
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ، فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ، وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللهُ، وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا، وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ} (ترجمہ)وہی ذات ہے جس نے کتاب اتاری اس کی بعض آیت واضح معنی والی ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں اور دوسری کچھ آیات متشابہات ہیں(جن کا معنی پوشیدہ ہے)" پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ ان آیات کے پیچھے پڑتے ہیں جو قرآن مجید میں متشابہات ہیں وہ فتنہ طلب کرنے اور ان کا معنی معلوم کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں اور اس کا معنی تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور جو لوگ علم میں مبضوط ہیں وہ کہتے ہیں ہم ان پر ایمان لائے یہ سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہے اور صرف عقلمند لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہات کے درپے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا پس ان سے بچو۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّبَاعِ مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ، وَالتَّحْذِيرِ مِنْ مُتَّبِعِيهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الِاخْتِلَافِ فِي الْقُرْآنِ؛جلد٤ص۲۰۵۳؛حدیث نمبر؛٦٦۵۵)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت میں اختلاف کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس وقت آپ کے چہرے سے غضب نمودار تھا آپ نے فرمایا تم سے پہلے لوگ کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّبَاعِ مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ، وَالتَّحْذِيرِ مِنْ مُتَّبِعِيهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الِاخْتِلَافِ فِي الْقُرْآنِ؛جلد٤ص۲۰۵۳؛حدیث نمبر؛٦٦۵٦)
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تمہارا دل(زبان کی)موافقت کرے قرآن پاک پڑھتے رہو جب دل اور زبان میں اختلاف ہو تو اٹھ جاؤ(یعنی جب تک اکتاہٹ نہ ہو پڑھو ورنہ چھوڑ دو) (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّبَاعِ مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ، وَالتَّحْذِيرِ مِنْ مُتَّبِعِيهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الِاخْتِلَافِ فِي الْقُرْآنِ؛جلد٤ص۲۰۵۳؛حدیث نمبر؛٦٦۵۷)
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تمہارے دل(زبان کے)موافق ہوں قرآن مجید پڑھتے رہو اور جب دل موافق نہ رہے تو کھڑے ہوجاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّبَاعِ مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ، وَالتَّحْذِيرِ مِنْ مُتَّبِعِيهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الِاخْتِلَافِ فِي الْقُرْآنِ؛جلد٤ص۲۰۵٤؛حدیث نمبر؛٦٦۵۸)
حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن مجید پڑھو.....اس کے بعد حدیث نمبر ٦٦٥٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّبَاعِ مُتَشَابِهِ الْقُرْآنِ، وَالتَّحْذِيرِ مِنْ مُتَّبِعِيهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الِاخْتِلَافِ فِي الْقُرْآنِ؛جلد٤ص۲۰۵٤؛حدیث نمبر؛٦٦۵۹)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ مبغوض شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابٌ فِي الْأَلَدِّ الْخَصِمِ؛جلد٤ص۲۰۵٤؛حدیث نمبر؛٦٦٦٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ضرور بضرور پہلے لوگوں کے راستے پر چلے گئے،بالشت کے برابر بالشت اور ہاتھ کے برابر ہاتھ حتیٰ کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی ان کی اتباع کرو گے،ہم نے عرض کیا یارسول اللہ!یہود و نصاری؟فرمایا اور کون؟ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ اتِّبَاعِ سُنَنِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى؛جلد٤ص۲۰۵٤؛حدیث نمبر؛٦٦٦۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ اتِّبَاعِ سُنَنِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى؛جلد٤ص۲۰۵۵؛حدیث نمبر؛٦٦٦۲)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ اتِّبَاعِ سُنَنِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى؛جلد٤ص۲۰۵۵؛حدیث نمبر؛٦٦٦۳)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا بال کی کھال نکالنے والے ہلاک ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ؛جلد٤ص۲۰۵۵؛حدیث نمبر؛٦٦٦٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم