
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا مؤمن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷٢؛حدیث نمبر؛۷۲۹۰)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مدینہ منورہ)کے بلند مقام کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے بازار میں سے گزرے اور لوگ آپ کے دونوں طرف تھے آپ ایک چھوٹے کانوں والے بکری کے مردہ بچے کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس کو اٹھاتے ہوئے اس کے کان کو پکڑا پھر فرمایا تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ یہ اس کے لیے ایک درہم کے بدلے ہو؟صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم اسے کسی چیز کے بدلے لیناپسند نہیں کرتے اور ہم اسے کیا کریں گے آپ نے فرمایاکیا تم چاہتے ہو کہ یہ تمہارے لیے ہو؟انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی اس میں عیب تھا کیونکہ اس کے کان چھوٹے ہیں تو مردار ہونے کی صورت میں کیاکیفیت ہوگی،آپ نے فرمایا پس اللہ کی قسم!البتہ دنیا اللہ کے ہاں اس سے زیادہ بےوقعت ہے جس قدر یہ تمہارے لیے بے قیمت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷٢؛حدیث نمبر؛۷۲۹۱)
مزید دو سندوں کے ساتھ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ۷۲۹۱ کے مثل مروی ہے البتہ اس میں ثقفی کی روایت میں یہ ہے کہ اگر یہ زندہ ہوتا تو کانوں کا چھوٹا ہونا اس میں عیب تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷٢؛حدیث نمبر؛۷۲۹۲)
حضرت مطرف اپنےوالد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ الھکم التکاثر(سورت)پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا انسان کہتا ہے میرا مال،میرا مال فرمایا اے بنی آدم!تیرے مال میں سے(حقیقتاً)تیرا وہی مال ہے جس کو تو نے کھا کر ختم کر دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹٣)
ایک اور سند سے حضرت مطرف اپنے والد سے حدیث نمبر ۷۲۹٤کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ کہتا ہے میرا مال میرا مال اس کے لیے اس کے مال میں سے تین مال ہیں جس کو کھا کر فنا کردیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا(اللہ کے راستے میں)عطا کر کے جمع کر لیا اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ اس کو چھوڑ کر جانے والا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹٥)
ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ۷۲۹٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹٦)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں پس دو واپس آجاتی ہے اور ایک باقی رہ جاتی ہے اس کے پیچھے اس کے گھر والے اور اس کا مال اور اس کا عمل جاتا ہےپس اس کے گھر والے اور مال واپس آجاتا ہے اور عمل(آگے جانے کے لیے)باقی رہ جاتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹۷)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی(یا ہمیں خبر دی)کہ حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنو عامر بن لوئ کے حلیف تھے،بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے انہوں نے بتایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا کہ وہاں سے جزیہ لے کر آئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کی تھی اور ان پر حضرت علاء بن حضرمی کو امیر مقرر کیا تھا حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آئے انصار نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے آنے کے بارے میں سنا تو صبح کی نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا تو وہ آپ کے سامنے ہوے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھ کر تبسم فرمایا پھر فرمایا میرا خیال ہے تم لوگوں نے سنا کہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے کوئی چیز لے کر آئے ہیں انہوں نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ!آپ نے فرمایا تمہیں خوشخبری ہو اور اس چیز کی امید رکھو جو تمہارے لیے باعث مسرت ہو پس اللہ کی قسم!مجھے تم پر محتاجی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر اس بات کا ڈر ہے کہ تم پر دنیا کو اس طرح پھیلا دیا جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر پھیلا دیا گیا تھا اور تم اس میں رغبت کرو گے جس طرح ان لوگوں نے رغبت کی تھی تو وہ تمہیں ہلاک کر دے گی جس طرح اس نے ان کو ہلاک کیا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۳؛حدیث نمبر؛۷۲۹۸)
مزید دو سندوں کے ساتھ حدیث نمبر ٧٢٩٨ کے مثل مروی ہے البتہ صالح کی حدیث میں(تھلکم کی جگہ)"وتلھیکم کما الھتھم"کے الفاظ ہیں یعنی تمہیں غافل کردے جس طرح ان کو غافل کردیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷٤؛حدیث نمبر؛۷۲۹۹)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جب تم پر فارس اور روم کو فتح کر دیا جائے گا تو تم کونسی قوم ہوگے(تمہارا حال کیا ہوگا) حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ہم اسی طرح کہیں گے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اس کے علاوہ ہے؟تم ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے پھر ایک دوسرے سے حسد کرو گے پھر ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو گے پھر ایک دوسرے سے دشمنی کروگے یا اس طرح کی کوئی اور بات،پھر تم مسکین اور مہاجرین میں جاکر ان میں سے بعض کو بعض کا امیر بناؤ گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷٤؛حدیث نمبر؛۷۳۰۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اس کو دیکھے جسے اس پر مالی اور جسمانی اعتبار سے فضیلت دی گئی ہے تو وہ اس کے مقابلے میں جسے اس پر فضیلت دی گئی ہے اس کو دیکھے جو اس سے نچلے درجے میں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۵؛حدیث نمبر؛۷۳۰۱)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٧٣٠١ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۵؛حدیث نمبر؛۷۳۰۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی طرف دیکھو جو تم سے نیچے ہے اس کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے یہ(طریقہ)اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو۔ ابو معاویہ کی روایت میں"علیکم"کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۵؛حدیث نمبر؛۷۳۰۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے(١) کوڑھی(٢)گنجا(٣)اندھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانے کے لیے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا وہ کوڑھی آدمی کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ تجھے کس چیزسے(زیادہ پیار)ہے؟وہ کوڑھی کہنے لگا میرا خوبصورت رنگ ہو خوبصورت جلد ہو اور مجھ سے وہ بیماری چلی جاے جس سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے نے اس کوڑھی(کے جسم پر)ہاتھ پھیرا تو اس سے وہ بیماری چلی گئی اور اس کو خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد عطا کردی گئی۔ فرشتے نے کہا تجھے مال کونسا زیادہ پیارا ہے؟وہ کہنے لگا اونٹ یا اس نے کہا گائے۔(راوی اسحاق کو شک ہے)لیکن ان دونوں میں سے(یعنی کوڑھی اور گنجے میں ایک نے)اونٹ کہا اور دوسرے نے گائے کہا آپ نے نے فرمایا اسے دس مہینے کی گابھن اونٹی دے دی گئی پھر فرشتے نے کہا اللہ تجھے اس میں برکت عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر فرشتہ گنجے آدمی کے پاس آیا اور اسے کہا تجھے کونسی چیز سب سے زیادہ پیاری ہے وہ کہنے لگا خوبصورت بال اور گنجے پن کی یہ بیماری کہ جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں مجھ سے چلی جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس سے وہ بیماری چلی گئی اور اسے خوبصورت بال عطا کردیئے گئے فرشتے نے کہا تجھے سب سے زیادہ مال کونسا پسند ہے وہ کہنے لگا گائے پھر اسے حاملہ گائے عطا کردی گئی اور فرشتے نے کہا اللہ تجھے اس میں برکت عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر فرشتہ اندھے آدمی کے پاس آیا اور اس سے کہا تجھے کونسی چیز سب سے زیادہ پیاری ہے وہ اندھا کہنے لگا اللہ تعالیٰ مجھے میری بینائی واپس لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو اللہ نے اس کی بینائی اسے واپس لوٹا دی فرشتے نے کہا تجھے مال کونسا سب سے زیادہ پسند ہے وہ کہنے لگا بکریاں تو پھر اسے ایک گابھن بکری دے دی گئی۔ چناچہ پھر ان سب نے بچے جنے آپ نے فرمایا کوڑھی آدمی کا اونٹوں سے وادی بھر گیا اور گنجے آدمی کی گایوں کی ایک وادی بھر گئی اور اندھے آدمی کا بکریوں کا ریوڑ بھر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر (کچھ عرصہ کے بعد)وہی فرشتہ اپنی دوسری شکل و صورت میں کوڑھی آدمی کے پاس آیا اور اس سے کہا میں ایک مسکین آدمی ہوں اور سفر میں میرا سارا زادراہ ختم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے میں آج(اپنی منزل مقصود پر)سوائے اللہ تعالیٰ کی مدد کے نہیں پہنچ سکتا تو میں تجھ سے اسی کے نام پر سوال کرتا ہوں کہ جس نے تجھے خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد اور اونٹ کا مال عطا فرمایا(مجھے صرف ایک اونٹ دے دے)جو میرے سفر میں میرے کام آئے وہ کوڑھی کہنے لگا(میرے اوپر)بہت زیادہ حقوق ہیں،فرشتے نے کہا میں تجھے پہچانتا ہوں کیا تو کوڑھی اور محتاج نہیں تھا،تجھ سے لوگ نفرت کرتے تھے پھر اللہ پاک نے تجھے یہ مال عطا فرمایا وہ کوڑھی کہنے لگا:یہ مال تو مجھے میرے باپ دادا سے وراثت میں ملا ہے، فرشتے نے کہا:اگر تو جھوٹ کہہ رہا ہے تو اللہ تجھے پھر اسی طرح کر دے جس طرح کہ تو پہلے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر فرشتہ اپنی اسی شکل میں گنجے کے پاس آیا اور اس سے بھی وہی کچھ کہا کہ جو کوڑھی سے کہا تھا،پھر اس گنجے نے بھی وہی جواب دیا کہ جو کوڑھی نے جواب دیا تھا،فرشتہ نے اس سے بھی یہی کہا کہ اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے اس طرح کر دے جس طرح کہ تو پہلے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پھر فرشتہ اپنی اسی شکل و صورت میں اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین اور مسافر آدمی ہوں اور میرے سفر کے تمام اسباب وغیرہ ختم ہوگئے ہیں اور میں آج سوائے اللہ کے مدد کے اپنی منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکتا میں تجھ سے اسی اللہ کے نام پر کہ جس نے تجھے بینائی عطاکی،ایک بکری کا سوال کرتا ہوں جو کہ مجھے میرے سفر میں کام آئے،وہ اندھا کہنے لگا کہ میں بلاشبہ اندھا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے میری بینائی واپس لوٹا دی۔اللہ کی قسم!میں آج تمہارے ہاتھ نہیں روکوں گا۔تم جو چاہو میرے مال میں سے لے لو اور جو چاہو چھوڑ دو ۔تو فرشتے نے اندھے سے کہا:تم اپنا مال رہنے دو کیونکہ تم تینوں آدمیوں کو آزمایا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوگیا ہے اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوگیا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۵،۲۲۷٦؛حدیث نمبر؛۷۳۰٤)
حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے اونٹوں میں تھے کہ آپ کے صاحبزادے حضرت عمر رضی اللہ عنہ آے جب حضرت سعد نے ان کو دیکھا تو فرمایا اس سوار کے شر سے اللہ کی پناہ،وہ اترے اور کہا آپ اپنے اونٹوں اور بکریوں میں ہیں اور لوگوں کو آپ نے چھوڑ دیا کہ وہ آپس میں بادشاہی کے معاملے میں جھگڑ رہے ہیں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے سینے میں ضرب لگائی اور فرمایا خاموش رہو میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بےشک اللہ تعالیٰ متقی،مالدار اور متقی گوشہ نشین کو پسند کرتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۷؛حدیث نمبر؛۷۳۰۵)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میں اہل عرب میں سے پہلا شخص ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر اندازی کی ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے تھے ہمارے پاس کھانے کے لئے کھانا نہیں تھا صرف انگور کے پتے اور ببول کا درخت تھا حتیٰ کہ ہم میں سے ایک(یعنی سب)بکری کی میگنیوں کی طرح قضاے حاجت کرتے پھر بنو اسد مجھے دین کے معاملے میں کوستے ہیں اس طرح تو میں خسارے میں ہوا اور میرے اعمال ضائع ہوگئے۔ ابن نمیر کی روایت میں"اذا"کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۵؛حدیث نمبر؛۷۳۰٦)
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ ہم میں سے ایک کی قضائے حاجت بکری کی مینگنی کی طرح ہوتی اس کے ساتھ کچھ بھی ملا ہوا نہ ہوتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۸؛حدیث نمبر؛۷۳۰۷)
حضرت خالد بن عمیر عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عتبہ بن غزوان نے ہمیں ایک خطبہ دیا۔انہوں نے(سب سے پہلے)اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا اما بعد!دنیا نے اپنے ختم ہونے کی خبر دے دی ہے اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہا سوائے اس کے کہ جس طرح ایک برتن میں کچھ بچا ہوا پانی باقی رہ جاتا ہے جسے اس کا پینے والا چھوڑ دیتا ہے اور تم لوگ اس دنیا سے ایسے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو کہ جس کو پھر کوئی زوال نہیں۔لہذا تم اپنے نیک اعمال آگے بھیج کر جاؤ کیونکہ ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ایک پتھر جہنم کے ایک کنارے سے اس میں ڈالا جائے گا اور وہ ستر سال تک اس میں گرتا رہے گا پھر بھی وہ جہنم کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے گا۔اللہ کی قسم!دوزخ کو بھر دیا جائے گا کیا تم تعجب کرتے ہو؟ اور ہم سے یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ جنت کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چالیس سال کی مسافت ہے اور جنت پر ایک ایسا دن آئے گا کہ وہ لوگوں کے رش کی وجہ سے بھری ہوئی ہوگی اور تو نے مجھے دیکھا ہوگا کہ میں ساتوں میں سے ساتواں ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہمارا کھانا سوائے درختوں کے پتوں کے اور کچھ نہ تھا۔یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں۔مجھے ایک چادر ملی جسے پھاڑ کر میں نے دو ٹکڑے کئے ایک ٹکڑے کاتہبند بنایا اور ایک ٹکڑے کا سعد بن مالک نے تہبند بنایا اور آج ہم میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں ہے کہ جو شہروں میں سے کسی شہر کا حاکم نہ ہو اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ اپنے نزدیک عظیم اور اللہ تعالیٰ کے ہاں چھوٹا ہوں اور نبوت کا سلسلہ ختم چکا ہے حتیٰ کہ اس کی انتہاء بادشاہی ہے پس ہمارے بعد امراء کے ساتھ تمہاری آزمائش اور تجربہ ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۸؛حدیث نمبر؛۷۳۰۸)
خالد بن عمیر نے دور جاہلیت پایا تھا کہتے ہیں عتبہ بن غزوان نے خطبہ دیا اور وہ بصرہ کے امیر تھے اس کے حسب سابق روایت ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۹؛حدیث نمبر؛۷۳۰۹)
حضرت خالد بن عمیر کہتے ہیں میں نے عتبہ بن غزوان سے سنا وہ کہ رہے تھے میں نے اپنے آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات میں سے ساتواں دیکھا ہمارا کھانا صرف حبلہ درخت تھا حتیٰ کہ ہمارے منہ اندر سے زخمی ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۹؛حدیث نمبر؛۷۳۱۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟آپ نے فرمایا کیا تمہیں دوپہر کے وقت میں جبکہ کوئی بادل نہ ہو سورج کے دیکھنے میں کوئی مشقت ہوتی ہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا نہیں!آپ نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جبکہ بادل نہ ہوں کوئی مشقت ہوتی ہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا نہیں!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تم لوگوں کو اپنے رب کے دیکھنے میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ جتنا تمہیں سورج اور چاند میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں حجاب ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا پھر اس کے بعد ایک بندے سے ملاقات ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے فلاں کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی اور تجھے سردار نہیں بنایا اور تجھے جوڑا نہیں بنایا اور تیرے لئے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کئے اور کیا میں نے تجھے ریاست اور آرام کی حالت میں نہیں چھوڑا اور تو ان سے چوتھائی حصہ لیتا تھا وہ عرض کرے گا جی ہاں کیوں نہیں۔ اللہ عزوجل فرمائے گا کیا تو گمان کرتا تھا کہ تو مجھ سے ملاقات کرے گا وہ عرض کرے گا نہیں پھر اللہ عزوجل فرمائے گا کہ میں تجھے بھلا دیتا ہوں جس طرح کہ تو نے مجھے بھلا دیا تھا۔ پھر دوسرے سے ملاقات ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرماے گا اے فلاں!کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی؟تجھے سرداری نہیں دی تجھے بیوی عطاء نہیں کی تیرے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا اور تجھے سردار بننے اور مال غنیمت کا چوتھا حصہ لینے کے لئے کھلی چھٹی نہیں دی۔؟ پھر اللہ تیسرے سے ملاقات پر اسی طرح فرماے گاوہ عرض کرے گا اے پروردگار میں تجھ پر اور تیری کتابوں پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا اور میں نے نماز پڑھی اور میں نے روزہ رکھا اور میں نے صدقہ و خیرات کیا اس سے جس قدر ہو سکے گی وہ اپنی نیکی کی تعریف کرے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تجھے ابھی تیری نیکیوں کا پتہ چل جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اسے کہا جائے گا کہ ہم ابھی تیرے خلاف گواہ بھیجتے ہیں وہ اپنے دل میں غور وفکر کرے گا کہ کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران گوشت ہڈیوں سے کہا جائے گا بولو پھر اس کی رگ اور اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال کی گواہی دیتے ہوئے بولیں گے اور یہ سب اس وجہ سے ہوگا کہ کسی نفس کی طرف سے کوئی عذر قائم نہ ہو سکے گا اور یہ منافق آدمی ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۷۹؛حدیث نمبر؛۷۳۱۱)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراے آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں بندے کی اس بات سے ہنسا ہوں کہ جو وہ اپنے رب سے کرے گا وہ بندہ عرض کرے گا اے پروردگار کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی آپ نے فرمایا اللہ فرمائے گا ہاں کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر بندہ عرض کرے گا میں اپنے اوپر اپنی ذات کے علاوہ کسی کی گواہی کو جائز نہیں سمجھتا آپ نے فرمایا پھر اللہ فرمائے گا کہ آج کے دن تیرے اوپر تیری ہی ذات کی گوہی اور کراما کا تبین کی گواہی کفایت کر جائے گی۔ آپ نے فرمایا پھر اس بندے کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے دیگر اعضاء کو کہا جائے گا کہ بولیں آپ نے فرمایا اس کے اعضاء اس کے سارے اعمال بیان کریں گے۔ آپ نے فرمایاپھر اس کے اور کلام کے درمیان جدائی کر دی جائے گی وہ اپنے اعضاء سے کہے گا دور ہوجاؤ چلو دور ہوجاؤ میں تمہاری طرف سے ہی تو جھگڑا کر رہا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۰؛حدیث نمبر؛۷۳۱۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی یا اللہ!آل محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کا رزق اس قدر ہو جو ہلاکت سے بچا دے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۱؛حدیث نمبر؛۷۳۱۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی یا اللہ!آل محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کا رزق اس قدر کر دے جس سے جان بچ جائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۱؛حدیث نمبر؛۷۳۱٤)
