
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مسلمان جب مدینہ طیبہ آۓ تو وہ نماز کے وقت جمع ہو جاتے اور کوئی بھی آذان نہیں دیتا تھا۔ایک دن انہوں نے اس سلسلے میں باہم گفتگو کی تو بعض نے کہا ایک ناقوس لیتے ہیں جس طرح عیسائیوں کا ناقوس ہے۔کچھ نے کہا ایک سینگ لیتے ہیں جس طرح یہودیوں کا طریقہ ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ایک شخص کو بھیجوں جو نماز کا اعلان کرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال اٹھو اور نماز کے لئے اعلان کرو۔(مسلم شریف كِتَابُ الصَّلَاةِ؛ بَابُ بدْءِ الْأَذَانِ؛ترجمہ؛آذان کا آغاز؛جلد١ص٢٧٥؛حدیث نمبر ٧٤١)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ آذان کے الفاظ دو دو بار اور اقامت کے الفاظ ایک ایک بار کہیں۔ایوب کی سند میں ہے کہ قدمات الصلاۃ کے علاوہ(ایک ایک بار)۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ الْأَمْرِ بِشَفْعِ الْأَذَانِ وَإِيتَارِ الْإِقَامَةِ؛ترجمہ؛آذان اور اقامت کے کلمات؛جلد١ص٢٧٦؛حدیث نمبر ٧٤٢)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں صحابہ کرام نے باہم گفتگو کی کہ نماز کے وقت کے لیے کوئی علامت مقرر کریں جس سے وہ جان جائیں چنانچہ کہنے لگے کہ آگ روشن کر لیا کریں یا ناقوس بجائیں چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ آذان کے الفاظ دو مرتبہ اور اقامت کے الفاظ ایک مرتبہ کہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ الْأَمْرِ بِشَفْعِ الْأَذَانِ وَإِيتَارِ الْإِقَامَةِ؛جلد١ص٢٧٦؛حدیث نمبر ٧٤٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٤٣ کی مثل مروی ہے۔ایک آدھ لفظ کا فرق ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ الْأَمْرِ بِشَفْعِ الْأَذَانِ وَإِيتَارِ الْإِقَامَةِ؛جلد١ص٢٧٦؛حدیث نمبر ٧٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ آذان کے الفاظ دو،دو بار اور اقامت کے الفاظ ایک ایک بار کہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ الْأَمْرِ بِشَفْعِ الْأَذَانِ وَإِيتَارِ الْإِقَامَةِ؛جلد١ص٢٧٦؛حدیث نمبر ٧٤٥)
حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو آذان اس طرح سکھائی۔ «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ»۔پھر دوبارہ کہیں أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ دو مرتبہِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ دو مرتبہ» اسحاق نے یہ اضافہ نقل کیا «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ صِفَةِ الْأَذَانِ؛ترجمہ؛آذان کا طریقہ؛جلد١ص٢٨٧؛حدیث نمبر ٧٤٦)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے۔حضرت بلال رضى الله عنه اور حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ جو نا بینا تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ اسْتحْبَابِ اتِّخاذِ مُؤذِّنَيْنِ لِلْمَسْجدِ الْوَاحِدِ؛ترجمہ؛ایک مسجد کے کے لئے کئی مؤذن رکھنا مستحب ہے۔جلد١ص٢٨٧؛حدیث نمبر ٧٤٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بھی حدیث نمبر ٧٤٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ اسْتحْبَابِ اتِّخاذِ مُؤذِّنَيْنِ لِلْمَسْجدِ الْوَاحِدِ؛جلد١ص٢٨٧؛حدیث نمبر ٧٤٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آذان کہتے تھے اور آپ نابینا تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ جَوَازِ أَذَانِ الْأَعْمَى إِذَا كَانَ مَعَهُ بَصِيرٌ؛ترجمہ؛نابینا مؤذن کا اذان کہنا؛جلد١ص٢٨٧؛حدیث نمبر ٧٤٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٤٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ جَوَازِ أَذَانِ الْأَعْمَى إِذَا كَانَ مَعَهُ بَصِيرٌ؛جلد١ص٢٨٨؛حدیث نمبر ٧٥٠)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طلوع فجر کے وقت حملہ کرتے تھے۔آپ اذان سننے کی کوشش فرماتے۔جب اذان سنتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے۔(اذان سے ان لوگوں کے مسلمان ہونے کا پتہ چلتا تھا اور یوں ان پر حملہ نہ فرماتے کیونکہ وہ مسلمان ہیں) آپ نے ایک آدمی کو اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہوئے سنا تو فرمایا یہ فطرت اسلام پر ہے۔اس نے اشھد ان لا الہ الا اللہ پڑھا تو آپ نے فرمایا یہ جہنم سے نکل گیا۔صحابہ کرام نے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛ بَابُ الْإِمْسَاكِ عَنِ الْإِغَارَةِ عَلَى قَوْمٍ فِي دَارِ الْكُفْرِ، إِذَا سُمِعَ فِيهِمُ الْأَذَانُ؛آذان سن کر حملہ نہ کرنا؛جلد١ص٢٨٨؛ حدیث نمبر ٧٥١)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم آذان سنو تو اس کی مثل کہو جو مؤذن کہتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ لهُ الْوَسِيلَةَ؛ترجمہ؛ آذان کے جواب دینے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ پڑھنے اور آپکے لئے وسیلہ کے سوال کرنے کا استحباب؛جلد١ص٢٨٨؛حدیث نمبر٧٥٢)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم مؤذن سے(آذان)سنو تو اس کی مثل کہو جو وہ کہتا ہے پھر مجھ پر درود شریف بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار درود شریف بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا۔پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ کا سوال کرو(آذان کے فوراً بعد دعا سے پہلے درود شریف پڑھنے کا حکم دیا جس سے معلوم ہوا کہ اذان سے پہلے بھی درود شریف پڑھ لیا جائے تو اسے آذان کا حصہ کوئی نہیں سمجھتا اس لئے آذان کے ساتھ درود شریف پر اعتراض بلا دلیل ہے اور بعد میں پڑھنا تو اس حدیث سے ثابت ہے۔)۔یہ جنت میں ایک مرتبہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کے علاوہ کسی کے لیے مناسب نہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں پس جو شخص میرے لئے وسیلے کا سوال کرتا ہے۔اس کے لئے میری شفاعت جائز ہو جاتی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ لهُ الْوَسِيلَةَ؛جلد١ص٢٨٨؛حدیث نمبر ٧٥٣)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مؤذن کہے"اللہ اکبر اللہ اکبر"تو تم سے کوئی ایک بھی"اللہ اکبر اللہ اکبر"کہےپھر وہ کہے"أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ"اور یہ بھی"أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہے پھر وہ"أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ"کہے اور یہ بھی"أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ"کہے پھر وہ"حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ"کہے تو وہ یہ"حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ،"کہے تو یہ"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" پھر وہ" حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ"کہے تو یہ"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"کہے پھر وہ"اللہ اکبر اللہ اکبر"کہے تو یہ بھی" اللہ اکبر اللہ اکبر"کہے۔پھر وہ" لاالہ الا اللہ"کہے تو یہ بھی"لاالہ إلا اللہ"کہے تو جنت میں داخل ہو جاۓگا۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛ بَابُ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ لهُ الْوَسِيلَةَ؛جلد١ص٢٨٩؛حدیث نمبر ٧٥٤)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جو شخص مؤذن سے(آذان)سن کر یہ کلمات کہے تو اس کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا،میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہیں اور بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ الْقَوْلِ مِثْلَ قَوْلِ الْمُؤَذِّنِ لِمَنْ سَمِعَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَسْأَلُ لهُ الْوَسِيلَةَ؛جلد١ص٢٨٩؛حدیث نمبر٧٥٥)
حضرت طلحہ بن یحییٰ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ مؤذن نے آکر ان کو نماز کے لئے بلایا۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا قیامت کے دن مؤذن حضرات کی گردنیں سب سے طویل ہوں گی۔(فخر سے بلند کرنا مراد ہے کیونکہ انہوں نے ایک عظیم ذمہ داری نبھائی اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں)(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ؛آذان کی فضیلت اور آذان سن کر شیطان کا بھاگنا؛جلد١ص٢٩٠؛حدیث نمبر ٧٥٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٥٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ؛جلد١ص٢٩٠؛حدیث نمبر ٧٥٧)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا شیطان جب نماز کے لئے آذان سنتا ہے تو چلا جاتا ہے۔حتیٰ کہ مقام روحاء میں پہنچ جاتا ہے اور یہ مدینہ طیبہ سے چھتیس میل دور ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ؛جلد١ص٢٩٠؛حدیث نمبر ٧٥٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٥٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ؛جلد١ص٢٩١؛حدیث نمبر٧٥٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا شیطان جب نماز کے لئے آذان سنتا ہے تو وہ آواز کے ساتھ ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے حتی کہ آذان کی آواز نہیں سنتا جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آکر وسوسے ڈالتا ہے۔جب اقامت سنتا ہے تو چلا جاتا ہے حتیٰ کہ اس کی آواز نہیں سنتا جب وہ(مکبر)خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آکر وسوسے ڈالتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛- بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ؛جلد١ص٢٩١؛حدیث نمبر ٧٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مؤذن آذان دیتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے اور اس کی ہوا آواز کے ساتھ نکلتی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ؛جلد١ص٢٩١؛حدیث نمبر ٧٦١)
حضرت سہیل فرماتے ہیں میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا۔فرماتے ہیں میرے ساتھ ہمارا غلام بھی تھا۔یا فرمایا ہمارا ایک ساتھی تھا اچانک کسی نے دیوار سے اس کا نام لے کر آواز دی۔میرے ساتھی نے دیوار سے جھانک کر دیکھا تو کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔میں نے یہ بات اپنے والد کو بتائی تو انہوں نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تمہارے ساتھ یہ واقعہ پیش آئیگا تو میں تمہیں نہیں بھیجتا لیکن جب کوئی آواز سنو تو نماز کی آذان دو میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا جب نماز کے لئے آذان ہوتی ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے اور وہ آواز کے ساتھ ہوا خارج کرتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ؛جلد١ص٢٩١؛حدیث نمبر ٧٦٢)
ایک اور سند کے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے آذان کہی جائے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے اور اس کی ہوا خارج ہوتی حتیٰ کہ وہ آذان نہیں سنتا جب آذان ختم ہوتی ہے تو وہ آجاتا ہے پھر جب نماز کے لئے تکبیر ہوتی ہے تو بھاگ جاتا ہے حتیٰ کہ جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو دوبارہ آتا ہے۔یہاں تک کہ انسان اور نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے۔کہتا ہے فلاں فلاں بات یاد کرو جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتیں حتیٰ کہ آدمی کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے کتنی رکعات نماز پڑھی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ؛جلد١ص٢٩١؛حدیث نمبر ٧٦٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٦٣ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں اس طرح ہے کہ اسے معلوم نہیں ہوتا اس نے کیسے نماز پڑھی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ؛جلد١ص٢٩٢؛حدیث نمبر ٧٦٤)
حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ نماز شروع کرتے تو ہاتھوں کو اٹھاتے حتیٰ کہ کندھوں کے برابر کرتے اور رکوع سے پہلے ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع سے کھڑے ہوتے تو اٹھا تے اور دو سجدوں کے درمیان نہ اٹھاتے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ مَعَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ، وَالرُّكُوعِ، وَفِي الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ، وَأَنَّهُ لَا يَفْعَلُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ؛رفع یدین؛جلد١ص٢٩٢؛حدیث نمبر ٧٦٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر کندھوں کے برابر لے جاتے پھر تکبیر کہتے جب رکوع کا ارادہ کرتے تو بھی اسی طرح کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہی عمل کرتے اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت اس طرح نہیں کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ مَعَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ، وَالرُّكُوعِ، وَفِي الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ،وَأَنَّهُ لَا يَفْعَلُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ؛جلد١ص٢٩٢؛حدیث نمبر ٧٦٦)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے پھر تکبیر کہتے۔بَابُ اسْتِحْبَابِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ مَعَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ، وَالرُّكُوعِ، وَفِي الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ، وَأَنَّهُ لَا يَفْعَلُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ؛جلد١ص٢٩٢؛حدیث نمبر ٧٦٧)
حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت مالک بن حویرث کو دیکھا کہ جب وہ نماز پڑھتے تو تکبیر کہتے پھر ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے ہیں تو ہاتھوں کو اٹھاتے اور وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ مَعَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ، وَالرُّكُوعِ، وَفِي الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ، وَأَنَّهُ لَا يَفْعَلُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ؛جلد١ص٢٩٣؛حدیث نمبر ٧٦٨)
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تو دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے حتیٰ کہ کانوں کے برابر کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمده کہتے اور اسی طرح کرتے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ مَعَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ، وَالرُّكُوعِ، وَفِي الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ، وَأَنَّهُ لَا يَفْعَلُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ؛جلد١ص٢٩٣؛حدیث نمبر ٧٦٩)
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو تک بلند کیا۔(یہ ابتدائی عمل تھا بعد میں رفع یدین کا حکم منسوخ ہوگیا امام طحاوی نے روایت کیا حضرت مجاہد سے وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی انہوں نے صرف پہلی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھائے جامع ترمذی میں ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں پھر انہوں نے نماز پڑھی اور صرف پہلی بار ہاتھ اٹھاۓ۔) (مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ مَعَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ، وَالرُّكُوعِ، وَفِي الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ، وَأَنَّهُ لَا يَفْعَلُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ؛جلد١ص٢٩٣؛حدیث نمبر ٧٧٠)
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کو نماز پڑھاتے تو جب نیچے جاتے اور اوپر اٹھتے تکبیر کہتے جب سلام پھیرا تو فرمایا تم سب کے مقابلے میں میری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہ ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ إِثْبَاتِ التَّكْبِيرِ فِي كُلِّ خَفْضٍ، وَرَفْعٍ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا رَفْعَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُ: فِيهِ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ؛ترجمہ؛نماز کی تکبیرات؛ جلد١ص٢٩٣؛حدیث نمبر ٧٧١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے جب کھڑے ہو جاتے پھر رکوع کرتے وقت تکبیر۔"سمع اللہ لمن حمده" کہتے جب پیٹھ مبارک کو رکوع سے اٹھاتے پھر کھڑے ہونے کی حالت میں"ربنا ولک الحمد" کہتے۔پھر سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر کہتے۔پھر(سجدے سے) سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔پھر پوری نماز میں اسی طرح کرتے حتیٰ کہ نماز کو مکمل کر لیتے۔دو رکعتوں کے بعد قعدے سے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم سب کی نمازوں کے مقابلے میں میری نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ إِثْبَاتِ التَّكْبِيرِ فِي كُلِّ خَفْضٍ، وَرَفْعٍ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا رَفْعَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُ: فِيهِ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ؛جلد١ص٢٩٣؛حدیث نمبر ٧٧٢)
حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے تھے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔حدیث نمبر ٧٧٢ کی مثل بیان کیا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل نہیں کیا کہ میری نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ إِثْبَاتِ التَّكْبِيرِ فِي كُلِّ خَفْضٍ، وَرَفْعٍ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا رَفْعَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُ: فِيهِ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ؛جلد١ص٢٩٤؛حدیث نمبر ٧٧٣)
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں۔جب مروان مدینہ طیبہ کا حکمران بنا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے تھے اس کے بعد حدیث نمبر ٧٧٢ کی طرح مذکور ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ جب نماز مکمل کر کے سلام پھیرتے تو اہل مسجد کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے اس ذات کی قسم جسکے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔میں تم سب سے زیادہ رسول اکرم کی نماز جیسی نماز پڑھتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ إِثْبَاتِ التَّكْبِيرِ فِي كُلِّ خَفْضٍ، وَرَفْعٍ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا رَفْعَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُ: فِيهِ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ؛جلد١ص٢٩٤؛حدیث نمبر ٧٧٤)
حضرت ابوسلمہ ہی سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز میں تکبیر کہتے جب اوپر اٹھتے اور جب نیچے جاتے۔ہم نے پوچھا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ!یہ تکبیرات کیسی ہیں تو انہوں نے فرمایا یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ إِثْبَاتِ التَّكْبِيرِ فِي كُلِّ خَفْضٍ،وَرَفْعٍ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا رَفْعَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُ:فِيهِ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ؛جلد١ص٢٩٤؛حدیث نمبر ٧٧٥)
حضرت سہیل اپنے والد سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جب بھی نیچے جاتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے اور بیان کرتے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ إِثْبَاتِ التَّكْبِيرِ فِي كُلِّ خَفْضٍ، وَرَفْعٍ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا رَفْعَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُ: فِيهِ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ؛جلد١ص٢٩٤؛حدیث نمبر ٧٧٦)
حضرت مطرف فرماتے ہیں میں اور عمران بن حصین نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔آپ جب بھی سجدہ کرتے تکبیر کہتے جب سر مبارک اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔دو رکعتوں کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عمران نے میرا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا۔انہوں نے ہمیں اس طرح نماز پڑھائی ہے جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے تھے یا فرمایا اس(نمازی)نے ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی یاد دلا دی۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ إِثْبَاتِ التَّكْبِيرِ فِي كُلِّ خَفْضٍ، وَرَفْعٍ فِي الصَّلَاةِ إِلَّا رَفْعَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُ: فِيهِ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ؛جلد١ص٢٩٥؛حدیث نمبر ٧٧٧)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ جو شخص سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز(کامل) نہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛ بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛ترجمہ؛نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا؛ جلد١ص٢٩٥؛حدیث نمبر٧٧٨)
ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ام القرآن(سورۃ فاتحہ)نہ پڑھے اس کی نماز(کامل)نہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛ بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٥؛حدیث نمبر ۷۷٩)
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ جنکے کنویں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ میں پانی لے کر انکے چہرے پر ڈالا تھا۔فرماتے ہیں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے انکو بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ام القران(سورۃ فاتحہ)نہ پڑھی اسکی نماز(کامل) نہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛ بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٥؛حدیث نمبر ٧٨٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٨٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٧؛حدیث نمبر ٧٨١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی وہ خداج یعنی ناقص ہے۔تین مرتبہ فرمایا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں۔فرمایا دل میں پڑھ لیا کرو(احناف کے نزدیک چونکہ امام کی قرات مقتدی کی قرآت ہے لہٰذا امام کے پیچھے قرآت مکروہ تحریمی ہے نیز قرآن مجید میں ہے جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو اس لئے ہمارے نزدیک امام کے پیچھے قرآت کرنا جائز نہیں اور تنہا نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنا واجب ہے کیونکہ قرآن پاک میں یہ بھی فرمایا کہ جو کچھ تمہیں قرآن سے آسان لگے پڑھو تو اس سے معلوم ہوا کہ فاتحہ پڑھنا فرض نہیں ہے بلکہ واجب ہے اور اسکے بھول کر رہ جانے سے سجدہ سہو لازم ہوگا۔)(ہزاروی) کیوں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کردی ہے۔اور میرے بندے کے لئے وہی ہے جو اس نے سوال کیا۔پس جب بندہ"الحمد اللہ رب العالمین" کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔میرے بندے نے میری تعریف کی اور جب وہ"الرحمن الرحیم" پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بندے نے میری ثناء کی اور جب وہ"مالک یوم الدین" پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور یہ بھی فرمایا بندے نے(سب کچھ) مجھے سونپ دیا اور جب بندہ"ایاک نعبد وایاک نستعین"پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جس کا اس نے سوال کیا اور جب وہ"{اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧]پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ کچھ ہے جس کا وہ سوال کرتا ہے۔حضرت سفیان کہتے ہیں مجھ سے یہ حدیث علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب نے بیان کی وہ فرماتے ہیں۔میں انکے پاس گیا تو وہ اپنے گھر میں بیمار تھے تو میں نے اس کے بارے میں ان سے پوچھا۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٦؛حدیث نمبر ٧٨٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٨٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٦؛حدیث نمبر ٧٨٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی۔اس کے بعد حدیث نمبر ٧٨٢ کی مثل ہے اور مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا ہے اسکا نصف میرے لئے ہے اور نصف میرے بندے کے لئے ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٧؛حدیث نمبر ٧٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی تو نماز ناقص ہے۔(اس حدیث سے گزشتہ احادیث کی وضاحت ہو گئی کہ سورہ فاتحہ پڑھنا فرض نہیں بلکہ واجب ہے یہی وجہ ہے کہ فرمایا کہ اس کی نماز ناقص ہے احناف کا یہی موقف ہے کہ سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے) (مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٧؛حدیث نمبر ٧٨٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قرأت کے بغیر نماز نہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نماز میں بلند آواز سے قرآت کی ہم بھی اسے تمہارے لیے جہری قرآت سے پڑھیں گے اور آپ نے جس نماز میں آہستہ قرآت کی ہم بھی اس میں آہستہ قرآت کریں گے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٧؛حدیث نمبر ٧٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم تمام نماز میں قرآت کرتے ہیں۔پس جو قرآت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنا کر پڑھی ہم بھی تمہیں سنائیں گے جو ہم سے پوشیدہ رکھی(آہستہ قرآت کی)ہم بھی تم سے چھپائیں گے(سری قرآت کریں گے)اس شخص نے پوچھا اگر میں سورہ فاتحہ سے زیادہ نہ پڑھوں تو؟فرمایا اگر تو زیادہ کرے تو بہتر ہے اور اگر صرف اس کی قرآت کرے تو بھی جائز ہے۔(احناف کے نزدیک سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت یا چند آیات ملانا واجب ہے اور اس کے ترک سے سجدہ سہو لازم آتا ہے اگر بھول کر ہو) (مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٧؛حدیث نمبر ٧٨٧)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔تمام نماز میں قرآت ہے۔پس جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنا کر قرآت فرمائی ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جہاں آپ نے ہم سے قرآت کو پوشیدہ رکھا ہم بھی تم سے پوشیدہ رکھیں گے۔جس نے سورہ فاتحہ پڑھی وہ اس کے لئے کافی ہے اور جس نے اضافہ کیا تو یہ افضل ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٧؛حدیث نمبر ٧٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوۓ تو ایک شخص آیا اس نے نماز پڑھی پھر حاضر ہوا آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا۔پھر فرمایا جاؤ نماز پڑھو بے شک تم نے نماز نہیں پڑھی اس نے پھر پہلے کی طرح نماز پڑھی۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا تو آپ نے فرمایا وعلیک السلام جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی حتیٰ کہ تین مرتبہ اس طرح کیا۔اب اس شخص نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپکو حق دے کر بھیجا میں اس سے اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا۔آپ مجھے سکھائیے آپ نے فرمایا جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو پھر قرآن مجید سے جو آسان معلوم ہو اسکی قرآت کرو۔(یہ حدیث بھی احناف کی دلیل ہے کہ سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں بلکہ جہاں سے آسانی معلوم ہو وہ فرض ہے اور فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے) پھر رکوع کرو حتیٰ کہ رکوع میں مطمئن ہو جاؤ پھر سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو حتیٰ کہ سجدے میں مطمئن ہو جاؤ پھر سر اٹھاؤ اور مطمئن ہو کر بیٹھو پھر پوری نماز میں اسی طرح کرو۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٨؛حدیث نمبر ٧٨٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تھے۔اس کے بعد پہلی روایت کی طرح ہے البتہ یہ اضافہ ہے کہ جب نماز کا ارادہ کرو تو کامل وضو کرو پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہو۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا؛جلد١ص٢٩٨؛حدیث نمبر ٧٩٠)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی۔پھر فرمایا تم میں سے کس نے میرے پیچھے"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى»کی قرأت کی تو ایک شخص نے عرض کیا میں نے(قرأت کی ہے)اور میرا ارادہ صرف بھلائی کا تھا۔آپ نے فرمایا مجھے معلوم ہوا کہ کوئی شخص میری قرآت میں گڑبڑ کر رہا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ نَهْيِ الْمَأْمُومِ عَنْ جَهْرِهِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ إِمَامِهِ؛جلد١ص٢٩٨؛حدیث نمبر ٧٩١)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی تو ایک نمازی نے آپ کے پیچھےِ"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى"کی قرآت شروع کر دی۔سلام پھیرنے کے بعد آپ نے فرمایا تم میں سے کس نے قرآت کی ہے۔تم میں سے کون قرآت کرنے والا ہے۔اس شخص نے عرض کیا میں نے(قرأت کی ہے)آپ نے فرمایا مجھے خیال ہوا کہ کوئی میری قرآت میں خلل ڈال رہا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ نَهْيِ الْمَأْمُومِ عَنْ جَهْرِهِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ إِمَامِهِ؛جلد١ص٢٩٩؛حدیث نمبر ٧٩٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٩٢ کی مثل مروی ہے۔(معلوم ہوا کہ امام کے پیچھے خاموشی سے کھڑا ہونے کا حکم ہے اور مقتدی کو قرآت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ امام کی قرأت ہی اس کی قرأت ہے۔) (مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ نَهْيِ الْمَأْمُومِ عَنْ جَهْرِهِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ إِمَامِهِ؛جلد١ص٢٩٩؛حدیث نمبر ٧٩٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر،حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ لَا يُجْهَرُ بِالْبَسْمَلَةِ؛ترجمہ؛بسم اللہ بلند آواز سے نہ پڑھی جائے؛جلد١ص٢٩٩؛ حدیث نمبر ٧٩٤)
ایک روایت میں ہے حضرت شعبہ فرماتے ہیں میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ کیا آپ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ بات سنی ہے فرماتے ہیں ہاں ہم نے اس سلسلے میں ان سے سوال کیا تھا۔(معلوم ہوا کہ امام کے پیچھے خاموشی سے کھڑا ہونے کا حکم ہے اور مقتدی کو قرآت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ امام کی قرأت ہی اس کی قرأت ہے۔)(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ لَا يُجْهَرُ بِالْبَسْمَلَةِ؛جلد١ص٢٩٩؛حدیث نمبر ٧٩٥)
حضرت عبدہ فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کلمات کو بلند آواز سے پڑھتے تھے۔«سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ»حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر،حضرت عمراور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم سے کے پیچھے نماز پڑھی۔وہ"الحمد للہ رب العالمین" سے شروع کرتے وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم قرأت کے اول یا آخر میں ذکر نہ کرتے(بلند آواز سے نہ پڑھتے بلکہ سبحانک اللہم بھی آہستہ پڑھتے اور جہری قرآت الحمد سے شروع فرماتے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃبَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ لَا يُجْهَرُ بِالْبَسْمَلَةِ؛جلد١ص٢٩٩؛حدیث نمبر ٧٩٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٧٩٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ لَا يُجْهَرُ بِالْبَسْمَلَةِ؛جلد١ص٣٠٠؛حدیث نمبر ٧٩٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ آپکو کچھ اونگھ آگئی۔پھر آپ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپکی مسکراہٹ کا سبب کیا ہے؟فرمایا ابھی ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے۔پھر آپ نے پڑھا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ. فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ. إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ} [الكوثر: ٢]"اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان اور بہت رحم والا ہے۔بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطاء کیا پس آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھئے اور قربانی دیجئے۔بے شک آپ کا دشمن ہی نامراد۔"آپ نے فرمایا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ہم نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔فرمایا وہ ایک نہر ہے کہ میرے رب نے مجھ سے اس کا وعدہ کیا ہے۔اس پر بھلائی ہے اور وہ حوض ہے کہ قیامت کے دن میری امت اس پر آۓ گی۔اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے مطابق ہیں۔ایک شخص کو حوض کوثر سے ہٹایا جائے گا تو میں کہوں گا۔اے میرے رب!یہ میرا امتی ہے تو کہا جاے گا آپکو (از خود)معلوم نہیں۔آپکے بعد انہوں نے کیا کیا کام جاری کئے۔ایک روایت کے مطابق حضور علیہ السلام نے یہ بات مسجد میں فرمائی۔(بعض لوگ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپکو غیب کا علم نہیں حالانکہ یہ قول تو علم غیب کی دلیل ہے کیونکہ آپ نے خود صحابہ کرام کو بتا دیا کہ ایسا ہوگا اور یہ قیامت کی خبر ہے۔) (مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ: الْبَسْمَلَةُ آيَةٌ مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ سِوَى بَرَاءَةٌ؛ترجمہ؛بسم اللہ ہر سورت کی جزء ہے یا نہیں؛جلد١ص٣٠٠؛حدیث نمبر ٧٩٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اونگھ آئی پھر حدیث نمبر ٧٩٨ کی طرح ہے البتہ اس میں یہ فرمایا کہ(کوثر)ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا یہ جنت میں ہے اور اس پر ایک حوض ہے۔اس روایت میں اس کے برتنوں کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہونے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ: الْبَسْمَلَةُ آيَةٌ مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ سِوَى بَرَاءَةٌ؛جلد١ص٣٠٠؛حدیث نمبر ٧٩٩)
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز شروع کی تو ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے تکبیر کہی۔ہمام راوی کہتے ہیں کانوں کے برابر ہاتھوں کو اٹھایا پھر کپڑا لپیٹ لیا پھر دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا جب رکوع کا ارادہ فرمایا تو ہاتھوں کو کپڑے سے باہر نکال کر اٹھایا اور تکبیر کہتے ہوئے رکوع کیا جب"سمع اللہ لمن حمدہ" پڑھا تو ہاتھوں کو اٹھایا اور جب سجدہ کیا تو دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ وَضْعِ يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى بَعْدَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ تَحْتَ صَدْرِهِ فَوْقَ سُرَّتِهِ، وَوَضْعِهِمَا فِي السُّجُودِ عَلَى الْأَرْضِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ؛نماز میں ہاتھ باندھنا؛جلد١ص٣٠١؛حدیث نمبر ٨٠٠)
حضرت ابو وائل، حضرت عبداللہ سے روایت کرتےہیں۔وہ فرماتے ہیں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے یوں کہتے"السلام علی اللہ السلام فلان" تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا بے شک اللہ خود سلام ہے۔پس جب تم میں سے کوئی ایک نماز میں بیٹھے(قعدہ کرے)تو یوں کہے۔"التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ"۔جب یوں کہے گا تو آسمان و زمین میں موجود ہر نیک بندے تک یہ سلام پہنچے گا۔(پھر کہے)"أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"(میں گواہی دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں)پھر جو جی میں آئے دعا مانگے اسے اختیار ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ التَّشهُّدِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں تشہد؛جلد١ص٣٠١؛حدیث نمبر ٨٠١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٠١ کی مثل مروی ہے۔آخری الفاظ جو سوال سے متعلق ہے وہ اس حدیث میں مذکور نہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ التَّشهُّدِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص؛٣٠١؛حدیث نمبر ٨٠٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٠١ کی مثل مروی ہے اور اس کے آخر میں ہے کہ اسے اختیار ہے جو سوال چاہے یا پسند کرے پیش کرے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ التَّشهُّدِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٠٢؛حدیث٨٠٣)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں قعدہ کرتے اس کے بعد حدیث نمبر ٨٠١ کی طرح مروی ہے اور فرمایا کہ دعا میں اختیار ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ التَّشهُّدِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٠٢؛حدیث نمبر٨٠٤)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا اور اس وقت میرا ہاتھ آپ کے ہاتھوں میں تھا۔آپ نے مجھے اس طرح سکھایا جس طرح آپ مجھے قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔پھر انہوں نے دوسرے حضرات کی طرف تشہد بیان کیا۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ التَّشهُّدِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٠٢؛حدیث ٨٠٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشھد سکھاتے۔جس طرح آپ ہمیں قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے پس آپ فرماتے۔"التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ، الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ»ابن رمح کی روایت میں ہے کہ جس طرح آپ ہمیں قرآن مجید سکھاتے تھے۔(تشھد کے سلسلے میں مختلف الفاظ منقول ہے جن الفاظ کے ساتھ چاہے پڑھے ہمارے ہاں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق تشھد پڑھا جاتا ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ التَّشهُّدِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٠٢؛حدیث٨٠٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشھد سکھاتے جس طرح ہمیں قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛-بَابُ التَّشهُّدِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٠٣؛حدیث نمبر ٨٠٧)
حضرت حطان بن عبد اللہ رقاشی فرماتے ہیں۔میں نے حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی جب آپ قعدے میں گئے تو ایک شخص نے کہا یہ نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ ملائی گئی۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو سلام پھیرنے کے بعد پوچھا فلاں فلاں کلمہ کس نے کہا۔فرماتے ہیں لوگ خاموش رہے۔پھر فرماتے ہیں یہ کلمات کس نے کہے ہیں۔فرمایا اے حطان شاید تم نے کہے ہیں۔انہوں نے کہا میں نے نہیں کہے اور مجھے ڈر تھا کہ آپ مجھے جھڑکیں گے تو نمازیوں میں سے ایک نے کہا میں نے یہ کلمات کہے ہیں اور میں نے بھلائی کا ارادہ کیا تھا۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے ہو کہ نماز میں کس طرح کہنا چاہیے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو ہمارے لیے سنت طریقہ واضح طور پر بیان کر دیا اور ہمیں نماز سکھائی۔آپ نے فرمایا جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو درست رکھو۔پھر تم میں سے ایک تمہاری امامت کراۓجب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔جب وہ"{غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧]پڑھے تو تم آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے قبول فرمائے گا۔پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور پہلے سر اٹھاتا ہے تو تمہارا اس کے مقابلے میں ہوجائے گا اور جب وہ"سمع اللہ لمن حمدہ" کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو۔اللہ تعالی تمہاری بات سنتا ہے۔اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زبان پر فرمایا"سمع اللہ لمن حمدہ" اور جب تکبیر کہ کر سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو۔بیشک امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے سر اٹھاتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے بدلے میں ہے۔پس جب قعدے میں ہو تو سب سے پہلے یوں کہو۔التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ «(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛باب التشھد فی الصلاۃ؛جلد١ص٣٠٣؛حدیث٨٠٨)
متعدد اسانید کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سےحدیث نمبر ٨٠٨ کی مثل مروی ہے۔ایک سند سے مروی ہے روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔لیکن ان میں سے کسی کی روایت میں یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان پر"سمع اللہ لمن حمدہ" فرمایا۔صرف ایک روایت میں اس کا ذکر ہے۔اس حدیث کی سند میں ابوبکر نے مسلم سے بحث کی تو امام مسلم نے فرمایا۔سلیمان(راوی)سے زیادہ اور کون حافظ تمہیں ملے گا۔ابوبکر نے پوچھا پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کیسی ہے۔جس میں امام کے قرأت کے وقت خاموش رہنے کا حکم ہے۔امام مسلم نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے یعنی میرے نزدیک یہ صحیح ہے۔انہوں نے کہا پھر آپ نے اس سند کے ساتھ ذکر کیوں نہیں کیا تو انہوں نے کہا میں نے ہر اس حدیث کو یہاں ذکر نہیں کیا جو صحیح ہو بلکہ میں نے یہاں اسے ذکر کیا جس پر اتفاق ہے۔(معلوم ہوا کہ خود امام مسلم علیہ الرحمۃ کے نزدیک بھی وہ حدیث صحیح ہے جس میں امام کے پیچھے قرأت سے منع کیا گیا ہے۔للہ الحمد احناف کے مسلک پر یہ واضح دلیل ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛باب التشھد فی الصلاۃ؛جلد١ص٣٠٤؛حدیث نمبر ٨٠٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٠٩ کی مثل مروی ہے اور اس میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان پر سمع اللہ لمن حمدہ جاری کیا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛باب التشھد فی الصلاۃ؛جلد١ص٣٠٤؛حدیث نمبر ٨١٠)
