asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Fazayele

From 5824 to 6049

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے کنانہ کو چن لیا اور کنانہ(بنو کنانہ)میں سے قریش کو،قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے فضیلت دی (منتخب فرمایا) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛ترجمہ؛فضائل کا بیان؛بَابُ فَضْلِ نَسَبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَسْلِيمِ الْحَجَرِ عَلَيْهِ قَبْلَ النُّبُوَّةِ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کی فضیلت اور اعلان نبوت سے پہلے آپ کو ایک پتھر کے سلام کا بیان؛جلد٤ص١٧۸۲؛حدیث نمبر٥۸۲٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، جَمِيعًا عَنِ الْوَلِيدِ، قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5824

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میں مکہ مکرمہ کے اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو میری بعثت سے پہلے مجھے سلام کرتا تھا میں اسے آج بھی پہچانتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضْلِ نَسَبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَسْلِيمِ الْحَجَرِ عَلَيْهِ قَبْلَ النُّبُوَّةِ؛جلد٤ص١٧۸۲؛حدیث نمبر٥۸۲٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ، إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5825

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میں اپنی قبر سے اٹھوں گا اور سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَفْضِيلِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمِيعِ الْخَلَائِقِ؛جلد٤ص١٧۸۲؛حدیث نمبر٥۸۲٦)

حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5826

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا تو ایک پھیلا ہوا(کشادہ)پیالہ لایا گیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اس سے وضو کرنے لگے میں نے اندازہ لگایا تو وہ ساٹھ سے اسی تک لوگ تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں پانی کی طرف دیکھ رہا تھا کہ وہ آپ کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات؛جلد٤ص١٧۸۳؛حدیث نمبر٥۸۲٧)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الثَّمَانِينَ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5827

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا لوگوں نے وضوکے لیے پانی تلاش کرنا شروع کیا لیکن نہ پایا چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ پانی لایا گیا۔ آپ نے اس برتن میں ہاتھ مبارک رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس سے وضو کرے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی پھوٹ رہا تھا چنانچہ لوگوں نے وضو کیا حتیٰ کہ ان میں سے آخری لوگوں نے بھی وضو کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸۳؛حدیث نمبر٥۸۲٨)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، قَالَ : فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5828

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام مقام زوراء میں تھے(راوی کہتے ہیں)زورآء مدینہ طیبہ کے بازار میں مسجد کے قریب ایک جگہ ہے آپ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی تھا پھر آپ نے اس میں اپنے دست مبارک کو رکھا تو آپ کی انگلی سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلے آپ کے تمام صحابہ کرام نے وضو کیا راوی حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے ابوحمزہ(حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے)ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی فرمایا اندازاً تین سو آدمی ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸۳؛حدیث نمبر٥۸٢٩)

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِالزَّوْرَاءِ - قَالَ : وَالزَّوْرَاءُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ، وَالْمَسْجِدِ فِيمَا ثَمَّهْ - دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَوَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ، فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَتَوَضَّأَ جَمِيعُ أَصْحَابِهِ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ كَانُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ ؟ قَالَ : كَانُوا زُهَاءَ الثَّلَاثِمِائَةٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5829

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام زوراء میں تھےکہ آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا جس میں آپ کی انگلیاں بھی نہیں ڈوبتی تھی یہ اتنا تھا کہ اس میں انگلیاں چھپ جائیں اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٢٩ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸۳؛حدیث نمبر٥۸۳٠)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالزَّوْرَاءِ، فَأُتِيَ بِإِنَاءِ مَاءٍ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ، أَوْ قَدْرَ مَا يُوَارِي أَصَابِعَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5830

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام مالک رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کپی میں گھی بھیجتی تھیں ان کے بیٹے آکر ان سے سالن مانگتےاور ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تھی تو جس کپی میں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھی بھیجتی تھی اس میں ان کو کچھ گھی مل جاتا تھا توان کے گھر میں اس طرح سالن حاصل ہو جاتا تھا حتیٰ کہ ایک دن انہوں نے اس کپی کو نچوڑ دیا۔ پھر وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے پوچھا تم نے اس کو نچوڑ دیا؟عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا اگر تو اسے اسی طرح چھوڑتی تو وہ گھی اسی طرح ہمیشہ قائم رہتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸٤؛حدیث نمبر٥۸۳١)

وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ كَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا، فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الْأُدْمَ ، وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ، فَتَعْمِدُ إِلَى الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا، فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدْمَ بَيْتِهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " عَصَرْتِيهَا ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ. قَالَ : " لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5831

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر کھانا طلب کرنے لگا آپ نے اسے نصف وسق(تیس صاع یعنی ۱۲۰ کلوگرام)جو کے دیے وہ شخص اس کی بیوی اور مہمان اس میں سے ہمیشہ کھاتے رہے حتی کہ اس کا وزن کرلیا پھر وہ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو اس کا ماپ (وزن)نہ کرتا تو تم لوگ اس سے کھاتے رہتے اور تمہارے پاس باقی رہتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸٤؛حدیث نمبر٥۸۳٢)

وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ، وَلَقَامَ لَكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5832

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم غزوہ تبوک کے سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے اور آپ نمازوں کو جمع کرتے تھے اور آپ نے ظہر اور عصر کی نماز ساتھ ساتھ پڑھیں اور مغرب اور عشاء کی نمازوں کو(بظاہر)جمع فرمایا حتیٰ کہ آپ نے نماز کو مؤخر کیا پھر باہر تشریف لائے اور مغرب و عشاء کو اکٹھاپڑھا۔ اس کے بعد فرمایا ان شاءاللہ تم کل تبوک کے چشمے پر پہنچو گے اور تم دن چڑھنے سے پہلے وہاں پہنچوں گے پس تم میں سے جو شخص پہلے وہاں پہنچے تو وہ اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آجاؤں چنانچہ ہم وہاں پہنچے اور دو آدمی ہم سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے اس کا پانی تسمہ کے برابر تھا اور آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اس کے پانی کو ہاتھ لگایا ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوئے اور ان کو کہا جو اللہ تعالی نے چاہا وہ آپ کہیں۔ لوگوں نے تھوڑا تھوڑا کرکے چلؤوں میں پانی لینا شروع کیا حتی کہ کسی برتن میں کچھ پانی جمع ہوگیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنے ہاتھوں اور چہرے کو دھویا پھر اسی میں ڈال دیا۔وہ چشمہ جوش مارنے لگا حتی کہ لوگوں نے اس سے پانی پیا اور جانوروں کو بھی پلایا۔ اس کے بعدرسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے معاذ!قریب ہے اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ یہ پانی باغات کو سیراب کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸٤؛حدیث نمبر٥۸۳٣)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ - وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ ". فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ. قَالَ : فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا ؟ ". قَالَا : نَعَمْ. فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ. قَالَ : ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ. قَالَ : وَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ - أَوْ قَالَ : غَزِيرٍ، شَكَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا قَالَ - حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ : " يُوشِكُ يَا مُعَاذُ، إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ، أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5833

حضرت ابوحمید فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےہمراہ غزوۂ تبوک کے لیے نکلے تو وادی قری میں ایک عورت کے باغ میں آئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس باغ کے پھلو کا اندازہ لگاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اندازہ دس وسق(ساٹھ من)لگایا آپ نے اس خاتون سے فرمایا اس اندازے کو یاد رکھناحتیٰ کہ ہم ان شاء اللہ تمہارے پاس لوٹ آئیں۔ راوی فرماتے ہیں ہم چلے حتیٰ کہ تبوک پہنچے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب رات کے وقت تم پر شدید آندھی چلے گی پس تم میں سے کوئی شخص نہ اٹھے اور جس کے اونٹ ہو وہ اسے رسی کے ساتھ اچھی طرح باندھ لے۔ چنانچہ رات کے وقت آندھی چلی ایک آدمی اٹھا تو آندھی نے اسے اڑا لیا اور طَی پہاڑوں کے درمیان گرا دیا پھر ایلہ کے حاکم ابن العلماء کا قاصد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خط لے کر آیا اور اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سفید خچر پیش کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب لکھا اور ایک چادر بطور تحفہ پیش کی پھر ہم واپس ہوئے تو وادی قریٰ میں پہنچے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے اس کے باغ کے بارے میں پوچھا کہ اس کا پھل کتنا ہوا اس نے کہا دس وسق، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جلد روانہ ہوں گا جو جلد روانہ ہونا چاہے وہ میرے ساتھ چلے اور جو ٹھہرنا چاہے وہ ٹھہر جائے ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے آپ نے فرمایا یہ طابہ ہے اور یہ احد ہے اور یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں پھرفرمایا انصار کے گھروں میں سے بہترین گھر بنو نجار کے گھر ہیں پھر بنو عبدالاشہل کے گھر پھر بنو عبد الحارث بن خزرج کے گھر پھر بنو ساعدہ کے گھر افضل ہیں اور انصار کے تمام گھروں میں بھلائی ہے۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم سے ملے تو ابواسید نے ان سے کہا کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انصار کے گھروں کو بہتر قرار دیا ہے اور ہمیں آخر میں قرار دیا حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ نے انصار کے تمام گھروں کو بہتر قرار دیا اور ہمیں آخر میں کردیا آپ نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات کافی نہیں کہ تم بہتر لوگوں میں سےہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸۵؛حدیث نمبر٥۸۳٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى عَلَى حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْرُصُوهَا ". فَخَرَصْنَاهَا، وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ ، وَقَالَ : " أَحْصِيهَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ". وَانْطَلَقْنَا حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْكُمْ، فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ ". فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّى أَلْقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ، وَجَاءَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَاءِ صَاحِبِ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً، بَيْضَاءَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا : " كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا ؟ " فَقَالَتْ : عَشَرَةَ أَوْسُقٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي مُسْرِعٌ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِيَ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ ". فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ : " هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ". ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ ". فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ : أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلَنَا آخِرًا ؟ فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْتَنَا آخِرًا. فَقَالَ : " أَوَلَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5834

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہے اس میں یہ ہے کہ انصار کے سب گھروں میں بھلائی ہے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ نہیں وہیب کی روایت میں ہےکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیےان کا سمندر(ان کا ملک)لکھ دیااس میں یہ نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب لکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١٧۸٦؛حدیث نمبر٥۸۳٥)

حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَى قَوْلِهِ : " وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ ". وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ قِصَّةِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ : فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِهِمْ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ : فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5835

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نجد کی طرف ایک جنگ میں گئے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی وادی میں دیکھا جس میں کانٹے اور درخت بہت تھے آپ ایک درخت کے نیچے اترے اور اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ کے ساتھ اپنی تلوار لٹکا دی حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ کرام وادی میں بکھر گئے اور درختوں کا سایہ تلاش کرنے لگے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے تلوار پکڑ لی میں بیدار ہوا تو وہ میرے سر کے پاس کھڑا تھا اور مجھے اس وقت احساس ہوا جب ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی اس نے مجھ سے پوچھا آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟میں نے کہا اللہ تعالیٰ،اس نے دوبارہ پوچھا آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟میں نے کہا اللہ تعالیٰ۔ راوی فرماتے ہیں پھر اس نے تلوار نیام میں کر لی اور وہ شخص بیٹھا ہوا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہ کہا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَاب توکلہ علی اللہ تعالیٰ،وعصمۃ اللہ تعالیٰ لہ من الناس؛ ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ پر توکل؛جلد٤ص١٧۸٦؛حدیث نمبر٥۸۳٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَأَدْرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، قَالَ : وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْوَادِي يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَجُلًا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، فَلَمْ أَشْعُرْ إِلَّا وَالسَّيْفُ صَلْتًا فِي يَدِهِ، فَقَالَ لِي : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ. ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ. قَالَ : فَشَامَ السَّيْفَ، فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ". ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5836

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جہاد میں نجد کی طرف گئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس لوٹے،پھر ایک دن ان سب کو قائلہ نے آلیا اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٣٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَاب توکلہ علی اللہ تعالیٰ،وعصمۃ اللہ تعالیٰ لہ من الناس؛جلد٤ص١٧۸٧؛حدیث نمبر٥۸۳٧)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ وَمَعْمَرٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5837

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آے حتیٰ کہ ہم ذات الرقاع پر پہنچے۔اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٣٦ کے مثل مروی ہے۔لیکن یہ بات مذکور نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی تعارض نہ کیا(یعنی کچھ نہ کہا) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَاب توکلہ علی اللہ تعالیٰ،وعصمۃ اللہ تعالیٰ لہ من الناس؛جلد٤ص١٧۸٧؛حدیث نمبر٥۸۳٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرْ : ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5838

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے جس ہدایت اور علم کے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال اس بادل جیسی ہے جو کسی زمین پر برسا۔تو اس میں کچھ حصہ اچھا تھا اس نے پانی کو قبول کیا تو اس نے چارہ اور بہت سا سبزہ اگایا۔ اور زمین کا کچھ حصہ سخت تھا اس نے پانی کو روک لیا(جذب نہ ہوا اور آگے نکلا)تو اس سے اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں کو نفع دیا۔ان لوگوں نے اس سے پیا،(جانور وغیرہ کو)پلایا اور ان کو چرایا اور زمین کے ایک ایسے حصے کو پانی ملا جو چٹیل میدان تھا جس میں نہ تو پانی رکتا ہے اور نہ ہی وہاں گھاس اگتا ہے۔ تو یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو دین کی سمجھ حاصل کرتے ہیں اور اس کا فیض پہنچاتے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ان لوگوں نے سیکھا اور سکھایا اور یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے اس کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا اور جس ہدایت کے ساتھ مجھے بھیجا گیا اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو قبول نہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَاب بیان مثل ما بعث بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الھُدی والعلم؛ترجمہ؛جس علم اور ہدایت کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا اس کی مثال؛جلد٤ص١٧۸٧؛حدیث نمبر٥۸٣٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ - قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ، وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ، فَشَرِبُوا مِنْهَا وَسَقَوْا وَرَعَوْا، وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ ؛ لَا تُمْسِكُ مَاءً، وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5839

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا بے شک میری مثال اور اس چیز کی مثال جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی طرح ہے جو اپنی قوم کے پاس آکر کہے اے میری قوم!میں نے اپنی آنکھوں سے لشکر دیکھا ہے اور میں واضح ڈر سنانے والا ہوں پس تم اپنے آپ کو بچاؤ پس اس قوم میں سے ایک گروہ نے اس کی اطاعت کی اور سر شام وہ اس مہلت میں بھاگ گئے اور ان میں سے ایک گروہ نے اسے جھٹلایا تو اپنے گھروں میں ٹھہرے رہے پس صبح کے وقت لشکر نے انہیں آلیا اور ان کو ہلاک کرکے تباہ و برباد کردیا۔ تو یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو میری اطاعت کرتے اور میرے لاے ہوئے دین کی اتباع کرتے ہیں اور ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے میری نافرمانی کی اور میرے لاے ہوے دین کو جھٹلا دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ؛جلد٤ص١٧۸۸؛حدیث نمبر٥۸٤٠)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ : يَا قَوْمِ، إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ ، فَالنَّجَاءَ . فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَأَدْلَجُوا فَانْطَلَقُوا عَلَى مُهْلَتِهِمْ، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ، فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5840

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میری اور میری امت کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی پھر حشرات الارض(کیڑے مکوڑے)اور پروانے اس آگ میں گرنے لگے پس میں تم کو کمر سے پکڑ کر روک رہا ہوں اور تم اس آگ میں دھڑا دھڑ گر رہے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ؛جلد٤ص١٧۸۹؛حدیث نمبر٥۸٤١)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ أُمَّتِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَتِ الدَّوَابُّ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهِ، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ ، وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5841

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ؛جلد٤ص١٧۸۹؛حدیث نمبر٥۸٤٢)

وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5842

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے متعدد احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی جب اس کے ارد گرد کا حصہ روشن ہوگیا تو پروانے اور حشرات الارض اس میں گرنے لگے وہ شخص ان کو اس میں گرنے سے روکتا ہے لیکن وہ اس پر غالب آکر آگ میں دھڑادھڑ گر رہے ہیں فرمایا یہی میری اور تمہاری مثال ہے میں تمہاری کمر سے پکڑ کر تمہیں جہنم سے روک رہا ہوں(اور کہتا ہوں)جہنم کے پاس سے چلے آؤ جہنم کے پاس سے چلے آؤ لیکن تم مجھ پر غالب آکر اس(آگ)میں گرتے جاتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ؛جلد٤ص١٧۸۹؛حدیث نمبر٥۸٤٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهَا جَعَلَ الْفَرَاشُ، وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، وَجَعَلَ يَحْجُزُهُنَّ، وَيَغْلِبْنَهُ فَيَتَقَحَّمْنَ فِيهَا، قَالَ : فَذَلِكُمْ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ : هَلُمَّ عَنِ النَّارِ ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ، فَتَغْلِبُونِي، تَقَحَّمُونَ فِيهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5843

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی اور حشرات الارض اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ ان کو وہاں سے ہٹاتا ہے اور میں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر جہنم سے پیچھے ہٹاتا ہوں اور تم میرے ہاتھوں سے نکلے جاتے ہو۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہیں دین کے راستے پر چلا کر اور دولت ایمان سے مالا مال کر کے دوزخ سے بچانا چاہتا ہوں لیکن تم اس راستے کی طرف آنے کی کوشش نہیں کرتے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ؛جلد٤ص١٧۹۰؛حدیث نمبر٥۸٤٤)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَ الْجَنَادِبُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا، وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا، وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5844

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا میری مثال اور سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک عمارت بنائی اور کیا ہی اچھی بنائی اب لوگ اس کے ارد گرد چکر لگانے لگے اور کہنے لگے ہم نے اس سے اچھی عمارت نہیں دیکھی البتہ اس میں ایک اینٹ نہیں ہے تو وہ اینٹ میں ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۰؛حدیث نمبر٥۸٤۵)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ، يَقُولُونَ : مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا، إِلَّا هَذِهِ اللَّبِنَةَ. فَكُنْتُ أَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5845

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اور گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کئی مکان بنواے اور ان کو نہایت خوبصورت اور مکمل بنایا البتہ اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے لوگ اس مکان کے گرد چکر لگانے لگے اور ان کو یہ عمارت اچھی لگی وہ کہنے لگے تم نے یہاں اینٹ کیوں نہیں لگائی تاکہ عمارت مکمل ہوجاتی۔ حضرت محمد(مصطفیٰ)صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پس وہ اینٹ میں ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۰؛حدیث نمبر٥۸٤٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُيُوتًا، فَأَحْسَنَهَا وَأَجْمَلَهَا وَأَكْمَلَهَا، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ وَيُعْجِبُهُمُ الْبُنْيَانُ، فَيَقُولُونَ : أَلَّا وَضَعْتَ هَاهُنَا لَبِنَةً فَيَتِمَّ بُنْيَانُكَ ؟ " فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5846

