
ابواب نکا ح حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چار چیزیں سنت انبیاء (علیہم السلام ) سے ہیں حیا کرنا،عطر لگانا،مسواک کرنا،اور نکاح کرنا،اس باب میں حضرت ثوبان،ابن مسعود،عائشہ،عبداللہ بن عمرو،جابر اور عکاف رضی اللہ عنہم سے بھی روایات،حدیث ابی ایوب حسن غریب ہے، عباد بن عوام نے باواسطہ حجاج،مکحول اور ابو الشمال حضرت ایوب رضی اللہ عنہ سے،حدیث حفص کی مثل مرفوع حدیث روایت کی،اس حدیث کو ہشیم اور محمد بن یزید واسطی،ابو معاویہ اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ حجاج اور مکحول حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا،ابو شمال کا واسطہ مذکور نہیں حفص بن غیاث اور عباد بن عوام کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۷؛ابواب النکاح عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَی اللَّہِ عَلَیْہِ وَسَلَّم، جلد ۱ص۵۵۲،حدیث نمبر ١٠٨٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نکلے اس وقت ہم جوان تھے ،ہمارے پاس مال و متاع کچھ نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے نوجوانو ! نکاح کرو کیونکہ یہ نگاہ اور شرمگاہ کو زیادہ محفوظ رکھتا ہے۔ جسے نکاح کی طاقت نہ ہو وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے (گناہوں سے) خصی ہونے کے مترادف (یعنی رکاوٹ )ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حسن بن علی خلال نے باواسطہ عبداللہ بن نمیر اور اعمش ،عمارہ سے اس کے ہم معنی روایت بیان کی۔ کئی حضرات نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اعمش،ابراہیم اور علقمہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۷؛ابواب النکاح عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَی اللَّہِ عَلَیْہِ وَسَلَّم، جلد ۱ص۵۵۲،حدیث نمبر ١٠٨١)
ترک نکاح کی ممانعت حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجرد سے منع فرمایا،زید بن اخزم نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی" ولقد ارسلنا رُسُلًا مِںْ قَبْلکَ الخ " اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کی بیویاں اور اولاد بنائی) اس باب میں حضرت سعد، انس بن مالک،عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث سمرہ حسن غریب ہے، اشعث بن عبدالملک نے بواسطہ حسن اور سعد بن ہشام،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث روایت کی۔ کہا گیا ہے کہ دونوں روایتیں صحیح ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۸؛مَا جَاءَ فِی النّہيِ عَنِ التَّبتُّلِ،جلد۱ص۵۵۴،حدیث نمبر ١٠٨٢)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی ترک نکاح کی درخواست رد فرما دی اور اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم سب خصی ہو جاتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۸؛مَا جَاءَ فِی النّہيِ عَنِ التَّبتُّلِ،جلد۱ص۵۵۴،حدیث نمبر ١٠٨٣)
نکاح کے لیے دیندار کا انتخاب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں ایسا شخص نکاح کا پیغام دے جس کا دین و اخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے نکاح کر دو اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بہت بڑا فتنہ بپا ہوگا،اس باب میں حضرت ابو حاتم مزنی اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابو ہریرہ میں عبدالحمید بن سلیمان کی روایت کی مخالفت کی گئی ہے،لیث بن سعد نے بواسطہ ابن عجلان،حضرت ابوہریرہ سے مرسلًا روایت کی ابن عثیمین کا واسطہ مذکور نہیں،امام بخاری نے لیث کی روایت کو عمدہ کہا اور عبدالحمید کی روایت محفوظ شمار نہیں کی، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۹؛مَا جَاءَ فِي مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ فزَوِّجوهُ،جلد۱ص۵۵۴،حدیث نمبر ١٠٨٤)
حضرت ابو حاتم مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس سے نکاح کرو،اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد ہوگا،(دو مرتبہ فرمایا) صحابہ کرام نے عرض کیا،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگرچہ اس میں (کفو اور مال کے اعتبار سے) کچھ کمی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) فرمایا جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو تو اسے نکاح کر کے دو (تین مرتبہ فرمایا ) یہ حدیث غریب ہے ابوحاتم کی صحابیت ثابت ہے البتہ ہمیں اس حدیث کے علاوہ ان سے کوئی روایت معلوم نہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۳۹؛مَا جَاءَ فِي مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ فزَوِّجوهُ،جلد۱ص۵۵۴،حدیث نمبر ١٠٨٥)
تین صفات پر نکاح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،عورت سے اس کے دین،مال اور جمال،(کی بنا )پر نکاح کیا جاتا ہے لہذا تم دیندار عورت سے نکاح کرنا، تمہارے ہاتھ خاک الود ہوں گے،اس باب میں حضرت عوف بن مالک،عائشہ،عبداللہ بن عمرو اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۰؛مَا جَاءَ فِي مَنْ يَنْكِحُ عَلٰى تَلٰثِ خِصَالٍ، جلد ۱ص۵۱۵, حدیث نمبر ١٠٨٦)
منگیتر کو دیکھنا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے ایک عورت سے منگنی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے دیکھ لو تمہاری باہمی محبت کو قائم رکھنے کے لیے یا زیادہ مناسب ہے،اس باب میں حضرت محمد بن سلمہ،جابر،انس،ابو حمید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،یہ حدیث حسن ہے،بعض علماء نے اس حدیث کے مطابق فرمایا کہ ( منگیتر) عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرط کہ حرام جگہ نہ دیکھے،امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک"أَحرٰى اَنْ تَدُوْمَ الْمَوْدَةُ بَيْنَكُمَا" کے معنی یہ ہیں کہ تمہارے درمیان محبت کے ہمیشہ رہنے کے لیے زیادہ مناسب ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۱؛مَاجَاءَ فِی النَّظْرِ اِلَى الْمَخْطُوْبَةِ،جلد۱ص۵۵۵،حدیث نمبر ١٠٨٧)
اعلان نکاح حضرت محمد بن جمحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،حلال و حرام کے درمیان دف اور تشہیر (سے) فرق ہے، اس باب میں حضرت عائشہ،جابر اور ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہ سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث محمد بن حاطب حسن ہیں، ابو بلخ کا نام یحییٰ بن ابی سلیم ہے،ابن سلیم بھی کہا جاتا ہے۔ محمد بن حاطب نے بچپن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۲؛مَا جَاءَ فِي إِعْلَانِ النِّكَاحِ، جلد ۱ص۵۵۶،حدیث نمبر ١٠٨٨)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نکاح کی تشہیر کرو،مسجدوں میں نکاح کرو اور ان مواقع پر دف بجایا کرو،اس باب میں یہ حدیث حسن غریب ہے،یہ عیسیٰ بن میمون انصاری کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے،ابن ابی نجیح سے تفسیر روایت کرنے والے عیسیٰ بن میمون ثقہ ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۲؛مَا جَاءَ فِي إِعْلَانِ النِّكَاحِ، جلد ۱ص۵۵۶،حدیث نمبر ١٠٨٩)
حضرت ربیع بن معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں میری شب زفات کی صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے جہاں(اے خالد بن ذقوان) تم بیٹھے ہو ہمارے خاندان کی لڑکیاں دف بجا رہی تھی اور جنگ بدر میں شہید ہونے والے میرے باپ دادا کی تعریف کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا،ہم میں سے ایسے نبی بھی ہیں جو کل ہونے والی بات کو بھی جانتے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات سے خاموش رہو، اور وہی کلمات کہو جو پہلے کہتی تھی،یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۲؛مَا جَاءَ فِي إِعْلَانِ النِّكَاحِ، جلد ۱ص۵۵۶،حدیث نمبر ١٠٩٠)
