
بیمار کے لیے ثواب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کو کوئی کاٹنا نہیں چبھتا یا اسے بڑی (یا چھوٹی) تکلیف نہیں پہنچتی ۔ مگر اللہ تعالی اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند کرتا۔ اور اس کی ایک غلطی معاف فرماتا ہے اس باب میں حضرت سعد بن ابی وقاص، ابو عبیدہ بن جراح ابوہریرہ ابوامامہ ابوسعید انس عبد الله بن عمرو ، اسد بن کرز، جابر، عبد الرحمٰن بن ازہر اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز ؛باب۶۶۱؛مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الْمَرِيضِ، جلد ۱ص۵۰۱،حدیث نمبر ٩٦٥)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مومن کو کوئی زخم ، غم یا رنج حتیٰ کہ معمولی سے پریشانی بھی لاحق ہوتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے گنا ہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ اس باب میں یہ حدیث حسن ہے ۔ میں نے جارود سے سنا انہوں نے وکیع کا قول نقل کیا۔ فرماتے ہیں۔ میں نے اس حدیث کے سوا اور کہیں نہیں نا کہ فکر وغم ، گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ حدیث بواسطه عطاءبن یسار حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز ؛باب۶۶۱؛مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الْمَرِيضِ، جلد ۱ص۵۰۱،حدیث نمبر ٩٦٦)
بیمار پرسی حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ مسلسل جنت نے پھل کھاتا رہتا ہے۔ اس باب میں حضرت علی، ابو موسیٰ براء، ابو ہریرہ ، انس اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ثوبان حسن ہے۔ ابو غفار اور عاصم احول نے اسے بواسطہ ابوقلابہ، ابو اشعث اور ابو اسماء ، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اس کے ہم معنی روایت کیا ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کسی نے امام بخاری سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بواسطہ ابواشعث ابو اسماء سے اس حدیث کی روایت اصح ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں۔ ابو قلابہ کی احادیث (براہ راست) ابو اسماء سے ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک یہ حدیث ابوقلا بہ نے بواسطہ ا بو اشعث ابو اسماء سے روایت کی ہے۔ (جامی ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۲؛مَا جَاءَ فِي عِیَادَةِ الْمَرِيضِ، جلد ۱ص۵۰۲،حدیث نمبر ٩٦٧)
ابو قلابہ نے بوا سطہ ابو اشعث اور ابو اسماء، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث روایت کی اور اس میں یہ الفاظ نہ زیادہ نقل کیے، پوچھا گیا جنت کے "خرقتہ" سے کیا مراد ہے۔ تو فرمایا اس کے پھل۔ ایوب نے بواسطہ ابوقلا بہ اور ابو اسماء ، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے حدیث خالد کی مثل روایت بیان کی لیکن اس میں ابو اشعث کا واسطہ ذکر نہیں کیا ۔ بعض محدثین نے یہ حدیث حماد بن زید سے غیر مرفوع بیان کی ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۲؛مَا جَاءَ فِي عِیَادَةِ الْمَرِيضِ، جلد ۱ص۵۰۲،حدیث نمبر ٩٦٨)
حضرت ثو یر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا ہمارے ساتھ حسین رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے کے لیے چلو ہم نے ان کے پاس حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو پایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے ابو موسیٰ بیمار پرسی کے لیے آئے ہو یا ملاقات کے لیے ؟ انہوں نے فرمایا " بیمار پرسی کیلیے" اس پرحضرت علی رضی اللہ عنہ نےفرمایا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے " جب کوئی مسلمان صبح کے وقت اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے شام تک ستر ہزار فرشتے اس کیلئے بخشش کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔ اور اگرشام کو عیادت کرے تو صبح تک تر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں اور اس کیلیے جنت میں باغ ہوگا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب حسن ہے حضرت علی سے یہ حدیث متعدد طریقوں سے مروی ہے بعض نے موقوفاً اور بعض نے مرفوعاً روایت کی ہے۔ ابو فاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۲؛مَا جَاءَ فِي عِیَادَةِ الْمَرِيضِ، جلد ۱ص۵۰۲،حدیث نمبر ٩٦٩)
موت کی تمنا سے ممانعت حضرت حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں ۔ میں مضرب خباب کے پاس حاضر ہوا ۔ انہوں نے اپنے پیٹ میں داغ لگوایا تھا۔ کہنے لگے میرے علم کے مطابق صحا بہ کرام میں سے کسی نے اس قدر تکلیف نہیں اٹھائی جتنی میں نے اٹھائی ہے ۔ عہد نبوت میں میرے پاس ایک درہم بھی نہ ہوتا تھا جبکہ اب میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم ہیں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی تمنا سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں( اس وقت) آرزو کرتا۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، انس اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث مروی ہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث خباب حسن صحیح ہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کوئی شخص کسی تکلیف کے باعث جو اسے پہنچی۔ موت کی تمنا نہ کرے۔ بلکہ یہ کہے ۔ اے اللہ ! جب تک میرا جینا بہتر ہے۔ مجھے زندہ رکھ اور جب میرا مرنا میرے لیے بہتر ہو۔ مجھے موت دے دینا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۳؛مَا جَاءَ فِی النّہي عَنِ التمنِی لِلمَوتِ، جلد ۱ص۵۰۳،حدیث نمبر ٩٧٠)
علی بن حجر نے یہ حدیث بوا سطہ اسماعیل بن ابراہیم اور عبد العزیز بن صہیب، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۳؛مَا جَاءَ فِی النّہي عَنِ التمنِی لِلمَوتِ، جلد ۱ص۵۰۳،حدیث نمبر ٩٧١)
بیمار کے لیے پناہ مانگنا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ہاں! جبرئیل علیہ السلام نے کہا ، میں اللہ کے نام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر تکلیف دینے والی چیز سے ہر خبیث نفس کی شر سے اور ہر حسد کرنے والے کی نظر سے دم کرتا ہوں ۔ اللہ کے نام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کرتا ہوں وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفا دے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۴؛مَا جَاءَ فِي التَّعَوُّذِ لِلْمَرِيضِ،جلد۱ص۵۰۴،حدیث نمبر ٩٧٢)
عبد العزیز بن صہیب فرماتے ہیں میں اور ثابت بنانی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ثابت بنانی نے کہا۔ اسے ابو حمزہ ! میں بیمار ہو گیا ہوں ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے نہ جھاڑوں (یعنی دم نہ کروں) انہوں نے کہا، ہاں ضرور یہ جھاڑیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی ۔ اے اللہ ! لوگوں کے پالنے والے، سختی کو دور کرنے والے، تو شفادے کیونکر تیرے بغیر (حقیقتًا) کوئی شفا دینے والا نہیں۔ بیماری کو باقی نہ چھوڑنے والی شفا عطافرما۔ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابی سعید حسن صحیح ہے میں نے ابوذرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبدالعزیز کی روایت سے زیادہ صحیح ہے یا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا،،دونوں صحیح ہے،،ابوذرعہ نے مزید فرمایا عبدالصمد بن عبدالوارث نے بواسطہ اپنے والد عبدالعزیز بن صہیب اور ابو نضرہ، حضرت ابو سعید سے روایت بیان کی اور عبدالعزیز بن صہیب نے براہ راست حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی حدیث نقل کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۴؛مَا جَاءَ فِي التَّعَوُّذِ لِلْمَرِيضِ،جلد۱ص۵۰۴،حدیث نمبر ٩٧٣)
وصیت کی ترغیب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ دو راتیں ( بھی) اس طرح گزاے کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس کی وصیت کرنی چاہیے۔ لیکن وہ وصیت لکھ کر نہ دے اس باب میں حضرت ابن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۵؛مَا جَاءَ فِی الْحَثِّ عَلَى الْوَصِيَّةِ،جلد۱ص۵۰۵،حدیث نمبر ٩٧٤)
تہائی اور چوتھائی مال کی وصیت حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں ۔ میں بیمار تھا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیمار پرسی کی اور پوچھا کیا تم نے وصیت کی؟ میں نے عرض کیا؛ " ہاں (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتنے مال کی ؟ میں نے عرض کیا ” میں نے اپنا تمام مال اللہ تعالیٰ کے راستے ہیں دینے کی وصیت کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اولاد کے لیے کیا چھوڑا ؟ کہنے لگے وہ مالدار ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " دسویں حصے کی وصیت کرو حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں متواتر کم سمجھتا رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیسرے حصے کی وصیت کرو اور ایک تہائی بھی بہت ہے۔ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم تیسرے حصے سے کم دینا مستحب سمجھتے تھے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ،حدیث سعد حسن صحیح ہے۔ اور یہ کئی طریقوں سے مروی ہے۔ کبیر اور کثیر،، دونوں قسم کے الفاظ مروی ہیں۔ علماء کا اس پر عمل ہے ۔ کہ آدمی تہائی سے زیادہ کی وصیت نہ کرے اور تہائی سے کم کی وصیت ان علماء کے نزدیک مستحب ہے سفیان ثوری فرماتے ہیں لوگ وصیت میں پانچویں حصے کو چوتھائی سے اور چوتھائی کو تہائ سے اچھا سمجھتے تھے۔ جس نے تیسرے حصے کی وصیت کی اس نے کچھ نہیں چھوڑا ۔ اس کے لیے صرف تہائی کی وصیت ہی جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۶؛مَا جَاءَ فِي الوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبـْعِ - جلد ۱ص۵۰۵،حدیث نمبر ٩٧٥)
موت کے وقت بیمار کو تلقین اور اس کیلیئے دعا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اپنے قریب الموت لوگوں کو کلمہ توحید کی تلقین کرو۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، ام سلمہ، عائشہ ، جابر اور سعدی مریہ زوجۂ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب حسن صحیح ہے۔ ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۷؛مَا جَاءَ فِي تَلْقِينِ المَريضِ ـ عِنْدَ الْمَوْتِ وَالدُّعَاءِ لَهُ - جلد ۱ص۵۰۶،حدیث نمبر ٩٧٦)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا۔ جب تم مریض یا بیمار کے پاس جاؤ تو اچھی بات کہو کیونکہ فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ جب ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو ، اے اللہ ! مجھے بھی اور ان کو بھی بخشش دے ۔ اور مجھے ان سے اچھا بدل عطافرما۔ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں،میں نے یہی دعا مانگی پھر مجھے اللہ تعالی نے بہتر بدل عطا فرمایا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امام ترمذی فرماتے ہیں شفیق، سلمہ کے لڑکے ابو وائل اسدی ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ام سلمہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے۔موت کے وقت مریض کو کلمہ توحید کی تلقین کرنا مستحب ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں۔ جب بیمار ایک مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھ کر خاموش ہو جائے تو زیادہ تلقین کرنا مناسب نہیں ۔ ابن مبارک سے مروی ہے جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو ایک شخص انہیں کثرت کے ساتھ بار بار کلمہ توحید کی تلقین کرنے لگا۔ حضرت عبداللہ بن مبارک نے اس سے فرمایا جب میں نے ایک بار کلمہ پڑھ لیا تو جب تک دوسری بات نہ کروں اسی پر قائم ہوں، عبد اللہ بن مبارک کی یہ بات رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی آخری بات " لا اله الا اللہ" ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۷؛مَا جَاءَ فِي تَلْقِينِ المَريضِ ـ عِنْدَ الْمَوْتِ وَالدُّعَاءِ لَهُ - جلد ۱ص۵۰۶،حدیث نمبر ٩٧٧)
