
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا قیامت کے دن ایک بہت موٹا شخص آئے گا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا تم پڑھو: "پس ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے"۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۷؛حدیث نمبر؛٦۹۲۱)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم)یا(کہا)اے ابو القاسم!(صلی اللہ علیہ وسلم)قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان کو ایک انگلی پر اٹھالے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر اٹھائے گا پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر،پانی اور گیلی زمین کو ایک انگلی پر اٹھائے گا اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھائے گا پھر ان کو ہلاے گا اور فرماے گا میں بادشاہ ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس یہودی کی بات پر تعجب ہوا اور آپ اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس پڑے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: "انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح قدر کرنی چاہیے تمام زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوں گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے اور لوگ جس چیز کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں وہ اس سے پاک ہیں۔" (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۷؛حدیث نمبر؛٦۹۲۲)
اسی سند کے ساتھ منصور سے روایت ہے فرماتے ہیں ایک یہودی عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا یہ روایت حسب سابق ہے لیکن اس میں یہ بات مذکور نہیں کہ پھر ان کو بلایا،راوی کہتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کی بات پر تعجب کرتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح قدر کرنا چاہیے تھی اور آیت کریمہ تلاوت کی۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۷؛حدیث نمبر؛٦۹۲۳)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا اے ابو القاسم!بے شک اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں نیز گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھائے گا پھر فرماے گا میں بادشاہ ہوں میں بادشاہ ہوں۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں پھر آیت کریمہ پڑھی: "اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کی جس طرح قدر کرنا چاہیے تھی" (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۸؛حدیث نمبر؛٦۹۲٤)
امام مسلم نے اس حدیث کی تین سندیں ذکر کی ہیں۔ان سب کی روایتوں میں ہے اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی زمین کو ایک انگلی پر اٹھائے گا۔اور جریر کی روایت میں یہ نہیں کہ مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھائے گا البتہ ان کی حدیث میں یہ ہے کہ پہاڑوں کو ایک انگلی پر اٹھائے گا جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے اس کی تصدیق کی اور تعجب کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۸؛حدیث نمبر؛٦۹۲۵)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرماے گا میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۸؛حدیث نمبر؛٦۹۲٦)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل قیامت کے دن ان تمام آسمانوں کو لپیٹ لے گا پھر ان کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑے گا پھر فرماے گا میں بادشاہ ہوں کہاں ہے جبر کرنے والے،کہاں ہیں تکبر کرنے والے،پھر زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا پھر فرماے گا میں بادشاہ ہوں جبر کرنے والے کہاں ہیں تکبر کرنے والے کہاں ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۸؛حدیث نمبر؛٦۹۲۷)
حضرت عبید اللہ بن مقسم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا کہ وہ کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کو ہاتھ سے پکڑ لے گا اور فرماے گا میں اللہ ہوں آپ اپنی انگلیوں کو بند کرتے اور کھولتے تھے(اور فرماے گا)میں بادشاہ ہوں حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے دیکھا منبر کے نیچے سے کچھ ہل رہا تھا حتیٰ کہ میں نے(دل میں)کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر جائے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۸؛حدیث نمبر؛٦۹۲۸)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوکر فرما رہے تھے جبار عزوجل اپنے آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لے گا پھر حسب سابق کی طرح روایت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛جلد٤ص۲۱٤۹؛حدیث نمبر؛٦۹۲۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا درختوں کو سوموار کے دن پیدا کیا ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کے دن پیدا کیا نور کو بدھ کے دن پیدا کیا،جمعرات کے دن چوپایوں کو پھیلا دیا اور آدم علیہ السلام کو تمام مخلوق کے بعد جمعہ کے دن عصر کے بعد جمعہ کی کسی آخری ساعت عصر سے رات تک پیدا کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ ابْتِدَاءِ الْخَلْقِ وَخَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۱٤۹؛حدیث