ترجمہ؛سلام کا بیان؛بَابُ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ؛ترجمہ؛سوار پیدل کو اور کم آدمی زیادہ آدمیوں کو سلام کریں؛جلد٤ص١٧٠٣؛حدیث نمبر ٥٥٣٥)

حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5535

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم مکانوں کے سامنے زمین پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے آپ نے فرمایا تمہیں راستوں میں مجالس منعقد کرنے کی کیا ضرورت ہے راستوں میں مجلسیں قائم کرنے سے بچو۔ ہم نے کہا کسی برے مقصد کے تحت نہیں بیٹھتے(بلکہ) ہم تو باہم گفتگو کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں فرمایا اگر تم نہیں مانتے(یعنی بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو)تو راستوں کا حق ادا کرو نظر جھکا کر رکھنا،سلام کا جواب دینا اور اچھی باتیں کرنا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلَامِ؛ترجمہ؛راستے میں بیٹھنے کے حقوق میں سلام کا جواب بھی ہے؛جلد٤ص١٧٠٣؛حدیث نمبر ٥٥٣٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ : " مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ ، اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ ". فَقُلْنَا : إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَأْسٍ، قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ. قَالَ : " إِمَّا لَا، فَأَدُّوا حَقَّهَا ؛ غَضُّ الْبَصَرِ، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَحُسْنُ الْكَلَامِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5536

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہمارے لیے راستوں میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہم وہاں باہم گفتگو کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس کو نہیں چھوڑ سکتے تو راستے کا حق ادا کرو انہوں نے عرض کیا اس کا حق کیا ہے؟آپ نے فرمایا نظریں جھکا کر رکھنا،تکلیف دہ چیز کو دور کرنا،سلام کا جواب دینا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلَامِ؛جلد٤ص١٧٠٤؛حدیث نمبر ٥٥٣٧)

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ ". قَالُوا : وَمَا حَقُّهُ ؟ قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5537

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلَامِ؛جلد٤ص١٧٠٤؛حدیث نمبر ٥٥٣٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ هِشَامٍ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - كِلَاهُمَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5538

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہیں اپنے بھائی کے سلام کا جواب دینا،چھینک کا جواب دینا،دعوت قبول کرنا،مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جانا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلَامِ؛ترجمہ؛سلام کا جواب دینا مسلمان کے حقوق میں سے ہے؛جلد٤ص١٧٠٤؛حدیث نمبر ٥٥٣٩)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ ". ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ : رَدُّ السَّلَامِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ ". قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5539

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان کے ذمہ چھ حقوق ہیں عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!وہ کون سے حقوق ہیں؟ آپ نے فرمایا جب تم اس سے ملاقات کرو تو سلام کہو،جب وہ تمہیں دعوت دے تو اسے قبول کرو،جب تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو،جب اسے چھینک آے اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرے تو جواب میں یرحمک اللہ کہو جب وہ بیمار ہوجائے تو اس کی بیمار پرسی کرو،اور جب وہ مر جائے تو اس(کے جنازے)کے پیچھے چلو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مِنْ حَقِّ الْجُلُوسِ عَلَى الطَّرِيقِ رَدُّ السَّلَامِ؛جلد٤ص١٧٠٥؛حدیث نمبر ٥٥٤٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ ". قِيلَ : مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5540

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو ان کے جواب میں(صرف) وعلیکم کہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛ترجمہ؛اہل کتاب کو ابتداءً سلام کرنے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧٠٥؛حدیث نمبر ٥٥٤١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5541

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ہم ان کو جواب کس طرح دیں؟آپ نے فرمایا"وعلیکم" کہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٥؛حدیث نمبر ٥٥٤٢)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا، فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : " قُولُوا : وَعَلَيْكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5442

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یہودی تمہیں سلام کرتے ہیں تو ان میں سے ایک کہتا ہے"السام علیکم"تو تم(صرف)"علیک" کہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ، يَقُولُ أَحَدُهُمُ : السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُلْ : عَلَيْكَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5543

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کی البتہ اس میں یہ ہے کہ"وقولو علیک"(جمع کا صیغہ ہے) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٤)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَقُولُوا : وَعَلَيْكَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5544

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی انہوں نے"السام علیکم"کہا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بلکہ تم پر سام(موت)اور لعنت ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!اللہ تعالیٰ تمام کاموں میں نرمی کو پسند کرتا ہے انہوں نے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا؟آپ نے فرمایا میں نے بھی"وعلیکم"کہہ دیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٥)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ : بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ ". قَالَتْ : أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ قَالَ : " قَدْ قُلْتُ : وَعَلَيْكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5545

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں ان میں سے ایک یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے"علیکم"کہہ دیا تھا۔واؤ کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٦)

وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ قُلْتُ : عَلَيْكُمْ ". وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5546

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آے تو انہوں نے کہا اے ابو القاسم!"السام علیکم" آپ نے فرمایا"علیکم"(ام المؤمنين)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم پر سام اور ذام(موت اور ذلت)ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ بدزبان نہ بنو،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کیا آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟آپ نے فرمایا کیا میں نے ان کے قول کو ان کی طرف واپس نہیں کیا میں نے"وعلیکم"کہہ دیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٧)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. قَالَ : " وَعَلَيْكُمْ ". قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ : بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ، لَا تَكُونِي فَاحِشَةً ". فَقَالَتْ : مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا ؟ فَقَالَ : " أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِي قَالُوا ؟ قُلْتُ : وَعَلَيْكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5547

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان کے مقصد کو سمجھ گئی تھیں اس کے بعد انہوں نے ان لوگوں کو برا بھلا کہا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!رک جاؤ بے شک اللہ تعالیٰ،بد گوئی اور بدزبانی کو پسند نہیں کرتا اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔{وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللهُ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ(ترجمہ)"جب یہ لوگ آکر آپ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا" (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٦؛حدیث نمبر ٥٥٤٨)

حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَفَطِنَتْ بِهِمْ عَائِشَةُ، فَسَبَّتْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْ يَا عَائِشَةُ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ ". وَزَادَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : { وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ } إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5548

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کچھ یہودیوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو کہا"اے ابو القاسم!السام علیک آپ نے فرمایا وعلیکم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے غصہ میں آکر کہا کہ کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا؟آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں میں نے سنا اور ان کو جواب بھی دے دیا ان کے خلاف ہماری دعا قبول ہوگی اور ہمارے خلاف ان کی دعا قبول نہیں ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٧؛حدیث نمبر ٥٥٤٩)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. فَقَالَ : " وَعَلَيْكُمْ ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَغَضِبَتْ : أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ قَالَ : " بَلَى، قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5549

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصارٰی کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب تمہاری ان سے راستے میں ملاقات ہو تو ان کو تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٧؛حدیث نمبر٥٥٥٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ، وَلَا النَّصَارَى بِالسَّلَامِ، فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي طَرِيقٍ ؛ فَاضْطَرُّوهُ إِلَى أَضْيَقِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5550

امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں وکیع کی روایت میں ہے جب تمہاری یہودیوں سے ملاقات ہو اور جریر کی روایت میں ہے جب تمہاری ان سے ملاقات ہو کسی مشرک کا نام نہیں لیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ؛جلد٤ص١٧٠٧؛حدیث نمبر٥٥٥١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : " إِذَا لَقِيتُمُ الْيَهُودَ ". وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ، وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ : " إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ ". وَلَمْ يُسَمِّ أَحَدًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5551

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لڑکوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ السَّلَامِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛ترجمہ؛بچوں کو سلام کرنا مستحب ہے؛جلد٤ص١٧٠٨؛حدیث نمبر٥٥٥٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى غِلْمَانٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5552

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ السَّلَامِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛جلد٤ص١٧٠٨؛حدیث نمبر٥٥٥٣)

وَحَدَّثَنِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5553

حضرت سیار فرماتے ہیں میں نے حضرت ثابت بنانی کے ساتھ جا رہا تھا وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا اور حضرت ثابت نے بیان کیا کہ وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جارہے تھے وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا۔ (بچوں کی تربیت کے لئے ان کو سلام کیا جائے تاکہ وہ سیکھ لیں نیز دیگر آداب بھی سکھاے جائیں) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ السَّلَامِ عَلَى الصِّبْيَانِ؛جلد٤ص١٧٠٨؛حدیث نمبر٥٥٥٤)

وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَحَدَّثَ ثَابِتٌ ، أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ أَنَسٍ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَحَدَّثَ أَنَسٌ ، أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِصِبْيَانٍ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5554

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تمہارے لئے میری اجازت یہ ہے کہ پردہ اٹھا لیا جائے اور تم میرے راز کی بات سنو جب تک میں تمہیں اس سے منع نہ کروں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ جَعْلِ الْإِذْنِ رَفْعُ حِجَابٍ أَوْ نَحْوِهِ مِنَ الْعَلَامَاتِ؛ترجمہ؛پردہ اٹھانے کو اجازت قرار دیا؛جلد٤ص١٧٠٨؛حدیث نمبر٥٥٥٥)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ، وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5555

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ جَعْلِ الْإِذْنِ رَفْعُ حِجَابٍ أَوْ نَحْوِهِ مِنَ الْعَلَامَاتِ؛جلد٤ص١٧٠٨؛حدیث نمبر٥٥٥٦)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5556

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا باپردہ ہوکر قضائے حاجت کے لیے باہر گئیں اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جسامت میں دیگر خواتین سے بڑی تھیں جو شخص ان کو جانتا تھا اس پر مخفی نہ رہتی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ کر کہا اے سودہ!قسم بخدا!آپ ہم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتیں تو دیکھیں آپ کیسے باہر نکلیں گی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہ سن کر وہ فوراً واپس آگئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں کھانا کھا رہے تھے اور آپ کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی۔ وہ داخل ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں باہر گئی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجھے اس طرح اس طرح کہا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اسی وقت حضور پر وحی نازل ہوئی اور پھر منقطع ہوگئی اور ہڈی آپ کے ہاتھ میں تھی آپ نے رکھی نہیں تھی آپ نے فرمایا قضائے حاجت کے لیے تمہیں باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے ابوبکر(راوی)کی روایت میں(تفرع النساء کی بجائے)"یفرع النساء جسمہا" کے الفاظ ہیں اور ان کی روایت میں کھلے میدان میں جانے کی تصریح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِبَاحَةِ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ؛ترجمہ؛قضائے حاجت کے لیے عورتوں کو باہر جانے کی اجازت؛جلد٤ص١٧٠٩؛حدیث نمبر٥٥٥٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجَتْ سَوْدَةُ بَعْدَمَا ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ لِتَقْضِيَ حَاجَتَهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمًا، لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ : يَا سَوْدَةُ، وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا، فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ. قَالَتْ : فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ ، فَدَخَلَتْ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي خَرَجْتُ، فَقَالَ لِي عُمَرُ كَذَا وَكَذَا، قَالَتْ : فَأُوحِيَ إِلَيْهِ، ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ، وَإِنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ، فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ : يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا، زَادَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ : فَقَالَ هِشَامٌ : يَعْنِي الْبَرَازَ .

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5557

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔اس میں یہ ہے کہ لوگوں سے ان کا جسم بلند تھا اور اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کا کھانا کھا رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِبَاحَةِ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ؛جلد٤ص١٧٠٩؛حدیث نمبر٥٥٥٨)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : وَكَانَتِ امْرَأَةً يَفْرَعُ النَّاسَ جِسْمُهَا، قَالَ : وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5558

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِبَاحَةِ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ؛جلد٤ص١٧٠٩؛حدیث نمبر٥٥٥٩)

وَحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5559

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رات کے وقت قضائے حاجت کے لیے کھلے میدانوں میں جاتی تھیں اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کرتے تھے کہ اپنی ازواج کو حجاب کا حکم دیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(کسی وجہ سے)ان کی یہ گزارش قبول نہیں کرتے ایک رات ام المؤمنين حضرت سودہ رضی اللہ عنہا باہر نکلیں اور وہ دراز قد خاتون تھیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آواز دی اے سودہ!ہم نے آپ کو پہچان لیا ہے انہوں نے حجاب(کا حکم)نازل ہونے کی حرص کرتے ہوئے ایسا کیا تھا،تو اللہ تعالیٰ نے حجاب کا حکم نازل فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِبَاحَةِ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ؛جلد٤ص١٧٠٩؛حدیث نمبر٥٥٦٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ - وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ - وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْجُبْ نِسَاءَكَ. فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً، وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً، فَنَادَاهَا عُمَرُ : أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ. حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5560

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ ( ان احادیث سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بارگاہ خداوندی میں مقبولیت واضح ہوتی ہے کہ آپ کی خواہش پر پردہ کا حکم نازل ہوا نیز اگر گھر میں قضائے حاجت کے لیے انتظام نہ ہو تو عورتیں باپردہ ہوکر ایسے مقام پر جاسکتی ہیں جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِبَاحَةِ الْخُرُوجِ لِلنِّسَاءِ لِقَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ؛جلد٤ص١٧١٠؛حدیث نمبر٥٥٦١)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5561

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو!کوئی شخص کسی شادی شدہ عورت کے پاس رات نہ گزارے البتہ یہ کہ اس کا شوہر یا محرم ہو(کنواری کا حکم تو اس سے بھی سخت ہوگا) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا؛ترجمہ؛اجنبی عورت کے پاس تنہائی میں جانے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧١٠؛حدیث نمبر٥٥٦٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ حُجْرٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5562

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(اجنبی)عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔انصار میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ!دیور کے متعلق بتائیے آپ نے فرمایا دیور تو موت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا؛جلد٤ص١٧١١؛حدیث نمبر٥٥٦٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ ؟ قَالَ : " الْحَمْوُ الْمَوْتُ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5563

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا؛جلد٤ص١٧١١؛حدیث نمبر٥٥٦٤)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5564

حضرت لیث بن سعد کہتے ہیں دیور سے مراد خاوند کا بھائی یا اس کے مشابہ خاوند کے قریبی رشتہ دار جیسے اس کا چچا زاد بھائی وغیرہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا؛جلد٤ص١٧١١؛حدیث نمبر٥٥٦٥)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ : الْحَمْوُ : أَخُ الزَّوْجِ، وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ؛ ابْنُ الْعَمِّ، وَنَحْوُهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5565

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس آئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ان کو یہ بات ناگوار گزری اس وقت حضرت اسماء ان کے نکاح میں تھیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خرابی سے دور رکھا،اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آج کے بعد کوئی شخص ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند اس وقت حاضر نہ ہو البتہ یہ کہ اس کے ایک دو آدمی اور ہوں(تو کوئی حرج نہیں) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا؛جلد٤ص١٧١١؛حدیث نمبر٥٥٦٦)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ، فَكَرِهَ ذَلِكَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ : لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ ". ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ : " لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ، إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5566

