
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ جب تم میں سے کسی شخص کو جنگل میں اس کی گمشدہ سواری مل جائے اور جو شخص ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور جو آدمی میرے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے میں چار ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور جو شخص میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کرا آتا ہوں۔ (نوٹ:اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بندے کے قریب ہونا مراد ہے) (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛ترجمہ؛توبہ کا بیان؛بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا؛جلد٤ص۲۱۰١؛حدیث نمبر؛٦۸٣٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس قدر تم میں سے کوئی شخص اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اسے اس کی گمشدہ سواری مل جائے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا؛جلد٤ص۲۱۰۲؛حدیث نمبر؛٦۸٣۱)
امام مسلم نے ایک اورسند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا؛جلد٤ص۲۱۰۲؛حدیث نمبر؛٦۸٣۲)
حضرت حارث بن سوید فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیمار تھے میں ان کی عیادت کے لیے گیا تو انہوں نے مجھ سے دو حدیث بیان کی ایک حدیث اپنی طرف سے اور دوسری حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالی مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کوئی شخص کسی ہلاکت خیز سنسان جنگل میں اپنی سواری پر جاے اور اس کے ساتھ اس کے کھانے پینے کا سامان ہو پس وہ سو جائے جب بیدار ہو تو سواری گم ہو چکی ہو وہ اس کو تلاش کرے اسے پیاس لگ جائے پھر(دل میں)کہےکہ میں اسی جگہ جاتا ہوں جہاں پہلے تھا وہاں سو جاؤں گا حتی کہ مرجاؤں چنانچے وہ اپنا ہاتھ اپنے بازوؤں پر رکھ کر لیٹ جاتا ہےتاکہ مرجائے جب بیدار ہوتا ہے تو اس کی سواری اس کے پاس ہوتی ہے اور اس پر اس کا زادراہ اور کھانے پینے کا سامان موجود ہوتا ہے پس جس قدر وہ شخص سواری اور سامان کے ملنے پر خوش ہوتا ہے اللہ تعالی بندہ مومن کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا؛جلد٤ص۲۱۰۳؛حدیث نمبر؛٦۸٣۳)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس روایت میں ہے کہ ایک شخص جنگل کی زمین میں تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا؛جلد٤ص۲۱۰۳؛حدیث نمبر؛٦۸٣٤)
حضرت حارث بن سوید فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دو حدیث بیان کیں ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دوسری حدیث انہوں نے اپنی طرف سے بیان کی انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی اپنے مومن بندے کی توبہ پر زیادہ خوش ہوتا ہے اس کے بعد حدیث نمبر٦٨٣٣کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا؛جلد٤ص۲۱۰۳؛حدیث نمبر؛٦۸٣۵)
حضرت سماک کہتے ہیں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس نے اپنی خوراک اور مشک کو اونٹ پررکھا اور چل دیا حتیٰ کہ جب جنگل والی زمین میں پہنچا تو دوپہر کے وقت اسے نیند آگئی وہ درخت کے نیچے اتر کر سو گیا اور اس کا اونٹ کسی طرف کو نکل گیا وہ بیدار ہوا توایک ٹیلے پر چڑھ کر دیکھا تو اسے کوئی چیز نظر نہ آئی پھر دوبارہ ایک ٹیلے پر چڑھا لیکن کوئی چیز نظر نہ آئی وہ تیسری بار ٹیلے پرچڑھا لیکن کچھ بھی دکھائی نہ دیا پھر اسی جگہ لوٹ آیا جہاں آرام کیا تھا اس دوران وہ بیٹھا ہوا تھا اچانک اونٹ چلتے چلتے وہاں پہنچ گیا حتیٰ کہ اپنی مہار لا کر اس شخص کے ہاتھ میں دے دی تو جس قدر اس شخص کو اس حالت میں اونٹ کے ملنے پر خوشی حاصل ہوئی اللہ تعالی بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ سماک کہتے ہیں شعبی کا خیال ہے کہ نعمان نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی لیکن میں نے نہیں سنی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا؛جلد٤ص۲۱۰۳؛حدیث نمبر؛٦۸٣٦)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم اس شخص کے خوشی کے بارے میں کیا کہتے ہو جس کی اونٹنی کسی سنسان جنگل میں اپنی رسی کھینچتی ہوئی کسی طرف نکل جائے وہاں اس شخص کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہ ہو جب کہ کھانے پینے کا سامان اس کی سواری پر ہو وہ اس کو تلاش کرتے کرتے تھک جائے پھر وہ اونٹنی ایک درخت کے تنے سے گزرے اور اس کی نکیل اس تنے میں اٹک جائے اور وہ اس کو اس کے ساتھ اٹکی ہوئی پاے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!وہ بہت خوش ہوگا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم جو شخص اپنی سواری کے ملنے پر خوش ہوتا ہے اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا؛جلد٤ص۲۱۰٤؛حدیث نمبر؛٦۸٣۷)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس قدر وہ بندہ خوش ہوتا ہے جو کسی جنگل میں اپنی سواری پر جائے اور پھر وہ سواری اس سے نکل جائے جبکہ اس کے کھانے پینے کا سامان اس سواری پر ہو وہ اس(کے ملنے)سے مایوس ہو کر ایک درخت کے پاس آئے اور اس کے سائے میں لیٹ جائے وہ اپنی سواری(کے ملنے)سے مایوس ہو چکاہواور اسی دوران وہ اس سواری کواپنے پاس کھڑا دیکھے پس وہ اس کی مہار پکڑ لے۔پھر سخت خوشی کے عالم میں کہے یا اللہ!تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں وہ بہت زیادہ خوشی کی وجہ سے ان الفاظ(کی ادائیگی)میں غلطی کرجائے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا؛جلد٤ص۲۱۰٤؛حدیث نمبر؛٦۸٣۸)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ کرنے پر اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جب تم میں سے کوئی شخص بیدار ہوتے ہی جنگل کی زمین میں اپنا اونٹ پالے(اور اس پر خوش ہو)۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا؛جلد٤ص۲۱۰۵؛حدیث نمبر؛٦۸٣۹)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٨٣٩کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا؛جلد٤ص۲۱۰۵؛حدیث نمبر؛٦۸٤٠)
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت فرمایا میں نے ایک حدیث تم سے چھپا رکھی تھی جو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی میں نے آپ سے سنا آپ نے فرمایا اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ اور مخلوق پیدا فرمائے گا جو گناہ کے مرتکب ہوں گے اور ان کو بخش دے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ سُقُوطِ الذُّنُوبِ بِالِاسْتِغْفَارِ تَوْبَةً؛ترجمہ؛استغفار کی فضیلت؛جلد٤ص۲۱۰۵؛حدیث نمبر؛٦۸٤۱)
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اگر بخشنے کے لئے تمہارے گناہ نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو پیدا کرتا جس کے گناہ ہوتے اور اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ سُقُوطِ الذُّنُوبِ بِالِاسْتِغْفَارِ تَوْبَةً؛جلد٤ص۲۱۰۵؛حدیث نمبر؛٦۸٤۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ تمہیں لے جاتا اور ایسے لوگوں کو لے آتا جو گناہ کرتے پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماتا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ سُقُوطِ الذُّنُوبِ بِالِاسْتِغْفَارِ تَوْبَةً؛جلد٤ص۲۱۰٦؛حدیث نمبر؛٦۸٤۳)
حضرت حنظلہ اسیدی رضی اللہ عنہ جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبوں میں سے تھے،بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا اے حنظلہ!تم کیسے ہو؟فرماتے ہیں میں نے کہا حنظلہ منافق ہوگیا انہوں نے فرمایا سبحان اللہ!کیا کہ رہو ہو حضرت حنظلہ فرماتے ہیں میں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں حتی کہ گویا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اپنی بیوی بچوں اور زمینوں کے معاملات میں مشغول ہوجاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم بخدا!یہ معاملہ تو ہمیں بھی پیش آتا ہے پس میں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے کہا یا رسول اللہ!حنظلہ منافق ہوگیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے؟میں نے کہا یا رسول اللہ!ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں پس آپ ہمیں جہنم اور جنت کی یاد دلاتے ہیں حتی کہ گویا ہم اپنی آنکھوں سے(جنت و دوزخ)دیکھ رہے ہیں جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اپنی بیوی بچوں اور زمینوں کے معاملات میں مشغول ہوجاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم اسی حالت پر ہو جس پر میرے پاس ہوتے ہو اور ذکر کی حالت میں رہو تو فرشتے تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کریں لیکن اے حنظلہ!وقت وقت کی بات ہوتی ہے آپ نے یہ بات تین بار فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ فَضْلِ دَوَامِ الذِّكْرِ وَالْفِكْرِ فِي أُمُورِ الْآخِرَةِ وَالْمُرَاقَبَةِ وَجَوَازِ تَرْكِ ذَلِكَ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ وَالِاشْتِغَالِ بِالدُّنْيَا؛جلد٤ص۲۱۰٦؛حدیث نمبر؛٦۸٤٤)
حضرت حنظلہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے آپ نے وعظ فرماتے ہوئے جہنم کی یاد دلائی پھر میں گھر آیا اور بچوں کے ساتھ ہنسی مذاق کیا اور بیوی سے خوش طبعی کی۔فرماتے ہیں پھر میں باہر نکلا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی میں نے یہ بات ان سے ذکر کی انہوں نے فرمایا میں نے اسی طرح کیا ہے جس طرح تم ذکر کر رہے ہو پس ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم حنظلہ منافق ہوگیا،آپ نے فرمایا کیا کہتے ہو؟میں نے آپ کے سامنے پورا واقعہ عرض کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا جس طرح انہوں نے کہا ہے میرے ساتھ بھی اسی طرح ہوا آپ نے فرمایا اے حنظلہ!یہ کیفیت کبھی کبھی ہوتی ہے جس طرح نصیحت کے وقت تمہارے دلوں کی کیفیت ہوتی ہے اگر یہ کیفیت ہمیشہ اسی طرح رہتی تو فرشتے تم سے مصافحہ کرتے حتیٰ کہ راستوں میں تمہیں سلام کرتے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ فَضْلِ دَوَامِ الذِّكْرِ وَالْفِكْرِ فِي أُمُورِ الْآخِرَةِ وَالْمُرَاقَبَةِ وَجَوَازِ تَرْكِ ذَلِكَ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ وَالِاشْتِغَالِ بِالدُّنْيَا؛جلد٤ص۲۱۰۷؛حدیث نمبر؛٦۸٤٥)