نمبر؛٦۹۳۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ ابْتِدَاءِ الْخَلْقِ وَخَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؛جلد٤ص۲۱٤۹؛حدیث نمبر؛٦۹۳۱)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو سفید زمین پر جمع کیا جائے گا جو سرخی مائل ہوگی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے اور اس زمین میں کسی شخص کی کوئی علامت نہیں ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابٌ فِي الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ وَصِفَةِ الْأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٤ص۲۱۵۰؛حدیث نمبر؛٦۹۳۲)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالی کے اس قول کے بارے میں پوچھا: "جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل جائے گی اور آسمان بھی(بدل جائےگا)تو یا رسول اللہ!اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟آپ نے فرمایا صراط پر(ہوں گے) (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابٌ فِي الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ وَصِفَةِ الْأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛جلد٤ص۲۱۵۰؛حدیث نمبر؛٦۹۳۳)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ زمین روٹی کی طرح ہوگی اللہ تعالی اہل جنت کی مہمانی کے لیے اسے اپنے دست قدرت سے الٹ پلٹ دے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں روٹی کو الٹ پلٹ کرتا ہے حضرت ابوسعید فرماتے ہیں پھر ایک یہودی آیا اور اس نے کہا اے ابو القاسم(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ آپ پر برکتیں نازل کرے کیا میں آپ کو نہ بتاؤں کہ قیامت کے دن اہل جنت کی کس چیز کے ساتھ مہمان نوازی ہوگی آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں۔ اس نے کہا زمین تو ایک روٹی کی طرح ہو جائےگی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہماری طرف دیکھا پھر آپ ہنسے حتی کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوئیں اس نے کہا میں آپ کو ان کے سالن کی خبر نہ دوں؟آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے کہا ان کا سالن بالام اور نون ہوگا صحابہ کرام نے پوچھا یہ کیا ہے؟اس نے کہا بیل اور مچھلی جن کی کلیجی کے ایک ٹکڑے سے ستر ہزار آدمی کھا سکیں گے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ نُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جلد٤ص۲۱۵۱؛حدیث نمبر؛٦۹۳٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دس یہودی(عالم) میری پیروی کر لیتے تو زمین پر ہر یہودی مسلمان ہوجاتا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ نُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛جلد٤ص۲۱۵۱؛حدیث نمبر؛٦۹۳٥)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھیت میں جا رہا تھا آپ نے ایک شاخ سے ٹیک لگائی ہوئی تھی کہ اتنے میں چند یہودی وہاں سے گزرے ان میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ ان سے روح کے بارے میں سوال کرو ان میں سے ایک نے کہا تمہیں اس میں کیا شبہ ہے کہیں وہ ایسا جواب نہ دے جو تمہیں ناپسند ہوانہوں نے کہا ان سے سوال کرو پھر ان میں سے بعض نے کھڑے ہوکر آپ سے روح کے بارے میں سوال کیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ خاموش ہوگئے اور آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا میں نے جان لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا اب وحی نازل ہوگئی اللہ تعالی نے فرمایا: "اور وہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجئے روح میرے رب کے امر سے ہے اور تمہیں صرف کم علم دیا گیا"۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} [الإسراء: ٨٥] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵۲؛حدیث نمبر؛٦۹۳٦)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ طیبہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا اس کے بعد حسب سابق روایت ہے البتہ وکیع کی روایت میں ہے"وما اوتیتم من العلم الا قلیلا" اور عیسیٰ بن یونس کی روایت میں ہے"وما اوتوا"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} [الإسراء: ٨٥] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵۲؛حدیث نمبر؛٦۹۳٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے ایک باغ میں تھے اور آپ نے ایک تنے سے ٹیک لگا رکھی تھی اس کے بعد حسب سابق روایت ہے اور اس روایت میں"وما اوتیتم من العلم الا قلیلا"ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} [الإسراء: ٨٥] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵۳؛حدیث نمبر؛٦۹۳۸)
