
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت صدیق اکبر،حضرت فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے ساتھ عید الفطر کی نماز میں حاضر ہوا تو یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے پھر خطبہ دیتے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(ممبر سے)اترے گویا میں(اب بھی)آپ کی طرف دیکھ رہا ہوں حتیٰ کہ آپ ہاتھ(کے اشارے)سے صحابہ کرام کو بٹھا رہے ہیں پھر آپ صفوں کو چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے تو آپ نے یہ آیت پڑھی۔{إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا}[الممتحنة: ١٢]،(ترجمہ)"اے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) جب آپ کے پاس مؤمن عورتیں آئیں اور آپ سے اس بات پر بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی"۔ آپ یہ آیت کریمہ پڑھ کر فارغ ہوئےتو اس کے بعد فرمایا تم سب نے اس بات کا اقرار کیا تو ان میں سے صرف ایک عورت نے جواب میں کہا اے اللہ کے نبی!ہاں۔ راوی فرماتے ہیں معلوم نہ ہو سکا وہ کون عورت تھی۔پھر ان سب عورتوں نے صدقہ دینا شروع کر دیا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا پھیلا لیا اور(حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے)کہا تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں پس وہ اپنے چھلے اور انگوٹھیاں اتار اتار کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛ترجمہ؛نماز عیدین؛جلد ٢؛ص٦٠٢؛حدیث نمبر١٩٤٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(عید کی نماز)خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے پھر خطبہ ارشاد فرماتے۔آپ نے دیکھا کہ آپ کی آواز عورتوں تک نہیں پہنچتی تو آپ ان کے پاس تشریف لائے پس ان کو وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا اور حضرت بلال اپنا کپڑا پھیلاۓ ہوئے تھے تو عورتیں اپنی انگوٹھیاں،چھلے اور دوسری چیزیں اس میں ڈالتی تھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٢؛حدیث نمبر١٩٤٤)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٤٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٣؛حدیث نمبر١٩٤٥)
حضرت عطاء فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے۔پس آپ نے خطبے سے پہلے نماز پڑھی اور پھر صحابہ کرام کو خطبہ دیا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو عورتوں کے پاس تشریف لاکر ان کو وعظ و نصیحت کی اور آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگا رکھی تھی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا پھیلایا ہوا تھا جس میں عورتیں صدقہ(کا مال)ڈال رہی تھیں۔راوی(حضرت ابن جریح)فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کیا یہ صدقہ فطر تھا؟انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ اس دن وہ صدقہ کر رہی تھیں۔عورتیں اس کپڑے میں چھلے ڈال رہی تھیں۔وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کیا اب امام کے لئے ضروری ہے کہ فراغت کے بعد عورتوں کے پاس جاکر ان کو وعظ کرے۔انہوں نے فرمایا ہاں ان پر لازم ہے اور وہ ایسا کیوں نہیں کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٣؛حدیث نمبر١٩٤٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عید کے دن نماز کے لئے حاضر ہوا تو آپ نے خطبے سے پہلے آذان اور اقامت کے بغیر نماز پڑھی۔پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا اور اس کی فرمانبرداری کی ترغیب دی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی۔پھر عورتوں کے پاس جاکر ان کو وعظ کیا اور فرمایا صدقہ کرو کیونکہ تم میں سےاکثر جہنم کا ایندھن ہیں تو عورتوں کے اجتماع کے نچلے حصے میں سے سیاہ رخساروں والی عورت کھڑی ہوئی اور اس نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہو؟فرمایا اس لئے کہ تم اکثر شکایت کرتی اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔فرماتے پس عورت نے اپنے زیورات صدقہ کرنا شروع کردئے وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٣؛حدیث نمبر١٩٤٧)
حضرت ابن عباس اور حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما دونوں حضرات بیان کرتے ہیں کہ عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دن آذان نہیں ہوتی تھی۔ابن جریح فرماتے ہیں پھر کچھ عرصے کے بعد میں نے حضرت عطاء سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی ہے عید الفطر کے دن نماز(نماز عید)کے لئے آذان نہیں نہ امام کے آنے کے وقت نہ اس کے بعد اور اقامت اور کسی قسم کا اعلان بھی اس دن نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٤؛حدیث نمبر١٩٤٨)