حضرت حنظلہ تمیمی اسیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی نصیحت کرتے تھے...اس کے بعد حدیث نمبر ٦٨٤٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ فَضْلِ دَوَامِ الذِّكْرِ وَالْفِكْرِ فِي أُمُورِ الْآخِرَةِ وَالْمُرَاقَبَةِ وَجَوَازِ تَرْكِ ذَلِكَ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ وَالِاشْتِغَالِ بِالدُّنْيَا؛جلد٤ص۲۱۰۷؛حدیث نمبر؛٦۸٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا کیا تو عرش کے اوپر اپنی کتاب میں لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۷؛حدیث نمبر؛٦۸٤۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتا ہے میری رحمت،میرے غضب پر غالب ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۸؛حدیث نمبر؛٦۸٤۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا کر لیا تو اس نے اپنے پاس رکھی ہوئی کتاب میں لکھ دیا کہ بےشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۸؛حدیث نمبر؛٦۸٤۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کئے پھر ان میں سے نناوے حصے اپنے پاس رکھے اور ایک حصہ زمین میں اتار دیا اس ایک حصے سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے حتیٰ کہ چوپایہ اپنے بچے کے اوپر سے پاؤں ہٹا لیتا ہے اس کو اس بات کا خوف ہوتا کہ اس بچے کو تکلیف نہ ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۸؛حدیث نمبر؛٦۸۵۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایک سو رحمتیں پیدا کی ہیں پھر ایک رحمت کو اس نے اپنی مخلوق میں رکھا اور نناوے رحمتیں اپنے پاس رکھ لیں۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۸؛حدیث نمبر؛٦۸۵۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں اس نے ان میں سے ایک رحمت جنوں،انسانوں،جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان نازل کی جس سے وہ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کرتے ہیں اور اسی سے وحشی جانور اپنے بچوں پر رحم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے نناوے رحمتیں بچا رکھی ہیں ان سے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۸؛حدیث نمبر؛٦۸۵۲)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس ایک سو رحمتیں ہیں ان میں سے ایک رحمت سے مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحمت کرتی ہے اور نناوے رحمتیں قیامت کے لئے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۸؛حدیث نمبر؛٦۸۵۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۹؛حدیث نمبر؛٦۸۵٤)
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا(اس دن)ایک سو رحمتیں پیدا کیں ہر رحمت زمین و آسمان کے درمیان بھراؤ کے برابر ہے پھر اس نے ایک رحمت زمین میں رکھ دی جس کے ساتھ ماں اپنے بچے پر رحم کرتی ہے اور درندے اور پرندے ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ اس رحمت کے ساتھ اپنی رحمتوں کو مکمل کرے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۹؛حدیث نمبر؛٦۸۵۵)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آے ان قیدیوں میں ایک عورت کسی کو تلاش کر رہی تھی جب اس کو ان قیدیوں میں سے اپنا بچہ مل گیا تو اس نے اس کو اٹھا کر اپنے پیٹ سے چمٹا لیا اور دودھ پلانے لگی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈالے گی؟ہم نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم!اگر اس سے ہوسکا تو یہ اسے آگ میں نہیں ڈالے گا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس قدر یہ عورت اپنے بچے پر رحمت کرنے والی ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۹؛حدیث نمبر؛٦۸۵٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مومن کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا غضب کتنا ہے تو اللہ تعالیٰ کی جنت کی کوئی بھی تمنا نہ کرتا اور کسی کافر کو معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کتنی رحمت ہے تو وہ اس کی جنت سے مایوس نہ ہوتا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۹؛حدیث نمبر؛٦۸۵۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص جس نے کوئی نیکی نہیں کی تھی جب مرنے لگا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ اسے جلا دینا پھر اس(کی راکھ)کا نصف حصہ خشکی میں اور نصف سمندر میں ڈال دینا۔ کیوں کہ اللہ کی قسم!اگر اللہ تعالیٰ نے اس کی گرفت کی تو اسے اتنا عذاب دے گا جتنا عذاب تمام جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دے گا۔ جب وہ شخص مر گیا تو ان لوگوں نے وہی کام کیا جس کا اس نے ان کو کہا تھا اللہ تعالیٰ نے خشکی کو حکم دیا تو اس نے وہ تمام ذرات جمع کر دئے جو اس میں تھے اور سمندر کو حکم دیا تو اس نے اس کے تمام ذرات جمع کر دئے پھر پوچھا تم نے یہ سب کچھ کیوں کیا؟ اس نے کہا اے میرے رب!تجھ سے ڈرتے ہوئے اور تو زیادہ سے زیادہ جانتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۰۹؛حدیث نمبر؛٦۸۵۸)
معمر کہتے ہیں حضرت زہری نے مجھ سے کہا میں تجھے دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ایک شخص نے اپنے نفس پر زیادتی کی جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا اور پھر مجھے راکھ بنا کر ہوا اور سمندر میں پھیلا دینا اللہ تعالیٰ کی قسم!اگر اللہ تعالیٰ نے میری گرفت کی تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جس کسی دوسرے کو نہیں دے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں نے اسی طرح کیا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ جو کچھ تو نے لیا ہے اس کو واپس کر دے چنانچہ وہ شخص کھڑا ہوگیا اللہ تعالیٰ نے پوچھا تجھے کس چیز نے اس عمل پر برانگیختہ کیا اس نے کہا اے میرے رب!تیرے ڈر سے ایسا کیا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ (دوسری حدیث)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے فرمایا ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگئی اس نے اس(بلی)کو باندھ رکھا تھا نہ اسے کھلاتی تھی اور نہ اسے کھلا چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے حتیٰ کہ وہ(بلی)کمزوری کی وجہ سے مر گئی۔ حضرت زہری فرماتے ہیں ان حدیثوں کا منشا یہ ہے کہ انسان نہ تو اللہ کی رحمت پر کلیتاً اعتماد کرے(اور عمل ترک کردے)اور نہ ہی اس کی رحمت سے مایوس ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۱۰؛حدیث نمبر؛٦۸۵۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ایک بندے نے اپنے نفس پر زیادتی کی جیسا کی معمر کی روایت میں یہاں تک ہے"پس اللہ نے اسے بخش دیا"اور بلی کے قصے میں عورت کا ذکر نہیں اور زبیدی کی روایت میں ہے اللہ تعالیٰ نے ہر اس چیز سے فرمایا جس نے اس کی راکھ کا حصہ لیا تھا کہ تم نے جو کچھ لیا ہے،واپس کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۱۰؛حدیث نمبر؛٦۸٦٠)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا اس نے اپنی اولاد سے کہا تم وہ کام ضرور کرنا جس کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے ورنہ میں تمہارے لئے کسی اور کو اپنے مال کا وارث بنا دوں گا جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا اور مجھے زیادہ علم ہے کہ آپ نے فرمایا تھا(اس نے کہا)پھر مجھے راکھ کر کے ہوا میں اڑا دینا کیوں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی نیکی نہیں کی اور اللہ تعالیٰ مجھے عذاب دینے پر قادر ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے اس سے وعدہ لیا چنانچہ انہوں نے اس کے ساتھ اسی طرح کیا اور مجھے اپنے رب کی قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تمہیں اس بات پر کس چیز نے برانگیختہ کیا اس نے کہا تیرے خوف نے،آپ نے فرمایا پھر اس شخص کو کوئی اور عذاب نہ ہوا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۱۱؛حدیث نمبر؛٦۸٦۱)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں۔ ابو عوانہ کی روایت میں ہے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد عطاء کی تھی اور تیمی کی روایت میں ہے اس نے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی نیکی نہیں کی شیبان کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی نیکی نہیں کی اور ابو عوانہ کی روایت میں ہے اس نے کوئی نیکی نہیں کی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ؛جلد٤ص۲۱۱۲؛حدیث نمبر؛٦۸٦۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں جسے آپ نے اپنے رب سے نقل کیا کہ ایک بندے نے کوئی گناہ کیا پھر کہا یا اللہ!میرا گناہ بخش دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے گناہ کیا پھر اسے یقین ہوا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو بخش دیتا ہے اور گناہ پر پکڑتا بھی ہے پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا اور کہا اے میرے رب!میرا گناہ بخش دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے گناہ کیا اور اسے یقین ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ پر پکڑتا بھی ہے اس نے پھر گناہ کیا اور کہا اے میرے رب!میرا گناہ بخش دے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے گناہ کیا اور اسے یقین ہے کہ اس کا رب گناہ بخش دیتا ہے اور اس پر مواخذہ بھی کرتا ہے تم جو چاہو کرو میں نے تمہاری مغفرت کردی عبد الاعلی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں تیسری بار،چوتھی بار فرمایا جو چاہو عمل کرو۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ التَّوْبَةِ مِنَ الذُّنُوبِ وَإِنْ تَكَرَّرَتِ الذُّنُوبُ وَالتَّوْبَةُ؛جلد٤ص۲۱۱۲؛حدیث نمبر؛٦۸٦۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ التَّوْبَةِ مِنَ الذُّنُوبِ وَإِنْ تَكَرَّرَتِ الذُّنُوبُ وَالتَّوْبَةُ؛جلد٤ص۲۱۱۳؛حدیث نمبر؛٦۸٦٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ایک بندہ گناہ کرتا ہے۔