ایک اور سند سے یہ حدیث مروی ہے اس میں(قوتا کی جگہ)کفافا کا لفظ(یعنی پورا پورا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۱؛حدیث نمبر؛۷۳۱۵)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سے مدینہ طیبہ تشریف لائے آپ کے گھر والوں نے تین راتیں مسلسل گندم کا کھانا سیر ہوکر نہیں کھایا،حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۱؛حدیث نمبر؛۷۳۱٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن مسلسل گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی حتیٰ کہ آپ اپنے راستے پر چلے گئے(وصال ہوگیا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۱؛حدیث نمبر؛۷۳۱۷)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے مسلسل دو دن جو کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۱۸)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے تین دن سے زیادہ گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۱۹)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے تین دن گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۲۰)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے دو دن(مسلسل)گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۲۱)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی مگر ان میں سے ایک دن کھجوریں ہوتی تھیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۲۲)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں آل محمد ایک مہینہ اس طرح گزارتے کہ آگ نہ جلتی صرف کھجوروں اور پانی پر گزارہ ہوتا۔ ابو کریب نے اپنی حدیث میں ابن نمیر سے روایت کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا مگر یہ کہ ہمارے پاس گوشت آجاتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۲۳)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور میرے برتن میں صرف تھوڑے سے جو تھے جسے کوئی جگر والا کھاتا۔ پس میں نے اس سے کھایا اور کافی عرصہ گزر گیا پھر میں نے ان کا ناپ کیا تو وہ ختم ہوگئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۲؛حدیث نمبر؛۷۳۲٤)
حضرت عروہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں کہ وہ فرماتی تھیں اے میرے بھانجے!ہم چاند دیکھتے تھے پھر چاند دیکھتے تھے اور پھر چاند دیکھتے دو مہینوں میں تین چاند(دیکھتے)اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے خالہ!آپ کھانا کیا کھاتے تھے؟انہوں نے فرمایا دو سیاہ چیزیں کھجوریں اور پانی،البتہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری پڑوسی تھے اور ان کے پاس کچھ عطیہ کے جانور تھے وہ رسول اللہ کی خدمت میں ان کے دودھ میں سے کچھ بھیجتے تو آپ ہمیں وہ دودھ پلاتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۳؛حدیث نمبر؛۷۳۲۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ہم نے ایک دن میں دو مرتبہ روٹی اور زیتون بھی سیر ہوکر نہ کھایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۳؛حدیث نمبر؛۷۳۲٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اس وقت لوگ دو چیزیں سیر ہوکر کھاتے تھے کھجوریں اور پانی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۳؛حدیث نمبر؛۷۳۲۷)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ہم دو سیاہ چیزیں کھجوریں اور پانی سے سیر ہوتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۲۸)
مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ ہم دو سیاہ چیزوں کے ساتھ بھی سیر نہیں ہوے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۲۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ابن عباد کی روایت میں ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابوہریرہ کی جان ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو تین دن مسلسل گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھلائی حتیٰ کہ آپ دنیا سے پردہ فرما گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۳۰)
حضرت ابوحازم فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے کئی بار انگلی سے اشارہ کیا اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابوہریرہ کی جان ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والوں نے تین دن مسلسل گندم کی روٹی سیر ہوکر نہیں کھائی حتیٰ کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۳۱)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کیا تمہیں وہ کھانا اور پانی حاصل نہیں جو تم چاہتے ہو؟میں نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ کو(بعض اوقات)ردی قسم کی کھجور بھی حاصل نہ ہوتی تھی جس سے اپنا پیٹ بھر سکیں۔ قتیبہ نے لفظ"بہ"ذکر نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۳۲)
مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اور زہیر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ تم مختلف قسم کی کھجوروں اور مکھن کے بغیر راضی نہیں ہوتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۳۳)
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس چیز کا ذکر کیا جو لوگوں کو دنیا سے حاصل ہے اور فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ایک دن آپ پورا دن بھوکے رہے تھے آپ کو ادنیٰ قسم کی کھجور بھی نہ ملی جس سے اپنا پیٹ بھرتے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸٤؛حدیث نمبر؛۷۳۳٤)
ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تیری بیوی ہے جس کے پاس تو ٹھکانہ اختیار کرتا ہے؟اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تیرے پاس رہائش گاہ ہے جس میں تو رہائش اختیار کرتا ہے؟اس نے کہا ہاں،آپ نے فرمایا پس تو مالدار لوگوں میں سے ہے اس نے کہا میرے پاس خادم بھی ہے آپ نے فرمایا تو بادشاہوں میں سے ہے۔ ابو عبد الرحمن(راوی)کہتے ہیں تین آدمی حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آے اور میں ان کے پاس تھا انہوں نے کہا اے ابو محمد!اللہ کی قسم!ہم کسی چیز پر قادر نہیں ہیں نہ نفقہ پر نہ جانور اور نہ سامان پر۔ انہوں نے فرمایا تم کیا چاہتے ہو اگر تم چاہو تو ہماری طرف رجوع کرو ہم تمہیں وہ چیز دیں گے جو تمہیں خوش کرے گی اور اگر تم چاہو تو تمہارا معاملہ بادشاہ کے سامنے پیش کریں گے اور اگر تم چاہو تو صبر کرو کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: "بےشک مہاجرین فقراء قیامت کے دن جنت کی طرف مالدار لوگوں سے چالیس سال پہلے جائیں گے۔" تو انہوں نے کہا؛ ہم صبر کریں گے اور کسی چیز کا سوال نہیں کریں گے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ؛جلد٤ص۲۲۸۵؛حدیث نمبر؛۷۳۳٥)
حضرت عبد اللہ بن دینار سے مروی ہے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر والوں کے بارے میں فرمایا اس قوم پر جن کو عذاب دیا گیا،روتے ہوئے داخل ہو اور اگر تم روتے نہیں تو داخل نہ ہو کہیں تمہیں وہ عذاب نہ پہنچے جو ان کو پہنچا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ؛جلد٤ص۲۲۸٥؛حدیث نمبر؛۷۳۳٦)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مقام حجر سے گزرے تو آپ نے ہم سے فرمایا جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ان کے ٹھکانوں سے روتے ہوئے گزرو اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ تمہیں بھی وہ بات پہنچے جو ان کو پہنچی پھر(اپنی اونٹنی کو)جھڑکتے ہوے تیز چلایا حتیٰ کہ ان مکانات کو پیچھے چھوڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ؛جلد٤ص۲۲۸٦؛حدیث نمبر؛۷۳۳۷)
حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام حجر میں جو قوم ثمود کی زمین ہے اترے اور ان کے کنوؤں سے پینے کے لئے پانی حاصل کیا اس کے ساتھ آٹا گوندہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ اس پانی کو بہادیں اور گوندا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلادیں اور ان کو حکم دیا کہ اس کنویں سے پانی حاصل کریں جس پر صالح علیہ السلام کی اونٹنی تھی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ؛جلد٤ص۲۲۸٦؛حدیث نمبر؛۷۳۳۸)
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یوں فرمایا کہ اس کے کنویں سے پانی حاصل کرو اور اس کے ساتھ آٹا گوندہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ؛جلد٤ص۲۲۸٦؛حدیث نمبر؛۷۳۳۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا بیوہ اور مسکین کے لیے محنت مزدوری کرنے والا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ وَالْيَتِيمِ؛ترجمہ؛بیوہ،مسکین اور یتیم سے حسن سلوک؛جلد٤ص۲۲۸٦؛حدیث نمبر؛۷۳٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور اپنے(قریبی)یتیم یا کسی دوسرے یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں ان دو(انگلیوں)کی طرح ہوں گے۔ مالک(راوی)نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ وَالْيَتِيمِ؛جلد٤ص۲۲۸۷؛حدیث نمبر؛۷۳٤۱)
حضرت عبید اللہ خولانی ذکر کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد تعمیر کی(اضافہ کیا)تو لوگوں نے بہت باتیں کیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگوں نے بہت باتیں کیں۔ اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص مسجد بناے بکیر کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کی مثل جنت میں(مکان)بناے گا۔ ہارون کی روایت میں ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں مکان بناے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ فَضْلِ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ؛جلد٤ص۲۲۸۷؛حدیث نمبر؛۷۳٤۲)