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک عمارت تعمیر کی اور اسے بہت خوبصورت بنایا البتہ اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ(خالی)چھوڑ دی۔لوگ اس کے گرد گھوم کر خوش ہورہے تھے اور کہتے تھے یہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۱؛حدیث نمبر٥۸٤۷)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ، وَيَقُولُونَ : هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ ؟ قَالَ : فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5847

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مثال اور انبیاء سابقین کی مثال(اس طرح ہے)اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٤٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۱؛حدیث نمبر٥۸٤۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّينَ "، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5848

حضرت جابر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کرام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اسے بالکل مکمل کردیا البتہ ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔اب لوگ اس میں داخل ہونے لگے اور اس کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے اور کہتے تھے اس جگہ اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس اینٹ کی جگہ ہوں مجھ پر انبیاء کرام(کی آمد)کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۱؛حدیث نمبر٥۸٤۹)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَتَمَّهَا وَأَكْمَلَهَا، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا، وَيَقُولُونَ : لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ، جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5849

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ؛جلد٤ص١٧۹۱؛حدیث نمبر٥۸۵٠)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، وَقَالَ بَدَلَ أَتَمَّهَا : أَحْسَنَهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5850

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی جب اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحمت کرنا چاہتا ہے تو اس امت(کی ہلاکت)سے پہلے اس کے نبی کو اٹھا لیتا ہے اور اس نبی کو امت کے لئے اجر اور پیشرو بنا دیتا ہے۔ اور جب کسی امت کوہلاک کرنا چاہتا ہےتو اس نبی کی زندگی میں اس کے سامنے امت کو عذاب دیتا ہے اور ان کی ہلاکت سے اس(نبی)کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور ایسا تب ہوتا ہے جب اس امت نے نبی کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِذَا أَرَادَ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةَ أُمَّةٍ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا؛ترجمہ؛اللہ تعالیٰ جب کسی امت پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے پہلے اس کے نبی کو اٹھا لیتا ہے؛جلد٤ص١٧۹۱؛حدیث نمبر٥۸۵١)

وَحُدِّثْتُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَمِمَّنْ رَوَى ذَلِكَ عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ، فَأَهْلَكَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ وَعَصَوْا أَمْرَهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5851

حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۲؛حدیث نمبر٥۸۵٢)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبًا يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5852

حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ۵۸۵٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۲؛حدیث نمبر٥۸۵٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ مِسْعَرٍ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5853

حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا جو اس حوض پر آئے گا پئے گا اور جو پئے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ اور میرے پاس کچھ ایسے لوگ آئیں گے کہ میں ان کو پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی۔ ابو حازم کہتے ہیں جب میں یہ حدیث بیان کر رہا تھا تو نعمان بن ابو عیاش بھی اس حدیث کو سن رہے تھے انہوں نے فرمایاتم نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا ہے؟میں نے کہا جی ہاں انہوں نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی طرح سنی ہے البتہ وہ یہ اضافہ کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے یہ میرے پیروکار ہیں تو کہا جائے گا آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا! میں کہوں گا جن لوگوں نے میرے بعد دین میں تبدیلی کی ان سے دوری ہو دوری ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۳؛حدیث نمبر٥۸۵٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلًا يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ". قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ - وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ - هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ : هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فَيَقُولُ : " إِنَّهُمْ مِنِّي. فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ. فَأَقُولُ : سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5854

حضرت سہل رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ۵۸۵٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۳؛حدیث نمبر٥۸۵٥)

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَعْقُوبَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5855

حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مسافت ایک ماہ کی مسافت ہے(لمبائی چوڑائی مراد ہے)اس کے سب کونے برابر ہیں اس کا پانی چاندی سے بھی زیادہ سفید ہے۔اس کی خوشبو کستوری سے بھی زیادہ اچھی ہے اس کے کوزے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں جو شخص اس حوض سے پیئے گا کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ فرماتے ہیں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میں حوض پر ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے اور کچھ لوگ میرے سامنے پکڑے جائیں گے میں کہوں گا اے میرے رب یہ سب میری اتباع کرنے والے اور میری امت کے لوگ ہیں تو کہا جائے گا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا اللہ کی قسم یہ لوگ آپ کے بعد فورا اپنی ایڑیوں پر پھر گئے حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے تھے۔ یا اللہ!ہم اس سے تیری پناہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں پر پھر جائیں اور اپنے دین میں کسی آزمائش کا شکار ہو جائیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٤؛حدیث نمبر٥۸۵٦)

وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ، وَمَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ الْوَرِقِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَا يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا ". : وَقَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ، مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي. فَيُقَالُ : أَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ؟ وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ". قَالَ : فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ، إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا، أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5856

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے درمیان تھے تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میں حوض پر انتظار کروں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے اللہ تعالی کی قسم کچھ لوگوں کو مجھ سے دور کر دیا جائے گا تو میں کہوں گا اے میرے رب!یہ میرے اور میری امت کے لوگ ہیں تو اللہ تعالی فرمائے گا آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا یہ ہمیشہ دین سے پھرتے رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٤؛حدیث نمبر٥۸۵٧)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ : " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، فَوَاللَّهِ لَيُقْتَطَعَنَّ دُونِي رِجَالٌ، فَلَأَقُولَنَّ : أَيْ رَبِّ، مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي. فَيَقُولُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ؛ مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5857

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہے میں لوگوں سے سنتی تھی کہ وہ حوض کا ذکر کرتے تھے لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہیں سنی ایک دن جب کہ ایک لڑکی میرے سر میں کنگھی کر رہی تھی تو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اے لوگو!میں نے اس لڑکی سے کہا مجھ سے پیچھے ہٹو اس نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بلایا ہے عورتوں کو نہیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں بھی لوگوں(الناس)میں سے ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں تو اس بات سے ڈرنا کہ کوئی تمہیں حوض پر میرے قریب آنے سے روک نہ دے جس طرح بھٹکے ہوئے کو ہٹایا جاتا ہے میں کہوں گا ایسا کیوں ہوا؟ تو کہا جائے گا آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا تو میں کہوں گا دور ہو جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۵؛حدیث نمبر٥۸۵٨)

وَحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَذْكُرُونَ الْحَوْضَ، وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمًا مِنْ ذَلِكَ وَالْجَارِيَةُ تَمْشُطُنِي، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ ". فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ : اسْتَأْخِرِي عَنِّي، قَالَتْ : إِنَّمَا دَعَا الرِّجَالَ وَلَمْ يَدْعُ النِّسَاءَ. فَقُلْتُ : إِنِّي مِنَ النَّاسِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ، فَإِيَّايَ لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي، كَمَا يُذَبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، فَأَقُولُ : فِيمَ هَذَا ؟ فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ. فَأَقُولُ سُحْقًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5858

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنااس وقت وہ کنگھی کرارہی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اے لوگو"؛ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہانے کنگھی کرنے والی سے فرمایا"میرے سر کو رہنے دو"۔ اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٥٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٥؛حدیث نمبر٥۸٥٩)

وَحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ - وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو - حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ : كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهِيَ تَمْتَشِطُ : " أَيُّهَا النَّاسُ ". فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا : كُفِّي رَأْسِي. بِنَحْوِ حَدِيثِ بُكَيْرٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5859

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور احد والوں(شہداء)کی نماز جنازہ پڑھی پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور اللہ کی قسم میں اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں یا فرمایا زمین کی چابیاں دی گئیں اور اللہ کی قسم مجھے اس بات کا ڈر نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرو گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۵؛حدیث نمبر٥۸٦٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5860

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی پھر منبر پر تشریف لے گئے اور اس طرح نصیحت کی جس طرح کوئی مردوں اور زندوں کو نصیحت کرتا ہے آپ نے فرمایا میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا مقام ایلہ سے جحفہ تک فاصلہ ہے مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کروگے لیکن مجھے اس بات کا خوف ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرتے ہوئے آپس میں لڑوگے اور پہلے لوگوں کی طرح ہلاک ہوجاؤ گے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری بار منبر پر دیکھا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٦؛حدیث نمبر٥۸٦١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ - يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ - حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، فَقَالَ : " إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ عَرْضَهُ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى الْجُحْفَةِ، إِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا ؛ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا، وَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِكُوا، كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ". قَالَ عُقْبَةُ : فَكَانَتْ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5861

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں حوض پر تم سے پہلے جاؤں گا۔میں کچھ لوگوں سے جھگڑا کروں گا پھر میں ان پر غالب آجاؤں گا میں کہوں گا اے میرے حبیب!یہ میرے صحابی ہیں یہ میرے صحابی ہیں تو کہا جاے گا آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا نئے نئے کام کئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٦؛حدیث نمبر٥۸٦٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَلَأُنَازَعَنَّ أَقْوَامًا، ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ، أَصْحَابِي أَصْحَابِي. فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5862

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس حدیث میں اصحابی،اصحابی کے الفاظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٦؛حدیث نمبر٥۸٦٣)

وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ : أَصْحَابِي أَصْحَابِي.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5863

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو اور سندیں ذکر کی ہیں یہ حدیث بھی حدیث نمبر٥٨٦٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹٦؛حدیث نمبر٥۸٦٤)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، جَمِيعًا عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ مُغِيرَةَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5864

امام مسلم علیہ الرحمہ نے مزید دو سندیں ذکر کی اس میں اسی طرح حدیث ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۷؛حدیث نمبر٥۸٦٥)

وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ وَمُغِيرَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5865

حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا آپ کا حوض صنعاء اور مدینہ کے درمیان کی مسافت کے برابر ہے مُستَورِد نے ان سے پوچھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے برتنوں کے بارے میں نہیں سنا انہوں نے کہا نہیں مستورد نے کہا اس کے برتن ستاروں جتنے ہوں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۷؛حدیث نمبر٥۸٦٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَارِثَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَوْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ، وَالْمَدِينَةِ ". فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ : أَلَمْ تَسْمَعْهُ قَالَ : الْأَوَانِي ؟ قَالَ : لَا. فَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ : تُرَى فِيهِ الْآنِيَةُ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ ؟

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5866

حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اس کے بعد انہوں نے حوض کے بارے میں حسب سابق ذکر کیا مستورد کا قول ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۷؛حدیث نمبر٥۸٦٧)

وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، وَذَكَرَ الْحَوْضَ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الْمُسْتَوْرِدِ، وَقَوْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5867

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے سامنے حوض ہے اس کے کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۷؛حدیث نمبر٥۸٦٨)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا، مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5868

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا تمہارے سامنے حوض ہے (اس کا فاصلہ)جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلہ جتنا ہے ابن مثنیٰ کی روایت میں"میرا حوض ہے"کہ الفاظ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۷؛حدیث نمبر٥۸٦٩)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ ". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى : " حَوْضِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5869

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں اس میں یہ اضافہ ہے عبیداللہ نے کہا میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا یہ(جربا اور اذرح)شام کی دو بستیاں ہیں اور ان کے درمیان تین راتوں کی مسافت ہے ابن بشر کی روایت میں تین دنوں کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۸؛حدیث نمبر٥۸۷٠)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، وَزَادَ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ : قَرْيَتَيْنِ بِالشَّأْمِ، بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ ثَلَاثِ لَيَالٍ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بِشْرٍ : ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5870

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد٥٨٧٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۸؛حدیث نمبر٥۸۷١)

وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5871

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے سامنے ایک حوض ہے وہ جرباء اور اذرح کےدرمیان فاصلہ جتنا بڑا ہے اس کے کوزے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں جو شخص حوض پر گیا اور وہاں سے پیا وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۸؛حدیث نمبر٥۸۷٢)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ، فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ ؛ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5872

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ!حوض کے برتن کتنے ہیں؟آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اس کے برتن آسمان کے ستاروں اور سیاروں سے زیادہ ہے وہ ستارے جو ایسی اندھیری رات میں ہوں جس میں بادل نہ ہو وہ جنت کے برتن ہے جو شخص اس حوض سے پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اس حوض میں جنت کے دو پر نالے بہتے ہیں جو اس سے پئے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ اس کی چوڑائی اور لمبائی ایک جیسی ہے اور ان میں عمان سے ایلہ تک کا فاصلہ ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۸؛حدیث نمبر٥۸۷٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ ؟ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا أَلَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ، آنِيَةُ الْجَنَّةِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ آخِرَ مَا عَلَيْهِ، يَشْخُبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنَ الْجَنَّةِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ، عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ، مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5873

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے حوض کے کناروں سے لوگوں کو ہٹاؤں گا اہل یمن کو لکڑی سے ماروں گا حتی کہ ان پر پانی بہنے لگے گا۔ پھر آپ سے حوض کی چوڑائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا میں جہاں کھڑا ہوں یہاں تک سے عمان تک جتنا فاصلہ ہے اس کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اس میں جنت سے کھینچے گئے دو پر نالے بہتے ہیں ایک سونے کا اور دوسرا چاندی کا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۹؛حدیث نمبر٥۸۷٤)

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ ". فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ، فَقَالَ : " مِنْ مَقَامِي إِلَى عَمَّانَ ". وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ، فَقَالَ : " أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ، يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ ؛ أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ، وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5874

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس میں یہ ہے کہ میں قیامت کے دن حوض کے کنارے پر ہوں گا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۹؛حدیث نمبر٥۸۷٥)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ هِشَامٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " أَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ عُقْرِ الْحَوْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5875

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کی حدیث روایت کی ہے یہ روایت بھی حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١٧۹۹؛حدیث نمبر٥۸۷٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدِيثَ الْحَوْضِ، فَقُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ : هَذَا حَدِيثٌ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ ؟ فَقَالَ : وَسَمِعْتُهُ أَيْضًا مِنْ شُعْبَةَ. فَقُلْتُ : انْظُرْ لِي فِيهِ. فَنَظَرَ لِي فِيهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5876

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا میں اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو ہٹاؤں گا جیسا کہ اجنبی اونٹوں کو ہٹایا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۰؛حدیث نمبر٥۸۷٧)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَأَذُودَنَّ عَنْ حَوْضِي رِجَالًا، كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5877

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٥٨٧٧ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۰؛حدیث نمبر٥۸۷٨)

وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5878

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مقدار اتنی ہے جتنا ایلہ اور یمن کے شہر صنعاء کے درمیان فاصلہ ہے اور اس کے برتنوں کی تعداد آسمان کے ستاروں کے برابر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۰؛حدیث نمبر٥۸٧٩)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَدْرُ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ، وَصَنْعَاءَ مِنَ الْيَمَنِ، وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الْأَبَارِيقِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5879

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کرام میں سے چند افراد میرے پاس حوض پر آئیں گے حتیٰ کہ جب میں ان کو دیکھوں گا اور وہ میرے سامنے کیے جائیں گے تو ان کو میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا میں کہوں گا اے میرے رب!یہ میرے اصحاب ہیں یہ میرے اصحاب ہیں۔پھر مجھے کہا جائے گا آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد انہوں نے دین میں کیا کیا نئے کام جاری کیے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۰؛حدیث نمبر٥۸۸۰)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَاحَبَنِي، حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمْ وَرُفِعُوا إِلَيَّ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَلَأَقُولَنَّ : أَيْ رَبِّ، أُصَيْحَابِي أُصَيْحَابِي. فَلَيُقَالَنَّ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5880

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی اور اس میں ستاروں کے برابر برتنوں کے الفاظ کا اضافہ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸۱)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، جَمِيعًا عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْمَعْنَى، وَزَادَ : " آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5881

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا صنعاء اور مدینہ طیبہ کے درمیان ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸۲)

وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى - وَاللَّفْظُ لِعَاصِمٍ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي، كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5882

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مثل سابق روایت کی ہے البتہ ایک سند میں ہے کہ جتنا فاصلہ مدینہ اور عمان کے درمیان ہے اور دوسری سند میں"ما بین لا بتی حوضی"کے الفاظ ہیں(یعنی حوض کے دونوں کناروں کے درمیان) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸۳)

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ح وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُمَا شَكَّا فَقَالَا : أَوْ مِثْلَ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ. وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ : " مَا بَيْنَ لَابَتَيْ حَوْضِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5883

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس پر(حوض)آسمان کے ستاروں کی تعداد سونے اور چاندی کے کوزے دیکھو گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸٤)

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5884

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں اور اس میں یہ ہے کہ وہ تعداد میں آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸۵)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ : " أَوْ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5885

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا سنو میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور اس حوض کے دونوں کناروں کے درمیان صنعاءاور ایلہ کے درمیان کا فاصلہ ہے اور اس کے کوزے ستاروں جتنے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۱؛حدیث نمبر٥۸۸٦)

حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي - رَحِمَهُ اللَّهُ - حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ، وَأَيْلَةَ، كَأَنَّ الْأَبَارِيقَ فِيهِ النُّجُومُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5886

حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خط بھیجا کہ آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ مجھ سے بیان کیجئے انہوں نے جواب میں لکھا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ (قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حوض کے بارے میں احادیث صحیح ہیں اور حوض کے وجود پر ایمان لانا فرض ہے اور یہ اپنے ظاہر پر ہے تاویل کی ضرورت نہیں۔نووی) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۰۲؛حدیث نمبر٥۸۸۷)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : كَتَبْتُ إِلَى جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلَامِي نَافِعٍ : أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيَّ : إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَنَا الْفَرَطُ عَلَى الْحَوْضِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5887

حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے احد(غزوہ احد)کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمی دیکھے جن پر سفید لباس تھا میں نےان کو اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی نہیں دیکھا یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي قِتَالِ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍِ؛جلد٤ص١۸۰۲؛حدیث نمبر٥۸۸۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ - رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابُ بَيَاضٍ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ. يَعْنِي جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5888

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے(غزوہ)احد کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب اور بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جن پر سفید کپڑے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سخت لڑائی لڑ رہے تھے میں نے ان کو اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی نہیں دیکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي قِتَالِ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍِ؛جلد٤ص١۸۰۲؛حدیث نمبر٥۸۸۹)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ يَوْمَ أُحُدٍ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ يَسَارِهِ - رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ، يُقَاتِلَانِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5889

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ حسین اور سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ سب سے زیادہ بہادر بھی تھے۔ایک رات اہل مدینہ خوف زدہ ہوگئے تو کچھ صحابہ کرام اس آواز کی طرف گئے لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو وہاں سے واپس آتے ہوئے ملے اور آپ اس آواز کی طرف ان حضرات سے پہلے تشریف لے گئے تھے آپ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر تھے آپ کی گردن مبارک میں تلوار تھی اور آپ فرماتے تھے تم کو خوف زدہ نہیں کیا گیا تم کو خوف زدہ نہیں کیا گیا۔ آپ نے فرمایا ہم نے اس گھوڑے کو سمندر(کی طرح رواں دواں) پایا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں(حالانکہ)وہ گھوڑا بہت آہستہ چلتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي شَجَاعَةِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَتَقَدُّمِهِ لِلْحَرْبِ؛جلد٤ص١۸۰۲؛حدیث نمبر٥۸۹۰)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، وَهُوَ يَقُولُ : " لَمْ تُرَاعُوا ، لَمْ تُرَاعُوا ". قَالَ : وَجَدْنَاهُ بَحْرًا، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ، قَالَ : وَكَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5890