نکاح کرنے والے کو کیا الفاظ کہے جائیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب کوئی آدمی نکاح کرتا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو مبارکباد دیتے ہوئے اس کے لیے یوں دعا فرماتے،اللہ تعالیٰ مبارک کرے تمہیں برکت دے اور تم دونوں کو بھلائی میں جمع کریں،اس باب میں حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی روایات ہے حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۳؛مَا يُقَالُ لِلْمُتَزَوجِ،جلد۱ص۵۵۴, حدیث نمبر ١٠٩١)
بیوی کے پاس جائے تو کیا کہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-جب تم میں سے کوئی ایک اپنی بیوی کے پاس جائے تو یہ کلمات کہے" اللہ کے نام کے ساتھ اے اللہ! ہم نے شیطان سے دور رکھ اور ہمیں جو اولاد دے اسے بھی شیطان سے دور رکھ تو اگر اللہ تعالیٰ نے اس کے درمیان اولاد مقدر کی ہوگی تو اسے شیطان نقصان نہیں پہنچائے گا،یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۴؛مَا جَاءَ فِيمَا يَقُولُ إِذَا دَخَلَ عَلٰى اَهْلِهٖ، جلد ۱ص۵۵۷،حدیث نمبر ١٠٩٢)
نکاح کے لیے اچھے اوقات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں نکاح کیا اور شوال ہی میں شب زفاف گزاری" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پسند فرماتی تھی کہ ان ( کے خاندان )کی عورتوں کے ساتھ شوال ہی میں شب زفاف منائی جائے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے صرف بواسطہ اسماعیل،سفیان ثوری کی روایت سے پہچانتے ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۵؛مَا جَاءَ فِی الْأَوْقَاتِ الَّتِیْ يَسْتَحِبُّ فِيْهَا النِّكَاحُ، جلد ۱ص۵۵۸،حدیث نمبر ١٠٩٣)
ولیمہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ( کے کپڑوں) پر زردی کا اثر دیکھ کر پوچھا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا میں نے گٹھلی بھر سونے کے عوض ایک عورت سے نکاح کیا ہے،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے دعوت ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔ اس باب میں حضرت ابن مسعود،عائشہ،جابر اور زہیر بن عثمان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث انس حسن صحیح ہے امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں گٹھلی بھر سونے سے مراد سوا تین درہم ہیں اسحاق فرماتے ہیں" پانچ درہم ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛ باب۷۴۵؛مَا جَاءَ فِي الأَوقَاتِ الَّتِيْ يَسْتَحِبُّ فِيها النكاحِ، جلد ۱ص۵۵۸،حدیث نمبر ١٠٩٤)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا (سے نکاح ) پر ستو اور کھجوروں سے ولیمہ کیا یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛ باب۷۴۵؛مَا جَاءَ فِي الأَوقَاتِ الَّتِيْ يَسْتَحِبُّ فِيها النكاحِ، جلد ۱ص۵۵۸،حدیث نمبر ١٠٩٥)
محمد بن یحییٰ نے بواسطہ حمیدی،سفیان سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی متعدد حضرات نے یہ حدیث بواسطہ ابن عینیہ اور زہری حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی لیکن اس میں وائل اور نوف کا واسطہ مذکور نہیں سفیان بن عیینہ نے اس حدیث میں تدلیس کرتے ہوئے بعض اوقات وائل اور نوف کا ذکر کیا اور کبھی نہیں کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛ باب۷۴۵؛مَا جَاءَ فِي الأَوقَاتِ الَّتِيْ يَسْتَحِبُّ فِيها النكاحِ، جلد ۱ص۵۵۸،حدیث نمبر ١٠٩٦)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے دن کا کھانا واجب ہے،دوسرے دین کا سنت اور تیسرے دن کا کھانا سنانا (ریاکاری) ہے اور جو کوئی شہرت تلاش کرے اللہ تعالی اسے اس کا بدلہ دے گا۔ ہم حدیث ابن مسعود کو مرفوعًا صرف زیاد بن عبداللہ کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ زیاد بن عبداللہ بہت غریب اور منکر حدیثیں روایت کرتا ہے میں نے امام بخاری سے سنا وہ محمد بن عقبہ کے واسطہ سے وکیع کا قول نقل کرتے ہیں کہ زیاد بن عبداللہ شرافت کے باوجود جھوٹ کہتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛ باب۷۴۵؛مَا جَاءَ فِي الأَوقَاتِ الَّتِيْ يَسْتَحِبُّ فِيها النكاحِ، جلد ۱ص۵۵۸،حدیث نمبر ١٠٩٧)
دعوت قبول کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دعوت دی جائے تو قبول کرو،اس باب میں حضرت علی، ابوہریرہ،براء،انس اور ابو ایوب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۷؛مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّاعِى،جلد۱ص۵۵۹،حدیث نمبر ١٠٩٨)
بن بلائے دعوت ولیمہ میں جانا حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ابو شعیب نامی ایک شخص اپنے گوشت فروش غلام کے پاس آیا اور کہا میرے لیے اتنا کھانا تیار کرو جو پانچ آدمیوں کو کفایت کرے( کیونکہ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے اقدس پر بھوک کے آثار دیکھے ہیں،اس نے کھانا تیار کیا پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم مجلس تشریف لائیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو ایک ایسا شخص بھی ساتھ ہو گیا جو دعوت دیتے وقت اس کے ساتھ نہ تھا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دینے والے کے دروازے پر پہنچے تو صاحب منزل سے فرمایا ہمارے پیچھے ایک ایسا بھی شخص آیا ہے جو دعوت دیتے وقت نہ تھا اگر اجازت دو تو داخل ہو، اس نے کہا ہم نے اجازت دی وہ بھی آجائے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۸؛مَاجَاءَ فِی مَن يَجِىْءُ إلى الْوَلِيْمَةِ بِغَيْرِ دَعْوَةِ، جلد ۱ص۵۵۹،حدیث نمبر ١٠٩٩)
کنواری لڑکیوں سے نکاح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے جابر ! کیا تو نے نکاح کیا ؟ میں نے عرض کیا "جی ہاں " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے ؟ میں نے عرض کیا ،بیوہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کنواری سے شادی کیوں نہیں کی تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد) حضرت عبداللہ سات یا نو لڑکیاں چھوڑ کر فوت ہوئے لہٰذا ا میں ایسی عورت لایا ہوں جو ان کی نگرانی کر سکے فرماتے ہیں ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے برکت کی دعا فرمائی" اس باب میں حضرت ابی بن کعب اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۴۹؛مَا جَاءَ فِي تَزْوِيجِ الْاَبْكَارِ، جلد ۱ص۵۶۰،حدیث نمبر ١١٠٠)
ولی کے بغیر نکاح حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا" اس باب میں حضرت عائشہ،ابن عباس،ابو ہریرہ،عمران بن حصین اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۰۵؛مَا جَاءَ لَا نِكَاحَِ الَّا بِوَلِي -جلد ۱ص۵۶۰،حدیث نمبر ١١٠١)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے،(تین مرتبہ فرمایا) اگر جماع کیا تو مہر واجب ہو جائے گا کیونکہ مرد نے اس کی شرمگاہ سے فائدہ اٹھایا۔ اگر اختلاف ہو جائے تو بادشاہ وقت اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو ، یہ حدیث حسن ہے یحییٰ بن سعید انصاری، یحییٰ بن ایوب، سفیان ثوری اور کئی دوسرے حفاظ نے اسے ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے حضرت ابو موسیٰ کی روایت میں اختلاف ہے۔ اسرائیل،شریک بن عبداللہ ابو عوانہ، زہیر بن معاویہ اور قیس بن ربیع نے بواسطہ ابو اسحاق اور ابو ہریرہ،حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت کی۔ اسباط بن محمد اور زید بن حباب بواسطہ یونس بن ابی اسحاق اور ابو اسحاق حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ ابو عبیدہ حداد بواسطہ یونس بن ابی اسحاق اور ابو ہریرہ،حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ ابو اسحاق کا واسطہ مذکور نہیں۔ بعض اوقات بواسطہ یونس بن ابی اسحاق ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کی گئی ہے۔ شعبہ اور ثوری نے بواسطہ ابو اسحاق حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث روایت کی کہ ، ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، بعض اصحاب سفیان نے بواسطہ سفیان، ابو اسحاق اور ابوہریرہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کیا۔ اور یہ صحیح نہیں۔ جن لوگوں نے بواسطہ ابو اسحاق اور ابو ہریرہ،حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ان کی روایت میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ ابو اسحاق سے ان کا سماع مختلف اوقات میں ہے۔ اگرچہ شعبہ اور ثوری ان تمام رواۃ سے زیادہ حافظ اور اثبت ہیں۔ لیکن ان کی روایت میرے نزدیک صحیح ہے کیونکہ شعبہ اور ثوری نے ابو اسحاق سے ایک ہی مجلس میں سنی ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ شعبہ کہتے ہیں میں نے سنا کہ سفیان ثوری ابو اسحٰق سے پوچھ رہے تھے کیا آپ نے ابو ہریرہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ، انہوں نے فرمایا ہاں (میں نے سنا ہے) اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ شعبہ اور ثوری دونوں نے ایک ہی وقت میں یہ حدیث سنی۔ اب وہ اسحاق کی روایت میں اسرائیل اثبت ہے۔ میں نے محمد بن مثنیٰ سے سنا فرماتے ہیں میں نے عبدالرحمٰن مہدی کو کہتے ہوئے سنا کے بواسطہ ثوری ابو اسحاق کی جو روایات میں نہیں لے سکا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اسرائیل پر اعتماد کیا اس لیے وہ پوری حدیث بیان کرتا ہے۔ اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ، کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں حسن ہے۔ ابن جریج نے بواسطہ سلیمان بن موسیٰ، زہری اور عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث بیان کی۔ جاج بن ارطاہ اور جعفر بن ربیعہ نے بواسطہ زہری اور عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسے بیان کیا۔ہشام بن عروہ بواسطہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔ بواسطہ عروہ زہری کی روایت میں بعض محدثین نے کلام کیا ہے ابن جریج کہتے ہیں میں نے زہری سے ملاقات کی اور دریافت کیا تو انہوں نے انکار کر دیا بنا بریں محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں ابن جریج کے یہ الفاظ اسماعیل بن ابراہیم نے نقل کیے ہیں۔ اور ابن جریج سے اسماعیل بن ابراہیم کا سماع کچھ زیادہ صحیح نہیں۔ انہوں نے اپنی کتب عبدالحمید بن عبدالعزیز بن رواد کی کتب سے صحیح کی ہیں۔ ابن جریج سے خود نہیں سنا یحییٰ نے ابن جریج سے اسماعیل بن ابراہیم کی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اس باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے ولی کے بغیر نکاح نہیں۔ پر بعض صحابہ کرام کا عمل ہے حضرت عمر بن خطاب،علی بن ابی طالب عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ وغیرہم رضی اللہ عنہم ان میں شامل ہیں،بعض تابعی فقہاء سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں۔ سعید بن مسیب حسن بصری۔ شریح، ابراہیم نخعی ، عمر بن عبدالعزیز وغیرہم ان تابعین میں شامل ہیں۔ سفیان ثوری ، اوزاعی ،مالک،عبداللہ بن مبارک،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے ،، (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۰۵؛مَا جَاءَ لَا نِكَاحَِ الَّا بِوَلِي -جلد ۱ص۵۶۰،حدیث نمبر ١١٠٢)
گواہوں کے بغیر نکاح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گواہوں کے بغیر نکاح کرنے والی عورتیں زانیہ ہیں ، یوسف بن حماد کہتے ہیں عبدالاعلٰی نے تفسیر کے باب یہ حدیث مرفوع بیان کی جبکہ طلاق کے ضمن موقوف روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح،باب۷۵۱؛مَا جَاءَ لَا نِكَاحَ الأَبينَةِ، جلد ۱ص۵۶۳،حدیث نمبر ١١٠٣)
قتیبہ نے بواسطہ غندر، سعید سے اس کے ہم معنی موقوف حدیث روایت کی اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ یہ حدیث غیر محفوظ ہے عبدالاعلٰی بواسطہ سعید اور قتادہ کی روایت کے علاوہ کوئی دوسرا ہمارے علم میں نہیں جس نے اس سے مرفوع بیان کیا ہو۔ عبدالاعلٰی سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ صحیح روایت وہ ہے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی جاتی ہے کہ گواہوں کے بغیر نکاح نہیں،کئی لوگوں نے سعید بن ابی عروبہ سے اس طرح موقوفًا روایت کیا ہے۔ اس باب میں حضرت عمران بن حصین۔ انس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ صحابہ کرام تابعین اور بعد کے علماء کا اس پر عمل ہے کہ گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہمارے نزدیک متقدمین کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ بعض متاخرین علماء نے اختلاف کیا ہے یکے بعد دیگر دو آدمی گواہی دے تو اس بارے میں علماء باہم مختلف ہیں۔ اکثر علماء کوفہ وغیرہم کے نزدیک جب تک نکاح میں دونوں گواہ موجود نہ ہوں۔ نکاح نہیں ہوتا بعض اہل مدینہ کے نزدیک اگر اعلان کر دیا جائے تو آگے پیچھے گواہی دینے سے نکاح جائز ہو جاتا ہے۔ امام مالک بن انس کا یہی قول ہے اسحٰق بن ابراہیم کی بھی یہی رائے ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک نکاح میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت جائز ہے۔ امام احمد اور اسحٰاق اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح،باب۷۵۱؛مَا جَاءَ لَا نِكَاحَ الأَبينَةِ، جلد ۱ص۵۶۳،حدیث نمبر ١١٠٤)
خطبہ نکاح حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز اور حاجت (یعنی نکاح) تشہد سکھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کا تشہد یہ ہے ،، تمام قولی بدنی اور مالی عبادتیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اے( نبی صلی اللہ علیہ وسلم) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں و برکتیں ہوں ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے (خاص) بندے اور رسول ہیں،،نکاح کا خطبہ یہ ہے،، تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کو سزاوار ہیں ہم اس سے مدد مانگتے ہیں اور بخشش چاہتے ہیں۔ اپنے نفسوں کی شرارتوں اور اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں۔ اللہ تعالٰی جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کرے اس کے لیے کوئی حادی نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کے (خاص )بندے اور رسول ہیں۔ اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تین آیات پڑھتے تھے۔ عبثر بن قاسم کہتے ہیں سفیان ثوری نے ان کی تفصیل یوں بیان کی۔ (۱) اللہ سے اس طرح ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے اور حالت اسلام میں ہی تمہیں موت آئے،(۲) اللہ تعالٰی سے ڈرو جس کے نام پر سوال کرتے ہو اور رشتہ داروں کا خیال رکھو اللہ تعالٰی تم پر نگران ہے۔ (۳) اللہ تعالٰی سے ڈرو اور سیدھی بات کہو، اس باب میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مروی ہے۔ حدیث عبداللہ حسن ہے۔ اعمش نے بواسطہ ابو اسحٰاق اور ابو حوص، اور شعبہ نے بواسطہ ابو اسحٰاق اور ابو عبید اللہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مرفوعًا روایت کی۔ دونوں حدیثیں صحیح ہیں کیونکہ اسرائیل نے ان دونوں کو جمع کیا اور کہا بواسطہ ابو اسحٰاق ابو احوص، اور ابو عبیدہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں خطبہ کے بغیر بھی نکاح جائز ہے۔ سفیان ثوری اور دوسرے علماء کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۵۲؛مَا جَاءَ فِي خُطْبَةِ النِّكَاحِ، حدیث نمبر ١١٠٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس خطبہ میں تشہد نہ ہو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے، یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۵۲؛مَا جَاءَ فِي خُطْبَةِ النِّكَاحِ، جلد ۱ص۵۶۴،حدیث نمبر ١١٠٦)
