asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat

From 1064 to 1469

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!زمین میں سب سے پہلے کونسی مسجد بنائی گئی۔آپ نے فرمایا مسجد حرام،میں نے عرض کیا پھر کونسی؟ فرمایا مسجد اقصٰی،میں نے عرض کیا ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ ہے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چالیس سال کا(پھر فرمایا)جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھ لو وہی مسجد(جائے مسجد)ہے۔دوسری سند میں"فصل"کی جگہ"فصلہ"ہے۔(معنیٰ وہی ہے) (مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ترجمہ؛مساجد اور مقامات نماز؛جلد١ص٣٧٠؛حدیث نمبر١٠٦٤)

حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى» قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ سَنَةً، وَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ» وَفِي حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ «ثُمَّ حَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّهِ، فَإِنَّهُ مَسْجِدٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1064

Muslim Shareef Kitabul Masajide Wa Mawaze Salate Hadees No# 1065

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أَبِي الْقُرْآنَ فِي السُّدَّةِ، فَإِذَا قَرَأْتُ السَّجْدَةَ سَجَدَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ، أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ «الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى» قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ عَامًا، ثُمَّ الْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ، فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1065

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام سرخ وسیاہ کی طرف بھیجا گیا ہوں۔(سرخ سے عجمی اور سفید لوگ اور سیاہ سے سوڈانی لوگ مراد ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاہ سے سوڈانی اور سرخ سے دیگر عرب مراد ہیں یا سرخ سے انسان اور سیاہ سے جن مراد ہیں۔(نووی شرح مسلم) میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا۔میرے لئے تمام زمین کو پاک کیا گیا اور سجدہ گاہ بنایا گیا۔پس جو شخص نماز کا وقت پائے وہ جہاں بھی ہو نماز پڑھ لے اور ایک مہینے کی مسافت تک رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور مجھے منصب شفاعت عطاء کیا گیا ہے۔(مسلم شریف کتاب الصلٰوۃ؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١٠٦٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَيِّبَةً طَهُورًا وَمَسْجِدًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدَيْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1066

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٦٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧١؛حدیث نمبر١٠٦٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْفَقِيرُ، أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1067

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیں دوسرے لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت عطاء کی گئی ہے۔ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں جیسا بنایا گیا ہمارے لئے تمام زمین کو مسجد بنایا گیا اور اس کی مٹی کو ہمارے لئے طہارت کا ذریعہ بنایا گیا اگر ہم پانی نہ پائیں اور آپ نے ایک اور خصلت کا بھی ذکر فرمایا۔(تیسری خصلت امام نسائی نے بیان کی ہے کہ مجھے سورۃ بقرہ کی آخری آیات عرش کے خزانے کے نیچے عطاء کی گئیں مجھ سے پہلے کسی کو عطاء نہ ہوئیں اور نہ میرے بعد کسی کو دی جاۓ گی۔(نووی شرح مسلم) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧١؛حدیث نمبر١٠٦٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا، إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ " وَذَكَرَ خَصْلَةً أُخْرَى

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1068

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٦٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧١؛حدیث نمبر١٠٦٩)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1069

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھے دیگر انبیاء کرام علیہم السلام پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔مجھے جامع کلمات دئے گئے رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی۔میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں۔میرے لئے زمین کو پاک اور مسجد بنایا گیا۔مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اورمجھ پر سلسلہ نبوت ختم کیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧١؛حدیث نمبر ١٠٧٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1070

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جامع کلمات کے ساتھ بھیجا گیا رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی اور میں سویا ہوا تھا کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطاء کی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھی گئیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور تم یہ خزانے نکال رہے ہو۔(یہ غیب کی خبر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے بتانے سے صحابہ کرام کو دی اللہ تعالیٰ ان کو فتوحات عطاء فرمائے گا اور خزانوں کا مالک بناۓ گا) (مسلم شریف؛-كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧١؛حدیث نمبر١٠٧١)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «فَذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1071

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا اس کے بعد حدیث نمبر ١٠٧١ کی مثل بیان فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧٢؛حدیث نمبر١٠٧٢)

وَحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ.

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1072

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٠٧١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧٢؛حدیث نمبر١٠٧٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1073

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا دشمن کے خلاف رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی۔مجھے جامع کلمات عطاء کئے اور میں سویا ہوا تھا کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطاء کی گئیں اور وہ میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧٢؛حدیث نمبر ١٠٧٤)

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَى الْعَدُوِّ وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1074

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے رعب کے ذریعے مدد دی گئی اور مجھے جامع کلمات عطاء کئے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛جلد١ص٣٧٢؛حدیث نمبر ١٠٧٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وعبد بن حميد قالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أخبرنا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّه حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنه قال: «نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَى الْعَدُوِّ، وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ» حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1075

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مدینہ طیبہ کے بالائی حصے میں ایک قبیلے میں اترے جسے عمرو بن عوف کہا جاتا تھا۔آپ نے وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا۔پھر آپ نے قبیلہ بنونجار کے سرداروں کو بلایا تو تلواریں لٹکائے ہوئے آئے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا میں(اب بھی)دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی سواری پر تھے اور آپ کے پیچھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور بنونجار قبیلے والے آپ کے ارد گرد تھے۔حتیٰ کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر اترے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے جہاں بھی وقت ہوجاتا حتیٰ کہ بکریوں کے باڑوں میں پڑھتے پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم دیا گیا تو آپ نے بنو نجار کے سرداروں کو بلایا۔وہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایااے بنو نجار!اپنا یہ باغ مجھ پر فروخت کردو۔انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم!ہم قیمت نہیں لیں گے۔ہم اس کا بدلہ صرف اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بتاتا ہوں اس باغ میں کیا چیز تھیں۔اس میں کھجوروں کے درخت،مشرکین کی قبریں اور کھنڈرات تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے درخت کاٹ دئیے گئے،مشرکین کے قبروں کو اکھاڑ پھینکا گیا اور کھنڈرات کو ہموار کر دیا گیا۔پھر کھجور کی لکڑیوں کو قبلہ کی طرف گاڑ دیا گیا۔اور ان کی دونوں طرف پتھر لگاۓ گئے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو رجز یہ کلمات پڑھتے تھے وہ یوں کہتے تھے۔«اللهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ»(یا اللہ!بھلائی تو صرف آخرت کی ہے تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛باب ابْتِنَاءِ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص٣٧٣؛حدیث نمبر١٠٧٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ، فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنُ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلَأِ بَنِي النَّجَّارِ، فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ، وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ، حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ، قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَأِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا، فَقَالَ: «يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا» قَالُوا: لَا، وَاللهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ: كَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَخِرَبٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، وَبِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ، وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ، قَالَ: فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةً، وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً، قَالَ: فَكَانُوا يَرْتَجِزُونَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، وَهُمْ يَقُولُونَ: «اللهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1076

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تعمیر مسجد سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛باب ابْتِنَاءِ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص٣٧٤؛حدیث نمبر١٠٧٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1077

اور ایک سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٠٧٦ کی مثل مروی ہے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛باب ابْتِنَاءِ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص٣٧٤؛حدیث نمبر١٠٧٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: كَانَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1078

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف(منہ کر کے) نماز پڑھی حتیٰ کہ وہ آیت نازل ہوئی جو سورہ بقرہ میں ہے{وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} [البقرة: ١٤٤](تم جہاں بھی ہو تو(اس مسجد حرام)کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو)یہ آیت نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے۔تو قوم کا ایک شخص وہاں سے گیا۔پس وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے۔اس نے انکو بتایا تو ان سب نے بیت اللہ شریف کی طرف رخ کرلیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ؛ترجمہ؛قبلہ کی بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف تبدیلی؛جلد١ص٣٧٤؛حدیث نمبر ١٠٧٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا» حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ {وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} [البقرة: ١٤٤] فَنَزَلَتْ بَعْدَمَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَمَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَحَدَّثَهُمْ، فَوَلُّوا وُجُوهَهُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1079

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نے سولہ مہینے یا سترہ ماہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی پھر ہمیں کعبہ شریف کی طرف پھیر دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد١ص٣٧٤؛حدیث نمبر١٠٨٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: «صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ صُرِفْنَا نَحْوَ الْكَعْبَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1080

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آج رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک آیت اتری ہے اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کعبہ شریف کی طرف رخ کریں اور اس وقت وہ شام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے پس وہ کعبہ شریف کی طرف پھر گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد١ص٣٧٥؛حدیث نمبر١٠٨١)  

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِقُبَاءٍ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1081

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک آنے والا آیا(آگے حدیث نمبر ١٠٨١ کی طرح ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد١ص٣٧٥؛حدیث نمبر ١٠٨٢)

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ إِذْ جَاءَهُمْ رَجُلٌ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1082

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔{قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرة: ١٤٤] (آپکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھتے ہیں۔پس ہم ضرور بضرور آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں۔پس آپ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دیں۔بنوسلمہ کا ایک آدمی گزرا تو صحابہ کرام نماز فجر میں حالت رکوع میں تھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے۔اس نے آواز دی سنو!قبلہ بدل دیا گیا ہے تو وہ اسی حالت میں کعبہ شریف کی طرف پھر گئے۔(تحویل قبلہ کا حکم ظہر اور عصر کے درمیان آیا لہٰذا ان حضرات کو اطلاع فجر کی نماز میں ملی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ؛جلد١ص٣٧٥؛حدیث نمبر١٠٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ»، فَنَزَلَتْ: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرة: ١٤٤] فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً، فَنَادَى: أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ، فَمَالُوا كَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1083

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسائیوں کے ایک گرجے کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔اس میں تصاویر تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ان لوگوں میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں تصویریں رکھتے تھے۔یہ لوگ قیامت تک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛ترجمہ؛قبروں پر مساجد بنانے کی ممانعت؛ جلد١ص٣٧٥؛ حدیث نمبر؛١٠٨٤)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أُولَئِكَ، إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكِ الصُّوَرَ، أُولَئِكِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1084

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت کے دوران آپ کے پاس گفتگو ہوئی تو حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ایک گرجا کا ذکر کیا آگے حدیث نمبر ١٠٨٤ کی طرح ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٦؛حدیث نمبر١٠٨٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ كَنِيسَةً ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1085

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گرجا کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور اس کا نام ماریہ تھا(آگے حدیث نمبر ١٠٨٤ کی طرح ہے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٦؛حدیث نمبر١٠٨٦)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ذَكَرْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1086

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس علالت میں جس سے آپ صحت یاب نہ ہوے۔فرمایا اللہ تعالیٰ یہودونصاری پر لعنت بھیجے۔انہوں نے اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو مساجد بنا دیا۔آپ فرماتی ہیں اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ کی قبر شریف کو ظاہر رکھا جاتا لیکن یہ خوف ہوا کہ کہیں اسے بھی سجدہ گاہ نہ بنایا جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٦؛حدیث نمبر١٠٨٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ «لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» قَالَتْ: «فَلَوْلَا ذَاكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ، غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: وَلَوْلَا ذَاكَ لَمْ يَذْكُرْ: قَالَتْ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1087

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کردے۔انہوں نے اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو مساجد بنادیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ،عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٦؛حدیث نمبر١٠٨٨)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَمَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَاتَلَ اللهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1088

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودونصاری پر لعنت فرماۓ۔انہوں نے اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو مساجد بنا دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٧؛حدیث نمبر١٠٨٩)

وَحَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1089

حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم دونوں فرماتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت ہوا تو آپ اپنی چادر مبارک کو چہرہ انور پر ڈالنے لگے جب گھبراہٹ ہوتی تو چہرہ انور سے چادر ہٹا دیتے۔آپ نے فرمایا اسی طرح سے یہودونصاری پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔انہوں نے اپنے انبیاء کرام کی قبروں کو مساجد بنایا۔آپ ایسے عمل سے ڈرتے تھے جو ان لوگوں نے کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٧؛حدیث نمبر١٠٩٠)

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - قَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ هَارُونُ: - حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ: وَهُوَ كَذَلِكَ «لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» يُحَذِّرُ مِثْلَ مَا صَنَعُوا

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1090

حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے پانچ دن پہلے سنا۔آپ فرماتے تھے میں اللہ تعالیٰ کے یہاں برأت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سےکوئی میرا خلیل ہو۔بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنایا جس طرح ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور میں اپنی امت میں سے کسی کواپنا خلیل بناتا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا سنو!تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء کرام اور اپنے نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بناتے تھے۔سنو!قبروں کو مساجد(سجدہ گاہ)نہ بناؤ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔(قبروں کی طرف سجدہ کرنا منع ہے پہلی امتوں میں ایسا ہوتا تھا اسلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو منع کردیا۔قبر کے قریب مسجد بنانے میں کوئی حرج نہیں اس میں نماز پڑھنے سے قبروں کو سجدہ نہیں ہوتا اگر رخ قبر کی طرف ہو تب بھی حرج نہیں کیونکہ درمیان میں مسجد کی دیوار رکاوٹ ہوتی ہے۔(١٢ہزاروی) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛جلد١ص٣٧٧؛حدیث نمبر١٠٩١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: - حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ النَّجْرَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنْدَبٌ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِخَمْسٍ، وَهُوَ يَقُولُ: «إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللهِ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْكُمْ خَلِيلٌ، فَإِنَّ اللهِ تَعَالَى قَدِ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا، كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1091

حضرت عبید اللہ خولانی ذکر کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مسجد نبوی بنانے کے بارے میں لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے تو انہوں نے فرمایا تم نے بہت لَے دے کی ہے لیکن میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اللہ کے لیے مسجد بناۓ۔حضرت بکیر کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا اس تعمیر سے رضائے الٰہی مقصود ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بناۓ گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا؛ترجمہ؛مسجد بنانے کی ترغیب اور فضیلت؛جلد١ص٣٧٨؛حدیث نمبر١٠٩٢)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنَ قَتَادَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللهِ الْخَوْلَانِيَّ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ قَدْ أَكْثَرْتُمْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ تَعَالَى - قَالَ بُكَيْرٌ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللهِ - بَنَى اللهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ «وَقَالَ ابْنُ عِيسَى فِي رِوَايَتِهِ» مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1092

حضرت محمود بن لبید فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسجد شریف بنانے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے اسے ناپسند کیا۔انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ مسجد نبوی کو اپنی اصل حالت پر چھوڑ دیا جائے تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناۓ اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کی مثل جنت میں(گھر)بناۓ گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا؛جلد١ص٣٧٨؛حدیث نمبر١٠٩٣)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى - قَالَا: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، أَرَادَ بِنَاءَ الْمَسْجِدِ، فَكَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَى هَيْئَتِهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1093

حضرت اسود اور حضرت علقمہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم دونوں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا کیا ان لوگوں نے تمہارے پیچھے نماز پڑھ لی ہے؟ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔آپ نے ہمیں آذان واقامت کا حکم نہ دیا۔فرماتے ہیں ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تو آپ نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ایک کو اپنے دائیں جانب اور دوسرے کو بائیں جانب کر دیا۔فرماتے ہیں جب رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھ دئے تو انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر مارا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر دونوں رانوں کے درمیان رکھ لیا۔جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے جونماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے اور وقت کو بہت تنگ کر دیں گے۔جب تم ان کو اس طرح کرتے دیکھو تو وقت پر نماز پڑھو اور ان کے ساتھ اپنی نمازوں کو نفل بنالو اور جب تین آدمی ہو تو نماز اکٹھے پڑھو اور جب اس سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک تمہارا امام بنے اور جب رکوع کرے تو اپنے بازوؤں کو رانوں پر بچھائے اور جھک جائے۔نیز دونوں ہاتھوں کو باہم ملاۓ۔آپ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں کی کشادگی کا منظر اب بھی میرے سامنے ہے۔(جب امام کے ساتھ دو یا دو سے زیادہ مقتدی ہو تو وہ پیچھے کھڑے ہوتے ہیں یہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تفردات میں سے ہے دیگر حضرات کے نزدیک ایسا نہیں اسی طرح تطبيق دونوں ہاتھوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھنے والا عمل ان کے تفردات میں سے ہے ورنہ یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے جیسا کہ حدیث نمبر ١٠٩٧ ہے علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں جماعت کے لئے امام کے علاوہ تین آدمیوں کا ہونا اور گھر میں جماعت کے لئے آذان اور اقامت کا نہ ہونا بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تفردات میں سے ہے۔)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛ترجمہ؛رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا مستحب ہے؛ جلد١ص٣٧٨؛حدیث نمبر١٠٩٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالَا: أَتَيْنَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي دَارِهِ، فَقَالَ: أَصَلَّى هَؤُلَاءِ خَلْفَكُمْ؟ فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: فَقُومُوا فَصَلُّوا، فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، قَالَ وَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، قَالَ: فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا، قَالَ: فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا وَطَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: «إِنَّهُ سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا، وَيَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ قَدْ فَعَلُوا ذَلِكَ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً، وَإِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَصَلُّوا جَمِيعًا، وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، وَإِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَلْيَجْنَأْ، وَلْيُطَبِّقْ بَيْنَ كَفَّيْهِ، فَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَاهُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1094

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٩٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٧٩؛حدیث نمبر ١٠٩٥)

وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى عَبْدِ اللهِ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَجَرِيرٍ، فَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِعٌ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1095

حضرت علقمہ اور حضرت اسود رضی اللہ عنہماسے روایت ہے۔وہ دونوں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا کیا یہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟جواب دیا جی ہاں تو آپ ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ہم میں سے ایک کو دائیں جانب اور دوسرے کو بائیں جانب کیا۔پھر ہم نے رکوع کیا اور ہم نے اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا تو آپ نے ہمارے ہاتھوں پر ہاتھ مارا پھر دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھا۔جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٧٩؛حدیث نمبر ١٠٩٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: " أَصَلَّى مَنْ خَلْفَكُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَامَ بَيْنَهُمَا، وَجَعَلَ أَحَدَهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ رَكَعْنَا، فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا، ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1096

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی۔فرماتے ہیں میں نے اپنے ہاتھوں کو رانوں کے درمیان رکھا تو میرے والد نے مجھےفرمایا۔اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھنٹوں پر رکھو۔فرماتے ہیں میں نے دوبارہ اسی طرح کیا تو آپ نے میرے ہاتھوں پر(ہاتھ)مارا اور فرمایا ہمیں اس بات سے منع کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ہم ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھیں(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١٠٩٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي، قَالَ: وَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، فَقَالَ لِي أَبِي: اضْرِبْ بِكَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، قَالَ: ثُمَّ فَعَلْتُ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَضَرَبَ يَدَيَّ وَقَالَ: إِنَّا نُهِينَا عَنْ هَذَا، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالْأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1097

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٠٩٧ کی مثل مروی ہے۔البتہ آخر کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١٠٩٨)

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ: فَنُهِينَا عَنْهُ، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1098

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رکوع کیا تو میں نے ہاتھوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھا میرے والد نے فرمایا ہم بھی اسی طرح کرتے تھے۔پھر گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١٠٩٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: رَكَعْتُ فَقُلْتُ بِيَدَيَّ هَكَذَا - يَعْنِي طَبَّقَ بِهِمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ - فَقَالَ أَبِي: «قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا بِالرُّكَبِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1099

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے اپنے والد(حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں نماز پڑھی جب میں رکوع کرتا تو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر رانوں کے درمیان رکھتا میرے والد نے میرے ہاتھ پر(ہاتھ)مارا جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا ہم اسی طرح کرتے تھے پھر ہمیں حکم گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الْأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١١٠٠

حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي، فَلَمَّا رَكَعْتُ شَبَّكْتُ أَصَابِعِي وَجَعَلْتُهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، فَضَرَبَ يَدَيَّ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: «قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَ إِلَى الرُّكَبِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1100

حضرت طاؤس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایڑیوں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ سنت ہے۔ہم نے کہا کہ ہمارے لئے اس میں مشقت ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا بلکہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔(احناف کے نزدیک دو سجدوں کے درمیان اور قعدے میں بھی دایاں پاؤں کھڑا کرکے اور بائیں پاؤں کو بچھاکر بیٹھنا سنت ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْإِقْعَاءِ عَلَى الْعَقِبَيْنِ؛ترجمہ؛نماز میں ایڑیوں پر بیٹھنا؛جلد١ص٣٨٠؛حدیث نمبر ١١٠١)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَا: جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ، فَقَالَ: «هِيَ السُّنَّةُ»، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1101

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اس دوران کے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی۔میں نے"یرحکم اللہ"کہا تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا۔میں نے کہا کاش میری ماں مجھے نہ پاتی(مرچکا ہوتا)یہ لوگ مجھے اس طرح کیوں گھور رہے ہیں۔چنانچہ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے۔جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے اور میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔میں نے آپ سے پہلے اور بعد میں آپ جیسا معلم کوئی نہیں دیکھا۔اللہ کی قسم!آپ نے نہ تو مجھے جھڑکا نہ مارا اور نہ برا بھلا کہا۔پھر فرمایا اس میں لوگوں کے کلام سے کوئی بات مناسب نہیں۔یہ تو تسبیح،تکبیر قرآن مجید کی قرأت ہے یا جیسا آپ نے فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول میں دور جاہلیت کے قریب ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اسلام سے سرفراز فرمایا اور ہم میں سے کچھ لوگ نجومیوں کے پاس جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا ان کے پاس نہ جایا کرو۔انہوں نے عرض کیا۔ہم میں سے کچھ لوگ بدفالی لیتے ہیں۔فرمایا یہ من گھڑت باتیں ہیں ان کے پاس نہ جانا۔فرماتے ہیں ہم میں سے کچھ لوگ رائچے بناتے ہیں۔فرماتے ہیں انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی رائچے بناتے تھے جس شخص کا عمل اس کے مطابق ہو وہ صحیح تھے۔حضرت معاویہ بن حکم فرماتے ہیں میرے یہاں ایک لونڈی تھی جو احد کی طرف میری بکریاں چراتی تھی۔ایک دن میں وہاں گیا تو(دیکھا کہ)ایک بھیڑیا ان بکریوں میں سے ایک بکری کو لے گیا اور میں بھی ایک انسان ہوں مجھے بھی دوسرے لوگوں کی طرح غصہ آتا ہے تو میں اسے تھپڑ ماردیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے میرے اس عمل کو بڑا جرم قرار دیا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں اس کو آزاد نہ کردوں۔آپ نے فرمایا اسے میرے پاس لاؤ۔پس میں نے آپکی خدمت میں اسے حاضر کردیا تو آپ نے اس سے پوچھا اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟اس نے کہا آسمان میں۔فرمایا میں کون ہوں؟اس نے عرض کیا۔آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو آزاد کر دو کیونکہ یہ ایمان والی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛ترجمہ؛نماز میں گفتگو کرنا حرام ہے؛جلد١ص٣٨١؛حدیث نمبر ١١٠٢) (اس حدیث پاک سے غیر مقلدین استدلال کرتے ہیں کہ اللہ عرش پر ہے جبکہ اس حدیث میں عرش کا لفظ نہیں آسمان کا لفظ ہے اب غیر مقلدین سے پوچھا جائے کہ آسمان و عرش دونوں ایک ہے کیا؟اگر ہاں تو آسمان و عرش کے ایک ہونے پر دلیل لاؤ اگر نہیں تو پھر مانو کے اللہ تعالیٰ کی طرف کسی جگہ کی نسبت صرف اور صرف تشریفی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے مسجد کے متعلق کہ مسجد بیت اللہ ہے یعنی اللہ کا گھر ہے جبکہ اللہ کا کوئی گھر نہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ گھر سے پاک ہے لیکن مسجد کو اللہ کا گھر کہا جاتا ہے تو اس جگہ عقیدہ درست یہ ہیکہ اللہ زمان و مکان سے پاک ہے کیونکہ اللہ زمان و مکان سے بھی پہلے ہے

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ - قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهْ، مَا شَأْنُكُمْ؟ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ، فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، فَوَاللهِ، مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي، قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ» أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَ اللهُ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: «فَلَا تَأْتِهِمْ» قَالَ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: " ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ - قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ - " قَالَ قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ» قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ، آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: «ائْتِنِي بِهَا» فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ اللهُ؟» قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: «أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1102

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٠٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٢؛حدیث نمبر ١١٠٣)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1103

حضرت علقمہ،حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہیں اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے۔آپ ہمیں جواب دیتے جب ہم نجاشی بادشاہ کے پاس سے واپس آئے تو سلام عرض کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا۔ہم نے عرض کیا یا رسول!ہم نماز میں آپکی خدمت میں سلام عرض کرتے تھے تو آپ ہمیں جواب دیتے۔آپ نے فرمایا نماز میں مشغولیت ہونی چاہیے۔(مطلب یہ ہے کہ تمام توجہ نماز کی طرف ہو کسی دوسری طرف توجہ نہ ہو)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٢؛حدیث نمبر ١١٠٤)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ، سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1104

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٠٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٣؛حدیث نمبر ١١٠٥)

حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1105

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نماز میں کلام کیا کرتے تھے۔نمازی اپنے پہلو میں کھڑے ساتھی سے گفتگو کرتا حتیٰ کہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔{وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨](اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے ہوجاؤ)تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور گفتگو سے منع کر دیا گیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ،وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٣؛حدیث نمبر ١١٠٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:: " كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى نَزَلَتْ {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ، وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1106

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٠٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٣؛حدیث نمبر ١١٠٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1107

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لئے بھیجا پھر میں نے آپ کو سواری پر حالت نماز(نفل نماز)میں پایا۔میں نے سلام عرض کیا تو آپ نے مجھے اشارہ سے جواب دیا جب فراغت ہوئی تو مجھے بلایا اور فرمایا ابھی تم نے سلام کیا اور میں نماز پڑھ رہا تھا اس وقت آپ مشرق کی طرف متوجہ تھے۔(چونکہ سواری پر نفل نماز پڑھ رہے تھے اس لئے قبلہ رخ ہونا ضروری نہ تھا بلکہ سواری جدھر متوجہ ہو نیز نمازی کو سلام نہیں کرنا چاہیے اور اگر کوئی سلام کرے تو نماز کے اندر جواب نہ دیا جائے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٣؛حدیث نمبر ١١٠٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ - قَالَ قُتَيْبَةُ: يُصَلِّي - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ: «إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي» وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1108

ایک اور سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا اور آپ بنی مصطلق کی طرف جارہے تھے۔میں حاضر ہوا تو آپ اپنے اونٹ پر(نفل)نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپ سے گفتگو کی۔آپ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا۔حضرت زہیر(راوی) نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا حضرت جابر فرماتے ہیں میں نے پھر گفتگو کی تو آپ نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سن رہا تھا اور آپ سر سے اشارہ کر رہے تھے جب فارغ ہوئے تو فرمایا میں نے تمہیں جس کام کے لئے بھیجا تھا اس کا کیا ہوا(اور فرمایا)مجھے تمہارے ساتھ گفتگو سے صرف یہ رکاوٹ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔زہیر راوی فرماتے ہیں حضرت ابوالزبیر(راوی)قبلہ رخ تھے۔انہوں نے اشارے سے بتایا کہ بنو مصطلق قبلہ رخ نہیں تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٣؛حدیث نمبر ١١٠٩)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ هَكَذَا - وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ - ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ لِي هَكَذَا - فَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الْأَرْضِ - وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ، يُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي» قَالَ زُهَيْرٌ: وَأَبُو الزُّبَيْرِ جَالِسٌ مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَقَالَ: بِيَدِهِ إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1109

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم(ایک سفر میں)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو آپ نے مجھے ایک کام کے لئے بھیجا میں واپس آیا تو آپ سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا رخ قبلہ کی طرف نہیں تھا۔میں نے سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا جب سلام پھیرا تو فرمایا مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے میں صرف یہ بات مانع تھی کی میں نماز پڑھ رہا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٤؛حدیث نمبر ١١١٠)