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ مطہرہ کے ساتھ تھے تو ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا آپ نے اسے بلایا وہ آیا تو آپ نے فرمایا اے فلاں!یہ میری بیوی ہے،اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اگر میں کسی کے بارے میں گمان بھی کرتا تو آپ کے بارے میں نہ کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُئِيَ خَالِيًا بِامْرَأَةٍ وَكَانَتْ زَوْجَتَهُ أَوْ مَحْرَمًا لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذِهِ فُلَانَةُ لِيَدْفَعَ ظَنَّ السُّوءِ بِهِ؛ترجمہ؛کوئی شخص اپنی بیوی یا محرم عورت کے ساتھ ہو تو بدگمانی کے ازالہ کے لئے لوگوں کو بتا دے کہ یہ فلاں ہے؛جلد٤ص١٧١٢؛حدیث نمبر٥٥٦٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ، فَدَعَاهُ، فَجَاءَ فَقَالَ : " يَا فُلَانُ، هَذِهِ زَوْجَتِي فُلَانَةُ ". فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ، فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5567

حضرت صفیہ بنت حُیَی بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے تو میں رات کے وقت آپ سے ملاقات کے لئے آئی میں نے آپ سے باتیں کیں پھر واپس جانے کے لئے کھڑی ہوئی تو آپ بھی مجھے رخصت کرنے کے لئے کھڑے ہوے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی رہائش حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حویلی میں تھی(اس دوران)انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیز تیز چل پڑے آپ نے فرمایا ٹھہر جاؤ یہ صفیہ بنت حیی ہیں انہوں نے کہا سبحان اللہ!یا رسول اللہ!آپ نے فرمایا شیطان انسانوں کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی بدگمانی ڈال دے یا کوئی کلمہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُئِيَ خَالِيًا بِامْرَأَةٍ وَكَانَتْ زَوْجَتَهُ أَوْ مَحْرَمًا لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذِهِ فُلَانَةُ لِيَدْفَعَ ظَنَّ السُّوءِ بِهِ؛جلد٤ص١٧١٢؛حدیث نمبر٥٥٦٨)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا، فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ، ثُمَّ قُمْتُ لِأَنْقَلِبَ ، فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى رِسْلِكُمَا ، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ ". فَقَالَا : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا " أَوْ قَالَ : " شَيْئًا ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5568

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے آئیں اور آپ رمضان شریف کے آخری دس دنوں میں مسجد میں معتکف تھے انہوں نے کچھ دیر گفتگو کی پھر کھڑی ہوگئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھڑے ہوگئے اور ان کو رخصت کرنے لگے۔ اس کے بعد حدیث نمبر ٥٥٦٨ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک شیطان انسانوں کی رگوں میں خون کی طرح پہنچتا ہے۔ "یجری"(دوڑتا ہے)کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ بَيَانِ أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُئِيَ خَالِيًا بِامْرَأَةٍ وَكَانَتْ زَوْجَتَهُ أَوْ مَحْرَمًا لَهُ أَنْ يَقُولَ هَذِهِ فُلَانَةُ لِيَدْفَعَ ظَنَّ السُّوءِ بِهِ؛جلد٤ص١٧١٢؛حدیث نمبر٥٥٦٩)

وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ، فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، وَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ ". وَلَمْ يَقُلْ : يَجْرِي.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5569

حضرت ابو واقد لیثی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آپ کے ہمراہ تھے کہ تین آدمی آے دو شخص(آگے)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے گئے اور ایک واپس لوٹ گیا۔ فرماتے ہیں وہ دونوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوگئے پھر ان میں سے ایک نے مجلس میں کشادگی دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا سب کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا واپس چلا گیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں تمہیں ان تینوں کی خبر نہ دوں ان میں سے ایک نے اللہ تعالیٰ کی پناہ لی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو پناہ دے دی دوسرے نے حیا کیا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے حیا فرماے گا اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اعراض فرمائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مَنْ أَتَى مَجْلِسًا فَوَجَدَ فُرْجَةً فَجَلَسَ فِيهَا وَإِلَّا وَرَاءَهُمْ؛جلد٤ص١٧١٣؛حدیث نمبر٥٥٧٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ، إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَهَبَ وَاحِدٌ، قَالَ : فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا، وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ ؟ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5570

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں مزید بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مَنْ أَتَى مَجْلِسًا فَوَجَدَ فُرْجَةً فَجَلَسَ فِيهَا وَإِلَّا وَرَاءَهُم؛جلد٤ص١٧١٤؛حدیث نمبر٥٥٧١)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ - وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ - ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَهُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ فِي الْمَعْنَى.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5571

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر وہاں نہ بیٹھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٤؛حدیث نمبر٥٥٧٢)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5572

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے البتہ(مجلس میں)کشادگی اور وسعت پیدا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٤؛حدیث نمبر٥٥٧٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5573

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٥٧٣ کے مثل روایت کرتے ہیں لیکن اس میں کشادگی اور وسعت پیدا کرنے کا ذکر نہیں ہے ابن جریج کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے پوچھا جمعہ کے دن؟فرمایا جمعہ کے دن اور اس کے علاوہ بھی(یہی حکم ہے) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٤؛حدیث نمبر٥٥٧٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي الْحَدِيثِ : " وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا "، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ : قُلْتُ : فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5574

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص اپنے(مسلمان)بھائی کو اٹھا کر وہاں نہ بیٹھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے لئے جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھتا ہے تو آپ وہاں نہیں بیٹھتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٤؛حدیث نمبر٥٥٧٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي مَجْلِسِهِ ". وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَجْلِسْ فِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5575

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٥؛حدیث نمبر٥٥٧٦)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5576

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص جمعہ کے دن اپنے(مسلمان)بھائی کو اٹھا کر وہاں نہ بیٹھے بلکہ یوں کہے کہ مجلس میں جگہ بناؤ۔(لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا تہذیب کے خلاف ہے لہٰذا جہاں جگہ مل جائے بیٹھ جائے البتہ اہل مجلس کی ذمہ داری ہے کہ آنے والے شخص کے لئے جگہ بنائیں اور اگر وہ کوئی روحانی علمی اعتبار سے بڑی شخصیت ہے تو اسے آگے جگہ دیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١٥؛حدیث نمبر٥٥٧٧)

وَحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ قَالَ : " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ لْيُخَالِفْ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ، وَلَكِنْ يَقُولُ : افْسَحُوا ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5577

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہو دوسری حدیث میں ہے کہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو پھر اس جگہ واپس آے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ إِذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ عَادَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ؛ترجمہ؛اگر کوئی شخص مجلس سے اٹھ جائے اور پھر وہ واپس آے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حق دار ہے؛جلد٤ص١٧١٥؛حدیث نمبر٥٥٧٨)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ أَيْضًا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - كِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ - وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ : مَنْ قَامَ - مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5578

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک مخنث(ہجڑا)بیٹھا ہوا تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تھے۔اس مخنث نے حضرت ام سلمہ کے بھائی سے کہا اے عبد اللہ بن امیہ اگر اللہ تعالیٰ نے کل تم لوگوں پر طائف کو فتح کر دیا تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کی طرف رہنمائی کروں گا جب وہ سامنے آتی ہے تو پیٹ کی چار سلوٹیں ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو اس کی آٹھ سلوٹیں ہوتیں ہیں۔ راوی فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا یہ لوگ تمہارے پاس نہ آیا کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مَنْعِ الْمُخَنَّثِ مِنَ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ الْأَجَانِب؛ترجمہ؛مخنث کو اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے منع کرنا؛جلد٤ص١٧١٥؛حدیث نمبر٥٥٧٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ أَيْضًا - وَاللَّفْظُ هَذَا - حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ مُخَنَّثًا كَانَ عِنْدَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لِأَخِي أُمِّ سَلَمَةَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ، إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا، فَإِنِّي أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ ؛ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ. قَالَ : فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا يَدْخُلْ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5579

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث آیا کرتا تھا اور اس کو ان لوگوں میں شمار کیا جاتا تھا جن کو جنسی خواہش نہیں ہوتی۔ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ مخنث آپ کی ایک زوجہ کے پاس بیٹھا ہوا ایک عورت کا وصف بیان کر رہا تھا اس نے کہا جب وہ سامنے آتی ہے تو(پیٹ کی)چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹیں ہوتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں نہیں دیکھتا کہ جو کچھ یہاں ہے یہ اس کو پہچانتا ہے اس قسم کے لوگ تمہارے پاس نہ آئے کریں ام المومنین فرماتی ہیں اس کے بعد لوگوں نے اس کو روک دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ مَنْعِ الْمُخَنَّثِ مِنَ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ الْأَجَانِب؛جلد٤ص١٧١٦؛حدیث نمبر٥٥٨٠)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ، فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ ، قَالَ : فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ، وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً، قَالَ : إِذَا أَقْبَلَتْ، أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ، أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَرَى هَذَا يَعْرِفُ مَا هَاهُنَا، لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ ". قَالَتْ : فَحَجَبُوهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5580

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے نکاح کیا اس وقت ان کے پاس ایک گھوڑے کے سوا کوئی مال یا غلام(وغیرہ)نہیں تھا۔میں ان کے گھوڑے کو چارا ڈالتی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس کی خبر گیری اور نگہداشت کرتی ان کے اونٹ کے لئے گٹھلیاں کوٹتی چارا ڈالتی اور ڈول سے پانی لاتی اور آٹا گوندتی لیکن میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی میرے پڑوس میں جو انصاری عورتیں تھیں وہ میرے لیے روٹیاں پکاتی تھیں وہ بہت مخلص عورتیں تھیں۔اور میں اس زمین سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو دی تھی۔ گٹھلیاں سر پر اٹھا کر لاتی تھی اور یہ فاصلہ دو تہائی فرسخ تھا ایک دن میں سر پر گٹھلیاں اٹھائے آرہی تھی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی آپ کے ساتھ کچھ صحابہ کرام بھی تھے۔ آپ نے مجھے بلاکر فرمایا پھر(اونٹ بٹھانے کے لئے)اخ اخ فرمایا تاکہ مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیں(اونٹ کو بٹھانے کے لئے اخ اخ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے) حضرت اسماء کہتی ہیں مجھے حیاء آئی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت یاد آگئی آپ نے فرمایا اللہ کی قسم!تمہارا سر پر گٹھلیاں اٹھانا میرے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت ہے۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں اس واقعہ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک خادمہ بھیجی جو مجھے گھوڑے کے کام میں کفایت کرنے لگی گویا اس خادمہ نے مجھے آزاد کردیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ إِرْدَافِ الْمَرْأَةِ الْأَجْنَبِيَّةِ إِذَا أَعْيَتْ فِي الطَّرِيقِ؛ترجمہ؛راستے میں تھکی ہوئی عورت کو سواری پر اپنے ساتھ بٹھانا؛جلد٤ص١٧١۶؛حدیث نمبر٥٥۸۱)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ، وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ، وَلَا مَمْلُوكٍ، وَلَا شَيْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ، قَالَتْ : فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ، وَأَكْفِيهِ مَئُونَتَهُ، وَأَسُوسُهُ، وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ وَأَعْلِفُهُ، وَأَسْتَقِي الْمَاءَ، وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ ، وَأَعْجِنُ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ، وَكَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، قَالَتْ : وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي ؛ وَهِيَ عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ، قَالَتْ : فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ : " إِخْ إِخْ ". لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، قَالَتْ : فَاسْتَحْيَيْتُ، وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى عَلَى رَأْسِكِ أَشَدُّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ. قَالَتْ : حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ، فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَتْنِي.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5581

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے گھر کے کام کرتی تھی اور ان کا ایک گھوڑا تھا اور میں اس کی دیکھ بھال کرتی تھی اور کوئی کام اس گھوڑے کی دیکھ بھال سے زیادہ میرے نزدیک سخت نہ تھا میں اس کے لئے گھاس لاتی اور اس کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ پھر مجھے ایک خادمہ مل گئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی آئےتو آپ نے ایک لونڈی بطور خادمہ مجھے عنایت فرمائی تو اس نے گھوڑے کی دیکھ بھال کی مشقت مجھ سے دور کردی۔فرماتی ہیں ایک شخص آیا اور اس نے کہا اے ام عبد اللہ!میں فقیر آدمی ہوں میں چاہتا ہوں کہ تمہارے گھر کے سائے میں خرید و فروخت کروں انہوں نے فرمایا اگر میں تجھے اجازت دے بھی دوں تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نہیں مانیں گے تو تم اس وقت آنا جب حضرت زبیر رضی اللہ عنہ موجود ہوں۔ چنانچہ وہ آیا اور اس نے کہا اے عبداللہ!میں فقیر ہوں میں آپ کے گھر کے سائے میں سودا بیچنا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا پورے مدینہ شریف کو چھوڑ کر صرف میرے گھر کا انتخاب کیوں؟حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تجھے کیا ہوا کہ تو ایک فقیر آدمی کو سودا بیچنے سے منع کرتی ہے۔ پھر وہ دوکان داری کرنے لگا حتیٰ کہ اس نے کافی کمائی کرلی اور میں نے وہ لونڈی اس پر بیچ دی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو اس لونڈی کی قیمت میری گود میں تھی انہوں نے فرمایا یہ پیسہ مجھے دے دو حضرت اسماء نے فرمایا میں ان کو صدقہ کر چکی ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ؛جلد٤ص١٧١۷؛حدیث نمبر۵۵۸۲)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ قَالَتْ : كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ خِدْمَةَ الْبَيْتِ، وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ وَكُنْتُ أَسُوسُهُ، فَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْخِدْمَةِ شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ، كُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ، وَأَقُومُ عَلَيْهِ وَأَسُوسُهُ. قَالَ : ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا، جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَعْطَاهَا خَادِمًا، قَالَتْ : كَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ، فَقَالَ : يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ. قَالَتْ : إِنِّي إِنْ رَخَّصْتُ لَكَ أَبَى ذَاكَ الزُّبَيْرُ، فَتَعَالَ فَاطْلُبْ إِلَيَّ وَالزُّبَيْرُ شَاهِدٌ. فَجَاءَ، فَقَالَ : يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ فَقِيرٌ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ فِي ظِلِّ دَارِكِ. فَقَالَتْ : مَا لَكَ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا دَارِي ؟ فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ : مَا لَكِ أَنْ تَمْنَعِي رَجُلًا فَقِيرًا يَبِيعُ ؟ فَكَانَ يَبِيعُ إِلَى أَنْ كَسَبَ، فَبِعْتُهُ الْجَارِيَةَ، فَدَخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ وَثَمَنُهَا فِي حَجْرِي، فَقَالَ : هَبِيهَا لِي. قَالَتْ : إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهَا.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5582