موت کے وقت جان کنی کی سختی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال کے وقت دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ رکھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں ہاتھ ڈالتے اور چہرہ اقدس پر ملتے پھر دعا مانگتے ،،اے الله موت کی سختی یا ( فرماتے ) موت کی بہو شیوں میں میری مدد فرما۔امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۸؛مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عِندَ الْمَوْتِ، جلد ۱ص۵۰۳، حدیث نمبر ٩٧٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ فرماتی ہیں۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت جو سختی دیکھی ہے۔ اس کے بعد مجھے کسی کی آسان موت پر شک نہیں ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ میں نے ابو زرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبد الرحمٰن ابن علاء کون ہیں۔ انہوں نے فرمایا وہ علاء بن الحلاج کے بیٹے ہیں، میں اس کو اسی طریق سے پہچانتا ہوں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۶۸؛مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عِندَ الْمَوْتِ، جلد ۱ص۵۰۷،حدیث نمبر ٩٧٩)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب بھی دونوں لکھنے والے (اللہ کے فرشتے ) دن اور رات کے کسی کے عمل کو لکھ کر اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دفتر کے شروع اور اخیر میں خیر ( نیک کام ) لکھا ہوا پاتا ہے تو فرماتا ہے: ”میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کے سارے گناہ معاف کر دینے جو اس دفتر کے دونوں کناروں شروع اور اخیر کے درمیان میں ہیں۔ (ترمذی شریف،کتاب الجنائز،بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشْدِيدِ عِنْدَ المَوْتِ،حدیث نمبر ٩٨١)
موت کا پسینہ عبد الله بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مومن پیشانی کے پسینے (موت کی سختی) سے مرتا ہے اس باب میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ اور بعض محدثین فرما تے ہیں۔ عبداللہ بن بریدہ سے قتادہ کا سماع ہمارے علم میں نہیں ۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الجنائز٫باب۶۶۹؛مَا جَاءَ انَ المُؤمِنَ يَمُوتُ بِعَرقِ الجَبينِ، جلد ۱ص۵۰۸،حدیث نمبر ٩٨٢)
موت کے وقت اُمید اور خوف حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس تشریف لے گئے وہ قریب الموت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو کیسے پاتا ہے ؟ کہنے لگا " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم بخدا۔ اللہ تعالی( کی رحمت) کی امید بھی ہے اور گناہوں کا خوف بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس موقعہ پر جب مومن کے دل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوتی ہیں تواللہ تعالی اس کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جس کا ڈر ہے اس سے بے خوف کرتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے بعض محدثین نے اسے حضرت ثابت سے مرسلًا روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب جنائز؛باب۶۷۰؛جلد۱ص۵۰۸،حدیث نمبر ٩٨٣)
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ موت کی تشہیر سے بچو کیونکہ یہ جہالت کے کاموں سے ہے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں۔ "نعی" موت کے اعلان کو کہتے ہیں۔ اس باب میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۷۱؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّعي، جلد ۱ص۵۰۸،حدیث نمبر ٩٨٤)
سعید بن عبدالرحمن مخزومی نے بواسطہ عبد الله بن ولید عدنی ، سفیان ثوری، ابو حمزہ ، ابراہیم اور علقمہ ، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی غیر مرفوع حدیث روایت کی جس میں یہ الفاظ مذکور نہیں کہ " " نعی" اعلان موت کا نام ہے ۔ عیینہ بواسطہ ابو حمزہ کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے ابو حمزہ کا نام میمون اعور ہے۔ اور وہ محدثین کے کے نزدیک قوی نہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث عبد اللہ غریب ہے۔ بعض علماء کے نزدیک "نعی" مکر وہ ہے اور ان کے نزدیک "نعی" کا مطلب لوگوں میں اعلان کرنا ہے کہ فلاں آدمی مر گیا ہے تاکہ وہ اس کے جنازہ میں شریک ہوں بعض علماء کے نزدیک رشتہ داروں اور بھائیوں کو اطلاع دینے میں کوئی حرج نہیں ۔ ابراہیم بھی یہی فرماتے ہیں کہ رشتہ داروں کو خبر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۷۱؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّعي، جلد ۱ص۵۰۸،حدیث نمبر ٩٨٥)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا جب میں مرجاؤں تو کسی کو خبر نہ کرنا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تشہیر نہ ہو جائے۔ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی خبر مشہور کرنے سے منع فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۷۱؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّعي، جلد ۱ص۵۰۸،حدیث نمبر ٩٨٦)
صدمہ کے شروع میں صبر کرنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ صبر( کا زیادہ ثواب تو )شروع صدمہ میں ہوتا ہے " امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۷۲؛مَا جَاءَ اَنَّ الصَّبْرَ فِي الصَّدَمَةِ الأولى، جلد ۱ص۵۱۰،حدیث نمبر ٩٨٧)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،صبر، آغازِ صدمہ میں ہوتا ہے" امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۷۲؛مَا جَاءَ اَنَّ الصَّبْرَ فِي الصَّدَمَةِ الأولى، جلد ۱ص۵۱۰،حدیث نمبر ٩٨٨)
میت کو بوسہ دینا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی میت کو بوسہ دیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ اس باب میں حضرت ابن عباس، جابر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ یہ سب فرماتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر ملال پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الجنائز؛باب۶۷۳؛مَا جَاءَ فِي تَقَبيلِ الْمَيِّتِ، جلد ۱ص۵۱۰،حدیث نمبر٩٨٩ )
غسل میت حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے طاق مرتبہ، تین یا پانچ یا ضرورت سمجھو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو۔ پانی اور بیری کے پتوں سے نہلاؤ اور آخرمیں کافور ڈال دو یا فرمایا کچھ کافور ڈال دو جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرنا ( حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں) غسل سے فراغت پر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار بند ہماری طرف ڈال کر فرمایا۔ اسے اس کا شعار بناؤ۔ (یعنی کفن سے نیچے رکھو) ہشیم کہتے ہیں۔ دوسری روایات جن میں مجھے معلوم نہیں شاید ہشام ان میں ہیں۔ یہ اضافہ ہے۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم نے ان کے بالوں کی تین چوٹیاں گوندھیں ہشیم کہتے ہیں ۔ میرا خیال ہے راوی نے مزید یہ کہا کہ ہم نے ان کی چوٹیاں ان کے پیچھے ڈال دیں۔ ہشیم کہتے ہیں ہم سے خالد نے بواسطہ حفصہ و محمد ، ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا دائیں طرف سے اور اعضائے وضو سے شروع کرنا اس باب میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ام عطیہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ ابراہیم نخعی سے منقول ہے آپ نے فرمایا میت کاغسل،غسل جنابت جیسا ہے ۔ مالک بن انس فرماتے ہیں۔ ہمارے نزدیک میت کے غسل کے لیے نہ تو کوئی حد مقر ہے اور نہ ہی کوئی خاص طریقہ ہے بس میت کو پاک کیا جائے امام شافعی فرماتے ہیں۔ امام مالک کا قول مجمل ہے کہ نہلایا جائے اور صاف کیا جائے! خالص پانی یا کسی اور پانی سے میت کو صاف کیا جائے تب بھی کافی ہے، لیکن میرے نزدیک تین یا اس سے زیادہ مرتبہ نہلانا مستحب ہے۔ تین سے کم نہ کیا جائے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں تین یا پانچ بار غسل دو اگر تین مرتبہ سے کم ہی میں صفائی ہو جائے تو بھی جائز ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللّٰہ کا یہ خیال نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب پاک کرنا ہےخواہ تین بار سے ہو یا پانچ بار سے۔ کوئی تعداد مقرر نہیں۔ فقہاء کرام نے یہی فرمایا اور وہ حدیث کے معنی کو زیادہ جاننے والے ہیں۔ امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ فرماتے ہیں۔ ہر بار کا غسل پانی اور بیری کے پتوں سے ہو اور آخر میں کافور ڈالی جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۷۴؛مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ،جلد۱ص۵۱۰،حدیث نمبر ٩٩٠)
میت کو خوشبو لگانا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشک کے بارے میں پو چھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ تمہاری خوشبوؤں میں سے سب سے زیادہ خوشبودار ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز،باب۶۷۵؛مَا جَاءَ فِي المِسْكِ لِلْمَیِّتِ،جلد۱ص۵۱۲،حدیث نمبر ٩٩١)
محمود بن غیلان نے بواسطہ ابو داؤد و شبابہ اور شعبہ، خلید بن جعفر سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے ۔ امام احمد اور اسحٰاق بھی اسی کے قائل ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک میت کو مشک لگانا مکروہ ہے مُستمر بن ریان نے بھی بواسطہ ابو نضرہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مرفوعاً روایت کی ہے ۔ علی نے یحییٰ بن سعید کا قول نقل کیا کہ مستمر بن ریان اور خلید بن جعفر (دونوں) ثقہ ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز،باب۶۷۵؛مَا جَاءَ فِي المِسْكِ لِلْمَیِّتِ،جلد۱ص۵۱۲،حدیث نمبر ٩٩٢)
میت کو غسل دے کر خود غسل کرنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میت کو غسل دینے سے غسل ہے اور اس کو اٹھانے سے وضو، اس باب میں حضرت علی اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ حسن ہے اور ان سے موقوفاً بھی مروی ہے میت کو غسل دینے کے بعد نہانے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور دوسرے علماء کے نزدیک اس پر غسل لازم ہے اور بعض کے نزدیک (صرف) وضو ہے۔ امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں میت کو نہلانے کے بعد غسل کرنے کو اچھا سمجھتا ہوں لیکن واجب نہیں ! امام شافعی نے بھی یونہی فرمایا ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں میرے خیال میں میت کو غسل دینے والے پر نہانا واجب نہیں لیکن وضو ؟ تو یہ سب سے کم بات ہے جو اس کے تعلق میں کہی گئی۔ امام اسحٰق فرماتے ہیں وضو کرنا ضروری ہے حضرت عبداللہ بن مبارک سے منقول ہے آپ نے فرمایا میت کو نہلانے کے بعد نہ تو غسل( ضروری) ہے نہ وضو۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۷۶؛مَا جَاءَ فِي الغُسلِ مِنْ غُسل الميت، جلد ۱ص۵۱۲،حدیث نمبر ٩٩٣)
