
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں جب ہم(ازواج مطہرات)میں سے کوئی ایک حالت حیض میں ہوتیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو حکم دیتے وہ چادر باندھ لیتیں پھر ان کے ساتھ لیٹ جاتے۔(مسلم شریف كِتَابُ الْحَيْضِ؛بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ فَوْقَ الْإِزَارِ؛ترجمہ؛ملبوس حائضہ کے ساتھ لیٹنا؛جلد١ص٢٤٢؛حدیث نمبر٥٨٧)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔جب ہم(ازوج مطہرات) میں سے کوئی حائضہ ہوتی اور اسکا خون جوش سے نکل رہا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسکو چادر باندھنے کا حکم دیتے پھر اسکو اپنے ساتھ لٹا لیتے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اور تم میں سے کون اپنی خواہش کو ضبط کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح قادر ہے (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ فَوْقَ الْإِزَارِ؛جلد١ص٢٤٢؛حدیث نمبر ٥٨٨)
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کے چادر باندھنے کے بعد انکو ساتھ لٹاتے جبکہ وہ حیض والی ہوتی۔(بیوی سے حالت حیض میں جماع کرنا حرام ہے البتہ اس کے ساتھ لیٹ جانا اور بوس وکنار حرام نہیں لیکن یہ بھی اس شخص کے لئے جائز ہے جو اپنے اوپر کنٹرول اور ضبط رکھتا ہو ورنہ جماع کا خطرہ ہے لہذا بچنا چاہیے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ فَوْقَ الْإِزَارِ؛جلد١ص٢٤٣؛حدیث نمبر٥٨٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت کریب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ لیٹ جاتے اور میں حیض والی ہوتی تھی۔اور ہمارے درمیان صرف ایک کپڑا ہوتا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الَاضْطِجَاعِ مَعَ الْحَائِضِ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ؛ترجمہ؛حائضہ کے ساتھ ایک چادر میں لیٹنا؛جلد١ص٢٤٢؛حدیث نمبر٥٩٠)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں ایک چادر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آگیا۔میں خاموشی سے نکل گئی اور اپنے حیض والے کپڑے لے لئے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کیا تمہیں حیض آگیا ہے؟میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے مجھے بلا لیا اور میں ایک چادر میں آپکے ساتھ لیٹ گئی۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک برتن میں جنابت کا غسل کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الَاضْطِجَاعِ مَعَ الْحَائِضِ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ؛جلد١ص٢٤٣؛حدیث نمبر٥٩١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف فرماتے تو اپنا سر انور میرے قریب کرتے۔پس میں اس میں کنگھی کرتی اور آپ انسانی حاجت(پیشاب وغیرہ)کے علاوہ گھر میں تشریف نہ لاتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛ترجمہ؛حائضہ عورت کے لئے اپنے خاوند کا سر دھونے،بالوں میں کنگھی کرنے کا جواز،اسکے جھوٹے کا پاک ہونا،اسکی گود میں سر رکھنے اور اسکی گود میں قرآن پڑھنے کا جواز؛ جلد١ص ٢٤٤؛حدیث نمبر٥٩٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،فرماتی ہیں(حالت اعتکاف میں)میں حاجت کے لیے گھر میں داخل ہوتی اور گھر میں مریض ہوتا لیکن میں اس کی بیمار پرسی چلتے چلتے کرتی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر انور میرے قریب کرتے اور آپ مسجد میں ہوتے تو میں اس میں کنگھی کرتی اور جب آپ معتکف ہوتے تو گھر میں صرف حاجت کے لیے تشریف لاتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٤؛حدیث نمبر٥٩٣)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے اپنا سر انور میری طرف کرتے اور آپ معتکف ہوتے تو میں اسے دھوتی حالانکہ میں حالت حیض ہوتی۔(مسلم شریف كِتَابُ الْحَيْضِ بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٤؛حدیث نمبر ٥٩٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر انور میرے قریب کرتے اور میں اپنے حجرے میں ہوتی پس میں آپکے سر انور میں کنگھی کرتی جبکہ میں حالت حیض میں ہوتی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٤؛حدیث نمبر ٥٩٥)
ایک دوسری سند کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر انور دھوتی اور میں حالت حیض میں ہوتی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٤؛حدیث نمبر٥٩٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے مسجد سے جائےنماز اٹھا دو میں نے عرض کیا کہ میں حائضہ ہوں آپ نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٤؛حدیث نمبر ٥٩٧)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپکو مسجد سے جانماز پکڑا دوں۔میں نے عرض کیا کہ میں حالت حیض میں ہوں آپ نے فرمایا مجھے یہ پکڑا دو تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٥؛حدیث نمبر ٥٩٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے تو آپ نے فرمایا اے عائشہ مجھے کپڑا پکڑا دو۔انہوں نے عرض کیا میں حیض کی حالت میں ہوں۔آپ نے فرمایا تمہارا حیض ہاتھ میں نہیں(فرماتی ہیں)پس میں نے آپکو وہ کپڑا پکڑا دیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٥؛حدیث نمبر ٥٩٩)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں(پانی)پیتی اور میں حالت حیض میں ہوتی پھر میں وہ(برتن)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتی تو آپ اس جگہ منہ مبارک لگاتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا پس آپ نوش فرماتے اور میں ہڈی سے گوشت(دانتوں کے ساتھ)نوچتی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتی تو آپ اسی جگہ دہن مبارک لگاتےجو میرے منہ لگانے کی جگہ ہوتی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٥؛حدیث نمبر ٦٠٠)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید کی تلاوت فرماتے اور میں حیض کی حالت میں ہوتی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٦؛حدیث نمبر ٦٠١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ لوگ اسکے ساتھ نہ کھانا کھاتے نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے ہوتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے آپ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی۔ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} [البقرة: ٢٢٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ،("اور آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ فرما دیجئے یہ ناپاکی ہے پس حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو") تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جماع کے علاوہ سب کچھ کر سکتے ہو۔یہودیوں تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا یہ شخص ہماری ہر بات کی مخالفت کرتا ہے اس پر حضرت اسید بن حفیراور حضرت بشر بن عباد رضی اللہ عنہما نے حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ یہودی اس طرح اس طرح کہتے ہیں تو کیا ہم عورتوں سے جماع نہ کیا کریں؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا حتیٰ کہ ہم نے سمجھا آپ ان دونوں سے ناراض ہوگئے ہیں۔وہ دونوں نکل کھڑے ہوئے تو ان کے سامنے سے دودھ کا تحفہ بارگاہ رسالت میں لایا جارہا تھا۔آپ نے ان دونوں کو بلاکر دودھ پلایا تو پتہ چلا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ غُسْلِ الْحَائِضِ رَأْسَ زَوْجِهَا وَتَرْجِيلِهِ وَطَهَارَةِ سُؤْرِهَا وَالَاتِّكَاءِ فِي حِجْرِهَا وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِيهِ؛جلد١ص٢٤٦؛حدیث نمبر ٦٠٢)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے مذی(محض خیالات یا تصورات سے انسان کی شرمگاہ سے جو مادہ نکلتا ہے اور اس میں اچھل کود نہیں ہوتی اسے مذی کہتے ہیں)بہت آتی تھی پس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں جھجھک محسوس کرتا تھا۔کیونکہ آپکی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں تو میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں۔انہوں نے پوچھا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیں اور وضو کریں(غسل کی ضرورت نہیں)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمَذْي؛ترجمہ؛مذی کا حکم؛جلد١ص٢٤٧؛حدیث نمبر ٦٠٣)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔آپ فرماتے ہیں میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں پوچھتے ہوئے حیا محسوس کرتا تھا تو میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا انہوں نے پوچھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے وضو لازم ہے۔(غسل نہیں) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمَذْي؛جلد١ص٢٤٧؛حدیث نمبر ٦٠٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت علی المرتضٰی نے فرمایا کہ میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ آپ سے مذی کے بارے میں پوچھیں جو انسان سے نکلتی ہے کہ اسکا کیا حکم ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو کرو اور شرمگاہ کو دھوؤ۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمَذْي؛جلد١ص٢٤٧؛حدیث نمبر ٦٠٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیدار ہوۓ تو قضائے حاجت فرمانے کے بعد اپنا چہرہ انور اور ہاتھ دھوۓ پھر آرام فرما ہوئے۔(قضائے حاجت کے بعد بہتر تو یہ ہے کہ وضو کیا جائے اور اگر جماع ہو تو غسل کیا جائے پھر سو جاۓایسا نہ ہوسکے تو وضو کر لیں ورنہ منہ ہاتھ ہی دھو لیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل جواز کے طور پر تھا)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ غَسْلِ الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ النَّوْمِ؛ترجمہ؛بیدار ہونے پر چہرے اور ہاتھوں کو دھونا؛جلد١ص٢٤٨؛حدیث نمبر ٦٠٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آرام فرما ہونے کا ارادہ فرماتے اور آپ حالت جنابت میں ہوتے تو سونے سے پہلے نماز کے وضو جیسا وضو فرماتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛ترجمہ؛جنوبی کے لیے سونے کا جواز اور اسکے لئے کھانے پینے کے وقت یا جماع سے پہلے استنجاءاور وضو کرنے کا استحباب؛جلد١ص٢٤٨؛حدیث ٦٠٧)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنبی ہوتے اور کچھ تناول فرمانے یا سونے کا ارادہ فرماتے تو نماز کے وضو جیسا وضو کرتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٨؛حدیث نمبر ٦٠٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر٦٠٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٨؛حدیث نمبر٦٠٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے۔فرمایا ہاں جب وضو کرے(وضو کرنا بہتر ہے)۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٨؛حدیث نمبر ٦١٠)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں اسے چاہیے کہ وضو کر کے سو جائے پھر جب چاہے غسل کرے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر ٦١١)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ رات کے وقت جنبی ہو جاتے ہیں تو آپ نے فرمایا وضو کرو اور اپنی شرمگاہ کو دھو لو پھر سو جاؤ۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر ٦١٢)
حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے حدیث ذکر کی۔میں نے کہا کہ آپ جنابت کی حالت میں کیا کرتے تھے کیا آرام فرما ہونے سے پہلے غسل فرماتے یا غسل کرنے سے پہلے آرام فرماتے۔ام المؤمنين نے فرمایا دونوں طرح کرتے تھے۔بعض اوقات غسل کرکے آرام فرماتے اور کبھی وضو کرکے آرام فرما ہوجاتے۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے لیے تعریف(اور اسکا شکر)ہے کہ اس نے(دین کے)معاملے میں آسانی رکھی ہے۔(بہتر یہی ہے کہ غسل کرے لیکن ایسا نہ ہو سکے تو بھی کوئی حرج نہیں)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر٦١٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦١٣کی مثل مروی ہے۔(بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر٦١٤)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک اپنی بیوی کے پاس جاۓ پھر دوبارہ جانا چاہے تو وضو کرے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ،وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر ٦١٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازوج مطہرات کے پاس ایک غسل کے ساتھ تشریف لے جاتے(یعنی آخر میں غسل فرماتے)(اگر دوبارہ جماع کرنا چاہے تو بہتر یہ ہے کہ وضو کرلے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ نَوْمِ الْجُنُبِ وَاسْتِحْبَابُِ الْوُضُوءِ لَهُ، وَغَسْلِ الْفَرْجِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ أَوْ يَنَامَ أَوْ يُجَامِعَ؛جلد١ص٢٤٩؛حدیث نمبر ٦١٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلیم جو اسحاق بن طلحہ راوی کی دادی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی وہاں موجود تھیں۔حضرت ام سلیم نے عرض کیا یا رسول اللہ!اگر عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے اور اپنے نفس سے وہ بات دیکھے جو مرد اپنے نفس سے دیکھتا ہے(احتلام مراد ہے)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اے ام سلیم!تم نے عورتوں کو رسوا کر دیا تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو(اس لفظ کو اچھے معنیٰ میں استعمال کیا)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ!بلکہ تیرا ہاتھ خاک آلود ہو(مطلب یہ ہے کہ انہوں نے مسئلہ پوچھ کر اچھا کیا لہٰذا ان پر ناراضگی ظاہر نہ کرے۔)ہاں عورت کو غسل کرنا چاہیے جب یہ حالت دیکھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛ترجمہ؛احتلام کی صورت میں عورت پر بھی غسل فرض ہے؛جلد١ص٢٥٠؛ حدیث نمبر ٦١٧)
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر عورت یہ بات دیکھے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔حضرت ام سلیم نے شرماتے ہوئے پوچھا کیا ایسا ہوتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہوتا ہے۔بچے کی(ماں سے)مشابہت کہاں سے ہوتی ہے۔مرد کا مادہ منویہ گاڑھا سفید اور عورت کا مادہ منویہ پتلا زرد رنگ کا ہوتا ہے ان میں سے جو اوپر ہوجائے یا(فرمایا)سبقت کر جاۓاسی سے مشابہت ہوتی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥٠؛حدیث نمبر ٦١٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو خواب میں وہ کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس سےوہ بات ہو جو مرد سے ہوتی ہے (احتلام ہو)تو وہ غسل کرے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥٠؛حدیث نمبر ٦١٩)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتی ہیں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کرعرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں فرماتا کیا عورت پر غسل(فرض)ہے جب اسے احتلام آۓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب وہ پانی(مادہ منویہ)دیکھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟آپ نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں کس وجہ سے بچہ اس (ماں)کے مشابہ ہوتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥١؛حدیث نمبر ٦٢٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٢٠کی مثل مروی ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تم نے عورتوں کو رسوا کیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥١؛حدیث نمبر ٦٢١)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا خبر دیتی ہیں کہ ابو طلحہ کےبیٹوں کی ماں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔اس کے بعد حدیث نمبر ٦٢٠کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یہ ہے کہ حضرت ام المومنین نے فرمایا۔میں نے اس سے کہا تجھ پر افسوس ہے۔کیا عورت بھی یہ(احتلام)دیکھی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥١؛حدیث نمبر ٦٢٢)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا عورت پر بھی غسل فرض ہوجاتا ہے۔جب اسکو احتلام آئے اور پانی دیکھے۔آپ نے فرمایا ہاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خاتون سے فرمایا۔تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں اور زخمی ہوں فرماتی ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دو۔بچہ اسی وجہ سے ماں کے مشابہ ہوتا ہے۔جب اسکا مادہ منویہ خاوند کے مادہ پر غالب آجانا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کی شکل پر ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی اس کے پانی پر غالب آتے تو بچہ چچاؤں کے زیادہ مشابہ ہوتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا؛جلد١ص٢٥١؛حدیث نمبر ٦٢٣)
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو مولیٰ (آزاد غلام) تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ انہوں کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا تھا کہ اتنے میں یہود کے عالموں میں سے ایک عالم آیا اور بولا:«السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ»!میں نے اس کو ایک دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا۔ وہ بولا:تو کیوں دھکا دیتا ہے۔میں نے کہا: تو (نام لیتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اور) رسول اللہ کیوں نہیں کہتا۔ وہ بولا: ہم ان کو اس نام سے پکارتے ہیں جو ان کے گھر والوں نے رکھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا نام جو گھر والوں نے رکھا وہ محمد ہے۔“ یہودی نے کہا کہ میں آپکے پاس کچھ پوچھنے کو آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا میں اگر تجھے کچھ بتلاؤں تو تجھ کو فائدہ ہو گا۔“ اس نے کہا: میں کان سے سنوں گا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی اس سے زمین کو کریدنا شروع کردیا اور فرمایا پوچھو یہودی نے کہا: جب زمین دوسری زمین سے بدل جائے گی اور آسمان لپیٹ دیے جائیں گے تو لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اس وقت اندھیرے میں پل صراط کے پاس کھڑے ہوں گے۔“ اس نے پوچھا: پھر سب سے پہلے کون لوگ اس پل سے پار ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجرین میں جو محتاج ہیں۔“ (مہاجرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھر بار چھوڑ کر نکل گئے اور فقر و فاقہ کی تکلیف پر صبر کیا اور دنیا پر لات ماری) یہودی نے کہا: پھر جب وہ لوگ جنت میں جائیں گے تو ان کا پہلا ناشتہ کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مچھلی کے جگر کا ٹکڑا۔ (جو نہایت مزیدار اور مقوی ہوتا ہے) اس نے کہا: پھر صبح کا کھانا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بیل کاٹا جائے گا ان کے لئے جو جنت کے کنارے چرا کرتا تھا۔“ پھر اس نے پوچھا: یہ کھا کر وہ کیا پئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک چشمہ کا پانی جس کا نام سلسبیل ہے۔“ اس یہودی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا اور میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھنے آیا ہوں جس کو زمین والوں میں کوئی نہیں جانتاسوائے نبی کے شاید اور ایک دو آدمی جانتے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں یہ بات تجھے بتا دوں تو تجھے فائدہ ہو گا“؟ اس نے کہا: میں اپنے کان سے سن لوں گا۔ پھر اس نے کہا میں بچہ کے متعلق پوچھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد کا پانی سفید ہے اور عورت کا پانی زرد ہے جب یہ دونوں اکھٹے ہوتے ہیں اور مرد کی منی عورت کی منی پر غالب ہوتی ہے تو اللہ کے حکم سے لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اور جب عورت کی منی غالب ہوتی ہے مرد کی منی پر تو لڑکی پیدا ہوتی ہے اللہ کے حکم سے۔“ یہودی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا اور بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں۔ پھروہ چلا گیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے مجھ سے یہ باتیں پوچھی ہیں مجھے(پہلے)ان باتوں کا علم نہ تھا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان باتوں کا علم عطاء فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ بَيَانِ صِفَةِ مَنِيِّ الرَّجُلِ، وَالْمَرْأَةِ وَأَنَّ الْوَلَدَ مَخْلُوقٌ مِنْ مَائِهِمَا؛ترجمہ؛مرد اور عورت کی منی کی خصوصیات اور یہ کہ بچہ ان دونوں کے منی سے پیدا ہوتا ہے؛ جلد١ص٢٥٢؛ حدیث نمبر ٦٢٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٢٤ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور کچھ الفاظ کا اختلاف ہے(مفہوم وہی ہے) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ بَيَانِ صِفَةِ مَنِيِّ الرَّجُلِ، وَالْمَرْأَةِ وَأَنَّ الْوَلَدَ مَخْلُوقٌ مِنْ مَائِهِمَا؛جلد١ص٢٥٣؛حدیث نمبر ٦٢٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو آغاز یوں کرتے کہ اپنے ہاتھوں کو دھوتے۔پھر دائیں سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور شرمگاہ کو دھوتے پھر نماز کے وضو جیسا وضو کرتے پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے یہاں تک کہ جب دیکھتے کہ تمام بال تر ہوگئے ہیں تو دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر تین بار تمام جسم پر ڈالتے پھر پاؤں مبارک دھوتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛ترجمہ؛غسل جنابت کا طریقہ؛جلد١ص٢٥٣؛ حدیث نمبر ٦٢٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٢٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں پاؤں دھونے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب صفۃ غسل الجنابۃ؛جلد١ص٢٥٣؛حدیث نمبر ٦٢٧)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت سے غسل فرمایا تو آغاز کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا پھر حدیث ٦٢٦ کی مثل ذکر کیا لیکن پاؤں دھونے کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب صفۃ غسل الجنابۃ؛جلد١ص٢٥٤؛حدیث نمبر ٦٢٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو ابتدا کرتے ہوئے ہاتھوں کو برتن میں ڈالنے سےپہلےدھو لیتے پھر نماز کے وضو جیسا وضو فرماتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛جلد١ص٢٥٤؛حدیث نمبر٦٢٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔میری خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا۔وہ فرماتی ہیں۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے لیے پانی آپکے قریب کیا آپ نے اپنے ہاتھوں کو دو یا تین مرتبہ دھویا پھر برتن میں ہاتھ ڈالا پھر اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا اور اسے بائیں ہاتھ سے دھویا پھر بائیں ہاتھ کو زمین پر اچھی طرح رگڑا پھر نماز کے وضو جیسا وضو کیا۔اسکے بعد دونوں ہاتھوں سے سر انور پر تین چلو پانی ڈالے۔اسکے بعد تمام جسم مبارک کو دھویا پھر اپنی جگہ سے الگ ہو کر پاؤں مبارک دھوۓ(ام المومنین فرماتی ہیں)پھر میں نے آپکو رومال(تولیہ)پیش کیا تو آپ نے واپس کردیا۔(جلدی کی وجہ سے شاید ایسا کیا)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛جلد١ص٢٥٤؛حدیث نمبر ٦٣٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٣٠ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں سر انور پر تین چلو پانی ڈالنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔اس میں وضو کے طریقے کا بیان ہے اور دوسری سند میں رومال کا(تولیہ) کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛جلد١ص٢٥٤؛حدیث نمبر ٦٣١)
ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رومال(تولیہ) لایا گیا تو آپ نے اسے نہ چھوا اور ہاتھوں سے پانی جھاڑنے لگے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛جلد١ص٢٥٤؛حدیث نمبر ٦٣٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ غسل جنابت فرماتے تو دودھ دوہنے کے برتن جیسا برتن منگواتے اور چلو میں پانی لے کر سر کی داہنی جانب سے آغاز فرماتے پھر دونوں چلوؤں میں پانی لیتے اور اسے سر انور پر بہاتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ صِفةِ غُسْلِ الْجَنَابَةِ؛جلد١ص٢٥٥؛حدیث نمبر٦٣٣)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرق(ایک برتن ہے جسمیں تین صاع یعنی ساڑھے تیرہ لیٹر پانی آتا ہے) سے غسل جنابت فرماتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛ترجمہ؛غسل جنابت کے لیے پانی اور مرد و عورت کا ایک برتن سے غسل کرنا؛جلد١ص٢٥٥؛حدیث نمبر ٦٣٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پیالے سے غسل فرماتے اور وہ فرق ہے اور میں اور آپ دونوں ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔حضرت سفیان فرماتے ہیں فرق تین صاع(ساڑھے تیرہ لیٹر)کا ہوتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٥؛حدیث نمبر ٦٣٥)
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ام المومنین کے ایک رضاعی بھائی بھی ساتھ تھے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو ام المؤمنين نے ایک صاع کے برابر ایک برتن منگوایا اور اپنے اور ہمارے درمیان پردہ ڈال کر غسل کرنے لگیں انہوں نے تین مرتبہ سر پر پانی ڈالا۔راوی فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سر کے بال کاٹ دیتی تھیں حتیٰ کہ وہ کندھوں کے برابر رہ جاتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٥؛حدیث نمبر ٦٣٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو دائیں ہاتھ سے شروع فرماتے۔اس پر پانی ڈال کر دھوتے پھر دائیں ہاتھ سے نجاست(جو آپکی ذات کی مناسبت سے ہوتی)پر پانی ڈالتے اور بائیں ہاتھ سے دھوتے حتیٰ کہ جب اس سے فارغ ہوتے تو سر مبارک پر پانی ڈالتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے حالانکہ ہم دونوں جنبی ہوتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٦؛حدیث نمبر ٦٣٧)
حضرت حفصہ بنت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہم جو حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔روایت کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انکو خبر دی کہ وہ(ام المؤمنين)اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے جو تین مد کا(مد ایک سیر کو کہتے ہیں)یا اس کے قریب تھا)(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٦؛حدیث نمبر٦٣٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل جنابت کرتے تھے اور ہمارے ہاتھ باری باری اس میں جاتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٦؛حدیث نمبر٦٣٩)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے جو ہمارے درمیان ہوتا تو آپ مجھ سے جلدی کرتے حتیٰ کہ میں کہتی میرے لئے چھوڑیں میرے لئے چھوڑیں اور دونوں حالت جنابت میں ہوتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٧؛حدیث نمبر ٦٤٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٧؛حدیث نمبر٦٤١)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے(غسل سے)بچے ہوئے پانی سے غسل کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٧؛حدیث نمبر ٦٤٢)
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ وہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے جنابت کا غسل کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٧؛حدیث نمبر ٦٤٣)
حضرت عبد اللہ بن عبداللہ بن جبر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ مکوک(پونے سات لیٹر)سے غسل کرتے تھے اورایک مکوک سے(ایک لیٹر)وضو فرماتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٧؛حدیث ٦٤٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد سے وضو اور ایک صاع یعنی پانچ مد تک سے غسل فرماتے تھے (مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٨؛حدیث نمبر ٦٤٥)
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل جنابت اور ایک مد سے وضو کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٨؛حدیث نمبر ٦٤٦)
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع(چار کیلو)پانی سے غسل فرماتے اور ایک(ایک کیلو)سے وضو فرماتے تھے (مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ؛جلد١ص٢٥٨؛حدیث نمبر ٦٤٧)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کرام کا غسل کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔بعض حضرات نے کہا کہ میں تو اتنے اتنے پانی سے اپنا سر دھوتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے سر پر(دونوں ہاتھوں سے بھر کر)تین چلو پانی ڈالتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى الرَّأْسِ وَغَيْرِهِ ثَلَاثًا؛ترجمہ؛سر وغیرہ پر تین مرتبہ پانی بہانا مستحب ہے؛جلد١ص٢٥٨؛حدیث نمبر٦٤٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل جنابت کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى الرَّأْسِ وَغَيْرِهِ ثَلَاثًا؛جلد١ص٢٥٩؛حدیث نمبر ٦٤٩)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں کہ ثقیف کے وفد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سرد علاقے میں رہتے ہیں تو غسل کے لئے کیا کریں۔آپ نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى الرَّأْسِ وَغَيْرِهِ ثَلَاثًا؛جلد١ص٢٥٩؛حدیث نمبر ٦٥٠)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کا غسل فرماتے تو اپنے سر انور پر تین چلو پانی ڈالتے۔حضرت حسن بن محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا تیرے بال زیادہ ہیں۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھتیجے!رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تمہارے بالوں سے بھی زیادہ تھے اور نہایت پاکیزہ بھی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى الرَّأْسِ وَغَيْرِهِ ثَلَاثًا؛جلد١ص٢٥٩؛حدیث نمبر ٦٥١)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے مینڈھیوں کو سخت کر کے باندھتی ہوں تو کیا میں غسل جنابت کے لیے انکو کھولوں؟آپ نے فرمایا نہ بلکہ تیرے لئے تین چلو پانی ڈالنا کافی ہے۔پھر اپنے اوپر پانی بہا کر پاک ہو جاؤ۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ حُكْمِ ضَفَائِرِ الْمُغْتَسِلَةِ؛ترجمہ؛غسل میں مینڈھیوں کا حکم؛جلد١ص٢٥٩؛ حدیث نمبر ٦٥٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٥٢ کی مثل مروی ہے اور اس میں یوں آیا ہے کہ کیا میں حیض اور جنابت(کے غسل)کے لئے انکو کھولوں(آگے حدیث نمبر ٦٥٢ کی طرح ہے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ حُكْمِ ضَفَائِرِ الْمُغْتَسِلَةِ؛جلد١ص٢٦٠؛حدیث نمبر ٦٥٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٥٢ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے کہ کیا میں انکو کھول کر غسل جنابت کروں حیض کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ حُكْمِ ضَفَائِرِ الْمُغْتَسِلَةِ؛جلد١ص٢٦٠؛حدیث نمبر ٦٥۴)
