
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بھی بیان کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل سے کہا گیا: "دروازے سے جھکتے ہوئے داخل ہو اور کہو ہماری بخشش ہو ہم تمہارے لئے تمہاری خطاؤں کو بخش دیں گے تو انہوں نے(یہ الفاظ)بدل دئے اور اپنی سرینوں پر گھستے ہوئے داخل ہوئے اور کہا بالیوں میں گندم(یعنی حطۃ کہا) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۲؛حدیث نمبر؛۷۳۸۷)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے وحی مسلسل آنے لگی اور جس دن آپ کا وصال ہوا سب سے زیادہ وحی اس دن آئی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۲؛حدیث نمبر؛۷۳۸۸)
حضرت طارق بن شہاب کہتے ہیں یہودیوں نے حضرت عمر(فاروق)رضی اللہ عنہ سے کہا تم لوگ ایک آیت پڑھتے ہو اگر یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی اور کس دن نازل ہوئی اور جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے یہ میدان عرفات میں نازل ہوئی جب آپ عرفات میں کھڑے تھے۔ حضرت سفیان(راوی)فرماتے ہیں مجھے شک ہے کہ یہ جمعہ کا دن تھا یا نہیں اس سے مراد یہ آیت ہے: (ترجمہ)"آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کردیا۔" (سورہ مائدہ،آیت نمبر:٣) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۲؛حدیث نمبر؛۷۳۸۹)
حضرت طارق بن شہاب سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک یہودی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا اگر ہم یہودیوں کی جماعت پر یہ آیت نازل ہوتی (ترجمہ)"آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کردیا" اور ہمیں اس دن کا علم ہوتا جس دن یہ آیت نازل ہوئی تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اور کس وقت نازل ہوئی اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے یہ مزدلفہ کی رات تھی(مراد یوم عرفہ ہے)(اس وقت)ہم عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۳؛حدیث نمبر؛۷۳۹۰)
حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہودیوں میں سے ایک شخص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا اے امیر المومنین!تم اپنی کتاب میں ایک آیت پڑھتے ہو اگر ہم یہودیوں پر یہ آیت نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے آپ نے پوچھا کونسی آیت؟اس نے کہا۔ (ترجمہ)"آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کردیا" حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے اس دن کا علم ہے جس دن یہ آیت نازل ہوئی اور اس جگہ کا بھی علم ہے جہاں یہ نازل ہوئی یہ آیت مبارکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جمعہ کے دن عرفات میں نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۳؛حدیث نمبر؛۷۳۹۱)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں پوچھا: (ترجمہ)"اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکوں گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگیں دو،دو تین،تین اورچار،چار"(سورہ نساء،آیت نمبر،٣) ام المومنین نے فرمایا اے میرے بھتیجے!اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہیں جو اپنے ولی کے زیر تربیت ہو اور وہ ولی اس کا مال اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو بغیر اس کے کہ اس کے مہر میں انصاف کرے اور اس قدر اسے مہر کی رقم دینے پر رضامند نہ ہو کہ جس قدر دوسرے لوگ مہر کی رقم دینے کے لئے راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی لڑکیوں سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے سوائے اس صورت میں کہ ان سے انصاف کریں اور ان کو پورا مہر ادا کریں اور ان کو حکم دے دیا ہے کہ وہ عورتوں سے جو ان کو پسند ہوں نکاح کرلیں حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا پھر لوگوں نے اس آیت کریمہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یتیم لڑکیوں کے بارے میں پوچھا تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: (وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَا ءِ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَتٰمَي النِّسَا ءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا كُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ )پارہ٤؛النساء؛١٢٧) "اور وہ لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں شرعی احکام پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں تمہارے لیے حکم بیان کرتا ہے اور وہ جو کتاب میں یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھا جاتا ہے جن کو تم ان کے مقرر کردہ مہر نہیں دیتے اور ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو۔" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس آیت میں اللہ نے جو ذکر فرمایا (يُتْلَی عَلَيْکُمْ فِي الْکِتَابِ )تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہےاس سے وہ پہلی آیت مراد ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم بچیوں سے انصاف نہیں کر سکو گے تو تمہیں جو عورتیں پسند ہو ان سے نکاح کرو" ام المومنین نے فرمایا دوسری آیت میں ارشاد خداوندی ہے: " اور تم ان سے نکاح کرنے میں رغبت رکھتے ہو" سے مراد یہ ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے ہاں کوئی یتیم لڑکی زیر تربیت ہو اور مال و خوبصورتی میں کم ہو تو اگر اس وجہ سے اس کے ساتھ نکاح کرنے سے اعراض کرتا ہے تو ان کو اس سے منع کیا گیا ہے کہ جو یتیم عورتوں کے مال اور خوبصورتی میں رغبت کرتے ہیں کہ بغیر انصاف کے ان کے ساتھ نکاح نہ کریں۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۳؛حدیث نمبر؛۷۳۹۲)
حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں مجھے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں پوچھا: "اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم بچیوں سے انصاف نہیں کر سکو گے" اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح ہے البتہ اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ جب وہ مال و جمال زیادہ نہیں رکھتی ہوں تو یہ لوگ ان میں رغبت نہیں رکھتے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٤؛حدیث نمبر؛۷۳۹۳)
حضرت ہشام اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس ارشاد خداوندی کے بارے میں روایت کرتے ہیں: "اور اگر تمہیں خوف ہو تو تم یتیم بچیوں سے انصاف نہیں کر سکو گے" ام المومنین نے فرمایا یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کے یہاں یتیم بچی ہوتی اور وہ شخص اس کا ولی اور اس کا وارث ہوتا اور اس بچی کے لیے مال ہوتا لیکن اس کے لئے کوئی دوسرا شخص نہیں ہوتا جو اس کے لیے لڑتا تو(فرمایا)کہ محض وہ اس کے مال کی وجہ سے اس سے نکاح نہ کرے کہ اس کے ذریعے اس کو نقصان پہنچاے اور بدسلوکی کرے اور فرمایا: "اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم بچیوں کے سلسلے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو دو دو،تین تین،اورچار چار" یعنی ان سے نکاح کرو جو میں نے تمہارے لئے حلال کی ہیں اور اس لڑکی کو چھوڑ دو جس کو تم نقصان پہنچاتے ہو۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٤؛حدیث نمبر؛۷۳۹٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اور جو کچھ تم پر کتاب میں یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھا جاتا ہے وہ لڑکیاں کہ تم ان کو وہ چیز نہیں دیتے جو ان کے لئے مقرر کی گئی اور(اگر حسین ہو اور مالدار ہوں)ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔" آپ فرماتی ہیں کہ یہ اس یتیم بچی کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی شخص کے پاس ہوتی اور اس کے ساتھ اس کے مال میں شریک ہوتی وہ اس کے ساتھ نکاح کرنے میں رغبت نہ رکھتا اور کسی دوسرے کے نکاح میں دینا بھی پسند نہیں کرتا کہ اس طرح اس کے مال میں شریک ہوجائے اور اس کو نکاح سے باز رکھتا نہ خود اس سے نکاح کرتا اور نہ کسی اور کے نکاح میں دیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۵؛حدیث نمبر؛۷۳۹۵)
ارشاد خداوندی: "اور آپ سے عورتوں کے بارے میں شرعی حکم پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بارے میں حکم بتایا ہے۔" ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہ وہ یتیم بچی ہے جو کسی شخص کے پاس ہوتی اور شاید وہ اس کے مال میں شریک ہوتی حتیٰ کہ کھجوروں کے درختوں میں بھی،تو وہ اس کے ساتھ نکاح کرنے سے اعراض کرتا اور کسی دوسرے شخص کے نکاح میں دینا بھی پسند نہ کرتا کہ اس طرح وہ اس کے ساتھ مال میں شریک ہوجائے گا پس اس کو نکاح سے روک دیتا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۵؛حدیث نمبر؛۷۳۹٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،ارشاد خداوندی ہے: "اور جو شخص فقیر ہو وہ مناسب طریقے سے کھاے"(سورہ نساء،آیت نمبر ٦) کے بارے میں فرماتی ہیں یہ یتیم کے ولی کے بارے میں نازل ہوئی جو اس کے معاملات کی نگرانی اور اصلاح کرتا ہے جب وہ محتاج ہو تو اس سے کھا سکتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۵؛حدیث نمبر؛۷۳۹۷)