اچھا کفن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا، سفید کپڑا پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سے بہترین ہیں۔ اور ان ہی میں اپنے مرنے والوں کو کفنایا کرو اس باب میں حضرت سمرہ ، ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے ۔ اور علماء کے نزدیک یہی مستحب ہے۔ ابن مبارک فرماتے ہیں۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ جن کپڑوں میں وہ نماز پڑھا کرتا تھا ان ہی میں کفنایا جائے امام احمد اور اسحٰق فرماتے ہیں۔ کفن میں سفید کپڑے کا ہونا ہمیں پسند ہے۔ نیز اچھا کفن دینا مستحب ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۷۷؛مَا جَاءَ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَکفَانِ،جلد۱ص۵۱۳،حدیث نمبر ٩٩٤)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میت کے ولی کو چاہیے کہ اسے اچھا کفن دے۔ اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔ ابن مبارک فرماتے ہیں۔ سلام ابن مطیع نے اس روایت کے بارے میں کہ تمہیں اپنے ( مردہ) بھائی کو اچھا کفن دینا چاہیے"فرمایا پاکیزہ زیادہ قیمتی نہ ہو۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۷۸؛جلد۱ص۵۱۴ حدیث نمبر ٩٩٥)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاکفن مبارک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کفن مبارک، تین سفید یمنی کپڑوں پر مشتمل تھا ان میں قمیصں اور پگڑی نہیں تھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا کہ لوگ کہتے ہیں نبی اکرم بھی کو دو کپڑوں اور ایک جبری ( بیل بوٹے والی) چادر میں کفنایا گیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا وہ چادر لائی گئی تھی لیکن اسے واپس کر دیا گیا اور اس میں کفنایا نہیں گیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۷۹؛مَا جَاءَ فِي كَم کَفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم،جلد۱ص۵۱۴،حدیث نمبر ٩٩٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کو ایک ہی کمبل میں کفنایا۔ اس باب میں حضرت علی ۔ ابن عباس، عبداللہ بن مغفل اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن مبارک کے بارے میں مختلف روایات مذکور ہیں اور ان تمام روایات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت زیادہ صحیح ہے اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کرام کا اسی پر عمل ہے۔ سفیان ثوری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں۔ مرد کو تین کپڑوں میں کفن دیا جائے ایک قمیص اور دو لفافے یا تین لفافے ۔ اگر دو کپڑے نہ ملیں تو ایک بھی کافی ہے ۔ دو کپڑے بھی کفایت کرتے ہیں۔ اور اگر تین کپڑے ہوسکیں تو زیادہ بہتر ہے۔ امام شافعی ، احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ بھی اسی بات کے قائل ہیں۔ نیز فرماتے ہیں عورت کو پانچ کپڑوں میں کفنایا جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۷۹؛مَا جَاءَ فِي كَم کَفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم،جلد۱ص۵۱۴،حدیث نمبر ٩٩٧)
اہل میت کے لیے کھانا پکانا حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے انتقال کی خبر آئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اہل جعفر کے لیے کھانا پکاؤ کیونکہ انہیں ایک آنے والے حادثہ نے (کھانے پکانے سے) روک رکھا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے بعض علماء اسے منتخب گردانتے ہیں کہ میت کے گھر والوں کے پاس کچھ چیز بھیجی جائے کیونکہ وہ مصیبت میں مشغول ہوتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں جعفر ابن خالد سے مراد ابن سارہ ہیں۔ وہ ثقہ ہیں اور ابن جریج نے روایت لی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۰؛مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ يُصْنَعُ لِاَهْلِ الْمَيِّتِ،جلد۱ص۵۱۵،حدیث نمبر ٩٩٨)
مصیبت کے وقت رخسار پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے گریبان چاک کیا،رخسار پیٹے اور جاہلیت کی پکار پکاری وہ ہم میں سے نہیں ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۱؛مَا جَاءَ فِي النَّہيِ عَنْ ضَرْبِ الْخُدُوْدِ وَشَقِّ الجُيُوْبِ عِندَ المُصِيبَةِ، جلد ۱ص۵۱۵،حدیث نمبر ٩٩٩)
ممانعت نوحه علی بن ربیعہ اسدی سے روایت ہے ۔ قرظہ بن کعب نامی ایک انصاری فوت ہوئے تو ان پر نوحہ کیا گیا۔ پس حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔ منبر پر جلوہ گر ہوئے۔ اور اللہ تعالے کی حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا۔ یہ نوحہ کی اسلام میں کیا حیثیت ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جسں پر نوحہ کیا گیا وہ نوحہ کے ختم ہونے تک عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔ اس باب میں حضرت عمر علی، ابو موسٰی ، قیس بن عاصم، ابو ہریرہ ، جنادہ بن مالک انس ام عطیہ مره اور ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہم سے بھی رزایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث شعبہ غریب حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۵۱۶؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّوحِ، جلد ۱ص۵۱۵،حدیث نمبر ١٠٠٠)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میری امت میں چار باتیں دور جاہلیت کی یاد گار ہیں لوگ انہیں ہر گز نہیں چھوریں گے (ا) نوحہ کرنا۔ (۲) حسب و نسب میں طعن کرنا (۳)۔ چھوت چھات کہ ایک اونٹ کو خارش ہو تو (اس سے) اس اونٹوں کو ہوگئی لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارشی بنایا۔ (۴) اور تاروں کو بارش کا ذریعہ سمجھنا کہ ہمیں فلاں تارے کے ذریعے بارش دی گئی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۵۱۶؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّوحِ، جلد ۱ص۵۱۵،حدیث نمبر ١٠٠١)
میت پر رونے کی ممانعت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میت کو اس کے خاندان والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث عمر رضی اللہ عنہ ، حسن صحیح ہے۔ بعض علماء نے میت پر رونے کو مکروہ خیال کیا اور کہا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔ ان علماء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے ۔ ابن مبارک فرماتے ہیں اگر مرنے والا اپنی زندگی میں ان کو رونے سے منع کر دے تو مجھے امید ہے کہ اسے (ان کے رونے کی وجہ سے) عذاب نہیں ہو گا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۹۸۳؛مَاجَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُكَاءِ عَلَى المَیَّتِ، جلد ۱ص۵۱۶،حدیث نمبر ١٠٠٢)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مرنے والا مرتا ہے اور اس پر رونے والا کھڑا ہو کر کہتا ہے۔ اے میرے پہاڑ اے میرے سردار یا اسی قسم کے کوئی اور الفاظ کہتا ہے تو اس پر دو فرشتے مقرر کیے جاتے ہیں جو اس کے سینے میں مکے مارتے ہیں( اور کہتے ہیں)کیا تو ایسا ہی تھا؟ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۹۸۳؛مَاجَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْبُكَاءِ عَلَى المَیَّتِ، جلد ۱ص۵۱۶،حدیث نمبر ١٠٠٣)
میت پر رونے کی اجازت حضرت عمرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ میت کو ، زندہ آدمی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا " اللہ تعالیٰ ! ابو عبد الرحمٰن کو بخشے ۔ انہوں نے جھوٹ نہیں کہا۔ لیکن وہ بھول گئے یا ان سے غلطی سرز ہوئی (واقعہ یہ ہے کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ کے پاس سے گزرے جس پر لوگ رو رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس پر رور ہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۴؛مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى المَیَّتِ، جلد ۱ص۵۱۷،حدیث نمبر ١٠٠٤)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے (سنا تو) فرمایا اللہ تعالیٰ ابن عمر پر رحم فرمائے انہوں نے جھوٹ نہیں کہا۔ لیکن ان سے خطاء ہوئی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تو ایک مردہ یہودی کے بارے سے میں فرمایا تھا کہ میت کو عذاب ہو رہا ہے۔ اور گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔ اس باب میں حضرت ابن عباس ، قرظہ بن مالک ابو ہریرہ، ابن مسعود اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسرے طرق سے بھی مروی ہے بعض علماء کا اس روایت پر عمل ہے اور انہوں نے اس آیت کی تفسیر کی ہے۔ "وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِذْرَ أَخْرٰی" کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا " امام شافعی رحمہ اللّٰہ اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کا یہی مسلک ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۴؛مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى المَیَّتِ، جلد ۱ص۵۱۷،حدیث نمبر ١٠٠٥)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے وہ حالت نزع میں تھے ۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں اٹھایا اور رونے لگے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا (یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم روتے ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے سے منع نہیں فرمایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے رونے سے منع نہیں کیا بلکہ بیوقوفی اور نافرمانی کی دو آوازوں سے منع کیا ہے ایک تو مصیبت کے وقت کی آواز جب چہرہ نوچا جائے۔ اور گریباں چاک کیا جائے۔ اور دوسری شیطان کے رونے کی آواز اس حدیث میں اس سے زیادہ کلام ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۴؛مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى المَیَّتِ، جلد ۱ص۵۱۷،حدیث نمبر ١٠٠٦)
جنازہ کے آگے آگے جانا حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو جنازہ کے آگے آگے چلتے دیکھا“ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۵مَاجَاءَ فِي الْمَشْيَ امَامَ الْجَنَازَةِ، جلد ۱ص۵۱۸،حدیث نمبر ١٠٠٧)
منصور، بکر کوفی ، زیاد اور سفیان (ان سب) نے بواسطہ زہری اور سالم ، حضرت عبد الله رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ۔ وہ فرماتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے آگے چلتے دیکھا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۵مَاجَاءَ فِي الْمَشْيَ امَامَ الْجَنَازَةِ، جلد ۱ص۵۱۸،حدیث نمبر ١٠٠٨)
امام زہری فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہما) جنازہ کے آگے آگے جایا کرتے تھے۔ زہری فرماتے ہیں مجھے سالم نے بتایا کہ ان کے والد بھی جنازہ کے آگے چلا کرتے تھے اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ابن عیینہ کی روایت کی طرح ابن جریج زیاد بن سعد اور کئی دوسرے رواۃ نے بواسطہ زہری اور سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے معمر، یونس بن یزید، مالک اور کئی دوسرے حفاظ نے زہری سے روایت کیا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے آگے آگے چلا کرتے تھے۔ تمام محدثین کے نزدیک اس بارے میں مرسل حدیث زیادہ صحیح ہے۔امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے یحییٰ بن موسیٰ سے عبدالرزاق کا قول سنا کہ ابن مبارک فرماتے ہیں اس باب میں ابن عینیہ کی روایت سے زہری کی مرسل روایت اصح ہے۔ ابن مبارک مزید فرماتے ہیں۔ میرا خیال ہے۔ ابن جریج نے بھی ابن عینیہ سے اسے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ہمام بن یحییٰ نے یہ حدیث بواسطہ زیاد بن سعد۔ منصور بکر سفیان زہری، اور سالم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کی۔ سفیان سے سفیان بن عیینہ مراد ہیں۔ اور ان سے ہمام نے روایت کی ہے۔ جنازے کے آگے چلنے میں علماء کا اختلاف ہے بعض صحابہ کرام اور دوسرے علماء کے نزدیک جنازے کے اگے آگےجانا افضل ہے امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۵مَاجَاءَ فِي الْمَشْيَ امَامَ الْجَنَازَةِ، جلد ۱ص۵۱۸،حدیث نمبر ١٠٠٩)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم جنازہ کے آگے آگے تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ (امام ترمذی فرماتے ہیں) میں نے امام بخاری علیہ الرحمہ سے اس حدیث کے بارے میں پو چھا تو انہوں نے فرمایا اس حدیث میں خطاء واقع ہوئی ہے اور یہ حدیث بواسطه یونس ، زہری سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما جنازے کے آگے آگے جایا کرتے تھے زہری فرماتے ہیں مجھے حضرت سالم نے بتایا کہ انکے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما جنازے کے آگے آگے جایا کرتے تھے امام بخاری فرماتے ہیں یہ زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۵مَاجَاءَ فِي الْمَشْيَ امَامَ الْجَنَازَةِ، جلد ۱ص۵۱۸،حدیث نمبر ١٠١٠)