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ، فَرَجَعْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَوَجْهُهُ عَلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1110

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١١٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ تَحْرِيمِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ؛جلد١ص٣٨٤؛حدیث نمبر ١١١١)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1111

حضرت ابن زیاد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ایک سرکش جن مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی تاکہ میری نماز توڑ دے اور اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں دے دیا اور میں نے اسے سخت دھکا دیا۔میں نے ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون میں باندھ دوں حتیٰ کہ صبح تک تم اس کو دیکھتے۔پھر مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آگیا:{رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي} [ص: ٣٥](اے میرےرب مجھے معاف کردے اور مجھے ایسی بادشاہی عطاء فرما جو میرے بعد کسی کے لیے نہ ہو)تو اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ذلیل ورسوا کر کے واپس کردیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ لَعْنِ الشَّيْطَانِ فِي أَثْنَاءِ الصَّلَاةِ، وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ وَجَوَازِ الْعَمَلِ الْقَلِيلِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں شیطان پر لعنت بھیجنا اور اس سے پناہ مانگنا نیز عمل قلیل کا حکم؛جلد١ص٣٨٤؛حدیث نمبر ١١١٢)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ جَعَلَ يَفْتِكُ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ، لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ، وَإِنَّ اللهَ أَمْكَنَنِي مِنْهُ فَذَعَتُّهُ، فَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى تُصْبِحُوا تَنْظُرُونَ إِلَيْهِ أَجْمَعُونَ - أَوْ كُلُّكُمْ - ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: {رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي} [ص: ٣٥]، فَرَدَّهُ اللهُ خَاسِئًا " وقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ: شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ. ح

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1112

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١١٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ لَعْنِ الشَّيْطَانِ فِي أَثْنَاءِ الصَّلَاةِ، وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ وَجَوَازِ الْعَمَلِ الْقَلِيلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٤؛حدیث نمبر ١١١٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ قَوْلُهُ: فَذَعَتُّهُ، وَأَمَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ: فَدَعَتُّهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1113

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ سے سنا آپ یوں فرما رہے تھے میں تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں۔پھر فرمایا میں تجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجتا ہوں تین بار فرمایا اور آپ نے اپنے دست مبارک کو بڑھایا۔گویا آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نےعرض کیا یا رسول اللہ ہم نے آپ سے سنا آپ نماز میں کچھ فرما رہے تھے اس سے پہلے ہم نے اس طرح آپ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھ کو بڑھایا۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر مارے تو میں نے تین بار اللہ کی پناہ طلب کی۔پھر میں نے کہا میں تجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کرتا ہوں جو مکمل لعنت ہے۔وہ تینوں بار پیچھے نہ ہٹا پھر میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں۔اللہ کی قسم !اگر ہمارے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی(جو پچھلی حدیث میں گزر چکی ہے)تو صبح وہ قید ہوتا اور مدینہ طیبہ کے بچے اس سے کھیلتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ لَعْنِ الشَّيْطَانِ فِي أَثْنَاءِ الصَّلَاةِ، وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ وَجَوَازِ الْعَمَلِ الْقَلِيلِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٥؛حدیث نمبر ١١١٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ» ثُمَّ قَالَ «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ» ثَلَاثًا، وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ، وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ، قَالَ: " إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ، جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ، وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1114

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور آپ نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی حضرت امامہ کو اٹھایا ہوتا۔(حضرت زینب کے خاوند حضرت ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ تھے) جب آپ کھڑے ہوتے تو اس(بچی)کو اٹھا لیتے اور جب سجدہ کرتے تو نیچے رکھ دیتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ حَمْلَ الصِّبْيَانِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز کو بچوں کو اٹھانا اور عمل قلیل سے نماز باطل نہیں ہوتی؛جلد١ص٣٨٥؛حدیث نمبر ١١١٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ: حَدَّثَكَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِأَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا وَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا؟» قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِكٌ: نَعَمْ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1115

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور امامہ بنت العاص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی تھیں کو کندھے پر اٹھایا ہوا تھا۔آپ جب رکوع کرتے تو اسے نیچے رکھ دیتے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اسے اٹھا لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ حَمْلَ الصِّبْيَانِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٥؛حدیث نمبر ١١١٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَابْنِ عَجْلَانَ سَمِعَا عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ وَهِيَ ابْنَةُ زَيْنَبَ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَاتِقِهِ، فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ أَعَادَهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1116

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صحابہ کرام کی امامت فرما رہے تھے اور حضرت امامہ بنت العاص رضی اللہ عنہ آپ کے کندھے پر تھیں جب سجدہ کرتے تو اسے نیچے رکھ دیتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ حَمْلَ الصِّبْيَانِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٦؛حدیث نمبر ١١١٧)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لِلنَّاسِ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عُنُقِهِ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1117

حضرت عمرو بن سلیم زرقی سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔فرماتے ہیں ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس کے بعد حدیث نمبر ١١١٧ کی طرح ہے البتہ اس میں امامت کا ذکر نہیں ہے۔(نماز میں عمل قلیل جائز ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل بھی عمل قلیل تھا اس سے نماز نہیں ٹوٹتی عمل کثیر جس میں دونوں ہاتھوں کو چھوڑا جائے یا نماز کے کسی ایک رکن میں ایک ہاتھ سے تین مرتبہ حرکت ہو اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ حَمْلَ الصِّبْيَانِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٦؛حدیث نمبر ١١١٨)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ جَمِيعًا، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ، خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ أَمَّ النَّاسَ فِي تِلْكَ الصَّلَاةِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1118

حضرت عبد العزيز بن ابی حازم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوۓ اور وہ منبر شریف کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے کہ وہ کس لکڑی سے بنا ہوا ہے تو انہوں نے فرمایا سنو!قسم بخدا مجھے معلوم ہے یہ کس لکڑی سے بنایا گیا ہےاور اسے کس نے بنایا ہے اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ پہلے دن اس پر تشریف فرما ہوۓ۔ابو حازم فرماتے ہیں میں نے کہا اے ابو عباس!ہم سے بیان کیجئے۔فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو پیغام بھیجا۔ابو حازم کہتے ہیں انہوں نے(اس دن اس عورت کا نام بھی لیا تھا)تو آپ نے فرمایا کہ اپنے لڑکے سے کہو کہ وہ میرے لیے لکڑی کا منبر بنا دے تاکہ میں اس پر(کھڑا ہوکر)لوگوں سے گفتگو کر سکوں تو اس نے تین سیڑھیوں والا منبر بنایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کو اس جگہ رکھ دیا گیا اور یہ مقام غابہ کے جھاؤ سے بنایا گیا تھا۔میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوۓاور تکبیر کہی۔صحابہ کرام نے بھی آپ کے پیچھے تکبیر اور آپ منبر پر ہی تھے۔پھر آپ الٹے پاؤں نیچے اتر آئے حتیٰ کہ منبر کے پاس سجدہ کیا۔پھر اوپر تشریف لے گئے۔حتیٰ کہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔میں نے یہ عمل اس لئے کیا کہ تم میری اقتداء کرو اور مجھ سے نماز سیکھو۔(آپ نے تعلیم کے طور پر ایسا کیا اور چونکہ منبر پر سجدہ نہیں ہوسکتا تھا اس لئے سجدے کے لئے نیچے اترے اور یہ عمل کثیر چونکہ متفرق تھا اس لئے نماز ٹوٹنے کا باعث نہ ہوا(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ جَوَازِ الْخُطْوَةِ وَالْخُطْوَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛ضرورت کے تحت نماز میں ایک دو قدم چلنا نیز امام کا مقتدیوں سے بلند مقام پر کھڑا ہونا؛جلد١ص٣٨٦؛حدیث نمبر ١١١٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ نَفَرًا جَاءُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَدْ تَمَارَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ، وَمَنْ عَمِلَهُ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ، قَالَ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، فَحَدِّثْنَا، قَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ - قَالَ أَبُو حَازِمٍ: إِنَّهُ لَيُسَمِّيَهَا يَوْمَئِذٍ - «انْظُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ، يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا أُكَلِّمُ النَّاسَ عَلَيْهَا» فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوُضِعَتْ هَذَا الْمَوْضِعَ، فَهِيَ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ. وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَيْهِ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ وَرَاءَهُ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ رَفَعَ فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1119

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١١١٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْخُطْوَةِ وَالْخُطْوَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٧؛حدیث نمبر١١٢٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1120

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنی کوکھ پر ہاتھ رکھے ہوئے نماز پڑھے۔(چونکہ یہ یہودیوں کا طریقہ تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مشابہت سے منع فرماتے تھے۔اس لئے آپ منع فرماۓ) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الْاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنا مکروہ ہے؛جلد١ص٣٨٧؛حدیث نمبر١١٢١)

وحَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا» وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1121

حضرت ابوسلمہ،حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ گاہ سے کنکڑیاں ہٹانے کے بارے میں فرمایا۔اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ مَسْحِ الْحَصَى وَتَسْوِيَةِ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز میں کنکریوں کو برابر کرنا اور مٹی ہٹانا مکروہ ہے؛جلد١ص٣٨٧؛حدیث نمبر١١٢٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْحَ فِي الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْحَصَى قَالَ: «إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1122

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں مٹی ہٹانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ایک بار ایسا کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة؛بَابُ كَرَاهَةِ مَسْحِ الْحَصَى وَتَسْوِيَةِ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٨؛حدیث نمبر١١٢٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَسْحِ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: «وَاحِدَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1123

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١١٢٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة؛بَابُ كَرَاهَةِ مَسْحِ الْحَصَى وَتَسْوِيَةِ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٨؛حدیث نمبر١١٢٤)

وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِيهِ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ ح

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1124

ایک اور سند کے ساتھ حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے جو نماز میں سجدے کے وقت مٹی کو برابر کرتا ہے۔فرمایا اگر ایسا کرنا ضروری ہوتو ایک بار کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة؛بَابُ كَرَاهَةِ مَسْحِ الْحَصَى وَتَسْوِيَةِ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٣٨٨؛حدیث نمبر١١٢٥)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ، قَالَ: «إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1125

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ شریف کی دیوار میں تھوک دیکھا تو اسے کھرچ دیا پھر صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا۔جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو سامنے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛ترجمہ؛مسجد میں تھوکنے کی ممانعت؛جلد١ص٣٨٨؛ حدیث نمبر١١٢٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَإِنَّ اللهَ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1126

متعدد اسناد ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے مسجد کے قبلہ کی طرف بلغم دیکھی۔آگے حدیث نمبر١١٢٦ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٨؛حدیث نمبر١١٢٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، إِلَّا الضَّحَّاكُ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ: نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1127

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھی تو اسے کنکری کے ساتھ کھرچ دیا۔پھر اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنی دائیں جانب یا سامنے تھوکے بلکہ فرمایا کہ بائیں جانب یا قدموں کے نیچے تھوکے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛حدیث نمبر١١٢٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ، ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ أَمَامَهُ، وَلَكِنْ يَبْزُقُ، عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى» ح

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1128

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١١٢٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛حدیث نمبر١١٢٩)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1129

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ شریف کی دیوار میں تھوک یا بلغم یا رینٹھ دیکھی تو اسے کھرچ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛ حدیث نمبر١١٣٠)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ، أَوْ مُخَاطًا أَوْ نُخَامَةً فَحَكَّهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1130

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا تم میں سے اس شخص کا کیا حال ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اپنے سامنے تھوکتا ہے جب تم میں سے کوئی ایک تھوکے تو اپنی بائیں جانب پاؤں کے نیچے تھوکے اگر ایسا نہ کر سکے تو یوں کرے قاسم راوی نے اپنے کپڑے میں تھوک کر بتایا پھر اس کو آپس میں مل لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛حدیث نمبر١١٣١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ؟ فَإِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَنَخَّعْ عَنْ يَسَارِهِ، تَحْتَ قَدَمِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَقُلْ هَكَذَا» وَوَصَفَ الْقَاسِمُ فَتَفَلَ فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ مَسَحَ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1131

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی مثل مروی ہے اور وہ فرماتے ہیں-گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے کو باہم مل رہے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛ حدیث نمبر١١٣٢)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ ثَوْبَهُ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1132

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک نماز میں ہو تو وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے۔پس وہ اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ اپنی بائیں جانب اور پاؤں کے نیچے تھوکے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٩٠؛حدیث نمبر١١٣٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1133

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اس کو دفن کرنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٩٠؛ حدیث نمبر١١٣٤)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1134

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١١٣٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٩٠؛حدیث نمبر١١٣٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ قَتَادَةَ، عَنِ التَّفْلِ، فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1135

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ فرماتے ہیں مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کئے گئے پس میں نے ان کے اچھے اعمال میں راستے سے اذیت ناک چیز کو ہٹانے کا عمل پایا اور ان کے برے اعمال میں وہ بلغم دیکھی جو مسجد میں ہو اور اس کو دور نہ کیاجائے(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٩٠؛ حدیث نمبر١١٣٦)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا، فَوَجَدْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، وَوَجَدْتُ فِي مَسَاوِي أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ، لَا تُدْفَنُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1136

حضرت عبد اللہ بن شخير رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی تو میں نے دیکھا کہ آپ نے تھوکنے کے بعد جوتے سے رگڑ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٩٠؛حدیث نمبر١١٣٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُ تَنَخَّعَ فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1137

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن شخّير سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے تھوکنے کے بعد اسے بائیں جانب سے جوتے سے مل دیا۔(چونکہ اس وقت مسجد میں پکا فرش نہ تھا اور نہ ہی دری وغیرہ تھی بلکہ نیچے ریت تھی اس لیے وہ اس میں جزب ہوگیا لیکن مسجد کے فرش یا دریوں قالینوں پر ایسا نہیں کر سکتے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا؛جلد١ص٣٨٩؛ حدیث نمبر١١٣٨)

وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ «صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَنَخَّعَ فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ الْيُسْرَى»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1138

حضرت ابوسلمہ سعید بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعلین پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے؟تو انہوں نے فرمایا ہاں۔(اگر جوتے صاف پاک ہوں تو ان میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ورنہ جوتے اتارکر نماز پڑھنا ہوگی۔) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلَيْنِ؛ترجمہ؛جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھنا؛جلد١ص٣٩١؛حدیث نمبر١١٣٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ» قَالَ: نَعَمْ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1139

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٣٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلَيْنِ؛جلد١ص٣٩١؛حدیث نمبر١١٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا، بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1140

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش ونگار تھے تو فرمایا اس کے نقش ونگار نے میری توجہ کو اپنی طرف کر لیا۔اسے حضرت ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور سادہ چادر لاؤ اور اس نے میری نماز سے توجہ ہٹا دیا۔(چونکہ یہ چادر حضرت ابوجہم نے آپ کو بطور ہدیہ پیش کی تھی اس لیے آپ نے وہ چادر واپس بھیج کر ان سے سادہ چادر منگوائی تاکہ ان کی دل شکنی بھی نہ ہو کہ میرا ہدیہ رد کردیا گیا۔) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛ترجمہ؛بیل بوٹوں والے کپڑوں میں نماز کی کراہت؛جلد١ص٣٩١؛حدیث نمبر١١٤١)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، وَقَالَ: «شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ فَاذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1141

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نقش ونگار والی چادر اوڑھ کر نماز پڑھنے لگے۔نماز میں آپ کی نظر اس کے نقوش پر پڑی۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا یہ چادر ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور ان کی چادر مجھے لادو اس چادر نے میری توجہ میں خلل ڈال دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩١؛حدیث نمبر١١٤٢)

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي خَمِيصَةٍ ذَاتِ أَعْلَامٍ، فَنَظَرَ إِلَى عَلَمِهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: «اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْخَمِيصَةِ إِلَى أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ، وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا فِي صَلَاتِي»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1142

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چادر تھی اس کی وجہ سے نماز میں آپ کی توجہ بٹ جاتی تھی تو آپ نے وہ چادر حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ کو دے دی اور ان کی سادہ چادر لے لی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ خَمِيصَةٌ لَهَا عَلَمٌ، فَكَانَ يَتَشَاغَلُ بِهَا فِي الصَّلَاةِ، فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ وَأَخَذَ كِسَاءً لَهُ أَنْبِجَانِيًّا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1143

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جب کھانا حاضر ہو(اور بھوک لگی ہوئی ہے)اور نماز کھڑی ہوجاۓ تو پہلے کھانا کھاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ بِحَضْرَةِ الطَّعَامَ الَّذِي يُرِيدُ أَكْلَهُ فِي الْحَالِ وَكَرَاهَةِ الصَّلَاةِ مَعَ مُدَافَعَةِ الْأَخْبَثَيْنِ؛ترجمہ؛کھانے کی طلب اور پیشاب کی حاجت کے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٤)

أَخْبَرَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1144

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کھانا قریب کردیا گیا اور جماعت کھڑی ہونے والی ہوتو نماز مغرب سے پہلے کھانا کھاؤ اور کھانے سے پہلے نماز کی جلدی نہ کرو۔(یہ اس صورت میں ہے جب کھانے کی حاجت ہو تاکہ نماز میں توجہ کھانے کی طرف نہ رہے ورنہ پہلے نماز پڑھی جائے)مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ بِحَضْرَةِ الطَّعَامَ الَّذِي يُرِيدُ أَكْلَهُ فِي الْحَالِ وَكَرَاهَةِ الصَّلَاةِ مَعَ مُدَافَعَةِ الْأَخْبَثَيْنِ؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٥)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا قُرِّبَ الْعَشَاءُ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، وَلَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1145

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١١٤٥ کی مثل مروی ہے۔((مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَحَفْصٌ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1146

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی ایک کے سامنے کھانا رکھا جائے پس نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھاؤ اور جلدی نہ کرو۔حتیٰ کہ(کھانے سے)فارغ ہو جاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٧)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لَهُ -، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ، وَلَا يَعْجَلَنَّ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1147

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١١٤٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٢؛حدیث نمبر١١٤٨)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَيُّوبَ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1148

حضرت ابن ابی عتیق فرماتے ہیں اور حضرت قاسم بن محمد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک حدیث بیان کرنے لگے اور حضرت قاسم(حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے تھے)بہت باتونی تھے اور وہ ایک ام ولد کے بیٹے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ تم میرے بھتیجے کی طرح باتیں نہیں کرتے۔میں جانتی ہوں تم کہاں سے آئے ہو اس کو اس کی ماں نے ادب سکھایا ہے اور تمہاری ماں نے تمہاری تربیت کی ہے۔راوی فرماتے ہیں۔اس پر حضرت قاسم کو غصہ آگیا اور ام المومنین سے اپنے رنج کا اظہار کیا۔جب دیکھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا دسترخوان آگیا ہے تو کھڑے ہو گئے۔ام المؤمنين نے پوچھا کہاں؟نماز پڑھتا ہوں۔فرمایا بیٹھو۔انہوں نے عرض کیا میں نے نماز پڑھنا ہے۔بے وفا بیٹھ جاؤ۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا کھانا حاضر ہو قضائے حاجت کی شدت ہوتو نماز پڑھنا درست نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٣؛حدیث نمبر١١٤٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ، قَالَ: تَحَدَّثْتُ أَنَا وَالْقَاسِمُ، عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، حَدِيثًا وَكَانَ الْقَاسِمُ رَجُلًا لَحَّانَةً وَكَانَ لِأُمِّ وَلَدٍ، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: مَا لَكَ لَا تَحَدَّثُ كَمَا يَتَحَدَّثُ ابْنُ أَخِي هَذَا، أَمَا إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ مِنْ أَيْنَ أُتِيتَ هَذَا أَدَّبَتْهُ أُمُّهُ، وَأَنْتَ أَدَّبَتْكَ أُمُّكَ، قَالَ: فَغَضِبَ الْقَاسِمُ وَأَضَبَّ عَلَيْهَا، فَلَمَّا رَأَى مَائِدَةَ عَائِشَةَ، قَدْ أُتِيَ بِهَا قَامَ، قَالَتْ: أَيْنَ؟ قَالَ: أُصَلِّي، قَالَتْ: اجْلِسْ، قَالَ: إِنِّي أُصَلِّي، قَالَتْ: اجْلِسْ غُدَرُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1149

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٤٩ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں حضرت قاسم کا قصہ مذکور نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ لَهُ أَعْلَامٌ؛جلد١ص٣٩٣؛حدیث نمبر١١٥٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَزْرَةَ الْقَاصُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ قِصَّةَ الْقَاسِمِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1150

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر فرمایا جو شخص اس پودے یعنی لہسن سے کھاے وہ ہر گز مساجد میں نہ آئے۔حضرت زہیر کی روایت میں غزوہ کا ذکر ہے خیبر کا نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛لہسن وغیرہ کھاکر مسجد میں جانا مکروہ ہے؛جلد١ص٣٩٣؛حدیث نمبر١١٥١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ - يَعْنِي الثُّومَ - فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ» قَالَ زُهَيْرٌ: فِي غَزْوَةٍ وَلَمْ يَذْكُرْ خَيْبَرَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1151

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی اس سبزی سے کھاے وہ ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے حتیٰ کہ اس کی بو چلی جائے اس سے لہسن مراد ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٤؛حدیث نمبر١١٥٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسَاجِدَنَا، حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا» يَعْنِي الثُّومَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1152

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لہسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص اس پودے سے کھاے وہ ہر گز ہماری مسجد میں نہ آئے اور نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٤؛حدیث نمبر١١٥٣)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ الثُّومِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ مَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّا، وَلَا يُصَلِّي مَعَنَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1153

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس پودے(لہسن)سے کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور لہسن کی بو سے ہمیں تکلیف نہ پہنچائے(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٤؛حدیث نمبر١١٥٤)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: - حَدَّثَنَا عَبْدٌ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، وَلَا يُؤْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1154

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاز اور گندم کھانے سے منع فرمایا۔پس ہم ضرورت سے مغلوب ہوکر اس سے کھایا تو آپ نے فرمایا جس نے ان بدبودار درختوں سے کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو اس چیز سے اذیت پہنچتی ہے جس سے انسانوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٤؛حدیث نمبر١١٥٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ، فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا، فَقَالَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى، مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1155

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لہسن یا پیاز کھاے تو وہ ہم سے دور رہے یا فرمایا ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھ جاے اور ایک ہنڈیا لائی گئی جس میں ساگ کی سبزیاں تھیں تو آپ نے بو محسوس کرتے ہوئے پوچھا۔آپ کو بتایا گیا کہ اس میں کونسی سبزیاں ہے تو آپ نے ایک صحابی کے قریب کرنے کا حکم دیا جب آپ نے دیکھا کہ وہ اسے کھانا پسند نہیں کرتا تو فرمایا کھاؤ میں اس ذات سے مناجات کرتا ہوں جس سے تم نہیں ڈرتے۔(معلوم ہوا کہ لہسن وغیرہ سالن میں پکا ہوا ہو تو اس کو کھاکر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔کیونکہ کچے لہسن والی صورت باقی نہیں رہتی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بعض احکام مخصوص ہیں آپ نے خود فرمایا کہ میں اپنے رب سے مناجات کرتا ہوں لہذا میرے لئے اس طرح بھی کھانا مناسب نہیں)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٤؛حدیث نمبر١١٥٦)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَفِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا، فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ» وَإِنَّهُ أُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: «قَرِّبُوهَا» إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: «كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1156

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جس نے اس سبزی یعنی لہسن سے کھایا کبھی فرمایا کہ پیاز،لہسن اور گندنا کھایا تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو بھی اس چیز سے اذیت ہوتی ہے جس سے انسانوں کو اذیت پہنچتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٥؛حدیث نمبر١١٥٧)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ، الثُّومِ - وقَالَ مَرَّةً: مَنْ أَكَلَ الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَالْكُرَّاثَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1157

اسی سند کے ساتھ یوں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس درخت سے کھایا آپ کی مراد لہسن تھی تو وہ ہماری مسجد کو نہ ڈھائے(نہ آئے)اس میں پیاز اور گندنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٥؛حدیث نمبر١١٥٨)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا: جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يُرِيدُ الثُّومَ فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسْجِدِنَا وَلَمْ يَذْكُرِ الْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1158

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم واپس نہیں ہوے تھے کہ خیبر کا قلعہ فتح ہوگیا۔ہمارے ساتھی جو بھوکے تھے ان سبزیوں لہسن اور پیاز پر ٹوٹ پڑے اور ہم نے اچھی طرح کھایا۔پھر ہم مسجد کی طرف گئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بومحسوس فرمائی تو فرمایا جس نے اس خبیث پودے سے کچھ کھایا ہے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اس پر لوگوں نے کہا لہسن حرام ہوگیا ہے۔آپ تک یہ بات پہنچی تو فرمایا اے لوگو!میں اللہ کے حلال کئے ہوئے حرام نہیں کر سکتا لیکن یہ ایک درخت ہے جسے کھانا مجھے ناپسند ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٥؛حدیث نمبر١١٥٩)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ فَوَقَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْبَقْلَةِ الثُّومِ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ فَقَالَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا، فَلَا يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ» فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ، حُرِّمَتْ، فَبَلَغَ ذَاكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ بِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لِي، وَلَكِنَّهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1159

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیاز کی ایک کھیتی سے گزرے صحابہ کرام بھی ہمراہ تھے۔انہوں نے اتر کر اس سے کھانا شروع کیا اور کچھ حضرات نے نہ کھایا۔ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو بلایا جنہوں نے پیاز نہیں کھایا تھا اور دوسروں کو اس وقت تک نہ بلایا جب تک اس کی بو نہ چلی گئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٥؛حدیث نمبر١١٦٠)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى زَرَّاعَةِ بَصَلٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَنَزَلَ نَاسٌ مِنْهُمْ فَأَكَلُوا مِنْهُ. . وَلَمْ يَأْكُلْ آخَرُونَ، فَرُحْنَا إِلَيْهِ فَدَعَا الَّذِينَ لَمْ يَأْكُلُوا الْبَصَلَ وَأَخَّرَ الْآخَرِينَ، حَتَّى ذَهَبَ رِيحُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1160

حضرت معدان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا میں دیکھتا ہوں گویا ایک مرغ ہے جس نے مجھے تین بار چونچ ماری اور میرا خیال ہے کہ میری موت قریب آگئی ہے اور کچھ لوگ مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ اپنا خلیفہ مقرر کروں اور اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور آپ کی خلافت کو ضائع نہیں کرےگا۔اگر میرا وصال جلدی ہوگیا تو ان چھ حضرات کے باہمی مشورہ سے ان میں سے کسی کو خلیفہ مقرر کر لینا جن سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر راضی رہے مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ اس معاملے میں طعنہ زنی کریں جن سے میں نے اسلام کے حوالے سے جہاد کیا ہے۔اگر وہ ایسا کرے تو اللہ تعالیٰ کے دشمن،کافر گمراہ ہیں۔میں کلالہ سے اہم معاملہ چھوڑ کر نہیں جارہا۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس قدر کلالہ کے بارے میں پوچھا اس قدر کسی دوسری بات کے بارے میں نہیں پوچھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں جس قدر سختی فرمائی اتنی سختی کسی مسئلے کے بارے میں نہیں فرمائی حتیٰ کہ آپ نے اپنی انگلی میرے سینے میں مار کر فرمایا اے عمر!کیا تمہاری تسلی کے لئے سورہ نساء کی وہ آیت جو گرمیوں میں نازل ہوئی۔اگر میں زندہ رہا تو کلالہ کی ایسی تفسیر کر کے جاؤں کہ اس کے بارے میں وہ بھی فیصلہ کرے گا جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ بھی جو قرآن نہیں پڑھتا۔پھر فرمایا یااللہ!میں تجھے گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے شہروں میں حکمران اس لئے مقرر کئے ہیں تاکہ وہ ان سے انصاف کریں ان کو انکا دین اور نبی کی سنت سکھائیں ان میں مال غنیمت تقسیم کریں اور جو مسئلہ ان کو مشکل معلوم ہو اس کے لئے مجھ سے رجوع کریں۔پھر اے لوگو!تم دو پودوں سے کھاتے ہو حالانکہ میں ان کو خبیث سمجھتا ہوں یہ پیاز اور لہسن ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ مسجد میں کسی شخص سے یہ بو محسوس کرتے تو آپ اس کو بقیع کی طرف نکالنے کا حکم دیتے۔پس جو شخص ان کو کھاے تو پکانے کے ذریعے ان کی بو کو ختم کردے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٦؛حدیث نمبر١١٦١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَذَكَرَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ، وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا حُضُورَ أَجَلِي، وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِي أَنَّ أَسْتَخْلِفَ، وَإِنَّ اللهَ لَمْ يَكُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ، وَلَا خِلَافَتَهُ، وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ، فَالْخِلَافَةُ شُورَى بَيْنَ هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ، الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، وَإِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا يَطْعَنُونَ فِي هَذَا الْأَمْرِ، أَنَا ضَرَبْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ فَأُولَئِكَ أَعْدَاءُ اللهِ، الْكَفَرَةُ الضُّلَّالُ، ثُمَّ إِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنَ الْكَلَالَةِ، مَا رَاجَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْكَلَالَةِ، وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ، حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي، فَقَالَ: «يَا عُمَرُ أَلَا تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ؟» وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ، يَقْضِي بِهَا مِنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ عَلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ، وَإِنِّي إِنَّمَا بَعَثْتُهُمْ عَلَيْهِمْ لِيَعْدِلُوا عَلَيْهِمْ، وَلِيُعَلِّمُوا النَّاسَ دِينَهُمْ، وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقْسِمُوا فِيهِمْ فَيْئَهُمْ، وَيَرْفَعُوا إِلَيَّ مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَمْرِهِمْ، ثُمَّ إِنَّكُمْ، أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لَا أَرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ، هَذَا الْبَصَلَ وَالثُّومَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ فِي الْمَسْجِدِ، أَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1161

