
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے جس میں لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں جب تک وہ ان سے الگ نہ ہو جائے ان کو مت کچھ دو۔زہیرکہتے ہیں یہ اس کی قرأت ہے جس نے"من حلولہ" پڑھا ہے۔ اور ابن ابی نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم مدینہ لوٹ گئے تو عزت والے مدینہ سے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بات کی خبر دی آپ نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا اور اس سے(اس بات کے متعلق)پوچھا تو اس نے پکی قسم کھائی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی اور کہا کہ زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا ہے حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں مجھے ان لوگوں کی بات سے سخت تکلیف پہنچی اللہ تعالی نے میری تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی: (ترجمہ)"جب آپ کے پاس منافق آتے ہیں"آخر تک۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بلایا تاکہ ان کے لئے مغفرت طلب کرے تو انہوں نے(مذاق اڑاتے ہوئے)اپنے سر ٹیڑھے کیے اور اللہ کا یہ ارشاد"گویا وہ دیوار کے سہارے کھڑے ہوئے شہتیر ہیں" حضرت زید فرماتے ہیں ظاہر میں یہ لوگ بہت خوبصورت تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛ترجمہ؛منافقین کی صفات اور ان کے احکام؛جلد٤ص۲۱٤٠؛حدیث نمبر؛٦۹۰۰)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لے گئے اور اس کو اس کی قبر سے نکال کر اپنے گھٹنوں پر رکھا اس پر اپنا لعاب مبارک ڈالا اور اپنی قمیض پہنائی اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤٠؛حدیث نمبر؛٦۹۰۱)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی کے دفن کئے جانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لے گئے....اس کے بعد حدیث نمبر ٦٩٠١کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۱؛حدیث نمبر؛٦۹۰۲)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب عبد اللہ بن ابی بن سلول مرگیا تو اس کے بیٹے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے سوال کیا کہ اپنی قمیص اس کو عطاء فرمائیں جس میں وہ اپنے باپ کو کفن دیں آپ نے اپنی قمیص عطاء فرمادی پھر انہوں نے عرض کیا کہ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھانے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مبارک پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ!آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے منع فرمایا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں(برابر ہے)اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی بخشش مانگیں اور میں ستر بار پر زیادہ کروں گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ تو منافق ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "ان(منافقین)میں جو شخص مر جائے آپ اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھائیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں"۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۱؛حدیث نمبر؛٦۹۰۳)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ پھر آپ نے منافقین پر نماز پڑھنے کو ترک کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۱؛حدیث نمبر؛٦۹۰٤)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بیت اللہ شریف کے پاس تین آدمی جمع ہوئے دو قرشی اور ایک ثقفی تھا یا دو ثقفی اور ایک قرشی تھا ان کے دلوں میں سمجھ کم اور پیٹوں پر چربی زیادہ تھی ان میں سے ایک نے کہا تمہارا کیا خیال ہے ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے دوسرے نے کہا اگر بلند آواز سے بولیں تو سنتا ہے اور اگر آہستہ آواز سے بولیں تو نہیں سنتا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمائی: "اور تم اپنے گناہ اس لیے نہیں چھپاتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان تمہاری آنکھ اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گےلیکن تم یہ گمان کرتے تھے اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے کاموں کو نہیں جانتا اور اپنے رب کے ساتھ تمہارے اسی گمان نے تمہیں ہلاک کیا اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیے" (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۱؛حدیث نمبر؛٦۹۰۵)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو اور سندیں اور بیان کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۲؛حدیث نمبر؛٦۹۰٦)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ کی طرف گئے آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے چند لوگ واپس لوٹ آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ان لوگوں کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے بعض نے کہا ہم ان کو قتل کریں گے اور بعض نے کہا نہیں تب یہ آیت نازل ہوئی: تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہ ہوگئے" (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۲؛حدیث نمبر؛٦۹۰۷)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو اور سندیں ذکر کی ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۲؛حدیث نمبر؛٦۹۰۸)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کچھ منافقین تھے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جہاد کے لیے جاتے تو وہ پیچھے رہ جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے پر خوش ہوتے تھے اور جب آپ(واپس)تشریف لاتے تو وہ بہانہ بناتے،قسمیں کھاتے اور اس بات کو پسند کرتے کہ لوگ اس کام پر ان کی تعریف کریں جو انہوں نے کیا ہی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی: "ان لوگوں کے متعلق گمان نہ کرو جو اپنے عمل پر خوش ہوتے ہیں اور جو عمل نہیں کیا اس پر لوگوں کی طرف سے تعریف کی خواہش رکھتے پس ان کے لئے عذاب سے نجات کا گمان نہ کرو۔" (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۲؛حدیث نمبر؛٦۹۰۹)
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں حمید بن عبدالرحمن نے ان کو خبر دی کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع!حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر کہو کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے کاموں پر خوش ہوتا ہے اور اس بات کی خواہش رکھتا ہے کہ اس کام پر اس کی تعریف کی جائے جو اس نے نہیں کیا اگر ایسے شخص کو عذاب دیا جائے تو ہم سب کو عذاب دیا جائے گا(یعنی ہم سب کی یہی حالت ہے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہارا اس آیت سے کیا تعلق ہے،یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی اس کے بعد حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ:{وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ} [آل عمران: ١٨٧] هَذِهِ الْآيَةَ، وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ:{لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا} [آل عمران: ١٨٨] (ترجمہ)"(اور(یاد کرو)جب اللہ تعالی نے اہل کتاب سے یہ عہد لیا کہ تم اس کو لوگوں سے ضرور بیان کروگےاور اس کو چھپاؤ گے نہیں۔" اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت بھی تلاوت کی:"ان لوگوں کو ہرگز گمان نہ کرو جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور جو کچھ نہیں کیا اس پر لوگوں کی طرف سے تعریف کی خواہش مند ہیں(کہ وہ عذاب سے نجات پائیں گے") حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اس چیز کو آپ سے چھپایا اور اس کی بجائے کسی اور چیز کی خبر دی اور آپ پر یہ ظاہر کرتے ہوئے نکلے کہ انہوں نے اس بات کی خبر دے دی جس کا آپ نے ان سے سوال کیا تھا اور اس کے بتانے پر آپ سے تعریف کے طالب ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا اس کے چھپانے پر خوش ہوئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۳؛حدیث نمبر؛٦۹۱۰)
حضرت قیس کہتے ہیں میں نے حضرت عمار سے پوچھا مجھے بتائے آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معرکے میں جو کارروائی کی آیا یہ آپ کا اپنا اجتہاد تھا یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے عہد لیا تھا؟انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایسا کوئی عہد نہیں لیا جو عہد آپ نے عام لوگوں سے نہ لیا ہو۔لیکن حضرت حذیفہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں اس بات کی خبر دی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ میرے اصحاب کی طرف منسوب ہوئے ہیں ان میں بارہ منافق ہیں ان میں آٹھ وہ ہیں جو جنت میں نہیں جائیں گے حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے سوراخ میں داخل ہوجائے اور ان میں آٹھ کو آگ کا شعلہ کافی ہے اور چار کے متعلق مجھے یاد نہیں کہ حضرت شعبہ نے ان کے بارے میں کیا کہا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۳؛حدیث نمبر؛٦۹١١)
حضرت قیس بن عباد فرماتے ہیں ہم نے حضرت عمار سے پوچھا کیا آپ نے اس جنگ میں اپنی رائے سے حصہ لیا تھا کیونکہ رائے کبھی غلط ہوتی ہے اور کبھی درست،یا اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کوئی عہد لیا تھا انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کوئی عہد نہیں لیا جو آپ نے عام لوگوں سے نہ لیا ہو۔ انہوں نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(شعبہ کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ حضرت حذیفہ نے بیان کیا تھا)کہ میری امت میں بارہ منافق ہیں وہ اس وقت تک جنت میں نہیں جائیں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے جب تک اونٹ سوئی کے سوراخ میں داخل نہ ہوجائے ان میں سے آٹھ کو دبیلہ(پھوڑا)کافی ہوگا۔ یعنی ان کے کندھوں میں آگ کا چراغ پیدا ہوگا جو ان کے سینوں کو توڑتا ہوا نکل جائے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۳؛حدیث نمبر؛٦۹۱۲)