حضرت حباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عاص بن وائل کے ذمہ میرا قرض تھا میں نے اس کے پاس جاکر تقاضا کیا تو اس نے کہا میں تمہارا قرض ہر گز واپس نہیں کروں گا جب تک تم(حضرت)محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کے ساتھ کفر نہ کرو،میں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہر گز نہیں کروں گا یہاں تک کہ میں مر جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں اس نے کہا جب میں مر کر دوبارہ اٹھوں گا تو میرے پاس میرا مال اور اولاد ہوگی اور میں تمہارا قرض ادا کردوں گا۔اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: "کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کے ساتھ کفر کیا اور کہا مجھے ضرور مال اور اولاد ملے گی کیا وہ غیب پر مطلع ہوگیا یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لیا ہے ہرگز نہیں وہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھ لیں گے ہم اس کے قول کے وارث ہیں اور وہ ہمارے پاس تنہا آے گا"۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} [الإسراء: ٨٥] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵۳؛حدیث نمبر؛٦۹۳۹)
حضرت حباب نے کہا میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا میں نے عاص بن وائل کے لئے کام کیا پھر میں نے آکر اس سے تقاضا کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ سُؤَالِ الْيَهُودِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّوحِ وقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ} [الإسراء: ٨٥] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵۳؛حدیث نمبر؛٦۹٤٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ابو جہل نے کہا اے اللہ!اگر یہ قرآن تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں دردناک عذاب دے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا جب تک آپ ان میں موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہیں جب تک وہ بخشش طلب کرتے رہیں اور کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہ دے حالانکہ یہ لوگ(مسلمانوں کو)مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ} [الأنفال: ٣٣] الْآيَةَ؛جلد٤ص۲۱۵٤؛حدیث نمبر؛٦۹٤۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوجہل نے کہا کیا محمد تمہارے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں اسے کہا گیا ہاں تو اس نے کہا لات اور عزی کی قسم اگر میں نے انہیں ایسا کرتے دیکھا تو ان کی گردن(معاذ اللہ)روند دوں گا یا ان کا چہرہ مٹی میں ملاؤں گا پس وہ رسول اللہ کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے اس ارادہ سے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کو روندے جب وہ آپ کے قریب ہونے لگا تو اچانک اپنی ایڑیوں پر واپس لوٹ آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے کسی چیز سے بچ رہا تھا پس اسے کہا گیا تجھے کیا ہوا تو اس نے کہا میرے اور ان کے درمیان آگ کی خندق تھی ہول اور (فرشتوں کے)بازو تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ مجھ سے قریب ہوتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو نوچ ڈالتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔راوی کہتا ہے ہم نہیں جانتے کہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے یا ہمیں کسی اور طریقہ سے پہنچی ہے۔ (ترجمہ)"حقیقت یہ ہے کہ انسان بلا شبہ سرکشی کرتا ہے(کیوں کہ)اس نے آپ کو مستغنی سمجھ لیا ہے بےشک آپ کے رب کی طرف ہی لوٹنا ہے کیا آپ نے اس کو دیکھا جو ہمارے بندے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے آپ بتائے اگر وہ ہدایت پر ہوتا یا تقویٰ کا حکم دیتا(تو بہتر نہ تھا) آپ بتاے اگر وہ جھٹلاے اور پیٹھ پھیرے(تو وہ اللہ کے عذاب سے کیسے بچے گا)اس نے یہ نہیں جانا کہ اللہ(سب کچھ)دیکھ رہا ہے یقیناً اگر وہ باز نہیں آیا تو ہم یقیانا پیشانی کے بل پکڑ کر کھینچیں گے وہ پیشانی جو جھوٹی اور گناہ گار ہے۔ اسے چاہیے کہ مجلس میں(اپنے مددگاروں)کو پکارے ہم بھی دوزخ کے فرشتوں کو بلائیں گے،ہر گز نہیں آپ اس کی اطاعت نہ کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى} [العلق: ٧]؛جلد٤ص۲۱۵٤؛حدیث نمبر؛٦۹٤۲)
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان لیٹے ہوئے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا اے ابوعبدالرحمن کندہ کے دروازوں کے پاس ایک قصہ گو بیان کر رہا ہے اور گمان کرتا ہے کہ قرآن میں جو دخان(دھوئیں)کی آیت ہے وہ دھواں آنے والا ہے پس وہ کفار کی سانسوں کو روک لے گا اور مومنین کے ساتھ صرف زکام کی کیفیت پیش آئے گی۔ حضرت عبداللہ غصہ سے اٹھ بیٹھے پھر فرمایا اے لوگو اللہ سے ڈرو تم میں سے جو کوئی بات جانتا ہو تو وہ اپنے علم کے مطابق ہی بیان کرے اور جو بات نہیں جانتا تو کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ تم میں سب سے بڑا عالم وہی ہے جو جس بات کو نہ جانتا ہو اس کے بارے میں کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے پس بیشک اللہ رب العزت نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: "آپ فرما دیجئے میں تم سے(اس تبلیغ پر)اجر کا سوال نہیں کرتا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والا ہوں۔" اور بلا شبہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی رو گردانی دیکھی تو فرمایا اے اللہ!حضرت یوسف علیہ کے زمانے کی طرح سات سال قحط نازل فرما۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان لوگوں پر سات سال کا قحط نازل ہوا۔ جس نے ہر چیز کو ملیا میٹ کردیا یہاں تک کہ بھوک کی وجہ سے چمڑے اور مردار کھائے گئے۔