حضرت عطا فرماتے ہیں جب حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت ہونے لگی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ عید الفطر کے دن آذان نہیں دی جاتی پس آپ آذان نہ دیتے۔فرماتے ہیں پس حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس دن عید کی نماز کے لئے آذان نہیں دی اور انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہوگا اور یہ کہ یہی معمول ہے۔فرماتے ہیں پس حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٤؛حدیث نمبر١٩٤٩)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عیدین کی نماز ایک اور دو سے زیادہ مرتبہ آذان اور اقامت کے بغیر پڑھی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٤؛حدیث نمبر١٩٥٠)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عیدین کی نماز خطبے سے پہلے پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٥؛حدیث نمبر١٩٥١)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحٰی اور عید الفطر کے دن(عید گاہ کی طرف)تشریف لے جاتے تو نماز سے آغاز کرتے پس جب نماز پڑھ کر سلام پھیر لیتے تو کھڑے ہو جاتے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے جب کہ لوگ اپنی جائے نماز پر بیٹھے ہوتے۔اگر آپ نے کوئی لشکر بھیجنا ہوتا تو ان حضرات سے ذکر فرماتے یا اس کے علاوہ کوئی کام ہوتا تو ان کو حکم دیتے اور فرماتے صدقہ کرو،صدقہ کرو،صدقہ کرو اور اکثر عورتیں صدقہ کرتیں پھر واپس تشریف لے جاتے۔ یہ سلسلہ جاری رہا حتیٰ کہ جب مروان بن حکم کا دور آیا تو میں مروان کے ہاتھ میں ہاتھ دئے آیا حتیٰ کہ جب ہم عید گاہ میں پہنچے تو دیکھا کہ کثیر بن صلت نے گارے اور اینٹوں سے منبر بنایا ہے۔اچانک مروان مجھ سے ہاتھ چھڑا کر مجھے منبر کی طرف گھسیٹنے لگا اور میں اسے نماز کی طرف کھینچتا تھا جب میں نے اس کا یہ معاملہ دیکھا تو میں نے کہا کہاں جارہے ہو نماز سے آغاز ہوگا۔اس نے کہا؟ابو سعید!نہیں جو کچھ تم جانتے ہو وہ طریقہ چھوڑ دیا گیا ہے۔میں نے کہا ہر گز نہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جس کا مجھے علم ہے تم اس سے بہتر طریقہ اختیار نہیں کر سکتے۔انہوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی اور پھر چلے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٥؛حدیث نمبر١٩٥٢)
حضرت ام عطیہ سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ عیدین میں جوان لڑکیوں اور پردہ نشین عورتوں کو لایا کرو اور حیض والی خواتین کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی عید گاہ سے دور رہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ ذِكْرِ إِبَاحَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَى الْمُصَلَّى وَشُهُودِ الْخُطْبَةِ، مُفَارِقَاتٌ لِلرِّجَالِ؛جلد ٢؛ص٦٠٥؛حدیث نمبر١٩٥٣)
حضرت ام عطیہ سے مروی ہے۔فرماتی ہیں ہم کنواری اور پردہ نشین عورتوں کو عیدین میں نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا۔فرماتی ہیں حائضہ عورتیں بھی جاتی تھیں لیکن لوگوں سے پیچھے رہتیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیر کہتی تھیں(نماز نہیں پڑھتی تھیں)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ ذِكْرِ إِبَاحَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَى الْمُصَلَّى وَشُهُودِ الْخُطْبَةِ، مُفَارِقَاتٌ لِلرِّجَالِ؛جلد ٢ ص٦٠٦؛حدیث نمبر١٩٥٤)
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دن کنواری بالغہ حیض والی اور پردہ نشین عورتوں کو لے کر جائیں۔حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں اور وہ کار خیر اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر رہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم میں سے ایک کے پاس چادر نہیں ہوتی آپ نے فرمایا اس کی بہن(دوسری عورت)کو چاہیے کہ وہ اسے بھی اوڑھا دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ ببالْعِيدَيْنِ؛بَابُ ذِكْرِ إِبَاحَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَى الْمُصَلَّى وَشُهُودِ الْخُطْبَةِ، مُفَارِقَاتٌ لِلرِّجَالِ؛جلد ٢؛ص٦٠٦؛حدیث نمبر١٩٥٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحٰی اور عید الفطر کے دن تشریف لے گئے۔پس آپ نے دو رکعتیں پڑھیں اور اس سے پہلے اور بعد میں نماز(نوافل)نہیں پڑھی پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے آپ نے ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تو کوئی عورت اپنا چھلا ڈالتی اور کوئی اپنا ہار(پیش کرتی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ تَرْكِ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا فِي الْمُصَلَّى؛جلد ٢َ؛ص٦٠٦؛حدیث نمبر١٩٥٦)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٥٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ تَرْكِ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا فِي الْمُصَلَّى؛جلد ٢؛ص٦٠٦؛حدیث نمبر١٩٥٧)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحٰی اور عید الفطر کی نماز میں کیا پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا آپ" ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ" اور"اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ" الْقَمَرُ»پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ بِهِ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛ترجمہ؛عیدین کی نماز کیا پڑھا جائے؛جلد ٢؛ص٦٠٧؛حدیث نمبر١٩٥٨)
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے عید کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا آپ"«ِاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ،اور"ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ»پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ بِهِ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٧؛حدیث نمبر١٩٥٩)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے اور انصار کی دو(نابالغ)بچیاں وہ نظم گارہی تھیں جس میں انصار کے جنگ کے دن کا ذکر تھا جو جنگ بعاث سے متعلق تھے اور وہ(پیشہ ور)گانے والی نہ تھیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی سازاور یہ عید کا دن تھا پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر!ہر قسم کی عید ہوتی ہے اوریہ ہماری عید ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦٠٧؛حدیث نمبر١٩٦٠)
ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٦٠ کی مثل مروی ہے اور اس میں یوں ہے کہ وہ(بچیاں)دف بجا رہی تھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢ص٦٠٨؛حدیث نمبر١٩٦١)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے ہاں تشریف لائے اور ان کے پاس دو بچیاں گارہی تھیں اور یہ منی کے دن تھے۔وہ دف بھی بجا رہی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان (بچیوں)کو جھڑکا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ انور سے کپڑا ہٹا کر فرمایا اے ابوبکر!ان کو چھوڑ دو یہ عید کے دن ہیں۔ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے مجھے اپنی چادر سے پردہ کروا رکھا تھا اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی اور وہ کھیل رہے تھے اور میں کم سن تھی اور اندازہ کر لو کہ کم سن لڑکی جو کھیل کود کی شائق ہو کتنی دیر دیکھنا چاہے گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦٠٨؛حدیث نمبر١٩٦٢)
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں(ام المؤمنين)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ کی قسم!میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے تھے اور حبشہ کے لوگ اپنے ہتھیاروں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں کھیل رہے تھے۔آپ نے مجھے اپنی چادر کے ساتھ پردہ کررکھا تھا تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھوں۔پھر آپ میری وجہ سے کھڑے رہے حتیٰ کہ میں خود ہی وہاں سے چلی گئی پس تم کمسن لڑکی جو کھیل کود کی شوقین ہو اس کا اندازہ لگا لو کہ وہ کب تک کھڑی رہے گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦٠٩؛حدیث نمبر١٩٦٣)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میرے پاس دو بچیاں وہ نغمے گارہی تھیں جو جنگ بعاث سے متعلق تھے۔آپ اپنے بستر پر لیٹ گئے اور چہرہ انور دوسری طرف پھیر لیا۔پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور انہوں نے مجھے جھڑکا اور فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شیطانی آلات۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ان کو گانے دو جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ہٹ گئی تو میں نے ان لڑکیوں کو اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں اور عید کے دن سوڈانی لوگ نیزوں اور ڈھالوں سے کھیل رہے تھے۔میں نے خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا آپ نے فرمایا کہ کیا تم دیکھنے کا شوق رکھتی ہو۔میں نے عرض کیا جی ہاں تو آپ نے مجھے اپنے پیچھے یوں کھڑا کیا کہ میرا رخسار آپ کے رخسار پر تھا اور آپ فرما رہے تھے اے بنو ارفدہ!تم کھیلتے رہو حتیٰ کہ جب میں اکتاگئی تو آپ نے فرمایا بس؟میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا اچھا جاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد٢؛ص٦٠٩؛حدیث نمبر١٩٦٤)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے۔فرماتی ہیں حبشی لوگ آے اور عید کے دن مسجد میں رقص کرنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا لیا تو میں نے اپنا سر آپ کے مبارک کندھے پر رکھ کر ان کے کھیل کو دیکھنا شروع کردیا حتیٰ کہ میں نے خود ہی ان کو دیکھنا چھوڑ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦٠٩؛حدیث نمبر١٩٦٥)
ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ١٩٦٥ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں مسجد کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦١٠؛حدیث نمبر١٩٦٦)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔انہوں نے مشق کرنے والوں کے بارے میں کہا کہ میں ان کو دیکھنا چاہتی ہوں۔فرماتی ہیں پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میں دروازے پر کھڑی ہوکر آپ کے کانوں اور کندھے کے درمیان سے ان کو دیکھنے لگی اور وہ مسجد میں کھیل رہے تھے۔حضرت عطا فرماتے ہیں کہ وہ فارسی تھے یا حبشی اور ابن عتیق نے کہا وہ حبشی تھے۔(چونکہ یہ لوگ آلات جنگ سے کھیلتے تھے اس لئے ایسے کھیل جو دین کے حوالے سے مفید ہوں جائز ہیں نیز عورتوں کے لئے مردوں کا کھیل دیکھنا جائز ہے بشرطیکہ اس کے بدن اور چہرے کو نہ دیکھیں کیونکہ ان کا جسم اور چہرہ دیکھنا جائز نہیں ہے۔(شرح صحیح مسلم جلد٢ص٦٧٠ از علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ )(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦١٠؛حدیث نمبر١٩٦٧)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اس دوران کہ حبشی اپنے ہتھیاروں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھیل رہے تھے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو ان کو مارنے کے لئے کنکریاں اٹھانے کی خاطر جھکے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر!ان کو چھوڑ دو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦١٠؛حدیث نمبر١٩٦٨)
Muslim Shareef : Kitabo Salatil Edaine
|
Muslim Shareef : كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ
|
•