کنواری اور بیوہ عورت سے اجازت طلبی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،بیوہ عورت سے اجازت لیے بغیر اس کا نکاح نہ کیا جائے اور کنواری سے بھی اجازت لے کر ہی نکاح کیا جائے۔ اور اس کی اجازت خاموش رہنا ہے۔ اس باب میں حضرت عمر،ابن عباس،عائشہ اور عرس عمیرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے علماء کا اس پر عمل ہے کہ بیوہ کی اجازت لے کر اس کا نکاح کیا جائے۔ اور اگر اس کا باپ بلا اجازت اس کا نکاح کر دے تو یہ مکروہ ہے۔ اور عام علماء کے نزدیک یہ نکاح ٹوٹ جائے گا۔اگر باپ کنواری لڑکی کا نکاح کر کے دے تو اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ اکثر علماء کوفہ اور دوسرے لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اگر باپ نے بالغہ کنواری لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کیا اور وہ اس پر راضی نہیں تو یہ نکاح ٹوٹ گیا۔ بعض علماء مدینہ کے نزدیک کنواری لڑکی کا باپ اس کا نکاح کر دے تو اس کی عدم رضا کے باوجود بھی جائز ہے۔ امام مالک بن انس۔ شافعی احمد اور اسحٰاق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف، کتاب النکا ح، باب۷۵۳،مَا جَاءَ فِي اسْتِيمَارِ الْبِكْرِ والثَّيِّبِ، جلد ۱ص۵۶۶،حدیث نمبر ١١٠٧)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، بالغہ عورت اپنے نفس کی ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری سے اجازت لی جائے اور اس کی اجازت خاموش رہنا ہے،، یہ حدیث حسن صحیح ہے،شعبہ اور سفیان ثوری نے اسے مالک بن انس سے روایت کیا بعض لوگوں نے اس حدیث سے استدلال کیا کہ ولی کے بغیر نکاح ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ متعدد طرق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ،، ولی کے بغیر نکاح نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی پر فتویٰ بھی دیا ہے۔ اور فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک کہ،، بالغہ،، اپنے نفس کی ولی سے زیادہ حقدار ہے۔ کا مطلب اکثر علماء کے نزدیک یہ ہے کہ ولی اس کی رضامندی اور اجازت کے بغیر نکاح کر کے نہ دے اگر کر کے دے گا تو نکاح ٹوٹ جائے گا۔جس طرح حدیث حنساء بنت خدام سے ثابت ہے۔ کہ وہ بیوہ تھی اور ان کے والد نے ان کی مرضی کے بغیر نکاح کر کے دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رد فرما دیا۔ (جامع ترمذی شریف، کتاب النکا ح، باب۷۵۳،مَا جَاءَ فِي اسْتِيمَارِ الْبِكْرِ والثَّيِّبِ، جلد ۱ص۵۶۶،حدیث نمبر ١١٠٨)
کنواری بالغہ لڑکی کا زبردستی نکاح کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،بالغہ کنواری لڑکی سے اس کے متعلق اجازت لی جائے اگر خاموش ہو جائے تو یہ اس کی طرف سے اجازت ہے اور اگر انکار کرے تو اس پر کوئی جبر نہیں۔ اس باب میں حضرت ابو موسیٰ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن ہے۔ علماء کا نابالغ یتیمہ لڑکی کی نکاح میں اختلاف ہے بعض علماء کے نزدیک اگر نکاح کر دیا گیا تو یہ موقوف ہوگا۔ بلوغت پر اسے رکھنے اور توڑنے کا اختیار ہے تابعین وغیرہم کا یہی قول ہے بعض علماء کے نزدیک یہ یتیمہ کا نکاح بلوغت سے پہلے جائز نہیں۔ اور نکاح میں اختیار بھی نہیں۔ سفیان ثوری شافعی اور دوسرے علماء کا یہی نظریہ ہے۔ امام احمد اور اسحٰاق فرماتے ہیں یتیمہ نو سال کی ہو جائے تو اس کی مرضی سے کیا گیا نکاح جائز ہے۔بالغ ہونے پر( توڑنے کا) اختیار نہیں۔ ان دونوں حضرات نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے استدلال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شب زفاف گزاری تو اس وقت ان کی عمر نو سال تھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے لڑکی نو سال کی عمر میں عورت کہلاتی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۵۴؛مَا جَاءَ فِي إِكْرَاهِ الْيَتِيمَةِ عَلَى التَّزوِيْجِ، جلد ۱ص۵۶۷،حدیث نمبر ١١٠٩)
دو ولی نکاح کر کے دیں تو کیا حکم ہے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس عورت کا نکاح دو ولی کرائیں تو وہ پہلے کے لیے ہیں۔ اور ( اسی طرح )اگر کوئی شخص دو آدمیوں پر کچھ بیچے تو وہ بھی پہلے کے لیے ہے،،یہ حدیث حسن ہے۔ علماء کا اس پر عمل ہے اور اس مسئلہ میں ان کا کوئی اختلاف نہیں۔ اگر دو ولیوں میں سے ایک پہلے نکاح کر کے دے۔ اور دوسرا بعد میں تو پہلے کا نکاح جائز ہے اور دوسرے کا ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر دونوں ایک ساتھ کرے تو دونوں نکاح فسخ ہو جائیں گے۔ سفیان ثوری،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل ہیں، (جامع ترمذی شریف؛کتاب الجنائز؛باب۷۵۵؛مَا جَاءَ فِي الوَليّينِ يُزَوِجَانِ، جلد ۱ص۵۶۸،حدیث نمبر ١١١٠)
مالک کی اجازت بغیر غلام کا نکاح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،اپنے مالک سے اجازت حاصل کیے بغیر نکاح کرنے والا غلام زانی ہے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہیں۔ حدیث جابر حسن ہے۔ بعض حضرات نے یہ حدیث بواسطه عبداللہ بن محمد بن عقیل حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کی اور یہ صحیح نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین کا اسی پر عمل ہے کہ مالک کی اجازت بغیر غلام کا نکاح صحیح نہیں۔ امام احمد اسحٰق اور دوسرے حضرات رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۶؛مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ الْعَبْدِ بِغَيرِ اِذْنِ سَیْدِهٖ ، جلد ۱ص۵۶۸،حدیث نمبر ١١١١)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،، جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے وہ زانی ہے۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۶؛مَا جَاءَ فِي نِكَاحِ الْعَبْدِ بِغَيرِ اِذْنِ سَیْدِهٖ ، جلد ۱ص۵۶۸،حدیث نمبر ١١١٢)
عورتوں کا مہر حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بنی فزارہ کی ایک عورت نے جوتوں کے ایک جوڑے پر اپنا نکاح کیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا تو دو جوتوں کے بدلے اپنا نفس اور مال دینے پر راضی ہو گئی ؟ اس نے عرض کیا ،،ہاں،،(یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت عامر فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نکاح جائز رکھا اس باب میں حضرت عمر۔ ابو ہریرہ،سہیل بن سعد۔ ابو سعید،انس،عائشہ،جابر اور ابو حدرد اسلمی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث عامر بن ربیعہ حسن صحیح ہے مہر کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء کے نزدیک جس پر فریقین راضی ہو جائیں (وہی مہر ہے) سفیان ثوری ،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے، امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک مہر چار دینار سے کم نہیں۔ بعض اہل کوفہ فرماتے ہیں مہر دس درہم سے کم نہیں ہوتا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۷؛مَا جَاءَ فِي مُهُورِ النِّسَاء، جلد ۱ص۵۶۹،حدیث نمبر ١١١٣)