اور ان میں سے جو کوئی آسمان کی طرف نظر کرتا تھا تو دھوئیں کی سی کیفیت دیکھتا تھا پس آپ کے پاس ابوسفیان حاضر ہوئے اور عرض کیا اے محمد!بیشک آپ اللہ کی اطاعت کرنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دینے کے لئے تشریف لائے ہیں اور بیشک آپ کے قوم کے لوگ ہلاک ہوگئے آپ اللہ سے ان کے لئے دعا مانگیں۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: "تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان سے بالکل واضح دھواں اٹھے گا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ درد ناک عذاب ہے.....بےشک تم لوٹنے والے ہو تک یہ آیت ہے۔ انہوں نے کہا کیا آخرت کا عذاب اٹھ سکتا ہے؟جس دن ہم بڑی گرفت کے ساتھ پکڑیں گے(اس دن)بےشک ہم بدلہ لینے والے ہیں تو اس پکڑنے سے بدر کا دن مراد ہے جبکہ دھواں،گرفت لزام اور روم کی نشانیاں گزر چکی ہیں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الدُّخَان؛جلد٤ص۲۱۵۵؛حدیث نمبر؛٦۹٤٣)
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا میں مسجد میں ایک ایسے آدمی کو چھوڑ آیا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرتا ہے وہ اس آیت(یوم نبطش البطشہ)کہ"جس دن آسمان سے واضح دھواں ظاہر ہوگا"کی تفسیر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قیامت کے دن دھواں لوگوں کی سانسوں کو بند کر دے گا یہاں تک کہ ان کی زکام کی سی کیفیت ہوجائے گی۔تو حضرت عبداللہ نے فرمایا جو آدمی کسی بات کا علم رکھتا ہو وہ وہی بات کہے اور جو نہ جانتا ہو تو چاہئے کہ وہ کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے پس بیشک آدمی کی عقلمندی یہ ہے کہ وہ جس بات کا علم نہ رکھتا ہو اس کے بارے میں کہے اللہ اعلم۔ اس دھوئیں کا پس منظر یہ ہے کہ جب قریشیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف قحط پڑنے کی دعا کی جیسے کہ حضرت یوسف کے زمانہ کے لوگوں پر قحط اور مصیبت و تنگی آئی تھی یہاں تک کہ جب کوئی آدمی آسمان کی طرف نظر کرتا تو اپنے اور آسمان کے درمیان اپنی مصیبت کی وجہ سے دھواں دیکھتا تھا اور یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیوں کو کھایا پس ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول!مضر(قبیلہ)کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کریں پس بیشک وہ ہلاک ہوچکے ہیں آپ نے فرمایا تو نے مضر کے لئے بڑی جرات کی ہے پھر آپ نے اللہ سے ان کے لئے دعا مانگی تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ)"بےشک ہم تھوڑے سے عرصہ کے لیے عذاب کو دور کردیتے ہیں مگر بےشک تم پھر کفر کی طرف لوٹنے والے ہو" کہتے ہیں پس ان پر بارش برسائی گئی پس جب وہ خوشحال ہوگئے تو پھر وہ اسی کی طرف لوٹ گئے جس پر پہلے قائم تھے تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی: ترجمہ)"آپ اس دن کا انتظار کرے جب واضح دھواں آے گا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ درد ناک عذاب ہے جس دن ہم بڑی گرفت کے ساتھ پکڑیں گے بےشک ہم بدلہ لینے والے ہیں"۔ اس سے بدر کا دن مراد ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الدُّخَانِ؛جلد٤ص۲۱۵٦؛حدیث نمبر؛٦۹٤٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں گزر چکی ہیں دھواں،لزام،روم،گرفت اور(شق)قمر۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الدُّخَانِ؛جلد٤ص۲۱۵٦؛حدیث نمبر؛٦۹٤٥)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الدُّخَانِ؛جلد٤ص۲۱۵۷؛حدیث نمبر؛٦۹٤٦)
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: "ہم ان کو بڑے عذاب سے کم ہلکا عذاب ضرور چکھائیں گے"۔ فرماتے ہیں اس سے دنیا کے مصائب،روم اور گرفت یا دھواں مراد ہے شعبہ کو شک ہے کہ دھواں کہا تھا یا گرفت؟ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الدُّخَانِ؛جلد٤ص۲۱۵۷؛حدیث نمبر؛٦۹٤۷)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گواہ ہو جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۸؛حدیث نمبر؛٦۹٤٨)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منیٰ میں تھے اس وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ایک ٹکڑا پھٹ کر پہاڑ کے پیچھے چلا گیا اور دوسرا دوسری طرف،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا گواہ ہوجاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۸؛حدیث نمبر؛٦۹٤۹)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے ڈھانپ لیا اور دوسرا پہاڑ کے اوپر تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گواہ ہوجاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۸؛حدیث نمبر؛٦۹۵۰)
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٦٩٥٠کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵۱)
ابنِ عدی کی روایت میں ہے کہ گواہ ہوجاؤ،گواہ ہو جاؤ۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵۲)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل مکہ نے سوال کیا کہ آپ انہیں کوئی معجزہ دکھائے تو آپ نے ان کو چاند کا دو ٹکڑے ہونا دوبارہ دکھایا۔ (واقعہ ایک بار ہوا دیکھا دوبار) (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵٣)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵۵)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ؛جلد٤ص۲۱۵۹؛حدیث نمبر؛٦۹۵٦)