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بار مدینہ طیبہ میں دہشت پھیل گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ کا گھوڑا ادھار لیا جس کا نام"مندوب"تھا آپ اس پر سوار ہوے آپ نے فرمایا ہم نے کوئی ڈر اور خوف نہیں دیکھا اور بے شک ہم نے اس کو سمندر کی طرح پایا۔ (وہ گھوڑا جس کی رفتار بہت کم تھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے بہت تیز ہو گیا جس طرح حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آپ کی وجہ سے برکات کا نزول ہوا تھا۔۱۲ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي شَجَاعَةِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَتَقَدُّمِهِ لِلْحَرْبِ؛جلد٤ص١۸۰۳؛حدیث نمبر٥۸۹۱)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ، فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ : مَنْدُوبٌ، فَرَكِبَهُ، فَقَالَ : " مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5891

ابن جعفر کی روایت میں"ہمارے گھوڑے"کا ذکر ہے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں ہے اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ‌کی حدیث میں ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي شَجَاعَةِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَتَقَدُّمِهِ لِلْحَرْبِ؛جلد٤ص١۸۰۳؛حدیث نمبر٥۸۹۲)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : فَرَسًا لَنَا. وَلَمْ يَقُلْ : لِأَبِي طَلْحَةَ. وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ أَنَسًا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5892

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیر میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ کی سخاوت ماہ رمضان میں سب سے زیادہ ہوتی تھی حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر سال رمضان شریف میں آپ سے ملاقات کرتے حتیٰ کہ مہینہ مکمل ہو جاتا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو قرآن مجید سناتے تھے۔ اور جب حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تو آپ بارش برسانے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِِ؛جلد٤ص١۸۰۳؛حدیث نمبر٥۸۹۳)

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ سَنَةٍ فِي رَمَضَانَ، حَتَّى يَنْسَلِخَ فَيَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5893

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو اور سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِِ؛جلد٤ص١۸۰٤؛حدیث نمبر٥۸۹٤)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5894

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دس سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اللہ کی قسم!آپ نے کبھی بھی مجھ سے "اف"(کا لفظ)نہیں کہا اور نہ ہی مجھے یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام کیوں کیا یا فلاں کام کیوں نہیں کیا۔ ایک روایت میں ہے یہ ان کاموں میں سے نہیں جن کو خادم کرتا ہے اور قسم کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰٤؛حدیث نمبر٥۸۹۵)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي : أُفًّا. قَطُّ، وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ : لِمَ فَعَلْتَ كَذَا ؟ وَهَلَّا فَعَلْتَ كَذَا. زَادَ أَبُو الرَّبِيعِ : لَيْسَ مِمَّا يَصْنَعُهُ الْخَادِمُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ : وَاللَّهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5895

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٥٨٩٥کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰٤؛حدیث نمبر٥۸۹٦)

وَحَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5896

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کی طرف تشریف لائے تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آپ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ!انس ایک ذہین لڑکا ہے یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں سفر و حضر میں آپ کی خدمت میں رہا اللہ کی قسم اگر میں نے کوئی کام کیا تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں کیا اور اگر کوئی کام نہیں کیا تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰٤؛حدیث نمبر٥۸۹۷)

وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ - وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ - قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ، قَالَ : فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ، وَالْحَضَرِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ : لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا ؟ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ : لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا ؟

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5897

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نو سال خدمت کی تو مجھے علم نہیں کہ کبھی آپ نے مجھ سے فرمایا ہو کہ تم نے اس طرح اس طرح کیوں کیا اور آپ کسی کام کے بارے میں میرا عیب بیان نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰٤؛حدیث نمبر٥۸۹۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ - وَهُوَ : ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ - عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ : لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5898

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق سب لوگوں سے اچھا تھا آپ نے ایک دن مجھے کسی کام کے لیے بھیجا تو میں نے کہا اللہ کی قسم!میں نہیں جاؤں گا حالانکہ میرے دل میں تھا کہ میں جاؤں گا کیونکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا ہے۔میں باہر نکلا حتیٰ کہ کچھ بچوں کے پاس سے گزرا جو بازار میں کھیل رہے تھے اتنے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میری گدی پکڑ لی میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ مسکرا رہے تھے آپ نے فرمایااےاُنَیس!کیا تم وہاں گئے تھے جہاں میں نے تمہیں جانے کے لیے کہا تھا فرماتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ!میں جا رہا ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نو سال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اور مجھے معلوم نہیں کہ کبھی میں نے کوئی کام کیا اور آپ نے فرمایا ہو تم نے اس طرح اس طرح کیوں کیا یا میں نے کوئی کام چھوڑ دیا ہو تو آپ نے فرمایا ہو تم نے اس طرح اس طرح کیوں نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰۵؛حدیث نمبر٥۸۹۹)

حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ - وَهُوَ : ابْنُ عَمَّارٍ - قَالَ : قَالَ إِسْحَاقُ : قَالَ أَنَسٌ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي. قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ : " يَا أُنَيْسُ، أَذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ، أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.قَالَ أَنَسٌ : وَاللَّهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ مَا عَلِمْتُهُ قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ : لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟ أَوْ لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ : هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ؟

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5899

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا؛جلد٤ص١۸۰۵؛حدیث نمبر٥۹۰۰)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5900

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کسی چیز کا سوال کیاگیا توآپ نے نہ نہیں فرمائی (بشرطیکہ وہ چیز آپ کے پاس ہوتی) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰۵؛حدیث نمبر٥۹۰١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ : لَا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5901

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٥٩٠١کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰۵؛حدیث نمبر٥۹۰۲)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : مِثْلَهُ سَوَاءً.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5902

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام لانے پر جو بھی چیز طلب کی جاتی آپ عطاء فرماتے۔فرماتے ہیں ایک شخص حاضر خدمت ہوا تو آپ نے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریاں عطا فرما دیں وہ شخص اپنی قوم کے پاس واپس گیا اور کہا اے میری قوم!اسلام قبول کرو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر دیتے ہیں کہ فاقے کا خدشہ نہیں رہتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰٦؛حدیث نمبر٥۹۰۳)

وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ : فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ : يَا قَوْمِ، أَسْلِمُوا ؛ فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً، لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5903

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان کی بکریوں کا سوال کیا تو آپ نے اسے عطاکردیں وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا اے میری قوم!اسلام قبول کرو اللہ کی قسم!حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر عطا کرتے ہیں کہ محتاجی کا خوف نہیں رہتا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص صرف دنیا کے لیے مسلمان ہوتا تھا پھر اسلام لانے کے بعد اسے اسلام،دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے زیادہ محبوب ہو جاتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰٦؛حدیث نمبر٥۹۰٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ : أَيْ قَوْمِ، أَسْلِمُوا، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ. فَقَالَ أَنَسٌ : إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5904

ابن شہاب فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح میں فتح مکہ کے لیے جہاد کیا پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مسلمانوں کے ساتھ روانہ ہوئے اور حنین میں جنگ کی پس اللہ تعالی نے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ کو ایک سو اونٹ عطا فرمائے پھر مزید ایک سو اونٹ اور پھر ایک سوعطاء کئے۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھ سے حضرت سعد بن مسیب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صفوان نے کہا اللہ کی قسم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیا جو بھی عطاء کیا آپ میری نظروں میں سب سے زیادہ مبغوض تھے(مجھے آپ سے سب سے زیادہ بغض تھا)لیکن آپ مجھے عطاء فرماتے رہے حتیٰ کہ آپ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب بن گئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰٦؛حدیث نمبر٥۹۰۵)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ، فَنَصَرَ اللَّهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ، ثُمَّ مِائَةً، ثُمَّ مِائَةً. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ : وَاللَّهِ، لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5905

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اور اتنا دوں گا اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر اشارہ فرمایا پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا اس کے بعد وہ مال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے منادی کو حکم دیاکہ وہ اعلان کرےکہ جس شخص سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ کیا یا اس کا قرض ہو تو وہ آئے۔ حضرت جابر فرماتے ہیں میں کھڑا ہوا اور کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس بحرین کا مال آیا تو میں اس طرح اس طرح اور اس طرح دوں گا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مٹھی بھری اور فرمایا اس کی گنتی کرو میں نے شمار کیا تو پانچ سو درہم تھے فرمایا اس کی دو مثل مزید لے لو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰٦؛حدیث نمبر٥۹۰٦)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ : قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَسَمِعْتُ أَيْضًا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَزَادَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا ". وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا، فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ، فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : مَنْ كَانَتْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِ. فَقُمْتُ فَقُلْتُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا ". فَحَثَى أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ لِي : عُدَّهَا. فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ، فَقَالَ : خُذْ مِثْلَيْهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5906

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس علاء بن حضرمی کی طرف سے مال آیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس شخص کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض ہو یا آپ نے کوئی وعدہ فرمایا ہو تو وہ ہمارے پاس آئےاس کے بعد حدیث نمبر ٥٩٠٦ کے مثل مروی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا وَكَثْرَةُ عَطَائِهِ؛جلد٤ص١۸۰۷؛حدیث نمبر٥۹۰۷)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ أَبَا بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا. بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5907

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات میرے ہاں بچہ پیدا ہوا جس کا نام میں نے اپنے باپ(جد اعلیٰ)حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا ہے پھر آپ نے اس بچے کو ابوسیف لوہار کی بیوی ام سیف کو دے دیا ایک دن وہاں آپ تشریف لے گئے میں بھی آپ کے ساتھ تھا ہم ابو سیف کے پاس پہنچے اور وہ بھٹی پھونک رہا تھا اور گھر دھوئیں سے بھر گیا تھا تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اس کے پاس جلدی گیا اور کہااےابو سیف!رک جاؤ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلم تشریف لائے ہیں چنانچہ وہ رک گیااور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ طلب کیا اور اسے اپنے ساتھ چمٹایا اور جو کچھ اللہ نے چاہا آپ نے فرمایا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بچے کو دیکھا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جان دے رہا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے آپ نے فرمایا آنکھیں آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور ہم وہی بات کہتے ہیں جس پر ہمارا رب راضی ہو اےابراہیم!اللہ کی قسم ہم تمہاری وجہ سے غمگین ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَ؛؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں اور گھر والوں پر شفقت اور آپ کی تواضع؛ جلد٤ص١۸۰٧؛حدیث نمبر٥۹۰۸)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ - وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وُلِدَ لِي اللَّيْلَةَ غُلَامٌ، فَسَمَّيْتُهُ بِاسْمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ". ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ امْرَأَةِ قَيْنٍ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو سَيْفٍ، فَانْطَلَقَ يَأْتِيهِ وَاتَّبَعْتُهُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى أَبِي سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ بِكِيرِهِ، قَدِ امْتَلَأَ الْبَيْتُ دُخَانًا، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا سَيْفٍ، أَمْسِكْ ؛ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَمْسَكَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ، فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، فَقَالَ أَنَسٌ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، وَاللَّهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5908

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو اپنے عیال پر شفیق نہیں دیکھا حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ کے بالائی حصہ میں دودھ پیتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے آپ گھر میں داخل ہوتے حالانکہ وہاں دھواں ہوتا تھاکیونکہ اس دایہ کا خاوند لوہار تھا آپ بچے کو اٹھاتے،بوسہ دیتے اور پھر واپس تشریف لے آتے۔حضرت عمرو فرماتے ہیں جب حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے بیشک ابراہیم میرا بیٹا ہے اور وہ دودھ پینے کے دنوں میں فوت ہو گیا اور اس کے لئے دو دودھ پلانے والیاں ہیں جو جنت میں ان کو رضاعت کی مدت مکمل ہونے تک دودھ پلائیں گی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۸؛حدیث نمبر٥۹۰۹)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضَعًا لَهُ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ، وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا ، فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ، ثُمَّ يَرْجِعُ، قَالَ عَمْرٌو : فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي، وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ، وَإِنَّ لَهُ لَظِئْرَيْنِ تُكَمِّلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5909

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کچھ دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے پوچھا کیا آپ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟جواب دیا ہاں انہوں نے کہا لیکن ہم تو قسم بخدا!( بچوں کو بوسہ نہیں دیتے) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ تعالی نے تم سے رحمت نکال لی ہے تو میں اس کا مالک نہیں ہوں۔ ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ تمہارے دل سے رحمت نکال لی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۸؛حدیث نمبر٥۹۱۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا : أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ. فَقَالُوا : لَكِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَمْلِكُ إِنْ كَانَ اللَّهُ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ ؟ " وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : " مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5910

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت اقرع بن حابس نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن کو بوسہ دے رہے ہیں تو انہوں نے کہا میرے دس بیٹے ہیں میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بوسہ نہیں دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۸؛حدیث نمبر٥۹۱۱)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ، فَقَالَ : إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ وَاحِدًا مِنْهُمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5911

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٩١١ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۹؛حدیث نمبر٥۹۱۲)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5912

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بندوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالی اس پر رحم نہیں کرتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۹؛حدیث نمبر٥۹۱۳)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، وَأَبِي ظَبْيَانَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَا يَرْحَمِ النَّاسَ ؛ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5913

حضرت جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٥٩١٣ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ رَحْمَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَِ؛جلد٤ص١۸۰۹؛حدیث نمبر٥۹۱٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5914

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہےفرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پردے میں رہنے والی کنواری لڑکی سے زیادہ حیا کرتے تھے جب آپ کو کوئی چیز نا پسند ہوتی تو ہم آپ کے چہرے سے جان لیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَثْرَةِ حَيَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت حیا کا بیان؛جلد٤ص١۸۰۹؛حدیث نمبر٥۹۱۵)

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5915

حضرت مسروق کہتے ہیں جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ میں آئے تو ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہ تھے اور نہ تکلفا فحش گوئی کرتے۔ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں حضرت عثمان بن شبیہ نے کہا جب وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ آے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَثْرَةِ حَيَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۱۰؛حدیث نمبر٥۹۱٦)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا، وَلَا مُتَفَحِّشًا. وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا ". قَالَ عُثْمَانُ : حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَى الْكُوفَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5916

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَثْرَةِ حَيَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۱۰؛حدیث نمبر٥۹۱۷)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ - يَعْنِي الْأَحْمَرَ - كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5917

حضرت سماک بن حرب کہتے ہیں میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت کرتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں بے شمار مرتبہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس مصلیٰ پر صبح کی نماز پڑھتے تھے سورج طلوع ہونے تک وہاں سے نہیں اٹھتے تھے جب سورج طلوع ہوتا تو آپ اٹھ جاتے اور صحابہ کرام باتوں میں مشغول رہتے تھے وہ دور جاہلیت کے کاموں کا تذکرہ کر کے ہنستے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیتے۔(مقصد یہ تھا کہ صحابہ کرام کی دل جوئی ہوتی رہے آپ ان کے ساتھ گھل مل جاتے تھے) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَبَسُّمِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحُسْنِ عِشْرَتِهِ؛ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور حسن معاشرت؛جلد٤ص١۸۱۰؛حدیث نمبر٥۹۱٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ كَثِيرًا، كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5918

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ہمراہ انجشہ نامی ایک لڑکا گا رہا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انجشہ آہستہ چلو جیسے شیشے کو لے جا رہے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں پر رحمت؛جلد٤ص١۸۱۱؛حدیث نمبر٥۹۱۹)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَغُلَامٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ، يَحْدُو، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5919

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛جلد٤ص١۸۱۱؛حدیث نمبر٥۹۲۰)

وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِنَحْوِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5920

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے اس وقت انجشہ نامی غلام اونٹ ہانکنے والا ہانک رہا تھا آپ نے فرمایا اے انجشہ! اپنے اونٹوں کو آہستہ ہانکو جس طرح شیشے کو لے جا رہے ہو۔ابو قلابہ کہتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کلمہ فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی ایک ایسا کلمہ کہے تو تم اس کو کھیل سمجھو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛جلد٤ص١۸۱۱؛حدیث نمبر٥۹۲۱)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى أَزْوَاجِهِ، وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ، يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ". قَالَ : قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ، لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5921

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے ساتھ تھیں اور ایک اونٹ ہانکنے والا ان کے اونٹوں کو ہانک رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انجشہ!شیشوں کو آہستہ لے کر چلو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲۲)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْ أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5922

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خوش الحان حدی خوان تھا(قافلوں کے ساتھ گانے والا حدی خوان کہلاتا ہے)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اے انجشہ!آہستہ چلو شیشوں کو توڑ نہ دینا یعنی کمزور عورتوں کو تکلیف نہ دینا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲۳)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُوَيْدًا يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ ". يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5923

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت ذکر کی ہے اس میں حدی خوان کی خوش الحانی کا ذکر نہیں۔ (آج اسلام کے دامن سے وابستگی کا دعوی کرنے والے مرد حضرات پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اسلام میں عورتوں کے حقوق نہیں دیے جاتے ہیں یہ واقعات پڑھۓ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا مطالعہ کرے جس قدر عورتوں کو عزت و احترام اور حقوق اسلام نے دیے ہیں دوسری جگہ اس کا تصور بھی نہیں) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السَّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲٤)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ : حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5924

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو مدینہ طیبہ کے خدام پانی سے بھرے ہوئے برتن لے کر آتے آپ ہر برتن میں اپنا دست مبارک ڈبوتے بعض اوقات وہ سخت سرد صبح میں آتے تو آپ اپنا ہاتھ ڈبو دیتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ قُرْبِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ النَّاسِ وَتَبَرُّكِهِمْ بِهِ؛ترجمہ؛صحابہ کرام کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب اور تبرک حاصل کرنا اور آپ کا تواضع کرنا؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲٥)

حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ - يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا، فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5925

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حجام آپ کا سرمبارک مونڈ رہاہے اور صحابہ کرام آپ کے گرد گھوم رہے ہیں وہ چاہتے تھے کہ آپ کا کوئی بال زمین پر گرنے کی بجائے ان کے ہاتھوں میں گرے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ قُرْبِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ النَّاسِ وَتَبَرُّكِهِمْ بِهِ؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ، وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5926

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ایک عورت جس کی عقل میں کچھ فتور تھا کہنے لگی یا رسول اللہ!مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ آپ نے فرمایا اے فلاں کی ماں!تم جس گلی میں چاہو انتظار کرو میں تمہاری حاجت کو پورا کروں گا پھر آپ نے راستے میں اس سے بات چیت کی اور اس کی حاجت کو پورا کر دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ قُرْبِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ النَّاسِ وَتَبَرُّكِهِمْ بِهِ؛جلد٤ص١۸۱۲؛حدیث نمبر٥۹۲۷)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً. فَقَالَ : " يَا أُمَّ فُلَانٍ، انْظُرِي أَيَّ السِّكَكِ شِئْتِ حَتَّى أَقْضِيَ لَكِ حَاجَتَكِ ". فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ حَتَّى فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5927