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٦١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا؛جلد١ص٣٩٧؛حدیث نمبر١١٦٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلَاهُمَا عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1162

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی کسی شخص سے سنے کہ وہ مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتا ہے تو وہ کہے اللہ تعالیٰ تیری طرف نہ لوٹائے مساجد ان کاموں کے لئے نہیں بنائی گئی ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ؛ترجمہ؛مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان؛جلد١ص٣٩٧؛حدیث نمبر ١١٦٣)

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ لَا رَدَّهَا اللهُ عَلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1163

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١١٦٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ؛جلد١ص٣٩٧؛حدیث نمبر ١١٦٤)

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَسْوَدِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى شَدَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1164

حضرت سلیمان بن یزید رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتےہیں کہ ایک شخص نے مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے کہا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے نہ ملے مساجد صرف انہی کاموں کے لئے ہیں جن کے لئے بنائی گئی ہیں۔((مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ؛جلد١ص٣٩٧؛حدیث نمبر ١١٦٥)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا نَشَدَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1165

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ چکے تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا میرا سرخ اونٹ کون لاکر دے گا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نہ پائے مساجد ان مقاصد کے لیے بنائی گئی ہے جن کے لئے بنائی گئی۔(مطلب یہ ہے کہ مساجد تو عبادت اور ذکر الٰہی کے لئے بنائی گئیں گمشدہ چیزوں کے لئے نہیں بنائی گئیں ہیں)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ؛جلد١ص٣٩٧؛حدیث نمبر ١١٦٦)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا صَلَّى قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لَمَّا بُنِيَتْ لَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1166

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھا چکے تو ایک دیہاتی آیا اور اس نے اپنا سر مسجد کے اندر کیا اس کے بعد پہلی دو حدیثوں کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ سَمِعَ النَّاشِدَ؛جلد١ص٣٩٨؛حدیث نمبر ١١٦٧)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ بَعْدَ مَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا. قَالَ مُسْلِمٌ: «هُوَ شَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ، أَبُو نَعَامَةَ رَوَى عَنْهُ مِسْعَرٌ، وَهُشَيْمٌ، وَجَرِيرٌ، وَغَيْرُهُمْ مِنَ الْكُوفِيِّينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1167

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آکر اس کو شبہے میں ڈال دیتا ہے حتیٰ کہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہےتو جب تم سے کوئی ایک ایسا پائے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛ترجمہ؛سجدہ سہو کا بیان؛جلد١ص٣٩٨؛حدیث نمبر١١٦٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ، إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ، حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدَكُمْ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1168

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٦٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٨؛حدیث نمبر١١٦٩)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1169

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے حتیٰ کہ وہ آذان نہیں سنتا جب اذان مکمل ہو جاتی ہے تو وہ آجاتا ہے جب تکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے۔جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو آجاتا ہے حتیٰ کہ آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کرو وہ باتیں جو اسے یاد نہیں ہوتیں(یاد دلاتا ہے)حتیٰ کہ آدمی کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں جب اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعات پڑھی ہیں تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٨؛حدیث نمبر١١٧٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نُودِيَ بِالْأَذَانِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ، فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ أَقْبَلَ، فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ يَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1170

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے اور اس کی ہوا خارج ہوتی رہتی ہے۔اس کے بعد حدیث نمبر ١١٧٠ کی مثل بیان کیا اس میں اضافہ ہے کہ اس کے دل میں خواہشات اور تمنائیں پیدا کرتا ہے اور وہ حاجات یاد دلاتا ہے جو اسے پہلے یاد نہ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٩؛حدیث نمبر١١٧١)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ وَلَّى وَلَهُ ضُرَاطٌ» فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ «فَهَنَّاهُ وَمَنَّاهُ، وَذَكَّرَهُ مِنْ حَاجَاتِهِ مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1171

حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نماز میں ہمیں دورکعتیں پڑھائیں پھر کھڑے ہوئے اور قعدہ نہ کیا۔صحابہ کرام بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے جب آپ نے نماز مکمل کی اور ہم نے آپ کے سلام پھیرنے کو دیکھا تو آپ نے تکبیر کہ کر بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کئے (پھر)سلام پھیرا۔(احناف کے نزدیک دائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے جاتے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٩؛حدیث نمبر١١٧٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: «صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1172

حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ جو بنو عبدالمطلب کے حلیف تھے۔روایت کرتےہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں کھڑے ہوگئے حالانکہ آپ پر قعدہ لازم تھا۔جب نماز کو مکمل کیا تو آپ نے دو سجدے کئے آپ بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لئے تکبیر کہتے اور یہ سلام سے پہلے تھا۔صحابہ کرام نے بھی دو سجدے کئے۔یہ سجدے اس قعدے کی جگہ پر تھے جو بھول گئے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٩؛حدیث نمبر١١٧٣)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَسْدِيِّ، حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ، مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1173

حضرت عبد اللہ بن مالک ابن بحینہ ازدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دو رکعتوں میں جن کے آخر میں قعدہ فرمانا چاہتے تھے کھڑے ہوگئے اور آپ نے نماز کو جاری رکھا۔جب نماز کے آخر میں پہنچے تو سلام سے پہلے آپ نے سجدہ کیا پھر سلام پھیرا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٣٩٩؛حدیث نمبر١١٧٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَزْدِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الشَّفْعِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِي صَلَاتِهِ، فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1174

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی ایک کو اپنی نماز میں شک ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعات پڑھی ہیں تین یاچار؟تو وہ شک کو چھوڑدے اور یقین پر بنیاد رکھے پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے۔اگر پانچ رکعات پڑھی ہے تو یہ چھ رکعات بن جائیں گی اور اگر(فی الواقع)چار رکعت پڑھی ہیں تو یہ دو رکعتیں شیطان کی ذلت ورسوائی کا باعث ہوں گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٠؛حدیث نمبر١١٧٥)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1175

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٠؛حدیث نمبر١١٧٦)

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي مَعْنَاهُ قَالَ: «يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلَامِ» كَمَا قَالَ: سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1176

حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ابراهيم راوی کہتے ہیں۔اس میں اضافہ ہوا یا کمی جب سلام پھیرا تو عرض کیا گیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہے؟آپ نے فرمایا وہ کیا؟آپ نے اتنی رکعات نماز پڑھائی ہے۔راوی فرماتے ہیں آپ نے پاؤں مبارک کو دہرا کیا اور قبلہ رخ ہوکر دو سجدے کئے۔پھر سلام پھیرا اس کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا۔اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوتی تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دیتا۔میں بھی انسان ہوں بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے بتا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی ایک کو نماز میں شک ہو تو وہ درست بات کے بارے میں غور وخوض کرے اور نماز کو مکمل کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٠؛حدیث نمبر١١٧٧)

وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ - قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ: زَادَ أَوْ نَقَصَ - فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَثَنَى رِجْلَيْهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1177

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٧ کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ درست بات کو دیکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٠؛حدیث نمبر١١٧٨)

حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بَشْرٍ، ح، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلَاهُمَا عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ «فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ» وَفِي رِوَايَةِ وَكِيعٍ «فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1178

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٨ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں درست بات پر غور کرے کے الفاظ ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٧٩)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ مَنْصُورٌ: «فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1179

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨٠)

حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1180

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٥ کی مثل مروی ہے اور اس میں منصور راوی نے فرمایا کہ درست بات کے قریب جانے کے لئے غور کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨١)

حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ» حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1181

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٥ کی مثل مروی ہےاور اس میں ہے کہ جسے درست سمجھتا ہے اس کے بارے میں سوچ بچار کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨٢)

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ الصَّوَابُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1182

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٧٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨٣)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِإِسْنَادِ هَؤُلَاءِ، وَقَالَ: فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1183

حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ رکعات پڑھائی جب سلام پھیرا تو پوچھا گیا کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے۔آپ نے فرمایا کیا ہوا صحابہ کرام نے عرض کیا آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں تو آپ نے دو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨٤)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا»، فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، «فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1184

حضرت ابراہیم بن سوید فرماتے ہیں حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ظہر کی نماز پانچ رکعات پڑھائی۔جب سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا اے ابو شبل!آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں۔انہوں نے فرمایا ہر گز نہیں میں نے ایسا نہیں کیا۔حاضرین نے کہا جی ہاں ایساکیا ہے اور میں لوگوں کے ایک کنارے پر تھا اور ابھی بچہ تھا۔میں نے کہا جی ہاں آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہے۔انہوں نے فرمایا اے کانے!تم بھی یہی بات کہتے ہو! میں نے کہا جی ہاں تو انہوں نے منہ پھیرا اور دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا اور فرمایا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعات نماز پڑھائی۔جب سلام پھیرا تو قوم میں تشویش پائی فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے؟عرض کیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں تو آپ نے رخ تبدیل کیا ہے پھر دو سجدے کئے اور سلام پھیرنے کے بعد فرمایا میں بھی انسان ہوں بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو۔ ابن نمیر(راوی) نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا کہ جب تم میں سے کوئی ایک بھول جاۓتو دو سجدے کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠١؛حدیث نمبر١١٨٥)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ الْقَوْمُ: يَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ: كَلَّا، مَا فَعَلْتُ، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: وَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ، وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ: بَلَى، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ لِي: وَأَنْتَ أَيْضًا، يَا أَعْوَرُ تَقُولُ ذَاكَ؟ قَالَ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا»، فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ «مَا شَأْنُكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: «لَا»، قَالُوا: فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَانْفَتَلَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ» وَزَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ «فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1185

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ رکعات پڑھائی تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے۔آپ نے پوچھا کیا ہوا؟انہوں نے عرض کیا آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں۔آپ نے فرمایا میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں مجھے یاد رہتا ہے جس طرح تمہیں یاد رہتا ہے اور میں بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو۔پھر آپ نے سہو کے دو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٢؛حدیث نمبر١١٨٦)

وَحَدَّثَنَاهُ عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا»، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ» ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1186

حضرت علقمہ،حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو نماز میں اضافہ کیا یا کمی کی۔ابراہیم(راوی)کہتے ہیں مجھے وہم ہوا(کہ اضافہ کا ذکر ہے یا کمی کا)عرض کیا گیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں کسی چیز کا اضافہ ہو گیا ہے۔آپ نے فرمایا میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں میں بھی بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو پس جب تم میں سے کوئی ایک بھولے تو اسے چاہیے کہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے اور آپ نےدو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٢؛حدیث نمبر١١٨٧)

وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَالْوَهْمُ مِنِّي - فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1187

حضرت علقمہ،حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام وکلام کے بعد سہو کے دو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٢؛حدیث نمبر١١٨٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ وَالْكَلَامِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1188

حضرت سلیمان بن ابراہیم، حضرت علقمہ سے وہ حضرت عبداللہ سے روایت کرتےہیں کہ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے کچھ اضافہ کیا یا(راوی کو شک ہے)کمی ہوئی ابراہیم راوی کہتے ہیں اللہ کی قسم یہ شک میری طرف سے ہے۔فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا نماز میں کوئی نئی بات ہو گئی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں ہم نے آپ کے عمل کے بارے میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا جب کسی کی نماز میں اضافہ یا کمی ہو جائے تو وہ دو سجدے کرے۔راوی فرماتے ہیں پھر آپ نے دو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٣؛حدیث نمبر١١٨٩)

وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَايْمُ اللهِ مَا جَاءَ ذَاكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِي - قَالَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ: «لَا» قَالَ فَقُلْنَا لَهُ الَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ: «إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ» قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1189

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو عشاؤں میں سے ایک یعنی ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی(عرب والے زوال شمس اور غروب آفتاب کے درمیان وقت کو"العشی" کہتے ہیں اس لئے ظہر اور عصر کے لئے صلوۃ العشی فرمایا) تو دو رکعتوں پر سلام پھیرا پھر مسجد کے قبلہ کی جانب ایک شہیتر کی طرف تشریف لائے اور غصے کی حالت میں اس سے ٹیک لگائی۔لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما بھی تھے انہیں گفتگو کرتے ہوئے خوف محسوس ہوا اور جلدی جانے والے لوگ چلے گئے اور وہ کہ رہے تھے۔نماز میں کمی ہوگئی۔حضرت ذوالیدین رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا نماز کم ہوگئی یا آپ بھول گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں بائیں جانب دیکھا اور فرمایا ذوالیدین کیا کہتے ہیں۔سب نے کہا وہ ٹھیک کہ رہے ہیں آپ نے صرف دو رکعتیں پڑھائی ہے تو آپ نے مزید دورکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی پھر سجدہ کیا پھر تکبیر کہی اور سر اٹھا کر تکبیر کہی اور سجدہ کیا پھر تکبیر کہی(اللہ اکبر کہا)اور سر اٹھایا۔ راوی کہتے ہیں مجھے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے خبر ملی ہے۔انہوں نے فرمایا کہ آپ نے سلام پھیرا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٣؛حدیث نمبر١١٩٠)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، إِمَّا الظُّهْرَ، وَإِمَّا الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَاسْتَنَدَ إِلَيْهَا مُغْضَبًا، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَهَابَا أَنْ يَتَكَلَّمَا، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ: «مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟» قَالُوا: صَدَقَ، لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، «فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ»، قَالَ: وَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ: وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1190

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١١٩٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٣؛حدیث نمبر١١٩١)

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1191

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعتوں پر سلام پھیرا۔حضرت ذوالیدین نے کھڑے ہوکر عرض کیا۔یا رسول اللہ کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں آپ نے فرمایا کچھ بھی نہیں ہوا۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کچھ نہ کچھ تو ہوا ہے۔چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا ذوالیدین صحیح کہتے ہیں؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ!پس آپ باقی نماز کو مکمل کر کے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٤؛حدیث نمبر١١٩٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ» فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ، يَا رَسُولَ اللهِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟» فَقَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ «فَأَتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ، بَعْدَ التَّسْلِيمِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1192

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز دورکعتیں پڑھی پھر سلام پھیرا تو بنو سلیم کا ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔آگے حدیث نمبر١١٩٢ کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٤؛حدیث نمبر١١٩٣)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1193

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں پر سلام پھیرا بنو سلیم کا ایک آدمی اٹھا۔آگے حدیث نمبر١١٩٢ کی مثل ذکر کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٤؛حدیث نمبر١١٩٤)

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1194

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز میں تین رکعات پڑھیں پھر گھر تشریف لے گئے تو ایک شخص جن کو خرباق رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا اور ان کے ہاتھ کچھ لمبے تھے۔اٹھ کر حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یا رسول!اس کے بعد واقعہ بتایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں چادر مبارک کھینچتے ہوئے نکلے حتیٰ کہ صحابہ کرام کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کیا یہ(حضرت خرباق)صحیح کہ رہے ہیں؟صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں پس آپ نے ایک رکعت پڑھی پھر دو سجدے کر کے سلام پھیرا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٥؛حدیث نمبر١١٩٥)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ، وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ، وَخَرَجَ غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَصَدَقَ هَذَا قَالُوا: نَعَمْ، «فَصَلَّى رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1195

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز میں تین رکعات کے بعد سلام پھیرا۔پھر کھڑے ہوئے اور حجرہ مبارک میں داخل ہوگئے ایک شخص جن کے ہاتھ لمبے تھے کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ!نماز کم ہوگئی ہے؟تو آپ غصے کی حالت میں تشریف لائے اور ایک رکعت جو رہ گئی تھی پڑھ کر سلام پھیرا پھر سہو کے دو سجدے کئے اور اس کے بعد پھر سلام پھیرا۔(حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ اور آپ کے اصحاب اور امام ثوری علیہ الرحمۃ کے نزدیک کلام بھول کر بھی ہو تو نماز ٹوٹ جاتی ہے اور یہ واقعہ(اور اس کا حکم) منسوخ ہوچکا ہے ہے۔دوسرے حضرات کے نزدیک نماز نہیں ٹوٹتی(ہزاروی)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَالسُّجُودِ لَهُ؛جلد١ص٤٠٥؛حدیث نمبر١١٩٦)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: «سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ»، فَقَامَ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ «فَخَرَجَ مُغْضَبًا، فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1196

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید پڑھتے تو وہ سورت جس میں سجدہ ہے۔پڑھنے کے بعد سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے حتیٰ کہ ہم میں سے بعض کو پیشانی رکھنے کی جگہ بھی نہیں ملتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛ترجمہ؛سجدہ تلاوت؛؛جلد١ص٤٠٥؛حدیث نمبر١١٩٧)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَقْرَأُ سُورَةً فِيهَا سَجْدَةٌ، فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ، حَتَّى مَا يَجِدُ بَعْضُنَا مَوْضِعًا لِمَكَانِ جَبْهَتِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1197

ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں بعض اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ سے گزرتے تو ہمارے ساتھ سجدہ فرماتے حتیٰ کہ آپ کے پاس ہماری وجہ سے بھیڑ ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ ہم میں سے بھی بعض کو سجدہ کرنے کے لئے جگہ نہ ملتی اور ہم نماز کے باہر ہوتے۔(یعنی نماز کے علاوہ قرآت ہوتی تو سب مل کر سجدہ کرتے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛ترجمہ؛سجدہ تلاوت؛؛جلد١ص٤٠٥؛حدیث نمبر١١٩٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «رُبَّمَا قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَيَمُرُّ بِالسَّجْدَةِ فَيَسْجُدُ بِنَا، حَتَّى ازْدَحَمْنَا عِنْدَهُ، حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِيَسْجُدَ فِيهِ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1198

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے سورہ النجم پڑھی تواس میں سجدہ کیا اور جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا لیکن ایک بوڑھے شخص نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگائی اور کہا کہ مجھے یہی کافی ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے بعد میں اس کو دیکھا کہ وہ کافر ہو کر مرا۔(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو معمولی سمجھنے کی وجہ سے وہ شخص گستاخی کا مرتکب ہوگااور برے انجام کو پہنچا)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٥؛حدیث نمبر١١٩٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ، «عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ وَالنَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا، وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهُ» غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ، وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1199

حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قرأت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا امام کی موجودگی میں کوئی قرأت نہیں اور انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورہ"والنجم اذا ھوی"پڑھی تو سجدہ نہیں کیا۔(احناف کے نزدیک سورۃ نجم میں سجدہ ہے اور حدیث نمبر ١٢٠٠ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے سجدہ نہیں کیا۔ممکن ہے اس وقت نہ کیا ہو جب تلاوت فرمائی چونکہ یہ حدیث دوسری حدیث کے خلاف ہے اس لیے تطبیق کی یہی صورت ہے اس حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ امام کے ساتھ مقتدی قرآت نہیں کرے گا چاہے امام بلند آواز سے قرآت کرے یا آہستہ آواز سے۔(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٦؛حدیث نمبر١٢٠٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: لَا، قِرَاءَةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَيْءٍ، «وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَلَمْ يَسْجُدْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1200

حضرت سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے"اذا السماء انشقت"(سورۃ) پڑھی تو سجدہ کیا جب سلام پھیرا تو ان کو بتایاکہ اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٦؛حدیث نمبر١٢٠١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَرَأَ لَهُمْ «إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1201

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٢٠١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٦؛حدیث نمبر١٢٠٢)

وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1202

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ"اذا السماء انشقت" اور اقرأ باسم ربک"میں سجدہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٦؛حدیث نمبر١٢٠٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1203

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے"اذاالسماء انشقت"اور اقرأءباسم ربک"میں سجدہ کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٦؛حدیث نمبر١٢٠٤)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: «سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1204

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر١٢٠٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٧؛حدیث نمبر١٢٠٥)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1205

حضرت ابورافع فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو انہوں نے"اذاالسماء انشقت" پڑھی اور سجدہ کیا میں نے پوچھا یہ کیسا سجدہ ہے؟فرمایا میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے کیا تو میں اس میں ہمیشہ سجدہ کروں گا حتیٰ کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کروں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٧؛حدیث نمبر١٢٠٦)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ؟ فَقَالَ: سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ " وقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى: «فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1206

متعدد اسناد کے ساتھ حدیث نمبر١٢٠٦ کی مثل مروی ہے لیکن یہ بات مذکور نہیں کہ ابوالقاسم کے پیچھے نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٧؛حدیث نمبر١٢٠٧)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، كُلُّهُمْ عَنِ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَمْ يَقُولُوا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1207

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ"اذاالسماء انشقت"میں سجدہ کرتے تھے۔میں نے پوچھا آپ سجدہ کرتے ہیں؟فرمایا ہاں میں نے اپنے خلیل کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔پس میں ہمیشہ سجدہ کروں گا حتیٰ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ؛جلد١ص٤٠٧؛حدیث نمبر١٢٠٨)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَقُلْتُ: تَسْجُدُ فِيهَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ فِيهَا حَتَّى أَلْقَاهُ " قَالَ شُعْبَةُ: " قُلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1208

حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو بائیں پاؤں کو ران اور پنڈلی کے درمیان کرتے اور دائیں پاؤں کو بچھاتے۔بایاں ہاتھ ران پراور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے اور انگلی سے اشارہ کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛ترجمہ؛نماز میں بیٹھنے کا طریقہ؛جلد١ص٤٠٨؛حدیث نمبر١٢٠٩)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاةِ، جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى بَيْنَ فَخِذِهِ وَسَاقِهِ، وَفَرَشَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1209

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قعدہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے۔انگوٹھے کو درمیان والی انگلی پر رکھتے اور بائیں ہتھیلی کو گھٹنے پر رکھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛جلد١ص٤٠٨؛حدیث نمبر١٢١٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ يَدْعُو، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ، وَوَضَعَ إِبْهَامَهُ عَلَى إِصْبَعِهِ الْوُسْطَى، وَيُلْقِمُ كَفَّهُ الْيُسْرَى رُكْبَتَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1210

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں قعدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں اور دائیں ہاتھ کی اس انگلی کو اٹھاتے جو انگوٹھے سے ملی ہوئی ہے اور اس سے اشارہ کرتے اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھتے اور اسے کشادہ کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛جلد١ص٤٠٨؛حدیث نمبر١٢١١)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: - حَدَّثَنَا عَبْدٌ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، فَدَعَا بِهَا وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1211

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشھد کے لئے بیٹھتے تو بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھتے اور پچاس(کے ہند سے)کی گرہ بناتے ہوئے شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛جلد١ص٤٠٨؛حدیث نمبر١٢١٢)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1212

حضرت علی بن عبدالرحمن معاوی فرماتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں کنکریوں سے کھیل رہا تھا۔جب نماز سے فارغ ہوا تو انہوں نے مجھے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا۔اس طرح کرو جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔میں نے پوچھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے۔فرمایا جب نماز میں بیٹھتے تو دائیں ہتھیلی کو دائیں ران پر رکھتے اور تمام انگلیوں کو بند کرتے اور انگوٹھے سے ملی ہوئی انگلی سے اشارہ کرتے اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر رکھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛جلد١ص٤٠٨؛حدیث نمبر١٢١٣)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: رَآنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي فَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ، فَقُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: «كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1213

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢١٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ، وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخْذَيْنِ؛جلد١ص٤٠٩؛حدیث نمبر١٢١۴)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَزَادَ: قَالَ سُفْيَانُ: فَكَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بِهِ عَنْ مُسْلِمٍ، ثُمَّ حَدَّثَنِيهِ مُسْلِمٌ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1214

حضرت ابو معمر سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ کا امیر دو سلام پھیرتا تھا تو حضرت عبد اللہ نے پوچھا اس نے یہ طریقہ کہاں سے لیا ہے؟حکم اپنی حدیث میں لکھتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّلَامِ لِلتَّحْلِيلِ مِنَ الصَّلَاةِ عِنْدَ فَرَاغِهَا وَكَيْفِيَّتِهِ؛ترجمہ؛نماز سے فراغت پر سلام پھیرنا؛جلد١ص٤٠٩؛حدیث نمبر١٢١٥)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، «أَنَّ أَمِيرًا كَانَ بِمَكَّةَ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَتَيْنِ» فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَنَّى عَلِقَهَا؟ قَالَ الْحَكَمُ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1215

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢١٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّلَامِ لِلتَّحْلِيلِ مِنَ الصَّلَاةِ عِنْدَ فَرَاغِهَا وَكَيْفِيَّتِهِ؛جلد١ص٤٠٩؛حدیث نمبر١٢١٦)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، - قَالَ شُعْبَةُ: رَفَعَهُ مَرَّةً - «أَنَّ أَمِيرًا أَوْ رَجُلًا سَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ أَنَّى عَلِقَهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1216

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تھا آپ دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے تو آپ کے رخسار مبارک نظر آتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ السَّلَامِ لِلتَّحْلِيلِ مِنَ الصَّلَاةِ عِنْدَ فَرَاغِهَا وَكَيْفِيَّتِهِ؛جلد١ص٤٠٩؛حدیث نمبر١٢١٧)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى أَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1217

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اختتام کا علم تکبیر(اللہ اکبر)کے ذریعے ہوتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز کے بعد ذکر؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢١٨)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: أَخْبَرَنِي بِذَا أَبُو مَعْبَدٍ، ثُمَّ أَنْكَرَهُ بَعْدُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1218

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا علم تکبیر کے ذریعے ہوتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢١٩)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَا كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ» قَالَ عَمْرٌو: " فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي مَعْبَدٍ فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهَذَا، قَالَ عَمْرٌو: وَقَدِ اَخْبَرَنِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1219

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوسعید نے انہیں بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کیا جاتا تھا اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مجھے اس بات سے پتہ چلتا تھا کہ نماز پڑھ چکے ہیں جب میں(ذکر)سنتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: «أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ، كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَأَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ، إِذَا سَمِعْتُهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1220

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس ایک یہودی عورت تھی اور وہ کہ رہی تھی کیا آپ کو معلوم ہے کہ قبر میں تم لوگوں کی آزمائش ہوگی۔ام المؤمنين فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے اور آپ نے فرمایا آزمائش صرف یہودیوں کی ہوگی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کچھ راتیں گزرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ مجھ پر وحی آئی ہے کہ تم لوگ قبر میں آزمائش میں ڈالے جاؤ گے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس کے بعد میں نے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ؛ترجمہ؛عذاب قبر سے پناہ مانگنا؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢٢١)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا وَقَالَ حَرْمَلَةُ: - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ، وَهِيَ تَقُولُ: هَلْ شَعَرْتِ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ؟ قَالَتْ: فَارْتَاعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُودُ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ؟» قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1221