حضرت عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پہنچی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کرتے وقت اپنے سروں کے بالوں کو کھولیں تو انہوں نے فرمایا ابن عمر پر تعجب ہے۔وہ عورتوں کو اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ وہ سروں کے بالوں کو کھولیں اور انکو سر منڈوانے کا حکم نہیں دیتے(پھر فرمایا)میں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور میں اپنے سر پر صرف تین چلو پانی ڈالتی تھی اس پر کچھ اضافہ نہیں کرتی تھی۔(چونکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا تھا اس لئے انہوں نے یہ بات فرمائی اگر بالوں کی جڑوں تک پانی نہ پہنچے تو مینڈھیوں کو کھولنا ضروری ہوگا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ حُكْمِ ضَفَائِرِ الْمُغْتَسِلَةِ؛جلد١ص٢٦٠؛حدیث نمبر ٦٥٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ سے پوچھا کہ وہ حیض سے کیسے غسل کریں ام المؤمنين فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو غسل کا طریقہ بتایا اور فرمایا پھر وہ خوشبو لگا ہوا ایک کپڑا لے کر اس کے ساتھ طہارت حاصل کرے اس نے پوچھا میں اس کے ساتھ طہارت کس طرح حاصل کروں۔آپ نے فرمایا اس کے ساتھ طہارت حاصل کرو اور اسکے ساتھ ہی آپ نے سبحان اللہ کہتے ہوئے(شرم سے)اپنا چہرہ چھپا لیا۔(سفیان راوی نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اشارے سے سمجھایا)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس خاتون کو اپنی طرف کھینچا اور میں سمجھ گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کیا ہے تو میں نے کہا اس کے کپڑے کے ساتھ خون کا اثر دور کرو۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں کچھ الفاظ کا فرق ہے معنیٰ وہی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِعْمَالِ الْمُغْتَسِلَةِ مِنَ الْحَيْضِ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فِي مَوْضِعِ الدَّمِ؛ترجمہ؛حیض والی عورت کا خوشبو استعمال کرنا؛جلد١ص٢٦٠؛حدیث نمبر ٦٥٦)
ایک اور سند کے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں(حیض سے)پاکیزگی حاصل ہونے پر غسل کیسے کروں۔آپ نے فرمایا ایک کپڑا لو جسکے ساتھ خوشبو ہو تو اسکے ساتھ وضو کرو(یعنی خون صاف کرو)(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِعْمَالِ الْمُغْتَسِلَةِ مِنَ الْحَيْضِ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فِي مَوْضِعِ الدَّمِ؛جلد١ص٢٦١؛حدیث نمبر ٦٥٧)
حضرت صفیہ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا۔بیری کے پتوں والا پانی لے کر اچھی طرح صفائی کرے۔پھر سر پر پانی ڈالے اور اسے اچھی طرح ملے حتیٰ کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر اسکے اوپر پانی بہاے پھر خوشبو لگا ہوا کپڑا لے اور اسکے ساتھ طہارت حاصل کرے۔حضرت اسماء نے پوچھا۔اس سے کیسے طہارت حاصل کروں آپ نے فرمایا سبحان اللہ!اس سے طہارت حاصل کرو حضرت عائشہ نے چپکے سے انکو بتایا کہ اس کپڑے کے ذریعے خون کا اثر زائل کرو اور انہوں نے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا پانی لے کر اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرو(فتحسن الطہور فرمایا یا تبلغ الطہور فرمایا راوی کو شک ہے مفہوم ایک ہی ہے) پھر اپنے سر پر پانی بہاؤ اور اسکو ملو حتیٰ کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر اپنے اوپر پانی بہاؤ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا انصار کی عورتیں اچھی عورتیں ہیں کہ دین کی سمجھ حاصل کرنے میں ان کے لئے رکاوٹ نہیں بنتا۔(شرعی مسائل معلوم کرنے میں جھجھک محسوس نہیں ہونی چاہیے کیونکہ جب تک مسئلہ معلوم نہ ہو عمل کیسے ہوگا) (مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِعْمَالِ الْمُغْتَسِلَةِ مِنَ الْحَيْضِ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فِي مَوْضِعِ الدَّمِ؛جلد١ص٢٦١؛حدیث نمبر ٦٥٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٦٥٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِعْمَالِ الْمُغْتَسِلَةِ مِنَ الْحَيْضِ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فِي مَوْضِعِ الدَّمِ؛جلد١ص٢٦٢؛حدیث نمبر ٦٥٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں حضرت اسماء بنت شکل رضی اللہ تعالٰی عنہا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جو عورت حیض سے پاک ہو وہ غسل کیسے کرے اس کے بعد حدیث نمبر ٦٥٨ کی مثل بیان کیا البتہ اس میں غسل جنابت کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ اسْتِحْبَابِ اسْتِعْمَالِ الْمُغْتَسِلَةِ مِنَ الْحَيْضِ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فِي مَوْضِعِ الدَّمِ؛جلد١ص٢٦١؛حدیث نمبر ٦٦٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی عورت ہوں جسکو استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں(بلکل)پاک نہیں ہوتی کیا میں نماز چھوڑ دوں۔آپ نے فرمایا نہیں یہ ایک رگ(کا خون) ہے حیض نہیں ہے جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب چلا جائے(یعنی حیض کے دن ختم ہو جائیں)تو اپنے آپ سے خون دھوکر نماز پڑھو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛ترجمہ؛مستحاضہ عورت کا غسل اور نماز؛جلد١ص٢٦٢؛حدیث نمبر٦٦١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٦١ کی مثل مروی ہے۔حضرت جریر کہتے ہیں فاطمہ بنت ابو حبیش بن عبدالمطلب بن اسد آئیں اور وہ ہمارے خاندان کی خاتون تھیں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٢؛حدیث نمبر ٦٦٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔عرض کیا کہ مجھے خون آتا ہے۔آپ نے فرمایا یہ ایک رگ) کا خون)ہے پس تم غسل کر کے نماز پڑھو۔پس وہ ہر نماز کے لئے وضو کرتی تھیں۔لیث بن سعد(راوی)کہتے ہیں۔ابن شہاب (راوی) نے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام حبیبہ بنت جحش کو ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا بلکہ وہ خود اپنے طور پر ایسا کرتی تھیں۔ایک روایت میں بنت جحش مذکور ہے ام حبیبہ کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٣؛حدیث نمبر ٦٦٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواہر نسبتی(سالی)تھیں جو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔انکو سات سال سے مکمل خون آرہا تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ(کا خون)ہے پس غسل کرکے نماز پڑھو۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں وہ اپنی بہن حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ایک بڑے برتن میں غسل کرتی تھیں حتیٰ کہ خون کا رنگ پانی پر غالب آجاتا۔ابن شہاب کہتے ہیں انہوں نے یہ بات ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہند پر رحم فرمائے وہ یہ فتویٰ سنتیں تو اچھا ہوتا اللہ کی قسم وہ نماز نہ پڑھ سکنے پر روئی تھیں۔(مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے عارضے کا شکار ہیں اور خون کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتی تھیں اور اس پر ان کو افسوس ہوتا تھا اگر وہ یہ فتویٰ سنتیں تو انکو بھی فائدہ ہوتا۔) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٣؛حدیث نمبر ٦٦٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان کو سات سال تک خون آتا رہا۔اس کے بعد حدیث نمبر ٦٦۴ کی مثل بیان کی لیکن کچھ حصہ ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٤؛حدیث نمبر ٦٦٥)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حدیث نمبر ٦٦٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٤؛حدیث نمبر ٦٦٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے(استحاضہ کے)خون کے بارے میں سوال کیا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔میں نے دیکھا ان کا برتن(ٹپ وغیرہ)خون سے بھرا ہوتا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا۔تمہیں جس قدر حیض آتا ہے اتنی مدت ٹھہر جاؤ پھر غسل کرکے نماز پڑھو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٤؛حدیث نمبر ٦٦٧)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو جو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خون کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا اپنے حیض کی مدت رک جاؤ پھر غسل کرو(اور نماز پڑھو)تو وہ ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں۔(چونکہ استحاضہ کا خون آنے سے نماز معاف نہیں ہوتی اس لئے جس عورت کو مسلسل خون آئے وہ حیض کے دنوں کو شمار کرے اتنے دن نماز نہ پڑھے باقی دنوں میں غسل کر کے نماز پڑھے ہر نماز کے ساتھ غسل کر سکے تو بہتر ہے ورنہ ہر نماز کے لئے وضو کرے۔)مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ وَغَسْلِهَا وَصَلَاتِهَا؛جلد١ص٢٦٤؛حدیث نمبر ٦٦٨)