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو باتوں میں سے ایک کو اپنانے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان بات کو اختیار کیا اگراس میں گناہ نہ ہوتا اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے۔ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا مگر یہ کہ اللہ تعالی کی حدود کی خلاف ورزی کی جاتی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٣؛حدیث نمبر٥۹۲۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا ؛ مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5928

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی تین سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٣؛حدیث نمبر٥۹۲۹)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، فِي رِوَايَةِ فُضَيْلٍ : ابْنِ شِهَابٍ، وَفِي رِوَايَةِ جَرِيرٍ : مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5929

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا اور ان میں سے ایک دوسری کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوتی تو آپ اس آسان کو اختیار کرتے بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور ہونے والے ہوتے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٣؛حدیث نمبر٥۹۳۰)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5930

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٤؛حدیث نمبر٥۹۳۱)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَى قَوْلِهِ : أَيْسَرَهُمَا، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5931

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کسی چیز یا کسی عورت یا کسی خادم کو کبھی نہیں مارا البتہ اللہ کے راستے میں جہاد کے دوران لڑائی فرمائی اور جب بھی آپ کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو آپ نے اس کا انتقام نہیں لیا مگر یہ کہ اللہ تعالی کی حدود کی خلاف ورزی کی جاتی تو آپ اس کا بدلہ لیتے۔ (آج معاملہ اس کے خلاف ہے لوگ اپنی ذات کے لیے بدلہ لیتے ہیں لیکن شریعت کی بے حرمتی پر ٹس سے مس نہیں ہوتے اللہ تعالی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٤؛حدیث نمبر٥۹۳۲)

حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا خَادِمًا، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ، إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5932

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مُبَاعَدَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْآثَامِ وَاخْتِيَارِهِ مِنَ الْمُبَاحِ، أَسْهَلَهُ وَانْتِقَامِهِ لِلَّهِ عِنْدَ انْتِهَاكِ حُرُمَاتِهِ؛جلد٤ص١۸۱٤؛حدیث نمبر٥۹۳۳)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَوَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5933

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا گیا سامنے کچھ بچے آئے آپ نے ان میں سے ہر ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرا فرماتے ہیں میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا تو میں نے آپ کے دست اقدس کی ٹھنڈک یا (فرمایا)خوشبو محسوس کی جیسے آپ نے عطار کے ڈبے سے ہاتھ باہر نکالا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِينِ مَسِّهِ وَالتَّبَرُّكِ بِمَسْحِهِ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک کی ملائمت اور خوشبو؛جلد٤ص١۸۱٤؛حدیث نمبر٥۹۳٤)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ - وَهُوَ ابْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ - عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْأُولَى، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَهْلِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا، قَالَ : وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي. قَالَ : فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بَرْدًا أَوْ رِيحًا كَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5934

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(کے جسم اقدس)کی خوشبو میں سے کسطوری،عنبر اور کسی دوسرے چیز کی خوشبو میں نے نہیں سونگھی اور میں نے کسی دیباج اور ریشم کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اقدس سے زیادہ ملائم نہیں پایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِينِ مَسِّهِ وَالتَّبَرُّكِ بِمَسْحِهِ؛جلد٤ص١۸۱٤؛حدیث نمبر٥۹۳۵)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا هَاشِمٌ - يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ - عَنْ ثَابِتٍ قَالَ أَنَسٌ : مَا شَمَمْتُ عَنْبَرًا قَطُّ وَلَا مِسْكًا وَلَا شَيْئًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5935

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک سفید چمکدار تھا اور آپ کے پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے تھے اور جب آپ چلتے تو جھک کر چلتے اور میں نے کسی دیباج اور ریشم کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے زیادہ ملائم نہیں پایا اور میں نے آپ کے جسم مبارک کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار کستوری اور عنبر کو بھی نہیں پایا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِينِ مَسِّهِ وَالتَّبَرُّكِ بِمَسْحِهِ؛جلد٤ص١۸۱۵؛حدیث نمبر٥۹۳٦)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ، كَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ ، وَلَا مَسِسْتُ دِيبَاجَةً وَلَا حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5936

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو دوپہر کے وقت آرام فرمایا۔آپ کو پسینہ آیا تو میری ماں ایک شیشی لے کر آئیں اور آپ کا پسینہ مبارک پونچھ کر اس میں ڈالنے لگیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا اے ام سلیم!یہ کیا کر رہی ہو میں نے عرض کیا یہ آپ کا پسینہ ہے ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے یہ سب سے اچھی خوشبو ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّبَرُّكِ بِهِ؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ مبارکہ کی خوشبو اور اس سے برکت حاصل کرنا؛جلد٤ص١۸۱۵؛حدیث نمبر٥۹۳۷)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ - يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ - عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا فَعَرِقَ، وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ فَجَعَلَتْ تَسْلِتُ الْعَرَقَ فِيهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ ؟ " قَالَتْ : هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5937

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے اور ان کے بستر پر سو جاتے اور وہ نہیں ہوتی تھیں ایک دن آپ تشریف لائے اور ان کے بستر پر سو گئے ان کو بتایا گیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں آرام فرما ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ام سلیم آئیں اور آپ کو پسینہ آیا ہوا تھا وہ پسینہ بستر پر چمڑے کے ایک ٹکڑے پر جمع ہوگیا حضرت ام سلیم نے اپنا ڈبہ کھولا اور پسینہ پوچھ پوچھ کر اپنی اپنی شیشیوں میں بھرنے لگیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھے اور فرمایا اے ام سلیم!کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے درست کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّبَرُّكِ بِهِ؛جلد٤ص١۸۱۵؛حدیث نمبر٥۹۳۸)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ - عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِيهِ، قَالَ : فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا، فَأُتِيَتْ فَقِيلَ لَهَا : هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ فِي بَيْتِكِ عَلَى فِرَاشِكِ، قَالَ : فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ، وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ، فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا ، فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا، فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ " فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا. قَالَ : " أَصَبْتِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5938

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لاتے اور دوپہر کے وقت آرام فرماتے۔ وہ چمڑے کا ایک ٹکڑا بچھا دیتی تھیں اور آپ کو پسینہ بہت آتا تھا چنانچہ آپ کا پسینہ جمع ہو جاتا تو اس کو خوشبو میں ملاتیں اور شیشیوں میں بھر لیتیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم!یہ کیا ہے؟انہوں نے جواب دیا یہ آپ کا پسینہ ہے جسے میں اپنی خوشبو میں ملاتی ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ طِيبِ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّبَرُّكِ بِهِ؛جلد٤ص١۸۱٦؛حدیث نمبر٥۹۳۹)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا، فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ، فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ وَالْقَوَارِيرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا ؟ " قَالَتْ : عَرَقُكَ أَدُوفُ بِهِ طِيبِي.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5939

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں سخت سردی کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی‌پھر آپ کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہنے لگتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَرْدِ وَحِينَ يَأْتِيهِ الْوَحْيُِ؛جلد٤ص١۸۱٦؛حدیث نمبر٥۹٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : إِنْ كَانَ لَيُنْزَلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ، ثُمَّ تَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5940

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حارث بن ہشام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ پر وحی کس طرح آتی ہے آپ نے فرمایا کبھی وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے اور وہ مجھ پر زیادہ سخت ہوتی ہے‌۔ پھر وحی منقطع ہو جاتی ہےحالانکہ میں اس کو یاد کر چکا ہوتا ہوں کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں آتا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَرْدِ وَحِينَ يَأْتِيهِ الْوَحْيُِ؛جلد٤ص١۸۱٦؛حدیث نمبر٥۹٤۱)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ بِشْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ : " أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، ثُمَّ يَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُهُ، وَأَحْيَانًا مَلَكٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ، فَأَعِي مَا يَقُولُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5941

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ پر کرب کی کیفیت ہوتی اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَرْدِ وَحِينَ يَأْتِيهِ الْوَحْيُِ؛جلد٤ص١۸۱۷؛حدیث نمبر٥۹٤۲)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ كُرِبَ لِذَلِكَ، وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5942

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ اپنے سر کو جھکا لیتے اور آپ کے صحابہ کرام بھی اپنے سروں کو جھکا لیتے اور جب وحی کا سلسلہ منقطع ہو جاتا تو آپ اپنا سر اقدس اٹھا لیتے۔ (وحی مختلف صورتوں میں نازل ہوتی تھی کبھی گھنٹی کی آواز کی طرح کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا اسی طرح خواب کی صورت میں بھی وحی آتی تھی حدیث میں خواب کا ذکر اس لئے نہیں ہوا کہ سائل کا مقصود وحی تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھی اور عام لوگوں سے مخفی تھی جب تک آپ نہ بتائیں معلوم نہیں ہو سکتی تھی خواب کا معاملہ معروف تھا۔نووی) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عَرَقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَرْدِ وَحِينَ يَأْتِيهِ الْوَحْيُِ؛جلد٤ص١۸۱۷؛حدیث نمبر٥۹٤۳)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ نَكَسَ رَأْسَهُ، وَنَكَسَ أَصْحَابُهُ رُءُوسَهُمْ، فَلَمَّا أُتْلِيَ عَنْهُ رَفَعَ رَأْسَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5943

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو لٹکا ہوا چھوڑتے تھے اور مشرکین اپنے بالوں کی مانگ نکالتے تھے اور جن کاموں کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خاص حکم نہ دیا ہوتاآپ ان کاموں میں اللہ کی کتاب کی موافقت فرماتے تھے۔چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع شروع میں اپنے بالوں کو لٹکا ہوا چھوڑتے پھر آپ نے مانگ نکالنا شروع کر دی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي سَدْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَهُ وَفَرْقِهِ؛جلد٤ص١۸۱۷؛حدیث نمبر٥۹٤٤)

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ مَنْصُورٌ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ - يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ، فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5944

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي سَدْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرَهُ وَفَرْقِهِ؛جلد٤ص١۸۱۸؛حدیث نمبر٥۹٤۵)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5945

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قد مبارک درمیانہ تھا دونوں کندھوں کے درمیان زیادہ فاصلہ تھا(یعنی سینہ مبارک چوڑا تھا)آپ کے بال مبارک لمبے تھے جو کانوں کی لو تک آتے تھے آپ پر دو سرخ(دھاری دار)چادروں کا جوڑا تھا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًاِ؛جلد٤ص١۸۱۸؛حدیث نمبر٥۹٤٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَرْبُوعًا، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، عَظِيمَ الْجُمَّةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5946

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ چادروں کا جوڑا پہنے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین نہیں دیکھا آپ کے بال مبارک کندھوں تک تھے اور دونوں کندھوں کےدرمیان زیادہ فاصلہ تھا آپ کا قد مبارک نہ بہت لمبا تھا اور نہ ہی بہت پست۔ابوکریب نے"شعر"کی جگہ "لہ شعر"روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًاِ؛جلد٤ص١۸۱۸؛حدیث نمبر٥۹٤۷)

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ. قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : لَهُ شَعَرٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5947

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سب سے زیادہ خوبصورت تھا اور آپ کا اخلاق بھی سب سے اچھا تھا آپ کا قد مبارک نہ بہت لمبا تھا اور نہ ہی بہت چھوٹا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًاِ؛جلد٤ص١۸۱۹؛حدیث نمبر٥۹٤۸)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَحْسَنَهُمْ خُلُقًا، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الذَّاهِبِ، وَلَا بِالْقَصِيرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5948

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کیسے تھے؟انہوں نے فرمایا آپ کے بال مبارک درمیانے تھے نہ بہت گھنگھریالے تھے اور نہ ہی بالکل سیدھے۔آپ کے بال مبارک کانوں اور کاندھوں کے درمیان تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ صِفَةِ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۱۹؛حدیث نمبر٥۹٤۹)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : كَيْفَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : كَانَ شَعَرًا رَجِلًا، لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلَا السَّبْطِ، بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5949

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کاندھوں تک تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ صِفَةِ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۱۹؛حدیث نمبر٥۹۵۰)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5950

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کانوں کے نصف تک تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ صِفَةِ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۱۹؛حدیث نمبر٥۹۵۱)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5951

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فراخ دہن بڑی آنکھوں والے تھے آپ کے ایڑیوں پر گوشت کم تھا۔(حضرت شعبہ فرماتے ہیں)میں نے سماک سے پوچھا"ضلیع الفم" کا کیا مطلب ہے انہوں نے کہا منہ کا کشادہ ہونا،میں نے پوچھا"اشکل العین" کا کیا مطلب ہے انہوں نے کہا آنکھ کا بڑے شگاف والا ہونا،میں نے پوچھا"منھوس العقب"کاکیا مطلب ہے؟انہوں نے فرمایا ایڑیوں پر گوشت کا کم ہونا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ فَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَيْنَيْهِ وَعَقِبَيْهِ؛جلد٤ص١۸۲۰؛حدیث نمبر٥۹۵۲)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ ، أَشْكَلَ الْعَيْنِ، مَنْهُوسَ الْعَقِبَيْنِ. قَالَ : قُلْتُ لِسِمَاكٍ : مَا ضَلِيعُ الْفَمِ ؟ قَالَ : عَظِيمُ الْفَمِ. قَالَ : قُلْتُ : مَا أَشْكَلُ الْعَيْنِ ؟ قَالَ : طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ. قَالَ : قُلْتُ : مَا مَنْهُوسُ الْعَقِبِ ؟ قَالَ : قَلِيلُ لَحْمِ الْعَقِبِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5952

حضرت جریر کہتے ہیں میں نے ابوالطفیل سے پوچھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں آپ کا رنگ سرخ سفید تھا ملیح تھا(نمکین قسم کا) مسلم بن حجاج کہتے ہیں حضرت ابوالطفیل رضی اللہ تعالی عنہ ایک سو ہجری میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے آخر میں فوت ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ مَلِيحَ الْوَجْهِ؛جلد٤ص١۸۲۰؛حدیث نمبر٥۹۵۳)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَرَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ، كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحَ الْوَجْهِ. قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ : مَاتَ أَبُو الطُّفَيْلِ سَنَةَ مِائَةٍ، وَكَانَ آخِرَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5953

حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اب زمین پر میرے علاوہ کوئی ایسا شخص موجود نہیں جس نے آپ کو دیکھا ہو راوی فرماتے ہیں میں نے پوچھا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسا دیکھا فرمایا سفید ملیح اور درمیانے قد والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ مَلِيحَ الْوَجْهِ؛جلد٤ص١۸۲۰؛حدیث نمبر٥۹۵٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ رَجُلٌ رَآهُ غَيْرِي، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : فَكَيْفَ رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ : كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقَصَّدًا .

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5954

حضرت ابن سیرین کہتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال رنگے تھے انہوں نے فرمایا آپ کے سفید بال کم تھے جبکہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما مہندی اور سیاہ رنگ ملاکر رنگتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۱؛حدیث نمبر٥۹۵۵)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ ، قَالَ عَمْرٌو : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ رَأَى مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا - قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : كَأَنَّهُ يُقَلِّلُهُ - وَقَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5955

حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں پر خضاب لگایا تھا انہوں نے فرمایا آپ خضاب تک نہیں پہنچے تھے آپ کی داڑھی مبارک میں چند بال سفید تھے۔ ابن سیرین فرماتے ہیں میں نے ان سے پوچھا کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نےبال رنگے تھے فرمایا مہندی اور سیاہ رنگ ملا کر رنگے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کا بیان؛جلد٤ص١۸۲۱؛حدیث نمبر٥۹۵٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَضَبَ ؟ فَقَالَ : لَمْ يَبْلُغِ الْخِضَابَ، كَانَ فِي لِحْيَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ. قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَخْضِبُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : نَعَمْ، بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5956

حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا تھا انہوں نے جواب دیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال بہت کم دکھائی دیتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۱؛حدیث نمبر٥۹۵۷)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِنَّهُ لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا قَلِيلًا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5957

حضرت ثابت فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اگر میں آپ کے سر نور کے سفید بال گننا چاہوں تو گن سکتا ہوں وہ فرماتے ہیں آپ نے اپنے بالوں کو رنگا نہیں تھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مہندی اور سیاہ رنگ کے خضاب لگاتے تھے جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خالص مہندی سے رنگتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۱؛حدیث نمبر٥۹۵۸)

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأْسِهِ فَعَلْتُ. وَقَالَ : لَمْ يَخْتَضِبْ، وَقَدِ اخْتَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، وَاخْتَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ بَحْتًا .

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5958

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سر اور داڑھی کے سفید بالوں کو نوچنا مکروہ ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں لگایا آپ کے نچلے ہونٹ کے نیچے کنپٹیوں اور سر میں چند بال سفید تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۱؛حدیث نمبر٥۹۵۹)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : يُكْرَهُ أَنْ يَنْتِفَ الرَّجُلُ الشَّعْرَةَ الْبَيْضَاءَ مِنْ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ قَالَ : وَلَمْ يَخْتَضِبْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي عَنْفَقَتِهِ ، وَفِي الصُّدْغَيْنِ، وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ .

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5959

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦٠)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5960

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے ان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں پوچھا گیاتو انہوں نے فرمایا اللہ تعالی نے آپ کے بالوں کو سفیدی کے ساتھ متغیر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦۱)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، سَمِعَ أَبَا إِيَاسٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : مَا شَانَهُ اللَّهُ بِبَيْضَاءَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5961

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے سفید بال دیکھے پھر راوی نے نچلے ہونٹ کے نیچے والے بالوں پر اپنی انگلی رکھ کر بتایا۔ ان سے پوچھا گیا کہ تم ان دنوں میں کیسے تھے انہوں نے کہا میں تیر میں پیکان اور پر لگاتا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦۲)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ مِنْهُ بَيْضَاءَ. وَوَضَعَ زُهَيْرٌ بَعْضَ أَصَابِعِهِ عَلَى عَنْفَقَتِهِ ، قِيلَ لَهُ : مِثْلُ مَنْ أَنْتَ يَوْمَئِذٍ ؟ فَقَالَ : أَبْرِي النَّبْلَ وَأَرِيشُهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5962

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کا رنگ سرخ سفید تھا اور آپ کے کچھ بال سفید ہوگئے تھے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ آپ کے مشابہ تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦۳)

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ قَدْ شَابَ، كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5963

ایک اور سند سے حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے اور اس میں آپ کے سفید رنگ اور سفید بالوں کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦٤)

وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، بِهَذَا، وَلَمْ يَقُولُوا : أَبْيَضَ قَدْ شَابَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5964

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا جب آپ سر میں تیل لگاتے تو سفید بال نظر نہیں آتے تھے اور جب تیل نہیں لگاتے تھے تو سفید بال نظر آتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۲؛حدیث نمبر٥۹٦۵)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ سُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : كَانَ إِذَا دَهَنَ رَأْسَهُ لَمْ يُرَ مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِذَا لَمْ يَدْهُنْ رُئِيَ مِنْهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5965

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اگلے بال اور داڑھی کے(کچھ)بال سفید ہوگئے تھے جب آپ تیل لگاتے تو وہ سفیدی معلوم نہیں ہوتی تھی اور جب آپ کے بال مبارک بکھرے ہوتے تو سفیدی معلوم ہوتی۔ آپ کی داڑھی مبارک بہت گھنی تھی ایک شخص نے کہا کیا آپ کا چہرہ انور تلوار کی طرح تھا؟انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ سورج اور چاند کی طرح اور گول تھا اور میں نے مہر نبوت آپ کے کاندھے مبارک کے پاس کبوتری کے انڈے کی مثل دیکھی جس کا رنگ جسم کے رنگ کے مشابہ تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ شَيْبِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۳؛حدیث نمبر٥۹٦٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ، وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ، وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ. فَقَالَ رَجُلٌ : وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ ؟ قَالَ : لَا، بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَكَانَ مُسْتَدِيرًا، وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ، يُشْبِهُ جَسَدَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5966

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر(نبوت)دیکھی گویا کہ وہ کبوتری کا انڈا ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ، وَصِفَتِهِ، وَمَحَلِّهِ مِنْ جَسَدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۳؛حدیث نمبر٥۹٦٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ : رَأَيْتُ خَاتَمًا فِي ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّهُ بَيْضَةُ حَمَامٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5967

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ، وَصِفَتِهِ، وَمَحَلِّهِ مِنْ جَسَدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۳؛حدیث نمبر٥۹٦۸)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5968

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری خالہ مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے اس بھانجے کے سر میں درد ہے آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی پھر آپ نے وضو فرمایا اور میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پیا پھر آپ کی پشت مبارک کے پیچھے کھڑا ہوا تو میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مسہری کی گھنڈی کی طرح مہر نبوت دیکھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ، وَصِفَتِهِ، وَمَحَلِّهِ مِنْ جَسَدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۳؛حدیث نمبر٥۹٦۹)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنِ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ : ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ. فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ .

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5969

حضرت عبداللہ بن سرجِس بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا یا(فرمایا)ثریدکھایا، راوی فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ سے پوچھا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لئے دعاے مغفرت کی تھی؟انہوں نے فرمایا جی ہاں اور تمہارے لئے بھی۔پھر یہ آیت پڑھی۔ (ترجمہ) اپنے لئے استغفار کیجئے اور مؤمن مردوں اور عورتوں کے لئے طلب مغفرت کیجئے۔ حضرت عبداللہ بن سرجِس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں آپ کے پیچھے گیا اور آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی وہ آپ کے بائیں کندھے کی چپٹی ہڈی کے پاس مسوں کی تل کی طرح تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ إِثْبَاتِ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ، وَصِفَتِهِ، وَمَحَلِّهِ مِنْ جَسَدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۳؛حدیث نمبر٥۹۷۰)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - ح وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ح وَحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلْتُ مَعَهُ خُبْزًا وَلَحْمًا. أَوْ قَالَ : ثَرِيدًا. قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : أَسْتَغْفَرَ لَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ، وَلَكَ. ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : { وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ }، قَالَ : ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهُ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، عِنْدَ نَاغِضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى، جُمْعًا، عَلَيْهِ خِيلَانٌ كَأَمْثَالِ الثَّآلِيلِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5970

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قد مبارک نہ تو بہت لمبا تھا اور نہ ہی چھوٹا تھا۔اور آپ کا رنگ نہ تو بالکل سفید تھا اور نہ ہی بالکل گندمی اور آپ کے بال مبارک نہ تو سخت گھنگھریالے تھے اور نہ ہی بالکل سیدھے اللہ تعالی نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا پس آپ مکہ مکرمہ میں دس سال(کسر کو چھوڑ دیا ورنہ تیرا سال ہیں) اور مدینہ طیبہ میں دس سال رہے ہے اور آپ کے سر انور اور داڑھی مبارک میں صرف بیس بال سفید تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَبْعَثِهِ، وَسِنِّهِ؛جلد٤ص١۸۲٤؛حدیث نمبر٥۹۷۱)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمِ، وَلَا بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5971

یہ حدیث ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ کا رنگ مبارک سفید چمکدار تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَبْعَثِهِ، وَسِنِّهِ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷۲)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - ح وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ رَبِيعَةَ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِمَا : كَانَ أَزْهَرَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5972

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کی عمر مبارک تریسٹھ سال تھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وصال بھی تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ سِنُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُبِضَ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷۳)

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زَائِدَةَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَأَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَعُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5973

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ سِنُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُبِضَ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷٤)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً. وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5974

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ سِنُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُبِضَ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷۵)

وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا، مِثْلَ حَدِيثِ عُقَيْلٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5975

حضرات عمرو فرماتے ہیں میں نے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں کتنا عرصہ قیام فرمایا؟انہوں نے فرمایا دس سال(یعنی نبوت کے بعد اور اگرچہ تحقیق یہ ہے کہ ١٣ سال قیام فرمایا لیکن یہاں دس کا ذکر ہے جیسا کہ خود اس کے بعد ١٣ سال کا ذکر موجود ہے)وہ کہتے ہیں میں نے کہا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ تیرہ سال فرماتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷٦)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ : قُلْتُ لِعُرْوَةَ : كَمْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ؟ قَالَ : عَشْرًا. قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : ثَلَاثَ عَشْرَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5976

حضرت عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں کتنے سال رہے؟انہوں نے کہا دس سال میں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ دس سال سے اوپر بتاتے ہیں حضرت عروہ نے کہا اللہ تعالی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مغفرت کرے انہوں نے یہ عمر شاعر کے قول سے اخذ کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۵؛حدیث نمبر٥۹۷۷)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ : قُلْتُ لِعُرْوَةَ : كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ؟ قَالَ : عَشْرًا. قُلْتُ : فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : بِضْعَ عَشْرَةَ. قَالَ : فَغَفَّرَهُ ، وَقَالَ : إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5977

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تیرہ سال رہے اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲٦؛حدیث نمبر٥۹۷۸)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5978

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تیرہ سال رہے آپ پر وحی کی جاتی تھی اور مدینہ طیبہ میں دس سال رہے اور وصال کے وقت آپ کی عمر تریسٹھ سال تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲٦؛حدیث نمبر٥۹۷۹)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5979

حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن عتبہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا وہ لوگ آپس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے بعض حضرات نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں بڑے تھےحضرت عبداللہ نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وصال بھی تریسٹھ سال کی عمر میں ہوااور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شہادت کے وقت تریسٹھ سال کے تھے۔ راوی فرماتے ہیں ان میں سے ایک شخص جس کا نام عامر بن سعد تھا اس نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کا ذکر کیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ کا وصال بھی تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو آپ کی عمر بھی تریسٹھ سال کی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲٦؛حدیث نمبر٥۹۸۰)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، فَذَكَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَكْبَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ. قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يُقَالُ لَهُ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَذَكَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5980

حضرت جریر کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ میں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کا وصال بھی اسی عمر میں ہوا اور اب میں(حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ)بھی تریسٹھ سال کا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸۱)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ، فَقَالَ : مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5981

حضرت عمار فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی عمر کتنی تھی۔ انہوں نے فرمایا مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ آپ کی قوم سے ہونے کے باوجود تم جیسے شخص سے یہ بات مخفی ہوگی۔ میں نے کہا میں نے لوگوں سے سوال کیا تھا ان کا اس میں اختلاف تھا تو میں نے یہ بات پسند کی اس بارے میں آپ کی رائے معلوم کریں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا اچھا تمہیں حساب آتا ہے؟میں نے کہا جی ہاں فرمایا یاد رکھو چالیس سال کی عمر میں آپ کو مبعوث کیا گیا پندرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے کبھی امن کی صورت ہوتی اور کبھی خوف طاری ہوجاتا۔اور دس سال ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸۲)

وَحَدَّثَنِي ابْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ : كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ ؟ فَقَالَ : مَا كُنْتُ أَحْسِبُ مِثْلَكَ مِنْ قَوْمِهِ يَخْفَى عَلَيْهِ ذَاكَ. قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ النَّاسَ فَاخْتَلَفُوا عَلَيَّ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ. قَالَ : أَتَحْسُبُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : أَمْسِكْ، أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا، خَمْسَ عَشْرَةَ بِمَكَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ، وَعَشْرَ مِنْ مُهَاجَرِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5982

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸۳)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5983

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا اس وقت آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸٤)

وَحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5984

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸۵)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5985

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں پندرہ سال رہے اور آپ سات سال تک آواز سنتے تھے اور سات سال تک روشنی دیکھتے تھے اور آٹھ سال تک آپ پر وحی نازل ہوتی رہی اور آپ مدینہ طیبہ میں دس سال رہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ؛جلد٤ص١۸۲۷؛حدیث نمبر٥۹۸٦)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ؛ يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ وَلَا يَرَى شَيْئًا، وَثَمَانَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5986

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں ماحی ہوں میری وجہ سے کفر مٹا دیا جائے گا اور میں حاشر ہوں(قیامت کے دن)لوگوں کو میرے قدموں پر جمع کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماے مبارکہ؛جلد٤ص١۸۲۸؛حدیث نمبر٥۹۸۷)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي ؛ الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ، وَأَنَا الْحَاشِرُ ؛ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَقِبِي ، وَأَنَا الْعَاقِبُ ". وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5987

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے کئی نام ہیں میں محمد ہوں،میں احمد ہوں،میں ماحی ہوں،جس کے ذریعے اللہ تعالی کفر کو مٹا دے گا میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو میرے قدموں پر جمع کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اور اللہ تعالی نے آپ کا نام رؤف(اور)رحیم رکھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۸؛حدیث نمبر٥۹۸۸)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِي أَسْمَاءً ؛ أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَيَّ ، وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ ". وَقَدْ سَمَّاهُ اللَّهُ رَءُوفًا رَحِيمًا.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5988

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی تین سند بیان کی ہیں شعیب اور معمر کے روایت میں ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا عقیل کی روایت میں ہے زہری نے بیان کیا کہ عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔معمرکی روایت میں کَفَرَۃَ(کافر کی جمع)اور شعیب کی روایت میں کُفر کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۸؛حدیث نمبر٥۹۸۹)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ وَمَعْمَرٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ : قَالَ : قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ : وَمَا الْعَاقِبُ ؟ قَالَ : الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ. وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ وَعُقَيْلٍ : الْكَفَرَةَ، وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ : الْكُفْرَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5989

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے اپنے کئی نام بیان کئے آپ نے فرمایا میں محمد ہوں،میں احمد ہوں،میں مُقَفّیِ ہوں،(سب سے آخر میں آنے والے) میں حاشر ہوں,نبی التوبہ ہوں اور نبی الرحمۃ ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۲۸؛حدیث نمبر٥۹۹۰)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً، فَقَالَ : " أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْمُقَفِّي، وَالْحَاشِرُ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5990

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کو جائز قرار دیا یہ بات کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین تک پہنچی تو انہوں نے گویا اس کام کو ناپسند کیا اور اس سے پرہیز کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جن کو میری طرف سے کوئی بات پہنچتی ہے جس کی میں نے اجازت دی کہ وہ اس کو ناپسند کرتے اور اس سے پرہیز کرتے ہیں اللہ کی قسم میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عِلْمِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت خداوندی اور سخت وحشت الہیہ؛جلد٤ص١۸۲۹؛حدیث نمبر٥۹۹۱)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ ؟ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5991

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عِلْمِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ؛جلد٤ص١۸۲۹؛حدیث نمبر٥۹۹۲)

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5992

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کی اجازت دی تو کچھ لوگوں نے اس سے پرہیز کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ کو غصہ آیا حتی کہ آپ کے چہرے انور پر غصہ ظاہر ہوگیا پھر فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ان کاموں سے اعراض کرتے ہیں جن میں مجھے رخصت دی گئی ہے اللہ تعالی کی قسم مجھے ان سب سے زیادہ اللہ کا علم اور ان میں ان سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ عِلْمِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ؛جلد٤ص١۸۲۹؛حدیث نمبر٥۹۹۳)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ ؟ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5993

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری اورحضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے درمیان حرۃ مدینہ (پتھریلی زمین)کے پانی میں جھگڑا ہو گیا جس سے وہ لوگ کھجوروں کے باغات کو سیراب کرتے تھے۔ انصاری نے کہا پانی کو چھوڑ دو تاکہ وہ بہتا رہے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا پھر انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مقدمہ پیش کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے زبیر!زمین کو تم پانی دو پھر پانی کو اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو۔انصاری کو غصہ آیااور کہا یا رسول اللہ!یہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں(یہ سن کر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا پھر فرمایا اے زبیر! تم پانی دو پھر پانی کو روک دو حتیٰ کہ منڈیرتک چلا جائے۔حضرت زبیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میرا خیال ہے کہ یہ آیت کریمہ اسی واقعے کے بارے میں نازل ہوئی۔ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا} [النساء: ٦٥] (ترجمہ)آپ کے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے جھگڑوں میں آپ کو حاکم تسلیم نہ کرے پھر اپنے نفسوں میں کوئی حرج نہ پائیں(اور خوب تسلیم کرے) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ وُجُوبِ اتِّبَاعِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واجب ہے؛جلد٤ص١۸۲۹؛حدیث نمبر٥۹۹٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ. فَأَبَى عَلَيْهِمْ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ : " اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ". فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ : " يَا زُبَيْرُ، اسْقِ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ". فَقَالَ الزُّبَيْرُ : وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ : { فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا }.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5994

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میں تمہیں جس بات سے روکوں اس سے رک جاؤ اور تمہیں جس کام کا حکم دوں اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو کیونکہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے انبیاء کرام علیہم السلام سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛ترجمہ؛بلاضرورت سوال کرنے کی کراہت؛جلد٤ص١۸۳۰؛حدیث نمبر٥۹۹۵)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، قَالَا : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ؛ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ، وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5995

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۰؛حدیث نمبر٥۹۹٦)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ - وَهُوَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ - أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ سَوَاءً.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5996

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے متعدد اسناد کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جس چیز کو چھوڑ دوں تم بھی اس کو چھوڑ دو(یعنی جس بات کے بارے میں بیان کروں اس کے بارے میں سوال نہ کرو) کیونکہ تم سے پہلے لوگ ہلاک ہو گئے اس کے بعد حدیث نمبر ٥٩٩٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۱؛حدیث نمبر٥۹۹۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، كُلُّهُمْ قَالَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ - وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ : مَا تُرِكْتُمْ - فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ". ثُمَّ ذَكَرُوا نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5997

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے زیادہ جرم اس مسلمان کا ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو مسلمانوں پر ابھی تک حرام نہ تھی اور اس کے سوال کی وجہ سے حرام ہو جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۱؛حدیث نمبر٥۹۹۸)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا - مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ؛ فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5998

حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جو ایسے کام کے بارے میں سوال کرے جو(ابھی تک)حرام نہ تھا پس اس کے سوال کی وجہ سے لوگوں پر حرام ہو جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۱؛حدیث نمبر٥۹۹۹)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ : أَحْفَظُهُ كَمَا أَحْفَظُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ ؛ فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 5999

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کی دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۱؛حدیث نمبر٦٠٠٠)

وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ : رَجُلٌ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ وَنَقَّرَ عَنْهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ : عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدًا .

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6000

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کرام سے کوئی ناگوار خبر پہنچی تو آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا مجھ پر جنت اور دوزخ کو پیش کیا گیا پس میں نے آج کی طرح خیر اور شر نہیں دیکھی اور جو کچھ مجھے معلوم ہے اگر تمہیں اس کا علم ہوتا تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے۔ راوی فرماتے ہیں صحابہ کرام پر اس سے زیادہ سخت کوئی دن نہیں آیا وہ سب سر جھکائے بیٹھے تھےاور ان پر گریہ طاری تھا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ہم اللہ تعالی کے رب ہونے اسلام کے دین اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ پھر وہ شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا میرا باپ کون ہے؟آپ نے فرمایا تیرا باپ فلاں ہے پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: ١٠١] (ترجمہ)"اے ایمان والو!ان باتوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر تمہارے لئے ظاہر کی جائیں تو تم کو ناگوار ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۱؛حدیث نمبر٦٠٠۱)

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ السُّلَمِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ اللُّؤْلُئِيُّ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ مَحْمُودٌ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْحَابِهِ شَيْءٌ، فَخَطَبَ فَقَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ". قَالَ : فَمَا أَتَى عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ، قَالَ : غَطَّوْا رُءُوسَهُمْ وَلَهُمْ خَنِينٌ ، قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا. قَالَ : فَقَامَ ذَاكَ الرَّجُلُ فَقَالَ : مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ فُلَانٌ ". فَنَزَلَتْ : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ }.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6001

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ!میرا باپ کون ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں ہیں اور یہ آیت نازل ہوئی۔ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: ١٠١] (ترجمہ)"اے ایمان والو!ان اشیاء کے بارے میں سوال نہ کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تم کو ناگوار ہو گا"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۲؛حدیث نمبر٦٠٠۲)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ فُلَانٌ ". وَنَزَلَتْ : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ }، تَمَامَ الْآيَةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6002

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورج ڈھلنے کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ظہر کی نماز پڑھائی سلام پھیرنے کے بعد ممبر پر کھڑے ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور فرمایا اس(قیامت)سے پہلے بڑے بڑے واقعات رونما ہوں گے۔ فرمایا جو شخص مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتاہے وہ پوچھے اللہ کی قسم!تم مجھ سے جس کے بارے میں پوچھو گے میں تمہیں اس کی خبر دوں گا جب تک میں اس مقام پر کھڑا ہوں۔حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی تو بہت رونا شروع کر دیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے فرمانے لگے مجھ سے پوچھو۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی کھڑے ہوئے اور پوچھا یا رسول اللہ میرا باپ کون ہے آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت فرمانے لگے کہ مجھ سے پوچھو توحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور کہا ہم اللہ تعالی کے رب ہونے اسلام کے دین ہونےاورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر راضی ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اس بات پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے مجھ پر جنت اور دوزخ ابھی ابھی اس دیوار کی چوڑائی میں پیش کیا گیا اور میں نے آج کی طرح خیر و شر کو نہیں دیکھا۔ ابن شہاب کہتے ہیں مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبردی فرماتے ہیں میں عبداللہ بن حذافہ کی ماں سے کہا میں نے تم جیسا نافرمان بیٹا کبھی نہیں سناکیا تم اس بات سے بے خوف تھے کہ تمہاری ماں نے بھی وہ کام کیا ہو جو دور جاہلیت کی عورتیں کرتی تھیں تو تم لوگوں کے سامنے اپنی ماں کو رسوا کرتے۔ حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرا نسب کسی حبشی غلام سے ملا دیتے تو میں اس سے مل جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۲؛حدیث نمبر٦٠۰٣)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى لَهُمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ السَّاعَةَ، وَذَكَرَ أَنَّ قَبْلَهَا أُمُورًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَيْءٍ ؛ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ، مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا ". قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ : " سَلُونِي ". فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ فَقَالَ : مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَبُوكَ حُذَافَةُ ". فَلَمَّا أَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ يَقُولَ : " سَلُونِي ". بَرَكَ عُمَرُ فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا. قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ : مَا سَمِعْتُ بِابْنٍ قَطُّ أَعَقَّ مِنْكَ ؛ أَأَمِنْتَ أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ قَدْ قَارَفَتْ بَعْضَ مَا تُقَارِفُ نِسَاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَتَفْضَحَهَا عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ : وَاللَّهِ لَوْ أَلْحَقَنِي بِعَبْدٍ أَسْوَدَ لَلَحِقْتُهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6003

