asd
logoSunni Islamic App

Quran

Hadees

Aqaids

Audios

logoSunni Islamic App

Tirmizi Shareef

Tirmizi Shareef

ABWABUL BOYU

From 1205 to 1321

Sunni Islamic App

🕌

Sunni Islamic App is a humble digital effort to spread the light of Deen in the hearts of believers. Rooted in the teachings of Imam Ahmed Raza Khan Barelvi (رحمة الله عليه) and guided by the path of Ahle Sunnat wal Jama'at, our mission is to make Quran, Hadith, Aqaid, and daily Islamic Masail accessible to everyone — in Roman Hindi and Urdu, with clarity, authenticity, and reverence. We strive to nurture Ishq-e-Rasool ﷺ, strengthen correct beliefs, and offer daily guidance for every Sunni Muslim in a simple, beautiful, and spiritually uplifting way.

Alahazrat Foundation is a non-profit Sunni organization dedicated to serving Islam through education and technology.

Navigate

📖 Quran📘 Hadith📜 Aqaid o Masail🎧 Audios🔐 Privacy Policy🧾 Terms & Conditions🗺️ Sitemap

📱 Join Community

🕊️ Follow us:

FacebookFacebookFacebookFacebook

Copyright © 2025

Sunniislamicapp.com

All rights reserved.

Developed with love for Deen with Ishq-e-Rasool ﷺ By Razvi Developer

مشتبہ اشیاء کا ترک حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال بھی واضح ہیں اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں۔ جن سے اکثر لوگ ناواقف ہیں کہ آیا وہ حلال چیزوں سے ہیں یا حرام اشیاء سے جس نے ان کو چھوڑا اس نے اپنا دین اور عزت محفوظ کر لی اور جو ان میں سے کسی کا مرتکب ہوا قریب ہے کہ وہ حرام کا ارتکاف کرے جیسا کہ باڑھ کے قریب چرانے والے کو جانوروں کے چرا گاہ میں چلے جانے کا خدشہ رہتا ہے سن لو ! ہر بادشاہ کے لیے ایک باڑھ ہوتی ہے اور اللہ تعالٰی کی باڑھ (ممنوعات) اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں۔ ہناد نے بواسطہ وکیع،زکریا بن زائدہ اور شعبی ،حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور متعدد افراد نے اسے بواستہ شعبی،حضرت نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۱،عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الشَّبُهَاتِ، جلد ۱ص۶۱۸،حدیث نمبر ١٢٠٥)

أبواب البيوع أَبْوَابُ الْبُيُوعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ الشُّبُهَاتِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الحَلَالُ بَيِّنٌ وَالحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ، لَا يَدْرِي كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ أَمِنَ الحَلَالِ هِيَ أَمْ مِنَ الحَرَامِ، فَمَنْ تَرَكَهَا اسْتِبْرَاءً لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ فَقَدْ سَلِمَ، وَمَنْ وَاقَعَ شَيْئًا مِنْهَا، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الحَرَامَ، كَمَا أَنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ» حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1205

سود کھانا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے دینے والے،گواہوں پر اور اس کے لکھنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔ اس باب میں حضرت عمر،علی اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۲،مَا جَاءَ فِی أَكْلِ الرِّبٰوا،جلد۱ص۶۱۸،حدیث نمبر ١٢٠٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الرِّبَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَكَاتِبَهُ». وَفِي البَاب عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ.: «حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1206

جھوٹ اور فریب کاری کی مذمت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کے بارے میں فرمایا،اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ماں باپ کی نافرمانی کرنا،کسی کو (ناحق) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا،،اس باب میں حضرت ابوبکرہ ایمن بن حریم اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث انس حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع ، باب۸۲۳،مَا جَاءَ فِي التَّغْلِيظِ فِی الْكِذْبِ وَالزُّوْرِ وَنَحْوَهُ،جلد۱ص۶۱۹،حدیث نمبر ١٢٠٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّغْلِيظِ فِي الكَذِبِ وَالزُّورِ وَنَحْوِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الكَبَائِرِ، قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَقَوْلُ الزُّورِ»، وَفِي البَاب عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، وَأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ، وَابْنِ عُمَرَ.: «حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1207

تاجروں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تجار کا خطاب دینا حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور (اس وقت) ہم دلال کہلاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے تاجروں کی جماعت ! شیطان اور گناہ (دونوں) بیع کے وقت حاضر ہوتے ہیں بس تم اپنی خرید و فروخت کو صدقہ سے ملاؤ ،، اس باب میں حضرت براء بن عازب اور رفعہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں حدیث قیس بن ابو غرزہ حسن صحیح ہے۔ منصور،اعمش،حبیب بن ابی ثابت اور کئی دوسرے راویوں نے یہ حدیث بواسطہ ابو وائل، حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کی۔ ہم قیس کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف یہی روایت پہچانتے ہیں۔ یناد نے بواسطہ ابو معاویہ، اعمش اور شقیق بن سلمہ حضرت قیس بن ابی غرزہ سے اس کے ہم معنی مرفوع حدیث بیان کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۴،مَا جَاء فِي التُّجَّارِ وَتَسْمِيَةِ النَّبِيِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ،جلد۱ص۶۱۲, حدیث نمبر ١٢٠٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي التُّجَّارِ وَتَسْمِيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ الشَّيْطَانَ، وَالإِثْمَ يَحْضُرَانِ البَيْعَ، فَشُوبُوا بَيْعَكُمْ بِالصَّدَقَةِ»، وَفِي البَاب عَنْ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَرِفَاعَةَ.: «حَدِيثُ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ». رَوَاهُ مَنْصُورٌ، وَالأَعْمَشُ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، «وَلَا نَعْرِفُ لِقَيْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا». حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.: «وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1208

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سچا اور ایماندار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء،صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا، سوید نے بواسطہ ابن مبارک اور سفیان۔ ابو حمزہ سے اسی اسناد سے اس کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف اسی طریق یعنی حدیث ثوری سے پہچانتے ہیں۔ ابو حمزہ کا نام عبداللہ بن جابر ہے اور وہ بصری شیخ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۴،مَا جَاء فِي التُّجَّارِ وَتَسْمِيَةِ النَّبِيِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ،جلد۱ص۶۱۲, حدیث نمبر ١٢٠٩)

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الحَسَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ، وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ» وَأَبُو حَمْزَةَ: اسْمَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَابِرٍ وَهُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ ". حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1209

اسماعیل بن عبید بن رفاعہ بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عید گاہ کی طرف نکلے۔ آپ نے لوگوں کو خرید و فروخت کرتے دیکھ کر فرمایا۔ اے تاجروں کی جماعت ! انہوں نے لبیک کہتے ہوئے اپنی گردنیں اور نگاہیں آپ کی طرف اٹھائیں۔ آپ نے فرمایا تاجر، قیامت کے دن نافرمان اٹھائے جائیں گے البتہ جو ڈرا، نیکو کار ہوا اور سچ کہا ، یہ حدیث صحیح ہے اسماعیل بن عبید کو اسماعیل بن عبید اللہ بن رفاعہ بھی کہا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۴،مَا جَاء فِي التُّجَّارِ وَتَسْمِيَةِ النَّبِيِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ،جلد۱ص۶۱۲, حدیث نمبر ١٢١٠)

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى المُصَلَّى، فَرَأَى النَّاسَ يَتَبَايَعُونَ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ»، فَاسْتَجَابُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفَعُوا أَعْنَاقَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنَّ التُّجَّارَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ القِيَامَةِ فُجَّارًا، إِلَّا مَنْ اتَّقَى اللَّهَ، وَبَرَّ، وَصَدَقَ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُقَالُ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ أَيْضًا "

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1210

سودے پر جھوٹی قسم کھانا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن ان کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہیں ؟ وہ تو نامراد ہوئے اور نقصان میں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت احسان جتانے والا، تہبند،(شلوار وغیرہ) نیچے لٹکانے والا اور جھوٹی قسم کے ساتھ سودے کو رواج دینے والا،،اس باب میں حضرت ابن مسعود،ابو ہریرہ،ابو امامہ بن ثعلبہ،عمران بن حصین اور معقل بن یسار رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں حدیث ابوذر حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۵،مَا جَاءَ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةِ كَاذِبًا،جلد۱ص۶۲۰،حدیث نمبر ١٢١١)

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ كَاذِبًا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ»، قُلْنَا: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا؟ فَقَالَ: «المَنَّانُ، وَالمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالحَلِفِ الكَاذِبِ» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ.: «حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1211

صبح سویرے تجارت کے لیے نکلنا حضرت صخر غامدی سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی،،یا اللہ ! میری امت کے اوقات صبح میں برکت عطا فرما۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مبارکہ تھا کہ جب کوئی چھوٹا یا بڑا لشکر بھیجتے تو صبح صبح بھیجتے۔ صخر ایک تاجر آدمی تھے وہ بھی اپنے تاجروں کو صبح سویرے بھیجتے اس سے وہ دولت مند ہو گئے۔ اور ان کا مال بڑھ گیا،اس باب میں حضرت علی،بریدہ،ابن مسعود،انس،ابن عمر ابن عباس اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،صخر غامدی کی روایت حسن ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صخر غامدی کی اس کے علاوہ کوئی روایت ہمارے علم میں نہیں۔ سفیان ثوری نے بواسطہ سعبہ یعلٰی بن عطاء سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۶،مَاجَاءَ فِی التَّكْبِيْرِ بِالتِّجَارَةِ،جلد۱ص۶۲۱،حدیث نمبر ١٢١٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّبْكِيرِ بِالتِّجَارَةِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ الغَامِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا»، قَالَ: وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً، أَوْ جَيْشًا، بَعَثَهُمْ أَوَّلَ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ تِجَارَةً بَعَثَهُمْ أَوَّلَ النَّهَارِ، فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ وَفِي البَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ.: «حَدِيثُ صَخْرٍ الغَامِدِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِصَخْرٍ الغَامِدِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الحَدِيثِ»، وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ هَذَا الحَدِيثَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1212

ایک مقررہ مدت کہ وعدہ پر خریداری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر دو موٹے قطری کپڑے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تو پسینہ آنے کے باعث وہ بھاری ہو جاتے۔ ایک یہودی کے پاس شام سے قیمتی چادریں آئیں تو میں نے عرض کیا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو بھیج کر قیمت میسر آنے تک کی مہلت پر اس سے دو کپڑے خرید لیں (تو کیا ہی اچھا ہے) چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس کسی کو بھیجا تو اس نے کہا میں ان کا مقصد سمجھتا ہوں ان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ میرا مال یا (کہا) میرے درہم لے جائیں۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے جھوٹ کہا اسے معلوم ہے کہ میں ان (سب ) سے زیادہ پرہیزگار اور سب سے زیادہ اچھا امانت ادا کرنے والا ہوں،اس باب میں حضرت ابن عباس،انس اور اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں، حدیث عائشہ حسن صحیح غریب ہے شعبہ نے بھی عمارہ بن ابو حفصہ سے اسے روایت کیا ہے،میں (امام ترمذی) نے محمد بن فراس بصری سے سنا انہوں نے ابو داؤد طیالسی سے نقل کیا کہ ایک دن شعبہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا میں تم سے اس وقت تک یہ حدیث بیان نہیں کروں گا جب تک کہ تم اٹھ کر حرمی بن عمارہ کہ سر کو بوسہ نہ دو راوی کہتے ہیں۔ حرمی اس وقت مجلس میں موجود تھے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۷مَا جَاءَ فِي الرُّحْصَةِ فِی الشِّرآءِ إلٰى أجَلٍ،جلد۱ص۶۲۱،حدیث نمبر ١٢١٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الشِّرَاءِ إِلَى أَجَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمَرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ قِطْرِيَّانِ غَلِيظَانِ، فَكَانَ إِذَا قَعَدَ فَعَرِقَ، ثَقُلَا عَلَيْهِ، فَقَدِمَ بَزٌّ مِنَ الشَّامِ لِفُلَانٍ اليَهُودِيِّ، فَقُلْتُ: لَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ، فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى المَيْسَرَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا يُرِيدُ، إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي أَوْ بِدَرَاهِمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَبَ، قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ، وَآدَاهُمْ لِلأَمَانَةِ» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَنَسٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ.: «حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ أَيْضًا، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي، حَفْصَةَ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ فِرَاسٍ البَصْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ يَقُولُ: سُئِلَ شُعْبَةُ يَوْمًا عَنْ هَذَا الحَدِيثِ، فَقَالَ: " لَسْتُ - أُحَدِّثُكُمْ حَتَّى تَقُومُوا إِلَى حِرْمِيِّ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، فَتُقَبِّلُوا رَأَسَهُ، قَالَ: وَحَرَمِيٌّ فِي القَوْمِ ".: «أَيْ إِعْجَابًا بِهَذَا الحَدِيثِ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1213

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وصال فرمایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذرہ بیس صاع غلہ کے عوض رہن تھی۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل و عیال کے لیے لیا تھا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۷مَا جَاءَ فِي الرُّحْصَةِ فِی الشِّرآءِ إلٰى أجَلٍ،جلد۱ص۶۲۱،حدیث نمبر ١٢١٤)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ بِعِشْرِينَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَخَذَهُ لِأَهْلِهِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1214

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں ایک دفعہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو کی روٹی اور باسی چربی لے گیا،اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذرہ ایک یہودی کے پاس بیس صاع طعام کے عوض رہن تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل و عیال کی خاطر لیے تھے۔ اور ایک دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آل محمد کے پاس کسی شام کو، ایک صاع کھجور اور ایک صاع غلہ نہیں ہوا حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نو ازواج مطہرات تھیں، یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۷مَا جَاءَ فِي الرُّحْصَةِ فِی الشِّرآءِ إلٰى أجَلٍ،جلد۱ص۶۲۱،حدیث نمبر ١٢١٥)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، ح قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَشَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ رُهِنَ لَهُ دِرْعٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِعِشْرِينَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَخَذَهُ لِأَهْلِهِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ، يَقُولُ: «مَا أَمْسَى فِي آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعُ تَمْرٍ، وَلَا صَاعُ حَبٍّ»، وَإِنَّ عِنْدَهُ يَوْمَئِذٍ لَتِسْعَ نِسْوَةٍ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1215

شرائط نامہ لکھنا عبدالمجید بن وہب سے روایت ہے کہتے ہیں عداء بن خالد بن ہودہ نے مجھے کہا کیا میں تمہیں وہ مکتوب پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھا،میں نے کہا،،ہاں کیوں نہیں،،چنانچہ انہوں نے ایک مکتوب نکالا جس میں لکھا تھا،،یہ (اس بات کی) تحریر ہے کہ عداء بن خالد بن ہوذہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی جس میں نہ بیماری ہے نہ دہوکہ ہے اور نہ وہ حرام سے ہے۔ مسلمان کا مسلمان سے سودا ہے یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف عباد بن لیث کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ ان سے متعدد محدثین نے یہ حدیث روایت کی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۸،مَا جَاءَ فِي كِتَابَةِ الشُّرُوْطِ،جلد۱ص۶۲۳،حدیث نمبر ١٢١٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كِتَابَةِ الشُّرُوطِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الكَرَابِيسِيِّ البَصْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ المَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ لِي العَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ: أَلَا أُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا: «هَذَا مَا اشْتَرَى العَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أَمَةً، لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ، بَيْعَ المُسْلِمِ المُسْلِمَ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ لَيْثٍ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ هَذَا الحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الحَدِيثِ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1216

ناپ تول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپنے اور تولنے والوں سے فرمایا تم ایسے دو کاموں (ناپ تول) کہ نگران بنائے گئے ہو،جن میں تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے۔ اس حدیث کو ہم صرف حسین بن قیس کی روایت سے مرفوعاً پہچانتے ہیں۔اور حسین بن قیس کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے۔ یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسناد صحیح کے ساتھ موقوف بھی روایت کی گئی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۲۹،مَا جَاءَ فِي الْمَكَيَالِ وَالمِيزَانِ،جلد۱ص۶۲۳،حدیث نمبر ١٢١٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي المِكْيَالِ وَالمِيزَانِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالقَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الوَاسِطِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ المِكْيَالِ وَالمِيزَانِ: «إِنَّكُمْ قَدْ وُلِّيتُمْ أَمْرَيْنِ هَلَكَتْ فِيهِ أُمَمٌ سَالِفَةٌ قَبْلَكُمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ، وَحُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ يُضَعَّفُ فِي الحَدِيثِ» وَقَدْ رُوِيَ هَذَا بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1217

نیلام کرنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹاٹ اور پیالہ بیچتے ہوئے فرمایا اس ٹاٹ اور پیالے کو کون خریدتا ہے ؟ ایک شخص نے عرض کیا میں ایک درہم میں ان دونوں کو لیتا ہوں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک درہم سے زائد کون دیتا ہے ؟ (دو مرتبہ فرمایا) تو ایک شخص نے دو درہم دے کر وہ دونوں چیزیں خرید لیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے صرف احضر بن عجلان کی روایت سے پہچانتے ہیں،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے عبداللہ حنفی،ابوبکر حنفی ہیں بعض علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے ان کے نزدیک مال غنیمت اور ترکہ کی نیلامی میں کوئی جرم نہیں۔ معتمر بن سلیمان اور کئی دوسرے محدثین نے یہ حدیث احضر بن عجلان سے روایت کی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۰،مَا جَاءَ فِی بْیْعِ مَن يَزِيدُ،جلد۱ص۶۲۳،حدیث نمبر ١٢١٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعِ مَنْ يَزِيدُ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ شُمَيْطِ بْنِ عَجْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا الأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الحَنَفِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ حِلْسًا وَقَدَحًا، وَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الحِلْسَ وَالقَدَحَ»، فَقَالَ رَجُلٌ: أَخَذْتُهُمَا بِدِرْهَمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ، مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟»، فَأَعْطَاهُ رَجُلٌ دِرْهَمَيْنِ: فَبَاعَهُمَا مِنْهُ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ»، «وَعَبْدُ اللَّهِ الحَنَفِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْ أَنَسٍ هُوَ أَبُو بَكْرٍ الحَنَفِيُّ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ: لَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِبَيْعِ مَنْ يَزِيدُ فِي الغَنَائِمِ وَالمَوَارِيثِ " وَقَدْ رَوَى الْمُعْتَمِرُ بْنُ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ النَّاسِ، عَنِ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ هَذَا الْحَدِيثَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1218