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔ہم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے۔یا رسول اللہ ہم آپ پر درود شریف کیسے بھیجیں۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حتیٰ کہ ہم نے کہا کاش وہ آپ سے سوال نہ کرتے پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔یوں کہوں۔ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اور آپ نے فرمایا سلام اس طرح ہے جس طرح تم جانتے ہو۔(اس سے مراد"السلام علیک ایھا النبی ورحمت اللہ وبركاته"پڑھنا ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعْدَ التَّشهُّدِ؛ترجمہ؛تشہد کے بعد درود شریف پڑھنا؛جلد١ص٣٠٥؛حدیث نمبر ٨١١)
حضرت ابن ابی لیلیٰ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو انہوں نے فرمایا کیا میں کوئی تمہیں تحفہ دوں(پھر فرمایا)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا۔ہم یہ بات جان چکے ہیں کہ آپ پر سلام کیسے بھیجیں تو(بتائیے)آپ پر درود شریف کیسے بھیجیں۔آپ نے فرمایا یوں کہو۔ «اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعْدَ التَّشهُّدِ؛جلد١ص٣٠٥؛حدیث نمبر ٨١٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨١٢ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں حضرت مسعر کی روایت میں"کیا میں تحفہ دوں" کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعْدَ التَّشهُّدِ؛جلد١ص٣٠٦؛حدیث نمبر ٨١٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨١٢ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں"وبارک علی محمد" اور "اللھم" نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعْدَ التَّشهُّدِ؛جلد١ص٣٠٦ حدیث نمبر ٨١۴)
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم آپ پر درود شریف کیسے بھیجیں تو آپ نے فرمایا یوں کہو۔ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى أَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ، وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعْدَ التَّشهُّدِ؛جلد١ص٣٠٦؛حدیث نمبر ٨١٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے۔اللہ تعالی اس پر دس بار رحمت نازل کرتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعْدَ التَّشهُّدِ؛جلد١ص٣٠٦؛حدیث نمبر ٨١٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام"سمع اللہ لمن حمدہ"کہے تو تم"اللھم ربنا لک الحمد"کہو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کےموافق ہو گیا۔اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئے جائیں گے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ التَّسْمِيعِ، وَالتَّحْمِيدِ، وَالتَّأْمِينِ؛ترجمہ؛سمع اللہ لمن حمدہ،ربنا لک الحمد،اور آمین کہنا۔جلد١ص٣٠٦؛حدیث نمبر ٨١۷)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨١٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ التَّسْمِيعِ، وَالتَّحْمِيدِ، وَالتَّأْمِينِ؛جلد١ص٣٠٦؛حدیث نمبر ٨١٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی۔اس کے تمام گزشتہ گناہ بخش دئے جائیں گے۔ابن شہاب فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آمین کہتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ التَّسْمِيعِ، وَالتَّحْمِيدِ، وَالتَّأْمِينِ؛جلد١ص٣٠٧؛حدیث نمبر ٨١٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث(نمبر٨١٧) کے مطابق سنا اور اس میں ابن شہاب کا قول مذکور نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ التَّسْمِيعِ، وَالتَّحْمِيدِ، وَالتَّأْمِينِ؛جلد١ص٣٠٧؛حدیث نمبر ٨٢٠)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک نماز میں آمین کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں تو جب دونوں کی آمین مطابق ہوجاتی ہے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ التَّسْمِيعِ، وَالتَّحْمِيدِ، وَالتَّأْمِينِ؛جلد١ص٣٠٧؛حدیث نمبر ٨٢١)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی ایک آدمی آمین کہتا ہے اور فرشتے بھی آسمان میں آمین کہتے ہیں۔جب دونوں کی آمین باہم موافق ہو جاتی ہے تو اس شخص کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ التَّسْمِيعِ، وَالتَّحْمِيدِ، وَالتَّأْمِينِ؛جلد١ص٣٠٧؛حدیث نمبر ٨٢٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٢٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ التَّسْمِيعِ، وَالتَّحْمِيدِ، وَالتَّأْمِينِ؛جلد١ص٣٠٧؛حدیث نمبر ٨٢٣)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قاری(امام)"غیر المغضوب علیم والاالضالین" کہتا ہے اور مقتدی آمین کہتا ہے تو جب اس کا قول آسمان والوں کے قول کے موافق ہو جاتا ہے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔(مطلب یہ کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں لہٰذا جب تم آمین کہو گے تو ان کی آمین کے موافق ہو جاۓ گی اس سے اونچی آواز سے کہنا ثابت نہیں ہوتا) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ التَّسْمِيعِ، وَالتَّحْمِيدِ، وَالتَّأْمِينِ؛جلد١ص٣٠٧؛حدیث نمبر٨٢٤)
حضرت زہری فرماتے ہیں۔میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔آپ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گرے تو آپ کا دایاں پہلو زخمی ہوگیا۔ہم آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے تو نماز کا وقت ہو چکا تھا۔آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے آپکے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اسکی اقتدا کی جائے پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔جب وہ اوپر اٹھے تو تم بھی اٹھو اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم بھی ربنا لک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھاے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو(وضاحتی حاشیہ آگے آرہا ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ ائْتِمَامِ الْمَأْمُومِ بِالْإِمَامِ؛امام کی اقتداء؛جلد١ص٣٠٨؛حدیث نمبر٨٢٥)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دراز گوش سے گر پڑے تو زخمی ہوگئے-پس آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی-اس کے بعد حدیث نمبر ٨٢٥ کی مثل مروی ہے-(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ:باب ائتمام المامون بالامام:جلد١ص٣٠٨:حدیث نمبر ٨٢٦)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گرے تو آپ کا دایاں پہلو زخمی ہوگیا۔اس کے بعد پہلے دونوں حدیثوں کی مثل ہے اور یہ اضافہ ہے کہ جب امام کھڑا ہو کر نماز پڑھاۓ تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ ائْتِمَامِ الْمَأْمُومِ بِالْإِمَامِ؛جلد١ص٣٠٨؛حدیث نمبر ٨٢٧)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوۓ تو اس سے گرنے کی وجہ سے آپ کا دایاں پہلو زخمی ہوگیا۔اس کے بعد پہلی احادیث کی مثل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ جب امام کھڑا ہو کر نماز پڑھاۓ تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ ائْتِمَامِ الْمَأْمُومِ بِالْإِمَامِ؛جلد١ص٣٠٨؛حدیث نمبر ٨٢٨)
ایک اور سند کے ساتھ حدیث نمبر ٨٢٨ کی مثل مروی ہے لیکن پچھلی دو حدیثوں والا اضافہ نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ ائْتِمَامِ الْمَأْمُومِ بِالْإِمَامِ؛جلد١ص٣٠٨؛حدیث نمبر ٨٢٩)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوۓ تو کچھ صحابہ کرام عیادت کے لئے حاضر ہوئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو بیٹھ کر نماز پڑھائی تو وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے۔آپ نے انکو اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گئے جب سلام پھیرا تو فرمایا امام اس لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے پس جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے کھڑا ہو تو تم بھی کھڑے ہو جاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھاۓ تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ ائْتِمَامِ الْمَأْمُومِ بِالْإِمَامِ؛جلد١ص٣٠٩؛حدیث نمبر ٨٣٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٣٠کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ ائْتِمَامِ الْمَأْمُومِ بِالْإِمَامِ؛جلد١ص٣٠٩؛حدیث نمبر ٨٣١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز یوں پڑھی کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کو آپ کی تکبیر سناتے تھے۔آپ نے ہماری طرف توجہ فرمائی تو ہمیں کھڑا دیکھا۔جب سلام پھیرا تو آپ نے فرمایا تم فارس اور روم والوں جیسا عمل کرنے لگے تھے۔وہ اپنے بادشاہوں کے پاس کھڑے ہوتے ہیں جب بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں پس ایسا نہ کرو اپنے امام کی اقتدا کرو اگر امام کھڑا ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ ائْتِمَامِ الْمَأْمُومِ بِالْإِمَامِ؛جلد١ص٣٠٩؛حدیث نمبر ٨٣٢)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے۔جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ اکبر کہتے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اللہ اکبر کہتے تاکہ ہمیں سنائیں پھر حدیث نمبر ٨٣٢ کی طرح ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ ائْتِمَامِ الْمَأْمُومِ بِالْإِمَامِ؛جلد١ص٣٠٩؛حدیث نمبر ٨٣٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اسکی اقتداء کی جائے ۔پس اس سے اختلاف نہ کرو جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم"اللھم ربنا لک الحمد"کہو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھاۓ تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ ائْتِمَامِ الْمَأْمُومِ بِالْإِمَامِ؛جلد١ص٣٠٩؛حدیث نمبر ٨٣٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٣٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ ائْتِمَامِ الْمَأْمُومِ بِالْإِمَامِ؛جلد١ص٣١٠؛حدیث نمبر ٨٣٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیتے ہوئے فرماتے تھے۔امام سے جلدی نہ کرو جب وہ تکبیر کہے تو تکبیر کہو اور جب وہ ولاالضالین کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃِ؛- بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُبَادَرَةِ الْإِمَامِ بِالتَّكْبِيرِ وَغَيْرِهِ:جلد١ص٣١٠؛حدیث نمبر ٨٣٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ٨٣٦ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں ولاالضالین اور آمین کا ذکر نہیں ہے اور یہ اضافہ ہے کہ امام سے پہلے رکوع سے نہ اٹھو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃِ؛- بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُبَادَرَةِ الْإِمَامِ بِالتَّكْبِيرِ وَغَيْرِهِ:جلد١ص٣١٠؛حدیث نمبر ٨٣٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ڈھال ہے۔جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو۔جب زمین والوں کا قول آسمان والوں کے قول کے موافق ہو جاتا ہے تو اس(زمین)کے تمام گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُبَادَرَةِ الْإِمَامِ بِالتَّكْبِيرِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٣١٠؛حدیث نمبر ٨٣٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا امام کو اس لئے مقرر کیا گیا کہ اس کی اقتداء کی جائے پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللھم ربنا لک الحمد کہو اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھاۓ تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھاۓ تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔(حدیث نمبر ٨٤٠ میں یہ بات واضح الفاظ میں موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور صحابہ کرام کھڑے تھے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر امام کسی وقت عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھاۓ تو مقتدی کھڑے ہوکر پڑھیں۔یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ہے اس لئے یہ تمام احادیث کے لئے ناسخ ہے۔جن میں مذکور ہے کہ امام بیٹھ کر نماز پڑھاۓ تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔(شرح صحیح مسلم غلام رسول سعیدی جلد اول ص٦١٧) (مسلم شریف کتاب کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُبَادَرَةِ الْإِمَامِ بِالتَّكْبِيرِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٣١١؛حدیث نمبر ٨٣٩)
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا کیا آج مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟انہوں نے فرمایا کیوں نہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہو گئ تو آپ نے پوچھا کیا صحابہ کرام نماز پڑھ چکے ہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!وہ آپکے منتظر ہیں۔آپ نے فرمایا میرے ٹب میں پانی رکھو۔ہم نے اسی طرح کیا تو آپ نے غسل فرمایا۔پھر اٹھنے لگے تو بیہوشی طاری ہوگئی پھر افاقہ ہوا تو فرمایا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟ہم نے کہا نہیں یا رسول اللہ بلکہ وہ آپ کے منتظر ہیں۔آپ نے فرمایا میرے ٹب میں پانی رکھو۔ہم نے اسی طرح کیا تو آپ نے غسل فرمایا پھر اٹھنے لگے تو آپ پر بیہوشی طاری ہو گئی۔پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟ہم نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ!بلکہ وہ آپکے انتظار میں ہیں۔ام المومنین فرماتی ہیں۔لوگ مسجد میں جمع ہوکر آپکا انتظار کر رہے تھے اور یہ عشا کی نماز تھی۔ام المومنین فرماتی ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف کسی کو بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔قاصد نے آکر بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے۔حضرت ابوبکر نرم طبیعت تھے۔آپ نے فرمایا اے عمر رضی اللہ عنہ!آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔انہوں نے فرمایا آپ اسکے زیادہ حقدار ہیں۔ام المومنین فرماتی ہیں ان دنوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کو نمازیں پڑھائیں۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ افاقہ محسوس فرمایا تو آدمیوں کے درمیان سہارے سے ظہر کی نماز کے لئے تشریف لائے۔ان میں سے ایک حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپکو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا اور ان دونوں حضرات سے فرمایا مجھے ان کے پہلو میں بیٹھا دو۔انہوں نے آپکو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی کی اقتداء میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے اور نبی اکرم بیٹھے ہوئے تھے۔عبیداللہ بن عبداللہ(راوی)فرماتے ہیں۔میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا کہ کیا آپکو وہ حدیث نہ بتاؤں جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں بتائی ہے۔انہوں نے فرمایا بتائیے تو میں نے وہ حدیث ان سے بیان کی تو انہوں نے کسی بات کا انکار نہیں کیا۔البتہ یہ پوچھا کہ کیاام المومنین نے اس دوسرے شخص کا نام بتایا جو حضرت عباس کے ہمراہ تھے۔فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں تو انہوں نے فرمایا وہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛ترجمہ؛عذر کی صورت میں امام کا کسی کو خلیفہ بنانا؛ جلد١ص٣١١؛حدیث نمبر ٨٤٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوا تو آپ نے اپنی ازواج مطہرات سے اجازت مانگی کہ بیماری کے ایام حضرت عائشہ کے گھر گزاریں تو انہوں نے آپ کو اجازت دے دی۔فرماتی ہیں آپ باہر تشریف لائے تو آپ کا ایک ہاتھ مبارک حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کے کاندھے پر اور دوسرا ہاتھ کسی دوسرے آدمی کے کاندھے پر تھا اور آپ اپنے پاؤں مبارک زمین پر گھسیٹ رہے تھے۔حضرت عبیداللہ(راوی)فرماتے ہیں۔میں نے یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ ام المومنین نے جس شخص کا نام ذکر(نہیں)کیا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٢؛حدیث نمبر ٨٤١)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوگئی اور شدید درد ہوا تو آپ نے ازواج مطہرات سے اجازت مانگی کہ بیماری کے ایام میں میرے یہاں تشریف فرما ہوں۔انہوں نے آپکو اجازت دے دی تو آپ دو آدمیوں کے درمیان پاؤں مبارک کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے۔آپ عباس بن عبد المطلب اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے۔حضرت عبیداللہ فرماتے ہیں۔میں نے یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا کیا تم جانتے ہو وہ دوسرا شخص جن کا نام ام المومنین نہیں لئے وہ کون تھے۔میں نے کہا میں نہیں جانتا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔وہ حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٢؛حدیث نمبر ٨۴٢)
حضرت عتبہ بن مسعود،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتےہیں۔آپ فرماتی ہیں میں نے(حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امام نہ بنانے پر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اصرار کیا اور مجھے کثرتِ اصرار پر اس بات نے مجبور کیا کہ میرے دل میں یہ بات نہ تھی کہ لوگ اس شخص سے محبت کریں گے جو آپکی جگہ کھڑا ہوگا۔میرا خیال تھا کہ جو شخص بھی آپکی جگہ کھڑا ہوگا۔لوگ اس سے بد شگونی لیں گے تو میں نے ارادہ کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملے کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پھیر دے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٣؛حدیث نمبر ٨٤٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر تشریف لائے تو فرمایا ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔سب نے عرض کیا یا رسول اللہ!حضرت ابوبکر نرم طبیعت ہیں جب وہ قرآن پڑھیں گے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں پاسکیں گے۔اگر آپ ابوبکر صدیق کے علاوہ کسی اور کو حکم دیں تو اچھا ہے فرماتی ہیں اللہ کی قسم!مجھے یہ خطرہ لاحق تھا کہ لوگ اس آدمی سے بد شگونی لیں گے جو آپ کی جگہ پر سب سے پہلے کھڑا ہوگا۔فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو تین بار اصرار کیا لیکن آپ نے فرمایا حضرت ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں تم حضرت یوسف علیہ السلام(کے زمانے)والی عورتیں ہو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٣؛حدیث نمبر ٨٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوگئی تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپکو نماز کی اطلاع کرنے آئے۔آپ نے فرمایا حضرت ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ام المومنین فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بہت رونے والے(نرم دل)ہیں جب وہ آپکی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو قرآت نہیں سنا سکیں گے۔اگر آپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حکم فرمائیں(تو اچھا ہے)آپ نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کریں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم طبیعت کے مالک ہیں۔جب وہ آپکی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو قرآت نہیں سنا سکیں گے۔اگر آپ حضرت عمر سے فرمائیں(تو اچھا ہے)حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپکی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا تم حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کی عورتوں جیسی ہو۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں فرماتی ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا تو انہوں نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی۔ام المومنین فرماتی ہیں۔انہوں نے شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ افاقہ ہوا۔پس آپ دو آدمیوں کے درمیان سہارے سے چلے اور آپکے قدم مبارک زمین پر گھسیٹ رہے تھے۔ام المؤمنين فرماتی ہیں۔جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپکی آمد کو محسوس کیا اور پیچھے ہٹنے لگے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں۔چنانچہ حضور علیہ السلام تشریف لائے حتیٰ کہ آپ حضرت ابوبکر کے بائیں جانب تشریف فرما ہوۓ۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بیٹھ کر اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوکر نماز پڑھا رہے تھے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور باقی لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٣؛حدیث نمبر ٨٤٥))