حضرت معاذہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ہم اپنے حیض کے دنوں کی قضا کریں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا تو حروریہ ہے(کوفہ سے دو میل کے فاصلے پر حروراء ایک بستی ہے خارجیوں کا پہلا اجتماع وہاں ہوا اور خارجی حضرات عورت کے لئے حیض کے دنوں کی نمازوں کی قضا واجب قرار دیتے ہیں جو مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم میں سے کسی ایک کو حیض آتا تو اسے قضا کا حکم نہ دیا جاتا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ قَضَاءِ الصَّوْمِ عَلَى الْحَائِضِ دُونَ الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛حائضہ عورت پر روزے کی قضاء ہے نماز کی نہیں؛جلد١ص٢٦٥؛ حدیث نمبر ٦٦٩)
حضرت معاذہ رضی اللہ عنہانے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا حیض والی عورت نماز کی قضاء کرے تو ام المؤمنين نے فرمایا کیا حروریہ ہے؟(مطلب یہ تھا کہ تو حروریہ(خارجیہ) نہیں ہے اسکو استفہام انکاری کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو حیض آتا تو کیا آپ ان کو قضاء کا حکم دیتے تھے؟(نہیں دیتے تھے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ قَضَاءِ الصَّوْمِ عَلَى الْحَائِضِ دُونَ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٢٦٥؛حدیث نمبر ٦٧٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت معاذہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سے پوچھا۔حائضہ عورتوں کو کیا ہوا کہ وہ روزے کی قضاء کرتی ہیں لیکن نماز کی قضاء نہیں کرتیں۔ام المومنین نے فرمایا کیا تو حروریہ ہے؟میں نے کہا میں حروریہ نہیں ہوں لیکن آپ سے پوچھ رہا ہوں۔ام المؤمنين نے فرمایا ہمیں حیض آتا تو ہمیں روزے کی قضاء کا حکم دیا جاتا لیکن قضائے نماز کا حکم نہ دیا جاتا۔(چونکہ حیض کے دوران رہ جانے والی نمازیں زیادہ ہوتی ہیں اور انکی قضاء باعث مشقت ہے اس لیے نماز معاف ہو جاتی ہے جب کہ روزے کم ہوتے ہیں اور سال بھر میں قضاء کرنا آسان ہے لہذا انکی رکھی گئی ہے۔)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ وُجُوبِ قَضَاءِ الصَّوْمِ عَلَى الْحَائِضِ دُونَ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٢٦٥؛حدیث نمبر ٦٧١)
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں۔میں فتح مکہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ غسل فرما رہے ہیں اور آپکی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپکے آگے کپڑے کا پردہ کیا ہوا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ تَسَتُّرِ الْمُغْتَسِلِ بِثوْبٍ وَنَحْوِهِ؛ترجمہ؛غسل کرتے وقت پردہ کرنا؛جلد١ص٢٦٥؛ حدیث نمبر ٦٧٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ بیان کرتی ہیں کہ جب فتح کا سال ہوا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ مکہ مکرمہ کے اوپر والے حصے میں تشریف فرماتھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے لئے پردہ کیا پھر آپ نے کپڑا لے کر لپیٹا اور اس کے بعد چاشت کی آٹھ رکعات پڑھیں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ تَسَتُّرِ الْمُغْتَسِلِ بِثوْبٍ وَنَحْوِهِ؛جلد١ص٢٦٦؛حدیث نمبر ٦٧٣)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٧٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ تَسَتُّرِ الْمُغْتَسِلِ بِثوْبٍ وَنَحْوِهِ؛جلد١ص٢٦٦؛حدیث نمبر ٦٧٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں۔وہ فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے(غسل کے)لیے پانی رکھا اور آپ کے آگے پردہ کیا تو آپ نے غسل فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛- بَابُ تَسَتُّرِ الْمُغْتَسِلِ بِثوْبٍ وَنَحْوِهِ؛جلد١ص٢٦٦؛حدیث نمبر٦٧٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مرد کسی مرد کی شرمگاہ اور کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے اور نہ ہی کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔(اس طرح شہوت پیدا ہوتی ہے کیونکہ جب دو جسموں کا ملاپ ہوتا ہے اور وہ دونوں بالغ ہوتے ہیں تو یہ صورت پیدا ہوتی ہے اس لیے آپ نے منع فرمایا)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ إِلَى الْعَوْرَاتِ؛ترجمہ؛شرمگاہ کی طرف دیکھنا حرام ہے؛جلد١ص٢٦٦؛ حدیث نمبر ٦٧٦)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٧٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ تَحْرِيمِ النَّظَرِ إِلَى الْعَوْرَاتِ؛جلد١ص٢٦٧؛حدیث نمبر٦٧٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے ہو کر غسل کرتے تھےاور وہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کی طرف دیکھتے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام علیحدگی میں غسل فرماتے تھے۔(اس سبب)وہ لوگ کہتے تھے اللہ کی قسم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے یہ بات مانع ہے کہ آپکو ہرنیا(خصیہ کا بڑا ہونا)کی بیماری ہے۔آپ فرماتے ہیں ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے اپنے کپڑے پتھر پر رکھے تھے تو پتھر آپکے کپڑے کو لے کر بھاگ گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اسکے پیچھے تیزی سے دوڑنے لگے اور فرمایا اے پتھر میرے کپڑے دے دو اے پتھر میرے کپڑے دے دو حتیٰ کہ بنی اسرائیل نے آپکی جائے ستر کو دیکھا اور کہنے لگے اللہ کی قسم!حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوئی بیماری نہیں ہے۔پس پتھر رک گیاحتی کہ آپکو دیکھا گیا آپ نے اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنا شروع کر دیا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مارنے کے چھ یا سات نشانات ہیں۔(چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان لوگوں کے اعتراض کو زائل کرنا تھا اس لئے یہ حکمت خداوندی کے تحت یہ واقعہ ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کپڑوں کے پیچھے دوڑنا حالت جذب میں تھا۔) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ الِاغْتِسَالِ عُرْيَانًا فِي الْخَلْوَةِ؛ترجمہ؛تنہائی میں ننگے جسم غسل کرنا؛جلد١ص٢٦۷؛حدیث نمبر ٦۷٨)
حضرت عمر بن دینار رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے جب کعبہ شریف کی تعمیر ہو رہی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ(دونوں) پتھر اٹھا رہے تھے۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اپنا تہبند کندھے پر رکھیں تاکہ پتھر اٹھانا آسان ہو۔آپ نے ایسا کیا تو زمین پر گر پڑے اور آپ کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔پھر کھڑے ہوئے تو فرمایا میرا تہبندمیرا تہبند پس آپ کا تہبند باندھ دیا گیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الَاعْتِنَاءِ بِحِفْظِ الْعَوْرَةِ؛ترجمہ؛شرمگاہ کی حفاظت کا اہتمام؛جلد١ص٢٦٧؛حدیث نمبر ٦٧٩)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے ہمراہ کعبہ شریف کے لئے پتھر لا رہے تھے اور آپ نے تہبند باندھ رکھا تھا۔آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھتیجے اگر آپ اپنا تہبند کھول کر کندھے پر رکھیں تو اچھا ہے تاکہ پتھروں سے محفوظ رہیں۔فرماتے ہیں آپ نے تہبند مبارک کھول کر کندھے پر رکھ دیا تو بیہوش ہو کر گر پڑے اس کے بعد سے آپ کو کبھی برہنہ نہ دیکھا گیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الَاعْتِنَاءِ بِحِفْظِ الْعَوْرَةِ؛جلد١ص٢٦٨؛حدیث نمبر ٦٨٠)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں ایک بھاری پتھر اٹھانے کے لئے آگے بڑھا اور مجھ پر ایک ہلکا سا تہبند تھا۔اچانک میرا تہبند کھل گیا اور میں نے بھاری پتھر اٹھا رکھا تھا اور میں اسے نیچے نہیں رکھ سکتا تھا۔جب تک اصل جگہ تک نہ پہنچ جاؤں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اپنا کپڑا لے لو اور ننگے نہ چلو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الَاعْتِنَاءِ بِحِفْظِ الْعَوْرَةِ؛جلد١ص٢٦٨؛حدیث نمبر٦٨١)
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت حسن بن سعد حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہیں۔وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے(سواری پر)اپنے پیچھے بٹھایا تو خاموشی کے ساتھ مجھ سے ایک بات کی جسے میں کسی شخص سے بیان نہیں کرتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پردے کے لئے بلند ٹیلہ یا درختوں کی اوٹ زیادہ پسند تھی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ مَا يُسْتَتَرُ بِهِ لِقَضَاءِ الْحَاجَةِ؛ترجمہ؛پیشاب کرتے وقت پردہ کرنا؛جلد١ص٢٦٨؛حدیث نمبر٦٨٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔میں سوموار کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ قباء کی طرف نکلا حتیٰ کہ جب ہم بنو سالم میں تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر کھڑے ہوۓ اور آواز دی وہ اپنا تہبند کھینچتے ہوئے باہر آئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ہم نے انکو جلدی بلا لیا۔حضرت عتبان نے عرض کیا یا رسول اللہ بتائیے۔اگر ایک آدمی اپنی بیوی سے ہم بستر ہو اور انزال نہ ہو تو اس پر کیا واجب ہے۔آپ نے فرمایا پانی، پانی سے ہے۔(اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک إنزال نہ ہو غسل فرض نہ ہوگالیکن یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے جیسا کہ حدیث نمبر٦٩١ اور ٦٩٢ سے واضح ہوتا ہے کہ محض اعضائے مخصوصہ کے ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے اس میں إنزال کی شرط نہیں ہے۔) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛ ترجمہ؛جماع سے غسل کا وجوب؛جلد١ص٢٦٩؛حدیث نمبر ٦٨٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٦٨٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٦٩؛حدیث نمبر ٦٨٤)
