asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabul Juma

From 1825 to 1942

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جمعہ کے لئے جانے کا ارادہ کرے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جمعہ کا بیان؛ جلد١ص٥٧٩؛حدیث نمبر١٨٥٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1850

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ آپ ممبر پر تشریف فرما تھے تو آپ نے فرمایا تم میں سے جو جمعہ کے لئے آئے اسے چاہیے کہ غسل کرے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٧٩؛حدیث نمبر١٨٥١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ: «مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ، فَلْيَغْتَسِلْ».

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1851

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛؛كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٧٩؛حدیث نمبر١٨٥٢)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، وَعَبْدِ اللهِ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ،

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1852

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٥١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٧٩؛حدیث نمبر١٨٥٣)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1853

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کہ دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے صحابہ کرام میں سے ایک صحابی (مسجد میں) داخل ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ آنے کا وقت ہے؟انہوں نے عرض کیا میں آج مشغول تھا اور گھر کی طرف بھی نہ آسکا حتیٰ کہ میں نے آذان سنی۔پھر صرف وضو کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا صرف وضو؟حالانکہ تم جانتے ہو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٠؛حدیث نمبر١٨٥٤)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ عُمَرُ: «أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ؟» فَقَالَ: إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ، فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ النِّدَاءَ، فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ، قَالَ عُمَرُ: «وَالْوُضُوءَ أَيْضًا، وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1854

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کا نام لئے بغیر فرمایا لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ آذان کے بعد دیر کرتے ہیں۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے امیرالمومنین!میں نے آذان سننے کے بعد صرف وضو کیا اور حاضر ہو گیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا صرف وضو کیا؟کیا تم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جمعہ کے لئے آئے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔(مسلم شریف كِتَابُ الْجُمُعَةِ؛جمعہ کا بیان؛ جلد١ص٥٨٠؛حدیث نمبر١٨٥٥)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَعَرَّضَ بِهِ عُمَرُ، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَأَخَّرُونَ بَعْدَ النِّدَاءِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا زِدْتُ حِينَ سَمِعْتُ النِّدَاءَ أَنْ تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءَ أَيْضًا، أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1855

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ(مسلمان)پر واجب ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابُ وُجُوبِ غُسْلِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ بَالِغٍ مِنَ الرِّجَالِ، وَبَيَانِ مَا أُمِرُوا بِهِ؛جلد١ص٥٨٠؛حدیث نمبر١٨٥٦)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1856

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگ اپنے گھروں اور(مدینہ طیبہ کے)بالائی آبادیوں سے باری باری جمعہ کے لئے آتے تھے۔وہ عباء (اونی وغیرہ) پہن کر آتے اور ان پر غبار پڑتی اور پھر ان سے بو آتی۔ان میں سے ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ میرے ہاں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا اچھا ہواگر تم آج کے دن کے لئے خوب پاکیزگی حاصل کرو۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ بَابُ وُجُوبِ غُسْلِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ بَالِغٍ مِنَ الرِّجَالِ، وَبَيَانِ مَا أُمِرُوا بِهِ؛جلد١ص٥٨١؛حدیث نمبر١٨٥٧)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ الْجُمُعَةَ مِنْ مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْعَوَالِي، فَيَأْتُونَ فِي الْعَبَاءِ، وَيُصِيبُهُمُ الْغُبَارُ، فَتَخْرُجُ مِنْهُمُ الرِّيحُ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1857

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگ کام کاج کرتے تھے اور ان کے خادم وغیرہ نہ تھے اور ان سے بو آتی تھی تو ان سے کہا گیا اگر تم جمعہ کے دن غسل کیا کرو تو اچھی بات ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ بَابُ وُجُوبِ غُسْلِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ بَالِغٍ مِنَ الرِّجَالِ، وَبَيَانِ مَا أُمِرُوا بِهِ؛جلد١ص٥٨١؛حدیث نمبر١٨٥٨)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ أَهْلَ عَمَلٍ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ كُفَاةٌ، فَكَانُوا يَكُونُ لَهُمْ تَفَلٌ، فَقِيلَ لَهُمْ: «لَوِ اغْتَسَلْتُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1858

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے۔حضرت بکیر راوی نے حضرت عبدالرحمن سے یہ بات ذکر نہیں کی بلکہ خوشبو کے بارے میں فرمایا اگرچہ عورت کی خوشبو سے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛ترجمہ؛جمعہ کے دن خوشبو لگانا اور مسواک کرنا؛جلد١ص٥٨١؛حدیث نمبر١٨٥٩)

وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ، وَبُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ، حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ، وَسِوَاكٌ، وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ». إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ: فِي الطِّيبِ: وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1859

حضرت طاؤس؛حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہیں کہ انہوں نے جمعہ کے دن غسل کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذکر کیا۔حضرت طاؤس فرماتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ خوشبو لگاۓ یا تیل اگر اس کے گھر والوں کے پاس ہو تو انہوں نے فرمایا مجھے اس بات کا علم نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٢؛حدیث نمبر١٨٦٠)

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي «الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ» قَالَ طَاوُسٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: وَيَمَسُّ طِيبًا، أَوْ دُهْنًا، إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ؟ قَالَ: «لَا أَعْلَمُهُ».