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تین آدمی ہوں تو دو شخص تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الِاثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاه؛ترجمہ؛تیسرے شخص کی موجودگی میں اس کی مرضی کے بغیر دو آدمیوں کا باہم سرگوشی کرنا؛جلد٤ص١٧١٧؛حدیث نمبر٥٥٨٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5583

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی متعدد اسناد ذکر کی ہیں جن میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الِاثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاه؛جلد٤ص١٧١٧؛حدیث نمبر٥٥٨٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5584

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم تین آدمی ہوں تو تیسرے کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں سرگوشی نہ کریں حتیٰ کہ بہت سے لوگ جمع ہو جائیں تاکہ اس تیسرے شخص کی دل آزاری نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الِاثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاه؛جلد٤ص١٧١٨؛حدیث نمبر٥٥٨٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ ؛ مِنْ أَجْلِ أَنْ يُحْزِنَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5585

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو شخص باہم سرگوشی نہ کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الِاثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاه؛جلد٤ص١٧١٨؛حدیث نمبر٥٥٨٦)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5586

امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ مُنَاجَاةِ الِاثْنَيْنِ دُونَ الثَّالِثِ بِغَيْرِ رِضَاه؛جلد٤ص١٧١٨؛حدیث نمبر٥٥٨٧)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5587

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو حضرت جبریل علیہ السلام آکر آپ کو دم کرتے اور یہ کلمات کہتے:«بِاسْمِ اللهِ يُبْرِيكَ، وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ، وَشَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ» (ترجمہ) اللہ کے نام سے وہ آپ کو تندرست کر دے گا اور ہر بیماری سے شفا دے گا۔اور ہر حاسد کے حسد جب وہ حسد کرے اور نظر لگانے والی آنکھ کے شرسےمحفوظ رکھے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى؛ترجمہ طب،بیماری اور جھاڑ پھونک؛جلد٤ص١٧١٨؛حدیث نمبر٥٥٨٨)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ إِذَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَاهُ جِبْرِيلُ، قَالَ : بِاسْمِ اللَّهِ يُبْرِيكَ، وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ، وَشَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5588

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)آپ علیل ہیں؟فرمایا ہاں تو حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ کو یوں دم کیا۔ (ترجمہ)اللہ کے نام سے آپ کو ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو آپ کو اذیت پہنچاے ہر نفس کے شر اور حاسد کی نظر سے(دم کرتا ہوں)اللہ آپ کو شفا دے گا میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى؛جلد٤ص١٧١٨؛حدیث نمبر٥٥٨٩)

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، اشْتَكَيْتَ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ". قَالَ : بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ، أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ، بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5589

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایات کی ہیں جن میں یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر حق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى؛جلد٤ص١٧١٩؛حدیث نمبر٥٥٩٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَيْنُ حَقٌّ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5590

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کر سکتی تو نظر کرتی جب تم سے(نظر کے علاج کے لئے)غسل کرنے کو کہا جائے تو غسل کر لو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى؛جلد٤ص١٧١٩؛حدیث نمبر٥٥٩١)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعَيْنُ حَقٌّ، وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ، وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5591

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو زریق کے یہودیوں میں سے ایک یہودی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا اس یہودی کو لبید بن اعصم کہا جاتا تھا۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت یہ ہوگئی کہ آپ کو خیال تھا کہ میں فلاں کام کر رہا ہوں حالانکہ آپ وہ کام نہیں کر رہے ہوتے تھے حتیٰ کہ ایک دن یا ایک رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی پھر دعا مانگی،پھر دعا مانگی۔ اس کے بعد فرمایا اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے جو کچھ پوچھا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا میرے پاس دو آدمی آئے اور ان میں سے ایک میرے سرہانے اور دوسرے میرے پاؤں کی طرف بیٹھا۔ جو میرے سرہانے تھا اس نے اس سے کہا جو پائتی کی طرف تھا یا پائتی والے نے سرہانے کی طرف بیٹھے ہوئے سے کہا اس شخص کو کیا بیماری ہے دوسرے نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے اس نے کہا کس نے جادو کیا ہے دوسرے نے کہا لبید بن اعصم نے،اس نے پوچھا کس چیز میں؟اس نے کہا کنگھی اور کنگھی سے جھڑنے والے بالوں میں اور کہا کہ نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں۔ اس نے پوچھا وہ غلاف کہاں ہے؟دوسرے نے جواب دیا ذی اروان کے کنویں میں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے پھر فرمایا اے عائشہ!اللہ کی قسم اس کنویں کا پانی مہندی کے پانی کی طرح تھا اور وہاں کے کھجور کے درخت شیطان کے سر کی طرح تھے۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے ان کو جلا کیوں نہ دیا؟آپ نے فرمایا: نہیں! اللہ تعالیٰ نے مجھے اچھا کر دیا اور میں لوگوں میں فساد بھڑکانے کو برا سمجھتا ہوں پس میں نے حکم دیا تو ان کو دفن کر دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ السِّحْرِ؛جادو کا بیان؛جلد٤ص١٧١٩؛حدیث نمبر٥٥٩٢)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ : لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ، قَالَتْ : حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ، وَمَا يَفْعَلُهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ، أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ، أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ ؛ جَاءَنِي رَجُلَانِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ، أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيَّ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي : مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ قَالَ : مَطْبُوبٌ . قَالَ : مَنْ طَبَّهُ. قَالَ : لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ. قَالَ : فِي أَيِّ شَيْءٍ ؟ قَالَ : فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ . قَالَ : وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ. قَالَ : فَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ ". قَالَتْ : فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ، وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ". قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ. قَالَ : " لَا، أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا، فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5592

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٥٩٢ کے مثل مروی ہے اور اس میں فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کی طرف تشریف لے گئے اور اس کی طرف دیکھا اس کنوئیں پر کھجور کے درخت تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اس کو نکال لیجئے اور یہ نہیں کہا کہ آپ اس کو جلا کیوں نہیں دیتے یہ بھی مذکور نہیں کہ میں نے حکم دیا تو اس کو دفن کر دیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ السحر؛جلد٤ص١٧٢١؛حدیث نمبر٥٥٩٣)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سُحِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ أَبُو كُرَيْبٍ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَقَالَ فِيهِ : فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبِئْرِ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا، وَعَلَيْهَا نَخْلٌ، وَقَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْرِجْهُ. وَلَمْ يَقُلْ : أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ : " فَأَمَرْتُ بِهَا فَدُفِنَتْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5593

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بکری کا زہر آلودہ گوشت لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے کچھ کھا لیا پھر اس عورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا آپ نے اس بارے میں پوچھا تو اس نے کہا میں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے اس پر قادر نہیں کرے گا یا فرمایا مجھ پر قادر نہیں کرے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ کرام نے عرض کیا کیا ہم اسے قتل نہ کردیں آپ نے فرمایا نہیں۔راوی کہتے ہیں اس زہر کا اثر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کوے(دہن مبارک)میں ہمیشہ پایا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ السُّمِّ؛ترجمہ؛زہر کا بیان؛جلد٤ص١٧٢١؛حدیث نمبر٥٥٩٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً يَهُودِيَّةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ : أَرَدْتُ لِأَقْتُلَكَ. قَالَ : " مَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَى ذَاكِ ". قَالَ : أَوْ قَالَ : " عَلَيَّ ". قَالَ : قَالُوا : أَلَا نَقْتُلُهَا ؟ قَالَ : " لَا ". قَالَ : فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5594

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نے گوشت میں زہر ملایا اور وہ گوشت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٥٩٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ السُّمِّ؛جلد٤ص١٧٢١؛حدیث نمبر٥٥٩٥)

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَعَلَتْ سَمًّا فِي لَحْمٍ، ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ خَالِدٍ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5595

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب ہم میں سے کوئی شخص بیمار ہو جاتا تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے پھر فرماتے، (ترجمہ) اے انسانوں کے مالک!تکلیف کو دور کردے،شفا عطا فرما،تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفا کے سوا کوئی اور شفا نہیں ایسی شفا عطا فرما جس سے بیماری باقی نہ رہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور بیماری سخت ہو گئی تو میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا تاکہ وہی عمل کروں جو آپ کرتے تھے تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا پھر فرمایا۔ (ترجمہ) اے اللہ!مجھے بخش دے اور مجھےرفیق اعلیٰ کے ساتھ کردے ام المؤمنين فرماتی ہیں پھر میں نے دیکھا تو آپ وصال فرما چکے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛ترجمہ؛مریض کو دم کرنے کا بیان؛جلد٤ص١٧٢١؛حدیث نمبر٥٥٩٦)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ زُهَيْرٌ - وَاللَّفْظُ لَهُ - : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ : " أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ". فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ ؛ أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِأَصْنَعَ بِهِ نَحْوَ مَا كَانَ يَصْنَعُ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى ". قَالَتْ : فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ، فَإِذَا هُوَ قَدْ قَضَى.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5596

امام مسلم علیہ الرحمہ نے متعدد اسناد کے ساتھ اس حدیث کو ذکر کیا شعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ نے اپنا ہاتھ پھیرا ثوری کی روایت میں ہے کہ آپ نے اپنا داہنا ہاتھ پھیرا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٢؛حدیث نمبر٥٥٩٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ سُفْيَانَ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ ، فِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَشُعْبَةَ : مَسَحَهُ بِيَدِهِ. قَالَ : وَفِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ : مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ. وَقَالَ فِي عَقِبِ حَدِيثِ يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ : قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ مَنْصُورًا فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5597

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرتے تو یہ کلمات فرماتے۔ (ترجمہ) اے لوگوں کے رب!تکلیف کو دور کر دے اسے شفا دے تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں ایسی شفا عطا فرما جو کسی بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٢؛حدیث نمبر٥٥٩٨)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا يَقُولُ : " أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِهِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5598

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے تو اس کے لئے دعا کرتے اور فرماتے اے لوگوں کے رب!تکلیف کو دور کردے اور شفا عطاء فرما تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ایسی شفا عطاء فرما جس سے بیماری بالکل باقی نہ رہے۔ ابوبکر کی روایت میں ہے کہ آپ اس کے لئے دعا فرماتے اور فرماتے(اے اللہ)تو ہی شفا دینے والا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٢؛حدیث نمبر٥٥٩٩)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ يَدْعُو لَهُ، قَالَ : " أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ : فَدَعَا لَهُ، وَقَالَ : " وَأَنْتَ الشَّافِي ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5599

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٥٩٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠٠)

وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، وَجَرِيرٍ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5600

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دم کرتے تھے۔ (ترجمہ)اے لوگوں کے مالک!تکلیف کو دور کردو شفاء تیرے ہی دست قدرت میں ہے تیرے سوا اس مصیبت کو دور کرنے والا کوئی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي بِهَذِهِ الرُّقْيَةِ : " أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، بِيَدِكَ الشِّفَاءُ، لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5601

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠٢)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5602

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ"قل أعوذ برب الفلق"اور"قل اعوذ برب الناس"پڑھ کر دم کرتے۔ جب آپ مرض وصال میں مبتلا ہوے تو میں آپ پر دم کرتی اور آپ کے دست مبارک کو آپ پر پھیرتی کیونکہ آپ کے دست مبارک میں میرے ہاتھ سے زیادہ برکت تھی۔ یحییٰ بن ایوب کی روایت میں(بالمعوذات کی جگہ)بمعوذات(الف لام کے بغیر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَالنَّفْث؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠٣)

حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ، وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ ؛ لِأَنَّهَا كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْ يَدِي. وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ : بِمُعَوِّذَاتٍ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5603

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوے تو اپنے اوپر"قل اعوذ برب الفلق"اور"قل اعوذ برب الناس"پڑھتے اور دم کرتے تھے جب آپ کی تکلیف زیادہ ہوگئی تو میں آپ پر پڑھتی اور برکت کی امید سے آپ کے دست مبارک سے اس جگہ کو پھیرتی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَالنَّفْث؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى، يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ، وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ ؛ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5604

امام مسلم نے اس حدیث کی چار سندیں بیان کی ہیں مالک کی حدیث کے علاوہ کسی میں"برکت کی امید سے"کے الفاظ نہیں ہیں نیز یونس اور زیاد کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب علیل ہوے تو سورہ فلق اور سورہ ناس اس پر پڑھ کر دم کرتے اور اپنا ہاتھ پھیرتے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَالنَّفْث؛جلد٤ص١٧٢٣؛حدیث نمبر٥٦٠٥)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ : رَجَاءَ بَرَكَتِهَا. إِلَّا فِي حَدِيثِ مَالِكٍ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ وَزِيَادٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5605

حضرت اسود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دم کرانے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ وسلم نے انصار کے ایک گھرانے کو ہر زہریلےڈنگ کی تکلیف میں دم کرانے کی اجازت دی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛ترجمہ؛نظر لگنے،پھوڑے،پھنسی،اور زہریلے ڈنک وغیرہ کی تکلیف میں دم کرانے کا استحباب؛جلد٤ص١٧٢٤؛حدیث نمبر٥٦٠٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرُّقْيَةِ، فَقَالَتْ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ ؛ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ .

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5606

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک گھرانے والوں کو ہر زہریلے ڈنک کی تکلیف میں دم کرانے کی اجازت دی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧٢٤؛حدیث نمبر٥٦٠۷)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ .

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5607

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ جب کوئی انسان بیمار ہوتا یا اس کو کوئی چھالا یازخم ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس انگلی کو(سفیان نے کہا کہ آپ شہادت کی انگلی)کو زمین پر رکھ کر اٹھاتے اور اس سے اشارہ کر کے فرماتے اللہ کے نام سے ہماری زمین کی مٹی،ہم میں سے کسی کے لعاب دہن سے ہمارا بیمار اللہ تعالی کے اذن سے شفا پائے گا-زبیر کی روایت میں ہے کہ ہمارا بیمار شفا پائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧٢٤؛حدیث نمبر٥٦٠۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى الْإِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ، أَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ، أَوْ جُرْحٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِهِ هَكَذَا - وَوَضَعَ سُفْيَانُ سَبَّابَتَهُ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعَهَا - : " بِاسْمِ اللَّهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا ؛ لِيُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا ". قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : يُشْفَى. وَقَالَ زُهَيْرٌ : لِيُشْفَى سَقِيمُنَا.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5608

Muslim Sharif Kitabus Salame Hadees No# 5609

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5609

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲۵؛حدیث نمبر٥٦۱۰)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5610

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نظر لگنے کی صورت میں دم کرانے کا حکم دیتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲۵؛حدیث نمبر٥٦۱۱)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5611

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے دم کرانے کے بارے میں کہا گیا تو انہوں نے فرمایا زہریلے ڈنک،پھوڑے پھنسی اور نظر لگنے کی صورت میں دم کرانے کی اجازت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲۵؛حدیث نمبر٥٦۱۲)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي الرُّقَى قَالَ : رُخِّصَ فِي الْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ وَالْعَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5612

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نظر لگنے،ڈنک لگنے اور پھوڑے پھنسی کی صورت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرانے کی اجازت دی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲۵؛حدیث نمبر٥٦۱۳)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ - وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ - كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ، مِنَ الْعَيْنِ وَالْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ. وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ : يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5613

حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر میں ایک لونڈی کو دیکھا جس کے چہرے پر چھائیاں تھیں تو فرمایا اس کو نظر لگ گئی ہے اسے دم کراؤ یعنی اس کے چہرے پر زردی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲۵؛حدیث نمبر٥٦۱٤)

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَارِيَةٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى بِوَجْهِهَا سَفْعَةً ، فَقَالَ : " بِهَا نَظْرَةٌ ، فَاسْتَرْقُوا لَهَا ". يَعْنِي : بِوَجْهِهَا صُفْرَةً.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5614

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانپ کی تکلیف میں آل حزم کو دم کرنے کی اجازت دی اور حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں اپنے بھائی(حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ)کے بچوں کو دبلا پتلا دیکھ رہا ہوں کیا وہ بھوکے رہتے ہیں حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا نے عرض کیا نہیں لیکن ان کو نظر جلدی لگ جاتی ہے آپ نے فرمایا کوئی دم کرو_فرماتی ہے میں نے دم کے کلمات آپ کے سامنے پیش کیے تو آپ نے فرمایا ان(بچوں) کو دم کر دو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۱۵)

حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآلِ حَزْمٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ، وَقَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ : " مَا لِي أَرَى أَجْسَامَ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً تُصِيبُهُمُ الْحَاجَةُ ؟ " قَالَتْ : لَا، وَلَكِنِ الْعَيْنُ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ. قَالَ : " ارْقِيهِمْ ". قَالَتْ : فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ : " ارْقِيهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5615

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عمرو کو سانپ کے ڈسنے کی صورت میں دم کی اجازت دی اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے کہ ہم میں سے ایک شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا اس وقت ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ میں اس کو دم کر دوں آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں وہ اس کو فائدہ پہنچائیں_ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۱٦)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ لِبَنِي عَمْرٍو. قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ، وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْقِي ؟ قَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5616

امام مسلم علیہ الرحمہ اس حدیث کو ایک اور سند سے بیان کیا ہے اس میں ہے کہ ایک شخص نے کہا میں اس پر دم کر دوں؟یہ نہیں کہا کہ میں دم کروں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۱٧)

وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَرْقِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ وَلَمْ يَقُلْ : أَرْقِي.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5617

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ماموں بچھو کے ڈسے ہوئے کو دم کرتے تھے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دم کرنے سے منع کر دیا وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ!آپ نے دم کرنے سے منع کر دیا ہے اور میں بچھو کے ڈسے ہوئے کو دم کرتا ہوں آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے(مسلمان بھائی)کو نفع پہنچا سکتا ہوں وہ اسے نفع پہنچائے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۱۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ لِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، قَالَ : فَأَتَاهُ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى، وَأَنَا أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ. فَقَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5618

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے_ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۱٩)

وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5619

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دم کرنے سے منع کر دیا پھر آل عمرو بن حزم،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں ایک دم آتا ہے جس سے ہم بچھو کے ڈسے ہوئے کو دم کرتے ہیں اور آپ نے دم کرنے سے منع کر دیا ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں انہوں نے وہ کلمات دم آپ پرپیش کیےتو آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں تم میں سے جو شخص اپنے(مسلمان)بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہے وہ اسے نفع پہنچائے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ؛جلد٤ص١٧۲٦؛حدیث نمبر٥٦۲۰)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ، وَإِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى. قَالَ : فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ : " مَا أَرَى بَأْسًا، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5620

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ہم دور جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ!اس سلسلے میں آپ کا کیا ارشاد ہے آپ نے فرمایا اپنےدم کے کلمات مجھ پر پیش کرو اگر ان میں شرکیہ کلمات نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ؛جلد٤ص١٧۲۷؛حدیث نمبر٥٦۲۱)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : " اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ، لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5621

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام سفر میں تھے تو وہ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلے کے پاس سے گزرے انہوں نے ان سے مہمان نوازی کا مطالبہ کیا تو ان لوگوں نے ان کی مہمان نوازی نہ کی انہوں نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے کیونکہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے ڈس لیا ہے یا کہا کہ اسے کوئی تکلیف ہے۔ صحابہ کرام میں سے ایک نے کہا مجھے دم کرنا آتا ہے چنانچہ انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا وہ شخص ٹھیک ہوگیا تو اس قبیلے والوں نے ان کو بکریوں کا ایک ریوڑ دیاانہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا جب تک میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر نہ کروں نہیں لے سکتا چناں چہ انہوں نے آپ کی خدمت میں ذکر کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ!اللہ کی قسم میں نے سورہ فاتحہ کے ساتھ دم کیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا تمہیں کس نے بتایا کہ اس سے دم کیا جاتا ہے۔پھر فرمایا ان بکریوں کو لے لو اور ان میں سے میرا حصہ بھی نکالو لو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ أَخْذِ الْأُجْرَةِ عَلَى الرُّقْيَةِ بِالْقُرْآنِ وَالْأَذْكَارِ؛ترجمہ؛قرآن مجید اور اذکار مسنونہ سے دم کرنے اور اس پر اجرت لینے کا بیان؛ جلد٤ص١٧۲۷؛حدیث نمبر٥٦۲۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا فِي سَفَرٍ، فَمَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَاسْتَضَافُوهُمْ فَلَمْ يُضِيفُوهُمْ، فَقَالُوا لَهُمْ : هَلْ فِيكُمْ رَاقٍ ؟ فَإِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ لَدِيغٌ أَوْ مُصَابٌ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : نَعَمْ. فَأَتَاهُ، فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ، فَأُعْطِيَ قَطِيعًا مِنْ غَنَمٍ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، وَقَالَ : حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا رَقَيْتُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ. فَتَبَسَّمَ وَقَالَ : " وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ " ثُمَّ قَالَ : " خُذُوا مِنْهُمْ، وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5622

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یہ ہے کہ وہ صحابی سورہ فاتحہ پڑھتے جاتے تھے اور اپنا لعاب جمع کرکے اس پر تھوکتے تھے پس وہ شخص تندرست ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ أَخْذِ الْأُجْرَةِ عَلَى الرُّقْيَةِ بِالْقُرْآنِ وَالْأَذْكَارِ؛جلد٤ص١٧۲۷؛حدیث نمبر٥٦۲۳)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ، وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ، فَبَرَأَ الرَّجُلُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5623

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم ایک مقام پر گئے تو وہاں ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ ہمارے قبیلے کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے(لفظ سلیم کا معنی یہاں بچھو کا کاٹا ہوا ہے اور نیک فال کے طور پر لفظ سلیم بولا گیا)کیا تم لوگوں میں کوئی دم کرنے والا ہے پس ہم میں سےایک شخص اس کے ساتھ چل پڑا ہمیں گمان نہیں تھا کہ وہ اچھی طرح دم کر سکتا ہے اس نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ سردار تھیک ہو گیاانہوں نے اسے بکریاں دی اور ہمیں دودھ پلایا۔ہم نے پوچھا کیا تمہیں واقعی دم کرنا آتا تھا؟اس نے کہا میں نے تو فاتحہ پڑھ کر دم کیا ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا ان بکریوں کو نہ چھوڑو حتی کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو جائیں۔ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے وہ واقعہ بیان کیا آپ نے پوچھا اس کو کیسے معلوم ہوا کہ اس(فاتحہ)سے دم ہوتا ہے ان بکریوں کو تقسیم کرو اور اپنے ساتھ میرے لیے بھی حصہ مقرر کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ أَخْذِ الْأُجْرَةِ عَلَى الرُّقْيَةِ بِالْقُرْآنِ وَالْأَذْكَارِ؛جلد٤ص١٧۲۸؛حدیث نمبر٥٦۲٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : نَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ فَقَالَتْ : إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سَلِيمٌ ، لُدِغَ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ ؟ فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا، مَا كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً، فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ، فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا، وَسَقَوْنَا لَبَنًا، فَقُلْنَا : أَكُنْتَ تُحْسِنُ رُقْيَةً ؟ فَقَالَ : مَا رَقَيْتُهُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ. قَالَ : فَقُلْتُ : لَا تُحَرِّكُوهَا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ : " مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ اقْسِمُوا، وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5624

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں یہ ہے کہ ایک شخص اٹھ کر اس(عورت)کے ساتھ چل پڑا ہمارے خیال میں اس کو دم کرنا نہیں آتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ جَوَازِ أَخْذِ الْأُجْرَةِ عَلَى الرُّقْيَةِ بِالْقُرْآنِ وَالْأَذْكَارِ؛جلد٤ص١٧۲۸؛حدیث نمبر٥٦۲۵)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا، مَا كُنَّا نَأْبِنُهُ بِرُقْيَةٍ .

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5625

حضرت عثمان بن ابی العاص الثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے جسم میں درد کی شکایت کی جو اس وقت سے تھا جب وہ اسلام لائے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں جسم کے جس حصے میں تکلیف ہوتی ہے وہاں ہاتھ رکھو اور تین مرتبہ"بسم اللہ"پڑھو اور سات مرتبہ یہ کلمات کہو"أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ" اس شر سے جسے میں پاتا ہوں اور جس کا مجھے ڈر ہے،میں اللہ تعالی اور اس کی قدرت کی پناہ چاہتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اسْتِحْبَابِ وَضْعِ يَدِهِ عَلَى مَوْضِعِ الْأَلَمِ مَعَ الدُّعَاءِ؛جلد٤ص١٧۲۸؛حدیث نمبر٥٦۲٦)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ، وَقُلْ : بِاسْمِ اللَّهِ. ثَلَاثًا، وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ : أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5626

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ بے شک شیطان میرے اور میری نماز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور مجھ پر قرات مشتبہ کر دیتا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو خنزب کہا جاتا ہے جب تم اسے محسوس کرو تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور تین بار بائیں جانب تھوکو۔ فرماتے ہیں میں نے ایسا عمل کیا تو اللہ تعالی نے مجھ سے شیطان کے وسوسوں کو دور کر دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَيْطَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الصَّلَاةِِ؛جلد٤ص١٧۲۸؛حدیث نمبر٥٦۲۷)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلَاتِي وَقِرَاءَتِي، يَلْبِسُهَا عَلَيَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ : خِنْزَبٌ، فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ، وَاتْفِلْ عَلَى يَسَارِكَ ثَلَاثًا ". قَالَ : فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَنِّي.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5627

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ایک اور سند سے حضرت عثمان بن ابی العاص کی اس روایت کو ذکر کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَيْطَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الصَّلَاةِِ؛جلد٤ص١٧۲۹؛حدیث نمبر٥٦۲۸)

حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ نُوحٍ : ثَلَاثًا.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5628

امام مسلم رحمت اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!اس کے بعد حدیث نمبر ٥٦٢٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَيْطَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الصَّلَاةِِ؛جلد٤ص١٧۲۹؛حدیث نمبر٥٦۲۹)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5629

حضرت جابر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہر بیماری کے لیے دوا ہے جب دوائی،بیماری کے موافق ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی کےاذن سے شفاء ہو جاتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛ترجمہ؛ہر بیماری کی دوا ہے اور علاج کرانا مستحب ہے؛جلد٤ص١٧۲۹؛حدیث نمبر٥٦۳۰)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5630

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مقنع کی عیادت کی فرمایا میں یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک تم پچھنا(فصد)نہ لگا لو کیوں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک اس(فصد)میں شفاءہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۲۹؛حدیث نمبر٥٦۳۱)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ، ثُمَّ قَالَ : لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ فِيهِ شِفَاءً ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5631

عاصم بن عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے گھر تشریف لائے اور ایک شخص کو پھنسی یا زخم کی شکایت تھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں کیا تکلیف ہے؟اس نے کہا مجھے ایک زخم کی وجہ سے تکلیف ہےحضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے لڑکے!فصد لگانے والے کو بلاؤ اس نے پوچھااے ابو عبداللہ!فصد لگانے والے کو کیا کرو گے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اس زخم پر پچھنے لگوانا چاہتا ہوں اس نے کہا پھر مجھ پر(یا میرے زخموں پر)مکھیاں بیٹھے گی یا اس زخم پر کپڑا لگے گا اور اس سے مجھے تکلیف ہوگی جب حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ پچھنا لگوانے سے گھبرا رہا ہے تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اگر تمہاری دعاؤں میں سے کسی چیز میں خیر ہے تو پچھنے لگوانے میں یا شہد کا ایک گھونٹ پینے میں یا آگ سے داغ لگوانے میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں داغ لگانے کو پسند نہیں کرتا(راوی کہتے ہیں)کہ پھرایک حجام آیا اس نے پچھنا لگوایا اور اس کی تکلیف ختم ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۲۹؛حدیث نمبر٥٦۳۲)

حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، قَالَ : جَاءَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أَهْلِنَا، وَرَجُلٌ يَشْتَكِي خُرَاجًا بِهِ، أَوْ جِرَاحًا، فَقَالَ : مَا تَشْتَكِي ؟ قَالَ : خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ. فَقَالَ : يَا غُلَامُ، ائْتِنِي بِحَجَّامٍ. فَقَالَ لَهُ : مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا . قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي، أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ، فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَيَّ. فَلَمَّا رَأَى تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ، فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ ". قَالَ : فَجَاءَ بِحَجَّامٍ، فَشَرَطَهُ، فَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5632

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پچھنا لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ ان کو پچھنا لگائیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ ابو طیبہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۰؛حدیث نمبر٥٦۳۳)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5633