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید دو سندیں بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳۳؛حدیث نمبر٦٠٠٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ مَعَهُ، غَيْرَ أَنَّ شُعَيْبًا قَالَ : عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ قَالَتْ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6004

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صحابہ کرام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کئے حتی کہ آپ ان کے سوالات سے تنگ آگئے۔ پھر ایک دن آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا مجھ سے پوچھو تم جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں تمہیں اس بات کا جواب دوں گا۔ جب صحابہ کرام نے یہ بات سنی تو خاموش ہو گئے اور خوفزدہ ہوئے کہ کہیں کچھ ہو نہ گیا ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو کیا دیکھا کہ ہر شخص کپڑے میں منہ لپیٹ کر رو رہا ہے پھر مسجد سے وہ شخص اٹھا جسےجھگڑے کے وقت اس کے باپ کے غیر کی طرف منسوب کیا جاتا تھا اس نے کہا اے اللہ کے نبی!میرا باپ کون ہے؟آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس کے بعدحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا اللہ تعالی کی ربوبیت،اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر راضی ہیں ہم برے فتنوں سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے آج کی طرح کبھی خیر اور شر کو نہیں دیکھامیرے سامنے اس دیوار کے قریب جنت اور دوزخ کی تصویر دکھائی گئی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳٤؛حدیث نمبر٦٠٠۵)

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّاسَ سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " سَلُونِي، لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ ". فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْقَوْمُ أَرَمُّوا ، وَرَهِبُوا أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ، قَالَ أَنَسٌ : فَجَعَلْتُ أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ كَانَ يُلَاحَى فَيُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ حُذَافَةُ ". ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا. عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ؛ إِنِّي صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَرَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6005

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳٤؛حدیث نمبر٦٠٠٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ ح وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6006

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چند چیزوں کے بارے میں سوال کیا گیا جو آپ کو ناگوار ہوئیں،جب زیادہ سوال ہوئے تو آپ غصے میں آگئے پھرلوگوں سے فرمایا جو چاہتے ہو مجھ سے پوچھو۔ایک شخص نے پوچھا میرا باپ کون ہے؟آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا یا رسول اللہ!میرا باپ کون ہے؟فرمایا تمہارا باپ سالم ہے جو شیبہ کا آزاد کردہ غلام ہے جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر غصے کے آثار دیکھے تو عرض کیا یا رسول اللہ!بے شک ہم اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں۔ ابوکریب کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا میرا باپ کون ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیبہ کا غلام سالم ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ، أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ، وَنَحْوِ ذَلِكَ؛جلد٤ص١۸۳٤؛حدیث نمبر٦٠٠۷)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا، فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : " سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ ". فَقَالَ رَجُلٌ : مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ حُذَافَةُ ". فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ : مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ ". فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَضَبِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ : قَالَ : مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6007

حضرت موسی بن طلحہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میرا کھجوروں کے پاس سے کچھ لوگوں پر گزر ہوا تو آپ نے پوچھا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہوں نے کہا یہ لوگ کھجوروں میں قلم لگا رہے ہیں‌یعنی نر کھجور کو مادہ کھجور کے ساتھ ملاتے ہیں جس سے وہ پھل دار ہو جاتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے خیال میں یہ ان کو کچھ فائدہ نہیں دے گا حضرت موسی فرماتے ہیں ان لوگوں کو بتایا گیا تو انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو فرمایا اگر ان کو یہ عمل فائدہ دیتا ہے تو وہ اسے کرتے رہے میرا تو ایک خیال تھا تم اس گمان پر عمل نہ کرو لیکن جب میں اللہ تعالی کی طرف سے کوئی حکم بیان کروں تو اسے اختیار کرو کیونکہ میں اللہ تعالی پر ہرگز جھوٹ نہیں بولتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا، دُونَ مَا ذَكَرَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا، عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ؛جلد٤ص١۸۳۵؛حدیث نمبر٦٠٠۸)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ - قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ، فَقَالَ : " مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ ؟ " فَقَالُوا : يُلَقِّحُونَهُ ؛ يَجْعَلُونَ الذَّكَرَ فِي الْأُنْثَى فَيَلْقَحُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِكَ شَيْئًا ". قَالَ : فَأُخْبِرُوا بِذَلِكَ فَتَرَكُوهُ، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ : " إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْنَعُوهُ ؛ فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا، فَلَا تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ، وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ شَيْئًا فَخُذُوا بِهِ ؛ فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6008

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو صحابہ کرام کھجوروں میں قلم لگاتے تھے آپ نے فرمایا یہ تم کیوں کرتے ہو انہوں نے عرض کیا ہم اسی طرح کرتے تھے آپ نے فرمایا اگر تم اس طرح نہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہوگا چنانچہ انہوں نے یہ عمل چھوڑ دیا تو کھجوریں جھڑ گئیں یا(فرمایا)کم ہوگئیں۔ حضرت رافع فرماتے ہیں انہوں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے فرمایا میں ایک بشر ہوں جب میں تمہیں کسی دینی معاملے میں حکم دوں تو اس پر عمل کرو اور جب تمہیں اپنی کسی رائے سے حکم دوں تو میں بشر ہوں۔ عکرمہ کی روایت اسی طرح ہے اور معقری نے کسی شک کے بغیر کہا کہ کھجوریں جھڑگئیں(کم ہونے کا ذکر نہیں) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا، دُونَ مَا ذَكَرَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا، عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ؛جلد٤ص١۸۳۵؛حدیث نمبر٦٠٠۹)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ : قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ، يَقُولُونَ : يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ، فَقَالَ : " مَا تَصْنَعُونَ ؟ " قَالُوا : كُنَّا نَصْنَعُهُ. قَالَ : " لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا ". فَتَرَكُوهُ، فَنَفَضَتْ - أَوْ فَنَقَصَتْ - قَالَ : فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيِي، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ". قَالَ عِكْرِمَةُ : أَوْ نَحْوَ هَذَا. قَالَ الْمَعْقِرِيُّ : فَنَفَضَتْ. وَلَمْ يَشُكَّ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6009

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جماعت کے پاس سے گزرے جو کھجوروں میں پیوند لگا رہے تھے آپ نے فرمایا اگر تم اس طرح نہ کرو تو اچھا ہو گا۔ اس کے بعد ردی کھجور پیدا ہوئیں پھر کچھ دنوں کے بعد آپ کا گزر ان لوگوں کے پاس سے ہوا تو آپ نے پوچھا اب تمہاری کھجوروں کی کیا کیفیت ہے انہوں نے عرض کیا آپ نے اس طرح اس طرح فرمایا تھا آپ نے فرمایا تم اپنے دنیاوی معاملات کا زیادہ علم رکھتے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا، دُونَ مَا ذَكَرَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا، عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ؛جلد٤ص١۸۳٦؛حدیث نمبر٦٠۱۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ، فَقَالَ : " لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ ". قَالَ : فَخَرَجَ شِيصًا ، فَمَرَّ بِهِمْ، فَقَالَ : " مَا لِنَخْلِكُمْ ؟ " قَالُوا : قُلْتَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ : " أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6010

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں‌آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم پر ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ تم مجھے دیکھ نہیں سکو گے اور میری زیارت کرنا تم لوگوں کے نزدیک اہل و مال سے زیادہ محبوب ہو گا۔ ابواسحاق فرماتے ہیں میرے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا اہل و مال کے ساتھ میری زیارت کرنا اپنے اہل و مال سے زیادہ عزیز ہوگا اور میرے نزدیک اس حدیث کے الفاظ میں تقدم وتاخر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضْلِ النَّظَرِ إِلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَنِّيهِ؛جلد٤ص١۸۳٦؛حدیث نمبر٦٠۱۱)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ وَلَا يَرَانِي، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ ". { 7 قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : الْمَعْنَى فِيهِ عِنْدِي : لَأَنْ يَرَانِي مَعَهُمْ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، وَهُوَ عِنْدِي مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ. }

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6011

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میں دوسروں کی نسبت حضرت عیسی علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء کرام علاتی بھائی ہیں(نظریات و عقائد سب کے ایک ہیں)اور میرے ان کے(حضرت عیسیٰ علیہ السلام)کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ترجمہ؛حضرت عیسٰی علیہ السلام کے فضائل؛جلد٤ص١۸۳۷؛حدیث نمبر٦٠۱۲)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، الْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6012

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوسرے نبیوں کی نسبت میں عیسی علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء کرام علاتی بھائی ہیں اور میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۷؛حدیث نمبر٦٠۱۳)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى، الْأَنْبِيَاءُ أَبْنَاءُ عَلَّاتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6013

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دنیا اور آخرت میں حضرت عیسی علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ!وہ کیسے؟آپ نے فرمایا انبیاء کرام علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور ہمارے درمیان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان)کوئی نبی نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۷؛حدیث نمبر٦٠۱٤)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ ". قَالُوا : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6014

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے شیطان اس کو کچوکا لگاتا ہے سوائے حضرت ابنِ مریم اور ان کی ماں(حضرت مریم)کے۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو۔ {وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ} [آل عمران: ٣٦] (ترجمہ)"میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری(اللہ)کی پناہ میں دیتی ہوں"۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۱۵)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ، إِلَّا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ ". ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : { وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ }.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6015

امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں حضرت زہری کی سند میں ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان کے کچوکے لگانے سے وہ چیخ مار کر روتا ہے اور شعیب کی روایت میں شیطان کے چھونے کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۱٦)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا : يَمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسَّةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ. وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ : مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6016

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہر انسان کو اس کی پیدائش کے دن شیطان چھوتا ہے سوائے حضرت مریم اور ان کے بیٹے کے۔ (امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس حدیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات حضرت عیسی علیہ السلام اور آپ کی والدہ کے ساتھ خاص ہے لیکن قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس بات کو اختیار کیا کہ اس وصف میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام شریک ہیں۔) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۱۷)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ سُلَيْمًا مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6017

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاولادت کے وقت بچے کا رونا شیطان کے کچوکے لگانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۱۸)

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6018

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ بن مریم نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا تو چوری کرتا ہے؟اس نے کہا نہیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا میں اللہ تعالی پر ایمان لاتا ہوں اور اپنے آپ کو جھوٹا قرار دیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۱۹)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ لَهُ عِيسَى : سَرَقْتَ ؟ قَالَ : كَلَّا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. فَقَالَ عِيسَى : آمَنْتُ بِاللَّهِ، وَكَذَّبْتُ نَفْسِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6019

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا یا"خیر البریہ"(اےمخلوق میں سے بہترین)آپ نے فرمایا وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ہے۔(یہ ان کا لقب ہے ورنہ سب سے بہتر تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا عاجزی کے طور پر فرمایا) (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فضائل؛جلد٤ص١۸۳۸؛حدیث نمبر٦٠۲۰)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6020

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ!اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٢٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۳۹؛حدیث نمبر٦٠۲۱)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6021

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۳۹؛حدیث نمبر٦٠۲۲)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6022

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی سال کی عمر میں قدوم(مقام) میں ختنہ کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۳۹؛حدیث نمبر٦٠۲۳)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً، بِالْقَدُومِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6023

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار تھے جب انہوں نے کہا اے رب!مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تو ایمان نہیں رکھتا عرض کیا کیوں نہیں!لیکن تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے وہ ایک مضبوط قلعہ کی پناہ چاہتے تھے۔ اور اگر میں حضرت یوسف علیہ السلام جتنی لمبی قید کاٹتا تو بلانے والے کے ساتھ فوراً چلا جاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸۳۹؛حدیث نمبر٦٠۲٤)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ : { رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَى وَلَكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي }. وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ؛ لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6024

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٠٢٤ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٠؛حدیث نمبر٦٠۲۵)

وَحَدَّثَنَاهُ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6025

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے انہوں نے ایک مضبوط قلعے کی پناہ لی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٠؛حدیث نمبر٦٠۲٦)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ، إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6026

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین(ظاہری طور پر)جھوٹ کے علاوہ جھوٹ نہیں بولا دواللہ تعالی کی ذات کی وجہ سے تھے ان کا قول تھا"میں بیمار ہوں"اور ان کا یہ کہنا بلکہ کسی بڑے(بت)نے کیا ہے ان کا بڑا یہ ہے اور ایک(خلاف ظاہر بات)حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک ظالم بادشاہ کے علاقے میں آئے اور آپ کے ساتھ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں اور وہ بہت خوبصورت تھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا اگر اس ظالم بادشاہ کو پتہ چل گیا کہ تم میری بیوی ہو تو وہ تجھے مجھ سے چھین لیگا اگر وہ تم سے پوچھے تو تم اس کو بتانا کہ تم میری بہن ہو کیونکہ تم اسلام میں میری بہن ہو اور میرے علم کے مطابق(اس وقت)دنیا میں تیرے اور میرے علاوہ کوئی مسلمان نہیں۔ جب حضرت ابراہیم اس ملک میں داخل ہوئے تو اس بادشاہ کے بعض کارندوں نے حضرت سارہ کو دیکھ لیا چناں چہ وہ بادشاہ کے پاس آئے اور کہنے لگے تمہارے ملک میں ایک خاتون آئی ہے جو تیرے علاوہ کسی کے لائق نہیں بادشاہ نے حضرت سارہ کو بلایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نماز پڑھنا شروع کر دی جب حضرت سارہ اس کے پاس گئیں تو وہ ان کی طرف ہاتھ بڑھا نہ سکا اس کے ہاتھ کو سختی سے جکڑ دیا گیا۔ اس نے حضرت سارہ سےکہا کہ اللہ تعالی سے دعا کرو کہ وہ میرے ہاتھ کو ٹھیک کردے اور میں تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔حضرت سارہ نے دعا کی تو(اس کا ہاتھ ٹھیک ہو گیا)اس نے دوبارہ آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن وہ پہلے سے بھی زیادہ جکڑا گیا اس نے پھر وہی بات کہی حضرت سارہ نے دعا مانگی لیکن اس نے پھر ہاتھ بڑھانا چاہا تو اس کا ہاتھ پہلی دو بار سے بھی زیادہ جگڑاگیا۔ اس نے کہا اللہ تعالی سے دعا کریں اگر وہ میرے ہاتھ کو کھول دے تو میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا حضرت سارہ نے اسی طرح کیا(دعا مانگی)اور اس کا ہاتھ کھل گیا تو اس نے اس شخص کو بلایا جو حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو لے کر آیا تھا اس نے کہا تم میرے پاس کسی جننی(جن عورت)کو لائے ہو کسی انسان کو نہیں لائے اسے میرے ملک سے نکال دو اور حضرت ہاجرہ بھی اس کو دے دو۔حضرت سارہ لوٹ آئیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو دیکھا تو نماز سے فارغ ہوئے پوچھا کیا ہوا؟حضرت سارہ نےفرمایا خیر ہے اللہ تعالی نے فاجر کے ہاتھ کو روک لیا اور اس نے ایک خادمہ بھی دی ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اے بارش کی اولاد یہ تمہاری ماں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٠؛حدیث نمبر٦٠۲۷)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَطُّ إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ ؛ ثِنْتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ ؛ قَوْلُهُ : { إِنِّي سَقِيمٌ }، وَقَوْلُهُ : { بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا }. وَوَاحِدَةٌ فِي شَأْنِ سَارَةَ ؛ فَإِنَّهُ قَدِمَ أَرْضَ جَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ، وَكَانَتْ أَحْسَنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهَا : إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي يَغْلِبْنِي عَلَيْكِ، فَإِنْ سَأَلَكِ فَأَخْبِرِيهِ أَنَّكِ أُخْتِي، فَإِنَّكِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ ؛ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمًا غَيْرِي وَغَيْرَكِ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْضَهُ رَآهَا بَعْضُ أَهْلِ الْجَبَّارِ أَتَاهُ، فَقَالَ لَهُ : لَقَدْ قَدِمَ أَرْضَكَ امْرَأَةٌ لَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَكُونَ إِلَّا لَكَ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَأُتِيَ بِهَا، فَقَامَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ لَمْ يَتَمَالَكْ أَنْ بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا، فَقُبِضَتْ يَدُهُ قَبْضَةً شَدِيدَةً، فَقَالَ لَهَا : ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي، وَلَا أَضُرُّكِ. فَفَعَلَتْ، فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَةِ الْأُولَى، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَفَعَلَتْ، فَعَادَ، فَقُبِضَتْ أَشَدَّ مِنَ الْقَبْضَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ : ادْعِي اللَّهَ أَنْ يُطْلِقَ يَدِي، فَلَكِ اللَّهَ أَنْ لَا أَضُرَّكِ. فَفَعَلَتْ وَأُطْلِقَتْ يَدُهُ، وَدَعَا الَّذِي جَاءَ بِهَا، فَقَالَ لَهُ : إِنَّكَ إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، وَلَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، فَأَخْرِجْهَا مِنْ أَرْضِي، وَأَعْطِهَا هَاجَرَ. قَالَ : فَأَقْبَلَتْ تَمْشِي، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ انْصَرَفَ، فَقَالَ لَهَا : مَهْيَمْ ؟ قَالَتْ : خَيْرًا، كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَ خَادِمًا ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ .

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6027

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے ہو کر غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھتے تھے اور حضرت موسی علیہ السلام علحیدگی میں غسل فرماتے۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم حضرت موسی علیہ السلام ہم سے الگ ہوکر اس لیے غسل کرتے ہیں کہ ان کو خصیوں کے سوجنے کی بیماری ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دفعہ حضرت موسی علیہ السلام‌غسل کرنے کے لئے کپڑے پتھر پر رکھے تو وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ گیا۔حضرت موسی علیہ السلام اس پتھرکے پیچھے بھاگنے لگے اور کہنے لگے اے پتھر!میرے کپڑے دو اےپتھر!میرے کپڑے دو حتی کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام کی شرمگاہ کو دیکھ لیا اور کہنے لگے اللہ کی قسم حضرت موسی علیہ السلام میں کوئی بیماری نہیں اس کے بعد وہ پتھر ٹھہر گیا اور آپ کو دیکھ لیا گیا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے اٹھائے اور پتھر کو مارنے لگے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم حضرت موسی علیہ السلام کے مارنے سے پتھر پر چھ سات نشان پڑ گئے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ترجمہ؛حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فضائل؛جلد٤ص١۸٤١؛حدیث نمبر٦٠۲۸)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْءَةِ بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ . قَالَ : فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، قَالَ : فَجَمَحَ مُوسَى بِأَثَرِهِ يَقُولُ : ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ. حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْءَةِ مُوسَى، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ. فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدُ حَتَّى نُظِرَ إِلَيْهِ، قَالَ : فَأَخَذَ ثَوْبَهُ، فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ، سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ، ضَرْبُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْحَجَرِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6028

حضرت عبداللہ بن شفیق فرماتے ہیں ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حضرت موسی علیہ السلام بہت باحیا مرد تھے اور ان کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا گیا فرماتے ہیں بنی اسرائیل نے کہا ان کو خصیوں کے سوجنے کی بیماری ہے چنانچہ انہوں نے ایک دن کسی پانی پرغسل کیا اور کپڑے اتار کر پتھر پر رکھ دیئے اور پتھر بھاگ گیا آپ اپنے عصا کے ساتھ اس کے پیچھے بھاگے اور اسے مارتے ہوئے فرمانے لگے اے پتھر!میرے کپڑے دو اےپتھر میرے کپڑے دو(یہ کہتے ہوئے)آپ بنی اسرائیل کی ایک جماعت سے گزرے اور اس حوالے سے یہ آیت نازل ہوئی۔ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللهِ وَجِيهًا} [الأحزاب: ٦٩] اےایمان والو!ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کو اذیت دی پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام کو ان کی تہمت سے بری کردیا اور آپ اللہ تعالی کے نزدیک بہت عزت والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۲؛حدیث نمبر٦٠۲۹)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ رَجُلًا حَيِيًّا، قَالَ : فَكَانَ لَا يُرَى مُتَجَرِّدًا، قَالَ : فَقَالَ بَنُو إِسْرَائِيلَ : إِنَّهُ آدَرُ . قَالَ : فَاغْتَسَلَ عِنْدَ مُوَيْهٍ ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ، فَانْطَلَقَ الْحَجَرُ يَسْعَى ، وَاتَّبَعَهُ بِعَصَاهُ يَضْرِبُهُ : ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ. حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَلَأٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَنَزَلَتْ : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا }.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6029

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ موسی علیہ السلام کے پاس ملک الموت کو بھیجا گیا جب ملک الموت ان کے پاس آیا تو انھوں نے ایک تھپڑ دے مارا جس سے اس کی آنکھ نکل گئی۔ ملک الموت نے اپنے رب کے پاس جا کر کہا(اے اللہ!)تو نے مجھے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جو موت نہیں چاہتا۔چناں چہ اللہ تعالی نے ملک الموت کی آنکھ لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس دوبارہ جاؤ اور ان سے کہو کہ ایک بیل کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ رکھ دے تمہیں ہر اس بال کے بدلے ایک سال دیا جائے گا جو ان کے ہاتھ کے نیچے آئے گا پھر حضرت موسی علیہ السلام نے کہا اے میرے رب!پھرکیا ہوگا؟فرمایا موت ہے آپ نے عرض کیا تو ابھی سے(موت آجائے) انہوں نے دعا مانگی یا اللہ!مجھےارض مقدسہ سے ایک پتھر پھینکنے کے قریب کر دے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اس جگہ ہوتا تو کثیب احمر(سرخ ٹیلے)کے نزدیک راستے کی ایک جانب ان کی قبر دکھاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ إِبْرَاهِيمِ الْخَلِيلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۲؛حدیث نمبر٦٠۳۰)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ : أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ. قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهِ، فَقُلْ لَهُ : يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ. قَالَ : أَيْ رَبِّ، ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ الْمَوْتُ. قَالَ : فَالْآنَ. فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ، تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6030

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا موت کا فرشتہ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا اپنے رب کا حکم قبول کیجئے فرماتے ہیں حضرت موسی علیہ السلام نے اسے تھپڑ مار کر اس کی آنکھ نکال دی۔ملک الموت واپس اللہ کی بارگاہ میں گیا اور کہا اے اللہ!تو نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا ہےجو موت نہیں چاہتا تھا اور اس نے میری آنکھ نکال دی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے ملک الموت کی آنکھ لوٹا دی اور فرمایا میرے بندے کے پاس جا کر پوچھو کہ کیا وہ زندگی چاہتے ہیں؟اگر زندگی چاہتے ہیں(تو ان سے کہوکہ)ایک بیل کی پیٹھ پر ہاتھ رکھے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آ جائےاتنے سال مزید زندہ رہیں حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا پھر کیا ہوگا کہا پھر موت آئے گی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا پھر اب قریب ہی(موت ٹھیک ہے) اے میرے رب مجھے ارض مقدسہ سے ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے پر موت دینا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم!اگر میں وہاں ہوتا تو میں تمہیں سرخ ٹیلے کے پاس راستے کے کنارے پر ان کی قبر دکھاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۳؛حدیث نمبر٦٠٣۱)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ لَهُ : أَجِبْ رَبَّكَ. قَالَ فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا، قَالَ : فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ : إِنَّكَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي. قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَالَ : ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي، فَقُلِ : الْحَيَاةَ تُرِيدُ ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَمَا تَوَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعْرَةٍ، فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِهَا سَنَةً. قَالَ : ثُمَّ مَهْ ؟ قَالَ : ثُمَّ تَمُوتُ. قَالَ : فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ، رَبِّ أَمِتْنِي مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ، عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6031

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۳؛حدیث نمبر٦٠٣٢)

قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6032

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی سامان بیچ رہا تھا اسے اس کا معاوضہ دیا گیا تو اسے پسند نہ آیا یا فرمایا وہ اس پر راضی نہ ہوا عبدالعزیز راوی کو شک ہے۔اس یہودی نے کہا میں نہیں لوں گا اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسی علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے۔فرماتے ہیں انصار میں سے ایک شخص نے یہ بات سنی تو اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا اور کہا تم کہتے ہو اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسی علیہ السلام کو باقی تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے جبکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما ہیں۔ وہ یہودی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا اے ابو القاسم!مجھے امان دی گئی ہے اور فلاں شخص نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(اس انصار ی سے)فرمایا تم نے اس کو تھپڑ کیوں مارا ہے اس نے کہا یا رسول اللہ اس نے کہا ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسی علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے حالانکہ آپ ہمارے درمیان تشریف فرما ہیں۔راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ آپ کے چہرے پر اس کے آثاردکھائی دینے لگے آپ نے فرمایا انبیاء کرام علیھم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو کیونکہ صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین والے بے ہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ تعالی چاہے(بچاے)تو میں سب سے پہلے اٹھنے والا ہوں یا فرمایا میں سب سے پہلے اٹھنے والوں میں سے ہوں گا میں دیکھوں گا کہ حضرت موسی علیہ السلام نے عرش(کے پاے) کو پکڑا ہوا ہے مجھے معلوم نہیں کہ آیا یوم طورکی بے ہوشی میں ان کا حساب کر لیا گیا یا مجھ سے پہلے ان کو اٹھایا گیا اور میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی شخص حضرت یونس بن متی علیہ السلام سے افضل ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۳؛حدیث نمبر٦٠٣۳)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَةً لَهُ أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ - أَوْ لَمْ يَرْضَهُ، شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ - قَالَ : لَا وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى الْبَشَرِ. قَالَ : فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَطَمَ وَجْهَهُ، قَالَ : تَقُولُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى الْبَشَرِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ؟ قَالَ : فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّ لِي ذِمَّةً وَعَهْدًا، وَقَالَ : فُلَانٌ لَطَمَ وَجْهِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ؟ " قَالَ : قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى الْبَشَرِ، وَأَنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا. قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ : " لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ ؛ فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ : ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ - أَوْ فِي أَوَّلِ مَنْ بُعِثَ - فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ آخِذٌ بِالْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ، أَوْ بُعِثَ قَبْلِي، وَلَا أَقُولُ : إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَامُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6033

امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٤؛حدیث نمبر٦٠٣٤)

وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَوَاءً.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6034

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو شخص لڑ پڑے ان میں سے ایک یہودی اور دوسرا مسلمان تھا۔ مسلمان نے کہا اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں پر فضیلت دی یہودی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسی علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھا کر یہودی کے منہ پر طمانچہ مارا یہودی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا اور اپنا اور مسلمان کا معاملہ بیان کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے موسی علیہ السلام پر فضیلت نہ دو لوگ بے ہوش ہو جائیں گے اور سب سے پہلے مجھے افاقہ ہوگا تو میں دیکھوں گا کے حضرت موسی علیہ السلام عرش کے ایک کونے کو پکڑے کھڑے ہوں گے میں نہیں جانتا آیا وہ بے ہوش ہونے والوں میں سے تھے یا مجھ سے پہلےہوش میں آ گئے یا ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالی نے (بےہوشی سے)مستثنی کر دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٤؛حدیث نمبر٦٠٣۵)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ ؛ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، وَرَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَالَمِينَ. وَقَالَ الْيَهُودِيُّ : وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى الْعَالَمِينَ. قَالَ : فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى ؛ فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَمْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6035

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی میں جھگڑا ہوا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٣٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤٤؛حدیث نمبر٦٠٣٦)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6036

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا اس کے بعد حدیث نمبر ٦٠٣٥ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے پتا نہیں کہ آیا وہ بے ہوش ہونے والوں میں سے تھے اور مجھ سے پہلے ان کو افاقہ ہوا یا طور پر ان کی بےہوشی سے ان پر اکتفاء کیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۵؛حدیث نمبر٦٠٣۷)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوِ اكْتَفَى بِصَعْقَةِ الطُّورِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6037

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام کے درمیان فضیلت مت دو۔ (اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء و رسل عظام سے افضل ہیں اور اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایسی فضیلت نہ دو جس کے ذریعے دوسرے انبیاء کرام کی توہین ہو یا دوسروں سے جھگڑا پیدا ہو۔)۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۵؛حدیث نمبر٦٠٣۸)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ ". وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ : عَمْرِو بْنِ يَحْيَى حَدَّثَنِي أَبِي.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6038

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معراج کی شب میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا ایک روایت میں ہے کہ میں سرخ ٹیلے کے پاس سے گزرا اور وہ(حضرت موسی علیہ السلام) اپنی قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۵؛حدیث نمبر٦٠٣۹)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَيْتُ - وَفِي رِوَايَةِ هَدَّابٍ : مَرَرْتُ - عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6039

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(شب معراج)حضرت موسی علیہ السلام پر میرا گزر ہوا تو وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے ایک روایت میں ہے کہ معراج کی شب میرا گزر ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد٤ص١۸٤۵؛حدیث نمبر٦٠٤٠)

وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ ". وَزَادَ فِي حَدِيثِ عِيسَى : " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6040

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میرے کسی بندے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کہے میں(حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام)حضرت یونس ابن متی علیہ السلام سے افضل ہوں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي ذِكْرِ يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی؛جلد٤ص١۸٤٦؛حدیث نمبر٦٠٤۱)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ - يَعْنِي اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : " لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ لِي - وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : لِعَبْدِي - أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَامُ ". قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6041

حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے تمہارے نبی کے چچازاد(حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ)نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ کسی بندے کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اور آپ نے انہیں ان کے والد کی طرف منسوب کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابٌ فِي ذِكْرِ يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی؛جلد٤ص١۸٤٦؛حدیث نمبر٦٠٤۲)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ يَقُولُ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ". وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6042

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ!لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟آپ نے فرمایا ان میں سے جو سب سے زیادہ متقی ہے انہوں نے عرض کیاہم اس حوالے سے نہیں پوچھ رہے ہیں آپ نے فرمایا یوسف علیہ السلام جو اللہ کے نبی کے بیٹے ان کے باپ(حضرت یعقوب علیہ السلام)اللہ کے نبی(حضرت اسحاق علیہ السلام)کے بیٹے اور ان کے باپ خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا ہم اس کے بارے میں نہیں پوچھتے،آپ نے فرمایا تم قبائل عرب کے بارے میں پوچھ رہے؟تو جو لوگ دور جاہلیت میں افضل تھے وہ لوگ اسلام کے بعد بھی افضل ہیں بشرطیکہ دین کی فقاہت حاصل کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ترجمہ؛حضرت یوسف علیہ السلام کے فضائل؛جلد٤ص١۸٤٦؛حدیث نمبر٦٠٤۳)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ ؟ قَالَ : " أَتْقَاهُمْ ". قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ : " فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ ". قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ : " فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي ؟ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ، إِذَا فَقُهُوا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6043

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛ بَابٌ فِي فَضَائِلِ زَكَرِيَّاءَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛ترجمہ؛حضرت زکریا علیہ السلام کے فضائل؛جلد٤ص١۸٤۷؛حدیث نمبر٦٠٤٤)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ زَكَرِيَّاءُ نَجَّارًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6044

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نَوف بِکالی کا گمان ہے کہ بنی اسرائیل والےحضرت موسیٰ(علیہ السلام)اور تھے اور حضرت خضر(علیہ السلام)کے حضرت موسیٰ اور تھے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کے اس دشمن نے جھوٹ بولا ہے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ(علیہ السلام)کھڑے ہو کر بنی اسرائیل کو خطبہ دے رہے تھے تو ان سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ علم والا کون ہے تو حضرت موسیٰ(علیہ السلام)نے فرمایا میں سب سے زیادہ علم والا ہوں۔ آپ نے فرمایا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ(علیہ السلام)پر عتاب فرمایا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف علم کو نہیں لوٹایا(یعنی اللہ کا علم سب سے زیادہ ہے) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی کی کہ مجمع البحرین میں میرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے کہ جو تجھ سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے عرض کیا اے میرے پروردگار میں تیرے اس بندہ تک کیسے پہنچوں گا تو حضرت موسیٰ(علیہ السلام)سے فرمایا گیا اپنے تھیلے میں ایک مچھلی رکھو جس جگہ وہ مچھلی گم ہوجائے گی تو وہی وہ جگہ کہ جہاں میرا وہ بندہ ہوگا جو تجھ سے زیادہ علم والا ہے یعنی حضرت خضر(علیہ السلام)پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام چل پڑے اور حضرت یوشع بن نون(علیہ السلام)بھی ان کے ساتھ چل پڑے دونوں حضرات چلتے چلتے ایک چٹان کے پاس آگئے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوشع(علیہ السلام) دونوں حضرات سو گئے تھیلے میں مچھلی تڑپی اور تھیلی میں سے باہر نکل کر سمندر میں جا گری اللہ تعالیٰ نے اس مچھلی کی خاطر پانی کے بہنے کو روک دیا یہاں تک کہ مچھلی کے لئے پانی میں مخروطی کی طرح ایک سرنگ بنتی چلی گئی اور مچھلی کے لئے خشک راستہ بن گیا حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع علیہما السلام دونوں حضرات کے لئے یہ ایک حیران کن منظر تھا تو باقی سارا دن اور ساری رات وہ دونوں چلتے رہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی ان کو یہ بتانا بھول گئے تو جب صبح ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا ناشتہ لاؤ اس سفر نے تو ہمیں تھکا دیا ہے اور تھکاوٹ اس وقت سے شروع ہوئی جب اس جگہ سے آگے نکل گئے جس جگہ جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی نے کہا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جب ہم صخرہ ایک چٹان تک آئے تو اور شیطان ہی نے تو ہمیں مچھلی کا ذکر کرنے سے بھلا دیا اور بڑی حیرانگی کی بات ہے کہ مچھلی نے سمندر میں اپنا راستہ بنا لیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے فرمایا ہم اسی جگہ کی تلاش میں تو تھے پھر وہ دونوں حضرات اپنے قدموں کے نشانات پر واپس ہوئے پھر یہاں تک کہ وہ اس صخرہ چٹان پر آگئے اس جگہ ایک آدمی کو اپنے اوپر کپڑا اوڑھے ہوئے دیکھا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان پر سلام کیا حضرت خضر(علیہ السلام)نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا ہمارے علاقے میں سلام کہاں؟حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں موسیٰ ہوں حضرت خضر(علیہ السلام) نے فرمایا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا جی ہاں حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا اے موسیٰ اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ علم دیا ہے کہ جسے میں نہیں جانتا اور مجھے وہ عطا فرمایا ہے کہ جسے آپ نہیں جانتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے خضر!میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ نے آپ کو دیا ہے حضرت خضر نے فرمایا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے اور تمہیں اس بات پر کس طرح صبر ہو سکے گا کہ جس کا تمہیں علم نہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا ہی پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھنا جب تک کہ میں خود ہی وہ بات آپ سے بیان نہ کر دوں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اچھا چناں چہ حضرت خضر اور حضرت موسیٰ دونوں حضرات سمندر کے کنارے چلے ان دونوں حضرات کے سامنے سے ایک کشتی گزری انہوں نے کشتی والوں سے بات کی کہ وہ ہمیں اپنی کشتی پر سوار کرلے کشتی والوں نے حضرت خضر کو پہچان لیا تو انہوں نے ان دونوں حضرات کو بغیر کرایہ کے کشتی پر سوار کرلیا۔ حضرت خضر نے اس کشتی کے تختوں میں سے ایک تختے کو اکھاڑ پھینکا حضرت موسیٰ نے حضرت خضر سے فرمایا ان کشتی والوں نے ہمیں بغیر کرایہ کے کشتی پر سوار کیا ہے اور آپ نے ان کی کشتی کو توڑ دیا ہے تاکہ کشتی والوں کو غرق کردیا جائے یہ آپ نے تو بڑا عجیب کام کیا ہے حضرت خضر نے فرمایا کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے۔حضرت موسیٰ نے فرمایا اس چیز کو بھی میں بھول گیا ہوں آپ اس پر میری پکڑ نہ کریں اور نہ ہی میرے معاملہ میں کوئی سختی کریں پھر دونوں حضرات کشتی سے نکلے اور سمندر کے ساحل پر چلنے لگے تو انہوں نے ایک لڑکے کو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا حضرت خضر نے اس لڑکے کو پکڑ کر اس کا سر تن سے جدا کردیا۔ حضرت موسیٰ پھر بول پڑے کہ آپ نے ایک لڑکے کو بغیر کسی وجہ کے قتل کردیا آپ نے بڑا نازیبا کام کیا حضرت خضر نے فرمایا اے موسیٰ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت خضر(علیہ السلام)کا یہ انداز پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا حضرت موسیٰ نے فرمایا اگر اب میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں کیونکہ میرا عذر معقول ہے۔ پھر دونوں حضرات چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں کے لوگوں تک آئے انہوں نے ان گاؤں والوں سے کھانا مانگا تو انہوں نے ان کو مہمان رکھنے سے انکار کردیا ان دونوں حضرات نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے کے قریب تھی تو اس دیوار کو سیدھا کردیا وہ دیوار جھکی ہوئی تھی تو حضرت خضر(علیہ السلام)نے اپنے ہاتھ سے اس دیوار کو سید ھا کردیا حضرت موسیٰ فرمانے لگے کہ یہ تو وہ لوگ ہیں کہ جن کے پاس ہم گئے تھے لیکن انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی اور ہمیں کھانا نہیں کھلایا اگر آپ چاہیں تو ان سے اس دیوار کو سیدھا کرنے کی مزدوری لے لیں۔ حضرت خضر (علیہ السلام)نے فرمایا اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے اب میں آپ کو ان باتوں کے بارے میں بتاتا ہوں کہ جس پر آپ صبر نہیں کرسکے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے کاش کہ وہ صبر کرتے یہاں تک کہ اللہ ہمیں ان دونوں حضرات کے مزید واقعات بیان فرماتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت موسیٰ کا پہلی مرتبہ سوال کرنا نسیان تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے بیٹھ گئی پھر سمندر میں اپنی چونچ ڈالی حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا(اے موسی علیہ السلام)میرے اور اور آپ کے علم نے اللہ تعالیٰ کے علم میں فقط اتنی کمی ہے اس چڑیا کے چونچ(کے پانی)نے سمندر میں کی ہے(یعنی کوئی کمی نہیں)سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے کہ ان کشتی والوں کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح کشتی کو چھین لیتا تھا اور وہ یہ بھی پڑھتے تھے کہ وہ لڑکا کافر تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛ بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸٤۷تا١٨٤٩؛حدیث نمبر٦٠٤٥)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ نَوْفًا الْبِكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، لَيْسَ هُوَ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ. فَقَالَ : كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ ؛ سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " قَامَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَسُئِلَ : أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ ؟ فَقَالَ : أَنَا أَعْلَمُ. قَالَ : فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ ؛ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ. قَالَ مُوسَى : أَيْ رَبِّ، كَيْفَ لِي بِهِ ؟ فَقِيلَ لَهُ : احْمِلْ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ ، فَحَيْثُ تَفْقِدُ الْحُوتَ فَهُوَ ثَمَّ. فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقَ مَعَهُ فَتَاهُ، وَهُوَ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ، فَحَمَلَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ، وَانْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ يَمْشِيَانِ حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَرَقَدَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَفَتَاهُ، فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمِكْتَلِ، فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ، قَالَ : وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ حَتَّى كَانَ مِثْلَ الطَّاقِ، فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا ، وَكَانَ لِمُوسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا، فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا، وَنَسِيَ صَاحِبُ مُوسَى أَنْ يُخْبِرَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ { قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا }. قَالَ : وَلَمْ يَنْصَبْ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ، { قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا }. قَالَ مُوسَى : { ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا }، قَالَ : يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَرَأَى رَجُلًا مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَى، فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ : أَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ ؟ قَالَ : أَنَا مُوسَى. قَالَ : مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : إِنَّكَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ، وَأَنَا عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ لَا تَعْلَمُهُ. قَالَ لَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ : { هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا } { قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا } { وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا } { قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا }. قَالَ لَهُ الْخَضِرُ : { فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا }. قَالَ : نَعَمْ. فَانْطَلَقَ الْخَضِرُ وَمُوسَى يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِينَةٌ، فَكَلَّمَاهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمَا فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُمَا بِغَيْرِ نَوْلٍ ، فَعَمَدَ الْخَضِرُ إِلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَنَزَعَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا، { لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا } { قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا } { قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا }. ثُمَّ خَرَجَا مِنَ السَّفِينَةِ فَبَيْنَمَا هُمَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ إِذَا غُلَامٌ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ فَاقْتَلَعَهُ بِيَدِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ مُوسَى : أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَاكِيَةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا. { قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا }. قَالَ : وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى { قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا } { فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ }. يَقُولُ : مَائِلٌ. قَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَقَامَهُ، قَالَ لَهُ مُوسَى : قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ فَلَمْ يُضَيِّفُونَا وَلَمْ يُطْعِمُونَا، { لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا } { قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا }. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى، لَوَدِدْتُ أَنَّهُ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَخْبَارِهِمَا ". قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا، قَالَ : وَجَاءَ عُصْفُورٌ حَتَّى وَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ، ثُمَّ نَقَرَ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ : مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنَ الْبَحْرِ ". قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ : وَكَانَ يَقْرَأُ : ( وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا ). وَكَانَ يَقْرَأُ : ( وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا ).