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ عذاب قبر سے پناہ مانگتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؛جلد١ص٤١١؛حدیث نمبر١٢٢٢)

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، - قَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: - حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1222

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہودیوں میں سے دو بوڑھی عورتیں آئیں اور انہوں نے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ام المؤمنين فرماتی ہیں۔میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کرنا مجھے اچھا نہ لگا۔وہ دونوں چلی گئیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو بوڑھی عورتیں یہودی عورتوں میں سے ہیں۔یہ میرے پاس آئیں اور ان کا خیال ہے کہ اہل قبور کو قبر میں عذاب ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا ان دونوں نے سچ کہا ان کو عذاب ہوتا ہے جسے چوپائے سنتے ہیں۔ام المؤمنين فرماتی ہیں۔پھر میں نے کبھی بھی آپکو نماز میں نہیں دیکھا مگر آپ عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؛جلد١ص٤١١؛حدیث نمبر١٢٢٣)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ زُهَيْرُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، قَالَتْ: فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَجُوزَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ دَخَلَتَا عَلَيَّ، فَزَعَمَتَا أَنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَقَالَ: «صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ» قَالَتْ: «فَمَا رَأَيْتُهُ، بَعْدُ فِي صَلَاةٍ إِلَّا يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1223

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے اور اس میں ہے ام المؤمنين فرماتی ہیں اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز بھی پڑھی میں نے آپ سے سنا کہ آپ عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؛جلد١ص٤١١؛حدیث نمبر١٢٢٤)

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَفِيهِ قَالَتْ: وَمَا صَلَّى صَلَاةً بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا سَمِعْتُهُ «يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1224

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نماز میں دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ ؛جلد١ص٤١١؛حدیث نمبر١٢٢٥)

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِيذُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1225

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی ایک تشھد پڑھے تو چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے۔وہ یوں کہے۔:اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ "(یااللہ!میں عذاب جہنم سے،عذاب قبر سے،زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٢؛حدیث نمبر١٢٢٦)

وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1226

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یوں دعا مانگتے تھے۔«اللهُمَّ اِنّی وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ»(یااللہ! میں عذاب قبر سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔میں زندگی اور موت کے فتنہ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔یا اللہ!میں گناہ اور قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔) کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ!آپ قرض سے اکثر پناہ طلب کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرے تو پورا نہیں کرتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٢؛حدیث نمبر١٢٢٧)

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ، حَدَّثَ فَكَذَبَ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1227

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک آخری تشھد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے پناہ مانگے،عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے شر سے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٢؛حدیث نمبر١٢٢٨)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1228

حکم بن موسی علی بن خشرم نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ روایت کیا۔اس حدیث میں یوں ہے کہ جب تم میں سے کوئی تشھد سے فارغ ہو آخر کا ذکر نہیں ہے۔آگے حدیث نمبر١٢٢٨ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٢؛حدیث نمبر١٢٢٩)

وحَدَّثَنِيهِ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ» وَلَمْ يَذْكُرِ «الْآخِرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1229

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پناہ طلب کی۔«اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ»۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣٠)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُوذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ اللهِ، عُوذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، عُوذُوا بِاللهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، عُوذُوا بِاللهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1230

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالی کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو اور زندگی وموت کے فتنے سےاللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُوذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ اللهِ، عُوذُوا بِاللهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، عُوذُوا بِاللهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، عُوذُوا بِاللهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1231

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر١٢٣١ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1232

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٢٣١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣٣)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1233

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ عذاب قبر،عذاب جہنم اور دجال کے فتنے سے پناہ طلب کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ جَهَنَّمَ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1234

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جس طرح ان کو قرآن پاک کی کوئی سورت سکھاتے اور وہ اس طرح ہے۔ «اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» امام مسلم فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہونچی ہے کہ حضرت طاؤس(راوی)نے اپنے بیٹے سے پوچھا کیا تم نے نماز میں یہ دعا مانگی ہے۔اس نے کہا نہیں تو انہوں نے فرمایا دوبارہ نماز پڑھو۔کیونکہ حضرت طاؤس نے یہ حدیث تین یا چار صحابہ کرام سے روایت کی یا جس طرح فرمایا۔(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام گناہوں سے پاک اور فتنوں سے محفوظ تھے آپ نے تعلیم امت کے لئے دعائیں مانگیں اور استغفار کیا)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ فِي الصَّلَاةِ جلد١ص٤١٣؛حدیث نمبر١٢٣٥)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ قُولُوا: «اللهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ: " بَلَغَنِي أَنَّ طَاوُسًا قَالَ لِابْنِهِ: أَدَعَوْتَ بِهَا فِي صَلَاتِكَ؟ فَقَالَ: لَا، قَالَ: أَعِدْ صَلَاتَكَ، لِأَنَّ طَاوُسًا رَوَاهُ عَنْ ثَلَاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ، أَوْ كَمَا قَالَ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1235

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرتے تو تین مرتبہ"استغفر اللہ"پڑھتے اور پھر"«اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»(یااللہ!تو سلامتی (دینے)والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے۔اے بزرگی اور اکرام والے تو برکت والا ہے۔ولید(راوی) نے کہا میں نے حضرت اوزاعی سے پوچھا استغفار کس طرح ہے؟تو انہوں نے فرمایا یوں کہے"استغفر اللہ استغفر اللہ" (میں اللہ سے بخشش کا طالب ہوں)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛ترجمہ؛نماز کے بعد ذکر کا استحباب اور طریقہ؛جلد١ص٤١٤؛حدیث نمبر١٢٣٦)

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، اسْمُهُ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ: «اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: " كَيْفَ الْاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ: تَقُولُ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1236

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی دیر بیٹھتے جتنے وقت میں «اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»(ترجمہ گزر چکا ہے) ابن نمیر کی روایت میں "یاذاالجلال والاکرام" ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٤؛حدیث نمبر١٢٣٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ: «اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1237

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٣٧ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں"یاذاالجلال والاکرام" ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٤؛حدیث نمبر١٢٣٨)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ، عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. وَقَالَ: «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1238

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٣٧ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں"یاذاالجلال والاکرام" ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٤؛حدیث نمبر١٢٣٩)

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَخَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، كِلَاهُمَا عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1239

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت وَرّاد،حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے۔«لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے اور وہ لائق حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے یا اللہ!جو کچھ تو عطاء کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو روک دے اسے کوئی عطاء نہیں کر سکتا اور کسی مالدار کو اس کی مالداری تیری طرف سے نفع نہیں دے سکتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٤؛حدیث نمبر١٢٤٠)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، إِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1240

ایک اور سند کے ساتھ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٢٤٠ کی مثل مروی ہے۔حضرت وارد فرماتے ہیں۔حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ مجھے لکھواتے رہے اور میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٥؛حدیث نمبر١٢٤١)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَبُو كُرَيْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا: قَالَ فَأَمْلَاهَا عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ، وَكَتَبْتُ بِهَا إِلَى مُعَاوِيَةَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1241

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٤٠ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں"وھو علی کل شی قدیر"کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٥؛حدیث نمبر١٢٤٢)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، أَنَّ وَرَّادًا، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، إِلَى مُعَاوِيَةَ - كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ - إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: حِينَ سَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، إِلَّا قَوْلَهُ «وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ.

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1242

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٤٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٥؛حدیث نمبر١٢٤٣)

وَحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ، إِلَى الْمُغِيرَةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1243

حضرت وارد کہتے ہیں۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ مجھے کوئی ایسی بات لکھ کر بھیجیں جو آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو انہوں نے لکھ کر بھیجا کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نماز سے فارغ ہوتے تو یہ کلمات پڑھتے۔ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»(ترجمہ گزر چکا ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٥؛حدیث نمبر١٢٤٤)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، سَمِعَا وَرَّادًا، كَاتِبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يَقُولُ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ: اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1244

حضرت ابوالزبیر سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت ابن زبیر ہر نماز سے سلام پھیرنے کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے۔«لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد ان کے ساتھ توحید خداوندی کا اظہار فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٥؛حدیث نمبر١٢٤٥)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» وَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1245

حضرت ابوالزبیر فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے۔انہوں نے فرمایا حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٦؛حدیث نمبر١٢٤٦)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَوْلًى لَهُمْ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يُهَلِّلُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1246

حضرت ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔وہ فرما رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے یا فرمایا نمازوں سے سلام پھیرتے تو یہ کلمات کہتے تھے (حدیث نمبر ١٢٤٥ کی طرح بیان کیا)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٦؛حدیث نمبر١٢٤٧)

وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ أَوِ الصَّلَوَاتِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1247

ایک اور سند کے ساتھ انہی سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ نماز کے بعد سلام پھیرتے پھر یہ کلمات پڑھتے تھے(حدیث نمبر ١٢٤٥ کی مثل بیان کیا)اور آخر میں فرمایا کہ وہ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔ (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ،بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ۔جلد١ص٤١٦،حدیث نمبر١٢٤٨)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ يَقُولُ: فِي إِثْرِ الصَّلَاةِ إِذَا سَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَكَانَ يَذْكُرُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1248

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فقراء مہاجرین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مال دار لوگ بلند درجات اور دائمی نعمتیں لے گئے۔آپ نے پوچھا وہ کیسے؟انہوں نے عرض کیا وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں۔وہ روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہم صدقہ نہیں کرسکتے۔وہ(غلام)آزاد کرتے ہیں اور ہم آزاد نہیں کر سکتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں ایسی چیز نہ سکھاؤں کہ اس کے ذریعے تم سبقت حاصل کرنے والوں کا درجہ حاصل کرو اور بعد والوں سے سبقت لے جاؤ اور تم سے کوئی شخص بھی افضل نہ ہو سوائے اس کے جو تمہاری طرح کا عمل کرے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ!(بتائیے)آپ نے فرمایا ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ پڑھو۔ ابو صالح(راوی) فرماتے ہیں۔فقراء مہاجرین دوبارہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا ہمارے مالدار بھائیوں نے ہمارے عمل کے بارے میں سنا تو انہوں نے بھی اس طرح کیا(اس پر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطاء کرتا ہے۔سُمَیَّ کہتے ہیں میں نے اپنے گھر والوں میں سے بعض سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ تمہیں وہم ہوگیا ہے۔آپ نے فرمایا سبحان اللہ٣٣ بار الحمد للہ تینتیس بار اور ٣٣ بار اللہ اکبر پڑھو- فرماتے ہیں میں حضرت ابو صالح کے پاس آیا اور ان سے یہ بات عرض کی تو انہوں نے میرا یہ ہاتھ پکڑ کر فرمایا اللہ اکبر، سبحان اللہ،الحمد للہ،اللہ اکبر،سبحان اللہ، الحمد للہ حتیٰ کہ تم ان تمام کو تینتیس مرتبہ پڑھو(کل تعداد ٣٣ ہوجائے) ابن عجلان کہتے ہیں میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ سے بیان کی تو انہوں نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا جس طرح ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٦؛حدیث نمبر١٢٤٩)

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، كِلَاهُمَا عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ - أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، فَقَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالُوا: يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ، فَقَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ؟ وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ» قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولُ اللهِ قَالَ: «تُسَبِّحُونَ، وَتُكَبِّرُونَ، وَتَحْمَدُونَ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً» قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الْأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا، فَفَعَلُوا مِثْلَهُ، فَقَالَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ» وَزَادَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ سُمَيٌّ: فَحَدَّثْتُ بَعْضَ أَهْلِي هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: وَهِمْتَ، إِنَّمَا قَالَ «تُسَبِّحُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ» فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي صَالِحٍ فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، اللهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، حَتَّى تَبْلُغَ مِنْ جَمِيعِهِنَّ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ. قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ، فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1249

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ!مالدار لوگ درجات اور دائمی نعمتیں لے گئے۔باقی حدیث اسی طرح ہے البتہ اس میں سہیل کا قول یہ ہے کہ گیارہ گیارہ مرتبہ پڑھیں۔کل تعداد ٣٣ ہو جائے گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٧؛حدیث نمبر١٢٥٠)

وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّهُ أَدْرَجَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَوْلَ أَبِي صَالِحٍ، ثُمَّ رَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: يَقُولُ سُهَيْلٌ: إِحْدَى عَشْرَةَ، إِحْدَى عَشْرَةَ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ كُلِّهِ ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1250

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا نماز کے بعد کچھ اذکار ہیں ان کو ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا یا فرمایا، کرنے والا نامراد نہیں ہوتا ٣٣ بار سبحان اللہ،٣٣ بار الحمد للہ اور ٣٤ بار اللہ اکبر۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٨؛حدیث نمبر١٢٥١)

وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ - أَوْ فَاعِلُهُنَّ - دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1251

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا نماز کے بعد کچھ اذکار ہیں ان کو پڑھنے والا یا عمل میں لانے والا نامراد نہیں ہوتا۔٣٣ بار سبحان اللہ،٣٣ بار الحمد للہ اور ٣٤ بار اللہ اکبر یہ فرض نماز کے بعد ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٨؛حدیث نمبر١٢٥٢)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ - أَوْ فَاعِلُهُنَّ - ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1252

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٥٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٨؛حدیث نمبر١٢٥٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1253

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد ٣٣ بار سبحان اللہ،٣٣ بار الحمد للہ اور ٣٣ بار اللہ اکبر پڑھا تو یہ کل ننانوے کلمات ہوئے اور"لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"پڑھ کر سو کی تعداد مکمل کی تو اس کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٨؛حدیث نمبر١٢٥٤)

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيِّ - قَالَ مُسْلِمٌ: أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَبَّحَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ: تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1254

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٥٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ؛جلد١ص٤١٩؛حدیث نمبر١٢٥٥)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1255

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے تکبیر کہتے تو قرأت سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی کے دوران کیا پڑھتے ہیں۔آپ نے فرمایا میں یہ کلمات پڑھتا ہوں:اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " یا اللہ!میرے اور میری خطاؤں کے درمیان دوری پیدا کر دے جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔یا اللہ!مجھے میری خطاؤں سے اس طرح پاک کردے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔یااللہ!مجھے خطاؤں سے برف،پانی اور اولوں کے ساتھ دھو ڈال۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُقَالُ بَيْنَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالْقِرَاءَةِ؛ترجمہ؛تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان کیا پڑھے؛جلد١ص٤١٩؛حدیث نمبر١٢٥٦)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ " أَقُولُ: اللهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1256

ایک اور سند کے بھی حدیث نمبر ١٢٥٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُقَالُ بَيْنَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالْقِرَاءَةِ؛جلد١ص٤١٩؛حدیث نمبر١٢٥٧)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1257

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو"الحمد للہ رب العالمین"سے قرأت کا آغاز کرتے اور خاموشی اختیار نہ کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُقَالُ بَيْنَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالْقِرَاءَةِ؛جلد١ص٤١٩؛حدیث نمبر١٢٥٨)

قَالَ مُسْلِمٌ: وَحُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ، وَيُونُسَ الْمُؤَدِّبِ، وَغَيْرِهِمَا، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ بِـ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَمْ يَسْكُتْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1258

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص آکر صف میں داخل ہو گیا اور(جلدی کی وجہ سے)اس کا سانس پھولا ہوا تھا اس نے کہا۔"الحمد للہ حمداً کثیرا طیب مبارکا"(تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں بہت،پاکیزہ اور مبارک تعریف) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوے تو فرمایا تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے ہیں۔لوگ خاموش رہے۔آپ نے فرمایا تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے ہیں۔اس نے کوئی حرج والا کلام نہیں کیا اس آدمی نے کہا میں آیا اور میرا سانس پھولا ہوا تھا تو میں نے یہ کلمات کہے۔آپ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتوں نے جلدی کی کہ ان میں سے کون ان کو اوپر لے جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُقَالُ بَيْنَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالْقِرَاءَةِ؛جلد١ص٤١٩؛حدیث نمبر١٢٥٩)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، وَثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟» فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقَالَ: «أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا» فَقَالَ رَجُلٌ: جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا، فَقَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا، أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1259

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اس دوران کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھ رہے تھے کہ جماعت میں سے ایک شخص نے کہا"اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا"(اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بہت زیادہ تعریف ہے اور صبح وشام اللہ تعالیٰ کے لئے بہت پاکیزگی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کلمات کس نے کہے ہیں۔لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ!میں نے کہے ہیں۔آپ نے فرمایا مجھے ان کلمات پر تعجب ہوا ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے ان کلمات کو نہیں چھوڑا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَا يُقَالُ بَيْنَ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالْقِرَاءَةِ؛جلد١ص٤٢٠؛حدیث نمبر١٢٦٠)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنَ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟» قَالَ رَجُلٌ مَنِ الْقَوْمِ: أَنَا، يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «عَجِبْتُ لَهَا، فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1260

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب نماز کھڑی ہو جائے تو اس کے لیے دوڑ کر نہ آؤ بلکہ آہستہ(قدرے تیز)چل کر آؤ اور تم پر سکون لازم ہے جس قدر نماز پاؤ پڑھو اور جو رہ گئی اسے(امام کے سلام پھیرنے کے بعد)مکمل کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛ترجمہ؛نماز کے لئے سکون اور وقار سے آنا چاہئے؛جلد١ص٤٢٠؛حدیث نمبر١٢٦١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1261

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے تکبیر کہی جائے تو اس کی طرف دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تم پر سکون لازم ہے جو کچھ پاؤ اسے(امام کے ساتھ پڑھو)اور جو رہ جائے اسے(بعد میں)مکمل کرو تم میں کوئی ایک جب نماز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نماز میں ہی(شمار)ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛جلد١ص٤٢١؛حدیث نمبر١٢٦٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلَاةِ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلَاةِ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1262

حضرت ہمام بن منبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعدد احادیث روایت کرتے ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے آذان دی جائے تو اس کی طرف سکون و وقار کے ساتھ چل کر آؤ جو کچھ پاؤ اسے پڑھو اور جو رہ گئی ہے اسے مکمل کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛جلد١ص٤٢١؛حدیث نمبر١٢٦٣)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1263

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔جب نماز کے لئے تکبیر ہو تو تم میں سے کوئی ایک اس کی طرف دوڑ کر نہ جائے بلکہ سکون کے ساتھ چل کر جاۓ اور وقار کا طریقہ اختیار کرے جس قدر نماز پائے اسے پڑھے اور جو گزر گئ اسے قضاء کرے(اٹھ کر مکمل کرے.)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛جلد١ص٤٢١؛حدیث نمبر١٢٦٤)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَلَا يَسْعَ إِلَيْهَا أَحَدُكُمْ، وَلَكِنْ لِيَمْشِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ، صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ، وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1264

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ کچھ حرکت سنی۔فرمایا تمہیں کیا ہوا عرض کیا ہم نے نماز کے لئے جلدی کی۔آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو جب نماز کے لئے آؤ تو تم پر سکون لازم ہے جس قدر نماز پاؤ اسے پڑھو اور جو گزر گئی اسے مکمل کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛جلد١ص٤٢١؛حدیث نمبر١٢٦٥)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ جَلَبَةً، فَقَالَ: «مَا شَأْنُكُمْ؟» قَالُوا: اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا سَبَقَكُمْ فَأَتِمُّوا».

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1265

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٦٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ إِتْيَانِ الصَّلَاةِ بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، وَالنَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِهَا سَعْيًا؛جلد١ص٤٢٢؛حدیث نمبر١٢٦٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1266

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے تکبیر کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔ابن حاتم کہتے ہیں"اقیمت یا نودی"کے الفاظ ہیں مطلب ایک ہی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛ترجمہ؛لوگ نماز کے لئے کب کھڑے ہوں؛جلد١ص٤٢٢؛حدیث نمبر١٢٦٧)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي» وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: «إِذَا أُقِيمَتْ أَوْ نُودِيَ»،

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1267

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٦٧ کی مثل مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ حتیٰ کہ مجھے نکلتا ہوا دیکھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٢؛حدیث نمبر١٢٦٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَقَالَ إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ شَيْبَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ إِسْحَاقُ فِي رِوَايَتِهِ حَدِيثَ مَعْمَرٍ، وَشَيْبَانَ: «حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1268

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نماز کے لئے اقامت کہی گئی۔پس ہم نے کھڑے ہوکر صفوں کو درست کیا اور ابھی تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے تھے۔پھر آپ تشریف لائے اور مصلے پر کھڑے ہوئے اور تکبیر(تکبیر تحریمہ)کہنے سے پہلے آپ واپس ہوئے اور فرمایا تم اپنی جگہ ٹھہرے رہو چنانچہ ہم وہاں کھڑے ہو کر آپ کےمنتظر رہے حتیٰ کہ آپ ہماری طرف تشریف لائے اور آپ نے غسل کیا ہوا تھا اور سر انور سے پانی ٹپک رہا تھا۔پس آپ نے تکبیر کہی اور ہمیں نماز پڑھائی۔(تعلیم امت کے لئے آپ پر کبھی کبھی نسیان طاری ہوتا تاکہ اس سے متعلق مسائل بتائے جائیں چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرمانا بھول گئے اور پھر غسل کرکے تشریف لائے) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٢؛حدیث نمبر١٢٦٩)

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقُمْنَا، فَعَدَّلْنَا الصُّفُوفَ، قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، ذَكَرَ فَانْصَرَفَ، وَقَالَ لَنَا: مَكَانَكُمْ، فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا، وَقَدِ اغْتَسَلَ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً، فَكَبَّرَ فَصَلَّى بِنَا "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1269

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نماز کے لئے تکبیر کہی گئی اور صحابہ کرام نے صفیں ترتیب دے دیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنی جگہ کھڑے ہوئے پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو اس کے بعد تشریف لائے تو آپ نے غسل کیا ہوا تھا اور پانی ٹپک رہا تھا چنانچہ آپ نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٣؛حدیث نمبر١٢٧٠)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ مَقَامَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنْ مَكَانَكُمْ، فَخَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ وَرَأْسُهُ يَنْطُفُ الْمَاءَ، فَصَلَّى بِهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1270

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر تکبیر کہی جاتی اور لوگ اپنی اپنی صفوں میں کھڑے ہو جاتے اور ابھی تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مقام پر کھڑے نہ ہوتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٣؛حدیث نمبر١٢٧١)

وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَصَافَّهُمْ، قَبْلَ أَنَّ يَقُومَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1271

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب سورج ڈھل جاتا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آذان دیتے اور تکبیر نہ کہتے حتیٰ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے جب آپ تشریف لاتے تو آپ کو دیکھ کر تکبیر کہتے تھے۔(بہتر طریقہ یہ ہے کہ مقتدی اور امام بھی دونوں موجود ہوں تو حی علی الصلاۃ پر کھڑے ہوں اور فوراً صفیں درست کریں احناف کا یہی موقف ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٣؛حدیث نمبر١٢٧٢)

وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتْ، فَلَا يُقِيمُ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1272

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز کی ایک رکعت پائی اس نے نماز کو پایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاة؛ترجمہِ؛جس نے نماز کی ایک رکعت پائی اس نے نماز کو پالیا؛جلد١ص٤٢٣؛حدیث نمبر١٢٧٣)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1273

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز کی ایک رکعت امام کے ساتھ پائی اس نے نماز کو پالیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاة؛جلد١ص٤٢٤؛حدیث نمبر١٢٧٤)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1274

متعدد اسناد سے حدیث نمبر ١٢٧٤ کی مثل مروی ہے۔البتہ ایک روایت میں ہے کہ اس نے پوری نماز کو پالیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاة؛جلد١ص٤٢٤؛حدیث نمبر١٢٧٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَيُونُسَ، ح قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ مَعَ الْإِمَامِ، وَفِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: «فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ كُلَّهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1275

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پائی۔اس نے صبح کی نماز پالی اور جس نے غروب آفتاب سے پہلے عصر کی نماز پالی۔اس نے عصر کی نماز کو پالیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاة؛جلد١ص٤٢٤؛حدیث نمبر١٢٧٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنِ الْأَعْرَجِ، حَدَّثُوهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1276

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے عصر کا ایک سجدہ پایا اور ابھی سورج غروب نہ ہوا تھا یا طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت پائی تو اس نے نماز کو پالیا۔سجدہ سے رکعت مراد۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلَاةِ فَقَدْ أَدْرَكَ تِلْكَ الصَّلَاة؛جلد١ص٤٢٤؛حدیث نمبر١٢٧٧)

وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَالسِّيَاقُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا»، وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّكْعَةُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1277

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٧٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٤؛حدیث نمبر١٢٧٨)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1278

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت کو پالیا اس نے نماز کو پالیا اور جس نے طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعات کو پالیا اس نے(فجر کی نماز کو)پالیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٥؛حدیث نمبر١٢٧٩)

وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ، وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1279

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٧٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ مَتَى يَقُومُ النَّاسُ لِلصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٢٥؛حدیث نمبر١٢٨٠)

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1280

ابن شہاب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عصر کی نماز میں کچھ تاخیر فرمائی تو حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا حضرت جبریل علیہ السلام اترے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے(کھڑے ہو کر)یہ نماز پڑھائی۔حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عروہ!دیکھو کیا کہ رہےہو انہوں نے کہا میں نے حضرت بشیر بن ابی مسعود سے سنا وہ فرماتے ہیں۔میں نے حضرت ابو مسعود سے سنا وہ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی پھر ان کے ساتھ پڑھی(پانچ مرتبہ یہ الفاظ فرمائے)انگلیوں پر پانچ نمازوں کو شمار کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛ترجمہ؛پانچ نمازوں کی اوقات؛ جلد١ص٤٢٥؛حدیث نمبر١٢٨١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ نَزَلَ، فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ» يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1281

ابن شہاب سے مروی ہے کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے نماز میں تاخیر کی تو حضرت عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انہوں نے ان کو بتایا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن کوفہ میں نماز میں تاخیر فرمائی تو حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اے مغیرہ یہ کیا ہے؟کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اتر کر نماز پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی پھر انہوں نے نماز پڑھی تو آپ نے بھی پڑھی۔پھر انہوں نے نماز پڑھی تو حضور علیہ السلام نے بھی پڑھی۔پھر انہوں نے فرمایا مجھے(یا آپ کو)اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز علیہ الرحمۃ نے حضرت عروہ سے فرمایا اے عروہ!دیکھو کیا بیان کر رہے ہو کیا حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کے اوقات مقرر کئے۔(مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوقات نماز مقرر فرمائے چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت جبریل علیہ السلام نے بیان فرمائے لہٰذا ان کی طرف نسبت کی گئی ہے)حضرت عروہ نے فرمایا حضرت بشیر بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اسی طرح روایت کرتے تھے۔حضرت عروہ فرماتے ہیں ام المؤمنين حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور ابھی ان کے حجرے میں سایہ ظاہر نہ ہوتا(دھوپ ہوتی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٥؛حدیث نمبر١٢٨٢)

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «بِهَذَا أُمِرْتُ» فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ، أَوَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ.قَالَ عُرْوَةُ، وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا، قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1282

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور سورج میرے حجرے میں روشن ہوتا اور ابھی تک سایہ نہ ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٦؛حدیث نمبر١٢٨٣)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي، لَمْ يَفِئِ الْفَيْءُ بَعْدُ»، وقَالَ أَبُو بَكْرِ: لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1283

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو ان کے حجرہ مبارکہ میں دھوپ ہوتی اور ان کے حجرہ سے سایہ ظاہر نہ ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٦؛حدیث نمبر١٢٨٤)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا، لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ فِي حُجْرَتِهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1284

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے اور ابھی آپ کے حجرہ مبارکہ میں دھوپ ہوتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٦؛حدیث نمبر١٢٨٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ وَاقِعَةٌ فِي حُجْرَتِي»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1285