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک طبیب بھیجا تو انھوں نے ان کی ایک رگ کاٹ کر داغ دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۰؛حدیث نمبر٥٦۳٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا، فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا، ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5634

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہے لیکن اس میں رگ کاٹنے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۰؛حدیث نمبر٥٦۳۵)

وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرَا : فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5635

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں غزوہ احد کے دن حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں تیر لگا تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے اسے داغ لگایا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۰؛حدیث نمبر٥٦۳٦)

وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رُمِيَ أُبَيٌّ يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ ، فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5636

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بازو کی ایک رگ میں تیر لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے تیر کے پھالا کے ساتھ اسے داغاان کا ہاتھ سوج گیا تو آپ نے اسے دوبارہ داغا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۱؛حدیث نمبر٥٦۳۷)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ ، قَالَ : فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ، ثُمَّ وَرِمَتْ، فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5637

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فصد لگائی اور فصد لگانے والے کو اس کی اجرت عطا فرمائے اور ناک میں دوائی بھی چڑھائی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۱؛حدیث نمبر٥٦۳۸)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَاسْتَعَطَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5638

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فصد لگوائی اور آپ کسی شخص کی اجرت میں کمی نہیں کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۱؛حدیث نمبر٥٦۳۹)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5639

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی سے ٹھنڈا کروں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤٠)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ؛ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5640

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک بخار کی شدت جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤۱)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ؛ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5641

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈاکرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤۲)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ؛ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5642

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤۳)

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ؛ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5643

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ؛ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5644

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤۵)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5645

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی بخار زدہ عورت لائی جاتی تو وہ پانی منگوا کر اس کے گریبان میں ڈالتی اور فرماتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اس بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرو بے شک یہ جہنم کے جوش سے ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۲؛حدیث نمبر٥٦٤٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ، فَتَدْعُو بِالْمَاءِ، فَتَصُبُّهُ فِي جَيْبِهَا وَتَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ". وَقَالَ : " إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5646

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں جہنم کے جوش کا ذکر نہیں ہے۔ امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۳؛حدیث نمبر٥٦٤۷،حدیث نمبر ٥٦٤٨)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ : صَبَّتِ الْمَاءَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا. وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ. قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : قَالَ إِبْرَاهِيمُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5647/5648

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں‌میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۳؛حدیث نمبر٥٦٤٩)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْحُمَّى فَوْرٌ مِنْ جَهَنَّمَ ؛ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5649

حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بخار جہنم کے جوش سے ہے پس اس کو اپنے آپ سے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو۔ابوبکر کی روایت میں"اپنے آپ سے" کے الفاظ نہیں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابِ التَّدَاوِي؛جلد٤ص١٧۳۳؛حدیث نمبر٥٦۵۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ ؛ فَابْرُدُوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ ". وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ : عَنْكُمْ، وَقَالَ : قَالَ : أَخْبَرَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5650

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مرض میں ہم نے آپ کے منہ میں دوائی ڈالی تو آپنے اشارے کے ساتھ دوا ڈالنے سے منع فرما دیا۔ یا ہم نے خیال کیا شاید مرض کی وجہ سے ناپسند فرما رہے ہیں جب آپ شفایاب ہوئے تو فرمایا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا سب کے منہ میں دوا ڈال دی جائے کیونکہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے(کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کر کے منع کیا تھا لہذا بطور سزا یہ حکم فرمایا)۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ كَرَاهَةِ التَّدَاوِي بِاللَّدُودِ؛جلد٤ص١٧۳۳؛حدیث نمبر٥٦۵۱)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَأَشَارَ أَنْ لَا تَلُدُّونِي ، فَقُلْنَا : كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : " لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ، غَيْرُ الْعَبَّاسِ ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5651

حضرت عکاشہ بن محصن کی بہن ام قیس بنت محصن بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ بچہ ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا پھر میں ایک اوربچے کو لے کر حاضر خدمت ہوئی جسے میں نے اس کے تالو کے ورم کی وجہ سے دبایا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بچوں کا حلق کیوں دباتی ہوں تم اس پر عودھندی(کٹھ)کو لازم رکھو اس میں سات چیزوں سے شفا ہے جن میں نمونیا بھی ہے تالو کی بیماری میں ناک سے دوا ڈالی جائے اور نمونیا میں منہ سے دوا ڈالی جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ وَهُوَ الْكُسْتُ؛جلد٤ص١٧۳٤؛حدیث نمبر٥٦۵۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ : دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ. قَالَتْ : وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ ، فَقَالَ : " عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ ؛ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ ، يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5652

حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام قیس بنت محصن جو پہلے ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھی جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی تھی اور یہ حضرت عکاشہ بن محصن کی بہن تھی جو اسد بن خزیمہ کی اولاد سے تھے۔ راوی فرماتے ہیں حضرت ام قیس نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے ایک بچے کو لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں جو ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا انہوں نے تالو کی بیماری کی وجہ سے اس کا حلق دبایا تھا ان کو یہ خوف تھا کہ کہیں اس کے تالو میں ورم نہ ہو۔ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اپنی اولاد کا حلق کیوں دباتی ہو تم اس عودھندی کو لازم کر لو اس سے قسط(کٹھ)مراد ہے کیونکہ یہ سات بیماریوں کے لئے شفا ہے جن میں سے ایک نمونیہ ہے۔ حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں کہ ام قیس نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے اس بیٹے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں پیشاب کردیا تو آپ نے اس کے پیشاب پرپانی بہایا اور اس کو اچھی طرح نہیں دھویا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ وَهُوَ الْكُسْتُ؛جلد٤ص١٧۳۵؛حدیث نمبر٥٦۵۳)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ، أَحَدِ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ - قَالَ : أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ - قَالَ يُونُسُ : أَعْلَقَتْ : غَمَزَتْ، فَهِيَ تَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ عُذْرَةٌ - قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْإِعْلَاقِ ؟ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ - يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ - فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ ". قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ بَالَ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَى بَوْلِهِ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلًا.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5653

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ کلونجی موت کے علاوہ ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ؛جلد٤ص١٧۳۵؛حدیث نمبر٥٦۵٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ ". وَالسَّامُ : الْمَوْتُ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ : الشُّونِيزُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5654

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے چار سندوں کے ساتھ اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ؛جلد٤ص١٧۳۵؛حدیث نمبر٥٦۵۵)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَيُونُسَ : الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ، وَلَمْ يَقُلِ : الشُّونِيزُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5655

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ؛جلد٤ص١٧۳٦؛حدیث نمبر٥٦۵٦)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ دَاءٍ إِلَّا فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ مِنْهُ شِفَاءٌ، إِلَّا السَّامَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5656

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے جب ان کے ہاں کسی کا انتقال ہوتا تو عورتیں وہاں(تعزیت کے لئے)جمع ہوتیں پھر گھر والے اور خاص لوگ رہ جاتے اور باقی چلی جاتیں اس وقت وہ پتیلی میں حریرہ پکانے کا حکم دیتیںں اس کو پکایا جاتا ہے پھر ثرید بنایا جاتا اور اس پر حریرہ ڈالا جاتا پھر آپ فرماتیں اس کو کھاؤ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا حریرہ مریض کے دل کو خوش کرتا اور کچھ نہ کچھ غم کو دور کر دیتاہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ؛جلد٤ص١٧۳٦؛حدیث نمبر٥٦۵۷)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا - أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ، فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ : كُلْنَ مِنْهَا ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ ؛ تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5657

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ میرے بھائی کو دست لگ گئے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے شہد پلاؤ اس نے پلایا پھر آیا اور عرض کیا کہ میں نے شہد پلایا تھا لیکن اس سے دست اور بڑھ گئے ہیں آپ نے اسے تین بار یہی بات فرمائی چوتھی مرتبہ آیا تو آپ نے فرمایااسے شہد پلاؤ اس نے عرض کیا میں نے اسے شہد پلایا تھا لیکن اس سے دست بڑھ گئے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے سچ فرمایا ہے کہ(شہد میں شفا ہے) اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِسَقْيِ الْعَسَلِ؛جلد٤ص١٧۳٦؛حدیث نمبر٥٦۵۸)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : إِنَّ أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْقِهِ عَسَلًا ". فَسَقَاهُ، ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ : إِنِّي سَقَيْتُهُ عَسَلًا، فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا. فَقَالَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ : " اسْقِهِ عَسَلًا ". فَقَالَ : لَقَدْ سَقَيْتُهُ، فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَ اللَّهُ، وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ ". فَسَقَاهُ فَبَرَأَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5658

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میرے بھائی کا پیٹ بہت خراب ہے آپ نے اس سے فرمایا اس کو شہد پلاؤ اس کے بعد حدیث نمبر ٥٦٥٨کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ التَّدَاوِي بِسَقْيِ الْعَسَلِ؛جلد٤ص١٧۳۷؛حدیث نمبر٥٦۵۹)

وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّ أَخِي عَرِبَ بَطْنُهُ. فَقَالَ لَهُ : " اسْقِهِ عَسَلًا ". بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5659

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طاعون کے بارے میں کیا سنا ہے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طاعون ایک عذاب ہے جسے بنی اسرائیل پر بھیجا گیا یا فرمایا تم سے پہلے لوگوں پربھیجا گیا جب تم سنو کے کسی علاقے میں طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کہیں یہ بیماری پھیلے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو۔ راوی ابو نصر کہتے ہیں"لایخرجکم"۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۷؛حدیث نمبر٥٦٦٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَأَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ رِجْزٌ، أَوْ عَذَابٌ، أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ". وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ : " لَا يُخْرِجُكُمْ إِلَّا فِرَارٌ مِنْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5660

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طاعون عذاب کی ایک علامت ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض بندوں کو طاعون میں مبتلا کیا جب تم اس کے بارے میں سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی علاقے میں طاعون واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے نہ بھاگو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۷؛حدیث نمبر٥٦٦۱)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ - وَنَسَبَهُ ابْنُ قَعْنَبٍ فَقَالَ : ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ - عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ آيَةُ الرِّجْزِ، ابْتَلَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ نَاسًا مِنْ عِبَادِهِ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَفِرُّوا مِنْهُ ". هَذَا حَدِيثُ الْقَعْنَبِيِّ، وَقُتَيْبَةَ نَحْوُهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5661

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ طاعون عذاب ہے جو تم سے پہلے لوگوں یا(فرمایا)بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا جب یہ کسی علاقہ میں ہو تو اس سے بھاگنے کی خاطر وہاں سے نہ نکلو اور جب یہ کسی علاقہ میں ہو تو وہاں داخل نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۸؛حدیث نمبر٥٦٦۲)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ سُلِّطَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَوْ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5662

عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عذاب ہے جو اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر نازل فرمایا یا فرمایا تم سے پہلے کچھ لوگوں پر نازل فرمایاجب تم اس کے بارے میں سنو کہ وہ کسی علاقہ میں پھیلا ہوا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب تمہارے علاقہ میں طاعون آجائے تو اس سے بھاگ کر نہ نکلو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۸؛حدیث نمبر٥٦٦۳)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الطَّاعُونِ، فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَوْ نَاسٍ كَانُوا قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا عَلَيْهِ، وَإِذَا دَخَلَهَا عَلَيْكُمْ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5663

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس حدیث کی مزید دو سندی ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۸؛حدیث نمبر٥٦٦٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، بِإِسْنَادِ ابْنِ جُرَيْجٍ، نَحْوَ حَدِيثِهِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5664

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ درد یا بیماری ایک عذاب ہے اس کے ساتھ تم سے پہلے بعض امتوں کو عذاب دیا گیا پھر یہ زمین میں باقی رہ گیاپس کبھی یہ چلا جاتا ہے اور کبھی آجاتا ہے لہذا جو شخص سنے کہ فلاں جگہ طاعون ہے تو وہاں نہ جائے اور جو شخص کسی علاقہ میں ہو اور وہاں طاعون آجائے تو وہاں سے نہ بھاگے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۸؛حدیث نمبر٥٦٦۵)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ، أَوِ السَّقَمَ، رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ، ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالْأَرْضِ، فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى، فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5665

امام مسلم رحمۃاللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۹؛حدیث نمبر٥٦٦٦)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ، نَحْوَ حَدِيثِهِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5666

حضرت حبیب کہتے ہیں ہم مدینہ طیبہ میں تھے تو مجھے خبر پہنچی کہ کوفہ میں طاعون پھیل گیا ہے حضرت عطاء بن یسار وغیرہ نے مجھ سے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی علاقے میں ہوں اور وہاں طاعون پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلے اور جب تجھے خبر پہنچے کہ فلاں علاقے میں طاعون پھیل گیا ہے تو وہاں نہ جا میں نے پوچھا تم نے یہ کس سے سنا ہے لوگوں نے کہا عمر بن سعد اس حدیث کو بیان کرتے ہیں فرماتے ہیں میں ان کے پاس آیا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ موجود نہیں ہے فرماتے ہیں میں ان کے بھائی ابراہیم بن سعد سے ملا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا جس وقت حضرت اسامہ نے یہ حدیث حضرت سعد سے بیان کی اس وقت میں موجود تھا انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا یہ درد ایک عذاب ہے یا اس عذاب کا بقیہ ہے جو تم سے پہلے کچھ لوگوں پہ نازل ہوا جب کسی علاقہ میں یہ بیماری ہواور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو اور جب تمہیں خبر پہنچے کہ فلاں جگہ پر بیماری ہے تو وہاں داخل نہ ہو۔حضرت حبیب فرماتے ہیں میں نے حضرت ابراہیم سے پوچھا کیا آپ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ حدیث بیان کر رہے تھے اور انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا؟انہوں نے کہا ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۹؛حدیث نمبر٥٦٦۷)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبٍ قَالَ : كُنَّا بِالْمَدِينَةِ، فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ قَدْ وَقَعَ بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ لِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَغَيْرُهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ فَوَقَعَ بِهَا فَلَا تَخْرُجْ مِنْهَا، وَإِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلْهَا ". قَالَ : قُلْتُ : عَمَّنْ ؟ قَالُوا عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهِ. قَالَ : فَأَتَيْتُهُ، فَقَالُوا : غَائِبٌ. قَالَ : فَلَقِيتُ أَخَاهُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ : شَهِدْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْزٌ، أَوْ عَذَابٌ، أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ، عُذِّبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ قَبْلِكُمْ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا، وَإِذَا بَلَغَكُمْ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا ". قَالَ حَبِيبٌ : فَقُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ : آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا، وَهُوَ لَا يُنْكِرُ ؟ قَالَ : نَعَمْ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5667

