asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Muslim Shareef

Muslim Shareef

Kitabo Salatil Edaine

From 1943 to 1968

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت صدیق اکبر،حضرت فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے ساتھ عید الفطر کی نماز میں حاضر ہوا تو یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے پھر خطبہ دیتے۔فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(ممبر سے)اترے گویا میں(اب بھی)آپ کی طرف دیکھ رہا ہوں حتیٰ کہ آپ ہاتھ(کے اشارے)سے صحابہ کرام کو بٹھا رہے ہیں پھر آپ صفوں کو چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے تو آپ نے یہ آیت پڑھی۔{إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا}[الممتحنة: ١٢]،(ترجمہ)"اے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) جب آپ کے پاس مؤمن عورتیں آئیں اور آپ سے اس بات پر بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی"۔ آپ یہ آیت کریمہ پڑھ کر فارغ ہوئےتو اس کے بعد فرمایا تم سب نے اس بات کا اقرار کیا تو ان میں سے صرف ایک عورت نے جواب میں کہا اے اللہ کے نبی!ہاں۔ راوی فرماتے ہیں معلوم نہ ہو سکا وہ کون عورت تھی۔پھر ان سب عورتوں نے صدقہ دینا شروع کر دیا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا پھیلا لیا اور(حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے)کہا تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں پس وہ اپنے چھلے اور انگوٹھیاں اتار اتار کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛ترجمہ؛نماز عیدین؛جلد ٢؛ص٦٠٢؛حدیث نمبر١٩٤٣)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَهِدْتُ صَلَاةَ الْفِطْرِ مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ يَخْطُبُ، قَالَ: فَنَزَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ، حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ {إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا} [الممتحنة: ١٢]، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا، ثُمَّ قَالَ: حِينَ فَرَغَ مِنْهَا «أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكِ؟» فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ: نَعَمْ، يَا نَبِيَّ اللهِ لَا يُدْرَى حِينَئِذٍ مَنْ هِيَ، قَالَ: «فَتَصَدَّقْنَ»، فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ فِدًى لَكُنَّ أَبِي وَأُمِّي، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ، وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1943

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم(عید کی نماز)خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے پھر خطبہ ارشاد فرماتے۔آپ نے دیکھا کہ آپ کی آواز عورتوں تک نہیں پہنچتی تو آپ ان کے پاس تشریف لائے پس ان کو وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا اور حضرت بلال اپنا کپڑا پھیلاۓ ہوئے تھے تو عورتیں اپنی انگوٹھیاں،چھلے اور دوسری چیزیں اس میں ڈالتی تھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٢؛حدیث نمبر١٩٤٤)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ»، قَالَ: «ثُمَّ خَطَبَ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ، فَذَكَّرَهُنَّ، وَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، وَبِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ، وَالْخُرْصَ، وَالشَّيْءَ».

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1944

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٤٤ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٣؛حدیث نمبر١٩٤٥)

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1945

حضرت عطاء فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے۔پس آپ نے خطبے سے پہلے نماز پڑھی اور پھر صحابہ کرام کو خطبہ دیا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو عورتوں کے پاس تشریف لاکر ان کو وعظ و نصیحت کی اور آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگا رکھی تھی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا پھیلایا ہوا تھا جس میں عورتیں صدقہ(کا مال)ڈال رہی تھیں۔راوی(حضرت ابن جریح)فرماتے ہیں۔میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کیا یہ صدقہ فطر تھا؟انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ اس دن وہ صدقہ کر رہی تھیں۔عورتیں اس کپڑے میں چھلے ڈال رہی تھیں۔وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کیا اب امام کے لئے ضروری ہے کہ فراغت کے بعد عورتوں کے پاس جاکر ان کو وعظ کرے۔انہوں نے فرمایا ہاں ان پر لازم ہے اور وہ ایسا کیوں نہیں کرتے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٣؛حدیث نمبر١٩٤٦)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قال ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ، فَصَلَّى، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ، وَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ، وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ، يُلْقِينَ النِّسَاءُ صَدَقَةً» قُلْتُ لِعَطَاءٍ: زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا، وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ»، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَحَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَكِّرَهُنَّ؟ قَالَ: «إِي، لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1946