حضرت سہیل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ ایک عورت بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا میں نے اپنی جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دی پھر وہ دیر تک کھڑی رہی۔ ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاجت نہ ہو تو اسے میرے نکاح میں دے دیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تیرے پاس مہر میں دینے کے لیے کچھ ہے۔ عرض کیا میرے پاس صرف یہی تہبند ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ تہبند تو اسے دے دے گا تو پھر ننگا بیٹھ جائے گا۔ کچھ اور تلاش کر لاؤ اس نے عرض کیا میرے پاس کچھ بھی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تلاش کرو اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو راوی فرماتے ہیں اس نے تلاش کیا لیکن کچھ نہ پایا اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تجھے قرآن سے کچھ یاد ہے۔ اس نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! فلاں فلاں صورتیں یاد ہیں (سورتوں کا نام لیا) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ان سورتوں کے بدلے جو تجھے یاد ہیں۔ اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں اگر کچھ نہ پایا اور قرآن پاک کی سورت پر ہی نکاح کر لیا تو بھی جائز ہے۔ عورت کو قرآن کی سورتیں سکھا دیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں نکاح جائز ہے۔ اور مہر مثل واجب ہو جائے گا۔ اہل کوفہ احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۷؛مَا جَاءَ فِي مُهُورِ النِّسَاء، جلد ۱ص۵۶۹،حدیث نمبر ١١١٤)
آزاد کردہ لونڈی سے نکاح کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ہی مہر قرار دیا،اس باب میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دوسرے حضرات کا اس پر عمل ہے۔ امام شافعی۔ احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ البتہ بعض علماء کے نزدیک آزادی کو ہی مہر قرار دینا مکروہ ہے بلکہ آزادی کے علاوہ مہر مقرار کیا جائے۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۸؛مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُعتِقُ الْاَمَةَ ثمَّ يَتَزَوَجَهَا، جلد ۱ص۵۷۱،حدیث نمبر ١١١٥)
آزاد کردہ لونڈی سے نکاح کی فضیلت حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمیوں کو دوہرا ثواب دیا جائے گا وہ غلام جس نے اللہ تعالٰی اور اپنے مالک کا حق ادا کیا۔اسے دو گنا ثواب ملے گا۔ وہ شخص جس کے پاس خوبصورت لونڈی ہو وہ اس کی اچھی طرح تربیت کرے پھر اسے آزاد کر کے محض رضا الہی کے لیے نکاح کر لیا اسے بھی دو گنا ثواب ملے گا اور (تیسرا) وہ شخص جو پہلی (الہامی) کتاب پر ایمان لایا پھر دوسری کتاب آئی تو اس پر بھی ایمان لایا اس کے لیے بھی دو گنا ثواب ہے۔ ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان۔ صالح بن صالح (ابن حی) شعبی اور ابو ہریرہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث روایت کی حدیث ابو موسٰی حسن صحیح ہے ابو ہریرہ بن ابو موسٰی کا نام عامر بن عبداللہ بن قیس ہے۔ شعبہ اور ثوری نے یہ حدیث صالح بن صالح بن حی سے روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۵۹؛مَاجَاءَ فِي الْفَضْلِ فِي ذَلِكَ، جلد ۱ص۵۷۱،حدیث نمبر ١١١٦)
منکوحہ کو صحبت سے پہلے طلاق دی تو اس کی لڑکی سے نکاح کا کیا حکم ہے۔ حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی کسی عورت سے نکاح کر کے اسے صحبت بھی کرے اس کے لیے اس عورت کی لڑکی سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اگر صحبت نہیں کی تو لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے اور جو آدمی کسی عورت سے نکاح کرے تو جماع کریں یا نہ کرے اس کی ماں سے نکاح نہیں کر سکتا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں۔ اسے ابن لہیعہ اور مثنی بن صباح نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا اور یہ دونوں حدیث میں ضعیف قرار دیے گئے ہیں۔ اس حدیث پر اکثر علماء کا عمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے۔ پھر صحبت سے پہلے طلاق دے دے تو اس کی لڑکی سے نکاح جائز ہے۔ اور اگر لڑکی سے نکاح کیا اور صحبت سے پہلے طلاق (بھی) دے دی تو (پھر بھی) اس کی ماں سے نکاح جائز نہیں۔ کیونکہ ارشاد خداوندی ہے۔ اور تمہاری بیویوں کی مائیں۔ تم پر حرام ہے۔ امام شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب نکاح؛باب۷۶۰؛مَا جَاءَ فِي مَنْ يَتَزَوجُ الْمَرْأةَ ثُم يُطَلِقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا هَلْ يَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا امْ لاَ، جلد ۱ص۵۷۲،حدیث نمبر ١١١٧)
حلالہ میں صحبت شرط ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رفاعہ قرظی کی زوجہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میں رفاعہ کے نکاح میں تھی اس نے مجھے تین طلاقیں دی تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے نکاح کر لیا اور ان کے پاس تو کپڑے کے پھند نے کی طرح ہے (یعنی جماع کی قوت نہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو رفاعہ کی طرف لوٹنا چاہتی ہے ؟نہیں ( لوٹ سکتی) جب تک کہ تم دونوں ایک دوسرے کا مزہ نہ چکھ لو۔ اس باب میں حضرت ابن عمر۔ انس،رمیصا،(یاغمیصا) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔ عام صحابہ کرام اور دوسرے علماء کا اس پر عمل ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے پھر وہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے اور وہ جماع سے پہلے طلاق دے دے تو پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۱،مَا جَاءَ فِي مَنْ يُطَلِقُ اِمْرَأَتَهُ ثلاثًا فيتزَوَجُهَا اٰخرُ فيُطَلَقُهَا قَبْلَ اَنْ يَدْخُلَ بِهَا، جلد ۱ص۵۷۳،حدیث نمبر ١١١٨)
حلالہ کرنے والا اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے حضرت جابر بن عبداللہ اور علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت بھیجی ہے، اس باب میں حضرت ابن مسعود ،ابوہریرہ عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، امام ترمذی فرماتے ہیں علی و جابر کی حدیث معلول ہے،اشعث بن عبدالرحمن نے بواسطہ مجالد، عامر اور حارث حضرت علی سے اور عامر نے حضرت جابر سے یوں ہی مرفوعًا نقل کیا ہے ،اس حدیث کی سند قائم نہیں کیونکہ مجالد بن سعید کو بعض علماء نے جن میں امام احمد بن حنبل بھی شامل ہے ،ضعیف کہا ہے ،عبداللہ بن نمیر نے یہ حدیث بواسطہ مجالد اور جابر بن عبداللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی لیکن ابن نمیر سے اس میں خطاء ہوئی ہے۔ پہلی روایت اصح ہے،مغیرہ ابن ابی خالد اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ شعبی اور حارث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۲؛مَا جَاءَ فِي الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ،جلد۱ص۵۷۳،حدیث نمبر ١١١٩)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت کی ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے ،ابو قیس اودی کا نام عبدالرحمٰن بن ثروان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے۔ بعض صحابہ کرام جن میں حضرت عمر بن خطاب۔ عثمان بن عفان عبداللہ بن عمرو اور کئی دوسرے صحابی شامل ہیں۔ کا اس پر عمل ہے۔ فقہاء تابعین کا یہی قول ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی ،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ یہی فرماتے ہیں۔ میں نے جارود سے سنا کہ وکیع بھی اسی کے قائل ہیں۔وکیع فرماتے ہیں اس باب میں اہل رائے کا قول چھوڑنا مناسب ہے۔وکیع سفیان سے نقل کرتے ہیں اگر کوئی آدمی کسی عورت سے حلالہ کرنے کے لیے نکاح کرے پھر اسے اپنے ہی نکاح میں رکھنا چاہیں تو جدید نکاح کیے بغیر رکھنا حلال نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۲؛مَا جَاءَ فِي الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ،جلد۱ص۵۷۳،حدیث نمبر ١١٢٠)