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم فجر کی نماز پڑھ لو تو صبح کا وقت باقی رہتا ہے یہاں تک کہ سورج کا اوپر والا کنارہ طلوع ہو۔پھر جب تم ظہر کی نماز پڑھو تو(ظہر کا)وقت باقی رہتا ہے حتیٰ کہ عصر کا وقت آجائے پھر جب تم عصر کی نماز پڑھ لو تو سورج کے زرد ہو جانے تک وقت ہوتا ہے اور جب تم مغرب کی نماز پڑھ لو تو اس وقت باقی رہتا ہے۔یہاں تک کہ شفق غائب ہوجائے۔پس جب تم عشاء کی نماز پڑھو تو ہر رات کے نصف تک اس کا وقت باقی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٦؛حدیث نمبر١٢٨٦)

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنَّ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الْأَوَّلُ، ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرُ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1286

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا ظہر کا وقت عصر کے آنے تک ہوتا ہے۔اور عصر کا وقت سورج کے زرد ہونے تک ہے۔مغرب کا وقت شفق کی تیزی ختم ہونے تک اور عشاء کا وقت نصف شب تک ہے۔فجر کا وقت سورج کے طلوع ہونے تک ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٧؛حدیث نمبر١٢٨٧)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ الْأَزْدِيُّ وَيُقَالُ الْمَرَاغِيُّ، وَالْمَرَاغُ حَيٌّ مِنَ الْأَزْدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَوَقْتُ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1287

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٨٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٧؛حدیث نمبر١٢٨٨)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا: قَالَ شُعْبَةُ: رَفَعَهُ مَرَّةً، وَلَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1288

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظہر کا وقت سورج کے ڈھلنے پر(شروع)ہوتا ہے جب آدمی کا سایہ کے طول میں اس کے برابر ہو جائے جب تک عصر کا وقت نہ ہو(یہ وقت باقی رہتا ہے)اور عصر کا وقت سورج کے زرد پڑ جانے تک ہوتا ہے۔مغرب کا وقت شفق کے غائب ہونے تک ہوتا ہے۔عشاء کا وقت درمیانی رات کے نصف تک ہوتا ہے اور صبح کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک ہے جب تک سورج طلوع نہ ہو جب سورج طلوع ہوجائے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٧؛حدیث نمبر١٢٨٩)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1289

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا نماز فجر کا وقت سورج کے پہلے کنارے کے طلوع ہونے تک ہے۔نماز ظہر کا وقت جب آسمان کے درمیان سے سورج ڈھل جائے اور یہ عصر تک ہے اور نماز عصر کا وقت سورج کا رنگ زرد پڑ جائے اور اس کا پہلا کنارہ ڈوبنے تک ہے۔نماز مغرب کا وقت سورج غروب ہونے سے شفق کے غائب ہونے تک ہے اور نماز عشاء کا وقت نصف رات تک ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٧؛حدیث نمبر١٢٩٠)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَزِينٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ وَهُوَ ابْنُ حَجَّاجٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ «وَقْتُ صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الْأَوَّلُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسِ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَيَسْقُطْ قَرْنُهَا الْأَوَّلُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ، مَا لَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1290

حضرت عبد اللہ بن یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں۔میں نے اپنے باپ سے سنا وہ فرماتے تھے جسم کو آرام وسکون دینے سے علم حاصل نہیں ہوتا۔(مطلب یہ ہے کہ حصول علم کے لیے دور دراز کا سفر کرنا اور صبح وشام محنت کرنا ضروری ہے۔)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٨؛حدیث نمبر١٢٩١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: «لَا يُسْتَطَاعُ الْعِلْمُ بِرَاحَةِ الْجِسْمِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1291

حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوقات نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ہمارے ساتھ ان دودنوں کی نماز پڑھو جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔انہوں نے اذان کہی پھر حکم دیا تو انہوں نے نماز ظہر کے لئے تکبیر کہی پھر حکم دیا تو نماز عصر کے لئے اقامت کہی جب سورج غائب ہوگیا پھر انہوں نے آپ کے حکم پر اس وقت عشاء کے لئے تکبیر کہی جب شفق غائب ہوگئی پھر آپ نے حکم دیا تو انہوں نے فجر کے لئے اقامت کہی جب فجر طلوع ہوا۔ جب دوسرا دن ہوا تو آپ کے حکم سے ظہر کو ٹھنڈا کیا اور خوب ٹھنڈا کیا اور عصر کی نماز پڑھی اور ابھی سورج بلند تھا لیکن پہلے دن سے کم تھا اور مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی اور عشاء کی نماز رات کی(پہلی)تہائی جانے پر پڑھی اور صبح کی نماز روشن کر کے پڑھا۔ پھر فرمایا اوقات نماز کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ!میں ہوں آپ نے فرمایا تم لوگوں کی نماز کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے(ان دونوں میں) دیکھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٨؛حدیث نمبر١٢٩٢)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَزْرَقِ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ: «صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ - يَعْنِي الْيَوْمَيْنِ - فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرَ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ، فَأَبْرَدَ بِهَا، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا»، ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟» فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1292

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوااور اس نے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔آپ نے فرمایا ہمارے ساتھ نماز میں موجود رہو۔پس آپ نے حضرت بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اندھیرے میں آذان پڑھی پس آپ نے طلوع فجر کے وقت صبح کی نماز پڑھی پھر ظہر کے لئے اس وقت حکم دیا جب آسمان کے درمیان سے سورج ڈھل گیا۔پھر عصر کے لئے اس وقت حکم دیا جب سورج بلند تھا۔پھر مغرب کے لئے اس وقت حکم دیا جب سورج غروب ہوگیا پھر عشاء کے لیے اس وقت حکم دیا جب شفق غائب ہو گئی پھر دوسرے دن حکم دیا تو صبح کو روشن کیا۔پھر ظہر کے بارے میں حکم دیا تو اسے ٹھنڈا کیا۔پھر عصر کے لئے حکم دیا جب دھوپ سفید اور صاف تھی اس میں زردی نہیں ملی تھی پھر مغرب کے شفق غائب ہونے سے پہلے حکم دیا۔پھر عشاء کے بارے میں حکم دیا۔جب رات کا تہائی حصہ یا بعض حصہ چلا گیا حرمی بن عمارہ راوی کو شک ہے صبح ہوئی تو فرمایا سائل کہاں ہے۔پھر فرمایا جو کچھ تم نے(دودن)دیکھا اس کے درمیان وقت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٩؛حدیث نمبر١٢٩٣)

وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «اشْهَدْ مَعَنَا الصَّلَاةَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ، فَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ حِينَ وَقَعَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ الْغَدَ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ لَمْ تُخَالِطْهَا صُفْرَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنَّ يَقَعَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ عِنْدَ ذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ، أَوْ بَعْضِهِ - شَكَّ حَرَمِيٌّ -» فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتَ وَقْتٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1293

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ کے پاس ایک سائل آیا جو آپ سے اوقات نماز کے بارے میں پوچھ رہا تھا تو آپ نے جواب نہ دیا(مطلب یہ کہ اوقات نہ بتائے بلکہ اسے اپنے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا)تو صبح کی نماز اس وقت پڑھی جب فجر پھوٹ چکی تھی اور(اندھیرے کی وجہ سے)لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے۔پھر(حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو) حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی جب سورج ڈھل گیا اور کوئی کہنے والا کہتا ہے دن کا نصف ہوگیا اور آپ سب سے زیادہ جانتے ہیں پھر نماز عصر کے لئے تکبیر کا حکم دیا۔جب سورج بلند تھا پھر مغرب کی تکبیر کا حکم اس وقت دیا جب سورج غروب ہوگیا پھر عشاء کی اقامت کا حکم دیا جب شفق غائب ہوگئی۔پھر دوسرے دن فجر کو مؤخر کیا کہ واپس جانے والے کہتے تھے کہ سورج نکل چکا ہے یا نکلنے والا ہے پھر ظہر کو مؤخر کیا حتیٰ کہ گزشتہ روز کے مطابق عصر کا وقت قریب ہوگیا۔پھر عصر کی نماز کو مؤخر کیا حتیٰ کہ نماز سے فراغت کے بعد کہنے والا کہنے لگا کہ سورج کا رنگ زرد ہو چکا ہے پھر نماز کو تاخیر سے پڑھا حتیٰ کہ شفق غائب ہو رہی تھی پھر عشاء کو رات کی پہلی تہائی(کے آخر) تک مؤخر کیا۔پھر صبح ہوئی تو پوچھنے والے کو بلا کر فرمایا ان دو وقتوں کے درمیان(مستحب)وقت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٩؛حدیث نمبر١٢٩٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ " أَتَاهُ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ، وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ، حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدِ انْتَصَفَ النَّهَارُ، وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، أَوْ كَادَتْ، ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا، وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ، فَقَالَ: الْوَقْتُ بَيْنَ هَذَيْنِ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1294

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٩٤ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں یہ ہے کہ دوسرے دن مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ؛جلد١ص٤٢٩؛حدیث نمبر١٢٩٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ بَدْرِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ، أَبِيهِ، أَنَّ سَائِلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنَّ يَغِيبَ الشَّفَقُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1295

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛ترجمہ؛گرمیوں میں نماز ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھنا؛جلد١ص٤٣٠؛حدیث نمبر١٢٩٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1296

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٩٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٠؛حدیث نمبر١٢٩٧)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1297

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرم دن ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٠؛حدیث نمبر١٢٩٨)

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ عَمْرٌو: أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَسَلْمَانَ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الْحَارُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1298

حضرت عمرو نے فرمایا مجھ سے حدیث بیان کیا ابو یونس نے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرم دن ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٠؛حدیث نمبر١٢٩٩)

قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ»، قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1299

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٢٩٨ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٠؛حدیث نمبر١٣٠٠)

قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1300

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک یہ گرمی جہنم کی بھاپ سے ہے پس نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣١؛حدیث نمبر١٣٠١)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1301

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣١؛حدیث نمبر١٣٠٢)

حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1302

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے ظہر کی اذان دینا چاہی تو آپ نے فرمایا ٹھنڈا وقت ہونے دو (دو بار فرمایا)یا فرمایا انتظار کرو،انتظار کرو اور فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔پس نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔(اس قدر دیر ہوگئی کہ)ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣١؛حدیث نمبر١٣٠٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُهَاجِرًا أَبَا الْحَسَنِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظُّهْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْرِدْ، أَبْرِدْ»، أَوْ قَالَ: «انْتَظِرِ، انْتَظِرْ»، وَقَالَ: «إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ»، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: «حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1303

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگ نے اپنے رب کے ہاں شکایت کرتے ہوئے کہا۔اے میرے رب میرے بعض نے بعض کو کھا لیا ہےتو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی۔ایک سانس سردیوں میں اور دوسرا سانس گرمیوں میں، سردی اور گرمی کی جو شدت تم محسوس کرتے ہو یہ انہی سانسوں کی وجہ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣١؛حدیث نمبر١٣٠۴)

وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَهْوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1304

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمیوں کے دن ہوں تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے اور آپ نے ذکرفرمایا کہ آگ نے اپنے کے ہاں شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی ایک سانس سردیوں میں اور دوسرا سانس گرمیوں میں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٢؛حدیث نمبر١٣٠٥)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا كَانَ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ» وَذَكَرَ «أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا، فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1305

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا آگ نے کہا اے میرے رب!میرے بعض نے بعض کو کھا لیا۔پس تو مجھے سانس لینے کی اجازت دے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک سانس سردیوں میں اور دوسرا سانس گرمیوں میں تو تم جو سردی محسوس کرتے ہو یہ جہنم کی سانس کی وجہ سے ہے اور جو گرمی تم محسوس کرتے ہو وہ بھی جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ، وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ؛جلد١ص٤٣٢؛حدیث نمبر١٣٠٦)

وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَتِ النَّارُ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأْذَنْ لِي أَتَنَفَّسْ، فَأْذِنْ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ بَرْدٍ، أَوْ زَمْهَرِيرٍ فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ، وَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ حَرٍّ، أَوْ حَرُورٍ فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1306

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ؛ترجمہ؛سردیوں میں نماز ظہر جلدی پڑھنا؛جلد١ص٤٣٢؛حدیث نمبر١٣٠۷)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَابْنِ مَهْدِيٍّ، ح قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ح قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1307

حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت گرمی میں نماز کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہ فرمایا۔(یہ حدیث منسوخ ہو چکی ہے اور اس کی ناسخ احادیث وہ ہیں جن میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرنے کا حکم دیا گیا)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ؛جلد١ص٤٣٢؛حدیث نمبر١٣٠٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: «شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي الرَّمْضَاءِ، فَلَمْ يُشْكِنَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1308

حضرت خباب سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سخت گرمی کی شکایت کی تو آپ نے اس شکایت کا ازالہ نہ کیا۔ حضرت زبیر(راوی)کہتے ہیں۔میں نے ابو اسحاق سے پوچھا کیا ظہر کے بارے میں ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں،میں نے کہا کیا اسے جلدی پڑھنے کے بارے میں ہے۔فرمایا ہاں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ؛جلد١ص٤٣٣؛حدیث نمبر١٣٠٩)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ عَوْنٌ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ يُونُسَ: وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ حَرَّ الرَّمْضَاءِ، فَلَمْ يُشْكِنَا» قَالَ زُهَيْرٌ: قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: " أَفِي الظُّهْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَفِي تَعْجِيلِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1309

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے۔جب ہم میں سے کوئی ایک اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ سکتا تو وہ کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ الظُّهْرِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ فِي غَيْرِ شِدَّةِ الْحَرِّ؛جلد١ص٤٣٣؛حدیث نمبر١٣١٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ، بَسَطَ ثَوْبَهُ، فَسَجَدَ عَلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1310

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو ابھی سورج بلند اور صاف ہوتا پس جانے والا مدینہ طیبہ کی بالائی بستیوں میں جاتا اور وہاں پہنچتا تو ابھی سورج بلند ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛ترجمہ؛عصر کی نماز جلدی پڑھنے کا استحباب؛جلد١ص٤٣٣؛حدیث نمبر١٣١١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، فَيَأْتِي الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ» وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ: فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ،

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1311

قتیبہ کی روایت میں بالائی بستیوں کا ذکر نہیں ہے۔ایک اور سند سے بھی انہیں کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٤؛حدیث نمبر١٣١٢)

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ سَوَاءً

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1312

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم عصر کی نماز پڑھتے پھر کوئی جانے والا قبا کی طرف جاتا وہاں ان کے پاس پہنچتا تو ابھی سورج بلند ہوتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٤؛حدیث نمبر١٣١٣)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ، فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1313

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم عصر کی نماز پڑھتے پھر کوئی شخص بنو عمرو بن عوف کے پاس جاتا تو ان کو نماز عصر پڑھتے ہوئے پاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٤؛حدیث نمبر١٣١٤)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1314

حضرت علاء بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ وہ بصرہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر حاضر ہوئے۔جب وہ ظہر کی نماز سے فارغ ہوۓ۔اور ان کا گھر مسجد کے ساتھ تھا جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا کیا تم لوگ عصر کی نماز پڑھ چکے ہو۔ہم نے عرض کیا ابھی تو ہم نماز ظہر سے فارغ ہوئے ہیں۔فرماتے ہیں چنانچہ ان لوگوں نے عصر کی نماز پڑھی تو ہم نے بھی پڑھی۔جب سلام پھیرا تو انہوں نے(حضرت انس رضی اللہ عنہ نے)فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ بیٹھا بیٹھا سورج کا انتظار کرتا ہے۔جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو یہ چار ٹھونگیں مارتا ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت کم کرتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٤؛حدیث نمبر١٣١٥)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ، حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ، وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ؟ فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ، قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ، فَقُمْنَا، فَصَلَّيْنَا، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا، لَا يَذْكُرُ اللهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1315

حضرت ابو امامہ بن سہل فرماتے ہیں۔ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمت اللہ علیہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی۔پھر ہم نکلے حتیٰ کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو ان کو نماز عصر پڑھتے ہوئے پایا۔میں نے عرض کیا چچا جان!آپ نے یہ کون سی نماز پڑھی ہے؟فرمایا نماز عصر اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ(اس وقت)پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٤؛حدیث نمبر١٣١٦)

وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَقُلْتُ: يَا عَمِّ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: «الْعَصْرَ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1316

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی۔جب سلام پھیرا تو بنو سلمہ کا ایک شخص آیا۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم اپنا ایک اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی وہاں تشریف فرما ہوں۔آپ نے فرمایا ہاں(ٹھیک ہے)پس آپ تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ گئے تو ہم نے دیکھا اونٹ ابھی ذبح نہیں کیا گیا تھا پس اسے ذبح کر کے(اس کا گوشت)کاٹا گیا۔پھر اس سے پکایا گیا پھر ہم نے اس سے کھایا اور ابھی سورج غروب نہ ہوا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٥؛حدیث نمبر١٣١٧)

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ عَمْرٌو: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا "، قَالَ: «نَعَمْ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ، فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ، فَنُحِرَتْ، ثُمَّ قُطِّعَتْ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا، ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ» وقَالَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1317

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے اونٹ ذبح کیا جاتا ہم اسے دس حصوں میں تقسیم کرتے۔پھر ہم اس کا پکا ہوا گوشت غروب آفتاب سے پہلے کھاتے۔(اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عصر کی نماز میں زیادہ تاخیر نہ ہو حتیٰ کہ سورج زرد رنگ اختیار کرے بلکہ اس سے پہلے پڑھی جائے اگرچہ بہت جلدی بھی نہ ہو)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٥؛حدیث نمبر١٣١٨)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: «كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ، فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ، ثُمَّ تُطْبَخُ، فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1318

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم عہد رسالت میں عصر کے بعد اونٹ ذبح کرتے تھے اس میں انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھنے کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٥؛حدیث نمبر١٣١٩)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَلَمْ يَقُلْ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1319

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے عصر رہ جائے گویا اس کے اہل ومال ضائع ہوگئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَفْوِيتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ؛ترجمہ؛نماز عصر نہ پڑھنے پر سخت وعید؛جلد١ص٤٣٥؛حدیث نمبر١٣٢٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ، كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1320

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٢٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَفْوِيتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ؛ جلد١ص٤٣٦؛حدیث نمبر١٣٢١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَمْرٌو: يَبْلُغُ بِهِ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَفَعَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1321

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے عصر کی نماز فوت ہوجائے گویا اس کا گھر بار اور مال ہلاک ہوگیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَفْوِيتِ صَلَاةِ الْعَصْرِ؛ جلد١ص٤٣٦؛حدیث نمبر١٣٢٢)

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ فَاتَتْهُ الْعَصْرُ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1322

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب غزوۂ احزاب کا دن تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان(کفار)کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے جس طرح انہوں نے نماز وسطیٰ(درمیانی نماز)سے مصروف رکھا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛باب الصلاة الوسطى؛ترجمہ؛نماز وسطیٰ؛جلد١ص٤٣٦؛حدیث نمبر١٣٢٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا، كَمَا حَبَسُونَا، وَشَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1323

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٢٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛باب الصلاة الوسطى؛ہ؛جلد١ص٤٣٦؛حدیث نمبر١٣٢٤)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1324

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا۔ان(کفار)نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ سے مصروف رکھا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔اللہ تعالی ان کی قبروں کو اور گھروں یا(فرمایا)پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔حضرت شعبہ کو شک ہے کہ گھروں کا ذکر فرمایا یا پیٹوں کا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛ترجمہ؛نماز وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے اس کی دلیل کیا ہے؟؛جلد١ص٤٣٦؛حدیث نمبر١٣٢٥)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: «شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتِ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ نَارًا، أَوْ بُيُوتَهُمْ، أَوْ بُطُونَهُمْ» - شَكَّ شُعْبَةُ فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ -

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1325

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٢٥ کی مثل مروی ہے۔اور اس میں شک نہیں بلکہ گھروں اور قبروں کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٢٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ»، وَلَمْ يَشُكَّ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1326

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احزاب کے دن خندق کے راستوں میں سے ایک راستے پر بیٹھے تھے تو آپ نے فرمایا۔ان لوگوں نے ہمیں وسطیٰ نماز سے روک رکھا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے یا فرمایا ان کی قبروں یا پیٹوں کو(آگ سے بھر دے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٢٧)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى، سَمِعَ عَلِيًّا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ: «شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ»، أَوْ قَالَ: «قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1327

حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ(یعنی)نماز عصر سے روکے رکھا۔اللہ تعالی ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے پھر آپ نے مغرب اور عشاء کے درمیان یہ نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٢٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: «شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا»، ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ، بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1328

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مشرکین کی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر نہ پڑھ سکے حتیٰ کہ سورج کا رنگ سرخ یا زرد ہوگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ(یعنی)نماز عصر سے روکے رکھا اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٢٩)

وَحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ، حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، أَوِ اصْفَرَّتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا»، أَوْ قَالَ: «حَشَا اللهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1329

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے مروی ہے۔فرماتے ہیں مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ میں ان کے لیے قرآن مجید کا ایک نسخہ لکھوں اور فرمایا جب تم آیت کریمہ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] (تمام نمازوں بالخصوص درمیان والی نماز کی حفاظت کرو)پر پہنچو تومجھے بتانا فرماتے ہیں جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے ام المومنین کو بتایا چنانچہ انہوں نے مجھے یوں لکھوایا۔: " {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨]، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] "(نماز عصر کو نماز وسطیٰ قرار دیا) ام المؤمنين نے فرمایا میں نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٣٠)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، وَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ: " {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨]، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] "، قَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1330

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں آیت کریمہ یوں نازل ہوئی: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} [البقرة: ٢٣٨] وَصَلَاةِ الْعَصْرِ،تو جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم نے اسے پڑھا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر کے آیت یوں نازل فرمائی:{حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} [البقرة: ٢٣٨]ایک شخص جو حضرت قیق(راوی)کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔اس نے کہا تو اب یہ نماز عصر ہے؟حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے تمہیں بتایا ہے کہ یہ کس طرح نازل ہوئی اور کیسے اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کردیا۔ امام مسلم فرماتے ہیں ایک اور سند کے ساتھ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں ہم ایک زمانے تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح پڑھتے رہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٣١)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ} [البقرة: ٢٣٨] وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَرَأْنَاهَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ نَسَخَهَا اللهُ، فَنَزَلَتْ: {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨]، " فَقَالَ رَجُلٌ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ شَقِيقِ لَهُ: هِيَ إِذَنْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقَالَ الْبَرَاءِ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ، وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ "، قَالَ مُسْلِمٌ: وَرَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَرَأْنَاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًا بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1331

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔خندق کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ سورج غروب ہونے کو ہے اور میں نے ابھی تک عصر کی نماز نہیں پڑھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم میں نے بھی نہیں پڑھی۔پس ہم پتھریلی زمین کی طرف اترے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور ہم نے بھی وضو کیا۔پھر آپ نے غروب آفتاب کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔(چونکہ صاحب ترتیب سے کوئی نماز قضاء ہوجائے تو پہلے اسے پڑھنا ضروری ہے اس لیے پہلے عصر کی نماز پڑھی کیونکہ قضاء ہوگئی تھی پھر مغرب کی نماز بطور ادا پڑھی۔(١٢ہزاروی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٧؛حدیث نمبر١٣٣٢)

وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ‍، وَاللهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَوَاللهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا، فَنَزَلْنَا إِلَى بُطْحَانَ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَوَضَّأْنَا، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1332

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٣٣٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الدَّلِيلِ لِمَنْ قَالَ الصَّلَاةُ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؛جلد١ص٤٣٨؛حدیث نمبر١٣٣٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1333

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح اور شام کے فرشتے تمہارے پاس آگے پیچھے آتے ہیں اور وہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔پھر جنہوں نے تمہارے پاس رات گزاری ہے وہ چلے جاتے ہیں ان سے ان کا رب پوچھتا ہے حالانکہ خوب جانتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا۔وہ کہتے ہیں ہم نے ان کو چھوڑا اور وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تو بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛ترجمہ؛صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان کی حفاظت؛ جلد١ص٤٣٩؛حدیث نمبر١٣٣٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1334

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٣٣٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٣٩؛حدیث نمبر١٣٣٥)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَالْمَلَائِكَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ» بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1335

حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا تو عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو۔تم اس کے دیکھنے میں شک نہیں کروگے۔اگر تم سے ہوسکے تو سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے کی نماز یعنی فجر اور عصر کی نماز کو قضا نہ کرو۔پھر حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت کریمہ پڑھی۔ {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} [طه: ١٣٠](پس آپ طلوع آفتاب سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٣٩؛حدیث نمبر١٣٣٦)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَهُوَ يَقُولُ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: «أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا» - يَعْنِي الْعَصْرَ وَالْفَجْرَ -، ثُمَّ قَرَأَ جَرِيرٌ {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} [طه: ١٣٠]

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1336

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٣٦ کی مثل مروی ہے۔اس میں حضرت جریر کی قرأت کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٤٠؛حدیث نمبر١٣٣٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، وَوَكِيعٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «أَمَا إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّكُمْ، فَتَرَوْنَهُ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ»، وَقَالَ: ثُمَّ قَرَأَ، وَلَمْ يَقُلْ: جَرِيرٌ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1337

حضرت عمارہ بن رؤبیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ نے فرمایا جو شخص سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے کی نمازیں یعنی فجر اور عصر کی نماز پڑھتا ہے۔وہ ہر گز جہنم میں نہیں جائے گا۔اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے ان سے پوچھا کیا آپ نے یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟انہوں نے فرمایا ہاں اس شخص سے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے میرے کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٤٠؛حدیث نمبر١٣٣٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَمِسْعَرٍ، وَالْبَخْتَرِيِّ بْنِ الْمُخْتَارِ، سَمِعُوهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا» - يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ -، " فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ الرَّجُلُ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1338

حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے کی(دو)نمازیں پڑھتا ہے۔وہ جہنم میں ہر گز نہیں جائے گا۔ان کے پاس اہل بصرہ میں ایک شخص تھا اس نے پوچھا کہ کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خود یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات اس جگہ سنی ہے جہاں آپ نے سنی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٤٠؛حدیث نمبر١٣٣٩)

وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَلِجُ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا» وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ، لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ بِالْمَكَانِ الَّذِي سَمِعْتَهُ مِنْهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1339

حضرت ابوبکر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دو ٹھنڈی نمازوں(فجر اور عصر)کو پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ،وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٤٠؛حدیث نمبر١٣٤٠)

وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1340

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٤٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ،وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا؛جلد١ص٤٤٠؛حدیث نمبر١٣٤١)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَنَسَبَا أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَا: ابْنُ أَبِي مُوسَى

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1341

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہوکر پردے میں چلا جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ؛ترجمہ؛مغرب کا وقت غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے؛جلد١ص٤٤١؛حدیث نمبر١٣٤٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1342

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مغرب کی نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پڑھتے تو اس کے بعد ہم سے واپس ہونے والا شخص اپنا تیر لگنے کی جگہ دیکھ لیتا۔(زیادہ اندھیرا نہیں ہوتا تھا)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ؛جلد١ص٤٤١؛حدیث نمبر١٣٤٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: «كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا، وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1343

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٤٣ کی مثل مروی ہے۔حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہوکر پردے میں چلا جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ بَيَانِ أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ؛جلد١ص٤٤١؛حدیث نمبر١٣٤٤)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ بِنَحْوِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1344

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز جسے عتمہ کہا جاتا ہے میں تاخیر فرمائی اور ابھی آپ(نماز کے لئے)تشریف نہیں لے گئے تھے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔عورتیں اور بچے سو گئے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(مسجد میں)تشریف لے گئے تو اہل مسجد سے فرمایا تمہارے علاوہ اہل زمین میں سے کوئی بھی اس نماز کا منتظر نہیں ہے اور اس وقت تک لوگوں میں اسلام زیادہ نہیں پھیلا تھا۔تمہارے لیے جائز نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پر مجبور کرو یہ اس وقت فرمایا جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آواز بلند ہوئی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛ترجمہ؛وقت عشاء اور نماز میں تاخیر؛جلد١ص٤٤١؛حدیث نمبر١٣٤٥)

وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ: «مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ»، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فِي النَّاسِ زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنَّ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّلَاةِ، وَذَاكَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ،