حضرت ابوالعلاء بن شخير رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض احادیث دوسری بعض کے لئے ناسخ ہے جس طرح قرآن کا بعض بعض کو منسوخ کرتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٦٩؛حدیث نمبر ٦٨٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری پر گزرے تو اسے پیغام بھیجا وہ باہر آئے اور انکے سرسے(پانی کے) قطرے ٹپک رہے تھے۔آپ نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں جلدی بلا لیا۔انہوں نے عرض کیا۔ہاں یا رسول اللہ!آپ نے فرمایا جب تم انزال کے بغیر جماع کرو تو تم پر غسل واجب نہیں بلکہ وضو کر لیا کرو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٦٩؛حدیث نمبر ٦٨٦)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا کہ وہ عورت سے جماع کرتا ہے۔پھر اس کو انزال نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا۔عورت سے جو کچھ اسکے ساتھ لگا ہے اسے دھو لے اور پھر وضو کر کے نماز پڑھ لے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٧٠؛حدیث نمبر ٦٨٧)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کے پاس آتا ہے۔پھر اسکو انزال نہیں ہوتا تو وہ شرمگاہ کو دھوکر وضو کرے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٧٠؛حدیث نمبر ٦٨٨)
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ بتائیے جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے اور اسکو انزال نہ ہو(تو وہ کیا کرے)حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔وہ نماز کے وضو جیسا وضو کرے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٧٠؛حدیث نمبر ٦٨٩)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٨٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ؛جلد١ص٢٧١؛حدیث نمبر ٦٩٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص عورت کی چار شاخوں(دو ہاتھ دو پاؤں)کے درمیان بیٹھے پھر اسے تھکا دے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے حضرت معطر کی روایت میں ہے۔اگرچہ انزال نہ ہو۔(جس طرح حدیث نمبر ٦٨٥ میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض احادیث دوسری بعض کے لئے ناسخ ہیں تو یہ حدیث(٦٩١)پہلی احادیث کے لئے ناسخ ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا کہ(جب کہ شرمگاہ مل جائیں)تو انزال نہ بھی ہو تو غسل واجب ہوگا گزشتہ احادیث میں یہ بتایا گیا کہ غسل کے لئے انزال شرط ہے لیکن اب یہ حکم منسوخ ہوگیا) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نَسْخِ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ وَوُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ؛جلد١ص٢٧١؛حدیث نمبر ٦٩١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٦٩١ کی مثل مروی ہے اور اس میں انزال کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نَسْخِ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ وَوُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ؛جلد١ص٢٧١؛حدیث نمبر ٦٩٢)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔اس مسئلے میں مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف ہے۔انصار کہتے ہیں۔غسل تب واجب ہوتا ہے جب اچھل کود ہو یا پانی نکلے اور مہاجرین کہتے ہیں بلکہ باہم مل جانے سے غسل واجب ہوتا ہے۔حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا میں تمہیں اس سلسلے میں شفا(پرمبنی بیان) دوں گا پس میں کھڑا ہوا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کی مجھے اجازت دی گئی تو میں نے ان سے عرض کیا اے اماں جان!یا ام المؤمنين کہا(راوی کو شک)میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ سے حیا آتی ہے۔انہوں نے فرمایا اگر اپنی ماں سے جس نے تجھے جنا ہے،کچھ پوچھنا ہو تو حیا نہ کرو اور میں بھی تمہاری ماں ہوں۔میں نے پوچھا غسل کس سے واجب ہوتا ہے۔فرمایا تم خبر رکھنے والی کے پاس آئے ہو۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرد عورت کے چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جاۓ اور شرمگاہ،شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔(انزال ہو یا نہ ہو)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نَسْخِ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ وَوُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ؛جلد١ص٢٧١؛حدیث نمبر ٦٩٣)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے۔پھر اس کا جسم سست ہو جاتا ہے(مطلب یہ ہے کہ وہ انزال سے پہلے الگ ہو جاتا ہے)تو کیا ان دونوں پر غسل ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تشریف فرما تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور یہ دونوں ایسا عمل کرتے ہیں پھر ہم دونوں غسل کرتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نَسْخِ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ وَوُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ؛جلد١ص٢٧٢؛حدیث نمبر ٦٩٤)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز(کھانے)سے وضو لازم ہو جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد میں وضو کرتے ہوئے پایا تو انہوں نے فرمایا میں اس لئے وضو کر رہا ہوں کہ میں نے پنیر کے چند ٹکڑے کھاۓ ہیں کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا اس چیز(کے کھانے)سے وضو کرو جسکو آگ نے چھوا ہو۔حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا آپ فرماتی تھیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز(کے کھانے)سے وضو کرو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛ترجمہ؛آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنا؛جلد١ص٢٧٢؛ حدیث نمبر ٦٩٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ تناول فرمایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر٦٩٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت یا(فرمایا)محض گوشت کھایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ فرمایا اور نہ ہی پانی کو ہاتھ لگایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر ٦٩٧)
حضرت عمر بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ شانے کا گوشت چھری سے کاٹ کے کھارہے تھے۔پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر ٦٩٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ بکری کے شانے کا گوشت چھری سے کاٹ کاٹ کر تناول فرما رہے تھے۔پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ کھڑے ہوئے اور چھری کو پھینک دیا آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر ٦٩٩)
ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے ہاں شانے کا گوشت تناول فرمایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہ فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر٧٠٠)
حضرت رافع فرماتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بکری کا گوشت بھونتا تھا۔پھر آپ(نیا)وضو کیے بغیر نماز پڑھتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر٧٠١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر پانی منگواکر کلی فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر ٧٠٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٠٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٤؛حدیث نمبر ٧٠٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑوں کو سمیٹا پھر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔اسی اثناء میں روٹی اور گوشت کا ہدیہ آیا تو آپ نے تین لقمے لیے پھر نماز پڑھائی اور پانی کو ہاتھ تک نہ لگایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٥؛حدیث نمبر ٧٠٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٠٤ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے نماز پڑھانے کا ذکر نہیں۔(ان تمام احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے فقہائے کرام نے بیان فرمایا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے سے مراد ہاتھ دھونا اور کلی کرنا ہے اور جہاں وضو کی نفی ہے وہاں حقیقی وضو کی نفی ہے خاص طور پر چکنائی والی چیز کھانے کے بعد کلی کرنا ضروری ہے اور ایسا ہی ہوا کہ گوشت کھانے کے بعد حضور نے نہ کلی اور نہ ہاتھ دھوۓ کیونکہ چکناہٹ نہ تھی لہٰذا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ نسْخِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ؛جلد١ص٢٧٥؛حدیث نمبر ٧٠٥)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کروں؟آپ نے فرمایا اگر چاہو تو وضو کرو اور چاہو تو نہ کرو۔پوچھا کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کروں؟فرمایا ہاں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعدوضو کرو(ہاتھ دھونا اور کلی کرنا مراد ہے)پوچھا کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں۔فرمایا ہاں(پڑھ سکتے ہو)پوچھا کیا اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں۔فرمایا نہیں۔(بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے اذیت کا خطرہ نہیں ہوتا جبکہ اونٹ کے باڑے میں خطرہ ہوتا ہے اس لیے آپ نے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت دی اور اونٹ کے باڑے میں اجازت نہیں دی) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؛ترجمہ؛اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنا؛جلد١ص٢٧٥؛ حدیث نمبر ٧٠٦)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٧٠٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؛جلد١ص٢٧٥؛حدیث نمبر ٧٠٧)