نکاح متعہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔اس باب میں حضرت سبرہ جہنی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث علی حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متعہ کے بارے میں کچھ اجازت مروی ہے۔ لیکن بعد میں جب آپ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا پتہ چلا تو اس قول سے رجوع کر لیا۔ اکثر اہل علم کا یہی مسلک ہے کہ متعہ حرام ہے۔ سفیان ثوری ،ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۳،مَا جَاءَ فِي نِكَاحَ الْمُتْعَةِ، جلد ۱ص۵۷۵،حدیث نمبر ١١٢١)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں متعہ، ابتدائے اسلام میں تھا ، ایک آدمی کسی شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی تو وہ اتنی مدت کے لیے کسی عورت سے نکاح کر لیتا۔جتنی دیر وہاں ٹھہرنا ہوتا وہ عورت اس کے سامان کی حفاظت کرتی اور اس کے اموال کی اصلاح کرتی۔ پھر جب یہ آیت اتری، مگر صرف اپنی بیویوں اور باندیوں سے جماع کر سکتے ہیں۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ان دونوں کے سوا ہر شرمگاہ حرام ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۳،مَا جَاءَ فِي نِكَاحَ الْمُتْعَةِ، جلد ۱ص۵۷۵،حدیث نمبر ١١٢٢)
نکاح شغار کی ممانعت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،،حلب،،جنب،،اور شغار اسلام میں جائز نہیں،اور جو کسی کا مال اچک لے وہ ہم (مسلمانوں) میں سے نہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں حضرت انس ،ابو ریحانہ،ابن مبارک،جابر،معاویہ،ابوہریرہ اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۴،مَا جَاءَ مِنَ النَّہْي عَنْ نِكَاحَ الشَّغَارِ،جلد۱ص۵۷۵،حدیث نمبر ١١٢٣)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عام علماء کا اس پر عمل ہے وہ نکاح شغار کو جائز نہیں سمجھتے۔ شغار یہ ہے کہ دو آدمی اپنی بہنوں یا بیٹوں کا ایک دوسرے سے اس طرح نکاح کرے کہ دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو۔ بعض علماء فرماتے ہیں نکاح شغار منسوخ ہے۔ اور یہ جائز نہیں اگرچہ مہر بھی مقرر کیا جائے۔ امام شافعی۔ احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ ابن ابی رباح سے منقول ہے فرماتے ہیں ان کا نکاح برقرار رکھا جائے۔ اور مہر مثل مقرر کر دیا جائے۔ اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۴،مَا جَاءَ مِنَ النَّہْي عَنْ نِكَاحَ الشَّغَارِ،جلد۱ص۵۷۵،حدیث نمبر ١١٢٤)
پھو پھی اور خالہ کے ساتھ کسی عورت کو جمع نہ کیا جائے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کے اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح کیے جانے سے منع فرمایا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث روایت کی اس باب میں حضرت علی۔ ابن عمر، عبداللہ بن عمرو، ابو سعید ابو امامہ ،جابر ،عائشہ ،ابو موسیٰ اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۵،مَا جَاءَ لَا تَنكَحُ المَرْأَۃُعَلٰى عَمَّتِهَا وَلَا عَلٰى خَالَتِهَا، جلد ۱ص۵۷۶،حدیث نمبر ١١٢٥)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ بھتیجی کو پھوپھی پر اور پھوپھی کو بھتیجی پر یا بھانجی کو خالہ پر اور خالہ کو بھانجی کا نکاح میں لایا جائے اور چھوٹی کو بڑی پر یا بڑی کو چھوٹی پر بھی نکاح میں نہ لایا جائے۔ حدیث ابن عباس اور ابوہریرہ حسن صحیح ہے عام علماء کا اس پر عمل ہے۔ اس میں ہمیں کوئی اختلاف معلوم نہیں کہ کسی مرد کے لیے خالہ اور بھانجی یا پھوپھی اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا حلال نہیں۔ اگر کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ پر نکاح میں لایا جائے تو دوسرا نکاح فسخ ہو جائے گا عام علماء یہی فرماتے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں شعبی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو پایا اور ان سے روایت کی ہے۔ میں نے امام بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ صحیح ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں شعبی ایک آدمی کے واسطہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۵،مَا جَاءَ لَا تَنكَحُ المَرْأَۃُعَلٰى عَمَّتِهَا وَلَا عَلٰى خَالَتِهَا، جلد ۱ص۵۷۶،حدیث نمبر ١١٢٦)
عقد نکاح کے وقت شرائط حضرت عقبہ بن جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ شرائط میں سے وفا کے سب سے زیادہ لائق وہ شرط ہے جس کے بدلے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا۔ ابو موسیٰ نے بواسطہ محمد بن مثنی اور یحییٰ بن سعید عبدالحمید بن جعفر سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور بعض صحابہ کرام جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔ کا اس پر عمل ہے فرماتے ہیں جب کوئی شخص اس شرط پر کسی عورت سے نکاح کرے کہ وہ اسے شہر سے باہر نہیں لے جائے گا۔ تو پھر اسے باہر لے جانے کا کوئی حق نہیں۔ بعض علماء کا بھی یہی قول ہے۔ امام شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالٰی کی شرط عورت کی شرط سے مقدم ہے۔ گویا کہ آپ کے نزدیک اس شرط کے باوجود خاوند اسے شہر سے باہر لے جا سکتا ہے۔ بعض علماء نے اس قول کو اپنایا سفیان ثوری،اور بعض اہل کوفہ کا یہی مسلک ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۶؛مَا جَاءَ فِي الشَّرَطِ عِندَ عُقدَةِالنِّكَاحِ،جلد۱ص۵۷۷،حدیث نمبر ١١٢٧)
اسلام لاتے وقت دس بیویاں ہوں تو کیا حکم ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ اسلام لائے تو ان کے ہاں جاہلیت میں دس بیویاں تھیں۔ وہ سب آپ کے ہمراہ اسلام لائی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان میں سے چار عورتیں اختیار کرنے کا حکم فرمایا۔ معمر نے بواسطہ زہری اور سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یوں ہی روایت کیا ہے میں نے امام بخاری سے سنا فرماتے ہیں یہ حدیث غیر محفوظ ہے۔صحیح روایت وہ ہے جسے شعیب بن ابی حمزہ وغیرہ نے زہری سے روایت کیا۔ وہ فرماتے ہیں مجھ سے محمد بن سوید ثقفی نے بیان کیا کہ غیلان بن سلمہ کے پاس اسلام لاتے وقت دس بیویاں تھی۔ امام بخاری فرماتے ہیں زہری نے بواسطہ سالم ان کے والد سے یہ حدیث روایت کی۔ کہ بنو ثقیف کے ایک آدمی نے اپنی بیویوں کو طلاق دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا یا تو اپنی بیویوں سے رجوع کرو یا میں تمہاری قبروں کو اس طرح سنگسار کروں گا جس طرح ابو رغال کی قبر سنگسار کی گئی۔ (امام ترمذی فرماتے ہیں) ہمارے اصحاب،امام شافعی احمد اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا غیلان بن سلمہ کی روایت پر عمل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۷،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِندَهُ عًشْرُنِسْوَۃٌ، جلد ۱ص۵۷۸،حدیث نمبر ١١٢٨)
نو مسلم کی نکاح میں دو بہنیں ہوں تو کیا حکم ہے۔ ابن فیروز دیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اسلام لایا ہوں اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان میں سے جس کو چاہو پسند کر لو۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۸،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَ عِندَةَ اُخْتَانِ،جلد۱ص۵۷۹،حدیث نمبر ١١٢٩)
ابن فیروز دیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا۔ یا رسول اللہ! میں اسلام لایا ہوں اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان میں سے جس کو چاہو پسند کر لو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ابو وہب جیشانی کا نام دیلم ہوشع ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۸،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَ عِندَةَ اُخْتَانِ،جلد۱ص۵۷۹،حدیث نمبر ١١٣٠)