محمود بن لبید کہتے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مسجد(کی نئی)تعمیر کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس کو ناپسند کیا انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ اسے اسی(پہلی)شکل پر چھوڑ دیا جائے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اللہ(کی رضا جوئی)کے لیے مسجد تعمیر کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں مکان بناے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ فضل بناء المساجد؛جلد٤ص۲۲۸۷؛حدیث نمبر؛۷۳٤۳)
مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے البتہ ان دونوں کی روایت میں یہ الفاظ ہیں اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں مکان بناے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ وَالْيَتِيمِ؛جلد٤ص۲۲۸۸؛حدیث نمبر؛۷۳٤٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ایک شخص جنگل میں تھا اس نے بادلوں میں ایک آواز سنی کہ فلاں کے باغ کو سیراب کرو پس وہ بادل ایک طرف کو ہوا اور پتھریلی زمین پر بارش برسائی اور نالیوں میں سے ایک نالی نے تمام پانی کو گھیر لیا وہ شخص اس پانی کے پیچھے چلا،تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا کدال سے پانی ادھر ادھر کر رہا ہے اس نے پوچھا اللہ کے بندے!تیرا کیا نام ہے؟اس نے کہا فلاں،وہی نام بتایا جو بادل میں سنا تھا اس نے پوچھا اے بندہ خدا!تم نے میرا نام کیوں پوچھا ہے؟اس شخص نے کہا میں نے اس بادل میں یہ آواز سنی جس(بادل)کا یہ پانی ہے کہ تیرا نام لے کر کہا فلاں کے باغ کو سیراب کرو تو اس میں کیا عمل اختیار کرتا ہے۔ اس نے کہا جب تم نے یہ کہا ہے(تو سن)میں اس سے پیدا ہونے والے پھل کو دیکھتا ہوں اس کے تیسرے حصے کو صدقہ کرتا ہوں،دوسری تہائی میں اور میرے گھر والے کھاتے ہیں اور تیسری تہائی اسی پر خرچ کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الصَّدَقَةِ فِي الْمَسَاكِينِ؛جلد٤ص۲۲۸۸؛حدیث نمبر؛۷۳٤۵)
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے کہ اس نے کہا میں اس کا تہائی مساکین،مانگنے والوں اور مسافروں پر خرچ کرتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ وَالْيَتِيمِ؛جلد٤ص۲۲۸۸؛حدیث نمبر؛۷۳٤٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں شرک سے تمام شرکاء کی نسبت زیادہ بے نیاز ہوں جو شخص ایسا عمل کرے جس میں میرے ساتھ میرے غیر کو شریک کرے تو میں اسے اس کے شرک کے حوالے کر دیتا ہوں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۸۹؛حدیث نمبر؛۷۳٤۷)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شہرت چاہتا ہو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سب کے سامنے ذلیل کرے اور جو اپنا عمل دوسروں کو دکھانا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے ذریعے لوگوں کے سامنے رسوا کرے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۸۹؛حدیث نمبر؛۷۳٤۸)
حضرت جندب علقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو دوسروں کو(اپنا عمل)سنانا چاہے اللہ تعالیٰ اس کے عیوب لوگوں کو سناے گا اور جو لوگوں کو دکھانے کے لئے کام کرتا ہے اللہ تعالی اس کے عیب لوگوں کو دیکھاے گا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۸۹؛حدیث نمبر؛۷۳٤۹)
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ میں نے ان کے علاوہ(جندب علقی کے علاوہ)کسی سے نہیں سنا کہ اس نے کہا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۸۹؛حدیث نمبر؛۷۳۵۰)
ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے اور سلمہ بن کہیل کہتے ہیں میں نے جندب سے سنا اور ان کے علاوہ کسی سے نہیں سنا کہ اس نے کہا ہو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باقی کہتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۸۹؛حدیث نمبر؛۷۳۵۱)
ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مَنْ أَشْرَكَ فِي عَمَلِهِ غَيْرَ اللهِ؛جلد٤ص۲۲۹۰؛حدیث نمبر؛۷۳۵۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے بےشک بندہ ایک ایسی بات کہتا ہے جس کے سبب وہ جہنم میں اس قدر گرتا ہے جو مشرق و مغرب کے درمیان(کے فاصلے)سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ التَّكَلُّمِ بِالْكَلِمَةِ يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ؛جلد٤ص۲۲۹۰؛حدیث نمبر؛۷۳۵۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک بندہ کوئی بات کہتا ہے جس میں غور و فکر نہیں کرتا اس کے ذریعے وہ جہنم میں اتنے دور تک گرتا ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے سے زیادہ ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ التَّكَلُّمِ بِالْكَلِمَةِ يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ؛جلد٤ص۲۲۹۰؛حدیث نمبر؛۷۳۵٤)
حضرت شقیق،حضرت اسامہ بن زید سے روایت کرتے ہیں ان سے کہا گیا آپ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان سے بات نہیں کرتے انہوں نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے میں تمہیں سنا کر ان سے بات کروں گا اللہ کی قسم!جو کچھ میرے اور ان کے درمیان ہے اس کے بارے میں،میں نے ان سے گفتگو کی ہے سواے اس کے کہ میں اس بات کا دروازہ کھولوں جس کے بارے میں مجھے پسند نہیں کہ میں سب سے پہلے اس کو کھولنے والا ہوں اور میں کسی امیر کے بارے میں نہیں کہتا کہ وہ بہترین انسان ہے اس کے بعد جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا قیامت کے دن ایک شخص کو لاکر جہنم میں ڈالا جائے گا اس کے پیٹ کی آنتیں نکل پڑیں گی پس وہ اس طرح چکر کاٹے گا جس طرح گدھا چکی کے ساتھ گھومتا ہے اس پر تمام اہل جہنم جمع ہوجائیں گے اور پوچھیں گے اے فلاں!کیا تو لوگوں کو نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے نہیں روکتا تھا؟وہ کہے گا ہاں کیوں نہیں لیکن میں نیکی کا حکم دیتا تھا خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا اور برائی سے روکتا تھا پھر خود اس کو اپناتا تھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يَفْعَلُهُ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَيَفْعَلُهُ؛جلد٤ص۲۲۹۰؛حدیث نمبر؛۷۳۵۵)
حضرت ابووائل کہتے ہیں ہم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ایک شخص نے کہا آپ کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر اس بارے میں جو وہ کر رہے ہیں بات کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟...اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ عُقُوبَةِ مَنْ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يَفْعَلُهُ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَيَفْعَلُهُ؛جلد٤ص۲۲۹۱؛حدیث نمبر؛۷۳۵٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا میرے ہر امتی کے لیے معافی ہے مگر وہ جو ظاہر کرنے والے ہیں اور ظاہر کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ بندہ رات کے وقت کوئی عمل کرے پھر صبح یوں کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا ہو تو وہ کہے اے فلاں!میں نے آج رات فلاں فلاں عمل کیا حالانکہ اس نے رات اس طرح گزاری کے اس کے رب نے اس پر پردہ ڈال دیا تھا پس رات کو اس کے رب نے اس پر پردہ ڈالا اور صبح اس نے اللہ تعالیٰ سے پردے کو ہٹا دیا۔ زہیر کی روایت میں(الاجھار کی جگہ) من الھجار ہے(معنیٰ ایک ہی ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ هَتْكِ الْإِنْسَانِ سِتْرَ نَفْسِهِ؛جلد٤ص۲۲۹۱؛حدیث نمبر؛۷۳۵۷)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے چھینک ماری آپ نے ایک کو یرحمک اللہ کے ساتھ جواب دیا اور دوسرے کے لیے یرحمک اللہ نہ فرمایا۔ جس کی چھینک پر یرحمک اللہ نہیں کہا تھا اس نے کہا فلاں نے چھینک ماری تو آپ نے یرحمک اللہ کہا اور میں نے چھیکن ماری تو آپ نے یرحمک اللہ نہیں کہا آپ نے فرمایا اس نے الحمد للہ کہا اور تم نے الحمد للہ نہیں پڑھا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۲؛حدیث نمبر؛۷۳۵۸)
ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٧٣٥٨ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۲؛حدیث نمبر؛۷۳۵۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور وہ فضل بن عیاض رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے گھر میں تھے چھینک آئی تو انہوں نے"یرحمک اللہ"نہ کہا اور حضرت فضل بن عیاض رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو چھینک آئی تو یرحمک اللہ کہا میں اپنی ماں کے پاس واپس آیا تو ان کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آے تو انہوں نے شکایت کی کہ آپ کے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی تو آپ نے یرحمک اللہ نہیں کہا اور فضل بن عیاض رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو چھینک آئی تو آپ نے چھینک کا جواب دیا انہوں نے فرمایا آپ کے بیٹے نے چھینک مارنے کے بعد"الحمد للہ"نہیں پڑھا پس میں نے اس کی چھینک کا جواب نہیں دیا اور انہوں نے چھینک آنے پر الحمد للہ کہا تو میں نے اس کا جواب دیا۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو چھینک آے اور وہ الحمد للہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہو اور اگر وہ الحمد للہ نہ کہے تو تم بھی یرحمک اللہ نہ کہو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۲؛حدیث نمبر؛۷۳٦٠)
حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ(حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ)نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا یرحمک اللہ پھر دوسری بار چھینک آئی تو آپ نے فرمایا اس شخص کو زکام ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۲؛حدیث نمبر؛۷۳٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمائی شیطان کی طرف سے ہے پس جب تم میں سے کسی ایک کو جمائی آے تو جس قدر ممکن ہو منہ کو بند کرنے کی کوشش کرے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۳؛حدیث نمبر؛۷۳٦۲)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو جمائی آے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھے کیونکہ شیطان(اندر)داخل ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۳؛حدیث نمبر؛۷۳٦۳)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں کسی ایک کو جمائی آے تو اپنے ہاتھ سے روکے کیوں کہ شیطان داخل ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۳؛حدیث نمبر؛۷۳٦٤)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کو نماز میں جمائی آے تو جس قدر ممکن ہو منہ بند کرے کیونکہ شیطان داخل ہوتا ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۳؛حدیث نمبر؛۷۳٦۵)
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد حدیث نمبر ٧٣٦٥ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ؛جلد٤ص۲۲۹۳؛حدیث نمبر؛۷۳٦٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا جنوں کو لپٹ مارتی ہوئی آگ سے پیدا کیا گیا اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا گیا جو تم سے بیان کی گئی۔(مٹی سے پیدا کیا گیا)۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابٌ فِي أَحَادِيثَ مُتَفَرِّقَةٍ؛جلد٤ص۲۲۹٤؛حدیث نمبر؛۷۳٦۷)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک گروہ گم ہوگیا پتہ نہ چلا کہ اس نے کیا کیا اور میرا خیال ہے وہ چوہا ہے کیا تم نہیں دیکھتے جب جب اس کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور جب اس کے سامنے بکری کا دودھ رکھا جاے تو پی لیتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟فرماتے ہیں میں نے کہا جی ہاں انہوں نے کئی بار پوچھا تو میں نے کہا کیا میں تورات پڑھتا ہوں۔ اسحاق اپنی روایت میں(لایدری کی جگہ)لا ندری"کے الفاظ کہتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابٌ فِي الْفَأْرِ وَأَنَّهُ مَسْخٌ؛جلد٤ص۲۲۹٤؛حدیث نمبر؛۷۳٦۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں چوہیا مسخ شدہ ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس کے سامنے بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی لیتی ہے اور اس کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو چکھتی بھی نہیں۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کیا آپ نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا مجھ پر تورات نازل ہوتی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابٌ فِي الْفَأْرِ وَأَنَّهُ مَسْخٌ؛جلد٤ص۲۲۹٤؛حدیث نمبر؛۷۳٦۹)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ؛جلد٤ص۲۲۹۵؛حدیث نمبر؛۷۳۷۰)
ایک اور سند کے ساتھ بواسطہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٧٣٧٠ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ؛جلد٤ص۲۲۹۵؛حدیث نمبر؛۷۳۷۱)
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کا معاملہ عجیب ہے اس کے تمام معاملات بھلائی پر مبنی ہیں اور یہ بات صرف مؤمن کو حاصل ہے اگر اس کو خوشی پہنچتی ہے تو شکر ادا کرتا ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے پس یہ(سب)اس کے لئے بہتر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ الْمُؤْمِنُ أَمْرُهُ كُلُّهُ خَيْرٌ؛جلد٤ص۲۲۹۵؛حدیث نمبر؛۷۳۷۲)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دوسرے شخص کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس!تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔کئی بار فرمایا۔ (پھر فرمایا)جب تم میں سے کسی ایک نے اپنے ساتھی کی تعریف کرنی ہو تو کہے میں فلاں کے بارے میں یہ خیال کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کا حساب لینے والا ہے اور میں اللہ تعالیٰ پر کسی کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا میں اس کو یوں خیال کرتا ہوں اگر وہ جانتا ہو وہ اس طرح ہے اس طرح ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹٦؛حدیث نمبر؛۷۳۷۳)
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ کے پاس ایک شخص کا ذکر کیا گیا تو ایک(دوسرے)شخص نے کہا یا رسول اللہ!فلاں فلاں بات ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس شخص سے افضل کوئی نہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر افسوس ہے تو نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی آپ نے یہ بات کئی بار فرمائی،پھر آپ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی ایک اپنے(مسلمان)بھائی کی تعریف کرنا ضروری سمجھتا ہو تو یوں کہے میں فلاں کو اس طرح خیال کرتا ہوں اگر وہ اس کو اسی طرح سمجھتا ہو(اوروں سے کہے کہ)میں اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹٦؛حدیث نمبر؛۷۳۷٤)
مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے لیکن ان دونوں روایتوں میں یہ الفاظ نہیں کہ اس شخص نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس شخص سے افضل کوئی نہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹٦؛حدیث نمبر؛۷۳۷۵)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے سنا وہ کسی آدمی کی تعریف کر رہا تھا اور اس کی تعریف میں حد سے تجاوز کر رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک تم نے اسے ہلاک کردیا یا(فرمایا)اس شخص کی پیٹھ کو توڑ دیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹۷؛حدیث نمبر؛۷۳۷٦)
حضرت ابو معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ایک شخص کھڑا ہوا اور امراء میں سے کسی امیر کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اس پر مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی ڈالیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹۷؛حدیث نمبر؛۷۳۷۷)
حضرت ہمام بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اٹھے اور اپنے گھٹنوں پر جھک گئے اور آپ بھاری وجود والے تھے آپ اس کے چہرے پر کنکریاں مارنے لگے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہرے پر مٹی ڈالو۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹۷؛حدیث نمبر؛۷۳۷٨)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نمبر ٧٣٧٨ کے مثل روایت کرتے ہیں۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمَدْحِ، إِذَا كَانَ فِيهِ إِفْرَاطٌ وَخِيفَ مِنْهُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمَمْدُوحِ؛جلد٤ص۲۲۹۷؛حدیث نمبر؛۷۳۷۹)
حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسواک کر رہا ہوں تو آدمیوں نے مجھ سے بات کی ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا تو میں نے مسواک ان میں سے چھوٹے کو دے دی تو مجھ سے کہا گیا بڑے کو دو تو پس میں نے ان میں سے بڑے کو دے دی۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ مُنَاوَلَةِ الْأَكْبَرِ؛جلد٤ص۲۲۹۸؛حدیث نمبر؛۷۳۸۰)
حضرت ہشام اپنے والد(حضرت عروہ)رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے اور فرماتے اے حجرے والی(حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا)سنئے،اے حجرے والی!سنئے،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نماز پڑھ رہی تھیں جب انہوں نے سلام پھیرا تو حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا تم اس شخص اور اس کی گفتگو کو جو ابھی کی ہے نہیں سنتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیث بیان کرتے ہیں تو اگر شمار کرنے والا شمار کرنا چاہتا تو شمار کرلیتا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ التَّثَبُّتِ فِي الْحَدِيثِ وَحُكْمِ كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛جلد٤ص۲۲۹۸؛حدیث نمبر؛۷۳۸۱)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری طرف سے نہ لکھو پس جس شخص نے میری طرف سے قرآن کے علاوہ لکھا وہ اس کو مٹا دے۔اور مجھ سے حدیث روایت کرو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے۔ہمام فرماتے ہیں میرے خیال میں فرمایا جان بوجھ کر وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ التَّثَبُّتِ فِي الْحَدِيثِ وَحُكْمِ كِتَابَةِ الْعِلْمِ؛جلد٤ص۲۲۹۸؛حدیث نمبر؛۷۳۸۲)