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1345

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٤٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٢؛حدیث نمبر١٣٤٦)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ، وَذُكِرَ لِي وَمَا بَعْدَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1346

ایک اور سند کے ساتھ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز میں تاخیر فرمائی حتیٰ کہ رات کا زیادہ حصہ گزر گیا اور یہاں تک کہ اہل مسجد سو گئے پھر تشریف لائے اور نماز پڑھائی فرمایا اس کا یہ وقت ہے اگر میں اپنی امت پر باعث مشقت نہ سمجھتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٢؛حدیث نمبر١٣٤۷)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، كِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالُوا جَمِيعًا: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ، وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، فَقَالَ: «إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي» وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: «لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1347

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم ایک رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں نماز عشاء کے لیے ٹھہرے رہے تو آپ اس وقت تشریف لائے جب رات کا تہائی حصہ یا اس سے زیادہ وقت گزر چکا تھا۔ہمیں معلوم نہیں آپ کو گھر میں کسی کام کی وجہ سے رکاوٹ ہوئی یا کوئی اور بات تھی۔جب تشریف لائے تو فرمایا تم اس نماز کے انتظار میں ہو کہ کسی دین والا اس کا منتظر نہیں ہے۔اگر یہ بات میری امت پر گراں نہ ہوتی تو میں ان کو اس وقت نماز پڑھاتا پھر مؤذن کو حکم دیا۔اس نے اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٢؛حدیث نمبر١٣٤٨)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، أَوْ بَعْدَهُ، فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ، أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: «إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ، وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ»، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَصَلَّى

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1348

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول ہو گئے تو نماز عشاء کو مؤخر کردیا۔حتیٰ کہ ہم مسجد میں سو گئے۔پھر بیدار ہوۓ پھر سو گئے پھر بیدار ہوۓ۔اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اس رات اہل زمین میں سے تمہارے علاوہ کوئی بھی نماز کا منتظر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٢؛حدیث نمبر١٣٤٩)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً، فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ اللَّيْلَةَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1349

حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا ایک رات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کیا یا قریب تھا کہ نصف رات چلی جائے پھر آپ تشریف لائے تو فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے اور تم جب تک نماز کے انتظار میں ہو نماز میں ہی شمار ہو رہے ہو۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔گویا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔آپ نے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کو اٹھایا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٣؛حدیث نمبر١٣٥٠)

وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، أَوْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: «إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا، وَنَامُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ»، قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى بِالْخِنْصِرِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1350

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نے ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا حتیٰ کہ رات کا نصف قریب ہوگیا۔پھر آپ تشریف لائے اور نماز پڑھائی گویا میں آپ کے ہاتھوں میں چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٣؛حدیث نمبر١٣٥١)

وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «نَظَرْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً حَتَّى كَانَ قَرِيبٌ مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ فِي يَدِهِ مِنْ فِضَّةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1351

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث ١٣٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٣؛حدیث نمبر١٣٥٢)

وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1352

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور میرے دوست جو میرے ساتھ کشتی میں آئے تھے اور مدینہ طیبہ میں بقیع کی پتھریلی زمین میں اترے تھے۔ان میں سے کچھ حضرات باری باری عشاء کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور میرے کچھ دوست حاضر ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ کام کی مصروفیت تھی حتیٰ کہ آپ نے نماز عشاء میں تاخیر فرمائی یہاں تک کہ نصف رات ہوگئی پھر آپ تشریف لائے اور صحابہ کرام کو نماز پڑھائی نماز پڑھا چکے تو حاضرین سے فرمایا۔اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو میں تمہیں(تاخیر کی وجہ)بتاؤں اور تمہیں خوشخبری دوں کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی یہ نعمت ہے کہ اس وقت تمہارے علاوہ کوئی بھی نماز نہیں پڑھ رہا۔راوی کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں آپ نے لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ»،یا فرمایا: «مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ»فرمایا(مفہوم ایک ہی ہے)راوی فرماتے ہیں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر خوشی خوشی واپس آئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٣؛حدیث نمبر١٣٥٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَصْحَابِي الَّذِينَ قَدِمُوا مَعِي فِي السَّفِينَةِ نُزُولًا فِي بَقِيعِ بُطْحَانَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَتَنَاوَبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ كُلَّ لَيْلَةٍ نَفَرٌ مِنْهُمْ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي وَلَهُ بَعْضُ الشُّغْلِ فِي أَمْرِهِ، حَتَّى أَعْتَمَ بِالصَّلَاةِ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ: «عَلَى رِسْلِكُمْ، أُعْلِمُكُمْ وَأَبْشِرُوا أَنَّ مِنْ نِعْمَةِ اللهِ عَلَيْكُمْ أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ»، أَوْ قَالَ: «مَا صَلَّى هَذِهِ السَّاعَةَ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ» - لَا نَدْرِي أَيَّ الْكَلِمَتَيْنِ قَالَ -، قَالَ أَبُو مُوسَى: «فَرَجَعْنَا فَرِحِينَ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1353

حضرت ابن جریح فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عطاء سے کہا آپ کے نزدیک کس وقت نماز عشاء پڑھنا زیادہ پسندیدہ ہے۔باجماعت ہو یا تنہا۔انہوں نے فرمایا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا۔فرماتے ہیں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر فرمائی حتیٰ کہ صحابہ کرام سو گئے۔بیدار ہوۓ پھر سو گئے اور بیدار ہوۓ تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر کہا"نماز"(یعنی نماز کا وقت ہے)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے گویا میں(اب بھی)آپ کو دیکھ رہا ہوں۔آپ کے سر انور سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور آپ نے اپنا دست مبارک سر کے ایک کنارے پر رکھا ہوا تھا۔آپ نے فرمایا اگر میں اپنی امت پر گراں نہ سمجھتا تو ان کو اسی طرح(تاخیر سے)نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔ فرماتے ہیں میں نے حضرت عطاء رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر انور پر ہاتھ کس طرح رکھاہوا تھا(وہ مجھے اس طرح بتائیں)جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا تھا۔ حضرت عطاء نے میرے لیے اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا پھر انگلیوں کے سروں کو سر پر رکھا پھر انکو جھکا کر سر پر پھیرا۔اسی طرح پھیرتے رہے حتیٰ کہ آپ کا انگوٹھا کان کے اس کنارے سے ٹکرایا جو چہرے سے ملا ہوا ہے۔پھر کنپٹی پر اور داڑھی کے کنارے پر پھیرا۔ہاتھ اور انگوٹھا کسی چیز کو چھوتا نہ تھا۔ابن جریح فرماتے ہیں میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کو کیا بتایا کہ نماز میں کس قدر تاخیر ہوئی تھی۔انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں۔مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں باجماعت نماز پڑھوں یا اکیلا پڑھوں لیکن اسے تاخیر سے پڑھوں جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات تاخیر سے پڑھی ہے۔اگر تمہارے لیے یہ بات مشکل ہو تو چھوڑ دو یا تم لوگوں کو نماز پڑھا رہے ہو تو درمیانی راہ اختیار کرو نہ جلدی کرو اور نہ ہی تاخیر۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٤؛حدیث نمبر١٣٥٤)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ، الَّتِي يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةَ، إِمَامًا وَخِلْوًا؟ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَعْتَمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ، قَالَ: حَتَّى رَقَدَ نَاسٌ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ، قَالَ: «لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ»، قَالَ: فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً، كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ، ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى قَرْنِ الرَّأْسِ، ثُمَّ صَبَّهَا، يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ، حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ، ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ، لَا يُقَصِّرُ وَلَا يَبْطِشُ بِشَيْءٍ، إِلَّا كَذَلِكَ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " كَمْ ذُكِرَ لَكَ أَخَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ عَطَاءٌ: أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أُصَلِّيَهَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤَخَّرَةً كَمَا صَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ، فَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ذَلِكَ خِلْوًا أَوْ عَلَى النَّاسِ فِي الْجَمَاعَةِ، وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ، فَصَلِّهَا وَسَطًا، لَا مُعَجَّلَةً، وَلَا مُؤَخَّرَةً "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1354

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو تاخیر سے پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٥؛حدیث نمبر١٣٥٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1355

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باقی نمازوں کو اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم پڑھتے ہو لیکن نماز عشاء کو کچھ مؤخر کرتے تھے اور آپ نماز میں اختصار فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٥؛حدیث نمبر١٣٥٦)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا، وَكَانَ يُخِفُّ الصَّلَاةَ» وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ يُخَفِّفُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1356

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا دیہاتی اس نماز کے نام پر غالب نہ آجائیں سنو!یہ نماز عشاء ہے اور وہ اونٹنیوں کو دودھ دیر سے دھوتے تھے(اور اس نماز کو عتمہ کہتے ہے جس کا معنیٰ تاخیر ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٥؛حدیث نمبر١٣٥٧)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، أَلَا إِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَهُمْ يُعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1357

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز عشاء کے نام میں دیہاتی تم پر غالب نہ آجائیں۔قرآن مجید میں اس کا نام عشاء ہے اور اونٹنیوں کا دودھ دیر سے دھوتے تھے(یعنی اسے عتمہ نہ کہو یہ دیہاتیوں کا طریقہ ہے بلکہ عشاء کہو)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ وَتَأْخِيرِهَا؛جلد١ص٤٤٥؛حدیث نمبر١٣٥٨)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللهِ الْعِشَاءُ، وَإِنَّهَا تُعْتِمُ بِحِلَابِ الْإِبِلِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1358

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مسلمان عورتیں صبح کی نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں پڑھتیں پھر اپنی چادروں سے جسموں کو لپیٹ کر واپس جاتیں اور ان کو کوئی پہچان نہ سکتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا، وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛صبح کا مستحب وقت؛جلد١ص٤٤٥؛حدیث نمبر١٣٥٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يُصَلِّينَ الصُّبْحَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ لَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1359

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مسلمان عورتیں فجر کی نماز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتیں پھر وہ اپنی چادریں لپیٹے ہوئے واپس گھروں کو جاتیں تو اس لئے پہچانی نہ جاتیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں نماز پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ،وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٦؛حدیث نمبر١٣٦٠)

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «لَقَدْ كَانَ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ يَشْهَدْنَ الْفَجْرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ إِلَى بُيُوتِهِنَّ، وَمَا يُعْرَفْنَ مِنْ تَغْلِيسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1360

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھاتے تو عورتیں اپنی چادریں لپیٹ کر واپس جاتیں اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٦؛حدیث نمبر١٣٦١)

وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ، فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ» وقَالَ الْأَنْصَارِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: مُتَلَفِّفَاتٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1361

حضرت محمد بن عمرو بن حسن ابن علی رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں۔جب حجاج مدینہ طیبہ آیا تو ہم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز زوال کے بعد گرمی میں پڑھتے عصر کی نماز پڑھتے تو سورج صاف ہوتا اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور نماز عشاء کو کبھی تاخیر سے پڑھتے اور کبھی جلدی پڑھتے جب صحابہ کرام کو دیکھتے کہ جمع ہوگئے اس کو جلدی پڑھتے اور جب ان کی طرف سے تاخیر دیکھتے تو تاخیر فرماتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے(انہوں نے فرمایا)صحابہ کرام یا فرمایا حضور ایسا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٦؛حدیث نمبر١٣٦٢)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا، وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ، كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ، وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ كَانُوا - أَوْ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1362

حضرت محمد بن عمرو بن حسن بن علی رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں۔حجاج نماز کو اپنے وقت سے تاخیر کے ساتھ پڑھتا تھا تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا جیسا کہ حدیث نمبر ١٣٦٢ میں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٧؛حدیث نمبر١٣٦٣)

وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ الْحَجَّاجُ يُؤَخِّرُ الصَّلَوَاتِ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1363

حضرت سیار بن سلامہ فرماتے ہیں۔میں نے اپنے والد سے سنا وہ حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تم نے خود یہ بات سنی ہے؟فرمایا گویا میں اس وقت یہ بات سن رہا ہوں۔وہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں قدرے تاخیر کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔راوی فرماتے ہیں اس سے مراد عشاء کی نماز کا نصف رات تک مؤخر کرنا ہے اور آپ نماز سے پہلے سونے اور نماز کے بعد گفتگو کو پسند نہیں فرماتے تھے۔حضرت شعبہ فرماتے ہیں بعد میں میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سوال کیا۔انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے کہ ایک شخص مدینہ طیبہ کی آخری جانب جاتا اور ابھی سورج قائم ہوتا۔(حضرت سیار کے والد)فرماتے ہیں۔نماز مغرب کے بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے کس وقت کا ذکر کیا۔حضرت شعبہ فرماتے ہیں۔بعد میں ان سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر اس وقت پڑھتے جب آدمی سلام پھیرتے ہوئے اپنے ساتھی کے چہرے کو دیکھتا تو اسے پہچان لیتا اور آپ اس نماز میں ساٹھ سے ایک سو تک آیات پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٧؛حدیث نمبر١٣٦٤)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: آنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: فَقَالَ: كَأَنَّمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " كَانَ لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا - قَالَ: يَعْنِي الْعِشَاءَ - إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا "، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ»، قَالَ: وَالْمَغْرِبَ لَا أَدْرِي أَيَّ حِينٍ ذَكَرَ، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُ فَيَعْرِفُهُ»، قَالَ: «وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1364

حضرت سیار بن سلامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں نصف شب تک تاخیر کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور آپ نماز سے پہلے سونے اور بعد میں گفتگو کو ناپسند کرتے تھے۔حضرت شعبہ(راوی)فرماتے ہیں۔میں نے دوبارہ ان سے ملاقات کی تو انہوں نے فرمایا یا تہائی رات تک تاخیر فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ، وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٧؛حدیث نمبر١٣٦٥)

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَكَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا» قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: «أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1365

حضرت ابوالمنہال یسار بن سلامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو رات کی تہائی تک مؤخر کرتے اور آپ نماز سے پہلے آرام کرنے اور نماز کے بعد گفتگو کو ناپسند کرتے تھے اور آپ فجر کی نماز میں ایک سو سے ساٹھ کے درمیان آیات پڑھتے تھے اور سلام پھیرتے تو ایک دوسرے کے چہرے کو پہچان لیتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّبْكِيرِ بِالصُّبْحِ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا،وَهُوَ التَّغْلِيسُ،وَبَيَانِ قَدْرَ الْقِرَاءَةِ فِيهَا؛جلد١ص٤٤٧؛حدیث نمبر١٣٦٦)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَيَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنَ الْمِائَةِ إِلَى السِّتِّينَ، وَكَانَ يَنْصَرِفُ حِينَ يَعْرِفُ بَعْضُنَا وَجْهَ بَعْضٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1366

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اس وقت تم کیا کروگے جب تم پر ایسے امراء مسلط ہوں گے جو(مستحب)وقت سے نماز کو مؤخر کریں گے یا فرمایا نماز کو اس کے وقت سے ضائع کریں گے۔فرماتے ہیں میں نے عرض کیا آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟تم اپنے وقت پر نماز پڑھو اگر ان کے ساتھ نماز کو پاؤ تو پڑھ لو یہ نماز تمہارے لیے نفل ہوجائے گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛ترجمہ؛مستحب وقت سے نماز کو مؤخر کرنا؛جلد١ص٤٤٨؛حدیث نمبر١٣٦٧)

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ: «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا كَانَتْ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ - أَوْ - يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟» قَالَ: قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ، فَصَلِّ، فَإِنَّهَا لَكَ نَافِلَةٌ» وَلَمْ يَذْكُرْ خَلَفٌ: عَنْ وَقْتِهَا

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1367

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر!عنقریب میرے بعد کچھ امراء ہوں گے جو نماز کو(مختار و مستحب)وقت سے مؤخر کریں گے پس تم وقت پر نماز پڑھ لینا۔اب اگر تم نے ان کے ساتھ نماز پڑھ لی تو یہ نفل نماز ہوجائے گی ورنہ تم اپنی نماز تو پڑھ ہی چکے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ،وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٨؛حدیث نمبر١٣٦٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ صَلَّيْتَ لِوَقْتِهَا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً، وَإِلَّا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1368

ایک اور سند سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔آپ فرماتے ہیں مجھے میرے خلیل(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)نے وصیت فرمائی کہ میں(امیر کی بات)سنوں اور مانوں اگرچہ وہ ایسا غلام ہو جس کے اعضاء کاٹے گئے ہو اور وقت پر نماز پڑھوں۔آپ نے فرمایا اگر تم لوگوں کو اس طرح پاؤ کہ وہ نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز پڑھ ہی چکے ہوورنہ تمہاری نماز نفل ہوجائے گی(اگر ان کے ساتھ پڑھو)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٨؛حدیث نمبر١٣٦٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: «إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ، وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، وَإِلَّا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1369

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا اس وقت تم کیا کروگے جب تم اس قوم میں ہوگےجو نماز کو(مستحب)وقت سے مؤخر کریں گے۔راوی فرماتے ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔آپ مجھے کس بات کا حکم دیتے ہیں؟آپ نے فرمایا وقت پر نماز پڑھ کر اپنے کام کے لئے چلے جاؤ اور اگر نماز کے لئے اقامت ہوجائے اور تم مسجد میں ہو تو(ان کے ساتھ)پڑھ لو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٨؛حدیث نمبر١٣٧٠)

وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنُ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَضَرَبَ فَخِذِي: «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟» قَالَ: قَالَ: مَا تَأْمُرُ؟ قَالَ: «صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ، فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1370

حضرت ابو العالیہ البراء فرماتے ہیں۔ابن زیاد نے نماز کو(وقت مستحب سے)مؤخر کیا۔پھر حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور میں نے ان کے لیے کرسی بچھائی وہ اس پر تشریف فرما ہوۓ تو میں نے ان سے ابن زیاد کا عمل ذکر کیا۔انہوں نے اپنے ہونٹ نوچے اور میری ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح پوچھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو انہوں نے میری ران پر اسی طرح ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا تو آپ نے میری ران پر ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور فرمایا وقت پر نماز پڑھو پھر اگر تمہیں ان کے ساتھ نماز مل جائے تو پڑھ لو اور یہ نہ کہو کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا میں نہیں پڑھتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٩؛حدیث نمبر١٣٧١)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، قَالَ: أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ، فَجَاءَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّامِتِ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنُ زِيَادٍ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ، وَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، وَقَالَ: «صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ مَعَهُمْ فَصَلِّ، وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1371

ایک اور سند سے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا۔جب تم ایسی قوم میں ہوگے جو نماز کو(مستحب)وقت سے مؤخر کریں گے۔پس تم وقت پر نماز پڑھ لینا اور اگر نماز کھڑی ہو جائے تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لینا یہ زیادہ بہتر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٩؛حدیث نمبر١٣٧٢)

وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ؟» أَوْ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1372

حضرت ابو العالیہ البراء فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا ہم امراء کے پیچھے نماز جمعہ پڑھ لیں تو انہوں نے میری ران پر ایسی ضرب لگائی جس سے میں نے درد محسوس کیا اور فرمایا میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے میری ران پر ضرب لگائی اور فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا وقت پر نماز پڑھ لو اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل قرار دو(حضرت ابو العالیہ)فرماتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ كَرَاهِيَةِ تَأْخِيرِ الصَّلَاةِ عَنْ وَقْتِهَا الْمُخْتَارِ، وَمَا يَفْعَلُهُ الْمَأْمُومُ إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامِ؛جلد١ص٤٤٩؛حدیث نمبر١٣۷۳)

وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ: نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَلْفَ أُمَرَاءَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي، وَقَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ، عَنْ ذَلِكَ فَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً»، قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللهِ: ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1373

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز باجماعت تنہا نماز پڑھنے کے مقابلے میں پچیس گنا افضل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛ترجمہ؛نماز باجماعت اور اس کی اہمیت؛جلد١ص٤٤٩؛حدیث نمبر١٣۷٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1374

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا باجماعت نماز تنہا نماز کے مقابلے میں پچیس گنا افضل ہے اور فرمایا کہ رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں اکٹھا ہوتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو{وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: ٧٨]"اور فجر کی نماز، فجر میں فرشتے حاضر ہوتےہیں"-(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٠؛حدیث نمبر١٣٧٥

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَفْضُلُ صَلَاةٌ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً» قَالَ: «وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [الإسراء: ٧٨]

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1375

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٧٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٠؛حدیث نمبر١٣٧٦

وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، وَأَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1376

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز باجماعت تنہا پڑھی جانے والی پچیس نمازوں کے برابر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٠؛حدیث نمبر١٣٧٧

وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1377

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کے ساتھ نماز(پڑھنا)ان پچیس نمازوں سے افضل ہے جو آدمی تنہا پڑھتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٠؛حدیث نمبر١٣٧٨

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ إِذْ مَرَّ بِهِمْ أَبُو عَبْدِ اللهِ خَتَنُ زَيْدِ بْنِ زَبَّانَ، مَوْلَى الْجُهَنِيِّينَ، فَدَعَاهُ نَافِعٌ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةٌ مَعَ الْإِمَامِ أَفْضَلُ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً يُصَلِّيهَا وَحْدَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1378

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا باجماعت نماز تنہا نماز سے ستائیس درجے افضل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٠؛حدیث نمبر١٣٧٩

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1379

ایک اور سند سے بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا آدمی کا باجماعت نماز ادا کرنا اس کی تنہا نماز سے ستائیس درجے افضل ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥١؛حدیث نمبر١٣٧٠

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1380

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٧٩ کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں ابن نمیر اپنے والد سے بیس اور کچھ اوپر ذکر کرتے ہیں جبکہ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں(واضح الفاظ میں)ستائیس کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥١؛حدیث نمبر١٣٨١

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ: بِضْعًا وَعِشْرِينَ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً،

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1381

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے بیس سے کچھ اوپر کا ذکر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ، وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥١؛حدیث نمبر١٣٨٢)

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ رَافِعٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بِضْعًا وَعِشْرِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1382

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک نماز میں نہ پایا تو فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاۓ پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہتے ہیں اور ان کے بارے میں حکم دوں کہ ان پر لکڑیوں کے گھٹوں کے ذریعے ان کے گھروں کو جلا دیا جائے(ان کی صورت حال تو یہ ہے کہ)اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہوجائے کہ اسے گوشت سے پر ہڈی ملے گی تو وہ نماز عشاء میں حاضر ہو جائے۔(جس طرح آج کل لوگوں کی حالت ہے کہ اگر معلوم ہو کہ مسجد میں کوئی لنگر یا تبرک تقسیم ہوگا تو نماز کے لئے آجاتےہیں ورنہ نہیں آتے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥١؛حدیث نمبر١٣٨٣)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدَ نَاسًا فِي بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، فَقَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا، فَآمُرَ بِهِمْ فَيُحَرِّقُوا عَلَيْهِمْ، بِحُزَمِ الْحَطَبِ بُيُوتَهُمْ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا لَشَهِدَهَا» يَعْنِي صَلَاةَ الْعِشَاءِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1383

حضرت ابوصالح،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافقین پر سب سے بھاری نماز،فجر اور عشاء کی نماز ہے اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کا کس قدر اجر ہے تو وہ اس کے لیے ضرور آئیں اگرچہ گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے اور میں نے ارادہ کیا کہ نماز کا حکم دوں۔پس نماز کھڑی ہو پھر ایک شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور میں کچھ لوگوں کو لے کر جن کے پاس لکڑیوں کے گھٹے ہوں۔ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز(باجماعت)میں حاضر نہیں ہوتے پس میں ان پر ان کے گھروں کو جلا دوں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥١؛حدیث نمبر١٣٨٤)

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَثْقَلَ صَلَاةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ، فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1384

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ احادیث نقل کیں۔ان میں سے ایک حدیث اس طرح ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ کچھ نوجوانوں کو حکم دوں جو میرے لیے لکڑیوں کا گٹھا تیار کریں پھر کسی شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور اس کے بعد وہ گھر جلا دئے جائیں جن میں وہ لوگ ہیں(جو نماز کے لئے نہیں آتے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٢؛حدیث نمبر١٣٨٥)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي أَنْ يَسْتَعِدُّوا لِي بِحُزَمٍ مِنْ حَطَبٍ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ تُحَرَّقُ بُيُوتٌ عَلَى مَنْ فِيهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1385

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٨٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٢؛حدیث نمبر١٣٨٦)

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1386

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں جو جمعہ(کی نماز)سے پیچھے رہتے ہیں۔فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاۓ پھر میں ان لوگوں پر ان کے گھر جلادوں جو جمعہ سے پیچھے رہتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٢؛حدیث نمبر١٣٨٧)

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، سَمِعَهُ مِنْهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1387

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!مجھے مسجد میں لانے والا کوئی نہیں چنانچہ انہوں نے آپ سے اجازت طلب کی کہ وہ گھر میں ہی نماز پڑھ لیا کرے۔آپ نے اسے اجازت دے دی۔جب وہ واپس ہوئے تو آپ نے ان کو بلایا اور فرمایا کیا تم نماز کے لئے آذان سنتے ہو؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا پھر تم اس کا جواب دو(نماز باجماعت کے لئے آؤ)(یہ حضرت عبد اللہ بن مکتوم رضی اللہ عنہ تھے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٢؛حدیث نمبر١٣٨٨)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ، فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى، دَعَاهُ، فَقَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَجِبْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1388

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دیکھتا ہوں کہ صرف منافق نماز سے پیچھے رہتے تھے جن کی منافقت واضح تھی یا بیمار(پیچھے رہتا)اور مریض دو آدمیوں کے درمیان چل کر آتا اور انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنن ھدی(سنت موکدہ) کی تعلیم دی اور جس مسجد میں اذان ہو اس میں نماز پڑھنا بھی سنت موکدہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٣؛حدیث نمبر١٣٨٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ، أَوْ مَرِيضٌ، إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّى يَأْتِيَ الصَّلَاةِ»، وَقَالَ: «إِنْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّ مِنْ سُنَنَ الْهُدَى الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1389

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ وہ کل(بروز قیامت)اللہ تعالیٰ سے حالت اسلام میں ملاقات کرے تو وہ ان نمازوں کی حفاظت کرے جب ان کے لیے آذان کہی جائے۔بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سنن ہدی مشروع فرمائی اور یہ نمازیں بھی سنن ہدی(سنت موکدہ)سے ہیں اور اگر تم گھر میں نماز پڑھو جس طرح یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم نے اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دیا اور اگر تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دو گے تو بھٹک جاؤگے اور جو شخص اچھی طرح طہارت حاصل کرے۔پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کی طرف جاۓ تو اس کے لیے ہر قدم کے بدلے جو وہ اٹھاتا ہے۔اللہ تعالی ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ان نمازوں سے صرف منافق پیچھے رہتا جس کا نفاق ظاہر ہوتا اور ایک شخص کو یوں لایا جاتا کہ دو آدمیوں نے اسے پکڑاہوتا اور اسے صف میں کھڑا کیا جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٣؛حدیث نمبر١٣٩٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مَنْ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً، وَيَرْفَعُهُ بِهَا دَرَجَةً، وَيَحُطُّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1390

حضرت ابو الشعشاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور مؤذن نے آذان کہی تو ایک شخص اٹھ کر جانے لگا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کی طرف دیکھتے رہے حتیٰ کہ وہ مسجد سے نکل گیا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس نے ابوالقاسم(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)کی نافرمانی کی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٣؛حدیث نمبر١٣٩١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِي فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «أَمَّا هَذَا، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1391

حضرت اشعث بن ابوالشعشاء المحاربی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے آذان کے بعد ایک شخص کو مسجد سے باہر جانے کے لئے گزرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا اس شخص نے ابوالقاسم کی نافرمانی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٤؛حدیث نمبر١٣٩٢)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَرَأَى رَجُلًا يَجْتَازُ الْمَسْجِدَ خَارِجًا بَعْدَ الْأَذَانِ، فَقَالَ «أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1392