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1860

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٦٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٢؛حدیث نمبر١٨٦١)

وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1861

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں کہ۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ہر مسلمان پر حق ہے کہ ہفتہ میں ایک بار غسل کرے اپنے سر اور جسم کو دھوۓ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٢؛حدیث نمبر١٨٦٢)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «حَقٌّ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ، يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1862

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا پھر(مساجد کی طرف)گیا۔گویا اس نے اونٹ کی قربانی دی اور جو دوسری ساعت میں گیا۔اس نے گاۓ کی قربانی دی اور جو تیسری ساعت میں گیا گویا اس نے سینگوں والے مینڈھے کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا اور جو چوتھی ساعت میں گیا۔گویا اس نے مرغی صدقہ کی اور جو پانچویں ساعت میں گیا گویا اس نے انڈہ صدقہ کیا پس جب امام(خطبہ کے لئے)نکلتا ہے تو فرشتے حاضر ہو کر ذکر سنتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الطِّيبِ وَالسِّوَاكِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٢؛حدیث نمبر١٨٦٣)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ رَاحَ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1863

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جمعہ کے دن خطبہ امام کے دوران اپنے ساتھی سے کہو کہ خاموش ہو جاؤ تو تم نے لغو کلام کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي الْإِنْصَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْخُطْبَةِ؛ترجمہ؛خطبہ جمعہ کے وقت خاموش رہنا؛جلد١ص٥٨٣؛حدیث نمبر١٨٦٤)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ "

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1864

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٦٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي الْإِنْصَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْخُطْبَةِ؛جلد١ص٥٨٣؛حدیث نمبر١٨٦٥)

وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ، وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَارِظٍ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1865

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٦٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي الْإِنْصَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْخُطْبَةِ؛جلد١ص٥٨٣؛حدیث نمبر١٨٦٦)

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَارِظٍ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1866

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب تم جمعہ کے دن اپنی ساتھی سے کہو خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم لغو کلام کہا ابو زناد کہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی لغت"لغِیتَ" ہے حالانکہ"لغَوتَ" ہے معنیٰ ایک ہی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي الْإِنْصَاتِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْخُطْبَةِ؛جلد١ص٥٨٣؛حدیث نمبر١٨٦٧)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغِيتَ " قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَإِنَّمَا هُوَ: «فَقَدْ لَغَوْتَ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1867

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا ذکر فرمایا تو ارشاد فرمایا۔اس میں ایک ساعت ہے جو کسی مسلمان کے موافق ہو جاۓ اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا فرماتا ہے۔حضرت قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ راوی نے ہاتھ کے اشارے سے اس (ساعت) کے قلیل ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢ ص٥٨٣؛حدیث نمبر١٨٦٨)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: «فِيهِ سَاعَةٌ، لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، وَهُوَ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللهَ شَيْئًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» زَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ: وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1868

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جمعہ کے دن ایک ساعت ہے جو کسی مسلمان کو حالت نماز میں موافق ہو جاۓ اور وہ اللہ تعالیٰ سے کسی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرماتا ہے۔راوی ہاتھ کے اشارے سے اس کی قلت بیان کر کے اس کی رغبت دلاتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٦٩)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً، لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ، قَائِمٌ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللهَ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» وَقَالَ بِيَدِهِ: يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا.

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1869

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٦٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٧٠)

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ،

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1870

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٦٩ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٧١)

وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1871

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ہےجو کسی مسلمان کے موافق ہو جاۓ اور وہ اس میں بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے۔ فرمایا یہ مختصر سی ساعت ہوتی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَاب الجمعۃ بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٧٢)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً، لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللهَ فِيهَا خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ»، قَالَ: وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ.

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1872

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر ١٨٧٢ کی مثل مروی ہے۔لیکن اس میں یہ نہیں فرمایا کہ یہ مختصر سی ساعت ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٧٣)

وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ: وَهِيَ سَاعَةٌ خَفِيفَةٌ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1873

حضرت ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے والد سے سنا کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعہ کی(خاص)ساعت کے بارے میں روایت کیا ہو؟فرماتے ہیں میں نے کہا جی ہاں میں نے ان سے سنا وہ فرماتے تھے۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا یہ ساعت امام کے (منبر پر)بیٹھنے سے لے کر نماز کے مکمّل ہونے تک ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٤؛حدیث نمبر١٨٧٤)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلَاةُ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1874

حضرت عبدالرحمن الأعرج فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے جس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن ان کو جنت سے باہر آنے کا حکم ہوا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛ترجمہ؛فضائل یوم جمعہ؛ جلد ٢؛ص٥٨٥؛حدیث نمبر١٨٧٥)

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1875

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اس دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اسی دن آپ کو جنت میں داخل کیا گیا اسی دن آپ جنت سے باہر تشریف لائے اور قیامت بھی اسی دن قائم ہوگی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابُ فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٥؛حدیث نمبر١٨٧٦)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1876

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن ہم پہلے ہونگے۔علاوہ ازیں تمام امتوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی پھر یہ دن جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر لکھ دیا۔ اللہ تعالی نے اس کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی پس اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں۔یہودی کل (آنے والے یعنی سنیچر کے دن)اور عیسائی پرسوں(اتوار کے دن)ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛ترجمہ؛امت محمدیہ کو یوم جمعہ کی ہدایت؛جلد ٢؛ص٥٨٥؛حدیث نمبر١٨٧٧)

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ، وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتِيَتِ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللهُ عَلَيْنَا، هَدَانَا اللهُ لَهُ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، الْيَهُودُ غَدًا، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1877