یہ روایت حدیث نمبر ٦٨٦٣ کے مثل مروی ہے،اس میں تین بار یہ ذکر ہے اس نے گناہ کیا اور تیسری بار یہ بھی ذکر ہے کہ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا وہ جو چاہے کرے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ التَّوْبَةِ مِنَ الذُّنُوبِ وَإِنْ تَكَرَّرَتِ الذُّنُوبُ وَالتَّوْبَةُ؛جلد٤ص۲۱۱۳؛حدیث نمبر؛٦۸٦۵)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ رات بھر ہاتھ پھیلاے رکھتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے حتیٰ کہ سورج مغرب سے طلوع ہو(پھر توبہ قبول نہ ہوگی) (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ التَّوْبَةِ مِنَ الذُّنُوبِ وَإِنْ تَكَرَّرَتِ الذُّنُوبُ وَالتَّوْبَةُ؛جلد٤ص۲۱۱۳؛حدیث نمبر؛٦۸٦٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (بندے کو گناہ کی ترغیب نہیں دی گئی اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت کا ذکر ہے کہ بندہ جس قدر گناہ کرے اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے) (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ التَّوْبَةِ مِنَ الذُّنُوبِ وَإِنْ تَكَرَّرَتِ الذُّنُوبُ وَالتَّوْبَةُ؛جلد٤ص۲۱۱۳؛حدیث نمبر؛٦۸٦۷)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی کو اپنی تعریف پسند نہیں اسی لئے اس نے اپنی ذات کی تعریف کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اسی لئے اس نے بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛ بَابُ غَيْرَةِ اللهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ؛جلد٤ص۲۱۱۳؛حدیث نمبر؛٦۸٦۸)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ ظاہر اور باطن کے تمام بے حیائی کے کام حرام قرار دیا اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی شخص تعریف کو پسند کرنے والا نہیں اس لئے اس نے اپنی ذات کی تعریف کو پسند کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛ بَابُ غَيْرَةِ اللهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ؛جلد٤ص۲۱۱٤؛حدیث نمبر؛٦۸٦۹)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتےہیں(یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیور نہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بے حیائی کے تمام کاموں کو حرام کیا ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو باطن ہیں اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی تعریف کو پسند کرنے والا نہیں اسی لئے اس نے اپنی تعریف فرمائی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ غَيْرَةِ اللهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ؛جلد٤ص۲۱۱٤؛حدیث نمبر؛٦۸۷۰)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کو تعریف پسند نہیں اسی لئے اس نے اپنی تعریف فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں اسی وجہ سے اس نے بےحیائی کے تمام کاموں کو حرام قرار دیا اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کو عذر قبول نہیں اسی لئے اس نے کتاب نازل کی اور رسولوں کو بھیجا(تاکہ کوئی یہ بہانہ نہ کرے کہ مجھے معلوم نہ تھا) (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ غَيْرَةِ اللهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ؛جلد٤ص۲۱۱٤؛حدیث نمبر؛٦۸۷۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک اللہ تعالیٰ غیرت کرتا ہے اور مؤمن بھی غیرت کرتا ہے اللہ تعالی کی غیرت اس بات پر ہے کہ کوئی مؤمن وہ کام کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا۔ ایک اور سند سے مروی ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر(رضی اللہ عنہا)بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل سے زیادہ کوئی غیور نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ غَيْرَةِ اللهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ؛جلد٤ص۲۱۱٤؛حدیث نمبر؛٦۸۷۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٦٨٧٢ کے مثل روایت کیا ہے۔(اللہ تعالیٰ اس بات کا محتاج نہیں کہ کوئی اس کی تعریف کرے لیکن مسلمانوں کو ثواب سے بہرہ ور کرنے کے لئے یہ بات فرمائی تاکہ لوگ اس کی زیادہ سے زیادہ تعریف کرکے اجر و ثواب حاصل کرے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ غَيْرَةِ اللهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ؛جلد٤ص۲۱۱۵؛حدیث نمبر؛٦۸۷۳)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل سے زیادہ کوئی غیور نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ غَيْرَةِ اللهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ؛جلد٤ص۲۱۱۵؛حدیث نمبر؛٦۸۷٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن غیرت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیور ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ غَيْرَةِ اللهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ؛جلد٤ص۲۱۱۵؛حدیث نمبر؛٦۸۷۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ غَيْرَةِ اللهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ؛جلد٤ص۲۱۱۵؛حدیث نمبر؛٦۸۷٦)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لیا پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ بیان کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: (ترجمہ)"دن کے دونوں اطراف میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کریں بےشک نیکیاں،برائیوں کو لے جاتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے" راوی فرماتے ہیں اس شخص نے عرض کیا یارسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ میرے لئے ہے آپ نے فرمایا میری امت میں سے جو بھی اس پر عمل کرے ان سب کے لئے ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى:{إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} [هود: ١١٤]جلد٤ص۲۱۱۵؛حدیث نمبر؛٦۸۷٧)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔پھر انہوں نے ذکر کیا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا یا اس کو ہاتھ سے چھیڑا یا کچھ اور کیا گویا وہ اس کے کفارے کے بارے میں پوچھ رہا تھا فرماتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی....اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} [هود: ١١٤]جلد٤ص۲۱۱٦؛حدیث نمبر؛٦۸۷۸)
اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ زنا کئے بغیر کوئی کارروائی کی وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے اس کو بہت بڑا گناہ قرار دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا...اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ}[هود: ١١٤]جلد٤ص۲۱۱٦؛حدیث نمبر؛٦۸۷۹)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے مدینہ طیبہ کے آخری کنارے میں ایک عورت کو پکڑ لیا میں نے جماع کے علاوہ اس سے باقی کارروائی کرلی(بوسہ وغیرہ مراد ہے)اب میں حاضر ہوں میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرمائیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارا پردہ رکھا تھا کاش تم بھی اپنا پردہ رکھتے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تو وہ شخص کھڑا ہوا اور چلا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص اس کے پیچھے بھیجا جو اسے بلا لایا اور آپ نے اس کے سامنے یہ آیت کریمہ پڑھی: "دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز پڑھو بےشک نیکیاں،برائیوں کو لے جاتی ہیں یہ ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرتے ہیں"۔اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم! کیا یہ میرے لیے خاص حکم ہے؟ تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے ۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى:{إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ}[هود: ١١٤]جلد٤ص۲۱۱٦؛حدیث نمبر؛٦۸۸۰)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس روایت کو معنوی طور پر روایت کیا اس حدیث میں یہ ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!یہ حکم،اس شخص کے ساتھ خاص ہے یا ہم سب کے لیے عام ہے؟آپ نے فرمایا بلکہ تم سب کے لیے عام ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ}[هود: ١١٤]جلد٤ص۲۱۱۷؛حدیث نمبر؛٦۸۸۱)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایسا جرم کیا ہے جس پر حد لازم ہوتی ہے پس مجھ پر حد قائم کیجئے۔فرماتے ہیں اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا اور اس شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی جب آپ نے نماز پڑھ لی تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے ایسا جرم کیا ہے جس کی وجہ سے حد واجب ہوتی ہے پس اللہ کی کتاب کے مطابق حد قائم کیجئے۔آپ نے فرمایا کیا تو نماز میں ہمارے ساتھ تھا اس نے عرض کیا جی ہاں،فرمایا تیری بخشش ہوگئی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى:{إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ}[هود: ١١٤]جلد٤ص۲۱۱۷؛حدیث نمبر؛٦۸۸۲)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں نے ایک ایسا کام کیا جس کی وجہ سے حد واجب ہوتی ہے پس مجھ پر حد قائم کریں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اسی دوران نماز کھڑی ہوگئی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابو امامہ کہتے ہیں وہ شخص آپ کے پیچھے گیا اور میں بھی آپ کے پیچھے گیا تاکہ دیکھوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے کیا جواب دیتے ہیں وہ شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملا اور عرض کیا یارسول اللہ!