
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس وقت تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں (برتن) میں نہ ڈالے جب تک کہ ہاتھ کو تین مرتبہ نہ دھو لے کیونکہ تم کو معلوم نہیں کہ (نیند کی حالت میں) تمہارا ہاتھ کس کس جگہ پڑا (یعنی جسم کے کس کس حصہ کو نیند میں ہاتھ نے چھوا)۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت رات میں (نیند سے) بیدار ہوتے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے (یعنی مسواک کرتے)۔
حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا کونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک پر تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت عا عا کر رہے تھے یعنی اس طرح کے الفاظ کہہ کر حلق کی صفائی کر رہے تھے۔
حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس وقت میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو حضرات بھی تھے۔ان میں سے ایک شخص میرے دائیں جانب اور دوسرا شخص میرے بائیں جانب تھا۔ دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے لئے نوکری دیئے جانے کی خواہش ظاہر کی۔میں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔ مجھ سے ان دونوں میں سے کسی نے اپنے ارادہ کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی مجھ کو اس بات کا علم تھا کہ یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نوکری مانگنا چاہتے ہیں۔یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص نوکری کا خواہش مند ہوتا ہے ہم اس کو نوکری نہیں دیتے۔لیکن ابوموسیٰ تم جاؤ ہم تم کونوکری دیتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوموسیٰ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور ان کو معاذ کا مددگار مقرر کیا۔
Nisai Shareef : Taharat Ka Bayan
|
Nisai Shareef : طہارت کا بیان
|
•