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر١٨٧٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا؛بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد١ص٥٨٥؛حدیث نمبر١٨٧٨)

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ، وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1878

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہم پچھلے ہیں قیامت کے دن پہلے ہونگے اور جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والےہم ہوں گے البتہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی پس انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس حق کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی جس حق میں انہوں نے اختلاف کیا تو یہ وہ دن ہےجس میں ان لوگوں نے اختلاف کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی فرمایا پس جمعہ کا دن ہمارے لئے ہے۔ کل کا دن یہودیوں کے لئے اور پرسوں کا دن عیسائیوں کے لئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٥؛حدیث نمبر١٨٧٩)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَنَحْنُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَاخْتَلَفُوا، فَهَدَانَا اللهُ لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ، فَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ، هَدَانَا اللهُ لَهُ - قَالَ: يَوْمُ الْجُمُعَةِ - فَالْيَوْمَ لَنَا، وَغَدًا لِلْيَهُودِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى "

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1879

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے روایت کرتےہیں آپ نے فرمایا ہم پچھلے ہیں قیامت کے دن پہلے ہونگے۔البتہ ان کو کتب ہم سے پہلے دی گئیں اور ہمیں ان کے بعد عطا ہوئیں اور یہ دن وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر فرمایا تو انہوں نے اس میں اختلاف کیا پس اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی۔لہٰذا وہ اس میں ہمارے تابع ہیں یہودی کل(بروز ہفتہ)اور عیسائی پرسوں(بروز اتوار) ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٦؛حدیث نمبر١٨٨٠)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، وَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللهُ لَهُ، فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، فَالْيَهُودُ غَدًا، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1880

حضرت ابوہریرہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔وہ دونوں فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ ہم سے پہلے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو جمعہ سے بھٹکا دیا پس یہودیوں کے لئے ہفتے کا دن اور عیسائیوں کے لئے اتوار کا دن ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں جمعہ کے دن کی طرف رہنمائی فرمائی پس جمعہ ہفتہ اور اتوار بناۓ تو اسی طرح وہ قیامت تک ہم سے پیچھے رہیں گے ہم اہل دنیا میں سب سے پیچھے اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے کہ تمام مخلوق سے پہلے ہمارے بارے میں فیصلہ ہوگا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٦؛حدیث نمبر١٨٨١)

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَضَلَّ اللهُ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا، فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ، وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ، فَجَاءَ اللهُ بِنَا فَهَدَانَا اللهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَجَعَلَ الْجُمُعَةَ، وَالسَّبْتَ، وَالْأَحَدَ، وَكَذَلِكَ هُمْ تَبَعٌ لَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ» وَفِي رِوَايَةِ وَاصِلٍ الْمَقْضِيُّ بَيْنَهُمْ.

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1881

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کی طرف ہماری رہنمائی کی گئی اور ہم سے پہلے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس سے گمراہ کردیا۔پھرحدیث نمبر ١٨٨١کی طرح ذکر کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابُ هِدَايَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٦؛حدیث نمبر١٨٨٢)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُدِينَا إِلَى الْجُمُعَةِ، وَأَضَلَّ اللهُ عَنْهَا مَنْ كَانَ قَبْلَنَا»، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1882

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو ہر مسجد کے دروازے پر فرشتے ہوتے ہیں جو پہلے آنے والوں کو لکھ لیتے ہیں پھر جو ان کے بعد آتے ہیں۔جب لوگ بیٹھ جاتے ہیں تو فرشتے اپنے رجسٹر لپیٹ لیتے ہیں اور حاضر ہو کر غور سے ذکر(خطبہ)سنتے ہیں اور جو آدمی(زوال کے بعد)جلدی آتا ہے۔وہ اس شخص کی طرح ہے جو اونٹ کی قربانی دیتا ہے۔پھر اس کی طرح جو گاۓ قربان کرتا ہے پھر اس کی طرح جو مینڈھے کی قربانی دیتا ہے پھر اس کی طرح جو مرغی کے ذریعہ قرب خداوندی حاصل کرتا ہے پھر اس کی طرح جو انڈا بطور صدقہ دیتاہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ فَضْلِ التَّهْجِيرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛ترجمہ؛جمعہ میں جلدی جانے کی فضیلت؛ جلد ٢؛ص٥٨٧؛حدیث نمبر١٨٨٣)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَغَرُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوُا الصُّحُفَ، وَجَاءُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ، وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي الْبَدَنَةَ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الْكَبْشَ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الدَّجَاجَةَ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَيْضَةَ».

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1883

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٨٨٣ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ فَضْلِ التَّهْجِيرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٧؛حدیث نمبر١٨٨٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1884

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد کے ہر دروازے پر ایک فرشتہ ہوتا ہے جو پہلے آنے والے کو لکھ لیتا ہے۔پہلا اونٹ کی قربانی والے کی طرح ہوتا ہے پھر بتدریج کم کرتے کرتے انڈے کا ذکر فرمایا تو امام(خطبہ کے لئے)بیٹھ جاتا ہے تو صحیفے لپیٹ دیےجاتے ہیں اور فرشتے ذکر(سنے)کے لئے حاضر ہو جاتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ فَضْلِ التَّهْجِيرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٧؛حدیث نمبر١٨٨٥)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكٌ يَكْتُبُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ - مَثَّلَ الْجَزُورَ، ثُمَّ نَزَّلَهُمْ حَتَّى صَغَّرَ إِلَى مَثَلِ الْبَيْضَةِ - فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ، وَحَضَرُوا الذِّكْرَ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1885