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عید کے دن نماز کے لئے حاضر ہوا تو آپ نے خطبے سے پہلے آذان اور اقامت کے بغیر نماز پڑھی۔پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا اور اس کی فرمانبرداری کی ترغیب دی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی۔پھر عورتوں کے پاس جاکر ان کو وعظ کیا اور فرمایا صدقہ کرو کیونکہ تم میں سےاکثر جہنم کا ایندھن ہیں تو عورتوں کے اجتماع کے نچلے حصے میں سے سیاہ رخساروں والی عورت کھڑی ہوئی اور اس نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں ہو؟فرمایا اس لئے کہ تم اکثر شکایت کرتی اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔فرماتے پس عورت نے اپنے زیورات صدقہ کرنا شروع کردئے وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٣؛حدیث نمبر١٩٤٧)

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ، فَأَمَرَ بِتَقْوَى اللهِ، وَحَثَّ عَلَى طَاعَتِهِ، وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ، فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ، فَقَالَ: «تَصَدَّقْنَ، فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ»، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سِطَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ، فَقَالَتْ: لِمَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ»، قَالَ: فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ، يُلْقِينَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ مِنْ أَقْرِطَتِهِنَّ وَخَوَاتِمِهِنَّ

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1947

حضرت ابن عباس اور حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما دونوں حضرات بیان کرتے ہیں کہ عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دن آذان نہیں ہوتی تھی۔ابن جریح فرماتے ہیں پھر کچھ عرصے کے بعد میں نے حضرت عطاء سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی ہے عید الفطر کے دن نماز(نماز عید)کے لئے آذان نہیں نہ امام کے آنے کے وقت نہ اس کے بعد اور اقامت اور کسی قسم کا اعلان بھی اس دن نہیں ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٤؛حدیث نمبر١٩٤٨)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَا: «لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى»، ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِكَ؟ فَأَخْبَرَنِي، قَالَ: «أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ، حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ، وَلَا بَعْدَ مَا يَخْرُجُ، وَلَا إِقَامَةَ، وَلَا نِدَاءَ، وَلَا شَيْءَ، لَا نِدَاءَ يَوْمَئِذٍ، وَلَا إِقَامَةَ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1948

حضرت عطا فرماتے ہیں جب حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت ہونے لگی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ عید الفطر کے دن آذان نہیں دی جاتی پس آپ آذان نہ دیتے۔فرماتے ہیں پس حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس دن عید کی نماز کے لئے آذان نہیں دی اور انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہوگا اور یہ کہ یہی معمول ہے۔فرماتے ہیں پس حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٤؛حدیث نمبر١٩٤٩)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ أَوَّلَ مَا بُويِعَ لَهُ، «أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ، فَلَا تُؤَذِّنْ لَهَا»، قَالَ: فَلَمْ يُؤَذِّنْ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَهُ، وَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَعَ ذَلِكَ: «إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَإِنَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يُفْعَلُ»، قَالَ: فَصَلَّى ابْنُ الزُّبَيْرِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ "

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1949

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عیدین کی نماز ایک اور دو سے زیادہ مرتبہ آذان اور اقامت کے بغیر پڑھی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٤؛حدیث نمبر١٩٥٠)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ، غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1950

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عیدین کی نماز خطبے سے پہلے پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٥؛حدیث نمبر١٩٥١)

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، كَانُوا يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1951