مدبر غلام کو بیچنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک انصاری نے اپنے غلام کو مدبر بنایا (یعنی یہ کہا کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد رہے۔ مترجم) پھر وہ مر گیا اور اس نے اس غلام کے سوا کچھ مال نہ چھوڑا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو بیچا اور نعیم بن نحام نے اسے خرید لیا حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ قبطی غلام تھا، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے سال اس کا انتقال ہوا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے۔ ان کے نزدیک مدبر کے بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر کے نزدیک مدبر کی بیع مکروہ ہے۔ سفیان ثوری مالک اور اوزاعی اسی کے قائل ہیں۔ ف:: امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے نزدیک مدبر کی بیع جائز نہیں۔ آپ نے اس حدیث کا مطلب یوں بیان کیا کہ یہاں مطلق مدبر نہیں بلکہ مقید مدبر مراد ہے یعنی جس کو مالک نے کہا کہ اگر میں اس بیماری سے یا اس مہینے میں انتقال کر جاؤں تو تو آزاد ہے۔ اس صورت میں اس کی بیع جائز ہے۔ کیونکہ دوسری روایت سے عدم جواز ثابت ہے (لمعات) مترجم۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۱،مَا جَاءَ فِی بَيْعِ الْمُدَبَّرْ،جلد۱ص۶۲۴،حدیث نمبر ١٢١٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعِ المُدَبَّرِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ «دَبَّرَ غُلَامًا لَهُ، فَمَاتَ وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا غَيْرَهُ، فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ»، قَالَ جَابِرٌ: عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الأَوَّلِ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: لَمْ يَرَوْا بِبَيْعِ المُدَبَّرِ بَأْسًا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ «وَكَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ بَيْعَ المُدَبَّرِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكٍ، وَالأَوْزَاعِيِّ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1219

تجارتی قافلہ کے شہر میں پہنچنے سے پہلے اس سے ملاقات کرنا منع ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلہ پہنچنے سے پہلے اس سے ملاقات کرنے کو منع فرمایا،اس باب میں حضرت علی،ابن عباس،ابو ہریرہ ابو سعید،ابن عمر اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۱،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ تَلَقِّى الْبُيُوْءِ،جلد۱ص۶۲۵،حدیث نمبر ١٢٢٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ تَلَقِّي البُيُوعِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: «نَهَى عَنْ تَلَقِّي البُيُوعِ» وَفِي البَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1220

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ تجارت کی پہنچنے سے پہلے اس سے ملاقات کرنے سے منع فرمایا اور اگر کسی نے ان سے ملاقات کر کے سامان خریدا تو بیچنے والے کو بازار پہنچ کر (سودا برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا) اختیار ہے۔ یہ حدیث ایوب کی روایت سے غریب ہے۔ حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے۔ علماء کی ایک جماعت نے شہر سے باہر جا کر تجارتی قافلہ سے ملاقات کو مکروہ کہا کیونکہ یہ بھی ایک قسم کا دھوکہ ہے۔ امام شافعی اور ہمارے اصحاب کا یہی قول ہے۔ ف: تاجر باہر سے جو غلہ لا رہے ہیں ان کے شہر میں پہنچنے سے قبل باہر جا کر خریدنے کی ممانعت دو وجہ سے ہے ایک یہ کہ اہل شہر کو غلہ کی ضرورت ہے اور یہ اس لیے ایسا کرتا ہے کہ غلہ ہمارے قبضہ میں ہوگا نرخ زیادہ کر کے بیچیں گے دوسری صورت یہ ہے کہ غلہ لانے والے تجار کو شہر کا غلط نرخ بتا کر خریدے اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو ممانعت نہیں۔ (بہار شریعت،ج،۱،ص۱۰۴) مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۱،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ تَلَقِّى الْبُيُوْءِ،جلد۱ص۶۲۵،حدیث نمبر ١٢٢١)

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُتَلَقَّى الجَلَبُ، فَإِنْ تَلَقَّاهُ إِنْسَانٌ فَابْتَاعَهُ فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ فِيهَا بِالخِيَارِ إِذَا وَرَدَ السُّوقَ»:«هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ»، «وَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ تَلَقِّي البُيُوعِ، وَهُوَ ضَرْبٌ مِنَ الخَدِيعَةِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَغَيْرِهِ مِنْ أَصْحَابِنَا "

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1221

شہری،دیہاتیوں کا سودا نہ بیچیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا شہری،دیہاتی کا سودا نہ بیچے،اس باب میں حضرت طلحہ،انس،جابر،ابن عباس حکیم ابن یزید،بواسطہ، عمر بن عوف مزنی (کثیر بن عبداللہ کے دادا) اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۳،مَا جَاءَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ،جلد۱ص۶۲۵،حدیث نمبر ١٢٢٢)

بَابُ مَا جَاءَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقَالَ قُتَيْبَةُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ» وَفِي البَاب عَنْ طَلْحَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، «وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ المُزْنِيِّ جَدِّ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1222

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہری،دیہاتی کا سودا نہ بیچے لوگوں کو (اس حالت میں) چھوڑ دو (کہ) اللہ تعالی بعض کے ذریعہ بعض کو رزق پہنچائے۔ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے۔ حدیث جابر بھی حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ انہوں نے شہری کے لیے دیہاتی کا سودا بیچنے سے منع فرمایا جبکہ بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے۔ امام شافعی کے نزدیک یہ مکروہ ہے اگر بیچا تو جائز ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۳،مَا جَاءَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ،جلد۱ص۶۲۵،حدیث نمبر ١٢٢٣)

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ»: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ فِي هَذَا هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ أَيْضًا» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: كَرِهُوا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي أَنْ يَشْتَرِيَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " وقَالَ الشَّافِعِيُّ: «يُكْرَهُ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَإِنْ بَاعَ فَالبَيْعُ جَائِزٌ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1223

محاقلہ و مزابنہ کی ممانعت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا اس باب میں حضرت ابن عمر،ابن عباس،زید بن ثابت،سعد،جابر،رافع بن خدیج،اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کو گندم کے بدلے بیچا جائے۔ اور درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کو توڑی ہوئی کھجوروں کے بدلے بیچنا مزابنہ ہے۔ علماء کا اس حدیث پر عمل ہے انہوں نے محاقلہ اور مزابنہ کو مکروہ کہا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۴،مَا جَاءَ فِي النَّہيِ عَنِ المُحَاقَلَةِوَالْمُزَابَنَةِ،جلد۱ص۶۲۶،حدیث نمبر ١٢٢٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ المُحَاقَلَةِ، وَالمُزَابَنَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المُحَاقَلَةِ، وَالمُزَابَنَةِ» وَفِي البَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَسَعْدٍ، وَجَابِرٍ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ.: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالمُحَاقَلَةُ: بَيْعُ الزَّرْعِ بِالحِنْطَةِ، وَالمُزَابَنَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ: كَرِهُوا بَيْعَ المُحَاقَلَةِ، وَالمُزَابَنَةِ "

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1224

حضرت عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ زید ابو عیاش نے حضرت سعد سے گیہوں کو جو کے بدلے بیچنے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا افضل کیا ہے ؟ ابو عیاش نے عرض کیا گیہوں افضل ہے تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ حضرت سعد نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تازہ کھجوروں کے بدلے خشک کھجوریں خریدنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے استفسار فرمایا کیا تازہ کھجور خشک ہو کر کم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا ،،جی ہاں ،، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سودے سے منع فرمایا۔ وکیع نے بواسطہ مالک اور عبداللہ بن یزید، ابو عیاش سے نقل کیا وہ فرماتے ہیں۔ ہم نے حضرت سعد سے پوچھا۔ پھر اس کی ہم معنی حدیث نقل کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے علماء کا اس پر عمل ہے۔ امام شافعی اور ہمارے اصحاب بھی اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۴،مَا جَاءَ فِي النَّہيِ عَنِ المُحَاقَلَةِوَالْمُزَابَنَةِ،جلد۱ص۶۲۶،حدیث نمبر ١٢٢٥)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ، سَأَلَ سَعْدًا عَنِ البَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ، فَقَالَ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ قَالَ البَيْضَاءُ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ سَعْدٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ اشْتِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ»، قَالُوا: نَعَمْ، «فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ» حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي عَيَّاشٍ قَالَ: سَأَلْنَا سَعْدًا، فَذَكَرَ نَحْوَهُ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَصْحَابِنَا»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1225

کھجوریں پکنے سے پہلے بیچنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے پختہ ہونے سے پہلے بیچنے کی ممانعت فرمائی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۵،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَیْعِ التَّمْرَةِ قَبلَ أَن يَبْدُ وَصَلَاحُهَا،جلد۱ص۶۲۷،حدیث نمبر ١٢٢٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1226

اسی اسناد سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتی کا خوشہ (پک کر) سفید ہونے اور آفت سے محفوظ ہو جانے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو روکا اس باب میں حضرت انس،عائشہ،ابو ہریرہ،ابن عباس جابر،ابو سعید اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے،صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے،انہوں نے پھلوں کو پختہ ہونے سے قبل بیچنے کو مکروہ کہا ہے۔ امام شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ کسی کے قائل ہیں۔ (امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۵،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَیْعِ التَّمْرَةِ قَبلَ أَن يَبْدُ وَصَلَاحُهَا،جلد۱ص۶۲۷،حدیث نمبر ١٢٢٧)

وَبِهَذَا الإِسْنَادِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ العَاهَةَ، نَهَى البَائِعَ وَالمُشْتَرِيَ»، وَفِي البَاب عَنْ أَنَسٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ.: «حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: كَرِهُوا بَيْعَ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ "

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1227

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور سیاہ ہونے سے پہلے اور دانہ سخت ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے مرفوعاً جانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۵،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَیْعِ التَّمْرَةِ قَبلَ أَن يَبْدُ وَصَلَاحُهَا،جلد۱ص۶۲۷،حدیث نمبر ١٢٢٧)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ، وَعَفَّانُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ العِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1228

حاملہ کا حمل بیچنے کی ممانعت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کا حمل بیچنے سے منع فرمایا اس باب میں حضرت عبداللہ بن عباس اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ علماء کا اس پر عمل ہے۔ اس سے اولاد کی اولاد مراد ہے۔ علماء کے نزدیک یہ بیع فسخ ہے کیونکہ یہ دھوکے کی بیع ہے۔ شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ ایوب اور سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ عبدالوہاب ثقفی وغیرہ نے بواسطہ۔ سعید بن جبیر اور نافع،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسے مرفوعًا روایت کیا،اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۶،مَا جَاءَ فِی النَّهِيِ عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ،جلد۱ص۶۲۸،حدیث نمبر ١٢٢٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الحَبَلَةِ» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ: «حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ» وَحَبَلُ الحَبَلَةِ: نِتَاجُ النِّتَاجِ، وَهُوَ بَيْعٌ مَفْسُوخٌ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ، وَهُوَ مِنْ بَيُوعِ الغَرَرِ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَى عَبْدُ الوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، وَغَيْرُهُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1229

دہوکہ کی بیع ناجائز ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دہوکہ کی بیع (مثلاً معدوم،مجہول اور غیر مقدور شے کی بیع) اور کنکری کی بیع سے منع فرمایا۔ اس باب میں حضرت ابن عمر،ابن عباس،ابو سعید اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے،کہ دہوکہ کی بیع مکروہ ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں پانی میں مچھلی۔ بھاگے ہوئے غلام اور اڑتے ہوئے پرندے کا بیچنا اور اس قسم کے دیگر سودے دھوکہ کی بیع میں داخل ہیں۔ کنکری کی بیع کا مطلب یہ ہے۔ کہ بیچنے والا خریدنے والے سے کہے میں جب تیری طرف کنکری پھینکوں تو تیرے اور میرے درمیان بیع واجب ہو جائے گی۔ یہ بیع منابذہ کہ مشابہ ہیں اور جاہلیت کے سودوں میں سے ایک سودا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۷،مَا جَاءَ فِى كَرَاهِيَة بَيعِ الْغُرَرِ،جلد۱ص۶۲۷, حدیث نمبر ١٢٣٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الغَرَرِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الغَرَرِ، وَبَيْعِ الحَصَاةِ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ: " حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: كَرِهُوا بَيْعَ الغَرَرِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: «وَمِنْ بُيُوعِ الغَرَرِ بَيْعُ السَّمَكِ فِي المَاءِ، وَبَيْعُ العَبْدِ الآبِقِ، وَبَيْعُ الطَّيْرِ فِي السَّمَاءِ، وَنَحْوُ ذَلِكَ مِنَ البُيُوعِ» وَمَعْنَى بَيْعِ الحَصَاةِ: «أَنْ يَقُولَ البَائِعُ لِلْمُشْتَرِي إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ بِالحَصَاةِ فَقَدْ وَجَبَ البَيْعُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ، وَهَذَا شَبِيهٌ بِبَيْعِ المُنَابَذَةِ، وَكَانَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ أَهْلِ الجَاهِلِيَّةِ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1230

ایک سودے میں دو سودے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سودے میں دو سودوں سے منع فرمایا،اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو،اور عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے۔ علماء کا اس پر عمل ہے۔ بعض علماء نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ کوئی شخص کہے میں تجھ پہ یہ کپڑا نقد دس روپے میں اور ادہار بیس روپے میں بیچتا ہوں اور (اس طرح) وہ کسی ایک معاملہ پر جدا نہ ہو اور اگر ایک عقد پر الگ ہو جائے تو کچھ حرج نہیں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں سودوں سے جو منع فرمایا اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کہے میں اپنا یہ مکان تجھ پر اتنے روپے میں اس شرط پر بھیجتا ہوں کہ تو مجھے اپنا غلام اتنی رقم میں دے دے۔ جب تیرا غلام میرا ہو جائے گا تو تو میرے گھر کا مالک ہو جائے گا۔ یہ ایسی بیع پر علیحدگی ہے جس کی قیمت معلوم نہیں۔ ان میں سے ایک بھی نہیں جانتا کہ اس کی چیز کس کے بدلے گئی۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۸،مَا جَاءَ فِی النَّہيِ عَنْ بَيعَتَيْنِ فِی بَيْعَةٍ،جلد۱ص۶۲۹،حدیث نمبر ١٢٣١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ: «حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ، وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ قَالُوا: بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ أَنْ يَقُولَ: أَبِيعُكَ هَذَا الثَّوْبَ بِنَقْدٍ بِعَشَرَةٍ، وَبِنَسِيئَةٍ بِعِشْرِينَ، وَلَا يُفَارِقُهُ عَلَى أَحَدِ البَيْعَيْنِ، فَإِذَا فَارَقَهُ عَلَى أَحَدِهِمَا فَلَا بَأْسَ إِذَا كَانَتِ العُقْدَةُ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَمِنْ مَعْنَى نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ أَنْ يَقُولَ: أَبِيعَكَ دَارِي هَذِهِ بِكَذَا عَلَى أَنْ تَبِيعَنِي غُلَامَكَ بِكَذَا، فَإِذَا وَجَبَ لِي غُلَامُكَ وَجَبَ لَكَ دَارِي، وَهَذَا يُفَارِقُ عَنْ بَيْعٍ بِغَيْرِ ثَمَنٍ مَعْلُومٍ، وَلَا يَدْرِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مَا وَقَعَتْ عَلَيْهِ صَفْقَتُهُ "

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1231

جو چیز پاس نہ ہو اس کا بیچنا حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایک شخص میرے پاس آ کر مجھ سے وہ چیز خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی تو کیا میں اس کے لیے بازار سے خرید کر اس پر بیچوں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز تمہارے پاس نہیں اسے مت بیچو۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۹،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ،جلد۱ص۶۲۹،حدیث نمبر ١٢٣٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي مِنَ البَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدِي، أَبْتَاعُ لَهُ مِنَ السُّوقِ، ثُمَّ أَبِيعُهُ؟ قَالَ: «لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ» وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1232

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس چیز کے بیچنے سے منع فرمایا جو میرے پاس نہیں،،یہ حدیث حسن ہے اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۹،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ،جلد۱ص۶۲۹،حدیث نمبر ١٢٣٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: «نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدِي»:

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1233

عوف اور ہشام بن حسان بواسطہ ابن سیرین حکیم بن حزام سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ یہ حدیث مرسل ہے۔ ابن سیرین نے بواسطہ ایوب سختیانی اور یوسف بن ماہک،حکیم بن حزام سے اس طرح روایت کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی شرط پر بیع،بیع میں دو شرطیں،(اور ایک شرط بھی) غیر مقبوضہ چیز سے نفع اور غیر مملوکہ چیز کا بیچنا۔ (یہ سب) ناجائز ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے،اسحاق بن منصور فرماتے ہیں۔ میں نے امام احمد سے پوچھا قرض کے ساتھ بیع کی ممانعت کا کیا مطلب ہے۔ ؟ انہوں نے فرمایا یہ کہ کسی کو قرض دے کر پھر کوئی چیز اس سے زائد قیمت پر اس پر بیچے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی کو قرض دے کر کہے اگر تجھے میسر نہ ہوا تو یہ تیرے اوپر بیع ہے۔ اسحاق فرماتے ہیں میں نے امام احمد سے پوچھا کہ جس چیز کا ضامن نہ ہو اس کی بیع،،سے کیا مراد ہے۔ انہوں نے فرمایا یہ میرے نزدیک صرف کھانے میں ہے۔ یعنی جب تک قبضہ نہ ہو۔ اسحاق فرماتے ہیں یہ ہر ناپی اور تولی جانے والی چیز میں ہیں۔ امام احمد فرماتے ہیں جب کوئی شخص یہ کہے کہ میں تجھ پر یہ کپڑا بیچتا ہوں۔ مگر اس کی سلائی اور دھلائی میرے ذمہ ہے۔ تو یہ ایک بیع میں دو شرطوں کی مثال ہے۔ اور اگر کہے میں تجھ پر بیچتا ہوں۔ لیکن اس کی سلائی مجھ پر ہے یا کہے اس کی دھلائی میری ذمہ ہے تو کچھ حرج نہیں۔ یہ ایک شرط ہے۔ اسحاق فرماتے ہیں حدیث حکیم بن حزام حسن ہے۔ اور متعدد طرق سے مروی ہے ایوب سختیانی اور ابو بشر نے بواسطہ یوسف بن ماہک،حضرت حکیم بن حزام سے اسے روایت کیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۹،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ،جلد۱ص۶۲۹،حدیث نمبر ١٢٣٤)

حَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَى أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَأَبُو بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَرَوَى هَذَا الحَدِيثَ عَوْفٌ، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، إِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ -سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ»: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ: مَا مَعْنَى نَهَى عَنْ سَلَفٍ وَبَيْعٍ؟ قَالَ: أَنْ يَكُونَ يُقْرِضُهُ قَرْضًا، ثُمَّ يُبَايِعُهُ عَلَيْهِ بَيْعًا يَزْدَادُ عَلَيْهِ، وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ يُسْلِفُ إِلَيْهِ فِي شَيْءٍ، فَيَقُولُ: إِنْ لَمْ يَتَهَيَّأْ عِنْدَكَ فَهُوَ بَيْعٌ عَلَيْكَ قَالَ إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ رَاهَوَيْهِ كَمَا قَالَ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ: وَعَنْ بَيْعِ مَا لَمْ تَضْمَنْ، قَالَ: لَا يَكُونُ عِنْدِي إِلَّا فِي الطَّعَامِ مَا لَمْ تَقْبِضْ قَالَ إِسْحَاقُ: كَمَا قَالَ: فِي كُلِّ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ قَالَ أَحْمَدُ: إِذَا قَالَ: أَبِيعُكَ هَذَا الثَّوْبَ وَعَلَيَّ خِيَاطَتُهُ وَقَصَارَتُهُ فَهَذَا مِنْ نَحْوِ شَرْطَيْنِ فِي بَيْعٍ، وَإِذَا قَالَ: أَبِيعُكَهُ وَعَلَيَّ خِيَاطَتُهُ فَلَا بَأْسَ بِهِ، أَوْ قَالَ: أَبِيعُكَهُ وَعَلَيَّ قَصَارَتُهُ فَلَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا هُوَ شَرْطٌ وَاحِدٌ قَالَ إِسْحَاقُ كَمَا قَالَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1234

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسی چیز کے فروخت کرنے سے منع فرمایا جو میرے پاس نہ ہو۔ وکیع نے یہ حدیث بواسطہ یزید بن ابراہیم، ابن سیرین اور ایوب،حکیم بن حزام سے روایت کی لیکن یوسف بن ماہک کا ذکر نہیں کیا۔ عبدالصمد کی روایت اصح ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے بواسطہ یعلٰی بن حکیم۔ یوسف بن ماہک ، عبداللہ بن اصمہ اور حضرت حکیم بن حزام، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی اکثر علماء کا اس پر عمل ہے کہ آدمی کے پاس جو چیز نہ ہو اس کا بیچنا مکروہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۳۹،مَا جَاءَ فِی كَرَاهِيَةِ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ،جلد۱ص۶۲۹،حدیث نمبر ١٢٣٥)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ، وَعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الخُزَاعِيُّ البَصْرِيُّ أَبُو سَهْلٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: «نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدِي»: وَرَوَى وَكِيعٌ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ وَرِوَايَةُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَصَحُّ وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ: كَرِهُوا أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1235

حق ولاء کا بیچنا اور رہبہ کرنا منع ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء کو بیچنے اور رہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے صرف بواسطہ عبداللہ بن دینار،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے پہچانتے ہیں،اہل علم کا اس پر عمل ہے، یحییٰ بن سلیم نے اسے بواسطہ عبید اللہ ابن عمر۔ نافع اور ابن عمر،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے ولاء کے بیچنے اور رہبہ کرنے سے منع فرمایا،لیکن یہ وہم ہے یحییٰ بن سلیم کو اس میں وہم ہوا۔ عبدالوہاب ثقفی،عبداللہ بن نمیر اور کئی دوسرے حضرات نے بواسطہ عبید اللہ بن عمر،عبداللہ بن دینار اور ابن عمر رضی اللہ عنہما،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا یحییٰ بن سلیم کی روایت سے یہ زیادہ صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۰،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيع الولاء وَھِبَۃِ،جلد۱ص۶۳۱،حدیث نمبر ١٢٣٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الوَلَاءِ وَهِبَتِهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الوَلَاءِ وَهِبَتِهِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، نَهَى عَنْ بَيْعِ الوَلَاءِ وَهِبَتِهِ وَهُوَ وَهْمٌ وَهِمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَرَوَى عَبْدُ الوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1236

جانور کو جانور کے بدلے ادہار بیچنا حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا،اس باب میں حضرت ابن عباس،جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث سمرہ حسن صحیح ہے حسن رحمۃ اللہ کا حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے سماع (بھی) صحیح ہے۔ علی بن مدینی وغیرہ نے یونہی کہا ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا جانور کو جانور کے بدلے بیچنے کے بارے میں اس حدیث پر عمل ہے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے اور امام احمد رحمہ اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے جانور کو جانور کے بدلے ادھار بھیجنے کی اجازت دی ہے۔ امام شافعی اور اسحاق رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع، باب۸۴۱، مَا جَاءَ فِی کَرَاهِيَةِ بَيعِ الْحَيَوَانِِ بالْحَيَوَان نَسِيئَةً،جلد۱ص۶۳۱،حدیث نمبر ١٢٣٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الحَيَوَانِ بِالحَيَوَانِ نَسِيئَةً حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الحَيَوَانِ بِالحَيَوَانِ نَسِيئَةً» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ. حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَمَاعُ- الحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ هَكَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ المَدِينِيِّ، وَغَيْرُهُ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي بَيْعِ الحَيَوَانِ بِالحَيَوَانِ نَسِيئَةً، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الكُوفَةِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي بَيْعِ الحَيَوَانِ بِالحَيَوَانِ نَسِيئَةً، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَإِسْحَاقَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1237

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک جانور کے بدلے دو جانور ادھار بیچنا صحیح نہیں البتہ دست بدست بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع، باب۸۴۱، مَا جَاءَ فِی کَرَاهِيَةِ بَيعِ الْحَيَوَانِِ بالْحَيَوَان نَسِيئَةً،جلد۱ص۶۳۱،حدیث نمبر ١٢٣٨)

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ الحَجَّاجِ وَهُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الحَيَوَانُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ لَا يَصْلُحُ نَسِيئًا، وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1238

دو غلاموں کے بدلے ایک غلام خریدنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک غلام آیا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر ہجرت کی بیعت کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا غلام ہونا ظاہر نہ ہوا۔ اتنے میں اس کا آقا اسے تلاش کرتا ہوا آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو سیاہ فام غلاموں کے بدلے خرید لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے اس وقت تک بیعت نہ لیتے جب تک اس سے پوچھ نہ لیتے کہ آیا وہ غلام تو نہیں ؟ اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے۔ حدیث جابر حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے کہ ایک غلام کو دو غلاموں کے بدلے دست بدست بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ ادھار میں اختلاف ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۲،مَا جَاءَ فِی شِرَاءِ الْعَبْدِ بِالْعَبَدَينِ،جلد۱ص۶۳۲،حدیث نمبر ١٢٣٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي شِرَاءِ العَبْدِ بِالعَبْدَيْنِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الهِجْرَةِ، وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِعْنِيهِ»، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ: «أَعَبْدٌ هُوَ؟» وَفِي البَابِ عَنْ أَنَسٍ: " حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِعَبْدٍ بِعَبْدَيْنِ يَدًا بِيَدٍ، وَاخْتَلَفُوا فِيهِ إِذَا كَانَ نَسِيئًا "

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1239

گیہوں کے بدلے گیہوں کا بیچنا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے،چاندی چاندی کے بدلے،کھجور کھجور کے بدلے،گندم گندم کے بدلے،نمک نمک کے بدلے،اور جو،جو کے بدلے برابر برابر بیچے جائیں،بس جس نے زیادہ دیا زیادہ دیا اس نے سود کا ارتکاب کیا۔ چاندی کے بدلے سونا دست بدست جیسے چاہو بیچو۔ کھجور کے بدلے گندم ہاتھوں ہاتھ جیسے جی چاہے بیچو اور کھجور کے بدلے جو،دست بدست جس طرح چاہو بیچو،اس باب میں حضرت ابو سعید ابو ہریرہ اور بلال رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث عبادہ حسن صحیح ہے،بعض رواۃ نے یہ حدیث خالد سے اسی سند کے ساتھ بیان کی کہ جو کے بدلے گندم ہاتھوں ہاتھ جس طرح چاہو بیچو،بعض نے اس حدیث میں بواسطہ خالد ابو قلابہ سے یہ اضافہ نقل کیا کہ جو کے بدلے گیہوں جیسے چاہو بیچو،اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے کہ گندم کے بدلے گندم اور جو کے بدلے جو برابر برابر بیچے جائیں،جنس مختلف ہو تو کمی زیادتی سے بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ جبکہ سودا نقد ہو،اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا یہی قول ہے سفیان ثوری شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں،امام شافعی فرماتے ہیں اس کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ گندم کے بدلے جو دست بدست جیسے چاہو بیچو،علماء کی ایک جماعت نے جو کے بدلے گیہوں بڑھا کر بیچنے کو مکروہ کہا ہے،حضرت مالک بن انس رحمہم اللہ کا یہی قول ہے،پہلا قول زیادہ صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۳،مَا جَاءَ إِنَ الْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَكَرَاهِيَةِ التَفَاضُلِ فِيهِ،جلد۱ص۶۳۳،حدیث نمبر ١٢٤٠)

بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الحِنْطَةَ بِالحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَكَرَاهِيَةَ التَّفَاضُلِ فِيهِ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالفِضَّةُ بِالفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالبُرُّ بِالبُرِّ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالمِلْحُ بِالمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى، بِيعُوا الذَّهَبَ بِالفِضَّةِ كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ، وَبِيعُوا البُرَّ بِالتَّمْرِ كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ، وَبِيعُوا الشَّعِيرَ بِالتَّمْرِ كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَبِلَالٍ، وَأَنَسٍ: حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ خَالِدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: «بِيعُوا البُرُّ بِالشَّعِيرِ كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ»، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ خَالِدٌ: قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: «بِيعُوا البُرَّ بِالشَّعِيرِ كَيْفَ شِئْتُمْ»، فَذَكَرَ الحَدِيثَ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: لَا يَرَوْنَ أَنْ يُبَاعَ البُرُّ بِالبُرِّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتِ الْأَصْنَافُ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُبَاعَ مُتَفَاضِلًا إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ، وَهَذَا قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالحُجَّةُ فِي ذَلِكَ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِيعُوا الشَّعِيرَ بِالبُرِّ كَيْفَ شِئْتُمْ يَدًا بِيَدٍ»: " وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ: أَنْ تُبَاعَ الحِنْطَةُ بِالشَّعِيرِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ "

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1240

بیع صرف حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میرے ان دونوں کانوں نے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی برابر برابر بیچو،ایک کو دوسرے کے بدلے زائد نہ کیا جائے اور ان میں سے کسی غائب کو موجود کے بدلے نہ بیچو،اس باب میں حضرت ابوبکرہ عمر عثمان،ابو ہریرہ،ہشام بن عامر،براء،زید بن ارقم،فضالہ بن عبید،ابوبکرہ،ابن عمر،ابو درداء اور بلال رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابو سعید حسن صحیح ہے،صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے،البتہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ آپ سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی،کم و بیش بیچنے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے بشرطیکہ نقد سودا ہو،نیز آپ فرماتے ہیں سود،ادھار میں ہوتا ہے آپ کے بعض تلامذہ سے بھی یونہی منقول ہے،یہ بھی روایت ہے کہ جب حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے آپ کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک بیان کیا تو آپ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا،پہلا قول زیادہ صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے،سفیان ثوری،ابن مبارک شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ سے منقول ہے کہ بیع صرف میں کوئی اختلاف نہیں،، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۴،مَا جَاءَ فِی الصَّرْفِ،جلد۱ص۶۳۴،حدیث نمبر ١٢٤١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّرْفِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا- شَيبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَحَدَّثَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ هَاتَانِ يَقُولُ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالفِضَّةَ بِالفِضَّةِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، لَا يُشَفُّ بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهُ غَائِبًا بِنَاجِزٍ»: وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، وَالبَرَاءِ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَبِلَالٍ وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّبَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُبَاعَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مُتَفَاضِلًا، وَالفِضَّةُ بِالفِضَّةِ مُتَفَاضِلًا، إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ، وقَالَ: " إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ شَيْءٌ مِنْ هَذَا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ حِينَ حَدَّثَهُ أَبُو سَعِيدٍ الخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ المُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ المُبَارَكِ أَنَّهُ قَالَ: «لَيْسَ فِي الصَّرْفِ اخْتِلَافٌ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1241

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں میں مقام بقیع میں دیناروں کے بدلے اونٹ بیچتا اور ان کی جگہ چاندی لے لیتا۔اور کبھی چاندی کے بدلے بیچتا اور اس کی جگہ دینار لے لیتا۔ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے حجرۂ مبارکہ سے باہر تشریف لا رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیمت کے ساتھ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس حدیث کو ہم مرفوعًا صرف بواسطہ سماک بن حرب اور سعید بن جبیر،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے جانتے ہیں،بعض علماء کا اس پر عمل ہے کہ چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی لینے میں کوئی حرج نہیں،امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے اسے ناپسند کیا ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۴،مَا جَاءَ فِی الصَّرْفِ،جلد۱ص۶۳۴،حدیث نمبر ١٢٤٢)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ بِالبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الوَرِقَ، وَأَبِيعُ بِالوَرِقِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الدَّنَانِيرَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ خَارِجًا مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهِ بِالقِيمَةِ»: «هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ» وَرَوَى دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ: أَنْ لَا بَأْسَ أَنْ يَقْتَضِيَ الذَّهَبَ مِنَ الوَرِقِ، وَالوَرِقَ مِنَ الذَّهَبِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ذَلِكَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1242

حضرت مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوا آگے بڑہا کہ کون مجھے دیناروں کے بدلے درہم دیتا ہے تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ جو اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہنے لگے مجھے اپنا سونا دکھاؤ پھر تھوڑی دیر بعد آنا جب ہمارا خادم آجائے تو ہم تمہیں تمہارے درہم دے دیں گے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہرگز نہیں قسم بخدا ! یا تو اس کے درہم ابھی دو یا اس کا سونا واپس کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کے بدلے چاندی سود ہے مگر یہ کہ دست بدست ہو،گندم،گندم کے بدلے سود ہے،مگر نقد ہو،جو کے بدلے سود ہے البتہ ہاتھوں ہاتھ ہو،اور کھجور کے بدلے کھجور (بھی) نقد نہ ہو تو سود ہے،یہ حدیث حسن صحیح ہے،علماء کا اس پر عمل ہے،"اِلَّا ھَاءَوھاَء"َ کا مطلب،،ہاتھوں ہاتھ ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۴،مَا جَاءَ فِی الصَّرْفِ،جلد۱ص۶۳۴،حدیث نمبر ١٢٤٣)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الحَدَثَانِ، أَنَّهُ قَالَ: أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ، فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ: أَرِنَا ذَهَبَكَ، ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَادِمُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ، فَقَالَ عُمَرُ: كَلَّا وَاللَّهِ، لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالبُرُّ بِالبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ وَمَعْنَى قَوْلِهِ: إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، يَقُولُ: «يَدًا بِيَدٍ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1243

پیوند کاری کے بعد کھجوروں اور مالدار غلام کی خریداری حضرت سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص کھجور کا درخت پیوند کاری کے بعد خریدے اس کا پھل بیچنے والے کے لیے ہے۔ البتہ یہ کہ خریدار شرط کر لے اور جو شخص مالدار غلام بیچے اس کا مال بھی بیچنے والے کے لیے ہے۔ مگر یہ کہ خریدار شرط کر لے۔ اس باب میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ متعدد طرق سے بواسطہ زہری اور سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یونہی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کھجور کا درخت پیوند کاری کے بعد خریدا تو پھل بیچنے والے کے لیے ہوگا مگر یہ کہ خریدار شرط کر لے۔ (اسی طرح) مالدار غلام خریدا تو اس کا مال بھی بیچنے والے کا ہوگا اگر خریدار شرط نہ کرے۔ نافع نے بواسطہ ابن عمر،حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا جس میں کھجور کا ذکر ہے غلام کا نہیں۔ اور دوسری روایت بھی انہی سے مروی ہے۔ جس میں غلام کا ذکر ہے کھجور کا نہیں۔ عبید اللہ بن عمر وغیرہ نے نافع سے دونوں حدیثیں روایت کی ہیں۔ بعض نے بواسطہ نافع حضرت ابن عمر سے یہ حدیث مرفوعًا روایت کی۔ عکرمہ بن خالد نے بواسطہ ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سالم کی روایت کی طرح بیان کیا بعض اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے۔ امام شافعی احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے،امام بخاری فرماتے ہیں حدیث زہری بواسطہ سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اصح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۵،مَا جَاءَ فِی ابْتِيَاءِ النَّخْلِ بَعْدَالتَّابِيْرِ وَ الْعَبْدِ وَلَهُ مَالٌ،جلد۱۶۳۶،حدیث نمبر ١٢٤٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْتِيَاعِ النَّخْلِ بَعْدَ التَّأْبِيرِ وَالعَبْدِ وَلَهُ مَالٌ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ المُبْتَاعُ، وَمَنْ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ المُبْتَاعُ» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ المُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ المُبْتَاعُ» وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ ابْتَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ المُبْتَاعُ» وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ المُبْتَاعُ»، هَكَذَا رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ نَافِعٍ الحَدِيثَيْنِ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا، وَرَوَى عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ سَالِمٍ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ مَا جَاءَ فِي هَذَا البَابِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1244