میں نے ایسا کام جس کی وجہ سے حد لازم ہوتی ہے پس مجھ پر حد قائم کیجئے۔ حضرت امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا یہ بتاؤ جب گھر سے نکلے تھے تو تم نے اچھی طرح وضو نہیں کیا تھا اس نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ!فرمایا پھر تم نے ہمارے ساتھ نماز میں شرکت کی؟اس نے کہا ہاں یا رسول اللہ!نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری حد کو یا فرمایا تمہارے گناہ کو اس نماز سے معاف کردیا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ}[هود: ١١٤]جلد٤ص۲۱۱۷؛حدیث نمبر؛٦۸۸۳)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص نے نناوے قتل کئے پھر اس نے زمین والوں سے پوچھا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟اسے ایک راہب(تارک الدنیا)کا پتہ بتایا گیا وہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے نناوے قتل کئے ہیں کیا اس کی توبہ قبول ہوگی؟اس نے کہا نہیں پس اس نے اس کو بھی قتل کرکے سو کی تعداد پوری کرلی۔ پھر اس نے سوال کیا کہ روے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟تو اس عالم کی طرف اس کی راہنمائی کی گئی اس نے(اس سے کہا)کہ اس نے ایک سو آدمیوں کو قتل کیا ہے کیا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے؟اس نے کہا ہاں!اور اس کے اور توبہ کے درمیان کونسی چیز حائل ہوسکتی ہے تم فلاں فلاں جگہ پر جاؤ وہاں کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے ہیں تم بھی ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اپنے علاقے کی طرف نہ لوٹنا۔یہ بری جگہ ہے وہ چلا گیا جب نصف راستہ طے کیا تو اسے موت آگئی،اب رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان اختلاف ہوگیا رحمت کے فرشتوں نے کہا وہ توبہ کرتے ہوئے اور دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوکر آیا تھا اور عذاب کے فرشتوں نے کہا اس نے بالکل کوئی نیک عمل نہیں کیا۔ پس ایک فرشتہ انسانی صورت میں ان کے پاس آیا اور انہوں نے ان کو اپنے درمیان فیصل قرار دیا اس نے کہا ان دونوں جگہوں کے درمیان پیمائش کرو وہ جس زمین کے قریب ہو اسی کے مطابق اس کا حکم ہوگا انہوں نے اس کی پیمائش کی تو جس طرف وہ جارہا تھا اس کو قریب پایا چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت حسن نے فرمایا ہمیں بتایا گیا کہ جب اسے موت آئی تو اس نے اپنا سینہ پہلی جگہ سے دور کرلیا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَثُرَ قَتْلُهُ؛جلد٤ص۲۱۱۸؛حدیث نمبر؛٦۸۸٤)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ ایک شخص نے نناوے آدمیوں کو قتل کیا پھر وہ پوچھتا پھرتا تھا کہ اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے وہ ایک راہب کے پاس آیا تو اس نے کہا تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی اس نے راہب کو بھی قتل کردیا پھر پوچھنا شروع کیا پھر وہ اس بستی سے نکل کر دوسری بستی میں گیا جس میں نیک لوگ رہتے تھے جب اس نے راستے کا کچھ حصہ طے کیا تو اسے موت آگئی اس نے اپنا سینہ کچھ دور کردیا پھر وہ مر گیا۔ اب رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان اختلاف ہوگیا وہ ایک بالشت کے برابر نیک لوگوں کے قریب تھا تو اسے ان بستی والوں سے لاحق کردیا گیا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَثُرَ قَتْلُهُ؛جلد٤ص۲۱۱۸؛حدیث نمبر؛٦۸۸۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی اس میں اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین سے کہا تو دور ہوجاؤ اور اس زمین سے کہا تو قریب ہوجا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَثُرَ قَتْلُهُ؛جلد٤ص۲۱۱۹؛حدیث نمبر؛٦۸۸٦)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایک یہودی یا نصرانی دے گا اور فرماے گا یہ جہنم سے تمہارا چھٹکارا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَثُرَ قَتْلُهُ؛جلد٤ص۲۱۱۹؛حدیث نمبر؛٦۸۸۷)
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے حضرت عمر بن عبد العزیز سے بیان کیا وہ(ان کے والد)حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک یہودی یا عیسائی کو جہنم میں داخل کرتا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان کو تین بار اس ذات کی قسم دی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ کیا وہ واقعی ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔فرماتے ہیں انہوں نے قسم کھائی حضرت قتادہ فرماتے ہیں حضرت سعید نے مجھ سے یہ بات بیان نہیں کی کہ انہوں نے ان کو قسم دی تھی اور انہوں نے حضرت عون پر کوئی اعتراض بھی نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَثُرَ قَتْلُهُ؛جلد٤ص۲۱۱۹؛حدیث نمبر؛٦۸۸۸)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَثُرَ قَتْلُهُ؛جلد٤ص۲۱۲۰؛حدیث نمبر؛٦۸۸۹)
حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا قیامت کے دن کچھ لوگ پہاڑوں جیسے گناہوں کے ساتھ آئیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور وہ گناہ یہود و نصاری پر ڈال دے گا۔ راوی کہتے ہیں جہاں تک مجھے گمان ہے ابو روح نے کہا مجھے معلوم نہیں شک کس کو تھا حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے یہ حدیث حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا یہ حدیث تمہارے والد نے تم سے بیان کی ہے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی؟میں نے کہا جی ہاں۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَثُرَ قَتْلُهُ؛جلد٤ص۲۱۲۰؛حدیث نمبر؛٦۸۹۰)
حضرت صفوان بن محرزفرماتے ہیں ایک شخص نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نجوی(سرگوشی)کے بارے میں کس طرح سنا تھا انہوں نے فرمایا میں نے سنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ایک مومن اپنے رب کے قریب ہو گا حتی کہ وہ اسے اپنی رحمت کے پر میں چھپا لے گا پھر اس سے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور فرمائے گا کیا تو(اس گناہ کو)پہچانتا ہے وہ کہے گا ہاں اے میرے رب!میں پہچانتا ہوں۔ اللہ تعالی فرمائے گا میں نے دنیا میں تجھ پر پردہ ڈالا اور آج تمہیں بخش رہا ہوں پس اس کو اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔ لیکن کفار و منافقین کا معاملہ یوں ہوگا کہ ان کو لوگوں کے سامنے بلایا جائے گا(اور کہا جائے گا)یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ قَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاتِلِ وَإِنْ كَثُرَ قَتْلُهُ؛جلد٤ص۲۱۲۰؛حدیث نمبر؛٦۸۹۱)
حضرت ابن شہاب سے روایت ہے کہ پھر رسول اللہ کو غزوہ تبوک پیش آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روم اور عرب کے نصاری کے ساتھ جہاد کا ارادہ رکھتے تھے۔ ابن شہاب نے کہا مجھے عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی کہ عبداللہ بن کعب جو حضرت کعب کو نابینا ہونے کی حالت میں لے کر چلنے والے بیٹے تھے نے کہا میں نے حضرت کعب بن مالک سے سنا انہوں نے اپنی وہ حدیث بیان کی جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کعب بن مالک نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سے غزوہ تبوک کے علاوہ کسی بھی غزوہ میں پیچھے نہیں رہا اور غزوہ بدر میں بھی پیچھے رہ گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پیچھے رہ جانے والوں میں سے کسی شخص پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان قریش کے قافلہ کو روکنے کے ارادہ سے نکلے یہاں تک کہ اللہ نے مسلمان اور ان کے دشمنوں کے درمیان غیر اختیاری طور پر مقابلہ کروا دیا اور میں بیعت عقبہ کی رات رسول اللہ کے ساتھ حاضر تھا جب ہم نے اسلام پر وعدہ و میثاق کیا تھا اگرچہ بدر کی وقعت اور ذکر مسلمانوں میں بہت زیادہ تھی لیکن مجھے اس رات کی حاضری کی جگہ بدر کی حاضری پسند نہ تھی۔ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے کا میرا واقعہ یہ ہے کہ میں اس غزوہ کے وقت جتنا مالدار اور طاقتور تھا اتنا اس سے پہلے کسی غزوہ میں نہ تھا اللہ کی قسم اس سے پہلے کبھی بھی میرے پاس دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں یہاں تک کہ میں نے دو سواریوں کو اس غزوہ میں جمع کرلیا تھا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت گرمی میں جہاد کیا اور بہت لمبے سفر کا ارادہ کیا اور راستہ جنگل بیابان اور دشوار تھا اور دشمن بھی کثیر تعداد میں پیش نظر تھے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ان معاملات کی پوری پوری وضاحت کردی تاکہ وہ ان کے ساتھ جنگ کے لئے مکمل طور پر تیاری کرلیں اور جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا واضح کردیا اور رسول اللہ کے ساتھ مسلمان کثیر تعداد میں تھے اور انہیں کسی کتاب و رجسٹر میں درج نہیں کیا گیا تھا۔ کعب نے کہا بہت کم لوگ ایسے تھے جو اس غزوہ سے غائب ہونا چاہتے ہوں کہ ان کا معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخفی و پوشیدہ رہے گا جب تک اللہ رب العزت کی طرف سے اس معاملہ میں وحی نہ نازل کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غزوہ اس وقت کیا تھا جب پھل پک چکے تھے اور سائے بڑھ چکے تھے اور مجھے ان چیزوں کا بہت شوق تھا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیاری کی اور مسلمانوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ(تیاری کی)پس میں نے بھی صبح کو ارادہ کیا تاکہ میں بھی ان(دیگر مسلمانوں)کے ساتھ تیاری کروں لیکن میں ہر روز واپس آجاتا اور کوئی فیصلہ نہ کر پاتا اور اپنے دل ہی دل میں کہتا کہ میں اس بات پر قادر ہوں جب جانے کا ارادہ کروں گا چلا جاؤں گا پس برابر میرے ساتھ اسی طرح ہوتا رہا اور لوگ مسلسل اپنی کوشش میں مصروف رہے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح مسلمانوں کو ساتھ لیا اور چل دیئے لیکن میں اپنی تیاری کے لئے کوئی فیصلہ نہ کر پایا تھا میں نے صبح کی تو واپس آگیا اور کچھ بھی فیصلہ نہ کر پایا پس میں اسی کشمکش میں مبتلا رہا یہاں تک کہ مجاہدین آگے بڑھ گئے اور غزوہ شروع ہوگیا پس میں نے ارادہ کیا کہ میں کوچ کروں گا اور ان کو پہنچ جاؤں گا کاش میں ایسا کرلیتا لیکن یہ بات میرے مقدر میں نہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چلے جانے کے بعد جب میں باہر لوگوں میں نکلتا تو یہ بات مجھے غمگین کردیتی کہ میں کسی کو پیروی کے قابل نہ پاتا تھا سوائے ان لوگوں کے جنہیں نفاق کی تہمت ہوتی یا وہ آدمی جسے کمزوری اور ضعیفی کی وجہ سے اللہ نے معذور قرار دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک پہنچنے تک میرا ذکر نہ کیا پھر آپ نے تبوک میں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے فرمایا کعب بن مالک نے کیا کیا بنی سلمہ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!اس کی چادر نے اس کو روک رکھا ہے اور اس کے دونوں کناروں کو دیکھنے نے روکا ہے اس آدمی سے معاذ بن جبل نے کہا تم نے جو کہا اچھا نہیں کہا اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول!ہم اس کے بارے میں سوائے بھلائی کے کوئی بات نہیں جانتے(یہ سن کر)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے اس دوران آپ نے ایک سفید لباس میں ملبوس آدمی کو دھول اڑاتے ہوئے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(شاید)ابوخیثمہ ہو؟وہ واقعتا ابوخیمثہ انصاری ہی تھے اور یہ وہی تھے جنہیں منافقیں نے طعنہ دیا تھا کھجور کا ایک صاع صدقہ دینے پر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ تبوک سے واپس آرہے ہیں تو میرا غم دوبارہ تازہ ہوگیا اور میں جھوٹی باتیں گھڑنے کے لئے سوچنے لگا اور میں کہتا تھا کہ کل میں رسول اللہ کی ناراضگی سے کیسے بچ سکوں گا اور میں نے اس معاملہ پر اپنے گھر والوں میں سے ہر ایک سے مدد طلب کی جب مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریب پہنچ چکے ہیں تو میرے دل سے جھوٹے بہانے اور عذر نکل گئے اور میں نے جان لیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی جھوٹی بات کے ذریعہ کبھی نجات حاصل نہیں کرسکتا پس میں نے سچ بولنے کی ٹھان لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلی صبح تشریف لے آئے اور آپ جب بھی سفر سے تشریف لاتے ابتداءً مسجد میں تشریف لے جاتے دو رکعات اداء کرتے پھر لوگوں سے دریافت کرنے کے لئے تشریف فرما ہوتے پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کرچکے تو پیچھے رہ جانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور قسمیں اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے عذر پیش کرنے لگے اور ایسے لوگ اسی سے کچھ زائد تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہر عذروں کو قبول کرلیا اور ان سے بیعت کی اور ان کے لئے مغفرت طلب کی اور ان کے باطنی معاملہ کو اللہ عزوجل کے سپرد کردیا یہاں تک کہ میں حاضر ہوا میں نے جب سلام کیا تو آپ ناراض آدمی کے مسکرانے کی طرح مسکرائے پھر فرمایا ادھر آؤ پس میں چلتا ہوا آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا تجھے کس بات نے پیچھے کردیا کیا تو نے اپنی سواری نہ خریدی تھی؟میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!اللہ کی قسم!اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دنیا والوں میں سے کسی کے پاس بیٹھا ہوتا تو مجھے معلوم ہے کہ میں کوئی عذر پیش کر کے اس کی ناراضگی سے بچ کر نکل جاتا کیونکہ مجھے قوت گویائی عطا کی گئی ہے اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ اگر میں آج کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے کے لئے جھوٹی بات بیان کروں جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے راضی ہو بھی جائیں تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ پر ناراض کر دے اور اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ بات بیان کروں جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ناراض ہوجائیں پھر بھی مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا انجام اچھا کر دے گا اللہ کی قسم مجھے کوئی عذر درپیش نہ تھا اللہ کی قسم میں جب آپ سے پیچھے رہ گیا تو کوئی بھی مجھ سے زیادہ طاقتور اور خوشحال نہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا پس تم اٹھ جاؤ یہاں تک کہ اللہ تیرے بارے میں فیصلہ فرمائے پس میں کھڑا ہوا اور بنو سلمہ کے کچھ لوگ میرے پیچھے آئے انہوں نے مجھے کہا اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے کہ آپ نے اس سے پہلے کوئی گناہ کیا ہو اب تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عذر پیش کیوں نہ کیا جیسا کہ اور پیچھے رہ جانے والوں نے عذر پیش کیا حالانکہ تیرے لئے رسول اللہ کا استغفار کرنا ہی کافی ہوجاتا پس اللہ کی قسم وہ مجھے مسلسل اسی طرح متنبہ کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوٹ کر اپنے آپ کی تکذیب و تردید کردوں پھر میں نے ان سے کہا کیا کسی اور کو میری طرح کا معاملہ پیش آیا ہے انہوں نے کہا ہاں آپ کے ساتھ دو اور آدمیوں کو بھی یہ معاملہ درپیش ہے انہوں نے بھی آپ ہی کی طرح کہا میں نے پوچھا وہ دونوں کون کون ہیں انہوں نے مرارہ بن ربیعہ عامری اور ہلال بن امیہ واقفی کا ذکر کیا انہوں نے مجھے ایسے دو نیک آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں شریک ہوچکے تھے اور ان دونوں میں میرے لئے نمونہ تھا۔ پس میں اپنی بات پر پختہ ہوگیا جب انہوں نے مجھے ان دو آدمیوں کا ذکر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تین آدمیوں سے گفتگو کرنے سے منع کردیا دیگر پیچھے رہنے والوں کو چھوڑ کر،پس لوگوں نے پرہیز کرنا شروع کردیا وہ ہمارے لئے غیر ہوگئے یہاں تک کہ زمین بھی میرے لئے اجنبی محسوس ہونے لگی اور زمین مجھے اپنی جان پہچان والی ہی معلوم نہ ہوتی تھی پس ہم نے پچاس راتیں اسی حالت میں گزرایں بہر حال میرے دونوں ساتھی عاجز ہو کر اپنے گھروں میں ہی بیٹھے روتے رہے لیکن میں نوجوان تھا اور ان سے زیادہ طاقتور تھا اس لئے میں باہر نکلتا نماز میں حاضر ہوتا اور بازاروں میں چکر لگاتا لیکن کوئی بھی مجھ سے گفتگو نہ کرتا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتا جب نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے ہوتے پھر میں اپنے دل میں کہتا کہ آپ نے سلام کے جواب کے لئے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی ہے یا نہیں پھر میں آپ کے قریب نماز اداء کرتا اور آنکھیں چرا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا جب میں اپنی نماز پر متوجہ ہوتا تو آپ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ مجھ سے اعراض کرلیتے یہاں تک کہ جب مسلمانوں کی سختی مجھ پر طویل ہوگئی تو میں چلا یہاں تک کہ میں اپنے چچا زاد ابوقتادہ کے باغ کی دیوار پر چڑھا اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے پس میں نے انہیں سلام کیا اللہ کی قسم انہوں نے مجھے میرے سلام کا جواب بھی نہ دیا میں نے ان سے کہا اے ابوقتادہ میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں پس وہ خاموش رہے میں نے دوبارہ انہیں قسم دی وہ خاموش ہی رہے پس میں نے سہ بارہ انہیں قسم دی تو انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں پس میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور میں دیوار سے اتر کر واپس آگیا اسی دوران کہ میں مدینہ کے پاس ہی چل رہا تھا کہ ایک نبطی شامی جو مدینہ میں غلہ بیچنے کے لئے آیا تھا کہہ رہا تھا کوئی شخص مجھے کعب بن مالک کا پتہ دے پس لوگوں نے میری طرف اشارہ کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ وہ میرے پاس آیا اور مجھے غسان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط دیا چونکہ میں پڑھا لکھا تھا میں نے اسے پڑھا اس میں تھا۔ اما بعد!ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے ساتھی نے آپ پر زیادتی کی ہے اور اللہ نے تجھے ذلت اور رسوائی کی جگہ پیدا نہیں کیا تم ہمارے ساتھ مل جاؤ ہم تمہاری خاطر داری اور دلجوئی کریں گے میں نے جب اسے پڑھا تو کہا یہ بھی ایک اور آزمائش ہے پس میں نے اسے تنور میں ڈال کر جلا ڈالا یہاں تک کہ جب پچاس دن گزر گئے اور وحی بند رہی تو ایک دن رسول اللہ کا قاصد میرے پاس آیا اور کہا رسول اللہ تجھے حکم دیتے ہیں کہ تو اپنی بیوی سے جدا ہوجا میں نے کہا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں انہوں نے کہا نہیں بلکہ اس سے علیحدہ ہوجا اور اس کے قریب نہ جا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی اس طرح پیغام بھیجا تو میں نے اپنی بیوی سے کہا تو اپنے رشتہ داروں کے پاس چلی جا اور انہیں کے پاس رہ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ کر دے پس حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہلال بن امیہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں ان کا کوئی خادم بھی نہیں ہے کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خدمت کرنے کو بھی ناپسند کرتے ہیں آپ نے فرمایا نہیں لیکن وہ تیرے ساتھ صحبت نہ کرے انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم اسے کسی چیز کا خیال تک نہیں ہے اور اللہ کی قسم جب سے اس کا یہ معاملہ پیش آیا ہے اس دن سے لے کر آج تک وہ رو ہی رہا ہے پس مجھے میرے بعض گھر والوں نے کہا تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیوی کے بارے میں اجازت لے لو جیسا کہ آپ نے ہلال بن امیہ کی بیوی کو اس کی خدمت کی اجازت دے دی ہے میں نے کہا میں اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب نہ کروں گا کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ اس بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے جس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیوی کے بارے میں اجازت لوں گا حالانکہ میں نوجوان آدمی ہوں پس میں اسی طرح دس راتیں ٹھہرا رہا پس ہمارے لئے پچاس راتیں اس وقت سے پوری ہوگئیں جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری گفتگو کو منع فرمایا تھا پھر میں نے پچاسویں رات کی صبح کو فجر کی نماز اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر اداء کی پس اسی دوران میں اپنے حال پر بیٹھا ہوا تھا جو اللہ نے ہمارے بارے میں ذکر کیا ہے تحقیق میرا دل تنگ ہونے لگا اور زمین مجھ پر باوجود وسیع ہونے کے تنگ ہوگئی تو میں نے اچانک سلع پہاڑ کی چوٹی سے ایک چلانے والے کی آواز سنی جو بلند آواز سے پکار رہا تھا اے کعب بن مالک خوش ہوجا میں اسی وقت سجدہ میں گرگیا اور میں نے جان لیا کہ تنگی دور ہونے کا وقت آگیا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھنے کے بعد لوگوں میں اعلان کیا کہ ہماری توبہ قبول ہوگئی ہے پس لوگ ہمیں خوشخبری دینے کیلئے چل پڑے اور کچھ صحابہ میرے دونوں ساتھیوں کو خوشخبری دینے چلے گئے اور ایک آدمی نے میری طرف گھوڑے کی ایڑ لگائی قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے بلند آواز دی چناں چہ اس کی آواز گھوڑے کے پہنچنے سے قبل ہی پہنچ گئی پس جب میرے پاس وہ صحابی آئے جن کی میں نے خوشخبری دینے والی آواز سنی تھی تو میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے پہنا دئیے اس کی خوشخبری دینے کی وجہ سے اللہ کی قسم اس دن میرے پاس ان دو کپڑوں کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی اور میں نے دو کپڑے ادھار لے کر خود پہنے پھر میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادہ سے روانہ ہوا تو صحابہ مجھے فوج درفوج ملے جو مجھے توبہ کی قبولیت کی مبارک باد دے رہے تھے کہتے تھے کہ اللہ کا تمہاری توبہ قبول کرنا تمہیں مبارک ہو یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور صحابہ آپ کے اردگرد موجود تھے پس طلحہ بن عبیداللہ جلدی سے اٹھے یہاں تک کہ مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی۔اللہ کی قسم! مہاجرین میں سے ان کے علاوہ کوئی بھی نہ اٹھا۔اسی وجہ سے کعب رضی اللہ عنہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو کبھی نہ بھولے تھے کعب نے کہا جب میں نے رسول اللہ کو سلام کیا تو آپ کا چہرہ اقدس خوشی کی وجہ سے چمک رہا تھا اور آپ فرما رہے تھے مبارک ہو تمہیں ایسی بھلائی والے دن کی اس جیسی خوشی کا دن تجھ پر تیری ماں کے پیدا کرنے سے آج تک نہیں گزرا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ آپ کی طرف سے ہے یا اللہ عزوجل کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اور منور ہوجاتا تھا گویا کہ وہ چاند کا ٹکڑا ہو اور ہم اس علامت کو پہچانتے تھے۔جب میں آپ کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی خدمت میں بطور صدقہ پیش کردوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھ یہ تیرے لئے بہتر ہے تو میں نے عرض کیا میں خبیر سے اپنے حصے کے مال کو اپنے لئے رکھتا ہوں اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول بیشک اللہ نے مجھے سچائی کے ذریعہ نجات عطاء فرمائی ہے اور میری توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں گا کبھی سچ کے علاوہ بات نہ کروں گا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں سے کسی ایک کو بھی اللہ عزوجل نے سچ بولنے کی وجہ سے(ایسی)آزمائش میں ڈالا ہو اور جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی اس آزمائش کی خوبی کا ذکر کیا تھااس وقت سے لے کر آج تک میں نے کبھی جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا اور میں امید کرتا ہوں کہ جب تک میری زندگی باقی ہے اللہ مجھے محفوظ رکھے گا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات مبارکہ نازل فرمائی: "بےشک اللہ تعالیٰ نے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)مہاجرین اور انصار پر رحمت کے ساتھ رجوع کیا جنہوں نے سختی کے وقت نبی کا ساتھ دیا اس کے بعد قریب تھا کہ ایک گروہ کے دل اپنی جگہ سے ہل جائیں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی بے وہ ان پر نہایت مہربان اور بہت رحم فرمانے والا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کی توبہ قبول فرمائی جو مؤخر کئے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر تنگ ہوگئیں اور ان کو یقین ہوگیا تھا کہ اللہ کے سوا ان کی کوئی جاے پناہ نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی بےشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ "اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔" حضرت کعب نے کہا اللہ کی قسم!اللہ کی مجھ پر نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت اسلام کے بعد میرے نزدیک میرے سچ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ بولا اور اگر میں نے جھوٹ بولا ہوتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوجاتا جیسے جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوئے بیشک اللہ نے جب وحی نازل کی جتنا اس میں جھوٹ بولنے والے کے شر کو بیان کیا کسی اور کے شر کو بیان نہیں کیا۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: عنقریب وہ آپ کے سامنے قسمیں کھائیں گے جب تم لوگ ان کی طرف لوٹو گے تاکہ تم ان سے اعراض کرو۔تو تم ان کی طرف توجہ نہ کرو بے شک وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے یہ ان کی بد اعمالیوں کی سزا ہے وہ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ اگر تم ان سے راضی ہوجاؤ تب بھی اللہ تعالیٰ فاسق قوم سے راضی نہیں ہوگا" حضرت کعب فرماتے ہیں ہم تین حضرات کا معاملہ ان لوگوں سے مؤخر کیا گیا تھا جن کی قسمیں کھانے کے بعد ان کا عذر قبول کیا گیا ان سے بیعت لی گئی اور ان کے لئے طلب مغفرت کی گئی۔جب کہ رسول اللہ نے ہمارا معاملہ مؤخر کر دیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ فرمایا اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کی توبہ قبول فرمائی جنکو پیچھے رکھا گیا۔ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں غزوہ سے پیچھے رکھا گیا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قسم کھانے والوں کی نسبت ہے ہمارے معاملے کو موخر کیا گیا جنہوں نے قسمیں کھائیں اور آپ نے ان کا عذر قبول فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ حَدِيثِ تَوْبَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبَيْهِ؛جلد٤ص۲۱۲۰؛سے۲۱۲۸؛حدیث نمبر؛٦۸۹۲)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ حَدِيثِ تَوْبَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبَيْهِ؛جلد٤ص۲۱۲۸؛حدیث نمبر؛٦۸۹۳)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنا واقعہ بیان کیا جب آپ غزوہ تبوک کے موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ پوری حدیث حسب سابق ہے،ان میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کا ارادہ فرماتے تو اس کا کنایتاً ذکر فرماتے لیکن اس غزوہ کا صراحتاً ذکر فرمایا۔اس روایت میں حضرت ابو خیثمہ اور ان کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جانے کا ذکر نہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ حَدِيثِ تَوْبَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبَيْهِ؛جلد٤ص۲۱۲۸؛حدیث نمبر؛٦۸۹٤)
حضرت کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہوگئے تو ان کے بیٹے حضرت عبید اللہ بن کعب(رضی اللہ عنہ)ان کی رہنمائی کرتے تھے وہ اپنی قوم کے سب سے بڑے عالم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو سب سے زیادہ یاد رکھنے والے تھے وہ فرماتے ہیں میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا اور وہ ان تین اصحاب میں سے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول فرمائی اور وہ کہتے ہیں کہ وہ دو غزؤوں کے علاوہ کسی غزوہ میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے پیچھے نہیں رہے پھر پوری حدیث بیان کی اور اس میں فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے مسلمانوں کے ساتھ جہاد کیا جو دس ہزار سے زائد تھے اور کسی رجسٹر میں ان کا شمار نہیں تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ حَدِيثِ تَوْبَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَصَاحِبَيْهِ؛جلد٤ص۲۱۲۹؛حدیث نمبر؛٦۸۹۵)