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحٰی اور عید الفطر کے دن(عید گاہ کی طرف)تشریف لے جاتے تو نماز سے آغاز کرتے پس جب نماز پڑھ کر سلام پھیر لیتے تو کھڑے ہو جاتے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے جب کہ لوگ اپنی جائے نماز پر بیٹھے ہوتے۔اگر آپ نے کوئی لشکر بھیجنا ہوتا تو ان حضرات سے ذکر فرماتے یا اس کے علاوہ کوئی کام ہوتا تو ان کو حکم دیتے اور فرماتے صدقہ کرو،صدقہ کرو،صدقہ کرو اور اکثر عورتیں صدقہ کرتیں پھر واپس تشریف لے جاتے۔ یہ سلسلہ جاری رہا حتیٰ کہ جب مروان بن حکم کا دور آیا تو میں مروان کے ہاتھ میں ہاتھ دئے آیا حتیٰ کہ جب ہم عید گاہ میں پہنچے تو دیکھا کہ کثیر بن صلت نے گارے اور اینٹوں سے منبر بنایا ہے۔اچانک مروان مجھ سے ہاتھ چھڑا کر مجھے منبر کی طرف گھسیٹنے لگا اور میں اسے نماز کی طرف کھینچتا تھا جب میں نے اس کا یہ معاملہ دیکھا تو میں نے کہا کہاں جارہے ہو نماز سے آغاز ہوگا۔اس نے کہا؟ابو سعید!نہیں جو کچھ تم جانتے ہو وہ طریقہ چھوڑ دیا گیا ہے۔میں نے کہا ہر گز نہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جس کا مجھے علم ہے تم اس سے بہتر طریقہ اختیار نہیں کر سکتے۔انہوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی اور پھر چلے گئے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٥؛حدیث نمبر١٩٥٢)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى، وَيَوْمَ الْفِطْرِ، فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ، قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ، ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ، أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ، أَمَرَهُمْ بِهَا، وَكَانَ يَقُولُ: «تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا»، وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى، فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ، كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ، وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ، قُلْتُ: أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: لَا، يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ، قُلْتُ: كَلَّا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ، ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1952

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے۔فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ عیدین میں جوان لڑکیوں اور پردہ نشین عورتوں کو لایا کرو اور حیض والی خواتین کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی عید گاہ سے دور رہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ ذِكْرِ إِبَاحَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَى الْمُصَلَّى وَشُهُودِ الْخُطْبَةِ، مُفَارِقَاتٌ لِلرِّجَالِ؛جلد ٢؛ص٦٠٥؛حدیث نمبر١٩٥٣)

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «أَمَرَنَا - تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ، الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، وَأَمَرَ الْحُيَّضَ أَنْ يَعْتَزِلْنَ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1953

حضرت ام عطیہ سے مروی ہے۔فرماتی ہیں ہم کنواری اور پردہ نشین عورتوں کو عیدین میں نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا۔فرماتی ہیں حائضہ عورتیں بھی جاتی تھیں لیکن لوگوں سے پیچھے رہتیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیر کہتی تھیں(نماز نہیں پڑھتی تھیں)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ ذِكْرِ إِبَاحَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَى الْمُصَلَّى وَشُهُودِ الْخُطْبَةِ، مُفَارِقَاتٌ لِلرِّجَالِ؛جلد ٢ ص٦٠٦؛حدیث نمبر١٩٥٤)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «كُنَّا نُؤْمَرُ بِالْخُرُوجِ فِي الْعِيدَيْنِ، وَالْمُخَبَّأَةُ، وَالْبِكْرُ»، قَالَتْ: «الْحُيَّضُ يَخْرُجْنَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ، يُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1954

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دن کنواری بالغہ حیض والی اور پردہ نشین عورتوں کو لے کر جائیں۔حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں اور وہ کار خیر اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر رہیں۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم میں سے ایک کے پاس چادر نہیں ہوتی آپ نے فرمایا اس کی بہن(دوسری عورت)کو چاہیے کہ وہ اسے بھی اوڑھا دے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ ببالْعِيدَيْنِ؛بَابُ ذِكْرِ إِبَاحَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَى الْمُصَلَّى وَشُهُودِ الْخُطْبَةِ، مُفَارِقَاتٌ لِلرِّجَالِ؛جلد ٢؛ص٦٠٦؛حدیث نمبر١٩٥٥)

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، الْعَوَاتِقَ، وَالْحُيَّضَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ، وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ: «لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1955