حضرت صہیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا سکوں تو بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کے لئے جادوگر کی طرف بھیج دیا جب وہ لڑکا چلا تو اس کے راستے میں ایک راہب تھا تو وہ لڑکا اس راہب کے پاس بیٹھا اور اس کی باتیں سننے لگا جو کہ اسے پسند آئیں پھر جب بھی وہ جادوگر کے پاس آتا اور راہب کے پاس سے گزرتا تو اس کے پاس بیٹھتا(اور اس کی باتیں سنتا)اور جب وہ لڑکا جادوگر کے پاس آتا تو وہ جادوگر اس لڑکے کو(دیر سے آنے کی وجہ سے)مارتا تو اس لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا کہ اگر تجھے جادوگر سے ڈر ہو تو کہہ دیا کرکہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب تجھے گھر والوں سے ڈر ہو تو تو کہہ دیا کر کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔اسی دوران ایک بہت بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ روک لیا(جب لڑکا اس طرف آیا)تو اس نے کہا میں آج جاننا چاہوں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب افضل ہے اور پھر ایک پتھر پکڑا اور کہنے لگا اے اللہ!اگر تجھے جادوگر کے معاملہ سے راہب کا معاملہ زیادہ پسندیدہ ہے تو اس درندے کو مار دے تاکہ لوگوں کا آنا جانا ہو اور پھر وہ پتھر اس درندے کو مار کر اسے قتل کردیا اور لوگ گزرنے لگے پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اور اسے اس کی خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا اے میرے بیٹے!آج تو مجھ سے افضل ہے کیونکہ تیرا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جس کی وجہ سے تو عنقریب ایک مصیبت میں مبتلا کردیا جائے گا پھر اگر تو(کسی مصیبت میں)مبتلا کردیا جائے تو کسی کو میرے بارے میں نہ بتانا اور وہ لڑکا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کا ساری بیماری کا علاج بھی کردیتا تھا بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور اسے کہنے لگا کہ اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحفے جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ سارے تمہارے لئے ہیں اس لڑکے نے کہا میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا شفاء تو اللہ تعالیٰ دیتا ہےاگر تو اللہ پر ایمان لے آئے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفاء دے دے پھر وہ(شخص)اللہ پر ایمان لے آیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفاء عطا فرما دی پھر وہ آدمی بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا جس طرح کہ وہ پہلے بیٹھا کرتا تھا بادشاہ نے اس سے کہا کہ کس نے تجھے تیری بینائی واپس لوٹا دی اس نے کہا میرے رب نے اس نے کہا کیا میرے علاوہ تیرا اور کوئی رب بھی ہے اس نے کہا میرا اور تیرا رب اللہ ہے پھر بادشاہ اس کو پکڑ کر اسے عذاب دینے لگا تو اس نے بادشاہ کو لڑکے کے بارے میں کہا پھر جب وہ لڑکا آیا تو بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ اے بیٹے! کیا تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو بھی صحیح کرنے لگ گیا ہے اور ایسے ایسے کرتا ہے؟لڑکے نے کہا میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفاء تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے بادشاہ نے اسے پکڑ کر عذاب دیا یہاں تک کہ اس نے راہب کے بارے میں بادشاہ کو بتادیا راہب آیا تو اس سے کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا،راہب نے انکار کردیا پھر بادشاہ نے آرا منگوایا اور اس راہب کے سر پر رکھ کر اس کا سر چیر کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے پھر بادشاہ کے ہم نشین کو لایا گیا اور اس سے بھی کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرا رکھ کر سر کو چیر کر اس کے دو ٹکڑے کروا دئیے پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کر دے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا اے اللہ تو مجھے ان سے کافی ہے جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے اس پہاڑ پر فورا ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گرگئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا لڑکے نے کہا اللہ پاک نے مجھے ان سے بچا لیا ہے بادشاہ نے پھر اس لڑکے کو اپنے ساتھیوں کے حوالے کر کے کہا اسے ایک چھوٹی کشتی میں لے جا کر سمندر کے درمیان میں پھینک دینا اگر یہ اپنے مذہب سے نہ پھرے بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو لے گئے تو اس لڑکے نے کہا اے اللہ تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے پھر وہ کشتی بادشاہ کے ان کے ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے پھر اس لڑکے نے باشاہ سے کہا تو مجھے قتل نہیں کرسکتا جب تک کہ اس طرح نہ کرو جس طرح کہ میں تجھے حکم دوں بادشاہ نے کہا وہ کیا؟اس لڑکے نے کہا سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر کو پکڑو پھر اس تیر کو کمان کے حلہ میں رکھو اور پھر کہو اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر مجھے تیر مارو اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو پھر بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکا دیا پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا پھر اس تیر کو کمان کے حلہ میں رکھ کر کہا اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مرگیا تو سب لوگوں نے کہا ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، بادشاہ کو اس کی خبر دی گئی اور اس سے کہا گیا تجھے جس بات کا ڈر تھا اب وہی بات آن پہنچی کہ لوگ ایمان لے آئے تو پھر بادشاہ نے راستے کے شروع میں خندق کھودنے کا حکم دیا پھر خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلا دی گئی بادشاہ نے کہا جو آدمی اپنے مذہب سے پھرنے سے باز نہیں آئے گا تو میں اس آدمی کو اس خندق میں ڈلوا دوں گا تو انہیں خندق میں ڈال دیا گیا یہاں تک کہ ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا وہ عورت خندق میں گرنے سے گھبرائی تو اس عورت کے بچے نے کہا اے امی جان صبر کر کیونکہ تو حق پر ہے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ قِصَّةِ أَصْحَابِ الْأُخْدُودِ وَالسَّاحِرِ وَالرَّاهِبِ وَالْغُلَامِ؛جلد٤ص۲۲۹۹؛حدیث نمبر؛۷۳۸۳)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں اور میرا باپ علم کے حصول کے لئے قبیلہ حی میں گئے یہ اس قبیلہ کی ہلاکت سے پہلے کی بات ہے تو سب سے پہلے ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوالیسر سے ہوئی حضرت ابوالیسر کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا جس کے پاس صحیفوں کا ایک بستہ تھا حضرت ابوالیسر ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے اور مغافری کپڑے پہنے ہوئے تھے اور حضرت ابوالیسر کے غلام پر بھی ایک چادر تھی اور وہ بھی مغافری کپڑے پہنے ہوئے تھا(حضرت عبید اللہ)فرماتے ہیں کہ میرے باپ نے ان سے کہا اے چچا میں آپ کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات دیکھ رہا ہوں انہوں نے فرمایا حرام(قبیلے)کے اوپر میرا کچھ مال تھا میں اس کے گھر گیا اور میں نے سلام کیا اور میں نے کہا کیا کوئی شخص ہے؟گھر والوں نے کہا نہیں اسی دوران جفر کا بیٹا باہر نکلا میں نے اس سے پوچھا تیرا باپ کہاں ہے اس نے کہا آپ کی آواز سن کر میری ماں کے چھپر کھٹ میں داخل ہوگیا ہے۔ پھر میں نے کہا میری طرف باہر نکل مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ تو کہاں ہے پھر وہ باہر نکلا تو میں نے اس سے کہا تو مجھ سے چھپا کیوں تھا اس نے کہا اللہ کی قسم میں آپ سے بیان کرتا ہوں اور آپ سے جھوٹ نہیں کہوں گا کہ اللہ کی قسم مجھے آپ سے جھوٹ کہتے ہوئے ڈر لگا اور مجھے آپ سے وعدہ کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خوف معلوم ہوا کیونکہ آپ رسول اللہ کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم میں ایک تنگ دست آدمی ہوں حضرت ابوالیسر فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کیا تو اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہے اس نے کہا میں اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہوں حضرت ابوالیسر نے فرمایا کیا تو اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہے اس نے کہا میں اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہوں حضرت ابوالیسر نے پھر فرمایا کیا تو اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہے اس نے کہا میں اللہ کو شاہد جان کر کہتا ہوں حضرت ابوالیسر نے وہ کاغذ(جس پر قرض لکھا ہوا تھا)منگوا کر اپنے ہاتھ سے اسے مٹا دیا اور فرمایا اگر تو(مال)پائے تو اسے ادا کردینا ورنہ میں تجھے معاف کرتا ہوں اپنی آنکھوں پر دو انگلیاں رکھ کر فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میری ان آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے اس کو یاد رکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتےہیں جو آدمی کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس سے اس کا قرض معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا اے چچا اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیتے اور اپنے معافری کپڑے اسے دے دیتے یا اس کے معافری کپڑے لے لیتے اور اپنی چادر اسے دے دیتے تو آپ کا بھی جوڑا پورا ہوجاتا اور آپ کے غلام کا بھی جوڑا پورا ہوجاتا حضرت ابوالیسر نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا اے اللہ اسے برکت عطا فرما پھر فرمایا اے بھتیجے میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے یاد رکھا(اور انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا)کہ رسول اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو وہی کچھ کھلاؤ جو کچھ تم خود کھاتے ہو اور ان کو وہی کچھ پہناؤ جو کچھ تم خود پہنتے ہوں اور اگر میں اسے دنیا کا مال و متاع دے دوں میرے لئے اس سے زیادہ آسان ہے کہ قیامت کے دن یہ میری نیکیاں لے(یعنی دنیا میں ہی سب کچھ دینا آسان ہے ورنہ قیامت کے دن نیکیاں دینی پڑیں گی) عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ حضرت ابوالیسر کے پاس سے چلے یہاں تک کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی مسجد میں آگئے اور وہ ایک کپڑا اوڑھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا حضرت جابراور قبلہ کے درمیان حائل ہو کر بیٹھ گیا پھر میں نے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے کیا آپ ایک ہی کپڑا اوڑھے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ آپ کے پہلو میں ایک چادر رکھی ہوئی ہے حضرت جابر نے اپنی ہاتھ کی انگلیاں کھول کر(قوس نما شکل بنا کر)میرے سینے پر ماریں اور پھر فرمایا میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ جب تیری