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6045

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ نوف بکالی کیا کہتا ہے کہ جو حضرت موسیٰ حضرت خضر (علیہ السلام)کے پاس علم کی تلاش میں گئے تھے وہ بنی اسرائیل کے حضرت موسیٰ نہیں تھے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے سعید کیا تو نے اسے یہ کہتے سنا ہے؟انہوں نے کہا جی ہاں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا نوف جھوٹ کہتا ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ(علیہ السلام) اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی آزمائشوں کے بارے میں نصیحتیں فرما رہے تھے اور انہوں نے فرمایا میرے علم میں نہیں ہے کہ ساری دنیا میں کوئی آدمی مجھ سے بہتر ہو یا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی نازل فرمائی کہ میں اس آدمی کو جانتا ہوں کہ جو تجھ سے بہتر ہے یا تجھ سے زیادہ علم والا ہے۔ حضرت موسیٰ نے عرض کیا اے پروردگار!مجھے اس آدمی سے ملا دے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو حکم دیا گیا کہ ایک مچھلی کو نمک لگا کر اپنے توشہ میں رکھ جس جگہ وہ مچھلی گم ہوجائے اس جگہ پر وہ آدمی تمہیں مل جائے گا۔ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی یہ سن کر چل پڑے یہاں تک کہ صخرہ کے مقام پر پہنچ گئے اس جگہ ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھی کو چھوڑ کر چلے گئے وہ مچھلی تڑپ کر پانی میں چلی گئی پانی نے اس پر بہنا چھوڑ دیا اور ایک طاق(سرنگ)کی طرح ہوگیا۔حضرت موسیٰ کے ساتھی نے کہا میں اللہ کے نبی سے ملوں اور ان کو اس کی خبر دوں پھر وہ حضرت موسیٰ سے اس واقعہ کا ذکر بھول گئے تو جب ذرا آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰ نے اپنے ساتھی سے کہا ناشتہ لاؤ اس سفر نے ہمیں تھکا دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں حضرت موسیٰ کو یہ تھکاوٹ اس جگہ سے آگے بڑھنے سے ہوئی۔ حضرت موسیٰ کے ساتھی نے یاد کیا اور کہنے لگا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جب ہم صخرہ کے مقام پر پہنچے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور سوائے شیطان کے یہ مجھے کسی نے نہیں بھلایا بڑی حیرانگی کی بات ہے کہ مچھلی نے سمندر میں اپنا راستہ بنا لیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہمیں اس مقام کی تلاش تھی پھر وہ اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس ہوئے اور انہوں نے ان کو مچھلی(کے گم ہونے)کی جگہ بتائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہمیں یہی جگہ بتائی گئی تھی۔پھر وہ ڈھونڈنے لگے تو اچانک انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھاکہ یہ ایک کپڑا اوڑھے ہوئے چت لیٹے ہوئے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا السلام علیکم!حضرت خضر(علیہ السلام)نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا وعلیکم السلام!آپ کون؟حضرت موسیٰ نے فرمایا میں موسیٰ ہوں حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا کون موسیٰ؟حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے موسیٰ۔ حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا کیسے آنا ہوا؟حضرت موسیٰ نے فرمایا اے خضر!اپنے علم میں سے کچھ مجھے بھی دکھا دو حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے اور جن چیزوں کا تمہیں علم نہ ہو تو تم ان پر کیسے صبر کرسکو گے تو اگر تم صبر نہ کرسکو گے تو مجھے بتادو کہ میں اس وقت کیا کروں حضرت موسیٰ فرمانے لگے کہ اگر اللہ نے چاہا تو تم مجھے صبر کرنے والا ہی پاؤ گے اور میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا اچھا اگر تم نے میرے ساتھ رہنا ہے تو تم نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھنا جب تک کہ میں خود ہی تمہیں اس کے بارے میں بتا نہ دوں۔ پھر دونوں حضرات چلے یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے حضرت خضر(علیہ السلام)نے اس کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ بول پڑھے کہ آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ اس کشتی والے غرق ہوجائیں آپ نے بڑا عجیب کام کیا ہے۔ حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا اے موسیٰ!کیا میں تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے حضرت موسیٰ نے فرمایا جو بات میں بھول گیا ہوں آپ اس پر میرا مؤاخذہ نہ کریں اور مجھے تنگی میں نہ ڈالیں۔ پھر دونوں حضرات چلے یہاں تک کہ ایک ایسی جگہ پر آگئے کہ جہاں کچھ لڑکے کھیل رہے تھے حضرت خضر(علیہ السلام)نے بغیر سوچے سمجھے ان لڑکوں میں سے ایک لڑکے کو پکڑا اوراسے قتل کردیا حضرت موسیٰ یہ دیکھ کر گھبرا گئے اور فرمایا آپ نے ایک بےگنا لڑکے کو قتل کردیا یہ کام تو آپ نے بڑی ہی نازیبا کیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہم پر اور حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے اگر موسیٰ جلدی نہ کرتے تو بہت ہی عجیب عجیب باتیں ہم دیکھتے لیکن حضرت موسیٰ کو حضرت خضر سے حیا آگئی اور فرمایا اگر اب میں آپ سے کوئی بات پوچھوں تو آپ میرا ساتھ چھوڑ دیں کیونکہ میرا عذر معقول ہے اور اگر حضرت موسیٰ صبر کرتے تو عجیب باتیں دیکھتے اور آپ جب بھی انبیاء(علیہم السلام)میں سے کسی کو یاد فرماتے تو فرماتے کہ ہم پر اللہ کی رحمت ہو اور میرے فلاں بھائی پر اللہ کی رحمت ہو پھر وہ دونوں حضرات حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس آئے اس گاؤں کے لوگ بڑے کنجوس تھے یہ دونوں حضرات سب مجلسوں میں گھومے اور کھانا طلب کیا لیکن ان گاؤں والوں میں سے کسی نے بھی ان دونوں حضرات کی مہمان نوازی نہیں کی پھر انہوں نے وہاں ایک ایسی دیوار کو پایا کہ جو گرنے کے قریب تھی تو حضرت خضر(علیہ السلام)نے اس دیوار کو سیدھا کھڑا کردیا حضرت موسیٰ نے فرمایا اے خضر!اگر آپ چاہتے تو ان لوگوں سے اس دیوار کے سیدھا کرنے کی مزدوری لے لیتے حضرت خضر(علیہ السلام)نے فرمایا کہ بس اب میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے اور حضرت خضر(علیہ السلام)حضرت موسیٰ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا راز بتاتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کرسکے کشتی تو ان مسکینوں کی تھی کہ جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ظلما کشتیوں کو چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ میں اس کشتی کو عیب دار کر دوں تو جب کشتی چھیننے والا آئے گا تو وہ کشتی کو عیب دار سمجھ کر چھوڑ دےگا اور وہ کشتی آگے بڑھ جاے گی اور کشتی والے ایک لکڑی لگا کر اسے درست کرلیں گے اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا ہے اس کی قسمت میں کافر ہونا لکھا تھا اس کے ماں باپ اس سے بڑا پیار کرتے ہیں تو جب وہ بڑا ہوگا تو وہ اپنے ماں باپ کو بھی کفر و سرکشی میں پھنسا دیتا تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس لڑکے کے بدلہ میں دوسرا لڑکا عطا فرما دے جو کہ اس سے بہتر ہو اور وہ دیوار جسے میں نے درست کیا وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچے خزانہ تھا آخر آیت تک۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸۵۰تا١٨٥١؛حدیث نمبر٦٠٤٦)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَقَبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ نَوْفًا يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى الَّذِي ذَهَبَ يَلْتَمِسُ الْعِلْمَ لَيْسَ بِمُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ. قَالَ : أَسَمِعْتَهُ يَا سَعِيدُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : كَذَبَ نَوْفٌ. حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُ بَيْنَمَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي قَوْمِهِ يُذَكِّرُهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ - وَأَيَّامُ اللَّهِ نَعْمَاؤُهُ وَبَلَاؤُهُ - إِذْ قَالَ : مَا أَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ رَجُلًا خَيْرًا، وَأَعْلَمَ مِنِّي. قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : إِنِّي أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ مِنْهُ أَوْ عِنْدَ مَنْ هُوَ، إِنَّ فِي الْأَرْضِ رَجُلًا هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ. قَالَ : يَا رَبِّ، فَدُلَّنِي عَلَيْهِ. قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : تَزَوَّدْ حُوتًا مَالِحًا، فَإِنَّهُ حَيْثُ تَفْقِدُ الْحُوتَ. قَالَ : فَانْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَعُمِّيَ عَلَيْهِ، فَانْطَلَقَ وَتَرَكَ فَتَاهُ، فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمَاءِ، فَجَعَلَ لَا يَلْتَئِمُ عَلَيْهِ، صَارَ مِثْلَ الْكَوَّةِ، قَالَ : فَقَالَ فَتَاهُ : أَلَا أَلْحَقُ نَبِيَّ اللَّهِ فَأُخْبِرَهُ ؟ قَالَ : فَنُسِّيَ، فَلَمَّا تَجَاوَزَا { قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا } قَالَ : وَلَمْ يُصِبْهُمْ نَصَبٌ حَتَّى تَجَاوَزَا، قَالَ : فَتَذَكَّرَ، { قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا } { قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا }، فَأَرَاهُ مَكَانَ الْحُوتِ، قَالَ : هَاهُنَا وُصِفَ لِي. قَالَ : فَذَهَبَ يَلْتَمِسُ، فَإِذَا هُوَ بِالْخَضِرِ مُسَجًّى ثَوْبًا مُسْتَلْقِيًا عَلَى الْقَفَا - أَوْ قَالَ : عَلَى حُلَاوَةِ الْقَفَا - قَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، قَالَ : وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ، مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا مُوسَى. قَالَ : وَمَنْ مُوسَى ؟ قَالَ : مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ. قَالَ : مَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي { مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا } { قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا } { وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا }، شَيْءٌ أُمِرْتُ بِهِ أَنْ أَفْعَلَهُ، إِذَا رَأَيْتَهُ لَمْ تَصْبِرْ. { قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا } { قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا } { فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا } - قَالَ : انْتَحَى عَلَيْهَا - قَالَ لَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ : { أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا } { قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا } { قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا } { فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا } غِلْمَانًا يَلْعَبُونَ، قَالَ : فَانْطَلَقَ إِلَى أَحَدِهِمْ بَادِيَ الرَّأْيِ فَقَتَلَهُ، فَذُعِرَ عِنْدَهَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ذَعْرَةً مُنْكَرَةً، قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَاكِيَةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ هَذَا الْمَكَانِ : " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى، لَوْلَا أَنَّهُ عَجَّلَ لَرَأَى الْعَجَبَ، وَلَكِنَّهُ أَخَذَتْهُ مِنْ صَاحِبِهِ ذَمَامَةٌ . { قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا }، وَلَوْ صَبَرَ لَرَأَى الْعَجَبَ - قَالَ : وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ أَحَدًا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى أَخِي كَذَا، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا - { فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ } لِئَامًا، فَطَافَا فِي الْمَجَالِسِ فَـ { اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا } { قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ }. وَأَخَذَ بِثَوْبِهِ، قَالَ : { سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا } { أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ }، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَإِذَا جَاءَ الَّذِي يُسَخِّرُهَا وَجَدَهَا مُنْخَرِقَةً ؛ فَتَجَاوَزَهَا، فَأَصْلَحُوهَا بِخَشَبَةٍ، وَأَمَّا الْغُلَامُ فَطُبِعَ يَوْمَ طُبِعَ كَافِرًا، وَكَانَ أَبَوَاهُ قَدْ عَطَفَا عَلَيْهِ، فَلَوْ أَنَّهُ أَدْرَكَ أَرْهَقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا، فَأَرَدْنَا أَنْ يُبَدِّلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6046

امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸٥٢؛حدیث نمبر٦٠٤۷)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، كِلَاهُمَا عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، بِإِسْنَادِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، نَحْوَ حَدِيثِهِ.

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6047

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: "(لَتَّخِذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا)" (ترجمہ"آپ اس پر اجرت لیتے") (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸٥٢؛حدیث نمبر٦٠٤۸)

وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ : " لَتَخِذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6048

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کا اور حر بن قیس بن حصن فزاری کا اس بات میں مباحثہ ہوا کہ حضرت موسی علیہ السلام کا صاحب کون تھا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا حضرت خضر علیہ السلام تھے۔ حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ان کو بلا کر فرمایا،اے ابوالطفیل!ہماری طرف آئیےمیرا اور میرے اس ساتھی کا اس بات میں مباحثہ ہوا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کا صاحب کون تھا جس سے حضرت موسی علیہ السلام نے ملاقات کی سبیل کا سوال کیا تھا کیا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے اس کا معاملہ ذکر کیا ہو۔ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہاآپ کے علم میں آپ سے بڑھ کر کوئی عالم ہے؟حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا نہیں۔ اس پر اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ ہمارا بندہ حضرت خضر علیہ السلام ہے پھر حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے ملاقات کی سبیل کا سوال کیا تو اللہ تعالی نے ان کے لیے مچھلی کو علامت قرار دیا اور ان سے کہا گیا کہ جب آپ مچھلی کو گم پائیں تو واپس آجائیں ان سے ملاقات ہو جائے گی پھر جس قدر اللہ تعالی نے چاہاحضرت موسی علیہ السلام چلے پھر اپنےساتھی سے فرمایا ہمارا ناشتہ لاؤ اس نے آپ کے ناشتہ طلب کرنے پر کہا دیکھئے جب ہم چٹان کے پاس پہنچے تو مجھے مچھلی کا ذکر کرنا یاد نہ رہا اور یہ بات مجھے شیطان نے بھلا دی کہ میں آپ سے ذکر کروں حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے فرمایا ہمیں اسی کی تلاش تھی پس وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس ہوئے اور حضرت خضر علیہ السلام کو دیکھا قرآن مجید نے ان دونوں کا واقعہ بیان کیا ہے البتہ یونس راوی کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ وہ مچھلی کے نشان پر جو سمندر میں تھے چلے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْفَضَائِلِ؛بَابُ مِنْ فَضَائِلِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص١۸٥٢،١٨٥٣؛حدیث نمبر٦٠٤۹)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ؛ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هُوَ الْخَضِرُ. فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ : يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، هَلُمَّ إِلَيْنَا ؛ فَإِنِّي قَدْ تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَهَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ ؟ فَقَالَ أُبَيٌّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلَأٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ : هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ ؟ قَالَ مُوسَى : لَا. فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى : بَلْ عَبْدُنَا الْخَضِرُ. قَالَ : فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ : إِذَا افْتَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ ؛ فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ. فَسَارَ مُوسَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسِيرَ، ثُمَّ { قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا }. فَقَالَ فَتَى مُوسَى حِينَ سَأَلَهُ الْغَدَاءَ : { أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ }. فَقَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ : { ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا }، فَوَجَدَا خَضِرًا، فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ ". إِلَّا أَنَّ يُونُسَ قَالَ : " فَكَانَ يَتَّبِعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ ".

Muslim Shareef, Kitabul Fazayele, Hadees No. 6049

Muslim Shareef : Kitabul Fazayele

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْفَضَائِلِ

|

•