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں۔آپ نے فرمایا جس نے غسل کیا پھر جمعہ کے لئے آیا اور جس قدر نماز اس کے مقدر میں ہے،پڑھی پھر خاموش رہا حتیٰ کہ وہ(امام)خطبہ سے فارغ ہو گیا۔پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی تو اس سے پچھلے جمعہ کے درمیان اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ فِي الْخُطْبَةِ؛ترجمہ؛خطبہ کے وقت خاموش رہنا؛جلد ٢؛ص٥٨٧؛حدیث نمبر١٨٨٦)

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنِ اغْتَسَلَ؟ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ، فَصَلَّى مَا قُدِّرَ لَهُ، ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ، ثُمَّ يُصَلِّي مَعَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، وَفَضْلُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1886

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کے لئے آیا(خطبہ) غور سے سنا اور خاموش رہا اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں اور جس نے کنکریوں کو چھوا(خطبہ کے دوران غیر ضروری حرکت کی)اس نے فضول کام کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ فَضْلِ مَنِ اسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ فِي الْخُطْبَةِ؛ترجمہ؛خطبہ کے وقت خاموش رہنا؛جلد ٢؛ص٥٨٧؛حدیث نمبر١٨٨٧)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ، فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1887

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتے پھر واپس آکر اپنی اونٹنیوں کو آرام پہنچاتے۔حسن فرماتے ہیں میں نے جعفر(راوی)سے پوچھا یہ کس وقت ہوتا تھا فرمایا زوال آفتاب کے وقت۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ؛جلد ٢؛ص٥٨٨؛حدیث نمبر١٨٨٨)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا»، قَالَ حَسَنٌ: فَقُلْتُ لِجَعْفَرٍ: فِي أَيِّ سَاعَةٍ تِلْكَ؟ قَالَ: «زَوَالَ الشَّمْسِ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1888

حضرت جعفر کے والد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کب نماز جمعہ ادا فرماتے تھے؟انہوں نے جواب دیا آپ نماز پڑھ لیتے تو ہم اپنی اونٹوں کی طرف جاتے اور ان کو آرام پہنچاتے حضرت عبد اللہ نے اپنی روایت میں سورج ڈھلنے کا ذکر بھی کیا۔اس سے پانی لانے والی اونٹنیاں مراد ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ؛جلد ٢؛ص٥٨٨؛حدیث نمبر١٨٨٩)

وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ: مَتَى كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ؟ قَالَ: «كَانَ يُصَلِّي، ثُمَّ نَذْهَبُ إِلَى جِمَالِنَا فَنُرِيحُهَا». زَادَ عَبْدُ اللهِ فِي حَدِيثِهِ: حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، يَعْنِي النَّوَاضِحَ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1889

حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نماز جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے اور کھانا کھاتے تھے۔ ابن حجر نے یہ اضافہ کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایسا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ؛جلد ٢؛ص٥٨٨؛حدیث نمبر١٨٩٠)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ: «مَا كُنَّا نَقِيلُ، وَلَا نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ»، زَادَ ابْنُ حُجْرٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1890

حضرت سلمہ بن اکوع سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جب سورج ڈھل جاتا تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز جمعہ پڑھتے پھر سایہ تلاش کرتے ہوئے واپس لوٹتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ؛جلد ٢؛ص٥٨٩؛حدیث نمبر١٨٩١)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ نَرْجِعُ نَتَتَبَّعُ الْفَيْءَ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1891

حضرت سلمہ بن اکوع ہی سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز جمعہ پڑھتے اور واپس آتے تو دیواروں کا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ ان کی آڑ میں سایہ حاصل کریں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ؛جلد ٢؛ص٥٨٩؛حدیث نمبر١٨٩٢)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، فَنَرْجِعُ وَمَا نَجِدُ لِلْحِيطَانِ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1892

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ کھڑے ہوکر دیتے تھے پھر بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے جس طرح آج کل تم لوگ کرتے ہو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ ذِكْرِ الْخُطْبَتَيْنِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَمَا فِيهِمَا مِنَ الْجَلْسَةِ؛نماز جمعہ سے پہلے دو خطبے اور خطبے کے درمیان بیٹھنا؛جلد١ص٥٨٩؛حدیث نمبر١٨٩٣)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، جَمِيعًا عَنْ خَالِدٍ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ». قَالَ: كَمَا يَفْعَلُونَ الْيَوْمَ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1893

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے ارشاد فرماتے اور ان کے درمیان بیٹھتے تھے آپ(خطبوں میں)قرآن مجید پڑھتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ ذِكْرِ الْخُطْبَتَيْنِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَمَا فِيهِمَا مِنَ الْجَلْسَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٩؛حدیث نمبر١٨٩٤)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1894

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے پھر بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے پس جو شخص تمہیں یہ بتاۓ کہ آپ بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے اس نے جھوٹ کہا اللہ کی قسم میں نے آپ کے ساتھ دو ہزار سے زائد نمازیں پڑھیں(پانچوں نمازیں اور جمعہ وغیرہ)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ ذِكْرِ الْخُطْبَتَيْنِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَمَا فِيهِمَا مِنَ الْجَلْسَةِ؛جلد ٢؛ص٥٨٩؛حدیث نمبر١٨٩٥)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: أَنْبَأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1895

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے ایک دفعہ شام سے ایک قافلہ آیا تو بارہ افراد کے علاوہ باقی سب لوگ اس کی طرف چلے گئے تو وہ آیت نازل ہوئی جو سورۃ جمعہ میں ہے۔:{وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١] "."اور جب وہ تجارت یا کھیل کود دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہونے کی حالت میں چھوڑ دیتے ہیں"۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١]؛جلد ٢؛ص٥٩٠؛حدیث نمبر١٨٩٦)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَجَاءَتْ عِيرٌ مِنَ الشَّامِ، فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا، حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١] ".