بائع اور مشتری کو افتراق سے پہلے اختیار ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بیچنے اور خریدنے والا جب تک جدا نہ ہو انہیں اختیار ہے،یا یہ کہ وہ آپس میں اختیار کی شرط کر لیں،نافع کہتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی چیز خریدتے اور آپ بیٹھے ہوتے تو اٹھ کھڑے ہوتے تاکہ سودا مکمل ہو جائے، اس میں حضرت ابو برزہ،عبداللہ بن عمرو،سمرہ،ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے، بعض صحابہ کرام اور دوسرے علماء کا اس پر عمل ہے امام شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے وہ فرماتے ہیں جدائی سے گفتگو کا انقطاع نہیں بلکہ جسمانی افتراق مراد ہے بعض علماء فرماتے ہیں گفتگو میں جدائی مراد ہے پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی راوی ہیں اور وہ حدیث کا مفہوم زیادہ جانتے ہیں۔ اور آپ کا معمول یہ تھا کہ جب بیع مکمل کرنا چاہتے تو چل دیتے تاکہ بیع نافذ ہو جائے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۶،مَا جَاءَ البَيّعَانِ بِالْخِيَارِ مَالَم يَتَفَرَّقَا،جلد۱ص۶۳۶،حدیث نمبر ١٢٤٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي البَيِّعَيْنِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «البَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَخْتَارَا» قَالَ: «فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا ابْتَاعَ بَيْعًا وَهُوَ قَاعِدٌ قَامَ لِيَجِبَ لَهُ البَيْعُ»: وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، وَحَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَسَمُرَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ: «حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَقَالُوا: «الفُرْقَةُ بِالأَبْدَانِ لَا بِالكَلَامِ» وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا»، يَعْنِي: الفُرْقَةَ بِالكَلَامِ، وَالقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ لِأَنَّ ابْنَ عُمَرَ هُوَ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَعْنَى مَا رَوَى وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوجِبَ البَيْعَ مَشَى لِيَجِبَ لَهُ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1245

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیچنے اور خریدنے والا جدا ہونے سے پہلے با اختیار ہیں اگر انہوں نے سچ کہا اور بیچی جانے والی چیز کا عیب بیان کیا تو ان کے سودے میں برکت دی جائے گی اور اگر جھوٹ بولیں اور عیب چھپا دیں تو ان کی بیع کی برکت دور کر دی جاتی ہے یہ حدیث صحیح ہے۔ حضرت ابو برزہ اسلمی سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ دو آدمی ایک گھوڑے کا سودا کر کے آپس میں جھگڑ پڑے اور وہ کشتی میں سوار تھے۔ ابو برزہ اسلمی نے فرمایا میں نے تمہیں جدا ہوتے نہیں دیکھا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خریدنے اور بیچنے والا جدا ہونے سے پہلے مختار ہیں۔ بعض علماء کوفہ اور دوسرے حضرات کے نزدیک گفتگو کا انقطاع مراد ہے،سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے مالک بن انس سے بھی یہی منقول ہے حضرت ابن مبارک سے منقول ہے آپ نے فرمایا میں اسے کیسے رد کروں جبکہ اس کے بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث موجود ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس مذہب کو قوی قرار دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد پاک۔ "مگر اختیار کی بیع" تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والے نے خریدنے والے کو بیع واجب ہونے کے بعد اختیار دے دیا (تو وہ بیع اور توڑ سکتا ہے لیکن ) جب وہ بیع کو قبول کر لے تو اب جدا ہونے کی صورت میں توڑنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ امام شافعی وغیرہ نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے جسمانی جدائی کے قائلین کو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت سے بھی تائید حاصل ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۶،مَا جَاءَ البَيّعَانِ بِالْخِيَارِ مَالَم يَتَفَرَّقَا،جلد۱ص۶۳۶،حدیث نمبر ١٢٤٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «البَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فِي فَرَسٍ بَعْدَ مَا تَبَايَعَا وَكَانُوا فِي سَفِينَةٍ، فَقَالَ: لَا أَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «البَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا» وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَهْلِ الكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ إِلَى أَنَّ الفُرْقَةَ بِالكَلَامِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَرُوِي عَنْ ابْنِ المُبَارَكِ أَنَّهُ قَالَ: كَيْفَ أَرُدُّ هَذَا؟ وَالحَدِيثُ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَحِيحٌ وَقَوَّى هَذَا المَذْهَبَ. وَمَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَّا بَيْعَ الخِيَارِ»، مَعْنَاهُ: أَنْ يُخَيِّرَ البَائِعُ المُشْتَرِيَ بَعْدَ إِيجَابِ البَيْعِ، فَإِذَا خَيَّرَهُ فَاخْتَارَ البَيْعَ فَلَيْسَ لَهُ خِيَارٌ بَعْدَ ذَلِكَ فِي فَسْخِ البَيْعِ، وَإِنْ لَمْ يَتَفَرَّقَا، هَكَذَا فَسَّرَهُ الشَّافِعِيُّ، وَغَيْرُهُ، وَمِمَّا يُقَوِّي قَوْلَ مَنْ يَقُولُ: الفُرْقَةُ بِالأَبْدَانِ لَا بِالكَلَامِ، حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1246

حضرت عمر بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بائع اور مشتری کو جدا ہونے سے پہلے اختیار ہے البتہ اختیاری بیع ہو(تو افتراق کے بعد بھی اختیار باقی رہے گا) اور کسی کے لیے اپنے ساتھی سے محض خوف فسخ کی بنا پر جدا ہونا جائز نہیں یہ حدیث حسن ہے۔ اور اس حدیث سے،،بیع کہ بعد فسخ بیع کے ڈر سے جدا ہونا،، مراد ہے،اگر انقطاع کلام مراد ہوتا اور بیع کے بعد اسے فسخ کا اختیار نہ ہوتا تو اس حدیث کا کوئی مطلب نہیں بنتا کے کہ بیع کی واپسی کے ڈر سے جدا ہونا حلال نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۶،مَا جَاءَ البَيّعَانِ بِالْخِيَارِ مَالَم يَتَفَرَّقَا،جلد۱ص۶۳۶،حدیث نمبر ١٢٤٧)

أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «البَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَمَعْنَى هَذَا: أَنْ يُفَارِقَهُ بَعْدَ البَيْعِ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ، وَلَوْ كَانَتِ الفُرْقَةُ بِالكَلَامِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ خِيَارٌ بَعْدَ البَيْعِ لَمْ يَكُنْ لِهَذَا الحَدِيثِ مَعْنًى، حَيْثُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1247

حدیث نمبر،۱۲۵۴ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیع سے آپس کی رضامندی کے ساتھ جدا ہوں یہ حدیث غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع ،باب۸۴۷،جلد۱ص۶۳۸،حدیث نمبر ١٢٤٨) حدیث نمبر،۱۲۵۵

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَهُوَ البَجَلِيُّ الكُوفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَتَفَرَّقَنَّ عَنْ بَيْعٍ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ»: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1248

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عربی کو بیع کے بعد فسخ کا اختیار دیا،یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع ،باب۸۴۷،جلد۱ص۶۳۸،حدیث نمبر ١٢٤٩)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ أَعْرَابِيَّا بَعْدَ البَيْعِ» وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1249

جو آدمی بیع میں دھوکہ کھاجاۓ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص خرید و فروخت میں کمزور تھا اور وہ خرید فروخت کرتا تھا چنانچہ اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے منع کر دیجئے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر منع کر دیا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں خرید و فروخت سے رک نہیں سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو سودا دست بدست ہے اور اس میں کوئی دھوکہ نہیں۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے۔ حدیث انس رضی اللہ عنہ حسن صحیح غریب ہے بعض علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کمزور عقل والے کو خرید و فروخت سے روکا جائے امام احمد اور اسحٰق رضی اللہ عنہماکا یہی قول ہے۔ بعض علماء کے نزدیک آزاد بالغ آدمی کو روکا نہیں جا سکتا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۸،مَا جَاءَ فِيمَنْ يَخْدَعُ فِی الْبَيعِ،جلد۱ص۶۳۸،حدیث نمبر ١٢٥٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُخْدَعُ فِي البَيْعِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، وَكَانَ يُبَايِعُ، وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْجُرْ عَلَيْهِ، فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ البَيْعِ، فَقَالَ: «إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَاءَ وَهَاءَ، وَلَا خِلَابَةَ»: وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ " وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَقَالُوا: الحَجْرُ عَلَى الرَّجُلِ الحُرِّ فِي البَيْعِ وَالشِّرَاءِ إِذَا كَانَ ضَعِيفَ العَقْلِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُحْجَرَ عَلَى الحُرِّ البَالِغِ "

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1250

دوہے بغیر جانور بیچنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی نے تھنوں میں روکے ہوئے دودھ والا جانور خریدا اسے اختیار ہے کہ دوہنے کے بعد چاہے تو ایک صاع کھجور کے ساتھ واپس کر دے۔ اس باب میں حضرت انس اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۹،مَا جَاءَ فِی الْمَصَرَّاةِ،جلد۱ص۶۳۸،حدیث نمبر ١٢٥١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي المُصَرَّاةِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالخِيَارِ إِذَا حَلَبَهَا، إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ»: وَفِي البَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1251

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے تھنوں میں روکے ہوئے دودھ والا جانور خریدا اسے تین دن تک اختیار ہے اگر واپس کرے تو گندم کے علاوہ کوئی دوسرا غلہ ایک صاع دے،یہ حدیث حسن صحیح ہے ہمارے اصحاب کا اس پر عمل ہے،امام شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ بھی ان میں شامل ہیں، ف: اس صورت میں خریدار کو واپس کرنے کا حق نہیں البتہ جو نقصان ہے وہ بائع سے لے سکتا ہے۔ (بہار شریعت حصہ ۱۱ ص ۷۳ بحوالہ در مختار ) مترجم۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۴۹،مَا جَاءَ فِی الْمَصَرَّاةِ،جلد۱ص۶۳۸،حدیث نمبر ١٢٥٢)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا مِنْهُمْ: الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: «لَا سَمْرَاءَ»، يَعْنِي: لَا بُرَّ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1252

جانور بیچتے وقت سواری کے شرط کرنا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک اونٹ بیچا اور اپنے گھر تک سواری کی شرط کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ بیع میں شرط کرنے کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ ایک شرط ہو۔ امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں بیع میں شرط کرنا جائز نہیں اور مشروط بیع پوری نہ ہوگی۔ (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا یہی مسلک کیا ہے،مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۰،مَا جَاءَ فِی اشْتِرَاطِ ظُھْرِ الدَّابَّةِ عِنْدَ الْبَيْعِ،جلد۱ص۶۴۰،حدیث نمبر ١٢٥٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي اشْتِرَاطِ ظَهْرِ الدَّابَّةِ عِنْدَ البَيْعِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ «بَاعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا وَاشْتَرَطَ ظَهْرَهُ إِلَى أَهْلِهِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: يَرَوْنَ الشَّرْطَ فِي البَيْعِ جَائِزًا إِذَا كَانَ شَرْطًا وَاحِدًا، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: لَا يَجُوزُ الشَّرْطُ فِي البَيْعِ، وَلَا يَتِمُّ البَيْعُ إِذَا كَانَ فِيهِ شَرْطٌ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1253

رہن سے نفع اٹھانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رہن جانور پر سوار ہو سکتا ہے۔ اور اس کا دودھ پی سکتا ہے اور اس کا خرچ سواری کرنے والے اور دودھ پینے والے پر ہوگا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے صرف عامر شعبی کی روایت سے مرفوعاً ہم جانتے ہیں۔متعدد لوگوں نے اسے بواسطہ اعمش اور ابو صالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا۔ بعض اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے،جبکہ بعض علماء کے نزدیک رہن رکھی ہوئی چیز سے نفع اٹھانا درست نہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۱،الانتفاء بالرهن،جلد۱ص۶۴۰،حدیث نمبر ١٢٥٤)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الِانْتِفَاعِ بِالرَّهْنِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَيُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الظَّهْرُ يُرْكَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الحَدِيثَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: لَيْسَ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ مِنَ الرَّهْنِ بِشَيْءٍ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1254

سونے اور نگینے والا ہار خریدنا حضرت فضالہ بن عبید سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے خیبر کے دن ایک ہار بارہ دینار میں خریدا اس میں سونا اور نگینے جڑے ہوئے تھے جب میں نے انہیں الگ کیا تو بارہ دینار سے زیادہ (سونا) پایا، چنانچہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا الگ کیے بغیر ہار نہ بیچا جائے۔ قتیبہ نے بواسطہ ابن مبارک،ابو شجاع سعید بن زید سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں مرصع تلوار یا چاندی کا جڑاؤ کیا ہوا کمر بند یا اس قسم کی دوسری اشیاء چاندی الگ کیے بغیر نہ بیچی جائیں۔ ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے اس کی اجازت دی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۲،مَا جَاءَ فِی شِرَاءِ الْقِلَادَةِ وَفِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ،جلد۱ص۶۴۱،حدیث نمبر ١٢٥٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي شِرَاءِ القِلَادَةِ وَفِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ، فَفَصَلْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفْصَلَ» حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ المُبَارَكِ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ،: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ لَمْ يَرَوْا أَنْ يُبَاعَ السَّيْفُ مُحَلًّى، أَوْ مِنْطَقَةٌ مُفَضَّضَةٌ، أَوْ مِثْلُ هَذَا بِدَرَاهِمَ، حَتَّى يُمَيَّزَ وَيُفْصَلَ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ المُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِي ذَلِكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1255

شرط ولاء کی ممانعت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو بیچنے والوں نے ولاء کی شرط لگائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے خرید لو حق ولاء تو اس کے لیے ہے۔ جو اس کی قیمت دے یا اس کا مالک بن جائے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا حسن صحیح ہے اور علماء کا اس پر عمل ہے۔ منصور بھی معتمر کی کنیت ابو عتاب ہے۔ ابو عطار بصری،علی بن مدینی سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے یحییٰ بن سعید کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تجھے منصور سے روایت بیان کی جائے تو تو نے اپنا ہاتھ بھلائی سے بھر دیا اب ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہ کر یحییٰ فرماتے ہیں میں ابراہیم نخعی اور مجاہد کی روایت میں منصور سے اثبت کسی کو نہیں پاتا امام بخاری نے بواسطہ عبداللہ بن ابو اسود، عبدالرحمن بن مہدی سے نقل کیا کہ اہل کوفہ میں،، منصور،،اثبت ہیں۔ ف : کسی نو مسلم نے دوسرے آدمی سے کہا کہ میں مر جاؤں تو تو میرا وارث ہے اور مجھ سے کوئی جنایت وہ تو دیت تجھے دینی پڑے گی اس نے قبول کر لیا یہ موالات ہے اسی کو ولاء کہتے ہیں۔ (مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۳،مَا جَاءَ فِی اشْتَرَاطِ الْوَلَاءِ وَالزَّجُرِعَنْ ذٰلِكَ،جلد۱ص۶۴۱،حدیث نمبر ١٢٥٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي اشْتِرَاطِ الوَلَاءِ وَالزَّجْرِ عَنْ ذَلِكَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا الوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، أَوْ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ. حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ. وَمَنْصُورُ بْنُ المُعْتَمِرِ يُكْنَى أَبَا عَتَّابٍ. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ العَطَّارُ البَصْرِيُّ، عَنْ ابْنِ المَدِينِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: «إِذَا حُدِّثْتَ عَنْ مَنْصُورٍ فَقَدْ مَلَأْتَ يَدَكَ مِنَ الخَيْرِ لَا تُرِدْ غَيْرَهُ» ثُمَّ قَالَ يَحْيَى: مَا أَجِدُ فِي إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَمُجَاهِدٍ أَثْبَتَ مِنْ مَنْصُورٍ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ: مَنْصُورٌ أَثْبَتُ أَهْلِ الكُوفَةِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1256

تجارت میں نفع حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار میں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے بھیجا انہوں نے جانور خریدا اور اس میں ایک دینار کا نفع حاصل کیا۔ اور اس کی جگہ دوسرا جانور خرید کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور ساتھ ہی دینار بھی پیش کر دیا۔ آپ نے فرمایا بکری کی قربانی کرو اور دینار صدقہ کر دو۔ حدیث حکیم بن حزام کو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں میرے (امام ترمذی) کے نزدیک حبیب بن ثابت کو حکیم بن حزام سے سماع نہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۴،جلد۱ص۶۴۲،حدیث نمبر ١٢٥٧)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ، فَاشْتَرَى أُضْحِيَّةً، فَأُرْبِحَ فِيهَا دِينَارًا، فَاشْتَرَى أُخْرَى مَكَانَهَا، فَجَاءَ بِالأُضْحِيَّةِ وَالدِّينَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «ضَحِّ بِالشَّاةِ، وَتَصَدَّقْ بِالدِّينَارِ»: حَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ عِنْدِي مِنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1257

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دینار دیا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بکری خریدوں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو بکریاں خرید لیں پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی جبکہ دوسری بکری اور ایک دینار لے کر حاضر خدمت ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعا دیتے ہوئے) فرمایا اللہ تعالٰی تمہارے داہنے ہاتھ کے سودے میں برکت دے اس کے بعد حضرت عروہ کناسۂ کوفہ کی طرف جاتے تو بہت بڑا نفع حاصل کرتے پس آپ کوفہ کی دولت مندوں میں سے ہو گئے۔ احمد بن سعید نے بواسطہ حبان،سعید بن زید اور زبیر بن خریت، ابو لبید سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ بعض علماء اس حدیث کی طرف گئے ہیں امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں جبکہ بعض اہل علم نے اس حدیث کو نہیں لیا۔ امام شافعی انہی لوگوں میں شامل ہیں سعید بن زید،حماد بن زید کے بھائی ہیں،ابو لبید کا نام لمازہ ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۴،جلد۱ص۶۴۲،حدیث نمبر ١٢٥٨)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ وَهُوَ ابْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَعْوَرُ المُقْرِئُ وَهُوَ ابْنُ مُوسَى الْقَارِئُ قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ البَارِقِيِّ، قَالَ: دَفَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا لِأَشْتَرِيَ لَهُ شَاةً، فَاشْتَرَيْتُ لَهُ شَاتَيْنِ، فَبِعْتُ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، وَجِئْتُ بِالشَّاةِ وَالدِّينَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ لَهُ مَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ، فَقَالَ لَهُ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي صَفْقَةِ يَمِينِكَ»، فَكَانَ يَخْرُجُ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى كُنَاسَةِ الكُوفَةِ فَيَرْبَحُ الرِّبْحَ العَظِيمَ، فَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِ الكُوفَةِ مَالًا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ خِرِّيتٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ. وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ إِلَى هَذَا الحَدِيثِ وَقَالُوا بِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَلَمْ يَأْخُذْ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ بِهَذَا الحَدِيثِ مِنْهُمْ: الشَّافِعِيُّ. وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبُو لَبِيدٍ اسْمُهُ لِمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1258