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٤٥ کی مثل مروی ہے۔اس میں آپکے مرض وصال کا ذکر ہے اور ابن مسہر کی روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لایا گیا حتیٰ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انکو تکبیر سنا رہے تھے، ایک اور روایت میں یوں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوۓ۔آپ صحابہ کرام کو نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپکے پہلو میں لوگوں کو تکبیر سنا رہے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٤؛حدیث نمبر ٨٤٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو آپ نماز پڑھاتے تھے۔حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ افاقہ پایا تو تشریف لائے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امامت فرما رہے تھے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا توپیچھے ہٹنے لگے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہریں چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق کے پہلو میں بیٹھ گئے۔پس حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٤؛حدیث نمبر ٨٤٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کے دوران جس میں آپ کا وصال ہوا۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کو نماز پڑھاتے تھے حتیٰ کہ جب سوموار کا دن ہوا اور انہوں نے نماز کے لئے صفیں بنائیں ہوئی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ مبارک سے پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا آپ کھڑے تھے اور گویا آپ کا چہرہ انور قرآن مجید کا ایک صفحہ ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا۔راوی فرماتے ہیں ہم حالت نماز میں حیرانی کا شکار ہو گئے کیونکہ ہم آپ کے تشریف لانے پر خوش ہوۓ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پھرنے لگے تاکہ صف میں چلے جائیں اور یہ گمان کیا کی حضور علیہ السلام نماز کے لئے تشریف لارہے ہیں تو آپ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز مکمل کرو۔فرماتے ہیں پھر آپ اندر تشریف لے گئے اور پردہ ڈال دیا اور اسی دن آپ کا وصال ہوا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٥؛حدیث نمبر ٨٤٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے آخری بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اس وقت کی جب آپ نے پردہ اٹھایا اور یہ سوموار کا دن تھا۔آگے حدیث نمبر ٨٤٨ کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٥؛حدیث نمبر ٨٤٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٤٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٥؛حدیث نمبر ٨٥٠)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین دن تک ہماری طرف(مسجد میں)تشریف نہ لاۓ پس نماز کے لئے اقامت ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ اٹھایا جب آپ کا چہرہ انور ہمارے سامنے آیا تو ہم نے آپ کے چہرہ اقدس سے بڑھ کر خوش کن منظر نہ دیکھا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ آگے بڑھیں اور آپ نے پردہ ڈال دیا اس کے بعد نماز پڑھانے کی طاقت نہ ہوئی حتیٰ کہ آپ کا وصال ہوگیا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٥؛حدیث نمبر ٨٥١)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوۓ اور آپ کی بیماری بڑھ گئی تو آپ نے فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ!حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رقیق القلب ہیں جب آپکے مقام پر کھڑے ہوں گے تو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔آپ نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ نماز پڑھائیں تم عورتیں یوسف علیہ السلام کے زمانے کی عورتوں جیسی ہو۔تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ السلام کی حیات طیبہ میں(صحابہ کرام کو)نماز پڑھائی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، وَأَنَّ مَنْ صَلَّى خَلْفَ إِمَامٍ جَالِسٍ لِعَجْزِهِ عَنِ الْقِيَامِ لَزِمَهُ الْقِيَامُ إِذَا قَدِرَ عَلَيْهِ، وَنَسْخِ الْقُعُودِ خَلْفَ الْقَاعِدِ فِي حَقِّ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ؛جلد١ص٣١٦؛حدیث نمبر ٨٥٢)
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف(قبیلہ)کے ہاں تشریف لے گئے تاکہ ان کے درمیان صلح کرائیں۔نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا۔اگر آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو میں تکبیر کہوں؟آپ نے فرمایا"ہاں"(پڑھاؤں گا)راوی فرماتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو صحابہ کرام نماز پڑھ رہے تھے۔آپ آگے بڑھ کر صف میں کھڑے ہوگئے۔صحابہ کرام نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ(نماز میں انہماک کی وجہ سے)اِدھراُدھر متوجہ نہیں ہوتے تھے جب یہ عمل زیادہ ہوا تو آپ نے متوجہ ہوکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے انکو اشارے سے اپنی جگہ ٹھہرنے کا حکم دیا۔حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کی پھر پیچھے ہٹ کر صف میں جا ملے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔سلام پھیرنے کے بعد فرمایا۔اے ابوبکر جب میں نے تمہیں اپنی جگہ ٹھہرنے کا حکم دیا تو تجھے اس عمل سے کس بات نے روکا؟حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ابو قحافہ کے بیٹے کیلئے جائز نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے ہوکر نماز پڑھاۓ۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہوا کہ میں نے تمہیں کثرت سے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا جس شخص کو نماز میں کوئی بات درپیش ہو تو وہ سبحان اللہ کہے کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا اس کی طرف توجہ ہو جائے گی۔ہاتھ پر ہاتھ مارنے کا عمل عورتوں کے لئے ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَقْدِيمِ الْجَمَاعَةِ مَنْ يُصَلِّي بِهِمْ إِذَا تَأَخَّرَ الْإِمَامُ وَلَمْ يَخَافُوا مَفْسَدَةً بِالتَّقْدِيمِ؛ترجمہ؛امام کی عدم موجودگی میں کسی کو امام بنانا؛جلد١ص٣١٦؛حدیث نمبر٨٥٣)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٥٣ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر صف میں کھڑے ہو گئے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَقْدِيمِ الْجَمَاعَةِ مَنْ يُصَلِّي بِهِمْ إِذَا تَأَخَّرَ الْإِمَامُ وَلَمْ يَخَافُوا مَفْسَدَةً بِالتَّقْدِيمِ؛جلد١ص٣١٧؛حدیث نمبر ٨٥٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ واقعہ منقول ہے۔اس میں مزید یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفیں توڑتے ہوئے سب سے پہلی صف میں کھڑے ہوگئے اور اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَقْدِيمِ الْجَمَاعَةِ مَنْ يُصَلِّي بِهِمْ إِذَا تَأَخَّرَ الْإِمَامُ وَلَمْ يَخَافُوا مَفْسَدَةً بِالتَّقْدِيمِ؛جلد١ص٣١٧؛حدیث نمبر٨٥٥)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی۔اس دوران رسول اکرم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو میں نے آپ کے ساتھ برتن اٹھایا اور یہ نماز فجر سے پہلے کی بات ہے۔جب آپ واپس میرے پاس تشریف لائے تو میں آپ کے مبارک ہاتھوں پر برتن سے پانی ڈالنے لگا۔آپ نے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوۓ پھر چہرہ انور کو دھویا۔پھر جبہ مبارک کو بازوؤں کی طرف سے نکالنے لگے تو جبہ مبارک کی آستینیں تنگ تھیں تو آپ نے جبہ مبارک میں ہاتھ ڈال کر بازوؤں کو جبہ مبارک کی نچلی جانب سے اتارا اور بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھویا پھر موزوں پر مسح کیا اور واپس تشریف لائے۔حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں بھی آپ کے ساتھ آیا حتیٰ کہ دیکھا صحابہ کرام نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کیا ہوا ہے اور وہ ان کو نماز پڑھا رہے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پائی اور صحابہ کرام کے ہمراہ یہ(دوسری) رکعت پڑھی۔حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز مکمل کی۔اس بات سے مسلمان بہت خوف زدہ ہوئے اور کثیر سے"سبحان اللہ"پڑھنے لگے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم نے اچھا کیا یا فرمایا درست عمل کیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کو قابل رشک قرار دیا کہ انہوں نے وقت پر نماز پڑھی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَقْدِيمِ الْجَمَاعَةِ مَنْ يُصَلِّي بِهِمْ إِذَا تَأَخَّرَ الْإِمَامُ وَلَمْ يَخَافُوا مَفْسَدَةً بِالتَّقْدِيمِ؛جلد١ص٣١٧؛حدیث نمبر ٨٥٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٥٦ کی مثل مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو پیچھے ہٹانے کا ارادہ کیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رہنے دو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَقْدِيمِ الْجَمَاعَةِ مَنْ يُصَلِّي بِهِمْ إِذَا تَأَخَّرَ الْإِمَامُ وَلَمْ يَخَافُوا مَفْسَدَةً بِالتَّقْدِيمِ؛جلد١ص٣١٨؛حدیث نمبر ٨٥٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کے لئے تسبیح اور عورتوں کے لئے تصفیق(ہاتھ پر ہاتھ مارنا)ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْبِيحِ الرَّجُلِ وَتَصْفِيقِ الْمَرْأَةِ إِذَا نَابَهُمَا شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں کوئی بات پیش آجائے تو کیا کرے؛ جلد١ص٣١٨؛ حدیث نمبر ٨٥٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٥٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ تَسْبِيحِ الرَّجُلِ وَتَصْفِيقِ الْمَرْأَةِ إِذَا نَابَهُمَا شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣١٩؛حدیث نمبر ٨٥٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٥٨ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ"نماز میں"(ایسا کریں) (مسلم شریف کتاب الصلاۃ؛بَابُ تَسْبِيحِ الرَّجُلِ وَتَصْفِيقِ الْمَرْأَةِ إِذَا نَابَهُمَا شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣١٩؛حدیث نمبر ٨٦٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا۔اے فلاں!تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھتے؟ کیا نمازی،نماز پڑھتے ہوئے اس بات خیال نہیں کرتا کہ وہ کس طرح نماز پڑھے وہ محض اپنے لئے نماز پڑھتا ہے۔اللہ کی قسم!میں اپنے پیچھے بھی اس طرح دیکھتا ہوں جس طرح اپنے آگے دیکھتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْأَمْرِ بِتَحْسِينِ الصَّلَاةِ وَإِتْمَامِهَا وَالْخُشُوعِ فِيهَا؛ترجمہ؛نماز اچھی طرح خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھنا؛جلد١ص٣١٩؛ حدیث نمبر ٨٦١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم یہ سمجھتے ہو کہ میں صرف قبلے کی طرف دیکھتا ہوں اللہ کی قسم؛مجھ پر تمہارے رکوع وسجود بھی پوشیدہ نہیں میں تو تمہیں پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْأَمْرِ بِتَحْسِينِ الصَّلَاةِ وَإِتْمَامِهَا وَالْخُشُوعِ فِيهَا؛جلد١ص٣١٩؛حدیث نمبر ٨٦٢؛
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع وسجود کو پورا کیا کرو اللہ کی قسم!بےشک میں تمہیں پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں جب تم رکوع کرتے ہو اور جب تم سجدہ کرتے ہو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْأَمْرِ بِتَحْسِينِ الصَّلَاةِ وَإِتْمَامِهَا وَالْخُشُوعِ فِيهَا؛جلد١ص٣١٩؛حدیث نمبر٨٦٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رکوع اور سجدہ پورا پورا کیا کرو پس بخدا میں اپنی پشت کے پیچھے سے تم کو تمہارے رکوع اور سجدہ کی حالت میں دیکھتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْأَمْرِ بِتَحْسِينِ الصَّلَاةِ وَإِتْمَامِهَا وَالْخُشُوعِ فِيهَا؛جلد١ص٣٢٠؛حدیث نمبر ٨٦٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جب نماز مکمل ہوئی تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے فرمایا اے لوگوں!میں تمہارا امام ہوں پس رکوع،سجود،قیام اور سلام پھیرنے میں مجھ سے آگے نہ بڑھو،بے شک میں تمہیں اپنے آگے اور پیچھے(دونوں جگہ)دیکھتا ہوں۔پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔اگر تم دیکھو جو کچھ میں نے دیکھا ہے تو تم کم ہنسو گے اور زیادہ روؤں گے۔صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ نے کیا دیکھا ہے؟فرمایا میں نے جنت اور دوزخ کو دیکھا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُبَادَرَةِ الْإِمَامِ بِالتَّكْبِيرِ وَغَيْرِهِ؛جلد١ص٣٢٠؛حدیث نمبر ٨٦٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٦٥ کی مثل مروی ہے اس میں سلام پھیرنے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ النَّهْي عَنْ سَبْقِ الْإِمَامِ بِرُكُوعٍ أَوْ سُجُودٍ وَنَحْوِهِمَا؛جلد١ص٣٢٠؛حدیث نمبر ٨٦٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ شخص جو امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر سے بدل دے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ النَّهْي عَنْ سَبْقِ الْإِمَامِ بِرُكُوعٍ أَوْ سُجُودٍ وَنَحْوِهِمَا؛جلد١ص٣٢٠؛حدیث نمبر ٨٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ شخص جو اپنی نماز میں امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے۔اس بات سے بے خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی شکل کو گدھے کی شکل سے بدل دے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ النَّهْي عَنْ سَبْقِ الْإِمَامِ بِرُكُوعٍ أَوْ سُجُودٍ وَنَحْوِهِمَا؛جلد١ص٣٢١؛حدیث نمبر ٨٦٨)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٦٨ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو گدھے کے چہرے سے بدل دے۔(مطلب یہ ہے کہ آخرت میں اس کا چہرہ مسخ ہو یا اس میں گدھے کی صفات پیدا ہو جائیں یا دکھانے کے لیے ایک آدھ کی صورت مسخ ہو جہاں مسخ کی نفی ہے وہاں عموم کی نفی ہے۔)مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ النَّهْي عَنْ سَبْقِ الْإِمَامِ بِرُكُوعٍ أَوْ سُجُودٍ وَنَحْوِهِمَا؛جلد١ص٣٢١؛حدیث نمبر ٨٦٩)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کو جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں اس عمل سے رکنا ہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کی نگاہوں کو ان کی طرف واپس نہیں لوٹائے گا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛،بَابُ النَّهْيِ عَنْ رَفْعِ الْبَصَرِ إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا؛جلد١ص٣٢١؛حدیث نمبر ٨٧٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں وہ باز آجائیں ورنہ ان کی بینائی جاتی رہے گی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ رَفْعِ الْبَصَرِ إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٢١؛حدیث نمبر ٨٧١)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا ہوا کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں تم ہاتھوں کو حرکت کرنے والے گھوڑوں کی دموں کی طرح اٹھاۓ ہوئے ہو۔نماز میں سکون اختیار کرو۔پھر(ایک مرتبہ)آپ تشریف لائے تو ہمیں حلقوں کی صورت میں دیکھا۔فرمایا مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں الگ الگ ٹولیوں میں دیکھتا ہوں۔(راوی)فرماتے ہیں پھر آپ ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا کیا تم اس طرح صفیں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے یہاں صفیں بناتے ہیں۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!فرشتے اپنے رب کے ہاں کس طرح صفیں بناتے ہیں۔آپ نے فرمایا وہ اگلی صفوں کو پورا کرتے ہیں اور پھر صفیں اسی ترتیب سے بناتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْأَمْرِ بِالسُّكُونِ فِي الصَّلَاةِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ، وَرَفْعِهَا عِنْدَ السَّلَامِ، وَإتْمَامِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ وَالتَّرَاصِّ فِيهَا وَالْأَمْرِ بِالِاجْتِمَاعِ؛ترجمہ؛نماز میں سکون اختیار کرنا(اور رفع یدین نہ کرنا)جلد١ص٣٢٢؛حدیث نمبر ٨٧٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٧٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْأَمْرِ بِالسُّكُونِ فِي الصَّلَاةِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ، وَرَفْعِهَا عِنْدَ السَّلَامِ، وَإتْمَامِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ وَالتَّرَاصِّ فِيهَا وَالْأَمْرِ بِالِاجْتِمَاعِ؛جلد١ص٣٢٢؛حدیث نمبر ٨٧٣)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے"السلام علیکم ورحمت اللہ السلام عليكم ورحمت اللہ" آپ نے اپنے ہاتھ سے دونوں طرف اشارہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے ہاتھوں کے ساتھ اس طرح حرکت کیوں کرتے ہو گویا وہ حرکت کرنے والے گھوڑوں کی دُمیں ہوں تم میں سے کسی ایک کو کافی ہے کہ وہ اپنا ہاتھ ران پر رکھے پھر دائیں بائیں والے(مسلمان)بھائی کو سلام کرے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْأَمْرِ بِالسُّكُونِ فِي الصَّلَاةِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ، وَرَفْعِهَا عِنْدَ السَّلَامِ، وَإتْمَامِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ وَالتَّرَاصِّ فِيهَا وَالْأَمْرِ بِالِاجْتِمَاعِ؛جلد١ص٣٢٢؛حدیث نمبر ٨٧٤)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی تو جب ہم سلام پھیرتے تو ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے"السلام علیک السلام علیکم"کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیکھا تو فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہو جیسے وہ حرکت کرنے والے گھوڑوں کی دم ہو جب تم میں سے کوئی ایک سلام پھیرے تو اپنے ساتھی کی طرف متوجہ ہو اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔(جہاں اس حدیث میں سلام کے ساتھ ہاتھوں سے اشارہ کرنے سے منع فرمایا اسی طرح دیگر احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ ہاتھ صرف تکبیر اولی کے وقت اٹھاۓ جائیں اور یوں رکوع کے لئے جانے اور کھڑے ہوتے وقت ہاتھ اٹھانے سے منع کیا۔)(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْأَمْرِ بِالسُّكُونِ فِي الصَّلَاةِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْإِشَارَةِ بِالْيَدِ، وَرَفْعِهَا عِنْدَ السَّلَامِ، وَإتْمَامِ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ وَالتَّرَاصِّ فِيهَا وَالْأَمْرِ بِالِاجْتِمَاعِ؛جلد١ص٣٢٢؛حدیث نمبر ٨٧٥)
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر فرماتے۔سیدھے رہو اور اختلاف نہ کرو اس طرح تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوگا اور چاہیئے کہ تم میں سے عقلمند لوگ میرے قریب ہوں پھر جو انکے قریب ہیں اور پھر جو انکے قریب ہیں(یعنی عقلمندی میں)حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا آج تم لوگ سخت اختلاف میں ہو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛ترجمہ؛صفوں کو برابر رکھنا اور پہلی صف کی فضیلت؛ جلد١ص٣٢٣؛ حدیث نمبر ٨٧٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٧٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٣؛حدیث نمبر ٨٧٧)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں عقلمند لوگ میرے قریب ہوں پھر جو ان سے متصل ہیں تین بار فرمایا(اور فرمایا)بازار کے شوروشغب سے بچو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٣؛حدیث نمبر ٨٧٨)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں سیدھی رکھو کیونکہ صف کا سیدھا ہونا تکمیل نماز سے ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٤؛حدیث نمبر ٨۷٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفیں پوری کرو بے شک میں پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٤؛حدیث نمبر ٨٨٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے فرمایا نماز میں صف سیدھی رکھو کیونکہ صف کا سیدھا ہونا نماز کا حسن سے ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٤؛حدیث نمبر ٨٨١)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ تمہیں اپنی صفوں کو لازما سیدھا رکھنا ہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کو بدل دے گا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٤؛حدیث نمبر ٨٨٢)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفوں کو درست فرماتے۔حتیٰ کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذریعے تیر کی لکڑی کو سیدھا کیا جارہا ہے۔حتیٰ کہ جب آپ نے دیکھا کہ ہم آپ سے سمجھ چکے ہیں تو پھر ایک دن باہر تشریف لائے اور کھڑے ہوئے حتیٰ کہ قریب تھا آپ تکبیر کہتے کہ ایک شخص کو دیکھا اس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا اے اللہ کے بندو!تمہیں اپنی صفوں کو سیدھا رکھنا ہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کو بدل دے گا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٤؛حدیث نمبر ٨٨٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٨٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٥؛حدیث نمبر ٨٨٤)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ آذان اور پہلی صف میں کیا ثواب ہوتا ہے۔پھر وہ قرعہ اندازی کے بغیر اس(اعزاز)کو نہ پاسکیں تو وہ اس پر قرعہ اندازی کریں اور اگر ان کو معلوم ہو کہ نماز کے لئے جلدی کرنے میں کتنا ثواب ہے تو وہ اسکی طرف جلدی کریں اور اگر انکو معلوم ہو کہ عشاء اور فجر کی نماز میں کس قدر ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں حاضر ہو اگرچہ گھسٹ کر جانا پڑے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٥؛حدیث نمبر ٨٨٥)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام میں پیچھے رہنا ملاحظہ فرمایا تو ان سے فرمایا آگے بڑھو اور میری اقتداء کرو اور بعد میں آنے والے تمہارے پیچھے کھڑے ہوں لوگ پیچھے رہتے رہیں گے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ان کو پیچھے کردے گا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٥؛حدیث نمبر٨٨٦)
ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٨٦ کی مثل مروی ہے۔اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مسجد کے آخری حصے میں دیکھا(اس کے بعد حدیث نمبر ٨٨٦ کی مثل مروی ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٥؛حدیث نمبر ٨٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا اگر تم جانتے یا فرمایا اگر لوگ پہلی صف کی فضیلت کو جانتے تو قرعہ اندازی ہوتی ابن حرب کہتےہیں پہلی صف قرعہ اندازی کے بغیر نہ ملتی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٦؛حدیث نمبر ٨٨٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کی بہترین صف پہلی صف ہے اور ان کی بری صف آخری صف ہے اور عورتوں کی بہترین صف سب سے آخری صف ہے اور انکی سب سے بری صف پہلی صف ہے۔(مطلب یہ ہے کہ جب عورتیں مردوں کے پیچھے نماز پڑھیں تو اس وقت ان کی آخری صف سب سے بہتر ہے کیونکہ اس میں مردوں سے دوری ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مخلوط تعلیم اور دفاتر ارو فیکٹریوں وغیرہ میں مردوں عورتوں کا مل جل کر کام کرنا شریعت میں کس قدر ناپسندیدہ ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٦؛حدیث نمبر ٨٨٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٨٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ، وَإِقَامَتِهَا، وَفَضْلِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ مِنْهَا، وَالَازْدِحَامِ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَالْمُسَابَقَةِ إِلَيْهَا، وَتَقْدِيمِ أُولِي الْفَضْلِ، وَتَقْرِيبِهِمْ مِنَ الْإِمَامِ؛جلد١ص٣٢٦؛حدیث نمبر ٨٩٠)
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا۔انہوں نے تنگی کی وجہ سے اپنے تہبند اپنی گردنوں میں باندھ رکھے تھے جس طرح بچے باندھتے ہیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو آپ نے فرمایا اے عورتوں کی جماعت جب تک مرد اپنے سر اٹھا نہ لیں تم اپنے سر نہ اٹھانا(تاکہ ان کی نگاہیں مردوں کی شرمگاہوں پر نہ پڑیں) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ أمْرِ النِّسَاءِ الْمُصَلِّيَاتِ، وَرَاءَ الرِّجَالِ أَنْ لَا يَرْفَعْنَ رُءُوسَهُنَّ مِنَ السُّجُودِ، حتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ؛ترجمہ؛عورتیں مردوں سے پہلے سر نہ اٹھائیں؛جلد١ص٣٢٦؛حدیث نمبر ٨٩١)
حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ حضور علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد میں جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے نہ روکے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةًَ؛ترجمہ؛عورتوں کامساجد میں جانا؛جلد١ص٣٢٦؛حدیث نمبر ٨٩٢)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا اپنی عورتوں کو مساجد سے نہ روکو جب وہ ادھر جانے کی اجازت مانگیں۔فرماتے ہیں حضرت بلال بن عبداللہ نے کہا اللہ کی قسم!ہم ضرور بضرور روکیں گے۔فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر سے ملے تو انہیں بہت کچھ برا بھلا کہا کہ میں نے ان سے کبھی نہیں سنا کہ انہوں اس طرح کسی کو برا بھلا کہا ہو اور فرمایا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خبر دے رہا ہوں اور تم کہتے ہو اللہ کی قسم ہم ضرور منع کریں گے۔(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٨؛حدیث نمبر ٨٩٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی بندیوں کو اللہ کے گھروں سے نہ روکو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٧؛حدیث نمبر ٨٩۴)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تمہاری عورتیں تم سے مسجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو ان کو اجازت دو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٧؛حدیث نمبر ٨٩٥)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کو رات کے وقت مساجد کی طرف جانے سے نہ روکو تو حضرت عبد اللہ بن عمر کے بیٹے حضرت بلال نے کہا ہم ان کو ہر گز نہ چھوڑیں گے۔اگر وہ نکلے تو فساد میں پڑ جائیں گی۔راوی فرماتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جھڑکا اور فرمایا میں کہتا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے اور تم کہتے ہو کہ ہم ان کو اجازت نہیں دیں گے۔(اگرچہ حضرت بلال بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا موقف بھی صحیح تھا کہ وہ اپنے دور کے حالات کے تحت احتیاط کی راہ اختیار کر رہے تھے لیکن چونکہ انہوں نے بغیر وضاحت کے بات کی اور یہ بات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مقابل تھی اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٧؛حدیث نمبر ٨٩٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٨٩٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٧؛حدیث نمبر٨٩٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے وقت عورتوں کو مسجدوں میں جانے کی اجازت دو تو ان کے ایک بیٹے نے جسے واقد کہا جاتا ہے،کہا اس طرح وہ خرابی اور دھوکے میں پڑ جائیں گی۔راوی فرماتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے سینے میں ضرب لگائی اور فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بیان کرتا ہوں اور تم کہتے ہو نہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٧؛حدیث نمبر٨٩٨)
حضرت بلال بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عورتوں کو مسجدوں سے ان کا حصہ لینے سے نہ روکو جب وہ تم سے اجازت مانگیں تو حضرت بلال نے کہا اللہ کی قسم!ہم تو ضرور بضرور روکیں گے۔اس پر حضرت عبد اللہ نے فرمایا میں کہتا ہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تم کہتے ہو کہ ہم ضرور بضرور منع کریں گے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٨؛حدیث نمبر ٨٩٩)
حضرت بسر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک خاتون عشاء کی نماز میں حاضر ہو تو اس رات خوشبو نہ لگاۓ۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٨؛حدیث نمبر ٩٠٠)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا زوجہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک مسجد میں حاضر ہو تو خوشبو نہ لگاۓ۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٨؛حدیث نمبر ٩٠١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو عورت خوشبو لگاۓ وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضر نہ ہو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٨؛حدیث نمبر ٩٠٢)
حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن فرماتی ہیں۔انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتی تھیں۔اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو دیکھتے جو عورتوں نے پیدا کر لی ہے تو آپ ضرور انکو مسجد سے منع فرماتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا۔راوی فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عمرہ سے پوچھا کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد سے منع کیا گیا تھا؟انہوں نے فرمایا ہاں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٩؛حدیث نمبر ٩٠٣)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٩٠٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ خُروجِ النِّسَاءِ إِلَى الْمَسَاجِدِ إِذَا لَمْ يَتَرَتَّبْ عَلَيْهِ فِتْنةٌ، وَأَنَّهَا لَا تَخْرُجْ مُطَيَّبَةً؛جلد١ص٣٢٩؛حدیث نمبر ٩٠٤)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ:{وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠]ترجمہ؛اور اپنی نماز میں نہ تو آواز کو بلند کرو اور نہ ہلکی کرو"۔کے بارے میں مروی ہے۔فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور علیہ السلام مکہ مکرمہ میں چھپ کر نماز پڑھتے تھے۔آپ صحابہ کرام کو نماز پڑھاتے ہوئے آواز بلند کرتے جب مشرکین سنتے تو قرآن مجید کو اس کے اتارنے والے اور جو لے کر آیا اسے گالیاں دیتے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا":{وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: ١١٠]اتنی بلند آواز سے نہ پڑھیں کہ مشرکین سن لیں {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠]اور نہ اپنے صحابہ کرام سے پوشیدہ پڑھیں بلکہ ان کو قرآن سنائیں لیکن بلند آواز سے نہ پڑھیں۔» {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠]، یعنی بلند آواز اور بالکل پست آواز کے درمیان راستہ اختیار کریں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ التَّوَسُّطِ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ الْجَهْرِيَّةِ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْإِسْرَارِ، إِذَا خَافَ مِنَ الْجَهْرِ مَفْسَدَةً؛ترجمہ؛قرأت میں درمیانہ انداز اختیار کرنا؛جلد١ص٣٢٩؛حدیث نمبر ٩٠٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے قول:{وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] کے بارے میں فرماتی ہیں کہ یہ(آیت کریمہ)دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ التَّوَسُّطِ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ الْجَهْرِيَّةِ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْإِسْرَارِ، إِذَا خَافَ مِنَ الْجَهْرِ مَفْسَدَةً؛جلد١ص٣٢٩؛حدیث نمبر٩٠٦)
چند دیگر اسناد سے بھی حدیث نمبر ٩٠٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ التَّوَسُّطِ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ الْجَهْرِيَّةِ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْإِسْرَارِ، إِذَا خَافَ مِنَ الْجَهْرِ مَفْسَدَةً؛جلد١ص٣٢٩؛حدیث نمبر٩٠٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد گرامی{لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ} [القيامة: ١٦](اور آپ اس قرآن مجید کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں)کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام وحی لے کر اترے تو اس کے ساتھ آپ اپنی زبان اور ہونٹوں کو حرکت دیتے۔پس اس سے مشقت میں پڑ جاتے اور یہ بات آپ سے معلوم ہو جاتی۔تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی:{لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} [القيامة: ١٦] أَخْذَهُ {إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ} [القيامة: ١٧] وَقُرْآنَهُ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَؤُهُ {فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} [القيامة: ١٨] قَالَ: أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ {إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ} [القيامة: ١٩] أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ؛مطلب یہ ہے کہ یہ ہمارے ذمہ کرم پر ہے کہ اسے آپ کے سینہ مبارک میں جمع کریں گے۔"وقرآنہ" پس آپ اس کو پڑھیں گے۔"فإذا قرأناہ فاتبع قرآنہ"فرمایا ہم نے اس کو اتارا پس آپ اسکو غور سے سنیں اس کا بیان ہمارے ذمہ ہے۔ہم آپکے زبان مبارک سے اس کو بیان کریں گے۔پس جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس حاضر ہوتے تو آپ گردن جھکا کر بیٹھ جاتے اور جب وہ چلے جاتے تو آپ اسکو پڑھتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الِاسْتِمَاعِ لِلْقِرَاءَةِ؛ترجمہ؛قرأت غور سے سننا؛جلد١ص٣٣٠؛حدیث نمبر ٩٠٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔آپ"لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ"کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اترنے والی آیت کے ساتھ نہایت شدید تعلق قائم کرتے اور آپ اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے۔حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہارے سامنے اپنے ہونٹوں کو اس طرح حرکت دیتا ہوں جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو حرکت دیتے تھے پس انہوں نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی۔اللہ تعالی آیت کریمہ"لاتحرک بہ لسانک" آخر تک نازل فرمائی اور فرمایا اس کو آپ کے سینے میں ہم جمع کریں گے۔پھر آپ اسے پڑھیں پس جب ہم اس کو نازل کریں تو اس نازل شدہ کی اتباع کریں یعنی خوب غور سے سنیں اور خاموش رہیں پھر ہمارے ذمہ ہےکہ آپ اسکو پڑھیں۔راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آتے تو آپ غور سے سنتے جب وہ چلے جاتے تو آپ اس کو اس طرح پڑھتے جس طرح حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پڑھا تھا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃَبَابُ الِاسْتِمَاعِ لِلْقِرَاءَةِ؛جلد١ص٣٣٠؛حدیث نمبر ٩٠٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو جنوں کے سامنے پڑھا اور نہ انکو دیکھا آپ صحابہ کرام کے ایک گروہ کے ہمراہ عکاظ کے بازار کی طرف تشریف لے جارہے تھے۔اس وقت تک شیطانوں اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شہاب(ستاروں)کو چھوڑا گیا تھا۔پس شیطان اپنی قوم کی طرف لوٹے اور انہوں نے کہا اے قوم!ہم نے عجیب قرآن سنا جو ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔پس ہم اس پر ایمان لائے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل فرمائی:«قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ»(آپ فرما دیجئے کہ اس کو جنوں کی ایک جماعت نے سنا)سورۃ الجن؛ آیت١) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَالْقِرَاءَةِ عَلَى الْجِنِّ؛ترجمہ؛صبح کی نماز میں جہری قرآت اور جنوں کے سامنے پڑھنا؛جلد١ص٣٣١؛ حدیث نمبر ٩١٠)
حضرت عامر کہتے ہیں میں نے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔حضرت علقمہ نے فرمایا میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ لوگوں میں سے کوئی ایک لیلۃ الجن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو ہم نے آپکو نہ پایا پس ہم نے آپکو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا تو ہم نے کہا آپ کو اڑا لیا گیا یا آپ کو شہید کر دیا گیا۔فرماتے ہیں ہم نے ایک بری رات گزاری اور سب لوگوں نے اسی طرح رات گزاری صبح آپ حراء کی طرف تشریف لائے۔ہم نےعرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمارے درمیان سے غائب ہوگئے تو ہم نے آپ کو تلاش کیا لیکن نہ پایا پس ہم نے ایک بری رات گزاری آپ نے فرمایا میرے پاس جنوں کافرستادہ آیا تو میں اس کے ساتھ چلا گااور میں نے ان پر قرآن پڑھا۔راوی فرماتے ہیں حضور علیہ السلام ہمیں ساتھ ساتھ لے گئے اور ہمیں ان کے آثار اور انکی آگ کے آثار دکھاۓ جنہوں نے آپ سے اپنی خوراک کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا جائے اور وہ تمہیں ملے اس پر پہلے سے زیادہ گوشت چڑھے گا اور مینگنی تمہارے جانوروں کی خوراک ہوگی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَالْقِرَاءَةِ عَلَى الْجِنِّ؛جلد١ص٣٣٢؛حدیث نمبر ٩١١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٩١١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَالْقِرَاءَةِ عَلَى الْجِنِّ؛جلد١ص٣٣٢؛حدیث نمبر ٩١٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٩١١ کی مثل مروی ہے آخر کا کچھ حصہ نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَالْقِرَاءَةِ عَلَى الْجِنِّ؛جلد١ص٣٣٣؛حدیث نمبر ٩١٣)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں لیلۃ الجن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نہیں تھا لیکن مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَالْقِرَاءَةِ عَلَى الْجِنِّ؛جلد١ص٣٣٣؛حدیث نمبر ٩١٤)
حضرت معن فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت مسروق سے پوچھا کہ جنوں والی رات میں جب جنوں نے قرآن سنا کس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تھی۔انہوں نے فرمایا مجھ سے تمہارے باپ یعنی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک درخت نے آپ کو ان کے بارے میں اطلاع کی تھی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ وَالْقِرَاءَةِ عَلَى الْجِنِّ؛جلد١ص٣٣٣؛حدیث نمبر ٩١٥)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے اور کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سناتے(تعلیم کے لئے ایسا کرتے تھے) آپ ظہر کی پہلی رکعت کو لمبی کرتے اور دوسری کو چھوٹی رکھتے۔صبح کی نمازمیں بھی اسی طرح کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؛ترجمہ؛ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت؛جلد١ص٣٣٣؛حدیث نمبر ٩١٦)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھتے اور کھبی کبھی ہمیں ایک آدھ سناتے اور پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے؛(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؛جلد١ص؛٣٣٣؛حدیث نمبر ٩١٧)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم ظہر اور عصر کی نماز میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگاتے تو پہلی دو رکعتوں میں آپ کا قیام سورہ"الم تنزیل السجدہ"کے برابر ہوتا اور پچھلی دو رکعتوں میں اس کے نصف کا اندازہ لگاتے۔عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پچھلی دورکعتوں کا اندازہ ہوتا اور عصر کی پچھلی دورکعتوں میں اس کا نصف ہوتا۔ابوبکر راوی نے اپنی روایت میں الم تنزیل کی بجائے تیس آیات کا اندازہ ذکر کیا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؛جلد١ص٣٣٣؛حدیث نمبر ٩١٨)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کا اندازہ اور پچھلی دو رکعتوں میں پندرہ آیات کا اندازہ پڑھتے یا فرمایا اس کا نصف پڑھتے اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت میں پندرہ آیات کا اندازہ اور پچھلی دو رکعتوں میں اس کے نصف کے برابر پڑھتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؛جلد١ص٣٣٤؛حدیث نمبر ٩١٩)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل کوفہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت سعد کی شکایت کی اور ان کی نماز کا ذکر کیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا اور ان کو بتایا کہ یہ لوگ نماز کے حوالے سے ان پر کیا عیب لگاتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا میں تو ان کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز پڑھاتا ہوں میں اس میں کمی نہیں کروں گا۔پہلی دو رکعتیں طویل اور دوسری دو مختصر پڑھاتا ہوں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابو اسحاق تمہارے بارے میں یہی خیال تھا(تعریف فرمائی) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؛جلد١ص٣٣٤؛حدیث نمبر٩٢٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٩٢٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؛جلد١ص٣٣٤؛حدیث نمبر ٩٢١)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ لوگ ہر بات حتیٰ کی نماز کے بارے میں بھی آپ کی شکایت کر رہے ہیں۔انہوں نے فرمایا میں پہلی دو رکعتوں کو طویل اور دوسری دورکعتوں کو مختصر پڑھتا ہوں اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتداء میں کسی بات کی پرواہ نہیں کرتا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہارے بارے میں یہی گمان تھا یا فرمایا تیرے بارے میں میرا گمان یہی تھا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؛جلد١ص٣٣٥؛حدیث نمبر ٩٢٢)