ارشاد خداوندی ہے: "اور جو شخص مالدار ہو وہ بچتا رہے اور جو فقیر ہو وہ معروف طریقے سے کھاے" یہ آیت یتیم کے ولی کے بارے میں نازل ہوئی کہ اگر وہ محتاج ہو تو اس(یتیم)کے مال سے حسب دستور کھا سکتا ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۵؛حدیث نمبر؛۷۳۹٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٦؛حدیث نمبر؛۷۳۹٩)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس ارشاد خداوندی کے بارے میں فرماتی ہیں کہ یہ یوم خندق کی بات ہے ارشاد خداوندی ہے: "جب وہ تمہارے اوپر کی جانب سے اور تمہاری نچلی جانب سے آے اور آنکھیں پھری پھری رہ گئیں اور دل منہ کو آنے لگے"۔(سورہ احزاب،آیت نمبر،١٠) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٦؛حدیث نمبر؛۷٤٠٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ارشاد خداوندی ہے: "اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند سے زیادتی یا منہ پھیرنے کا ڈر ہو"(سورہ نساء،آیت نمبر١٣٨) کے بارے میں فرماتی ہیں یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی شخص کے نکاح میں ہوتی اور عرصہ دراز تک اس کی صحبت میں رہتی پھر وہ اسے طلاق دینے کا ارادہ کرتا اور وہ کہتی مجھے طلاق نہ دے اور روک لے تجھے میری طرف سے دوسرے نکاح کی اجازت ہے اس پریہ آیت نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٦؛حدیث نمبر؛۷٤٠١)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ارشاد خداوندی ہے: "اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند سے زیادتی یا منہ پھیرنے کا خوف ہو" ام المؤمنين نے فرمایا یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی مرد کے نکاح میں ہوتی اور شاید وہ اس کو مزید نہ رکھنا چاہتا ہو اور اس کے لئے اس سے صحبت اور اولاد ہو پس وہ عورت اس بات کو پسند نہ کرے کہ وہ اس کو طلاق دے اور وہ اس سے کہے تجھے میری طرف سے اجازت ہے(دوسری نکاح کر لے لیکن مجھے طلاق نہ دے) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱٦؛حدیث نمبر؛۷٤٠۲)
حضرت عروہ کے باپ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا اے بھانجے!لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بارے میں مغفرت کی دعا کریں لیکن انہوں نے ان کو برا بھلا کہا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۷؛حدیث نمبر؛۷٤٠٣)
ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٧٤٠٣ کے مثل مروی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۷؛حدیث نمبر؛۷٤٠٤)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں اس آیت کے بارے میں اہل کوفہ کا اختلاف ہوگیا۔ "اور جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے"(سورہ نساء،آیت نمبر،٩٣) تو میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور آپ سے اس بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا یہ آخری آیات میں نازل ہوئی پھر اسے کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۷؛حدیث نمبر؛۷٤٠۵)
مزید دو سندوں کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے ابن جعفر کی روایت میں ہے کہ آخر میں نازل ہونے والی آیات میں نازل ہوئی۔اور نضر کی روایت میں ہے بےشک ان آیات میں سے ہے جو آخر میں نازل ہوئیں۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۷؛حدیث نمبر؛۷٤٠٦)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں مجھے حضرت عبد الرحمن بن جبیر نے خبر دی کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان دو آیتوں کے بارے میں سوال کروں۔ "اور جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے"(سورہ نساء،آیت نمبر،٩٣) میں نے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا اور اس آیت کے بارے میں پوچھا: "اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور کسی نفس کو جسے اللہ نے حرام کیا ناحق قتل نہیں کرتے"(سورہ،فرقان،آیت نمبر،٦٨) تو آپ نے فرمایا یہ آیت اہل شرک کے بارے میں نازل ہوئی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۷؛حدیث نمبر؛۷٤٠۷)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا"والذین یدعون مع اللہ الھا"آخر سے لے کر"مھانا" تک مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی مشرکین نے ہم سے کہا اسلام نے ہم سے کیا عذاب دور کیا ہم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک بھی کیا اور نفس کو قتل بھی کیا جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا نیز ہم نے بے حیائی کا ارتکاب بھی کیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل کی(ترجمہ)"مگر جس نے توبہ کی وہ ایمان لایا اور اس نے اچھے کام کئے(آیت کے آخر تک)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا پس جو اسلام میں داخل ہوا اور اس کو سمجھا پھر قتل کیا تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۸؛حدیث نمبر؛۷٤٠۸)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوگی انہوں نے فرمایا نہیں،فرماتے ہیں میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی: "اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی معبود کی عبادت نہیں کرتے اور جس نفس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا اسے ناحق قتل نہیں کرتے"۔(آیت کے آخر تک). انہوں نے فرمایا یہ آیت مکی ہے اس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کیا: "اور جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے وہ ہمیشہ اس میں رہے گا" ابن ہاشم کی روایت میں ہے کہ میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی وہ آیت پڑھی جس میں توبہ کا ذکر ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۸؛حدیث نمبر؛۷٤٠۹)
حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ قرآن مجید کی کونسی سورت آخر میں نازل ہوئی؟میں نے کہا ہاں!"اذا جاء نصر اللہ والفتح" انہوں نے کہا تم نے سچ کہا ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے تم جانتے ہو کہ کون سی سورت ہے اور آخر کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۸؛حدیث نمبر؛۷٤۱۰)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند بیان کی ہے اس سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٤١٠ کے مثل مروی ہے اس میں آخری سورت کا لفظ نہیں ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۹؛حدیث نمبر؛۷٤۱۱)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ مسلمانوں نے ایک شخص کو چند بکریوں میں دیکھا اس نے کہاالسلام علیکم،انہوں نے اس کو پکڑ کر قتل کردیا اور اس کی بکریاں لوٹ لیں۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی: "جو شخص تمہیں سلام کرے اس کو یہ نہ کہو کہ تم مسلمان نہیں" حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی قرأت میں"السلم"کی جگہ"السلام"کا لفظ ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۹؛حدیث نمبر؛۷٤۱۲)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار جب حج کر کے آتے تو گھروں کی پچھلی جانب سے داخل ہوتے فرماتے ہیں انصار کا ایک شخص آیا اور وہ گھر کے دروازے سے داخل ہوا اس سلسلے میں اس پر اعتراض کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی" "گھروں کی پچھلی جانب سے آنا کوئی نیکی نہیں" (یعنی نیکی تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا نام ہے) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛جلد٤ص۲۳۱۹؛حدیث نمبر؛۷٤۱۳)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذریعے عتاب کے دوران صرف چار سال کا عرصہ گزرا۔(ارشاد خداوندی ہے) "کیا ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر(خوف)سے پگھل جائیں۔ (کچھ لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے دیکھا تو فرمایا اس آیت میں یہی بتایا گیا ہے کہ غفلت کے بجائے خوف خدا سے گڑگڑانے اور رونے کی ضرورت ہے۔١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ} [الحديد: ١٦]؛جلد٤ص۲۳۱۹؛حدیث نمبر؛۷٤۱٤)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت برہنہ ہوکر بیت اللہ شریف کا طواف کرتی تھی اور کہتی تھی کون ہے جو مجھے ایک کپڑا دے جسے میں اپنی شرمگاہ پر ڈال دوں آج بعض یا کل کھل جائے گا اور جو کھل جائے گا میں اس کو کبھی حلال نہیں کروں گی۔پس یہ آیت نازل ہوئی: "ہر نماز کے وقت اپنی زینت اختیار کرو(لباس پہنو)"۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ} [الأعراف: ٣١]؛جلد٤ص۲۳۲۰؛حدیث نمبر؛۷٤۱۵)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی ابن سلول نے اپنی لونڈی سے کہا جاؤ بدفعلی کے ذریعے ہمارے لئے کچھ(کما کر)لاؤ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: جب تمہاری لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہے تو ان کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔کہ تم(ان کی بدکاری کے ذریعے)دنیاوی زندگی کا سامان تلاش کرتے ہو تو جو ان کو مجبور کرے گا تو ان کے مجبور کرنے کے بعد(ان لونڈیوں کے لئے)اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بہت مہربان ہے"۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ} [النور: ٣٣]؛جلد٤ص۲۳۲۰؛حدیث نمبر؛۷٤۱٦)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبد اللہ بن ابی ابن سلول کی ایک لونڈی کا نام مسیکہ اور دوسری کا نام امیمہ تھا وہ ان دونوں کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: جب تمہاری لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں تو تم ان کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔"(آخر آیت تک۔) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ} [النور: ٣٣]؛جلد٤ص۲۳۲۰؛حدیث نمبر؛۷٤۱۷)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں فرمایا: "وہ(نیک بندے)جو اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے" حضرت ابن مسعود نے فرمایا کچھ جن مسلمان ہوے اور ان کی پوجا کی جاتی تھی تو پوجا کرنے والے اسی طرح ان کی پوجا کرتے رہے حالانکہ وہ مسلمان ہوگئے تھے (یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: ٥٧]؛جلد٤ص۲۳۲۱؛حدیث نمبر؛۷٤۱۸)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں فرمایا: "وہ(نیک بندے)جو اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے" حضرت ابن مسعود نے فرمایا کچھ جن مسلمان ہوے اور ان کی پوجا کی جاتی تھی تو پوجا کرنے والے اسی طرح ان کی پوجا کرتے رہے حالانکہ وہ مسلمان ہوگئے تھے (یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی) (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: ٥٧]؛جلد٤ص۲۳۲۱؛حدیث نمبر؛۷٤۱٩)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی ایک اور سند ذکی کی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: ٥٧]؛جلد٤ص۲۳۲۱؛حدیث نمبر؛۷٤۲۰)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا: "یہ لوگ ان کی عبادت کرتے ہیں جو خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں" حضرت ابن مسعود نے فرمایا یہ آیت عرب کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جو جنوں کی ایک جماعت کی پوجا کرتا تھا پھر وہ جن اسلام لائے اور جو انسان ان کی پوجا کرتے تھے ان کو اس بات کا علم نہ ہوسکا۔تب یہ آیت نازل ہوئی؛ " یہ لوگ ان کی عبادت کرتے ہیں جو(خود)اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں"۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: ٥٧]؛جلد٤ص۲۳۲۱؛حدیث نمبر؛۷٤۲۱)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا سورہ توبہ؟انہوں نے فرمایا توبہ بلکہ وہ کفار اور منافقین کو رسوا کرنے والی ہے یہ سورت نازل ہوتی رہی اور ان کا ذکر ہوتا رہا کہ بعض منافقین"حتی کہ انہوں نے گمان کیا کہ ہر منافق کا ذکر اس سورت میں کردیا گیا۔ فرماتے ہیں میں نے سورہ انفال کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا یہ سورت بدر ہے میں نے پوچھا سورہ حشر؟فرمایا بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ وَالْأَنْفَالِ وَالْحَشْرِ؛جلد٤ص۲۳۲۲؛حدیث نمبر؛۷٤۲۲)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا،امابعد!سنو!جب شراب(خمر)کی حرمت کا حکم نازل ہوا اس وقت خمر پانچ چیزوں سے بنتی تھی گندم،جو،کھجور،اور شہد اور خمر اسے کہتے ہیں جو عقل کو ڈھانپ لے۔ (یہ خمر کا لغوی معنی ہے ورنہ خمر انگور کا کچا رس جب زیادہ دیر ٹھہرنے کی وجہ سے جھاگ چھوڑ دے تو وہ خمر ہے۔١٢ہزاروی) اور اے لوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تفصیل سے بتا دیتے دادا اور کلالہ کی(میراث)اور سود کے چند ابواب۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي نُزُولِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛جلد٤ص۲۳۲۲؛حدیث نمبر؛۷٤۲٣)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا۔ حمد و ثناء کے بعد!اے لوگو!جب خمر کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی انگور،کھجور،شہد،گندم اور جو(سے) اور خمر اسے کہتے ہیں جو عقل کو ڈھانپ لے اور اے لوگو!تین چیزیں ایسی ہیں کہ میں چاہتا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان کے بارے میں خاص نصیحت فرما دیتے!دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے چند ابواب۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي نُزُولِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛جلد٤ص۲۳۲۲؛حدیث نمبر؛۷٤۲٤)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں ذکر کی ہیں ایک سند کے ساتھ عنب(انگور)کا لفظ مروی ہے اور دوسری کے ساتھ زبیب(منقی)کا۔جس طرح ابن مسہر نے کہا۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي نُزُولِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ؛جلد٤ص۲۳۲۲؛حدیث نمبر؛۷٤۲۵)
حضرت قیس بن عباد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ قسم کھاتے تھے"یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں اختلاف کیا" یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے جنگ بدر میں مبارزت کی(ایک دوسرے کو چیلینج کیا)حضرت حمزہ،حضرت علی اور حضرت عبید بن حارث رضی اللہ عنہم اور ان کے مقابلے میں عتبہ اور شیبہ(دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے)اور ولید بن عتبہ۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} [الحج: ١٩]؛جلد٤ص۲۳۲۳؛حدیث نمبر؛۷٤۲٦)
امام مسلم علیہ الرحمہ نے اس حدیث کی دو سندیں اور بیان کی ہیں قیس بن عباد کہتے ہیں میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ قسم کھاتے تھے کہ یہ آیت"ھذان خصمان"نازل ہوئی۔اس کے بعد حسب سابق ہے۔ (مسلم شریف؛كتاب التَّفْسِيرِ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} [الحج: ١٩]؛جلد٤ص۲۳۲۳؛حدیث نمبر؛۷٤۲۷)
Muslim Shareef : Kitabut Tafseer
|
Muslim Shareef : كِتَابُ التَّفْسِيرِ
|
•