جنازہ کے پیچھے چلنا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازہ کے پیچھے چلنے کے بارے میں پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جلدی چلو اگر وہ اچھا ہے توتم نے نیکی کی طرف جلدی کی اور اگروہ برا ہے تو اہل جہنم ہی دور کیے جاتے ہیں ۔ جنازے کے پیچھے چلا جاتا ہے جنازہ پیروی نہیں کرتا جنازہ سے آگے بڑھنے والے کیلیے کوئی اجر نہیں امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث صرف اسی طریق سے مروی ہے۔ میں نے امام بخاری سے سنا وہ ابو ماجد کی اس روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ امام بخاری نے بواسطہ حمیدی ، ابن عیینہ سے نقل کیا کہ یحییٰ سے اس ابو ما جد کے بارے میں پوچھا گیا انہوں نے فرمایا ایک پرندہ ہے جو اڑا اور ہم سے حدیث بیان کر گیا ۔ بعض صحابہ کرام اوردیگر علماء کا یہی مسلک ہے۔ ان کے نزدیک جنازہ کے پیچھے چلنا افضل ہے۔ سفیان ثوری اوراسحٰاق رحمہا اللہ کا یہی قول ہے ۔ ابو ماجد مجہول شخص ہے اور اس کے واسطہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دو حدیثیں منقول ہیں امام بن تیم اللہ ثقہ ہیں۔ ان کی کنیت ابو حارث ہے ان کو یحییٰ جابر بھی کہا جاتا ہے ۔ اور یحییٰ مُجبر بھی ۔ یہ کوفی ہیں۔ شعبہ ، سفیان ثوری، ابواحوص اور سفیان بن عینیہ رحمہم اللّٰہ نے ان سے روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۶؛مَا جَاءَ فِي المَشي خَلْفَ الجَنازَةِ، جلد ۱ص۵۲۰،حدیث نمبر ١٠١١)
جنازہ کے پیچھے سوار ہوکر جانے کی ممانعت حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازہ میں گئے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں کو سوار دیکھ کر فرمایا کیا تمہیں اللہ تعالیٰ سے حیا نہیں آتی کہ اللہ کے فرشتے پیدل چلیں۔ اور تم جانوروں کی پیٹھوں پر سوار ہو ۔ اس باب میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ثوبان موقوفًا مروی ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۷؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرَّكُوبِ خَلْفَ الجنازة، جلد ۱ص۵۲۱،حدیث نمبر ١٠١٢)
جنازہ کے پیچھے سوار ہو کر جانے کی اجازت حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم ابن دحداح کے جنازہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار تھے اور گھوڑا مضبوطی سے قدم رکھتے ہوئے دوڑ رہا تھا۔ اور ہم آپ کے ارد گرد تھے (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب، مَاجَاءَ فِي الرُّحْصَةِ فِي ذلِكَ، جلد ۱ص۵۲۱،حدیث نمبر ١٠١٣،حدیث نمبر ١٠١٣)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابن وحداح کے جنازہ میں پیدل تشریف لے گئے اور گھوڑے پر واپس تشریف لائے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب، مَاجَاءَ فِي الرُّحْصَةِ فِي ذلِكَ، جلد ۱ص۵۲۱،حدیث نمبر ١٠١٤)
جنازہ جلدی لے جانا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جنازہ جلدی لے جاؤ اور اگر وہ نیک ہے تو اسے اچھے کی طرف لے چلوگے اور اگر برا ہوگا تو اسے گردن سے اتار دو گے ۔ اس باب میں حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۸۹؛مَاجَاءَ فِي الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ، جلد ۱ص۵۲۲،حدیث نمبر ١٠١٥)
احد کے شہداء اور حضرت حمزہ رضی اللّٰہ عنہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ اُحد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ (کی لاش) پر تشریف لاکر کھڑے ہوئے اور انہیں مثلہ کیا ہوا دیکھ کر فرمایا اگر حضرت صفیہ کے غمگین ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو میں انہیں اسی طرح چھوڑ دیتا ۔ حتیٰ کہ ہر کھانے والی مخلوق کھا لیتی ۔ پھر قیامت کے دن یہ ان کے پیٹوں سے اٹھائے جاتے۔ راوی فرماتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کمبل منگوا کر اس میں انہیں کفنا یا اگر اسے سر کی طرف کھینچا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے۔ اور پاؤں کی طرف کھینچا جاتا تو سر برہنہ ہوتا ۔ راوی فرماتے ہیں۔( اس دن) شہدا کی تعداد بڑھ گئی اور کپڑے کم ہو گئے۔ تو ایک کپڑے میں ایک دو اور تین تک کو کفنایا گیا پھر انہیں ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا ۔ راوی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم انکے بارے میں پو چھتے جاتے کہ ان میں کون زیادہ، قرآن پڑھا ہواہے ، پھر اسے قبلہ کی طرف آگے کر دیتے تھے۔ راوی فرماتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کر دیا امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس حسن غریب ہے ہم اس کو صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۰؛مَا جَاءَ فِي قَتْلٰى أَحُدٍ وَذَِْرِ حَمْزَةَ، جلد۱ص۵۲۲،حدیث نمبر ١٠١٦)
جنازہ میں حاضر ہونا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت فرماتے، جنازہ میں تشریف لے جاتے( تو اضعًا) گدھے پر سوار ہوتے ۔ غلام کی پکار کا جواب دیتے جنگ بنو قریظہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار تھے جس کی لگام بھی کھجور کی چھال کی تھی اور پالان بھی کھجور کی چھال سے تھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ اس حدیث کو ہم صرف بواسطہ مسلم اعور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے پہچانتے ہیں مسلم بن اعور سے مراد مسلم بن کیسان ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۱؛جلد۱ص۵۲۳،حدیث نمبر ١٠١٨) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے وصال پر آپ کے دفن کرنے میں اختلاف ہوا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی جسے میں ابھی تک نہیں بھولا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا: اللہ ہر نبی کی روح اس مقام پر قبض کرتا ہے۔ جہاں اُسے دفن ہونا پسند ہو۔ چنانچہ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ میں دفن کیا ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ۔ عبدالرحمٰن بن ابو بکر ملیکی حفظ کے اعتبار سے ضعیف ہے ۔ یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ف : احناف کے نزدیک شہداء کا جنازہ پڑھا جائے گا جیسا کہ حضرت عقبہ کی روایت میں ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اہل احد پر نماز جنازہ پڑھی۔ (مترجم) جامع ترمذی شریف،کتاب الجنائز،باب۶۹۲؛جلد۱ص۵۲۳،حدیث نمبر ١٠١٨)
مرنے والے کی یاد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اپنے مردوں کی بھلائیاں یاد کرو اور ان کی برائی سے رک جاؤ" امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث غریب ہے ۔ میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے سنا ۔ فرماتے ہیں عمران بن انس مکی منکر الحدیث ہے بعض راویوں نے اسے بواسطہ عطاء حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔ عمران بن انس مصری ، عمران بن انس مکی سے اثبت واقدم ہے ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۳؛اٰخَرُ، جلد ۱ص۵۲۴،حدیث نمبر ١٠١٩) جنازہ رکھنے سے پہلے بیٹھنا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازہ کے ساتھ تشریف لے جاتے تو جب تک اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بیٹھتے۔ ایک مرتبہ ایک یہودی عالم آیا تو اس نے بتایا۔ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ یہ سُن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہو گئے اور فرمایا۔ ان کی مخالفت کرو. امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے۔ بشر بن رافع حدیث میں قوی نہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۴؛مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ قَبْلَ أَن تُوْضَعَ، جلد ۱ص۵۲۴،حدیث نمبر ١٠٢٠)
مصیبت پر صبر کی فضیلت حضرت ابوسنان فرماتے ہیں۔ میں نے اپنے لڑکے سنان کو دفن کیا اس وقت ابو طلحہ خولانی قبر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے جب میں باہر آنے لگا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا اے ابو سنان! تجھے خوشخبری نہ دوں ؟ میں نے کہا ،ہاں کیوں نہیں ، حضرت ابو طلحہ نے فرمایا ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزب نے بواسطہ حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی آدمی کا بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے لڑکے کی روح قبض کی وہ کہتے ہیں ۔" ہاں" اللہ تعالٰی فرماتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل قبض کیا ؟ وہ کہتے ہیں ہاں اللہ تعالٰی فرماتا ہے میرے بندہ نے کیا کہا ؟ وہ عرض کرتے ہیں اس نے تیری تعریف کی اور" اناللہ وانا الیہ راجعون " پڑھا اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے۔ اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنا دو۔ اور اس کانام بیت الحمد( تعریف کاگھر) رکھو ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز،باب۶۹۵؛فَضْلِ الْمُصِيبَةِ إِذَا احْتُسِبَ، جلد ۱ص۵۲۱،حدیث نمبر ٢٠٢١)
تکبیرات جنازہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حبشہ کے بادشاہ )نجاشی پر نماز جنازہ پڑھی تو چار تکبیریں کہیں۔ اس باب میں حضرت ابن عباس ابن ابی اوفٰی، جابر، انس اور یزید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یزید بن ثابت، زید بن ثابت کے بڑے بھائی ہیں ۔ یہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے جب کہ زید بن ثابت نے شرکت نہیں کی ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ ان حضرات کے نزدیک جنازہ کی چار تکبیرات ہیں۔ سفیان ثوری ، مالک بن انس ابن مبارک شافعی ، احمد، اسحٰاق ( اور امام ابو حنیفہ) رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۵؛فَضْلِ الْمُصِيبَةِ إذَا احْتُسِبَ، جلد ۱ص۵۲۵،حدیث نمبر ١٠٢٢)
عبد الرحمٰن بن ابی لیلی فرماتے ہیں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے اور ایک جنازہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ تکبیریں کہیں ہم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ زید بن ارقم کی روایت حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دوسرے علماء کا یہی مسلک ہے۔ کہ جنازہ کی پانچ تکبیریں ہیں۔ امام احمد اور اسحٰاق فرماتے ہیں اگر امام جنازہ پر پانچ تکبیر کہے تو اس کی اتباع کی جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۵؛فَضْلِ الْمُصِيبَةِ إذَا احْتُسِبَ، جلد ۱ص۵۲۵،حدیث نمبر ١٠٢٣)