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1896

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ١٨٩٦ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں خطبہ کا ذکر ہے کھڑا ہونے کا ذکر نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١]؛جلد ٢؛ص٥٩٠؛حدیث نمبر١٨٩٧)

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْطُبُ وَلَمْ يَقُلْ قَائِمًا

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1897

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم(ایک دفعہ)جمعہ کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک قافلہ آیا۔فرماتے ہیں لوگ اس کی طرف نکل گئے اور صرف بارہ آدمی رہ گئے جن میں میں بھی تھا۔فرماتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی "اور جب وہ تجارت یا کھیل کود دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہونے کی حالت میں چھوڑ جاتے ہیں"(جمعہ؛ ١١)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١]؛جلد ٢؛ص٥٩٠؛حدیث نمبر١٨٩٨)

وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمٍ، وَأَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَدِمَتْ سُوَيْقَةٌ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَيْهَا، فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا أَنَا فِيهِمْ، قَالَ فَأَنْزَلَ اللهُ: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ "

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1898

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں اس دوران کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن کھڑے تھے کہ ایک قافلہ مدینہ شریف کی طرف آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے جلدی کی حتیٰ کہ آپ کے ساتھ صرف بارہ افراد رہ گئے جن میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ فرماتے ہیں اس پر آیت کریمہ نازل ہوئی(ترجمہ)"اور جب تجارت یا کھیل کود دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں"(جمعہ؛١١)(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١]؛جلد ٢؛ص٥٩٠؛حدیث نمبر١٨٩٩)

وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا} [الجمعة: ١١]

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1899

حضرت ابو عبیدہ کہتے ہیں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور عبدالرحمن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہا تھا۔انہوں نے کہا اس خبیث کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے(ترجمہ)"اور جب تجارت یا کھیل کود کو دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں"۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١]؛جلد ٢؛ص٥٩١؛حدیث نمبر١٩٠٠)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أُمِّ الْحَكَمِ يَخْطُبُ قَاعِدًا، فَقَالَ: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخَبِيثِ يَخْطُبُ قَاعِدًا، وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١] "

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1900

حکم بن میناء کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ منبر کی سیڑھیوں پرفرما رہے تھے ان لوگوں کو جمعہ چھوڑنے سے باز آنا ہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْجُمُعَة؛جلد ٢؛ص٥٩١؛حدیث نمبر١٩٠١)

وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ - يَعْنِي أَخَاهُ - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مِينَاءَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1901

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتا تھا تو آپ کی نماز بھی اعتدال پر مبنی ہوتی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانہ ہوتا۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛ترجمہ؛خطبہ اور نماز میں تخفیف؛ جلد ٢؛ص٥٩١؛حدیث نمبر١٩٠٢)

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1902

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نمازیں پڑھی ہیں تو آپ کی نماز اور خطبہ دونوں اعتدال پر ہوتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩١؛حدیث نمبر١٩٠٣)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتِ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا». وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ زَكَرِيَّاءُ، عَنْ سِمَاكٍ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1903

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں آواز بلند ہو جاتی اور غصہ زیادہ ہو جاتا۔گویا آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہوں جو صبح اور شام تم پر حملہ کرنے والا ہے اور آپ فرماتے تھے مجھے اور قیامت کو ایک ساتھ بھیجا گیا۔آپ شہادت والی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ بات فرماتے اور یوں فرماتے اما بعد۔بہترین بات اللہ کا کلام ہے اور بہترین سیرت،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے اور سب سے برے کام بدعات ہیں اور ہر(بری)بدعت گمراہی ہے۔پھر فرماتے ہیں ہم مؤمن کی جان پر تصرف میں اس کے نفس سے زیادہ قریب اور مختار ہوں جو شخص مال چھوڑ جائے وہ اس کے گھر والوں کے لئے ہے اور جو قرض یا اولاد چھوڑ جائے وہ میرے ذمہ ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٢؛حدیث نمبر١٩٠٤)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ: «صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ»، وَيَقُولُ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ»، وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ، وَالْوُسْطَى، وَيَقُولُ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» ثُمَّ يَقُولُ: «أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ».