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحٰی اور عید الفطر کے دن تشریف لے گئے۔پس آپ نے دو رکعتیں پڑھیں اور اس سے پہلے اور بعد میں نماز(نوافل)نہیں پڑھی پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے آپ نے ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تو کوئی عورت اپنا چھلا ڈالتی اور کوئی اپنا ہار(پیش کرتی)(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ تَرْكِ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا فِي الْمُصَلَّى؛جلد ٢َ؛ص٦٠٦؛حدیث نمبر١٩٥٦)

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ أَضْحَى، أَوْ فِطْرٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا، وَتُلْقِي سِخَابَهَا»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1956

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٥٦ کی مثل مروی ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ تَرْكِ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا فِي الْمُصَلَّى؛جلد ٢؛ص٦٠٦؛حدیث نمبر١٩٥٧)

وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1957

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحٰی اور عید الفطر کی نماز میں کیا پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا آپ" ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ" اور"اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ" الْقَمَرُ»پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ بِهِ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛ترجمہ؛عیدین کی نماز کیا پڑھا جائے؛جلد ٢؛ص٦٠٧؛حدیث نمبر١٩٥٨)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ: مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ: «كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ، وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1958

حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے عید کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا آپ"«ِاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ،اور"ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ»پڑھتے تھے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ مَا يُقْرَأُ بِهِ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛جلد ٢؛ص٦٠٧؛حدیث نمبر١٩٥٩)

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: سَأَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: عَمَّا قَرَأَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْعِيدِ؟ فَقُلْتُ: «بِاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ، وَق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1959

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے اور انصار کی دو(نابالغ)بچیاں وہ نظم گارہی تھیں جس میں انصار کے جنگ کے دن کا ذکر تھا جو جنگ بعاث سے متعلق تھے اور وہ(پیشہ ور)گانے والی نہ تھیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی سازاور یہ عید کا دن تھا پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر!ہر قسم کی عید ہوتی ہے اوریہ ہماری عید ہے۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦٠٧؛حدیث نمبر١٩٦٠)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ، تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ، يَوْمَ بُعَاثَ، قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا».

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1960

ایک اور سند کے ساتھ بھی حدیث نمبر ١٩٦٠ کی مثل مروی ہے اور اس میں یوں ہے کہ وہ(بچیاں)دف بجا رہی تھیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢ص٦٠٨؛حدیث نمبر١٩٦١)

وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ: جَارِيَتَانِ تَلْعَبَانِ بِدُفٍّ

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1961

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے ہاں تشریف لائے اور ان کے پاس دو بچیاں گارہی تھیں اور یہ منی کے دن تھے۔وہ دف بھی بجا رہی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان (بچیوں)کو جھڑکا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ انور سے کپڑا ہٹا کر فرمایا اے ابوبکر!ان کو چھوڑ دو یہ عید کے دن ہیں۔ام المؤمنين فرماتی ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے مجھے اپنی چادر سے پردہ کروا رکھا تھا اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی اور وہ کھیل رہے تھے اور میں کم سن تھی اور اندازہ کر لو کہ کم سن لڑکی جو کھیل کود کی شائق ہو کتنی دیر دیکھنا چاہے گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦٠٨؛حدیث نمبر١٩٦٢)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى، تُغَنِّيَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، وَقَالَ: «دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ» وَقَالَتْ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1962

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں(ام المؤمنين)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اللہ کی قسم!میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے تھے اور حبشہ کے لوگ اپنے ہتھیاروں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں کھیل رہے تھے۔آپ نے مجھے اپنی چادر کے ساتھ پردہ کررکھا تھا تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھوں۔پھر آپ میری وجہ سے کھڑے رہے حتیٰ کہ میں خود ہی وہاں سے چلی گئی پس تم کمسن لڑکی جو کھیل کود کی شوقین ہو اس کا اندازہ لگا لو کہ وہ کب تک کھڑی رہے گی۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦٠٩؛حدیث نمبر١٩٦٣)

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي، وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ، فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ، ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي، حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ، حَرِيصَةً عَلَى اللهْوِ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1963