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اذیت ناک باتوں پر اللہ تعالی سے زیادہ کوئی صبر کرنے والا نہیں اس کے ساتھ شرک کیا جاتا ہے اور اس کے لئے اولاد ثابت کی جاتی ہے پھر وہ ان کو معاف کر دیتا ہے اور ان کو رزق دیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦٠؛حدیث نمبر؛٦۹۵۷)
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا....یہ حدیث بھی حسب سابق ہے البتہ اس میں یہ نہیں کہ اللہ تعالی کے لئے بیٹا بنایا جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦٠؛حدیث نمبر؛٦۹۵۸)
حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکلیف دہ باتیں سن کر ان پر اللہ تعالی سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں لوگ اللہ تعالی کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ان کو رزق دیتا ہے،ان کو عافیت کے ساتھ رکھتا ہے اور ان کو عطاء کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦٠؛حدیث نمبر؛٦۹۵۹)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو جہنمیوں میں سے سب سے کم عذاب ہوگا اس سے اللہ تعالی فرمائے گا اگر تجھے دنیا اور اس کی سب چیزیں مل جائے تو کیا تم ان کو اس عذاب سے نجات کے لئے فدیہ دے گا وہ کہے گا ہاں،اللہ تعالی فرمائے گا جس وقت تم آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے اس وقت میں نے تم سے اس کی بنسبت کم چیز کا ارادہ(مطالبہ)کیاتھا وہ یہ کہ تم شرک نہ کرنا راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے فرمایامیں تمہیں جہنم میں داخل نہیں کروں گا لیکن تم نے شرک کے سوا کوئی بات نہ کی(یعنی صرف شرک کیا) (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ طَلَبِ الْكَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الْأَرْضِ ذَهَبًا؛جلد٤ص۲۱٦٠؛حدیث نمبر؛٦۹٦٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا...اس کے بعد حسب سابق ہے البتہ اس میں یہ قول نہیں کہ میں تمہیں دوزخ میں داخل نہ کرتا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦۱؛حدیث نمبر؛٦۹٦١)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا بتاؤ اگر تمہارے پاس روۓ زمین کے برابر سونا ہو تو کیا تم اس کے بدلے اپنی جان چھڑاؤ گے؟وہ کہے گا ہاں تو اس سے کہا جائے گا تم سے تو اس سے آسان بات کا سوال کیا گیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦۱؛حدیث نمبر؛٦۹٦۲)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اس کے بعد حسب سابق ہے...البتہ اس میں یہ مذکور ہے کہ اس میں کہا جائے گا تم نے جھوٹ بولا تم سے اس کی بہ نسبت آسان بات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؛جلد٤ص۲۱٦۱؛حدیث نمبر؛٦۹٦۳)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ قیامت کے دن کافر کو کس طرح منہ کے بل اٹھایا جائے گا آپ نے فرمایا کیا وہ ذات جس نے اس کو دنیا میں پاؤں پر چلایا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ اس کو قیامت کے دن منہ کے بل چلائے،حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں کیوں نہیں ہمارے رب کی عزت و جلال کی قسم۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ؛جلد٤ص۲۱٦۱؛حدیث نمبر؛٦۹٦٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کافر کو دنیا میں سب سے زیادہ نعمتیں ملیں اس کو قیامت کے دن بلایا جائے گا اور اس کو جہنم میں غوطہ دے کر پوچھا جائے گا اے ابنِ آدم!کیا تم نے کبھی کوئی خیر دیکھی تھی وہ کہے گا نہیں نہیں بخدا اے میرے رب! پھر اہل جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف میں رہا تھا اس کو جنت کا ایک چکر لگوایاجائے گا اور اس سے کہا جائے گا اے ابنِ آدم!کیا تم نےکبھی کوئی تکلیف دیکھی ہے؟کیا تمہیں کبھی تکلیف پہنچی ہے؟وہ کہے گا قسم بخدا!اے میرے رب مجھے کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی اور نہ کبھی میں نے کوئی سختی دیکھی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ صَبْغِ أَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا فِي النَّارِ وَصَبْغِ أَشَدِّهِمْ بُؤْسًا فِي الْجَنَّةِ؛جلد٤ص۲۱٦۲؛حدیث نمبر؛٦۹٦۵)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مومن کو دنیا میں کوئی نیکی دی جاتی ہے اللہ تعالی اس پر ظلم نہیں کرے گا اس کو آخرت میں بھی جزا دی جائے گی لیکن کافر نے دنیا میں جو نیکیاں کی ہے ان کا اجر اسے دنیا میں دے دیا جائے گا اور جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اسے جزا دینے کے لیے کچھ بھی نہ ہوگا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ جَزَاءِ الْمُؤْمِنِ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَتَعْجِيلِ حَسَنَاتِ الْكَافِرِ فِي الدُّنْيَا؛جلد٤ص۲۱٦٢؛حدیث نمبر؛٦۹٦٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کافر جب کوئی اچھا عمل کرتا ہے تو اسے اس کے بدلے دنیا میں لقمہ دیا جاتا ہے اور رہا مومن تو اللہ تعالی اس کی نیکیوں کو آخرت کے لئے ذخیرہ بناتا ہے اور اس کی عبادت کے صلہ میں اسے دنیا میں بھی رزق عطا کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ جَزَاءِ الْمُؤْمِنِ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَتَعْجِيلِ حَسَنَاتِ الْكَافِرِ فِي الدُّنْيَا؛جلد٤ص۲۱٦٢؛حدیث نمبر؛٦۹٦۷)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٦٩٦٧کے مثل روایت کیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ جَزَاءِ الْمُؤْمِنِ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَتَعْجِيلِ حَسَنَاتِ الْكَافِرِ فِي الدُّنْيَا؛جلد٤ص۲۱٦۳؛حدیث نمبر؛٦۹٦۸)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الْأَرْزِ؛جلد٤ص۲۱٦۳؛حدیث نمبر؛٦۹۷۰)
حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی مثال سرکنڈے کے کھیت کی طرح ہے جس کو ہوا جھونکے دیتی رہتی ہے کبھی اس کو گرا دیتی ہے اور کبھی کھڑا کر دیتی ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہےجو اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے کوئی چیز اس کو ادھر ادھر نہیں جھکاتی حتیٰ کہ وہ ایک ہی بار جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الْأَرْزِ؛جلد٤ص۲۱٦۳؛حدیث نمبر؛٦۹۷۱)
حضرت عبدالرحمن بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ مومن کی مثال سرکنڈے کے کھیت کی طرح ہے جس کو ہوا جھونکے دیتی رہتی ہے کبھی اس کو گرا دیتی اور کبھی کھڑا کر دیتی ہے حتیٰ کہ اس کی اجل آجاتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو اپنی جگہ پر کھڑا رہتا ہے اس پر کوئی آفت نہیں آتی بالآخر وہ جڑسے اکھڑ جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الْأَرْزِ؛جلد٤ص۲۱٦٤؛حدیث نمبر؛٦۹۷۲)
حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں البتہ محمود کی روایت میں یہ ہے کہ کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح اور ابن حاتم نے منافق کی مثال کہا جس طرح زہیر کی روایت میں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الْأَرْزِ؛جلد٤ص۲۱٦٤؛حدیث نمبر؛٦۹۷۳)
حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ اس کی مثل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور ان سب کی روایات میں یہ ہے کہ کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَشَجَرِ الْأَرْزِ؛جلد٤ص۲۱٦٤؛حدیث نمبر؛٦۹۷٤)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمانوں کی طرح ہے۔ مجھے بتائیے وہ کون سا درخت ہے؟صحابہ کرام وادی کے درختوں کے بارے میں سوچنے لگےحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن مجھے(بیان کرنے سے)حیا آیا۔پھر صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ ہی ہمیں بتائے کہ وہ کون سا درخت ہے۔ راوی فرماتے ہیں آپ نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے یہ بات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا اگر تم بتا دیتے کہ کھجور کا درخت ہے تو یہ بات مجھے فلاں فلاں بات سے زیادہ پسندیدہ ہوتی۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ؛ترجمہ؛مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہے؛جلد٤ص۲۱٦٤؛حدیث نمبر؛٦۹۷۵)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا مجھے اس درخت کے بارے میں بتائیے جس کی مثال مومن کی طرح ہے صحابہ کرام وادی کے درختوں میں سے کسی درخت کا ذکر کرنے لگے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں یہ چیز ڈالی گئی کہ یہ کھجور کا درخت ہےمیں بتانے کا ارادہ کرنے لگا مگر وہاں بڑی عمر کے لوگ تھے تو مجھے گفتگو کرتے ہوئے ڈر لگا جب سب خاموش ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کھجور کا درخت ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ؛جلد٤ص۲۱٦۵؛حدیث نمبر؛٦۹۷٦)
حضرت مجاہد فرماتے ہیں میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ طیبہ میں رہا میں نے ان سے صرف ایک حدیث سنی انہوں نے کہا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاس کھجور کا گودا لایا گیااس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ؛جلد٤ص۲۱٦۵؛حدیث نمبر؛٦۹۷۷)
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا گودا لایا گیااس کے بعد حسب سابق حدیث بیان کی۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ؛جلد٤ص۲۱٦٦؛حدیث نمبر؛٦۹۷۸)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جو مسلمان کی طرح ہے اور اس کے پتے نہیں جھڑتے ابراہیم کہتے ہیں شاید امام مسلم نے بتایا کہ وہ ہر وقت پھل دیتا ہے لیکن میں نے اپنے علاوہ دوسرے محدثین کے پاس اسی طرح روایت دیکھی ہے کہ وہ درخت ہر وقت پھل نہیں لاتا۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے(مگر)میں نے دیکھا کہ حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کلام نہیں کر رہے ہیں تو مجھے گفتگو کرنا اچھا نہ لگا حضرت عمر نے فرمایا اگر تم بتا دیتے تو مجھے یہ بات فلاں فلاں چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتی۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ؛جلد٤ص۲۱٦٦؛حدیث نمبر؛٦۹۷۹)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان جزیرہ عرب میں اپنی پوجا کیے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن وہ ان کو آپس میں(لڑائی کے لئے)بھڑکاے