حاملہ لونڈی کا خریدنا حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو اللہ تعالٰی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنا پانی دوسرے کی اولاد کو نہ پلائیں۔ یہ حدیث حسن ہے اور رویفع بن ثابت سے متعدد طرق سے مروی ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ کوئی شخص حملہ لونڈی خریدے تو بچہ پیدا ہونے سے پہلے اس سے صحبت نہ کرے اس باب میں حضرت ابن عباس ابودرداء ،عرباض بن ساریہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۶۹،الرَّجُلِ يَشْتَرِى الْجَارِيَةَ وَهِيَ حَامِلُ،جلد۱ص۵۷۳،حدیث نمبر ١١٣١)
شادی شدہ لونڈی قیدی بن کر آئے تو اس سے جمع کیا جائے یا نہیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہمیں جنگ اوطاس میں کچھ ایسی عورتیں ملیں جن کے شوہر ان کی قوم میں موجود تھے۔ صحابہ کرام نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (ترجمہ) تم پر شوہر دار عورتیں حرام ہیں لیکن جن کے تم مالک بن جاؤ۔ (وہ حلال ہیں) یہ حدیث حسن ہے۔ ثوری نے بواسطہ عثمان بتی اور ابو خلیل،حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا۔ ابو خلیل کا نام صالح بن ابی مریم ہیں۔ ہمام نے یہ حدیث بواسطہ قتادہ۔ صالح ابی خلیل اور ابو علقمہ ہاشمی۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً عن روایت کی۔ ہم ( امام ترمذی )کو عبد بن حمید نے بواسطہ حبان بن ہلال۔ ہمام سے اس کی خبر دی ہے۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکاح؛باب۷۷۰،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَسْبِي الآمَةَ وَلَهَا زَوجٌ هَل يَحِلُّ لَه وَطْيُهَا، جلد ۱ص۵۸۰،حدیث نمبر ١١٣٢)
اجرت زنا کی ممانعت حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت،زنا کی اجرت اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت رافع بن خدیج،ابو جحیفہ،ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابو مسعود حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۱،مَا جَاءَ فِي كِرَاهِيَةِ مَهْرِ الْبَغِي،جلد۱ص۵۸۰،حدیث نمبر ١١٣٣)
کسی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجا جائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ ہی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجے۔ قتیبہ کہتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس روایت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا۔ اور احمد بن منیع فرماتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس طرح بیان کیا،،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،اس باب میں حضرت سمرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے۔ مالک بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پیغام نکاح پر پیغام دینے کی کراہیت سے یہ مراد ہے کہ اگر کسی نے نکاح کا پیغام دیا اور عورت اس پر راضی بھی ہو گئی تو کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کے پاس پیغام بھیجے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے پیغام سے وہ راضی ہو گئی اور اس کی طرف مائل ہو گئی۔ تو اب کوئی دوسرا اس کی طرف پیغام نہ بھیجے۔ لیکن اس کی رضامندی اور میلان سے پہلے پیغام بھیجنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی دلیل حضرت فاطمہ بنت قیس والی روایت ہے۔ کہ انہوں نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابوجہم بن حذیفہ اور معاویہ بن ابو سفیان دونوں نے ان کو پیغام نکاح دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوجہم تو عورتوں سے اپنی لاٹھی نہیں اٹھاتا اور معاویہ مفلس ہیں ان کے پاس مال نہیں لہذا تم حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لو۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت فاطمہ بن قیس نے ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اپنی رضامندی کا اظہار نہیں کیا اور اگر وہ ایسا کرتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کسی تیسرے سے نکاح کا مشورہ نہ دیتے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۲،مَا جَاءَ أنْ لأَیَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلٰى خِطْبَة أَخِيهِ،جلد۱ص۵۸۰،حدیث نمبر ١١٣٤)
حضرت ابوبکر جہم کہتے ہیں میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن۔ فاطمہ بنت قیس کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دی لیکن نہ تو مجھے رہنے کے لیے ٹھکانہ دیا اور نہ ہی گھر کا خرچ۔ البتہ اس نے اپنے چچا زاد بھائی کے پاس دس قفیر یعنی پانچ قفیر جو اور پانچ قفیر گندم میرے لیے رکھ دیے۔ فرماتی ہیں پھر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا ماجرہ کہ سنایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ٹھیک ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا پھر فرمایا ام شریک کے گھر میں مہاجرین کا آنا جانا رہتا ہے لہذا تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزارو جب تم لباس اتارو گی تو وہ (نابینا ہونے کے سبب) دیکھ نہیں سکے گے۔ اختتام عدت پر اگر کوئی پیغام نکاح لے کر آئے تو میرے پاس آنا۔ فرماتی ہیں۔ جب میری عدت ختم ہوئی تو ابو جہم اور معاویہ (دونوں) نے مجھے پیغام نکاح دیا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاویہ کے پاس تو مال نہیں اور ابو جہم عورتوں کے بارے میں سخت آدمی ہے،فرماتی ہے اس کے بعد حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا اور مجھ سے نکاح کیا تو اللہ تعالٰی نے مجھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے سبب برکت عطا فرمائی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے،سفیان ثوری نے بواسطہ ابوبکر بن ابوجہم اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا،، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا،،اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لو۔ محمود بن غیلان نے بواسطہ وکیع اور سفیان ابوبکر بن جہم سے یہ روایت ہمیں بتائی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۲،مَا جَاءَ أنْ لأَیَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلٰى خِطْبَة أَخِيهِ،جلد۱ص۵۸۰،حدیث نمبر ١١٣٥)
غزل حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم غزل کیا کرتے تھے تو یہودیوں نے کہا یہ زندہ در گور کرنے کی ایک چھوٹی قسم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود نے جھوٹ کہا۔ جب اللہ تعالٰی کسی مخلوق کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ اس باب میں حضرت عمر،براء،ابو ہریرہ،اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۳،مَا جَاءَ فِي الْعَزْلِ،جلد۱ص۵۸۲،حدیث نمبر ١١٣٦)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نزول قرآن کے زمانے میں ( بھی) غزل کیا کرتے تھے حدیث جابر رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ بعض صحابہ کرام اور علماء نے غزل کی اجازت دی ہے مالک بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آزاد عورت سے اجازت لے کر غزل کیا جائے۔اور لونڈی سے غزل کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں۔ ف: صحبت کرتے ہوئے انزال کے وقت اپنی شرمگاہ کو علیحدہ کر دینا تاکہ بچہ پیدا نہ ہو۔مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۳،مَا جَاءَ فِي الْعَزْلِ،جلد۱ص۵۸۲،حدیث نمبر ١١٣٧)
کراہیت غزل حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزل کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،تم میں سے کوئی ایک ایسا کیوں کرتا ہے ؟ ابن ابی عمر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ،،ایسا نہ کرے،،دونوں روایتوں میں ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جس نفس نے پیدا ہونا ہے اللہ تعالٰی اسے ضرور پیدا کرے گا۔ اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت منقول ہیں۔ حدیث ابو سعید حسن صحیح ہے۔ اور ابو سعید سے متعدد طرق سے مروی ہے صحابہ کرام اور دوسرے علماء کے ایک جماعت نے غزل کو پسند نہیں کیا۔ (جامع ترمذی شریف؛کتاب النکا ح، باب۷۷۴،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْعَزْلِ،جلد۱ص۵۸۳،حدیث نمبر ١١٣٨)