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1904

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرتے پھر بلند آواز سے فرماتے۔اما بعد! اس کے بعد حدیث نمبر ١٩٠٤ کی مثل ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٢؛حدیث نمبر١٩٠٥)

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: كَانَتْ خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَحْمَدُ اللهَ، وَيُثْنِي عَلَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ، وَقَدْ عَلَا صَوْتُهُ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ،

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1905

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرتے جو اس کے شایانِ شان ہے۔پھر فرماتے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور بہترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٣؛حدیث نمبر١٩٠٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، يَحْمَدُ اللهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ يَقُولُ: «مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَخَيْرُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ» ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1906

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ضماد مکہ مکرمہ آیا اور وہ قبیلہ شنوءہ سے تعلق رکھتا تھا اور وہ جنات کے اثر کا دم کرتا تھا۔اس نے اہل مکہ میں سے بیوقوف لوگوں سے سنا کہ وہ کہتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجنون ہیں تو اس نے کہا کاش میں اس شخص کو دیکھ لیتا تو شاید اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھ سے شفا دے دے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کی آپ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اس اثر کا دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھ سے شفا دیتا ہے۔آپ کا کیا خیال ہے؟رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (ترجمہ)بے شک تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں جسے وہ ہدایت دے اسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جسے وہ گمراہ کرے اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ امابعد۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس نے کہا اپنے یہ کلمات دوبارہ ارشاد فرمائیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ کلمات ارشاد فرماۓ۔اس نے کہا میں نے کاہنوں(نجومیوں)کا کلام،جادوگروں کا کلام اور شعراء کا کلام سنا ہے لیکن ان کلمات جیسا کلام نہیں سنا یہ تو(بلاغت کے)سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔اس نے کہا اپنا ہاتھ بڑھائیے۔میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں پس اس نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری قوم کی بیعت بھی لے لوں؟اس نے کہا میری قوم کی بیعت بھی لے لیں۔ راوی فرماتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا وہ لوگ اس قوم پر سے گزرے تو لشکر کے امیر نے کہا تم نے ان لوگوں کی کوئی چیز لی ہے تو ان میں سے ایک نے کہا میں نے ان کا لوٹا لیا فرمایا واپس کرو یہ ضماد کی قوم ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٣؛حدیث نمبر١٩٠٧)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى وَهُوَ أَبُو هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضِمَادًا، قَدِمَ مَكَّةَ وَكَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ، فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، يَقُولُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ، فَقَالَ: لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدَيَّ، قَالَ فَلَقِيَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ، وَإِنَّ اللهَ يَشْفِي عَلَى يَدِي مَنْ شَاءَ، فَهَلْ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ» قَالَ: فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ، فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ، وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ، وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ، قَالَ: فَقَالَ: هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَبَايَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَى قَوْمِكَ»، قَالَ: وَعَلَى قَوْمِي، قَالَ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ، فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ: هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلَاءِ شَيْئًا؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً، فَقَالَ: رُدُّوهَا، فَإِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمُ ضِمَادٍ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1907

حضرت ابو وائل کہتے ہیں۔حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ہمیں نہایت مختصر اور بلیغ خطبہ دیا۔جب وہ(ممبر سے)اترے تو ہم نے کہا اے ابوالیقظان آپ نے نہایت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا اگر میں ہوتا تو لمبا خطبہ دیتا۔انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بندے کی لمبی نماز(نفل نماز)اور چھوٹا خطبہ اس کی فقاہت کی علامت ہے۔پس نماز لمبی کرو اور خطبہ مختصر پڑھو اور بےشک بعض بیان جادو ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٤؛حدیث نمبر١٩٠٨)

حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: خَطَبَنَا عَمَّارٌ، فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ، فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ، فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ، وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ، مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ، وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1908

حضرت عدی بن حاتم فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خطبہ دیا اور کہا جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے ہدایت پائی اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ بھٹک گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بہت برے خطیب ہو یوں کہو جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی وہ بھٹک گیا۔(اس کو اس لیے برا خطیب فرمایا کہ اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ضمیر کے بجائے صراحتاً کرنا چاہیے تھا ایک ضمیر کی وجہ سے نہیں فرمایا اور نہ احادیث میں اللہ تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اکٹھی ضمیر آئی ہے۔(شرح مسلم از علامہ سعیدی جلد ٢ص٦٦٥) (مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٤؛حدیث نمبر١٩٠٩)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَدْ غَوَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ، قُلْ: وَمَنْ يَعْصِ اللهَ وَرَسُولَهُ ". قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فَقَدْ غَوِيَ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1909

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا{وَنَادَوْا يَا مَالِكُ} [الزخرف: ٧٧](اے مالک فرشتے!آپ کا رب ہمارے بارے میں فیصلہ فرماۓ)۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٤؛حدیث نمبر١٩١٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ عَطَاءً، يُخْبِرُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: {وَنَادَوْا يَا مَالِكُ} [الزخرف: ٧٧]

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1910

حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن کی بہن بیان کرتی ہیں کہ میں نے"ق والقرآن المجید"(سورت)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی۔آپ ہر جمعہ کے دن اسے منبر پر پڑھا کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١١)

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ، قَالَتْ: «أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَهُوَ يَقْرَأُ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ».

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1911

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩١١ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١٢)

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْهَا، بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1912

حضرت حارثہ بن نعمان کی بیٹی کہتی ہیں۔میں نے سورہ"ق والقرآن المجید"رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہے۔آپ ہر جمعہ کے دن خطبہ میں یہ سورت پڑھتے تھے۔وہ فرماتی ہیں ہمارا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١٣)

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ عَبدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ بِنْتٍ لِحَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: «مَا حَفِظْتُ ق، إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ»، قَالَتْ: وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1913

حضرت حارثہ بن نعمان کی صاحبزادی ام ھشام فرماتی ہیں کہ دو سال یا ایک سال اور کچھ زائد عرصہ ہمارا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا اور میں نے"ق والقرآن المجید"اپکی زبان مبارک سے سن کر یاد کی آپ ہر جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے یہ سورت پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١٤)

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: «لَقَدْ كَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا، سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةً وَبَعْضَ سَنَةٍ، وَمَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا عَنْ لِسَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَؤُهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ، إِذَا خَطَبَ النَّاسَ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1914

حضرت عمارہ بن رؤیبہ نے کہا کہ انہوں نے بشر بن مروان کو منبر پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا اللہ تعالیٰ اس کے دونوں ہاتھوں کو برباد کر دے۔میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صرف شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اس پر اضافہ نہ فرماتے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١٥)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، قَالَ: رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ رَافِعًا يَدَيْهِ، فَقَالَ: «قَبَّحَ اللهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الْمُسَبِّحَةِ».