ایک اور سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے اور اس میں ہے کہ دیہاتی مجھے نماز سکھائیں گے؟(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؛جلد١ص٣٣٥؛حدیث نمبر ٩٢٣)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ظہر کی نماز کھڑی ہوتی اور کوئی جانے والا بقیع کی طرف جاتا اور قضائے حاجت کے بعد آکر وضو کرتا۔پھر حاضر ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے یعنی اسے لمبا کرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؛جلد١ص٣٣٥؛حدیث نمبر ٩٢٤)
حضرت قزعہ فرماتے ہیں میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے پاس بے شمار لوگ موجود تھے۔جب لوگ ان سے الگ ہوۓ تو میں نے کہا میں آپ سے وہ بات نہیں پوچھتا جو ان لوگوں نے پوچھی ہے۔میں آپ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کرتا ہوں۔فرمایا اس میں تمہارے لئے بھلائی نہیں(مطلب یہ تھا کہ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جیسی نماز نہیں پڑھ سکتے لہذا اس سوال میں تمہارے لیے بھلائی نہیں ہے) انہوں نے دوبارہ سوال کیا تو انہوں نے فرمایا ظہر کی نماز کھڑی ہوتی تو ہم میں سے کوئی ایک بقیع میں جاتا اور قضائے حاجت کے بعد اپنے گھر آتا۔پھر وضو کرکے مسجد میں آتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؛جلد١ص٣٣٥؛حدیث نمبر ٩٢٥)
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں ہمیں صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ مؤمن شروع فرمائی حتیٰ کہ جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کا ذکر آیا یا حضرت عیسٰی علیہ السلام کا ذکر آیا(محمد بن عباد راوی کو شک ہے)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آگئی تو آپ نے رکوع کر دیا اور حضرت عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ موجود تھے۔عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ آپ نے قرأت موقوف کر کے رکوع کیا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛ترجمہ؛نماز فجر میں قرأت؛جلد١ص٣٣٦؛حدیث نمبر٩٢٦)
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی نماز میں"والیل اذا عسعس"(سورت)کی قرأت کرتے ہوئے سنا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٦؛حدیث نمبر٩٢٧)
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے نماز پڑھی اور ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو اس میں"ق والقرآن المجید" کی تلاوت کی"والنخل باسقات"(آیت) پڑھی راوی فرماتے ہیں میں اسے دہرانے لگا اور مجھے معلوم نہیں آپ نے کیا فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٦؛حدیث نمبر ٩٢٨)
حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔وہ صبح کی نماز میں"والنخل باسقات لھا طلع نضید" کی قرأت کرتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٧؛حدیث نمبر ٩٢٩)
حضرت زید بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتےہیں۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ فجر کی نماز پڑھی تو پہلی رکعت میں"والنخل باسقات لھا طلع نضید"کی تلاوت کی اور بعض اوقات سورہ "ق" پڑھتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٧؛حدیث نمبر ٩٣٠)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں"ق والقرآن المجید" کی تلاوت کرتے اور اس وقت تک آپ کی نماز ہلکی پھلکی ہوتی تھی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٧؛حدیث نمبر ٩٣١)
حضرت سماک فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ مختصر نماز پڑھاتے تھے اور ان لوگوں کی طرح نماز نہیں پڑھاتے تھے۔فرماتے ہیں انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں"ق والقرآن المجید"اور اس طرح کی سورتیں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٧؛حدیث نمبر ٩٣٢)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں"والیل اذا یغشی"اور عصر میں بھی اس قسم کی سورۃ پڑھتے اور فجر کی نماز میں اس سے طویل قرأت فرماتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٧؛حدیث نمبر ٩٣٣)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں"سبح اسم ربک الاعلی"اور فجر میں سے اس سے لمبی سورت پڑھتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٨؛حدیث نمبر٩٣۴)
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں ساٹھ سے ایک سو تک آیات پڑھتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٨؛حدیث نمبر ٩٣٥)
ایک اور سند سے بھی حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ سے ایک سو تک آیات پڑھتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٨؛حدیث نمبر ٩٣٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت ام الفضل بنت حارث نے ان سے سنا کہ وہ"والمرسلات عرفا"پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا اے میرے بیٹے تیری اس سورت کی قرأت نے مجھے یاد دلایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مغرب کی نماز میں آخری قرأت سنی تو وہ یہی سورت تھی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٨؛حدیث نمبر ٩٣٧)
متعدد اسناد سے حدیث نمبر ٩٣٧ کی مثل مروی ہے اور حضرت صالح کی روایت میں ہے کہ اس کے بعد آپ نے کوئی نماز نہیں پڑھی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح مبارک قبض فرمائی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٨؛حدیث نمبر ٩٣٨)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ مغرب کی نماز میں سورۃ"الطور" کی قرأت فرما رہے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٨؛حدیث نمبر٩٣٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٩٣٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ؛جلد١ص٣٣٩؛حدیث نمبر ٩٤٠)
حضرت عدی فرماتے ہیں میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے ایک سفر کے دوران عشاء کی نماز پڑھی تو ایک روایت میں"والتین والزيتون"کی تلاوت فرمائی۔(سفر میں چونکہ جلدی ہوتی ہے لہذا مختصر نماز پڑھی ہمیں بھی حالات کو سامنے رکھ کر عبادت کے لئے وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو مناسب ہو) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ؛ترجمہ؛نماز عشاء میں قرأت؛ جلد١ص٣٣٩؛ حدیث نمبر ٩٤١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٩٤١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ؛جلد١ص٣٣٩؛حدیث نمبر ٩٤٢)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت براءبن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے عشاء کی نماز میں"والتین والزيتون" پڑھی تو میں نے کہا کہ آپ سے زیادہ خوش آواز نہیں سنا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ؛جلد١ص٣٣٩؛حدیث نمبر ٩٤٣)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے(نفل نماز مراد ہے)پھر اپنی قوم کے پاس جاکر ان کی امامت کرواتے ایک رات آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی پھر اپنے قوم کے پاس تشریف لائے اور ان کی امامت فرمائی اور(نماز) میں سورہ بقرہ شروع کی ایک شخص نے سلام پھیرا اور تنہا نماز پڑھی اور چلا گیا صحابہ کرام نے اس سے کہا اے فلاں کیا تو منافق ہو گیا ہے۔اس نے کہا اللہ کی قسم!یہ بات نہیں ہے لیکن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر یہ واقعہ ضرور عرض کروں گا۔چنانچہ اس نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ!ہم لوگ اونٹنیوں پر پانی لانے والے ہیں اور دن کو کام کاج کرتے ہیں۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی پھر تشریف لائے اور سورہ بقرہ شروع کر دی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے معاذ!کیا تم فتنے میں ڈالتے ہو فلاں فلاں سورتیں پڑھا کرو۔حضرت سفیان(راوی)فرماتے ہیں میں نے حضرت عمرو سے کہا کہ ابن الزبير نے ہم سے بیان کیا وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا"والشمس وضحھا،والضحی،والليل اذا یغشی"اور سبح اسم ربک العلی"پڑھا کرو تو حضرت عمرو نے اسی قسم کی بات کہی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ؛جلد١ص٣٣٩؛حدیث نمبر٩٤٤)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنی مقتدیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی تو اسے لمبا کر دیا۔ہم میں سے ایک شخص نے نماز توڑ دی اور الگ پڑھی۔حضرت معاذ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ منافق ہے جب یہ بات اس شخص کو پہنچی تو وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا قول(کہ منافق ہے)بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے معاذ!کیا آپ فتنہ میں مبتلا کرنے والا بننا چاہتے ہیں۔جب تم لوگوں کی امامت کرو تو"والشمس وضحھا" سبح اسم ربک الاعلی"اقرأباسم ربک"اور والليل اذا یغشی"پڑھا کرو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ؛جلد١ص٣٤٠؛حدیث نمبر ٩٤٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نماز عشاء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پڑھتے اور پھر واپس جا کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ؛جلد١ص٣۴٠؛حدیث نمبر ٩٤٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عشاء کی نماز(عشاء کے وقت نفل نماز مراد ہے) پڑھتے پھر اپنی قوم(محلے)کی مسجد میں آکر ان کو نماز پڑھاتے۔(ان تمام روایات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امام کو مقتدیوں کی حالت سامنے رکھنی چاہیے امام کے پیچھے جوان بھی ہوتے ہیں اور بوڑھے بھی اور مریض بھی لہٰذا سب کا خیال کیا جائے بلکہ کمزوروں کا خیال رکھتے ہوئے نماز پڑھائی جائے(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ؛جلد١ص٣۴٠؛حدیث نمبر ٩٤٧)
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں فلاں(امام)کی وجہ سے صبح کی نماز باجماعت سے رہ جاتا ہوں وہ(نماز میں)لمبی قرأت کرتا ہے(راوی فرماتے ہیں)ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی وعظ میں اتنا غضب ناک نہیں دیکھا جس قدر آپ اس دن غضبناک ہوۓ۔آپ نے فرمایا اے لوگو!تم میں سے بعض متنفر کرنے والے ہیں۔تم میں سے جو شخص لوگوں کو نماز پڑھاۓ تو وہ اختصار کی راہ اختیار کرے کیونکہ اس کے پیچھے بوڑھے،کمزور اور کام کاج والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛ائمہ کو مکمل اور مختصر نماز پڑھانے کا حکم؛جلد١ص٣٤٠؛حدیث نمبر ٩٤٨)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٩٤٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤١؛حدیث نمبر ٩٤٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک لوگوں کی امامت کراۓ تو ہلکی پھلکی نماز پڑھاۓ کیوں کہ ان میں چھوٹے،بڑے،کمزور اور مریض ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤١؛حدیث نمبر ٩٥٠)
حضرت ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کئی احادیث روایت کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا امام بنے وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ ان میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور ان میں کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا کھڑا ہوتو جس قدر چاہے نماز کو طویل کرے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤١؛حدیث نمبر ٩٥١)
حضرت ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا آپ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک لوگوں کو نماز پڑھاۓ تو نماز مختصر پڑھاۓ کیونکہ لوگوں میں کمزور،بیمار اور حاجت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤١؛حدیث نمبر ٩٥٢)
حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر حدیث نمبر ٩٥٢ کی طرح ذکر کیا البتہ بیمار کی جگہ بڑے کا ذکر کیا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤١؛حدیث نمبر٩٥٣)
حضرت موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں مجھ سے عثمان بن ابی العاص ثقفی نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اپنی قوم کی امامت کرو۔انہوں نے عرض کیا۔میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتا ہوں(یعنی تکبر وغیرہ پیدا ہونے کا خطرہ ہے)آپ نے فرمایا قریب ہو جاؤ پس آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھایا پھر اپنی مبارک ہتھیلی میرے سینے پر رکھی۔پھر فرمایا اپنی قوم کی امامت کرو پس جو شخص کسی قوم کا امام ہو اسے نماز میں تخفیف کرنی چاہیے کیونکہ ان میں بڑے بھی ہوتے ہیں اور بیمار بھی ہوتے ہیں۔ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔پس جب تم میں سے کوئی ایک اکیلا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے ان کے دل کا وسوسہ دور ہوگیا۔) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤١؛حدیث نمبر ٩٥٤)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو آخری بات فرمائی وہ یہ تھی کہ جب تم کسی قوم کی امامت کرو تو ان کو مختصر نماز پڑھاؤ۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤٢؛حدیث نمبر ٩٥٥)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اختصار کرتے لیکن مکمل نماز پڑھاتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤٢؛حدیث نمبر ٩٥٦)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اختصار کے ساتھ مکمل نماز پڑھانے والے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤٢؛حدیث نمبر ٩٥٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے کبھی بھی کسی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر لیکن مکمل نماز پڑھانے والا ہو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤٢؛حدیث نمبر ٩٥٨)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے اور وہ اپنی ماں کے ساتھ ہوتا تو آپ ہلکی یا چھوٹی سورت پڑھتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤٢؛حدیث نمبر ٩٥٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نماز شروع کرکے اسے لمبا کرنا چاہتا ہوں تو کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر اس میں تخفیف کرتا ہوں تاکہ اس کی وجہ سے اس کی ماں کو تکلیف نہ ہو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَمْرِ الْأَئِمَّةِ بِتَخْفِيفِ الصَّلَاةِ فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤٣؛حدیث نمبر ٩٦٠)
حضرت براءبن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو غور سے دیکھا تو میں نے آپ کے قیام،رکوع،قومہ۔سجدہ،دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ،دوسرا سجدہ، قعدہ اور سلام سب کو برابر برابر(اعتدال پر)پایا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ اعْتِدَالِ أَرْكَانِ الصَّلَاةِ وَتَخْفِيفِهَا فِي تَمَامٍ؛ترجمہ؛ارکان نماز میں اعتدال اختیار کرنا اور مختصر لیکن مکمل نماز ادا کرنا؛جلد١ص٣٤٣؛ حدیث نمبر ٩٦١)
حضرت حکم سے مروی ہے کہ ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص کوفہ پر غالب آگیا۔انہوں نے اس کا نام بھی لیا۔اس نے حضرت ابوعبیدہ بن عبداللہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو وہ نماز پڑھاتے ہوئے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات پڑھنے کی تعداد کھڑے ہوتے؛اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ۔یااللہ!اے رب تیرے لیے ہی حمد ہے آسمان بھرے ہوئے زمین بھرے ہوئے اور اس کے بعد جو تو چاہے بھرا ہوا تو تعریف اور بزرگی والا ہے جو کچھ عطاء کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو کچھ تو نہ دے کوئی دے نہیں سکتا اور کسی کی کوشش تیرے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔حکم کہتے ہیں میں نے یہ بات حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا میں نے حضرت براء بن عازب سے سنا وہ کہتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز آپ کا رکوع، رکوع کے بعد قومہ،سجدہ اور جلسہ تقریباً تقریباً برابر ہوتے تھے۔حضرت شعبہ کہتے ہیں میں نے یہ بات عمرو بن مرہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا میں نے ابن ابی لیلیٰ کو دیکھا تو ان کی نماز اس طرح نہ تھی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ اعْتِدَالِ أَرْكَانِ الصَّلَاةِ وَتَخْفِيفِهَا فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤٣؛حدیث نمبر ٩٦٢)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ٩٦٢ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں ہے کہ جب مطر بن ناجیہ نے کوفہ پر غلبہ پایا تو حضرت ابوعبیدہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ اعْتِدَالِ أَرْكَانِ الصَّلَاةِ وَتَخْفِيفِهَا فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤٤؛حدیث نمبر ٩٦٣)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ تمہیں اس طرح نماز پڑھاؤں جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ ہمیں نماز پڑھاتے تھے۔وہ فرماتے ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ ایسا عمل کرتے کہ میں تمہیں وہ عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھتا۔جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا کہ آپ بھول گئے ہیں اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اس قدر ٹھہرتے کہ کوئی کہنے والا کہتا کہ بھول گئے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ اعْتِدَالِ أَرْكَانِ الصَّلَاةِ وَتَخْفِيفِهَا فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤٤؛حدیث نمبر ٩٦٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے کسی شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مختصر ہونے کے باوجود مکمل ہو۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز قریب قریب ہوتی۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نماز بھی قریب قریب ہوتی جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو صبح کی نماز کو لمبا کرتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ کو وہم ہوگیا ہے پھر سجدہ کرتے اور دو سجدوں کے درمیان(اس قدر) بیٹھتے کہ ہم کہتے آپ کو وہم ہوگیا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ اعْتِدَالِ أَرْكَانِ الصَّلَاةِ وَتَخْفِيفِهَا فِي تَمَامٍ؛جلد١ص٣٤٤؛حدیث نمبر ٩٦٥)
حضرت عبداللہ بن یزید فرماتے ہیں مجھ سے حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور وہ جھوٹے نہیں ہیں کہ صحابہ کرام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کسی کو پیٹھ دوہری کئے ہوئے نہیں دیکھتے حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے پھر آپکے پیچھے(نماز پڑھنے)والے سجدہ پر چلے جاتے(مطلب یہ کہ رکوع سے سیدھے کھڑے ہوتے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ وَالْعَمَلِ بَعْدَهُ؛ترجمہ؛امام کی اتباع؛جلد١ص٣٤٥؛حدیث نمبر ٩٦٦)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب"سمع اللہ لمن حمدہ"کہتے تو ہم میں سے کسی کو اپنی پیٹھ دوہری کئے ہوئے نہ دیکھتے حتیٰ کہ آپ سجدے میں چلے جاتے پھر ہم سجدے میں جاتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ وَالْعَمَلِ بَعْدَهُ؛جلد١ص٣٤٥؛حدیث نمبر ٩٦٧)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ صحابہ کرام،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتے جب آپ سجدہ کرتے تو وہ بھی سجدہ کرتے اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاکر"سمع اللہ لمن حمدہ"کہتے تو ہم کھڑے رہتے حتیٰ کہ آپ کو دیکھتے کہ آپ نے اپنا چہرہ انور سجدے میں رکھ دیا ہے تو پھر ہم آپ کی اتباع(میں سجدہ) کرتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ وَالْعَمَلِ بَعْدَهُ؛جلد١ص٣٤٥؛حدیث نمبر ٩٦٨)
ایک اور سند سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے تو ہم میں سے کوئی ایک اس وقت تک اپنی پیٹھ کو نہ جھکاتا(سجدہ میں نہ جاتا)جب تک آپ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھ نہ لیتا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ وَالْعَمَلِ بَعْدَهُ؛جلد١ص٣٤٥؛حدیث نمبر ٩٦٩)
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو آپ{فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُنَّسِ }(التكوير: ١٦)(تو قسم ہے ان کی جو الٹے پھریں سیدھے چلیں تھم رہیں)کی قرأت کرتے ہوئے سنا اور ہم میں سے کوئی بھی اپنی پیٹھ نہ جھکاتا جب تک حضور علیہ السلام پوری طرح سجدے میں چلے نہ جاتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ وَالْعَمَلِ بَعْدَهُ؛جلد١ص٣٤٦؛حدیث نمبر ٩٧٠)