کنواری اور بیوہ کے لیے باری مقرر کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ اگر میں چاہوں تو یہ کہوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لیکن آپ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ )نے فرمایا سنت یہ ہے کہ پہلی بیوی پر کنواری لڑکی سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات راتیں قیام کریں اور اگر بیوی کے ہوتے ہوئے بیوہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین راتیں ٹھہرے۔ اس باب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت منقول ہیں حدیث انس حسن رضی اللہ عنہ صحیح ہے۔ محمد بن اسحٰاق نے بواسطہ ایوب اور قلابہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کیا،بعض حضرات نے مرفوعًا روایت نہیں کیا کچھ علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص پہلی بیوی کی موجودگی میں کنواری لڑکی سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات راتیں قیام کرے پھر دونوں میں برابر باری رکھے اور اگر پہلی بیوی کے ہوئے بیوہ سے نکاح کیا تو تین دن اس کے پاس ٹھہرے۔ اور وہ امام مالک رحمہ اللہ علیہ کا قول ہے اور امام شافعی، امام احمد،اور امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہم اور تابعین میں سے بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ جب کنواری سے نکاح کرے بیوی پر تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے اور جب نکاح کرے بیوی سے تو اس کے پاس دو راتیں ٹھہرے اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۵،مَا جَاءَ فِي الْقِسْمَةِ لِلْبِكْرِ وَالثَّيْب،جلد۱ص۵۸۳،حدیث نمبر ١١٣٩)
سوکنوں کے درمیان باری مقرر کرنا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے درمیان برابر برابر باری مقرر فرماتے اور (بارگاہ الٰہی میں) عرض کرتے اے اللہ! یہ تقسیم تو میرے اختیار میں ہے پس تو مجھے اس چیز میں ملامت نہ کر جس کا میں مالک نہیں حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس طرح متعدد راویوں نے باواسطہ حماد بن سلمہ ایوب،ابو قلابہ اور عبداللہ بن یزید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا حماد بن زید اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ ایوب۔ ابو قلابہ سے مرسل روایت کیا یہ زیادہ صحیح ہے اور یہ جملہ،،کہ مجھے اس چیز میں ملامت نہ کر جس کا میں مالک نہیں۔ اس سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد محبت و الفت ہے۔ بعض علماء نے اس کی یوں تفسیر کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۶،مَا جَاءَ فِی التَّسْوِيْةِ بَيْنَ الضَّرَاءِرِ، جلد۱ص۵۸۴،حدیث نمبر ١١٤٠)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی کے نکاح میں دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں انصاف نہ کرے۔ تو وہ روز قیامت مفلوج پہلو کے ساتھ آئے گا۔ ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے یہ حدیث سند بیان کی ہشام نے قتادہ سے ان الفاظ کے ساتھ بیان کی کہ۔ کہا جاتا ہے،،ہمیں یہ حدیث مرفوعًا صرف ہمام کی روایت سے معلوم ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۶،مَا جَاءَ فِی التَّسْوِيْةِ بَيْنَ الضَّرَاءِرِ، جلد۱ص۵۸۴،حدیث نمبر ١١٤١)
مشرک میاں بیوی سے ایک مسلمان ہو جائے تو کیا حکم ہے۔ عمر بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو نئے مہر اور نئے نکاح کے ساتھ ابو العاص بن ربیع کی طرف لوٹایا،،اس حدیث کی سند میں کلام ہے۔ علماء کا اس حدیث پر عمل ہے۔ کہ اگر عورت پہلے مسلمان ہو جائے پھر اس کی عدت ہی میں اس کا خاوند مسلمان ہو جائے تو اس مدت میں شوہر ہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ مالک بن انس،اوزاعی،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب نکاح،باب۷۷۷،مَا جَاءَ فِي الزَّوْجَيْنِ الْمُشْرِكَيْنِ يُسْلِمُ اَحَدُهُمَا،جلد۱ص۵۸۵،حدیث نمبر ١١٤٢)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو چھ سال بعد پہلے نکاح کے ساتھ ابو العاص بن ربیع کی طرف لوٹایا اور جدید نکاح نہیں کیا اس حدیث کی سند میں کوئی حرج نہیں لیکن متن حدیث غیر معروف ہے شاید داؤد بن حصین کی حفظ کی وجہ سے یوں ہو گیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب نکاح،باب۷۷۷،مَا جَاءَ فِي الزَّوْجَيْنِ الْمُشْرِكَيْنِ يُسْلِمُ اَحَدُهُمَا،جلد۱ص۵۸۵،حدیث نمبر ١١٤٣)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے عہد رسالت میں ایک شخص مسلمان ہوا پھر اس کی بیوی بھی اسلام لے آئی تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بھی میرے ساتھ مسلمان ہو چکی ہے چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی طرف لوٹا دیا۔ یہ حدیث صحیح ہے میں نے عبد بن حمید سے سنا فرماتے ہیں میں نے یزید بن ہارون کو محمد بن اسحٰاق سے یہ حدیث اور حجاج کی روایت جو انہوں نے باواسطہ عمرو بن شعیب اور ان کے والد ،ان کے دادا اسے مرفوعًا روایت کی۔ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کو نئے مہر اور نئے نکاح کے ساتھ ابوالعاص کی طرف لوٹایا یزید بن ہارون فرماتے ہیں حدیث ابن عباس سند کے اعتبار سے زیادہ کھڑی ہے اور عمل عمرو بن شعیب کی روایت پر ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب نکاح،باب۷۷۷،مَا جَاءَ فِي الزَّوْجَيْنِ الْمُشْرِكَيْنِ يُسْلِمُ اَحَدُهُمَا،جلد۱ص۵۸۵،حدیث نمبر ١١٤٤)
عورت کا مہر مقرر نہ ہو اور شوہر مر جائے تو اس کا حکم حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی لیکن نہ تو مہر مقرر کیا گیا اور نہ ہی جماع کیا کہ وہ مر گیا ( تو اس کا کیا حکم ہے ؟) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے خاندان کی دوسری عورتوں کے برابر مہر ہے نہ کم ہوگا نہ زیادہ۔ اس پر عدت بھی ہے اور اس کے لیے ترکہ بھی۔ معقل بن سنان اشجعی نے اٹھ کر کہا ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا تھا۔ اس بات پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خوش ہوئے۔ اس باب میں حضرت جراح رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ حسن بن علی خلال نے بواسطہ یزید بن ہارون عبدالرزاق اور سفیان، منصور سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے اور آپ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ سفیان ثوری،احمد اور اسحٰق کا یہی قول ہے۔ بعض صحابہ کرام جن میں حضرت علی بن ابی طالب۔ زید بن ثابت۔ ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں۔ نے فرمایا۔ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور مہر مقرر نہ کیا جائے تو جماع سے پہلے فوت ہونے کی صورت میں اس کے لیے ترکہ بھی ہوگا اور عدت بھی گزارے گی لیکن مہر کی حقدار نہیں۔ امام شافعی کا یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں اگر بروع بنت واشق والی روایت ثابت بھی ہو جائے تو بھی حجت وہی بات ہوگی۔ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ امام شافعی کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے مصر جا کر رجوع کر لیا اور روایت بروع بنت واشق کے مطابق قائل ہو گئے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب النکاح،باب۷۷۸،مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَجُ الْمَرْأَةَ فَيَمُوتُ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَفْرِضَ لَهَا،جلد۱ص۵۸۶،حدیث نمبر ١١٤٥)
Tirmizi Shareef : Abwabun Nikah
|
Tirmizi Shareef : أبواب النكاح
|
•