مکاتب کے پاس ادائیگی کے لیے مال ہو تو کیا حکم ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مکاتب کو دیت یا ترکہ ملے تو اتنے ہی حصے کا مالک ہوگا جس قدر وہ اب تک آزاد ہو چکا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا جب مکاتب کو دیت دی جائے۔ تو جتنا حصہ آزاد ہے اتنے حصے کی دیت آزاد کی دیت کے حساب سے اور باقی حصہ غلام کی دیت کے حساب سے دی جائے۔ اس باب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایت مذکور ہے۔ حدیث ابن عباس حسن ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے بواسطہ عکرمہ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت کیا خالد حذاء نے اسے بواسطہ عکرمہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول نقل کیا۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے جبکہ اکثر صحابہ اور بعد کے علماء کے نزدیک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی ہو وہ غلام ہی ہے۔ سفیان ثوری،شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۵،مَاجَاءَ فِی الْمُكَاتَبِ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي،جلد۱ص۶۴۳،حدیث نمبر ١٢٥٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي المُكَاتَبِ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ البَزَّارُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَصَابَ المُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ مِيرَاثًا وَرِثَ بِحِسَابِ مَا عَتَقَ مِنْهُ» وقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُؤَدِّي المُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ حُرٍّ، وَمَا بَقِيَ دِيَةَ عَبْدٍ» وَفِي البَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهَكَذَا رَوَى يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى خَالِدٌ الحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَوْلَهُ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ،وقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: المُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1259

عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی شخص نے اپنے غلام کو سو اوقیہ پر مکاتب بنایا اب اس پر دس اوقیہ یا (فرمایا) دس درہم باقی رہ گئے پھر وہ عاجز ہو گیا تو وہ غلام ہی رہے گا یہ حدیث غریب ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے کہ مکاتب اس وقت تک غلام ہیں جب تک اس کے ذمہ کچھ بھی باقی ہے۔ حجاج بن ارطاۃ نے عمرو بن شعیب سے اس کی مثل بیان کیا ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۵،مَاجَاءَ فِی الْمُكَاتَبِ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي،جلد۱ص۶۴۳،حدیث نمبر ١٢٦٠)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ: «مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهُ إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ» أَوْ قَالَ: «عَشَرَةَ دَرَاهِمَ ثُمَّ عَجَزَ فَهُوَ رَقِيقٌ»: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَالعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: أَنَّ المُكَاتَبَ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ كِتَابَتِهِ وَقَدْ رَوَى الحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَهُ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1260

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی عورت کے مکاتب کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ اپنی مکاتب کی تمام رقم ادا کر سکے تو اس سے پردہ کرنا چاہیے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ علماء کے نزدیک اس کا مطلب تقوٰی و احتیاط ہے ورنہ جب تک وہ ادائیگی نہ کرے آزاد نہ ہوگا اگرچہ اس کے پاس اتنی رقم ہو۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۵،مَاجَاءَ فِی الْمُكَاتَبِ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي،جلد۱ص۶۴۳،حدیث نمبر ١٢٦١)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ عِنْدَ مُكَاتَبِ إِحْدَاكُنَّ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ عَلَى التَّوَرُّعِ، وَقَالُوا: لَا يُعْتَقُ المُكَاتَبُ وَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي حَتَّى يُؤَدِّيَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1261

کوئی شخص مفلس مقروض کے پاس اپنا مال پائے تو کیا حکم ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مفلس ہو جائے پھر کوئی آدمی اپنا مال بعینہٖ اس کے پاس پائے تو وہ دوسروں کی بنسبت اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ اس باب میں حضرت سمرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابوہریرہ حسن صحیح ہے۔ اور بعض اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے۔ امام شافعی۔ احمد اور اسحٰق رحمہم اللّٰہ اسی کے قائل ہیں کچھ علماء فرماتے ہیں وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہے۔ اہل کوفہ کا یہی قول ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۶،مَا جَاءَ إِذَا أَفْلَسَ لِلرَّجُلِ غَرِيمٌ فَیَجَدُ عِندَہُ مَتَاعَہُ،جلد۱ص۶۴۴،حدیث نمبر ١٢٦٢)

بَابُ مَا جَاءَ إِذَا أَفْلَسَ لِلرَّجُلِ غَرِيمٌ فَيَجِدُ عِنْدَهُ مَتَاعَهُ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ العَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «أَيُّمَا امْرِئٍ أَفْلَسَ وَوَجَدَ رَجُلٌ سِلْعَتَهُ عِنْدَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَوْلَى بِهَا مِنْ غَيْرِهِ» وَفِي البَابِ عَنْ سَمُرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ. حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ. وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: هُوَ أُسْوَةُ الغُرَمَاءِ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الكُوفَةِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1262

مسلمان کسی ذمی کو شراب بیچنے کے لیے نہ دے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی۔،، سورہ مائدہ ،،نازل ہوئی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا اور عرض کیا کہ وہ ایک یتیم لڑکے کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،،اس کو بہا دو،، اس باب میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔ ابو سعید کی روایت حسن ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد طرق سے اس کے ہم معنی مروی ہے۔ بعض علماء اس کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک شراب کو سرکہ بنانا مکروہ ہے۔ اور یہ اسی وجہ سے مکروہ ہے اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے کہ مسلمان کے گھر شراب رکھی ہے حتٰی کہ وہ سرکہ بن جائے۔ بعض علماء نے اجازت دی ہے جبکہ اسے سرکہ بنا ہوا پائیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۷،مَا جَاءَ وَ النَّھْيِ لِلْمُسلِمِ أَن يَدْفَعَ إلَى الذِّمِّى الْخَمَرَ يَبِيْعُهَالَہُ،جلد۱ص۶۴۴،حدیث نمبر ١٢٦٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ لِلْمُسْلِمِ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى الذِّمِّيِّ الخَمْرَ يَبِيعُهَا لَهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا خَمْرٌ لِيَتِيمٍ فَلَمَّا نَزَلَتِ المَائِدَةُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، وَقُلْتُ: إِنَّهُ لِيَتِيمٍ، فَقَالَ: «أَهْرِيقُوهُ» وَفِي البَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا , وقَالَ بِهَذَا بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ، وَكَرِهُوا أَنْ تُتَّخَذَ الخَمْرُ خَلَّا، وَإِنَّمَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنْ يَكُونَ المُسْلِمُ فِي بَيْتِهِ خَمْرٌ حَتَّى يَصِيرَ خَلَّا، وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي خَلِّ الخَمْرِ إِذَا وُجِدَ قَدْ صَارَ خَلًّا. أَبُو الوَدَّاكِ اسْمُهُ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1263

ادائیگی امانت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کر دو اور جو تم سے خیانت کرے اس سے (بھی) خیانت نہ کرو،یہ حدیث حسن غریب ہے بعض علماء اس حدیث کی طرف گئے ہیں وہ فرماتے ہیں جب کسی آدمی کی کوئی چیز دوسرے کے پاس امانت ہو اور وہ ادا نہ کرے اس کے بعد اس کی کوئی چیز اس کے ہاتھ آ جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اس چیز میں سے اتنا روک لے جتنا اس پہلے نے لیا ہے۔ بعض تابعین نے اس کی اجازت دی ہے سفیان ثوری رحمہ اللّٰہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ نیز فرماتے ہیں۔ اگر اس کے ذمہ درہم ہوں اب اس کے ہاتھ اس کے دینار آ جائیں۔ تو وہ درہموں کے بدلے دینار روک لے البتہ اگر اس کے قبضہ میں اس کے درہم آ جائیں تو ان میں سے اس قدر لے سکتا ہے جس قدر اس امانت دار کے ذمہ ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۸،جلد۱ص۶۴۵،حدیث نمبر ١٢٦٤)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَرِيكٍ، وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنْ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ إِلَى هَذَا الحَدِيثِ، وَقَالُوا: إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَلَى آخَرَ شَيْءٌ، فَذَهَبَ بِهِ، فَوَقَعَ لَهُ عِنْدَهُ شَيْءٌ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَحْبِسَ عَنْهُ بِقَدْرِ مَا ذَهَبَ لَهُ عَلَيْهِ، وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَقَالَ: " إِنْ كَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَرَاهِمُ- فَوَقَعَ لَهُ عِنْدَهُ دَنَانِيرُ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَحْبِسَ بِمَكَانِ دَرَاهِمِهِ، إِلَّا أَنْ يَقَعَ عِنْدَهُ لَهُ دَرَاهِمُ فَلَهُ حِينَئِذٍ أَنْ يَحْبِسَ مِنْ دَرَاهِمِهِ بِقَدْرِ مَا لَهُ عَلَيْهِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1264

مستعار چیز قابل واپسی ہے حضرت امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا مستعار چیز قابل واپسی ہے،ضامن ذمہ دار ہے،اور قرض ادا کیا جائے۔ اس باب میں حضرت سمرہ۔ صفوان بن امیہ اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابو امامہ حسن ہیں۔ حضرت ابو امامہ سے اس طریق کے علاوہ بھی مروی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۹،مَا جَاءَ أَنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ،جلد۱ص۶۴۵،حدیث نمبر ١٢٦٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ العَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الخُطْبَةِ عَامَ حَجَّةِ الوَدَاعِ: «العَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ»: وَفِي البَابِ عَنْ سَمُرَةَ، وَصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَأَنَسٍ وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الوَجْهِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1265

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چیز ہاتھ نے لی وہ اس پر واجب ہے یہاں تک کہ ادا کرے۔ قتادہ فرماتے ہیں۔ پھر حضرت حسن بھول گئے اور فرمایا وہ تیرا امین ہے۔ اس پر کوئی ضمانت نہیں یعنی ادھار لینے والا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء اسی طرف گئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں ادھار لینے والا ضامن ہوگا۔ امام شافعی اور احمد رحمہم اللّٰہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ بعض صحابہ کرام اور دوسرے علماء فرماتے ہیں۔ عاریتًا،چیز لینے والے پر ضامن نہیں مگر یہ کہ صاحب امانت کے قول کی مخالفت کرے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔ امام اسحاق بھی یہی فرماتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۵۹،مَا جَاءَ أَنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ،جلد۱ص۶۴۵،حدیث نمبر ١٢٦٦)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَى اليَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ» قَالَ قَتَادَةُ: ثُمَّ نَسِيَ الحَسَنُ، فَقَالَ: فَهُوَ أَمِينُكَ لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ، يَعْنِي: العَارِيَةَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا، وَقَالُوا: يَضْمَنُ صَاحِبُ العَارِيَةِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: لَيْسَ عَلَى صَاحِبِ العَارِيَةِ ضَمَانٌ إِلَّا أَنْ يُخَالِفَ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاقُ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1266

ذخیرہ اندوزی حضرت معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا گنہگار ہی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔راوی (محمد بن ابراہیم) کہتے ہیں میں نے حضرت سعید بن مسیب سے پوچھا اے ابو محمد ! آپ بھی تو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں۔انہوں نے فرمایا معمر بھی تو ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ زیتون اور جھڑے ہوئے پتوں وغیرہ کا احتکار کرتے تھے۔ اس باب میں حضرت عمر علی۔ ابو امامہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث معمر حسن صحیح ہے۔ علماء کا اس پر عمل ہے۔ انہوں نے کھانے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کو مکروہ کہا ہے۔ بعض علماء نے غیر طعام کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت دی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں روئی اور بکری کی کھال یا اس قسم کی دوسری اشیاء کو ذخیرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ف : غلہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں ذخیرہ اندوزی نہیں غلہ میں ممانعت کی صورت یہ ہے،کے گرانی کے زمانہ میں غلہ خرید کر روک رکھنا اور نہ بیچنا کہ لوگ خوب پریشان ہوں گے تو نہایت مہنگا بیچوں گا اگر یہ صورت نہ ہو تو کچھ حرج نہیں۔ (بہار شریعت حصہ ۱۱ ص۱۰۵) مترجم۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۰،مَا جَاءَ فِی الاحْتِكَارِ،جلد۱ص۶۴۶،حدیث نمبر ١٢٦٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الِاحْتِكَارِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ» فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّكَ تَحْتَكِرُ، قَالَ وَمَعْمَرٌ قَدْ كَانَ يَحْتَكِرُ: وَإِنَّمَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ أَنَّهُ كَانَ يَحْتَكِرُ الزَّيْتَ وَالْخَبَطَ وَنَحْوَ هَذَا: وَفِي البَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَابْنِ عُمَرَ وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ كَرِهُوا احْتِكَارَ الطَّعَامِ، وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي الِاحْتِكَارِ فِي غَيْرِ الطَّعَامِ وقَالَ ابْنُ المُبَارَكِ: لَا بَأْسَ بِالِاحْتِكَارِ فِي القُطْنِ، وَالسِّخْتِيَانِ وَنَحْوِ ذَلِكَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1267

دودھ دھوئے بغیر جانور بیچنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجارتی قافلہ سے آگے جا کر نہ دھوکہ کے لیے جانور کے تھنوں میں دودھ نہ روک رکھو اور ایک دوسرے کا بھاؤ تیز نہ کرو۔ اس باب میں حضرت ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہیں۔ اور علماء کا اس پر عمل ہے انہوں نے ایسے جانور کا بیچنا مکروہ قرار دیا ہے جس کے تھنوں میں دودھ روکا جائے اور اس کا مالک اسے کئی دن نہ دوہہ کر تھنوں میں دودھ روکے رکھے اور اس سے خریدار دھوکہ کھائے یہ فریب اور دھوکہ کی ایک قسم ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۱،مَا جَاءَ فِی بَيْعِ المُحَفَّلَاتِ،جلد۱ص۶۴۷،حدیث نمبر ١٢٦٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعِ المُحَفَّلَاتِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَسْتَقْبِلُوا السُّوقَ، وَلَا تُحَفِّلُوا، وَلَا يُنَفِّقْ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ»: وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ كَرِهُوا بَيْعَ المُحَفَّلَةِ وَهِيَ المُصَرَّاةُ لَا يَحْلُبُهَا صَاحِبُهَا أَيَّامًا، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، لِيَجْتَمِعَ اللَّبَنُ فِي ضَرْعِهَا فَيَغْتَرَّ بِهَا المُشْتَرِي، وَهَذَا ضَرْبٌ مِنَ الخَدِيعَةِ وَالغَرَرِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1268

مال مسلم ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھانا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے وہ اللہ تعالٰی سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ اشعث بن قیس فرماتے ہیں اللہ تعالٰی کی قسم یہ تو مجھ سے ہی متعلق ہے واقعہ یہ ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی اس نے (میرے حصے کا) انکار کیا تو میں اسے بارگاہ نبوی میں لے آیا،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تمہارے پاس گواہ ہیں میں نے عرض کیا نہیں،آپ نے یہودی سے فرمایا قسم کھاؤ۔ میں نے عرض کیا حضور یہ تو قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا،اس پر اللہ تعالٰی نے آیت نازل فرمائی،،ان الذين يشتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَ أَيْمَانِھِمَ ثَمَنًّا قَلِيلًا الخ،،(جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی (حقیر) قیمت لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ) اس باب میں حضرت وائل بن حجر۔ ابو موسیٰ۔ ابو امامہ بن ثعلبہ انصاری اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث ابن مسعود حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۲،مَا جَاءَ فِی الْيَمِينِ الْفَاجِرَة بَقَتَطِعُ بِهَا مَالَ المُسلِم،جلد۱ص۶۴۷،حدیث نمبر ١٢٦٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي اليَمِينِ الفَاجِرَةِ يُقْتَطَعُ بِهَا مَالُ المُسْلِمِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»، فَقَالَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ: فِيَّ وَاللَّهِ، لَقَدْ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ اليَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟»، قُلْتُ: لَا، فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ: «احْلِفْ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ فَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهَ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] إِلَى آخِرِ الآيَةِ: وَفِي البَابِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ الأَنْصَارِيِّ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1269

بائع اور مشتری کا اختلاف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بائع اور مشتری میں اختلاف ہو جائے تو بائع کا قول معتبر ہوگا اور مشتری کو اختیار ہے۔ یہ حدیث مرسل ہے عون بن عبداللہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔بواسطہ قاسم بن عبدالرحمٰن بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ یہ بھی مرسل روایت ہے ابن منصور فرماتے ہیں میں نے احمد سے پوچھا اگر بائع اور مشتری میں اختلاف ہو جائے اور گواہ نہ ہوں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا بیچنے والے کی بات معتبر ہے۔ یا دونوں اپنی اپنی بات واپس لے لیں،امام اسحاق فرماتے ہیں جس کا صرف قول ہوگا اسے قسم کھانی پڑے گی۔ بعض تابعین سے جن میں شریح بھی ہیں یہی منقول ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البجوع،باب۸۶۳،مَا جَاءَ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيْعَانِ۔ جلد ۱ص۶۴۸،حدیث نمبر ١٢٧٠)

بَابُ مَا جَاءَ إِذَا اخْتَلَفَ البَيِّعَانِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اخْتَلَفَ البَيِّعَانِ فَالقَوْلُ قَوْلُ البَائِعِ وَالمُبْتَاعُ بِالخِيَارِ»: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يُدْرِكْ ابْنَ مَسْعُودٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ القَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الحَدِيثُ أَيْضًا، وَهُوَ مُرْسَلٌ أَيْضًا: قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ: إِذَا اخْتَلَفَ البَيِّعَانِ وَلَمْ تَكُنْ بَيِّنَةٌ، قَالَ: القَوْلُ مَا قَالَ رَبُّ السِّلْعَةِ، أَوْ يَتَرَادَّانِ قَالَ إِسْحَاقُ كَمَا قَالَ وَكُلُّ مَنْ كَانَ القَوْلُ قَوْلَهُ فَعَلَيْهِ اليَمِينُ: هَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ مِنْهُمْ شُرَيْحٌ، وَغَيْرُهُ وَنَحْوُ هَذَا