جنازہ میں کیا پڑھا جائے ابو ابراہیم اشہلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ میں یہ دعائیہ کلمات پڑھتے تھے اے اللہ ! ہمارے زندوں، مردوں حاضر غائب، چھوٹوں ، بڑوں، مردوں اور عورتوں سب کو بخش دے، یحییٰ فرماتے ہیں۔ مجھ سے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اسی طرح بیان کیا البتہ اس میں یہ اضافہ ہے۔ اے اللہ ! ہم میں سے جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت دے اس باب میں حضرت عبد الرحمٰن بن عوف، عائشہ ابو قتاده جابر اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ابو ابراہیم کے والد کی روایت حسن صحیح ہے ہشام دستوائی اورعلی بن مبارک نے یہ حدیث بواسطہ یحییٰ بن ابی کثیر اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلًا روایت کی ہے۔ عکرمہ بن عمار نے بواسطہ یحییٰ بن ابی کثیر اور ابو سلمہ۔ حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے مرفوع حدیث روایت کی عکرمہ بن عمار کی حدیث غیر محفوظ ہے کیونکہ عکرمہ سے بسااوقات یحییٰ کی روایت میں غلطی ہوئی ہے۔ بواسطہ یحییٰ بن ابی کثیر اور عبداللہ بن ابو قتادہ حضرت قتادہ سے مرفوع حدیث مروی ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں۔ اس باب میں یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت بواسطه ابو ابراہیم اشہلی اور ان والد سب سے زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں میں نے امام بخاری سے ابو ابراہیم اشہلی کا نام پوچھا تو انہیں معلوم نہ تھا, (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۷؛مَا يَقُولُ فِي الصَّلاةِ عَلَى الْمَيِّتِ، جلد ۱ص۵۲۶،حدیث نمبر ١٠٢٤)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک میت کی نماز جنازہ پڑھاتے سنا تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا سمجھ آئی ۔ اے اللہ ! اسے بخش دے۔ اس پر رحم فرما اور اسے اولوں سے اس طرح دھو دے جس طرح کپڑا دھویا جاتا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے امام بخاری فرماتے ہیں۔ اس باب میں یہ حدیث اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۷؛مَا يَقُولُ فِي الصَّلاةِ عَلَى الْمَيِّتِ، جلد ۱ص۵۲۶،حدیث نمبر ١٠٢٥)
نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھتا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر سورہ فاتحہ پڑھی ، اس باب میں ام شریک رضی اللہ عنہا سے بھی روایت منقول ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سند قومی نہیں ۔ ابراہیم بن عثمان یعنی ابو شیبہ واسطی منکر الحدیث ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ اپنا قول ہے کہ جنازہ پر سورۂ فاتحہ پڑھنا سنت ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۸؛مَاجَاءَ فِي الْقِراءَ ةِ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الكتاب۔ جلد ۱ص۵۲۷،حدیث نمبر ١٠٢٦)
حضرت طلحہ بن عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک جنازہ پڑھا تو اس پر سورہ فاتحہ پڑھی۔ میں نے اس کے بارے میں استفسار کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سنت ہے یا (فرمایا) تکمیل سنت سے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دوسرے علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ تکبیر اولی کے بعد سورہ فاتحہ کا پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ امام شافعی۔ احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا بھی یہی قول ہے بعض علماء فرماتے ہیں۔ نماز جنازہ میں اسے نہ پڑھا جائے کیونکہ یہ (جنازہ) اللہ تعالی کی ثناء، بارگاہ رسالت مآب میں ہدیہ درود اور میت کے لیے دعا ( پر مشتمل ) ہے۔ سفیان ثوری وری وغیرہ اور اہل کوفہ اسی بات کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۸؛مَاجَاءَ فِي الْقِراءَ ةِ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الكتاب۔ جلد ۱ص۵۲۷،حدیث نمبر ١٠٢٧)
نماز جنازہ اور میت کے لیے شفاعت کا طریقہ مرثد بن عبداللہ یزنی سے روایت ہے کہ مالک بن ہبیرہ جب کسی کی نماز جنازہ پڑھتے اور لوگ کم ہوتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم فرماتے ۔ پھر فرماتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ جس پر تین صفوں نے نماز پڑھی۔ اس کی بخشش واجب ہو گئی ۔ اس باب میں حضرت عائشہ، ام حبیب، ابوہریرہ ،ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث مالک بن ہبیرہ حسن ہے۔ متعدد راویوں نے اسے محمد بن اسحٰق سے یونہی روایت کیا ہے۔ ابراہیم بن سعد نے یہ حدیث محمد بن اسحٰق سے روایت کی لیکن مرثد اور مالک بن ہبیرہ کے درمیان ایک اور شخص کا واسطہ ذکر کیا ہمارے نزدیک ان حضرات کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۹كَيْفَ الصَّلوةُ عَلَى الْمَيِّتِ وَ الشفَاعَةُ لَهُ،جلد۱ص۵۲۸،حدیث نمبر ١٠٢٨)
حضرت عبداللہ بن یزید ( حضرت عائشہ رضی الله عنهما ) کے رضائی بھائی) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان میت پر سو مسلمانوں کی جماعت نماز جنازہ پڑھے اور اللہ تعالٰی سے اس کی شفاعت کرے تو اس کے حق میں ان کی شفاعت قبول ہوتی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس روایت میں " سو یا اس سے زائد کے الفاظ منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ بعض نے اسے موقوف رکھا مرفوع نہیں بیان کیا ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۶۹۹كَيْفَ الصَّلوةُ عَلَى الْمَيِّتِ وَ الشفَاعَةُ لَهُ،جلد۱ص۵۲۸, حدیث نمبر ١٠٢٩)
طلوع و غروب کے وقت نماز جنازہ پڑھنا حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین اوقات میں نماز جنازہ پڑھنے اور (میت کو) دفنانے سے منع فرمایا۔ طلوع آفتاب کے وقت جب تک کہ بلند نہ ہو جائے دوپہر کے وقت ۔ حتیٰ کہ سورج ڈھل جائے اور غروب کے وقت جب تک کہ پوری طرح ڈوب نہ جائے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کرام کا اس پر عمل ہے ۔ ان کے نزدیک ان ساعات میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے۔ ابن مبارک فرماتے ہیں۔ اس حدیث کے اس جملہ کہ ہمیں ان اوقات میں مردوں کو دفنانے سے منع فرمایا : کا مطلب (بھی) نماز جنازہ پڑھنا ہے۔ ابن مبارک کے نزدیک بھی ان تینوں اوقات میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے۔ امام احمد اور اسحٰق رحمہما اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ جن اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ ہے ان میں نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۰۰؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِبَةِ الصَّلٰوةِ عَلَى الجنازةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا، جلد ۱ص۵۲۹،حدیث نمبر ١٠٣٠)
بچوں پر نماز جنازہ پڑھنا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، سوار، جنازہ کے پیچھے رہے، پیادہ جیسے چاہے (آگے یا پیچھے چلے) اور بچے پر نماز جنازہ پڑھی جائے یا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسرائیل اور کئی دوسرے محدثین نے اسے سعید بن عبید اللہ سے روایت کیا ، بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے ۔ وہ فرماتے ہیں۔ بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔ اگر چہ وہ ( پیدائش کے بعد) ۔اواز نہ نکالے ۔ بشر طیکہ اس کا پیدا ہونا معلوم ہو جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۰۱؛فِی الصَّلٰوةِ عَلَى الأَطْفَالِ، جلد ۱ص۵۳۰،حدیث نمبر ١٠٣١)
پیدا ہونے کے بعد بچہ نہ روئے تو اس کی نماز نہیں، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد جب تک نہ روئے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے نہ وہ وارث ہو گا اور نہ اس کا ترکہ قابل وراثت ہو گا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ اس حدیث (کی روایت ) میں اضطراب ہے۔ بعض رواۃ نے اسے بواسطہ ابوزبیر اور جابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا۔ اور اشعث بن سوار اور کئی دوسرے راویوں نے اسے ابو زبیر کے واسطہ سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا۔ مرفوع روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ بعض علماء کا اس پر عمل ہے ۔ وہ فرماتے ہیں۔بچہ پیدائش کے بعد جب تک نہ روئے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ سفیان ثوری اور امام شافعی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۰۲؛مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الصَّلٰوةِ عَلَى الطِّفْلِ حتّٰى يسْتَهِلّ، جلد ۱ص۵۳۰،حدیث نمبر ١٠٣٢)
مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بوجہ عذر) سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی ٫ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ یہ حدیث حسن ہے۔ اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے امام شافعی فرماتے ہیں کہ امام مالک نے فرمایا کہ مسجد میں نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ امام شافعی کا اپنا قول یہ ہے کہ مسجد میں پڑھی جائے امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۰۳؛مَا جَاءَ فِي الصَّلٰوةِ عَلَى الْمَيِّتِ في المسجد،جلد۱ص۵۳۱،حدیث نمبر ١٠٣٣)
نماز جنازہ میں امام کہاں کھڑا ہو ابو غالب فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک مرد کی نماز جنازہ پڑھی تو حضرت انس رضی اللہ عنہ اس کے سرہانے کی طرف کھڑے ہوئے۔ پھر لوگ ایک قریشی عورت کا جنازہ لائے۔ اور عرض کیا۔ اے ابو حمزہ ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ تو آپ چار پائی کے درمیان کے مقابل کھڑے ہوئے ۔ اس پر حضرت علاء بن زیاد نے فرمایا آپ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یونہی دیکھا ہے۔ وہ مرد اور عورت کے جنازہ پر اسی مقام پر کھڑے ہوئے جہاں آپ کھڑے ہوئے، حضرت انس نے فرمایا ہاں، جنازہ سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا اسے یاد رکھو،، اس باب میں حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث انس حسن ہے۔متعدد لوگوں نے اسے ہمام سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ وکیع نے تمام سے یہ حدیث روایت کی لیکن ان سے خطا واقع ہوئی اور انہوں نے ابو غالب کی بجائے غالب کہا۔ عبد الوارث بن سعید اور کئی دوسرے رواۃ نے ابو غالب سے ہمام کی طرح روایت کیا۔ اس ابو غالب کے نام میں اختلاف ہے بعض نے نافع بیان کیا اور بعض نے رافع کہا۔ علماء کا اس حدیث پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰاق بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۰۴؛مَا جَاءَ ايْنَ يَقُومُ الأمامُ مِن الرَّجُلِ والمَرأَة -جلد ۱ص۵۳۱،حدیث نمبر ١٠٣٤)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ کے وسط میں کھڑے ہوئے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ شعبہ نے حسین معلم سے اسے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۰۴؛مَا جَاءَ ايْنَ يَقُومُ الأمامُ مِن الرَّجُلِ والمَرأَة -جلد ۱ص۵۳۱،حدیث نمبر ١٠٣٥)
شہید کی نماز جنازہ نہ پڑھنا حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد میں سے دو دو کو ایک ایک کپڑے میں جمع فرماتے اور پوچھتے ان میں کس کو قرآن زیادہ یاد ہے جب ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو اسے قبرمیں آگے کرتے اور فرماتے میں قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خون کے ساتھ ہی دفن کرنے کا حکم فرمایا۔ اور نہ تو ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ اور نہ ہی انہیں غسل دیا گیا ہے۔ اس باب میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے ۔ بواسطہ زہری حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔ انہی کے واسطہ سے عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صغیر سے بھی روایت کی گئی ہے بعض محدثین نے اسے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ سے روایت کیا ہے۔ شہید کی نماز جنازہ پڑھنے میں علماء کا اختلاف ہے بعض علماء کے نزدیک شہید کی نماز جنادہ نہ پڑھی جائے علماء مدینہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔ امام شافعی اور احمد رحمہما اللہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔ جب کہ بعض علماء کے نزدیک شہید کی نماز جنازہ پڑھی جائے ان علماء نے حدیث شریف سے استدلال کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ) کا یہی قول ہے اور امام اسحٰق بھی اسی کے قائل ہیں ۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۰۵؛مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الصَّلٰوةِ عَلَى الشَهِيْدِ، جلد ۱ص۵۳۲،حدیث نمبر ١٠٣٦)