حضرت عتبہ بن مسعود حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کرتے ہیں کہ جب تہمت سے ان کے بارے میں کہا گیا جو کہا پس اللہ نے انہیں ان کی تہمت سے پاک کیا زہری نے کہا ان سب نے مجھ سے اس حدیث کا ایک ایک حصہ روایت کیا اور ان میں سے کچھ دوسروں سے اس حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے تھے اور عمدہ طور پر روایت کرنے والے تھے اور میں نے ان سب سے اس حدیث کو محفوظ و یاد رکھا جو انہوں نے مجھ سے روایت کی اور ان میں سے ہر ایک کی حدیث دوسرے کی حدیث کی تصدیق کرتی ہے یہ سب روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رسول اللہ جب کسی سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالتے پس ان میں سے جس کا قرعہ نکلتا رسول اللہ اسے اپنے ہمراہ لے جاتے تھے سیدہ عائشہ نے کہا کہ اس غزوہ میں بھی آپ نے ہمارے درمیان قرعہ ڈالا تو اس میں میرے نام کا قرعہ نکل آیا پس میں رسول اللہ کے ہمراہ گئی اور یہ پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔ پس مجھے میرے محمل میں سوار کیا جاتا اور اسی میں اتارا جاتا پس ہم چلتے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ جب غزوہ سے فارغ ہو کر لوٹے اور ہم مدینہ کے قریب ہوگئے تو آپ نے رات کو کوچ کرنے کا اعلان کیا جب آپ نے کوچ کرنے کا اعلان کیا تو میں کھڑی ہوئی اور چل دی یہاں تک کہ لشکر سے دور چلی گئی جب میں قضائے حاجت سے فارغ ہوئی اور کجاوے کی طرف لوٹ کر آئی تو میں نے اپنے سینے کو ٹٹولا تو میرا ہار ظفار کے نگینوں والا ٹوٹ چکا تھا پس میں واپس گئی اور اپنے ہار کو ڈھونڈنا شروع کردیا اور مجھے اس ہار کی تلاش نے روک لیا اور میرے کجاوے اٹھانے والی جماعت آئی پس انہوں نے میرے کجاوے کو اٹھا کر میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی اور وہ گمان کرتے تھے کہ میں اس کجاوے میں ہوں اور ان دنوں عورتیں دبلی پتلی ہوا کرتی تھیں موٹی تازی اور بھاری بھر کم نہ ہوتی تھیں اور نہ گوشت سے بھر پور کیونکہ وہ کھانا کم کھایا کرتی تھیں اس وجہ سے جب ان لوگوں نے کجاوہ کو اٹھا کر سوار کیا تو وزن کا اندازہ نہ لگا سکے اور میں اس وقت کم سن تھی پس انہوں نے اونٹ کو اٹھایا اور روانہ ہوگئے اور میں نے لشکر کے چلے جانے کے بعد اپنے ہار کو پالیا پس میں ان کے پڑاؤ کی جگہ آئی مگر وہاں پر نہ کوئی پکارنے والا تھا اور نہ ہی کوئی جواب دینے والا میں نے اسی جگہ کا ارادہ کیا جہاں پر میں پہلے تھی اور میرا گمان تھا کہ عنقریب وہ لوگ مجھے گم پا کر میری طرف لوٹ آئیں گے اسی دوران کہ میں اپنی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھی کہ میری آنکھوں میں نیند کا غلبہ آیا اور میں سو گئی۔ حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی رات کے آخر میں لشکر سے پیچھے رہ گئےتھے وہ صبح سویرے میری جگہ کے پاس آئے اور انہوں نے ایک سوئے ہوئے انسان کی سیاہی دیکھ کر میرے پاس آئے اور مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے کیونکہ انہوں نے مجھے احکام پردہ نازل ہونے سے پہلے دیکھا ہوا تھا۔ جب انہوں نے مجھے پہچان کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو میں بیدار ہوگئی پس میں نے اپنے چہرے کو اپنی چادر سے ڈھانپ لیا اللہ کی قسم انہوں نے مجھ سے ایک کلمہ بھی گفتگو نہیں کیا اور نہ میں نے ان سے اناللہ کے علاوہ کوئی کلمہ سنا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا اور میں اونٹنی پر ہاتھ کے سہارے پر سوار ہوگئی پس وہ سواری کی مہار پکڑ کر چل دئیے یہاں تک کہ ہم لشکر کو ان کے پڑاؤ کے بعد پہنچ گئے جو کہ عین دوپہر کے وقت پہنچے تھے میرے اس واقعہ کی وجہ سے جس شخص نے(بدگمانی سے)ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوگیا وہ شخص جس نے سب سے بڑی تہمت لگائی تھی وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا ہم مدینہ پہنچ گئے اور میں مدینہ پہنچے کے بعد ایک ماہ تک بیمار رہی اور لوگوں نے تہمت لگانے والوں کی باتوں میں غور کرنا شروع کردیا اور میں اس بارے میں کچھ نہ جانتی تھی البتہ مجھ کو اس بات نے شک میں ڈالا کہ میں نے اپنی بیماری میں رسول اللہ کی وہ شفقت نہ دیکھی جو اپنی بیماریوں کے وقت اس سے پہلے دیکھتی تھی۔ رسول اللہ تشریف لاتے سلام کرتے پھر فرماتے تمہارا کیا حال ہے یہ بات مجھے شک میں ڈالتی تھی لیکن مجھے کسی خرابی کے بارے میں شعور نہ تھا یہاں تک کہ کمزور ہونے کے بعد ایک دن میں قضائے حاجت کے لئے باہر نکلی اور حضرت ام مسطح بھی میرے ساتھ مناصع کی طرف نکلیں اور وہ ہمارا بیت الخلاء تھا اور ہم صرف رات کے وقت نکلا کرتی تھیں اور یہ ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلا بننے سے پہلے کا واقعہ ہے۔اور ہمارا معاملہ عرب کے پہلے لوگوں کی طرح تھا کہ ہم قضائے حاجت کے لئے جنگل میں جایا کرتی تھیں اور بیت الخلاء گھروں کے قریب بنانے سے اذیت ہوتی تھی۔پس میں اور ام مسطح چلیں اور وہ ابورہم بن عبدالمطلب بن عبدمناف کی بیٹی تھیں اور اس کی والدہ صخر بن عامر کی بیٹی تھی جو حضرت ابوبکر کی خالہ تھیں اور اس کا بیٹا مسطح اثاثہ بن عباد بن عبدالمطلب کا بیٹا تھا پس جب میں اور ابورہم کی بیٹی قضائے حاجت سے فارغ ہو کر اپنے گھر کی طرف لوٹیں تو ام مسطح کا پاؤں ان کی چادر میں الجھ گیا تو اس نے کہا مسطح ہلاک ہوا میں نے اس سے کہا تو نے جو بات کی ہے وہ بری بات ہے کیا تو ایسے آدمی کو برا کہتی ہے جو غزوہ بدر میں شریک ہوا۔ اس نے کہا اے خاتون!کیا تو نے وہ بات نہیں سنی جو اس نے کہی ہے میں نے کہا اس نے کیا کہا ہے پھر اس نے مجھے تہمت کی بات کے بارے میں خبر دی یہ سنتے ہی میری بیماری میں اور اضافہ ہوگیا پس جب میں اپنے گھر کی طرف لوٹی تو رسول اللہ میرے پاس تشریف لائے سلام کیا پھر فرمایا تمہارا کیا حال ہے میں نے عرض کیا آپ مجھے میرے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیتے ہیں اور اس وقت میرا یہ ارادہ تھا کہ میں اپنے والدین کی طرف سے اس خبر کی تحقیق کروں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی پس میں اپنے والدین کے پاس آئی۔ میں نے اپنی والدہ سے کہا اے امی جان!لوگ کیا باتیں بنا رہے ہیں انہوں نے کہا اے میری بیٹی!اپنے آپ پر قابو رکھ اللہ کی قسم ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند کے نزدیک محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں جو اس کے خلاف کوئی بات نہ بنائیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا سبحان اللہ واقعتا لوگوں نے ایسی باتیں کی ہیں فرماتی ہیں کہ اس رات صبح تک روتی رہی نہ میرے آنسو رکے اور نہ ہی میں نے نیند کو آنکھوں کا سرمہ بنایاپھر میں نے روتے ہوئے صبح کی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابوطالب اور اسامہ بن زید کو بلایا اور ابھی تک وحی نازل نہیں ہوئی تھی اور ان سے اپنی اہلیہ کو جدا کرنے کا مشورہ طلب کرنا چاہتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کا مشورہ دیا جس کا آپ کو علم تھا کہ آپ کی اہلیہ بے گناہ ہیں اور یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ان کی محبت ہے۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ آپ کی اہلیہ ہیں اور ہم بھلائی کے علاوہ ان میں کچھ نہیں جانتے۔ اور حضرت علی بن ابوطالب نے کہا اللہ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کی اور ان کی علاوہ بہت عورتیں موجود ہیں اور اگر آپ(سیدہ عائشہ)کی لونڈی سے پوچھیں تو وہ آپ سے سچی بات کر دے گی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلوایا تو فرمایا اے بریرہ!کیا تو نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس نے تجھے سیدہ عائشہ کی طرف سے شک میں ڈالا ہو آپ سے بریرہ نے عرض کیا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں نے سیدہ عائشہ میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جس پر نکتہ چینی کی جاسکے یا عیب لگایا جاسکے اگر عیب والی بات ہے تو صرف یہ ہے کہ وہ کم سن لڑکی ہیں آٹا گوندھتے گوندھتے سو جاتی ہے اور بکری آکر اسے کھالیتی ہے۔ پس رسول اللہ منبر پر کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی سلول سے جواب طلب کیا فرماتی ہیں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت!تم میں سے کون بدلہ لے گا اس آدمی سے جس کی طرف سے مجھے اپنے اہل بیت کے بارے میں تکلیف پہنچی ہے اللہ کی قسم میں تو اپنے گھر والوں میں سوائے بھلائی کے کوئی بات نہیں جانتا اور جس آدمی کا تم ذکر کرتے ہو اس کے بارے میں بھی سوائے بھلائی کے کوئی بات نہیں جانتا اور نہ وہ میرے ساتھ کے علاوہ کبھی میرے گھر والوں کے پاس گیا ہے پس حضرت سعد بن معاذ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول اس سے میں آپ کا بدلہ لیتا ہوں اگر وہ قبیلہ اوس سے ہے تو ہم اس کی گردن مار دیں گے اور اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج میں سے ہوا تو آپ جو حکم اس کے بارے میں دیں گے ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے پھر قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عباد کھڑے ہوئے اور وہ نیک آدمی تھے لیکن انہیں کچھ جاہلیت کی قبائلی تعصب نے بھڑکا دیا پس انہوں نے سعد بن معاذ سے کہا آپ نے سچ نہ کہا اللہ کی قسم تم اسے قتل نہیں کرسکتے اور نہ ہی تمہیں اس کے قتل پر قدرت حاصل ہے۔ حضرت اسید بن حضیر سعد بن معاذ کے چچا زاد بھائی کھڑے ہوئے تو سعد بن عبادہ سے کہا تم نے بھی حق بات نہیں کی البتہ ہم ضرور بالضرور اسے قتل کریں گے تو کیا تم منافق ہو جو منافقین کی طرف سے لڑ رہے ہو الغرض اوس اور خزرج دونوں قبیلوں کو جوش آگیا یہاں تک کہ انہوں نے باہم لڑنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور رسول اللہ منبر پر رونق افروز تھے پس رسول اللہ برابر ان کے غصہ کو ٹھنڈا کرتے رہے یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے اور آپ بھی خاموش ہوگئے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس دن بھی روتی رہی میرے آنسو روکے نہیں رکتے تھے اور نہ میری آنکھوں نے نیند کو سرمہ بنایا پھر میں آنے والی رات میں بھی روتی رہی نہ میری آنسو رکے اور نہ ہی نیند کو سرمہ بنایا اور میرے والدین نے گمان کیا کہ رونا میرے جگر کو پھاڑ دے گا اسی دوران کہ وہ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی کہ انصار میں سے ایک عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت مانگی میں نے اسے اجازت دی پس وہ بھی بیٹھ کر رونا شروع کردی پس ہم اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا کر سلام کیا پھر بیٹھ گئے فرماتی ہیں کہ جب سے میرے بارے میں باتیں کی گئیں تب سے آپ میرے پاس نہ بیٹھے تھے اور ایک مہینہ گزر چکا تھا لیکن آپ کی طرف میرے بارے میں کوئی وحی نازل نہ کی گئی تھی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھتے ہی کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا اما بعد!اے عائشہ!مجھے تیرے بارے میں ایسی ایسی خبر پہنچی ہے پس اگر تو پاک دامن ہے تو عنقریب اللہ تیری پاکدامنی واضح کر دے گا اور اگر تو گناہ میں ملوث ہوچکی ہو تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور اس کی طرف رجوع کر بیشک بندہ جب گناہ کا اعتراف کرلیتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ بھی اس پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرماتا ہے۔ جب رسول اللہ اپنی گفتگو پوری کرچکے تو میرے آنسو بالکل رک گئے یہاں تک کہ میں نے آنسوؤں سے ایک قطرہ تک محسوس نہ کیا۔ میں نے اپنے باپ سے عرض کیا آپ میری طرف سے رسول اللہ کو ان باتوں کا جواب دیں جو آپ نے فرمائی ہیں انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میں نے رسول اللہ کو کیا جواب دوں پھر میں نے اپنی والدہ سے عرض کیا کہ آپ میری طرف سے رسول اللہ کو جواب دیں تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں بھی نہیں جانتی کہ میں رسول اللہ کو کیا جواب دوں تو میں نے عرض کیا میں ایک نوعمر لڑکی ہوں میں قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے نہیں کرسکتی اور اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ تم لوگ اس تہمت کی بات کو سن چکے ہو یہاں تک کہ وہ بات تمہارے دلوں میں پختہ ہوچکی ہے اور تم نے اسے سچ سمجھ لیا ہے پس اگر میں تم سے کہوں کہ میں پاک دامن ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں پاک دامن ہوں تو تم میری تصدیق نہ کرو گے اور اللہ کی قسم میں اپنے اور تمہارے درمیان صرف حضرت یوسف علیہ السلام کے باپ(حضرت یعقوب علیہ السلام)کی مثال پاتی ہوں کہ انہوں نے کہا تھا میں صبر جمیل کرتا ہوں اور جو کچھ تم کہ رہے ہو اس کے خلاف میں نے اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کی ہے۔فرماتی ہیں پھر میں نے کروٹ بدلی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی فرماتی ہیں اللہ کی قسم میں اس وقت بھی جانتی تھی کہ میں پاک دامن ہوں اور بیشک اللہ تعالیٰ میری پاک دامنی کو واضع فرمائے گا لیکن اللہ کی قسم میرا یہ گمان بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں ایسی وحی نازل کی جائے گی جس کی تلاوت کی جائے گی اور میں اپنی شان کو اپنے دل میں کم سمجھتی تھی اس سے کہ اللہ رب العزت میرے معاملہ میں کلام کرے گا جس کی تلاوت کی جائے گی لیکن میں تو یہ امید کرتی تھی کہ رسول اللہ نیند میں خواب دیکھیں گے جس میں اللہ میری پاکدامنی واضع کرے گا فرماتی ہیں اللہ کی قسم ابھی رسول اللہ اپنی جگہ سے نہ اٹھے تھے اور نہ ہی گھر والوں میں سے کوئی بھی باہر گیا تھا کہ اللہ رب العزت نے اپنے نبی پر وحی نازل فرمائی اور آپ کے پسینہ کے قطرات موتیوں کی طرح دکھنے لگے اس وحی کے بوجھ کی وجہ سے جو آپ پر نازل کی گئی جب رسول اللہ کی یہ حالت دور ہوگئی یعنی وحی پوری ہوگئی تو آپ مسکرانے لگے اور آپ کا پہلا کلمہ جس سے آپ نے گفتگو کی یہ تھا کہ اے عائشہ! خوش ہوجا کہ اللہ نے تیری پاکدامنی واضع کردی ہے مجھ سے میری والدہ نے کہا آپ کی طرف اٹھ کر آپ کا شکریہ ادا کر میں نے کہا اللہ کی قسم میں صرف اللہ ہی کے سامنے کھڑی ہوں اور اسی اللہ کی حمد وثناء بیان کروں گی جس نے میری برأت نازل کی پس اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائی: ترجمہ)"بےشک تم سے جن لوگوں نے تہمت لگائی بے شک یہ دس آیات ہیں(سورہ نور)اللہ تعالیٰ نے یہ آیات میری برأت میں نازل فرمائیں۔ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر جو مسطح پر قرابت داری اور ان کی غربت کی وجہ سے خرچ کیا کرتے تھے انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں اس کے بعد جو اس نے عائشہ کے بارے میں کہا کبھی بھی انہیں کچھ نہ دوں گا تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی: "اور تم میں جو لوگ فضل والے اور صاحب وسعت ہے وہ یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں اور ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہیں کریں گے اور انہیں چاہیے کہ وہ ان کو معاف کردے اور در گزر کریں(اے ایمان والو!) کیا تم یہ بات پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم والا ہے"عبداللہ بن مالک نے کہا اللہ کی کتاب میں یہ آیت سب سے زیادہ امید کو بڑھانے والی ہے تو ابوبکر نے کہا اللہ کی قسم میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف فرما دے پھر انہوں نے حضرت مسطح کو وہی خرچ دوبارہ دینا شروع کردیا جو اسے پہلے دیا کرتے تھے اور کہا میں اس سے یہ کبھی بھی نہ روکوں گا۔ سیدہ عائشہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین حضرت زینب بنت جحش سے میرے معاملہ کے بارے میں پوچھا کہ تو کیا جانتی ہے تو نے کیا دیکھا ہے تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں اپنے کانوں اور آنکھوں کی حفاظت رکھتی ہوں یعنی بن سنے یا دیکھے کوئی بات بیان نہیں کرتی اللہ کی قسم میں ان کے بارے ماسوائے بھلائی کے کچھ نہیں جانتی سیدہ عائشہ نے کہا یہی وہ عورت تھیں جو رسول اللہ کی ازواج مطہرات میں سے میرے مقابل اور برابر کی تھیں پس اللہ نے انہیں تقوی کی وجہ سے محفوظ رکھا البتہ ان کی بہن حمنہ بن جحش ان سے اس معاملہ میں لڑیں اور وہ بھی تہمت کی ہلاکت میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوئی۔ زہری نے کہا یہ حدیث وہ ہے جو ہم تک اس معاملہ کے متعلق اس جماعت کے ذریعہ پہنچی ہے اور یونس کی حدیث میں ہے کہ حضرت حمنہ کو تعصب نے تہمت لگانے پر ابھارا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي حَدِيثِ الْإِفْكِ وَقَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاذِفِ؛جلد٤ص۲۱۲۹تا٢١٣٧؛حدیث نمبر؛٦۸۹٦)
امام مسلم نے اس حدیث کو مزید دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے فلیح کی حدیث میں ہے کہ حضرت حمنہ کو تعصب نے جاہل بنا دیا۔صالح کی روایت میں ہے کہ اس کو تعصب نے ابھارا نیز صالح کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضرت حسان رضی اللہ عنہ کو برا کہنا ناپسند کرتی تھیں وہ فرماتی تھیں کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے(حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں)یوں کہا۔ "بےشک میرا باپ میری ماں اور میری عزت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے تحفظ کے لئے ہیں"۔ نیز اس روایت میں یہ اضافہ بھی ہے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ کی قسم!جس شخص کے ساتھ یہ تہمت لگائی گئی(یعنی حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ)وہ کہتے تھے اللہ کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں نے کبھی کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا،اس کے بعد وہ اللہ کی راہ میں شہید کر دئے گئے۔ یعقوب بن ابراہیم کی روایت میں"موغرین فی نحر الظہیرۃ"کے الفاظ ہیں عبد الرزاق نے موغرین کا لفظ نقل کیا ہے عبد بن حمید کہتے ہیں میں عبد الرزاق سے"موغرین"کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا"سخت گرمی" (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابٌ فِي حَدِيثِ الْإِفْكِ وَقَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاذِفِ؛جلد٤ص۲۱۳۷؛حدیث نمبر؛٦۸۹۷)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب میرے بارے میں ایک ناگفتہ بہ بات کہی گئی اور مجھے اس کے بارے میں کچھ علم نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا،اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی جس طرح اس کی شان کے لائق ہے پھر فرمایا۔ اما بعد!مجھے ان لوگوں کے متعلق مشورہ دو جنہوں نے میری اہلیہ پر تہمت لگائی اور قسم بخدا!میں نے اپنی اہلیہ میں کوئی برائی نہیں دیکھی اور جس شخص کے ساتھ تہمت لگائی گئی وہ میری موجودگی کے علاوہ کبھی میرے گھر میں داخل نہیں ہوے اور میں جب بھی گھر سے باہر گیا وہ میرے ساتھ گئے....اس کے بعد مکمل واقعہ ذکر کیا۔ ام المؤمنين فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری لونڈی سے پوچھا انہوں نے کہا اللہ کی قسم مجھے ان میں کوئی عیب معلوم نہیں البتہ یہ کہ وہ سوجاتی اور بکری آکر ان کا آٹا کھا جاتی تھی۔ ہشام کو شک ہے کہ عجین کہا یا خمیر(معنی ایک ہی ہے)بعض صحابہ کرام نے اس لونڈی کو ڈانٹا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ بولو حتیٰ کہ انہوں نے اس قول کی وجہ سے ان کو گرا دیا تو اس نے کہا اللہ کی قسم!میں ان(حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا)کے بارے میں اس طرح جانتی ہوں جس طرح زرگر خالص سونے کی سرخ ڈلی کے بارے میں جانتا ہے۔(یعنی وہ بے عیب ہے)اور جب یہ خبر اس شخص تک پہنچی جن کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی تو انہوں نے کہا سبحان اللہ!اللہ کی قسم!میں نے کبھی بھی کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے تھے اس روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے تہمت لگائی تھی وہ مسطح،حمنہ اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے اور عبد اللہ بن ابی منافق اس تہمت کو ہوا دیتا تھا اور وہ حمنہ اس تہمت کو زیادہ پھیلانے والے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَة؛بَابٌ فِي حَدِيثِ الْإِفْكِ وَقَبُولِ تَوْبَةِ الْقَاذِفِ؛جلد٤ص۲۱۳۸؛حدیث نمبر؛٦۸۹۸)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد کے ساتھ تہمت لگائی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا جاؤ اس کی گردن اڑا دو حضرت علی اس کے پاس گئے تو وہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے ایک کنویں میں غسل کر رہا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نکلو اور اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اس کو نکالا تودیکھا کہ اس کا عضو تناسل کٹا ہوا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کو قتل کرنے سے رک گئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوے اور عرض کیا یارسول اللہ!اس کا عضو تناسل کٹا ہوا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّوْبَةِ؛بَابُ بَرَاءَةِ حَرَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرِّيبَةِ؛جلد٤ص۲۱۳۹؛حدیث نمبر؛٦۸۹۹)
Muslim Shareef : Kitabut Taobate
|
Muslim Shareef : كِتَابُ التَّوْبَةِ
|
•