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1270

ضرورت سے زائد پانی بیچنا حضرت ایاس بن عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع فرمایا اس باب میں حضرت جابر،بہیسہ بواسطہ والد،ابوہریرہ،عائشہ،انس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ایاس حسن صحیح ہے۔ اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ پانی بیچنا مکروہ ہے۔ ابن مبارک،شافعی،احمد اور اسحاق رحمہم اللّٰہ کا یہی قول ہے۔ بعض علماء نے پانی بیچنے کی اجازت دی ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ بھی اس میں شامل ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۴،مَا جَاءَ فِی بَيْعِ فَضَلِ المَاءِ، جلد ۱ص۶۴۸،حدیث نمبر ١٢٧١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعِ فَضْلِ المَاءِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ العَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي المِنْهَالِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ المُزَنِيِّ قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ المَاءِ» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَبُهَيْسَةَ، عَنْ أَبِيهَا، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: حَدِيثُ إِيَاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ أَنَّهُمْ كَرِهُوا بَيْعَ المَاءِ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ المُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِي بَيْعِ المَاءِ مِنْهُمْ: الحَسَنُ البَصْرِيُّ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1271

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زائد پانی نہ روکا جائے تاکہ گھاس میں کمی نہ ہو یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو المنہل کا نام عبد الرحمن بن مطعم کوفی ہے ، اور وہی ایک ہے جس سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا،اور ابو الیمل سیار بن بن سلامہ بصری ابو برزہ اسلامی کا ساتھی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۴،مَا جَاءَ فِی بَيْعِ فَضَلِ المَاءِ، جلد ۱ص۶۴۸،حدیث نمبر ١٢٧١)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُمْنَعُ فَضْلُ المَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الكَلَأُ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو المِنْهَالِ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُطْعِمٍ كُوفِيٌّ، وَهُوَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَأَبُو المِنْهَالِ سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ بَصْرِيٌّ صَاحِبُ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1272

جفتی کرانے کی اجرت لینا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جفتی کرانے کی اجرت سے منع فرمایا اس باب میں حضرت ابوہریرہ،انس اور ابو سعید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں۔ حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ بعض علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے۔ ایک جماعت نے (مقرر کیے بغیر) انعام قبول کرنے کی اجازت دی ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۵،مَاجَاءَ فِی كَرَاهِيَّةِ عَسْبِ الْفَحْلِ،جلد۱ص۶۴۹،حدیث نمبر ١٢٧٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ عَسْبِ الفَحْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَأَبُو عَمَّارٍ قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الفَحْلِ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي قَبُولِ الكَرَامَةِ عَلَى ذَلِكَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1273

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قبیلہ کلاب کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جفتی کرانے کی اجرت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نر جانور لوگوں کو عاریتاًدے دیتے ہیں پھر لوگ خود ہی بطور انعام کچھ دیتے ہیں۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انعام لینے کی اجازت دے دی۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف ابراہیم بن حمید کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۵،مَاجَاءَ فِی كَرَاهِيَّةِ عَسْبِ الْفَحْلِ،جلد۱ص۶۴۹،حدیث نمبر ١٢٧٤)

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الخُزَاعِيُّ البَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِلَابٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الفَحْلِ؟ «فَنَهَاهُ»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُطْرِقُ الفَحْلَ فَنُكْرَمُ، «فَرَخَّصَ لَهُ فِي الكَرَامَةِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1274

کتے کی قیمت حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی کھینچنے والے کی کمائی ناپاک ہے زانیہ کی اجرت ناپاک ہے اور کتے کی قیمت ناپاک ہے۔ اس باب میں حضرت عمر۔ ابن مسعود۔ جابر۔ ابو ہریرہ،ابن عباس،ابن عمر،اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث رافع حسن صحیح ہے،اکثر علماء کا اس پر عمل ہے۔ کہ کتے کی قیمت مکروہ ہے۔ امام شافعی،احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔ بعض اہل علم نے شکاری کتے کی قیمت کی اجازت دی ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۶،مَا جَاءَ فِی ثَمَنِ الْكَلْبِ،جلد۱ص۶۴۹،حدیث نمبر ١٢٧٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِي ثَمَنِ الكَلْبِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَسْبُ الحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ البَغِيِّ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الكَلْبِ خَبِيثٌ» وَفِي البَابِ عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ: حَدِيثُ رَافِعٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ، كَرِهُوا ثَمَنَ الكَلْبِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِي ثَمَنِ كَلْبِ الصَّيْدِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1275

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت۔ زانیہ کی کمائی اور نجومی کی اجرت سے منع فرمایا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۶،مَا جَاءَ فِی ثَمَنِ الْكَلْبِ،جلد۱ص۶۴۹،حدیث نمبر ١٢٧٦)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ المَخْزُومِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الكَلْبِ، وَمَهْرِ البَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الكَاهِنِ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1276

سینگی لگانے والے کی کمائی بنو حارثہ کے بھائی ابن محیصہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی کھینچنے کی اجرت لینے کی اجازت چاہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرمایا۔ لیکن وہ مسلسل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھتے اور اجازت طلب کرتے رہے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے پانی کھینچنے والے اونٹ کو چارہ کھلاؤ۔اور اپنے غلام کو کھانا دو۔ اس باب میں حضرت رافع بن خدیج ابو جحیفہ جابر،اور سائب رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث محیصہ حسن ہے اور بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں اگر سینگی کھینچنے والا مجھ سے اجرت مانگے تو میں اسے منع کر دوں گا۔ انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۷،مَا جَاءَ فِیْ كَسْبِ الْحَجَّامِ،جلد۱ص۶۵۰،حدیث نمبر ١٢٧٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَسْبِ الحَجَّامِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ مُحَيِّصَةَ، أَخِي بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الحَجَّامِ، «فَنَهَاهُ عَنْهَا»، فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ، حَتَّى قَالَ: «اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ، وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ»وَفِي البَابِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ، وَجَابِرٍ، وَالسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ. حَدِيثُ مُحَيِّصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ وقَالَ أَحْمَدُ: إِنْ سَأَلَنِي حَجَّامٌ نَهَيْتُهُ، وَآخُذُ بِهَذَا الحَدِيثِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1277

سینگی لگانے کی اجرت لینے کی اجازت حمید سے روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سینگی لگانے والے کی اجرت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی کھچوائی اور ابو طیبہ نے کھینچی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دو صاع (غلہ) کا حکم دیا اور ان کے مالکوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو فرمائی، چنانچہ انہوں نے ابو طیبہ کے خراج سے کچھ کم کر دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے لیے بہترین علاج سینگی لگوانا ہے (سینگی لگوانا کے مطلب حجامت کیا جاتا ہے یعنی جسم سے کچھ غیر ضروری خون نکالا جاتا ہے یہ ایک سنت طریقے کا علاج ہے)یا (فرمایا بہترین دوائی سینگی لگوانا ہے، اس باب میں حضرت علی،ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث انس حسن صحیح ہے،بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے سینگی لگانے کی کمائی کو جائز کہا ہے،امام شافعی بھی اسی کے قائل ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۸،مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي كَسَب الحَجَّامِ،جلد ۱ص۶۵۰،حدیث نمبر ١٢٧٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي كَسْبِ الحَجَّامِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ كَسْبِ الحَجَّامِ، فَقَالَ أَنَسٌ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ، وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ، وَقَالَ: «إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الحِجَامَةَ»، أَوْ «إِنَّ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمُ الحِجَامَةَ» وَفِي البَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي كَسْبِ الحَجَّامِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1278

کتے اور بلی کی قیمت لینا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت لینے سے منع فرمایا،اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے،یہ حدیث اعمش سے بواسطہ ان کے بعض اصحاب حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے،اس حدیث کی روایت میں اعمش پر راویوں کا اضطراب ہے،علماء کی ایک جماعت نے بلی کی قیمت لینا مکروہ کہا ہے،جبکہ بعض نے اس کی اجازت دی ہے،امام احمد اور اسحٰق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں،ابن فضیل نے بواسطہ اعمش اور ابن حازم،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طریق کے علاوہ بھی روایت کیا ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۹،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ ثَمَن الكَلْبِ والسِّنَّوْرِ،جلد۱ص۶۵۱،حدیث نمبر ١٢٧٩)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ ثَمَنِ الكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ»: هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ وَلَا يَصِحُّ فِي ثَمَنِ السِّنَّوْرِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنْ جَابِرٍ، وَاضْطَرَبُوا عَلَى الأَعْمَشِ فِي رِوَايَةِ هَذَا الحَدِيثِ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ ثَمَنَ الهِرِّ، وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُهُمْ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ وَرَوَى ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الوَجْهِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1279

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا،یہ حدیث غریب ہے عبدالرزاق کے علاوہ کوئی دوسرا بڑا عالم ہمارے علم میں نہیں جس نے عمر بن زید سے روایت کیا ہو، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۶۹،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ ثَمَن الكَلْبِ والسِّنَّوْرِ،جلد۱ص۶۵۱،حدیث نمبر ١٢٨٠)

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الهِرِّ وَثَمَنِهِ»: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعُمَرُ بْنُ زَيْدٍ لَا نَعْرِفُ كَبِيرَ أَحَدٍ رَوَى عَنْهُ غَيْرَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1280

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتے کے علاوہ کتے کی قیمت لینے سے منع فرمایا،یہ حدیث اس طریق سے صحیح نہیں،ابو مہزم کا نام یزید بن سفیان ہے،شعبہ بن حجاج نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے،حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی مثل مرفوعاً مروی ہے،اس کی سند بھی صحیح نہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۰،جلد۱ص۶۵۱،حدیث نمبر ١٢٨١)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي المُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «نَهَى عَنْ ثَمَنِ الكَلْبِ، إِلَّا كَلْبَ الصَّيْدِ»:هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ مِنْ هَذَا الوَجْهِ وَأَبُو المُهَزِّمِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَتَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ بْنُ الحَجَّاجِ وَضَعَّفَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ أَيْضًا

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1281

گانے والی لونڈیوں کی خرید و فروخت منع ہے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو نہ خریدو اور نہ ہی انہیں گانا سکھاؤ ان کی تجارت میں کوئی بھلائی نہیں اور ان کی قیمت حرام ہے،اسی قسم کی تجارت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی،من یشتری لہوالحدیث الخ ،، اس باب میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہے،حدیث ابو امامہ کو ہم صرف اسی طریق سے پہچانتے ہیں،بعض علماء نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا اور انہیں ضعیف کہا وہ شامی ہیں۔ (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۱،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيعِ الْمُعَنِّيَاتِ،جلد۱ص۶۵۲،حدیث نمبر ١٢٨٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ المُغَنِّيَاتِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ القَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبِيعُوا القَيْنَاتِ، وَلَا تَشْتَرُوهُنَّ، وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ، وَلَا خَيْرَ فِي تِجَارَةٍ فِيهِنَّ، وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ، فِي مِثْلِ هَذَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ} [لقمان: 6] إِلَى آخِرِ الآيَةِ وَفِي البَابِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ:-حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا مِنْ هَذَا الوَجْهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَضَعَّفَهُ وَهُوَ شَامِيٌّ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1282

غلام بیچتے وقت دو بھائیوں یا ماں بیٹے میں تفریق کرنا حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے ماں اور بیٹے کے درمیان تفریق کی اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کے اور اس کے عزیزوں کے درمیان تفریق کرے گا یہ حدیث غریب ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۲،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُّفَرَّقَ بَيْنَ الأخَوَينِ وَبَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا فِي الْبَيْع،جلد۱ص۶۵۲،حدیث نمبر ١٢٨٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ الْأَخَوَيْنِ أَوْ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا فِي البَيْعِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1283

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام بطور ہدیہ عطا فرمائے جو آپس میں بھائی تھے،میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا اے علی ! تمہارا ایک غلام کیا ہوا ؟ فرماتے ہیں میں نے واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے واپس لو،(دو مرتبہ فرمایا) یہ حدیث حسن غریب ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء نے قیدیوں کو بھیجتے وقت تفریق کو بھی مکروہ کہا ہے،لیکن بعض علماء نے ان قیدیوں کو جو سرزمین اسلام میں پیدا ہوئے،جدا کرنے کی اجازت دی ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے،ابراہیم سے منقول ہے انہوں نے ماں بیٹے کو بیچتے وقت جدا کیا تو آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا،آپ نے فرمایا میں نے اس عورت سے اس کے متعلق اجازت لی اور وہ اس پر راضی ہو گئی، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۲،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يُّفَرَّقَ بَيْنَ الأخَوَينِ وَبَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا فِي الْبَيْع،جلد۱ص۶۵۲،حدیث نمبر ١٢٨٤)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ -حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ الحَجَّاجِ، عَنْ الحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ مَا فَعَلَ غُلَامُكَ»، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «رُدَّهُ رُدَّهُ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمُ التَّفْرِيقَ بَيْنَ السَّبْيِ فِي البَيْعِ، وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِي التَّفْرِيقِ بَيْنَ المُوَلَّدَاتِ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي أَرْضِ الإِسْلَامِ، وَالقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فِي البَيْعِ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ اسْتَأْذَنْتُهَا بِذَلِكَ فَرَضِيَتْ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1284

غلام خریدنا پھر نفع کے بعد عیب پر مطلع ہونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ خراج،ضمانت کے سبب ہے،یہ حدیث حسن ہے،اور اس کے علاوہ بھی مروی ہے اور علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۳،مَا جَاءَ فِي مَنْ يَشْتَرِى الْعَبْدَويَسْتَغِلَّهُ ثُمَّ يَجِدُ بِہٖ عَيْبًا،جلد۱ص۶۵۳،حدیث نمبر ١٢٨٥)

بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يَشْتَرِي العَبْدَ وَيَسْتَغِلُّهُ ثُمَّ يَجِدُ بِهِ عَيْبًا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو عَامِرٍ العَقَدِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الخَرَاجَ بِالضَّمَانِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الوَجْهِ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1285

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ خراج،ضمانت کے سبب ہے،یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے صحیح غریب ہے،امام بخاری نے عمر بن علی کی روایت سے اسے غریب کہا ہے،حالانکہ مسلم بن خالد نجی نے اسے ہشام بن عروہ سے روایت کیا،جریر نے بھی ہشام سے روایت کیا،کہا گیا ہے کہ جریر کی روایت میں تدلیس ہے انہوں نے ہشام بن عروہ سے نہیں سنا،،ضمانت کے سبب خراج،کا مطلب یہ ہے،کہ ایک شخص نے اس کو بیچا اور اس سے نفع اٹھایا پھر اس میں عیب نکل گئی تو اس کو واپس کر دے نفع خریدار کے لیے ہوگا،اس لیے کہ اگر غلام ہلاک ہوتا تو خریدار کا مال ضائع ہوتا،اس قسم کی دوسرے مسائل جن میں ضمانت کے سبب سے خراج ہے،یہی صورت ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۳،مَا جَاءَ فِي مَنْ يَشْتَرِى الْعَبْدَويَسْتَغِلَّهُ ثُمَّ يَجِدُ بِہٖ عَيْبًا،جلد۱ص۶۵۳،حدیث نمبر ١٢٨٦)

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ المُقَدَّمِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الخَرَاجَ بِالضَّمَانِ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ: وَقَدْ رَوَى مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ أَيْضًا وَحَدِيثُ جَرِيرٍ يُقَالُ تَدْلِيسٌ دَلَّسَ فِيهِ جَرِيرٌ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَتَفْسِيرُ الخَرَاجِ بِالضَّمَانِ: هُوَ الرَّجُلُ يَشْتَرِي العَبْدَ فَيَسْتَغِلُّهُ ثُمَّ يَجِدُ بِهِ عَيْبًا فَيَرُدُّهُ عَلَى البَائِعِ فَالغَلَّةُ لِلْمُشْتَرِي، لِأَنَّ العَبْدَ لَوْ هَلَكَ -هَلَكَ مِنْ مَالِ المُشْتَرِي، وَنَحْوُ هَذَا مِنَ المَسَائِلِ يَكُونُ فِيهِ الخَرَاجُ بِالضَّمَانِ: اسْتَغْرَبَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هَذَا الحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، قُلْتُ: تَرَاهُ تَدْلِيسًا؟ قَالَ: لَا

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1286

مسافر کا راستہ کے باغ سے پھل کھانا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی باغ میں داخل ہو تو اس سے کھا سکتا ہے لیکن باندھ کر نہ لے جائے،اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو،عباد بن شرجیل،رافع بن عمر،عمیر مولٰی ابی لحم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث ابن عمر غریب ہے،اس طریق سے ہم اسے صرف یحییٰ بن سلیم کی روایت سے پہچانتے ہیں،بعض علماء نے مسافر کو پھل کھانے کی اجازت دی ہے البتہ بعض نے قیمت ادا کیے بغیر،(کھانے کو) مکروہ کہاں ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۴،مَا جَاءَ مِنَ الرُّخَّصَةِ فِي أَكَلِ الثَّمَرَةِ لِلْمَارِبِهَا،جلد۱ص۶۵۴،حدیث نمبر ١٢٨٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِ الثَّمَرَةِ لِلْمَارِّ بِهَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ دَخَلَ حَائِطًا فَلْيَأْكُلْ، وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً» وَفِي البَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، وَرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، وَعُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الوَجْهِ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَلِيمِ وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ -بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ لِابْنِ السَّبِيلِ فِي أَكْلِ الثِّمَارِ، وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ إِلَّا بِالثَّمَنِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1287

حضرت رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں میں،انصار کی کھجوروں پر پتھر مار رہا تھا،وہ مجھے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے آپ نے پوچھا،،رافع ! تم ان کی کھجوروں پر پتھر کیوں مار رہے تھے،فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بھوک کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پتھر نہ مارو جو گر جائے کھا لیا کرو اللہ تعالٰی تمہیں سیر و سیراب کر دے گا، یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۴،مَا جَاءَ مِنَ الرُّخَّصَةِ فِي أَكَلِ الثَّمَرَةِ لِلْمَارِبِهَا،جلد۱ص۶۵۴،حدیث نمبر ١٢٨٨)

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كُنْتُ أَرْمِي نَخْلَ الأَنْصَارِ، فَأَخَذُونِي، فَذَهَبُوا بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا رَافِعُ، لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الجُوعُ، قَالَ: «لَا تَرْمِ، وَكُلْ مَا وَقَعَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ وَأَرْوَاكَ» هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1288

عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھلوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا جو ضرورت مند،(بھوکا) اس سے کھائے اور باندھ کر نہ لے جائے تو اسے کوئی ڈر نہیں، یہ حدیث حسن ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۴،مَا جَاءَ مِنَ الرُّخَّصَةِ فِي أَكَلِ الثَّمَرَةِ لِلْمَارِبِهَا،جلد۱ص۶۵۴،حدیث نمبر ١٢٨٩)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ المُعَلَّقِ؟ فَقَالَ: «مَنْ أَصَابَ مِنْهُ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1289

خرید و فروخت میں استثناء کی ممانعت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ مخابرہ اور غیر معلوم چیز کی استثناء سے منع فرمایا یہ حدیث حسن صحیح اس طریق یعنی بواسطہ یونس بن عبید اور عطاء، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے غریب ہے، ف: محاقلہ اور مزابنہ کی تعریف حدیث نمبر ۱۲۳۰ میں گزر چکی ہے مخابرہ زمین بٹائی پر دینے کو کہتے ہیں ، (مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۵،مَا جَاءَ فِي النَّھْي عَنِ الثُّنْيَا،جلد۱ص۶۵۵،حدیث نمبر ١٢٩٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الثُّنْيَا حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ البَغْدَادِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ العَوَّامِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ المُحَاقَلَةِ، وَالمُزَابَنَةِ، وَالمُخَابَرَةِ، وَالثُّنْيَا، إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1290

قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص غلہ خریدے وہ اسے قبضہ کرنے سے پہلے نہ بیچے،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ ہر چیز کا یہی حکم ہے،اس باب میں حضرت جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے اکثر علماء کا اس پر عمل ہے انہوں نے خریدار کے قبضہ کرنے سے پہلے بیچنے کو مکروہ کہا ہے،بعض علماء نے قبضہ سے پہلے ایسی اشیاء کے بیچنے کی اجازت دی ہے جن کا وزن اور ناپ بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کھائی پی جاتی ہے ، علماء کے نزدیک صرف کھانے پینے کی چیزوں میں سختی ہے، امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۶،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتّٰى يَسْتَوْفِيَہٗ،جلد۱ص۶۵۵،حدیث نمبر ١٢٩١)

بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ»، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ العِلْمِ كَرِهُوا بَيْعَ الطَّعَامِ حَتَّى يَقْبِضَهُ المُشْتَرِي، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ فِيمَنْ ابْتَاعَ شَيْئًا مِمَّا لَا يُكَالُ وَلَا يُوزَنُ مِمَّا لَا يُؤْكَلُ وَلَا يُشْرَبُ، أَنْ يَبِيعَهُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ، وَإِنَّمَا التَّشْدِيدُ عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ فِي الطَّعَامِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1291

اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرنا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ کوئی دوسرے کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے،اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور ثمرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایات منقول ہیں،حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی اپنے بھائی کی قیمت پر قیمت نہ لگائے،بعض علماء کے نزدیک اس حدیث میں بیع سے،قیمت لگانا مراد ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۷،مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الْبَيْعِ عَلٰى بَيْعِ أَخِيہِ،جلد۱ص۶۵۵،حدیث نمبر ١٢٩٢)

بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ البَيْعِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا يَخْطُبُ بَعْضُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَمُرَةَ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَسُومُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ» وَمَعْنَى البَيْعِ فِي هَذَا الحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ: هُوَ السَّوْمُ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1292

شراب بیچنے کی ممانعت حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اپنے زیر نگرانی یتیموں کے لیے کچھ شراب خریدی تھی (اور ابھی حرام نہیں ہوئی تھی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بہا دو اور مٹکے توڑ دو،اس باب میں جابر،عائشہ،ابو سعید،ابن مسعود ابن عمر اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مروی ہیں،ثوری نے حدیث ابو طلحہ بواسطہ سدی اور یحییٰ بن عباد حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ابو طلحہ ان کے پاس تھے،اور یہ حدیث،لیث کی روایت سے اصح ہے ، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۸،مَا جَاءَ فِي بَيعِ الْخَمْرِ وَالنَّھْيِ عَنْ ذٰلِكَ،جلد۱ص۶۵۶،حدیث نمبر ١٢٩٣)

بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعِ الخَمْرِ وَالنَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا المُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْثًا يُحَدِّثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لِأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي، قَالَ: «أَهْرِقِ الخَمْرَ، وَاكْسِرِ الدِّنَانَ» وَفِي البَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ: حَدِيثُ أَبِي طَلْحَةَ، رَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الحَدِيثَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ عِنْدَهُ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1293

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کیا شراب کا سرکہ بنایا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،نہیں،،یہ حدیث حسن صحیح ہے،، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۸،مَا جَاءَ فِي بَيعِ الْخَمْرِ وَالنَّھْيِ عَنْ ذٰلِكَ،جلد۱ص۶۵۶،حدیث نمبر ١٢٩٤)

بَابُ النَّهْيِ أَنْ يُتَّخَذَ الخَمْرُ خَلًّا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُتَّخَذُ الخَمْرُ خَلًّا؟ قَالَ: «لَا»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1294

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی،شراب نچوڑنے والا،نچڑ وانے والا،پینے والا،اٹھانے والا،جس کے لیے اٹھائی جائے،پلانے والا،بیچنے والا،اس کی قیمت کھانے والا،خریدنے والا اور جس کے لیے خریدی جائے،یہ حدیث،حضرت انس کی روایت سے غریب ہے،حضرت ابن عباس،ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنھم سے بھی اس کی مثل مروی ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۸،مَا جَاءَ فِي بَيعِ الْخَمْرِ وَالنَّھْيِ عَنْ ذٰلِكَ،جلد۱ص۶۵۶،حدیث نمبر ١٢٩٥)

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الخَمْرِ عَشَرَةً: عَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ، وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَآكِلَ ثَمَنِهَا، وَالمُشْتَرِي لَهَا، وَالمُشْتَرَاةُ لَهُ " هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1295

مالک کی اجازت بغیر دودھ دھونا حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی( کسی کے ) موشیوں پر گزرے تو اگر ان کا مالک موجود ہو اور وہ اجازت (بھی) دے دے تو اس کا دودھ دھو کر پیے،اور اگر وہاں کوئی نہ ہو تو تین مرتبہ آواز دے اگر جواب آئے تو اس سے اجازت لے اگر کوئی جواب نہ دے تو دھو کر پیے لیکن ساتھ نہ لے جائے، اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابو سعید رضی اللہ عنھم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث سمرہ،حسن غریب صحیح ہے،اور بعض علماء کا اس پر عمل ہے،امام احمد اور اسحٰاق اس کے قائل ہیں،علی بن مدینی فرماتے ہیں حسن کا سمرہ سے سماع صحیح ہے،بعض محدثین نے سمرہ سے حسن کی روایت میں کلام کیا ہے،اور فرمایا کہ وہ سمرہ کے صحیفہ سے روایت کرتے ہیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۷۹،مَا جَاءَ فِي اخْتِلَافِ المَوَاشِي بِغَيْرِاِذْنِ الأَرباب،جلد۱ص۶۵۷،حدیث نمبر ١٢٩٦)

بَابُ مَا جَاءَ فِي احْتِلَابِ المَوَاشِي بِغَيْرِ إِذْنِ الأَرْبَابِ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ، فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا أَحَدٌ فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ أَحَدٌ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، فَإِنْ لَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ، وَلَا يَحْمِلْ» وَفِي البَابِ عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ: حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ:- وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ المَدِينِيِّ: سَمَاعُ الحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الحَدِيثِ فِي رِوَايَةِ الحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ، وَقَالُوا: إِنَّمَا يُحَدِّثُ عَنْ صَحِيفَةِ سَمُرَةَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1296

مردار کی کھال اور بتوں کا بیچنا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت ہے انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول (جل جلالہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم) نے شراب،مردار،خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت حرام فرمائی،عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مردار کی چربی کا کیا حکم ہے، کیونکہ اس سے کشتیوں پر ملا جاتا ہے اور چمڑوں پر بطور تیل استعمال کی جاتی ہے،اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛؛نہیں؛؛ یہ بھی حرام ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی یہود کو ہلاک کرے اللہ تعالٰی نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر بیچا اور اس کی قیمت کھا گئے اس باب میں حضرت عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں حدیث جابر حسن صحیح ہے،اور اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۰،مَا جَاءَ فِي بَيْعِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ وَالْأَصْنَامِ،جلد۱ص۶۵۷،حدیث نمبر ١٢٩٧)

بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعِ جُلُودِ المَيْتَةِ وَالأَصْنَامِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الخَمْرِ، وَالمَيْتَةِ، وَالخِنْزِيرِ، وَالأَصْنَامِ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ المَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، قَالَ: «لَا هُوَ حَرَامٌ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «قَاتَلَ اللَّهُ اليَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَأَجْمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ»- وَفِي البَابِ عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1297

ہبہ واپس لینے کی ممانعت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفات ذیمہ کا اپنا نا ہمارے (مسلمانوں کے) شایان شان نہیں ہبہ کی ہوئی چیز واپس لینے والا اس کتے کی مثل ہے جو اپنی قے چاٹ لے،اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کو جائز نہیں کہ عطیہ دے کر واپس کرے البتہ باپ اپنے بیٹے کو عطیہ دے کر واپس لے سکتا ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۱،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّجُوعِ مِنَ الْهِبَةِ،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٢٩٨)

بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّجُوعِ فِي الهِبَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ العَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1298

محمد بن بشار نے بواسطہ ابن ابی عدی حسین معلم،عمرو بن شعیب اور طاؤس،حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی یہ حدیث مرفوعاً روایت کی، حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے،بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے وہ فرماتے ہیں جو شخص اپنے محرم رشتہ دار کو عطیہ دے اسے واپس لوٹانے کا کوئی حق نہیں،اور کسی غیر کو دیا تو واپس لے سکتا ہے،بشرط کہ اس کا بدلہ نہ لیا ہو،سفیان ثوری رحمہم اللہ کا یہی قول ہے،کسی کے لیے دیا ہوا عطیہ واپس لینا جائز نہیں البتہ والد اپنے بیٹے کو عطیہ دے تو واپس لے سکتا ہے،امام شافعی رحمہ اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مرفوع حدیث سے استدلال کیا کہ باپ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص عطیہ دے کر واپس نہیں لے سکتا، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۱،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الرُّجُوعِ مِنَ الْهِبَةِ،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٢٩٩)

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ المُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعَانِ الحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الحَدِيثِ،: " حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا الحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ قَالُوا: مَنْ وَهَبَ هِبَةً لِذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا، وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً لِغَيْرِ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا، مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وقَالَ الشَّافِعِيُّ: «لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ» وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1299

عرایا اور اس کی اجازت حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا البتہ عرایا والوں کو اندازہ کے مطابق بیچنے کی اجازت دی،اس باب میں حضرت ابوہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،محمد بن اسحٰاق نے زید بن ثابت کی روایت اسی طرح بیان کی ایوب،عبید اللہ بن عمر اور مالک بن انس نے بواسطہ نافع،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا اس اسناد سے بواسطہ ابن عمر،محمد زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق(ساٹھ صاع) سے کم میں عرایا کی اجازت دی ہے،یہ روایت محمد بن اسحٰاق کی روایت سے اصح ہے۔ نوٹ: عرایا یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو اپنے باغ میں سے کھجور کھانے کے لیے دے پھر اس کو موہوب کا آنا جانا دشوار گزرے تو وہ اس کے بدلے اس کو اتاری ہوئی کھجوریں دے دے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۲،مَا جَاءَ فِي الْعَرَايَا وَالرُّخْصَةِ فِي ذٰلك،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٣٠٠)

بَابُ مَا جَاءَ فِي العَرَايَا وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ المُحَاقَلَةِ، وَالمُزَابَنَةِ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ أَذِنَ لِأَهْلِ العَرَايَا أَنْ يَبِيعُوهَا بِمِثْلِ خَرْصِهَا» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هَذَا الحَدِيثَ، وَرَوَى أَيُّوبُ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ المُحَاقَلَةِ، وَالمُزَابَنَةِ» وَبِهَذَا الإِسْنَادِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «رَخَّصَ فِي العَرَايَا» وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1300

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم ہونے کی صورت میں عرایا کو بھیجنے کی اجازت دی ہے، امام مالک رحمہ اللہ سے بھی یہ حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کے پانچ وسق یا اس سے کم کو بیچنے کی اجازت فرمائی، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۲،مَا جَاءَ فِي الْعَرَايَا وَالرُّخْصَةِ فِي ذٰلك،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٣٠١)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ العَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ كَذَا» حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ نَحْوَهُ وَرُوِيَ هَذَا الحَدِيثُ، عَنْ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ العَرَايَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَوْ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ»

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1301

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ کے بدلے اور عرایا کے بیچنے کی اجازت فرمائی،یہ حدیث حسن صحیح ہے،حدیث ابی ہریرہ حسن صحیح ہے،بعض اہل علم کے نزدیک اس پر عمل ہے امام شافعی،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ بھی ان میں شامل ہیں،وہ فرماتے ہیں،بیع عرایا ممنوعہ سودوں مثلاً بیع محاقلہ اور مزابنہ (وغیرہ) سے مستثنٰی ہے،ان علماء نے حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی روایت سے استدلال کیا لیکن شرط یہ ہے کہ پانچ وسق سے کم ہو،بعض علماء کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے سہولت کا ارادہ فرمایا کیونکہ انہوں نے شکایت کی کہ ہم عرایا کے پھل خریدنے کے لیے کھجوریں ہی رکھتے ہیں،لہذا آپ نے انہیں اجازت دے دی کہ پانچ وسق سے کم ہونے کی صورت میں خریدیں اور تازہ کھجوریں کھائیں، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۲،مَا جَاءَ فِي الْعَرَايَا وَالرُّخْصَةِ فِي ذٰلك،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٣٠٢)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ العَرَايَا بِخَرْصِهَا»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْهُمْ: الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ، وَقَالُوا: إِنَّ العَرَايَا مُسْتَثْنَاةٌ مِنْ جُمْلَةِ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَهَى عَنِ المُحَاقَلَةِ، وَالمُزَابَنَةِ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالُوا: لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ وَمَعْنَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ التَّوْسِعَةَ عَلَيْهِمْ فِي هَذَا لِأَنَّهُمْ شَكَوْا إِلَيْهِ، وَقَالُوا: لَا نَجِدُ مَا نَشْتَرِي مِنَ الثَّمَرِ إِلَّا بِالتَّمْرِ، فَرَخَّصَ لَهُمْ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَنْ يَشْتَرُوهَا فَيَأْكُلُوهَا رُطَبًا

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1302

رافع بن خدیج اور سہیل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی کچے پھل خشک کھجوروں کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا لیکن عرایا والوں کو اس کی اجازت دی،نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تازہ انگور کے بدلے خشک انگور بیچنے اور تخمینہ کے ساتھ کسی قسم کا پھل بیچنے سے (بھی) منع فرمایا یہ حدیث حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے ، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۲،مَا جَاءَ فِي الْعَرَايَا وَالرُّخْصَةِ فِي ذٰلك،جلد۱ص۶۵۸،حدیث نمبر ١٣٠٣)

حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الحُلْوَانِيُّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَاهُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ المُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلَّا لِأَصْحَابِ العَرَايَا، فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ، وَعَنْ بَيْعِ العِنَبِ بِالزَّبِيبِ، وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ»: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1303

دلالی میں قیمت زیادہ لگانا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں نجش نہ کرو، اس باب میں حضرت ابن عمر اور انس رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے،علماء کا اس پر عمل ہے کہ نجش مکروہ ہے،نجش یہ ہے کہ کوئی ماہر تجارت آئے اور خریدار کی موجودگی میں تاجر کے پاس آ کر سامان کی اصل قیمت سے زیادہ مول لگائے اور مقصد خریدنا نہ ہو بلکہ محض خریدار کو دھوکہ دینا چاہتا ہو،یہ دھوکہ کی ایک قسم ہے،امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں،اگر کوئی آدمی نجش کرے تو وہ اپنے اس فعل کے سبب گنہگار ہوگا لیکن بیع جائز ہے کیونکہ بیچنے والے نے نجش نہیں کیا، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۳،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَة النَّجْش،جلد۱ص۶۶۰،حدیث نمبر ١٣٠٤)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّجْشِ فِي الْبُيُوعِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ قُتَيْبَةُ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَنَاجَشُوا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا النَّجْشَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالنَّجْشُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ الَّذِي يَفْصِلُ السِّلْعَةَ إِلَى صَاحِبِ السِّلْعَةِ، فَيَسْتَامُ بِأَكْثَرَ مِمَّا تَسْوَى وَذَلِكَ عِنْدَمَا يَحْضُرُهُ الْمُشْتَرِي، يُرِيدُ أَنْ يَغْتَرَّ الْمُشْتَرِي بِهِ، وَلَيْسَ مِنْ رَأْيِهِ الشِّرَاءُ، إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَخْدَعَ الْمُشْتَرِيَ بِمَا يَسْتَامُ، وَهَذَا ضَرْبٌ مِنَ الْخَدِيعَةِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنْ نَجَشَ رَجَلٌ فَالنَّاجِشُ آثِمٌ فِيمَا يَصْنَعُ، وَالْبَيْعُ جَائِزٌ لِأَنَّ الْبَائِعَ غَيْرُ النَّاجِشِ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1304

وزن میں زیادہ دینا سوید بن قیس سے روایت ہے کہ میں اور مخرفہ عبدی مقام ہجر سے کپڑے بیچنے کے لیے لائے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور سلوار کا بھاؤ کرایا میرے پاس ایک تولنے والا بیٹھا تھا جو اجرت پر تولہ کرتا تھا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تول اور جھکتا ہوا تول. اس باب میں حضرت جابر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے حدیث سوید حسن صحیح ہے،اہل علم وزن میں جھکاؤ کو پسند کرتے ہیں،شعبہ نے یہ حدیث بواسطہ سماک،ابو صفوان سے روایت کرتے ہوئے پوری حدیث بیان کی. (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۶۶۱،مَا جَاءَ فِي الرُّحْجَانِ فِي الْوَزْنِ،جلد۱ص۶۶۱،حدیث نمبر ١٣٠٥)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّجْشِ فِي الْبُيُوعِ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ، فَجَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ وَعِنْدِي وَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سُوَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ الرُّجْحَانَ فِي الْوَزْنِ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سِمَاكٍ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي صَفْوَانَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1305