گا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛ترجمہ؛لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لئے شیطان کا اپنے لشکر کو روانہ کرنا اور برانگیختہ کرنا؛جلد٤ص۲۱٦٦؛حدیث نمبر؛٦۹۸۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۷؛حدیث نمبر؛٦۹۸۱)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ابلیس کا تخت سمندر پر ہے پس وہ لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لیے اپنے لشکر روانہ کرتا ہے تو اس کے نزدیک سب سے بڑے درجہ والا وہ ہے جو سب سے زیادہ فتنہ ڈالے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۷؛حدیث نمبر؛٦۹۸۲)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے پھر وہ اپنے لشکر بھیجتا ہے تو ان میں سے سب سے زیادہ مقرّب وہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ ڈالے ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے میں نے فلاں فلاں کام کیا تو وہ(ابلیس)کہتا ہے تم نے کچھ نہیں کیا پھر ان میں سے ایک آکر کہتا ہے میں نے اس(انسان)کو نہیں چھوڑا حتیٰ کہ میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرا دی تو وہ اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے ہاں تم نے اچھا کام کیا۔ حضرت اعمش کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ وہ اسے گلے لگا لیتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۷؛حدیث نمبر؛٦۹۸۳)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے فرمایا شیطان اپنے لشکر کو بھیجتا ہے تو وہ لوگوں کو فتنے میں ڈالتا ہے اس کا درجہ سب سے بڑا ہوتا ہے جوسب سے زیادہ فتنہ میں ڈالتا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۷؛حدیث نمبر؛٦۹۸٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک شیطان(ہمزاد) مسلط کردیا گیا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ!آپ کے ساتھ بھی؟فرمایا ہاں!میرے ساتھ بھی مگر اللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی پس وہ اسلام لے آیا اور وہ مجھے خیر کے سوا کوئی بات نہیں کہتا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۷؛حدیث نمبر؛٦۹۸۵)
امام مسلم نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہے سفیان کی روایت میں ہے کہ ہر شخص کے لئے ایک ہمزاد جن اور ایک ہمزادفرشتہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۸؛حدیث نمبر؛٦۹۸٦)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے فرماتی ہیں مجھے اس بات پر غیرت آئی آپ تشریف لائے تو دیکھا کہ میں کیا کر رہی ہوں آپ نے فرمایا اے عائشہ!کیا بات ہے؟تم نے غیرت کی ہے؟میں نے عرض کیا مجھ جیسی عورت کو آپ جیسے مرد پر غیرت نہیں آنی چاہیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس تمہارا شیطان آیا تھا؟انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ!کیا میرے ساتھ شیطان ہے آپ نے فرمایاہاں!میں نے پوچھا کیا ہر انسان کے ساتھ ہوتا ہے؟فرمایاہاں!لیکن میرے رب نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی حتیٰ کہ وہ مسلمان ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا؛جلد٤ص۲۱٦۸؛حدیث نمبر؛٦۹۸۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا تم میں کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی رحمت سے چھپا لے لیکن تم سیدھے راستے پر چلو۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛ترجمہ؛کوئی شخص رحمت الہی کے بغیر محض اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا؛جلد٤ص۲۱٦۹؛حدیث نمبر؛٦۹۸۸)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس میں رحمت اور فضل کا ذکر ہے البتہ"ولکن سدووا" کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱٦۹؛حدیث نمبر؛٦۹۸۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کا عمل اسے جنت میں نہیں لے جائے گا عرض کیا گیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی نہیں!فرمایا مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ میرا رب مجھے اپنی رحمت سے چھپا لے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱٦۹؛حدیث نمبر؛٦۹۹۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخصں ایسا نہیں کہ اس کا عمل اسے نجات دے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی نہیں؟آپ نے فرمایا ہاں مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی مغفرت اور رحمت میں چھپا لے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹۱)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شخص کو (محض)اس کا عمل نجات نہیں دے گا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی نہیں؟فرمایا ہاں مجھے بھی نہیں البتہ یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی رحمت میں لے لے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی نہیں؟فرمایا مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میانہ روی برقرار رکھو اور سیدھی راہ چلو جان لو کہ تم میں سے کسی ایک کو اس کاعمل نجات نہیں دے گا صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی؟