حضرت عبد الرحمن بن ابی عمرہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نماز مغرب کے بعد مسجد میں داخل ہوئے تو اکیلے بیٹھ گئے۔میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا۔انہوں نے فرمایا اے بھتیجے!میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جس نے نماز عشاء جماعت کے ساتھ پڑھی گویا اس نے نصف رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز باجماعت پڑھی گویا اس نے پوری رات نماز پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٤؛حدیث نمبر١٣٩٣)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْمَسْجِدَ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، فَقَعَدَ وَحْدَهُ، فَقَعَدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ، يَا ابْنَ أَخِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1393

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٩٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٤؛حدیث نمبر١٣٩٤)

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1394

حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں۔میں نے حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کی امان میں ہے۔پس اللہ تعالیٰ تم سے ہر گز اپنی امان کے بارے میں سوال نہ کرے ورنہ تمہیں جہنم میں اوندھا گرادے گا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٤؛حدیث نمبر١٣٩٥)

وَحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَيُدْرِكَهُ فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1395

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٩٥ کی مثل مروی ہے۔اس میں جہنم میں اوندھا ڈالنے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٤؛حدیث نمبر١٣٩٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَلَمْ يَذْكُرْ فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1396

حضرت ابن شہاب سے مروی ہے کہ محمود بن ربیع انصاری نے ان سے بیان کیا کہ عتبان بن مالک جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان انصاری صحابہ کرام میں سے ہیں جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میری بینائی کمزور ہوگئی اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔جب بارش ہوتی ہے تو وادی میری اور میری قوم کے درمیان بہنے لگتی ہے اور میں ان کی مسجد میں نہیں آ سکتا کہ ان کو نماز پڑھاؤں۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں چاہتا ہوں کہ آپ تشریف لائیں اور ایک جگہ نماز پڑھیں جسے میں اپنی جائے نماز بناؤں۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاء اللہ!عنقریب میں ایسا کروں گا حضرت عتبان فرماتے ہیں۔دوسرے دن جب دن کچھ بلند ہواتو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دونوں تشریف لائے۔آپ نے اجازت طلب کی تو میں نے آپ کو اجازت دی۔آپ تشریف فرما ہوے حتیٰ کہ آپ گھر کے اندر تشریف لائے۔فرمایا تم اپنے گھر کے کس حصے میں پسند کرتے ہو کہ میں وہاں نماز پڑھوں۔فرماتےہیں میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔آپ نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا۔ہم نے آپ کے لیے خریزہ پکایا تھا(گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ان پر پانی ڈالا جاتا ہے جب وہ گل جائیں تو آٹا ڈالتے ہیں اسی کو خریزہ کہا جاتا ہے۔اگر اس میں گوشت نہ ہو تو حصیدہ کہلاتا ہے) اس کے لیے آپ سے ٹھہرنے کی گزارش کی۔محلے کے کچھ لوگ بھی جمع ہوگئے حتیٰ کہ گھر میں لوگوں کی اچھی خاصی تعداد اکٹھی ہو گئ۔ کسی نے کہا مالک ابن دخشن کہاں ہے؟کسی دوسرے نے جواب دیا وہ منافق ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں کرتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے بارے میں یہ بات نہ کہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے رضا کے لئے لاالہ الا اللہ پڑھا ہے۔انہوں نے عرض کیا اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتے ہیں۔کسی نے کہا کہ ہم اس کی توجہ اور خیر خواہی منافقین کے لئے دیکھی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے لاالہ الا اللہ(محمد الرسول اللہ)اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے پڑھا اس پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ حرام کردی۔ ابن شہاب کہتے ہیں پھر میں نے حصین بن محمد انصاری سے جو بنو سالم کے سرداروں میں سے ہیں۔محمود بن ربیع کی(اس)حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٥؛حدیث نمبر١٣٩۷)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ - وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ - أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي، وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، وَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنَّ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ لَهُمْ، وَدِدْتُ أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللهِ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي مُصَلًّى، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللهُ»، قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّي مِنْ بَيْتِكَ؟» قَالَ: فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا وَرَاءَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ: وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ، قَالَ: فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ، لَا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ، أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ؟» قَالَ: قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ، وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ، عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ،

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1397

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٣٩۷کی مثل مروی ہے۔البتہ اس میں مالک بن دخشن یا دخشین ہے اور یہ بھی اضافہ ہے کہ محمود(راوی)نے فرمایا میں نے یہ حدیث ایک جماعت سے بیان کی جن میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے تو انہوں نے فرمایا میرا خیال نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بات فرمائی ہو جو تم کہ رہے ہو۔فرماتے ہیں میں نے قسم کھائی کہ میں حضرت عتبان کے پاس دوبارہ جا کر ان سے پوچھوں گا۔فرماتے ہیں میں ان کے پاس گیا تو وہ بہت بوڑھے ہوچکے تھے ان کی بینائی ختم ہوگئی تھی اور وہ اپنی قوم کے امام تھے۔میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا جس طرح پہلے بیان کیا تھا۔ حضرت زہری فرماتے ہیں پھر اس کے بعد بہت سے فرائض اور امور نازل ہوئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ان پر دین مکمل ہوگیا پس جو شخص دھوکہ نہ کھانا چاہے وہ دھوکہ نہ کھائے۔(مطلب یہ ہے اب محض کلمہ پڑھنے سے بخشش نہ ہوگی فرائض کی ادائیگی بھی ضروری ہے)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٦؛حدیث نمبر١٣٩٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ رَبِيعٍ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ أَوِ الدُّخَيْشِنِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ مَحْمُودٌ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَفَرًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا قُلْتَ، قَالَ: فَحَلَفْتُ إِنْ رَجَعْتُ إِلَى عِتْبَانَ أَنْ أَسْأَلَهُ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ وَهُوَ إِمَامُ قَوْمِهِ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: «ثُمَّ نَزَلَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَرَائِضُ وَأُمُورٌ نَرَى أَنَّ الْأَمْرَ انْتَهَى إِلَيْهَا فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَغْتَرَّ فَلَا يَغْتَرَّ»،

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1398

حضرت محمود بن ربیع فرماتے ہیں مجھے وہ کلی یاد ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس ڈول سے کی جو ہمارے گھر میں ہے اور مزید فرماتے ہیں کہ مجھ سے عتبان بن مالک نے بیان کیا۔وہ فرماتے ہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!میری بینائی کمزور ہوگئی ہے۔پھر اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔یہاں تک کہ فرمایا حضور علیہ السلام نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور ہم نے حضور علیہ السلام کو کھانا کھلانے کے لئے روک لیا جو ہم نے آپ کے بنایا تھا اس کے بعد کے الفاظ ذکر نہیں کیۓ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ،وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا؛جلد١ص٤٥٦؛حدیث نمبر١٣٩٩)

وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ: إِنِّي أَعْقِلُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي دَارِنَا، قَالَ مَحْمُودٌ: فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى قَوْلِهِ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَشِيشَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ زِيَادَةِ يُونُسَ، وَمَعْمَرٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1399

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کی دادی حضرت ملیکہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے آپ کےلئے بنایا تھا۔آپ نے اس سے تناول فرمایا۔پھر فرمایا کھڑے ہو جاؤتاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں ایک چٹائی لینے گیا جو زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی تو میں نے اس پر پانی چھڑکا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں اور ایک یتیم بچہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور بزرگ خاتون ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دورکعتیں پڑھائیں پھر واپس تشریف لے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ،وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛ترجمہ؛نفل نماز کی جماعت اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنا؛جلد١ص٤٥٧؛حدیث نمبر١۴٠٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ، دَعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: «قُومُوا فَأُصَلِّيَ لَكُمْ»، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا، وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ، وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا، فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1400

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوش اخلاق تھے بعض اوقات نماز کا وقت ہوتا اور آپ ہمارے گھر میں تشریف فرما ہوتے تو آپ جس چٹائی پر بیٹھے ہوتے اسے اٹھانے کا حکم دیتے پھر اسے صاف کیا جاتا اور اس پر پانی چھڑکا جاتا اس کے بعد آپ امامت فرماتے۔ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔فرماتے ہیں ان لوگوں کے بچھونے کھجور کے پتوں کےہوتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ، وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ، وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٧؛حدیث نمبر١۴٠١)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ شَيْبَانُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، فَرُبَّمَا تَحْضُرُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ، ثُمَّ يُنْضَحُ، ثُمَّ يَؤُمُّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا، وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1401

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے میں،اورمیری والدہ اور میری خالہ ام حرام رضی اللہ عنہ عنہا تھیں۔آپ نے فرمایا کھڑے ہو جاؤ میں تمہیں نماز پڑھاؤں اور وہ(فرض)نماز کا وقت نہ تھا تو آپ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ایک شخص نے حضرت ثابت(راوی)سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہاں کھڑا کیا تھا۔انہوں نے فرمایا ان کو دائیں جانب کھڑا کیا پھر آپ نے ہم سب کو گھر والوں کے لئے ہر قسم کی بھلائی دنیا کی اور آخرت کی بھلائی کی دعا فرمائی۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میری ماں نے عرض کیا یا رسول اللہ!یہ آپ کا خادم ہے اس کے لیے اللہ سے دعا کیجئے تو آپ نے میرے لیے ہر قسم کی بھلائی کی دعا کی اور اس دعا کے آخر میں بارگاہ خداوندی میں عرض کیا یااللہ!اس کے مال اور اولاد کو بڑھا دے اور اس میں برکت ڈال دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ،وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٧؛حدیث نمبر١٤٠٢)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا، وَأُمِّي، وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي، فَقَالَ: «قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ»، فَصَلَّى بِنَا، فَقَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ: أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ؟ قَالَ: «جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللهِ خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللهَ لَهُ، قَالَ: «فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ» أَنْ قَالَ: «اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1402

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور ان کی ماں یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی۔فرماتے ہیں آپ نے مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کیا اور خاتون کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ، وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٨؛حدیث نمبر١٤٠٣)

وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، سَمِعَ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِ وَبِأُمِّهِ، أَوْ خَالَتِهِ»، قَالَ: «فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1403

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٠٣کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ،وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٨؛حدیث نمبر١٤٠۴)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1404

حضرت عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔مجھ سے ام المؤمنين حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔وہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں آپ کے برابر میں ہوتی اور بعض اوقات جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے ٹکڑا جاتا اور آپ چٹائی پر نماز پڑھتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ،وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٨؛حدیث نمبر١٤٠٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ، وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1405

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ کو ایک چٹائی پر نماز پڑھتے ہوئے پایا۔آپ اس پر سجدہ کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ،وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ،وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ؛جلد١ص٤٥٨؛حدیث نمبر١٤٠٦)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، «أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَهُ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1406

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کی باجماعت اس کی گھر میں نماز یا بازار میں(پڑھی جانے والی)نماز سے بیس سے زائد درجے افضل ہے اور یہ اس طرح کہ جب کوئی شخص وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کر کے پھر مسجد میں آتا ہے اور اسے صرف نماز نے اٹھایا ہے اور نماز کے علاوہ اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو وہ جو قدم اٹھاتا ہے اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے ایک گناہ مٹایا جاتا ہے۔حتیٰ کہ وہ مسجد میں داخل ہوجائے پس جب مسجد میں داخل ہوتا ہے تو وہ نماز میں ہوتا ہے جب تک نماز کی وجہ سے رکا ہوتا ہے اور ملائکہ تم میں سے اس شخص کے لئے دعا رحمت کرتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جہاں اس نے نماز پڑھی۔وہ کہتے ہیں"اللھم ارحمہ اللھم اغفرلہ اللھم تب علیہ"(یااللہ! اس پر رحم فرما یااللہ!اس کو بخش دے، یااللہ!اس کی توبہ قبول فرما) جب تک وہ اس میں اذیت نہ پہنچائے(یعنی)جب تک بے وضو نہ ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز باجماعت اور انتظار نماز کی فضیلت؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤٠۷)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ، بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي الصَّلَاةِ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ، وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، يَقُولُونَ: اللهُمَّ ارْحَمْهُ، اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1407

ایک اور سند سے بھی حدیث نمبر ١٤٠۷ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤٠٨)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1408

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بےشک فرشتے تم میں سے ایک(یعنی سب)کے لئے رحمت کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔جب تک وہ جاۓ نماز پر رہتا ہے۔وہ کہتے"اللھم اغفرلہ اللھم ارحمہ"جب تک وہ بے وضو نہ ہواور تم اس وقت تک نماز میں شمار ہوتے ہو جب تک نماز روکے رکھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤٠٩)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ، تَقُولُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثْ، وَأَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1409

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب تک جائے نماز پر نماز کا منتظر رہتا ہے۔وہ نماز میں ہی شمار ہوتا ہے اور فرشتے کہتے ہیں"اللھم اغفرلہ اللھم ارحمہ"حتی کہ وہ بیٹھ کر چلا جائے یا بے وضو ہو جائے۔حضرت ابو رافع فرماتے ہیں۔میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا بے وضو ہونے کا مطلب کیا ہے؟اس کے ہوا خارج ہوجائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤١٠)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، وَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللهُمَّ ارْحَمْهُ، حَتَّى يَنْصَرِفَ، أَوْ يُحْدِثَ " قُلْتُ: مَا يُحْدِثَ؟ قَالَ: «يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1410

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس وقت تک نماز میں ہوتے ہو جب تک نماز تمہیں روکے رکھے اور گھر کی طرف واپس جانے سے صرف نماز نے روک رکھا ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤١١)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1411

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے وہ نماز میں ہی شمار ہوتا ہے جب تک بے وضو نہ ہوجائے۔فرشتے اس کے لئے دعا مانگتے ہیں۔وہ کہتے ہیں۔"اللھم اغفر لہ اللھم ارحمہ"(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٥٩؛حدیث نمبر١٤١٢)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحَدُكُمْ مَا قَعَدَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، فِي صَلَاةٍ، مَا لَمْ يُحْدِثْ، تَدْعُو لَهُ الْمَلَائِكَةُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللهُمَّ ارْحَمْهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1412

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤١٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤٦٠؛حدیث نمبر١٤١٣)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1413

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کا سب سے زیادہ اجر اس شخص کو ملتا ہے جو دور سے چل کر آتا ہے۔پھر جو اس کے بعد دور سے آتا ہے اور جو شخص نماز کا منتظر رہتا ہے حتیٰ کہ امام کے ساتھ نماز پڑھے اس کا ثواب اس شخص سے زیادہ ہے جو(تنہا)نماز پڑھ کر سو جاتا ہے۔ابو کریب کی روایت میں ہے حتیٰ کہ وہ امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٠؛حدیث نمبر١٤١٤)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى، فَأَبْعَدُهُمْ، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمَ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّيَهَا ثُمَّ يَنَامُ» وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ: «حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1414

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص تھا اور میرے علم کے مطابق اس سے زیادہ کوئی دوسرا مسجد سے دور نہ تھا اور وہ کوئی نماز خطا نہیں کرتا تھا۔فرماتے ہیں اس سے کہا گیا یا میں نے خود اس سے کہا کہ اگر آپ گدھا خرید لیں تو اندھیرے میں یا سخت گرمی میں اس پر سوار ہوں۔اس نے کہا مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو۔میں چاہتا ہوں کہ مسجد کی طرف جانے اور واپس آنے کے سلسلے میں میرے لیے ثواب لکھا جائے جب میں گھر والوں کی طرف واپس آؤں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(نے سنا تو)فرمایا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے یہ سب کچھ جمع کردیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٠؛حدیث نمبر١٤١٥)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ رَجُلًا أَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: أَوْ قُلْتُ لَهُ: لَوْ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الظَّلْمَاءِ، وَفِي الرَّمْضَاءِ، قَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ يُكْتَبَ لِي مَمْشَايَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ جَمَعَ اللهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1415

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤١٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٠؛حدیث نمبر١٤١٦)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنِ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1416

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں انصار کا ایک شخص تھا جس کا گھر مدینہ طیبہ کے آخری کنارے پر تھا اور وہ کوئی نماز حضور علیہ السلام کے بغیر نہیں پڑھتا تھا۔فرماتے ہیں ہمیں اس کی تکلیف کا احساس ہوا تو میں نے اس سے کہا اے فلاں!اگر تم گدھا خرید لو تو تمہیں گرمی اور کیڑے مکوڑے سے بچائے گا۔اس نے کہا سنو! اللہ تعالیٰ کی قسم!میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے قریب ہو۔وہ فرماتے ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو واقعہ سنایا تو آپ نے اسے بلایا اس نے آپ کے سامنے بھی وہی بات کہی اور بتایا کہ وہ(زیادہ)قدموں کی وجہ سے ثواب کی امید رکھتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرےلیے وہی ہے جس کی تو نے نیت کی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦١؛حدیث نمبر١٤١٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَوَجَّعْنَا لَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا فُلَانُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنَ الرَّمْضَاءِ، وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الْأَرْضِ، قَالَ: أَمَ وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا حَتَّى أَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَدَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الْأَجْرَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1417

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤١٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦١؛حدیث نمبر١٤١٨)

وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1418

حضرت ابوالزبیر فرماتے ہیں۔میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے فرمایا ہمارے گھر مسجد سے دور تھے تو ہم اپنے گھروں کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا تاکہ ہم مسجد کے قریب ہوجائیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا اور فرمایا تمہیں ہر قدم کے بدلے ایک درجہ ملتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦١؛حدیث نمبر١٤١٩)

وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَتْ دِيَارُنَا نَائِيَةً عَنِ الْمَسْجِدِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ بُيُوتَنَا، فَنَقْتَرِبَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ لَكُمْ بِكُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1419

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مسجد کے گرد کچھ جگہ خالی ہوئی تو بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کرتے ہو؟انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ!ہم نے اس بات کا ارادہ کیا ہے۔آپ نے فرمایا اے بنو سلمہ!اپنے گھروں کو اختیار کئے رکھو تمہارے قدموں کے نشانات کا ثواب لکھا جاتا ہے۔(دوبار فرمایا) (مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٢؛حدیث نمبر١٤٢٠)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: «إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ»، قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ: «يَا بَنِي سَلِِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1420

ایک اور سندسےحضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا اور وہاں جگہ خالی تھی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا بنو سلمہ!اپنے گھروں میں ہی رہو تمہیں قدموں کے نشانات پر ثواب ملتا ہے۔وہ کہتے ہیں اب ہمیں منتقل ہونے کی خوشی نہ تھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٢؛حدیث نمبر١٤٢١)

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ كَهْمَسًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ»، فَقَالُوا: مَا كَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا كُنَّا تَحَوَّلْنَا

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1421

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص گھر میں وضو کرے پھر اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر کی(مسجد)کی طرف جاۓ تاکہ فرائض خداوندی میں سے کوئی فرض ادا کرے تو اس کے لیے ایک قدم سے ایک گناہ مٹ جائے گا اور دوسرے قدم کے بدلے درجہ بلند ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ تُمْحَى بِهِ الْخَطَايَا، وَتُرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتُ؛جلد١ص٤٦٢؛حدیث نمبر١٤٢٢)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ مَشَى إِلَى بَيْتٍ مَنْ بُيُوتِ اللهِ لِيَقْضِيَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللهِ، كَانَتْ خَطْوَتَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً، وَالْأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1422

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت بکر کی روایت میں ہے کہ انہوں نے(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے ہیں بتاؤ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے سے نہر گزرتی ہو اور وہ ہر دن اس میں پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہتی ہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا(یا رسول اللہ!)اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہتی۔آپ نے فرمایا پانچ نمازوں کی یہی مثال ہے۔اللہ تعالی ان کے ذریعے خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ تُمْحَى بِهِ الْخَطَايَا، وَتُرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتُ؛جلد١ص٤٦٢؛حدیث نمبر١٤٢٣)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَقَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ؟» قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قَالَ: «فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1423

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازوں کی مثال ایک جاری نہر کی طرح ہے جو تم میں سے ایک کے دروازے پر گزرتی ہو اور بھری ہوئی ہو۔وہ اس سے ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرے۔فرماتے ہیں حضرت حسن نے فرمایا یہ میل کو باقی نہیں چھوڑتی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ كَثْرَةِ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٣؛حدیث نمبر١٤٢٤)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ، غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ». قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ: «وَمَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنَ الدَّرَنِ؟»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1424

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت مسجد کی طرف جاۓیا شام کے وقت تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت میں مہمانی تیار کی جب بھی وہ صبح کے وقت جائے یا شام کے وقت جائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الْمَشْيِ إِلَى الصَّلَاةِ تُمْحَى بِهِ الْخَطَايَا،وَتُرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتُ؛جلد١ص٤٦٣؛حدیث نمبر١٤٢٥)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ، أَوْ رَاحَ، أَعَدَّ اللهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ نُزُلًا، كُلَّمَا غَدَا، أَوْ رَاحَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1425

حضرت سماک بن حرب فرماتے ہیں۔میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا کرتے تھے؟انہوں نے فرمایا ہاں بہت مرتبہ جس جگہ صبح کی نماز پڑھتے وہاں سے سورج کے طلوع ہونے تک نہیں اٹھتے تھے۔جب سورج طلوع ہوتا تو کھڑے ہوتے اور لوگ دور جاہلیت کے بارے میں باتیں کر کے ہنستے اور آپ تبسم فرماتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصُّبْحِ، وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ؛ترجمہ؛نماز فجر کے بعد مصلیٰ پر بیٹھے رہنا اور مساجد کی فضیلت؛جلد١ص٤٦٣؛حدیث نمبر١٤٢٦)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا، «كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ، أَوِ الْغَدَاةَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1426

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھنے کے بعد جائے نماز پر بیٹھے رہتے حتیٰ کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصُّبْحِ،وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٢٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، كِلَاهُمَا عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1427

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٢٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصُّبْحِ،وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٢٨)

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلَاهُمَا عَنْ سِمَاكٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَقُولَا حَسَنًا

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1428

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے شہروں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ترین جگہ مساجد ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے برے مقامات بازار ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصُّبْحِ، وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ؛جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٢٩)

وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ، فِي رِوَايَةِ هَارُونَ، وَفِي حَدِيثِ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَى اللهِ أَسْوَاقُهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1429

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک شخص ان کو نماز پڑھاۓ اور ان میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ ہے(جو عالم ہونے کے ساتھ ساتھ)قرأت میں سب سے آگے ہو(محض قاری نہیں)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛ترجمہ؛امامت کا زیادہ حق دار کون ہے۔جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٣٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1430

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١٤٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٣١)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1431

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١٤٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٤؛حدیث نمبر١٤٣٢)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، جَمِيعًا عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1432

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم کا امام وہ بنے جو ان میں سے اللہ کی کتاب کا زیادہ قاری ہو۔اگر وہ قرأت میں برابر ہوں تو جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو اگر سنت میں بھی برابر ہوں تو جو ہجرت میں زیادہ مقدم ہے اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو اسلام(لانے)میں سب سے مقدم ہے اور کوئی شخص کسی مقرر امام کی موجودگی میں امامت نہ کرے اور نہ ہی کوئی شخص کسی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر بیٹھے البتہ یہ کہ وہ اجازت دے حضرت اشج کی روایت میں اسلام کی جگہ عمر کا ذکر ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٥؛حدیث نمبر١٤٣٣)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا، وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ» قَالَ الْأَشَجُّ فِي رِوَايَتِهِ: مَكَانَ سِلْمًا سِنًّا،

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1433

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر١٤٣٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٥؛حدیث نمبر١٤٣٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1434

حضرت اسماعیل بن رجاء کہتے ہیں میں نے حضرت اوس بن ضمعج سے سنا وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ قوم کی امامت وہ کراۓ جو ان میں سے اللہ کی کتاب کی قرأت کا زیادہ ماہر ہے اور قرأت میں ان سے مقدم ہے۔اگر وہ قرأت میں برابر ہوں تو وہ امامت کراۓ جو ان میں سے ہجرت میں مقدم ہے۔اگر ہجرت میں برابر ہوں تو وہ امامت کراۓ جو ان میں سے عمر میں بڑا ہے اور کوئی شخص کسی کی امامت میں امامت نہ کرائے اور نہ اس کے گھر میں اس کے لئے مخصوص جگہ میں بیٹھے مگر یہ کہ وہ تمہیں اجازت دے یا فرمایا اس کی اجازت(سے بیٹھ سکتا ہے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٥؛حدیث نمبر١٤٣٥)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، يَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ، وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا تَؤُمَّنَّ الرَّجُلَ فِي أَهْلِهِ، وَلَا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا تَجْلِسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ، أَوْ بِإِذْنِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1435

حضرت مالک بن حویرث فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نوجوان تھے تقریباً ہماری عمریں بھی ایک جیسی تھیں۔ہم آپ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحیم، نرم طبیعت تھے۔آپ نے سوچا کہ ہمیں گھر والوں کی یاد ستا رہی ہے تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ ہم نے گھر میں کن کن لوگوں کو چھوڑا ہے۔ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ،ان میں رہو،ان کو تعلیم دو اور ان کو(نماز پڑھنے کا)حکم دو جب نماز کا وقت ہو تو تم میں سے ایک تمہارے لیے آذان کہے پھر تم میں سے سب سے بڑا آدمی تمہیں نماز پڑھاۓ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٥؛حدیث نمبر١٤٣٦)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا، فَسَأَلَنَا عَنْ مَنْ تَرَكْنَا مِنْ أَهْلِنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: «ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1436

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٣٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٦؛حدیث نمبر١٤٣٧)

وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَبُو سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ، وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، وَاقْتَصَّا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1437

حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں میں اور میرا ایک دوست رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔جب ہم نے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو آپ نے ہم سے فرمایا جب نماز کا وقت ہو تو اذان کہو پھر اقامت کہو اور چاہئے کہ تم میں سب سے بڑا تمہاری امامت کراۓ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٦؛حدیث نمبر١٤٣٨)

وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَلَمَّا أَرَدْنَا الْإِقْفَالَ مِنْ عِنْدِهِ، قَالَ لَنَا: «إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا، ثُمَّ أَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1438

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٣٨ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت حذاء(راوی)نے فرمایا کہ وہ دونوں قرأت میں برابر برابر تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ؛جلد١ص٤٦٦؛حدیث نمبر١٤٣٩)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ قَالَ الْحَذَّاءُ: وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْقِرَاءَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1439

حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر میں قرأت سے فارغ ہوتے اور تکبیر کہتے پھر سر اٹھاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کہتے پھر کھڑے ہونے کی حالت میں یہ کلمات کہتے۔ «اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ،وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ،اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ، اللهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ،وَرِعْلًا،وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ»،ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ:یا اللہ!ولید بن ولید،سلمہ بن ہشام،عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مؤمنین کو نجات دے یااللہ!مضر قبیلے کو سخت عذاب دے اور ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے میں آنے والے قحط جیسا قحط مسلط کردے یا اللہ!لحیان،رعل،ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیج دے جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔پھر ہمیں یہ بات پہنچی کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔«{لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ١٢٨}("یہ بات تمہارے ہاتھ میں نہیں یا انہوں نے توبہ کی تو میں نے یا ان کو عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں")تو آپ نے یہ کلمات پڑھنا چھوڑ دئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛ترجمہ؛قنوت نازلہ؛جلد١ص٤٦٦؛حدیث نمبر١٤٤٠

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَيُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ»، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: «اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ، اللهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ، وَرِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ»، ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّهُ تَرَكَ ذَلِكَ لَمَّا أُنْزِلَ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ١٢٨]

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1440

ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے لیکن اس میں آخر کے کچھ الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٦؛حدیث نمبر١٤٤١)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْلِهِ: «وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ» وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1441

حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ نماز میں رکوع کے بعد قنوت(نازلہ)پڑھی۔جب آپ"سمع اللہ لمن حمدہ"کہتے تو قنوت میں فرماتے اللھم انج الولید بن الولید(آخر تک جس طرح حدیث نمبر ١٤٤٠ میں ہے۔) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد یہ دعا چھوڑ دی۔میں نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا چھوڑ دی ہے تو مجھے کہا گیا کہ تم نہیں دیکھتے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٧؛حدیث نمبر١٤٤٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فِي صَلَاةٍ شَهْرًا، إِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ: «اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدَ، اللهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ الدُّعَاءَ بَعْدُ، فَقُلْتُ: أُرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ، قَالَ: فَقِيلَ: وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1442