تنگ دست کو مہلت دینا اور اس سے نرمی برتنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالٰی قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جب کہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اس باب میں حضرت ابو یسر،ابو قتادہ حذیفہ،ابو مسعود اور عبادہ رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حسن صحیح اس طریق سے غریب ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۵،مَا جَاءَ فِي انْظَارِ الْمُعْسِرِ وَالرِّفْقِ بِهٖ،جلد1ص۶۶۱)

باب مَا جَاءَ فِي إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ وَالرِّفْقِ بِهِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، وَأَبِي قَتَادَةَ، وَحُذَيْفَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعُبَادَةَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1306

تنگ دست کو مہلت دینا اور اس سے نرمی برتنا حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کا حساب لیا گیا تو اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ ملی البتہ یہ کہ وہ ایک امیر آدمی تھا جب لوگوں سے لین دین کا معاملہ کرتا تو اپنے غلاموں کو حکم دیتا تاکہ تنگدست سے درگزر کریں،اللہ تعالٰی نے فرمایا ہم اس بات کے اس سے زیادہ حقدار ہیں لہذا اس سے درگزر کرو، یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۵،مَا جَاءَ فِي انْظَارِ الْمُعْسِرِ وَالرِّفْقِ بِهٖ،جلد1ص۶۶۱،حدیث نمبر ١٣٠٧)

باب مَا جَاءَ فِي إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ وَالرِّفْقِ بِهِ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا، وَكَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ، وَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ، أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1307

مالدار کا ادائے قرض میں تاخیر کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار کا ادائے قرض میں تاخیر کرنا ظلم ہے،اور جب تم میں سے کسی کو مالدار کے پیچھے لگا دیا جائے تو وہ پیچھا کرے،اس باب میں حضرت ابن عمر اور حضرت شرید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور. (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۶،مَا جَاءَ فِي مَطْلِ الْغَنِيَ أَنہٗ ظُلْمٌ،جلد۱ص۶۶۲،حدیث نمبر ١٣٠٨)

باب مَا جَاءَ فِي مَطْلِ الْغَنِيِّ أَنَّهُ ظُلْمٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ، فَلْيَتْبَعْ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَالشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1308

مالدار کا ادائے قرض میں تاخیر کرنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالدار کا ادائے قرض میں تاخیر کرنا ظلم ہے،اور جب تم میں سے کسی کو مالدار کے پیچھے لگا دیا جائے تو وہ پیچھا کرے،اس باب میں حضرت ابن عمر اور شرید رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور،حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اس کا مطلب یہ ہے، کہ جب تم میں سے کسی کو مالدار سے اصولی قرض پر مامور کیا جائے تو وہ ذمہ داری کو قبول کر لے بعض علماء فرماتے ہیں جب کوئی شخص کسی مالدار کے حوالہ کر دیا جائے اور وہ اسے قبول کرلے تو حوالہ کرنے والا بری ہو گیا اب قرض مانگنے والے کو حوالہ کرنے والے سے مانگنے کا کوئی حق نہیں،امام شافعی،امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے،بعض اہل علم فرماتے ہیں اگر مالدار کے مفلس ہو جانے کے باعث قرض مانگنے والے کا حال تلف ہوتا ہے،تو اسے پہلے مقروض کے پاس جانے کا حق ہے،ان علماء نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے قول سے استدلال کیا وہ فرماتے ہیں مسلمان کا مال تلف نہیں ہو سکتا،اسحاق فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قرض خواہ کو دوسرے شخص کے حوالہ کر دیا جائے اور وہ اسے مالدار سمجھے لیکن وہ مفلس نکل آئے تو (اس صورت میں) مسلمان کا مال ضائع نہ ہوگا، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۶،مَا جَاءَ فِي مَطْلِ الْغَنِيَ أَنہٗ ظُلْمٌ،جلد۱ص۶۶۲،حدیث نمبر ١٣٠٩)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُحِلْتَ عَلَى مَلِيءٍ، فَاتْبَعْهُ، وَلَا تَبِعْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمَعْنَاهُ: إِذَا أُحِيلَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا أُحِيلَ الرَّجُلُ عَلَى مَلِيءٍ، فَاحْتَالَهُ، فَقَدْ بَرِئَ الْمُحِيلُ وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَلَى الْمُحِيلِ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا تَوِيَ مَالُ هَذَا بِإِفْلَاسِ الْمُحَالِ عَلَيْهِ فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ عَلَى الْأَوَّلِ، وَاحْتَجُّوا بِقَوْلِ عُثْمَانَ وَغَيْرِهِ، حِينَ قَالُوا: لَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوًى، قَالَ إِسْحَاق: مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوِيَ هَذَا إِذَا أُحِيلَ الرَّجُلُ عَلَى آخَرَ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ مَلِيٌّ فَإِذَا هُوَ مُعْدِمٌ، فَلَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوًى.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1309

بیع منابذہ اور ملا مسہ کا بیان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منابذہ اور ملا مسہ سے منع فرمایا اس باب میں حضرت ابو سعید اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے،اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کہے جب میں تیری طرف کوئی چیز پھینکوں تو تیرے اور میرے درمیان بیع واجب ہو جائے گی اور ملامسہ یوں کہنا ہے کہ جب میں کسی چیز کو ہاتھ لگاؤں تو سودا ہو گیا اگرچہ اس میں سے کوئی چیز نہ دیکھتا ہو جیسے کوئی چیز غلاف وغیرہ میں ہو یہ دور جاہلیت کی بیع ہے اس لیے اس سے منع فرمایا، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۷،ما جاء فِي الْمُنَابَذَہْ وَالْمُلَامَسَۃِ،جلد۱ص۶۶۲،حدیث نمبر ١٣١٠)

باب مَا جَاءَ فِي الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُنَابَذَةِ، وَالْمُلَامَسَةِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنْ يَقُولَ: إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ الشَّيْءَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَقُولَ: إِذَا لَمَسْتَ الشَّيْءَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ كَانَ لَا يَرَى مِنْهُ شَيْئًا مِثْلَ مَا يَكُونُ فِي الْجِرَابِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ، وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1310

غلہ اور کھجور میں بیع سلف(پیشگی قیمت ادا کرنے)کا بیان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو لوگ کھجوروں میں بیع سلف کرتے تھے،آپ نے فرمایا جو بیع سلف کرے تو وہ معلوم پیمانہ اور معلوم وزن میں معلوم وقت تک کرے،اس باب میں حضرت ابن ابی اوفٰی اور حضرت عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہما سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے،صحابہ کرام اور تابعین کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک غلے،کپڑے اور ان دوسری چیزوں میں جن کی مقدار اور صفت معلوم ہو،بیع سلف جائز ہے،جانوروں کی بیع سلف میں اختلاف ہے بعض صحابہ اور تابعین اہل علم کے نزدیک ان میں بھی جائز ہے،امام شافعی،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللّٰہُ اسی کے قائل ہیں،البتہ بعض علماء نے جانوروں میں بیع سلف کو مکروہ کہا ہے،سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، ف: بیع میں اگر ایک طرف عین ہو اور دوسری طرف ثمن ہوں اور ثمن کا فورًا دینا ضروری ہو تو یہ بیع سلم ہے،لہذا بیع سلم میں جس کو خرید ا جاتا ہے وہ بائع کے ذمہ دین ہے،اور مشتری ثمن کو فی الحال ادا کرتا ہے،(بہار شریعت ج۱۱ص۱۷۳) مترجم) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۸،جلد۱ص۶۶۳،حدیث نمبر ١٣١١)

باب مَا جَاءَ فِي السَّلَفِ فِي الطَّعَامِ وَالثَّمَرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثَّمَرِ، فَقَالَ: " مَنْ أَسْلَفَ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَجَازُوا السَّلَفَ فِي الطَّعَامِ، وَالثِّيَابِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، مِمَّا يُعْرَفُ حَدُّهُ، وَصِفَتُهُ، وَاخْتَلَفُوا فِي السَّلَمِ فِي الْحَيَوَانِ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ جَائِزًا، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، السَّلَمَ فِي الْحَيَوَانِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، أَبُو الْمِنْهَالِ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُطْعِمٍ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1311

مشترکہ زمین سے کوئی اپنا حصہ بیچنا چاہے تو اس کا حکم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی کا باغ میں کوئی شریک ہو وہ شریک پر پیش کیے گئے بغیر اپنا حصہ نہ بیچے،اس حدیث کی سند متصل نہیں،میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے سنا آپ فرماتے تھے سلیمان یشکری حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں انتقال ہوگیا،قتادہ اور ابو بشر نے بھی سلیمان سے کچھ نہیں سنا،البتہ ہو سکتا ہے عمرو بن دینار نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان سے کچھ سنا ہو،قتادہ،سلیمان یشکری کے صحیفہ سے حدیث بیان کرتے تھے،ان کے پاس حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی کتاب تھی، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۸۹،مَا جَاءَ فِي اَرْضِ الْمُشْتَرَكِ يُرِيدُبَعْضُہُم بَيْعِ نَصِيْبَهٖ،جلد۱ص۶۶۳،حدیث نمبر ١٣١٢)

باب مَا جَاءَ فِي أَرْضِ الْمُشْتَرَكِ يُرِيدُ بَعْضُهُمْ بَيْعَ نَصِيبِهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي حَائِطٍ، فَلَا يَبِيعُ نَصِيبَهُ مِنْ ذَلِكَ، حَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَى شَرِيكِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: سُلَيْمَانُ الْيَشْكُرِيُّ، يُقَالُ: إِنَّهُ مَاتَ فِي حَيَاةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ قَتَادَةُ، وَلَا أَبُو بِشْرٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا نَعْرِفُ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ سَمَاعًا مِنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، فَلَعَلَّهُ سَمِعَ مِنْهُ فِي حَيَاةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَإِنَّمَا يُحَدِّثُ قَتَادَةُ، عَنْ صَحِيفَةِ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، وَكَانَ لَهُ كِتَابٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ عَبْدُ الْقُدُّوسِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: قَالَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ: ذَهَبُوا بِصَحِيفَةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ فَأَخَذَهَا، أَوْ قَالَ: فَرَوَاهَا، وَذَهَبُوا بِهَا إِلَى قَتَادَةَ، فَرَوَاهَا، وَأَتَوْنِي بِهَا، فَلَمْ أَرْوِهَا، يَقُولُ: رَدَدْتُهَا.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1312

مخابرت اور معاومت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ،مزابنہ مخابرہ اور معاومہ سے منع فرمایا،اور عرابا کی اجازت دی،یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۰،مَا جَاءَ فِي الْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَة،جلد۱ص۶۶۴،حدیث نمبر ١٣١٣)

باب مَا جَاءَ فِي الْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1313

چیزوں کی قیمت مقرر کرنے کا بیان حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چیزوں کا نرخ بڑھ گیا تھا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لیے نرخ مقرر فرمائیں، آپ نے فرمایا اللہ تعالٰی نرخ مقرر کرنے والا،تنگ کرنے والا،کشادہ کرنے والا اور رزق دینے والا ہے اور مجھے تمنا ہے کہ میں اللہ تعالٰی سے اس حالت میں ملوں کہ تم میں سے کوئی اپنے خون اور مال کا مجھ سے طلبگار نہ ہو،یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۱،جلد۱ص۶۶۴،حدیث نمبر ١٣١٤)

باب مَا جَاءَ فِي التَّسْعِيرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعِّرْ لَنَا، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ، يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ، وَلَا مَالٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1314

بیع میں دھوکہ دینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غلہ کے ایک ڈھیر سے گزرے آپ نے دست مبارک اس میں داخل کیا تو آپ کی انگلیوں میں تراوٹ آگئی آپ نے فرمایا اے غلہ کے مالک یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس پر بارش کا پانی پڑ گیا ہے آپ نے فرمایا تم نے اسے اوپر کیوں نہیں کیا تاکہ لوگ دیکھتے، پھر فرمایا جس نے دھوکہ کیا وہ ہم سے نہیں،اس باب میں حضرت ابن عمر،ابوحمراء،ابن عباس،بریدہ،ابو بردہ بن دینار اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم سے بھی روایات مذکور ہیں،حدیث حضرت ابو ہریرہ حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے ان کے نزدیک،(خرید و فروخت میں) دھوکا و فریب حرام ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۲،مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْغَشِّ فِي الْبُيُوْعِ،جلد۱ص۶۶۸،حدیث نمبر ١٣١٥)

باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْغِشِّ فِي الْبُيُوعِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: " يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ مَا هَذَا "، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ "، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، كَرِهُوا الْغِشَّ وَقَالُوا: الْغِشُّ حَرَامٌ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1315

اونٹ اور دیگر جانور قرض لینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا پھر اس سے بہتر جوان اونٹ اس کو دیا اور فرمایا تم میں سے بہتر لوگ وہ ہیں جو ادائے قرض میں اچھے ہیں اس باب میں حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے بھی روایت مذکور ہیں،حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے شعبہ اور سفیان نے اسے سلمہ سے روایت کیا بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ اونٹ (وغیرہ) کہ ادھار لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے،امام شافعی،احمد اور اسحٰاق رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں،بعض علماء کے نزدیک یہ مکروہ ہے. (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۳،مَا جَاءَ فِي اسْتِقْرَاضِ الْبَعِيرِأوِ الشَّي مِنَ الْحَيَوَانِ،جلد۱ص۶۶۸،حدیث نمبر ١٣١٦)

باب مَا جَاءَ فِي اسْتِقْرَاضِ الْبَعِيرِ أَوِ الشَّىْءِ مِنَ الْحَيَوَانِ أَوِ السِّنِّ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنًّا، فَأَعْطَاهُ سِنًّا خَيْرًا مِنْ سِنِّهِ، وَقَالَ: " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي رَافِعٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وُسُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَمْ يَرَوْا بِاسْتِقْرَاضِ السِّنِّ بَأْسًا مِنَ الْإِبِلِ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1316

اونٹ اور دیگر جانور قرض لینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،ہمیشہ کی طرح ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت سختی سے قرض (کی واپسی) کا تقاضا کیا صحابہ کرام نے اسے کچھ کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو حق والے کو کچھ کہنے کی گنجائش ہے،آپ نے فرمایا اونٹ خرید کر اس کو دے دو صحابہ کرام نے تلاش کیا لیکن اس کے اونٹ،(جیسا نہ ملا بلکہ اس) سے افضل ملا آپ نے فرمایا یہی خرید کر اسے دے دو تم میں اچھا وہ ہے جو قرض کی ادائیگی کرنے میں اچھا ہو، محمد بن بشار نے بواسطہ محمد بن جعفر اور شعبہ،سلمہ بن کہیل سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۳،مَا جَاءَ فِي اسْتِقْرَاضِ الْبَعِيرِأوِ الشَّي مِنَ الْحَيَوَانِ،جلد۱ص۶۶۸،حدیث نمبر ١٣١٧)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا تَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا "، ثُمَّ قَالَ: " اشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا، فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ، فَطَلَبُوهُ فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنَّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ "، فَقَالَ: " اشْتَرُوهُ، فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ، فَإِنَّ خَيْرَكُمْ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1317

اونٹ اور دیگر جانور قرض لینا حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا پھر آپ کے پاس زکٰوۃ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اس شخص کو جوان اونٹ دے کر قرض ادا کر دوں،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے تو ان میں اس کے اونٹ سے اچھا اونٹ ملتا ہے آپ نے فرمایا وہی دے دو بے شک وہی لوگ اچھے ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی طرح کرتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۳،مَا جَاءَ فِي اسْتِقْرَاضِ الْبَعِيرِأوِ الشَّي مِنَ الْحَيَوَانِ،جلد۱ص۶۶۸،حدیث نمبر ١٣١٨)

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ أَبُو رَافِعٍ: " فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ "، فَقُلْتُ: لَا أَجِدُ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهِ إِيَّاهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1318

قرض کا تقاضا کیسے ہو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی بیچنے میں نرمی کرنے والے خریدنے میں نرمی برتنے والے اور قرض کے تقاضہ میں نرمی کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے، یہ حدیث غریب ہے بعض لوگوں نے اسے بواسطہ یونس اور سعید مقبری حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۴،جلد۱ص۶۶۶،حدیث نمبر ١٣١٩)

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ سَمْحَ الْبَيْعِ، سَمْحَ الشِّرَاءِ، سَمْحَ الْقَضَاءِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1319

قرض کا تقاضا کیسے ہو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی نے تم سے پہلے ایک آدمی کو بخش دیا وہ بیچنے خریدنے اور تقاضائے قرض میں نرمی اختیار کرتا تھا،یہ حدیث غریب صحیح طریق سے حسن ہے، (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۴،جلد۱ص۶۶۶, حدیث نمبر١٣٢٠)

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ للَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَفَرَ اللَّهُ لِرَجُلٍ، كَانَ قَبْلَكُمْ، كَانَ سَهْلًا إِذَا بَاعَ سَهْلًا، إِذَا اشْتَرَى سَهْلًا، إِذَا اقْتَضَى ". قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1320

مسجد میں خرید و فروخت کا حکم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں بیچتا یا خریدتا ہے کہو اللہ تعالٰی تیری تجارت کو نفع مند نہ کرے اور جب کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز تلاش کرتے دیکھو تو کہو اللہ تعالٰی اسے تیری طرف واپس نہ لوٹائے . حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حسن غریب ہے،بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ مسجد میں خرید و فروخت مکروہ ہے،امام احمد اور اسحٰاق کا یہی قول ہے البتہ بعض علماء نے مسجد میں خرید و فروخت کی اجازت دی ہے بشرطیکہ سامان باہر ہو،) (جامع ترمذی شریف،کتاب البیوع،باب۸۹۵،النَّھيِ عَنِ البَيعِ فِي الْمَسْجِدِ،جلد۱ص۶۶۷،حدیث نمبر١٣٢١)

باب النَّهْىِ عَنِ الْبَيْعِ، فِي الْمَسْجِدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ، أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً، فَقُولُوا: لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، كَرِهُوا الْبَيْعَ، وَالشِّرَاءَ فِي الْمَسْجِدِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ.

Tirmizi Shareef, ABWABUL BOYU, Hadees No. 1321

Tirmizi Shareef : ABWABUL BOYU

|

Tirmizi Shareef : ابواب البیوع

|

•