کا اٹھ جانا،جہالت کا پایا جانا شراب نوشی اور زنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵٦؛حدیث نمبر؛٦٦٦۵)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کیا میں تم سے وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میرے بعد کوئی ایسا شخص تمہیں یہ حدیث نہیں سنائے گا جس نے براہ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو (حدیث یہ ہے)بیشک قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بات ہے کہ علم اٹھ جائے گا،جہالت کا ظہور ہوگا،زنا پھیل جائے گا،شراب نوشی ہوگی،مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں باقی رہ جائیں گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کے لیے ایک مرد نگران ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵٦؛حدیث نمبر؛٦٦٦٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا میرے بعد تمہیں کوئی شخص اس طرح حدیث بیان نہیں کرے گا کہ میں نے رسول اکرم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس کے بعد حدیث نمبر ٦٦٦٦ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵٦؛حدیث نمبر؛٦٦٦٧)
ابو وائل کہتے ہیں میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابو موسی(رضی اللہ عنہم)کے پاس بیٹھا ہوا تھا انہوں نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے چند دن پہلے علم اٹھ جائے گا اس میں جہالت پھیل جائے گی اور کثرتِ خون ریزی ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵٦؛حدیث نمبر؛٦٦٦٨)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے دو سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا...اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵٦؛حدیث نمبر؛٦٦٦۹)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے حدیث نمبر ٦٦٦٦ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵۷؛حدیث نمبر؛٦٦۷۰)
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں میں حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا...اس کے بعد حدیث نمبر ٦٦٦٦ کے مثل مروی ہے. (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵۷؛حدیث نمبر؛٦٦۷۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ باہم قریب ہو جاے گا اور علم اٹھ جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے دلوں میں بخل ڈال دیا جائے گا اور بکثرت ھرج ہوگا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا ھرج کیا ہے؟آپ نے فرمایا"قتل" (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵۷؛حدیث نمبر؛٦٦۷۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ قریب ہوجاے گا اور علم اٹھ جائے گا...اس کے بعد حدیث نمبر ٦٦٧٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵۷؛حدیث نمبر؛٦٦۷۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ باہم قریب ہوجائے گا اور علم اٹھ جاے گا...اس کے بعد حدیث نمبر ٦٦٧٢ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵۷؛حدیث نمبر؛٦٦۷٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے چار سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت ذکر کی ہے جو زہری کی روایت کی مثل ہے(حدیث نمبر ٦٦٧٢ کے مثل)البتہ اس میں بخل کے ڈالے جانے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵۷؛حدیث نمبر؛٦٦۷۵)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ لوگوں سے علم کو نہیں چھینے گا لیکن علماء کو اٹھاکر علم کو اٹھاے گا حتیٰ کہ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جہلاء کو سردار بنا لیں گے ان سے سوال کیا جائے گا پس وہ علم کے بغیر فتویٰ دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵۸؛حدیث نمبر؛٦٦۷٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی آٹھ سندیں اور بیان کی ہیں آٹھویں سند میں ہے کہ سال کے اختتام پر عمرو بن علی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے ملاقات کی فرماتے ہیں میں نے ان سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جس طرح بیان کیا تھا اس حدیث کو دہرایا اور فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵۸؛حدیث نمبر؛٦٦۷۷)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٦٧٦ کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵۸؛حدیث نمبر؛٦٦۷۸)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں(ام المؤمنين)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا اے میرے بھانجے!حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ حج کے موقعہ پر ہمارے پاس سے گزرنے والے ہیں تم ان سے ملاقات کر کے سوال کرنا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ علم حاصل کیا ہے فرماتے ہیں میں نے ان سے ملاقات کر کے کئی باتوں کے بارے میں سوال کیا جن کے بارے میں وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔انہوں نے ذکر کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ لوگوں(کے دلوں)سے علم کو نہیں نکالے گا البتہ علماء کو اٹھا لے گا اور ان کے ساتھ ہی علم کو اٹھا لے گا اب لوگوں کے درمیان جاہل لوگ رہ جائیں گے جو ان کو علم کے بغیر فتویٰ دیں گے پس خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں نے یہ حدیث حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی تو انہوں نے اسے سخت جانا اور انکار کیا فرمایا کیا انہوں نے تم سے یوں بیان کیا کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے اس طرح فرمایا۔حضرت عروہ فرماتے ہیں جب دوسرا سال آیا تو ام المؤمنين نے ان سے فرمایا حضرت عبداللہ بن عمرو تشریف لائے ہیں ان سے ملاقات کرکے ان سے پھر اسی حدیث کے بارے میں سوال کرو جو انہوں نے علم کے بارے میں تم سے بیان کی تھی فرماتے ہیں میں نے ان سے ملاقات کی اور سوال کیا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا جس طرح پہلی مرتبہ بیان کیا تھا۔حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں نے یہ بات حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بتائی تو انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے کہ وہ سچے ہیں اور انہوں نے حدیث میں کوئی کمی زیادتی نہیں کی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ؛جلد٤ص۲۰۵۹؛حدیث نمبر؛٦٦۷۹)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ دیہاتی اونی کپڑے پہنے ہوئے حاضر ہوے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بدحالی کو ملاحظہ فرمایا اور ان کی حاجت کو دیکھا جو ان کو پہنچی تھی آپ نے صحابہ کرام کو صدقہ دینے کی ترغیب دی انہوں نے کچھ دیر کی جس سے آپ کے چہرے انور پر اس کا اثر دکھائی دیا۔ پھر ایک انصاری درہموں کی ایک تھیلی لے کر آیا پھر دوسرا آیا پھر لانے والوں کا تانتا بندھ گیا اس کے بعد آپ کے چہرے انور پر خوشی کے آثار دکھائی دئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اور اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا تو اس کے لیے عمل کرنے والوں کے اجر برابر ثواب لکھا جاے گا اور ان لوگوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی اور جو شخص اسلام میں برا طریقہ جاری کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے تو اس پر عمل کرنے والوں کے گناہ کی مثل لکھا جاے گا اور ان لوگوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً وَمَنْ دَعَا إِلَى هُدًى أَوْ ضَلَالَةٍ؛ترجمہ؛اچھا یا برا طریقہ جاری کرنا اور ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانا؛جلد٤ص۲۰۵۹؛حدیث نمبر؛٦٦۸۰)
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے صدقہ کی ترغیب دی اس کے حدیث نمبر ٦٦٨٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً وَمَنْ دَعَا إِلَى هُدًى أَوْ ضَلَالَةٍ؛جلد٤ص۲۰٦٠؛حدیث نمبر؛٦٦۸۱)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کوئی اچھا کام جاری کرے اس کے بعد حدیث نمبر ٦٦٨٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً وَمَنْ دَعَا إِلَى هُدًى أَوْ ضَلَالَةٍ؛جلد٤ص۲۰٦٠؛حدیث نمبر؛٦٦۸۲)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی مزید چار سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً وَمَنْ دَعَا إِلَى هُدًى أَوْ ضَلَالَةٍ؛جلد٤ص۲۰٦٠؛حدیث نمبر؛٦٦۸۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے ہدایت کی طرف دعوت دی اس کے لیے اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر اجر ہوگا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی اور جس شخص نے کسی کو گمراہی کی طرف بلایا تو ان لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا جو اس کی پیروی کریں گے اور ان کے گناہوں میں بھی کمی نہ ہوگی۔ (ہر نیا کام لغوی معنی کے اعتبار سے بدعت کہلاتا ہے لیکن ہر کام برا نہیں ہوتا بعض اچھے کام ہوتے ہیں جس طرح یہاں حدیث میں بیان کیا گیا لہٰذا ہر نئے کام کو بدعت کہ کر ٹھکرا دینا جہالت ہے) (مسلم شریف؛كتاب الْعِلْمِ؛بَابُ مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً وَمَنْ دَعَا إِلَى هُدًى أَوْ ضَلَالَةٍ؛جلد٤ص۲۰٦٠؛حدیث نمبر؛٦٦۸٤)
Muslim Shareef : Kitabul Ilme
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْعِلْمِ
|
•