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء پڑھ رہے تھے تو جب آپ نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو پھر سجدہ کرنے سے پہلے فرمایا اللھم نج عیاش بن ابی ربیعہ آخر تک حدیث نمبر ١٤٤٠ کی طرح ذکر کیا اور آخر سے کچھ کلمات ذکر نہیں کئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٧؛حدیث نمبر١٤٤٣)

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ، إِذْ قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنَّ يَسْجُدَ: «اللهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ»، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَى قَوْلِهِ كَسِنِي يُوسُفَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1443

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں اللہ کی قسم!میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور بضرور تمہارے سامنے لاؤں گا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر،عشاء اور صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے اور مومنوں کے لئے دعا کرتے اور کفار پر لعنت بھیجتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٨؛حدیث نمبر١٤٤٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: وَاللهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ «يَقْنُتُ فِي الظُّهْرِ، وَالْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ، وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ، وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1444

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے خلاف تیس صبح دعا مانگتے رہے جنہوں نے بیر معونہ والے صحابہ کرام کو شہید کیا۔آپ رعل،لحیان اور عصیہ کے خلاف دعا مانگتے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے تھے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جن لوگوں کو بیر معونہ میں شہید کیا گیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی آیت نازل کی حتیٰ کہ بعد میں منسوخ ہوگئی۔وہ آیت یوں تھی۔بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ"(ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دوکہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کی۔پس وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوئے)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٨؛حدیث نمبر١٤٤٥)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا، يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَلِحْيَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهِ وَرَسُولَهُ» قَالَ أَنَسٌ: " أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ قَتَلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ: أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1445

حضرت محمد فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی تھی۔فرمایا ہاں رکوع کے بعد کچھ عرصہ تک(پڑھی)(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٨؛حدیث نمبر١٤٤٦)

وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: " هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1446

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی۔آپ رعل اور ذکوان(قبیلوں)کے خلاف دعا مانگتے تھے اور فرماتے تھے عصیہ نے جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٨؛حدیث نمبر١٤٤٧)

وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: " قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَيَقُولُ: عُصَيَّةُ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ "

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1447

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ نماز فجر میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی آپ بنو عصیہ کے خلاف دعا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٨؛حدیث نمبر١٤٤٨)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَدْعُو عَلَى بَنِي عُصَيَّةَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1448

حضرت عاصم سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں پوچھا کہ رکوع سے پہلے ہے یا بعد میں؟انہوں نے فرمایا رکوع سے پہلے(متعدد احادیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی کہ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد پڑھی تو انہوں نے اس کے بعد رکوع سے پہلے کا ذکر نہیں فرمایا۔)فرماتے ہیں میں نے کہا لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے۔انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ قنوت پڑھی ہے جس میں آپ ان لوگوں کے خلاف دعا کرتے تھے جنہوں نے آپ کے صحابہ کرام کو شہید کیا تھا اور ان(صحابہ کرام)کو قراء کہا جاتا تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٤٩)

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ قَبْلَ الرُّكُوعِ، أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: «إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1449

حضرت عاصم فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں۔میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی جہادی دستے پر اس قدر غمگین نہیں دیکھا جس قدر ان ستر صحابہ کرام پر غمگین دیکھا جن کو بیر معونہ کے واقعہ میں شہید کر دیا گیا۔وہ لوگ قرأ کہلاتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قاتلوں کے خلاف ایک مہینے تک دعا مانگتے رہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٥٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ، كَانُوا يُدْعَوْنَ الْقُرَّاءَ، فَمَكَثَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى قَتَلَتِهِمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1450

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٥٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٥١)

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَابْنُ فُضَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1451

حضرت قتادہ،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیجی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٥٢)

وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَوُا اللهَ وَرَسُولَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1452

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٥٢ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٥٣)

وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1453

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ قنوت(قنوت نازلہ)پڑھی جس میں آپ عرب کے کچھ قبائل کے خلاف دعا مانگتے تھے پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٦٩؛حدیث نمبر١٤٥٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1454

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور مغرب کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِإِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٧٠؛حدیث نمبر١٤٥٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ، وَالْمَغْرِبِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1455

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت براء رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔البتہ صبح کی بجائے فجر کا لفظ ہے اور کان یقنت کی بجائے قَنَتَ ہے یعنی قنوت پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٧٠؛حدیث نمبر١٤٥٦)

وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: «قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَجْرِ، وَالْمَغْرِبِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1456

حضرت خفاف بن ایماء الغفاري رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز میں یوں کہا۔ «اللهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ،وَرِعْلًا،وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَوُا اللهَ وَرَسُولَهُ،غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ»یا اللہ بنو لحیان،رعل،ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیج جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اور اللہ تعالیٰ قبیلہ غفار کو بخش دے اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطاء فرمائے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٧٠؛حدیث نمبر١٤٥٧)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ: «اللهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ، وَرِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَوُا اللهَ وَرَسُولَهُ، غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1457

حضرت خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا پھر سر انور اٹھایا تو فرمایا"اللہ تعالیٰ غفار قبیلے کو بخش دے۔قبیلہ اسلم کو سلامتی عطاء فرما اور عصیہ قبیلہ نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی یا اللہ بنو لحیان پر لعنت فرما اور رعل اور ذکوان پر لعنت بھیج۔پھر سجدے میں چلے گئے۔حضرت خفاف فرماتے ہیں اسی وجہ سے کفار پر لعنت کی جاتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٧٠؛حدیث نمبر١٤٥٨)

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ خُفَافُ بْنُ إِيمَاءٍ، رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ، اللهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ، وَالْعَنْ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ»، ثُمَّ وَقَعَ سَاجِدًا قَالَ خُفَافٌ: «فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1458

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٤٥٨ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں آخری جملہ نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلَاةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ؛جلد١ص٤٧٠؛حدیث نمبر١٤٥٩)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ، بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1459

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوۂ خیبر سے لوٹے تو رات کے وقت چلتے رہے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگےتو اتر گئے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہا:”کہ تم ہمارا پہرہ دو آج کی رات۔“تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے رہے جتنی کہ ان کی تقدیر میں تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم بھی۔پھر جب صبح قریب ہوئی تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے مشرق کی طرف منہ کر کے اپنی اونٹنی پر ٹیکہ لگایا اور ان کی آنکھ لگ گئی۔پھر نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے اور نہ ہی اور کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے یہاں تک کہ ان پر دھوپ پڑی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے جاگے اور گھبرائے اور فرمایا: ”اے بلال!“ تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ میری جان کو بھی اسی نے پکڑ لیا جس نے آپ کی جان کو پکڑا، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں کو ہانکو۔“پھر تھوڑی دور اونٹوں کو ہانکا،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم کیااور بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کی تکبیر کہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی پھر جب نماز پڑھا چکے تو فرمایا:”جو بھول جائے نماز کو تو پڑھ لے جب یاد آئے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے{أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ: «يَقْرَؤُهَا لِلذِّكْرَى» میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔“یونس نے کہا کہ ابن شہاب اس آیت کو یوں پڑھتے" لِلذِّكْرَى"(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛قضاء نمازوں کی ادائیگی میں جلدی کرنا مستحب ہے؛جلد١ص٤٧١؛حدیث نمبر١٤٦٠)

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ، سَارَ لَيْلَهُ حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: «اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ»، فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ، وَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا بِلَالٌ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْ بِلَالُ» فَقَالَ بِلَالُ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ - بِنَفْسِكَ، قَالَ: «اقْتَادُوا»، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: «مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا»، فَإِنَّ اللهَ قَالَ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ: «يَقْرَؤُهَا لِلذِّكْرَى»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1460

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نے ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پڑاؤ کیا۔بس ہم بیدار نہ ہوسکے حتیٰ کہ سورج طلوع ہوگیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر آدمی اپنی سواری کا لگام پکڑ لے(اور یہاں سے روانہ ہو جائے کیونکہ)اس جگہ شیطان ہمارے پاس آگیا۔راوی فرماتے ہیں ہم نے اسی طرح کیا پھر آپ نے پانی منگواکر وضو فرمایا اور دو سجدے کئے۔یعقوب فرماتے ہیں پھر دو رکعت نماز(سنتیں)ادا کی اور اس کے بعد اقامت کہی گئی تو آپ نے صبح کی نماز پڑھائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧١؛حدیث نمبر١٤٦١)

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ»، قَالَ: فَفَعَلْنَا، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، وَقَالَ يَعْقُوبُ: ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1461

‌‌‌‏ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر خطبہ پڑھا اور فرمایا:”تم آج زوال کے بعد اور اپنی ساری رات چلو گے اگر اللہ نے چاہا تو کل صبح پانی پر پہنچو گے۔“ پس لوگ اس طرح چلے کہ کوئی کسی کی طرف متوجہ نہ ہوتا تھا۔سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم چلے جاتے تھے یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو کی طرف تھا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونگھنے لگے اور اپنی سواری پر سے جھکے(یعنی غلبہ نیند سے)اور میں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹیکا دیا۔(تاکہ گر نہ پڑیں)بغیر اس کے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگاؤں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے،پھر چلے یہاں تک کہ جب بہت رات گزر گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھکے اور میں نے پھر ٹیکہ دیا بغیر اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگاؤں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھرسیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔پھر چلے یہاں تک کہ آخر سحر کا وقت ہو گیا پھر ایک بار بہت جھکے کہ اگلے دو بار سے بھی زیادہ قریب تھا کہ گر پڑیں۔پھر میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا:”کہ تم کون ہو؟“میں نے عرض کی کہ ابوقتادہ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ تم کب سے میرے ساتھ اس طرح چل رہے ہو؟۔“میں نے عرض کیا کہ میں رات سے آپ کے ساتھ اسی طرح چل رہا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے جیسے تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارا کیا خیال ہے۔ہم لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کسی کو دیکھتے ہو؟“میں نے کہا یہ ایک سوار ہے پھر کہا یہ ایک اور سوار ہے یہاں تک کہ ہم سات سوار جمع ہو گئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راہ سے ایک طرف الگ ہوئے اور اپنا سر زمیں پر رکھا (یعنی سونے کو) اور فرمایا کہ تم لوگ ہماری نماز کا خیال رکھنا(یعنی نماز کے وقت جگا دینا)پھر پہلے جو جاگے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھےاور دھوپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر آ گئی۔ پھر ہم لوگ گھبرا کراٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار ہو۔“پھر چلے یہاں تک کہ جب دھوپ چڑھ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے،اپنا وضو کا لوٹا منگوایا۔جو میرے پاس تھا اس میں تھوڑا سا پانی تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا جو اور وضوؤں سے کم تھا (یعنی بہت قلیل پانی سے بہت جلد)اور اس میں تھوڑا سا پانی باقی رہ گیا۔پھر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنے وضو کے برتن کو ہمارے لیے سنبھال کر رکھو۔عنقریب اس کی ایک خبر ہوگی۔“پھر بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کی اذان کہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےدو رکعت نماز پڑھی۔پھر صبح کی فرض نماز ادا کی اور ویسے ہی ادا کی جیسے ہر روز ادا کرتے ہیں۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوئے۔پھر ہم میں سے ہر ایک چپکے چپکے کہتا تھا کہ آج ہمارے اس قصور کا کیا کفارہ ہو گا جو ہم نے نماز میں قصور کیا۔تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:”کیا تمہارے لیے میری زندگی نمونہ نہیں۔“ پھر فرمایا کہ”سونے میں کیا قصور ہے۔ قصور تو یہ ہے کہ ایک آدمی نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ نماز کا دوسرا وقت آ جائے(یعنی جاگنے میں قضا کر دے)پھر جو ایسا کرے۔(یعنی اس کی نماز قضا ہو جائے)تو لازم ہے کہ جب بیدار ہو ادا کرے پھر جب دوسرا دن آئے تو اپنی نماز اوقات معینہ پر ادا کرے۔“(یعنی یہ نہیں کہ ایک بار قضا ہو جانے سے نماز کا وقت ہی بدل جائے)پھر فرمایا:کہ تم کیا خیال کرتے ہو کہ لوگوں نے کیا کیا ہوگا۔“ پھر فرمایا: کہ لوگوں نے جب صبح کی تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تب سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پیچھے ہوں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں کہ تمہیں پیچھے چھوڑ جائیں۔اور بعض لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے آگے ہیں۔ پھر وہ لوگ اگر سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی بات مانتے تو سیدھی راہ پاتے راوی نے کہا کہ پھر ہم لوگوں تک پہنچے یہاں تک کہ دن چڑھ گیا اور ہر چیز گرم ہو گئی اور لوگ کہنے لگے:اے اللہ کے رسول! ہم پیاس سے ہلاک ہو گئے تو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہلاک نہیں ہوگے۔“ پھر فرمایا کہ”میرا پیالہ لاؤ اور پانی کا برتن منگواکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانی ڈالنے لگے اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہان کو پلاتے تھے۔لوگوں نے جب دیکھا کہ پانی ایک برتن میں ہے تو سب اس پر ٹوٹ پڑے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں ان لوگوں کو پلاتا جاتا تھا۔حتیٰ کہ میرے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی باقی نہ رہا۔(راوی نے کہا) کہ پھر ڈالا اور مجھ سے فرمایا: ”کہ پیو۔“ میں نے عرض کیا کہ میں نہ پیئوں گا جب تک آپ نہ پئیں اے اللہ کے رسول۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کا پلانے والا سب کے آخر میں پیتا ہے“پھر میں نے پیا(راوی فرماتے ہیں)لوگ سیر ہوکر خوشی خوشی آے۔ حضرت عبد اللہ بن رباح نے فرمایا میں یہ حدیث جامع مسجد میں بیان کروں گا تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے نوجوان!تم کس طرح بیان کروگے میں بھی اس رات کے سواروں میں سے تھا۔فرماتے ہیں میں نے کہا آپ حدیث کو زیادہ جاننے والے ہیں۔انہوں نے پوچھا تمہارا کن لوگوں سے تعلق ہے؟میں نے کہا انصار سے ہوں۔فرمایا پھر تم بیان کرو تم اپنی حدیث کو زیادہ جانتے ہو فرماتے ہیں میں نے لوگوں سے حدیث بیان کی تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بھی اس رات حاضر تھا لیکن مجھے معلوم نہیں کسی نےاس(واقعہ)کو اس طرح یاد رکھا ہو جس طرح تم نے یاد رکھا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٣؛حدیث نمبر١٤٦٢)

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّكُمْ تَسِيرُونَ عَشِيَّتَكُمْ وَلَيْلَتَكُمْ، وَتَأْتُونَ الْمَاءَ إِنْ شَاءَ اللهُ غَدًا»، فَانْطَلَقَ النَّاسُ لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ، قَالَ: فَنَعَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، قَالَ: ثُمَّ سَارَ حَتَّى تَهَوَّرَ اللَّيْلُ، مَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، قَالَ: فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، قَالَ: ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ، مَالَ مَيْلَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الْمَيْلَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، حَتَّى كَادَ يَنْجَفِلُ، فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ: «مَتَى كَانَ هَذَا مَسِيرَكَ مِنِّي؟» قُلْتُ: مَا زَالَ هَذَا مَسِيرِي مُنْذُ اللَّيْلَةِ، قَالَ: «حَفِظَكَ اللهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّهُ»، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَرَانَا نَخْفَى عَلَى النَّاسِ؟»، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ؟» قُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ، ثُمَّ قُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ آخَرُ، حَتَّى اجْتَمَعْنَا فَكُنَّا سَبْعَةَ رَكْبٍ، قَالَ: فَمَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّرِيقِ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ: «احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا»، فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ، قَالَ: فَقُمْنَا فَزِعِينَ، ثُمَّ قَالَ: «ارْكَبُوا»، فَرَكِبْنَا فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ، ثُمَّ دَعَا بِمِيضَأَةٍ كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ، قَالَ: وَبَقِيَ فِيهَا شَيْءٌ مَنْ مَاءٍ، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي قَتَادَةَ: «احْفَظْ عَلَيْنَا مِيضَأَتَكَ، فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ»، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ، فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: وَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْنَا مَعَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا بِتَفْرِيطِنَا فِي صَلَاتِنَا؟ ثُمَّ قَالَ: «أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ»، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ فِيَّ النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا»، ثُمَّ قَالَ: «مَا تَرَوْنَ النَّاسَ صَنَعُوا؟» قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «أَصْبَحَ النَّاسُ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ»، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَكُمْ، لَمْ يَكُنْ لِيُخَلِّفَكُمْ، وَقَالَ النَّاسُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ، فَإِنْ يُطِيعُوا أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يَرْشُدُوا، قَالَ: فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ، وَحَمِيَ كُلُّ شَيْءٍ، وَهُمْ يَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكْنَا، عَطِشْنَا، فَقَالَ: «لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ»، ثُمَّ قَالَ: «أَطْلِقُوا لِي غُمَرِي» قَالَ: وَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ، وَأَبُو قَتَادَةَ يَسْقِيهِمْ، فَلَمْ يَعْدُ أَنْ رَأَى النَّاسُ مَاءً فِي الْمِيضَأَةِ تَكَابُّوا عَلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْسِنُوا الْمَلَأَ كُلُّكُمْ سَيَرْوَى» قَالَ: فَفَعَلُوا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ وَأَسْقِيهِمْ حَتَّى مَا بَقِيَ غَيْرِي، وَغَيْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ صَبَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: «اشْرَبْ»، فَقُلْتُ: لَا أَشْرَبُ حَتَّى تَشْرَبَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا»، قَالَ: فَشَرِبْتُ، وَشَرِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَى النَّاسُ الْمَاءَ جَامِّينَ رِوَاءً، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ: إِنِّي لَأُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَسْجِدِ الْجَامِعِ، إِذْ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى كَيْفَ تُحَدِّثُ، فَإِنِّي أَحَدُ الرَّكْبِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: قُلْتُ: فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: حَدِّثْ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِحَدِيثِكُمْ، قَالَ: فَحَدَّثْتُ الْقَوْمَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: لَقَدْ شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَمَا شَعَرْتُ أَنْ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتُهُ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1462

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا۔سو ایک رات شب کو ہم چلے،یہاں تک کہ جب آخری رات ہوئی اترے اور ہماری آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ دھوپ نکل آئی۔سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جاگے اور ہماری عادت تھی کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند سے نہیں جگاتے تھے(کہ شاید وحی نہ اتری ہو)جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خودنہ جاگیں۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جاگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر بلند آواز سےاللہ اکبر کہنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سورج کو دیکھا کہ نکل آیا تب فرمایا: ”کہ چلو“ اور ہمارے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی چلے یہاں تک کہ جب دھوپ صاف ہو گئی ہمارےساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ اور ایک شخص جماعت سے الگ رہا کہ اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئےاس سے فرمایا:”کہ تم کیوں ہمارے ساتھ نماز کے ادا کرنے سے باز رہے۔“ اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے نبی! مجھے جنابت ہوگئی ہے۔سو اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس نے خاک پر تیمم کیا اور نماز پڑھی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےچند سواروں کے ساتھ مجھے آگے دوڑایا کہ ہم پانی ڈھونڈیں اور ہم بہت پیاسے ہو گئے تھے۔ پھر ہم چلے جاتے تھے کہ ایک عورت کو دیکھا جو اپنے پاؤں دو مشکیزوں کے درمیان لٹکائے ہوئے(سواری پر)جارہی تھی۔ہم نے پوچھا پانی کہاں سے لائی ہو؟ اس نے کہا پانی بہت دور ہے تم اس تک نہیں پہنچ سکتے۔ہم نے پوچھا تمہارے گھر والوں اور پانی کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟اس نے کہی ایک رات دن کا فاصلہ ہے ہم نے کہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اس نے کہا کون رسول اللہ؟پھر ہمارے پاس زبردستی لے جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھاحتی کہ ہم اسے لاۓ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کردیا،۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال پوچھا،سو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے حال سے خبر دی جیسی اس نے خبر دی تھی اور اس نے یہ بھی کہا کہ اس کے دو یتیم بچے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کے اونٹ کو بٹھایا گیا۔آپ نے اس کے مشکیزوں کا منہ کھول کر اس میں کلی کی پھر اس کے اونٹ کو بٹھایا تو ہم نے پانی پیا۔ہم چالیس آدمی پیاسے تھے حتیٰ کی ہماری پیاس بجھ گئی اور ہم نے اپنے مشکیزے اور برتن پانی سے بھر لیے اور اپنے ساتھی کو غسل کے لئے پانی دیا البتہ ہم نے اونٹ کو پانی نہ پلایا اور وہ مشکیزے پانی سے اسی طرح بھرے ہوئے تھے پھر آپ نے فرمایا جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آؤ پس ہم نے اس عورت کے لیے روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں جمع کیں اور ایک تھیلی میں بند کر کے اس عورت سے کہا لے جاؤ اور اپنے گھر والے کو کھلاؤ اور جان لو کہ ہم تمہارے پانی سے کچھ کم نہیں کیا۔ جب وہ اپنے گھر پہنچی تو کہنے لگی کہ آج میں بڑے جادوگر آدمی سے ملی یا بیشک وہ نبی ہے جیسا دعوٰی کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا معجزہ بیان کیا کہ یہ یہ گزرا سو اللہ تعالیٰ نے اس گاؤں والے کو اس عورت کی وجہ سے ہدایت دی اور وہ بھی اسلام لائی اور گاؤں والے بھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٥؛حدیث نمبر١٤٦٣)

وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ الْعُطَارِدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَأَدْلَجْنَا لَيْلَتَنَا، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ عَرَّسْنَا، فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا حَتَّى بَزَغَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَّا أَبُو بَكْرٍ، وَكُنَّا لَا نُوقِظُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَنَامِهِ إِذَا نَامَ [ص: ٤٧٥] حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ عُمَرُ، فَقَامَ عِنْدَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ، وَرَأَى الشَّمْسَ قَدْ بَزَغَتْ، قَالَ: «ارْتَحِلُوا»، فَسَارَ بِنَا حَتَّى إِذَا ابْيَضَّتِ الشَّمْسُ نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فُلَانُ ‍‍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا؟» قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَيَمَّمَ بِالصَّعِيدِ، فَصَلَّى، ثُمَّ عَجَّلَنِي فِي رَكْبٍ بَيْنَ يَدَيْهِ نَطْلُبُ الْمَاءَ، وَقَدْ عَطِشْنَا عَطَشًا شَدِيدًا، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ سَادِلَةٍ رِجْلَيْهَا بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، فَقُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: أَيْهَاهْ أَيْهَاهْ، لَا مَاءَ لَكُمْ، قُلْنَا: فَكَمْ بَيْنَ أَهْلِكِ وَبَيْنَ الْمَاءِ؟ قَالَتْ: مَسِيرَةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، قُلْنَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَمَا رَسُولُ اللهِ؟ فَلَمْ نُمَلِّكْهَا مِنْ أَمْرِهَا شَيْئًا حَتَّى انْطَلَقْنَا بِهَا، فَاسْتَقْبَلْنَا بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرَتْهُ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَتْنَا، وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا مُوتِمَةٌ لَهَا صِبْيَانٌ أَيْتَامٌ، فَأَمَرَ بِرَاوِيَتِهَا فَأُنِيخَتْ فَمَجَّ فِي الْعَزْلَاوَيْنِ الْعُلْيَاوَيْنِ، ثُمَّ بَعَثَ بِرَاوِيَتِهَا، فَشَرِبْنَا وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ رَجُلًا عِطَاشٌ حَتَّى رَوِينَا، وَمَلَأْنَا كُلَّ قِرْبَةٍ مَعَنَا وَإِدَاوَةٍ، وَغَسَّلْنَا صَاحِبَنَا، غَيْرَ أَنَّا لَمْ نَسْقِ بَعِيرًا، وَهِيَ تَكَادُ تَنْضَرِجُ مِنَ الْمَاءِ - يَعْنِي الْمَزَادَتَيْنِ - ثُمَّ قَالَ: «هَاتُوا مَا كَانَ عِنْدَكُمْ»، فَجَمَعْنَا لَهَا مِنْ كِسَرٍ وَتَمْرٍ، وَصَرَّ لَهَا صُرَّةً، فَقَالَ لَهَا: «اذْهَبِي فَأَطْعِمِي هَذَا عِيَالَكِ، وَاعْلَمِي أَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْ مَائِكِ»، فَلَمَّا أَتَتْ أَهْلَهَا قَالَتْ: لَقَدْ لَقِيتُ أَسْحَرَ الْبَشَرِ، أَوْ إِنَّهُ لَنَبِيٌّ كَمَا زَعَمَ، كَانَ مِنْ أَمْرِهِ ذَيْتَ وَذَيْتَ، فَهَدَى اللهُ ذَاكَ الصِّرْمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، فَأَسْلَمَتْ وَأَسْلَمُوا

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1463

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ہم رات بھر چلتے رہے حتیٰ کہ جب صبح سے کچھ پہلے رات کا آخری وقت ہوا تو ہم پر ایسی چیز واقع ہوئی جس سے زیادہ میٹھی چیز مسافر پر واقع نہیں ہوتی(نیند آگئی)ہم سورج کی تپش سے بیدار ہوۓ اس کے بعد گزشتہ حدیث کی مثل بیان کیا۔البتہ اس میں کچھ کمی زیادتی ہے۔اس حدیث میں بیان کیا جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور دیکھا کہ لوگ کس بات میں مبتلا ہیں اور آپ نہایت قوی جسم والے تھےچنانچہ آپ نے بلند آواز سے تکبیر کہی حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آواز کی شدت سے بیدار ہوۓ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوے تو صحابہ کرام نے آپ سے اس بات کی شکایت کی جو ان کو پہنچی تھی۔آپ نے فرمایا کوئی نقصان نہیں چلو۔آگے اسی طرح واقع ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٦؛حدیث نمبر١٤٦٤)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ الْأَعْرَابِيُّ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَرَيْنَا لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قُبَيْلَ الصُّبْحِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ الَّتِي لَا وَقْعَةَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ أَحْلَى مِنْهَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَلْمِ بْنِ زَرِيرٍ، وَزَادَ وَنَقَصَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، وَكَانَ أَجْوَفَ جَلِيدًا، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشِدَّةِ صَوْتِهِ بِالتَّكْبِيرِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا ضَيْرَ ارْتَحِلُوا» وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1464

‌‌‌‏ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں رات کے وقت پڑاؤ ڈالتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں کروٹ لیٹتے اور اگر صبح سے پہلے پڑاؤ ڈالتے تو اپنے بازو کھڑے کرتے اور ہتھیلی پر چہرہ رکھتے۔ (مسلم شریف کتاب المساجد و المواضع الصلاۃ.بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد ١؛ص ٤٧٦؛حدیث نمبر ١٤٦٥؛

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ بِلَيْلٍ، اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ، وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ، وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1465

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز(پڑھنا)بھول جاۓ تو جب یاد آئے پڑھ لے اس پر صرف یہی کفارہ ہے۔حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی"واقم الصلاۃ لذکری"اور میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٧؛حدیث نمبر١٤٦٥)

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ» قَالَ قَتَادَةُ: وَ {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤]،

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1466

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے(حدیث نمبر ١٤٦٥ کی طرح) روایت کرتے ہیں البتہ اس میں کفارے کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٧؛حدیث نمبر١٤٦٧)

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1467

ایک اور سند سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز(پڑھنا)بھول جاۓ یا اس سے سو جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے پڑھ لے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛ بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٧؛حدیث نمبر١٤٦٨)

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1468

ایک اور سند سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے ایک نماز سے سو جائے یا اس سے غافل ہو جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے"اقم الصَّلَاةَ لذکری"میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْفَائِتَةِ، وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا؛جلد١ص٤٧٧؛حدیث نمبر١٤٦٩)

وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ غَفَلَ عَنْهَا، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا»، فَإِنَّ اللهَ يَقُولُ: {أَقِمِ الصَّلَاةِ لِذِكْرِي} [طه: ١٤]

Muslim Shareef, Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat, Hadees No. 1469

Muslim Shareef : Kitabul Masajidi Wa Mawazi Is Salat

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ

|

•