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے لیکن اس حدیث کے آغاز میں حضرت عطاء بن یسار کا واقعہ مذکور نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۹؛حدیث نمبر٥٦٦۸)

وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5668

حضرت سعد بن مالک،حضرت خزیمہ بن ثابت اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہم بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اس کے بعد حدیث نمبر٥٦٦٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۹؛حدیث نمبر٥٦٦۹)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالُوا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5669

ابراہیم بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسامہ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہما دونوں بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اس کے بعد حدیث نمبر ٥٦٦٧کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧۳۹؛حدیث نمبر٥٦۷۰)

وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَسَعْدٌ جَالِسَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ، فَقَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5670

ابراہیم بن سعد بن مالک نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےحدیث نمبر ٥٦٦٧کے مثل روایت کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧٤٠؛حدیث نمبر٥٦۷۱)

وَحَدَّثَنِيهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي الطَّحَّانَ - عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5671

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے حتیٰ کہ مقام سرغ پر پہنچے تو اہل اجناد میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور ان کے ساتھی آپ سے ملے انہوں نے بتایا کہ شام میں وباء پھیل گئی ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اولین مہاجرین کو بلاؤ میں نے ان کو بلایا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان سے مشورہ کیا اور ان کو بتایا کہ شام میں وباء پھیل گئی ہے۔ (اس مسئلے میں)ان لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا ان میں سے بعض نے کہا آپ ایک کام کے لیے نکلے ہیں ہمارے خیال میں آپ کا واپس جانا درست نہیں جبکہ دوسرے بعض نے کہا آپ کے ساتھ بعض باقی اور صحابہ کرام ہیں ہمارے خیال میں ان کو اس وباء میں لے جانا مناسب نہیں فرمایا میرے پاس سے چلے جاؤ۔ پھر فرمایا میرے پاس انصار کو بلاؤ میں نے ان کو بلایا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ لیا وہ بھی مہاجرین کے راستے پر چلے اور ان کی طرح ان میں بھی اختلاف پیدا ہوگیا فرمایا اٹھ جاؤ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا فتح مکہ کے موقع پر قریش کے جو بزرگ موجود تھے ان میں سے جو حضرات یہاں ہے ان کو بلاؤ میں نے ان کو بلایا تو ان میں دو آدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہ ہوا انہوں نے کہا ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کو واپس لے جائیں اور ان کو اس وباء میں نہ لے جائیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ صبح میں سوار ہو جاؤں گا پس لوگ بھی سوار ہو گئے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالی کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو عبیدہ کاش یہ بات تمہارے علاوہ کوئی اور کہتا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان سے اختلاف کرنا اچھا نہیں سمجھتے تھے ہاں ہم اللہ تعالی کی تقدیر سے اس کی تقدیر کی طرف بھاگ رہے ہیں فرمایا بتاؤ اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم کسی ایسی وادی میں اترو جس کے دو کنارے ہو ایک سرسبز و شاداب اور دوسری بنجر ویران ہو تو اگر تم سرسبزوشاداب میں چراؤ گے تو اللہ تعالی کی تقدیر سے چراؤ گے اور اگر تم بنجر علاقے میں چراؤ گے تو بھی تقدیر خداوندی سے چراؤ گے۔ راوی فرماتے ہیں اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف آ گئے جو پہلے کسی کام سے گئے ہوئے تھے انہوں نے فرمایا اس سلسلے میں میرے پاس علم ہے میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم کسی علاقے میں طاعون کے بارے میں سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے بھاگنے کی خاطر وہاں سے نہ نکلو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں یہ سن کر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی پھر واپس تشریف لے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧٤٠؛حدیث نمبر٥٦۷۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أَهْلُ الْأَجْنَادِ ؛ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقَالَ عُمَرُ : ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ. فَدَعَوْتُهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، فَاخْتَلَفُوا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ، وَلَا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ، وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ. فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي. ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِي الْأَنْصَارِ. فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ، فَاسْتَشَارَهُمْ، فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ، وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلَافِهِمْ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي. ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ، مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ. فَدَعَوْتُهُمْ، فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلَانِ، فَقَالُوا : نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ، وَلَا تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ. فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ : إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ ، فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ. فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ : أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ - وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلَافَهُ - نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لَكَ إِبِلٌ، فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ ، إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالْأُخْرَى جَدْبَةٌ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ، وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ ؟ قَالَ : فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ". قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5672

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یوں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اگر کوئی شخص سر سبز وادی چھوڑ کر خشک علاقے میں جانوروں کو چرائے تو کیا تم اسےالزام دو گے انہوں نے کہا جی ہاں فرمایا ٹھیک ہے اب چلو حتیٰ کہ مدینہ طیبہ پہنچ گئے تو فرمایا یہی تمہاری منزل ہے یا فرمایایہی محل ہے(مقام)انشاء اللہ تعالی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧٤۱؛حدیث نمبر٥٦۷۳)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ : قَالَ : وَقَالَ لَهُ أَيْضًا : أَرَأَيْتَ أَنَّهُ لَوْ رَعَى الْجَدْبَةَ وَتَرَكَ الْخَصْبَةَ، أَكُنْتَ مُعَجِّزَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : فَسِرْ إِذَنْ. قَالَ : فَسَارَ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ، فَقَالَ : هَذَا الْمَحِلُّ - أَوْ قَالَ : هَذَا الْمَنْزِلُ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5673

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے البتہ اس میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن حارث نے ان سے بیان کیا عبداللہ بن عبد اللہ کا ذکر نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧٤۲؛حدیث نمبر٥٦۷٤)

وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ، وَلَمْ يَقُلْ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5674

حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شام کی طرف تشریف لے گئے جب مقام سرغ میں پہنچے تو ان کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون پھیلا ہوا ہے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی علاقے میں وبا کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی علاقے میں وبا پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگنے کی خاطر وہاں سے نہ نکلو۔چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مقام سرغ سے واپس ہوگئے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی حدیث کی وجہ سے واپس تشریف لے گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا؛جلد٤ص١٧٤۲؛حدیث نمبر٥٦۷۵)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَنَّ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ، فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ". فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ. وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ إِنَّمَا انْصَرَفَ بِالنَّاسِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ .

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5675

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور نہ صفر اور الو(کی نحوست)کی کوئی اصل ہے تو ایک اعرابی نے کہا یا رسول اللہ! پھر کیا وجہ ہے کہ اونٹ ریگستان میں ہرنوں کی طرح پھر رہے ہوتے ہیں۔ پھر ان میں ایک خارش زدہ داخل ہوتا ہے تو سب کو خارش میں مبتلا کر دیتا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا ہے؟(یعنی جس نے پہلے اونٹ کو خارش لگائی اسی نے دوسرے کو بھی اس میں مبتلا کیا) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛ترجمہ؛مرض کا متعدی ہونا،بدشگونی،الو اور صفر(کی نحوست)ستارے(کے سبب سے بارش)اور غول کی کوئی اصل نہیں؛جلد٤ص١٧٤۲؛حدیث نمبر٥٦۷٦)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لِأَبِي الطَّاهِرِ - قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَةَ ". فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ، فَيَدْخُلُ فِيهَا، فَيُجْرِبُهَا كُلَّهَا ؟ قَالَ : " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5676

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتی،نہ ہی بدشگونی ہے نہ صفراور الو کی نحوست کی کوئی اصل ہے آگے حدیث نمبر ٥٦٧٦کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤۳؛حدیث نمبر٥٦۷۷)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَغَيْرُهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ ". فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ. بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5677

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہے پھر ایک اعرابی کھڑا ہوا اس کے بعد حدیث نمبر ٥٦٧٦ کے مثل مروی ہے ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی وسلم نے فرمایا مرض متعدی ہوتا ہے اور نہ ہی صفر اور الو(کی نحوست)کی کوئی اصل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤۳؛حدیث نمبر٥٦۷۸)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ". فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، وَصَالِحٍ. وَعَنْ شُعَيْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى، وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5678

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی بیمار کو کسی تندرست کے پاس نہ لایا جائے حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں یہ دونوں حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے بعد اس حدیث کو بیان کرنا چھوڑ دیا کہ کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور اس حدیث پر قائم رہے کہ کسی بیمار کو کسی صحیح کے پاس نہ لایا جائے راوی کہتے ہیں حارث بن ابی ذباب جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے چچا تھے انہوں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں نے آپ سے سنا تھا کہ آپ اس حدیث کے ساتھ ایک اور حدیث بیان کرتے ہیں جس کو آپ بیان کرنا چھوڑ دیا ہے۔ آپ کہتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس روایت کو پہچاننے سے انکار کر دیا اور فرمایا بیمار کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔حضرت حارث اس سے مطمئن نہ ہوے حتیٰ کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان پر غضبناک ہوئےاور حبشی زبان میں کچھ کہا پھر حضرت حارث سے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تم سے کیا کہا ہے انہوں نے کہا نہیں،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ نے فرمایامیں نے کہا ہے کہ میں انکار کرتا ہوں۔ حضرت ابوسلمہ کہتے ہیں مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہم سے بیان کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی پس مجھے معلوم نہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھول گئے یا ایک روایت نے دوسرے روایت کو منسوخ کر دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤۳؛حدیث نمبر٥٦۷۹)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى ". وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ ". قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُهُمَا كِلْتَيْهِمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَمَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَوْلِهِ : " لَا عَدْوَى ". وَأَقَامَ عَلَى أَنْ " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ ". قَالَ : فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ - وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ - : قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تُحَدِّثُنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ حَدِيثًا آخَرَ، قَدْ سَكَتَّ عَنْهُ ؛ كُنْتَ تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ". فَأَبَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْ يَعْرِفَ ذَلِكَ، وَقَالَ : " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ ". فَمَارَاهُ الْحَارِثُ فِي ذَلِكَ حَتَّى غَضِبَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ، فَقَالَ لِلْحَارِثِ : أَتَدْرِي مَاذَا قُلْتُ ؟ قَالَ : لَا. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قُلْتُ : أَبَيْتُ. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى ". فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْ نَسَخَ أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ الْآخَرَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5679

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور اس کے ساتھ یہ بھی بیان کرتے تھے کہ کسی بیمار کو کسی تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤٤؛حدیث نمبر٥٦۸۰)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنِي، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى ". وَيُحَدِّثُ مَعَ ذَلِكَ : " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ ". بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5680

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤٤؛حدیث نمبر٥٦۸۱)

حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5681

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی نہ الو(کی نحوست)نہ ستارے(کی وجہ سے بارش)اور نہ صفر(کی نحوست)کی کوئی حقیقت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤٤؛حدیث نمبر٥٦۸۲)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا هَامَةَ ، وَلَا نَوْءَ ، وَلَا صَفَرَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5682

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ بدشگونی اور غول کی کوئی حقیقت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤٤؛حدیث نمبر٥٦۸۳)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَلَا غُولَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5683

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور غول اور صفر(کی نحوست)کی کوئی حقیقت نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤۵؛حدیث نمبر٥٦۸٤)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ - وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ - حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا غُولَ ، وَلَا صَفَرَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5684

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور صفراورغول کی کوئی حقیقت نہیں اور میں نے حضرت ابو زبیر سے سنا وہ ذکر فرماتے تھے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے"لا صفر"کی وضاحت کی ہے ابو زبیر کہتے ہیں صفر سے مراد پیٹ ہے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اس کا کیا مطلب ہے؟توانہوں نے فرمایا پیٹ کے کیڑے،ابو زبیر نے کہا انہوں نے غول کی تفسیر نہیں کی ابو زبیر نے کہایہ غول وہ ہے جو مسافروں کو ہلاک کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ؛جلد٤ص١٧٤۵؛حدیث نمبر٥٦۸۵)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا صَفَرَ ، وَلَا غُولَ ". وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ : " وَلَا صَفَرَ ". فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : الصَّفَرُ : الْبَطَنُ. فَقِيلَ لِجَابِرٍ : كَيْفَ ؟ قَالَ : كَانَ يُقَالُ : دَوَابُّ الْبَطْنِ. قَالَ : وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ. قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : هَذِهِ الْغُولُ الَّتِي تَغَوَّلُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5685

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں اچھا شگون نیک شگون ہے۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ!نیک شگون کیا ہے؟فرمایااچھی بات جو تم میں سے کوئی سنے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛ترجمہ؛بدشگونی،نیک شگون اور جن چیزوں میں نحوست ہے؛جلد٤ص١٧٤۵؛حدیث نمبر٥٦۸٦)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا طِيَرَةَ ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ". قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5686

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سند بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۸۷)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ : سَمِعْتُ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا قَالَ مَعْمَرٌ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5687

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا‌اور نہ ہی کوئی بدفالی ہے اور مجھے نیک شگون اچھا لگتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۸۸)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ ؛ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ، الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5688

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہیں آپ نے فرمایا نہ کوئی بیماری متعدی ہوتی ہے اور نہ بدشگونی ہے اور نیک شگون مجھے پسند ہے فرماتے ہیں پوچھا گیا کہ نیک شگون کیا ہے؟فرمایا"اچھی بات"۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۸۹)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ ". قَالَ : قِيلَ : وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5689

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور نہ ہی بدشگونی ہے اور مجھے اچھا شگون پسند ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۹۰)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَتِيقٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5690

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ کوئی بیماری متعدی ہوتی ہے اور نہ الو(کی نحوست)کی کوئی اصل ہے اور نہ ہی بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے اور میں اچھی فال کو پسند کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۹۱)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا هَامَةَ ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5691

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھر،عورت اور گھوڑے میں نحوست ہوسکتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤٦؛حدیث نمبر٥٦۹۲)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5692

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں نحوست صرف تین چیزوں میں ہو سکتی ہے گھر،عورت اور گھوڑے۔ (یعنی اگر نحوست ہوتی تو ان چیزوں میں ہوتی ان کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے جب ان میں نہیں تو کسی چیز میں ہوگی۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۷؛حدیث نمبر٥٦۹۳)

وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَإِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ : الْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ، وَالدَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5693

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے متعدد سندوں کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مرض کا متعدی ہونا اور بدشگونی بے اصل باتیں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۷؛حدیث نمبر٥٦۹٤)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَحَمْزَةَ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَحَمْزَةَ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الشُّؤْمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، لَا يَذْكُرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ : الْعَدْوَى، وَالطِّيَرَةَ. غَيْرُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5694

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی چیز میں نحوست کا ہونا برحق ہے تو وہ گھوڑے،عورت اور مکان میں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۷؛حدیث نمبر٥٦۹۵)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنْ يَكُنْ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ ؛ فَفِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5695