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوی میں شکایت کی کہ ان کو نماز میں وضو ٹوٹنے کا شک رہتا ہے۔آپ نے فرمایا نماز نہ توڑو حتیٰ کہ آواز سنو یا بو محسوس کرو۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ تَيَقَّنَ الطَّهَارَةَ، ثُمَّ شَكَّ فِي الْحَدَثِ فَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِطَهَارَتِهِ تِلْكَ؛ترجمہ؛جس شخص کو وضو کا یقین ہو پھروضو ٹوٹنے کا شک ہو جائے تو وہ اس وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے؛جلد١ص٢٧٦؛حدیث نمبر ٧٠٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کچھ محسوس کرے اور اس کو شک ہو کے آیا اس سے کچھ نکلا یا نہیں تو مسجد سے ہر گز نہ نکلے حتیٰ کہ آواز سنے یا بو محسوس کرے۔(چونکہ وضو یقینی ہے اور اب ٹوٹنے کا محض شک ہے یقینی بات قوی ہوتی ہے اور مشکوک بات کمزور ہوتی ہے لہٰذا شک سے یقین زائل نہیں ہوتا جب تک ٹوٹنے کا یقین نہ ہو شک کی طرف توجہ نہ کی جائے ہاں محض احتیاطاً وضو کر لے تو اس پر کوئی پابندی نہیں لیکن ضروری نہیں) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَنْ تَيَقَّنَ الطَّهَارَةَ، ثُمَّ شَكَّ فِي الْحَدَثِ فَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِطَهَارَتِهِ تِلْكَ؛جلد١ص٢٧٦؛حدیث نمبر ٧٠٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کو کسی نے ایک بکری صدقہ کے طور پر دی اور وہ مر گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو فرمایا تم نے اسکے چمڑے کو اتار کر اسے رنگا کیوں نہیں۔اس طرح تم اس سے نفع حاصل کرتے۔انہوں نے عرض کیا کہ یہ مردار تھی۔آپ نے فرمایا اسکا کھانا حرام ہے۔(دیگر کام کے لیے استعمال میں لا سکتے ہو)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛ترجمہ؛رنگنے سے چمڑا پاک ہوجاتا ہے؛جلد١ص٢٧٦؛ حدیث نمبر ٧١٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مردار بکری پائی جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کو بطور عطیہ دی گئی تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے نفع کیوں نہیں حاصل کیا؟انہوں نے عرض کیا یہ تو مردار ہے۔فرمایا اس کا صرف کھانا حرام ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٦؛حدیث نمبر ٧١١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧١١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٧؛حدیث نمبر ٧١٢)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پھینکی گئی بکری کے پاس سے گزرے جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کو بطور صدقہ دی گئی تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال کیوں نہیں اتاری تاکہ تم اس کو رنگ کر اس سے نفع حاصل کرتے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٧؛حدیث نمبر ٧١٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے انکو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ کے گھر میں پالی ہوئی بکری تھی۔وہ مر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اسکی کھال اتار کر اس سے فائدہ کیوں نہ حاصل کیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٧؛حدیث نمبر ٧١٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کے پاس سے گزرے جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کی تھی۔آپ نے فرمایا تم اس کی کھال سے نفع کیوں نہیں حاصل کرتے؟۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٧؛حدیث نمبر ٧١٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔آپ نے فرمایا جب چمڑے کو رنگ دیا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٧؛حدیث نمبر٧١٦)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٧١٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٨؛حدیث نمبر ٧١٧)
حضرت یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ حضرت ابو الخیر نے ان سے بیان کیا۔فرماتے ہیں میں نے حضرت علی بن وعلہ سبائی پر ایک پوستین دیکھی تو اس پر ہاتھ پھیرا۔انہوں نے پوچھا تم اس پر ہاتھ کیوں پھیرتے ہو۔میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کرتے ہوئے کہا ہم مغرب کے علاقے میں ہوتے ہیں اور ہمارے ساتھ برابر قبیلے کے لوگ اور مجوسی ہوتے ہیں انکی ذبح کی ہوئی بکری ہمارے پاس لائی جاتی ہے تو ہم انکا ذبیحہ نہیں کھاتے ہیں اور وہ ہمارے پاس مشکیزہ لاتے ہیں جس میں وہ چربی ڈالتے ہیں(تو ہم کیا کریں)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا وہ(کھال)رنگنے سے پاک ہوجاتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٨؛حدیث نمبر ٧١٨)
ابن وعلہ سبائی سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم مغرب میں رہتے ہیں۔پس ہمارے پاس مجوسی ایسے مشکیزے لاتے ہیں جن میں پانی اور چربی ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا پی سکتے ہو۔میں نے پوچھا پر آپکی رائے کیا ہے؟تو ابن عباس نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اس(کھال)کو رنگنا اسکی طہارت ہے۔(احناف کے نزدیک خنزیر اور انسان کے علاوہ ہر جانور کی کھال رنگنے سے پاک ہو جاتی ہے خنزیر چونکہ نجس العین ہے اس لیے اسکی کھال پاک نہیں ہوتی اور انسان کے احترام میں اسکی کھال کا استعمال ممنوع ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ طَهَارَةِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ بِالدِّبَاغِ؛جلد١ص٢٧٨؛حدیث نمبر ٧١٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں۔ہم ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گئے۔جب ہم مقام بیداء اور ذات الجیش مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ گیا(اور گم ہوگیا)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسکی تلاش کے لئے وہاں ٹھہر گئے اور صحاب کرام بھی آپکے ہمراہ رک گئے نہ وہاں کوئی چشمہ تھا اور نہ ہی ان کے پاس پانی تھا۔صحابہ کرام،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا؟ ۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے ساتھ صحابہ کرام کو بھی روک لیا اور یہاں پانی نہیں اورنہ ہی صحابہ کرام کے پاس پانی ہے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے۔انہوں نے فرمایا(اے عائشہ)تم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے ساتھ صحابہ کرام کو بھی روک رکھا ہےحالانکہ یہاں پانی نہیں اور نہ ہے انکے پاس پانی ہے(ام المومنین)فرماتی ہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے جھڑکا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا انہوں نے فرمایا آپ میری کوکھ(پہلو)میں انگلیاں چبھوتے تھے اور مجھے حرکت سے صرف یہ بات روک رہی تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے حتیٰ کہ صبح ہوگئی اور پانی نہیں تھا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی۔پس صحابہ کرام نے تیمم کیا۔حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو نقیبوں میں سے ایک تھے(قوم کے سردار کو نقیب کہتے ہیں)فرمایا اے آل ابوبکر!یہ تم لوگوں کی پہلی برکت نہیں ہے(مطلب یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خاندان کے امت پر بہت زیادہ احسانات ہیں یہ واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کیونکہ اسکی وجہ سے امت کو تیمم کی سہولت حاصل ہوئی۔)۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہم نے ہار اسکے نیچے پایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ التَّيَمُّمِ؛ترجمہ؛تیمم کے احکام؛ جلد١ص٢٧٩؛حدیث نمبر٧٢٠)
حضرت ہشام اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں کہ انہوں نے حضرت اسماء سے ایک ہار بطور ادھار لیا تو وہ گم ہوگیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ صحابہ کرام کو اسکے تلاش میں بھیجا نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے وضو کے بغیر نماز پڑھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بات کی شکایت کی اس پر آیت تیمم نازل ہوئی۔حضرت اسید بن حضیر نے فرمایا(اےام المومنین)اللہ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے۔اللہ کی قسم آپ جس معاملے میں مبتلا ہوئیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے نکلنے کا کوئی راستہ بنایا اور اسے مسلمانوں کے لئے برکت کا ذریعہ بنایا۔(مسلم شریف کتاب الحیض:بَابُ التَّيَمُّمِ؛جلد١ص٢٧٩؛حدیث نمبر ٧٢١)
حضرت شقیق فرماتے ہیں۔میں حضرت عبداللہ اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا اے ابو عبد الرحمن!آپ کا کیا خیال ہے۔اگر کوئی شخص جنبی ہو جائے اور ایک ماہ تک پانی نہ پائے تو نماز کے بارے میں کیا کرے۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تیمم نہ کرے اگرچہ ایک ماہ پانی نہ پائے۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا کروگے جس میں فرمایا" {فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: ٤٣]" اگر تم(حالت جنابت میں)پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔"حضرت عبداللہ نے فرمایا اگر اس آیت سے انکو رخصت دی جائے تو ہو سکتا ہے وہ پانی ٹھنڈا ہونے کی صورت میں بھی مٹی سے تیمم کر لیں۔حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عبداللہ سے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار کا قول نہیں سنا(وہ فرماتے ہیں)مجھے رسول اکرم نے ایک کام کے لئے بھیجا اور میں جنبی ہو گیا۔میں نے پانی نہ پایا تو مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا جس طرح جانور لوٹ پوٹ ہوتا ہے۔پھر بارگاہِ نبوی میں حاضر ہو کر یہ واقعہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تمہارے لئے اس قدر کافی تھا_آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں کو ایک بار زمین پر مارا پھر بائیں ہاتھ سےدائیں ہاتھ کا مسح کیا اور ہاتھوں کے ظاہر اور پھر چہرے کا مسح کیا_حضرت عبداللہ نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضرت عمر رضی اللہُ عنہ نے حضرت عمار کے قول پر قناعت نہیں کرتے_(حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نزدیک لامستم النساء سے عورتوں کو چھونا مراد تھا اس لئے وہ فرماتے تھے کہ جنابت کے لئے تیمم جائز نہیں تو یہ انکا انفرادی اجتہادی قول تھا جب کہ دوسرے حضرات اس سے جماع مراد لیتے ہیں اور اس وجہ سے جنابت سے طہارت کے لئے تیمم کے قائل ہیں)(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨٠؛حدیث نمبر ۷٢٢)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ۷٢٢ کی مثل مروی ہے_البتہ اس میں یہ فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے اس قدر کافی تھا اور آپ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارکر جھاڑا_پھر چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا_(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨٠؛حدیث نمبر ۷٢٣)