قبر پر نماز پڑھنا شعبی فرماتے ہیں مجھ سے اس آدمی نے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا اور اس نے ایک اکیلی قبر دیکھی جس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی صف بندی فرمائی اور نماز پڑھائی شعبی سے پوچھا گیا آپ کو کس نے بتایا ؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس باب میں حضرت انس ، بریده ، یزید بن ثابت ، ابو ہریرہ ، عامر بن ربیعہ، ابو قتادہ اور سہل بن حنیف رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں ۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے ۔ امام شافعی، احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل میں بعض علماء فرماتے ہیں قبر پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے ۔ امام مالک بن انس رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے ۔ امام ابن مبارک فرماتے ہیں۔ اگر میت کو نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کیا جائے تو قبر پر نماز پڑھی جائے، ابن مبارک کے نزدیک قبر پر نماز جائز ہے امام احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ فرماتے ہیں قبر پر ایک ماہ تک نماز پڑھنا درست ہے ۔ دونوں حضرات فرماتے ہیں ہم نے حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے اکثر سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سعد بن عبادہ کی قبر پر ایک ماہ بعد نماز پڑھی ۔(مترجم) (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۰۶؛مَا جَاءَ فِي الصَّلٰوةِ عَلَى القَبُرِ، جلد ۱ص۵۳۳،حدیث نمبر ١٠٣٧)
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت ام سعد رضی اللہ عنہما کے انتقال پر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہ تھے۔ ایک ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان پر نماز جنازہ پڑھی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۰۶؛مَا جَاءَ فِي الصَّلٰوةِ عَلَى القَبُرِ، جلد ۱ص۵۳۳،حدیث نمبر ١٠٣٨)
نجاشی کی نماز جنازہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا۔ تمہارے بھائی نجاشی( شاہ حبشہ) کا انتقال ہو گیا۔ اٹھو اور اس پر نماز جنازہ پڑھو, حضرت عمران فرماتے ہیں ۔ ہم کھڑے ہوئے اور اسی طرح صفیں باندھیں جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہیں ۔ اور اسی طرح نماز پڑھی جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہے۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ ، جابر بن عبد اللہ ابو سعید ، حذیفہ بن اسید اور جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے ۔ ابو قلابہ نے اپنے چچا ابو مہلب کے واسطہ سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا۔ ابو مہلب کا نام عبد الرحمٰن بن عمرو ہے۔ معاویہ بن عمرو بھی کہا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۰۷؛مَا جَاءَ فِی صَلٰوةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّجَاشِي - جلد ۱ص۵۳۴،حدیث نمبر ١٠٣٩)
نماز جنازہ کی فضیلت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نماز جنازہ پڑھی اس کے لیے ایک قیراط اور جو جنازہ کے پیچھے چلا یہاں تک کہ دفن سے فارغ ہوا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔ ان میں ایک یا (فرمایا) ان میں سے چھوٹا قیراط احد پہاڑ جتنا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بات بتائی تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (کسی کو )بھیج کر اس کے بارے میں دریافت کیا۔ ام المومنین نے فرمایا حضرت ابوہریرہ نے سچ کہا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہم بہت سے قیراطوں (کے حصول) میں پیچھے رہ گئے اس باب میں حضرت براء عبداللہ بن مغفل۔ عبداللہ بن مسعود۔ ابو سعید۔ ابی بن کعب۔ ابن عمر اور ثوبان رضی اللّٰہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے۔ اور اپ سے مختلف طرق سے مذکور ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۱۰۲۸؛مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلٰوةِ عَلَى الْجَنَازَة - جلد ۱ص۵۳۴،حدیث نمبر ١٠٤٠)
عنوان بالا کا دوسرا باب ابو مہزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں میں دس سال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں رہا۔ میں نے ان سے سنا فرماتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جنازہ کے پیچھے چلا اور اسے تین مرتبہ اٹھایا اس نے جنازہ کا وہ حق ادا کر دیا۔ جو اس کی ذمہ تھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے۔ بعض محدثین نے اسے اسی سند کے ساتھ غیر مرفوع روایت کیا ہے۔ ابو مہزم کا نام یزید بن سفیان ہے،شعبہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۰۹؛اٰخَرُ، جلد ۱ص۵۳۵،حدیث نمبر ١٠٤١)
جنازہ کے لیے کھڑا ہونا حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے گزر جائے۔ یا رکھ دیا جائے اس باب میں حضرت ابو سعید۔ جابر۔ سہیل بن حنیف۔ قیس بن سعد۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عامر بن ربیعہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۰؛مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ، جلد ۱ص۵۳۵،حدیث نمبر ١٠٤٢)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب جنازہ( آتا) دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور تم میں سے جو آدمی جنازہ کے پیچھے جائے تو جب تک جنازہ رکھ نہ دے دیا جائے ہرگز نہ بیٹھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ اس باب میں حضرت ابو سعید کی روایت حسن صحیح ہے۔ امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں۔ جنازہ کے پیچھے جانے والا اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ لوگوں کی گردنوں سے ( نیچے) رکھ نہ دیا جائے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کے نزدیک میں منقول ہے کہ وہ جنازہ سے آگے بڑھ جاتے اور جنازہ پہنچنے سے پہلے بیٹھ جاتے۔ امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۰؛مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ، جلد ۱ص۵۳۵،حدیث نمبر ١٠٤٣)
جنازہ کے لیے نہ اٹھنا مسعود بن حکم سے مروی ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے سامنے جنازہ کے رکھے جانے تک اس کے لیے کھڑے ہونے کا ذکر کیا گیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (جنازہ کے لیے )کھڑے ہوئے اور پھر تشریف فرما ہو گئے اس باب میں حضرت حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث علی رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے۔ اس میں چار تابعین راوی ہیں۔ جو ایک دوسرے سے روایت کرتے ہیں۔ بعض علماء کا اس پر عمل ہے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ اس باب میں یہ حدیث زیادہ صحیح ہے۔ اور پہلی حدیث کی نا سخ ہے اس میں یہ فرمایا گیا کہ۔ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو۔ امام احمد رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کھڑا ہونے اور نہ ہونے کا اختیار ہے۔ انہوں نے اس سے استدلال کیا کہ حضرت نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور پھر تشریف فرما ہو گئے۔ اسحٰاق بن ابراہیم نے یہی فرمایا۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے اور بیٹھ گئے۔ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوتے اور پھر بیٹھ جایا کرتے تھے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقہ ترک فرمایا اور (پھر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ دیکھکر کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۱؛فِی الرُّحْصَةِ فِی تَركِ الْقِيَام لَهَا۔ جلد ۱ص۵۳۶،حدیث نمبر ١٠٤٤)
لحد کی فضیلت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لحد بغلی قبر۔ ہمارے لیے اور شق (صندوق کی طرح قبر) دوسرے لوگوں کے لیے ہے اس باب میں حضرت جریر بن عبداللہ۔ عائشہ۔ ابن عمر اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس اس طریق سے غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۲؛مَا جَاءَ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَحْدُ لَنَا وَالشَّقُ لِغَيْرِنَا۔ جلد ۱ص۵۳۷،حدیث نمبر ١٠٤٥)
میت کو قبر میں اتارتے وقت کیا کہا جائے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ میت کو قبر میں داخل کرتے وقت اور ابو خالد کی روایت میں میت کو قبر میں رکھتے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی فرماتے۔ بسم اللہ و باللہ وعلی ملۃ رسول اللہ۔ اور بعض اوقات۔ بسم اللہ باللہ وعلی سنۃ رسول اللہ۔ فرماتے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے۔ اس طریق کے علاوہ بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے۔ ابو صدیق ناجی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اور موقوفًا ( دونوں طرح) روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۳؛مَا جَاءَ مَا يَقُولُ إِذَ الدُّخِلَ الْمَيِّتُ قبرة - جلد ۱ص۵۳۷،حدیث نمبر ١٠٤٦)
قبر میں میت کے نیچے کپڑا بچھانا جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے لحد میں اتارا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام شقران نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے چادر بچھائی۔ جعفر فرماتے ہیں۔ مجھے ابن ابی رافع نے بتایا کہ میں نے شقران سے سنا۔ انہوں نے فرمایا۔ قسم بخدا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (جسد اطہر کے) نیچے چادر بچھائی ، اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت منقول ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث شقران حسن غریب ہے۔ علی بن مدینی نے عثمان بن فرقد سے یہ حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۴؛مَا جَاءَ فِي الثَّوبِ الْوَاحِدِ يُلْقٰى تَحْتَ الْمَيِّتِ في القبر۔ جلد ۱ص۵۳۸،حدیث نمبر ١٠٤٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور میں سرخ چادر بچھائی گئی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ شعبہ نے اسے ابو حمزہ قصاب سے روایت کیا۔ ان کا نام عمران بن عطاء ہے۔ اور ابو حمزہ ضبعی سے بھی روایت ہے۔ ان کا نام نصر بن عمران ہے۔ یہ دونوں حضرات ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ میت کے نیچے قبر میں کچھ بچھانا مکروہ ہے۔ بعض علماء کا یہی مذہب ہے۔ محمد بن بشار نے بواسطه محمد بن جعفر و یحییٰ۔ شعبہ اور ابو حمزہ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۴؛مَا جَاءَ فِي الثَّوبِ الْوَاحِدِ يُلْقٰى تَحْتَ الْمَيِّتِ في القبر۔ جلد ۱ص۵۳۸،حدیث نمبر ١٠٤٨)
قبر برابر کرنا حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت ابو الہیاج سے فرمایا ۔ میں تھیں اس کام کے لیے بھیجتا ہوں جس کے لیے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے بھیجا تھا (وہ یہ) کہ ہر اونچی قبر کو برابر کردو اور ہر مورت کو مٹادو اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکو رہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث علی حسن ہے۔ اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے ۔ وہ قبر کا زمین سے بلند ہونا مکروہ خیال کرتے ہیں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرے نزدیک قبر کا زیادہ اونچا کرنا مکروہ ہے البتہ اتنا اندازہ( اونچی کی جائے) جس سے اسکا قبر ہونا معلوم ہو۔ تا کہ وہ روندے جانے اور بیٹھنے سے محفوظ ہو۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۵؛مَا جَاءَ فِي تَسَوَيَةِ الْقَبْرِ، جلد ۱ص۵۳۹،حدیث نمبر ١٠٤٩)