طرح کا کوئی احمق میری طرف آئے تو وہ مجھے اس طرح کرتے ہوئے دیکھے تاکہ وہ بھی اسی طرح کرے کیونکہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی مسجد میں تشریف لائے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں ابن طاب کی لکڑی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ رخ والی دیوار میں ناک کی کچھ بلغم سی لگی ہوئی دیکھی تو آپ نے اسے لکڑی سے کھرچ دیا پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے رو گردانی کرے راوی کہتے ہیں کہ ہم گھبراگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے رو گردانی کرے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم میں سے کوئی بھی یہ پسند نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی آدمی جب بھی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تبارک وتعالی اس کے سامنے ہوتا ہے لہذا تم میں سے کوئی بھی اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے بلکہ اپنی بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے اور اگر تھوک نہ رکے تو وہ کپڑے کو لے کر اس طرح کرے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو لپیٹ کر اور اسے مسل کر دکھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی خوشبو لاؤ پھر قبیلہ حی کا ایک نوجوان کھڑا ہوا اور دوڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف گیا اور وہ اپنی ہتھیلی پہ کچھ خوشبو رکھ کرلے آیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خوشبو لکڑی کی نوک پر لگائی اور پھر اسے ناک کی ریزش والی جگہ پر لگائی(جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کی ریزش گندگی وغیرہ کھرچی تھی)اور اسے مل دیا۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ تم لوگ اسی وجہ سے اپنی مسجدوں میں خلوق نامی خوشبو لگاتے ہو۔ جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں،کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطن بواط کے غزوہ میں چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجدی بن عمرو جہنی کی تلاش میں تھے اور ہمارا یہ حال تھا کہ ہم پانچ اور چھ اور سات آدمیوں میں ایک اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سواری کرتے تھے اس اونٹ پر ایک انصار آدمی کی سواری کی باری آئی تو اس نے اونٹ بٹھایا اور پھر اس پر چڑھا اور پھر اسے اٹھایا اس نے کچھ شوخی دکھائی تو انصاری نے کہا اللہ تجھ پر لعنت کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا کون ہے؟انصاری نے عرض کیا میں ہوں اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے نیچے اترجا اور ہمارے ساتھ کوئی لعنت کیا ہوا اونٹ نہ رہے کہ اپنی جانوں کے خلاف بد دعا نہ کیا کرو اور نہ ہی اپنی اولاد کے خلاف بددعا کیا کرو اور نہ ہی اپنے مالوں کے خلاف بد دعا کیا کرو کیونکہ ممکن ہے کہ وہ بد دعا ایسے وقت میں مانگی جائے کہ جب اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگا جاتا ہو اور تمہیں عطا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ تمہاری وہ دعا قبول فرمالے۔ جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ چلے یہاں تک کہ جب شام ہوگئی اور ہم عرب کے پانیوں میں سے کسی پانی کے قریب ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون آدمی ہے کہ جو ہم سے پہلے جا کر حوض کو درست کرے اور خود بھی پانی پئے اور ہمیں بھی پانی پلائے حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!یہ آدمی(آگے جائے گا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر کے ساتھ کون آدمی جائے گا تو جبار بن صخر کھڑے ہوئے پھر ہم دونوں ایک کنوئیں کی طرف چلے اور ہم نے حوض میں ایک ڈول یا دو ڈول ڈالے پھر اسے بھر دیا پھر سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اجازت دیتے ہو ہم نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کو چھوڑا اور اس نے پانی پیا پھر آپ نے اس اونٹنی کی باگ کھینچی تو اس نے پانی پینا بند کردیا اور اس نے پیشاب کیا پھر آپ نے اسے علیحدہ لے جا کر بٹھا دیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حوض کی طرف آئے آپ نے اس سے وضو فرمایا پھر میں کھڑا ہوا اور اس جگہ سے وضو کیا کہ جس جگہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تھا اور جبار بن صخر قضائے حاجت کے لئے چلے گئے اور رسول اللہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور میرے اوپر ایک چادر تھی جو کہ چھوٹی تھی میں نے اس کے دونوں کناروں کو پلٹا تو وہ میرے کندھوں تک نہیں پہنچی تھی پھر میں نے اسے اوندھا کیا اور اس کے دونوں کناروں کو پلٹا کر اسے اپنی گردن پر باندھا پھر میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر اور گھما کر مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا پھر جبار بن صخر آئے انہوں نے وضو کیا پھر وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑے ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کے ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے ہٹا کر اپنے پیچھے کھڑا کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھور کر میری طرف دیکھنے لگے جسے میں سمجھ نہ سکا بعد میں سمجھ گیا حضرت جابر فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اس طرح اشارہ فرمایا کہ اپنی کمر باندھ لے تاکہ تمہارا ستر نہ کھل جائے پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوگئے فرمایا اے جابر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہاری چادر بڑی ہو تو اس کے دونوں کناروں کو مخالف سمت میں ڈال اور جب چادر چھوٹی ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو۔جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے اور ہم میں سے ہر ایک آدمی کو روزانہ ایک کھجور ملتی تھی اور یہی ہماری خوراک تھی اور وہ اس کھجور کو چوستا اور پھر اسے اپنے کپڑے میں لپیٹ کر رکھ لیتا تھا اور ہم اپنی کمانوں سے درختوں کے پتے جھاڑا کرتے تھے اور انہیں کھایا کرتے تھے یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں اور کھجوریں تقسیم کرنے والے آدمی سے ایک غلطی ہوگئی( وہ ہمارے ایک آدمی کو کھجور دینا بھول گیا)تو ہم اس آدمی کو اٹھا کر اس کے پاس لے گئے اور ہم نے گواہی دی کہ اسے کھجور نہیں ملی تو اس نے اس آدمی کو کھجور دے دی تو اس نے کھڑے کھڑے پکڑی اور کھالی۔ جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے یہاں تک کہ ہم ایک وسیع وادی میں اترے اور پھر رسول اللہ قضائے حاجت کے لئے چلے گئے اور میں ایک ڈول میں پانی لے کر چلا تو آپ نے کوئی آڑ نہ دیکھی جس کی وجہ سے آپ پردہ کرسکیں اس وادی کے کناروں پر دو درخت تھے رسول اللہ ان دونوں درختوں میں سے ایک درخت کی طرف گئے اور اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی اور فرمایا اللہ کے حکم سے میرے تابع ہوجا تو وہ شاخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوگئی جس طرح کہ وہ اونٹ اپنے کھینچنے والے کے تابع ہوجاتا ہے جس کے نکیل پڑی ہوئی ہو پھر آپ نے دوسرے درخت کی طرف آئے اور اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑ کر فرمایا اللہ کے حکم سے میرے تابع ہوجا تو وہ شاخ بھی اسی طرح آپ کے تابع ہوگئی یہاں تک کہ جب آپ دونوں درختوں کے درمیان ہوئے تو دونوں کو ملا کر فرمایا تم دونوں اللہ کے حکم سے آپس میں ایک دوسرے سے جڑ جاؤ تو وہ دونوں جڑ گئے حضرت جابرفرماتے ہیں کہ میں اس ڈر سے نکلا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قریب دیکھ کر دور نہ تشریف لے جائیں میں اپنے آپ سے(یعنی دل میں)بیٹھے بیٹھے باتیں کرنے لگا تو اچانک میں نے دیکھا کہ سامنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرہے ہیں(اور پھر اس کے بعد)وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ پر جا کر کھڑے ہوگئے اور ہر ایک درخت اپنے تنے پر کھڑا ہوا علیحدہ ہو رہا ہے(حضرت جابر)فرماتے ہیں)کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر ٹھہرے اور پھر آپ نے اپنے سر مبارک سے اس طرح اشارہ فرمایا ابواسمعیل نے اپنے سر سے دائیں اور بائیں اشارہ کر کے بتایا پھر آپ سامنے آئے اور جب آپ میری طرف پہنچے تو فرمایا اے جابر کیا تو نے دیکھا جس جگہ میں کھڑا تھا میں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں درختوں میں سے ایک ایک شاخ کاٹ کر لاؤ اور جب اس جگہ آجاؤ جس جگہ میں کھڑا ہوں تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف اور ایک شاخ اپنی بائیں طرف ڈال دینا حضرت جابر فرماتے ہیں کہ پھر میں کھڑے ہو کر ایک پتھر کو پکڑا اور اسے توڑا اور اسے تیز کیا وہ تیز ہوگیا تو پھر میں ان دونوں درختوں کے پاس آیا تو میں نے ان دونوں درختوں میں سے ہر ایک سے ایک ایک شاخ کاٹی پھر میں ان شاخوں کو کھینچتے ہوئے اس جگہ پر لے آیا جس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔پھر میں نے ایک شاخ دائیں طرف ڈالی اور دوسری شاخ بائیں طرف ڈالی پھر میں جا کر آپ سے ملا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جس طرح آپ نے مجھے حکم فرمایا تھا میں نے اسی طرح کردیا ہے لیکن اس کی وجہ کیا ہے آپ نے فرمایا میں دو قبروں کے پاس سے گزرا جن(میں میتوں)کو عذاب ہورہا تھا تو مجھے یہ بات پسند آئی کہ اللہ تعالیٰ میری شفاعت سے ان میں تخفیف کردے جب تک وہ ٹہنیاں تر رہیں۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ پھر ہم لشکر میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جابر لوگوں میں آواز لگا دو کہ وضو کرلیں پھر میں نے آواز لگائی کہ وضو کرلو وضو کرلو وضو کرلو حضرت جابرفرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول قافلہ میں تو کسی کے پاس پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے اور انصار کا ایک آدمی جو رسول اللہ کے لئے ایک پرانا مشکیزہ جو کہ لکڑی کی شاخوں پر لٹکا ہوا تھا اس میں پانی ٹھنڈا کیا کرتا تھا آپ نے فرمایا فلاں بن فلاں انصاری کے پاس جا کر دیکھو کہ اس کے مشکیزے میں پانی ہے یا نہیں میں اس انصاری کی طرف گیا اور اس کے مشکیزے میں دیکھا کہ اس کے منہ میں سوائے ایک قطرے کے اور کچھ بھی نہیں ہے اگر میں اس مشکیزے کو انڈیلوں تو خشک مشکیزہ اسے پی جائے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے اس انصاری کے مشکیزے میں سوائے اس ایک قطرہ پانی کے اور کچھ نہیں پایا اگر میں اسے الٹاتا تو خشک مشکیزہ اسے پی لیتا آپ نے فرمایا جاؤ اور اس مشکیزے کو میرے پاس لے آؤ پھر میں اس مشکیزہ کو لے کر آیا اور اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا پھر آپ کچھ بات کرنے لگے میں نہیں جانتا کہ آپ کیا فرما رہے تھے اور آپ اپنے ہاتھ مبارک سے اس مشکیزے کو دباتے جاتے پھر وہ مشکیزہ مجھے عطا فرمایا اور فرمایا اے جابر آواز لگاؤ کہ قافلے میں سے کسی کا پانی کا بڑا برتن لایا جائے میں نے آواز لگائی اور بڑا برتن لایا گیا اور لوگ اس برتن کو اٹھا کر لائے میں نے اس بڑے برتن کو آپ کے سامنے رکھ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشکیزے میں اپنا ہاتھ مبارک پھیرا اس طرح سے پھیلا کر اور انگلیوں کو کھلا کر کے اس مشکیزے کی تہ میں اپنا ہاتھ مبارک رکھا اور آپ نے فرمایا اے جابر پکڑ اور بسم اللہ کہہ کر میرے ہاتھوں پر پانی ڈال۔ میں نے بسم اللہ کہہ کر اس مشکیزے میں سے پانی آپ کے ہاتھ مبارک پر ڈالا تو میں نے دیکھا کہ پانی رسول اللہ کی انگلیوں کے درمیان سے جوش مار رہا ہے پھر اس برتن نے جوش مارا اور وہ برتن گھوما یہاں تک کہ وہ برتن پانی سے بھر گیا پھر آپ نے فرمایا اے جابر آواز لگاؤ کہ جس کو پانی کی ضرورت ہو تو آکر پانی لے جائے حضرت جابر فرماتے ہیں لوگ آئے اور انہوں نے پانی پیا یہاں تک کہ سب سیر ہوگئے حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کیا کوئی ایسا باقی رہ گیا ہے کہ جسے پانی کی ضرورت ہو پھر رسول اللہ نے اپنے ہاتھ مبارک کو اس مشکیزے سے اٹھایا تو پھر وہ بھی بھرا ہوا تھا۔ اور پھر اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے کہ اللہ تمہیں کھلادے پھر ہم سمندر کے کنارے پر آئے اور سمندر نے موج ماری اور ایک جانور نکال کر باہر ڈال دیا پھر ہم نے اس سمندر کے کنارے پر آگ جلائی اور اس جانور کا گوشت پکایا اور بھونا اور ہم نے کھایا یہاں تک کہ ہم خوب سیر ہوئے گئے حضرت جابر فرماتے ہیں کہ پھر میں اور فلاں اور فلاں اس جانور کی آنکھ کے گوشے میں داخل ہوئے اور ہمیں کسی نے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم باہر نکلے پھر ہم نے اس جانور کی پسلیوں میں سے ایک پسلی پکڑی اور قافلے میں جو سب سے بڑا آدمی تھا اور وہ سب سے بڑے اونٹ پر سوار تھا ہم نے اس آدمی کو بلایا اور اس کے اونٹ پر سب سے بڑی زین رکھی ہوئی تو وہ آدمی بغیر اپنا سر جھکائے اس پسلی کے نیچے سے گزر گیا (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابُ حَدِيثِ جَابِرٍ الطَّوِيلِ وَقِصَّةِ أَبِي الْيَسَرِ؛جلد٤ص۲۲۹۹سے۲۳۰۸تک؛حدیث نمبر؛۷۳۸٤)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے والد کے گھر میں تشریف لائے اور ان سے ایک کجاوہ خریدا پھر عازب یعنی میرے والد سے فرمایا کہ اپنے بیٹے(براء)کو میرے ساتھ بھیج دیں تاکہ وہ اس کجاوہ کو اٹھا کر میرے گھر لے چلے اور پھر میرے والد نے مجھ سے کہا کہ اسے اٹھا لے تو میں نے اس کجاوے کو اٹھا لیا اور میرے والد بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کجاوے کی قیمت وصول کرنے کے لئے نکلے تو میرے والد نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے ابوبکر مجھ سے بیان فرمائیں کہ جس رات تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے(یعنی تم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کا جو سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہے اس کی کیفیت بیان کیجئے)حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا!(اور پھر فرمایا کہ)ہم ساری رات چلتے رہے یہاں تک کہ دن چڑھ گیا اور ٹھیک دوپہر کا وقت ہوگیا اور راستہ خالی ہوگیا اور راستے میں کوئی گزرنے والا نہ رہا یہاں تک کہ ہمیں سامنے ایک لمبا پتھر دکھائی دیا جس کا سایہ زمین پر تھا اور ابھی تک وہاں دھوپ نہیں آئی تھی پھر ہم اس کے پاس اترے اور میں نے اس پتھر کے پاس جا کر اپنے ہاتھ سے جگہ صاف کی تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سائے میں آرام فرمائیں پھر میں نے اس جگہ پر ایک دری بچھا دی پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمائیں اور میں آپ کے اردگرد ہر طرف سے بیدار رہتا ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں آپ کے اردگرد جاگ کر پہرہ دیتا رہا پھر میں نے سامنے کی طرف سے بکریوں کا ایک چرواہا دیکھا جو اپنی بکریوں کو لئے ہوئے اس پتھر کی طرف آرہا ہے اور چرواہا بھی اس پتھر سے وہی چاہتا تھا جو ہم نے چاہا(یعنی آرام)میں نے اس چرواہے سے ملاقات کی اور میں نے اس سے کہا اے لڑکے تو کس کا غلام ہے اس نے کہا میں مدینہ والوں میں سے ایک آدمی کا غلام ہوں میں نے کہا تیری بکریوں میں دودھ ہے اس نے کہا ہاں میں نے کہا کیا تو مجھے دودھ دے گا اس نے کہا ہاں پھر اس چرواہے نے ایک بکری پکڑی تو میں نے اس چرواہے سے کہا اس بکری کے تھن کو بالوں مٹی اور کچرے وغیرہ سے صاف کرلے راوی ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء کو دیکھا کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر دکھا رہے تھے اس چرواہے نے لکڑی کے ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ دوہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک ڈول تھا کہ جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کے لئے اور وضو کے لئے پانی تھا حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے ناپسند سمجھا کہ میں آپ کو نیند سے بیدا کروں لیکن آپ خود ہی بیدار ہوگئے پھر میں نے دودھ پر پانی بہایا تاکہ دودھ ٹھنڈا ہوجائے پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!یہ دودھ نوش فرمائیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے وہ دودھ پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہاں سے کوچ کرنے کا وقت نہیں آیا میں نے عرض کیا جی ہاں وہ وقت آگیا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم سورج ڈھلنے کے بعد چلے اور سراقہ بن مالک نے ہمارا پیچھا کیا حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ ہم جس زمین پر تھے وہ سخت زمین تھی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کافر ہم تک آگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فکر نہ کر کیونکہ ہمارے ساتھ اللہ ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ کے لئے بد دعا فرمائی تو سراقہ کا گھوڑا اپنے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا سراقہ کہنے لگا مجھے معلوم ہے کہ تم نے میرے لئے بد دعا کی ہے اب تم میرے لئے دعا کرو اللہ کی قسم اب جو بھی آپ حضرات کی تلاش میں آئے گا میں اسے واپس کر دوں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے اللہ سے دعا فرمائی تو اسے نجات مل گئی اور وہ واپس لوٹ گیا اور اسے جو کوئی کافر بھی ملتا وہ اسے کہہ دیتا کہ میں اس طرف دیکھ آیا ہوں سراقہ کو جو کافر بھی ملتا وہ اسے واپس لوٹا دیتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سراقہ نے جو ہم سے کہا وہ اس نے پورا کیا۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابٌ فِي حَدِيثِ الْهِجْرَةِ وَيُقَالُ لَهُ حَدِيثُ الرَّحْلِ بِالْحَاءِ؛جلد٤ص۲۳۰۹؛حدیث نمبر؛۷۳۸۵)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میرے والد سے تیرہ درہم پر ایک کجاوہ خریدا(اور پھر مذکورہ حدیث زہیرعن اسحاق کی روایت کی طرح روایت بیان کی)لیکن عثمان بن عمر رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں ہے کہ جب سراقہ بن مالک قریب آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بد دعا فرمائی اور اس کا گھوڑا اپنے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا سراقہ اپنے اس گھوڑے سے کودا اور کہنے لگا اے محمد!مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ کا کام ہے اس لئے آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے اس تکلیف سے نجات دے دے اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جو میرے پیچھے آرہے ہیں میں ان سے آپ کا حال چھپاؤں گا اور میرے اس ترکش سے ایک تیر لے لیں اور آپ کو فلاں فلاں مقام پر میرے اور میرے اونٹ اور غلام ملیں گے ان میں سے جتنی آپ کو ضرورت ہو آپ لے لیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تیرے اونٹوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر ہم رات کو مدینہ منورہ پہنچ گئے تو لوگ اس بات میں جھگڑنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس جگہ اتریں آپ نے فرمایا میں قبیلہ بنی نجار کے پاس اتروں گا جو حضرت عبدالمطلب کے ماموں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عزت دی پھر مرد اور عورتیں گھروں کے اوپر چڑھے اور لڑکے اور غلام راستوں میں پھیل گئے اور یہ پکارنے لگے یا محمد یا اللہ کے رسول یا محمد یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِق؛بَابٌ فِي حَدِيثِ الْهِجْرَةِ وَيُقَالُ لَهُ حَدِيثُ الرَّحْلِ بِالْحَاءِ؛جلد٤ص۲۳۱۰؛حدیث نمبر؛۷۳۸٦)
Muslim Shareef : Kitabuz Zohde
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الزُّهْدِ
|
•