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں جنبی ہوگیا ہوں لیکن مجھے پانی نہیں مل رہا ہے_آپ نے فرمایا نماز نہ پڑھو_حضرت عمار نے فرمایا اے امیر المؤمنین آپکو یاد نہیں جب ہم اور آپ ایک جہاد پر اکھٹے تھے ہم جنبی ہوئے اور پانی نہ پایا تو آپ نے نماز نہ پڑھی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہوکر نماز پڑھ لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے اس قدر کافی تھا کہ اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارتے پھر پھونک مارتے پھر ان سے چہرے اور ہاتھوں(بازوؤں)کا مسح کرتے _حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمار!اللہ تعالٰی سے ڈرو،حضرت عمار نے فرمایا اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ حدیث کسی سے بیان نہ کروں گا_ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت امام مسلم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے_اس میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہُ عنہ نے فرمایا ہم آپکو چھوڑ دیتے ہیں آپ جدھر پھیریں_(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨٠؛حدیث نمبر ۷٢۴)
حضرت عبدالرحمن بن ابزی سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں جنبی ہو گیا ہوں لیکن مجھے پانی نہیں ملا۔پھرحدیث نمبر ٧٢٤ کی مثل ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت عمار نے عرض کیا۔اے امیر المومنین!اگر آپ اس حق کی وجہ سے جو آپ کو مجھ پر حاصل ہے چاہیں تو میں کسی سے یہ حدیث بیان نہیں کروں گا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨١؛حدیث نمبر ٧٢٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت عمیر فرماتے ہیں اور حضرت عبدالرحمن بن یسارجو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں حضرت ابوالجھم بن حارث بن صمہ انصاری کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابو الجھم نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل کی طرف سے تشریف لائے تو ایک شخص ملا اس نے سلام کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا۔حتیٰ کہ دیوار کی طرف متوجہ ہوئے اور چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرنے کے بعد سلام کا جواب دیا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨١؛حدیث نمبر ٧٢٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخض گزرا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب فرما رہے تھے۔اس نے سلام کیا لیکن آپ نے اس کا جواب نہ دیا۔(پیشاب کی حالت میں سلام کا جواب دینا ضروری نہیں اور سلام کرنا بھی نہیں چاہیے) (مسلم شریف کتاب الحیض؛باب التیمم؛جلد١ص٢٨١؛حدیث نمبر ٧٢٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ طیبہ کے ایک راستے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ہوئی اور وہ جنبی تھے پس وہ چھپ کر نکل گئے اور غسل کیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو تلاش کیا جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا اے ابوہریرہ!تم کہاں تھے؟انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ مجھے ملے تو میں جنبی تھا۔پس میں نے غسل کرنے سے پہلے آپ کے ساتھ بیٹھنا مناسب نہ سمجھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ!مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ؛ترجمہ؛مسلمان ناپاک نہیں ہوتا؛جلد١ص٢٨٢؛حدیث نمبر ٧٢٨)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات ہوئی اور وہ جنبی تھے تو وہ آپ سے الگ ہو کر غسل کرنے چلے گئے۔پھر حاضر ہوۓ تو عرض کیا میں جنبی تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلم ناپاک نہیں ہوتا۔(مطلب یہ ہے کہ نجاست حکمی ہے اور غسل اس پر فرض ہے لیکن اس کے ہاتھ ناپاک نہیں کہ وہ مصافحہ نہ کر سکے اسی طرح اس کے لئے دوسروں کے پاس بیٹھنا اور گفتگو وغیرہ میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہاں ادب کا تقاضا کچھ اور ہے۔) (مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ؛جلد١ص٢٨٢؛حدیث نمبر ٧٢٩)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے(یعنی ذکر کرنے کے لئے وضو کی ضرورت نہ تھی بلکہ تلاوت کے علاوہ ذکر حالت جنابت میں بھی ہو سکتا ہے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ ذِكْرِ اللهِ تَعَالَى فِي حَالِ الْجَنَابَةِ وَغَيْرِهَا؛ترجمہ؛حالت جنابت میں اور اس کے علاوہ ذکر خداوندی کرنا؛جلد١ص٢٨٢؛حدیث نمبر ٧٣٠)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر تشریف لائے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔حاضرین نے آپکو وضو یاد دلایا تو آپ نے فرمایا جب میں نماز کا ارادہ کرتا ہوں تو وضو کرتا ہوں(یعنی اس وقت وضو ضروری ہے)(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمُحْدِثِ الطَّعَامَ، وَأَنَّهُ لَا كَرَاهَةَ فِي ذَلِكَ، وَأَنَّ الْوُضُوءَ لَيْسَ عَلَى الْفَوْرِ؛ترجمہ؛وضو کے بغیر کھانا کھانا؛جلد١ص٢٨٢؛حدیث نمبر ٧٣١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔آپ قضائے حاجت سے تشریف لائے تو کھانا پیش کیا گیا۔آپ سے عرض کیا گیا آپ وضو نہیں کرتے؟آپ نے فرمایا کیوں؟میں نماز کے لئے وضو کرتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمُحْدِثِ الطَّعَامَ، وَأَنَّهُ لَا كَرَاهَةَ فِي ذَلِكَ، وَأَنَّ الْوُضُوءَ لَيْسَ عَلَى الْفَوْرِ؛جلد١ص٢٨٣؛حدیث نمبر ٧٣٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔جب واپس آئے تو آپ کے سامنے کھانا رکھا گیا۔پوچھا گیا یا رسول اللہ!آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟آپ نے فرمایا کیوں؟کیا نماز پڑھنی ہے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمُحْدِثِ الطَّعَامَ، وَأَنَّهُ لَا كَرَاهَةَ فِي ذَلِكَ، وَأَنَّ الْوُضُوءَ لَيْسَ عَلَى الْفَوْرِ؛جلد١ص٢٨٣؛حدیث نمبر ٧٣٣)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے بعد بیت الخلاء سے باہر تشریف لائے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔آپ نے کھانا تناول فرمایا اور پانی کو ہاتھ نہ لگایا۔آپ سے پوچھا گیا کیا آپ وضو نہیں فرماتے۔آپ نے فرمایا میں نے نماز کا ارادہ نہیں کیا کہ وضو کروں۔(اسکا مطلب یہ ہے کہ وضو کر کے کھانا کھانا ضروری نہیں اس کے مستحسن ہونے میں کوئی شک نہیں چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل سنت بنتا تھا اس لئے آپ امت کی آسانی کے لئے بعض اوقات ایسا عمل فرماتے تھے جو آپ کی عادت مبارکہ کے خلاف ہوتا تاکہ امت کو مسئلہ معلوم ہو جائے یہاں بھی یہی صورت ہے آپ نے اپنے قول و فعل سے بتایا کہ کھانا کھانے کے لئے وضو فرض نہیں) (مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ جَوَازِ أَكْلِ الْمُحْدِثِ الطَّعَامَ، وَأَنَّهُ لَا كَرَاهَةَ فِي ذَلِكَ، وَأَنَّ الْوُضُوءَ لَيْسَ عَلَى الْفَوْرِ؛جلد١ص٢٨٣؛حدیث نمبر ٧٣٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے(داخل ہونے کا ارادہ فرماتے)ایک روایت میں "الخلاء" کی جگہ " *الکنیف* "کا لفظ ہے مفہوم ایک ہی ہے تو ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگتے۔: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ»یا اللہ!میں نر اور مادہ شیطانوں(اور انکے شر)سےتیری پناہ چاہتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَرَادَ دُخُولَ الْخَلَاءِ؛ترجمہ؛بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت کیا پڑھے؛جلد١ص٢٨٣؛ حدیث نمبر ٧٣٥)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٣٥ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں" *اعوذ باللہ* " کے الفاظ ہیں۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَرَادَ دُخُولَ الْخَلَاءِ؛جلد١ص٢٨٤؛حدیث نمبر ٧٣٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نماز کے لئے تکبیر کہی گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے گفتگو فرما رہے تھے۔دوسری روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے اور آپ نماز کے لئے کھڑے نہ ہوۓ کہ صحابہ کرام سو گئے۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نوْمَ الْجَالِسِ لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ؛ترجمہ؛بیٹھے بیٹھے سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا؛جلد١ص٢٨٤؛حدیث نمبر ٧٣٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں نماز کے لئے اقامت کہی گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے سر گوشی فرما رہے تھے اور آپ مسلسل گفتگو فرماتے رہے حتیٰ کہ آپ کے صحابہ کرام سو گئے پھر تشریف لائے اور ان کو نماز پڑھائی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نوْمَ الْجَالِسِ لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ؛جلد١ص٢٨٤؛حدیث نمبر ٧٣٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سو جاتے پھر نماز پڑھتے اور وضو نہ فرماتے۔حضرت شعبہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ نے یہ بات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم!۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نوْمَ الْجَالِسِ لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ؛جلد١ص٢٨٤؛حدیث نمبر٧٣٩)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نماز عشاء کے لیے اقامت کہی گئی تو ایک شخص نے عرض کیا مجھے ایک کام ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس سے باتیں کرنے لگے حتیٰ کہ صحابہ کرام یا بعض صحابہ کرام سو گئے پھر انہوں نے نماز پڑھی۔(مسلم شریف کتاب الحیض؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نوْمَ الْجَالِسِ لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ؛جلد١ص٢٨٤؛حدیث نمبر ٧٤٠)
Muslim Shareef : Kitabul Haiz
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الْحَيْضِ
|
•