ابوطفیل بیان کرتے ہیں کہ اہل عقبہ میں سے ایک شخص کا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جھگڑا ہو گیا جیسا کہ تمام لوگوں میں ہوتا ہے اس نے کہا میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں بتاؤ اہل عقبہ کتنے ہیں؟لوگوں نے حضرت حذیفہ سے کہا جب یہ آپ سے پوچھ رہا ہے تو اس کو بتائے انہوں نے کہا ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ چودہ ہیں اگر تم بھی ان میں سے ہو تو وہ پندرہ ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ وہ ہیں جو دنیا میں اور جب گواہ قائم ہوں گے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والے ہیں ان میں سے تین آدمیوں نے عذر پیش کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو نہیں سنا اور نہ ہی ہمیں قوم کے ارادے کا علم ہوا اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم حرہ میں جارہے تھے آپ نے فرمایا پانی بہت کم ہے مجھ سے پہلے پانی پر کوئی نہ پہنچے آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ آپ سے پہلے پانی پر پہنچ گئے آپ نے اس دن ان پر لعنت فرمائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤٤؛حدیث نمبر؛٦۹۱۳)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرار کی گھاٹی پر کون چڑھے گا کیونکہ اس کے گناہ اس طرح جھڑ جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ جھڑ گئے تھے۔ فرماتے ہیں پس سب سے پہلے ہمارے یعنی بنو خزرج کے گھوڑے چڑھے پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرخ اونٹ والے کے سوا تم سب کی بخشش ہوگئی ہم اس کے پاس گئے اور کہا آؤ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے بخشش طلب کریں اس نے کہا اللہ کی قسم!اگر مجھے اپنی گمشدہ چیز مل جائے تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمہارا پیغمبر میرے لیے استغفار کرے فرماتے ہیں وہ شخص اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤٤؛حدیث نمبر؛٦۹۱٤)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون شخص مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا؟یہ روایت پہلی روایت کے مطابق ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ وہ ایک اعرابی تھا جو اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۵؛حدیث نمبر؛٦۹۱۵)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے قبیلہ بنو النجار میں ایک شخص تھا اس نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھی تھی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کتابت کرتا تھا۔ وہ بھاگ کر اہل کتاب سے جا ملا انہوں نے اس چیز کو اٹھایا اور کہا یہ شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کتابت کرتا تھا پس وہ اس پر بہت خوش ہوئے تھوڑے ہی دنوں میں اللہ تعالیٰ نے اس کی گردن توڑ دی انہوں نے اس کے لیے ایک گھڑا کھودا اور اسے اس میں دفن کردیا صبح ہوئی تو زمین نے اسے نکال کر باہر پھینک دیا انہوں نے دوبارہ گڑھا کھودا اور اس کو دفن کردیا صبح ہوئی تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا انہوں نے پھر گڑھا کھود کر اس کو دفن کردیا پھر انہوں نے اس کو اسی طرح پڑا ہوا چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۵؛حدیث نمبر؛٦۹۱٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے تشریف لائے جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو بڑے زور زور سے آندھی چلی قریب تھا کہ سوار زمین میں دھنس جاتے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آندھی کسی منافق کی موت کے لیے بھیجی ہے جب مدینہ منورہ پہنچے تو منافقوں میں سے ایک بڑا منافق مر چکا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۵؛حدیث نمبر؛٦۹۱۷)
حضرت ایاس کہتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص کی عیادت کے لئے گئے جس کو بخار تھا میں نے کہا قسم بخدا!میں آج کی طرح کسی شخص کا بدن گرم نہیں دیکھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس شخص کی خبر نہ دوں جو قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ گرم ہوگا پھر آپ نے اپنے ہمراہیوں میں سے دو شخصوں کی طرف اشارہ کیا جو گھوڑوں پر سوار تھے اور منہ پھیرے کھڑے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤٦؛حدیث نمبر؛٦۹۱۸)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑیوں کے درمیان متردد رہتی ہے کبھی اس ریوڑ میں جاتی ہے اور کبھی اس ریوڑ میں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤٦؛حدیث نمبر؛٦۹۱۹)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا....یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح ہے۔ البتہ اس حدیث میں یہ ہے کبھی وہ اس ریوڑ میں گھس جاتی ہے اور کبھی اس ریوڑ میں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ؛جلد٤ص۲۱٤۷؛حدیث نمبر؛٦۹۲۰)
Muslim Shareef : Kitabo Sifatul Munafeqin Wa Ahkamohum
|
Muslim Shareef : كِتَابُ صِفَاتُ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامُهُمْ
|
•