ایک اور سند میں یہ حدیث مروی ہیں لیکن اس میں"حق" کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥٦۹٦)

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ : حَقٌّ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5696

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی چیز میں بدشگونی ہو تو وہ گھوڑے مکان اور عورت میں ہو سکتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥٦۹۷)

وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ ؛ فَفِي الْفَرَسِ، وَالْمَسْكَنِ، وَالْمَرْأَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5697

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر نحوست ہوگی تو عورت گھوڑے اور رہائش گاہ میں ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥٦۹٨)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كَانَ فَفِي الْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ، وَالْمَسْكَنِ ". يَعْنِي الشُّؤْمَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5698

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥٦٩٨ کےمثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥٦۹۹)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5699

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اگر نحوست کسی چیز میں ہوسکتی ہے تو مکان،خادم اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ مِنَ الشُّؤْمِ؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥۷۰۰)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ ؛ فَفِي الرَّبْعِ ، وَالْخَادِمِ، وَالْفَرَسِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5700

حضرت معاویہ بن حکم سُلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ!کچھ ایسے کام ہے جو ہم لوگ دور جاہلیت میں کرتے تھے ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے آپ نے فرمایا تم کاہنوں کے پاس نہ جاؤ میں نے عرض کیا ہم بدشگونی لیتے تھے فرمایا یہ(بدشگونی)محض تمہارے دل کا خیال ہے پس تم اس کے درپے نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛ترجمہ؛کہانت اور کاہنوں کے پاس جانے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧٤۸؛حدیث نمبر٥۷۰۱)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؛ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ. قَالَ : " فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ ". قَالَ : قُلْتُ : كُنَّا نَتَطَيَّرُ. قَالَ : " ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ، فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5701

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی‌علیہ نے اس حدیث کی چار سندیں ذکر کی ہیں البتہ امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی روایت میں بدفالی کا ذکر ہے کاہنوں کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٤۹؛حدیث نمبر٥۷۰۲)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ - يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ، غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا فِي حَدِيثِهِ ذَكَرَ الطِّيَرَةَ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْكُهَّانِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5702

امام مسلم علیہ الرحمہ مختلف سندوں کے ساتھ حدیث نمبر٥٧٠١ کے مثل روایت کرتے ہیں البتہ اس میں ہے کہ حضرت معاویہ بن حکم سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا(یارسول اللہ!)ہم میں کچھ لوگ زائچے بناتے ہیں آپ نے فرمایا انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی زائچہ بناتے تھے پس جو ان کے طریقے کے مطابق ہو تووہ حق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٤۹؛حدیث نمبر٥۷۰۳)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ : قَالَ : قُلْتُ : وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ. قَالَ : " كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5703

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کاہن جو باتیں ہم سے کرتے ہیں ان میں سے بعض کو ہم حق پاتے ہیں آپ نے فرمایا یہ کلمہ حق ہوتا ہے جس کو جن اچک لیتے ہیں اور پھر اسے اپنے ولی(کاہن)کے کان میں ڈالتے ہیں اور اس میں سو جھوٹ کا اضافہ کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧۵۰؛حدیث نمبر٥۷۰٤)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْكُهَّانَ كَانُوا يُحَدِّثُونَنَا بِالشَّيْءِ فَنَجِدُهُ حَقًّا. قَالَ : " تِلْكَ الْكَلِمَةُ الْحَقُّ، يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقْذِفُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ، وَيَزِيدُ فِيهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5704

حضرت عائشہ صدیقہ رضی االلہ عنہا سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ان سے فرمایا ان کی کوئی حقیقت نہیں انہوں نےعرض کیا یا رسول اللہ وہ جو باتیں کرتے ہیں بعض اوقات وہ سچ نکلتی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ سچی بات ہوتی ہے جس کو جن اچک لیتا ہے پس اس کو اپنے ولی(کاہن)کے کان میں پھینک دیتا ہے جیسا کہ مرغ،مرغی کو دانے کے لئے بلاتا ہے اس میں ایک سو سے زیادہ جھوٹی باتیں ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧۵۰؛حدیث نمبر٥۷۰۵)

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسُوا بِشَيْءٍ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا الشَّيْءَ يَكُونُ حَقًّا. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ، يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5705

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٥٠؛حدیث نمبر٥۷۰٦)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْقِلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5706

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری صحابی نے خبر دی کہ ایک رات وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا اور روشنی پھیل گئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا زمانہ جاہلیت میں تم اس کے بارے میں کیا کہتے تھے جب اس طرح ستارہ ٹوٹتاتھا انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ہم کہتے تھے کہ اس‌رات کسی بڑے آدمی کی پیدائش ہوئی ہے اور کوئی بڑا آدمی فوت ہوا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے یہ نہیں ٹوٹتا لیکن ہمارا رب جس کا نام برکت والا اور بلند ہے جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں پھر جو ان کے قریب آسمان کے فرشتے ہیں وہ تسبیح بیان کرتے ہیں حتی کہ اس دنیوی آسمان والوں تک ان کی تسبیح پہنچتی ہے۔ پھر حاملین عرش کے قریب والے حاملین عرش سے کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا کہا تو وہ ان کو اس بات کی خبر دیتے ہیں جو اللہ تعالی نے فرمائی فرمایا اسی طرح بعض آسمان والے دوسرے بعض کو خبر دیتے ہیں حتی کہ وہ خبر اس دنیوی آسمان والوں تک پہنچتی ہے پھر جن اس کی کی ہوئی بات کو لے اڑتے ہیں اور اپنے دوستوں(کاہنوں)کی طرف ڈال دیتے ہیں اگر وہ اسے اسی طرح بیان کریں تو یہ حق ہے لیکن وہ اس میں اپنی طرف سے کچھ ملا دیتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٥٠؛حدیث نمبر٥۷۰۷)

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ حَسَنٌ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا، سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ : مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ، قَالَ : فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا، حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ، فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ، وَيُرْمَوْنَ بِهِ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5707

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے بعض انصار نے مجھ سے بیان کیا کہ تمہارے رب نے جو کچھ بیان کیا وہ حق ہے لیکن وہ کاہن اس میں ردوبدل کرتے اور کچھ ملا دیتے ہیں۔ اس حدیث کے الفاظ میں راویوں کا اختلاف ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٥۱؛حدیث نمبر٥۷۰۸)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ - يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ - كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ يُونُسَ قَالَ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَفِي حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ : وَلَكِنْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ : وَلَكِنَّهُمْ يَرْقَوْنَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ : وَقَالَ اللَّهُ : { حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ }، وَفِي حَدِيثِ مَعْقِلٍ كَمَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ : وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5708

نبی اکرم صلی وسلم کی بعض ازواج مطہرات،آپ سے روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا جو شخص کسی کاہن کے پاس جا کر کوئی بات پوچھے اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتیں۔ (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ؛جلد٤ص١٧٥٠؛حدیث نمبر٥۷۰۹)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ ؛ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5709

حضرت عمرو بن شرید،اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک جذامی شخص تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھیجا کہ تم واپس چلو ہم تم سے بیعت کر چکے ہیں۔(بعض احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جذامی(کوڑھ والے)کے ساتھ کھانا کھایا چنانچہ دونوں قسم کی احادیث میں کوئی تعارض نہیں جہاں منع کیا وہاں احتیاط کے طور پر تاکہ کسی کا عقیدہ خراب نہ ہو جائے جہاں ساتھ کھایا وہاں تعلیم امت کے لئے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا درس دینے کی خاطر منع کیا،١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب السَّلَام؛بَابُ اجْتِنَابِ الْمَجْذُومِ وَنَحْوِهِ؛جلد٤ص١٧٥۲؛حدیث نمبر٥۷۱۰)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ، فَارْجِعْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5710

سانپوں اور دیگر کیڑے مکوڑوں کو مارنے کا بیان حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو دہاریوں والے سانپ کو مارنے کا حکم دیا کیونکہ وہ بصارت کو زائل کر دیتا اور حمل کو گرا دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛ترجمہ؛سانپوں اور دیگر کیڑے مکوڑوں کو مارنے کا بیان؛جلد٤ص١٧٥۲؛حدیث نمبر٥۷۱۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ ؛ فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ، وَيُصِيبُ الْحَبَلَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5711

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں دو دہاریوں والے اور دم کٹے دونوں سانپوں کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۲؛حدیث نمبر٥۷۱۲)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ : الْأَبْتَرُ، وَذُو الطُّفْيَتَيْنِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5712

حضرت سالم اپنے والد(حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ)سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا سانپوں کو قتل کرو اور خاص طور پر دو دہاریوں والے اور دم کٹے سانپ کو کیونکہ یہ حمل کو گرا دیتے ہیں اور بصارت کوزائل کر دیتے ہیں۔ حضرت سالم فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جس سانپ کو پاتے اسے قتل کر دیتے حضرت ابو لبانہ بن عبدالمنذر یا حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک سانپ کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۲؛حدیث نمبر٥۷۱٣)

وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ ؛ فَإِنَّهُمَا يَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ، وَيَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ ". قَالَ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا، فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5713

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ کتوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیتے تھے فرماتے تھے سانپوں اور کتوں کو مارو اور دو دہاریوں والے نیز دم بریدہ سانپ کو ہلاک کرو کیونکہ یہ بصارت کو زائل کرتے اور حاملہ عورتوں کے حمل کو گرا دیتے ہیں حضرت زہری فرماتے ہیں ہمارا خیال ہے کہ یہ ان کے زہر کی تاثیر ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں جس سانپ کو دیکھتا اسے مار دیتا ایک دن میں گھریلو سانپوں میں سے ایک سانپ کا پیچھا کر رہا تھا کہ حضرت زید بن خطاب یاحضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہما گزرے اور میں اس سانپ کا پیچھا کر رہا تھا انہوں نے کہا عبداللہ!ٹھہر جاؤ میں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مارنے کا حکم دیا ہے انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۳؛حدیث نمبر٥۷۱٤)

وَحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ يَقُولُ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَالْكِلَابَ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ ؛ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَالَى ". قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَنُرَى ذَلِكَ مِنْ سُمَّيْهِمَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. قَالَ سَالِمٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَلَبِثْتُ لَا أَتْرُكُ حَيَّةً أَرَاهَا إِلَّا قَتَلْتُهَا، فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً يَوْمًا مِنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ مَرَّ بِي زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ ، أَوْ أَبُو لُبَابَةَ ، وَأَنَا أُطَارِدُهَا، فَقَالَ : مَهْلًا يَا عَبْدَ اللَّهِ. فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ. قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5714

حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر اور حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا یونس کی روایت میں ہے کہ سانپوں کو مارو اس میں دو دہاری والے اور دم بریدہ کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۳؛حدیث نمبر٥۷۱۵)

وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ صَالِحًا قَالَ : حَتَّى رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَا : إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ : اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَلَمْ يَقُلْ : ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5715

حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی کہ وہ اپنے گھر کا دروازہ کھول دیں تاکہ وہ مسجد کے قریب ہو جائیں اتنے میں لڑکوں کو سانپ کا چمڑا ملا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان کو تلاش کر کے ہلاک کر دو حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسے قتل نہ کرو کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا جو گھروں میں رہتے ہیں۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۳؛حدیث نمبر٥۷۱٦)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ كَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ لِيَفْتَحَ لَهُ بَابًا فِي دَارِهِ ؛ يَسْتَقْرِبُ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ الْغِلْمَةُ جِلْدَ جَانٍّ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : الْتَمِسُوهُ فَاقْتُلُوهُ. فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : لَا تَقْتُلُوهُ ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5716

حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تمام سانپوں کو مار ڈالتے تھے حتیٰ کہ حضرت لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ کام چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٤؛حدیث نمبر٥۷۱۷)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ، حَتَّى حَدَّثَنَا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْبَدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ ؛ فَأَمْسَكَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5717

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم‌نے گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٤؛حدیث نمبر٥۷۱۸)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا لُبَابَةَ يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ .

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5718

حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٤؛حدیث نمبر٥۷۱۹)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5719

حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر قبا میں تھا وہ مدینہ طیبہ منتقل ہو گئے ایک دن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے اپنا ایک دروازہ کھول رہے تھے کہ اچانک انہوں نے گھریلو سانپوں میں سے ایک سانپ دیکھا ان لوگوں نے اسے مارنے کا ارادہ کیا تو حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے اور دو دہاری والے اور دم بریدہ سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ دونوں سانپ نظر کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے(پیٹ کے)بچوں کو گرا دیتے ہیں۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٤؛حدیث نمبر٥۷۲۰)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّ - وَكَانَ مَسْكَنُهُ بِقُبَاءٍ، فَانْتَقَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ - فَبَيْنَمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسًا مَعَهُ، يَفْتَحُ خَوْخَةً لَهُ، إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ مِنْ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ، فَأَرَادُوا قَتْلَهَا، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْهُنَّ - يُرِيدُ عَوَامِرَ الْبُيُوتِ - وَأُمِرَ بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ ، وَذِي الطُّفْيَتَيْنِ . وَقِيلَ : هُمَا اللَّذَانِ يَلْتَمِعَانِ الْبَصَرَ، وَيَطْرَحَانِ أَوْلَادَ النِّسَاءِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5720

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے گرے ہوئے مکان کے پاس تھے کہ انہوں نے ایک سانپ کی جھلی دیکھی(مراد پیٹھ کی چمک ہے)فرمایا اس سانپ کا پیچھا کرو اور اس کو ہلاک کر دو۔ حضرت ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے گھریلو سانپوں کو ہلاک کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ دم کٹے اور دو دہاری والے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم ہے کیونکہ یہ نظرکو زائل کرتے اور عورتوں کے حمل کو گرا دیتے ہیں۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٤؛حدیث نمبر٥۷۲۱)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ عِنْدَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَوْمًا عِنْدَ هَدْمٍ لَهُ، فَرَأَى وَبِيصَ جَانٍّ، فَقَالَ : اتَّبِعُوا هَذَا الْجَانَّ فَاقْتُلُوهُ. قَالَ أَبُو لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيُّ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ، إِلَّا الْأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ ؛ فَإِنَّهُمَا اللَّذَانِ يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ، وَيَتَّبِعَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5721

حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مکان کے پاس قلعے میں سانپ تلاش کر رہے تھے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۵؛حدیث نمبر٥۷۲۲)