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔فرماتی ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میرے پاس دو بچیاں وہ نغمے گارہی تھیں جو جنگ بعاث سے متعلق تھے۔آپ اپنے بستر پر لیٹ گئے اور چہرہ انور دوسری طرف پھیر لیا۔پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور انہوں نے مجھے جھڑکا اور فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شیطانی آلات۔پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ان کو گانے دو جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ہٹ گئی تو میں نے ان لڑکیوں کو اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں اور عید کے دن سوڈانی لوگ نیزوں اور ڈھالوں سے کھیل رہے تھے۔میں نے خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا آپ نے فرمایا کہ کیا تم دیکھنے کا شوق رکھتی ہو۔میں نے عرض کیا جی ہاں تو آپ نے مجھے اپنے پیچھے یوں کھڑا کیا کہ میرا رخسار آپ کے رخسار پر تھا اور آپ فرما رہے تھے اے بنو ارفدہ!تم کھیلتے رہو حتیٰ کہ جب میں اکتاگئی تو آپ نے فرمایا بس؟میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے فرمایا اچھا جاؤ۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد٢؛ص٦٠٩؛حدیث نمبر١٩٦٤)

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ، تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثٍ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «دَعْهُمَا»، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا، وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ: «تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ، خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ» حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ، قَالَ: «حَسْبُكِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاذْهَبِي»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1964

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے۔فرماتی ہیں حبشی لوگ آے اور عید کے دن مسجد میں رقص کرنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا لیا تو میں نے اپنا سر آپ کے مبارک کندھے پر رکھ کر ان کے کھیل کو دیکھنا شروع کردیا حتیٰ کہ میں نے خود ہی ان کو دیکھنا چھوڑ دیا۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦٠٩؛حدیث نمبر١٩٦٥)

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «جَاءَ حَبَشٌ يَزْفِنُونَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى مَنْكِبِهِ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ، حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهِمْ».

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1965

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث حدیث نمبر ١٩٦٥ کی مثل مروی ہے لیکن اس میں مسجد کا ذکر نہیں۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦١٠؛حدیث نمبر١٩٦٦)

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْمَسْجِدِ

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1966

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔انہوں نے مشق کرنے والوں کے بارے میں کہا کہ میں ان کو دیکھنا چاہتی ہوں۔فرماتی ہیں پس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میں دروازے پر کھڑی ہوکر آپ کے کانوں اور کندھے کے درمیان سے ان کو دیکھنے لگی اور وہ مسجد میں کھیل رہے تھے۔حضرت عطا فرماتے ہیں کہ وہ فارسی تھے یا حبشی اور ابن عتیق نے کہا وہ حبشی تھے۔(چونکہ یہ لوگ آلات جنگ سے کھیلتے تھے اس لئے ایسے کھیل جو دین کے حوالے سے مفید ہوں جائز ہیں نیز عورتوں کے لئے مردوں کا کھیل دیکھنا جائز ہے بشرطیکہ اس کے بدن اور چہرے کو نہ دیکھیں کیونکہ ان کا جسم اور چہرہ دیکھنا جائز نہیں ہے۔(شرح صحیح مسلم جلد٢ص٦٧٠ از علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ )(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦١٠؛حدیث نمبر١٩٦٧)

وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَاللَّفْظُ لِعُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّهَا قَالَتْ، لِلَعَّابِينَ: وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ، قَالَتْ: «فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْتُ عَلَى الْبَابِ أَنْظُرُ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ». قَالَ عَطَاءٌ: فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ، قَالَ: وَقَالَ لِي ابْنُ عَتِيقٍ: بَلْ حَبَشٌ

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1967

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں اس دوران کہ حبشی اپنے ہتھیاروں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھیل رہے تھے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو ان کو مارنے کے لئے کنکریاں اٹھانے کی خاطر جھکے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر!ان کو چھوڑ دو۔(مسلم شریف؛كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؛بَابُ الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ؛جلد ٢؛ص٦١٠؛حدیث نمبر١٩٦٨)

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ، إِذْ دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُمْ يَا عُمَرُ»

Muslim Shareef, Kitabo Salatil Edaine, Hadees No. 1968

Muslim Shareef : Kitabo Salatil Edaine

|

Muslim Shareef : كِتَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ

|

•