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1915

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩١٥ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٥؛حدیث نمبر١٩١٦)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: رَأَيْتُ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ، يَوْمَ جُمُعَةٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، فَقَالَ: عُمَارَةُ بْنُ رُؤَيْبَةَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1916

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اس دوران ایک شخص آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اے فلاں!کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟اس نے عرض کیا نہیں فرمایا اٹھو اور نماز(تحیۃ المسجد)پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٦؛حدیث نمبر١٩١٧)

وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَلَّيْتَ؟ يَا فُلَانُ» قَالَ: لَا، قَالَ: «قُمْ فَارْكَعْ».

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1917

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩١٧ کی مثل مروی ہے اور دو رکعتوں کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٦؛حدیث نمبر١٩١٨)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا قَالَ حَمَّادٌ، وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّكْعَتَيْنِ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1918

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں۔ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے۔اس نے عرض کیا نہیں فرمایا کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٦؛حدیث نمبر١٩١٩)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: «أَصَلَّيْتَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «قُمْ فَصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ». وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: «صَلِّ رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1919

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے۔اس نے عرض کیا نہیں فرمایا کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٦؛حدیث نمبر١٩٢٠)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ «أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ؟» قَالَ: لَا، فَقَالَ: «ارْكَعْ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1920

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےخطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جمعہ کے دن آۓ اور امام(خطبہ کے لئے)نکل چکا ہو تو دو رکعتیں پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٦؛حدیث نمبر١٩٢١)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ، فَقَالَ: «إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1921

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت سلیک غطفانی جمعہ کے دن آۓ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے منبر پر تشریف فرما تھے۔آپ نے ان سے پوچھا کیا تم دو رکعتیں پڑھ چکے ہو؟عرض کیا نہیں فرمایا اٹھو اور دو رکعتیں پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢؛ص٥٩٧؛حدیث نمبر١٩٢٢)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَعَدَ سُلَيْكٌ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «قُمْ فَارْكَعْهُمَا»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1922

ایک دوسری سند کے ساتھ بھی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سلیک غطفانی جمعہ کے دن حاضر ہوۓ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے وہ بیٹھ گئے۔آپ نے ان سے فرمایا اے سلیک اٹھو اور دو رکعتیں پڑھو اور ان میں اختصار اختیار کرو۔پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جمعہ کے دن آۓ اور امام خطبہ پڑھ رہا ہو تو اختصار کے ساتھ دو رکعتیں پڑھے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ التَّحِيَّةُ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ؛جلد ٢ ؛ص٥٩٧؛حدیث نمبر١٩٢٣)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ: «يَا سُلَيْكُ قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا»ثُمَّ قَالَ: «إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1923

حضرت ابورفاعہ فرماتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ خطبہ پڑھ رہے تھے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ایک اجنبی شخص آیا ہے جو اپنے دین کے بارے میں پوچھتا ہے اور وہ اپنے دین کے بارے میں نہیں جانتا فرماتےہیں(یہ سن کر)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور خطبہ چھوڑ دیا حتیٰ کہ میری طرف متوجہ ہو گئے۔پس ایک کرسی لائی گئی میرا خیال ہے کہ اس کے پاۓ لوہے کے تھے۔فرماتے ہیں آپ اس پر تشریف فرما ہوۓ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کچھ سکھایا اس میں سے مجھے سکھانے لگے پھر اپنے خطبہ کے لئے تشریف لے گئے اور اس کے آخری حصے کو مکمل کیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ حَدِيثِ التَّعْلِيمِ فِي الْخُطْبَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٧؛حدیث نمبر١٩٢٤)

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ: " انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ، جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ، لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ، حَسِبْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا، قَالَ: فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ، فَأَتَمَّ آخِرَهَا "

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1924

حضرت ابورافع فرماتے ہیں۔مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ شریف کا گورنر بنایا اور خود مکہ مکرمہ کی طرف چلا گیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھاتے ہوئے دوسری رکعت میں سورۂ جمعہ کے بعد سورہ منافقون پڑھی نماز سے فراغت کے بعد میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو ان سے عرض کیا۔آپ نے وہ دو سورتیں پڑھی ہیں جو حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھتے تھے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن یہ سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٧؛حدیث نمبر١٩٢٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ، فَقَرَأَ بَعْدَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ، فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ: إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، قَالَ: فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ بِهِمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ».