فرمایا مجھے بھی مگر یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث نمبر ٦٩٩٤ کے مثل فرمایا۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹۵)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۰؛حدیث نمبر؛٦۹۹٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حسب سابق روایت کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے"خوشخبری ہو"۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛٦۹۹۷)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کا عمل اسے جنت میں نہیں لے جائے گا اور نہ اسے جہنم سے پناہ دے گا اور نہ ہی مجھے البتہ اللہ تعالی کی رحمت سے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛٦۹۹۸)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیدھی راہ چلوں میانہ روی رکھو اور خوشخبری دو بے شک کسی شخص کو اس کاعمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گاصحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ کو بھی؟فرمایا مجھے بھی البتہ یہ کہ اللہ تعالی مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے اور جان لو کہ بے شک اللہ تعالی کے ہاں پسندیدہ ترین عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ قلیل ہو۔ (ان احادیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ اگرچہ اعمال صالحہ جنت میں جانے کا باعث ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر ایسا ممکن نہیں اسی طرح اعمال سے منہ موڑ لینا اور رحمت خداوندی پر ہی بھروسہ کرنا بھی غلط ہے نیز اعمال صالحہ وہی پسندیدہ ہیں جو دائمی ہوں گے اگرچہ کم ہوں۔) (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛٦۹۹۹)
امام مسلم نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے اس روایت میں"وابشروا"مذکور نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛۷۰۰۰)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر(نفلی)نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے اور پچھلے خلاف اولی کام معاف کر دئے گئے(یعنی ان کاموں سے بھی آپ کو محفوظ کر دیا گیا)آپ نے فرمایا کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ إِكْثَارِ الْأَعْمَالِ وَالِاجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ؛ترجمہ؛زیادہ عمل کرنے اور عبادت میں کوشش کرنے کی ترغیب؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛۷۰۰۱)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(نماز کیلئے)کھڑے ہوئے کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے صحابہ کرام نے عرض کیااللہ تعالی نے آپ کے اگلے پچھلے خلاف اولیٰ کام معاف کر دیے(تو پھر آپ اس قدر مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں)آپ نے فرمایا کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ إِكْثَارِ الْأَعْمَالِ وَالِاجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ؛جلد٤ص۲۱۷۱؛حدیث نمبر؛۷۰۰۲)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اس قدر کھڑے ہوتے کہ آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ ایسا کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے خلاف اولیٰ کاموں کی مغفرت کردی گئیں آپ نے فرمایا اے عائشہ!کیا میں اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ إِكْثَارِ الْأَعْمَالِ وَالِاجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ؛جلد٤ص۲۱۷۲؛حدیث نمبر؛۷۰۰۳)
حضرت شقیق فرماتے ہیں ہم حضرت عبداللہ بن مسعود کے انتظار میں ان کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ یزید بن معاویہ نخعی کا ہمارے پاس سے گزر ہوا ہم نے کہا ان کو ہمارے آنے کی اطلاع کر دو وہ اندر گئے پھر تھوڑی ہی دیر بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس باہر تشریف لائے انہوں نے فرمایامجھے تمہارے آنے کی اطلاع تھی لیکن مجھے تمہارے پاس آنے سے یہ بات مانع تھی کہ کہیں تم اکتا نہ جاؤ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اکتا جانے کے خدشہ سے صرف بعض دنوں میں ہمیں نصیحت فرماتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الِاقْتِصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ؛ترجمہ؛نصیحت میں اعتدال؛جلد٤ص۲۱۷۲؛حدیث نمبر؛۷۰۰٤)
امام مسلم نے اس حدیث کی چار سندیں اور بیان کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الِاقْتِصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ؛جلد٤ص۲۱۷۲؛حدیث نمبر؛۷۰۰۵)
حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعرات کے دن وعظ فرماتے تھے ایک شخص نے عرض کیا اے ابو عبدالرحمن!ہم آپ کی باتوں کو پسند کرتے ہیں اور اس کی خواہش رکھتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں روزانہ وعظ کیا کریں انہوں نے فرمایا مجھے ہر روز وعظ کرنے سے صرف یہ بات مانع ہے کہ کہیں تم ملال میں نہ پڑ جاؤ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اکتانے کے خوف سے صرف بعض دنوں میں وعظ فرماتے تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ؛بَابُ الِاقْتِصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ؛جلد٤ص۲۱۷۳؛حدیث نمبر؛۷۰۰٦)
Muslim Shareef : Kitabo Sifatil Qiyamte Wal Jannate Wan Naare
|
Muslim Shareef : كِتَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ
|
•