قبروں کو روندنا اور ان پر بیٹھنا منع ہے ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ نہ تو قبروں پر بیٹھو اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو۔ اس باب میں حضرت ابوہریرہ۔ عمرہ بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ رضی اللّٰہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ محمد بن بشار نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن مہدی۔ عبداللہ بن مبارک سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت نقل کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۶؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَة الوَطِي عَلَى القبورِ وَالْجُلُوسِ عَليها - جلد ۱ص۵۳۹،حدیث نمبر ١٠٥٠)
بسر بن عبداللہ نے بواسطہ واثلہ بن اسقع ابو مرثد غنوی رضی اللّٰہ عنہ سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث روایت کی۔ اس میں ابو ادریس کا واسطہ مذکور نہیں۔ اور یہ صحیح ہے امام ترمذی فرماتے ہیں۔ امام بخاری نے فرمایا۔ حدیث ابن مبارک میں خطا واقع ہوئی۔ ابن مبارک سے غلطی ہوئی۔ ابو ادریس خولانی کا واسطہ ذکر کیا (حالانکہ یہ واسطہ نہیں بلکہ) بسر بن عبید اللہ۔ بالا واسطہ۔ واثلہ بن اسقع سے روایت کرتے ہیں۔ متعدد راویوں نے یوں ہی عبدالرحمن بن یزید بن جابر سے ابو ادریس کی واسطہ کے بغیر روایت کیا ہے۔ بسر بن عبید اللہ کو واثلہ بن اسقع سے سماع حاصل ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۶؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَة الوَطِي عَلَى القبورِ وَالْجُلُوسِ عَليها - جلد ۱ص۵۳۹،حدیث نمبر ١٠٥١)
قبروں کو گیج کرنا اور اس پر لکھنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو چونا کرنے۔ ان پر لکھنے۔ عمارت بنانے اور ان کو روندنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ بعض علماء جن میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ بھی ہیں قبروں کو گارے سے لیسنے کی اجازت دی ہے۔ امام شافعی بھی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۷؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ تَجْصِيصِ الْقُبُورِ والكِتابَةِ عَلَيْها - جلد ۱ص۵۴۰،حدیث نمبر ١٠٥٢)
قبرستان میں داخل ہوتے وقت کیا کہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ کی قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ اے اہل قبور ! تمہیں سلام ہو اللہ تعالیٰ تمہاری اور ہماری مغفرت فرمائے۔ تم ہم سے پہلے پہنچے اور ہم تمہارے پیچھے پیچھے آنے والے ہیں۔ اس باب میں حضرت بریدہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن غریب ہے۔ ابو کدینہ کا نام یحییٰ بن مہلب ہے اور ابو ظبیان کا نام حصین بن جندب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۸؛مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ المَقَابِرَ، جلد ۱ص۵۴۰،حدیث نمبر ١٠٥٣)
زیارت قبور حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں زیارت قبور سے منع کرتا تھا۔ بلاشبہ اب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بس تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو۔ کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ اس باب میں حضرت ابو سعید۔ ابو مسعود۔ انس۔ ابو ہریرہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث بریدہ حسن صحیح ہے۔ علماء کا اس پر عمل ہے۔ اور وہ زیارت قبور میں کچھ حرج نہیں سمجھتے۔ ابن مبارک شافعی۔ احمد اور اسحاق رحمہم اللہ بھی اسی بات کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۱۹٫مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي زيارةِالْقُبُورِ، جلد ۱ص۵۴۱،حدیث نمبر ١٠٥٤)
حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ سے مروی ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کا مقام حبشی میں انتقال ہوا تو آپ کو مکہ مکرمہ لا کر دفن کیا گیا۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کی قبر پر تشریف لائی تو (اشعار میں) فرمایا ہم جزیمہ بادشاہ کے دو مصاحبوں کی طرح عرصہ دراز تک اکٹھے رہے۔ یہاں تک کہ کہا گیا ہرگز جدا نہیں ہوں گے۔ پس جب جدا ہو گئے تو گویا کہ مدت دراز تک اکٹھا رہنے کے باوجود میں اور مالک نے ایک رات بھی اکٹھے نہیں گزاری۔ پھر فرمایا۔ اللہ کی قسم ! اگر میں وہاں ہوتی تو تمہیں وہیں دفن کراتی جہاں تمہارا انتقال ہوا اور اگر میں حاضر ہوتی تو تمہاری زیارت نہ کرتی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۱؛مَاجَاءَ فِي زِيارةِ القُبورِ لِلنِّسَاءِ، جلد ۱ص۵۴۲،حدیث نمبر ١٠٥٥)
عورت کے لیے زیارت قبور کی ممانعت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (کثرت سے) قبور کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ اس باب میں حضرت ابن عباس اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یہ اس وقت تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور کی اجازت نہیں دی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت فرما دی تو یہ اجازت مردوں عورتوں دونوں کو شامل ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں۔ عورتوں کو زیارت قبور کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ان میں صبر کم اور رونا دھونا زیادہ ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۰؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَة زِيَارَة الْقُبُورِ لِلنِّسَاء -جلد ۱ص۵۴۱،حدیث نمبر ١٠٥٦)
رات کو دفن کرنا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ایک قبر میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چراغ جلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کو قبلہ کی طرف سے پکڑ کر فرمایا۔ اللہ تجھ پر رحم فرمائے تو بہت رونے والا اور کثرت سے تلاوت قرآن کرنے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (کے جنازہ) پر چار تکبیریں پڑھیں۔ اس باب میں حضرت جابر اور یزید بن ثابت۔ حضرت زید بن ثابت کے بڑے بھائی۔ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن ہے بعض علماء اسی طرف گئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میت کو قبلہ کی طرف سے داخل کیا جائے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں سر کی طرف سے کھینچا جائے۔ اکثر علماء نے رات کو دفنانے کی اجازت دی ہے۔ (جامع ترمذی شریف٫کتاب الجنائز،باب۷۲۱؛مَا جَاءَ فِي الدَّفِنُ بِاللَّيْلِ، جلد ۱ص۵۴۲،حدیث نمبر ١٠٥٧)
میت کے لیے اچھے کلمات کا استعمال حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا صحابہ کرام نے اس کی اچھی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(جنت)واجب ہو گئی،پھر فرمایا۔ تم زمین میں اللہ تعالی کے گواہ ہو۔ اس باب میں حضرت عمر۔ کعب بن عجرہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث انس حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۳؛مَا جَاءَ فِي الثَّنَاءِ الْحَسَنِ عَلَى الْمیِّتِ۔ جلد ۱ص۵۴۳،حدیث نمبر ١٠٥٨)
ابو اسود دیلی فرماتے ہیں۔ میں مدینہ طیبہ حاضر ہوا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا۔ اتنے میں کچھ لوگ جنازہ لے کر گزرے اور انہوں نے اس کی اچھی تعریف کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عن نے فرمایا۔ واجب ہو گئی۔ ابو اسود فرماتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کیا چیز واجب ہو گئی ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ میں اسی طرح کہتا ہوں جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس مسلمان کے حق میں تین آدمی گواہی دے دیں۔ اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ فرماتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا۔ اور دو ؟ آپ نے فرمایا ، ہاں تو بھی ، فرماتے ہیں ہم نے ایک کے بارے میں نہیں پوچھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح۔ ابو اسود دیلی کا نام ظالم بن عمرو بن سفیان ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۳؛مَا جَاءَ فِي الثَّنَاءِ الْحَسَنِ عَلَى الْمیِّتِ۔ جلد ۱ص۵۴۳،حدیث نمبر ١٠٥٩)
جس کا بچہ فوت ہو جائے اس کا ثواب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس مسلمان کی تین بچے فوت ہو جائے۔ اسے محض قسم پوری کرنے کے لیے آگ چھوئے گی۔اس باب میں حضرت عمر۔ معاذ کعب بن مالک۔ عتبہ بن عبد، ام سلیم۔ جابر۔ انس ابوذر۔ ابن مسعود۔ ابو ثعلبہ اشجعی۔ ابن عباس عقبہ بن عامر۔ ابو سعید اور قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ ابو ثعلبہ کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی ایک روایت ثابت ہے۔ اور یہ ابو ثعلبہ خشنی نہیں ہیں (وہ اور ہیں) امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۴؛مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ قَدَّمَ وَلَدًا، جلد ۱ص۵۴۴،حدیث نمبر ١٠٦٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے اپنے تین نابالغ بچوں کو آگے بھیجا۔ یعنی فوت ہوئے۔ وہ اس کے لیے مضبوط قلعہ ہوں گے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) میں دو بھیج چکا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دو بھی۔ سید القراء حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک بچہ آگے بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور ایک بھی۔ لیکن یہ( ثواب) پہلے صدمہ کے وقت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ابو عبیدہ کو اپنے والد سے سماع نہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۴؛مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ قَدَّمَ وَلَدًا، جلد ۱ص۵۴۴،حدیث نمبر ١٠٦١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ جس کے دو نابالغ بچے مر گئے وہ ان کے سبب جنت میں جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) جس کا ایک بچہ فوت ہو جائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بھلائی کی توفیق دی گئی ! ایک بچے والے کا بھی یہی حکم ہے۔ عرض کیا۔ اور جس کا کوئی بچہ فوت نہ ہوا ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں اپنی امت کا جنت کی طرف قائد ہوں۔ کیونکہ انہیں میرے وصال سے زیادہ کوئی صدمہ نہیں پہنچا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف عبد ربہ بن بارق کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ ان سے متعدد ائمہ نے روایت کی ہے۔ احمد بن سعید مرابطی نے بواسطہ ہلال عبد ربہ بارق سے اس کی ہم معنی حدیث روایت کی۔ سماک بن ولید حنفی سے ابو زمیل حنفی مراد ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۴؛مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ قَدَّمَ وَلَدًا، جلد ۱ص۵۴۴،حدیث نمبر ١٠٦٢)
شہداء کون ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ شہید پانچ (قسم کے) ہیں۔ طاعون سے مرنے والا۔ پیٹ کے درد سے مرنے والا۔ ڈوب جانے والے۔ (دیوار وغیرہ کے نیچے) دب کر مرنے والا اور جو اللہ کے راستے میں شہید ہو۔ اس باب میں حضرت انس۔ صفوان بن امیہ۔ جابر بن عتیک۔ خالد بن عرفطہ۔ سلیمان بن صرد۔ ابو موسیٰ۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۵؛مَا جَاءَ فِي الشُّهَدَاء مَنْ هُم؛ جلد ۱ص۵۴۵،حدیث نمبر ١٠٦٣)
ابواسحٰاق سبیعی سے روایت ہے۔ سلیمان بن صرد نے خالد بن عرفطہ سے یا خالد نے سلیمان سے پوچھا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا۔ جو پیٹ کے درد سے مر جائے وہ عذاب قبر سے محفوظ ہوگا۔ یہ سن کر دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا۔ ہاں۔ میں نے سنا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں اس باب میں یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اور متعدد طرق سے مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۵؛مَا جَاءَ فِي الشُّهَدَاء مَنْ هُم؛ جلد ۱ص۵۴۵،حدیث نمبر ١٠٦٤)