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے پیٹھ مبارک اٹھاتے تو یہ کلمات کہتے۔«سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ،اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ،مِلْءُ السَّمَاوَاتِ،وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ»(اللہ تعالیٰ نے اس بات کو سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔اے ہمارے رب تیرے ہی لئے سب تعریفیں ہیں۔بھرے ہوئے آسمان،بھری ہوئی زمین اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے سب بھرا ہوا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ؛جلد١ص٣٤٦؛حدیث٩۷١)
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے۔اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءُ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ»(ترجمہ گزر چکا) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ؛جلد١ص٣٤٦؛حدیث نمبر ٩٧٢)
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ یہ کلمات پڑھتے تھے۔«اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاءِ، وَمِلْءُ الْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ اللهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَالْمَاءِ الْبَارِدِ اللهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْوَسَخِ»ترجمہ؛یا اللہ تیرے ہی لئے تعریف ہے۔بھرے ہوئے آسمان، بھری ہوئی زمین،اس کے بعد جو تو چاہے بھرا ہوا یا اللہ!مجھے برف،اولوں اور ٹھنڈا پانی کے ذریعے پاک کردے۔یااللہ!مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کردے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ؛جلد١ص٣٤٦؛حدیث نمبر ٩٧٣)
ایک اور سند سے حدیث نمبر ٩٧٣ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں"من الوسخ"کی جگہ"من الدرن"(معنیٰ وہی ہے) اور ایک روایت میں"من الانس"ہے اس کا معنی بھی میل کچیل ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ؛جلد١ص٣٤٧؛حدیث نمبر٩٧۴)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ الفاظ پڑھتے۔"رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ: اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" اے اللہ!تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں آسمان بھر،زمین بھر اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے بھرا ہوا تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔بندے کے قول کا زیادہ حقدار ہے۔ہم سب تیرے بندے ہیں یااللہ جو چیز تو عطاء کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا جو کچھ تو نہ دے کوئی دے نہیں سکتا اور تیرے مقابلے میں کسی کی کوشش فائدہ مند نہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ؛جلد١ص٣٤٧؛حدیث نمبر ٩٧٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یوں کہتے۔وہی اوپر والی حدیث کے کلمات ہیں البتہ"احق ما،قال العبد وکلنا لک العبد"کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ؛جلد١ص٣٤٧؛حدیث نمبر٩٧٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ حضور علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں۔وہی حدیث نمبر ٩٧٦ والے الفاظ"من شی بعد"تک ہیں اس کے بعد والے الفاظ نہیں۔(علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں اس باب میں جتنی دعاؤں کا ذکر ہے ملا علی قاری نے صحیح ابن حبان اور سنن دارقطنی کی احادیث کے حوالے سے ذکر کیا کہ تکبیر تحریمہ کے بعد جتنی دعاؤں کا ذکر ہے وہ نماز کی ابتدائی حالت پر محمول ہیں یا نوافل پر(شرح صحیح مسلم جلد١ص ٦٦٥)(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ؛جلد١ص٣٤٧؛حدیث نمبر ٩٧٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(حجرہ مبارک کا)پردہ اٹھایا اور صحابہ کرام اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے۔آپ نے فرمایا اے لوگوں! نبوت کی خوشخبریوں میں سے صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں جنکو مسلمان دیکھتا ہے یا(فرمایا)اسے دکھائے جاتے ہیں سنو!مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن مجید پڑھنے سے منع کیا گیاہے۔رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کرو(سبحان ربی العظیم پڑھو) اور سجدے میں خوب دعا کرو یہ قبولیت کے لائق ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِترجمہ؛رکوع اور سجدے میں قرآن مجید پڑھنے کی ممانعت؛جلد١ص٣۴٨؛حدیث نمبر ٩۷٨)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ اٹھایا اور اس بیماری کی وجہ سے جس میں اپکا انتقال ہوا۔آپ نے اپنے سر پر پٹی باندھ رکھی تھی۔آپ نے تین مرتبہ فرمایا"اللہم ھل بلغت" یااللہ! میں نے تبلیغ کردی؟نبوت کی بشارتوں میں سے صرف نیک خواب باقی رہ گئے ہیں جو بندہ دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں اس کے بعد حدیث نمبر ٩٧٨ کی مثل مروی ہے_(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٤٨؛حدیث نمبر ٩۷٩)
حضرت علی علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٤٨؛حدیث نمبر ٩٨٠)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٤٨؛حدیث نمبر ٩٨١)
حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا اور میں نہیں کہتا کہ تمہیں بھی منع فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٤٩؛حدیث نمبر ٩٨٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ،حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔آپ نےفرمایا میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٤٩؛حدیث نمبر ٩٨٣)
مختلف اسناد سے حضرت ابن عباس،حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حالت رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔ان سب حضرات نے سجدے میں ممانعت کا ذکر نہیں کیا جس طرح گزشتہ احادیث میں ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٤٩؛حدیث نمبر ٩٨٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اس میں سجدے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٤٩؛حدیث نمبر٩٨٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا اس سند میں حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ النَّهْيِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٤٩؛حدیث نمبر ٩٨٦)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ حالت سجدہ میں اپنے رب کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔پس زیادہ دعا کیا کرو۔(نفل نماز میں مراد ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛ترجمہ؛رکوع اور سجدے میں کیا کیا جائے؛جلد١ص٣٥٠؛حدیث نمبر ٩٨٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدے میں یہ کلمات کہتے تھے(تعلیم امت کے لیے یہ دعا فرماتے)اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ»یا اللہ!میرے تمام خلاف اولی کام بخش دے چھوٹے بڑے، پہلے،پچھلے ظاہر اور پوشیدہ۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٠؛حدیث نمبر ٩٨٨)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں اکثر یہ کلمات پڑھتے تھے۔سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي" يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ؛یااللہ!ہمارے رب تیری تعریف ہے یااللہ مجھے بخش دے۔آپ قرآن مجید کے حکم پر عمل کرتے ہوئے یہ کلمات پڑھتے تھے(قرآن مجید میں ہے)" فسبح بحمدربک واستغفرہ انہ کان توابا"(اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کرو اور اس سے بخشش طلب کرو بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے)(سورۃالنصرآیت٣)(مسلم شریف کتاب الصلوٰۃ؛بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٠؛حدیث نمبر ٩٨٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پہلے اکثر یہ کلمات پڑھتے تھے۔«سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!یہ کون سے کلمات ہیں جو آپ نے اب پڑھنا شروع کئے ہیں۔آپ نے فرمایا میرے لیے میری امت میں ایک علامت رکھی گئی ہے۔جب میں اسے دیکھتا ہوں تو یہ کلمات پڑھتا ہوں(پھر آپ نے پڑھا)اذا جاء نصر اللہ والفتح۔آخر تک۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٥١؛حدیث نمبر ٩٩٠)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب سے"اذاجاء نصر اللہ والفتح" سورت نازل ہوئی ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب بھی آپ نماز پڑھتے۔اس میں یہ دعا مانگتے ہیں یا(فرمایا)یہ کلمات ہیں۔"سبحانک اللهم ربی وبحمدک اللھم اغفرلی"(یااللہ!تو مالک ہے۔اے میرے رب میں تیری حمد بیان کرتا ہوں یااللہ!مجھے بخش دے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٥١؛حدیث نمبر ٩٩١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات اکثر پڑھا کرتے تھے۔"سبحان اللہ وبحمده استغفر اللہ واتوب الیہ"(میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتا ہوں۔میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں) ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں دیکھتی ہوں آپ اکثر یہ کلمات پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا مجھے میرے رب نے خبر دی کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا تو جب میں وہ علامت دیکھوں تو کثرت سے یہ کلمات کہوں تو میں نے وہ علامت"اذا جاء نصر اللہ والفتح" کی صورت میں دیکھی۔مکہ مکرمہ فتح ہوا اور میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج درفوج داخل ہورہے ہیں تو ارشاد خداوندی ہے"فسبح بحمدربک واستغفرہ انہ کان توابا"(پس آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کریں اور اس سے بخشش طلب کریں۔بےشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٥١؛حدیث نمبر٩٩٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تو میں نے خیال کیا کہ آپ کسی دوسری زوجہ مطہرہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔میں آپ کو تلاش کرنے کے بعد واپس آئی تو آپ رکوع یا سجدے کی حالت میں تھے اور یوں پڑھ رہے تھے۔"سبحانک وبحمدک لاالہ الا انت"اے اللہ!تو مالک ہے تیرے لیے حمد ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میرا کچھ اور خیال تھا اور آپ کا معاملہ کچھ اور ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٢؛حدیث نمبر ٩٩٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہ پایا تو آپ کو تلاش کیا پس میرا ہاتھ آپ کے مبارک پاؤں کے پیٹ پر لگا اور آپ سجدے میں تھے۔آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ یوں کہ رہے تھے«اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ»(یااللہ! میں تیری رضا کے ساتھ تیری ناراضگی سے اور تیرے معاف کرنے کے ساتھ تیرے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں۔میں تیری ثناء نہیں کرسکتا تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف کی ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٢؛حدیث نمبر ٩٩٤)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔انہوں نے بتایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں یہ کلمات کہتے تھے۔"سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح"(تو تعریف وتقدیس والا ہے تو مالک ہے فرشتوں اور روح کا رب ہے)(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٣؛حدیث نمبر ٩٩٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ٩٩٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٣؛حدیث نمبر٩٩٦)
حضرت معدان بن ابی طلحہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےغلام ثوبان سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا مجھے ایسا عمل بتائیں جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کردے یا فرمایا وہ عمل جو اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہو وہ خاموش رہے۔پھر پوچھا تو خاموش رہے پھر تیسری بار پوچھا تو انہوں نے فرمایا کثرت سے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا کرو تم اللہ تعالیٰ کو جو سجدہ کروگے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تمہارا درجہ بلند کرے گا اور تجھ سے ایک گناہ مٹاۓگا۔حضرت معدان کہتے ہیں پھر میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو ان سے سوال کیا تو انہوں نے بھی وہی بات کہی جو حضرت ثوبان نے کہی تھی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ فَضْلِ السُّجُودِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ؛ترجمہ؛سجدے کی فضیلت اور اس کی ترغیب؛ جلد١ص٣٥٣؛حدیث نمبر ٩٩٧)
حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات گزارتا تو آپ کو وضو کے لئے پانی اور ضرورت کا سامان لاکر دیتا آپ نے مجھ سے فرمایا"مانگ"میں آپ سے جنت میں آپ کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا اس کے علاوہ؟ میں نے عرض کیا یہی کافی ہے۔فرمایا کثرت سجود کے ساتھ میری مدد کرو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ فَضْلِ السُّجُودِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ؛جلد١ص؛٣٥٣؛حدیث نمبر٩٩٨)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور بالوں اور کپڑوں کو لپیٹنے سے منع کیا گیا۔حضرت یحییٰ کی روایت میں(وضاحت)ہےدونوں ہتھیلیاں،دونوں گھٹنے، دونوں پاؤں اور پیشانی(یہ سات اعضاء ہیں)۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ، وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ وَعَقْصِ؛ترجمہ؛اعضاے سجدہ؛الرَّأْسِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٥٤؛حدیث نمبر ٩٩٩)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور یہ کہ میں کپڑوں اور لباس کو نہ لپیٹوں(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ، وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ وَعَقْصِ الرَّأْسِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٥٤؛حدیث نمبر ١٠٠٠)
ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور بالوں اور کپڑوں کو لپیٹنے سے منع کیا گیا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ، وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ وَعَقْصِ الرَّأْسِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٥٤؛حدیث نمبر ١٠٠١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا(فرمایا)پیشانی اور ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا۔دونوں ہاتھ، دونوں پاؤں اور دونوں قدموں کے کنارے اور یہ کہ میں کپڑوں اور بالوں کو نہ لپیٹوں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ، وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ وَعَقْصِ الرَّأْسِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٥٤؛حدیث نمبر ١٠٠٢)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ کہ میں بالوں اور کپڑوں کو نہ لپیٹوں(وہ سات اعضاء)پیشانی،ناک، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ، وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ وَعَقْصِ الرَّأْسِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٥٥؛حدیث نمبر١٠٠٣)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے عبداللہ بن حارث کو دیکھا کہ نماز پڑھتے ہوئے انہوں نے پیچھے سے بالوں کا جوڑا باندھا ہوا تھا۔تو انہوں نے اٹھ کر اسے کھولنا شروع کر دیا۔سلام پھیرنے کے بعد وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طوف متوجہ ہوئے اور پوچھا میرے سر کے ساتھ آپکو کیا معاملہ تھا۔انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے اس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اس کی مشکیں کسی ہوئی ہوں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ، وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ وَعَقْصِ الرَّأْسِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٥٥؛حدیث نمبر ١٠٠٤)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدے میں اعتدال اختیار کرو اور تم میں سے کوئی ایک اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھاۓ۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الِاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ، وَوَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الْأَرْضِ وَرَفْعِ الْمِرْفَقَيْنِ عَنِ الْجَنْبَيْنِ، وَرَفْعِ الْبَطْنِ عَنِ الْفَخْذَيْنِ فِي السُّجُودِ؛ترجمہ؛سجدے کے آداب؛جلد١ص٣٥٥؛حدیث نمبر ١٠٠٥)
ایک دوسری سند سے بھی حدیث نمبر ١٠٠٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الِاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ، وَوَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الْأَرْضِ وَرَفْعِ الْمِرْفَقَيْنِ عَنِ الْجَنْبَيْنِ، وَرَفْعِ الْبَطْنِ عَنِ الْفَخْذَيْنِ فِي السُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٦؛حدیث نمبر ١٠٠٦)
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم سجدہ کرو تو ہتھیلیاں نیچے رکھو اور اپنی کہنیوں کو اٹھاؤ۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الِاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ، وَوَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الْأَرْضِ وَرَفْعِ الْمِرْفَقَيْنِ عَنِ الْجَنْبَيْنِ، وَرَفْعِ الْبَطْنِ عَنِ الْفَخْذَيْنِ فِي السُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٦؛حدیث نمبر ١٠٠٧)
حضرت عبداللہ بن مالک بن بُحَینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو دونوں ہاتھوں کے درمیان کشادگی کرتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الِاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ، وَوَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الْأَرْضِ وَرَفْعِ الْمِرْفَقَيْنِ عَنِ الْجَنْبَيْنِ، وَرَفْعِ الْبَطْنِ عَنِ الْفَخْذَيْنِ فِي السُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٦؛حدیث نمبر١٠٠٨)
حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو سجدے میں دونوں ہاتھوں کے درمیان کشادگی رکھتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الِاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ، وَوَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الْأَرْضِ وَرَفْعِ الْمِرْفَقَيْنِ عَنِ الْجَنْبَيْنِ، وَرَفْعِ الْبَطْنِ عَنِ الْفَخْذَيْنِ فِي السُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٦؛حدیث نمبر١٠٠٩)
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو اگر بکری کا بچہ آپ کے بازوؤں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الِاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ، وَوَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الْأَرْضِ وَرَفْعِ الْمِرْفَقَيْنِ عَنِ الْجَنْبَيْنِ، وَرَفْعِ الْبَطْنِ عَنِ الْفَخْذَيْنِ فِي السُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٦؛حدیث نمبر ١٠١٠)
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو ہاتھوں کو کشادہ رکھتے حتیٰ کہ پیچھے سے آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی اور جب قعدہ کرتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الِاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ، وَوَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الْأَرْضِ وَرَفْعِ الْمِرْفَقَيْنِ عَنِ الْجَنْبَيْنِ، وَرَفْعِ الْبَطْنِ عَنِ الْفَخْذَيْنِ فِي السُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٧؛حدیث نمبر ١٠١١)
حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اعضاء کو ایک دوسرے سے جدا کرتے حتیٰ کہ پشت کی جانب سے آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الِاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ، وَوَضْعِ الْكَفَّيْنِ عَلَى الْأَرْضِ وَرَفْعِ الْمِرْفَقَيْنِ عَنِ الْجَنْبَيْنِ، وَرَفْعِ الْبَطْنِ عَنِ الْفَخْذَيْنِ فِي السُّجُودِ؛جلد١ص٣٥٧؛حدیث نمبر ١٠١٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے اور قرأت"ألحمد للہ رب العالمین"سے شروع کرتے جب رکوع فرماتے ہیں تو سرانور کو نہ تو زیادہ بلند رکھتے اور نہ ہی زیادہ جھکاتے بلکہ درمیان میں رکھتے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو جب تک سیدھے کھڑے نہ ہوجاتے سجدہ نہ کرتے۔جب سجدے سے سر اٹھاتے تو جب تک سیدھی طرح بیٹھ نہ جاتے دوسرا سجدہ نہ کرتے اور ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات آخر تک پڑھتے آپ بائیں پاؤں کو بچھاتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے اور آپ نے شیطان کی طرح بیٹھنے(دونوں گھٹنے کھڑے کر کے سرین پر بیٹھنا اسے اقعاب الکلب بھی کہتے ہیں اور یہی شیطان کی طرح بیٹھنا ہے)اور درندوں کی طرح کلائیاں بچھانے سے منع فرمایا اور نماز کا اختتام سلام کے ساتھ کرتے۔ابو خالد کی روایت میں"عقب الشیطان"کا لفظ ہے دونوں کا مطلب ایک ہے۔(عقبۃالشیطان اور عقب الشیطان) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ مَا يَجْمَعُ صِفَةَ الصَّلَاةِ وَمَا يُفْتَتَحُ بِهِ وَيُخْتَمُ بِهِ، وَصِفَةَ الرُّكُوعِ وَالِاعْتِدَالِ مِنْهُ، وَالسُّجُودِ وَالِاعْتِدَالِ مِنْهُ، وَالتَّشَهُّدِ بَعْدَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ مِنَ الرُّبَاعِيَّةِ، وَصِفَةَ الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَفِي التَّشَهُّدِ الْأَوَّلِ؛ترجمہ؛کیفیت نماز؛جلد١ص٣٥٧؛حدیث نمبر١٠١٣)
حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے سامنے کجاوے کے پیچھلے حصے جیسی چیز رکھے تو نماز پڑھے اور اس کے آگے سے گزرنے کی پرواہ نہ کرے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛نمازی کے لئے سترہ؛ جلد١ص٣٥٨؛حدیث نمبر١٠١٤)
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نماز پڑھتے اور ہمارے سامنے سے جانور گزرتے لیکن ہم ان کی پرواہ نہ کرتے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی تو آپ نے فرمایا تمہارے سامنے کجاوے کے پچھلے حصے جیسی چیز ہو تو سامنے سے گزرنے والی کسی چیز کا کوئی نقصان نہیں۔ابن نمیر کی روایت میں(مَامَرٌ کی جگہ)مَن مرٌ ہے)(یعنی ذوی العقول کا ذکر ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٥٨؛حدیث نمبر ١٠١٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے سترہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کجاوے کے پیچھلے حصے جیسا ہونا چاہیے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٥٨؛حدیث نمبر ١٠١٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔عزوۂ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے سترہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کجاوے کے پچھلے حصے جیسا ہو۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٥٩؛حدیث نمبر١٠١٧)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز عید کے لئے تشریف لے جاتے تو نیزہ گاڑنے کا حکم دیتے پس آپ کے آگے گاڑا جاتا آپ اس کی جانب اور صحابہ کرام آپ کے پیچھے نماز پڑھتے آپ سفر میں اس طرح کرتے پھر امراء نے یہ طریقہ اختیار کیا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٥٩؛حدیث نمبر١٠١٨)
ایک اور حدیث میں حدیث نمبر ١٠١٨ کی مثل مروی ہے کچھ الفاظ کا فرق ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٥٩؛حدیث نمبر ١٠١٩)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو کھڑا کر کے اس کی چوڑائی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٥٩؛حدیث نمبر ١٠٢٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور ابن نمیر کہتے ہیں اونٹ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٥٩؛حدیث نمبر١٠٢١)
حضرت عون بن ابی جحیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں میں مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ وادی ابطح میں چمڑے کے سرخ خیمے میں تھے۔فرماتے ہیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے وضو کا(بچا ہوا) پانی لے کر نکلے تو کوئی اس سے لیتا اور کوئی اس سے چھڑکتا فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ پر سرخ جوڑا تھا گویا میں آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔وہ فرماتے ہیں۔آپ نے وضو فرمایا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو میں دیکھتا ہوں۔انہوں نے اپنا رخ دائیں اور بائیں کیا اور حی علی الصلٰوۃ اور حی علی الفلاح کہنے لگے۔فرماتے ہیں پھر آپ کے سامنے نیزہ گاڑا گیا تو آپ آگے بڑھے اور(سفر کی وجہ سے)ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں آپ کے سامنے سے گدھا اور کتا گزرتے اور ان کو منع نہ کیا جاتا۔پھر عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔پھر مدینہ طیبہ واپسی تک دودو رکعتیں(نماز قصر)پڑھتے رہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٥٩؛حدیث نمبر ١٠٢٢)
حضرت عون بن ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ان کے والد نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں دیکھا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لاۓ۔پس میں نے دیکھا کہ صحابہ کرام اس پانی کی طرف جلدی کر رہے ہیں جسے اس میں سے کچھ مل گیا اس نے اسے چہرے پر مل لیا اور جسے اس میں سے کچھ نہ ملا اس نے اپنے ساتھی کے تر ہاتھ سے حاصل کیا۔پھر میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔انہوں نے نیزہ نکال کر گاڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرخ جوڑے میں تشریف لائے۔آپ نے پنڈلیوں کے نصف تک کپڑا اٹھایا ہوا تھا۔آپ نے نیزے کے سامنے اور صحابہ کرام نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی اور جانور نیزے کے آگے سے گزر رہے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٠؛حدیث نمبر ١٠٢٣)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٠٢٣ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں ہے کہ دوپہر کا وقت ہوا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور نماز کے لئے آذان کہی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛٣٦٠؛حدیث نمبر ١٠٢٤)
حضرت حکم فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت بطحاء کی طرف تشریف لے گئے اور وضو فرماکر ظہر کی اور(پھر) عصر کی نماز دودو رکعتیں پڑھی اور آپ کے سامنے نیزہ(گاڑا ہوا) تھا۔اس میں عون کی روایت میں یہ اضافہ ہے،اس کے آگے سے عورت اور گدھا گزرتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦١؛حدیث نمبر١٠٢٥)
ایک اور روایت میں حدیث نمبر ١٠٢٥ کی مثل مروی ہے البتہ یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی لیتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦١؛حدیث نمبر ١٠٢٦)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں مادہ دراز گوش پر سوار ہو کر آیا اور ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی میں نماز پڑھ رہے تھے میں صف کے آگے سے گزر کر دراز گوش سے اترا اور اسے چرنے کے لئے چھوڑ کر خود صف میں شامل ہوگیا لیکن مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦١؛حدیث نمبر١٠٢٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ دراز گوش پر سوار ہو کر آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مِنی میں نماز پڑھا رہے تھے اور یہ حجۃ الوداع کا موقعہ تھا۔فرماتے ہیں دراز گوش صف کے بعض حصے کے سامنے آگیا۔پھر وہ اتر کر صف میں لوگوں کے ساتھ شامل ہوگئے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٢؛حدیث نمبر ١٠٢٨)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٠٢٨ کی مثل مروی ہے۔اس میں عرفات کا ذکر ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٢؛حدیث نمبر ١٠٢٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٢٧ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں مِنی یا عرفات کا ذکر نہیں البتہ یہ ہے کہ حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے موقع پر ایسا ہوا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٢؛حدیث نمبر ١٠٣٠)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے کسی کو گزرنے نہ دے جس قدر ممکن ہے اسے دور رکھے اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑے وہ شیطان ہے۔(یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے کیونکہ نماز میں حرکت نہ کرے اور دوسری طرف توجہ نہ کرنے کا حکم دیا گیا اور شروع والے احکام منسوخ ہوۓ)(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛-بَابُ مَنْعِ المَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٢؛حدیث نمبر١٠٣١)
حضرت ابو صالح سمان فرماتے ہیں۔میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سےجوکچھ سنا اور جو کچھ دیکھا میں تم سے بیان کرتا ہوں(پھر فرمایا)میں نے ان کو دیکھا میں ان کے ہمراہ تھا اور وہ جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے۔انہوں نے لوگوں سے بچنے کیلئے سامنے کوئی چیز رکھی تھی کہ بنو ابی محیط کا ایک نوجوان آیا۔وہ آپ کے سامنے سے گزرنا چاہتا تھا کہ آپ نے اس کے سینے میں ضرب لگائی۔اس نے دیکھا اور اس کو حضرت ابوسعید کے سامنے والی جگہ کے علاوہ گنجائش نہ ملی وہ واپس آیا آپ نے پہلے سے زیادہ سخت طریقے سے اس کے سینے میں مارا۔وہ کھڑا رہا۔اس نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مار کھانے کے بعد لوگوں سے مزاحمت کی اور مروان کے پاس جاکر شکایت کی۔راوی کہتے ہیں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے مروان کے پاس تشریف لے گئے تو مروان نے پوچھا آپ کو اپنے بھتیجے سے کیا شکایت ہے کہ اس نے آپ کی شکایت کی۔انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک لوگوں سے بچنے کے لئے سامنے کوئی چیز رکھ کر نماز پڑھے پھر کوئی شخص اس کے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے تو وہ اس کے سینے میں مار کر اسے دور کرے۔اگر وہ نہ جائے تو اس سے لڑے وہ شیطان ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَنْعِ المَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٢؛حدیث نمبر ١٠٣٢)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک نماز پڑھے تو کسی کو سامنے سے نہ گزرنے دے۔اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑے اس کے ساتھ اس کا ساتھی(یعنی شیطان ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ مَنْعِ المَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٣؛حدیث نمبر ١٠٣٣)
ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٠٣٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَنْعِ المَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٣؛حدیث نمبر ١٠٣٤)
حضرت بسر بن سعید فرماتے ہیں کہ زید بن خالد جہنی نے ان کو حضرت ابوجھیم کے پاس بھیجا کہ وہ ان سے پوچھیں۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کیا سنا ہے جو نمازی کے آگے سے گزرتا ہے حضرت ابوجھیم نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو معلوم ہوتا کہ اس پر کتنا گناہ ہے تو وہ چالیس سال تک ٹھہرا رہتا اور یہ ٹھہرنا اس کے لئے اس کے سامنے سے گزرنے سے بہتر ہوتا۔(ابوالنصرفرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں چالیس دن فرمایا یا مہینے یا(چالیس سال) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَنْعِ المَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٣؛حدیث نمبر ١٠٣٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٣٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ مَنْعِ المَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٤؛حدیث نمبر ١٠٣٦)
حضرت سہل بن سعد سعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلی اور دیوار کے درمیان بکری گزرنے کا راستہ تھا۔(فاصلہ تھا)۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ دُنُوِّ الْمُصَلِّي مِنَ السُّتْرَةِ؛جلد١ص٣٦٤؛حدیث نمبر ١٠٣٧)
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ مصحف میں جگہ تلاش کر کے وہاں نفل نماز پڑھتے اور ذکر کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ کا قصد فرماتے تھے اور(یہ)منبر اور قبلہ کے درمیان بکری گزرنے کے برابر جگہ تھی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ دُنُوِّ الْمُصَلِّي مِنَ السُّتْرَةِ؛جلد١ص٣٦٤؛حدیث نمبر١٠٣٨)
حضرت یزید نے بتایا کہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ مصحف کے پاس ستونوں کے نزدیک جگہ تلاش کرتے تھے۔میں نے عرض کیا اے ابو مسلم!میں دیکھتا ہوں کہ آپ ستونوں کے پاس جگہ تلاش کرتے ہیں۔انہوں نے فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ان کے پاس نماز کا قصد فرماتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ دُنُوِّ الْمُصَلِّي مِنَ السُّتْرَةِ؛جلد١ص٣٦٤؛حدیث نمبر ١٠٣٩)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز کے لئے کھڑا ہو تو اگر اس کے سامنے کجاوے کے پچھلے حصے کے برابر کوئی چیز(کھڑی)ہو تو یہ اس کے لئے سترہ ہے اور جب اس کے سامنے کجاوے کے پچھلے حصے کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو گدھے،عورت،کتے اور سیاہ کتے کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی(حضرت عبد اللہ بن صامت فرماتے ہیں)میں نے پوچھا سیاہ اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے۔انہوں نے فرمایا اے بھتیجے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پوچھا تھا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو آپ نے فرمایا سیاہ کتا شیطان ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ قَدَرِ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّي ؛جلد١ص٣٦٥؛حدیث نمبر ١٠٤٠)
متعدد اسناد سے حدیث نمبر ١٠٤٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ قَدَرِ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٥؛حدیث نمبر١٠٤١)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت،گدھے اور کتے(کے گزرنے)کی وجہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور کجاوے کے پچھلے حصے کی طرف(سترہ)ہوتو وہ(نماز کو ٹوٹنے سے)بچا لیتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ قَدَرِ مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٥؛حدیث نمبر١٠٤٢)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں لیٹی ہوئی تھی جیسے جنازہ رکھا ہوتا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الِاعْتِرَاضِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٦؛حدیث نمبر ١٠٤٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھتے تو میں پوری نماز کے دوران آپ کے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں لیٹی ہوئی تھی جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے جگاتے اور میں بھی وتر پڑھتی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الِاعْتِرَاضِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٦؛حدیث نمبر ١٠٤٤)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا نماز کو کونسی چیز توڑتی ہے ہم نے عرض کیا عورت اور گدھا۔انہوں نے فرمایا(کیا)عورت برا جانور ہے؟میں نے آپ کو دیکھا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چوڑائی میں لیٹی ہوتی جس طرح جنازہ پڑا ہوتا ہے اور آپ نماز پڑھتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الِاعْتِرَاضِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٦؛حدیث نمبر١٠٤٥)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ان چیزوں کا تذکرہ ہوا جنکی وجہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور وہ کتا، گدھا اور عورت ہے۔ام المومنین نے فرمایا تم لوگوں نے ہمیں(عورتوں کو گدھے اور کتے سے تشبیہ دے دی ہے۔میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نماز پڑھتے اور میں چارپائی پر آپ کے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں لیٹی ہوتی تھی۔مجھے حاجت محسوس ہوتی تو میں بیٹھنا ناپسند کرتی کہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت ہوگی۔پس میں آپ کے پاؤں کی طرف سے کھسک جاتی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الِاعْتِرَاضِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٦؛حدیث نمبر ١٠٤٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں تم لوگوں نے ہمیں(عورتوں کو)کتوں اور گدھوں کے برابر قرار دیا ہے میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں چار پائی پر لیٹی ہوئی ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاکر چارپائی کے درمیان نماز پڑھتے۔میں آپکے سامنے ہونے کو ناپسند کرتے ہوئے چارپائی کی پائنتی کی طرف سے کھسک کر اپنے لحاف سے نکل جاتی۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الِاعْتِرَاضِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٧؛حدیث نمبر١٠٤٧)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آرام کر رہی ہوتی تھی۔میرے پاؤں آپکے قبلہ کی جانب ہوتے۔جب آپ سجدہ کرتے تو آپ میرے پاؤں دبا دیتے تو میں پاؤں سمیٹ لیتی اور جب آپ کھڑے ہوتے تو میں ان کو پھیلا دیتی۔آپ فرماتی ہیں ان دنوں گھر میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الِاعْتِرَاضِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٧؛حدیث نمبر ١٠٤٨)
حضرت عبد اللہ بن شداد بن ہاد فرماتے ہیں مجھ سے ام المؤمنين حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں آپ کے بالمقابل ہوتی اور میں حالت حیض میں ہوتی تھی اور بعض اوقات آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا میرے جسم سے چھو جاتا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الِاعْتِرَاضِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٧؛حدیث نمبر ١٠٤٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھتے اور میں آپ کے پہلو میں ہوتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی اور مجھ پر ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا تھا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الِاعْتِرَاضِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي؛جلد١ص٣٦٧؛حدیث نمبر١٠٥٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛ترجمہ؛ایک کپڑے میں نماز پڑھنا؛جلد١ص٣٦٧؛حدیث نمبر ١٠٥١)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٨؛حدیث نمبر١٠٥٢)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتے ہوئے عرض کیا۔کیا ہم سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے۔آپ نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٨؛حدیث نمبر ١٠٥٣)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک اس طرح ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو(یعنی ننگے ہوں) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٨؛حدیث نمبر١٠٥٤)
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایک کپڑا لپیٹے ہوئے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک میں نماز پڑھ رہے تھے اور کپڑے دونوں کنارے کندھوں پر لٹکائے ہوئے تھے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٨؛حدیث نمبر ١٠٥٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٥٥ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں مشتملا کی جگہ متوحشا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٨؛حدیث نمبر١٠٥٦)
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ نے اس کی دونوں طرفین مخالفت سمت میں ڈال رکھی تھیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٨؛حدیث نمبر١٠٥٧)
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے۔آپ نے اسے لپیٹ رکھا تھا اور کنارے مخالفت سمت میں ڈال رکھے تھے۔عیسٰی بن حماد کی روایت میں"علی منکبیہ"ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٩؛حدیث نمبر١٠٥٨)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے۔آپ نے توشح کر رکھا تھا۔(بائیں طرف والے کو دائیں بغل کے نیچے سے اور دائیں طرف والے کو بائیں طرف کے نیچے سے نکالا تھا) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٩؛حدیث نمبر١٠٥٩)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٥٩ کی مثل مروی ہے۔اس میں فرمایا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛ بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٩؛حدیث نمبر ١٠٦٠)
حضرت ابوالزبیر مکی فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک کپڑے میں توشح کیے ہوئے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور ان کے پاس(مزید)کپڑا بھی تھا۔انہوں نے فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٩؛حدیث نمبر١٠٦١)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔فرماتے ہیں میں نے دیکھا آپ ایک چٹائی پر نماز پڑھتے ہوئے اس پر سجدہ کر رہے ہیں اور آپ نے ایک کپڑا توشح کے طور پر لپیٹا ہوا ہے اور نماز پڑھ رہے ہیں۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٩؛حدیث نمبر١٠٦٢)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٦٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛بَابُ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَصِفَةِ لُبْسِهِ؛جلد١ص٣٦٩؛حدیث نمبر١٠٦٣)
Muslim Shareef : Kitabus Salat
|
Muslim Shareef : كِتَابُ الصَّلَاةِ
|
•