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1825

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٢٥ کی مثل مروی ہے اور اس میں یوں ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورۂ منافقون پڑھی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٨؛حدیث نمبر١٩٢٦)

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، كِلَاهُمَا عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ حَاتِمٍ: فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي السَّجْدَةِ الْأُولَى وَفِي الْآخِرَةِ: إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ. وَرِوَايَةُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِثْلُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1926

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں عیدوں اور جمعہ کی نماز میں"سبح اسم ربک الاعلی"اور "ھل اتاک حدیث الغاشیہ"پڑھتے تھے۔فرماتے ہیں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن اکٹھے ہوتے تو آپ دونوں نمازوں میں یہی پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٨؛حدیث نمبر١٩٢٧)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ، وَفِي الْجُمُعَةِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ»، قَالَ: «وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ، فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، يَقْرَأُ بِهِمَا أَيْضًا فِي الصَّلَاتَيْنِ».

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1927

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٢٧ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٨؛حدیث نمبر١٩٢٨)

وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1928

حضرت ضحاک بن قیس نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خط لکھ کر پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن سورہ جمعہ کے علاوہ کیا پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا آپ"ھل اتاک حدیث الغاشیہ"پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢ ص٥٩٨؛حدیث نمبر١٩٢٩)

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَسْأَلُهُ: أَيَّ شَيْءٍ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، سِوَى سُورَةِ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: «كَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1929

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں"الم تنزیل السجدۃ"اور ھل اتی علی الانسان حین من الدھر"پڑھتے تھے اور آپ جمعہ کی نماز میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢ ص٥٩٩؛حدیث نمبر١٩٣٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ: الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، وَالْمُنَافِقِينَ ".

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1930

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٩؛حدیث نمبر١٩٣١)

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1931

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٣٠ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٩؛حدیث نمبر١٩٣٢)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُخَوَّلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، فِي الصَّلَاتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، كَمَا قَالَ سُفْيَانُ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1932

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتےہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں"الم تنزیل"اور"ھل اتی"پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٩؛حدیث نمبر١٩٣٣)

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ: الم تَنْزِيلُ، وَهَلْ أَتَى "

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1933

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں پہلی رکعت میں الم تنزیل اور دوسری رکعت میں"ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شيئا مذکورا"پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛ بَابُ مَا يُقْرَأُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٥٩٩؛حدیث نمبر١٩٣٤)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ: بِالم تَنْزِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الثَّانِيَةِ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا "

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1934

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک جمعہ(کی نماز)پڑھے تو اس کے بعد چار رکعات پڑھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛ترجمہ؛جمعہ کے بعد نماز؛جلد ٢؛ص٦٠٠؛حدیث نمبر١٩٣٥)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1935

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جمعہ(کی فرض نماز)کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعات پڑھو ایک اور روایت میں ہے کہ اگر تمہیں جلدی ہو تو مسجد میں دو رکعتیں پڑھو اور دو رکعتیں گھر جاکر پڑھو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠٠؛حدیث نمبر١٩٣٦)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَصَلُّوا أَرْبَعًا». زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: قَالَ سُهَيْلٌ: «فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1936

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو وہ چار رکعات پڑھے اور جریر کی روایت میں منکم کے الفاظ نہیں ہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠٠؛حدیث نمبر١٩٣٧)

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، كِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا». وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ «مِنْكُمْ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1937

حضرت نافع فرماتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نماز جمعہ سے فارغ ہوتے تو گھر تشریف لے جاتے اور وہاں دورکعتیں پڑھتے تھے۔پھر فرماتے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠٠؛حدیث نمبر١٩٣٨)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1938

حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ جمعہ کے بعد گھر تشریف لے جاتے اور دو رکعتیں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ ؛بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠٠؛حدیث نمبر١٩٣٩)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ وَصَفَ تَطَوُّعَ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ». قَالَ يَحْيَى: أَظُنُّنِي قَرَأْتُ فَيُصَلِّي، أَوْ أَلْبَتَّةَ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1939

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠١؛حدیث نمبر١٩٤٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ»

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1940

حضرت عمر بن عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت نافع بن جبیر نے انہیں سائب ابن اخت نمر کی طرف بھیجا کہ ان سے ان باتوں کے بارے میں پوچھیں جو انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نماز میں دیکھی ہیں۔انہوں نے کہا میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز مقصورہ میں پڑھی۔جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اٹھ کر اپنی نماز پڑھی جب وہ داخل ہوئے تو مجھے بلا کر فرمایا۔آئندہ اس طرح نہ کرنا جب جمعہ پڑھ لو تو اس کے بعد نماز نہ پڑھو حتیٰ کہ کلام کرو یا نکل جاؤ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ایک نماز کو دوسری نماز سے نہ ملائیں حتیٰ کہ کلام کریں یا(اس جگہ سے)چلے جائیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ الجمعۃ بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠١؛حدیث نمبر١٩٤١)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ - ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ - يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: نَعَمْ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي، فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: «لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ، فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ، أَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى نَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ».

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1941

حضرت عمر بن عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت نافع بن جبیر نے ان کو سائب بن یزید بن اخت نمر کے پاس بھیجا۔پھر حدیث نمبر ١٩٤١ کی مثل مروی ہے البتہ اس میں فرمایا کہ جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا۔امام کا ذکر نہیں کیا۔(مسلم شریف؛کتاب الجمعۃ ؛بَابُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ؛جلد ٢؛ص٦٠١؛حدیث نمبر١٩٤٢)

وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ - ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي، وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِمَامَ

Muslim Shareef, Kitabul Juma, Hadees No. 1942

Muslim Shareef : Kitabul Juma

|

Muslim Shareef : كِتَابُ الْجُمُعَةِ

|

•