طاعون سے بھاگنا منع ہے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ یہ وہ عذاب ہے یا اس عذاب کا بقیہ ہے جو بنی اسرائیل پر بھیجا گیا۔ پس جب کسی جگہ طاعون پھیلے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو۔ اور اگر تم اس جگہ نہیں ہو جہاں طاعون پھیلا تو وہاں نہ جاؤ۔ اس باب میں حضرت سعد۔ خزیمہ ابن ثابت۔ عبدالرحمن بن عوف۔ جابر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۶؛مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْفِرَارِ مِنَ الطَّاعُونِ - جلد ۱ص۵۴۶،حدیث نمبر ١٠٦٥)
اللہ کی ملاقات چاہنا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالی سے ملاقات کرنا پسند کرے۔ اللہ تعالی کو اس کی ملاقات محبوب ہے۔ اور جسے اللہ تعالی کی ملاقات پسند نہ ہو اللہ تعالی اس سے ملاقات کو اچھا نہیں سمجھتا۔ اس باب میں حضرت ابو موسیٰ۔ ابوہریرہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۷؛مَا جَاءَ فِي مَنْ اَحَبَّ لِقَاءَ اللّٰهِ اَحَبَّ اللّٰهُ لِقَاءَ ه - جلد ۱ص۵۴۲،حدیث نمبر ١٠٦٦)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جسے اللہ تعالیٰ سے ملاقات محبوب ہو۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی ملاقات پسند ہے۔ اور جو اللہ تعالی سے ملاقات کو ناپسند کرے۔ اللہ تعالٰی کو اس سے ملاقات پسند نہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں ہر آدمی موت کو ناپسند کرتا ہے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ مطلب نہیں بلکہ جب مومن کو اللہ تعالی کی رحمت۔ رضامندی اور جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ تو اسے اللہ تعالٰی سے ملاقات کی خواہش ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالٰی کو اس سے ملاقات پسند ہوتی ہے۔ اور کافر کو جب اللہ تعالی کے عذاب اور ناراضگی کی خبر دی جاتی ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ناپسند کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو اس سے ملاقات پسند نہیں ہوتی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۷؛مَا جَاءَ فِي مَنْ اَحَبَّ لِقَاءَ اللّٰهِ اَحَبَّ اللّٰهُ لِقَاءَ ه - جلد ۱ص۵۴۲،حدیث نمبر ١٠٦٧)
خودکشی کرنے والے کا حکم حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ ایک شخص نے خود کشی کی تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتا ہو۔ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔ اور اسی طرح خودکشی کرنے والے کی بھی۔ سفیان ثوری اور اسحٰاق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں خودکشی کرنے والے پر امام نہ پڑھے۔ دوسرے لوگ پڑھیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۸؛مَا جَاءَ فِی مَنْ يَقْتُلُ نَفْسَهُ،جلد۱ص۵۴۷،حدیث نمبر ١٠٦٨)
قرض دار کی نماز جنازہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص( کا جنازہ) لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔ چونکہ۔ اس پر قرض ہے۔( اس لیے میں نہیں پڑھتا ) حضرت ابو قتادہ نے عرض کیا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) وہ میرے ذمہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پورا ادا کرو گے؟ عرض کیا۔ پورا ادا کروں گا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ پڑھی۔ اس باب میں حضرت جابر سلمہ بن اکوع اور اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو قتادہ حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۹؛مَا جَاءَ فِی المَدْيُونِ، جلد ۱ص۵۴۸،حدیث نمبر ١٠٦٩)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اگر ایسا شخص لایا جاتا جو قرض چھوڑ کر مرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے۔ کیا اس نے ادائیگی قرض کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ اگر کہا جاتا جی ہاں۔ اس نے چھوڑا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھتے ورنہ صحابہ کرام سے فرماتے اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فتوحات کے دروازے کھولے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ اور فرمایا میں مسلمانوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں۔ لہذا جو مسلمان قرض چھوڑ کر مر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے۔ اور اگر مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یحیی بن بکیر اور کئی دوسرے حضرات نے اسے لیث بن سعد سے روایت کیا ہے۔ ف: چونکہ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فرض عین نہ تھا اس لیے بطور تنبیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ پڑھتے لہٰذا ا قرض دار کا جنازہ پڑھنے سے ممانعت نہیں۔ مترجم۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۲۹؛مَا جَاءَ فِی المَدْيُونِ، جلد ۱ص۵۴۸, حدیث نمبر ١٠٨٠)
عذاب قبر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میت کو یا (فرمایا ) تم میں کسی ایک کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلگوں آنکھوں والے دو فرشتے اتے ہیں۔ ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔ وہ دونوں اس میت سے پوچھتے ہیں۔ اس (عظیم) شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتا تھا۔ وہ شخص وہی بات کہتا ہے جو دنیا میں کہتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے (خاص) بندے اور رسول ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی کہے گا۔ پھر اس کی قبر کو طولاً عرضاً ستر ستر ہاتھ کشادہ اور منور کیا جاتا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے۔ (آرام سے) سو جا وہ کہتا ہے میں واپس جا کر گھر والوں کو بتا آؤں وہ کہتے ہیں نہیں۔دلہن کی طرح سو جاؤ جس کو گھر والوں میں سے محبوب ترین شخص ہی اٹھاتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی اسے اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا۔ اور اگر منافق ہو تو کہتا ہے میں لوگوں سے کچھ سنا کرتا تھا۔ اور خود بھی کہتا تھا مجھے معلوم نہیں۔ فرشتے کہتے ہیں ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی بات کہے گا۔ پھر زمین سے کہا جاتا ہے اس پر مل جا بس وہ اس پر اکٹھی ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ وہ مسلسل عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کی خواب گاہ سے اٹھائے۔اس باب میں حضرت علی۔ زید بن ثابت۔ ابن عباس۔ براء بن عازب۔ ابو ایوب۔ انس۔ جابر۔ عائشہ۔ ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ عذاب قبر کے بارے میں ان سب نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں۔ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۳۰؛مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ، جلد ۱ص۵۴۹،حدیث نمبر ١٠٧١)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مرتا ہے۔ تو اس کا ٹھکانہ اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اگر جنتی ہے تو جنت اور دوزخی ہے تو دوزخ دکھائی جاتی ہے۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تجھے اٹھائے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۳۰؛مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ، جلد ۱ص۵۴۹،حدیث نمبر ١٠٧٢)
مصیبت زدہ کو تسلی دینا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے مصیبت زدہ کو تسلی دی اس کے لیے۔ مصیبت زدہ۔ کی مانند ثواب ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اسے مرفوعًا صرف علی بن عاصم کی روایت سے جانتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اسے محمد بن سوقہ سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی موقوفًا روایت کیا۔ کہا جاتا ہے بار ہا علی بن عاصم اسی حدیث کی بنا پر محدثین کے غضب کا نشانہ بنے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۳۱؛مَا جَاءَ فِي أَجْرِ مَنْ عَزّٰى مُصَابًا، جلد ۱ص۵۵۰،حدیث نمبر ١٠٧٣)
جمعہ کے دن مرنے والے کی فضیلت حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص جمعہ کے دن یا شب جمعہ مرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عذاب قبر سے محفوظ رکھتا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند متصل نہیں۔ ربیعہ بن سیف بواسطہ ابو عبدالرحمن حبلی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت ابن عمر سے انہیں سماع حاصل نہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۳۲؛مَا جَاءَ فِي مَنْ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،جلد۱ص۵۵۰،حدیث نمبر ١٠٧٤)
جنازہ جلدی لے جانا حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا اے علی ! تین کاموں میں دیر نہ کرو نماز جبکہ اس کا وقت ہو جائے۔ جنازہ جب حاضر ہو اور بیوہ عورت جب اس کے لیے کفو (مناسب رشتہ) مل جائے؛ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور میں اس کی سند کو متصل نہیں سمجھتا۔ جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۳۳؛مَا جَاءَ فِي تَعجِيلِ الجَنَازَةِ،جلد۱ص۵۵۱, حدیث نمبر ١٠٧٥)
فضیلت تعزیت حضرت ابو برزہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،جس نے ایسی عورت کی تعزیت کی جس کا لڑکا مر گیا ہو اسے جنت میں ایک چادر پہنائی جائے گی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے۔ اور اس کی سند قوی نہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۳۴؛أَخَرُ فِي فَضْلِ التَّعْزِيَةِ، جلد ۱ص۵۵۱،حدیث نمبر ١٠٧٦)
نماز جنازہ میں ہاتھ اٹھانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنازہ پر تکبیر کہی اور (صرف) پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھائے اور داہنے ہاتھ کو بائیں پر رکھا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں۔ علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے اکثر صحابہ کرام اور دوسرے علماء کے نزدیک جنازہ کی تمام تکبیروں میں ہاتھ اٹھائے جائیں،ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھائے سفیان ثوری اور اہل کوفہ) امام اعظم ابو حنیفہ) اور ان کے متبعین) رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔ ابن مبارک سے منقول ہیں کہ نماز جنازہ میں ہاتھ نہ باندھے جائیں۔ بعض علماء کا خیال ہے نماز کی طرح نماز جنازہ میں بھی ہاتھ باندھے جائیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں مجھے ہاتھ باندھنا زیادہ پسند ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۳۵؛مَا جَاءَ فِي رَفْعِ اليَدَيْنِ عَلَى الجَنَازَةِ،جلد۱ص۵۵۱،حدیث نمبر ١٠٧٧)
قرض کی ادائیگی تک مومن کی جان معلق رہتی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قرض کے سبب مومن کی جان لٹکی رہتی ہے یہاں تک ادا کر دیا جائے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۳۶؛مَا جَاءَ أَنَّ نَفَسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَينِهِ حَتّٰى يُقْضٰى عَنْهُ،جلد۱ص۵۵۲،حدیث نمبر ١٠٧٨)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قرض کے باعث مومن کی جان لٹکی رہتی ہے حتٰی کہ ادا کر دیا جائے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۳۶؛مَا جَاءَ أَنَّ نَفَسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَينِهِ حَتّٰى يُقْضٰى عَنْهُ،جلد۱ص۵۵۲،حدیث نمبر ١٠٧٩)
Tirmizi Shareef : Abwabul Janaiz
|
Tirmizi Shareef : أبواب الجنائز
|
•