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ مَرَّ بِابْنِ عُمَرَ وَهُوَ عِنْدَ الْأُطُمِ الَّذِي عِنْدَ دَارِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَرْصُدُ حَيَّةً. بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5722

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غارمیں تھے کہ آپ پر"والمرسلات عرفا"(سورت) نازل ہوئی۔ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے یہ سورت تازہ‌ بہ تازہ سن رہے تھے کہ اچانک ایک سانپ نکلا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو قتل کر دو ہم اسے مارنے کے لیے جلدی کرنے لگے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل گیا۔ نبی اکرم صلی وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے اسے تمہارے شر سے بچا لیا جیسا کہ تمہیں اس کے شر سے بچایا۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۵؛حدیث نمبر٥۷۲۳)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، قَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ { وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا }، فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً ؛ إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ، فَقَالَ : " اقْتُلُوهَا ". فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا فَسَبَقَتْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ، كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5723

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۵؛حدیث نمبر٥۷۲٤)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5724

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ سانپ کو مارے اور وہ شخص حالت احرام میں تھا۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۵؛حدیث نمبر٥۷۲٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُحْرِمًا بِقَتْلِ حَيَّةٍ بِمِنًى.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5725

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے اس کے بعد حدیث نمبر٥٧٢٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۵؛حدیث نمبر٥۷۲٦)

وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5726

حضرت ابو السائب فرماتے ہیں وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر گئے تووہ نماز پڑھ رہے تھے فرماتے ہیں میں ان کے انتظار میں بیٹھ گیا کہ وہ نماز سے فارغ ہو جائیں اتنے میں گھر کے کونے میں رکھی ہوئی لکڑیوں سے حرکت کی آواز آئی میں نے مڑ کر دیکھا تو سانپ تھا میں اسے قتل کرنے کے لیے کود پڑا تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مجھے بیٹھنے کے لئے اشارہ کیا میں بیٹھ گیا حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اس مکان کی ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا اس کوٹھڑی کو دیکھ رہے ہو؟میں نے کہا جی ہاں میں دیکھ رہا ہوں فرمایا ہمارا ایک نوجوان تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خندق کی طرف نکلے اور یہ نوجوان دوپہر کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر گھر کی طرف جاتا تھا۔ایک دن اس نے اجازت لی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اپنا ہتھیار لے جاؤ کیونکہ مجھے تم پر قریظہ کا ڈر ہے۔وہ نوجوان ہتھیار لے کر چلا گیا وہ گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دروازے کے دونوں کناروں کے درمیان کھڑی ہے اس نے غیرت میں آکر اس کو نیزہ مارنا چاہا تو عورت نے کہا اپنا نیزہ روک لو اور اندر داخل ہو جاؤ حتی کہ تم دیکھو کہ میں کس وجہ سے باہر آئی ہوں وہ داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بہت بڑا سانپ کنڈلی مارے بستر پر بیٹھا ہےاس نے اس سانپ کو مارنے کا ارادہ کیا اور اسے نیزے میں پرو دیا۔ پھر باہر نکل کر وہ نیزہ مکان میں گاڑ دیا اس کے بعد وہ سانپ اس نوجوان پر لوٹ پوٹ ہوگیا اور پتہ نہ چل سکا کہ ان میں سے کون پہلے مرا سانپ یا نوجوان؟ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے یہ ماجرا بیان کیا اور عرض کیا کہ اس نوجوان کے لئے اللہ تعالی سے دعا مانگے کہ وہ اسے ہمارے لئے زندہ کر دے۔ آپ نے فرمایا اپنے ساتھی کے لیے بخشش کی دعا مانگو،پھرفرمایا مدینہ طیبہ میں جن رہتے ہیں جو اسلام قبول کر چکے ہیں اگر تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو تین دن تک اسے خبردار کرو اس کے بعد بھی اگر وہ دکھائی دے تو اسے قتل کردو وہ شیطان ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٦؛حدیث نمبر٥۷۲٧)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ - وَهُوَ عِنْدَنَا مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ - أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ، قَالَ : فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا فِي عَرَاجِينَ ، فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا حَيَّةٌ، فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ، فَقَالَ : أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ : فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ، فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ، فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ ؛ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ ". فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ ثُمَّ رَجَعَ، فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةً، فَأَهْوَى إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعُنَهَا بِهِ، وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ : اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ، وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي. فَدَخَلَ، فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ، فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ، فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى، قَالَ : فَجِئْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، وَقُلْنَا : ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا، فَقَالَ : " اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ ". ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ ؛ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5727

حضرت ابو السائب بیان کرتے ہیں کہ ہم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اس دوران کے ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے ان کی چارپائی کے نیچے حرکت کی آواز سنی ہم نے دیکھا تووہ سانپ تھا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٧٢٧کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان گھروں میں آباد رہنے والے سانپ ہے جب تم ان میں کسی سانپ کو دیکھو تو اسے تین دن تک تنگ کرو اگر چلا جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے قتل کر دو بے شک وہ کافر ہے(اس روایت میں یہ ہے کہ)آپ نے ان لوگوں سے فرمایا جاؤ اپنے ساتھی کو دفن کرو۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥٦؛حدیث نمبر٥۷۲۸)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ : السَّائِبُ - وَهُوَ عِنْدَنَا أَبُو السَّائِبِ - قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهِ حَرَكَةً، فَنَظَرْنَا، فَإِذَا حَيَّةٌ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ صَيْفِيٍّ، وَقَالَ فِيهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا فَحَرِّجُوا عَلَيْهَا ثَلَاثًا، فَإِنْ ذَهَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوهُ ؛ فَإِنَّهُ كَافِرٌ ". وَقَالَ لَهُمُ : " اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5728

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ طیبہ میں کچھ جن ہے جو اسلام قبول کر چکے ہیں تو تم میں سے جو شخص ان میں سے کسی سانپ کو دیکھے تو اسے تین دن تک خبردار کرے اس کے بعد بھی نظر آئے تو اسے قتل کر دے کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (مسلم شریف؛بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛جلد٤ص١٧٥۷؛حدیث نمبر٥۷۲۹)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي صَيْفِيٌّ ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ قَدْ أَسْلَمُوا، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْعَوَامِرِ فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلَاثًا، فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ فَلْيَقْتُلْهُ ؛ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5729

حضرت ام شریک کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو گرگٹ کے مارنے کا حکم دیا ابن ابی شیبہ کی روایت میں(امرھا کی بجائے)امر کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛ترجمہ؛گرگٹ کو مارنے کا استحباب؛جلد٤ص١٧٥۷؛حدیث نمبر٥۷۳۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ : أَمَرَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5730

حضرت ام شریک کہتی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گرگٹ کو مارنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اس کو مارنے کا حکم دیا۔ نوٹ:۔ام شریک بنو عامر بن لوئی کی عورتوں میں سے تھیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۷؛حدیث نمبر٥۷۳۱)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ الْوِزْغَانِ فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا. وَأُمُّ شَرِيكٍ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ. اتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ قَرِيبٌ مِنْهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5731

حضرت عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا اور اس کا نام فویسق(چھوٹا فاسق)رکھا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۸؛حدیث نمبر٥۷۳۲)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ ، وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5132

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو فویسق فرمایا حرملہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے اس کو قتل کرنے کا حکم نہیں سنا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۸؛حدیث نمبر٥۷۳۳)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ : " الْفُوَيْسِقُ ". زَادَ حَرْمَلَةُ : قَالَتْ : وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5733

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص پہلی ضرب میں گرگٹ کو قتل کرے اس کے لیے اتنی اتنی نیکیاں لکھی جائیں گی اور جو شخص اسے دوسری ضرب میں قتل کرے اس کے لیے اتنی نیکیاں ہوں گی پہلے سے کم کا ذکر کیا اور اگر تیسری ضرب میں قتل کرے اس کے لیے اتنی اتنی اتنی نیکیاں ہوں گی جو دوسری ضرب سے کم ہوگی۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۸؛حدیث نمبر٥۷۳٤)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الْأُولَى، وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، لِدُونِ الثَّانِيَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5734

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جس نے گرگٹ کو پہلی ضرب میں مار دیا اس کے لیے ایک سو نیکیاں لکھی جائیں گی۔دوسری ضرب میں اس سے کم اور تیسری ضرب میں اس سے بھی کم لکھی جائیں گی۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۸؛حدیث نمبر٥۷۳٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّاءَ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ خَالِدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، إِلَّا جَرِيرًا وَحْدَهُ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ : " مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ كُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَفِي الثَّانِيَةِ دُونَ ذَلِكَ، وَفِي الثَّالِثَةِ دُونَ ذَلِكَ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5735

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا پہلی ضرب میں ستر نیکیاں ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۹؛حدیث نمبر٥۷۳٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّاءَ - عَنْ سُهَيْلٍ ، حَدَّثَتْنِي أُخْتِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5736

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک چیونٹی نے انبیائے کرام میں سے کسی ایک نبی کو کاٹ دیا تو ان کے حکم سے چیونٹی کی پوری بستی کو جلا دیا گیا اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ آپ نے ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے اللہ کی مخلوق میں سےایک گروہ کو ہلاک کر دیاجواللہ تعالی کی تسبیح کرتا تھا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النَّمْلِ؛ترجمہ؛چیونٹی کو مارنے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧٥۹؛حدیث نمبر٥۷۳۷)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : أَفِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ ؟ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5737

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی،ایک درخت کے نیچے اترے تو ان کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے درخت کے نیچے سے چیونٹیوں کا چھتہ نکالنے کا حکم دیا پھر ان کے حکم سے اسے جلا دیا گیا پس اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم نے ایک ہی چیونٹیوں کو جلایا ہوتا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النَّمْلِ؛جلد٤ص١٧٥۹؛حدیث نمبر٥۷۳۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً ؟ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5738

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ گزشتہ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے تو ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ دیا انہوں نے حکم دیا کہ چونٹیوں کے اس چھتے کو نکال دیا جائے پھر اسے جلانے کا حکم دیا اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ آپ نے صرف ایک چیونٹی کو مارنے پر اکتفاء کیوں نہ کیا۔(امام نووی فرماتے اس حدیث کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ اس نبی کے زمانے میں چیونٹی کو مارنا اور جلانا جائز تھا اس لئے ان کو اصل قتل پر نہیں بلکہ ایک سے زیادہ کے قتل پر تنبیہ کی گئی ہے لیکن ہماری شریعت میں جلانا جائز نہیں۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النَّمْلِ؛جلد٤ص١٧٥۹؛حدیث نمبر٥۷۳۹)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ، قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً ؟ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5739

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عورت کو بلی کے سبب سے عذاب دیا گیا جس نے اسے قید کر رکھا تھا حتیٰ کہ وہ مر گئی وہ عورت اس سبب سے جہنم میں چلی گئی جب اس نے اس بلی کو قید کیا تو اسے کچھ بھی کھلاتی پلاتی نہیں تھی اور نہ ہی اس نے اسے کیڑے مکوڑے کھانے کے لئے آزاد کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛ترجمہ؛بلی کو مارنے کی ممانعت؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤٠)

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا، وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5740

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر٥٧٤٠کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤۱)

وَحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5741

حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر٥٧٤٠کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤۲)

وَحَدَّثَنَاهُ هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِذَلِكَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5742

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت کو بلی کے سبب سے عذاب دیا گیا وہ اسے کھلاتی تھی نہ پلاتی تھی اور نہ ہی اس نے اس کو کیڑے مکوڑے کھانے کے لئے آزاد کیا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤۳)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ ؛ لَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5743

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا : رَبَطَتْهَا، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ : حَشَرَاتِ الْأَرْضِ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5744

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کے معنی میں ایک اور روایت بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤۵)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5745

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر٥٧٤۳کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْهِرَّةِ؛جلد٤ص١٧٦٠؛حدیث نمبر٥۷٤٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5746

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص راستے میں جا رہا تھا کہ اسے شدید پیاس لگی اس نے ایک کنواں پایا تو اس نے اس میں اتر کر اس سے پانی پیا پھر باہر نکلا تو وہاں ایک کتا تھا جو پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا تھا اس شخص نے سوچا پیاس کی وجہ سے اس کتے کی حالت بھی وہی ہو رہی ہے جو میری تھی وہ کنواں میں اترا اور اپنا موزہ پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑ کر اوپر آیا اور کتے کو پانی پلا کر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا پس اللہ تعالی نے اس کو بخش دیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا ہمیں ان جانوروں کے سلسلے میں اجر ملتا ہے آپ نے فرمایا ہر تر جگر میں اجر ہے۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سَاقِي الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا؛ترجمہ؛جانوروں کو کھلانے پلانے کی فضیلت؛جلد٤ص١٧٦۱؛حدیث نمبر٥۷٤۷)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ - فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ - عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا، فَنَزَلَ فِيهَا، فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ : لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَ مِنِّي. فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا ؟ فَقَالَ : " فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5747

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک فاحشہ عورت نے گرمی کے دن ایک کتے کو دیکھا جو ایک کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا اور پیاس کی وجہ سے اس کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی اس عورت نے اپنے موزے میں پانی لے کر اسے پلایا تو اس کی بخشش کر دی گئی۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سَاقِي الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا؛جلد٤ص١٧٦۱؛حدیث نمبر٥۷٤۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا ، فَغُفِرَ لَهَا ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5748

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاایک کتا کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا قریب تھا کہ پیاس اسے ہلاک کردے کہ ایک فاحشہ عورت نے اسے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اتارا اور(اس میں پانی بھر کر)اس کتے کو پلایا تو اس نیکی کے بدلے اس کو بخش دیا گیا۔ (جب ایک کتے کی پیاس دور کرنے کی وجہ سے انسان کی بخشش ہو جاتی ہے تو انسان پر رحم کھانا کتنی فضیلت کا باعث اور اس پر ظلم کتنا بڑا جرم ہے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔) (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ فَضْلِ سَاقِي الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا؛جلد٤ص١٧٦۱؛حدیث نمبر٥۷٤۹)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ، قَدْ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ، إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا، فَاسْتَقَتْ لَهُ بِهِ، فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ، فَغُفِرَ لَهَا بِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5749

عامر بن سعد نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور اس کا نام فاسق رکھا۔ (مسلم شریف؛کتاب قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَغَيْرِهَا؛بَابُ اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ؛جلد٤ص١٧٥۸؛حدیث نمبر٥۷۳٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا»

Muslim Shareef, Kitabus Salame, Hadees No. 5732

Muslim Shareef : Kitabus Salame

|

Muslim Shareef : كِتَابُ السَّلَامِ

|

•